فَصْلٌ: اَلْمَصْدَرُ اسْمٌ يَدُلُّ عَلَى الْحَدَثِ فَقَطْ، وَيُشْتَقُّ مِنْهُ الْأَفْعَالُ، كَالضَّرْبِ وَالنَّصْرِ مَثَلًا، وَأَبْنِيَتُهُ مِنَ الثُّلَاثِيِّ الْمُجَرَّدِ غَيْرُ مَضْبُوطَةٍ تُعْرَفُ بِالسَّمَاعِ، وَمِنْ غَيْرِهِ قِيَاسِيَّةٌ كَالْإِفْعَالِ وَالِانْفِعَالِ وَالِاسْتِفْعَالِ وَالْفَعْلَلَةِ وَالتَّفَعْلُلِ مَثَلًا۔
آج ہم مصدر کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ تو مصنف فرماتے ہیں: ”اَلْمَصْدَرُ اسْمٌ يَدُلُّ عَلَى الْحَدَثِ فَقَطْ“ کہ مصدر وہ ایسا اسم ہے، ”اسْمٌ“ دیکھو نکرہ آیا اور اس کے بعد ”يَدُلُّ“ فعل، تو نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو ”اَلْمَصْدَرُ اسْمٌ“ مصدر جو ہے وہ ایسا اسم ہے ”يَدُلُّ عَلَى الْحَدَثِ فَقَطْ“ جو صرف حدث پر دلالت کرتا ہے، جو صرف کس پر دلالت کرتا ہے؟ حدث پر دلالت کرتا ہے بھئی۔
حدث کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھیے، حدث وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو، یعنی جو غیر کی صفت ہو، اس کا اپنا الگ وجود نہ ہو اس کو حدث کہتے ہیں۔ جیسے میں کہتا ہوں زید پٹائی کرنے والا ہے۔ اب دیکھو یہ پٹائی کرنا، اس کا اپنا الگ وجود نہیں۔ زید ہوگا اور وہ پٹائی کرے گا تو پٹائی کا وجود پایا جائے گا، اور اگر زید نہیں تو وہ جو زید نے پٹائی کرنی تھی اس پٹائی کا بھی وجود نہیں۔ تو حدث کسے کہتے ہیں؟ وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہوتا ہے، غیر کے ساتھ قائم ہوتا ہے یعنی غیر کی صفت بنتا ہے۔ اگر وہ غیر ہے تو اس کا بھی وجود ہے، اور اگر وہ غیر نہیں تو اس کا اپنا الگ وجود بھی نہیں ہے بھئی۔ تو اس کو حدث کہتے ہیں، جیسے پٹائی کرنا۔ زید ہے تو پٹائی کرنا ہے، زید نہیں تو پٹائی کرنا بھی نہیں۔ جیسے کھانا کھانا۔ زید ہے تو کھانا کھانے کا فعل ہو سکتا ہے، زید نہیں تو وہ کھانا کھانے کا فعل بھی نہیں۔ یعنی اس کے لیے کوئی ایسی ذات چاہیے جس کے ساتھ وہ قائم ہو بھئی۔
تو ضرب تبھی پائی جائے گی جب کوئی نہ کوئی ضرب لگانے والا ہوگا، کھانا کھانا اسی وقت پایا جائے گا جب کوئی کھانا کھانے والا ہوگا، پانی پینا، پانی کا پینا اسی وقت پایا جائے گا جب کوئی پانی پینے والا ہوگا، اگر کوئی پانی پینے والا نہیں تو شرب یعنی پینے کا بھی وجود نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو حدث کسے کہتے ہیں؟ وہ معنی جو غیر کے ساتھ قائم ہو، یعنی غیر کی صفت ہو، تو اس کے لیے کوئی موصوف چاہیے، اگر موصوف ہوگا تو اس حدث کا بھی وجود ہوگا، اگر موصوف نہیں تو اس حدث کا وجود بھی نہیں بھئی۔
تو انہوں نے تعریف کیا کی کہ مصدر وہ ایسا اسم ہے ”يَدُلُّ عَلَى الْحَدَثِ فَقَطْ“ جو صرف حدث پر دلالت کرتا ہے، یعنی صرف اس معنی پر دلالت کرتا ہے جو غیر کے ساتھ قائم ہے۔ اس کے ذریعے فعل کو نکال دیا بھئی۔ کس کو؟ فعل کو بھی نکال دیا، اس میں فاعل وغیرہ کو بھی نکال دیا، کیونکہ فعل میں نے آپ کو پہلے بھی بتلایا تھا کہ فعل لفظوں کے اعتبار سے اگرچہ مفرد ہے لیکن معنی کے اعتبار سے وہ مرکب ہے، کیونکہ فعل کا معنی اور فعل کا مفہوم وہ مرکب ہوتا ہے تین چیزوں سے: ایک اس میں حدث پایا جائے گا یعنی معنی مصدری ہوگا، اور ایک زمانہ ہوگا، اور تیسری نسبت الی الفاعل ہوگی۔ کتنی چیزیں؟ نمبر ایک معنی مصدری یعنی حدث، اور نمبر دو زمانہ، اور نمبر تین نسبت الی الفاعل بھئی۔ جیسے دیکھیے میں نے کہا: ”ضَرَبَ“، ”ضَرَبَ“۔ تو ”ضَرَبَ“ فعل ہے، تو ”ضَرَبَ“ کے اندر دیکھو ضرب والا معنی ہے، معلوم ہوا ضرب ہوئی ہے کس زمانے میں؟ زمانہ ماضی میں، تو دیکھو ضرب والا معنی ہے پٹائی کرنے والا، اور زمانہ بھی پایا جا رہا ہے کہ کون سے زمانے میں ہوئی ہے یہ ضرب؟ ماضی کے زمانے میں ہوئی ہے، اور نسبت الی الفاعل بھی ہے کہ معلوم ہوا کوئی اس فعل کو سرانجام دینے والا ہے، کسی نے اس فعل کو سرانجام دیا ہے اور اس پٹائی کا وجود پایا گیا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو فعل خود تو مفرد ہے لیکن اس کا مفہوم اور معنی مرکب ہے تین چیزوں سے: نمبر ایک معنی مصدری یعنی حدث، اور نمبر دو زمانہ، اور نمبر تین نسبت الی الفاعل۔ تو جب کہہ دیا مصنف نے ”اَلْمَصْدَرُ اسْمٌ يَدُلُّ عَلَى الْحَدَثِ فَقَطْ“ مصدر صرف حدث پر دلالت کرتا ہے، تو فعل نکل گیا، کیونکہ فعل صرف حدث پہ نہیں دلالت کرتا، وہ حدث کے ساتھ ساتھ زمانے پر بھی دلالت کرتا ہے اور نسبت الی الفاعل پر بھی دلالت کرتا ہے، فعل نکل گیا۔ اسی طرح اسم فاعل، اسم مفعول وغیرہ بھی نکل گئے، کیونکہ اسم فاعل ”ضَارِبٌ“، ”ضَارِبٌ“ یہ ضرب پہ بھی دلالت کر رہا ہے یعنی حدث پہ، اور ایک ذات پر بھی دلالت کر رہا ہے جو اس کے ساتھ موصوف ہو رہی ہے۔ ضارب کا کیا معنی؟ ضرب لگانے والی ذات۔ دیکھا؟ ضرب کا معنی بھی آگیا، اور خود ضرب ہے یا ضرب لگانے والی ذات ہے؟ ضرب لگانے والی ذات، تو دیکھو ایک ذات ہے جو موصوف ہو رہی ہے کس کے ساتھ؟ ضرب کے ساتھ۔ تو ضرب کے ساتھ ساتھ یعنی حدث کے ساتھ ساتھ ذات والا معنی بھی اس کے اندر آگیا۔ اسی طرح اسم مفعول کے اندر بھی ہے۔ تو جب انہوں نے کہہ دیا کہ مصدر وہ نام ہے صرف کس کا؟ حدث کا، تو فعل وغیرہ یا اسم فاعل وغیرہ اس سے نکل گئے بھئی۔ تو مصدر صرف حدث پہ دلالت کرتا ہے، اس میں زمانہ یا نسبت الی الفاعل نہیں بھئی۔ اور حدث میں نے بتا دیا، ایسا معنی جس کا اپنا الگ وجود نہ ہو، غیر کی صفت بنے، وہ غیر ہے تو اس کا بھی وجود ہے، غیر نہیں تو اس کا بھی وجود نہیں، جیسے ضرب۔ کوئی ضرب لگانے والا ہے تو ضرب پائی جائے گی، کوئی ضرب لگانے والا نہیں تو ضرب کا وجود ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”اَلْمَصْدَرُ اسْمٌ يَدُلُّ عَلَى الْحَدَثِ فَقَطْ“ مصدر وہ ایسا اسم ہے جو صرف حدث پر دلالت کرتا ہے، ”وَيُشْتَقُّ مِنْهُ الْأَفْعَالُ“ اور اس سے افعال کا اشتقاق ہوتا ہے۔ اشتقاق کہتے ہیں کہ ایک کلمے سے دوسرا کلمہ بنانا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اشتقاق، اشتقاق۔ یاد رکھیے مصدر اصل ہے اور اس سے آگے باقی تمام صیغے بنتے ہیں بھئی۔ مصدر سے سب سے پہلے فعل ماضی بنتا ہے، پھر فعل ماضی سے آگے فعل مضارع بنتا ہے، پھر فعل مضارع سے آگے اسم فاعل اور اسم مفعول وغیرہ بنتے ہیں۔ تو مصدر سے کیا بنا؟ فعل ماضی، فعل ماضی سے فعل مضارع، اور فعل مضارع سے اسم فاعل اور اسم مفعول۔ تو گویا سب صیغے وہ مصدر ہی سے بن رہے ہیں، کوئی بغیر واسطے کے اور کوئی واسطے کے ساتھ۔ فعل ماضی بغیر واسطے کے براہ راست مصدر سے بن رہا ہے، اور فعل مضارع وہ مصدر سے بن رہا ہے لیکن درمیان میں کس کا واسطہ ہے؟ فعل ماضی کا۔ اسی طرح اسم فاعل، اسم مفعول بھی مصدر سے بن رہے ہیں لیکن درمیان میں فعل ماضی اور مضارع کا واسطہ ہے۔ تو یہ صیغے جو ہیں یہ سب مصدر سے بنتے ہیں، تو یہ جو مصدر سے یہ صیغے بنتے ہیں اس کو اشتقاق کہتے ہیں، اشتقاق بھئی۔
تو کہتے ہیں ”وَيُشْتَقُّ مِنْهُ الْأَفْعَالُ“ اور مصدر جو ہے اس سے اشتقاق ہوتا ہے افعال کا، ”كَالضَّرْبِ وَالنَّصْرِ مَثَلًا“ جیسے کہ ضرب اور نصر ہے مثال کے طور پر۔ مصدر کی دو مثالیں ذکر کر دیں: ایک ضرب، پٹائی کرنا، اور ایک نصر، مدد کرنا۔ تو کہتے ہیں جیسے ضرب اور نصر ہے مثال کے طور پر۔ ”وَأَبْنِيَتُهُ مِنَ الثُّلَاثِيِّ الْمُجَرَّدِ غَيْرُ مَضْبُوطَةٍ تُعْرَفُ بِالسَّمَاعِ“ اب بیان کر رہے ہیں کہ مصدر کے اوزان کیا ہیں؟ کہتے ہیں بھئی ثلاثی مجرد سے مصدر کے اوزان بہت زیادہ ہیں اور کوئی ضابطہ بھی نہیں ان کا کہ جس کے ذریعے ان سب کو منضبط کیا جا سکے بھئی۔ ہاں وہ سماع پر موقوف ہیں، جیسے ہم نے عربوں سے سنے اسی طرح ہم استعمال کریں گے بھئی۔ تو ان کے اوزان بہت زیادہ ہیں۔ علم الصیغہ میں غالباً آپ نے پڑھا ہوگا کہ ثلاثی مجرد کے وہ غالباً چوالیس اوزان نقل کرتے ہیں بھئی، چوالیس اوزان۔ تو یعنی ان کا ضابطہ کوئی نہیں ہے، انہوں نے سماع عربوں سے سنے ہیں، ان کو انہوں نے جمع کیا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَأَبْنِيَتُهُ مِنَ الثُّلَاثِيِّ الْمُجَرَّدِ“ تو ”أَبْنِيَتُهُ“ اس مصدر کے اوزان ”مِنَ الثُّلَاثِيِّ الْمُجَرَّدِ“ کس سے؟ ثلاثی مجرد سے ”غَيْرُ مَضْبُوطَةٍ“ وہ ضبط نہیں کیے گئے یعنی ان کے لیے کوئی ضابطہ نہیں ہے، کوئی ضابطہ نہیں ہے، ”تُعْرَفُ بِالسَّمَاعِ“ اور کس کے ذریعے ان کو پہچانا جائے گا؟ سماع سے ان کو پہچانا جائے گا۔ ”وَمِنْ غَيْرِهِ قِيَاسِيَّةٌ“ اور ثلاثی مجرد کے علاوہ سے مصدر جو ہیں وہ قیاسی ہیں، یعنی قیاس کے ذریعے آپ بھی فوراً نکال سکتے ہیں۔ ”كَالْإِفْعَالِ وَالِانْفِعَالِ وَالِاسْتِفْعَالِ وَالْفَعْلَلَةِ وَالتَّفَعْلُلِ مَثَلًا“ مثال کے طور پر، جیسے باب افعال ہے۔ آپ کو اگر ماضی کا پتہ چل جائے: ”أَسْعَدَ“، ”أَسْعَدَ“، فوراً ہی مصدر کا بھی پتہ چل گیا، آپ قیاس کے ذریعے فوراً نکال لیں گے کہ ”أَسْعَدَ“ کا مصدر کیا آئے گا؟ ”إِسْعَادٌ“، کیونکہ یہ باب افعال سے ہے، تو باب افعال کا مصدر کیا ہے؟ ”إِفْعَالٌ“ ہے۔ تو یہ دیکھا، قیاس کے ذریعے آپ نے نکالا، چاہے نہ بھی سنا ہو پھر بھی آپ قیاس کے ذریعے نکال سکتے ہیں۔ اسی طرح اور مثال لے لیں، اسی طرح باب انفعال ہے بھئی، انفعال۔ آپ کو ماضی کا پتہ چل جائے یا مضارع کا پتہ چل جائے آپ فوراً مصدر خود نکال سکتے ہیں، جیسے ”اِنْحَرَفَ“، ”اِنْحَرَفَ“، میں آپ سے پوچھوں اس کا مصدر کیا ہوگا؟ آپ فوراً کیا کہیں گے؟ ”اِنْحِرَافٌ“، دیکھا؟ آپ نے خود فوراً ہی قیاس کے ذریعے نکال لیا۔ اسی طرح مثلاً باب استفعال ہے، باب استفعال، یہ سب قیاسی مصدر ہیں، آپ کو ماضی کا پتہ چل جائے آپ کو فوراً مصدر کا پتہ چل جاتا ہے، جیسے ”اِسْتَخْرَجَ“، اس کا مصدر کیا آئے گا؟ ”اِسْتِخْرَاجٌ“۔ اسی طرح باب فعللہ ہے، دحرجہ ہے، اور باب تفعلل وغیرہ، تو یہ باقی تمام ابواب جو ہیں چاہے ثلاثی مزید فیہ ہے یا رباعی مجرد ہے یا رباعی مزید فیہ، ان کے مصادر قیاسی ہیں۔
