”وَإِنْ كَانَ مُعَرَّفًا بِاللَّامِ قِيلَ: يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ، وَيَا أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ. وَيَجُوزُ تَرْخِيمُ الْمُنَادَى وَهُوَ حَذْفٌ فِي آخِرِهِ لِلتَّخْفِيفِ كَمَا تَقُولُ فِي مَالِكٍ: يَا مَالِ، وَفِي مَنْصُورٍ: يَا مَنْصُ، وَفِي عُثْمَانَ: يَا عُثْمَ. وَيَجُوزُ فِي آخِرِ الْمُنَادَى الْمُرَخَّمِ الضَّمُّ وَالْحَرَكَةُ الْأَصْلِيَّةُ كَمَا تَقُولُ فِي: يَا حَارِسُ: يَا حَارُ، وَيَا حَارِ“.
گزشتہ سبق میں ہم نے منادیٰ کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔ اور آپ نے پڑھا: منادیٰ وہ اسم ہے جس کو حرفِ ندا کے ساتھ پکارا جائے بھئی۔ جیسے: ”يَا عَبْدَ اللهِ“۔ اور آپ نے پڑھا کہ یہ حرفِ ندا جو ہے وہ ”أَدْعُو“ کے قائم مقام ہے۔ ”أَدْعُو“ میں پکارتا ہوں، میں آواز دیتا ہوں، میں بلاتا ہوں۔ اور حروفِ ندا جو ہیں، آپ نے پڑھا پانچ ہیں: ”يَا“، ”أَيَا“، ”هَيَا“، اور ”أَيْ“، اور ”هَمْزَةٌ مَفْتُوحَةٌ“۔ اور کبھی کبھار اس کو لفظوں سے حذف کر لیا جاتا ہے۔
پھر اس کے بعد انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ منادیٰ کئی قسم پر ہے۔ اگر منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی ہوگا علامتِ رفع پر، جیسے: ”يَا زَيْدُ“ اور ”يَا رَجُلُ“، اور اسی طرح ”يَا زَيْدَانِ“ اور ”يَا زَيْدُونَ“۔ تو منادیٰ مفرد معرفہ ہو، تب مبنی ہوگا علامتِ رفع پر۔ مفرد ہو، مفرد کہا کس کو نکال دیا؟ مضاف اور مشابہ مضاف کو، کیونکہ مضاف یا مشابہ مضاف ہو تو وہ منصوب ہوگا، جیسے: ”يَا عَبْدَ اللهِ“ اور ”يَا طَالِعًا جَبَلًا“۔ اور معرفہ کی بھی قید لگائی، مفرد معرفہ ہو، کیونکہ اگر معرفہ نہ ہو بلکہ نکرہ ہو تو بھی وہ منصوب ہوگا جیسے اندھے کا قول: ”يَا رَجُلًا خُذْ بِيَدِي“، تو ”يَا رَجُلًا“ دیکھو کیا ہے؟ منصوب۔ معلوم ہوا منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو مبنی علی الضم ہوگا۔ اور اگر منادیٰ مضاف ہو، یا مشابہ مضاف ہو، یا نکرہ غیر معین ہو، تینوں صورتوں میں وہ منصوب ہوگا۔
اور درمیان میں آپ کو لامِ استغاثہ کے بارے میں بھی بتایا کہ کبھی کبھار منادیٰ پر لامِ استغاثہ بھی داخل کرتے ہیں، اور وہ وہاں جہاں آپ کسی کو آواز دیں فریاد کرتے ہوئے، اور اس پر لام داخل کرتے ہیں منادیٰ پر، تو وہ لام جارہ ہے تو وہ جر دے گا جیسے: ”يَا لَزَيْدٍ“، ”يَا لَزَيْدٍ“۔
اب آگے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مُعَرَّفًا بِاللَّامِ قِيلَ: يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ، وَيَا أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ“. اور اگر منادیٰ معرف باللام ہو یعنی اس پر الف لام داخل ہے، مثلاً ”اَلرَّجُلُ“ ہے۔ ”اَلرَّجُلُ“، اس کو آپ ندا دینا چاہتے ہیں، اس پر حرفِ ندا داخل کرنا چاہتے ہیں۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ الف لام یہ آلۂ تعریف ہے۔ یہ کیا ہے؟ آلۂ تعریف، تعریف کا آلہ ہے، یعنی کسی لفظ کو معرفہ بنانا ہو تو اس کو استعمال کرتے ہیں۔ سمجھ میں آئی؟ جیسے قلم، قلم لکھنے کا آلہ ہے۔ آپ نے لکھنا ہو تو کسے استعمال کرتے ہیں؟ قلم کو۔ اسی طرح الف لام کیا ہے؟ آلۂ تعریف، یعنی معرفہ بنانے کا آلہ۔ کسی لفظ کو معرفہ بنانا ہو تو اس پر کس کو لے آتے ہیں؟ الف لام کو لے آتے ہیں۔ اور نیز اسی طرح یہ حروفِ ندا جو ہیں، یہ بھی آلۂ تعریف ہیں، یہ بھی جس لفظ پر داخل ہوتے ہیں اس کو کیا بنا دیتے ہیں؟ معرفہ بنا دیتے ہیں۔
تو گویا الف لام بھی آلۂ تعریف اور حرفِ ندا بھی آلۂ تعریف، اور یہ دونوں یاد رکھیے جمع نہیں ہوتے۔ ایک ہی لفظ پر دونوں آلۂ تعریف جمع ہو جائیں، اکٹھے ہو جائیں، یہ درست نہیں ہے۔ مثلاً آپ ”اَلرَّجُلُ“ کو ندا دینا چاہتے ہیں تو ”يَا اَلرَّجُلُ“ یہ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ الف لام بھی آلۂ تعریف اور ”يَا“ بھی آلۂ تعریف، اور یہ دونوں اکٹھے ہو جائیں، ایک ہی لفظ پر اکٹھے داخل ہوں، یہ درست نہیں ہے۔ تو اس صورت میں پھر یوں کرتے ہیں کہ درمیان میں فصل لے آتے ہیں۔ ”يَا“ اور الف لام کے درمیان کیا لے آتے ہیں؟ فصل۔ لہٰذا ”يَا اَلرَّجُلُ“ نہیں کہیں گے بلکہ کہیں گے: ”يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ“، تو درمیان میں ”أَيُّهَا“ لے آئے۔ اور عورت ہو، مؤنث ہو، تو ”يَا أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ“، تو درمیان میں ”أَيَّتُهَا“ لے آئے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو مذکر کے لیے کیسے کہیں گے؟ ”يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ“ اور مؤنث کے لیے ”يَا أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ“ بھئی۔ اب دیکھیے فصل آ گیا، ”يَا“ اور الف لام کے درمیان ”أَيُّهَا“ اور ”أَيَّتُهَا“ درمیان میں آ گئے۔
البتہ یاد رکھیے! لفظِ اللہ کی یہ خاصیت ہے، اس پر ”يَا“ داخل کرنا جائز ہے بھئی۔ اور وہاں اور میں نے آپ کو بتلایا تھا اور حروفِ ندا داخل نہیں ہو سکتے، صرف کون سا حرف لائیں گے؟ ”يَا“، ”يَا اَللهُ“ کہیں گے۔ اور وہاں پر بھی الف لام موجود ہے لیکن پھر بھی وہاں پر کیا ہے؟ ”يَا“ حرفِ ندا اس پر داخل ہوتا ہے۔ یہ لفظِ اللہ کی خصوصیت ہے بھئی، لفظِ اللہ کی۔ پورے کلامِ عرب میں اور کوئی لفظ ایسا نہیں، یہ صرف کس کی خصوصیت ہے؟ لفظِ اللہ کی۔
اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس طرح جس ذات کا نام ہے، جس طرح وہ ذات سب سے جدا ہے، وہ سب کی خالق ہے اور تمام چیزیں کیا ہیں؟ اس کی مخلوق۔ اسی طرح اس کا یہ نام بھی سب سے جدا ہے اور اس کی وہ وہ خصوصیات ہیں جو کسی اور لفظ میں نہیں بھئی۔ چنانچہ اسی پر والد صاحب رحمہ اللہ، شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد موسیٰ رحمہ اللہ، ان کی ایک عظیم کتاب ہے بھئی: ”فَتْحُ اللهِ بِخَصَائِصِ اسْمِ اللهِ“، جس میں صرف لفظِ اللہ کے خصائص، اس کی خصوصیات جمع کی ہیں۔ دیکھیے، صرف اس ایک لفظ کی اس کتاب میں آٹھ سو سے زیادہ خصوصیات ذکر ہیں بھئی۔ آٹھ سو سے زیادہ علمی، نحوی، صرفی خصوصیات بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔
تو صرف لفظِ اللہ کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں ”يَا“ اور الف لام جمع ہو جاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مُعَرَّفًا بِاللَّامِ“ اور اگر منادیٰ جو ہے وہ معرف باللام ہو، یعنی اس پر الف لام داخل ہو، ”قِيلَ“ تو یوں کہا جائے گا: ”يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ“، اور مؤنث میں کہیں گے: ”وَيَا أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ“۔
”يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ“، اس میں یاد رکھیے ”يَا“ اسی طرح قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے ہے، اور یہ ”أَيُّهَا“، ”هَا“ جو درمیان میں آ رہی ہے یہ ضمیر نہیں ہے۔ ”أَيُّهَا“ اور ”أَيَّتُهَا“ اس کے ساتھ جو ”هَا“ جڑی ہوئی ہے یہ ضمیر نہیں ہے بلکہ یہ تنبیہ کی ”هَا“ ہے، جیسے بھئی کسی حرفِ ندا کے ذریعے آپ کسی کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، ”يَا زَيْدُ“، اے زید! کیا معنی ہوتا ہے؟ اس کو بلا رہے ہیں، اس کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح تنبیہ کے لیے ”هَا“ بھی عربی میں استعمال ہوتی ہے، تو یہ ”هَا“ بھی دوسرے کو تنبیہ، دوسرے کو متنبه کرنے کے لیے۔ یہ ندا کے لیے تو نہیں لیکن متنبه کرنے کے لیے ہے، بہرحال ندا میں بھی جیسے متوجہ کیا جاتا ہے، تو یہاں پر جیسے ”يَا“ کے ذریعے دوسرے کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، متنبه کرتے ہیں، اسی طرح ”هَا“ کے ذریعے بھی دوسرے کو کیا کیا جاتا ہے؟ متنبه کیا جاتا ہے۔ تو یہاں یہ ”هَا“ تنبیہ کی ہے بھئی۔ اور یاد رکھیے یہ ”أَيُّ“ موصوف ہے اور ”اَلرَّجُلُ“ اس کی صفت ہے۔ ”أَيُّ“ کیا ہے؟ موصوف۔ اور یہ ”أَيُّ“ یہ بھی مبنی علی الضم ہے۔ مبنی علی الضم ہے، تو یہ منصوب محلاً ہے مفعول بہ ہے۔ اور ”اَلرَّجُلُ“ اس کی صفت ہے اور وہ مرفوع لفظاً ہے۔ ”اَلرَّجُلُ“ کیا ہے؟ مرفوع لفظاً، مرفوع لفظاً ہے۔
