فَصْلٌ: اَلْمَوْصُولُ اسْمٌ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ جُزْءًا تَامًّا مِنْ جُمْلَةٍ إِلَّا بِصِلَةٍ بَعْدَهُ، وَالصِّلَةُ جُمْلَةٌ خَبَرِيَّةٌ، وَلَا بُدَّ مِنْ عَائِدٍ فِيهَا يَعُودُ إِلَى الْمَوْصُولِ، مِثَالُهُ: ”اَلَّذِي“ فِي قَوْلِنَا: ”جَاءَ الَّذِي أَبُوهُ قَائِمٌ“ أَوْ ”قَامَ أَبُوهُ“.
مبنیات کا بیان چل رہا ہے۔ صاحبِ ہدایۃ النحو نے آپ کو بتلایا کہ مبنیات آٹھ ہیں بھئی۔ ان آٹھ میں سے آج تیسری قسم اسمائے موصولہ کے بارے میں ہم پڑھیں گے۔ سب سے پہلے ہم نے ضمیروں کے بارے میں پڑھا کہ وہ مبنیات میں سے ہیں۔ اس کے بعد اسمائے اشارہ کے بارے میں پڑھا بھئی، اور آج اسمِ موصول کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔
یاد رکھیے! یہ اسمِ موصول کے بارے میں یہ آپ کو بتائیں گے کہ اسمِ موصول جو ہے وہ جملے کا جزءِ تام نہیں بن سکتا جب تک اس کے ساتھ اس کا صلہ نہ ملائیں بھئی۔ یاد رکھیے اسمِ موصول جو ہے وہ مبتدا بھی بن سکتا ہے، خبر بھی بن سکتا ہے، فاعل بھی بن سکتا ہے، نائب الفاعل بھی بن سکتا ہے، مفعول بھی بن سکتا ہے، صفت وغیرہ یہ سب چیزیں بن سکتا ہے۔ لیکن جب تک اس کے ساتھ اس کا صلہ نہیں ملاؤ گے یہ کچھ بھی نہیں بنے گا، یعنی بات ہی پوری نہیں ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
مثلاً بھئی! ”جَاءَ الَّذِي ضَرَبَكَ“، ”جَاءَ الَّذِي ضَرَبَكَ“؛ آیا وہ جس نے کہ، ”ضَرَبَكَ“ آپ کی پٹائی کی۔ تو یہ اسمِ موصول جو ہوتا ہے اس کا ترجمہ ”وہ جس نے کہ“ یا ”وہ جو کہ“ اس کے ساتھ اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ تو آپ مثلاً اسمِ موصول، تو ابھی میں نے کیا جملہ ذکر کیا؟ ”جَاءَ الَّذِي ضَرَبَكَ“، یہ ”ضَرَبَكَ“ صلہ ہے ”اَلَّذِي“ کا، اسمِ موصول کا۔ تو اس ”ضَرَبَكَ“ کو ذرا ہٹاؤ، دیکھو بات ادھوری ہو جائے گی، معنی ہی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں ”جَاءَ الَّذِي“، آیا وہ جو کہ، یا آیا وہ جس نے کہ۔ اب آپ سارا دن بھی یہ کسی کو کہتے رہیں آیا وہ جس نے کہ، آیا وہ جس نے کہ، وہ کہے گا بھئی بات تو پوری کریں آپ تو ادھوری بات کر رہے ہیں۔ تو اس کے ساتھ ہمیشہ کیا ملانا پڑتا ہے؟ صلہ۔ تو اسمِ موصول کے ساتھ صلہ ملائیں گے تو بات پوری ہوگی اور صلہ نہیں ملائیں گے تو بات پوری نہیں، تو بغیر صلہ ملائے نہ آپ اس کو فاعل بنا سکتے ہیں، نہ آپ اس کو مفعول بنا سکتے ہیں، نہ مبتدا، نہ خبر، نہ صفت، کچھ بھی نہیں بنا سکتے۔ بنائیں گے بھی تو بات پوری نہیں ہوگی، معنی ہی کسی کو سمجھ میں نہیں آئے گا۔ لہٰذا جب بھی کلام میں اسمِ موصول آئے آپ نے فوراً اس کے صلے کو اس کے ساتھ جوڑنا ہے اور اسمِ موصول کے ساتھ ہی آگے اس کا صلہ ہوتا ہے ہمیشہ بھئی۔ اسمِ موصول آتا ہے اور ساتھ ہی آگے کیا ہوتا ہے؟ صلہ۔
اور یاد رکھو صلہ ہمیشہ جملہ ہوتا ہے۔ جملہ اسمیہ بھی ہو سکتا ہے اور جملہ فعلیہ بھی۔ اور پھر جملے کو آپ جوڑ رہے ہیں اسمِ موصول کے ساتھ، اور میں نے آپ کو بتایا تھا جملے کو جس چیز کے ساتھ بھی جوڑا جائے درمیان میں کیا چاہیے؟ ربط چاہیے اور وہ ربط دینے والی چیز اسے عائد کہتے ہیں۔ اور وہ عموماً غائب کی ضمیر ہوتی ہے جو کس کی طرف لوٹتی ہے؟ اس اسم کی طرف جس کے ساتھ اس کو جوڑا جائے۔ تو یہاں پر بھی صلہ جملہ ہے، اس میں کوئی ضمیر ہوگی جو کس کی طرف لوٹے؟ اسمِ موصول کی طرف۔ اور ضمیر اور مرجع میں مطابقت بھی آپ نے دیکھنی ہے۔ اسمِ موصول مفرد مذکر ہے تو ضمیر بھی کیسی چاہیے؟ مفرد مذکر۔ اگر اسمِ موصول مونث ہے تو ضمیر بھی مونث چاہیے وغیرہ بھئی۔ تو جب بھی کلام، جب بھی اسمِ موصول آئے اس کے ساتھ آپ نے کس کو جوڑنا ہے؟ صلے کو جوڑنا ہے بھئی۔
اور یاد رکھیے اسمِ موصول کا تو اعراب ہوگا۔ اگر وہ مبتدا بن رہا ہے تو مرفوع ہوتا ہے، تو اسمِ موصول بھی کیا ہوگا؟ مرفوع۔ لیکن یہ ہے چونکہ مبنی، دیکھیے ہم مبنیات کی بحث پڑھ رہے ہیں، یہاں پر اسمِ موصول کا ذکر آیا۔ اور مبنی کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً۔ تو اسمِ موصول محلاً مرفوع بھی ہوگا اور کبھی منصوب ہوگا اگر مفعول وغیرہ بن رہا ہے، اور مجرور ہوگا اگر اس پر حرفِ جر وغیرہ داخل ہے یا یہ مضاف الیہ ہے۔ اور تینوں اعراب اس پر کس طرح کے ہوں گے؟ محلاً آئیں گے بھئی۔
اور آگے جو صلہ ہے وہ جملہ ہے۔ اس کا کوئی اعراب آپ سے پوچھ لے تو آپ جواب میں کہیں گے کہ اس کا کوئی محلے اعراب نہیں، یوں کہیں گے: ”لَا مَحَلَّ لَهُ مِنَ الْإِعْرَابِ“، کیا کہیں گے؟ ”لَا مَحَلَّ لَهُ مِنَ الْإِعْرَابِ“۔ جیسے بھئی وہ پیچھے فصل کا ذکر آیا تھا کہ خبر بھی جب معرفہ آ جائے تو مبتدا اور خبر کے درمیان کیا لے آتے ہیں؟ فصل لے آتے ہیں، ضمیرِ منفصل جیسا ایک صیغہ لے آتے ہیں اور یہ ضمیر نہیں ہوتی اور حرف ہے یہ بھئی، ہاں ضمیر جیسی صورت ہے۔ اور اس کا بھی کوئی محلے اعراب نہیں ہوتا بھئی۔ تو اسی طرح یہ جو صلہ ہے اس کا بھی کوئی محلے اعراب نہیں ہوتا۔ آپ یہ نہ کہیں اسمِ موصول کا جو اعراب ہے وہی اعراب صلے کا بھی ہوگا، نہیں بھئی، یہ کوئی آپس میں موصوف صفت نہیں ہے۔ صفت تو توابع میں سے ہے، صفت پر تو وہی اعراب آ جاتا ہے، وہی اعراب آتا ہے جو کس پر ہوتا ہے؟ موصوف پر۔ لیکن یہاں صلہ، صلہ توابع میں سے نہیں ہے۔ لہٰذا اس پر آپ یہ کہیں کہ موصول منصوب ہے تو صلہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ منصوب، ایسا نہیں ہے۔ تو اسمِ موصول کا تو اعراب ہوگا، البتہ جو جملہ ہے، صلہ ہے اس کا کوئی محلے اعراب نہیں ہوگا بھئی۔ تو جملے میں جب بھی اسمِ موصول آئے آپ نے فوراً اس کے ساتھ کیا جوڑنا ہے؟ صلہ جوڑنا ہے بھئی۔ اور صلہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ جملہ ہوگا۔ کیا ہوگا؟ جملہ، یہاں شبہ جملہ نہیں بلکہ جملہ ہوگا بھئی۔
کہتے ہیں: ”فَصْلٌ: اَلْمَوْصُولُ اسْمٌ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ جُزْءًا تَامًّا مِنْ جُمْلَةٍ“، اسمِ موصول ایسا اسم ہے، ”لَا يَصْلُحُ“ جو صلاحیت نہیں رکھتا، ”أَنْ يَكُونَ جُزْءًا تَامًّا مِنْ جُمْلَةٍ“ صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ جزءِ تام ہو یعنی پورا جز ہو جملے میں سے، ”إِلَّا بِصِلَةٍ بَعْدَهُ“ مگر ایسے صلے کے ساتھ، ”بَعْدَهُ“ جو اس کے بعد آ رہا ہو بھئی۔ صلہ ہمیشہ بعد میں آتا ہے اور یہ بھی یاد رکھیے ایک ہی اسمِ موصول کے کئی صلے بھی آ سکتے ہیں بھئی۔ ”وَالصِّلَةُ جُمْلَةٌ خَبَرِيَّةٌ“، اور صلہ جو ہے وہ جملہ خبریہ ہوتا ہے بھئی۔ صلہ جملہ خبریہ ہوتا ہے بھئی، میں نے بتایا شبہ جملہ نہیں بلکہ جملہ ہوگا۔ ”وَلَا بُدَّ مِنْ عَائِدٍ فِيهَا يَعُودُ إِلَى الْمَوْصُولِ“، اور ضروری ہے اس میں ایک ایسے عائد کا ہونا، ”يَعُودُ إِلَى الْمَوْصُولِ“ جو لوٹ رہا ہو اسمِ موصول کی طرف۔ ”مِثَالُهُ: اَلَّذِي فِي قَوْلِنَا: جَاءَ الَّذِي أَبُوهُ قَائِمٌ“، یہ جو ہمارا قول ہے نا ”جَاءَ الَّذِي أَبُوهُ قَائِمٌ“، اس میں ”اَلَّذِي“ یہ مثال ہے اسمِ موصول کی۔ اس پورے جملے میں مثال ہے اسمِ موصول کی، یعنی یہ اسمِ موصول ہے بھئی۔ ”مِثَالُهُ“، اسمِ موصول کی مثال ”اَلَّذِي“ ہے ”فِي قَوْلِنَا“ ہمارے اس قول میں: ”جَاءَ الَّذِي أَبُوهُ قَائِمٌ“۔