تو کہتے ہیں ”وَمِنْ غَيْرِهِ قِيَاسِيَّةٌ“ اور ثلاثی مجرد کے علاوہ مصادر جو ہیں وہ قیاسی ہیں، ”كَالْإِفْعَالِ“ جیسے کہ افعال مصدر ہے ”وَالِانْفِعَالِ وَالِاسْتِفْعَالِ وَالْفَعْلَلَةِ وَالتَّفَعْلُلِ مَثَلًا“ مثال کے طور پر۔ ”فَالْمَصْدَرُ إِنْ لَمْ يَكُنْ مَفْعُولًا مُطْلَقًا يَعْمَلُ عَمَلَ فِعْلِهِ“ یہاں سے اب قیمتی بات بتلا رہے ہیں ترکیب کی بھئی۔ یاد رکھیے یہ جو مصدر ہوتا ہے یہ بھی اپنے فعل والا عمل کرتا ہے، بشرطیکہ یہ مفعول مطلق نہ ہو۔ مفعول مطلق آپ پڑھ چکے ہیں، کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ مفعول مطلق، جیسے ”ضَرَبْتُ ضَرْبًا“، یہ ”ضَرْبًا“ کیا ہے؟ مفعول مطلق، کیونکہ یہ مصدر ہے اور ماقبل کا فعل جو ”ضَرَبْتُ“ ہے اسی کا ہم معنی ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول مطلق۔ تو یاد رکھیے عمل میں اصل فعل ہے۔ اشتقاق کے اعتبار سے تو اصل کون ہے؟ مصدر ہے، لیکن عمل کے اعتبار سے فعل اصل ہے، فعل اصل ہے، اور جب فعل موجود ہو پھر مصدر عمل نہیں کرے گا۔ تو جب مصدر مفعول مطلق بن رہا ہے تو فعل بھی موجود ہے: ”ضَرَبْتُ ضَرْبًا“، تو اب عامل کس کو بنائیں؟ ”ضَرَبْتُ“ کو یا ”ضَرْبًا“ کو؟ تو کہتے ہیں بھئی جب اصل موجود ہے تو اصل کو عامل بنائیں گے۔ تو مصدر کس کی طرح عمل کرتا ہے؟ اپنے فعل والا عمل کرتا ہے، فعل والا عمل کرتا ہے۔ اور اگر فعل لازم تھا، صرف فاعل کو رفع دے رہا تھا، تو مصدر بھی فاعل کو رفع دے گا۔ اور اگر فعل متعدی تھا، فاعل کو رفع دینے کے ساتھ ساتھ مفعول کو نصب بھی دے رہا تھا، تو مصدر بھی وہی عمل کرے گا، فاعل کو رفع دے گا اور مفعول کو نصب دے گا۔
تو عمل میں اصل کون؟ فعل ہے۔ البتہ فرق یہ ہے، مصدر عمل تو فعل جیسا کرتا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ فعل جب بھی آئے گا، ساتھ ہی ہمیشہ اس کے فاعل یا نائب فاعل ضرور آئے گا۔ لیکن مصدر میں ایسا ضروری نہیں۔ اس کے ساتھ فاعل آ سکتا ہے، ہو سکتا ہے ذکر کیا جائے، فاعل ہوگا تو ضرور، اس کے لیے فاعل ہوگا تو ضرور، ضرب جب تک ضارب نہیں ہے ضرب تو ہو ہی نہیں سکتی، تو اس کے لیے فاعل ہوگا تو ضرور لیکن اس کا ذکر ہونا عبارت میں ضروری نہیں ہے، ہو سکتا ہے ذکر ہو، ہو سکتا ہے ذکر نہ ہو۔ ہاں اگر فاعل آئے گا تو مصدر اس کو کیا کرے گا؟ رفع دے گا، اور مفعول آ جائے اس کا تو مصدر اس کو کیا کرے گا؟ نصب دے گا۔ لیکن زیادہ تر ہوتا یہ ہے عموماً کہ مصدر کی اپنے فاعل یا مفعول کی طرف اضافت کر دی جاتی ہے، جیسے ”ضَرْبُ زَيْدٍ“، زید کا پٹائی کرنا، یعنی زید پٹائی کرنے والا ہے، ضرب کس نے لگائی ہے؟ زید نے، تو آپ نے زید کی طرف ضرب کی کیا کر دی؟ اضافت، ”ضَرْبُ زَيْدٍ“ زید کا پٹائی کرنا، اور پھر یہ جملے میں فاعل وغیرہ کچھ جو بھی بنے گا لیکن ایک جز بنے گا، پورا جملہ یہ نہیں ہے ”ضَرْبُ زَيْدٍ“ کیونکہ کیا ہے؟ مضاف اور مضاف الیہ ہیں بھئی۔ تو بات سمجھ میں آگئی؟ مصدر بھی کس طرح عمل کرتا ہے؟ اپنے فعل کی طرح عمل کرتا ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ فعل کے لیے فاعل یا نائب فاعل ہمیشہ ضرور ذکر ہوگا، لیکن مصدر کے لیے فاعل یا نائب فاعل ہوگا تو ضرور لیکن لفظوں میں ذکر ہونا ضروری نہیں۔ اور پھر یہ بات بھی انہوں نے آپ کو بتا دی کہ مصدر عمل کرے گا فعل والا ہی، لیکن شرط یہ ہے کہ مفعول مطلق نہ ہو۔ اگر یہ مفعول مطلق ہے تو پھر تو فعل بھی اس کا ساتھ موجود ہے تو پھر وہ عمل فعل کرے گا، یہ مصدر عمل نہیں کرے گا، مصدر عمل نہیں کرے گا۔ ہاں البتہ اگر بعض مقامات پر مفعول مطلق کے عامل یعنی فعل کو حذف کرنا واجب ہو جاتا ہے، ”ضَرَبْتُ ضَرْبًا“، بعض مقامات آپ نے پڑھے، وہاں پر مثلاً جیسے ”شُكْرًا“، ”شُكْرًا“، ”شَكَرْتُ شُكْرًا“، تو یہاں دیکھو اس کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے، ہم نے کبھی عربوں سے نہیں سنا کہ انہوں نے ”شَكَرْتُ“ کو ساتھ ذکر کیا ہو، وہ ہمیشہ کیا بولتے ہیں؟ ”شُكْرًا“، تو دیکھو یہ ایسا مصدر ہے، ایسا مفعول مطلق ہے جس کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے، تو پھر یہاں پر یہ مصدر عمل کر سکتا ہے بھئی، یہاں پر یہ مصدر عمل کر سکتا ہے کیونکہ اس کے فعل کو تو حذف کرنا واجب ہے بھئی، اور آپ چاہیں تو اسی فعل کو عامل بھی بنا سکتے ہیں بھئی محذوف فعل کو۔
تو کہتے ہیں ”فَالْمَصْدَرُ إِنْ لَمْ يَكُنْ مَفْعُولًا مُطْلَقًا يَعْمَلُ عَمَلَ فِعْلِهِ“ پس مصدر جو ہے اگر وہ مفعول مطلق نہ ہو تو وہ عمل کرے گا ”عَمَلَ فِعْلِهِ“ اپنے فعل والا عمل، ”أَعْنِي يَرْفَعُ الْفَاعِلَ إِنْ كَانَ لَازِمًا“ یعنی کہ وہ رفع دے گا مصدر فاعل کو اگر وہ کون سا ہوا؟ لازم ہوا، فعل لازم، ”نَحْوُ: أَعْجَبَنِي قِيَامٌ زَيْدٌ“ ”وَيَنْصِبُ مَفْعُولًا أَيْضًا“ اور مفعول کو نصب بھی دے گا ”إِنْ كَانَ مُتَعَدِّيًا“ اگر کون سا فعل ہو؟ فعل متعدی ہو، ”نَحْوُ: أَعْجَبَنِي ضَرْبٌ زَيْدٌ عَمْرًا“۔ تو قیام اس کا فعل کیا ہے؟ ”قَامَ“، اور ”قَامَ“ کیا ہے؟ فعل لازم، فعل لازم۔ لہٰذا اور فعل لازم صرف فاعل کو رفع دیتا ہے تو مصدر جو ہے اس کا وہ بھی صرف فاعل کو رفع دے گا۔ اور ”ضَرَبَ“ یہ فعل متعدی ہے، یہ فاعل کو رفع دینے کے ساتھ ساتھ مفعول کو نصب بھی دیتا ہے، تو اس کا مصدر بھی اسی طرح ہوگا، فاعل کو رفع دے گا اور مفعول کو نصب دے گا بھئی۔
