Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-068

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 86
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ: خَبَرُ مَا وَلَا الْمُشَبَّهَتَيْنِ بِلَيْسَ: هُوَ الْمُسْنَدُ بَعْدَ دُخُوْلِهِمَا، نَحْوُ: ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، وَ”لَا رَجُلٌ حَاضِرًا“. وَإِنْ وَقَعَ الْخَبَرُ بَعْدَ ”إِلَّا“، نَحْوُ: ”مَا زَيْدٌ إِلَّا قَائِمٌ“، أَوْ تَقَدَّمَ الْخَبَرُ عَلَى الِاسْمِ، نَحْوُ: ”مَا قَائِمٌ زَيْدٌ“، أَوْ زِيْدَتْ ”إِنْ“ بَعْدَ ”مَا“، نَحْوُ: ”مَا إِنْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، بَطَلَ الْعَمَلُ كَمَا رَأَيْتَ فِي الْأَمْثِلَةِ. صاحبِ ہدایت النحو نے آپ کو بتلایا تھا کہ منصوبات بارہ ہیں۔ ان بارہ میں سے آج آخری قسم ہم پڑھیں گے بھئی۔ گیارہ قسمیں ہم پڑھ چکے ہیں، آج آخری قسم اور وہ ہے ما اور لا مشابہ بلیس کی خبر بھئی۔ خبر ما ولا المشبهتین بلیس، وہ ما اور لا المشبهتین بلیس جو مشابہ ہیں لیس کے ساتھ، ان کی خبر بھئی، ان کی خبر۔ تو ما اور لا مشابہ بلیس جو ہیں ان کی خبر منصوبات میں سے ہے بھئی، منصوبات میں سے۔ یعنی جب آپ کو یہ پتہ چل جائے کسی لفظ کے بارے میں کہ یہ ما مشابہ بلیس یا لا مشابہ بلیس کی خبر ہے، تو ساتھ ہی ایک دوسری بات کا بھی فوراً پتہ چل جاتا ہے، اور وہ یہ کہ اس پر نصب پڑھنا ہے، یہ منصوب ہے۔ ہاں پھر اس کے بعد آپ نے الگ پھر غور کرنا ہے کہ منصوب کون سا ہے، محلاً ہے یا لفظاً ہے یا تقدیراً ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَصْلٌ، أَيْ: هٰذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ خَبَرُ مَا وَلَا الْمُشَبَّهَتَيْنِ بِلَيْسَ، خبر اس ما اور لا کی المشبهتین بلیس جو مشابہ ہیں لیس کے ساتھ۔ یہ دونوں مشابہ ہیں لیس کے ساتھ، کس طرح مشابہ ہیں؟ جیسے لیس مبتدا اور خبر پر داخل ہوتا ہے، اسی طرح ما اور لا بھی کس پر داخل ہوتے ہیں؟ مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں۔ نیز لیس معنی کے اندر نفی پیدا کر دیتا ہے۔ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ اس کا معنی ہے زید کھڑا ہے، لیکن جب آپ کہیں ”لَيْسَ زَيْدٌ قَائِمًا“ اب معنی کیا ہے؟ زید کھڑا نہیں ہے۔ تو دیکھو معنی کے اندر نفی کا بھی فائدہ دیتا ہے لیس۔ تو اسی طرح یہ ما اور لا بھی کیا کرتے ہیں؟ معنی کے اندر نفی کا فائدہ دیتے ہیں۔ تو یہ اس اعتبار سے لیس کے مشابہ ہیں کہ یہ مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں لیس کی طرح، اور نیز یہ لیس کی طرح نفی کا معنی ادا کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں وہ خبر ما اور لا مشابہ بلیس کی: هُوَ الْمُسْنَدُ بَعْدَ دُخُوْلِهِمَا، وہ خبر کیا ہوتی ہے؟ مسند ہوتی ہے بعد دخولهما ان دونوں کے داخل ہونے کے بعد، یعنی ما اور لا مشابہ بلیس یہ جب داخل ہو جائیں تو ان کی جو خبر ہے وہ منصوب ہوتی ہے اور مسند ہوتی ہے۔ نَحْوُ: ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، ”وَلَا رَجُلٌ حَاضِرًا“. انہوں نے آپ کو پہلے بتلایا تھا کہ ما وہ معرفہ اور نکرہ دونوں پر داخل ہوتا ہے، تو اسی لیے اس کا اسم کیا ذکر کیا؟ ”زَيْدٌ“ معرفہ، کیونکہ یہ معرفہ پر بھی داخل ہو جاتا ہے اور نیز کس پر داخل ہوتا ہے؟ نکرہ پر بھی۔ جبکہ لا جو ہے وہ صرف نکرہ پر داخل ہوتا ہے اس لیے اس کی مثال کیا دی؟ ”لَا رَجُلٌ حَاضِرًا“، تو رجل نکرہ لے کر آئے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، تو کہتے ہیں: ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“ زید کھڑا نہیں ہے، ”وَلَا رَجُلٌ حَاضِرًا“ اور ایک آدمی حاضر نہیں ہے۔ جی، ترکیب کیجیے بھئی: ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، ما مشابہ بلیس۔ آگے ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً اس کا اسم۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ ما کا اسم ہے اور یہ مرفوع ہوتا ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، شاباش۔ آگے ”قَائِمًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ منصوب کیوں؟ کیونکہ ما کی خبر ہے اور وہ منصوب ہوتی ہے۔ لفظاً کیوں؟ کیونکہ نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ آگے صیغہ اسم فاعل، آگے هُو ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ جو زید کو راجع۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ ما مشابہ بلیس اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ طریقہ آ گیا بھئی؟ دیکھا آپ نے ربط بھی دے دیا تھا، قائم کی ضمیر زید کو راجع کی تھی بھئی۔ ”وَلَا رَجُلٌ حَاضِرًا“، جی، لا مشابہ بلیس۔ ”رَجُلٌ“ مرفوع لفظاً اس کا اسم۔ ”حَاضِرًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسم فاعل۔ اس کے اندر هُو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع ہے؟ رجل کو یعنی لا کے اسم کو، کیونکہ لا کی خبر کو لا کے اسم سے جوڑتے ہیں۔ تو اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ لا مشابہ بلیس اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اچھا، دونوں میں فرق کیا ہے؟ گزشتہ سبق میں آیا تھا لائے نفی جنس بھئی، اور یہ کیا ہے؟ لا مشابہ بلیس۔ تو دونوں میں فرق کیا ہوگا؟ مثلاً میں کہتا ہوں: ”لَا رَجُلَ فِي الدَّارِ“، کون سا لا ہے؟ ادھر توجہ کیجیے۔ ”لَا رَجُلَ فِي الدَّارِ“، کون سا لا ہے؟ لائے نفی جنس ہے، کیونکہ اس کا اسم کیا ہوتا ہے؟ کبھی کبھار مبنی علی الفتح ہوتا ہے، اور میں بھی تنوین نہیں پڑھ رہا، توجہ ہے ادھر بھئی؟ ”لَا رَجُلَ فِي الدَّارِ“. اور دوسرا میں پڑھتا ہوں: ”لَا رَجُلٌ فِي الدَّارِ“، یہ کون سا لا ہے؟ یہ لا مشابہ بلیس۔ دونوں میں فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اچھا، دونوں میں فرق کیا ہے؟ میں کہتا ہوں: ”لَا رَجُلَ فِي الدَّارِ“، اور میں کہتا ہوں: ”لَا رَجُلٌ فِي الدَّارِ“، کیا فرق ہوگا؟ فرق یہ ہے: ”لَا رَجُلَ فِي الدَّارِ“ وہاں فی الدار کی نفی کی گئی کس سے؟ رجل، جنس رجل سے۔ لائے نفی جنس میں کس سے نفی کی گئی؟ جنس سے۔ یعنی جنس رجل فی الدار نہیں، معلوم ہوا کوئی آدمی بھی گھر میں نہیں ہے۔ اگر ایک آدمی بھی گھر میں ہوا تو یہ تو بات غلط ہو جائے گی، اور میں تو کیا کہہ رہا ہوں؟ ”لَا رَجُلَ فِي الدَّارِ“، اس کا کیا معنی؟ کہ جنس رجل جو ہے، یہ لائے نفی جنس ہے نا، جنس سے نفی کرتا ہے، کہ جنس رجل جو ہے فی الدار نہیں ہے، گھر میں نہیں ہے۔ معلوم ہوا ایک بھی آدمی گھر میں نہیں ہے۔ ایک ہو جائے تو بھی یہ کلام غلط، دو ہو جائیں تو بھی یہ کلام غلط، تین ہو جائیں تو بھی یہ کلام غلط۔ لہٰذا اس کلام کا تقاضا کیا ہے کہ گھر میں کوئی بھی مرد نہ ہو، ”لَا رَجُلَ فِي الدَّارِ“۔ اور جبکہ میں کہتا ہوں: ”لَا رَجُلٌ فِي الدَّارِ“، اس کا معنی یہ ہے کہ گھر میں ایک مرد نہیں ہے۔ لہٰذا اگر دو ہوئے تو میرا کلام پھر بھی ٹھیک ہے۔ میں نے تو کیا کہا تھا؟ ”لَا رَجُلٌ فِي الدَّارِ“، گھر میں ایک آدمی نہیں۔ تو جب ”لَا رَجُلَ فِي الدَّارِ“ کہا یہ کیا تقاضا کرتا ہے؟ کہ پوری جنس کی ہی کیا کر دی؟ پوری جنس سے ہی فی الدار ہونے کی نفی کر دی۔ اور جب کہا ”لَا رَجُلٌ فِي الدَّارِ“ تو اس کا معنی کیا ہے؟ گھر میں ایک آدمی نہیں۔ اگر دو یا تین ہوں تو بھی کلام صحیح ہے بھئی، کیونکہ میں نے تو کیا کہا تھا؟ ایک آدمی نہیں ہے۔ اور اگر میں کہتا ہوں دو آدمی گھر میں نہیں ہیں: ”لَا رَجُلَانِ فِي الدَّارِ“، کیا معنی؟ معلوم ہوا دو نہیں ہیں، ایک بھی ہو سکتا ہے اور دو سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں لیکن دو نہیں ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ اور میں کہتا ہوں: ”لَا رِجَالٌ فِي الدَّارِ“، کیا معنی؟ گھر میں کئی آدمی نہیں ہیں، معلوم ہوا تین یا تین سے زیادہ ہوئے تو یہ کلام پھر صحیح نہیں رہے گا۔ ہاں، دو ہوا تو بھی صحیح کیونکہ میں کیا کہہ رہا ہوں؟ ”لَا رِجَالٌ فِي الدَّارِ“، اور جمع ہے اور جمع کا اطلاق کم از کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین پر، تو تین سے کم بھی اس سے نکل گئے۔ تو دو آدمی ہوئے پھر بھی میں کہہ سکتا ہوں ”لَا رِجَالٌ فِي الدَّارِ“، ایک آدمی ہو میں پھر بھی کہہ سکتا ہوں ”لَا رِجَالٌ فِي الدَّارِ“۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ ”لَا رَجُلَ فِي الدَّارِ“ اور ”لَا رَجُلٌ فِي الدَّارِ“ میں بھئی۔ کہتے ہیں: وَإِنْ وَقَعَ الْخَبَرُ بَعْدَ ”إِلَّا“، بھئی انہوں نے آپ کو بتا دیا کہ یہ ما اور لا یہ کیا عمل کرتے ہیں؟ اپنے اسم کو رفع دیتے ہیں اور خبر کو نصب۔ اور یہاں اس وقت خبر کی بات چل رہی ہے، یہ اپنی خبر کو نصب دیتے ہیں، لیکن یاد رکھیے یہ عامل ہیں ضعیف بھئی۔ تو یہ عامل ضعیف ہے، یہ اپنی خبر میں عمل کرتا ہے لیکن اگر خبر ذرا اپنی جگہ بدل دے یا صورت بدل دے تو پھر یہ عمل نہیں کرے گا کیونکہ یہ عامل ضعیف ہے۔ عامل تو یہ ہے، عمل تو کر رہا ہے، ٹھیک ہے؟ اپنے اسم کو کیا دے رہا ہے؟ رفع، اور خبر کو نصب۔ تو یہ عامل تو ہے لیکن عامل ضعیف ہے۔ لہٰذا اس کے کلام میں کوئی تھوڑا سا بھی رد و بدل ہو جائے، ترتیب بدل جائے، اور لفظ بیچ میں آ جائیں تو پھر یہ عمل نہیں کرتا۔ مثلاً بھئی، اگر اس کی خبر سے پہلے ”إِلَّا“ آ جائے تو پھر یہ عمل نہیں کرے گا۔ مثلاً پہلے جملہ کیا تھا؟ ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، توجہ ہے؟ ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، یہ کیا کر رہا ہے؟ اپنے اسم کو رفع اور خبر کو نصب۔ لیکن اگر خبر سے پہلے ”إِلَّا“ آ جائے تو پھر یہ عمل نہیں کرے گا اور پھر وہ خبر مرفوع ہو جائے گی: ”مَا زَيْدٌ إِلَّا قَائِمٌ“، اب قائماً نہیں بلکہ کیا ہے؟ قائمٌ۔ توجہ ہے؟ جب کیا آ جائے؟ اس ما اور لا کی خبر سے پہلے، تو اگر ان کی خبر سے پہلے کیا آ جائے؟ ”إِلَّا“ آ جائے تو پھر ان کا عمل لغو ہو جاتا ہے، پھر یہ عمل نہیں کرتے، خبر کو نصب نہیں دیتے۔ جیسے ”مَا زَيْدٌ إِلَّا قَائِمٌ“۔ یا اسی طرح، یا اسی طرح خبر اگر اسم پر مقدم ہو جائے، جگہ بدل جائے۔ پہلے کیا تھا؟ ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، اس قائماً کو ذرا زید پر مقدم کر دیں، خبر کو اسم پر کیا کر دیں؟ مقدم کر دیں۔ اب یہ عمل نہیں کرے گا۔ کیسے کہیں گے؟ ”مَا قَائِمٌ زَيْدٌ“، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہونا تو چاہیے تھا ”مَا قَائِمًا زَيْدٌ“ کیونکہ قائماً کیا ہے؟ ما کی خبر۔ لیکن یہ عامل ضعیف ہے، جگہ بدل گئی اب یہ عمل نہیں کرے گا تو اب خبر بھی مرفوع، تو ”مَا قَائِمٌ زَيْدٌ“۔ اور اسی طرح اگر ما کے بعد ”إِنْ“ آ جائے تو بھی یہ عمل نہیں کرے گا بھئی۔ یاد رکھیے ”إِنْ“ بھی نفی کے لیے آتا ہے۔ جیسے نفی کے لیے ”مَا“ آتا ہے نا، اور اسی طرح نفی کے لیے ”لَا“ استعمال ہوتا ہے کلام عرب میں، اسی طرح ”إِنْ“ بھی آتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً میں کہتا ہوں: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، کیا معنی؟ زید کھڑا ہے۔ میں کہتا ہوں: ”إِنْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، کیا معنی؟ زید کھڑا نہیں ہے۔ یہ ”إِنْ“ کس لیے آتا ہے؟ نفی کے لیے۔ تو یہ نفی اگر ما کے بعد بڑھا دیا جائے تو پھر اس صورت میں ما کا عمل لغو ہو جائے گا کیونکہ وہ عامل ضعیف ہے۔ مثلاً کلام یوں تھا: ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، اب ذرا ما کے بعد ”إِنْ“ بڑھا دیں: ”مَا إِنْ زَيْدٌ قَائِمٌ“ بھئی، اب وہ نصب نہیں دے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تین صورتیں یہ ذکر کر رہے ہیں بھئی، تین صورتیں، جن صورتوں میں یہ ما کا عمل لغو ہو جاتا ہے، یہ عمل نہیں کرتا۔ پہلی کیا صورت؟ کہ خبر سے پہلے اگر کیا آ جائے؟ ”إِلَّا“ آ جائے۔ دوسری صورت یہ کہ خبر کو اگر اس کے اسم پر مقدم کر دیں یعنی ترتیب بدل دیں، اور تیسری صورت یہ کہ اگر ما کے بعد کیا آ جائے؟ ”إِنْ“ نافیہ بڑھا دیا جائے بھئی، تو پھر اس کا عمل لغو ہو جائے گا۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَإِنْ وَقَعَ الْخَبَرُ بَعْدَ ”إِلَّا“، اور اگر یہ ان کی خبر واقع ہو إلا کے بعد: نَحْوُ: ”مَا زَيْدٌ إِلَّا قَائِمٌ“. سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ دونوں کی بات چل رہی ہے، دونوں کی خبر کس کے بعد آ جائے؟ إلا کے بعد، تو وہ عمل باطل ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ وَقَعَ الْخَبَرُ بَعْدَ ”إِلَّا“، اور اگر یہ ما اور لا کی خبر إلا کے بعد واقع ہو: نَحْوُ: ”مَا زَيْدٌ إِلَّا قَائِمٌ“، أَوْ تَقَدَّمَ الْخَبَرُ عَلَى الِاسْمِ، یا خبر مقدم ہو جائے کس پر؟ ان کے اسم پر۔ دیکھو، میں نے جو ضابطے بتائے نا وہ ضابطے ذرا لگاؤ، دیکھو بہترین ترجمہ ہوتا ہے۔ وَإِنْ وَقَعَ الْخَبَرُ بَعْدَ ”إِلَّا“، اگر واقع ہو الخبر بعد إلا، کس کے بعد؟ إلا کے بعد۔ ترجمہ کیسے کریں گے؟ اگر واقع ہو خبر؟ نہیں، الخبر، الف لام آ رہا ہے، معلوم ہوا کوئی خاص خبر مراد ہے۔ کون سی خبر؟ ان کی جو خبر ہے، خبر الف لام کی ضد کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، عموماً اس کا ترجمہ کس کے ساتھ کرتے ہیں؟ "وہ" کے ساتھ۔ وہ کا مطلب بھی ہوتا ہے نا کسی متعین کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ یہاں متعین کس طرح ہوگا؟ الخبر سے کس کی خبر مراد ہے؟ ان کی خبر، یہ ما اور لا کی خبر۔ تو یہاں یوں ترجمہ کریں گے: وَإِنْ وَقَعَ الْخَبَرُ، اور اگر ان کی خبر واقع ہو بعد إلا، کس کے بعد؟ یعنی یوں ترجمہ کر لو: اگر واقع ہو وہ خبر بعد إلا، کس کے بعد؟ وہ خبر، کون سی خبر؟ ان کی، یہ ما اور لا کی۔ اسی طرح آگے آ رہا ہے: أَوْ تَقَدَّمَ الْخَبَرُ عَلَى الِاسْمِ، اگر مقدم ہو جائے الخبر، ان کی خبر یا کہہ لو، یا کہہ لو وہ خبر، اور وہ خبر سے بھی کون سی کن کی خبر مراد ہے؟ انہی کی۔ تو یا وہ خبر مقدم ہو جائے علی الاسم کس پر؟ اسم پر۔ کس اسم پر؟ پوری بات کریں، علی الاسم، الاسم معرفہ ہے، ان کے اسم، ان کا اسم مراد ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَإِنْ وَقَعَ الْخَبَرُ بَعْدَ ”إِلَّا“، اور اگر ان کی خبر واقع ہو إلا کے بعد، نَحْوُ: ”مَا زَيْدٌ إِلَّا قَائِمٌ“، أَوْ تَقَدَّمَ الْخَبَرُ عَلَى الِاسْمِ، یا مقدم ہو جائے ان کی خبر ان کے اسم پر، نَحْوُ: ”مَا قَائِمٌ زَيْدٌ“، أَوْ زِيْدَتْ ”إِنْ“ بَعْدَ ”مَا“، یا إن بڑھا دیا جائے ما کے بعد، نَحْوُ جیسے کہ مثال کے طور پر: ”مَا إِنْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، تو ان تمام صورتوں میں: بَطَلَ الْعَمَلُ، تو باطل ہو جائے گا العمل، ہاں وہ عمل خاص عمل مراد ہے، ہر عمل نہیں مراد، اور وہ ان کا عمل مراد ہے۔ تو بَطَلَ الْعَمَلُ ان کا عمل باطل ہو جائے گا: كَمَا رَأَيْتَ فِي الْأَمْثِلَةِ، جیسے کہ آپ نے دیکھا ان مثالوں میں بھئی، جیسے کہ آپ نے ان مثالوں میں دیکھا کہ انہوں نے دیکھیے یہ اپنی خبر کو نصب نہیں دے رہے بھئی۔ ترکیب کیجیے بھئی: ”مَا زَيْدٌ إِلَّا قَائِمٌ“، ما مشابہ بلیس، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً اس کا اسم، نہیں نہیں، اب یوں نہیں ترکیب ہوگی، بدل گئی۔ انہوں نے ابھی آپ کو بتا دیا ان صورتوں میں یہ ما کا عمل ختم ہو جائے گا، ما کا عمل کیا ہو جائے گا؟ ما اب عمل نہیں کرے گا۔ جی؟ نہیں نہیں، یوں ہوگا: ما مشابہ بلیس ملغیٰ عن العمل، کیا کہیں گے؟ ملغیٰ عن العمل، اس کو لغو کیا گیا ہے عمل سے، یعنی عمل سے روک دیا گیا ہے، اب یہ عمل نہیں کر سکتا۔ کیوں نہیں کر سکتا؟ کوئی آپ سے پوچھ لے، آپ کہیں گے آگے إلا آ رہا ہے۔ تو جب یہ عمل نہیں کر رہا تو اب یہ نہ اس کا اسم ہے نہ اس کی خبر ہے، بلکہ یہ مبتدا اور خبر بنا دیں ان کو۔ ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”إِلَّا“ حرف استثناء، ”قَائِمٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هُو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ زید یعنی مبتدا کو۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ اسی طرح ”مَا قَائِمٌ زَيْدٌ“، یہاں بھی ما مشابہ بلیس ملغیٰ عن العمل، ”قَائِمٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هُو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو لوٹے کس کو؟ زید کو۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر مقدم، اور ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدائے مؤخر۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ أَوْ زِيْدَتْ ”إِنْ“ بَعْدَ ”مَا“، جیسے ”مَا إِنْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، ما مشابہ بلیس ملغیٰ عن العمل، ”إِنْ“ حرف نفی، ”زَيْدٌ“ مرفوع لفظاً مبتدا، ”قَائِمٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسم فاعل، اس کے اندر هُو ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ هُو ضمیر نہیں ہم نے لوٹائی، وہ کس کو لوٹے گی؟ زید کو۔ تو اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا بھئی، سوال یہ کہ ما اور لا کی خبر سے پہلے إلا آ جائے یا ان کی خبر ان کے اسم پر مقدم ہو جائے یا ما کے بعد إن آ جائے، تو پھر یہ عمل نہیں کرتے، کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ، بھئی کہ یہ عامل ضعیف ہیں۔ عمل تو ٹھیک ہے کرتے ہیں، اپنے اسم کو رفع دیتے ہیں، اپنی خبر کو نصب، تو یہ عمل تو کرتے ہیں، یہ عامل تو ہیں لیکن عامل ضعیف ہیں، عامل ضعیف ہیں۔ تو جب یہ عامل ضعیف ہیں تو تھوڑی سی بھی تبدیلی آتی ہے تو بس یہ اپنے یہ عمل پھر نہیں کر سکتے بھئی۔ یہ عمل، مثلاً دیکھیے پہلی مثال تھی: ”مَا زَيْدٌ إِلَّا قَائِمٌ“، یہاں پر دیکھیے یہ ما کا عمل لغو ہوا، یہ اب قائمٌ کو نصب نہیں دے رہا۔ کیوں نہیں دے رہا؟ کیونکہ درمیان میں إلا آ گیا، اور یہ جو یاد رکھیے إلا جو ہے یہ نفی کو توڑ دیتا ہے۔ کیا کرتا ہے؟ اور ما تو عمل کر رہا تھا کیونکہ اس کا یہ نفی والا معنی ادا کر رہا ہے، تو جب اس کا عمل ہی جس کی نفی ختم ہوئی تو اس کا عمل بھی ختم۔ آپ خود غور کر لیں دیکھیے، توجہ ہے؟ ترجمہ کرنا ہے ہم نے۔ ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، ذرا اس کا ترجمہ کرو۔ ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، زید کھڑا نہیں ہے۔ ما کس چیز کا فائدہ دے رہا ہے؟ نفی کا۔ تو ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“ زید کھڑا نہیں ہے۔ اب ذرا إلا لے آؤ: ”مَا زَيْدٌ إِلَّا قَائِمٌ“، نہیں ہے زید إلا قائمٌ مگر کھڑا ہی۔ نہیں ہے زید مگر کھڑا، یعنی زید کھڑا ہی ہے۔ ترجمے پہ نظر ہے؟ زید کھڑا ہی ہے۔ نفی والا کوئی معنی، پہلے کیا تھا؟ ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“ زید نہیں کھڑا۔ اب معنی کیا ہے؟ ”مَا زَيْدٌ إِلَّا قَائِمٌ“ نہیں ہے زید إلا قائمٌ مگر کھڑا، با محاورہ کرو اس کو نا، یہ تو آپ نے ایک ایک لفظ کا ترجمہ کیا۔ دیکھو نہیں ہے زید مگر کھڑا ہوا، کیا مطلب؟ یعنی زید کھڑا ہوا ہی ہے۔ کوئی اور صفت نہیں ہے، بیٹھا ہوا نہیں ہے بلکہ زید کھڑا ہوا ہی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“ کا معنی تھا زید کھڑا نہیں ہے، اور ”مَا زَيْدٌ إِلَّا قَائِمٌ“ کا معنی ہے زید کھڑا ہی ہے، تو دیکھو نفی ختم ہو چکی ہے۔ یہ نفی کس نے توڑی؟ إلا نے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ما عمل کرتا تھا اپنے نفی کی وجہ سے، تو جب إلا نے آ کر اس کی نفی توڑ دی تو اس کا عمل بھی کیا ہوا؟ ٹوٹ گیا اور اب یہ عمل نہیں کرے گا۔ اسی لیے اب اس کی خبر کو نصب بھی نہیں دے رہا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ دوسری صورت تھی کہ خبر جب مقدم ہو جائے اسم پر: ”مَا قَائِمٌ زَيْدٌ“. اس صورت میں کیوں عمل یہ عمل نہیں کر رہا؟ بھئی وہی وجہ، یہ عامل ضعیف ہے۔ اس کو اتنا پتہ تھا کہ جو دوسرے نمبر پر آئے گا میں نے اس کو نصب دینا ہے۔ پہلے کیا تھا؟ ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، یہ پہلے کو کیا دے رہا تھا؟ رفع، اور دوسرے اسم کو کیا دے رہا تھا؟ نصب۔ تو یہ بیچارہ ضعیف عامل ہے، اس کو زیادہ پتہ نہیں، اتنا پتہ ہے کہ جو دوسرے نمبر پر آئے گا لفظ اس پر میں نے کیا لانا ہے؟ نصب۔ جب ترتیب بدل گئی یہ گڑبڑا گیا، بس بیچارے کا عمل کیا ہوا؟ ختم، کیونکہ یہ ضعیف عامل ہے، کمزور ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تیسری صورت کیا تھی؟ ”مَا إِنْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، یہاں یہ إن بڑھا اب یہ عمل نہیں کر سکتا، وہی وجہ کیونکہ یہ عامل ضعیف ہے، اس کو اتنا پتہ ہے کہ میں نے دوسرے لفظ کو کیا دینا تھا؟ نصب۔ جب درمیان میں إن آ گیا تو فاصلہ بڑھ گیا تو اب اس کا عمل ختم، یہ عمل نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں تمام صورتوں میں: بَطَلَ الْعَمَلُ، ان کا عمل باطل ہو جائے گا: كَمَا رَأَيْتَ فِي الْأَمْثِلَةِ، جیسے کہ آپ نے کس میں دیکھا؟ ان مثالوں کے اندر دیکھا بھئی۔ وَهٰذَا لُغَةُ أَهْلِ الْحِجَازِ، أَمَّا بَنُوْ تَمِيْمٍ فَلَا يُعْمِلُوْنَهُمَا أَصْلًا. کہتے ہیں: وَهٰذَا لُغَةُ أَهْلِ الْحِجَازِ، یہ اہل حجاز کی لغت ہے، ان کی زبان ہے۔ بھئی آپ جانتے ہیں کہ عرب بہت بڑا علاقہ ہے بھئی، بڑا علاقہ۔ تو وہاں مختلف قومیں آباد تھیں، اور جیسے یہاں بھی آپ دیکھتے ہیں بھئی، ایک لاہور والوں کی اردو ہے، ایک فیصل آباد والوں کی اردو ہے، ایک کراچی والوں کی اردو ہے، ہر ایک میں تھوڑا تھوڑا فرق ہوتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح علاقے بدلتے ہیں تو زبان بے شک وہی ہوتی ہے لیکن تھوڑا تھوڑا فرق آ جاتا ہے۔ تو یہاں عرب کی بھی زبان میں تھوڑا تھوڑا فرق، عربی تو سب کی زبان تھی لیکن کچھ نہ کچھ فرق تھا۔ تو ان میں سے جو اہل حجاز تھے یہ ان کی لغت ہے، ان کی زبان اس طرح ہے۔ کہ ان کے نزدیک کیا ہے؟ ما اور لا کیا کرتے ہیں؟ اپنی خبر کو نصب دیتے ہیں، یہ اہل حجاز کی لغت ہے۔ حجاز یاد رکھیے یہ عرب کا ایک بڑا علاقے بڑے علاقے کا نام ہے، یوں سمجھیں جیسے ہمارے ہاں صوبہ ہوتا ہے، صوبہ، صوبہ پنجاب ہے، صوبہ سندھ ہے، تو ایک بڑا علاقہ ہے اس سارے کا کیا نام ہے؟ صوبہ۔ اسی طرح عرب میں علاقے ہیں تو ایک علاقہ ہے اس کا نام ہے حجاز، اسی میں مکہ اور مدینہ بھی اسی کے اندر آتے ہیں۔ سمجھ میں آئی بات؟ ہاں، تو یہ اہل حجاز یہ جو حجاز علاقے والے تھے ان کی یہ زبان تھی، ان کا یہ ان کے نزدیک ما اور لا کیا کرتے ہیں؟ اپنے اسم کو رفع اور اپنی خبر کو نصب دیتے ہیں۔ یہ معنی ہے: وَهٰذَا لُغَةُ أَهْلِ الْحِجَازِ، اور یہ اہل حجاز کی لغت ہے، ان کی زبان ہے۔ أَمَّا بَنُوْ تَمِيْمٍ فَلَا يُعْمِلُوْنَهُمَا أَصْلًا، باقی بنو تمیم جو ہے، بنو تمیم یہ عرب کا ایک بڑا قبیلہ ہے۔ باقی تو بنو تمیم والے جو ہیں وہ اس قبیلے والے: فَلَا يُعْمِلُوْنَهُمَا، وہ ان دونوں کو عامل نہیں بناتے: أَصْلًا، سرے سے ہی، اصلاً ای قطعاً، قطعی طور پر۔ بھئی اہل حجاز کیا کہتے تھے؟ ان کی زبان کس طرح ہے؟ وہ ما اور لا مشابہ بلیس جب کلام میں آ جائیں وہ ان کے اسم پر رفع پڑھتے ہیں اور ان کی خبر پر نصب پڑھتے ہیں، جبکہ بنو تمیم یہ بھی بہت بڑا قبیلہ ہے، یہ ان کو عامل بناتے ہی نہیں، یعنی یہ رفع اور نصب دیتے ہی نہیں، یعنی ان کی خبر منصوب ہوتی ہی نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً بنو تمیم والے یہی جملہ، اہل حجاز کیا کہتے تھے؟ ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، اسی جملے کو بنو تمیم والے یوں بولیں گے: ”مَا زَيْدٌ قَائِمٌ“. تو اہل حجاز والے قَائِمًا پر نصب پڑھ رہے تھے اور بنو تمیم والے کیا ہے؟ قَائِمٌ پر اس پر رفع پڑھیں گے۔ معلوم ہوا وہ اس کو عامل بناتے ہی نہیں ہیں۔ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، توجہ ہے؟ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ مبتدا خبر تھے۔ اس پر ما مشابہ بلیس داخل ہوا، کیا بن گیا؟ کیسے پڑھیں گے؟ ”مَا زَيْدٌ قَائِمًا“، لیکن بنو تمیم والے پھر بھی اسی طرح پڑھیں گے: ”مَا زَيْدٌ قَائِمٌ“. معلوم ہوا ان کے نزدیک ما عمل کرتا ہی نہیں، وہ اس کو عامل بناتے ہی نہیں۔ ”زَيْدٌ“ جیسے پہلے مبتدا تھا اب بھی مبتدا ہے، ”قَائِمٌ“ جیسے پہلے مبتدا کی خبر تھی اب بھی کیا ہے؟ مبتدا کی خبر ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: أَمَّا بَنُوْ تَمِيْمٍ فَلَا يُعْمِلُوْنَهُمَا أَصْلًا، باقی بنو تمیم والے جو ہیں وہ ان دونوں کو عامل بناتے ہی نہیں اصلاً، ای قطعاً، قطعی طور پر، یقینی طور پر۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ قَالَ الشَّاعِرُ عَنْ لِسَانِ بَنِيْ تَمِيْمٍ: ایک شاعر کہتا ہے عن لسان بنی تمیم بنو تمیم قبیلے کی زبان میں، ایک شاعر بنو تمیم قبیلے کی زبان میں کہتا ہے، یعنی ان کی لغت میں کہتا ہے۔ اور ان کی لغت میں کہتا ہے تو کس طرح کیا بتلائیں گے؟ کہ خبر پر رفع پڑھے گا، شاعر کیا کرے گا؟ ما اور لا کی خبر پر رفع پڑھے گا۔ یاد رکھیے کلام عرب کی جب بات کی جاتی ہے تو دلیل کے طور پر شاعروں کے اشعار پیش کیے جاتے ہیں بھئی۔ قدیم شعراء جو تھے ان کے اشعار پیش کیے، مثلاً آپ نے ضابطہ پڑھا کہ مبتدا مرفوع ہوتا ہے، خبر بھی کیا ہوتی ہے؟ مرفوع ہوتی ہے۔ کوئی آپ سے پوچھ لے بھئی کیوں؟ کیا دلیل ہے آپ کے پاس؟ کیا دلیل ہے؟ تو اب تو آپ کے پاس کتابیں تیار ہیں، آپ کہیں گی بھئی صاحب ہدایت النحو نے لکھا ہے کہ مبتدا بھی مرفوع ہوتا ہے اور خبر بھی، یا آپ کہہ دیں گے صاحب کافیہ نے لکھا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ لیکن علماء نے بڑی محنت کر کے، بڑی محنتیں کر کے یہ قوانین مرتب کیے ہیں بھئی۔ یہ نہیں کہ تیار چیزیں ان کو مل گئیں، بلکہ ان کو پورے کلام عرب کی چھان بین انہوں نے کی، اور بہت غور و فکر کیا ایک ایک چیز میں، تب جا کر ان کو تب جا کر انہوں نے ان قوانین کو ترتیب دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ عرب ہمیشہ مبتدا پر رفع پڑھتے ہیں تو انہوں نے قانون بنا دیا کہ مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ انہوں نے دیکھا ہمیشہ عرب جو ہیں خبر پر رفع پڑھتے ہیں تو انہوں نے قانون بنا دیا کہ خبر بھی کیا ہوتی ہے؟ مرفوع۔ اسی طرح انہوں نے دیکھا کہ فاعل پر ہمیشہ عرب رفع پڑھتے ہیں تو انہوں نے قانون بنا دیا کہ فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ لیکن یہ قانون آسانی سے نہیں بنے، بلکہ بڑی جستجو کرنا پڑی، سالوں تک وہ عرب کے دیہاتوں میں گھومتے رہے بڑے بڑے علماء گھومتے رہے اور زبان کی تحقیق و جستجو کرتے رہے، یہاں تک کہ یہ پوری علم نحو کو انہوں نے ترتیب دیا۔ اس نحو میں سارے قوانین ہیں نا، کہاں رفع کہاں نصب کہاں جر، تو اس کے لیے کلام عرب میں انہوں نے ڈھونڈا اور پھر یہ قوانین ترتیب دیے۔ تو اب بھی جب وہ ان کی کتابیں آپ اٹھائیں گے آپ دیکھیں گے وہ عرب شاعروں کا قول پیش کرتے ہیں۔ مثلاً جب وہ کہیں گے کہ فاعل مرفوع ہوتا ہے، پرانے علماء جب کتاب لکھتے کیا لکھتے؟ فاعل مرفوع ہوتا ہے۔ تو پھر آگے دلیل بھی دیتے، بھئی سننے والا پوچھے گا بھئی کیسے ہم آپ کی بات مان لیں، کیا دلیل ہے آپ کے پاس کہ فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ پھر وہ ان کے اشعار پیش کرتا ہے، کہتا ہے یہ دیکھو یہ فلاں شاعر بڑا شاعر گزرا تھا فصیح و بلیغ، اس نے دیکھو اس جگہ فاعل پر رفع پڑھا ہے، اس جگہ فاعل پر کیا پڑھا ہے؟ رفع پڑھا ہے۔ دوسرے شاعر کا شعر ذکر کرے گا کہ یہ دوسرا بہت بڑا شاعر اس زمانے کا گزرا، اس نے دیکھو یہاں فاعل پر رفع پڑھا اور یہاں پر بھی فاعل پر کیا پڑھا؟ رفع۔ پھر تیسرا شاعر، تو اس طرح وہ اشعار دلیل کے طور پر ذکر کرتے ہیں ہر ہر چیز میں۔ آپ تو بڑے مزے سے یہ خلاصہ پڑھ رہے ہیں بھئی، اتنی محنتیں انہوں نے کی ہیں، ایک ایک اشعار دیکھا پرکھا اس کو اور پھر ضابطے انہوں نے بنائے اور ان کو جمع کیا بھئی۔ تو یہ جب بھی نحو کی بات کی جاتی ہے یا عربی زبان کی بات کی جاتی ہے زبان، تو کس کو پیش کیا جاتا ہے؟ ان کے بڑے بڑے جو فصیح و بلیغ شاعر تھے ان کے کلام کو پیش کیا جاتا ہے۔ اب یہاں پر بھی بات کیا چل رہی ہے کہ بنو تمیم والے کیا کرتے ہیں؟ وہ اس ما اور لا کو عمل دیتے ہی نہیں، ما اور لا کی خبر پر بھی رفع ہی پڑھتے ہیں، جیسے ما اور لا کے داخل ہونے سے پہلے وہ مبتدا اور خبر تھے مرفوع تھے، اسی طرح ما اور لا کے داخل ہونے کے بعد بھی وہ اس پر کیا پڑھتے ہیں؟ رفع۔ تو دلیل کیا ہے اس کی؟ تو وہ اب شاعر کا ایک شعر پیش کرے گا کہ دیکھو یہ بنو تمیم والوں کی زبان شاعر کہہ رہا ہے اور اس نے اس طرح رفع پڑھا اس میں۔ تو کہتے ہیں: قَالَ الشَّاعِرُ عَنْ لِسَانِ بَنِيْ تَمِيْمٍ، شاعر کہتا ہے بنو تمیم قبیلے کی زبان میں: وَمُهَفْهَفٍ كَالْغُصْنِ قُلْتُ لَهُ انْتَسِبْ فَأَجَابَ مَا قَتْلُ الْمُحِبِّ حَرَامُ اور بعض کتابوں میں ہے شاید: ”فَأَجَابَ مَا قَتْلُ الْمُحِبِّ عَلَى الْمُحَبِّ حَرَامُ“. ”مُهَفْهَفٍ“، مہفہف کہتے ہیں پتلی کمر والا۔ مہفہف کسے کہتے ہیں؟ پتلی کمر والا، اور یہ کنایہ ہے محبوب سے۔ یہ کنایہ ہے کیا کس سے؟ یعنی اس سے محبوب مراد ہے۔ ”كَالْغُصْنِ“، غصن کہتے ہیں شاخ کو بھئی، درختوں کی جو شاخ ہوتی ہے۔ تو ”كَالْغُصْنِ“ شاخ جیسا، شاخ جیسا۔ ”قُلْتُ لَهُ انْتَسِبْ“، انتسب کا معنی ہے نسبت بیان کرنا۔ ”فَأَجَابَ“، اجاب کا معنی ہے جواب دینا۔ ”مَا قَتْلُ الْمُحِبِّ“، محب کہتے ہیں محبت کرنے والا، محب بھئی۔ اور ”عَلَى الْمُحَبِّ“، محب کہتے ہیں جس سے محبت کی جائے، اس میں مفعول کا صیغہ ہے۔ محب ہے اسم فاعل کا صیغہ، محبت کرنے والا، اور محب اس میں مفعول ہے جس سے محبت کی جائے یعنی محبوب یا یوں کہیں حبیب مراد ہے۔ تو دیکھیے شاعر کہتا ہے: ”وَمُهَفْهَفٍ“، یاد رکھیے یہ واؤ بمعنی ربّ کے ہے۔ واؤ کس معنی میں ہے؟ ربّ۔ یہ آگے آپ کو چل کر بتائیں گے۔ ربّ یہ جر دیتا ہے، حروف جارہ میں سے ہے، اور کبھی کبھار واؤ اس کے معنی میں استعمال ہو جاتا ہے، تو ”وَمُهَفْهَفٍ“ دیکھیے اسی لیے مجرور ہے کیونکہ یہ واؤ کس معنی میں ہے؟ ربّ کے معنی میں ہے اور یہ جر دیتا ہے۔ اور اس کا معنی ہوتا ہے کئی، کئی۔ ”وَمُهَفْهَفٍ“ شاعر کہتا ہے، ”وَمُهَفْهَفٍ“ کئی پتلی کمر والے ”كَالْغُصْنِ“ جیسے کہ درخت کی شاخ ہوتی ہے۔ تشبیہ دے رہا ہے، پتلی کمر تھی کس کی طرح؟ جیسے درخت کی پتلی شاخ ہوتی ہے۔ اور بہت سے پتلی کمر والے جیسے کہ درخت کی شاخ ہوتی ہے، یعنی بہت سے محبوب جو ہیں ”قُلْتُ لَهُ“، میں نے اس سے میں نے ان سے کہا: ”انْتَسِبْ“، تو اپنی نسبت بیان کر، تو کون ہے؟ تیرا کس قبیلے سے تعلق ہے؟ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو کہتے ہیں بہت بہت سے درخت کی شاخ کی طرح پتلی کمر والے محبوب، میں نے ان سے کہا: ”انْتَسِبْ“، تو اپنی نسبت بیان کر، تو کون ہے، کس قبیلے سے تیرا تعلق ہے؟ ”فَأَجَابَ“، تو اس محبوب نے کیا جواب دیا؟ ”مَا قَتْلُ الْمُحِبِّ عَلَى الْمُحَبِّ حَرَامُ“، ما مشابہ بلیس، ”قَتْلُ الْمُحِبِّ“ یہ اس کا اسم ہے تو یہ مرفوع ہے، ”عَلَى الْمُحَبِّ“، اچھا ”حَرَامُ“ یہ ہے ما کی خبر، اور اس پر کیا پڑھا جا رہا ہے اس وقت؟ رفع پڑھا جا رہا ہے، اور یہ کس قبیلے کا شاعر ہے؟ بنو تمیم کا ہے، معلوم ہوا بنو تمیم والے ما مشابہ بلیس کی خبر پر نصب نہیں پڑھتے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”فَأَجَابَ“، تو اس محبوب نے جواب دیا: ”مَا قَتْلُ الْمُحِبِّ“، کہ نہیں ہے محب کا قتل ”عَلَى الْمُحَبِّ“ محبوب یعنی حبیب پر ”حَرَامُ“، محب کا قتل محبوب پر حرام نہیں ہے۔ شاعر کیا کہتا ہے؟ کہ میں نے بہت سے محبوب تھے میں نے ان سے پوچھا کہ اپنی نسبت بیان کرو، تو کون ہے؟ کس قبیلے سے تیرا تعلق ہے؟ تو اس نے کیا کہا؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ بھئی دیکھیے، میں ہوں محبوب اور آپ ہیں محب، توجہ ہے سبق کی طرف؟ میں ہوں محبوب اور آپ ہیں محب، اور محبوب دو قسم کے ہوتے ہیں۔ کچھ محبوب وہ ہوتے ہیں جو اپنے محب کو تکلیف دیتے ہیں، اور کچھ محبوب وہ ہوتے ہیں جو اپنے محب کو تکلیف نہیں دیتے، سمجھ میں؟ تو قتل محب شعر میں آ رہا ہے نا ”مَا قَتْلُ الْمُحِبِّ“، محب کو قتل کرنا اس سے مراد ہے اس کو تکلیف دینا، محب کو تکلیف دینا۔ تو وہ محبوب کہنے لگا کہ محبوب دو قسم کے ہوتے ہیں، کچھ محبوب وہ ہوتے ہیں جو محب کو قتل کرنا جائز سمجھتے ہیں یعنی اس کو تکلیف دینا جائز سمجھتے ہیں، کچھ محبوب ہوتے ہیں جو اس کو قتل کرنا جائز نہیں سمجھتے یعنی تکلیف دینا جائز نہیں سمجھتے، اور میں کن محبوبوں میں سے ہوں؟ اس نے کہا: ”مَا قَتْلُ الْمُحِبِّ عَلَى الْمُحَبِّ حَرَامُ“، کہ محب کا قتل محبوب پر حرام نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ کیا کہا؟ محب کا قتل محبوب پر حرام نہیں ہے، یعنی میں ان محبوبوں میں سے ہوں جو محب کو تکلیف دینا جائز سمجھتے ہیں، یعنی میرے نزدیک محب کو تکلیف دینا جائز ہے یعنی درست ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو شاعر کہتا ہے میں نے اس سے پوچھا تھا کہ اپنی نسبت بیان کر تو کون ہے، کس جماعت سے تیرا تعلق ہے، کس قسم کا تو محبوب ہے کیونکہ محبوب تو دو قسم کے ہیں، کچھ وہ ہیں جو اپنے محب کو تکلیف دیتے ہیں کچھ وہ ہیں جو اپنے محب کو تکلیف نہیں دیتے، تو اس نے جواب دے دیا کہ میں کون سی جماعت میں سے ہوں؟ جو اپنے محب کو تکلیف دینا جائز سمجھتے ہیں، اس کو تکلیف دیتے ہیں۔ یہ بھی بیان کر دیا، اور ساتھ یہ بھی بیان کر دیا کہ میرا تعلق بنو تمیم قبیلے سے ہے۔ یہ بھی بیان کیا یا نہیں کیا؟ اس نے کہا تھا نا اپنی نسبت بیان کر تو کون ہے، کس قبیلے سے تیرا تعلق ہے؟ تو اس نے بتا دیا کہ میں بنو تمیم سے۔ کس طرح بتایا؟ اس نے ”حَرَامُ“ پر کیا پڑھا؟ رفع پڑھا، تو بتلا دیا کہ میں بنو تمیم قبیلے سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَمُهَفْهَفٍ كَالْغُصْنِ قُلْتُ لَهُ انْتَسِبْ، فَأَجَابَ مَا قَتْلُ الْمُحِبِّ عَلَى الْمُحَبِّ حَرَامُ“، اور بہت سے درختوں کی شاخ کی طرح پتلی کمر والے محبوب جو تھے، ”قُلْتُ لَهُ انْتَسِبْ“، میں نے اس سے کہا کہ تو اپنی نسبت بیان کر کہ تو کون ہے، کس قبیلے سے تیرا تعلق ہے؟ ”فَأَجَابَ“، تو اس نے جواب دیا: ”مَا قَتْلُ الْمُحِبِّ عَلَى الْمُحَبِّ حَرَامُ“، کہ محب کا قتل محبوب پر حرام نہیں ہے، گویا بتلا دیا کہ میں ان محبوبوں میں سے ہوں جو محب کو تکلیف دینا جائز سمجھتے ہیں، اور نیز یہ بھی بیان کر دیا کہ میرا تعلق بنو تمیم قبیلے سے ہے۔ کہتے ہیں: بِرَفْعِ ”حَرَامٌ“. دیکھیے، بِرَفْعِ ”حَرَامٍ“، حرام کے رفع کے ساتھ، یہ شاعر نے کہا: بِرَفْعِ ”حَرَامٍ“، اس کا تعلق ہے بھئی شعر سے پہلے جو آیا تھا نا ”قَالَ الشَّاعِرُ“، شاعر نے کہا، شاعر نے یہ کہا بنو تمیم کی زبان میں: بِرَفْعِ ”حَرَامٍ“، لفظ حرام کے رفع کے ساتھ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ اس کو یوں پڑھ سکتے ہیں: بِرَفْعِ ”حَرَامٍ“، رفع ہے مضاف اور حرام کیا ہے؟ مضاف الیہ، اور مضاف الیہ کیا ہوتا ہے؟ مجرور۔ آپ اس کو یوں بھی پڑھ سکتے ہیں: بِرَفْعِ ”حَرَامُ“. آپ کہیں گے بھئی یہ تو مضاف الیہ ہے تو اس پر پیش کیسے پڑھ رہے ہیں؟ جواب یہ کہ ہم وہی اعراب اس پر پڑھ رہے ہیں جو شعر کے اندر آیا تھا۔ شعر کے اندر جس طرح لفظ آیا تھا ہم اسی طرح پڑھ رہے ہیں، اور شعر کے اندر تو اس پر کیا تھا؟ رفع، تو اس کو کہتے ہیں اعراب حکائی، حکایت کرنا۔ حکایت میں جیسے تھا، انہوں نے شعر ذکر کیا نا، تو شعر حکایت کیا۔ حکایت کسے کہتے ہیں؟ نقل کرنا، روایت کرنا۔ انہوں نے شعر روایت کیا، اور اس روایت کے اندر شعر میں حرام لفظ پر کیا تھا؟ رفع۔ اب آپ اسی لفظ کو ذکر کرتے ہیں، آپ اسی طرح اعراب اس پر پڑھتے ہیں جیسا کس میں تھا؟ اس شعر میں اس حکایت میں تھا، تو اس کو کہتے ہیں اعراب حکائی، یعنی حکایت والا اعراب جیسا حکایت میں آیا تھا۔ تو کیسے پڑھیں گے اس کو؟ بِرَفْعِ ”حَرَامُ“. اب آپ سے کوئی پوچھے کہ ترکیب کرو، آپ کیا کہیں گے؟ با جارہ، رفع مجرور لفظاً مضاف۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر حرف جر داخل ہے با، شاباش۔ اور مضاف ہے اور آگے مضاف الیہ، اور وہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ ”حَرَامُ“، تو ”حَرَامُ“ مرفوع پڑھ رہے ہیں، مرفوع لفظاً، مرفوع لفظاً ہے، لیکن دراصل اس وقت بھی یہ مجرور ہی ہے۔ کیا ہے؟ مجرور ہی ہے۔ تو یوں کہیں: مرفوع لفظاً اور مجرور محلاً۔ مرفوع لفظاً کیوں ہے؟ ٹھیک ہے مرفوع، رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، لیکن مرفوع کیوں پڑھ رہے ہو؟ یہ اعراب حکائی ہے، آپ جواب میں کیا کہیں گے؟ یہ حکایت میں جیسا آیا تھا میں ویسا ہی اس کو پڑھ رہا ہوں، تو یہ اعراب حکائی ہے۔ تو مرفوع لفظاً، مرفوع کیوں؟ یہ اعراب حکائی ہے، لفظاً کیوں؟ اس کے رفع پر ہم تلفظ، اور مجرور محلاً، مجرور کیوں؟ کیونکہ یہ مضاف الیہ ہے، اصل میں تو اس کا اعراب کیا ہونا چاہیے؟ جر ہونا چاہیے، یہ ابھی بھی مضاف الیہ ہے لیکن میں حکایت والا اعراب پڑھ رہا ہوں اس لیے رفع پڑھ دیا، ورنہ دراصل یہ کیا ہے؟ مجرور ہی ہے۔ تو کیا کہیں گے؟ مجرور محلاً۔ مجرور کیوں ہے؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے، اور محلاً کیوں؟ کیونکہ یہ جگہ کس کی ہے؟ جر کی جگہ ہے، کیوں جر کی جگہ کیوں ہے؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بِرَفْعِ ”حَرَامٍ“ یوں بھی پڑھ سکتے ہیں: بِرَفْعِ ”حَرَامٍ“، پھر تو مجرور لفظاً ہی ہو جائے گا، اور آپ یوں بھی پڑھ سکتے ہیں: بِرَفْعِ ”حَرَامُ“، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اعراب حکائی، یعنی حکایت میں جیسا تھا آپ نے بھی ویسا ہی پڑھ دیا۔ اَلْمَقْصَدُ الثَّالِثُ فِي الْمَجْرُوْرَاتِ: تیسرا مقصد ہے مجرورات کے بارے میں۔ بھئی ہم نے مرفوعات بھی پڑھ لیے، منصوبات بھی پڑھ لیے، اب مجرورات پڑھ رہے ہیں۔ مرفوعات انہوں نے آپ کو بتلایا آٹھ ہیں، منصوبات انہوں نے آپ کو بتلایا بارہ ہیں، اب مجرورات کے بارے میں بتلانے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: اَلْمَقْصَدُ الثَّالِثُ فِي الْمَجْرُوْرَاتِ، تیسرا مقصد ہے مجرورات کے بارے میں۔ اَلْأَسْمَاءُ الْمَجْرُوْرَةُ هِيَ الْمُضَافُ إِلَيْهِ فَقَطْ، کہتے ہیں وہ اسماء المجرورة جو مجرور ہوتے ہیں، دیکھیے الأسماء یہ جمع ہے اسمٌ کی۔ الأسماء جمع ہے اسمٌ کی، اور اس کی صفت دیکھو: المجرورة واحد مؤنث لائے۔ مجرورٌ مذکر اور مجرورةٌ مؤنث، واحد مؤنث۔ تو جمع کی صفت کیا لائے؟ واحد مؤنث، کیوں؟ ہاں جمع بتاویل جماعت واحد مؤنث کے حکم میں ہے، بات یاد ہے کہ بھول گئے؟ کیونکہ الأسماء جمع ہے، اور جمع کا اطلاق کم از کم کتنے پر؟ تین یا تین سے زیادہ پر۔ تو جب تین یا تین سے زیادہ ہوئے تو ایک جماعت بن گئی، اور جماعت کا لفظ عربی میں گول تا کے ساتھ لکھتے ہیں۔ اردو میں تو جماعت کے آخر میں لمبی تا ہے نا، لیکن عربی میں گول تا ہے۔ گول تا، تو یہ جماعت کا لفظ واحد مؤنث ہے۔ مؤنث کیوں ہے؟ کہ آخر میں گول تا ہے، اور واحد ہے، مفرد ہے۔ اس کی بھی تثنیہ آتی ہے: جماعت، جماعتان اور جماعات، تثنیہ بھی آتی ہے اور آگے جمع، تو یہ مفرد ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جماعت کا لفظ کیا ہوا؟ واحد مؤنث، تو لہٰذا الأسماء جب یہ جمع ہوئی، جمع ہوئی تو کیا بن گئی؟ جماعت بن گئی، اور جماعت کیا ہے؟ واحد مؤنث، تو اس کی صفت بھی کیا لائے؟ المجرورة واحد مؤنث۔ تو کہتے ہیں: اَلْأَسْمَاءُ الْمَجْرُوْرَةُ هِيَ الْمُضَافُ إِلَيْهِ فَقَطْ، کہتے ہیں مجرور اسماء وہ صرف مضاف الیہ ہے۔ الأسماء المجرورة وہ اسماء جو مجرور ہوتے ہیں، هی المضاف إلیه وہ مضاف الیہ ہی ہے، فقط بس۔ مجرور اسماء صرف کیا ہے؟ صرف مضاف الیہ ہے بھئی۔ اچھا، مضاف الیہ کسے کہتے ہیں بھئی؟ کہتے ہیں: وَهُوَ كُلُّ اسْمٍ نُسِبَ إِلَيْهِ شَيْءٌ بِوَاسِطَةِ حَرْفِ الْجَرِّ لَفْظًا، وهو کل اسم وہ ہر ایسا اسم ہے، نسب إلیه شيء کہ نسبت کی جائے اس کی طرف کسی چیز کی، بواسطة حرف الجر کس کے واسطے سے؟ حرف جر کے واسطے سے، لفظاً باعتبار لفظوں کے، یعنی حرف جر کس میں ہوگا؟ لفظوں میں ہوگا، جیسے ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“، دیکھو زید پر کیا ہے؟ با حرف جر لفظوں میں داخل ہے، موجود ہے۔ اور اگلی سطر میں آ رہا ہے: أَوْ تَقْدِيرًا، یا وہ حرف جر کیا ہوگا؟ تقدیراً ہوگا، جیسے ”غُلَامُ زَيْدٍ“، دیکھو اس میں کوئی حرف جر ہے؟ غلام مضاف ہے اور زید مضاف الیہ ہے، تو حرف جر لفظوں میں نہیں، تو یہاں تقدیراً حرف جر موجود ہے۔ تو انہوں نے آپ کو بتلایا بھئی، مجرور اسماء کتنے ہیں؟ صرف ایک ہے اور وہ کیا ہے؟ مضاف الیہ ہے۔ مضاف الیہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں ہر وہ اسم جس کی طرف کسی چیز کی نسبت کی جائے کس کے واسطے سے؟ حرف جر کے واسطے سے۔ اور یہ نسبت جو کی گئی ہے حرف جر کے واسطے سے ہوگی، یعنی وہ حرف جر کیا ہوگا؟ لفظوں کے اعتبار سے موجود ہوگا، باقاعدہ اس پر ہم کیا کریں گے؟ تلفظ کریں گے، اور کبھی کبھار لفظوں میں نہیں ہوگا بلکہ تقدیراً ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ دوبارہ دیکھیے، کہتے ہیں: وَهُوَ كُلُّ اسْمٍ نُسِبَ إِلَيْهِ شَيْءٌ بِوَاسِطَةِ... بھئی اس کو پہلے سمجھ لیں۔ ہر وہ اسم ہے جس کی طرف کسی چیز کی نسبت کی جائے بواسطہ حرف جر کے، توجہ ہے؟ مضاف الیہ کسے کہتے ہیں؟ ہر وہ اسم جس کی طرف نسبت کی جائے کسی چیز کی بواسطہ حرف جر کے۔ جیسے ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“، توجہ ہے؟ مرور کا معنی ہوتا ہے گزرنا۔ ”مَرَرْتُ“ میں گزرا، ”بِزَيْدٍ“ زید پر، میں زید پر گزرا یعنی میں زید کے پاس سے گزرا۔ ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“، میں زید کے پاس سے گزرا۔ اب دیکھیے، انہوں نے کیا کہا؟ مضاف الیہ وہ اسم ہے جس کی طرف کسی چیز کی نسبت کی جائے بواسطہ حرف جر کے۔ تو ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“ اس میں اس زید کے لفظ پہ نظر رکھو۔ یہ زید ایک اسم ہے، اس کی طرف نسبت کی گئی کس چیز کی؟ گزرنے کی، دیکھا؟ میں نے کہا میں گزرا کس پر؟ زید پر، میں نے یہ نہیں کہا میں عمر، بکر یا خالد میں سے کسی پر گزرا، بلکہ کس پر گزرا؟ زید پر گزرا۔ تو یہ زید ایک اسم ہے، اس کی طرف نسبت کی گئی کس چیز کی؟ گزرنے کی، اور کس کے واسطے سے؟ با حرف جر کے واسطے سے۔ یہ با بتلا رہی ہے کہ یہ جو میرا گزرنا تھا کس کے پاس سے تھا؟ زید کے پاس سے تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مضاف الیہ کسے کہتے ہیں؟ ہر وہ اسم، اب ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“ میں زید پہ نظر رکھنا، ٹھیک ہے؟ ہاں، وہ ہر وہ اسم ہے جس کی طرف نسبت کی جائے، کس چیز کی نسبت کی گئی؟ مرور کی۔ نسبت کی جائے کسی چیز کی، بواسطة حرف الجر کس کے واسطے سے؟ حرف جر کے واسطے سے۔ وَيُعَبَّرُ عَنْ هٰذَا التَّرْكِيْبِ فِي الِاصْطِلَاحِ، اور تعبیر کیا جاتا ہے اس ترکیب کو اصطلاح میں، یعنی علم نحو کی اصطلاح میں: بِأَنَّهُ جَارٌّ وَمَجْرُوْرٌ، کہ یہ جار مجرور ہیں بھئی۔ جب حرف جر کیا ہو؟ لفظوں میں موجود ہو، تو علم نحو کی اصطلاح میں اس کو کس طرح تعبیر کرتے ہیں، کس طرح بولتے ہیں اس کو؟ کہ یہ جار مجرور ہے، با جارہ زید مجرور، تو یہ ”بِزَيْدٍ“ کیا ہے؟ جار مجرور۔ أَوْ تَقْدِيرًا، یا وہ حرف جر کیا ہوگا؟ تقدیراً۔ یعنی ایک چیز کی، دوبارہ ادھر دیکھیے، ایک چیز کی نسبت کی گئی دوسری چیز کی طرف بواسطہ حرف جر کے، لیکن حرف جر کیا ہے؟ لفظوں میں نہیں ہے بلکہ تقدیراً ہے۔ نَحْوُ: ”غُلَامُ زَيْدٍ“، جیسے ”غُلَامُ زَيْدٍ“. تَقْدِيرُهُ، تقدیر اس کلام کی یوں ہے: ”غُلَامٌ لِزَيْدٍ“. تو ”غُلَامُ زَيْدٍ“، غلام مضاف زید مضاف الیہ، لیکن اصل میں تھا ”غُلَامٌ لِزَيْدٍ“. تو پھر لام کو حذف کر دیا اور غلام کی زید کی طرف کیا کر دی؟ اضافت کر دی اور تنوین گرا دی، تو کیا بن گیا؟ ”غُلَامُ زَيْدٍ“. تو یہاں بھی اس وقت تو ٹھیک ہے لام حرف جر نہیں ہے لیکن اصل میں کیا تھا؟ حرف جر موجود تھا۔ تو یہاں پر بھی دیکھیے: ”غُلَامُ زَيْدٍ“، دیکھیے یہاں پر بھی زید، لفظ زید پہ نظر رکھیں۔ ”غُلَامُ زَيْدٍ“، کیا معنی؟ زید کا غلام۔ دیکھو زید کی طرف نسبت کی گئی ایک چیز کی، وہ کیا چیز ہے؟ غلام، اور کس کے واسطے سے؟ حرف جر، اور وہ حرف جر کیا ہے؟ لفظاً ہے یا تقدیراً ہے؟ تقدیراً ہے۔ یہ معنی ہے: تَقْدِيرُهُ ”غُلَامٌ لِزَيْدٍ“، کہ اس کلام کی تقدیر جو ہے ”غُلَامٌ لِزَيْدٍ“ ہے۔ وَيُعَبَّرُ عَنْهُ فِي الِاصْطِلَاحِ بِأَنَّهُ مُضَافٌ وَمُضَافٌ إِلَيْهِ، اور اس کو تعبیر کیا جاتا ہے علم نحو کی اصطلاح میں کہ یہ مضاف اور مضاف الیہ ہیں بھئی۔ غلام جو ہے یہ مضاف ہے اور زید کیا ہے؟ مضاف الیہ ہے بھئی۔ اچھا، خلاصۂ کلام کیا ہوا؟ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ مجرور صرف مضاف الیہ ہوتا ہے، کون ہوتا ہے؟ مضاف الیہ۔ ہاں اس مضاف الیہ کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ قسم جس میں حرف جر لفظوں میں ہوتا ہے، ایک وہ قسم جس میں حرف جر لفظوں میں نہیں ہوتا بلکہ تقدیراً ہوتا ہے۔ جس میں حرف جر لفظوں میں ہوتا ہے اس کو جار مجرور کہتے ہیں، اور جس میں تقدیراً ہوتا ہے اس کو مضاف اور مضاف الیہ کہتے ہیں۔ تو گویا دو ہی ہوئے، مجرور کتنے ہو گئے؟ دو: ایک جس پر حرف جر داخل ہو، اور دوسرا جس پر مضاف داخل ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَيَجِبُ تَجْرِيْدُ الْمُضَافِ عَنِ التَّنْوِيْنِ أَوْ مَا يَقُوْمُ مَقَامَهُ، اور واجب ہے، جَرَّدَ يُجَرِّدُ تَجْرِيْدٌ کا معنی ہے خالی کرنا، اور واجب ہے خالی کرنا مضاف کو: وَيَجِبُ تَجْرِيْدُ الْمُضَافِ، واجب ہے خالی کرنا مضاف کو: عَنِ التَّنْوِيْنِ، تنوین سے۔ بھئی تنوین نہیں آتی مضاف پر، اصل میں کیا تھا؟ ”غُلَامٌ لِزَيْدٍ“، غلام پر تنوین تھی لیکن جب لام ختم کیا اور غلام کی اضافت کس کی طرف کی؟ زید کی، تو تنوین ختم ہوئی، کیسے پڑھیں گے؟ ”غُلَامُ زَيْدٍ“. تو مضاف سے تنوین ختم کرنا واجب ہے۔ یا اگر تنوین نہیں، تنوین کے قائم مقام کوئی اور چیز ہے اس کو بھی ختم کرنا واجب ہے۔ بھئی تنوین کے قائم مقام کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں نون تثنیہ اور نون جمع۔ ”زَيْدٌ“ کے آخر میں تو کیا آ رہی ہے؟ تنوین۔ لیکن ”مُسْلِمُوْنَ“ کے آخر میں کیا ہے؟ نون ہے، نون۔ بھئی ”مُسْلِمُوْنَ“ کا اعراب کیا ہے؟ واؤ ہے، کیا ہے؟ واؤ۔ تو پھر یہ نون کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں یہ تنوین کے قائم مقام ہے، کس کے قائم مقام؟ جیسے ”زَيْدٌ“، ”زَيْدٌ“ میں دال کا اعراب کیا ہے؟ رفع ہے، پیش ہے۔ پھر یہ آخر میں نون کیوں پڑھ رہے ہو؟ یہ تنوین ہے۔ تو جیسے تنوین آخر میں آتی ہے اسی طرح یہ نون جمع بھی اعراب کے ساتھ آخر میں آتا ہے۔ ”مُسْلِمَانِ“ تثنیہ ہے، اس میں اعراب کیا ہے؟ الف۔ الف کے بعد یہ جو نون آ رہا ہے یہ نون کیا ہے؟ یہ تنوین کے قائم مقام ہے، تنوین تو نہیں ہے لیکن تنوین کے قائم مقام۔ تو نون جمع یہ بھی تنوین کے قائم مقام، اور نون تثنیہ یہ بھی تنوین کے قائم مقام۔ تو جب اضافت کی جائے تو تنوین کو بھی گرا دیتے ہیں اور جو تنوین کا قائم مقام ہو اس کو بھی گرا دیتے ہیں، اور گرانا واجب ہے۔ تو لہٰذا ”غُلَامُ زَيْدٍ“، تنوین گر گئی۔ اچھا، اور تثنیہ بنا دیں اسی کو: ”غُلَامَانِ“، پھر اس کی اضافت کریں، کیسے کہیں گے؟ ”غُلَامَا زَيْدٍ“، دیکھا نون تثنیہ اضافت سے گر گیا۔ اور اسی طرح ”مُسْلِمُوْنَ“، مصر، مسلمون کی اضافت کر دیں مصر شہر کی طرف، کیسے کہیں گے؟ ”مُسْلِمُوْ مِصْرَ“، تو یہ نون اضافت سے گر گیا۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَيَجِبُ تَجْرِيْدُ الْمُضَافِ عَنِ التَّنْوِيْنِ أَوْ مَا يَقُوْمُ مَقَامَهُ، اور واجب ہے مضاف کو خالی کرنا تنوین سے یا اس چیز سے جو تنوین کے قائم مقام ہو۔ بھئی وہ کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں: وَهُوَ نُوْنُ التَّثْنِيَةِ وَالْجَمْعِ، اور وہ تثنیہ اور جمع والا نون ہے: نَحْوُ مثال کے طور پر: ”جَاءَنِيْ غُلَامُ زَيْدٍ“، ”وَغُلَامَا زَيْدٍ“، ”وَمُسْلِمُوْ مِصْرَ“. بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“، ترکیب کیجیے: ”مَرَرْتُ“ فعل با فاعل، اب فاعل بھی بتا دیں۔ تا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، با جارہ، ”زَيْدٍ“ مجرور لفظاً۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر حرف جر داخل ہے با، جی۔ جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”مَرَرْتُ“ فعل کے ساتھ، فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ”مَرَرْتُ بِزَيْدٍ“ میں زید پر گزرا، کیا معنی؟ میں زید کے پاس سے گزرا۔ اچھا، اگلی ترکیب کیجیے: ”جَاءَنِيْ غُلَامُ زَيْدٍ“، ”جَاءَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ منصوب کیوں ہے؟ کیونکہ مفعول بہ ہے۔ محلاً کیوں ہے؟ کیونکہ ضمیر ہے۔ آگے ”غُلَامُ“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ مرفوع کیوں؟ فاعل، ہاں فاعل ہے، فعل آیا ہے، فعل فاعل چاہتا ہے اس کے بغیر نہیں آ سکتا۔ تو مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے، لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ ”زَيْدٍ“ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اسی طرح ”جَاءَنِيْ غُلَامَا زَيْدٍ“، ”جَاءَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ”غُلَامَا“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے، لفظاً کیوں؟ اس کے رفع جو الف ہے ہم اس پر تلفظ کر رہے ہیں۔ آگے ”زَيْدٍ“ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ”جَاءَنِيْ غُلَامَا زَيْدٍ“ آئے میرے پاس زید کے دو غلام۔ پہلے کیا تھا؟ ”جَاءَنِيْ غُلَامُ زَيْدٍ“ آیا میرے پاس زید کا غلام، اب ہے ”جَاءَنِيْ غُلَامَا زَيْدٍ“ آئے میرے پاس زید کے دو غلام۔ اب تیسرا جملہ کر لیں: ”جَاءَنِيْ مُسْلِمُوْ مِصْرَ“، ”جَاءَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ”مُسْلِمُوْ“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے، لفظاً کیوں؟ اس کے رفع یعنی واؤ پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، مضاف، جی۔ ”مِصْرَ“ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ”جَاءَنِيْ مُسْلِمُوْ مِصْرَ“ آئے میرے پاس مصر کے مسلمان بھئی۔ ترکیب کروں گا: ”مَا إِنْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، یہاں بھی اسی طرح ما مشابہ بلیس ملغیٰ عن العمل، ”إِنْ“ بھی حرف نفی، ”زَيْدٌ“ مبتدا ہوگا اور ”قَائِمٌ“ خبر۔ ما کا اسم اور خبر نہیں بنانے بلکہ مبتدا اور خبر بنانے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ان تینوں مثالوں کے اندر جب ما کا عمل لغو ہو گیا تو اب یہ ما کا اسم اور ما کی خبر نہیں کہلائیں گے کیونکہ وہ تو اس کا عمل تو لغو ہو گیا، تو اب یہ کیا کہلائیں گے؟ مبتدا اور خبر، مبتدا اور خبر بھئی۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ.
104 approved lectures · 68 of 104