جی! ترکیب کیجیے بھئی: ”جَاءَ“ فعل، ”اَلَّذِي“ اسمِ موصول۔ اعراب بھئی! ”جَاءَ“ فعل، ”اَلَّذِي“ مرفوع محلاً اسمِ موصول۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے بھئی، فعل کے آنے کے بعد صرف کون مرفوع آتا ہے؟ فاعل۔ تو ”اَلَّذِي“ مرفوع محلاً اسمِ موصول۔ آگے ”أَبُو“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ جلدی بتائیے بھئی یہ تو اب چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں ترکیب کی، یہ تو اب آپ کو خود کرنی چاہئیں۔ ترکیب کی بنیاد جب آپ کی بن گئی ہے اب آپ کو صرف اشارہ کافی ہونا چاہیے۔ ابھی تو بتایا اسمِ موصول کے بعد ہمیشہ صلہ آتا ہے، اور صلہ جملہ ہوتا ہے جملہ خبریہ، اور جملے تو دو ہی قسم کے ہیں یا جملہ اسمیہ ہوگا یا جملہ فعلیہ ہوگا۔ تو یا جملہ اسمیہ آگے آئے گا اسمِ موصول کے بعد یا جملہ فعلیہ آئے گا۔ جملہ اسمیہ آئے تو اس میں مبتدا خبر ہوتے ہیں، جملہ فعلیہ ہو تو پھر فعل اور فاعل یا نائب فاعل آئے گا۔ جی! تو ”اَلَّذِي“ مرفوع محلاً اسمِ موصول۔ ”أَبُوهُ“، ”أَبُو“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے، شاباش! کیونکہ صلہ آگے شروع ہو گیا بھئی۔ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ مبتدا ہے۔ لفظاً کیوں؟ کیونکہ اس کے رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، اس کا رفع کیا ہے؟ واؤ ہے بھئی، اسمائے ستہ مکبرہ موحدہ مضافہ الی غیر یائے متکلم، اس کا رفع واؤ کے ساتھ، نصب الف کے ساتھ اور جر یا کے ساتھ آتا ہے۔ لیکن ساری شرطیں پوری ہوں بھئی: اسمائے ستہ ہو، مکبرہ ہو، موحدہ ہو، مضافہ ہو الی غیر یائے متکلم۔ تو ”أَبُو“ مرفوع لفظاً مضاف۔ آگے ”هَا“ ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ جی، مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مبتدا، شاباش! آگے ”قَائِمٌ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ خبر ہے، مبتدا کے لیے خبر چاہیے۔ اسمِ فاعل، اچھا اس کے آگے، آگے؟ ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، جو کس کو راجع؟ جو ”أَبُوهُ“ کو، شاباش! کیونکہ خبر کو مبتدا سے جوڑتے ہیں، تو پھر اسمِ فاعل اپنے فاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر خبر، شاباش! جی آگے، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر صلہ۔ بھئی صلہ جملہ ہے اور جملے کو آپ ربط دے رہے ہیں اسمِ موصول سے، تو عائد چاہیے؟ ہاں، یہ ”أَبُوهُ“ کے آخر میں جو ”هَا“ ضمیر ہے یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ ”اَلَّذِي“ کو۔ دیکھا! یہ ضمیر اسی لیے یہ لے کر آئے کہ عائد چاہیے تھا بھئی، تو یہ عائد ہو گیا ”اَلَّذِي“ کی طرف۔ آگے تو مبتدا اپنے خبر سے مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ، موصول صلہ مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ تو دیکھو ”اَلَّذِي“ فاعل ہے، لیکن اس کے ساتھ صلہ جوڑیں گے تو بات پوری ہوگی، آگے صلہ نہیں جوڑیں گے تو بات پوری نہیں، تو جب بھی اسمِ موصول آ جائے آپ نے فوراً پھر آگے کس کو ملانا ہے؟ صلے کو ملانا ہے بھئی۔ جی! اب روانی سے پڑھ دیجیے: ”جَاءَ الَّذِي أَبُوهُ قَائِمٌ“۔ جی، ترجمہ کیجیے: اسمِ موصول کا ترجمہ ”وہ جو کہ“ یا ”وہ جس نے کہ“ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ آیا وہ جس کا ”أَبُوهُ قَائِمٌ“ جس کا باپ کھڑا ہے، آیا وہ جس کا باپ کھڑا ہے بھئی۔
”أَوْ قَامَ أَبُوهُ“، جی یہ دوسری مثال ذکر کر دی: ”قَامَ أَبُوهُ“، کیا بتانا چاہتے ہیں؟ اب تو آپ کو خود پتہ چل جانا چاہیے، ہاں یہ صلہ جملہ، پہلا صلہ جو گزرا ”أَبُوهُ قَائِمٌ“ وہ کیا تھا؟ جملہ اسمیہ۔ اب صلہ لا رہے ہیں جو جملہ فعلیہ ہو۔ تو باقی چیزیں بھی اس کے ساتھ ملاؤ، سارا ساری چیزیں انہوں نے دوبارہ ذکر نہیں کیں کیونکہ کچھ پہلے ذکر کر چکے تھے۔ تو ”جَاءَ الَّذِي“ بھی ساتھ ملاؤ اور آگے ”قَامَ أَبُوهُ“ کر دو: ”جَاءَ الَّذِي قَامَ أَبُوهُ“۔ جی! جی ترکیب کیجیے: ”جَاءَ“ فعل، شاباش! ”اَلَّذِي“ مرفوع محلاً اسمِ موصول۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے، شاباش! محلاً کیوں؟ کیونکہ مبنی ہے بھئی، مبنی ہے، اسمِ موصول۔ آگے ”قَامَ“ فعل، ”أَبُو“ اعراب بھئی! ”أَبُو“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ یہ فاعل ہے، فاعل، ہاں کیونکہ فعل کے آنے کے بعد صرف فاعل مرفوع آتا ہے، تو مرفوع لفظاً مضاف بھئی یہ فاعل ہے۔ آگے ”هَا“ ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر فاعل فعل کے لیے۔ جی! فعل اپنے، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ، ”قَامَ أَبُوهُ“، ”أَبُوهُ“ فعل فاعل جو بن گیا ”قَامَ“ کے لیے، تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ جملہ فعلیہ ہو کر، یہ ہاں، کیا بتانا تھا؟ ربط، ہاں یہ ربط دینا تھا وہ رہ گیا تھا۔ ”هَا“ ضمیر ”أَبُوهُ“ کی ”هَا“ ضمیر یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ ”اَلَّذِي“ اسمِ موصول کو، یہ عائد آ گیا۔ تو فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر یہ صلہ، موصول اپنے صلے سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو جب بھی اسمِ موصول آئے آپ نے فوراً اس کے ساتھ کس کو ملانا ہے؟ صلے کو۔
”وَالَّذِي لِلْمُذَكَّرِ“، ”وَالَّذِي“، ویسے تو ”وَالَّذِي“ پڑھتے ہیں اسمِ موصول میں، الف ہمزہ وصلیہ گر جاتا ہے، الف لام کا ہمزہ کیا ہوتا ہے؟ وصلی، اسی کی طرح یہاں بھی وصلی ہے تو گر جائے گا۔ لیکن جہاں لفظ مراد ہو وہاں پھر ہمزہ وصلی نہیں وہ قطعی بن جائے گا۔ جیسے ”مِثَالُهُ: اَلَّذِي“، یہاں الف کو نہیں گرانا، کیونکہ ”اَلَّذِي“ سے کیا مراد ہے؟ لفظِ ”اَلَّذِي“۔ اسمِ موصول کی مثال لفظِ ”اَلَّذِي“ ہے اس جملے میں ”جَاءَ الَّذِي“، ”جَاءَ الَّذِي“ یہاں الف گر جائے گا کیونکہ یہاں لفظ مراد نہیں۔ اور جبکہ ”مِثَالُهُ: اَلَّذِي“ میں ”اَلَّذِي“ کا لفظ مراد ہے۔ صورت، اور جہاں لفظ مراد ہوتا ہے وہ علم بن جاتا ہے، کیا بن جاتا ہے؟ علم۔ تو وہ جو جملوں میں ”اَلَّذِي“، ”اَلَّذِي“ آتا رہتا ہے اس کا نام ہی ہم نے ”اَلَّذِي“ رکھ دیا اور یہاں بطورِ نام کے ذکر کیا۔ اور نام میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی، لہٰذا ”اَلَّذِي“ کا اب ہمزہ قطعی بن گیا، اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں، گرے گا نہیں۔ آپ کہیں گے ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہاں نام ہے کہاں نام نہیں؟ علامت اس کی یہ ہے کہ نام کا ترجمہ نہیں کیا جاتا، جہاں جہاں آپ اس لفظ کسی لفظ کا ترجمہ نہیں کرتے سمجھ جائیں وہاں وہ لفظ مراد ہے، علم بن چکا ہے اور وہاں اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کریں گے۔ جیسے ترجمہ کرو: ”مِثَالُهُ: اَلَّذِي فِي قَوْلِنَا“، پورا جملہ ہے ”مِثَالُهُ: اَلَّذِي“، ”مِثَالُهُ“ اس کی مثال، یعنی کس کی؟ اسمِ موصول کی مثال، اسمِ موصول کی مثال ”اَلَّذِي“ ہے، اسمِ موصول کی مثال ”اَلَّذِي“ ہے۔ آگے یہ جو جملہ آ رہا ہے نا، اس جملے کے اندر جو ”اَلَّذِي“ لفظ آ رہا ہے یہ اسمِ موصول کی مثال ہے۔ تو ”مِثَالُهُ: اَلَّذِي“، اسمِ موصول کی مثال ”اَلَّذِي“ ہے، دیکھا! بھئی ”اَلَّذِي“ کا تو ترجمہ ”وہ جو کہ“، ترجمہ نہیں آپ کر رہے، معلوم ہوا یہاں کیا مراد ہے؟ لفظ مراد ہے۔ جیسے آپ کہتے ہیں ”ضَرَبَ فِعْلٌ“، ”ضَرَبَ“ کیا ہے؟ فعل ہے۔ ”ضَرَبَ“ کا ترجمہ نہیں کر رہے: اس نے پٹائی کی زمانۂ ماضی میں، نہیں، ترجمہ نہیں کر رہے۔ یا آپ کہتے ہیں ”مِنْ حَرْفٌ“، کیا؟ ”مِنْ حَرْفٌ“، دیکھا! ”مِنْ“ کا آپ ترجمہ نہیں کر رہے، معلوم ہوا یہ ”مِنْ“ علم ہے، وہ جو لفظوں کی عبارتوں میں ”مِنْ“، ”مِنْ“ آتا ہے اس کا نام ہی کیا رکھ دیا؟ ”مِنْ“، اور نام رکھ کر استعمال کر لیا، علم ہے اس لیے معرفہ اور مبتدا بن رہا ہے اور ”حَرْفٌ“ اس کی خبر ہے۔ اسی طرح ”ضَرَبَ فِعْلٌ“، ”ضَرَبَ“ کیا ہے؟ فعل ہے، علم ہے، نام ہے اور فعل ہے آگے اس کی خبر نکرہ ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو آپ خود غور کرتے جاؤ، جہاں جہاں آپ کسی لفظ کا ترجمہ نہیں کرتے معلوم ہوا وہاں لفظ مراد ہے، اور اگر لفظ مراد ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔
اور اب اسمِ موصول کون کون سے ہیں وہ اب آپ کو بتلانے لگے ہیں: کہتے ہیں: ”وَالَّذِي لِلْمُذَكَّرِ“، اور ”اَلَّذِي“ کس لیے آتا ہے اسمِ موصول؟ واحد مذکر کے لیے۔ ”وَاللَّذَانِ وَاللَّذَيْنِ لِمُثَنَّاهُ“، اور ”اَللَّذَانِ“ اور ”اَللَّذَيْنِ“، اس کو ”اَلَّذِينَ“ نہ پڑھنا، ”اَللَّذَيْنِ“ تثنیہ ہے، ”وَاللَّذَانِ وَاللَّذَيْنِ لِمُثَنَّاهُ“، اَیْ لِمُثَنَّاهُ، ”هَا“ ضمیر کس کو راجع؟ مذکر کو، اَیْ لِمُثَنَّى الْمُذَكَّرِ، اور ”اَللَّذَانِ“ اور ”اَللَّذَيْنِ“ مذکر کے تثنیہ کے لیے ہے۔ ”وَالَّتِي لِلْمُؤَنَّثِ“، اور ”اَلَّتِي“ اسمِ موصول واحد مونث کے لیے۔ ”وَاللَّتَانِ وَاللَّتَيْنِ لِمُثَنَّاهَا“، اور ”اَللَّتَانِ“ اور ”اَللَّتَيْنِ“ مونث کی، مونث کی تثنیہ کے لیے ہے۔ ”وَالَّذِينَ“، اب ”اَلَّذِينَ“ آیا بھئی، پہلے ”اَللَّذَيْنِ“ تھا، ”وَالَّذِينَ“، اور ”اَلَّذِينَ“۔ ”وَالْأُولَى“، اس کو ”أُولَى“ پڑھنا بھئی ”أُولَى“، الف پر پیش ہے، ”وَالْأُولَى لِجَمْعِ الْمُذَكَّرِ“، اور ”اَلَّذِينَ“ اور ”أُولَى“ یہ جمع مذکر کے لیے ہیں۔ یہ ”أُولَى“ اسمِ موصول ہے یاد رکھنا بھئی، یہ سب اسمِ موصول چل رہے ہیں، تو ”اَلَّذِينَ“ بھی جمع مذکر کے لیے اور ”أُولَى“ بھی جمع مذکر کے لیے۔
اور ایک اور قیمتی بات: رسم الخط دیکھیں بھئی، ایک ”اَللَّذَيْنِ“ تھا، ایک ”اَلَّذِينَ“ ہے۔ ”اَلَّذِينَ“ اور ”اَللَّذَيْنِ“، اگر زیر زبر نہ ہو تو پتہ ہی نہ چلے کہ اس کو ”اَلَّذِينَ“ پڑھنا ہے یا ”اَللَّذَيْنِ“ پڑھنا ہے۔ تو دونوں چونکہ صورتاً ایک جیسے تھے، تو علماء نے ان دونوں میں فرق کرنے کے لیے جو تثنیہ ہے اس میں دو لام لکھتے ہیں، تو ”اَللَّذَيْنِ“، دیکھا! اس میں کتنے لام ہیں؟ دو، اور ”اَلَّذِينَ“ میں ایک ہی لام مشدد ہے بھئی۔ تو یہ رسم الخط کا فرق دونوں میں آ گیا، اب چاہے زیر زبر نہ بھی ڈلے ہوں پھر بھی دو لام آئیں گے تو آپ سمجھ جائیں گے کیا پڑھنا ہے؟ ”اَللَّذَيْنِ“، اور ایک لام ہو تو سمجھ جائیں گے کہ کیا پڑھنا ہے؟ ”اَلَّذِينَ“ بھئی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو مبنی کی بحث چل رہی ہے بھئی، اور ”اَللَّذَانِ“ اور ”اَللَّذَيْنِ“ یہ دونوں تثنیہ مذکر کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ”اَللَّذَانِ“ حالتِ رفعی میں اور ”اَللَّذَيْنِ“ حالتِ نصبی اور جری میں۔ تو یہ تو پھر اسمِ موصول کو تو معرب ہونا چاہیے، کیونکہ حالتِ رفعی میں کیا ہے؟ ”اَللَّذَانِ“، جیسے تثنیہ ہوتا ہے ”رَجُلَانِ“، اور حالتِ نصبی جری میں کیا ہے؟ ”اَللَّذَيْنِ“، جیسے ”رَجُلَيْنِ“۔ تو جواب پیچھے گزر چکا ہے بھئی، کیا جواب دیں گے اس کا آپ؟ کہ بھئی یہ، یہ ”اَللَّذَانِ“ اور ”اَللَّذَيْنِ“ یہ دونوں الگ الگ لفظ ہیں بھئی۔ معرب میں تو کیا ہوتا تھا؟ وہی الف یا سے بدلتا تھا: ”رَجُلَانِ“، یہی اسی کا الف حالتِ نصبی جری میں کس سے بدل جاتا ہے؟ یا سے۔ جبکہ ”اَللَّذَانِ“ اور ”اَللَّذَيْنِ“ میں ایسا نہیں ہے، ”اَللَّذَانِ“ الگ لفظ ہے، ”اَللَّذَيْنِ“ الگ لفظ ہے۔ اسی لیے دیکھا دونوں کو الگ الگ شمار بھی اسی لیے کر رہے ہیں، اگر ایک ہی لفظ ہوتا تو صرف ”اَللَّذَانِ“ ذکر کر دیتے ”اَللَّذَانِ“، اور پھر کہہ دیتے کہ حالتِ نصبی جری میں کیا ہوتا ہے اس کی الف کس سے بدلتا ہے؟ یا سے۔ لیکن دونوں کو الگ الگ شمار کیا، معلوم ہوا یہ دونوں الگ الگ لفظ ہیں، جیسے پیچھے آیا تھا بھئی ”ذَانِ“ اور ”ذَيْنِ“ اور ”تَانِ“ اور ”تَيْنِ“ اسمِ اشارہ کے اندر، وہاں بھی میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہ دونوں الگ الگ لفظ ہیں بھئی۔ ”اَللَّذَانِ“ الگ لفظ، ”اَللَّذَيْنِ“ الگ لفظ، ہاں مواقع الگ ہیں، ان کو استعمال کہاں کرنا ہے؟ حالتِ رفعی ہو یعنی رفع کا مقام ہو وہاں ”اَللَّذَانِ“ استعمال کرنا، حالتِ نصبی جری ہو تو ”اَللَّذَيْنِ“ استعمال کرنا۔ تو یہاں ایسا نہیں ہے کہ وہی الف یا سے بدل جائے بلکہ الف والا لفظ ہی الگ ہے اور یا والا لفظ ہی الگ، اور تثنیہ کے ساتھ جو اس کی مشابہت آئی وہ اتفاقاً آ گئی ہے تثنیہ کے ساتھ۔ اسی طرح ”اَللَّتَانِ“ اور ”اَللَّتَيْنِ“، یہ بھی دونوں الگ الگ لفظ ہیں اسی لیے دونوں کو الگ الگ شمار کیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔
آگے دیکھیے بھئی: ”وَاللَّاتِي وَاللَّوَاتِي وَاللَّاءِ وَاللَّائِي لِجَمْعِ الْمُؤَنَّثِ“، یہ چاروں لفظ جمع مونث کے لیے ہیں: ”اَللَّاتِي“، ”اَللَّوَاتِي“، ”اَللَّاءِ“، اور ”اَللَّائِي“ یا بھی ہے ذرا ہمزہ کو لمبا کر دیں گے۔ یہ کس کے لیے ہیں؟ جمع مونث کے لیے۔ اسی طرح ”وَمَا وَمَنْ“، ”مَا“ اور ”مَنْ“ یہ بھی اسمائے موصولہ ہیں بھئی اسمائے موصولہ۔ البتہ ”مَا“ جو ہے وہ وہ غیر ذوی العقول کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ ”مَنْ“ جو ہے وہ ذوی العقول کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ”مَا“ کس کے لیے؟ غیر ذوی العقول کے لیے، اور ”مَنْ“ ذوی العقول یعنی جو عقل والے ہیں۔ اور عقل والے یاد رکھیے بھئی تین مخلوقات ہیں بھئی: انسان، جنات اور فرشتے۔ انسان، جنات اور فرشتے یہ ذوی العقول ہیں، عقل والے ہیں۔ جبکہ ان کے علاوہ اور جتنی مخلوقات ہیں وہ سب غیر ذوی العقول ہیں بھئی۔ یہ پتھر، یہ درخت وغیرہ یہ چیزیں کیا ہیں؟ غیر ذوی العقول ہیں بھئی۔ تو ذوی العقول کے لیے کیا استعمال کرتے ہیں؟ ”مَنْ“، اور غیر ذوی العقول کے لیے ”مَا“۔ تو البتہ ہاں، ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہو جاتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ البتہ ”مَا“ ہے کس کے لیے؟ غیر ذوی العقول کے لیے، اور ”مَنْ“ ہے ذوی العقول کے لیے، لیکن ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہو جاتے ہیں۔ ”وَأَيٌّ وَأَيَّةٌ“، اور اسی طرح ”أَيٌّ“ اور ”أَيَّةٌ“ یہ بھی اسمائے موصولہ ہیں۔