فعل لازم اور فعل متعدی کی پہچان کا آسان طریقہ شاید میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہوگا کہ فعل متعدی کا اردو میں ترجمہ کریں تو لفظ ”نے“ اس میں آئے گا بھئی، لفظ ”نے“۔ مثلاً ”قَامَ زَيْدٌ“ زید کھڑا ہوا، دیکھو کوئی ”نے“ کا لفظ نہیں آیا، معلوم ہوا یہ فعل متعدی نہیں ہے بلکہ فعل لازم ہے۔ اور اگر ”نے“ کا لفظ آئے تو سمجھ جائیں یہ فعل متعدی ہے۔ مثلاً زید نے کھانا کھایا، دیکھا؟ ”نے“ آیا یا نہیں؟ زید نے، معلوم ہوا کھانا کھانا یہ کون سا فعل ہے؟ فعل متعدی۔ یا آپ کہتے ہیں زید نے مارا، دیکھا؟ معلوم ہوا یہ مارنا، پٹائی کرنا کیا ہے؟ فعل متعدی، کیونکہ زید نے، دیکھا ”نے“ لفظ آ رہا ہے، زید نے مارا۔
جی اب ترکیب کیجیے بھئی: ”أَعْجَبَنِي قِيَامٌ زَيْدٌ“۔ ”أَعْجَبَ“ کا معنی ہے تعجب میں ڈالنا، یا ”أَعْجَبَ“ کا معنی ہے پسند آنا، پسند آنا، جو بھی آپ کر لیں موقع محل کے مطابق بھئی۔ جی ترکیب کیجیے: ”أَعْجَبَنِي قِيَامٌ زَيْدٌ“۔ ”أَعْجَبَنِي“، جی ”أَعْجَبَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ منصوب کیوں؟ مفعول بہ ہے۔ محلاً کیوں کہہ رہے ہو؟ کیونکہ مبنی ہے، شاباش، تو منصوب محلاً مفعول بہ۔ آگے: ”قِيَامٌ“ مرفوع لفظاً مصدر، شاباش۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے۔ مجھے تعجب میں ڈالا، کس نے تعجب میں ڈالا؟ ”أَعْجَبَنِي“ مجھے تعجب میں ڈالا، یا یوں کہیں ”أَعْجَبَنِي“ مجھے پسند آیا، کیا چیز پسند آئی؟ ”قِيَامٌ“، قیام بھئی، یہ دیکھا فاعل ہے۔ یا مجھے تعجب میں ڈالا، کس نے تعجب میں ڈالا؟ ”قِيَامٌ“ قیام نے، کھڑے ہونے نے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھا، تو ”قِيَامٌ“ مرفوع کیوں ہے؟ کیونکہ یہ فاعل ہے ”أَعْجَبَ“ فعل کے لیے۔ اور مرفوع لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم کیا کر رہے ہیں؟ تلفظ کر رہے ہیں۔ تلفظ کر کے دکھاؤ: ”قِيَامٌ“، ”قِيَامٌ“، جی۔ اور جی مصدر، آگے۔ ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے۔ شاباش، کیونکہ یہ ”قِيَامٌ“ مصدر کے لیے فاعل ہے بھئی۔ آپ نے پڑھا کہ مصدر بھی کس کی طرح عمل کرتا ہے؟ فعل کی طرح عمل کرتا ہے، وہ بھی اپنے فاعل کو رفع دیتا ہے اور اگر متعدی ہو تو مفعول کو نصب بھی دیتا ہے۔ تو دیکھا یہ ”زَيْدٌ“ کو رفع یہ ”قِيَامٌ“ دے رہا ہے مصدر بھئی۔ جی، تو ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً فاعل۔ ہاں ”قِيَامٌ“ مصدر اپنے فاعل سے مل کر، تو دیکھا جب مصدر کے لیے فاعل وغیرہ آگے آ رہے ہوں تو تعبیر اسی طرح کرنا ہے: ”قِيَامٌ“ مرفوع لفظاً مصدر، آپ بتا دیں گے کہ یہ کیا ہے؟ مصدر ہے، اب آگے پھر آپ بتائیں گے ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً اس کا فاعل۔ اب مصدر ”قِيَامٌ“ مصدر اپنے فاعل سے مل کر یہ کیا ہوا؟ فاعل ہوا ”أَعْجَبَنِي“ کے لیے۔ جی، ”أَعْجَبَنِي“ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ”أَعْجَبَنِي قِيَامٌ زَيْدٌ“ تعجب میں ڈالا مجھے زید کے قیام نے۔ کھڑا ہونے والا کون ہے؟ زید ہے، یہ اس کے لیے فاعل ہے نا، تو مجھے کس نے تعجب میں ڈالا؟ زید کے قیام نے۔ مثلاً زید بیمار تھا، اور بیمار تھا اور امید ہی نہیں تھی کہ اتنی جلدی وہ ٹھیک ہو جائے گا، لیکن وہ بڑی جلدی ٹھیک ہوا اور آپ نے اس کو کھڑے ہوئے دیکھا تو بہت خوشی ہوئی آپ کو، یا آپ کو حیرت ہوئی تو آپ نے کیا کہا: ”أَعْجَبَنِي قِيَامٌ زَيْدٌ“ مجھے زید کے قیام نے تعجب میں ڈالا بھئی۔
اگلی ترکیب بھی کیجیے: ”أَعْجَبَنِي ضَرْبٌ زَيْدٌ عَمْرًا“۔ اچھا، اور لیکن یاد رکھیے ”أَعْجَبَنِي قِيَامٌ زَيْدٌ“ عموماً ایسا استعمال کم ہوگا۔ عموماً پھر اس کی، میں نے بتایا، مصدر کی اپنے فاعل یا مفعول کی طرف اضافت کر دیتے ہیں، تو استعمال یوں ہوگا زیادہ تر: ”أَعْجَبَنِي قِيَامُ زَيْدٍ“، ”أَعْجَبَنِي قِيَامُ زَيْدٍ“، تو پھر کیسے؟ پھر بھی اسی طرح ہوگا، قیام، ترکیب کیسے ہوگی؟ ”أَعْجَبَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ”قِيَامُ“ مرفوع لفظاً مصدر مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے، اور مصدر ہے اور مضاف ہے، اور ”زَيْدٍ“ مجرور لفظاً، مجرور لفظاً مضاف الیہ ہے لیکن مرفوع معنیً ہے، معنی کے اعتبار سے مرفوع ہے زید کیونکہ یہ قیام کے لیے کیا ہے؟ فاعل ہے۔ تو بات سمجھ میں آگئی؟ تو ”قِيَامُ زَيْدٍ“، ”زَيْدٍ“ مجرور لفظاً مضاف الیہ اور مرفوع معنیً، معنی کے اعتبار سے مرفوع ہے کیونکہ فاعل ہے قیام کے لیے۔ اور مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ فاعل ہوا ”أَعْجَبَنِي“ کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