اور سوال یہ، سوال یہ کہ یہ مرفوع کیوں ہے لفظاً؟ وہ تو منصوب اعراب کی بات چل رہی ہے نا، ”أَيُّ“ تو کیا ہے؟ مبنی، اور ”اَلرَّجُلُ“ کو میں کیا بتلا رہا ہوں؟ مرفوع، معلوم ہوا معرب ہے، معرب ہے۔ مرفوع لفظاً جب میں کہہ رہا ہوں، معلوم ہوا معرب، تو وہ ہوا مبنی اور یہ ہوا معرب۔ تو اور وہ منصوب محلاً ہے، توجہ ہے سبق کی طرف کہ نہیں؟ وہ کیا ہے؟ منصوب محلاً۔ تو اس کی صفت جب معرب ہے تو اس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ منصوب ہونا چاہیے۔ وہ تو مبنی ہے نا، اس پر تو نصب نہیں آ سکتا تھا ”أَيُّ“ پر، لیکن آگے ”اَلرَّجُلُ“ تو اس کی صفت ہے، وہ تو معرب ہے، جب وہ معرب ہے تو اس پہ کیا آ سکتا ہے؟ نصب۔ تو اس پر نصب کیوں نہیں لائے؟ اس کو رفع، اس کو مرفوع لفظاً کیوں کہا آپ نے؟ مرفوع کیوں ہے؟ تو جواب یہ، جواب یہ کہ یہ اس کے لفظوں کے تابع ہے۔ کس کے تابع ہے؟ لفظ۔ لفظوں کے اعتبار سے ”أَيُّ“ پر ضمہ ہے، لہٰذا اس پر بھی کیا پڑھ لیا گیا؟ اس پر بھی عربی میں رفع پڑھا جاتا ہے۔ اس کے لفظوں کے دیکھتے ہوئے، اس کے محل کو نہیں۔ محل کے اعتبار سے وہ منصوب ہے، محل کو دیکھیں تو ”اَلرَّجُلُ“ کو کیا ہونا چاہیے؟ منصوب ہونا چاہیے، لیکن یہ منصوب ہے یا مرفوع ہے؟ مرفوع، معلوم ہوا کس کی رعایت رکھی گئی؟ لفظ کی۔ ایک ہے لفظ، ”أَيُّ“ کا لفظ دیکھیں تو ضمہ ہے، ہے مبنی لیکن لفظ ہے تو ضمہ، اور ضمہ کس جیسا ہوتا ہے؟ رفع جیسا ہی ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ دونوں کی صورت ایک جیسی ہے۔ ہے بے شک یہ مبنی لیکن صورت تو رفع جیسی ہے، تو لہٰذا ایک اس کا یہ ہے لفظ اور ایک ہے اس کا محل۔ لفظ کے اعتبار سے یہ مبنی علی الضم ہے اور محل کے اعتبار سے یہ، مبنی کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً بتلاتے ہیں یا نہیں؟
میں کہتا ہوں ”ضَرَبَ“، آپ ترکیب کیا کرتے ہیں؟ ”ضَرَبَ“ فعل، ”هُوَ“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً۔ ”هُوَ“ کو خود ذرا دیکھو مبنی علی الفتح ہے، واؤ پر زبر آ رہا ہے یا نہیں؟ مبنی علی الفتح ہے، لیکن اعراب کیا بتلا رہے ہو؟ مرفوع۔ معلوم ہوا لفظوں کے اعتبار سے وہ مبنی علی الفتح، اور اعراب کے اعتبار سے، یعنی یوں کہو محل کے اعتبار سے، لفظوں کے اعتبار سے مبنی علی الفتح ہے، ”هُوَ“ کی بات کر رہا ہوں، لفظوں کے اعتبار سے مبنی علی الفتح، اور محل کے اعتبار سے مرفوع ہے کیونکہ فاعل ہے، کیا ہے؟ فاعل۔ تو لفظ اور چیز ہے، محل اور چیز۔ یہاں بھی اسی طرح ہے: ”يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ“، یہ ”أَيُّ“ لفظوں کے اعتبار سے مبنی علی الضم ہے اور محل کے اعتبار سے یہ منصوب ہے۔ کیوں منصوب ہے؟ مفعول بہ ہے، کس کے لیے؟ ”أَدْعُو“ فعلِ محذوف کے لیے۔ صورت سمجھ میں... تو ”اَلرَّجُلُ“ میں کس کی رعایت رکھتے ہیں عرب؟ لفظ کی رعایت رکھتے ہیں، محل کی رعایت نہیں۔ تو لفظوں پر محمول کرتے ہیں اور لفظوں کے اعتبار سے تو اس پر ضمہ ہے، تو ضمہ رفع جیسا ہے تو لہٰذا اس پر بھی کیا پڑھتے ہیں؟ رفع پڑھتے ہیں، ”اَلرَّجُلُ“ پر بھی رفع پڑھتے ہیں۔ چلیے، بہرحال یہ تفصیل اگلی کتابوں میں آ جائے گی، ویسے میں نے کہا تھوڑی سی وضاحت آپ کے لیے کر دوں، شاید کبھی کام آ جائے بھئی۔
”وَيَجُوزُ تَرْخِيمُ الْمُنَادَى“، اچھا! اب ترخیم کی بات آ گئی بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ تَرْخِيمُ الْمُنَادَى“، اور منادیٰ کی ترخیم جائز ہے۔ ترخیم، بھئی ترخیم کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ حَذْفٌ فِي آخِرِهِ“، وہ حذف کرنا ہے منادیٰ کے آخر میں ”لِلتَّخْفِيفِ“، تخفیف کے لیے، ہلکا بنانے کے لیے۔ بھئی بعض اوقات منادیٰ میں یوں کرتے ہیں کہ اس کے آخر سے ایک یا دو حرف ختم کر دیتے ہیں، اڑا دیتے ہیں، جیسے ”يَا مَنْصُورُ“، توجہ ہے؟ آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام منصور ہے اور تو کہنا کیا چاہیے؟ ”يَا مَنْصُورُ“، لیکن آپ اس کے آخر سے ایک دو حرف اڑا دیتے ہیں، واؤ اور را کو اڑا دیا، آپ کہتے ہیں ”يَا مَنْصُ“۔ یا اسی طرح آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام مالک ہے، مالک بھئی، جیسے یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے: ”كَمَا تَقُولُ فِي مَالِكٍ“، آپ کے ساتھی کا کیا نام ہے؟ مالک۔ اور آپ کو کہنا کیا چاہیے؟ ”يَا مَالِكُ“ ندا دیتے ہوئے، لیکن آپ کاف کو ختم کر دیتے ہیں: ”يَا مَالِ“۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو منادیٰ کے آخر سے ایک یا دو حرف ختم کر دیے جاتے ہیں، اس کو ترخیم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ ترخیم۔ ”رَخَّمَ يُرَخِّمُ تَرْخِيمًا“ کا معنی ہوتا ہے نرم کرنا، کسی چیز کو نرم کرنا۔ اور تو یہ حرف کیوں اڑاتے ہیں؟ کہتے ہیں تخفیف کرنے کے لیے، لفظ کو ہلکا بنانے کے لیے۔
آپ مجھے بتائیے، کسی لفظ کے حروف زیادہ ہوں، اس کی ادائیگی زبان سے آسان ہوگی یا جس کے حروف کم ہوں اس کی ادائیگی آسان ہوگی؟ ظاہر سی بات ہے، جتنے حروف کم ہوں گے لفظ کی ادائیگی زبان پر آسان ہوگی، اور جوں جوں حروف بڑھتے جائیں گے ادائیگی مشکل ہوتی جائے گی۔ تو لہٰذا آپ اس میں ایک یا دو حرفوں کو اڑا دیتے ہیں، کس لیے اڑاتے ہیں؟ اس لفظ کو ہلکا بنانے کے لیے۔ سوال یہ کہ لفظ کو کیوں ہلکا بناتے ہیں، کیا وجہ ہے؟ پورا نام کیوں نہیں لیتے؟ یعنی جائز ہے، یہ لازم نہیں ہے، آپ ”يَا مَنْصُورُ“ یوں بھی کہہ سکتے ہیں اور آپ ”يَا مَنْصُ“ یوں بھی کہہ سکتے ہیں۔ بھئی کیا وجہ ہے، یہ ترخیم کیوں کی جاتی ہے؟ میں نے بتایا تخفیف کے لیے، لفظ کو ہلکا بنانے کے لیے۔
بھئی وجہ یہ ہے، دیکھو! میں نے، میرا ایک ساتھی ہے اس کا نام زید ہے۔ میں نے اس سے کہا: اے زید! میرے لیے پانی لے آؤ۔ توجہ ہے؟ میں نے اس سے کیا کہا: اے زید، میرے لیے پانی لے آؤ۔ اب مجھے بتائیے، میں نے جو اس سے بات کی، دو چیزیں کہیں: ایک میں نے کہا ”اے زید“، اور دوسرا میں نے کہا ”پانی لے آؤ“۔ میرا مقصد کیا تھا؟ ”اے زید“ کہنا میرا مقصد تھا یا ”پانی لے آؤ“ کہنا میرا مقصد تھا؟ پانی لے آنا، میرا مقصد تو کیا تھا اس سے؟ کہ پانی لے آؤ۔ لیکن اس کو متوجہ کرنے کے لیے مجھے ”اے زید“ کہنا پڑا۔ تو ”اے زید“ یہ میرا مقصد نہیں، میرا مقصد کیا ہے؟ پانی لے آؤ۔ تو مقصد منادیٰ کے بعد آتا ہے۔ جو کلام مقصود ہوتا ہے وہ کس کے بعد آتا ہے؟ جب آپ کسی کو ندا دیتے ہیں، اس کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، آگے جو بات کرنی ہوتی ہے وہ ہے مقصود، جو بھی بات کریں آپ۔ تو وہ ہے مقصود۔ گویا یہ ندا مقصود ہے کہ وہ جوابِ ندا مقصود ہے؟ وہ جوابِ ندا جو آگے آ رہا ہے وہ مقصود ہے۔ تو ندا درمیان میں آ گئی، تو بات کرنے والا، ندا دینے والا جو ہے وہ چاہتا ہے کہ یہ منادیٰ جلدی سے جلدی گزرے اور میں اپنے مقصود کو بیان کروں۔ یہ جو ندا ہے، ”يَا زَيْدُ“، جلدی سے جلدی یہ گزر جائے اور میں کیا کر دوں؟ جو بات میں نے کہنی ہے، جو مقصود ہے، جو جوابِ ندا ہے وہ میں کہہ ڈالوں۔ تو لہٰذا اس کو انسان چاہتا ہے مختصر کر دوں، تو اس سے کیا کرتے ہیں عرب پھر بعض اوقات ایک یا دو حروف کو حذف کر لیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
یہ معنی ہے: ”وَيَجُوزُ تَرْخِيمُ الْمُنَادَى“، اور منادیٰ کی ترخیم جائز ہے۔ بھئی ترخیمِ منادیٰ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ حَذْفٌ فِي آخِرِهِ لِلتَّخْفِيفِ“، اور وہ منادیٰ کے آخر میں سے حذف کرنا ہے للتخفیف، کس لیے؟ تخفیف کے لیے، لفظ کو ہلکا بنانے کے لیے۔ ”كَمَا تَقُولُ“ جیسے آپ کہتے ہیں ”فِي مَالِكٍ“ کس کے بارے میں؟ مالک کے بارے میں یوں کہتے ہیں: ”يَا مَالُ“۔ اچھا! یاد رکھو، آپ نے اپنے ساتھی مالک کو آواز دینی ہے، آپ اس کو کہیں گے ”يَا مَالِكُ“، کیونکہ منادیٰ مفرد معرفہ ہے تو یہ مبنی علی الضم ہوگا: ”يَا مَالِكُ“۔ اب آپ اس میں ترخیم کرنا چاہتے ہیں تو آخر سے کاف کو ختم کر دیں، اور یوں پڑھیں: ”يَا مَالِ“۔ آپ نے لام پر کون سی حرکت پڑھی؟ وہی اصلی حرکت جو اس پر پہلے تھی۔ ”يَا مَالِكُ“، اس میں لام پر کیا تھی؟ کسرہ ہے، زیر ہے۔ اعراب نہیں ہے، اس کی حرکت ہے، کیا ہے؟ حرکت۔ تو یہ آپ نے وہی حرکت پڑھی: ”يَا مَالِ“۔ تو آپ چاہیں تو وہی اصلی حرکت پڑھیں جو پہلے سے، ترخیم کرنے کے بعد۔ اب پہلے تو کاف تھا نا آخر میں ”يَا مَالِكُ“، اس کاف پر آپ ضمہ پڑھ رہے تھے کیونکہ منادیٰ مفرد معرفہ کیا ہوتا ہے؟ مبنی علی الضم۔ اب کاف کو تو ختم کر دیا، اب لام آخر میں آ گیا۔ تو اب اس لام پر کون سی حرکت، کس طرح اس کو پڑھیں گے؟ تو کہتے ہیں بھئی آپ چاہیں وہی حرکت پڑھیں جو پہلے تھی ترخیم سے پہلے، یعنی حرکتِ اصلی۔ اور ترخیم سے پہلے تو لام کے نیچے کیا تھا؟ کسرہ، تو ”يَا مَالِ“ یوں بھی آواز دے سکتے ہیں۔ اور آپ چاہیں تو یوں سمجھیں گویا کاف تھا ہی نہیں آخر میں۔ کاف آخر میں تھا ہی نہیں، یہ لفظ ہی ”مَال“ تھا، اور ”مَال“ یہ نام ہے گویا، وہی مالک کی جگہ نام ہی کیا ہے گویا؟ ”مَال“۔ اور ”مَال“ مفرد معرفہ ہے، اور مفرد معرفہ منادیٰ ہو تو مبنی علی الضم، تو اس پر آپ مبنی علی الضم بھی پڑھ سکتے ہیں: ”يَا مَالُ“ یوں بھی کہہ سکتے ہیں اور ”يَا مَالِ“ یہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ”يَا مَالِ“ پڑھا کیوں؟ اسی حرکتِ اصلیہ کو پڑھا، اور ”يَا مَالُ“ کس... اس کو مبنی علی الضم پڑھا، گویا آخری حرف تھا ہی نہیں، یہ خود ہی کیا ہے؟ آخری حرف ہے۔