”وَذُو بِمَعْنَى الَّذِي فِي لُغَةِ بَنِي طَيٍّ“، اور وہ ”ذُو“ جو ”اَلَّذِي“ کے معنی میں ہوتا ہے قبیلہ طے کی لغت میں، قبیلہ بنو طے کی لغت، ان کی زبان میں۔ بھئی ”ذُو“، ”ذُو“ بمعنی صاحب کے، ”ذُو“ بمعنی والا والا، آپ کہتے ہیں ”ذُو مَالٍ“، کیا معنی ہوتا ہے؟ مال والا، تو دیکھا ”ذُو“ بمعنی والا اور صاحب کے استعمال ہوتا ہے، لیکن یہ یہ وہ والا ”ذُو“ نہیں ہے۔ تو قبیلہ طے جو ہے عرب کا ایک قبیلہ ہے ان کی زبان میں لفظِ ”ذُو“ استعمال ہوتا ہے اور یہ اسمِ موصول ہے اور کس معنی میں ہے؟ ”اَلَّذِي“ کے معنی میں، اور یہ اسی طرح ”ذُو“ رہتا ہے، یعنی اس میں وہاں تو تھا نا ”ذُو مَالٍ“ حالتِ رفعی میں، حالتِ نصبی میں ”ذَا مَالٍ“، حالتِ جری میں ”ذِي مَالٍ“، وہی واؤ الف سے اور کبھی یا سے بدلتا ہے، اور یہ ”ذُو“ ایسا نہیں، یہ اسمِ موصول ہے، یہ مبنی ہے، یہ تینوں حالتوں میں اسی طرح واؤ کے ساتھ رہے گا۔ اور قبیلہ طے عرب کا مشہور قبیلہ ہے بھئی، اسی قبیلے سے حاتم طائی گزرا ہے، مشہور سخی آدمی بھئی جس کی سخاوت ضرب المثل بن چکی ہے اور جب بھی کسی کی بے انتہا سخاوت بتلانا مقصد ہو تو کیا کہتے ہیں کہ یہ شخص تو حاتم طائی ہے بھئی۔ تو حاتم طائی یہ اسلام سے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے کچھ ہی پہلے گزرا ہے اور ان کے بیٹے جو تھے وہ اسلام لے کر آئے بھئی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں بھئی۔ اور جو حاتم طائی تھے یہ اس ان کا پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا بھئی، اور بہت سخی آدمی تھا۔ پورے عرب میں ان کا نام ضرب المثل تھا سخاوت کے اندر۔ اور علماء فرماتے ہیں یہ اہلِ ایمان میں سے تھا، کس میں سے؟ اہلِ ایمان میں سے، کیونکہ اس وقت تک ابھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے تھے، اسلام مذہب نہیں تھا، اور اسلام سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دین حق تھا، اور یہ جو حاتم طائی تھا یہ بھی کیا تھا؟ عیسائی تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مذہب پر تھا اور اہلِ ایمان میں سے تھا بھئی۔ تو ان کے بیٹے مشہور صحابی ہیں بھئی۔ تو یہ ”ذُو“، ”وَذُو بِمَعْنَى الَّذِي فِي لُغَةِ بَنِي طَيٍّ“، اور وہ ”ذُو“ جو ”اَلَّذِي“ کے معنی میں ہو بنو طے کی لغت میں، ”كَقَوْلِ الشَّاعِرِ“ جیسے کہ ایک شاعر کا قول ہے، اب یہ قبیلہ طے کا کوئی شاعر ہے بھئی اس نے شعر کہا ہے اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نحو کے اندر بطورِ دلیل کے شعراء کے کلام کو، ان کے اشعار کو ذکر کیا جاتا ہے۔ اور کس کون سے؟ ہر شاعر نہیں، وہ جو شعراء جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے پہلے گزرے یا جو پہلی صدی ہجری تک گزرے بھئی، بعد والے شعراء کے کلام کو بطورِ دلیل کے ذکر نہیں کیا جاتا بھئی۔ تو وہ شاعر کہتا ہے اور اس نے لفظِ ”ذُو“ استعمال کیا ہے اپنے کلام کے اندر، اور یہ ”ذُو“ کس معنی میں ہے؟ ”اَلَّذِي“ کے معنی میں ہے۔
”فَإِنَّ الْمَاءَ مَاءُ أَبِي وَجَدِّي ... وَبِئْرِي ذُو حَفَرْتُ وَذُو طَوَيْتُ“
”فَإِنَّ الْمَاءَ“، پس بے شک پانی جو ہے، ”مَاءُ أَبِي وَجَدِّي“، وہ میرے باپ کا اور میرے دادا کا پانی ہے۔ بھئی یہ کوئی شاعر تھا اس کا کسی سے کوئی جھگڑا چل رہا تھا کسی کنویں وغیرہ کے بارے میں۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا یہ ہمارا کنواں ہے اور یہ کیا کہتا تھا؟ نہیں یہ ہمارا کنواں ہے۔ تو اسی پر اس شاعر نے یہ شعر کہا بھئی: ”فَإِنَّ الْمَاءَ مَاءُ أَبِي وَجَدِّي“، پس بے شک یہ پانی جو ہے میرے باپ اور میرے دادا کا پانی ہے، ”وَبِئْرِي ذُو حَفَرْتُ“، اَیِ الَّذِي حَفَرْتُ، اور میرا کنواں، ”بِئْرِي“، بئر کنویں کو کہتے ہیں اور یا متکلم کی، ”وَبِئْرِي“ اور میرا کنواں وہ جو ”ذُو حَفَرْتُ“ اَیِ الَّذِي حَفَرْتُ جس کو میں نے کھودا ہے، ”وَذُو طَوَيْتُ“، اور وہ جس کو میں نے جس کو میں نے پتھروں سے گول بنایا ہے۔ ”حَفَرَ“ کے معنی ہوتے ہیں کھودنے کے۔ کنواں کس طرح بنایا جاتا ہے؟ پہلے زمین میں کھدائی کی جاتی ہے اور کھدائی کرنے کے بعد اس کو اسی طرح چھوڑ دیتے ہیں؟ یا اوپر سے نیچے تک کنویں کی ساری دیواروں میں پتھر لگا کر اس کو گول بنایا جاتا ہے؟ پتھر لگائے جاتے ہیں، ظاہر سی بات ہے، نہیں تو وہ کنواں تو کیا ہے؟ چند دن میں گر جائے گا واپس۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو گویا اس کی دیوار اس کنویں کی جو اطراف میں ہیں اطراف دیواریں ہیں گولائی میں ان میں پتھر لگا دیے جاتے ہیں اوپر سے نیچے تک اور گول بنا دیا جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں طویٰ، طویٰ یطوی، یہ جو پتھروں کے ذریعے کنویں کو گول کیا جاتا ہے اس کی دیوار بنائی جاتی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ طویٰ۔
تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّ الْمَاءَ مَاءُ أَبِي وَجَدِّي“، پس بے شک وہ پانی جو ہے میرے باپ اور میرے دادا کا پانی ہے، ”وَبِئْرِي ذُو حَفَرْتُ وَذُو طَوَيْتُ“، اور میرا کنواں جو ہے ”ذُو حَفَرْتُ“ وہ جس کو میں نے کھودا ہے، ”وَذُو طَوَيْتُ“ اور وہ جس کو میں نے پتھروں سے گول بنایا ہے۔ تو دیکھیے اس شعر کے اندر ”ذُو“ آیا اور یہ ”ذُو“ کس معنی میں ہے؟ ”اَلَّذِي“، خود بتلا رہے ہیں: ”أَيِ الَّذِي حَفَرْتُهُ وَالَّذِي طَوَيْتُهُ“، دیکھا ”ذُو“، باقی سارا کلام وہی ہے، ”ذُو“ کی جگہ صرف کیا لگا دیا؟ ”اَلَّذِي“ لگا دیا۔ اور نیز ”حَفَرْتُهُ“، یہ ”هَا“ ضمیر بھی ساتھ محذوف نکال لی۔ شعر کے اندر تو یہ ذکر نہیں ہے، کیونکہ شعر میں اگر یہ ضمیر ذکر کرتے تو پھر تو وزن سارا خراب ہو جاتا، تو یہ عائد جو ہے مفعول کی ضمیر تھی اس کو حذف کیا گیا تھا شعر میں، اور عائد تو ضروری تھا تو اب آگے جب اس کی معنی کرنے لگے تو وہاں اس ضمیر کو نکال کر بتلا دیا: ”أَيِ الَّذِي حَفَرْتُهُ وَالَّذِي طَوَيْتُهُ“۔ تو یہ ”هَا“ ضمیر کیا ہے؟ یہ مفعول ہے اور یہ وہ عائد ہے بھئی، بغیر عائد کے صلہ آئے گا؟ نہیں بھئی، تو صلے کے لیے تو عائد بھی تو چاہیے موصول کے ساتھ جوڑنے کے لیے، تو یہ عائد ہے بھئی۔ ”أَيِ الَّذِي حَفَرْتُهُ“، وہ جو کہ ”حَفَرْتُهُ“ میں نے کھودا اس کو، ”وَالَّذِي طَوَيْتُهُ“، اور وہ جس کو وہ جو کہ ”طَوَيْتُهُ“ میں نے پتھروں سے گول بنایا اس کو، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
”وَالْأَلِفُ وَاللَّامُ بِمَعْنَى الَّذِي صِلَتُهُ اسْمُ الْفَاعِلِ وَاسْمُ الْمَفْعُولِ نَحْوُ: جَاءَنِي الضَّارِبُ زَيْدًا“، بھئی یہ قیمتی بات آئی۔ یاد رکھو! میں پہلے بھی اس بات کی طرف کئی جگہ اشارہ کر چکا ہوں، اور وہ یہ کہ یہ جو اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول، اسمِ فاعل کیا ہے؟ ضارب، مانع، فاتح۔ ایک تو ہوتا ہے نا فاعل، فاعل کسے کہتے ہیں؟ جسے فعل یا صفت کا صیغہ رفع دیتا ہے۔ اور اسمِ فاعل کسے کہتے ہیں؟ وہ مخصوص صیغہ جو آپ نے گردانوں میں پڑھا۔ اور ایک ہوتا ہے مفعول اور ایک ہوتا ہے اسمِ مفعول، مفعول کسے کہتے ہیں؟ جس کو فعل یا صفت کا صیغہ نصب دے، اور اسمِ مفعول؟ وہ گردانوں میں مخصوص صیغہ آپ نے پڑھا۔ تو یہ جو اسمِ فاعل ہے اور اسمِ مفعول، یعنی ضارب اور مضروب، مانع اور ممنوع، مکرم اور مکرم، مستخرج اور مستخرج، ان پر جو الف لام آتا ہے یاد رکھیے یہ بھی اسمِ موصول ہوتا ہے۔ ”اَلضَّارِبُ“، یہ الف لام جو آیا یہ ہے ”اَلَّذِي“، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور ”ضَارِبٌ“ بمعنی ”يَضْرِبُ“ کے ہے۔ تو ”اَلضَّارِبُ“ کا معنی کرو عربی میں: ”اَلضَّارِبُ: اَلَّذِي يَضْرِبُ“، وہ جو پٹائی کرتا ہے۔ ”اَلْمَضْرُوبُ“، اس کا ترجمہ کرو: ”اَلَّذِي يُضْرَبُ“، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ”اَلضَّارِبُ“ کس معنی میں ہوا؟ ”اَلَّذِي يَضْرِبُ“، اور ”اَلْمَضْرُوبُ“ کس معنی میں ہوا؟ ”اَلَّذِي يُضْرَبُ“، فعل مجہول لے آئے بھئی۔ تو یہ جو الف لام داخل ہوتا ہے اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پر یہ بھی دراصل اسمِ موصول ہوتا ہے بھئی۔ یہ کیا ہوتا ہے؟ اسمِ موصول ہوتا ہے۔ اور آگے، دیکھو ”اَلضَّارِبُ“، الف لام تو اسمِ موصول ہوا اور آگے جو ”ضَارِبٌ“ آیا یہ صلہ ہے اسمِ موصول کا، توجہ ہے؟ یہ اسمِ موصول کا صلہ ہے۔ ”اَلْمَضْرُوبُ“، اس میں ”اَلْ“، یہ جو الف لام ہے یہ تو کیا ہے؟ اسمِ موصول، اور ”مَضْرُوبٌ“ کیا ہے؟ یہ اس موصول کا صلہ ہے۔