جی اگلے جملے کی ترکیب کیجیے: ”أَعْجَبَنِي ضَرْبٌ زَيْدٌ عَمْرًا“، جی۔ ”أَعْجَبَنِي“ فعل، ”أَعْجَبَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ ”ضَرْبٌ“ مرفوع لفظاً مصدر، مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ جی، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً، یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ ”ضَرْبٌ“ کے لیے، اسی لیے مرفوع ہے۔ اور ”عَمْرًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ کس کے لیے؟ ”ضَرْبٌ“ مصدر کے لیے۔ معلوم ہوا یہ ”زَيْدٌ“ کو رفع کون دے رہا ہے؟ ”ضَرْبٌ“ مصدر، اور ”عَمْرًا“ کو نصب کون دے رہا ہے؟ ”ضَرْبٌ“ مصدر، کیونکہ یہ مصدر متعدی ہے، اور اگر وہ لازم ہو تو صرف فاعل کو رفع دیتا ہے جیسے ”قِيَامٌ زَيْدٌ“ گزرا بھئی، یہ ”زَيْدٌ“ کو رفع کس نے دیا تھا؟ ”قِيَامٌ“ نے۔ جی سمیٹیے اب ادھر۔ تو ”ضَرْبٌ“ مصدر جو ہے اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر یہ فاعل ہوا کس کے لیے؟ ”أَعْجَبَنِي“ کے لیے۔ ”أَعْجَبَنِي“ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ”أَعْجَبَنِي ضَرْبٌ زَيْدٌ عَمْرًا“ مجھے تعجب میں ڈالا پٹائی کرنا زید کا، زید کے پٹائی کرنے نے مجھے تعجب میں ڈالا، اور کس کی پٹائی کی؟ عمرو کی۔ مجھے زید کے عمرو کی پٹائی کرنے نے تعجب میں ڈالا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ مجھے تعجب میں ڈالا زید کے عمرو کی پٹائی کرنے نے، زید کے عمرو کی پٹائی کرنے نے مجھے تعجب میں ڈالا، یعنی جو زید نے عمرو کی پٹائی کی، اس نے مجھے، اس پٹائی نے مجھے تعجب میں ڈالا بھئی۔
اور میں نے آپ کو بتایا کہ ایسے موقع پر پھر عموماً کہ فاعل یا مفعول کی طرف مصدر کی کیا کر دی جاتی ہے؟ اضافت، تو یہاں پر زیادہ تر پھر یوں بولتے ہیں: ”أَعْجَبَنِي ضَرْبُ زَيْدٍ عَمْرًا“، ”أَعْجَبَنِي ضَرْبُ زَيْدٍ عَمْرًا“۔ تو دیکھا، ”عَمْرًا“ کا نصب بتا رہا ہے ”ضَرْبُ زَيْدٍ عَمْرًا“، یہ ”عَمْرًا“ کا نصب بتا رہا ہے یہ کیا ہے؟ مفعول، تو معلوم ہوا جو ”زَيْدٍ“ ہے مضاف الیہ وہ کیا ہے؟ معنی کے اعتبار سے فاعل ہے بھئی۔ اور کبھی کبھار مفعول کی طرف اضافت کر دیتے ہیں: ”أَعْجَبَنِي ضَرْبُ عَمْرٍو زَيْدٌ“، یہ ”زَيْدٌ“ کا رفع بتلا رہا ہے، توجہ ہے؟ زید کا رفع بتلا رہا ہے کہ یہ جو مضاف الیہ ”عَمْرٍو“ ہے یہ کیا ہے؟ یہ مفعول ہے، مفعول بہ ہے۔
جی اب دوبارہ ذرا ترجمہ دیکھ لیجیے۔ ”فَالْمَصْدَرُ إِنْ لَمْ يَكُنْ مَفْعُولًا مُطْلَقًا“ اگر مصدر مفعول مطلق نہ ہو تو ”يَعْمَلُ عَمَلَ فِعْلِهِ“ تو وہ بھی اپنے فعل والا عمل کرتا ہے، ”أَعْنِي يَرْفَعُ الْفَاعِلَ إِنْ كَانَ لَازِمًا“ یعنی وہ فاعل کو رفع دیتا ہے اگر وہ فعل کون سا ہو؟ لازم ہو، ”نَحْوُ: أَعْجَبَنِي قِيَامٌ زَيْدٌ“ ”وَيَنْصِبُ مَفْعُولًا أَيْضًا“ اور مفعول کو نصب بھی دیتا ہے ”إِنْ كَانَ مُتَعَدِّيًا“ اگر وہ متعدی ہو، ”نَحْوُ: أَعْجَبَنِي ضَرْبٌ زَيْدٌ عَمْرًا“ ”وَلَا يَجُوزُ تَقْدِيمُ مَعْمُولِ الْمَصْدَرِ عَلَيْهِ“ اور جائز نہیں ہے کہ معمول مصدر کو اس پر مقدم کیا جائے۔
میں آپ کو پہلے بتا چکا کہ عمل میں فعل اصل ہے، کیونکہ فعل قوی عامل ہے اور مصدر جو ہے وہ ضعیف عامل ہے۔ فعل جو ہے اپنے سے ما بعد میں بھی عمل کرتا ہے، اپنے سے ما قبل میں بھی عمل کرتا ہے۔ فعل کا فاعل یا نائب فاعل اس کو تو فعل پر مقدم نہیں کر سکتے، لیکن مفعول، مفعول وغیرہ اور چیزوں کو کیا کر سکتے ہیں؟ فعل پر مقدم بھی کر سکتے ہیں اور وہ پھر بھی ان میں عمل کرے گا اور نصب وغیرہ دے گا۔ جبکہ مصدر عامل ضعیف ہے، وہ اپنے ما بعد میں تو عمل کر سکتا ہے لیکن اپنے سے ما قبل میں عمل نہیں کر سکتا، اپنے سے ما قبل میں عمل، الّا یہ کہ اس کا معمول یعنی جس میں یہ عمل کر رہا ہے وہ ظرف ہو، وہ ظرف ہو، تو پھر ظرف ہو تو اس میں گنجائش ہے، وہ اس کو مصدر پر مقدم کیا جا سکتا ہے اور مصدر پھر بھی اس میں عمل کرے گا۔ کیونکہ ظروف میں گنجائش ہوتی ہے، وجہ اس کی یہ کہ ظروف کا تعلق حدث سے بڑا گہرا ہوتا ہے۔ جو بھی حدث ہوگا یعنی جو بھی جب بھی کوئی حدث پایا جائے گا: کھانا کھانا، پانی پینا، پٹائی کرنا، یہ ہمیشہ کسی نہ کسی زمانے میں ہوں گے اور کسی نہ کسی جگہ پہ ہوں گے۔ زید نے پٹائی کی، دیکھا کوئی نہ کوئی زمانہ ہوگا اور کوئی نہ کوئی جگہ ہوگی جہاں اس نے پٹائی کی۔ زید نے پانی پیا، کوئی نہ کوئی زمانہ ہوگا جس میں پانی پیا اور کوئی نہ کوئی جگہ ہوگی جہاں پر اس نے پانی پیا۔ تو ہر حدث کا تعلق زمانے اور مکان کے ساتھ ہوتا ہے، تو اسی وجہ سے جب اس کا تعلق ظرف یعنی اور زمانے اور مکان کو کیا کہتے ہیں؟ ظرف۔ تو معلوم ہوا حدث کا تعلق ظرف سے بڑا گہرا، جب بڑا گہرا تعلق ہے تو اسی لیے مصدر جو ہے وہ حدث ہے وہ ظرف میں عمل کرے گا چاہے وہ اس پر مقدم ہی کیوں نہ ہو جائے، لیکن باقی معمول وہ اس پر مقدم ہو جائیں تو وہ ان میں عمل نہیں کر سکتا۔ فاعل کو تو فعل پر بھی مقدم نہیں کر سکتے، مصدر میں بھی مقدم نہیں کر سکتے، اسی طرح مفعول اس کو تو فعل پر مقدم کر سکتے تھے لیکن مصدر میں مقدم نہیں کر سکتے، اسی طرح اور بھی معمول ہیں بھئی، ان کو بھی مصدر پر مقدم نہیں کر سکتے۔