تو کہتے ہیں: ”كَمَا تَقُولُ فِي مَالِكٍ: يَا مَالُ“، اور اسی طرح ”يَا مَالِ“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ”وَفِي مَنْصُورٍ“ اور منصور میں آپ کہتے ہیں: ”يَا مَنْصُ“، کس کو حذف کیا؟ واؤ اور را۔ ”وَفِي عُثْمَانَ“ اور عثمان میں آپ کہتے ہیں: ”يَا عُثْمُ“۔ ”يَا عُثْمُ“ کہا کیوں بھئی، میم پر پیش کیوں پڑھی؟ مبنی علی الضم پڑھا، گویا الف اور نون تھے ہی نہیں۔ اور کس طرح پڑھ سکتے ہیں؟ دوسرا کیسے پڑھ سکتے ہو؟ حرکتِ اصلی کیا ہے؟ ”يَا عُثْمَانُ“، یہ تو اصل ہے، ہم اس کی بات نہیں کر رہے۔ ترخیم کر دی، الف نون ختم کر دیا، اب کس کس طرح پڑھ سکتے ہیں اس کو؟ ”يَا عُثْمَ“، ”يَا عُثْمَانُ“، میم پر کیا ہے اصل میں؟ فتحہ ہے، زبر، تو اسی طرح پڑھو ”يَا عُثْمَ“۔ اور آپ چاہیں تو اس کو مبنی علی الضم پڑھیں، کیسے؟ ”يَا عُثْمُ“۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے کہ عثمان میں آپ ”يَا عُثْمُ“ پڑھیں یا ”يَا عُثْمَ“۔
”وَيَجُوزُ فِي آخِرِ الْمُنَادَى الْمُرَخَّمِ“، اور جائز ہے منادیٰ مرخم کے آخر میں۔ مرخم، وہ منادیٰ جس میں ترخیم کر لی گئی، آپ نے آخر سے ایک حرف کو اڑا دیا، ایک یا دو حرفوں کو، تو وہ کون سا منادیٰ ہے؟ منادیٰ مرخم۔ تو کہتے ہیں جائز ہے منادیٰ مرخم کے آخر میں، کیا جائز ہے؟ ”الضَّمُّ“ ضمہ پڑھنا بھی جائز ”وَالْحَرَكَةُ الْأَصْلِيَّةُ“ اور حرکتِ اصلی بھی۔ ”كَمَا تَقُولُ فِي: يَا حَارِسُ: يَا حَارُ، وَيَا حَارِ“۔ ”يَا حَارِ“ پڑھا کیوں؟ حرکتِ اصلیہ اسی طرح رکھی، اور ”يَا حَارُ“ پڑھا؟ مبنی علی الضم کر دیا کیونکہ یہ منادیٰ مفرد معرفہ ہے، گویا ثا تھی ہی نہیں یوں سمجھا۔
”وَاعْلَمْ أَنَّ يَا مِنْ حُرُوفِ النِّدَاءِ قَدْ تُسْتَعْمَلُ فِي الْمَنْدُوبِ“، ”وَاعْلَمْ“ جان لے تو کہ ”يَا“ جو ہے ”مِنْ حُرُوفِ النِّدَاءِ“، کس میں سے ہے؟ جو وہ ”يَا“ جو کس میں سے ہے؟ حروفِ ندا میں سے ہے، ”قَدْ تُسْتَعْمَلُ فِي الْمَنْدُوبِ أَيْضًا“ یہ کبھی کبھار مندوب میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ مندوب، وہ جس پر رویا جائے۔ مندوب؟ جس پر رویا جائے۔ تو مندوب کے بارے میں بھی ”يَا“ استعمال ہوتی ہے۔ بھئی مندوب کسے کہتے ہیں؟ خود بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَهُوَ الْمُتَفَجَّعُ عَلَيْهِ بِيَا أَوْ وَا“، مندوب وہ ہے جس پر غم کا اظہار کیا جائے، ”اَلْمُتَفَجَّعُ عَلَيْهِ“ جس پر کیا کیا جائے؟ غم کا اظہار کیا جائے، اس پر رویا جائے، ”بِيَا“ کس کے ساتھ؟ ”يَا“ کے ساتھ ”أَوْ وَا“ یا ”وَا“ کے ساتھ۔ ”كَمَا يُقَالُ: يَا زَيْدَاهْ، وَوَا زَيْدَاهْ“۔
بھئی یاد رکھیے، مندوب وہ چیز جس پر رویا جائے، جس پر رویا جائے یعنی جس پر اظہارِ غم کیا جائے۔ مثلاً زید مر گیا، اب وہ جو رونے والا ہے وہ کیا کہتا ہے؟ ”يَا زَيْدَاهْ“، زید کا اس پر اظہارِ غم کر رہا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”يَا زَيْدَا“ یا اسی طرح ”وَا زَيْدَا“، بلکہ ”يَا زَيْدُ“ اور اسی طرح ”وَا زَيْدُ“، دونوں طرح کہہ سکتا ہے۔ کس طرح؟ ہاں الف ہا نہ پڑھیں، الف ہا نہیں، ابھی اسی طرح منادیٰ بالکل اس کا مندوب منادیٰ کی طرح ہی ہے، مندوب کس کی طرح ہے؟ منادیٰ۔ ہاں منادیٰ میں یہ ہے کسی کو پکار کر اپنی طرف متوجہ کرنا مقصد ہوتا ہے، اور مندوب میں، زید تو مر چکا ہے، تو ”يَا زَيْدُ“ کہہ کر کوئی آپ زید کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں یا صرف اپنے غم کا اظہار کر رہے ہیں؟ غم کا اظہار کر رہے ہیں، تو آپ کہتے ہیں ”يَا زَيْدُ“ یا اسی طرح ”يَا“ کی جگہ ”وَا“ بھی استعمال کرتے ہیں: ”وَا زَيْدُ“۔ لیکن ”يَا“، ”يَا“ تو ندا کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اسی طرح مندوب کے لیے بھی، جبکہ ”وَا“ وہ صرف مندوب کے ساتھ خاص ہے، عرب صرف مندوب کے لیے ”وَا“ استعمال کرتے ہیں، ندا کے اندر ”وَا“ استعمال نہیں کرتے۔ لہٰذا مندوب میں آپ کیا کہہ سکتے ہیں؟ ”يَا زَيْدُ“ اور اسی طرح ”وَا زَيْدُ“۔ اسی طرح یہ تو منادیٰ اگر وہ مندوب مفرد معرفہ ہے، اگر وہ مضاف ہو تو پھر کیا کہیں گے؟ عبد اللہ ہے مثلاً، مضاف ہے: ”يَا عَبْدَ اللهِ“، ”وَا عَبْدَ اللهِ“، بالکل اسی منادیٰ کی طرح ہے۔ تو مندوب وہ ہے جس پر رویا جائے۔ کیوں رویا جائے؟ کیونکہ وہ اب نہیں ہے، وہ ختم ہو چکا، وہ مر چکا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو اس میں ”يَا“ اور ”وَا“ استعمال کرتے ہیں۔ پھر یاد رکھیے، کسی چیز پر رونا دو طرح ہو سکتا ہے: کبھی کسی چیز کے نہ ہونے پر رویا جاتا ہے، کبھی کسی چیز کے ہونے پر رویا جاتا ہے۔ مثلاً زید پر ابھی میں نے مثال ذکر کی: ”يَا زَيْدُ“، کیوں رویا جا رہا ہے؟ کیونکہ زید نہیں ہے، زید مر چکا ہے، تو نہ ہونے پر کبھی رویا جاتا ہے۔ اور کبھی کسی چیز کے ہونے پر رویا جاتا ہے، مثلاً کوئی مصیبت ہے تو مصیبت کے ہونے پر کیا ہے؟ انسان روتا ہے۔ پھر اس مندوب کے آخر میں، مندوب کے آخر میں کبھی الف اور ہا بھی بڑھا دیتے ہیں، الف اور ہا لگا دیتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ غم کا اظہار کرنا ہے اور غم کے اندر انسان چاہتا ہے اس کی آواز لمبی ہو تاکہ سب سنیں، سب کو پتہ چلے میرے غم کے بارے میں، میری تکلیف کے بارے میں۔ چنانچہ آخر میں کیا بڑھا دیتے ہیں؟ الف اور ہا۔ اور الف اپنے سے ماقبل کیا چاہتا ہے؟ فتحہ، تو پھر فتحہ بھی لے آتے ہیں، جیسے کیا کہیں گے؟ ”يَا زَيْدَاهْ“ اور ”وَا زَيْدَاهْ“۔
تو کہتے ہیں: ”وَاعْلَمْ أَنَّ يَا مِنْ حُرُوفِ النِّدَاءِ قَدْ تُسْتَعْمَلُ فِي الْمَنْدُوبِ أَيْضًا“، جان لے تو کہ ”يَا“ جو ہے وہ حروفِ ندا میں سے ہے، کبھی کبھار اس کو اس مندوب میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مندوب کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ الْمُتَفَجَّعُ عَلَيْهِ بِيَا أَوْ وَا“، کہ مندوب وہ ہے جس پر غم کا اظہار کیا جائے ”يَا“ یا ”وَا“ کے ساتھ، ”اَلْمُتَفَجَّعُ عَلَيْهِ بِيَا“ ”يَا“ کے ساتھ ”أَوْ وَا“ یا ”وَا“ کے ساتھ، ”كَمَا يُقَالُ: يَا زَيْدَاهْ، وَوَا زَيْدَاهْ“۔
”فَوَا مُخْتَصَّةٌ بِالْمَنْدُوبِ، وَيَا مُشْتَرَكَةٌ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْمَنْدُوبِ“، تو ”وَا“ کا لفظ جو ہے وہ خاص ہے کس کے ساتھ؟ مندوب کے ساتھ، صرف اسی میں ”وَا“ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ”وَيَا مُشْتَرَكَةٌ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْمَنْدُوبِ“، اور ”يَا“ مشترک ہے ندا اور مندوب، ندا کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے مندوب میں بھی۔ ”وَحُكْمُهُ فِي الْإِعْرَابِ وَالْبِنَاءِ مِثْلُ حُكْمِ الْمُنَادَى“، اور مندوب کا حکم جو ہے معرب اور مبنی ہونے میں ”مِثْلُ حُكْمِ الْمُنَادَى“ کس کی طرح ہے؟ منادیٰ کے حکم کی طرح ہے، جیسے وہاں منادیٰ کبھی مفرد معرفہ ہوتا تھا، یہ بھی کیا ہو سکتا ہے؟ مفرد معرفہ۔ وہاں جیسے منادیٰ منصوب ہوتا تھا، یہ بھی کیا ہو سکتا ہے؟ منصوب، جبکہ مضاف وغیرہ ہو۔
”فَصْلٌ: اَلْمَفْعُولُ فِيهِ هُوَ اسْمُ مَا وَقَعَ فِعْلُ الْفَاعِلِ فِيهِ مِنَ الزَّمَانِ وَالْمَكَانِ، وَيُسَمَّى ظَرْفًا، وَظُرُوفُ الزَّمَانِ عَلَى قِسْمَيْنِ: مُبْهَمٌ...“.