سوال: آپ مجھے بتائیے ”ضَرَبَ“ یہ جملہ بنے گا یا یہ مفرد ہوگا؟ ”ضَرَبَ“، جب فعل اپنے فاعل کے ساتھ مل جائے تو یہ کیا بنتا ہے؟ جملہ ہوتا ہے۔ اور ”قَائِمٌ“ اور ”ضَارِبٌ“ یہ کیا ہے؟ یہ مفرد ہے، اس لیے ان کو شبہ جملہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ شبہ جملہ، تو یہ جملہ تو نہیں ہے۔ تو سوال: ”اَلضَّارِبُ“، الف لام تو اسمِ موصول ہوا، ”ضَارِبٌ“ یہ تو شبہ جملہ صلہ بن گیا، اور آپ نے تو ہمیں بتایا تھا کہ صلے کا جملہ ہونا ضروری ہے۔ سوال سمجھ میں آیا؟ کیا؟ کہ موصول کا صلہ تو ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟ جملہ، اور یہاں تو یہ مفرد صلہ بن رہا ہے، الف لام ہوا اسمِ موصول، ”اَلْ“ اسمِ موصول ہے اور ”ضَارِبٌ“ یہ شبہ جملہ کیا بنے گا؟ صلہ، تو یہ جملہ تو نہ ہوا، اور آپ نے تو ہمیں کیا کہا تھا موصول کا صلہ ہمیشہ جملہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ”اَلْمَضْرُوبُ“، ”اَلْ“ الف لام جو ہے یہ تو کیا ہے؟ اسمِ موصول، اور ”مَضْرُوبٌ“ یہ تو شبہ جملہ ہے، جملہ تو نہیں ہے، تو شبہ جملہ کیا بن رہا ہے؟ صلہ بن رہا ہے۔
جواب: کہ ہاں، آپ کی بات ٹھیک ہے، لیکن یہاں مجبوری کی بناء پر ایسا کیا گیا۔ مجبوری یہ کہ یہاں اسمِ موصول الف لام کی صورت میں آیا۔ کیا مجبوری؟ کہ اسمِ موصول کی شکل کیا بن گئی یہاں؟ الف لام والی، اور الف لام تو مفرد پر داخل ہوتا ہے، کبھی بھی جملے پر داخل نہیں ہوتا۔ ”اَلرَّجُلُ“، دیکھو الف لام رجل پہ داخل ہوا، رجل جملہ ہے یا مفرد ہے؟ مفرد۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اسی طرح ”اَلْكِتَابُ“، کتاب مفرد ہے یا جملہ؟ مفرد ہے۔ تو دیکھو الف لام مفرد پہ داخل ہوتا ہے، کس پر؟ مفرد پر۔ تو یہاں پر بھی ”اَلضَّارِبُ“ میں بھی یہ اس کا صلہ جو ہے وہ جملے کے بجائے کس صورت میں آیا؟ شبہ جملہ۔ وجہ اس کی یہ کہ یہاں اسمِ موصول الف لام کی صورت میں آیا اور یہ الف لام کس کی طرح ہے؟ الف لام حرفی کی طرح ہے۔ اچھا تو یہاں اسمِ موصول الف لام کی صورت میں آیا اور الف لام تو کس پر داخل ہوتا ہے؟ مفرد پر۔ لہٰذا اس کے صلے کو بھی ہم نے مفرد والی صورت دے دی تاکہ اس پر الف لام داخل ہو سکے، ورنہ تو داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا تھا تو یہ ”اَلضَّارِبُ“، دیکھو اصل میں تھا ”اَلَّذِي يَضْرِبُ“، ”اَلضَّارِبُ“ اصل میں کیا تھا؟ ”اَلَّذِي يَضْرِبُ“۔ ”اَلَّذِي“ کو ہم نے الف لام والی صورت دے دی، ”اَلْ“، ”اَلْ“، اور آگے اب ”اَلْ يَضْرِبُ“ تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ الف لام تو فعل پہ نہیں داخل ہوتا، تو پھر اس ”يَضْرِبُ“ کو مجبورا ًکون سی صورت دے دی؟ ضارب والی، تو کیا بن گیا؟ ”اَلضَّارِبُ“۔ تو ”اَلضَّارِبُ“ دراصل کیا ہے؟ ”اَلَّذِي يَضْرِبُ“، اور ”اَلْمَضْرُوبُ“ دراصل کیا ہے؟ ”اَلَّذِي يُضْرَبُ“، صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور اسی وجہ سے ”اَلضَّارِبُ“، توجہ ہے سبق کی طرف؟ پہلا اشکال کیا ہوا کہ اسمِ موصول کا صلہ تو جملہ ہوتا ہے اور یہاں تو کیا آیا؟ شبہ جملہ۔ جواب کیا دیا کہ یہاں چونکہ اسمِ موصول کس صورت میں آ گیا تھا؟ الف لام، اور الف لام تو کس پر داخل ہوتا ہے؟ مفرد پر۔ تو اس کے صلے کو بھی کون سی صورت دے دی؟ مفرد والی صورت ہمیں دینی پڑی بھئی، یہ اشکال حل ہو گیا۔ دوسرا اشکال: ”اَلضَّارِبُ“ میں معلوم ہوا ضارب کے الف لام کیا ہے؟ اسمِ موصول، ”اَلضَّارِبُ“ میں الف لام کیا ہے؟ اسمِ موصول، اور ”ضَارِبٌ“ کیا ہے؟ یہ صلہ ہے، اور آپ نے ہمیں بتایا تھا صلے کا کوئی محلے اعراب نہیں ہوتا۔ حالانکہ آگے اس صلے پر تو رفع بھی آتا ہے، نصب بھی آتا ہے، جر بھی: ”جَاءَنِي الضَّارِبُ“، ”رَأَيْتُ الضَّارِبَ“، ”مَرَرْتُ بِالضَّارِبِ“۔ یہ ضارب تو صلہ ہے نا اور صلے کا تو کوئی محلے اعراب نہیں ہوتا، محلے اعراب نہیں ہوتا۔ تو پھر اس پر یہ رفع، نصب، جر کیوں آیا؟ جواب: بھئی چونکہ بات وہی، چونکہ اسمِ موصول الف لام کی صورت میں آ گیا تھا، کس صورت میں؟ الف لام، اور الف لام پر الف لام کی حرف جیسی صورت ہو گئی، اور حرف پر تو حرف پر تو اعراب نہیں آتا، لہٰذا اسی الف لام والا اعراب آگے صلے کی طرف منتقل ہو گیا۔ الف لام کیا ہے؟ بھئی دیکھو نا دیکھو نا، ایک یہ الف لام ہے اسمِ موصول، ایک اور الف لام بھی ہوتا ہے جو کسی لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے لاتے ہیں: ”اَلرَّجُلُ“، پہلے تھا ”رَجُلٌ“ نکرہ، پھر اس پر میں کیا لے آیا؟ الف لام، تو کیا بن گیا؟ ”اَلرَّجُلُ“، یہ معرفہ بن گیا۔ یہ الف لام حرف ہے، یہ الف لام کیا ہے؟ حرف، یہ کسی لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے لاتے ہیں۔ جبکہ یہ جو الف لام ہم اس وقت پڑھ رہے ہیں یہ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول پہ جو داخل ہوتا ہے اس کی بات چل رہی ہے، ہر الف لام کی نہیں۔ وہ جو الف لام تھا ”اَلرَّجُلُ“ پہ داخل ہوا تھا اس کو کہتے ہیں الف لام حرفی، وہ حرف ہے، اور اس الف لام، یہ جو ”اَلضَّارِبُ“ پر الف لام آیا اس کو کہتے ہیں الف لام اسمی، کیونکہ یہ اسم ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ اسمِ موصول ہے، ابھی تو بتا رہے ہیں یہ آپ کو کہ یہ اسمِ موصول ہے۔ اور وہ تو اس اسمِ موصول کی مشابہت آ گئی کس کے ساتھ؟ اس حرفی الف لام حرفی کے ساتھ، اور الف لام حرفی پر تو اعراب نہیں آتا، لہٰذا اس پر بھی اعراب نہیں آیا بلکہ کدھر منتقل ہو گیا؟ آگے صلے کی طرف منتقل ہو گیا۔ تو یہ دراصل اسی کا اپنا اعراب تھا جیسے دیکھو ”جَاءَنِي الضَّارِبُ“، کتاب میں کیا لکھا ہے؟ ”جَاءَنِي الضَّارِبُ“۔ اس میں دیکھو ”جَاءَ“ کے لیے ”اَلضَّارِبُ“ فاعل بن رہا ہے، اور فاعل کون ہے؟ الف لام ہے، الف لام یہ اسمِ موصول ہے، یہ فاعل، لیکن یہ چونکہ حرف کی صورت میں ہے اور اس پر تو رفع آ نہیں سکتا، تو وہی رفع کس کی طرف چلا گیا؟ صلے کی طرف، ”ضَارِبُ“ پر رفع ظاہر ہو گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی، اچھی طرح؟ جی۔