تو کہتے ہیں ”وَلَا يَجُوزُ تَقْدِيمُ مَعْمُولِ الْمَصْدَرِ عَلَيْهِ“ اور جائز نہیں ہے مقدم کرنا معمول مصدر کو علیہ مصدر پر، ”فَلَا يُقَالُ“ پس یوں نہیں کہا جائے گا: ”أَعْجَبَنِي زَيْدٌ ضَرْبٌ عَمْرًا“۔ توجہ ہے ترکیب پہ؟ ”زَيْدٌ“ جو فاعل تھا کس کے لیے؟ ”ضَرْبٌ“ کے لیے، اس کو ”ضَرْبٌ“ پر مقدم کر دیا گیا، انہوں نے بتا دیا یہ جائز نہیں ہے۔ اسی طرح ”وَلَا عَمْرًا ضَرْبٌ زَيْدٌ“، مفعول کو بھی ”ضَرْبٌ“ پر مقدم کرنا جائز نہیں۔ اچھا بھئی، اب ترکیب کیا کریں گے: ”أَعْجَبَنِي زَيْدٌ ضَرْبٌ عَمْرًا“؟ جی ترکیب کیجیے، جی؟ ہاں شاباش، یہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب کبھی کتاب میں ایسی بات آ جائے کہ ایک جملہ ذکر کر دیا جائے کہ عربی میں یوں نہیں کہتے، تو پھر اب اگر آپ سے کوئی کہے اس کی ترکیب کرو تو آپ جواب میں فوراً کہیے کہ اس جملے کی ترکیب نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ کلام عرب کے خلاف ہے، کلام عرب میں اس طرح استعمال ہی نہیں ہوتا۔ تو جب ”أَعْجَبَنِي زَيْدٌ ضَرْبٌ عَمْرًا“ نہیں کہہ سکتے تو پھر اس کی ترکیب بھی نہیں کریں گے۔ تو کہتے ہیں ”فَلَا يُقَالُ“ تو یہ نہیں کہا جائے گا: ”أَعْجَبَنِي زَيْدٌ ضَرْبٌ عَمْرًا“، یہ نہیں کہا جائے گا، اور اسی طرح ”وَلَا عَمْرًا ضَرْبٌ زَيْدٌ“ یہ بھی نہیں کہا جائے گا۔ اس کے ساتھ بھی ”أَعْجَبَنِي“ جوڑ دیں: ”أَعْجَبَنِي عَمْرًا ضَرْبٌ زَيْدٌ“، یوں بھی نہیں کہا جائے گا۔
یہ تو میں نے آپ کو آسان لفظوں میں بتا دیا کہ مصدر کے معمول کو مصدر پر مقدم نہیں کر سکتے کیونکہ مصدر عامل ضعیف ہے، وہ اپنے ما بعد میں تو عمل کر سکتا ہے ما قبل میں عمل نہیں کر سکتا، الّا یہ کہ جو اس کا معمول ہے وہ ظرف ہو، تو جب ظرف ہو تو پھر اس صورت میں وہ مقدم بھی ہو جائے تو اس میں مصدر عمل کرے گا کیونکہ ظرف کے ساتھ فعل کا تعلق بڑا قوی ہوتا ہے بھئی، تو ہر حدث کے لیے کیا چاہیے؟ ظرف چاہیے، زمانہ بھی اور جگہ بھی، تو اس لیے اس کے ساتھ اس کا تعلق ہے تو وہ اس میں عمل کریں گے۔ یہ تو آسان لفظوں میں میں نے بتایا۔ گہری بات بھی یہاں یاد رکھیں، علمائے محققین فرماتے ہیں کہ وہ مصدر جو عمل کرتا ہے وہ ”أَنْ“ مع الفعل کی تاویل میں ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ وہ مصدر جو عمل کرتا ہے ”أَنْ“ مع الفعل کی تاویل میں ہوتا ہے۔ مثلاً یہاں پر ”ضَرْبٌ زَيْدٌ“ یا ”قِيَامٌ زَيْدٌ“، تو یہ ”قِيَامٌ“ یہ عامل ہے کس کے اندر؟ ”زَيْدٌ“، اور جو مصدر بھی عامل ہوتا ہے وہ ”أَنْ“ مع الفعل کی تاویل میں ہوتا ہے، تو ”قِيَامٌ“: ”أَنْ قَامَ“، ”أَنْ“ بھی لے آئے اور آگے فعل بھی بنا دیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور اسی طرح ”ضَرْبٌ“، یہ ”ضَرْبٌ“ عمل کر رہا ہے: ”ضَرْبٌ زَيْدٌ“، یہ زید کو رفع دے رہا ہے، تو یہ ”ضَرْبٌ“ کس معنی میں ہوا؟ ”أَنْ“ مع الفعل، بناؤ ”أَنْ“ مع الفعل: ”أَنْ ضَرَبَ“، ”أَنْ ضَرَبَ“ یا ”أَنْ يَضْرِبَ“، ماضی بنا لو، مضارع بنا لو، جو بھی ہے، موقع محل کے مطابق۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو یہ ”أَنْ“ مع الفعل کی تاویل میں ہوتا ہے۔ کیا بات ہوئی؟ وہ مصدر جو عمل کر رہا ہو وہ ”أَنْ“ مع الفعل کی تاویل میں ہوتا ہے، اور یاد رکھیے یہ ”أَنْ“ کیا ہے؟ حرف مصدر ہے، حرف مصدر، اور یہ ہمیشہ کس پر داخل ہوتا ہے؟ فعل پر، حرف مصدر ہے نا، تو یہ فعل پر داخل ہوتا ہے۔ اور یاد رکھیے یہ جو حرف مصدر ہوتا ہے اس کو حرف موصول کہتے ہیں۔ ایک تو اسم موصول ہے مبنیات میں سے آپ پڑھ چکے ہیں، اور یہ جو یہ جو حروف مصدریہ ہیں یہ جو فعل پر داخل ہوتے ہیں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ حرف موصول، کیا کہتے ہیں؟ اور یہ کس پر داخل ہوتے ہیں؟ فعل پر، اور فعل کو ان کا صلہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تو یہ ”أَنْ“ اور ”مَا“ مصدریہ وغیرہ یہ کیا ہیں؟ حرف موصول، اور آگے آنے والا فعل کیا ہے؟ صلہ ہے۔ اب آپ مجھے ایک بات بتائیے: ایک ہوتا ہے اسم موصول، ایک ہے اس کا صلہ، کیا صلہ اسم موصول پر مقدم ہو سکتا ہے؟ نہیں، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: ”أَنْ“ کیا ہے؟ حرف موصول، آگے کیا ہے؟ فعل اس کا صلہ، تو صلہ یہ جو ہے حرف موصول پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو ”ضَرْبٌ زَيْدٌ“، ”ضَرْبٌ زَيْدٌ“، یہ ”ضَرْبٌ“ کیا کر رہا ہے؟ ”زَيْدٌ“ کو رفع دے رہا ہے، تو یہ ”ضَرْبٌ“ کس معنی میں ہوا؟ ”أَنْ يَضْرِبَ زَيْدٌ“، ”أَنْ يَضْرِبَ زَيْدٌ“۔ تو یہ ”أَنْ“ مع الفعل کی تاویل میں ہوا، اور یہ عمل اب کون کر رہا ہے؟ دراصل یہ ”يَضْرِبُ“ کر رہا ہے، اور یہ ”يَضْرِبُ“ یہ خود ”أَنْ“ پر مقدم نہیں ہو سکتا، جب یہ خود ”أَنْ“ پر مقدم نہیں ہو سکتا تو اس کا جو آگے معمول ہے وہ بطریق اولیٰ ”أَنْ“ پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ تو اسی لیے مصدر کا جو معمول ہے وہ مصدر پر مقدم نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ مصدر کس معنی میں ہے؟ ”أَنْ“ مع الفعل کے، اور وہ فعل جو ہے وہ عامل ہے اور وہ ”أَنْ“ پر مقدم نہیں ہو سکتا تو اس کے آگے معمول بطریق اولیٰ اس پر مقدم نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ”ضَرْبٌ زَيْدٌ عَمْرًا“، ”ضَرْبٌ زَيْدٌ عَمْرًا“، آپ ”ضَرْبٌ“ کو کس معنی میں کر لیں؟ ”أَنْ“ مع الفعل: ”أَنْ يَضْرِبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، ”أَنْ يَضْرِبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، اب آپ اس ”عَمْرًا“ کو اٹھا کر اس پر مقدم کرنا چاہتے ہیں تو نہیں کر سکتے۔ مثلاً دوبارہ وہی مثال بناؤ: ”ضَرْبٌ زَيْدٌ عَمْرًا“، ”ضَرْبٌ زَيْدٌ عَمْرًا“، تو ”عَمْرًا“ کو ذرا مقدم کریں: ”عَمْرًا ضَرْبٌ زَيْدٌ“، اب اس کو ذرا ”أَنْ“ مع الفعل کی تاویل میں لے جاؤ: ”عَمْرًا أَنْ يَضْرِبَ زَيْدٌ“، ”عَمْرٌو“، توجہ ہے؟ ”عَمْرٌو أَنْ يَضْرِبَ زَيْدٌ“، تو دیکھا یہ تو آپ نے معمول کو کیا کر دیا؟ ”أَنْ“ پر بھی مقدم کر دیا، اور ”أَنْ“ پر تو مقدم نہیں کر سکتے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو مصدر پر مقدم کریں گے تو گویا آپ نے اس ”أَنْ“ پر مقدم کر دیا اور ”أَنْ“ پر تو مقدم نہیں کر سکتے، تو مصدر پر وہ مقدم نہیں ہو سکتا۔ تو وہ مصدر جو عامل ہوتا ہے وہ ”أَنْ“ مع الفعل کی تاویل میں ہوتا ہے اور یہ ”أَنْ“ کیا ہے؟ حرف موصول، اور آگے فعل اس کا صلہ، اور اس صلے کو حرف موصول پر مقدم نہیں کر سکتے تو اس کے معمول کو بطریق اولیٰ اس پر مقدم نہیں کر سکتے، الّا یہ کہ وہ ظرف ہو تو پھر اس میں گنجائش ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
”وَيَجُوزُ إِضَافَتُهُ إِلَى الْفَاعِلِ“ اور جائز ہے مصدر کی اضافت فاعل کی طرف۔ دیکھا میں نے آپ کو کیا بتایا تھا؟ ”أَعْجَبَنِي قِيَامٌ زَيْدٌ“، پہلی مثال جو گزری، میں نے کہا تھا اس کو عموماً کیسے استعمال کرتے ہیں؟ ”أَعْجَبَنِي قِيَامُ زَيْدٍ“، مصدر کی اپنے فاعل یا مفعول کی طرف اضافت کر دیتے ہیں، یہی بات بیان کر رہے ہیں: ”وَيَجُوزُ إِضَافَتُهُ إِلَى الْفَاعِلِ“ اور جائز ہے مصدر کی اضافت کرنا فاعل کی طرف، ”نَحْوُ: كَرِهْتُ ضَرْبَ زَيْدٍ عَمْرًا“۔ ”كَرِهْتُ“ میں نے ناپسند کیا، ”ضَرْبَ زَيْدٍ“ زید کے پٹائی کرنے کو، اور کس کی پٹائی کی؟ عمرو کی۔ زید نے جو عمرو کی پٹائی کی میں نے اس ضرب کو ناپسند کیا۔ جی ترکیب کیجیے: ”كَرِهْتُ“ فعل با فاعل، اب فاعل بھی بتا دیجیے، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ ”ضَرْبَ“ منصوب لفظاً مصدر مضاف، منصوب کیوں؟ کیونکہ یہ مفعول بہ ہے، میں نے ناپسند کیا کس چیز کو ناپسند کیا؟ ضرب کو، یہ مفعول بہ ہے۔ جی، آگے ”زَيْدٍ“ مجرور لفظاً، مجرور لفظاً مضاف الیہ اور مرفوع معنیً کیونکہ یہ فاعل ہے۔ آپ کو کیسے پتہ چلا یہ فاعل ہے؟ کیونکہ ضرب کے لیے ایک فاعل چاہیے اور ایک مفعول، اور آگے مفعول تو آگے آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ کون ہے؟ فاعل ہے، جی۔ ”عَمْرًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ کس کے لیے؟ ضرب کے لیے، شاباش، جی۔ ”ضَرْبَ“ مصدر اپنے مضاف الیہ اور مفعول بہ سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا ”كَرِهْتُ“ فعل کے لیے، ”كَرِهْتُ“ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ تو ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ”كَرِهْتُ“ میں نے ناپسند کیا، کس چیز کو ناپسند کیا؟ ”ضَرْبَ زَيْدٍ عَمْرًا“، زید نے جو عمرو کی پٹائی کی اس پٹائی کو میں نے ناپسند کیا۔
تو کہتے ہیں بھئی جائز ہے مصدر کی اضافت کرنا فاعل کی طرف، ”أَوْ إِلَى الْمَفْعُولِ بِهِ“ یا مفعول بہ کی طرف، یعنی مصدر کی اضافت مفعول بہ کی طرف بھی جائز ہے، ”نَحْوُ: كَرِهْتُ ضَرْبَ عَمْرٍو زَيْدٌ“۔ دیکھا اب عمرو کی طرف اضافت کر دی اور ”زَيْدٌ“ کا رفع بتلا رہا ہے کہ یہ فاعل ہے اور ”عَمْرٍو“ کیا ہے؟ مفعول۔ جی ترکیب کیجیے: ”كَرِهْتُ“ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ ”ضَرْبَ“ منصوب لفظاً مصدر مضاف، منصوب کیوں؟ کیونکہ یہ مفعول بہ ہے۔ ”عَمْرٍو“ مجرور لفظاً مضاف الیہ اور فاعل ہے کہ مفعول ہے؟ منصوب معنیً، شاباش۔ تو ”عَمْرٍو“ مجرور لفظاً مضاف الیہ، منصوب معنیً کیونکہ یہ کیا ہے؟ مفعول ہے، تو معنی کے اعتبار سے منصوب ہے، جی۔ ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً فاعل کس کے لیے؟ ضرب مصدر کے لیے، شاباش۔ ”ضَرْبَ“ مصدر اپنے مضاف الیہ اور فاعل سے مل کر مفعول بہ ہوا ”كَرِهْتُ“ فعل کے لیے، ”كَرِهْتُ“ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ”كَرِهْتُ ضَرْبَ عَمْرٍو زَيْدٌ“ میں نے ناپسند کیا زید کے عمرو کی پٹائی کرنے کو، یعنی معنی وہی ہے: زید نے جو عمرو کی پٹائی کی میں نے اس پٹائی کو ناپسند کیا۔
اچھا انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مصدر اپنے فعل والا عمل کرتا ہے، لیکن جب یہ مفعول مطلق ہو تو پھر یہ عمل نہیں کرے گا۔ تو سوال پیدا ہوا پھر عمل کون کرے گا؟ کہتے ہیں بھئی پھر عمل فعل جو اصل موجود ہے وہ عمل کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا إِنْ كَانَ مَفْعُولًا مُطْلَقًا فَالْعَمَلُ لِلْفِعْلِ الَّذِي قَبْلَهُ“ اور اگر مصدر جو ہے وہ مفعول مطلق ہوا تو عمل اس فعل کا ہوگا جو اس سے پہلے آیا ہے، ”نَحْوُ: ضَرَبْتُ ضَرْبًا عَمْرًا“۔ ”ضَرَبْتُ ضَرْبًا عَمْرًا“، اب یہ ”عَمْرًا“ مفعول بہ ہے، یہ ”ضَرْبًا“ اس میں عمل نہیں کر رہا بلکہ کون عمل کر رہا ہے؟ ”ضَرَبْتُ“۔ ترکیب کیجیے: ”ضَرَبْتُ“ فعل با فاعل، جی اب فاعل بتائیے، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل۔ ”ضَرْبًا“ منصوب لفظاً مفعول مطلق، شاباش۔ ”عَمْرًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ کس کے لیے؟ ”ضَرَبْتُ“ کے لیے، شاباش۔ ”ضَرَبْتُ“ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور مفعول مطلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ دیکھا ماشاء اللہ، اب ترکیب کے آپ ماہر ہوتے جا رہے ہیں ماشاء اللہ بھئی۔