مفعول بہ کی بحث مکمل ہوئی۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا مفعول بہ وہ اس چیز کا نام ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہو، جیسے ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“، یہ ”عَمْرًا“ کیا ہے؟ مفعول بہ۔ اور یہ فاعل پر مقدم بھی ہو سکتا ہے، اور اس کے فعل کو حذف بھی کر سکتے ہیں، اور یہ حذف کبھی جائز ہوتا ہے اور کبھی واجب۔ حذف جائز کہاں ہوگا؟ جہاں قرینہ موجود ہو، پتہ چل رہا ہو کہ کون سا فعل ہے تو وہاں حذف کر دو، ویسے ہی پتہ چل جاتا ہے۔ اور جہاں پتہ نہیں چل رہا معلوم ہوا قرینہ نہیں ہے، پھر آپ حذف نہیں کر سکتے۔ ہاں، کچھ جگہیں ہیں وہاں پر فعل کو حذف کرنا واجب ہے، کیونکہ ہم نے عربوں سے، عربوں کو اسی طرح سنا ہے، اور ہم نے غور کیا تو کچھ کے قوانین بن گئے، کچھ کے قوانین علماء بنانے میں کامیاب ہوئے، اور کچھ کا قانون سمجھ میں نہ آیا تو وہ جو جن کا قانون سمجھ میں نہ آیا وہ کیا ہیں؟ سماعی۔ اور جن کا قانون، جن کے لیے، جن کے لیے علماء باقاعدہ قوانین بنانے میں کامیاب ہوئے اور پوری طرح بات واضح ہو گئی کہ ہاں، اس اس موقع پر عرب حذف کرتے ہیں اس قانون کی وجہ سے، تو ان کو کیا کہا؟ قیاسی کہا، اور وہ کتنے ہیں؟ تین۔ تو کل چار جگہیں ہیں: ایک سماعی اور تین قیاسی۔ سماعی تو جیسے: ”أَهْلًا وَسَهْلًا“، ”وَانْتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ“، ”امْرَأً وَنَفْسَهُ“۔ اور قیاسی جو تھے، اس میں ایک کیا تھا؟ تحذیر ہے، اور دوسرا ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“، اور تیسرا منادیٰ ہے بھئی۔ اور اسی منادیٰ کے اندر انہوں نے آپ کو مندوب کے بارے میں بھی آخر میں بتا دیا بھئی، اور منادیٰ میں ترخیم کی جاتی ہے وہ بھی آپ کو بتلایا۔
اب منصوبات میں سے تیسرا جو ہے مفعول فیہ ہے، اس کو بیان کرنے لگے ہیں۔ تو تیسرا منصوب جو ہے مفعول فیہ ہے، اور مفعول فیہ یہ آپ کو بتلائیں گے کہ وہ زمانے یا مکان کا نام ہے۔ مفعول فیہ کس کا نام ہے؟ زمانے کا یا مکان یعنی جگہ کا، جگہ کا۔ بھئی یاد رکھیے، جو بھی فعل کیا جائے اس کے لیے کوئی نہ کوئی زمانہ ہوگا اور کوئی نہ کوئی جگہ ہوگی۔ آپ نے زید کی پٹائی کی، تو یقیناً کوئی زمانہ ہوگا، یا صبح، دوپہر، شام، کوئی نہ کوئی وقت تو ہوگا۔ اور کوئی نہ کوئی جگہ ہوگی، مدرسے میں اس کی پٹائی کی، یا سڑک پر اس کی پٹائی کی، یا گھر پر اس کی پٹائی کی، کوئی نہ کوئی جگہ ہوگی۔ تو ہر فعل کے لیے کیا چاہیے؟ زمانہ بھی اور جگہ بھی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول فیہ، اور نیز دوسرا نام اس کا ظرف ہے۔ ظرف۔
دیکھیے! خود بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: ”اَلْمَفْعُولُ فِيهِ“، مفعول فیہ جو ہے ”هُوَ اسْمُ مَا“ وہ نام ہے اس چیز کا ”وَقَعَ فِعْلُ الْفَاعِلِ فِيهِ“ جس میں فاعل کا فعل واقع ہو۔ توجہ ہے؟ مفعول فیہ وہ اس چیز کا نام ہے جس میں فاعل کا فعل واقع ہو، ”مِنَ الزَّمَانِ وَالْمَكَانِ“، یہ ”مِنْ“ بیان ہے ”مَا“ کا۔ پیچھے آیا تھا نا ”وَهُوَ اسْمُ مَا“، اس چیز کا نام ہے۔ بھئی وہ کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں: ”مِنَ الزَّمَانِ وَالْمَكَانِ“، یعنی کہ زمانہ اور مکان۔ یہ ”مِنْ“ بیان ہے کس کا؟ ”مَا“ کا، ”مَا“ کا۔ تو یہ جس کا بیان ہے، یہ اکثر عبارتوں میں اس طرح استعمال ہوتا ہے، سمجھ میں آئی بات؟ ”مَا“ کا لفظ لے آتے ہیں اور پھر اس کے بعد ”مِنْ“ کے ساتھ اس کو بیان کیا جاتا ہے، کس کے ساتھ؟ ”مِنْ“ کے ساتھ اس کو بیان کیا جاتا ہے۔ تو پھر ترجمے میں آسان اور بہترین ترجمہ کرنے کے لیے طریقہ یہ ہے کہ یہ جو بیان ہوتا ہے نا ”مِنْ“ کے بعد، اس کو اٹھا کر اس لفظِ ”مَا“ کی جگہ لے جائیں۔ ”مِنْ“ کے بعد کیا آیا؟ زمان اور مکان۔ یہ کس کا بیان ہے؟ لفظِ ”مَا“ کا۔ اس کو اٹھا کر لے جائیں لفظِ ”مَا“ کی جگہ۔ مفعول فیہ وہ نام ہے، پہلے کیا ترجمہ تھا؟ اس چیز کا۔ ہاں، اب وہ ”مَا“ تو ختم کر دیا، زمان اور مکان لے آؤ: وہ نام ہے اس زمانے یا اور مکان کا ”وَقَعَ فِعْلُ الْفَاعِلِ فِيهِ“ جس میں فاعل کا فعل... یعنی جس زمانے میں فاعل کا فعل ہو، جس جگہ میں فاعل کا فعل ہو، اس کو مفعول فیہ کہتے ہیں۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟
”وَيُسَمَّى ظَرْفًا“، اور اس مفعول فیہ کو ظرف کہتے ہیں بھئی۔ ”وَظُرُوفُ الزَّمَانِ عَلَى قِسْمَيْنِ“، اچھا! معلوم ہوا ظرف دو قسم پر ہو گیا بھئی: ایک ظرفِ زمان ہوا اور ایک ظرفِ مکان ہوا۔ ظرفِ زمان، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے زمانے کا نام ہے۔ ظرفِ مکان، جگہ کا نام ہے۔ یاد رکھو یہ دو دو قسم پر ہیں: ظرفِ زمان بھی دو قسم پر اور ظرفِ مکان بھی۔ ظرفِ زمان کی دو قسمیں ہیں: ایک ظرفِ زمان مبہم ہے، ایک ظرفِ زمان محدود ہے۔ محدود جس کی کوئی حد ہو، کوئی حد بندی ہو۔ مبہم جس کی کوئی حد بندی نہ ہو۔ دیکھو مثالوں سے بات واضح ہوگی۔ بھئی دیکھو زمانے کے نام: دن، دن یہ بھی زمانے کا نام ہے، رات یہ بھی زمانے کا نام ہے، وقت یہ بھی زمانے کا نام ہے، زمانہ خود زمانہ، زمانہ بھی کیا ہے؟ زمانے کا نام ہے۔ اور اسی طرح سال، سال بھی کیا ہے؟ زمانے کا نام۔ ہفتہ، یہ بھی زمانے کا نام۔ مہینہ، یہ بھی زمانے کا نام۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو زمانہ کہ یہ جو یہ سب ظرف ہیں، ظرفِ زمان ہیں، لیکن آپ غور کریں یہ دو قسم کے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جن کی کوئی حد ہے اور کچھ وہ ہیں جن کی کوئی حد نہیں۔ جن کی حد ہے وہ ہوئے ظرفِ زمان محدود، اور جن کی کوئی حد نہیں وہ ہوئے ظرفِ زمان مبہم۔
جن کی حد ہے مثلاً دیکھو: دن، ”يَوْم“ کا لفظ، دن۔ دن کسے کہتے ہیں؟ صبح سے لے کر شام تک کا جو وقت ہے یہ ہے دن، اس کی حد ہے یا نہیں؟ حد ہے۔ رات کسے کہتے ہیں؟ شام سے لے کر صبح تک کا جو وقت ہے وہ کیا ہے؟ رات، دیکھو اس کی بھی حد ہے۔ مہینہ، مہینہ کسے کہتے ہیں؟ تیس دنوں کا نام ہے، دیکھو اس کی بھی حد ہے۔ ایک ہفتہ، یہ کسے کہتے ہیں؟ اس کی بھی حد ہے، کتنے دنوں پر مشتمل ہوتا ہے؟ سات دنوں پر۔ سال، سال بھی زمانہ ہے لیکن اس کی بھی حد ہے، کتنے مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے؟ بارہ مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ تو یہ دیکھا، یہ وہ ظرفِ زمان ہیں جن کی حد ہے، ان کو کہیں گے ظرفِ زمان محدود، یعنی جن کی حد ہے۔ اور دوسرا ہے ظرفِ زمان مبہم جس کی کوئی حد نہیں جیسے زمانہ، خود لفظِ زمانہ۔ زمانہ تھوڑا بھی ہو سکتا ہے زیادہ بھی ہو سکتا ہے، ایک دن ہو یہ بھی زمانہ ہے، سو سال ہوں یہ بھی کیا ہے؟ زمانہ، ہر ایک کو زمانہ کہتے ہیں۔ تو یہ ظرفِ زمان مبہم ہوا کیونکہ اس کی کوئی حد نہیں۔ اسی طرح وقت کا لفظ ہے، وقت۔ وقت بھی مبہم ہے، ایک منٹ گزرے یہ بھی وقت ہے، سو سال گزر جائیں یہ بھی کیا ہے؟ وقت ہے، تو دیکھو اس کی کوئی حد نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا ظرفِ زمان کتنی قسم پر؟ دو قسم: مبہم جس کی کوئی حد نہ ہو جیسے وقت اور زمانہ، اور ظرفِ زمان محدود جس کی کوئی حد ہو جیسے سال، مہینہ، دن وغیرہ بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَظُرُوفُ الزَّمَانِ عَلَى قِسْمَيْنِ“، اور ظرفِ زمان دو قسم پر ہیں: ”مُبْهَمٌ“ ایک ظرفِ زمان مبہم ہے، ”وَهُوَ مَا لَا يَكُونُ لَهُ حَدٌّ مُعَيَّنٌ“، اور وہ وہ ظرفِ زمان ہے کہ جس کی کوئی متعین حد نہ ہو، ”كَدَهْرٍ وَحِينٍ“، جیسے دہر، دہر کا معنی ہے زمانہ، زمانہ، دیکھو اس کی کوئی حد نہیں۔ ”وَحِينٍ“ اور حین، حین کا معنی ہوتا ہے وقت۔ ”وَمَحْدُودٌ“ اور دوسرا ظرفِ زمان محدود ہے، ”وَهُوَ مَا يَكُونُ لَهُ حَدٌّ مُعَيَّنٌ“ وہ ظرفِ زمان ہے۔