تو اب دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: ”وَالْأَلِفُ وَاللَّامُ بِمَعْنَى الَّذِي“، اور وہ الف اور لام جو ”اَلَّذِي“ کے معنی میں ہوتا ہے، ”صِلَتُهُ اسْمُ الْفَاعِلِ وَاسْمُ الْمَفْعُولِ“، اس کا صلہ اسمِ فاعل اور اسمِ مفعول ہوتا ہے، ”نَحْوُ: جَاءَنِي الضَّارِبُ زَيْدًا“، اَیِ الَّذِي يَضْرِبُ زَيْدًا۔ ”أَيِ الَّذِي“، یہ ”اَلَّذِي“ کے ساتھ ”اَلضَّارِبُ“ کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ شروع میں ”جَاءَنِي“ اس کے بھی لگا دو، پہلا کیا جملہ ہے؟ ”جَاءَنِي الضَّارِبُ زَيْدًا“، اسی کا معنی آگے بیان کر دیا ”أَيْ“ یعنی کہ، ”أَيْ“ کا کیا ہے معنی؟ یعنی۔ یعنی کہ ”جَاءَنِي الَّذِي يَضْرِبُ زَيْدًا“، ”جَاءَنِي“ شروع میں لگا دو نا ”اَلَّذِي يَضْرِبُ“، ”جَاءَنِي الَّذِي يَضْرِبُ زَيْدًا“۔ اچھا، ترکیب کیجیے: ”جَاءَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ الف لام اسمِ موصول، اعراب: الف لام مرفوع محلاً اسمِ موصول، ہاں کہو اسی طرح: الف لام مرفوع محلاً اسمِ موصول۔ مرفوع کیوں؟ کیونکہ فاعل ہے، ہاں۔ آگے ”ضَارِبُ“ مرفوع، ہاں اعراب اسی طرح بتاؤ کیونکہ یہی وہی اعراب ادھر منتقل ہو گیا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ”ضَارِبُ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ فاعل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو کس کو راجع؟ ہاں ہاں! الف لام کو، یہ صلہ ہے، صلے کو کس سے جوڑتے ہیں؟ موصول سے، تو ”هُوَ“ ضمیر راجع ہے الف لام کو۔ اور ”زَيْدًا“ یہ کیا ہے؟ منصوب لفظاً کیوں؟ منصوب لفظاً، منصوب کیوں؟ مفعول، مفعول کس کے لیے؟ ”ضَارِبٌ“ کے لیے، شاباش! تو ”ضَارِبٌ“ اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو الف لام کو راجع، اور ”زَيْدًا“ منصوب لفظاً اس کا مفعول بہ، کیونکہ میں نے بتایا تھا صفت کے صیغے وہی عمل کرتے ہیں جس طرح ان کے فعل عمل کرتے ہیں۔ تو اسمِ فاعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر شبہ جملہ ہو کر صلہ، موصول صلہ مل کر فاعل ”جَاءَ“ کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ایک طریقہ یہ ہے، آپ اسی طرح ترکیب کر لیں اسی طرح جیسے ابھی ہم نے کی۔ ایک طریقہ یہ ہے وہ جو الف لام اور اسمِ فاعل ہے اس کو کھول لیں، ”اَلضَّارِبُ“ کس معنی میں ہے؟ ”اَلَّذِي يَضْرِبُ“، تو یوں تو کر لو: ”جَاءَنِي الَّذِي يَضْرِبُ زَيْدًا“، اب ترکیب کرو بھئی: ”جَاءَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ”اَلَّذِي“ مرفوع محلاً اسمِ موصول، مرفوع کیوں؟ فاعل ہے۔ اچھا آگے ”يَضْرِبُ“ فعل، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے ”اَلَّذِي“ کو، ”زَيْدًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ، موصول صلہ مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ تو یہ اسی کی ہم ترکیب کر رہے ہیں، آپ سے کسی نے کہا ”جَاءَنِي الضَّارِبُ زَيْدًا“ کی ترکیب کرو، تو آپ چاہے سیدھی سیدھی ترکیب کر دیں جیسے میں نے پہلے بتایا، یا چاہیں تو اس طرح کر دیں، آپ یوں کہیں کہ ”جَاءَنِي الضَّارِبُ زَيْدًا“ یہ دراصل ہے ”جَاءَنِي الَّذِي يَضْرِبُ زَيْدًا“ اور پھر ترکیب شروع کر دیں، صورت سمجھ میں آ گئی۔
”أَوْ جَاءَنِي الْمَضْرُوبُ غُلَامُهُ“، اچھا پہلے ترجمہ تو کر، پہلے ترجمہ کر لیں: ”جَاءَنِي الضَّارِبُ زَيْدًا“، آیا میرے پاس، ”اَلَّذِي“ وہ جو کہ، ”يَضْرِبُ زَيْدًا“ جو پٹائی کرتا ہے زید کی، آیا میرے پاس وہ جو کہ پٹائی کر رہا ہے زید کی۔ ”أَوْ جَاءَنِي الْمَضْرُوبُ غُلَامُهُ“، جی ترکیب کیجیے: ”جَاءَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، الف لام اعراب: مرفوع محلاً اسمِ موصول، آگے ”مَضْرُوبُ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ مفعول، جی۔ آگے؟ بھئی فعل کے آنے کے بعد صرف فاعل مرفوع آتا ہے، اسمِ فاعل کے آنے کے بعد بھی فاعل ہی مرفوع آئے گا، اسمِ مفعول کے بعد صرف نائب الفاعل، بھئی فعل معروف کے آنے کے بعد صرف فاعل مرفوع آتا ہے اور فعل مجہول کے آنے کے بعد صرف نائب الفاعل مرفوع آتا ہے، باقی سب منصوبات، مجرورات ہوتے ہیں۔ اسی طرح صفت کے صیغوں میں بھی ہے، اسمِ فاعل کے بعد صرف فاعل مرفوع آئے گا اور اسمِ مفعول کے بعد صرف نائب الفاعل۔ تو آگے ”غُلَامُهُ“ مرفوع ہے، پتہ چل گیا یہ کیا ہے؟ نائب الفاعل ہے کس کے لیے؟ مضروب کے لیے۔ جی تو ”مَضْرُوبُ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ مفعول، ”غُلَامُ“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ نائب الفاعل ہے اسمِ مفعول کے لیے۔ اور لفظاً کیوں؟ کیونکہ رفع پر ہم تلفظ کر رہے ہیں۔ اور مضاف آپ کو کیسے پتہ چلا یہ مضاف ہے؟ ہاں اس کے ساتھ ضمیرِ متصل جڑی ہوئی ہے، شاباش! تو ”غُلَامُ“ مرفوع لفظاً مضاف، آگے ”هَا“ ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر نائب الفاعل ہوا کس کے لیے؟ مضروب کے لیے۔ ”مَضْرُوبٌ“ اسمِ مفعول اپنے نائب الفاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر موصول کا صلہ۔ سوال: عائد تو کوئی بتایا نہیں آپ نے؟ ہاں، ”غُلَامُهُ“ کی ”هَا“ ضمیر بھئی، وہ کس کو راجع ہے؟ الف لام اسمِ موصول کو۔ تو اسمِ مفعول اپنے نائب الفاعل سے مل کر، تو اسمِ مفعول اپنے نائب الفاعل سے مل کر شبہ جملہ ہو کر موصول کا صلہ، اسمِ موصول اپنے صلے سے مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ یہ تو ایک صورت تھی، دوسری صورت میں نے بتائی کہ اس جملے کو پہلے کھول لیں پھر ترکیب کریں، کیسے؟ ”جَاءَنِي الَّذِي يُضْرَبُ غُلَامُهُ“، جی کیجیے: ”جَاءَ“ فعل، نون وقایہ، یا ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، ”اَلَّذِي“ مرفوع محلاً اسمِ موصول، آگے ”يُضْرَبُ“ فعل، ”غُلَامُ“ مرفوع لفظاً مضاف، مرفوع کیوں؟ کیونکہ نائب الفاعل ہے، آگے ”هَا“ ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، جو لوٹ رہی ہے ”اَلَّذِي“ کو، یہ عائد انہوں نے بتلا دیا، اسم تو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر نائب الفاعل ہوا کس کے لیے؟ ”يُضْرَبُ“ کے لیے، ”يُضْرَبُ“ فعل اپنے نائب الفاعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ ”اَلَّذِي“ کے لیے، ”اَلَّذِي“ اسمِ موصول اپنے صلے سے مل کر فاعل ہوا ”جَاءَ“ فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ترجمہ بھی اس کا کر لیں، بھئی پہلے روانی سے پڑھیں: ”جَاءَنِي الْمَضْرُوبُ غُلَامُهُ“، جی ترجمہ کیجیے: اسمِ موصول کا ترجمہ کس سے کرتے ہیں؟ ”وہ جو کہ“ یا ”وہ جس نے کہ“ اس کے ساتھ کرتے ہیں، ٹھیک ہے؟ جی اب کیجیے: ”جَاءَنِي“ آیا میرے پاس وہ جو کہ، وہ جس نے کہ، وہ جو کہ، ”يُضْرَبُ غُلَامُهُ“ کہ پٹائی کی گئی جس کے غلام کی، ”يُضْرَبُ“ پٹائی کی گئی ”غُلَامُهُ“ اس کے غلام کی، آیا میرے پاس وہ آدمی جس کے غلام کی پٹائی کی گئی تھی۔