”فَعَمْرٌو مَنْصُوبٌ بِضَرَبْتُ“ تو ”عَمْرٌو“ منصوب ہے کس کی وجہ سے؟ ”ضَرَبْتُ“ کی وجہ سے منصوب ہے، ”ضَرْبًا“ کی وجہ سے نہیں۔ سوال: ”فَعَمْرٌو مَنْصُوبٌ بِضَرَبْتُ“، آپ نے پڑھا حروف جارہ صرف اسم پر داخل ہوتے ہیں، اسم کے خاصے ذکر ہوئے تھے اور ان میں سے ایک خاصہ کیا تھا؟ اس پر کیا داخل ہوتا ہے؟ حرف جر، اور یہاں پر تو ”بِضَرَبْتُ“ با جارہ کس پر داخل ہے؟ ”ضَرَبْتُ“ پر، تو یہ تو فعل پر داخل ہو گیا حرف جر بھئی، کیا جواب دیں گے؟ ”فَعَمْرٌو مَنْصُوبٌ بِضَرَبْتُ“ تو ”عَمْرٌو“ منصوب ہے ”ضَرَبْتُ“ کی وجہ سے، با جارہ داخل ہوا فعل پر، کیا جواب دیں گے؟ بھئی جواب میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ ”ضَرَبَ فِعْلٌ“، میں نے بتایا تھا کیسے ترکیب کریں گے؟ ”ضَرَبَ“ مرفوع محلاً مبتدا، مرفوع کیوں؟ مبتدا ہے۔ سوال: یہ تو فعل ہے مبتدا کیسے بن رہا ہے؟ جواب دیں گے کہ وہ جو ”ضَرَبَ“ عبارتوں میں آتا ہے اس کا نام ہی ہم نے ”ضَرَبَ“ رکھ دیا، تو یہاں یہ نام ہے علم ہے، اور علم کیا ہوتا ہے؟ اسم معرفہ ہوتا ہے اس لیے یہ مبتدا بن رہا ہے۔ صورت سمجھ میں؟ یعنی یوں کہو یہ ”هٰذَا اللَّفْظُ“ یہ والا لفظ مراد ہے، تو یہ ”هٰذَا اللَّفْظُ“ کی تاویل میں ہے اور ”هٰذَا اللَّفْظُ“ یہ لفظ یہ معرفہ ہے موصوف صفت ہے نا، ”هٰذَا“ موصوف ”اَللَّفْظُ“ صفت، تو یہ ”هٰذَا اللَّفْظُ“ کی تاویل میں ہے۔ اور اسی لیے ان کا یہ لفظ کی تاویل میں ہے اس لیے ان کا ترجمہ بھی نہیں کریں گے: ”ضَرَبَ فِعْلٌ“، اردو میں ترجمہ کرو: ”ضَرَبَ“ فعل ہے۔ بھئی ”ضَرَبَ“ کا ترجمہ آپ نہیں کر رہے: اس ایک آدمی نے پٹائی کی؟ نہیں، یہاں ترجمہ نہیں کریں گے، معلوم ہوا لفظ مراد ہے، لفظ مراد ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے: ”فَعَمْرٌو مَنْصُوبٌ بِضَرَبْتُ“، دیکھا ”ضَرَبْتُ“ سے ”ضَرَبْتُ“ کا لفظ مراد ہے، وہ جو عبارت میں ”ضَرَبْتُ“ آیا اس ”ضَرَبْتُ“ کا اس لفظ کا نام ہی ہم نے کیا رکھ دیا؟ اس فعل کا نام ”ضَرَبْتُ“ نام رکھ دیا، اب یہ علم ہے اور یہ اسم ہے، یعنی یہ ”هٰذَا اللَّفْظُ“ کے معنی میں ہے۔ تو یوں کریں: ”فَعَمْرٌو مَنْصُوبٌ بِهٰذَا اللَّفْظِ“ پس عمرو منصوب ہے اس لفظ کی وجہ سے، صورت سمجھ میں آگئی؟ اور دیکھو ترجمہ بھی اس کا نہیں کر رہے: ”فَعَمْرٌو مَنْصُوبٌ بِضَرَبْتُ“ عمرو منصوب ہے کس کی وجہ سے؟ ”ضَرَبْتُ“ کی وجہ سے، دیکھا لفظ مراد ہے، معنی اس کا ترجمہ نہیں کیا جا رہا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”عَمْرٌو“ منصوب ہے ”ضَرَبْتُ“ کی وجہ سے۔
یہاں مصدر کے بارے میں ایک اور قیمتی بات یاد رکھیے بھئی، مصدر کی بحث آئی ہے تو وہ بھی ذکر کر دیتا ہوں۔ یاد رکھیے مصدر کا خارج میں وجود نہیں ہوتا، یعنی خارج میں ہمیں دکھائی نہیں دیتا، مصدر خارج میں ہمیں دکھائی نہیں دیتا، مثلاً ”ضَرْبٌ“ پٹائی کرنا، آپ کو خارج میں کبھی پٹائی کرنا دکھائی نہیں دے گا۔ مثلاً اکل: ”أَكَلَ يَأْكُلُ أَكْلًا“ کھانا کھانا، تو آپ کو خارج میں کبھی اکل یعنی کھانا کھانا دکھائی نہیں دے گا۔ اسی طرح ہنسنا، ہنسنا، آپ کو خارج میں کبھی ہنسنا دکھائی نہیں دے گا۔ آپ کہیں گے نہیں ہمیں تو خارج میں نظر آتا ہے، پٹائی کرنا بھی نظر آتا ہے کوئی کسی کی پٹائی کر رہا ہو۔ یاد رکھو، یہ جو خارج میں آپ کو نظر آتا ہے یہ مصدر نہیں ہے، یہ اس مصدر سے جو صورت حاصل ہوئی، پٹائی کرنے کا فعل کیا زید نے مثلاً تو اس پٹائی کرنے کے مصدر سے جو صورت یعنی پٹائی حاصل ہوئی آپ کو پٹائی نظر آتی ہے خارج میں، پٹائی کرنا نظر نہیں آتا۔ اسی طرح خارج میں آپ کو ہنسنا نہیں نظر آتا بلکہ ہنسی نظر آتی ہے، ہنسنا مصدر ہے، اس مصدر ہنسنے کی وجہ سے جو صورت حاصل ہو گئی، جو ہیئت حاصل ہوئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ حاصل بالمصدر، کیا کہتے ہیں؟ تو خارج میں ہمیں جو نظر آتا ہے وہ مصدر نہیں ہوتا وہ حاصل بالمصدر ہوتا ہے، مصدر کو کیا اور اس مصدر کی وجہ سے جو صورت بنی وہ صورت ہمیں نظر آتی ہے۔ تو خارج میں ہمیں ہنسنا نہیں نظر آتا بلکہ ہنسی نظر آتی ہے، خارج میں ہمیں دوڑنا نہیں بلکہ دوڑنے سے جو صورت حاصل ہوئی یعنی دوڑ نظر آتی ہے، خارج میں ہمیں پٹائی کرنا یعنی مصدر نہیں نظر آتا خارج میں ہمیں پٹائی یعنی اس کی جو صورت حاصل ہوئی وہ نظر آتی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ مصدر کا اپنا کوئی وجود ہی نہیں، تو خارج میں ہمیں جو نظر آتا ہے وہ حاصل بالمصدر ہے، مصدر نہیں ہے بھئی۔ جیسے چلنا، خارج میں ہمیں چلنا نہیں نظر آتا، خارج میں ہمیں چال نظر آتی ہے جو اس مصدر سے جو صورت حاصل ہوئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