بھئی دیکھو! ”وَهُوَ مَا“، یہ جو ”مَا“ آ رہا ہے نا ”مَا“، یہ ”مَا“ موصولہ ہے۔ ”مَا“ کیا ہے؟ ما موصولہ، اور ما موصولہ معرفہ ہے۔ اسمِ موصول ہے نا، اسمِ موصول کس قسم، کس میں سے ہے؟ معرفہ میں سے، اور معرفہ کسے کہتے ہیں؟ جو کسی معین چیز پر دلالت کرے۔ تو یہ اس ”مَا“ سے کیا مراد ہے؟ بھئی جس کی بات چل رہی ہے وہی مراد ہے۔ یہ کس کی بات چل رہی ہے؟ ظرفِ زمان کی۔ ظرفِ زمان، تو کہتے ہیں ”وَهُوَ“، وہ ظرف... ”وَهُوَ مَا“، وہ ظرفِ زمان ہے ”يَكُونُ لَهُ حَدٌّ مُعَيَّنٌ“ جس کی کوئی حد... تو یاد رکھو یہ ”مَا“ عبارتوں میں عام استعمال ہوتا ہے، اور ”مَا“ اس کا اردو میں ترجمہ کریں تو ترجمہ ہوگا ”وہ جو کہ“، ”مَا“ وہ جو کہ ”يَكُونُ لَهُ حَدٌّ مُعَيَّنٌ“ جس کی کوئی متعین حد ہو۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو ما موصولہ کا یا اسمِ موصول کا ترجمہ ہم اردو میں کس طرح کرتے ہیں؟ ”وہ جو کہ“۔ لیکن یہاں یہ معرفہ ہے اور یہ کسی معین چیز پر دلالت کر رہا ہوتا ہے، یعنی یوں سمجھیں یہ ہے دال اور جس پر یہ دلالت کر رہا ہے وہ ہوا مدلول۔ بھئی یہ معرفہ ہے نا، یہ دال، یہ جو لفظ ہے جو دلالت کر رہا ہے یہ معرفہ ہے، اور معرفہ کسے کہتے ہیں؟ جو کسی متعین چیز پر دلالت کرے۔ معلوم ہوا اس ”مَا“ سے ہر چیز نہیں مراد، کوئی خاص چیز مراد ہے یہاں پر، وہ اس کا مدلول ہے، اور وہ مدلول کیا ہے یہاں؟ کس کی بات چل رہی ہے؟ ظرفِ زمان کی، معلوم ہوا اس ”مَا“ سے مراد ظرفِ زمان ہے۔ کیا مراد ہے؟ لہٰذا یہ جہاں بھی اس طرح کا لفظ آئے آپ اس کے مدلول کو اٹھا کر لے آیا کریں وہاں پر ترجمے میں۔ مثلاً اب ترجمہ یوں کرتا ہوں میں: ”وَهُوَ مَا يَكُونُ لَهُ حَدٌّ مُعَيَّنٌ“، اگر میں ”مَا“ کا اپنا ترجمہ کروں نا تو یوں ہوگا: ”وَهُوَ“ اور وہ ”مَا يَكُونُ لَهُ“ وہ ہے کہ جس کی کوئی متعین حد ہو، وہ ہے جس کی کوئی متعین حد ہو۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ مدلول کو میں خود ہی اٹھا کر لے آؤں، وہ جو کہ، وہ جو کہ اس کی جگہ مدلول لے آتا ہوں۔ کس پہ دلالت کر رہا ہے؟ ظرفِ زمان۔ یوں کریں: ”وَهُوَ مَا“ اور وہ ظرفِ زمان ہے ”يَكُونُ لَهُ حَدٌّ مُعَيَّنٌ“ جس کی کوئی متعین حد ہو۔ تو دیکھا، مدلول کو وہاں پر اٹھا کر لے آیا کریں جس پر وہ دلالت کر رہا ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اسی طرح ما موصولہ جگہ جگہ آئے گا، اور اس اسمِ موصول کے مدلول ہوتا ہے جس پر یہ کیا کرتا ہے؟ دلالت۔ توجہ ہے؟ یہ بار بار آئے گا، میں آگے بھی بار بار ذکر کروں گا، اس لیے اچھی طرح اس کو سمجھ لیں۔ یہ اسمِ موصول، اسمِ موصول جو ہوتا ہے ان کے کیا ہوتے ہیں؟ مدلول، کیونکہ یہ معرفہ ہے نا، کسی متعین چیز پر دلالت کر رہا ہے، تو کس پر دلالت کر رہا ہے وہ کیا ہوگا؟ مدلول۔ بھئی جیسے دیکھو میں نے کہا ”زید“، کس کا تصور آپ کے ذہن میں آیا؟ زید کا۔ آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام عبد اللہ ہے، میں نے کہا ”عبد اللہ“، جیسے ہی عبد اللہ کہا فوراً کس کی صورت آپ کے ذہن میں آئی؟ عبد اللہ کی۔ آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام خالد ہے، میں نے جیسے ہی کہا ”خالد“، کس کی صورت ذہن میں آئی؟ خالد کی۔ تو دیکھو جب میں نے خالد کہا خالد کی صورت ذہن میں آئی، زید کی نہیں آئی۔ اور جب زید کہا تو زید کی صورت ذہن میں آئی، خالد کی نہیں، کیونکہ یہ لفظ اسی پر دلالت کر رہا ہے۔ یہ لفظ اس کی ذات پر، زید کا لفظ ذاتِ زید پہ دلالت کر رہا ہے، خالد کا لفظ ذاتِ خالد پہ دلالت کر رہا ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ ”مَا“ اسمِ موصول ہے، اس کا کوئی مدلول ہوگا جس پہ یہ دلالت کر رہا ہے، اور وہ متعین ہے، اور عبارت سے یہاں پتہ چل رہا ہے کہ کون مراد ہے یہاں۔ تو یہاں کون مراد ہے؟ ظرفِ زمان۔ گویا اسمِ موصول استعمال کیا لیکن اس سے مراد کون ہے وہ متعین چیز جو اس سے مراد ہے وہ؟ ظرفِ زمان ہے۔ تو اس ظرفِ زمان ہی کو لے آؤ اس اسمِ موصول کی جگہ اور اس کے ساتھ ترجمہ کر دو تو بہترین ترجمہ ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو دوبارہ ترجمہ سنیں، کہتے ہیں: ”وَظُرُوفُ الزَّمَانِ عَلَى قِسْمَيْنِ“، ظروفِ زمان جو ہیں وہ دو قسم پر ہیں: ”مُبْهَمٌ“ ایک مبہم ہے، ”وَهُوَ مَا لَا يَكُونُ لَهُ حَدٌّ مُعَيَّنٌ“ وہ ظرفِ زمان ہے جس کی کوئی متعین حد نہ ہو، ”كَدَهْرٍ وَحِينٍ“ جیسے کہ دہر اور حین کا لفظ۔ دہر کا معنی؟ زمانہ، اور حین کا معنی؟ وقت۔ ”وَمَحْدُودٌ“ اور دوسری قسم ظرفِ زمان محدود ہے، ”وَهُوَ مَا يَكُونُ لَهُ حَدٌّ مُعَيَّنٌ“ اور وہ ظرفِ زمان ہے جس کی کوئی متعین حد ہو، ”كَيَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَشَهْرٍ وَسَنَةٍ“، جیسے ”يَوْم“ کا لفظ، یوم کا معنی دن، ”وَلَيْلَةٍ“ اور لیلہ کا لفظ، کیا معنی؟ رات، ”وَشَهْرٍ“ اور مہینہ، ”وَسَنَةٍ“ اور سال۔
”وَكُلُّهَا مَنْصُوبٌ بِتَقْدِيرِ فِي“، اور یہ سارے کے سارے منصوب ہوتے ہیں ”فِي“ کی تقدیر کے ساتھ، یعنی ”فِي“ کا معنی وہاں مقدر ہوتا ہے۔ مثلاً دیکھیے بھئی: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا الْيَوْمَ“۔ ”يَوْم“ کا معنی ہوتا ہے دن اور اس پر الف لام لے آئے، ”اَلْيَوْمَ“، تو اس کا معنی ہوتا ہے آج، آج۔ تو میں کہنا چاہتا ہوں: میں نے آج زید کی پٹائی کی، ”ضَرَبْتُ زَيْدًا الْيَوْمَ“، یہ ”اَلْيَوْمَ“ منصوب ہے۔ کیوں؟ مفعول فیہ ہے کیونکہ یہ اس زمانے کا نام ہے جس میں یہ جو ضرب واقع ہوئی ہے، ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“ جب ہوا ہے، اس زمانے کا نام ہے، کیا؟ ”اَلْيَوْمَ“، یعنی آج کے دن میں ہوئی ہے۔ تو دیکھو ”اَلْيَوْمَ“ یہ مفعول فیہ ہے، ظرفِ زمان ہے، یہ منصوب ہے، کیونکہ ابھی انہوں نے آپ کو بتایا کہ ظرفِ زمان سارے کیا ہوتے ہیں؟ منصوب، چاہے مبہم ہو چاہے محدود ہو، چاہے مبہم ہو چاہے محدود دونوں کیا ہوتے ہیں؟ منصوب۔ اور یہ ”اَلْيَوْمَ“ یہ مبہم ہے یا محدود ہے؟ محدود ہے، کیونکہ آج کا دن صبح سے لے کر شام تک ہے، اس کی حد متعین ہے۔ تو یہ منصوب ہے اور منصوب ہے تقدیرِ ”فِي“ کے ساتھ یعنی ”فِي“ کا معنی یہاں مقدر ہے۔
توجہ ہے؟ ”ضَرَبْتُ زَيْدًا الْيَوْمَ“، میں نے پٹائی کی زید کی آج، ”أَيْ فِي الْيَوْمِ“، یعنی آج کے دن میں پٹائی کی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی آج، آج تو بڑا لمبا وقت ہے، اس سارے میں پٹائی ہوتی رہی تھی یا آج کے دن میں کسی وقت پٹائی ہوئی ہے؟ آج کے دن میں کسی وقت پٹائی ہوئی ہے، تو یہاں کیا ہے؟ ”فِي“ کا معنی مقدر ہے۔ عبارت میں تو نہیں ”ضَرَبْتُ زَيْدًا الْيَوْمَ“، ”فِي“ تو نہیں لیکن ”فِي“ کا معنی کیا ہے؟ ”فِي“ کا معنی یہاں پر مقدر ہے۔ ”ضَرَبْتُ زَيْدًا الْيَوْمَ“، میں نے پٹائی کی زید کی آج، ”أَيْ فِي الْيَوْمِ“، یعنی آج کے دن میں، تو ”فِي“ کا معنی کیا ہے یہاں پر؟ مقدر ہے۔
یہ معنی ہے: ”وَكُلُّهَا مَنْصُوبٌ بِتَقْدِيرِ فِي“، اور یہ سارے کے سارے جو ہیں، کون سے سارے؟ ظرفِ زمان مبہم اور ظرفِ زمان محدود، یہ سارے منصوب ہوتے ہیں بتقدیرِ ”فِي“، ”فِي“ کی تقدیر کے ساتھ۔ کیا معنی؟ ”فِي“ کا لفظ مقدر ہوتا ہے یا ”فِي“ کا معنی مقدر ہوتا ہے؟ ”فِي“ کا معنی وہاں مقدر ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَكُلُّهَا مَنْصُوبٌ“ اور یہ سب منصوب ہوتے ہیں ”بِتَقْدِيرِ فِي“ تقدیرِ ”فِي“ کے ساتھ، یعنی ”فِي“ کا معنی وہاں مقدر ہوتا ہے۔ ”تَقُولُ: صُمْتُ دَهْرًا“، آپ کہتے ہیں: ”صُمْتُ دَهْرًا“۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: ”صُمْتُ دَهْرًا“، ”صَامَ يَصُومُ“ کا معنی ہے روزہ رکھنا۔ صوم عربی میں روزے کو کہتے ہیں۔ ”صُمْتُ“ میں نے روزہ رکھا۔ اچھا، ”صُمْتُ“ کون سا صیغہ ہے؟ شاباش! واحد متکلم، پوری بات کریں۔ واحد متکلم اور ہفت اقسام میں کیا ہے؟ کس وزن پر ہے؟ اس وزن پر لے جائیں، گردانوں میں کون سا صیغہ آپ نے اس جیسا پڑھا ہے؟ فوراً اس پر لے جائیں۔ بھئی میں نے آپ کو بتا دیا، فوراً آپ کو پہنچنا چاہیے تھا: ”صَوْمٌ“، ”صَوْمٌ“، حرفِ علت کہاں پر آ رہا ہے؟ ص، و، م، حرفِ علت کہاں ہے؟ درمیان میں، اور حرفِ علت درمیان میں ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اجوف۔ معلوم ہوا یہ اجوف ہے، اجوف کی گردان اب آپ دیکھ لیں اجوف میں۔ آپ ”صَامَ يَصُومُ“، ”قَالَ يَقُولُ“، بالکل ایک جیسا وزن ہے، اسی میں آتا ہے آخر میں، ”قَالَ“ کی گردان یاد ہے: ”قَالَ، قَالَا، قَالُوا، قَالَتْ، قَالَتَا، قُلْنَ، قُلْتَ، قُلْتُمَا، قُلْتُمْ، قُلْتِ، قُلْتُمَا، قُلْتُنَّ، قُلْتُ، قُلْنَا“۔ ”قُلْتُ“، ”صُمْتُ“، دیکھو ایک ہی وزن ہے۔
