Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الجامي · dars-041

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 07 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 29
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
درس نمبر۔41 آگے سبق دیکھیے بھئی۔ وإنما عدل المصنف رحمه الله عما هو المشهور عند الجمهور من أن المعرب ما اختلف آخره باختلاف العوامل، لأن الغرض من تدوين علم النحو أن يعرف به أحوال أواخر الكلمة في التركيب من لم يتتبع لغة العرب ولم يعرف أحكامها بالسماع منهم۔ گزشتہ سبق میں شارحِ جامی نے آپ کو بتلایا تھا کہ صاحبِ مفصل یعنی علامہ زمخشری اور صاحبِ قافیہ یعنی علامہ ابنِ حاجب کے درمیان اختلاف ہے اسمائے معدودہ کے بارے میں۔ وہ اسماء جو ترکیب میں واقع نہ ہوں، جن کو شمار کیا جا رہا ہے، یعنی یعنی جو بھی اسم ہے جو ترکیب میں واقع نہیں ہے اس کے بارے میں ان دونوں میں اختلاف ہے۔ صاحبِ مفصل کے نزدیک یہ معرب ہیں جبکہ یہ مبنی الاصل کے ساتھ ان کی مشابہت نہ ہو۔ کیونکہ یہ جو اسمائے معدودہ ہیں جن کی مبنی الاصل کے ساتھ مشابہت نہیں، ان میں صلاحیت ہے کہ یہ جب بھی ترکیب میں آئیں گے تو ان پر اعراب آ جائے گا بھئی۔ تو یہ اعراب کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان پر اعراب آ جائے۔ اگرچہ فی الحال اعراب نہیں لیکن ان میں صلاحیت تو ہے تو لہٰذا یہ معرب ہیں۔ جبکہ صاحبِ قافیہ وہ فرماتے ہیں کہ صرف صلاحیت کافی نہیں معرب کے لیے، بلکہ ترکیب میں واقع ہو اور وہ ترکیب بھی ایسی ہو جس میں اس کا عامل بھی موجود ہو، یعنی وہ بالفعل اعراب کا مستحق بن جائے۔ اب چاہے آپ اعراب پڑھیں یا نہ پڑھیں، وہ اعراب کا مستحق بن چکا ہے تو اب اس کو معرب کہیں گے۔ جیسے: ضرب زیدٌ، ضرب زیدٌ، یہ زیدٌ فاعل ہے ضرب کا۔ اب یہ ترکیب میں بھی واقع ہے اور نیز اس کے ساتھ اس کا عامل یعنی ضرب بھی موجود ہے۔ اب اس کو معرب کہیں گے چاہے آپ اعراب پڑھیں یا نہ پڑھیں۔ آپ چاہے کہیں ضرب زیدٌ، تو بھی یہ معرب ہے، اور آپ چاہے اعراب نہ پڑھیں: ضرب زید، آپ وقف کر دیں آخر میں، رفع نہ پڑھیں بھئی، کوئی اعراب نہ پڑھیں تو بھی اس کو کیا کہیں گے؟ معرب۔ کیوں کہیں گے معرب؟ کیونکہ یہ بالفعل اعراب کا مستحق ہو چکا ہے۔ یہ ترکیب میں بھی واقع ہے اور اس میں اس کا عامل بھی موجود، اور نیز مبنی الاصل کے ساتھ اس کی مشابہت بھی نہیں ہے۔ اب آپ چاہے اعراب پڑھیں یا نہ پڑھیں، آپ کے پڑھنے نہ پڑھنے سے کچھ نہیں ہوگا، یہ اعراب کا مستحق ہو چکا ہے، اور جو بھی ایسا کلمہ ہو جو ترکیب میں بھی واقع ہو اور اس کا عامل بھی موجود ہو، وہ اعراب کا مستحق ہو جاتا ہے، اس کو معرب کہتے ہیں۔ چنانچہ اسی لیے صاحبِ قافیہ نے جو معرب کی تعریف کی اس میں مرکب کی قید لگائی کہ وہ ترکیب میں واقع ہو اپنے عامل کے ساتھ تاکہ اسمائے معدودہ اس تعریف سے نکل جائیں کیونکہ صاحبِ قافیہ کے نزدیک یہ اسمائے معدودہ معرب نہیں ہیں۔ جبکہ صاحبِ مفصل کے نزدیک یہ اسمائے معدودہ معرب ہیں، اسی لیے انہوں نے معرب کی جو تعریف کی اس کے اندر انہوں نے مرکب کی قید ذکر نہیں کی بھئی۔ اور اسی میں معربِ لغوی کا ذکر بھی آیا تھا۔ معربِ لغوی اس کو کہیں گے جس پر باقاعدہ بالفعل اعراب آ جائے۔ معرب، دیکھو اس میں مفعول کا صیغہ ہے۔ اعرب یعرب اعراب کا کیا مطلب ہے؟ اعراب دینا۔ تو معرب کس کو کہیں گے؟ جس کو اعراب دیا گیا ہو۔ تو جب ایک لفظ کو بالفعل اعراب دے دیا گیا جیسے ضرب زیدٌ، اب یہ زید کو اعراب دے دیا گیا، اور اگر میں پڑھوں ضرب زید، تو دیکھو میں نے وقف کیا، اعراب نہیں دیا۔ تو جب اعراب دے دیا تو اس وقت یہ معربِ لغوی ہے، یعنی اس کو اعراب دیا گیا ہے، اسمِ مفعول۔ معرب کا کیا معنی؟ جس کو اعراب دیا جائے۔ تو عربی زبان کے اعتبار سے معرب اس کو کہتے ہیں جس کو باقاعدہ اعراب دے دیا گیا ہو، جیسے مضروب اس کو کہتے ہیں جس پر باقاعدہ ضرب واقع ہو چکی ہے۔ تو عربی زبان کے اعتبار سے معرب اس کو کہیں گے جس کو باقاعدہ اعراب دے دیا گیا ہو۔ تو جب میں کہوں گا ضرب زیدٌ، اب اس لفظِ زید کو باقاعدہ اعراب دے دیا گیا تو یہ لغوی معرب ہے، یہ کیا ہے؟ لغوی۔ اور اگر میں اس پر وقف کروں ضرب زید، تو یہ تو میں نے اعراب نہیں دیا تو یہ معربِ لغوی نہیں ہے، اس کو اعراب نہیں دیا گیا۔ تو معربِ لغوی کے اندر تو کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ معربِ لغوی کسے کہتے ہیں؟ جب ایک لفظ پر باقاعدہ اعراب آ جائے، وہ تو بالاتفاق سب کے نزدیک معرب ہی ہے، اس میں تو جھگڑا ہو ہی نہیں سکتا، اختلاف ہو ہی نہیں سکتا۔ جب ایک لفظ کو باقاعدہ اعراب دے دیا گیا: ضرب زیدٌ، زیدٌ پر باقاعدہ میں نے اعراب پڑھ دیا، پھر تو اس میں اختلاف کی گنجائش ہی نہیں ہے، پھر تو بالاتفاق سب کے نزدیک یہ کیا ہے؟ معرب ہی ہے۔ لیکن اختلاف جو ہے دونوں کا، صاحبِ قافیہ اور صاحبِ مفصل کا، وہ معربِ اصطلاحی میں ہے۔ اس معربِ لغوی میں اختلاف نہیں ہے، یہ تو ہے ہی معرب، صاحبِ قافیہ کے نزدیک بھی معرب ہے، اس کو اعراب دیا گیا ہے، صاحبِ مفصل کے نزدیک بھی اس کو اعراب دیا گیا ہے، یہ کیا ہے؟ معرب، اس میں اختلاف کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ ہاں، اختلاف کس میں ہے؟ معربِ اصطلاحی میں۔ اصطلاح میں معرب کسے کہیں گے؟ تو صاحبِ مفصل کے نزدیک اکیلا لفظِ زید ہو اس کو بھی معرب کہیں گے کیونکہ یہ مبنی الاصل کے مشابہ نہیں اور اس میں صلاحیت ہے، یہ جب بھی ترکیب میں واقع ہوگا اس پر کیا آ سکتا ہے؟ اعراب آ سکتا ہے، تو اکیلے زید کو بھی معرب کہیں گے۔ اور جبکہ صاحبِ قافیہ کے نزدیک اکیلے زید کو، زید، عمرو، بکر، اس کو معرب نہیں کہیں گے کیونکہ ان کے نزدیک صرف صلاحیت کافی نہیں ہے کہ اس میں اعراب کی صلاحیت ہو کلمہ کے اندر، بلکہ باقاعدہ وہ ترکیب میں واقع ہو اور ترکیب بھی ایسی ہو جس میں اس کا عامل بھی ہو، تو صاحبِ قافیہ کے نزدیک صرف صلاحیت کافی نہیں بلکہ بالفعل وہ اعراب کا مستحق بن جائے اس کو معرب کہیں گے۔ اور اکیلا زید، یہ مستحقِ اعراب ہے؟ اس وقت آپ اس پر اعراب پڑھ سکتے ہیں؟ نہیں، اس وقت یہ مستحقِ اعراب ہے ہی نہیں۔ اس کے لیے اس کو ترکیب میں بھی واقع کرنا پڑے گا اور ترکیب بھی ایسی ہونی چاہیے جس میں اس کا عامل بھی موجود ہو جیسے ضرب زیدٌ۔ اب یہ جو زید ہے یہ صاحبِ قافیہ کے نزدیک معرب ہے۔ آپ زیدٌ پر رفع پڑھیں یا نہ پڑھیں، یہ اعراب کا مستحق ہو چکا ہے کیونکہ ترکیب میں بھی واقع ہے اور عامل بھی ساتھ ہے جو کس کا تقاضا کر رہا ہے؟ رفع کا۔ تو اب ضرب زیدٌ پڑھیں تو بھی معرب، ضرب زید پڑھیں، دال پر وقف کر لیں تو بھی معرب ہے۔ تو معلوم ہوا ضرب زید، جب آپ اس پر وقف کرتے ہیں تو بھی صاحبِ قافیہ کے نزدیک یہ معرب ہے بھئی۔ صاحبِ قافیہ کے صاحبِ مفصل کے نزدیک تو ہے ہی، صاحبِ قافیہ کے نزدیک بھی اب یہ معرب ہے، حالانکہ آپ اس پر اعراب نہیں پڑھ رہے، معلوم ہوا صاحبِ قافیہ کے نزدیک بھی بالفعل اعراب کا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اعراب کا بالفعل مستحق ہونا ہی کافی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا صاحبِ مفصل ان کے نزدیک بھی اعراب بالقوۃ کا اعتبار ہے اور صاحبِ قافیہ کے نزدیک بھی اعراب بالقوۃ کا اعتبار ہے۔ اکیلا لفظِ زید، صاحبِ مفصل کے نزدیک یہ کیا ہے؟ معرب ہے، کیوں؟ کیونکہ اس میں اعراب بالقوۃ ہے، یعنی اس میں اعراب کی صلاحیت ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور صاحبِ قافیہ کے نزدیک بھی: ضرب زید، میں نے وقف کر دیا دال پر، میں نے اعراب نہیں پڑھا، ان کے نزدیک پھر بھی یہ زید کیا ہے؟ یہ معرب ہے، یعنی معلوم ہوا صاحبِ قافیہ کے نزدیک بھی اعراب بالقوۃ کا اعتبار ہے، زید پر رفع پڑھنا ضروری نہیں، آپ وقف بھی کر دیں پھر بھی یہ اعراب کا یہ مستحق ہو چکا ہے، تو صاحبِ قافیہ بھی اعراب بالقوۃ کا اعتبار کرتے ہیں اور اسی کو معربِ اصطلاحی کہتے ہیں، اور صاحبِ مفصل بھی اعراب بالقوۃ کا اعتبار کرتے ہیں، لیکن دونوں کے اعراب بالقوۃ میں فرق ہے۔ صاحبِ مفصل اس اعراب بالقوۃ کا اعتبار کرتے ہیں جو بالفعل اعراب سے بہت دور ہے، جو بالفعل اعراب سے دور ہے۔ زید اکیلا لفظ ہے، صاحبِ مفصل کیا فرماتے ہیں؟ اس میں صلاحیت ہے یا نہیں اعراب کی؟ تو اس میں اعراب کی صلاحیت ہے تو وہ اعراب بالقوۃ کا اعتبار کر رہے ہیں اور ان کے نزدیک یہ زید معرب ہے۔ لیکن یہ بالفعل اعراب سے بہت دور ہے، اس پر بالفعل زیدٌ آپ پڑھ ہی نہیں سکتے، کیوں؟ کیونکہ پہلے اس کو کس میں لانا پڑے گا؟ ترکیب میں، کیونکہ رفع، نصب خود نہیں آتے، تو اس کو ترکیب میں لانا پڑے گا اور ترکیب بھی ایسی ہو جس میں اس کا عامل بھی آئے جو اس پر رفع یا نصب یا جر کا باقاعدہ تقاضا کرے، پھر اس کے بعد اس پر بالفعل اعراب آ سکے گا۔ تو معلوم ہوا صاحبِ مفصل اعراب بالقوۃ کا اعتبار کر رہے ہیں مثلاً لفظِ زید میں ہے، لیکن یہ اعراب بالقوۃ اعراب بالفعل سے بہت بعید ہے کیونکہ اس کے لیے اس کو ترکیب میں بھی لانا پڑے گا اور اس کے عامل کو بھی ساتھ لانا پڑے گا۔ اور صاحبِ قافیہ وہ بھی اعراب بالقوۃ کا اعتبار کرتے ہیں: ضرب زید، دیکھو زید پر میں نے وقف کیا لیکن پھر بھی صاحبِ قافیہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ معرب کہتے ہیں، تو وہ بھی اعراب بالقوۃ کا اعتبار کرتے ہیں۔ لیکن یہ وہ اعراب بالقوۃ ہے جو اعراب بالفعل کے بہت قریب ہے۔ اعراب بالفعل کے قریب ہے، آپ نے صرف اعراب پڑھا نہیں ہے، باقی اعراب کا تو یہ مستحق ہو چکا ہے، آپ پڑھ سکتے ہیں اس پر: ضرب زیدٌ، اب یہ بالفعل اعراب آ گیا۔ توجہ ہے؟ ضرب زید، بالفعل میں نے اعراب پڑھا؟ بالفعل پڑھا اعراب؟ نہیں، لیکن یہ بالفعل کے قریب ہے، ضرب زیدٌ میں پڑھ بھی سکتا ہوں۔ تو صاحبِ قافیہ بھی کس اعراب کا اعتبار کر رہے ہیں؟ اعراب بالقوۃ کا۔ صاحبِ مفصل بھی کس کا اعتبار کر رہے ہیں؟ اعراب بالقوۃ، لیکن صاحبِ مفصل اس اعراب بالقوۃ کا اعتبار کر رہے ہیں جو بالفعل اعراب سے بہت دور ہے۔ اس اکیلے زید پر بالفعل اعراب آ سکتا ہے؟ نہیں، یہ بہت دور ہے، اس کو ترکیب میں بھی لانا پڑے گا، اس کے ساتھ عامل کو بھی لانا پڑے گا۔ اور صاحبِ قافیہ بھی اعراب بالقوۃ کا اعتبار کرتے ہیں لیکن یہ بالقوۃ اعراب، اعراب بالفعل کے بہت قریب ہے، صرف آپ نے پڑھا نہیں ہے، ورنہ ترکیب میں بھی ہے، عامل بھی ہے، سب کچھ موجود ہے، صرف پڑھنا باقی ہے۔ چنانچہ اس کی پھر مثال بھی ذکر کی: لم تعرب الکلمۃ، کلمہ کو اعراب نہیں دیا گیا، وہی معربۃ، اس حال میں کہ یہ معرب ہے۔ مثلاً ایک جملہ لکھا ہوا تھا: ضرب زیدٌ، آپ نے صرف یہ پڑھا: ضرب زید، آپ نے دال پر وقف کر لیا، تو اس موقع پر کہا جاتا ہے: لم تعرب الکلمۃ، اس کلمہ کو اعراب نہیں دیا گیا، یعنی اس پر اعراب نہیں پڑھا گیا، وہی معربۃ، حالانکہ یہ تو معرب ہے، اس پر کیا پڑھنا چاہیے تھا؟ رفع۔ دیکھا، اعراب نہیں دیا گیا حالانکہ یہ تو کیا ہے؟ معرب ہے، معلوم ہوا اعراب بالفعل ضروری نہیں معرب میں بلکہ اعراب بالقوۃ ہی کافی ہے صاحبِ قافیہ کے نزدیک بھی بھئی۔ اور میں نے بتایا اس کو مخاطب کا صیغہ بھی پڑھ سکتے ہیں: لم تعرب الکلمۃ، آپ نے کلمہ کو اعراب نہیں دیا، آپ نے ضرب زید پڑھا، آپ کو ضرب زیدٌ پڑھنا چاہیے تھا لیکن آپ نے کیا پڑھا ہے؟ ضرب زید، تو آپ کو کیا کہا جاتا ہے: لم تعرب الکلمۃ، آپ نے تو اس کلمے کو اعراب نہیں دیا، وہی معربۃ، حالانکہ یہ تو معرب ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ جی، اب آئیے آج کے سبق پر۔ کہتے ہیں: وإنما عدل المصنف رحمه الله عما هو المشهور عند الجمهور من أن المعرب ما اختلف آخره باختلاف العوامل۔ یہاں سے ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ جامی بھئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صاحبِ قافیہ نے جمہور کی تعریف چھوڑ کر معرب کی نئی تعریف کیوں کی؟ یاد رکھو جمہور جو ہے وہ معرب کی تعریف کرتے ہیں، یہ اسی سطر میں جو میں نے ابھی پڑھا: وإنما عدل المصنف رحمه الله عما هو المشهور عند الجمهور من أن المعرب ما اختلف آخره باختلاف العوامل۔ جمہور کے نزدیک معرب کی یہ تعریف مشہور ہے: المعرب ما اختلف آخره باختلاف العوامل، معرب وہ اسم ہے جس کا آخر بدلتا ہو عوامل کے بدلنے سے۔ معرب کسے کہتے ہیں؟ جس کا آخر بدلتا ہو عوامل کے بدلنے سے۔ یہ جمہور تعریف کرتے ہیں معرب کی، لیکن صاحبِ قافیہ نے بالکل ایک نئی تعریف کر دی، انہوں نے کیا فرمایا؟ المعرب المركب الذي لم يشبه مبني الأصل، معرب وہ مرکب ہے جو مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہو، جو مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہو، تو ایک بالکل نئی تعریف کر دی، جمہور کی تعریف کو چھوڑ دیا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے صاحبِ قافیہ نے جمہور کی تعریف کو کیوں چھوڑا، معرب کی نئی تعریف کیوں کی؟ تو اس کا جواب ذکر کرنے لگے ہیں، حاصلِ جواب یہ ہے کہ صاحبِ جامی آپ کو بتلائیں گے کہ جمہور کی تعریف اگر کی جائے معرب کی تو پھر اس سے دور لازم آتا ہے۔ کیا لازم آتا ہے؟ دور لازم آتا ہے۔ دور، دور کسے کہتے ہیں؟ اس کی تعریف لکھ لیجیے بھئی، یہ آپ کے کام آئے گی: الدور، لکھیے بھئی: الدور هو توقف الشيء، الدور هو توقف الشيء على ما يتوقف عليه، الدور هو توقف الشيء على ما يتوقف عليه۔ لکھ لیا؟ دیکھیے بھئی، دور اسے کہتے ہیں کہ ایک شے ایسی چیز پر موقوف ہو جائے کہ وہ چیز خود اس پہلی چیز پر موقوف ہے۔ توجہ ہے؟ دور کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک چیز کا جاننا وہ موقوف ہو جائے دوسری چیز پر، اور وہ دوسری چیز ایسی ہے کہ اس کا جاننا اس پہلی چیز پر موقوف ہے۔ یہ پہلی چیز آپ کو تب سمجھ میں آئے گی جب آپ کو وہ دوسری چیز سمجھ میں آ جائے، اور وہ دوسری چیز، وہ تو ویسے سمجھ میں آ نہیں سکتی، وہ بھی آپ کو تب سمجھ میں آئے گی جب یہ پہلی چیز آپ کو سمجھ میں آ جائے، اور اس میں پھر ایک چیز بھی سمجھ میں نہیں آ سکتی کیونکہ پہلی چیز کو جاننے کے لیے دوسری کا جاننا ضروری تو پہلی چیز دوسری پر موقوف ہوئی، اور دوسری چیز کو جاننے کے لیے پہلی چیز کا جاننا ضروری تو وہ پہلی چیز پر موقوف ہوئی، تو ایک کا بھی پتہ نہیں چل سکتا، ایک کا بھی پتہ نہیں چل سکتا، اس کو دور کہتے ہیں بھئی، دور بھئی۔ جیسے آپ نے کسی سے پوچھا کہ زید کا گھر کہاں ہے؟ اس نے کہا عمرو کے گھر کے سامنے، عمرو کے گھر کے سامنے۔ معلوم ہوا زید کے گھر کی معرفت آپ کو تب ہوگی جب آپ کو عمرو کے گھر کا پتہ چل جائے، توجہ ہے؟ معلوم ہوا زید کے گھر کا تب پتہ چلے گا جب عمرو کے گھر کا پتہ چل جائے۔ اب آپ نے اس سے پوچھا: اچھا، عمرو کا گھر کہاں ہے؟ اس نے کہا عمرو کا گھر زید کے گھر کے سامنے ہے۔ معلوم ہوا عمرو کے گھر کا آپ کو تب پتہ چلے گا جب آپ کو کس کا پتہ چل جائے؟ زید کے گھر کا۔ اب دیکھو اس میں ایک کا بھی پتہ نہیں چل سکتا۔ زید کے گھر کا پتہ کب چلے گا؟ جب عمرو کے گھر کا پتہ چل جائے، تو زید کے گھر کا جاننا موقوف ہوا کس پر؟ عمرو کے گھر کے، یوں کہو زید کے گھر کی معرفت موقوف ہوئی کس پر؟ عمرو کے گھر کی معرفت پر، اور عمرو کے گھر کی معرفت وہ کس پر موقوف ہے؟ زید کے گھر کی معرفت پر۔ تو زید کے گھر کا پتہ تب چلے گا جب عمرو کے گھر کا پتہ چلے اور عمرو کے گھر کا تب پتہ چلے گا جب زید کے گھر کا پتہ چلے، اس میں ایک کا بھی پتہ نہیں چل سکتا بھئی۔ ایک کا بھی پتہ نہیں چل سکتا۔ زید کے گھر کا پتہ چلے گا آپ کو؟ تب چلے گا جب آپ کو عمرو کے گھر کا پتہ چلے۔ اب آپ عمرو کے گھر کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کی تعریف کیا کی گئی؟ وہ جو زید کے گھر کے سامنے، بھئی زید کے گھر کے بارے میں ہی تو ہم پوچھ رہے تھے۔ اب عمرو کے گھر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا جی زید کے گھر کے سامنے، معلوم ہوا عمرو کے گھر کا تب پتہ چلے گا جب زید کے گھر کا پتہ چلے۔ تو دونوں ایک دوسرے پر موقوف ہو گئے اور اس کو دور کہتے ہیں: توقف الشيء، ایک شے کا موقوف ہونا، علی ما، اس شے پر، يتوقف عليه، جو اس شے پر موقوف ہے، پہلی شے پر۔ تو ایک شے اس چیز پر موقوف ہو جائے کہ اس کا جاننا اس پہلی شے پر موقوف ہو، اس کو دور کہتے ہیں۔ تو صاحبِ جامی آپ کو بتلائیں گے کہ صاحبِ قافیہ نے معرب کی نئی تعریف اس لیے کی کیونکہ جمہور کی تعریف اگر کی جائے تو دور لازم آتا ہے۔ کیا لازم آتا ہے؟ دور لازم آتا ہے۔ کس طرح؟ کس طرح؟ دیکھو بھئی، ذرا اپنی کاپی پر لکھیں بھئی، کاپی پر لکھیں۔ کاپی پر لکھیے بھئی، لکھیے: معرب کی معرفت، معرب کی معرفت، سطر کے شروع میں لکھیں: معرب کی معرفت۔ لکھ لیا؟ ہاں، اس سے اب تین چار لفظوں کے برابر جگہ خالی چھوڑ دیں اور آگے لکھیں: اختلافِ آخر کی معرفت، اختلافِ آخر کی معرفت، اختلافِ آخر کی معرفت۔ لکھ لیا؟ جی، سطر کے شروع میں آپ نے لکھا: معرب کی معرفت، اور آخر میں آپ نے لکھا کچھ فاصلے پر: اختلافِ آخر کی معرفت۔ بھئی معرب کی معرفت ضروری ہے، جب معرب کی معرفت ہوگی تو آپ کو اختلافِ آخر کی بھی معرفت ہو جائے گی کہ لفظوں کے آخر کو کس طرح بدلتے ہیں کلامِ عرب میں۔ معرب کی معرفت آپ کو ہوگی، آپ کو معرب کی پہچان ہو جائے گی تو پھر کیا حاصل ہوگا؟ آپ کو اختلافِ آخر کی معرفت ہو جائے گی کہ کس طرح عربی زبان میں کلموں کے آخر بدلتے ہیں، کہاں پر رفع پڑھنا ہے، کہاں نصب پڑھنا ہے، کہاں جر پڑھنا ہے۔ تو اختلافِ آخر کی پہچان، توجہ ہے؟ ذرا اس پہ نظر رکھیں جو میں نے لکھوایا: اختلافِ آخر کی معرفت یعنی اختلافِ آخر کی پہچان، یہ موقوف ہو گئی کس پر؟ معرب کی معرفت پر۔ معرب کی معرفت اور اس کی پہچان ہوگی تو آپ کو اختلافِ آخر کی بھی پہچان ہوگی۔ معلوم ہوا اختلافِ آخر کی معرفت یہ موقوف ہے اور معرب کی تعریف کیا ہے؟ موقوف علیہ۔ تو لہٰذا معلوم ہوا آپ کو اختلافِ آخر سے پہلے معرب کا پتہ ہونا چاہیے۔ معرب کا پہلے پتہ چلے گا تو پھر اختلافِ آخر کا بھی آپ کو پتہ چلے گا، تو اختلافِ آخر موقوف ہوا کس پر؟ معرب کی معرفت پر۔ اب معرب کی معرفت آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو معرب کی تعریف کی جاتی ہے، جمہور کیا تعریف کرتے ہیں معرب کی؟ المعرب ما اختلف آخره باختلاف العوامل، معرب وہ اسم ہے کہ جس کا آخر اختلافِ عوامل سے بدلتا ہو۔ معلوم ہوا معرب کی پہچان بھی، معرب کی پہچان آپ کو تب ہوگی جب آپ کو اختلافِ آخر کی پہچان ہو جائے۔ تعریف پہ نظر ہے؟ معرب کی کیا تعریف کی؟ معرب کسے کہتے ہیں؟ جس کا آخر بدلتا ہو، معلوم ہوا جس کا آخر بدلتا ہو اس کا اختلافِ آخر کا آپ کو پتہ چلے گا تو معرب آپ کو سمجھ میں آئے گا۔ تو دیکھو معرب کی معرفت معلوم ہوا موقوف ہو گئی کس پر؟ اختلافِ آخر کی معرفت پر۔ تعریف کے اندر آ گیا نا، معرب کی تعریف کیا کر دی؟ ما اختلف آخره، معلوم ہوا معرب آپ کو تب پتہ چلے گا جب آپ کو کس کی معرفت ہو؟ اختلافِ آخر کی معرفت ہو، توجہ ہے؟ اب پھر ذرا جو میں نے لکھوایا اس پہ نظر رکھیں، اختلافِ آخر کی معرفت یہ موقوف ہے کس پر؟ معرب کی معرفت پر، اور معرب کی معرفت کس پر موقوف ہو گئی؟ اختلافِ آخر کی معرفت پر موقوف ہو گئی جو آپ نے تعریف کی کہ ما اختلف آخره باختلاف العوامل، توجہ ہے؟ تو یہ دور لازم آیا۔ اختلافِ آخر کی معرفت موقوف ہو گئی معرب کی معرفت پر، اور معرب کی معرفت موقوف ہو گئی کس پر؟ اختلافِ آخر کی معرفت پر، تو یہ دونوں ایک دوسرے پر موقوف ہو گئے۔ دونوں میں سے ایک کا بھی پتہ نہیں چلے گا جیسے زید کا گھر عمرو کے سامنے ہے، عمرو کا گھر زید کے سامنے ہے، تو دونوں میں سے ایک کا بھی پتہ نہیں چلے گا۔ اختلافِ آخر کی معرفت کس پر موقوف؟ معرب کی معرفت پر، اور معرب کی معرفت کس پر موقوف؟ اختلافِ آخر پر۔ کاپی پر نظر ہے؟ اختلافِ آخر کی معرفت کس پر موقوف؟ معرب کی معرفت پر، اور معرب کی معرفت کس پر موقوف ہو گئی؟ اختلافِ آخر کی معرفت پر، تو یہ دور لازم آیا۔ تو اس دور سے بچنے کے لیے، اس دور سے بچنے کے لیے صاحبِ قافیہ نے معرب کی الگ تعریف کر دی کہ معرب کی معرفت اختلافِ آخر سے تاکہ نہ ہو۔ اختلافِ آخر سے معرب کی معرفت ہوگی پھر تو دور لازم آئے گا۔ اختلافِ آخر کی معرفت کس سے ہو رہی ہے؟ معرب کی معرفت سے، اور معرب کی معرفت بھی کس سے ہو جائے؟ اختلافِ آخر کی معرفت سے تو دور لازم آئے گا۔ لہٰذا معرب کی معرفت اختلافِ آخر کے ساتھ نہیں ہونی چاہیے، اس کی الگ تعریف کرنی چاہیے۔ چنانچہ الگ تعریف کر دی کہ معرب جو ہے وہ اسم ہے جو ترکیب میں واقع ہو اور مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہو۔ اب معرب کی معرفت اختلافِ آخر پر موقوف نہیں کیونکہ اس کی تعریف ہم نے اختلافِ آخر سے کی نہیں ہے، اس کی تعریف تو ہم نے کیا کی ہے؟ جو ترکیب میں واقع ہو اور مبنی الاصل کے مشابہ نہ ہو بھئی، اب آپ کو معرب کی معرفت حاصل ہو جائے گی اور جب اس کی معرفت حاصل ہو جائے گی تو پھر اختلافِ آخر کی معرفت بھی حاصل ہو جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ یہاں ایک اور بات یاد رکھیے، صاحبِ جامی جو تقریر کریں گے، میں نے مختصر آسان لفظوں میں آپ کو مسئلہ سمجھا دیا کہ کس طرح دور لازم آتا ہے۔ صاحبِ جامی ذرا لمبی تقریر کریں گے، علمی انداز میں، علمی رنگ کے اندر گہری بات کریں گے، تو اس میں وہ آپ کو یہ بھی بتلائیں گے، وہ آپ کو یہ بھی بتلائیں گے کہ یہ جو علمِ نحو ہے اس کا مقصد یہ ہے، علمِ نحو کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان اختلافِ آخر کو پہچان لے۔ یعنی علمِ نحو کا بڑا مقصد یہ ہے کہ آپ اختلافِ آخر کو پہچان لیں تاکہ آپ کو پتہ چلے کہاں رفع پڑھتے ہیں، کہاں نصب پڑھتے ہیں، کہاں جر پڑھتے ہیں۔ معرب کی آپ کو پہچان ہو جائے، مبنی کی آپ کو پہچان ہو جائے تو آپ کو پتہ لگ جائے کہ مبنی کو نہیں بدلنا، معرب کو بدلنا ہے، اس کے آخر کو بدلنا ہے۔ تو علمِ نحو کی بڑی غرض کیا ہے؟ اہم غرض کیا ہے؟ کہ اختلافِ آخر کا پتہ چل جائے۔ اختلافِ آخر کا، توجہ ہے؟ ملا جامی رحمہ اللہ جو تقریر کریں گے وہ میں سمجھا رہا ہوں، نفسِ مسئلہ آپ سمجھ گئے، میں نے تقریر مکمل کر لی۔ اب جو وہ بیان کریں گے پوری تفصیل وہ بھی سمجھ لیں کہ ملا جامی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں کہ علمِ نحو کی غرض کیا ہے، مقصد کیا ہے؟ یہ علم سیکھنے کا، یہ پڑھنے کا مقصد کیا ہے کہ ایک طالبِ علم کو کیا پتہ چل جائے؟ اختلافِ آخر کا پتہ چل جائے کہ کون سے کلمے ہیں جن کا آخر عربی زبان میں بدلتا ہے ترکیب میں جب واقع ہوں، کہاں رفع پڑھتے ہیں، کہاں نصب پڑھتے ہیں، کہاں جر پڑھتے ہیں، یہ طالبِ علم کو پتہ چل جائے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ علمِ نحو کی غرض کیا ہے کہ اختلافِ آخر کا پتہ چل جائے۔ اب یاد رکھو، یہ جو اختلافِ آخر کا پتہ چلتا ہے اس کے دو طریقے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ کلامِ عرب کا تتبع کریں اور اس کو اس کا سماع کریں عربوں سے، ان کا کلام سنیں، عربوں کے کلام کو پڑھیں اور اس طرح آپ کو پتہ چل جائے گا کہ عرب کس لفظ کے آخر کو بدلتے ہیں، کس لفظ کے آخر کو نہیں بدلتے، کون سا لفظ معرب ہے، کون سا لفظ معرب نہیں، اور معرب میں کہاں پر رفع پڑھتے ہیں، کہاں نصب پڑھتے ہیں، کہاں جر پڑھتے ہیں۔ یہ کس طرح پتہ چلے گا؟ کلامِ عرب کا تتبع کریں، تتبع کا معنی کوشش کرنا، جستجو کرنا، محنت کرنا، تو آپ کلامِ عرب میں کوشش کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، جو قابلِ اعتماد عرب کلام ہے اس کو پڑھتے ہیں، مثلاً احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں، پھر اسی طرح قرآن میں آپ دیکھتے ہیں، اسی طرح جو قدیم عرب شعراء کا کلام ہے آپ اس کو پڑھتے ہیں اور ان میں غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان سب کے اندر ہم دیکھ رہے ہیں فاعل مرفوع ہوتا ہے، مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے، اور مضاف الیہ مجرور ہوتا ہے، یہ ساری چیزیں آپ وہاں سے اخذ کرتے ہیں۔ کہاں سے؟ کلامِ عرب سے، کس سے؟ تو وہ شخص جو کلامِ عرب سے ان چیزوں کو سیکھتا ہے اس کو علمِ نحو کی کوئی حاجت نہیں۔ اس کو علمِ نحو کی کوئی حاجت نہیں، آپ کو نحو کی ایک بھی کتاب کھول کر دیکھنے کی ضرورت نہیں، آپ کو اگر اللہ نے ذہن دیا ہے، آپ کلامِ عرب میں جستجو کریں، غور کریں اور اس کے ذریعے آپ کو یہ ساری باتیں سمجھ میں آ جائیں گی جو علمائے نحو نے نحو کی کتابوں میں لکھی ہیں بھئی۔ تو یہ ایک طریقہ ہے۔ تو نحو کا مقصد کیا؟ اختلافِ آخر کو پہچاننا، توجہ ہے؟ نحو کا مقصد کیا ہے کہ ترکیب میں جب لفظ آ جائیں تو ان کا آخر کس طرح بدلتا ہے اس کو جاننا۔ تو اس اختلافِ آخر کو جاننے کے دو طریقے ہیں: ایک یہ کہ جو سیکھنا چاہتا ہے وہ کلامِ عرب کی میں جستجو کرے، اس کا تتبع کرے، اس میں محنت اور کوشش کرے، اور عربوں سے ان کے کلام کو سنے کہ وہ کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے، جو یہ تتبع نہیں کر سکتا، جو عربوں سے سماع نہیں کر سکتا تو پھر وہ علمِ نحو کی کتاب کھولتا ہے اور وہاں اس کو مل جاتا ہے کہ فاعل مرفوع ہوتا ہے، مفعول منصوب ہوتا ہے اور مضاف الیہ مجرور، ساری نحو کی بحثیں اس کو مل جاتی ہیں۔ تو نحو کا مقصد کیا ہے؟ اختلافِ آخر کا پتہ چلنا، اور نحو کی ضرورت کس آدمی کو ہے؟ جو کلامِ عرب کا تتبع نہیں کر سکتا، جو تتبع کر سکتا ہے اس کو علمِ نحو کی کوئی حاجت نہیں، وہ کلامِ عرب سے ساری چیزیں جان لے گا۔ تو علمِ نحو کا مقصد ہے اختلافِ آخر کو جاننا، اور اختلافِ آخر کو جاننے کے دو طریقے ہیں: ایک کلامِ عرب کا تتبع کیا جائے اور دوسرا کیا ہے؟ علمِ نحو سے سیکھ لیا جائے۔ تو علمِ نحو میں آسانی سے آپ کو ساری چیزیں مل جائیں گی، آپ کو کلامِ عرب کے اندر سالہا سال لگانے کی ضرورت نہیں ہے، علماء نے خود سالہا سال عمریں لگا دیں اس کے اندر اور پھر سارے ضابطے نکال کر آپ کے سامنے نحو میں رکھ دیے، اب آپ نحو کی کتاب اٹھاتے ہیں: الفاعل مرفوعٌ، بس یہ جملہ پڑھا اور آپ کو پتہ چل گیا فاعل پر کیا پڑھنا ہے؟ رفع پڑھنا ہے۔ تو صاحبِ جامی فرما رہے ہیں، پھر سنو پھر سنو، وہ فرماتے ہیں کہ علمِ نحو کی تدوین کا مقصد یعنی علمِ نحو کو جمع کرنے، مدون کرنے اور اس کو ترتیب دینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ شخص جو کلامِ عربی کا تتبع نہیں کر سکتا وہ بھی عربی زبان کے قائدوں کو جان لے، ضابطوں کو جان لے تاکہ اس کو اختلافِ آخر کا پتہ چل جائے کہ کس کلمے کا آخر بدلتا ہے، کس کا آخر نہیں بدلتا، معرب، مبنی کی اس کو پہچان ہو جائے نحو کے ذریعے، تو معرب کے ساتھ وہ معرب والا معاملہ کرے گا، اس میں رفع، نصب، جر کے مطابق اس میں تبدیلی لائے گا اور مبنی کے ساتھ مبنی والا معاملہ کرے گا، اس میں اختلافِ آخر نہیں لے کر آئے گا، یہ ہے علمِ نحو کا مقصد۔ اور جو عربی کلام کا تتبع کرتا ہے اس کو ان نحوی قواعد کی حاجت نہیں، اور جو تتبع نہیں کر سکتا اس کو ان قائدوں کی حاجت ہے۔ تو نحو کا مقصد کیا ہوا؟ اختلافِ آخر کو پہچاننا، توجہ ہے؟ اختلافِ آخر کو پہچاننا بھئی۔ جی، اب دیکھیے کتاب پر۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وإنما عدل المصنف رحمه الله عما هو المشهور عند الجمهور، مصنف نے عدول کیا اس تعریف سے جو مشہور ہے جمہور کے نزدیک۔ بھئی وہ کیا ہے مشہور؟ وہ کون سی تعریف مشہور ہے؟ ابھی بھی ابہام تھا تو "من" کے ذریعے اس کا بیان کر دیا: من أن المعرب ما اختلف آخره باختلاف العوامل، یعنی کہ معرب وہ اسم ہے کہ جس کا آخر بدلتا ہو اختلافِ عوامل سے۔ معرب وہ اسم ہے جس کا آخر بدلتا ہو اختلافِ عوامل سے، عوامل بدل رہے ہیں تو اسم اس کا آخر بھی بدل رہا ہے، اس کو معرب کہتے ہیں۔ یہ تعریف مشہور ہے کس کے نزدیک؟ جمہور کے نزدیک، اور مصنف یعنی صاحبِ قافیہ نے اس سے عدول کیا، اس سے رخ کو پھیر لیا، نئی تعریف کر دی، کیوں؟ کہتے ہیں: لأن الغرض من تدوين علم النحو، اس لیے کیونکہ وہ جو غرض ہے یعنی غرضِ اہم بھئی، اہم غرض جو ہے علمِ نحو سے وہ کیا؟ أن يعرف به أحوال أواخر الكلم في التركيب، کہ اس کے ذریعے جان لے اواخرِ کلمہ کے احوال کو، کلموں کے آخر کے احوال کو جان لے کہ آخرِ کلمہ کے کس طرح کے احوال ہوں گے، کہاں رفع پڑھنا ہے، کہاں نصب اور کہاں جر، فی الترکیب، جب یہ ترکیب میں واقع ہوں۔ احوالِ اواخرِ کلمہ کو جان لے جب یہ کس میں واقع ہوں؟ ترکیب میں واقع ہوں۔ بھئی یاد رکھو، علمِ نحو کی غرض صرف اختلافِ آخر کو پہچاننا نہیں ہے، توجہ ہے؟ علمِ نحو کی غرض صرف اختلافِ آخر کو پہچاننا نہیں ہے بلکہ اس کی غرض یہ بھی ہے کہ آپ کو پتہ چل جائے کہ عربی زبان میں کلام کیسے کرتے ہیں، لفظوں کو آپس میں کیسے جوڑتے ہیں، توجہ ہے؟ جملہ کیسے بناتے ہیں، جار مجرور کو کیسے ملایا جاتا ہے؟ تو یہ بھی مقصد ہے علمِ نحو کا۔ اسی طرح یہ بھی آپ کو پتہ چل جائے کس لفظ کو مقدم رکھنا ہے، کس کو مؤخر رکھنا ہے، کس لفظ کو معرفہ لانا ہے، کس کو نکرہ لانا ہے، کس کو موصوف بنانا ہے، کس کو صفت بنانا ہے، تو یہ علمِ نحو کے یہ صرف یہی مقصد نہیں ہے کہ اختلافِ آخر کو پہچان لیا جائے بلکہ کلام کو جوڑا کیسے جاتا ہے، کلام بنایا کیسے جاتا ہے، کس چیز کو مقدم کرنا ہے، کس کو مؤخر کرنا ہے وغیرہ، یہ سب علمِ نحو کی اغراض ہیں، لیکن ان میں سب سے اہم غرض کیا ہے؟ اختلافِ آخر کو پہچاننا، کہاں رفع پڑھنا ہے، کہاں نصب اور کہاں جر پڑھنا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لان الغرض، تو اب آپ یہ نہ کہیں کہ علمِ نحو کی تو اور بھی غرض ہے، صرف اختلافِ آخر کو پہچاننا نہیں، تو مراد یہ ہے غرضِ اہم بھئی، جو اہم غرض ہے، اہم مقصد ہے وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: لأن الغرض من تدوين علم النحو، تدوین کا معنی جمع کرنا بھئی، مرتب کرنا، اکٹھا کرنا، لأن الغرض من تدوين علم النحو، اس لیے کیونکہ علمِ نحو کی تدوین سے جو اصل جو اہم غرض ہے وہ یہ ہے: أن يعرف به، کہ اس کے ذریعے جان لے، اس کے ذریعے پہچان لے، کس چیز کو پہچان لے؟ أحوال أواخر الكلم في التركيب، ترکیب میں اواخرِ کلمہ کے احوال کو، ان کو جان لے کہ ان کے اواخر کو کس طرح پڑھنا ہے، کون پہچان لے؟ علمِ نحو کی غرض یہ ہے کہ اس کے ذریعے اواخرِ کلمہ کو پہچان لے، بھئی کون پہچان لے؟ آگے فاعل آ رہا ہے: من لم يتتبع لغة العرب ولم يعرف أحكامها بالسماع منهم، من لم يتتبع لغة العرب، اواخرِ کلمہ کے احوال کو پہچان لے من وہ شخص لم يتتبع لغة العرب جس نے لغتِ عرب کا تتبع نہیں کیا، جس نے لغتِ عرب میں کوشش اور جستجو، کوشش اور جستجو نہیں کی، ولم يعرف أحكامها اور جس نے عربی لغت کے احکام کو نہیں جانا، بالسماع منهم عربوں سے سن کر۔ جس شخص نے عربی زبان میں تلاش اور جستجو نہیں کی اور عربوں سے سن کر لغتِ عربی کے احکام کو نہیں پہچانا تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ علمِ نحو کے ذریعے اواخرِ کلمہ کے احوال کو پہچان سکتا ہے، اور جس نے تتبع کے ذریعے اور سماع کے ذریعے جانا ہے کلامِ عرب کو اس کو علمِ نحو کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ پھر دیکھیے ترجمہ: لأن الغرض من تدوين علم النحو أن يعرف به أحوال أواخر الكلم في التركيب، اس لیے کیونکہ اہم غرض جو ہے علمِ نحو کی تدوین سے وہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے جان لے ترکیب میں اواخرِ کلمہ کے احوال کو، کون جان لے؟ من لم يتتبع لغة العرب، وہ شخص جس نے لغتِ عرب کا، عربی زبان کا تتبع نہیں کیا، ولم يعرف أحكامها، اور وہ جس نے عربی زبان کے احکام کو نہیں پہچانا، بالسماع منهم، عربوں سے سن کر۔ یہ ہے کہ وہ پہچان لے۔ جس نے تلاش اور جستجو نہیں کی وہ اواخرِ کلمہ کے احوال کو پہچان لے، کس کے ذریعے؟ علمِ نحو۔ بھئی ایک تو وہ ہے جس نے تتبع کیا ہے، وہ تو اسی سے تتبع سے ہی جان لے گا سارا کچھ، اس کو علمِ نحو کی ضرورت نہیں، تو جس نے تتبع نہیں کیا وہ بھی عربی زبان میں اواخرِ کلمہ کے احوال کو پہچان لے، کس کے ذریعے؟ علمِ نحو کے ذریعے وہ پہچان لے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ علمِ نحو کی غرض ہے بھئی، اس کی تدوین کی۔ فإن العارف بأحكامها، اس لیے کیونکہ وہ شخص جو جاننے والا ہے عربی زبان کے احکام کو، كذلك، اس طریقے پر، كذلك، اس طریقے پر، کس طریقے پر؟ یعنی تتبع اور سماع سے۔ جو شخص اس طریقے سے عربی زبان کے احکام کو جان لیتا ہے یعنی تتبع اور جستجو کر کے، کہتے ہیں: مستغن عن النحو، یہ والا شخص جو ہے علمِ نحو سے بے نیاز ہے، اس کو علمِ نحو کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہتے ہیں: فإن العارف بأحكامها كذلك مستغن عن النحو، اس لیے کیونکہ وہ شخص جو عربی زبان کے احکام کو پہچانتا ہے کذلک اس طرح یعنی تتبع اور سماع سے، مستغن عن النحو، وہ علمِ نحو سے بے نیاز ہے، ولا فائدة له معتدا بها، میری کتاب میں ہے: فیما فائدۃ لہ، یہ درست نہیں ہے، ولا فائدة له ہونا چاہیے بھئی، ولا فائدة له، اور اس شخص کو کوئی فائدہ نہیں ہے، معتدا بها، ایسا فائدہ جو قابلِ شمار بھی ہو، جو قابلِ شمار بھی ہو، في معرفة اصطلاحاتهم، نحویوں کی اصطلاحات کے جاننے میں۔ یہ شخص جو کلامِ عرب کو تتبع اور سماع سے جان لیتا ہے، تتبع اور کوشش اور ان سے سن کر عربی زبان کے سارے احکام کو جان لیتا ہے، اس کو علمِ نحو کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یعنی ایسا فائدہ جو قابلِ شمار بھی ہو، جو بھئی ایک آدمی ہے، اس نے عربی زبان کا تتبع اور سماع کے ذریعے اس کے احکام کو جان لیا، اب یہ علمِ نحو کو پڑھے گا تو کچھ نہ کچھ فائدہ تو ہوگا، یہ تو نہیں ہو سکتا کچھ بھی فائدہ نہ ہو، توجہ ہے؟ تو وہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی فائدہ تو ہوگا لیکن یہ کوئی ایسا فائدہ نہیں ہے جس کو شمار بھی کیا جائے، بڑا معمولی سا ہی کوئی فائدہ ہوگا اس کو۔ تو فائدہ تو ہوگا، ظاہر سی بات ہے علماء کی باتیں ہیں اس کے اندر، لیکن یہ تو سارے احکام کہاں سے جان چکا ہے؟ کلامِ عرب سے جان چکا ہے، تو یہاں بھی اس کو کوئی نہ کوئی نئی باتیں مل جائیں گی لیکن یہ کوئی ایسا فائدہ نہیں ہے جو قابلِ شمار ہو، یعنی قابلِ شمار یعنی جو زیادہ ہو، زیادہ ہو جس کو شمار بھی کریں کہ یہ فائدہ ہوا ہے بہت بڑا، بلکہ معمولی سا فائدہ ہے جس کو شمار ہی نہ کریں۔ جیسے آپ کسی کے پاس گئے، کسی کے پاس گئے، مثلاً آپ نے اس سے آپ اس سے چاہتے ہیں مجھے ایک لاکھ روپیہ قرض دے دو، کسی ضرورت ہے ضرورت ہے۔ اس نے آپ کو ایک دو ہزار روپے دے دیے، ایک دو ہزار، اب قرض تو کچھ نہ کچھ آپ کو مل گیا لیکن آپ اس کو شمار کرتے ہی نہیں ہیں، کوئی آپ سے پوچھتا ہے: ہاں بھئی، اس کے پاس قرض لینے گئے تھے، اس نے قرض دیا؟ آپ کہتے ہیں نہیں بھئی، اس نے نہیں مجھے قرض دیا۔ یہ ایک ادھ ہزار کی اس کو یہ تو قابلِ شمار ہے ہی نہیں، مجھے اس کا فائدہ ہی نہیں ہے، مجھے تو ایک لاکھ روپے کی ضرورت تھی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں بھی اسی طرح کہا کہ ان کو علمِ نحو سے کوئی فائدہ نہیں، یہ نہیں کہ بالکل فائدہ ہی نہیں ہے، فائدہ تو ہوگا لیکن وہ قابلِ شمار نہیں ہے، بہت تھوڑا سا ہوگا۔ یہ معنی ہے کہ ولا فائدة له معتدا بها في معرفة اصطلاحاتهم، اس کو کوئی ایسا فائدہ نہیں ہے جو قابلِ شمار ہو فی معرفۃ اصطلاحاتہم، ان نحویوں کی اصطلاحات کے جاننے میں۔ نحویوں کی اصطلاحات کے جاننے میں اس کو کوئی ایسا فائدہ نہیں ہے جو قابلِ شمار ہو یعنی زیادہ ہو، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: فالمقصود من معرفة المعرب مثلا أن يعرف أنه مما يختلف آخره في كلامهم، ليجعل آخره مختلفا فيطابق كلامهم۔ اب یہاں سے وہی بات کریں گے جو میں نے پہلے آپ کو سمجھا دی کاپی پر۔ کیا سمجھایا میں نے؟ کہ معرب کی معرفت یہ آپ کو حاصل ہوگی تو پھر اختلافِ آخر کی بھی معرفت۔ تو معلوم ہوا اختلافِ آخر کی معرفت وہ موقوف ہے کس پر؟ بھئی کاپی پہ نظر رکھیں، پھر آپ کو بات سمجھ میں آئے گی۔ معلوم ہوا اختلافِ آخر کی معرفت وہ موقوف ہے کس پر؟ معرب کی معرفت پر، اور معرب کی معرفت آپ کو کب حاصل ہوگی؟ ما اختلف آخره باختلاف العوامل، جب آپ کو اختلافِ آخر کی معرفت ہو جائے۔ تو اختلافِ آخر کی معرفت موقوف ہو گئی معرب کی معرفت پر، اور معرب کی معرفت موقوف ہو گئی اختلافِ آخر پر، تو یہ دونوں ایک دوسرے پر موقوف ہو گئے، یہ تو دور لازم آیا، بات سمجھ میں آ گئی۔ اسی بات کو صاحبِ جامی ذکر کریں گے ذرا اور گہرے علمی رنگ میں۔ وہ یوں ذکر کریں گے، ادھر دیکھیے کہ معرب کی معرفت اس کے ذریعے مقصود یہ ہے کہ آپ کو یہ معرفت حاصل ہو جائے کہ معرب بھی ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے، جس کا ہاں، یوں کریں ذرا کاپی پہ لکھیں پھر آپ کو بات سمجھ میں آ جائے گی۔ لکھیں بھئی، اگلی سطر میں شروع میں لکھیں: معرفۃ المعرب، معرفۃ المعرب، جی، اب اس کے آگے کچھ فاصلہ دے کر دور کر کے لکھیں: معرفۃ، معرفۃ، انہ، انہ، مما، مما، یختلف، یختلف، آخرہ۔ لکھ لیا؟ معرفۃ انہ مما یختلف آخرہ، معرفۃ انہ مما یختلف آخرہ۔ سطر کے شروع میں کیا لکھا؟ معرفۃ المعرب، اور آخر میں کیا لکھا؟ معرفۃ انہ مما یختلف آخرہ۔ اب اس سطر پہ ذرا نظر رکھنا، وہی تقریر جو میں نے اوپر کی تھی، وہی تقریر یہاں ہے اب صاحبِ جامی کے الفاظ میں۔ صاحبِ جامی فرماتے ہیں کہ معرب کی بھئی علمِ نحو کی تدوین کا مقصد کیا ہے کہ اختلافِ آخر کی معرفت ہو جائے۔ تو معلوم ہوا معرب کی معرفت سے بھی کیا حاصل ہوگی؟ اختلافِ آخر کی معرفت۔ تو لہٰذا دیکھو اب اس سطر پہ نظر رکھو، معرفۃ المعرب، یہ معرفۃ المعرب، معرب کو پہچاننا، اس میں مقصود کیا ہے؟ مقصود یہ ہے: معرفۃ انہ مما یختلف آخرہ۔ یہ جو معرب کی معرفت ہے، یہ جو سطر کے آپ نے شروع میں لکھا، اس کے ذریعے مقصود یہ ہے، کیا مقصود ہے؟ کہ آپ کو اس بات کی معرفت حاصل ہو جائے، وہ سطر جو میں نے لکھوایا اس پہ نظر رکھیں، آپ کو اس بات کی معرفت حاصل ہو جائے کہ انہ مما یختلف آخرہ، کہ معرب بھی ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ معرب کی معرفت کے ذریعے مقصود کیا ہے کہ آپ کو اس بات کی معرفت حاصل ہو جائے کہ معرب بھی ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ تو یہ جو درمیان میں خالی جگہ چھوڑی تھی، اس میں چھوٹا سا لکھ لیں "مقصود" بھئی، مقصود، جی، درمیان میں چھوٹا سا لکھ لیں مقصود، لکھ لیا؟ جی، اب دیکھو بھئی، توجہ سے سنو، صاحبِ جامی تقریر کریں گے، یہاں آپ کو سمجھ میں آ جائے گا تو تقریر بھی ساری سمجھ میں آ جائے گی۔ صاحبِ جامی فرماتے ہیں اس سطر پہ نظر رکھو کہ معرفتِ معرب، معرب کی معرفت جو ہے اس کے ذریعے مقصود کیا ہے؟ اس بات کی معرفت، اس بات یہ لفظ دہراؤ: معرفۃ انہ مما یختلف آخرہ، اس بات کی معرفت کہ معرب بھی ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے، توجہ ہے؟ معرب کی معرفت کے ذریعے کیا مقصود ہے کہ اس بات کی پہچان ہو جائے کہ معرب بھی ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ معلوم ہوا یہ جو آگے مقصود آیا: معرفۃ انہ مما یختلف آخرہ، اس بات کو جاننا کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے کہ جس کا آخر بدلتا ہے، توجہ ہے ان لفظوں پہ نظر ہے؟ اس بات کی معرفت کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے کہ اس کا آخر بدلتا ہے، اس سے پہلے آپ کو معرب کی معرفت ہونی چاہیے۔ نہیں بات سمجھ میں آئی؟ دیکھو دیکھو پھر دیکھو، میں نے کیا بتایا، پھر ذرا اس سطر پہ نظر رکھو، معرب کی معرفت اس کے ذریعے مقصود کیا ہے، معرب کی پہچان کیوں مقصود ہے، کیوں جاننا چاہتے ہیں تاکہ آپ کو اس بات کی معرفت حاصل ہو جائے کہ انہ مما یختلف آخرہ کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ یہ معرب کی معرفت کے ذریعے مقصود ہے، جب یہ مقصود ہے تو معلوم ہوا اس مقصود سے پہلے آپ کو معرب کی معرفت ہونی چاہیے۔ یہ جو آخر میں آیا یہ ہے مقصود، تو اس سے پہلے آپ کو کیا حاصل ہونی چاہیے؟ بھئی آپ معرب کو پہچانتے ہیں، مقصد کیا ہے؟ کیا مقصد ہے؟ آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ معرب کو جاننے کا مقصد ہی یہ ہے تو معلوم ہوا معرب کو جانیں گے تو آپ کو یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ معرب بھی ان چیزوں میں سے ہے۔ مقصد بعد میں آتا ہے نا، ایک چیز کے حاصل ہونے کے بعد مقصد حاصل ہوتا ہے۔ آپ چارپائی پر سونا چاہتے ہیں، چارپائی پر تو پہلے چارپائی بنائیں گے پھر اس کے بعد سوئیں گے نا، تو معرب کی معرفت کے ذریعے مقصد کیا ہے؟ اس سطر پہ نظر رکھیں: اس بات کی معرفت کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے، تو معلوم ہوا اس مقصد سے پہلے آپ کو کیا ہونا چاہیے؟ معرب کی معرفت ہونی چاہیے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو معرب کی معرفت پہلے حاصل ہونی چاہیے اور اب اگر معرب کی آپ وہ تعریف کریں جو جمہور نے کی تھی کہ المعرب ما اختلف آخره باختلاف العوامل، اس تعریف سے کیا پتہ چلا کہ معرب بھی ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ معرب کی تعریف سے آپ کو کیا پتہ چلا؟ معرب ان چیزوں میں سے ہے جن کا آخر بدلتا ہے، ما اختلف آخره باختلاف العوامل، آپ نے تعریف ہی یہ کی ہے۔ تو معرب کی تعریف کے ذریعے مقصود کیا تھا؟ اس بات کی معرفت حاصل ہو جائے، معرب ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ تو معلوم ہوا اس مقصد سے پہلے آپ کو معرب کی معرفت ہونی چاہیے۔ اور معرب کی تعریف تو کیا کی؟ وہ جمہور والی، ما اختلف آخره باختلاف العوامل، کہ معرب بھی ان چیزوں میں سے ہے جن کا آخر بدلتا ہے۔ تو لہٰذا جو معرفتِ معرب آپ نے لکھا ہے، اس کے نیچے لکھ دیں، بلکہ یوں لکھیں: المعرب مما يختلف آخره، لکھ لیا؟ توجہ ہے؟ المعرب مما يختلف آخره، یہی تعریف کی نا، ما اختلف آخره باختلاف العوامل، معرب کس کو کہتے ہیں کہ جس کا آخر اختلافِ عوامل سے بدلتا ہو، تو معرب کے ذریعے مقصود بھی یہ تھا کہ پتہ چل جائے کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جن کا آخر بدلتا ہے، اور معرب کی تعریف بھی یہ کر دی کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے، تو دیکھو یہ دور لازم آیا۔ معلوم ہوا یہ جو مقصود ہے ذرا اس پہ نظر رکھو، یہ مقصود آپ کو تب حاصل ہوگا جب آپ کو معرب کی پہچان ہوگی، اور معرب کی پہچان کب ہوگی جب آپ کو یہ پتہ چل جائے کہ معرب کس میں سے ہے؟ ان چیزوں میں سے ہے جن کا آخر بدلتا ہے، تو یہ دیکھو یہ جو مقصد ہے، اس پر مقصد ہی مقدم ہو گیا، وہی مقصد مقدم بھی ہو گیا۔ معرفۃ انہ مما یختلف آخرہ، مقصود کیا تھا معرب کے ذریعے کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر جی، تو اس سے پہلے آپ کو کیا ہونی چاہیے؟ اور معرب کی معرفت بھی کس سے ہوگی جب یہ پتہ چل جائے کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جن کا آخر بدلتا ہے، تو وہی مقصد اپنے سے پہلے ہو گیا، مقصد سے پہلے آپ کو مقصد کو جاننا پڑے گا پھر آپ کو مقصد سمجھ میں آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے دور بھئی، ایک چیز اپنے ہی اوپر موقوف ہو گئی۔ تو اس کو کہتے ہیں تقدم الشیء علی نفسہ، ایک چیز اپنی ہی ذات پر مقدم ہو گئی۔ مقصد کیا تھا؟ معرفۃ انہ مما یختلف آخرہ، اور معرب کی معرفت بھی کس سے ہو رہی ہے؟ انہ مما یختلف آخرہ، تو انہ مما یختلف آخرہ اس کا پتہ آپ کو تب چلے گا جب اس سے پہلے آپ کو یہ پتہ چل جائے انہ مما یختلف آخرہ، تو ایک شے اپنی ہی ذات پر مقدم ہو گئی، اسی کو پہلے جانو گے تو پھر اس شے کو جانو گے تو یہ دور لازم آیا، بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: فالمقصود من معرفة المعرب مثلا، تو مقصود جو ہے معرب کی معرفت کے ذریعے مثال کے طور پر وہ یہ ہے: أن يعرف، کہ یہ جان لے، أنه مما يختلف آخره، کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ معرب کی معرفت سے مقصود یہ ہے، کیا مقصود ہے؟ أن يعرف، وہی جو میں نے ابھی آپ کو لکھوایا تھا کاپی پر: أن يعرف أنه مما يختلف آخره، کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جن کا آخر بدلتا ہے، في كلامهم، کس میں؟ عربوں کے کلام میں، ليجعل آخره مختلفا، تاکہ یہ جو یہ جو جاننے والا ہے تاکہ یہ ليجعل آخره مختلفا، تاکہ یہ بھی اپنے کلام کے اندر معرب کے آخر کو اسی طرح بدل دے، فيطابق كلامهم، تو پھر اس کا کلام بھی عربوں کے کلام جیسا ہو جائے گا۔ ادھر دیکھیے، معرب کی معرفت کے ذریعے مقصود یہ ہے کہ یہ جان لیا جائے کہ معرب بھی ان چیزوں میں سے ہے کہ جن کا آخر بدلتا ہے تاکہ یہ شخص جب یہ شخص عربی کلام کرے تو اسی کے مطابق معرب میں تبدیلی لے کر آئے تاکہ اس کا جو کلام ہے، اس کی جو عربی ہے وہ عربوں کے کلام کے مطابق ہو جائے۔ فمعرفته متقدمة، تو معلوم ہوا معرب کی جو معرفت ہے وہ مقدم ہے، وہ پہلے ہونی چاہیے۔ معرب کی معرفت ہوگی تو معرب کی معرفت کے ذریعے غرض کیا ہے، وہ کاپی پہ نظر رکھیں۔ اس بات کی معرفت کہ انہ مما یختلف کہ یہ بھی ان چیزوں میں سے ہے جن کا آخر معلوم ہوا اس سے پہلے، یہ جو مقصد ہے، مقصد سے پہلے آپ کو کس کی معرفت ہونی چاہیے؟ معرب کی معرفت پہلے ہونی چاہیے کیونکہ معرب کی معرفت اس کے ذریعے یہ مقصد ہے تو معرب کی معرفت ہوگی تو پھر مقصود بھی حاصل ہوگا۔ تو کہتے ہیں: فمعرفته متقدمة، تو لہٰذا معرب کی جو معرفت ہے وہ مقدم ہوگی، على معرفة أنه مما يختلف آخره، اس بات کی معرفت پر کہ یہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ فلو كان معرفته المتقدمة حاصلة بمعرفة هذا الاختلاف، اگر معرب کی معرفت وہ جو مقدم ہے، معرب کی معرفت جو مقدم ہے، جو پہلے ہونی چاہیے، اگر وہ بھی حاصل ہو رہی ہے بمعرفۃ ہذا الاختلاف، وہ بھی اسی اختلاف کی معرفت سے، مقصد کیا؟ معرفۃ انہ مما یختلف آخرہ، اس سے پہلے کس کی معرفت ہونی چاہیے؟ معرب کی معرفت، اور معرب کی معرفت اگر آپ اس کی تعریف بھی آپ یہی کر دیں کہ انہ مما یختلف آخرہ، معرب بھی ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر تو معرب کا جاننا موقوف ہو گیا کس پر؟ انہ مما یختلف آخرہ پر۔ انہ مما یختلف آخرہ اس کی معرفت کس پر موقوف تھی؟ معرب کی معرفت پر، اور معرب کی معرفت کس پر موقوف ہو گئی؟ انہ مما یختلف آخرہ۔ تو کہتے ہیں: فلو كان معرفته المتقدمة، اگر معرب کی وہ معرفت جو مقدم ہے وہ حاصلۃ، وہ حاصل ہو، بمعرفة هذا الاختلاف، اسی اختلاف کی معرفت سے، اس کی بھی یہی تعریف کی جائے کہ انہ مما یختلف آخرہ، اس کی اختلاف کے ساتھ معرب کی تعریف کی جائے اور اس سے اس کی پہچان ہو، وتعريفه به، اور اس کے ساتھ اس کی تعریف کی جائے، تو وجب، تو واجب ہوگا، واجب ہوگا: أن يعرف أولا، کہ پہلے معرب کی یہ تعریف کی جائے۔ توجہ ہے؟ انہ مما یختلف آخرہ، یہ ہے مقصود، اس مقصود سے پہلے کس کو جاننا ضروری؟ معرب کو، اور معرب کی کیا تعریف کی کہ انہ مما یختلف، تو انہ مما یختلف آخرہ اس کو جاننا موقوف ہوا معرب کی معرفت پر، اور معرب کی معرفت وہ موقوف ہوا کس پر؟ کہ انہ مما یختلف آخرہ پر۔ تو وجب، تو واجب ہوا: أن يعرف أولا، کہ پہلے معرب کی تعریف کی جائے، بأنه مما يختلف آخره، کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے، پہلے یہ تعریف معرب کی کی جائے، کس لیے کی جائے؟ ليعرف، تاکہ وہ مقصود کو جان لیا جائے، اور مقصود کیا وہ ذکر کر رہے ہیں: ليعرف أنه مما يختلف آخره، تاکہ یہ جان لیا جائے کہ معرب ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو مقصود بھی یہی: مما یختلف آخرہ، اور اس سے پہلے یہی جاننا ضروری کہ انہ مما یختلف آخرہ، ایک شے اپنی ہی ذات پر کیا ہو گئی؟ مقدم ہو گئی، کیونکہ انہ مما یختلف آخرہ اس کا دارومدار کس پر؟ معرب کی معرفت پر، اور معرب کی معرفت کب ہوگی جب آپ کو اس کی تعریف کیا کی؟ ما اختلف آخرو باختلاف، کہ جب یہ پتہ چل جائے کہ معرب بھی کس میں سے ہے؟ ما اختلف آخرو باختلاف العوامل، تو تو انہ مما یختلف آخرہ یہ اپنی ہی ذات پر مقدم ہو گیا، اپنی ذات سے پہلے اس کو جاننا ضروری۔ فيلزم تقدم الشيء على نفسه، تو لازم آیا ایک شے کا اپنی ذات پر مقدم ہونا، اور یاد رکھو یہ باطل ہے، یہ کیا ہے؟ باطل ہے، ایک شے اپنی ذات پر مقدم نہیں ہو سکتی، زید زید پر مقدم نہیں ہو سکتا، زید عمرو، بکر، خالد پر تو مقدم ہو سکتا ہے، اپنی ہی ذات پر مقدم نہیں ہو سکتا کیونکہ تقدم کے لیے مغایرت چاہیے، ایک چیز دوسری چیز پر مقدم ہے معلوم ہوا دونوں الگ الگ ہیں، تو ایک ہی چیز اپنی ہی ذات پر مقدم نہیں ہو سکتی، بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ فينبغي أن يعرف أولا بغير ما عرفه به الجمهور، تو مناسب یہ ہے کہ معرب کی تعریف کی جائے اولاً پہلے، بغیر ما عرفہ بہ الجمهور، بغیر اس تعریف کے جس کے ساتھ جمہور نے تعریف کی ہے، علاوہ اس تعریف کے۔ انہ مما یختلف آخرہ اس سے پہلے کیا ضروری؟ معرب کی معرفت ضروری، تو معرب کی معرفت بانہ مما یختلفہ سے نہ کرو، کوئی اور تعریف کرو، ورنہ اگر اسی سے کرو گے تو پھر تو تقدم الشیء علی نفسہ لازم آئے گا۔ تو فینبغی، مناسب یہ ہے: أن يعرف أولا، کہ پہلے معرب کی تعریف کی جائے، بغير ما عرفه به الجمهور، بغیر اس تعریف کے ساتھ جس کے ساتھ جمہور نے اس کو کی تعریف کی ہے، بغیر ان لفظوں کے جس کے ساتھ جمہور نے اس کی تعریف کی ہے، ويجعل ما عرفوه به من جملة أحكامه، اس کا عطف یعرف پر ہے اور اس پر ان داخل تھا تو اس پر بھی ان داخل ہوگا: وأن يجعل، اور کر دیا جائے، ما عرفوه به، وہ جس کے ساتھ جن لفظوں کے ساتھ جمہور نے اس کی تعریف کی ہے، من جملة أحكامه، اس کے جملہ احکام میں سے۔ بھئی دیکھیے، معرب کی تعریف ان لفظوں کے ساتھ نہ کرو جن کے ساتھ جمہور نے تعریف کی ہے ورنہ تو کیا لازم آئے گا؟ تقدم الشیء علی نفسہ لازم آئے گا، یا یوں کہو دور لازم آئے گا بھئی، کیا لازم آئے گا؟ دور لازم آئے گا۔ لہٰذا مناسب یہ ہے کہ معرب کی کوئی اور تعریف کی جائے، وہ جمہور والی تعریف نہ کی جائے، اور وہ جو جمہور نے تعریف کی ہے اس کو معرب کا حکم قرار دے دیا جائے۔ معرب کا حکم قرار دے دیا جائے کہ معرب کا حکم یہ ہے کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کا آخر بدلتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ويجعل ما عرفوه به من جملة أحكامه، اور قرار دے دیا جائے وہ جس کے ساتھ جمہور نے اس کی تعریف کی ہے اس کو قرار دیا جائے، بنا اس کو بنا دیا جائے، من جملة أحكامه، معرب کے جملہ احکام میں سے، معرب کے جملہ احکام میں سے اس کو ایک حکم بنا دیا جائے، كما فعله المصنف رحمه الله، جیسے کہ مصنف رحمہ اللہ نے کیا ہے۔ دیکھو آگے متن متن ذرا دیکھو: وحكمه أن يختلف آخره باختلاف العوامل، اور معرب کا حکم یہ ہے کہ اس کا آخر بدلتا ہے عوامل کے بدلنے سے۔ دیکھو جمہور نے جو تعریف کی تھی معرب کی، مصنف نے کیا کر دیا؟ اس کو معرب کا حکم بنا دیا، اس کا حکم یہ ہے بھئی، اس کا حکم یہ ہے کیونکہ اگر معرب کی وہ تعریف کرو گے تو تقدم الشیء علی نفسہ لازم آئے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
41 approved lectures · 10 of 41