”وَيَجُوزُ حَذْفُ الْعَائِدِ مِنَ اللَّفْظِ إِنْ كَانَ مَفْعُولًا“، اور جائز ہے عائد کو حذف کرنا لفظوں سے ”إِنْ كَانَ مَفْعُولًا“ اگر وہ عائد کیا ہو؟ مفعول ہو۔ بھئی اوپر جیسے تھا: ”اَلَّذِي حَفَرْتُهُ“، یہ ”حَفَرْتُهُ“ کی ”هَا“ ضمیر آخر میں کہاں سے آئی بھئی؟ یہ اوپر شعر میں تو نہیں تھی، ہاں محذوف تھی، کیوں حذف کی تھی؟ کیونکہ مفعول ہے۔ تو آپ جانتے ہیں فاعل ہو فاعل کو حذف کرنا جائز نہیں، باقی چیزوں کو مفعول وغیرہ کو حذف کرنا جائز۔ تو یاد رکھو! آپ ترکیب کر رہے ہوں اور عائد نہ ملے آپ کو لفظوں میں تو ہو سکتا ہے عائد محذوف ہو، کیونکہ بعض اوقات عائد مفعول وغیرہ ہو تو اس کو کیا کر لیتے ہیں؟ حذف، جیسے ”بِئْرِي ذُو حَفَرْتُ“، اصل میں کیا تھا؟ ”بِئْرِي ذُو حَفَرْتُهُ وَذُو طَوَيْتُهُ“، دونوں جگہ عائد حذف کیا گیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ حَذْفُ الْعَائِدِ مِنَ اللَّفْظِ إِنْ كَانَ مَفْعُولًا“، اور جائز ہے عائد کو حذف کرنا لفظوں سے اگر وہ مفعول ہو۔ بس مفعول ہونا ضروری نہیں ہے کہ حذف کریں، سمجھ میں آئی بات؟ ہاں بس فاعل نہ ہو تو پھر کیا کر سکتے ہیں اس کو؟ حذف کر سکتے ہیں، چاہے مجرور وغیرہ ہو۔ ”نَحْوُ: قَامَ الَّذِي ضَرَبْتُ أَيِ الَّذِي ضَرَبْتُهُ“، دیکھو ”هَا“ ضمیر آخر سے حذف کر دی۔ ترکیب کیجیے: ”قَامَ الَّذِي ضَرَبْتُ“، ”قَامَ“ فعل، ”اَلَّذِي“ مرفوع محلاً اسمِ موصول، ”ضَرَبْتُ“ فعل با فاعل، تا ضمیر مرفوع محلاً فاعل، آگے خود ہی نکال دو ”هَا“ ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ جو عائد ہے کس کو؟ ”اَلَّذِي“ کو، تو فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ، موصول صلہ مل کر فاعل، فعل اپنے فاعل سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
”وَاعْلَمْ أَنَّ أَيًّا وَأَيَّةً مُعْرَبَةٌ إِلَّا إِذَا حُذِفَ صَدْرُ صِلَتِهَا“، اب بھئی آخر میں ایک اور قیمتی بات آپ کو بتلانے لگے ہیں، اور وہ یہ کہ تمام اسمائے موصولہ جو آپ کو ہم نے بتائے وہ سارے مبنی ہیں سوائے ”أَيٌّ“ اور ”أَيَّةٌ“ کے، وہ بھی گزرے تھے یا نہیں بھئی؟ ”أَيٌّ“ اور ”أَيَّةٌ“، ہاں وہ دو معرب ہیں، وہ دونوں کیا ہیں؟ معرب ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَاعْلَمْ أَنَّ أَيًّا وَأَيَّةً مُعْرَبَةٌ“، جان لے تو کہ ”أَيٌّ“ اور ”أَيَّةٌ“ جو ہیں وہ معرب ہیں، تو یہ صرف دو کیا ہیں اسمائے، اسمائے موصولہ میں سے؟ معرب ہیں۔ ”إِلَّا إِذَا حُذِفَ صَدْرُ صِلَتِهَا“، مگر جس وقت ان کا صدرِ صلہ حذف کر لیا جائے۔
بھئی ادھر دیکھیے! یہ ”أَيٌّ“ اور ”أَيَّةٌ“ یہ اضافت کے ساتھ بھی استعمال ہوتے ہیں اور بغیر اضافت کے بھی۔ مثلاً ”أَيٌّ“ ایسے ہی استعمال ہو سکتا ہے اور ”أَيُّهُمْ“، دیکھا ”هُمْ“ ضمیر کی طرف کیا ہوا؟ مضاف، تو یہ اضافت کے ساتھ بھی استعمال ہوتے ہیں اور بغیر اضافت کے بھی۔ پھر دونوں کے اندر ان کا صدرِ صلہ ذکر ہوتا ہے کبھی، کبھی اس کو حذف کر لیتے ہیں، کبھی صدرِ صلہ ذکر، مثلاً میں کہتا ہوں: ”أَيُّهُمْ هُوَ قَائِمٌ“، ”أَيُّهُمْ هُوَ قَائِمٌ“، یہ ”هُوَ قَائِمٌ“، یہ ”هُوَ“ مبتدا ہے اور ”قَائِمٌ“ اس کی خبر ہے، اور یہ ”هُوَ“ عائد ہے یہ کس کو لوٹ رہا ہے؟ ”أَيٌّ“ کو، کیونکہ موصول کے لیے کیا چاہیے؟ موصول کے لیے صلہ اور صلے کے اندر عائد، تو ”هُوَ“ ضمیر، اور یاد رکھیے یہ صلہ کیا ہے؟ ”هُوَ قَائِمٌ“، تو ”هُوَ قَائِمٌ“ پورا صلہ ہے۔ توجہ ہے؟ اور اس میں اول حصہ اس کو صدر صدر کہتے ہیں، پہلا شروع کا حصہ کیا کہتے ہیں؟ صدر۔ ”هُوَ قَائِمٌ“ میں صدر کیا ہے؟ ”هُوَ“ ہے، تو یہ صدرِ صلہ ہوا، صلہ ہے نا صلے کا صدر ہے اس کا شروع ہے۔
تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ میں کیا ذکر کر رہا تھا کہ ”أَيٌّ“ اور ”أَيَّةٌ“ یہ کبھی اضافت کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں یعنی ان کے آگے مضاف الیہ آئے گا کبھی اور کبھی نہیں۔ تو کبھی یہ اضافت کے ساتھ ہوتے ہیں کبھی بغیر اضافت کے، اور دونوں صورتوں میں کبھی صدرِ صلہ ذکر ہوگا آگے کبھی صدرِ صلہ محذوف ہوگا۔ کبھی ہوگا ”أَيُّهُمْ هُوَ قَائِمٌ“، کبھی ہوگا ”أَيُّهُمْ قَائِمٌ“، اب آپ خود ”هُوَ“ محذوف نکالیں گے کیونکہ آپ کو پتہ ہے عائد تو ضرور چاہیے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کتنی صورتیں ہو گئیں اس کے استعمال کی؟ چار۔ چار صورتیں ہیں، یا یہ اضافت کے ساتھ ہوں گے یا بغیر اضافت کے، اور دونوں صورتوں میں اضافت کے ساتھ ہو تو بھی دو صورتیں: صدرِ صلہ ذکر ہوگا یا صدرِ صلہ محذوف ہوگا۔ اور بغیر اضافت کے ہو تب بھی دو صورتیں: صدرِ صلہ ذکر ہوگا یا صدرِ صلہ محذوف ہوگا، اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟ ان چار صورتوں میں سے وہ صورت جب یہ اضافت کے ساتھ استعمال ہو اور صدرِ صلہ محذوف ہو، اس صورت میں اس یہ ”أَيٌّ“ اور ”أَيَّةٌ“ ان کو معرب پڑھنا بھی جائز اور مبنی پڑھنا بھی جائز۔ کتنی صورتیں ہیں؟ چار۔ چار میں سے ایک صورت ہے جس میں یہ معرب کے ساتھ ساتھ مبنی پڑھنا بھی اس کو جائز ہے، یعنی وہاں دونوں صورتیں جائز ہیں: معرب بھی اور مبنی بھی۔ باقی سب میں تو معرب ہی، باقی تین صورتوں میں تو معرب ہی ہے وہاں مبنی نہیں بنا سکتے۔ لیکن ایک صورت جب ”أَيٌّ“ اور ”أَيَّةٌ“ کس کے ساتھ ہوں؟ اضافت کے ساتھ ہوں اور صدرِ صلہ کیا ہو؟ محذوف ہو، تو اس وقت ان کو معرب پڑھنا بھی جائز اور مبنی پڑھنا بھی جائز ہے بھئی۔ یہی بات ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَاعْلَمْ أَنَّ أَيًّا وَأَيَّةً مُعْرَبَةٌ“، کہ ”أَيٌّ“ اور ”أَيَّةٌ“ معرب ہیں، ”إِلَّا إِذَا حُذِفَ صَدْرُ صِلَتِهَا“، مگر جس وقت ان کے صدرِ صلہ کو حذف کر لیا جائے، اور میں نے ایک قید اور بھی بڑھا دی کہ اضافت کے ساتھ ہوں، کس کے ساتھ ہوں؟ اضافت کے ساتھ ہوں، کیونکہ بغیر اضافت کے صدرِ صلہ حذف ہو پھر یہ مبنی نہیں بنیں گے۔
”كَقَوْلِهِ تَعَالَى“: جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے، اللہ قیامت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ“، پھر البتہ ہم کھینچ نکالیں گے، ”مِنْ كُلِّ شِيعَةٍ“، شیعہ کا معنی ہوتا ہے گروہ بھئی، جماعت۔ ”مِنْ كُلِّ شِيعَةٍ“، ہر گروہ میں سے، ہر جماعت میں سے، ”أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَنِ عِتِيًّا“، اَیْ أَيُّهُمْ هُوَ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَنِ، تو ”هُوَ“ کیا ہے؟ صدرِ صلہ محذوف ہے۔ ہم پھر ہم کھینچ نکالیں گے ہر جماعت میں سے ”أَيُّهُمْ“ کہ کون ہے ان میں سے، ”هُوَ أَشَدُّ“، وہ جو کہ ان میں سے ”هُوَ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَنِ“ جو زیادہ شدید ہے، زیادہ سخت ہے رحمان یعنی اللہ کے بارے میں ”عِتِيًّا“ باعتبار سرکشی کے، کہ جو ان میں کون ان میں سے رحمان کی زیادہ سرکشی کرنے والا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں تو ہم نے مہلت دے رکھی ہے ہم نے، کہ جو چاہتے ہیں کرو بھئی، جو چاہتے ہیں کرو، بالآخر تمہیں ہمارے پاس آنا ہے اور ہم پھر تم سے تمہارے ایک ایک عمل کا حساب لیں گے۔ تو اللہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگوں میں سے ہم ان لوگوں کو باہر نکال کر سامنے لا کھڑا کریں گے جو رحمان کے بارے میں، اللہ کے بارے میں بڑی سرکشی کیا کرتے تھے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ ایمان نہیں لاتے تھے، قیامت کا انکار کرتے تھے، اللہ کی وحدانیت کو نہیں مانتے تھے اور بے انتہا سرکشی کیا کرتے تھے، اور خوب ڈٹ کر گناہ کیا کرتے تھے، تو قیامت کے دن ہم ان کو نکال کر باہر کھڑا کر دیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ اب ہمیں جواب دو بھئی۔ اور ان سے ان کی سرکشی کے بارے میں ہم ان پوچھیں گے اور پھر انہیں جہنم کے اندر داخل کر دیں گے۔ تو اللہ فرماتے ہیں: ”ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيعَةٍ“، پھر ہم کھینچ نکالیں گے ہر جماعت میں سے، ”أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَنِ عِتِيًّا“، وہ جو کہ ان میں زیادہ سخت تھا رحمان یعنی اللہ کے بارے میں باعتبار سرکشی کے، یعنی جو جو ان میں سے اللہ کے بارے میں بہت زیادہ سرکشی کرنے والا تھا اس کو ہم باہر نکال کر کھڑا کریں گے۔ ”أَيْ هُوَ أَشَدُّ“، کیا بتلا دیا؟ ”أَيْ هُوَ أَشَدُّ“، کیا کیا بتلایا؟ صدرِ صلہ جو محذوف تھا وہ نکال کر بتلا دیا۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ بحث کیا چل رہی ہے؟ کہ اسمِ موصول مبنی ہے، ”أَيٌّ“ اور ”أَيَّةٌ“ معرب ہیں۔ البتہ یہ بھی ایک صورت میں مبنی پڑھنا ان کو جائز ہے، وہ کون سی صورت؟ جب یہ اضافت کے ساتھ ہوں اور صدرِ صلہ محذوف ہو، تو اس وقت یہ مبنی ہوتے ہیں، جیسے یہاں: ”أَيُّهُمْ“، یہ ”أَيُّ“ اس وقت مبنی ہے بھئی۔ یہ ہے مقامِ استشہاد بھئی، جس کے لیے یہ دلیل ذکر کی جا رہی ہے، یہ ”أَيُّهُمْ“ یہ کیا ہے؟ مبنی۔ سوال: ہمیں کیسے پتہ چلے یہ مبنی ہے؟ جواب: کہ بھئی، اللہ فرما رہے ہیں: ”ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ“، پھر ہم کھینچ نکالیں گے، تو ”لَنَنْزِعَنَّ“، ”نَنْزِعَنَّ“ اس کے اندر ”نَحْنُ“ ضمیر ہے فاعل کی، ہم کھینچ نکالیں گے۔ تو اس ”نَنْزِعَنَّ“ کے اندر ”نَحْنُ“ ضمیر فاعل، ہم کھینچ نکالیں گے اور کس کو کھینچیں گے؟ ”أَيُّهُمْ“، یہ مفعول ہے، وہ جو کہ زیادہ سرکش ہے اس کو ہم کھینچ نکالیں گے۔ تو یہ مفعول ہوا، اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب، لیکن یہاں آ رہا ہے ”أَيُّهُمْ“، ”أَيُّهُمْ“ ضمہ کے ساتھ ہے، ہونا کیا چاہیے تھا؟ ”أَيَّهُمْ“، تو یہ ضمہ بتلا رہا ہے، معلوم ہوا یہ معرب نہیں مبنی ہے، اگر معرب ہوتا تو اس پر نصب آنا چاہیے تھا لیکن نصب نہیں آ رہا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
چلیے جی، ترکیب کیجیے: ”ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَنِ عِتِيًّا“، ”ثُمَّ“ حرفِ عطف، لام تاکید کے لیے، ”نَنْزِعَنَّ“ آخر میں نون ثقیلہ آ رہا ہے، اور یا یوں کہیں: ”لَنَنْزِعَنَّ“، یہ فعل اور موکد ہے کس کے ساتھ؟ نون ثقیلہ کے ساتھ اور شروع میں لام اس پر داخل ہوا تاکید کے لیے۔ تو آخر میں نون ثقیلہ داخل ہوا ہے اس فعل پر اور شروع میں لام، اور اس کے اندر فاعل کون سی ضمیر؟ ”نَحْنُ“ ضمیر، اس کا اعراب بتاؤ: مرفوع محلاً فاعل۔ ”مِنْ كُلِّ شِيعَةٍ“، ”مِنْ“ جارہ، ”كُلِّ“ اعراب بھئی! مجرور لفظاً مضاف، مجرور کیوں؟ کیونکہ من داخل ہے۔ مضاف آپ کو کیسے پتہ چلا مضاف ہے؟ کیونکہ ”كُلٌّ“ اور ”بَعْضٌ“ میں نے بتایا تھا اضافت کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں، اکثر اکثر بھئی۔ اور اضافت کے ساتھ کیوں؟ کیونکہ کل کا معنی ہے سارا، کس چیز کا سارا؟ وہ آگے چاہیے بھئی مضاف الیہ چاہیے، ”كُلِّ شِيعَةٍ“ ہر جماعت، دیکھا! جی، تو ”كُلِّ“ مجرور لفظاً مضاف، ”شِيعَةٍ“ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”لَنَنْزِعَنَّ“ فعل، ہم کھینچ نکالیں گے ہر جماعت میں سے، دیکھو جڑ رہا ہے۔ پھر آگے ”أَيُّ“ اعراب بتاؤ! مرفوع کہہ رہے ہو؟ ابھی میں نے ترکیب بتائی! شاباش، ”أَيُّ“ منصوب محلاً مضاف، شاباش! ”هُمْ“ ضمیر شاباش، ”هُمْ“ ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ اچھا جی، آگے آگے ضمیر محذوف بھی نکال دیں بھئی: ”أَيُّهُمْ“ کو ”أَيُّهُمْ“ کو کیا بنانا ہے؟ ہاں موصول تو ہے وہ تو ظاہر سی بات ہے، ٹھیک ہے؟ ہاں تو ”أَيُّ“ تو اسمِ موصول تو ہے ہی، اب آگے صلہ شروع ہونے لگا ہے، یہاں کہنے کی ضرورت نہیں مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر اسمِ موصول ہوا، ٹھیک ہے؟ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ”أَيُّ“، ”أَيُّ“ اپنے مضاف الیہ سے مل کر اسمِ، بھئی اسمِ موصول یہ خود ہے اس سے مل کر موصول ہونے کی ضرورت نہیں، ہاں اس کے ساتھ مضاف الیہ الگ آ رہا ہے اور صلہ الگ ہے، دونوں کو اس کے ساتھ ہم جوڑیں گے۔ جی، تو مضاف الیہ کو تو ہم نے جوڑ دیا، ”هُمْ“ ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، آگے اب صلہ جوڑو بھئی: ”هُوَ“ محذوف بھئی ”هُوَ“، اور اس کا اعراب بتاؤ: ”هُوَ“ مرفوع محلاً مبتدا، شاباش! اور کس کو راجع؟ ”أَيُّ“ کو، ”أَيُّ“ کو یہ صلہ آ گیا۔ جی اور آگے؟ ”أَشَدُّ“، ”أَشَدُّ“ یہ اسمِ تفضیل ہے، اسمِ تفضیل ہے: اضْرب زیادہ پٹائی کرنے والا، اشد زیادہ شدید، زیادہ سخت بھئی۔ تو ”أَشَدُّ“ صیغہ اسمِ تفضیل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً فاعل، شاباش! فاعل ہے اور یہ کس کو راجع؟ ہاں ماقبل میں مبتدا کو، کیونکہ یہ خبر ہے نا، تو یہ ”أَشَدُّ“ خبر ہے ”هُوَ“ محذوف کی، تو یہ خبر اور خبر کو کس سے جوڑتے ہیں؟ مبتدا سے۔ تو اس ”هُوَ“ جو محذوف تھا اس کو کس کی طرف لوٹایا تھا؟ وہ ”أَيُّ“ کی طرف، وہ عائد آ گیا، اور ”أَشَدُّ“ کے اندر جو ”هُوَ“ ضمیر ہے وہ کس کو لوٹائی؟ ”هُوَ“ کی طرف۔ آگے ”عَلَى“ جارہ، ”الرَّحْمَنِ“ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ”أَشَدُّ“ اسمِ تفضیل کے ساتھ، شاباش! جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”أَشَدُّ“ اسمِ تفضیل کے ساتھ۔ اور ”عِتِيًّا“، یاد رکھیے یہ منصوب یہ تمیز ہے، یہ کیا ہے؟ تمیز۔ زیادہ سخت ہے، زیادہ سخت ہے کس اعتبار سے زیادہ سخت ہے؟ ابہام تھا۔ زیادہ سخت ہے کس اعتبار سے؟ باعتبار سرکشی کے، سرکشی کے اعتبار سے، زیادہ سخت ہے یعنی زیادہ سرکشی کرنے والا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً میں کہتا ہوں ”زَيْدٌ أَشَدُّ“، زید بہت سخت ہے، آپ کہیں گے بھئی کس اعتبار سے؟ بات پوری کوئی ہو گئی ہے؟ نہیں، میں کہوں گا ”ضَرْبًا“، باعتبار پٹائی کے، زید بہت سخت ہے باعتبار پٹائی کے، تو یہاں بھی اسی طرح ”أَشَدُّ“ اس میں کیا تھا؟ ابہام تھا، تو آگے کیا چاہیے؟ تمیز چاہیے ابہام کو دور، تو ”عِتِيًّا“ سرکشی بھئی، کون زیادہ سخت ہے ان میں رحمان پر سرکشی کے؟ تو یہ تمیز ہوئی بھئی۔ اچھا جی، اب سمیٹیے بھئی: تو ”أَشَدُّ“ کے اندر ”هُوَ“ ضمیر اس کو کیا کریں؟ مبہم ممیز، مبہم ممیز، کیسے ہوگی دوبارہ کریں ترکیب؟ ”أَشَدُّ“ مرفوع لفظاً صیغہ اسمِ تفضیل، اس کے اندر ”هُوَ“ ضمیر مرفوع محلاً مبہم ممیز، یہ بس ہاں مبہم ممیز، صرف ممیز کہہ دو تو بھی کافی ہے۔ اور ”عَلَى الرَّحْمَنِ“ جار مجرور مل کر متعلق ”أَشَدُّ“، اور ”عِتِيًّا“ منصوب لفظاً تمیز، ممیز اپنی تمیز سے مل کر فاعل، اسمِ تفضیل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر شبہ جملہ ہو کر، شبہ جملہ ہو کر خبر۔ مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر صلہ۔ اسمِ موصول اپنے مضاف الیہ اور صلے سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا ”لَنَنْزِعَنَّ“ فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