اچھا اب بتائیے، ”صُمْتُ“ اصل میں کیا تھا؟ ”صَوَمْتُ“، شاباش! ”قَوَلْتُ“، ”صَوَمْتُ“، پھر واؤ متحرک ماقبل فتحہ اس کو اس سے الف سے بدلا: ”صَامْتُ“، پھر الف بھی ساکن میم بھی ساکن، اجتماعِ ساکنین آیا، اور اس صورت میں اولِ ساکن کو کسرہ والی حرکت دیتے ہیں، کب؟ جبکہ پہلا حرفِ مدہ نہ ہو لیکن یہاں تو پہلا حرفِ مدہ ہے، الف کیا ہے؟ حرفِ مدہ۔ تو حرکت نہیں دینی، پھر اگر ان میں سے پہلا حرفِ مدہ ہو تو اس کو پھر گراتے ہیں، لہٰذا اس کو گرا دیا، کیا بن گیا؟ ”صَمْتُ“، ”صَمْتُ“۔ پھر صاد کو پیش والی علامت دی یہ بتلانے کے لیے کہ یہاں پر کون سا حرف حذف ہوا تھا؟ واؤ، اصل میں کیا تھا؟ واؤ، تو وہ واؤ پر دلالت کرنے کے لیے صاد کو پیش دے دی علامت، یعنی یہ بتلانے کے لیے کہ اس قبر کے اندر واؤ دفن ہے، یہاں ہم نے تختی لگا دی ضمہ والی۔ ضمہ والی تختی لگا دی کہ یہاں کیونکہ ضمہ کس کے مناسب؟ واؤ کے۔
اچھا جی! تو کہتے ہیں ”صُمْتُ دَهْرًا“، میں نے روزہ رکھا ”دَهْرًا“ ایک زمانے تک۔ اب یہ ”دَهْرًا“ کون سا ظرفِ زمان ہے؟ مبہم، اور دیکھو منصوب ہے۔ ”صُمْتُ دَهْرًا أَيْ فِي دَهْرٍ“، میں نے زمانے میں روزہ رکھا۔ ”وَسَافَرْتُ شَهْرًا“، میں نے سفر کیا ”شَهْرًا“ مہینہ، ”أَيْ فِي شَهْرٍ“، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ خود دیکھیے کہہ رہے ہیں: ”أَيْ فِي دَهْرٍ وَشَهْرٍ“، یعنی زمانے میں اور مہینے میں۔
”وَظُرُوفُ الْمَكَانِ كَذَلِكَ: مُبْهَمٌ...“، اور ظرفِ مکان بھی اسی طرح ہیں: ایک مبہم ہے۔ اب ظرفِ مکان کی بات کرنے لگے ہیں۔ بھئی جس طرح ظرفِ زمان کی دو قسمیں ہیں نا، ایک مبہم اور ایک محدود۔ مبہم وہ جس کی کوئی حد نہ ہو اور محدود وہ جس کی کوئی حد ہو۔ اسی طرح ظرفِ مکان بھی دو قسم پر: ایک مبہم ہے جس کی کوئی حد نہ ہو، ایک محدود ہے جس کی کوئی حد ہو۔ محدود کی مثال دیکھو، مثلاً دیکھیے مسجد، مسجد کا ایک مخصوص جگہ ہوتی ہے، اس سے باہر کا حصہ مسجد نہیں کہلاتا، صرف اندر والا حصہ کیا کہلاتا ہے؟ مسجد۔ یا جیسے گھر ہے، دیکھو گھر کی چاردیواری ہوتی ہے، ایک مخصوص حصہ، یہ گھر کہلاتا ہے، اس کے باہر کی جگہ گھر نہیں کہلاتی۔ اسی طرح شہر ہے، شہر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ملک ہے، ملک کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ سب ظرفِ مکان ہیں، جگہیں ہیں لیکن محدود ہیں، ان کی حد بندی ہے۔ اور کچھ جگہیں وہ ہیں جن کی کوئی حد نہیں، جیسے آگے، پیچھے، دائیں، بائیں، اوپر، نیچے۔ یہ بھی جگہیں ہیں۔ سامنے یعنی آگے اور پیچھے، دائیں، بائیں، اوپر، نیچے، یہ سب کیا ہیں؟ جگہیں ہیں، لیکن ان کی کوئی حد نہیں۔ آپ کہیں گے حد تو ہے، سامنے کا مطلب ہے سامنے ہے، دائیں بائیں نہیں ہے چیز؟ نہیں نہیں، اس کی کوئی حد نہیں۔ میرے سامنے ایک چیز پانچ فٹ کے فاصلے پر پڑی ہو تو بھی میں کہوں گا یہ چیز میرے آگے ہے یا کہوں گا میرے سامنے ہے، دس میل دور ہو لیکن اسی طرف میرا چہرہ ہو تو میں کہوں گا وہ چیز میرے سامنے ہے، میرے آگے ہے۔ دیکھو کوئی حد ہے؟ ہزار میل دور بھی ہوگی تو میں کیا کہوں گا؟ وہ چیز میرے سامنے ہے، میرے آگے ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا ان کی کوئی حد نہیں۔ تو یہ ہوئے ظرفِ مکان مبہم۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، ظرفِ زمان مبہم ہو یا محدود، کس کی بات کر رہا ہوں؟ ظرفِ زمان، ظرفِ زمان جو پڑھ چکے ہیں ہم۔ ظرفِ زمان چاہے مبہم ہو چاہے محدود، دونوں منصوب ہوتے تھے تقدیرِ ”فِي“ کے ساتھ۔ لیکن ظرفِ مکان میں ایسا نہیں ہے۔ ظرفِ مکان مبہم ہو تو وہ منصوب ہوگا تقدیرِ ”فِي“ کے ساتھ۔ کون؟ ظرفِ مکان مبہم۔ اور جو ظرفِ مکان محدود ہے وہاں ”فِي“ کو لفظوں میں ذکر کرنا ضروری ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ظرفِ مکان مبہم ہو وہ بھی منصوب ہوگا کس کے ساتھ؟ تقدیرِ ”فِي“ کے ساتھ۔ لیکن جو ظرفِ مکان محدود ہے وہاں ”فِي“ مقدر نہیں بلکہ لفظوں میں اس کو ذکر کرنا ضروری ہے۔ ”ضَرَبْتُ زَيْدًا فِي الدَّارِ“، میں نے زید کی پٹائی کی گھر میں۔ تو دیکھو ”اَلدَّارُ“، دار گھر کو کہتے ہیں اور گھر کیا ہے؟ ظرفِ مکان محدود ہے، تو اس میں ”فِي“ کا لفظ لانا ضروری ہے: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا فِي الدَّارِ“ یا ”ضَرَبْتُ زَيْدًا فِي الْمَدْرَسَةِ“۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں، اگر ظرفِ مکان مبہم ہو وہ بھی منصوب ہوگا تقدیرِ ”فِي“ کے ساتھ، مثلاً ”ضَرَبْتُ زَيْدًا أَمَامَكَ“، میں نے زید کی پٹائی کی ”أَمَامَكَ“ آپ کے سامنے۔ ”فِي أَمَامِكَ“ کہنا، نہیں کہیں گے بلکہ یہاں ”فِي“ مقدر ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
تو کہتے ہیں: ”وَظُرُوفُ الْمَكَانِ كَذَلِكَ“، اور ظروفِ مکان بھی اسی طرح ہیں، یعنی دو قسمیں ہیں: ”مُبْهَمٌ“ ایک مبہم ہے، ”وَهُوَ مَنْصُوبٌ أَيْضًا بِتَقْدِيرِ فِي“ اور وہ بھی منصوب ہوتا ہے تقدیرِ ”فِي“ کے ساتھ، ”كـ: جَلَسْتُ خَلْفَكَ، وَأَمَامَكَ“، میں بیٹھا، ”جَلَسْتُ خَلْفَكَ“ میں آپ کے پیچھے بیٹھا۔ ”جَلَسْتُ فِي خَلْفِكَ“ نہیں کہیں گے بلکہ یہ بھی دیکھو منصوب ہے کس کے ساتھ؟ تقدیرِ ”فِي“ کے ساتھ۔ ”جَلَسْتُ خَلْفَكَ“ میں آپ کے پیچھے بیٹھا، یا یوں کہتے ہیں ”جَلَسْتُ أَمَامَكَ“ میں آپ کے سامنے بیٹھا، ”فِي أَمَامِكَ“ نہیں کہیں گے۔ اور دوسری قسم: ”وَمَحْدُودٌ“، ظرفِ مکان محدود ہے، ”وَهُوَ مَا لَا يَكُونُ مَنْصُوبًا بِتَقْدِيرِ فِي“، اور وہ ظرفِ زمان ہے... ”وَهُوَ مَا“، ”مَا“ سے کیا مراد ہے؟ ظرفِ مکان، یہ اس پر دلالت کر رہا ہے تو ترجمے میں اسی کو لے آؤ: ”وَهُوَ مَا“ اور وہ ظرفِ مکان ہے ”لَا يَكُونُ مَنْصُوبًا“ جو منصوب نہیں ہوتا ”بِتَقْدِيرِ فِي“ تقدیرِ ”فِي“ کے ساتھ، ”بَلْ لَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ فِي فِيهِ“، بلکہ ضروری ہے ”فِي“ کا ذکر ”فِيهِ“ اس میں، ظرفِ مکان محدود میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بلکہ اس میں ”فِي“ کا ذکر ضروری ہے ظرفِ مکان محدود میں۔ ”نَحْوُ: جَلَسْتُ فِي الدَّارِ“، مثال کے طور پر: ”جَلَسْتُ فِي الدَّارِ“، میں بیٹھا ”فِي الدَّارِ“ گھر میں۔ ”جَلَسْتُ الدَّارَ“ یوں نہیں کہیں گے بلکہ ”فِي الدَّارِ“، ”جَلَسْتُ فِي الدَّارِ“، ”فِي“ لے کر آئیں گے۔ یا ”جَلَسْتُ فِي السُّوقِ“، میں بیٹھا بازار میں، تو ”جَلَسْتُ السُّوقَ“ یوں نہیں کہیں گے بلکہ ”فِي“ کو باقاعدہ لائیں گے: ”جَلَسْتُ فِي السُّوقِ“، اور اسی طرح ”جَلَسْتُ فِي الْمَسْجِدِ“۔ تو کہتے ہیں: ”نَحْوُ: جَلَسْتُ فِي الدَّارِ، وَفِي السُّوقِ، وَفِي الْمَسْجِدِ“، میں بیٹھا گھر میں اور بازار میں اور مسجد میں۔
”فَصْلٌ: اَلْمَفْعُولُ لَهُ هُوَ اسْمُ مَا لِأَجْلِهِ يَقَعُ الْفِعْلُ الْمَذْكُورُ قَبْلَهُ، وَيُنْصَبُ بِتَقْدِيرِ اللَّامِ نَحْوُ: ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا أَيْ لِلتَّأْدِيبِ، وَقَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ جُبْنًا أَيْ لِلْجُبْنِ، وَعِنْدَ الزَّجَّاجِ هُوَ مَصْدَرٌ تَقْدِيرُهُ: أَدَّبْتُهُ تَأْدِيبًا، وَجَبُنْتُ جُبْنًا“.
منصوبات میں سے چوتھی قسم ہے مفعول لہٗ۔ مفعول لہٗ، بھئی پہلے اس کو سمجھ لیں۔ یاد رکھیے، مفعول لہٗ اس چیز کا نام ہے جس کی وجہ سے فعل کو کیا جائے، فعل کو سرانجام دیا جائے۔ مثلاً میں نے زید کی پٹائی کی اس کو ادب سکھانے کے لیے، تو میں کہتا ہوں: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا تَأْدِيبًا“۔ ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“ میں نے پٹائی کی زید کی، یہ پٹائی والا فعل میں نے کس لیے کیا تھا؟ ادب سکھانے کے لیے، تو یہ جو ”تَأْدِيبًا“ آگے آ رہا ہے یہ مفعول لہٗ ہے۔ کیا ہے؟ اور آپ غور کریں یہ مصدر ہے، مصدر ہے۔ معلوم ہوا مفعول لہٗ مصدر کا نام ہے۔ کس کا نام ہے؟ وہ مصدر کا نام ہے جس کی وجہ سے ماقبل کے فعل کو کیا جائے۔ دیکھو: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا تَأْدِيبًا“، ”تَأْدِيبًا“ یہ کیا ہے؟ مفعول لہٗ، اور یہ مصدر ہے: ”أَدَّبَ يُؤَدِّبُ تَأْدِيبًا“، تو یہ مصدر ہے۔ اور اس سے ماقبل ایک فعل آیا ہے ”ضَرَبْتُ“، اور یہ تادیب، یہ جو ہے مفعول لہٗ یہ سبب ہے اس ماقبل والے فعل کا، اس کی وجہ سے وہ فعل کیا گیا۔ زید کی پٹائی کس لیے کی گئی؟ ادب سکھانے کے لیے۔ تو ”ضَرَبْتُ زَيْدًا تَأْدِيبًا“، ذرا جملے پہ نظر ہے؟ ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“ پہلے آ رہا ہے اور ”تَأْدِيبًا“ بعد میں، تو ”تَأْدِيبًا“ ایک مصدر ہے اور یہ سبب ہے کس کا؟ ماقبل والے فعل کا، وہی ضرب، ماقبل والے فعل کا۔ تو یہ مفعول لہٗ ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو معلوم ہوا کہ مفعول لہٗ وہ بھی مصدر کا نام ہے اور مفعول مطلق وہ بھی مصدر کا نام ہے۔ ”ضَرَبْتُ ضَرْبًا“، یہ ”ضَرْبًا“ کیا ہے؟ مفعول مطلق، اور ”ضَرَبْتُ تَأْدِيبًا“ یہ کیا ہے؟ مفعول لہٗ ہے۔ لیکن دونوں میں کیا فرق ہے؟ مفعول مطلق ”ضَرَبْتُ ضَرْبًا“، وہ مصدر ہے لیکن اسی فعل کے معنی میں ہے جو ماقبل میں ہے۔ ماقبل میں فعل بھی ”ضَرَبْتُ“ اور یہ مصدر بھی کیا ہے؟ ”ضَرْبًا“، دونوں کا معنی ایک ہے۔ اور جبکہ یہاں مفعول لہٗ میں ایسا نہیں ہے، ”ضَرَبْتُ تَأْدِيبًا“، ضرب اور چیز ہے، ادب سکھانا اور چیز ہے، دونوں کا معنی الگ الگ ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟
تو اب دیکھیے کتاب پر: ”فَصْلٌ: اَلْمَفْعُولُ لَهُ هُوَ اسْمُ مَا“، مفعول لہٗ جو ہے وہ اس چیز کا نام ہے ”لِأَجْلِهِ“ کہ اس کی وجہ سے ”يَقَعُ الْفِعْلُ الْمَذْكُورُ قَبْلَهُ“ واقع ہوتا ہے وہ فعل جو اس سے پہلے مذکور ہو۔ بھئی وہ جملہ ذہن میں رکھیں، بلکہ یہ آگے جملہ انہوں نے دیا ہوا ہے: ”ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا“، اس جملے پہ نظر رکھیں۔ اس میں مفعول لہٗ کون ہے؟ ”تَأْدِيبًا“، اس پہ نظر رکھنا، اور اس ”تَأْدِيبًا“ سے پہلے کیا ہے؟ ایک فعل مذکور ہے، اور وہ فعل اس اسی کی وجہ سے کیا گیا، اس تادیب کی وجہ سے وہ فعل کیا گیا یعنی اس ادب کو سکھانے کے لیے وہ فعل کیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب وہ ذرا پھر تعریف لگاؤ اور اس پہ بھی نظر رکھنا: ”اَلْمَفْعُولُ لَهُ هُوَ اسْمُ مَا“، وہ اس چیز کا نام ہے، کون ہے اس جملے میں؟ ”تَأْدِيبًا“، وہ اس چیز کا نام ہے ”لِأَجْلِهِ“ کہ اس کی وجہ سے یعنی اس تادیب کے لیے ”يَقَعُ الْفِعْلُ الْمَذْكُورُ قَبْلَهُ“ وہ فعل واقع ہو، وہ فعل ہو، وہ فعل واقع ہو یعنی ہو۔ وہ فعل ہو قبلہ جو اس مفعول سے، اس مفعول لہٗ سے پہلے فعل ہے وہ اسی کی وجہ سے واقع ہو، اسی کی وجہ سے وہ فعل پایا جائے۔ اسی کی وجہ سے وہ فعل پایا جائے، وہ فعل کیوں پایا گیا؟ وہ ضرب کیوں لگائی گئی؟ ادب سکھانے کے لیے۔ تو تھی تو یہ یہ مفعول لہٗ اس کا اس کا سبب ہے، اس کا باعث ہے۔ ادب سکھانا نہ ہوتا تو پٹائی بھی نہ ہوتی، تو اس فعل کا سبب کیا ہے؟ ادب سکھانا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ”لِأَجْلِهِ“ اس کی وجہ سے یعنی اس کے سبب سے، اس کے سبب سے۔ دوبارہ ترجمہ دیکھیں اور اس جملے پہ بھی نظر رکھنا اور تعریف پہ بھی: ”اَلْمَفْعُولُ لَهُ هُوَ اسْمُ مَا“، مفعول لہٗ وہ نام ہے اس چیز کا، یعنی یوں کہیں اس مصدر کا ”لِأَجْلِهِ يَقَعُ الْفِعْلُ الْمَذْكُورُ قَبْلَهُ“ کہ پایا جائے وہ اس کی وجہ سے وہ فعل جو اس سے پہلے ہے، کہ اس سے پہلے جو فعل ہے وہ اس کی وجہ سے پایا جائے۔ وہ نہ ہوتا تو وہ فعل بھی نہ ہوتا، وہ ہے تو وہ فعل بھی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ”وَهُوَ اسْمُ مَا لِأَجْلِهِ يَقَعُ الْفِعْلُ الْمَذْكُورُ قَبْلَهُ“، وہ نام ہے اس چیز کا کہ اس کی وجہ سے اس سے ماقبل والا فعل پایا جائے۔
”وَيُنْصَبُ بِتَقْدِيرِ اللَّامِ“، اور یہ منصوب ہوتا ہے تقدیرِ لام کے لام کے ساتھ یعنی یہاں لام مقدر ہوگا، لام کا معنی۔ کس طرح؟ بھئی سبب کے لیے عربی میں لام استعمال کرتے ہیں، وجہ کے لیے، وجہ۔ ”ضَرَبْتُهُ“ اصل میں ہونا چاہیے تھا ”ضَرَبْتُهُ لِلتَّأْدِيبِ“، میں نے اس کو اس کی پٹائی کی ”لِلتَّأْدِيبِ“ کس لیے؟ ادب سکھانے کے لیے، لیکن اس لام کو ختم کر دیتے ہیں اور ”تَأْدِيبًا“ کو منصوب کر دیتے ہیں، لیکن معنی وہی ہے پھر بھی۔ ”ضَرَبْتُهُ لِلتَّأْدِيبِ“ میں نے پٹائی اس کی کی تادیب، ادب سکھانے کے لیے، اور ”ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا“ یہاں بھی وہ لام کا معنی اسی طرح آئے گا: میں نے اس کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لیے۔
یہ معنی ہے: ”وَيُنْصَبُ بِتَقْدِيرِ اللَّامِ“، اور یہ منصوب ہوتا ہے تقدیرِ لام کے ساتھ۔ ”نَحْوُ: ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا“، میں نے اس کی پٹائی کی ادب سکھانے کے لیے، ”أَيْ لِلتَّأْدِيبِ“۔ ”وَقَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ جُبْنًا“، قعد کے معنی بیٹھنے کے، ”وَقَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ“، حرب کہتے ہیں جنگ کو اور جبن، جبن کہتے ہیں بزدلی کو۔ ”وَقَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ“، اور میں بیٹھ گیا جنگ سے یعنی جنگ میں شرکت نہیں کی، میں جنگ سے بیٹھ گیا ”جُبْنًا“ بزدلی کی وجہ سے، ”أَيْ لِلْجُبْنِ“ کس وجہ سے؟ بزدلی کی وجہ سے۔
دو مثالیں ذکر کیں بھئی مفعول لہٗ کی: ایک ”ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا“ اور ایک ”قَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ جُبْنًا“۔ دراصل اس میں اشارہ ہے مفعول لہٗ کی دو قسموں کی طرف۔ مفعول لہٗ کی یاد رکھیے دو قسمیں ہیں، دو قسمیں ہیں۔ ادھر دیکھیے بھئی، یہ ہے مفعول لہٗ اور یہ ہے اس سے ماقبل کا فعل: ”ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا“۔ یہ ”ضَرَبْتُهُ“ کیا ہے؟ ماقبل کا فعل، اور یہ ”تَأْدِيبًا“ کیا ہے؟ مفعول لہٗ۔ اب آپ مجھے بتائیے، ماقبل کا فعل کیا ہے؟ پٹائی کرنا، اور مفعول لہٗ کیا ہے؟ ادب سکھانا۔ اب مجھے بتائیے، پہلے پٹائی ہوتی ہے کہ پہلے ادب آتا ہے؟ پٹائی ہوگی تو کیا آئے گا؟ ادب آئے گا۔ معلوم ہوا پٹائی مقدم اور ادب مؤخر ہے۔ معلوم ہوا ضرب پہلے ہے اور ادب سکھانا بعد میں ہے، جی ادب سکھانا اس کے بعد، ادب سکھانا اس کے بعد آئے گا۔ جی، اور دوسری مثال پہ ذرا نظر رکھیں: ”قَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ جُبْنًا“، تو ماقبل میں فعل کیا ہے؟ قعود عن الحرب، جنگ سے بیٹھنا، اور مفعول مطلق کیا ہے؟ ”جُبْنًا“ یعنی بزدلی۔ اب مجھے بتائیے، جنگ سے بیٹھنا پہلے ہے کہ بزدلی پہلے سے ہے؟ بزدلی پہلے سے ہے، ہاں انسان شروع سے ہی بزدل ہے لازم ظاہر سی بات ہے، بزدلی اور بہادری تو یہ وصف ہے۔ معلوم ہوا بزدلی پہلے ہے اور جنگ سے بیٹھنا بعد میں ہے۔ اب آپ یہاں دیکھیں معاملہ برعکس ہے۔ پہلی مثال میں فعل مقدم تھا اور مفعول لہٗ مؤخر، دوسری مثال میں مفعول لہٗ مقدم ہے اور فعل قعود عن الحرب کیا ہے؟ مؤخر ہے۔
یعنی یوں کہیں: پہلی مثال میں ”ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا“، ضرب لگے گی تو کیا آئے گا؟ ادب آئے گا۔ معلوم ہوا ضرب سبب ہے اور ادب مسبب ہے۔ ضرب سبب ہے، ضرب سبب ہے کس کے لیے؟ تادیب کے لیے۔ کون سبب ہے؟ فعل کہ وہ مصدر؟ فعل سبب ہے، ٹھیک ہے؟ دوسری مثال میں معاملہ برعکس ہے: بزدلی سبب ہے جنگ سے بیٹھنے کا۔ بزدلی تھی تو اس اس وجہ سے وہ جنگ سے بیٹھ گئے۔ تو بزدلی، وہ مصدر سبب ہے کس کا؟ ماقبل کے فعل کا۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ اچھی طرح؟ کہ مفعول لہٗ کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جس میں فعل سبب ہوتا ہے مفعول لہٗ کا، اور دوسری جس میں مفعول لہٗ سبب ہوتا ہے کس کا؟ فعل کا۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے: ”وَقَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ جُبْنًا“، اور میں بیٹھا جنگ سے بزدلی کی وجہ سے، ”أَيْ لِلْجُبْنِ“۔ ”وَعِنْدَ الزَّجَّاجِ هُوَ مَصْدَرٌ“، اور امام زجاج رحمہ اللہ جو ہیں ان کے نزدیک یہ مفعول لہٗ جو ہے مصدر ہوتا ہے، ”تَقْدِيرُهُ: أَدَّبْتُهُ تَأْدِيبًا، وَجَبُنْتُ جُبْنًا“، اور اس کی تقدیر یوں ہوتی ہے: ”أَدَّبْتُهُ تَأْدِيبًا، وَجَبُنْتُ جُبْنًا“۔ امام زجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مفعول لہٗ کوئی چیز نہیں۔ مفعول لہٗ کوئی چیز نہیں، یہ وہی مفعول مطلق ہے۔ ہم نے تو کہا ”ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا“، یہ ”تَأْدِيبًا“ کیا ہے؟ مفعول لہٗ۔ وہ فرماتے ہیں نہیں، یہ مفعول مطلق ہے۔ کس طرح مفعول مطلق ہے؟ کہتے ہیں بھئی اسی کا فعل مقدر ہے یہاں پر۔ یوں ہے کلام: ”ضَرَبْتُهُ أَدَّبْتُهُ تَأْدِيبًا“، ”أَدَّبْتُهُ تَأْدِيبًا“، تو ”تَأْدِيبًا“ مصدر ہے اور ماقبل میں اسی کا فعل ہے ”أَدَّبْتُهُ“، اور وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول مطلق کہتے ہیں، تو ان کے نزدیک یہ مفعول مطلق ہے۔ اسی طرح وہ فرماتے ہیں ”قَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ جُبْنًا“، یہ ”جُبْنًا“ بھی کیا ہے؟ مفعول مطلق ہے اور اس سے پہلے ”جَبُنْتُ“ کا فعل محذوف ہے: ”قَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ“ میں جنگ سے بیٹھا ”جَبُنْتُ جُبْنًا“ میں بزدل ہوا، میں بزدل تھا، یا میں نے بزدلی دکھائی ”جَبُنْتُ جُبْنًا“۔ تو دیکھو ”جُبْنًا“، یہ ماقبل فعل ”جَبُنْتُ“ کے معنی میں ہے، اور جو مصدر ماقبل فعل کے معنی میں ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مفعول مطلق۔ تو ان کے نزدیک مفعول لہٗ نہیں ہے بلکہ یہ دونوں کیا ہیں؟ مفعول مطلق۔ گویا ان کے نزدیک مفعول لہٗ کوئی چیز ہی نہیں ہے بلکہ وہ دراصل کیا بناتے ہیں اس کو؟ مفعول مطلق۔ لیکن جمہور کہتے ہیں نہیں، یہ مفعول مطلق نہیں ہے، یہ مفعول لہٗ ہے۔ یہ تو آپ نے تاویل کر کے ایک فعل کو یہاں محذوف نکالا، یہاں تو کوئی ”أَدَّبْتُ“ نہیں تھا آپ نے ”أَدَّبْتُ“ خود نکالا، یہاں تو کوئی ”جَبُنْتُ“ نہیں تھا آپ نے ”جَبُنْتُ“ خود نکالا، یہ تو آپ نے خود تاویل کی۔ اگر اس طرح تاویل کی جائے پھر تو کئی چیزیں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی اور ان کا وجود ہی نہ رہے گا، جیسے یہاں آپ نے مفعول لہٗ کو بالکل ہی ختم ہی کر دیا کہ اس کا وجود ہی کوئی نہیں، وہ وہی مفعول مطلق ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ معنی ہے: ”وَعِنْدَ الزَّجَّاجِ هُوَ مَصْدَرٌ“، اور امام زجاج رحمہ اللہ کے نزدیک وہ مصدر ہے، جو مفعول لہٗ جو ہے وہ مصدر ہے، ”تَقْدِيرُهُ: أَدَّبْتُهُ تَأْدِيبًا“، اس کی تقدیر کیا ہے؟ ”أَدَّبْتُهُ تَأْدِيبًا“، یعنی تقدیرِ کلام یوں ہے: ”وَجَبُنْتُ جُبْنًا“، یعنی وہ اس کو مفعول مطلق بناتے ہیں بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔
اچھا! آج تو ہم نے ترکیب کی نہیں، بھول گئے۔ چلیے، جلدی جلدی کچھ جملوں کی ترکیب کر لیں بھئی۔ بھئی وہ منادیٰ کی ترکیب تو آ گئی تھی آپ کو: ”يَا“ حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے ہوتا تھا، اور آگے منادیٰ مفرد معرفہ کیا ہوتا؟ مبنی علی الضم، اور منصوب محلاً مفعول بہ ہوتا تھا۔ تو ”يَا مَالُ“ آپ سے کوئی کہے کہ ترکیب کرو، آپ کیا کہیں گے؟ ”يَا“ حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے، ”أَنَا“ ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اور ”مَالُ“ مبنی علی الضم منصوب محلاً، کیونکہ مبنی ہے نا، منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
ہاں، مفعول فیہ میں کچھ ترکیبیں آئیں وہ ہم کر لیتے ہیں بھئی۔ جی کون سا جملہ آیا؟ ”صُمْتُ دَهْرًا“، جی ترکیب کیجیے: ”صُمْتُ“ فعل بافاعل، فاعل بتائیے: ”تُ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، آگے: ”دَهْرًا“ منصوب لفظاً مفعول فیہ بھئی، یہ مفعول فیہ ہے زمانے کا نام ہے، تو فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ ”دَهْرًا“ یہ منصوب کیوں ہے؟ مفعول فیہ ہے اور اس پر نصب آتا ہے۔ ”وَسَافَرْتُ شَهْرًا“، اس کی ترکیب کیجیے: ”سَافَرْتُ“ فعل بافاعل، ”تُ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل۔ بھئی مرفوع محلاً کیوں کہہ رہے ہو؟ تا پر تو باقاعدہ پیش میں پڑھ رہا ہوں۔ یہ اس کی حرکت ہے، شاباش! یہ اعراب نہیں ہے، جی مرفوع محلاً اس کا فاعل، آگے: ”شَهْرًا“ منصوب لفظاً مفعول فیہ۔ منصوب کیوں؟ مفعول فیہ ہے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
”جَلَسْتُ خَلْفَكَ“، ”جَلَسْتُ“ فعل بافاعل، ”تُ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”خَلْفَ“ مضاف، اعراب بھئی، ہم اعراب حل کر رہے ہیں: ”خَلْفَ“ منصوب لفظاً مضاف۔ منصوب کیوں؟ کیونکہ یہ مفعول فیہ ہے اور کیونکہ جگہ کا نام ہے، اور لفظاً کیوں کہا؟ کیونکہ اس کے نصب پر ہم تلفظ کر رہے ہیں ”خَلْفَ“۔ اور مضاف آپ کو کیسے پتہ چلا مضاف ہے؟ ہاں، جس اسم کے ساتھ بھی ضمیرِ متصل آ جائے وہ مضاف مضاف الیہ بنتے ہیں، تو یہ مضاف۔ آگے: ”كَ“ ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول فیہ ہوا ”جَلَسْتُ“ فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول فیہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
آگے: ”جَلَسْتُ فِي الدَّارِ“، ”جَلَسْتُ“ فعل بافاعل، ”تُ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”فِي“ جارہ، آگے: ”اَلدَّارِ“ مجرور لفظاً۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر حرفِ جر داخل ہے، شاباش! جار مجرور مل کر... اوہو! جار مجرور... ہاں، شاباش! یہ آپ نے اچھا کیا۔ یاد رکھیے، ”فِي“ جب آ جائے تو پھر اس کو مفعول فیہ نہیں کہیں گے، مفعول فیہ تو منصوب ہوتا ہے۔ مفعول فیہ کیا ہوتا ہے؟ منصوب، اور وہاں ”فِي“ کا معنی مقدر ہوتا ہے، خود ”فِي“ نہیں آئے گا۔ اگر ”فِي“ خود آ جائے تو پھر وہ جار مجرور ہیں، جار مجرور ہے، اس کو مفعول فیہ نہیں کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا یہ ”فِي الدَّارِ“ اس کو مفعول فیہ نہیں کہنا، یہ معنی کے اعتبار سے بے شک مفعول فیہ ہے لیکن اصطلاح میں اب یہ مفعول فیہ نہیں، مفعول فیہ تو منصوب ہوتا ہے اور یہ کوئی منصوب ہے؟ نہیں۔ لہٰذا ”فِي“ جا... ”فِي الدَّارِ“ جار مجرور مل کر متعلق ہوں گے ہمیشہ، کیونکہ جار مجرور کے لیے ہمیشہ متعلق چاہیے، کتنی چیزوں سے متعلق ہوتے ہیں ذرا دہراؤ بھئی؟ آٹھ۔ نمبر ایک فعل، نمبر دو مصدر، نمبر تین اسمِ فاعل، نمبر چار اسمِ مفعول، نمبر پانچ صفتِ مشبہ، نمبر چھ اسمِ تفضیل، نمبر سات مبالغے کے صیغے، اور نمبر آٹھ اسمِ فعل۔ ان میں سے کوئی چیز ہے یہاں؟ ”جَلَسْتُ“ فعل ہے، ذرا جڑتا ہے یا نہیں؟ جوڑ کے دیکھو: ”جَلَسْتُ“ میں بیٹھا ”فِي الدَّارِ“ گھر میں، صحیح ہو رہا ہے ترجمہ؟ صحیح ہو رہا ہے ترجمہ، یہ اسی سے جڑے گا، تو جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”جَلَسْتُ“ فعل سے۔ آپ کیجیے، پوری کیجیے ترکیب: فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ طریقہ آ گیا بھئی؟
آگے چلیے بھئی: ”ضَرَبْتُهُ تَأْدِيبًا“، ”ضَرَبْتُ“ فعل بافاعل، ”تُ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، آگے: ”هُ“... ہاں شاباش! ”هُو“ نہ پڑھنا بھئی، عموماً طلبہ ”هُو“ پڑھتے ہیں اس کو ”ضَرَبْتُ هُو“، جیسی آواز ہے اسی طرح پڑھ دیتے ہیں، بلکہ کیا ہے یہ؟ ”هَا“ ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ۔ منصوب کیوں؟ مفعول ہے بھئی، اور محلاً کیوں کہا؟ کیونکہ ضمیر ہے، منصوب محلاً مفعول بہ۔ آگے: ”تَأْدِيبًا“ منصوب لفظاً مفعول لہٗ۔ بھئی منصوب کیوں؟ کیونکہ مفعول لہٗ ہے، اور مفعول لہٗ کیا ہوتا ہے؟ منصوب ہوتا ہے، تو منصوب لفظاً مفعول لہٗ۔ اب سمیٹیے بھئی: فعل اپنے فاعل... اوہو! یوں نہ کہو دونوں مفعول، فعل اپنے فاعل اور... ہاں آپ نے یوں کہا فعل اپنے فاعل اور دونوں مفعولوں سے مل کر، بھئی دونوں مفعولوں سے تو یوں لگتا ہے دونوں مفعول بہ ہیں، تو یوں نہ کہیں، دونوں الگ الگ قسمیں ہیں تو پورا پورا نام لیں: فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ اور مفعول لہٗ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اور یہاں اگر ”تَأْدِيبًا“ کے بجائے ”لِلتَّأْدِيبِ“ ہوتا، پھر کیسے ترکیب کرتے؟ ”ضَرَبْتُهُ لِلتَّأْدِيبِ“، لام جارہ... ہاں پھر اس میں مفعول لہٗ نہیں بننا تھا، جیسے اوپر تھا نا، اوپر والی مثال میں ”فِي الدَّارِ“، وہ مفعول فیہ نہیں بنا تھا کیونکہ ”فِي“ خود آ گیا تھا۔ تو یہاں بھی جب لام خود آ جائے گا تو پھر یہ مفعول لہٗ نہ رہے گا، کیونکہ مفعول لہٗ تو منصوب ہوتا ہے۔ تو لام جارہ، ”اَلتَّأْدِيبِ“ مجرور لفظاً، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”ضَرَبْتُ“ فعل سے۔ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
آگے: ”قَعَدْتُ عَنِ الْحَرْبِ جُبْنًا“، ”قَعَدْتُ“ فعل بافاعل، ”تُ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”عَنْ“ جارہ، ”اَلْحَرْبِ“ مجرور لفظاً، شاباش! جار مجرور مل کر متعلق ہوئے ”قَعَدْتُ“ سے: میں بیٹھا ”عَنِ الْحَرْبِ“ جنگ سے، جڑ رہا ہے؟ ہاں بھئی، معنی صحیح ہو رہا ہے، جڑ رہا ہے بھئی۔ آگے: ”جُبْنًا“ منصوب لفظاً مفعول لہٗ، منصوب کیوں ہے؟ کیونکہ مفعول لہٗ ہے۔ جی اب سمیٹیے: فعل اپنے فاعل... ہاں، فعل اپنے فاعل اور متعلق اور مفعول لہٗ، جس طرح بھی جوڑ لیں، سب کو جوڑنا ہے، سمجھ میں آئی بات؟ آگے پیچھے نام کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق اور مفعول لہٗ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔
”أَدَّبْتُهُ تَأْدِيبًا“، ذرا اس کی ترکیب کریں بھئی: ”أَدَّبْتُ“ فعل بافاعل، ”تُ“ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”هَا“ ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، شاباش! ”تَأْدِيبًا“ منصوب لفظاً مفعول لہٗ؟ مفعول مطلق! جو مصدر کہ ماقبل کا فعل بھی اسی کے معنی میں ہو اس کو مفعول لہٗ کہتے ہیں؟ ہاں، اس کو مفعول مطلق کہتے ہیں، تو ”تَأْدِيبًا“ منصوب لفظاً مفعول مطلق۔ کوئی آپ سے پوچھے یہ منصوب کیوں؟ آپ کیا کہیں گے؟ یہ مفعول مطلق، اس مثال میں امام زجاج کی تاویل کے مطابق آپ ترکیب کر رہے ہیں، تو یہ مفعول مطلق ہوا۔ فعل اپنے فاعل، مفعول بہ اور مفعول مطلق سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا۔ اسی طرح ہے ”جَبُنْتُ جُبْنًا“، یہاں بھی ”جُبْنًا“ مفعول مطلق ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