Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-057

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 99
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”اَلرَّابِعُ الْمُنَادَى، وَهُوَ اسْمٌ مَدْعُوٌّ بِحَرْفِ النِّدَاءِ لَفْظًا، نَحْوُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ، أَيْ: أَدْعُو عَبْدَ اللّٰهِ، وَحَرْفُ النِّدَاءِ قَائِمٌ مَقَامَ أَدْعُو، وَحُرُوفُ النِّدَاءِ خَمْسَةٌ: يَا، وَأَيَا، وَهَيَا، وَأَيْ، وَالْهَمْزَةُ الْمَفْتُوحَةُ، وَقَدْ يُحْذَفُ حَرْفُ النِّدَاءِ لَفْظًا، نَحْوُ: يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هٰذَا“۔ اچھا بھئی! گزشتہ سے پیوستہ سبق کے اندر ہم نے مفعول بہ کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا، اور صاحبِ کتاب نے آپ کو بتلایا کہ مفعول بہ اس چیز کا نام ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہوتا ہے، جیسے ”ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“۔ یہ زید کی ضرب کس پر واقع ہوئی ہے؟ عمرو پر، تو یہ عمرو جو ہے مفعول بہ ہے بھئی۔ اور یہ مفعول بہ جو ہے اس کا فعل جو ہے اس کو حذف کیا جا سکتا ہے اور یہ حذف دو قسم پر ہے: بعض اوقات یہ حذف جائز ہوتا ہے اور بعض اوقات یہ فعل کا حذف واجب ہوتا ہے۔ فعل کا حذف جائز وہاں ہوتا ہے جہاں پر کوئی قرینہ موجود ہو، کوئی چیز ہو جو بتلا رہی ہو کہ یہاں پر یہ والا فعل حذف ہے، تو پھر فعل کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ویسے ہی اس کا پتہ چل جائے گا تو اس کو حذف بھی کیا جا سکتا ہے اور ذکر کرنا چاہیں تو ذکر بھی کر سکتے ہیں، دونوں جائز ہیں بھئی۔ اور بعض جگہیں وہ ہیں کہ جہاں پر فعل کو حذف کرنا واجب ہے، وہاں اگر آپ فعل کو حذف نہیں کرتے بلکہ ذکر کرتے ہیں تو یہ آپ کلامِ عرب کے اعتبار سے غلطی کر رہے ہیں بھئی۔ تو وہ جو جگہیں جہاں پر حذف کرنا واجب ہے وہ چار جگہیں ہیں۔ ان چار میں سے پہلی جگہ سماعی ہے، یعنی جو سماع پر، سننے پر موقوف ہے، عربوں سے ہم نے اسی طرح سنا ہے، اس کا ضابطہ کیا ہے؟ کس ضابطے کے تحت؟ تو ضابطہ کوئی نہیں۔ تو اس کی مثال انہوں نے ذکر کی تھی ”اِمْرَأً وَنَفْسَهُ“، اور اسی طرح ”وَانْتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ“، اور اسی طرح ”أَهْلًا وَسَهْلًا“۔ اور اس کے بعد باقی جو قسمیں تھیں تین، وہ قیاسی ہیں بھئی، قیاسی۔ یعنی ان جیسی جگہوں پر آپ کے لیے بھی اس فعل کو حذف کرنا واجب ہو گا بھئی۔ تو ان میں سے پہلی جگہ جو تھی وہ تحذیر تھی، تحذیر آپ نے پڑھا تھا وہ معمول ہوتا ہے ”اِتَّقِ“ کی تقدیر کے ساتھ، یعنی وہاں ”اِتَّقِ“ یا ”اِتَّقِ“ جیسا کوئی لفظ محذوف ہوتا ہے اور وہاں مابعد سے ڈرانا مقصد ہوتا ہے، جیسے ”إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ“۔ یہ ”إِيَّاكَ“ کیا ہے؟ یہ وہ معمول ہے جس کے فعل ”اِتَّقِ“ کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا۔ کس سے ڈرانا مقصد ہے؟ ”وَالْأَسَدَ“، یہ جو آگے اسد کا ذکر آ رہا ہے شیر، اس سے ڈرانا مقصد ہے بھئی۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ محذر منہ کو مکرر ذکر کیا جائے، یعنی وہ چیز جس سے ڈرایا جا رہا ہے اس کو دو دفعہ ذکر کیا جائے، جیسے ”اَلطَّرِيقَ“ مکرر۔ اور یہ جو دو دفعہ ذکر ہوتا ہے ان میں سے پہلا جو ہے یہ وہ مفعول بہ ہے جس کے فعل کو کیا کر لیا گیا؟ حذف، اور دوسرا اسی کے لیے تاکید ہے، اور مؤکد اور تاکید کا اعراب ایک جیسا ہوتا ہے۔ تو پہلے میں اگر آپ سے کوئی پوچھے یہ منصوب کیوں؟ تو آپ کہیں گے یہ مفعول بہ ہے۔ اور دوسرے میں اگر کوئی پوچھے یہ منصوب کیوں؟ تو آپ کیا کہیں گے؟ یہ تاکید ہے، اور مؤکد اور تاکید کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ تیسری قسم جس کے عامل کو حذف کرنا واجب ہے وہ ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“ ہے، وہ اسم ہے جس کے عامل کو مقدر کر لیا جائے تفسیر کی شرط پر، یعنی آگے اس کی تفسیر لائی جائے، اس فعل کو حذف کر کے آگے اس کی تفسیر لائی جائے بھئی۔ تو وہ تیسری قسم ہوئی، کیا نام ہوا؟ ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“۔ بھئی یہ کہتے کس کو ہیں؟ کہتے ہیں وہ ہر وہ ایسا اسم جس کے بعد آگے فعل آ رہا ہو یا شبہ فعل، اور وہ فعل یا شبہ فعل اسی اسم کی ضمیر میں یا اس کے متعلق کے اندر مشغول ہو، جب اس میں مشغول ہے تو اس اسم سے اعراض کر رہا ہے، اس سے منہ موڑ رہا ہے، اس میں عمل نہیں کر رہا، تو اس کے لیے پھر دوسرا فعل مقدر نکالنا پڑے گا۔ کبھی وہی فعل مقدر نکالنا پڑتا ہے اور کبھی اس کا مناسب۔ جیسے دو مثالیں میں نے ذکر کی تھیں وہ ذہن میں رکھیں تو پھر پوری بات آپ کو سمجھ میں آ جائے گی: پہلی مثال ”زَيْدًا ضَرَبْتُهُ“، یہ ”زَيْدًا“ یہ ہے ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“۔ دیکھو ”زَيْدًا“ ایک اسم ہے اور اس کے بعد ایک فعل ہے ”ضَرَبْتُهُ“، اور وہ ”ضَرَبْتُ“ اسی اسم یعنی زید کی ضمیر میں مشغول ہے، تو وہ فعل یا تو زید میں عمل کر سکتا ہے یا اس کی ضمیر میں عمل کر سکتا ہے، ایک وقت میں دونوں کے اندر تو عمل نہیں کر سکتا۔ تو لہٰذا اب یہ ”ضَرَبْتُهُ“ جو ہے جب یہ آگے ہا ضمیر ہے یہ کس کو لوٹ رہی ہے؟ زید کو۔ تو اب وہ تعریف اس پر لگائیں: ”زَيْدًا“ یہ ایک اسم ہے جس سے ماقبل فعل کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کیا گیا۔ کس شرط پر؟ کہ آگے اس کی کیا آ رہی ہے؟ تفسیر۔ کہتے کس کو ہیں؟ کہتے ہیں ”زَيْدًا“ مثلاً ایک اسم ہے، اس کے بعد کیا آ رہا ہے؟ فعل، اور وہ فعل اس زید میں عمل نہیں کر رہا، اس سے منہ موڑ رہا ہے۔ کیوں منہ موڑ رہا ہے؟ کیونکہ وہ اس کی ضمیر میں عمل کر رہا ہے، اس طور پر کہ اگر اسی فعل کو اس اسم پر مسلط کریں تو وہ اسے نصب دے سکے۔ یہاں ماقبل میں ”ضَرَبْتُ“ نکال لیں تو وہ اس کو نصب دے سکتا ہے اور معنی وہی رہتا ہے۔ ماقبل میں ہے ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، کیا معنی ہوا؟ میں نے زید کی پٹائی کی، اور مابعد میں تھا ”ضَرَبْتُهُ“، اس کا بھی کیا معنی تھا؟ میں نے زید کی پٹائی کی۔ تو دیکھو معنی وہی ہے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی، معلوم ہوا اسی فعل کو مسلط کر سکتے ہیں اور وہ اس کو نصب دے سکتا ہے۔ لیکن بعض جگہ اسی فعل کو مسلط نہیں کر سکتے تو پھر اس کے مناسب کوئی اور فعل مسلط کریں وہ اسے نصب دے سکے، جیسے دوسری مثال میں نے ذکر کی تھی: ”زَيْدًا ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“۔ یہ ”زَيْدًا“ ایک اسم ہے، یہ ہے ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“۔ یہ ”زَيْدًا“ ایک اسم ہے، اس کے بعد ”ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“، ”ضَرَبْتُ“ ایک فعل آ رہا ہے اور وہ فعل اس زید کی ضمیر میں مشغول ہے یا اس کے متعلق میں مشغول ہے؟ متعلق ”غُلَامَهُ“، زید کا غلام۔ زید کے غلام کا زید کے ساتھ تعلق ہے یا نہیں ہے؟ زید کا غلام ہے، تو یہ ”ضَرَبْتُ“ جو ہے زید کے بعد جو آ رہا ہے یہ زید کے متعلق یعنی اس کے غلام میں عمل کر رہا ہے اور اس وجہ سے یہ زید کو نصب نہیں دے سکتا جو ماقبل میں زید گزرا۔ اگر اسی فعل کو ماقبل میں مسلط کریں، مثلاً اسی ”ضَرَبْتُ“ کو مسلط کر کے دیکھیں، کیا کلام بن گیا؟ ”ضَرَبْتُ زَيْدًا ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“۔ مابعد میں کیا تھا ”ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“، اس کا کیا معنی تھا؟ پٹائی کس کی ہوئی ہے؟ زید کے غلام کی، اور ماقبل میں ہم نے ”ضَرَبْتُ“ نکالا ”ضَرَبْتُ زَيْدًا“، اس سے تو پتہ چل رہا ہے زید کی پٹائی ہوئی ہے، حالانکہ یہ تو مقصد ہی نہیں ہے، معلوم ہوا اسی فعل کو یہاں مسلط نہیں کر سکتے۔ پھر کیا کریں؟ اس کے مناسب کوئی اور فعل مسلط کریں، کوئی اور فعل یہاں نکال لیں گے اور وہ مثلاً یہاں پر کیا ہے؟ ”أَهَنْتُ“۔ کیونکہ جب زید کے غلام کی پٹائی کی تو معلوم ہوا زید کی اہانت کی، اس کی تذلیل کی، تو یہاں پر وہ کون سا فعل ہے؟ ”أَهَنْتُ“۔ میں نے اہانت کی زید کی، کیا اہانت کی؟ ”ضَرَبْتُ غُلَامَهُ“ میں نے اس کے غلام کی پٹائی کی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ مقامات چل رہے ہیں جہاں پر مفعول بہ کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔ تین جگہیں گزر گئیں: پہلی سماعی تھی، دوسری تحذیر ہے، تیسری ”مَا أُضْمِرَ عَامِلُهُ عَلَى شَرِيطَةِ التَّفْسِيرِ“ ہے، اب ہم چوتھی جگہ پڑھیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”اَلرَّابِعُ الْمُنَادَى“، چوتھی جگہ جو ہے وہ منادیٰ ہے۔ منادیٰ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ اسْمٌ مَدْعُوٌّ بِحَرْفِ النِّدَاءِ لَفْظًا“، وہ ایسا اسم ہے جس کو پکارا جائے حرفِ ندا کے ساتھ لفظاً، اور وہ حرفِ ندا کس حیثیت سے ہو؟ لفظوں کے اندر موجود ہو۔ جیسے مثلاً دیکھیے بھئی: ”نَحْوُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ“، ”يَا عَبْدَ اللّٰهِ“ یہ ہے مثال۔ تو اس میں عبد اللہ جو ہے یہ منادیٰ ہے، اس کو ندا دی گئی: اے عبد اللہ! اردو میں کیسے کہیں گے؟ اے عبد اللہ! تو دیکھیے عبد اللہ، تو یہ عبد کا لفظ منصوب ہے، مفعول بہ ہے بھئی یہ، اور اس سے پہلے فعل تھا ”أَدْعُو“، میں پکارتا ہوں، میں پکار رہا ہوں۔ اصل میں تھا ”أَدْعُو عَبْدَ اللّٰهِ“، میں کس کو آواز دے رہا ہوں؟ عبد اللہ کو۔ پھر ”أَدْعُو“ کو حذف کر لیا گیا اور اس کی جگہ کیا لے آئے؟ یا حرفِ ندا لے آئے، تو حرفِ ندا اس فعل کا قائم مقام ہے۔ اسی لیے انہوں نے کہا، کتاب میں دیکھیں انہوں نے کیا کہا: ”نَحْوُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ، أَيْ: أَدْعُو عَبْدَ اللّٰهِ“، یعنی میں آواز دے رہا ہوں عبد اللہ کو، میں پکار رہا ہوں عبد اللہ کو۔ اور اس ”أَدْعُو“ کو حذف کر لیا گیا اور یا حرفِ ندا کو اس کا قائم مقام کر دیا گیا۔ تو یہ جس پر حرفِ ندا داخل ہو اس کو منادیٰ کہتے ہیں۔ تو ”يَا عَبْدَ اللّٰهِ“ اس میں منادیٰ کون ہے؟ عبد اللہ۔ اور یہ عبد اللہ کو نصب کون دے رہا ہے؟ یہ یا نصب دے رہی ہے یا ”أَدْعُو“ فعل نصب دے رہا ہے؟ ”أَدْعُو“، اور اس ”أَدْعُو“ کو حذف کر لیا گیا اور اس کو حذف کرنا واجب ہے۔ آپ یہاں یوں نہیں کہہ سکتے ”أَدْعُو عَبْدَ اللّٰهِ“، ہاں کہہ سکتے ہیں لیکن پھر اس کو منادیٰ نہیں کہیں گے، ہم تو بات منادیٰ کی کر رہے ہیں۔ جب آپ اس کو منادیٰ بنائیں گے تو حرفِ ندا لانا پڑے گا، اور حرفِ ندا جب لائیں گے تو ”أَدْعُو“ کو کیا کرنا پڑے گا؟ حذف کرنا پڑے گا، واجب ہے۔ تو معلوم ہوا منادیٰ وہ مفعول بہ ہے جس کے فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔ ترکیب کیسے ہو گی؟ ”يَا عَبْدَ اللّٰهِ“ اس کی ترکیب کرو: یا حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے، اب ترکیب کرو: ”أَدْعُو“ فعل، انا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”عَبْدَ“ منصوب لفظاً مضاف، اور لفظِ اللہ مجرور لفظاً مضاف الیہ۔ اچھا ”عَبْدَ“ منصوب کیوں ہے؟ کیونکہ مفعول بہ ہے۔ لفظِ اللہ مجرور کیوں ہے؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا ”أَدْعُو“ فعل کے لیے، ”أَدْعُو“ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ خبریہ نہیں، انشا ہے۔ جملہ خبریہ تو اس کو کہتے ہیں جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، اور وہ آپ کو کوئی بات سنائے تو آپ اس کو کہہ سکتے ہیں یہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے، اور یہاں تو کوئی بات نہیں سنائی جا رہی یہاں تو کسی کو متوجہ کیا جا رہا ہے، مثلاً میں کسی کو آواز دیتا ہوں اے زید! مجھے کوئی نہیں کہہ سکتا یہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے، کیونکہ میں نے کوئی بات ہی نہیں کی میں نے تو صرف اس کو اپنی طرف کیا کیا ہے؟ متوجہ کر رہا ہوں، ندا دے رہا ہوں۔ تو لہٰذا اس کو اسی لیے ندا کس قبیل سے ہے؟ انشا۔ تو ”أَدْعُو عَبْدَ اللّٰهِ“ یہ کون سا جملہ ہوا؟ جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ دوبارہ تعریف سنیں بھئی: چوتھی قسم منادیٰ ہے، ”وَهُوَ اسْمٌ مَدْعُوٌّ بِحَرْفِ النِّدَاءِ لَفْظًا“، وہ ایسا اسم ہے جس کو پکارا جائے حرفِ ندا کے ساتھ لفظاً، لفظوں میں ہوتا ہے وہ یا حرفِ ندا۔ ”نَحْوُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ، أَيْ: أَدْعُو عَبْدَ اللّٰهِ، وَحَرْفُ النِّدَاءِ قَائِمٌ مَقَامَ أَدْعُو“، اور حرفِ ندا جو ہے وہ قائم مقام ہوتا ہے ”أَدْعُو“ فعل کے۔ ”وَحُرُوفُ النِّدَاءِ خَمْسَةٌ“، اور حروفِ ندا پانچ ہیں بھئی: ”يَا، وَأَيَا، وَهَيَا، وَأَيْ، وَالْهَمْزَةُ الْمَفْتُوحَةُ“۔ بھئی یہ پانچ حروفِ ندا ہیں، ان کے ساتھ ندا عرب دیتے ہیں: کبھی کہیں گے ”يَا عَبْدَ اللّٰهِ“ یا کے ساتھ، کبھی کہیں گے ”أَيَا عَبْدَ اللّٰهِ“ ایا کے ساتھ، کبھی ”هَيَا“ کہیں گے ”هَيَا عَبْدَ اللّٰهِ“، اور کبھی ”أَيْ“ کہیں گے پکارنے کے لیے ”أَيْ عَبْدَ اللّٰهِ“، اور کبھی صرف ہمزۂ مفتوحہ صرف ہمزہ لے آئیں گے جس پر زبر ہو گی ہمزۂ مفتوحہ ہو گا ”أَعَبْدَ اللّٰهِ“، تو یہ ہمزہ ندا کے لیے ہے۔ تو یہ پانچ ہیں بھئی۔ ان میں سے یاد رکھنا جن کے حروف تھوڑے وہ قریب کے لیے، جن کے حروف زیادہ وہ دور کے لیے، اور یا عام ہے قریب کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے دور کے لیے بھی۔ زید آپ سے دور ہے تو آپ آواز دیں گے: ”أَيَا زَيْدُ“ یا آپ آواز دیں گے ”هَيَا زَيْدُ“، یہ ایا اور حیا سے ہی پتہ چل گیا کہ زید آپ سے دور ہے۔ اگر قریب ہے تو کیسے کہیں گے؟ ”أَيْ زَيْدُ“ یا ”أَزَيْدُ“ جن میں حروف تھوڑے ہیں۔ اور یا، یا عام ہے قریب کے لیے بھی آپ کہہ سکتے ہیں ”يَا زَيْدُ“، دور ہو پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں ”يَا زَيْدُ“۔ اور ایک اور نکتہ یہاں یاد رکھیں: لفظِ اللہ کے ساتھ صرف یا حرفِ ندا استعمال ہوتا ہے باقی نہیں: ”يَا اَللّٰهُ“۔ اللہ کو پکارتے ہیں آپ تو صرف کیا کہیں گے؟ یا کہیں گے، یہاں پر ایا، حیا، ای اور ہمزہ کو استعمال کرنا درست نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَحُرُوفُ النِّدَاءِ خَمْسَةٌ: يَا، وَأَيَا، وَهَيَا، وَأَيْ، وَالْهَمْزَةُ الْمَفْتُوحَةُ“، یہ پانچ ہیں۔ ”وَقَدْ يُحْذَفُ حَرْفُ النِّدَاءِ لَفْظًا“، اور کبھی کبھار حذف کر لیا جاتا ہے حرفِ ندا کو لفظاً، لفظوں سے حذف کر لیا جاتا ہے البتہ ارادے میں ہوتا ہے، مراد وہ ہوتا ہے جیسے قرآن میں بھی آیا ہے: ”نَحْوُ: يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هٰذَا“، ”أَيْ: يَا يُوسُفُ“۔ یوسف سے پہلے کیا لفظ محذوف ہے؟ یا۔ اور یہ بھی یاد رکھنا، حذف صرف یا کو کیا جاتا ہے اور کسی کو حذف نہیں کیا جاتا۔ جب کہہ دیا جائے حرفِ ندا محذوف ہے تو سمجھ جائیں یا محذوف ہے، کیونکہ ایا، حیا، ای اور ہمزہ کو حذف نہیں کیا جاتا۔ تو ”يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هٰذَا“، اے یوسف علیہ السلام! اس سے اعراض کرو، اس سے منہ موڑ لو یعنی اس کو چھوڑ دو۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہاں پر حرفِ ندا محذوف ہے اور لفظِ یوسف منادیٰ ہے۔ ”وَاعْلَمْ أَنَّ الْمُنَادَى عَلَى أَقْسَامٍ“، اور جان لے تو کہ منادیٰ جو ہے کئی قسم پر ہے، ”فَإِنْ كَانَ مُفْرَدًا مَعْرِفَةً يُبْنَى عَلَى عَلَامَةِ الرَّفْعِ“، تو وہ مبنی ہو گا علامتِ رفع پر۔ اگر منادیٰ کیا ہو؟ مفرد ہو اور معرفہ ہو، تو وہ مبنی ہو گا کس پر؟ علامتِ رفع پر، ”كَالضَّمَّةِ وَنَحْوِهَا“ جیسے کہ ضمہ ہے اور ضمہ جیسے اور حروف ہیں جو علامتِ رفع ہیں۔ بھئی علامتِ رفع کیا کیا ہیں؟ رفع کی صورتیں کتنی ہیں؟ کبھی رفع کس کی صورت میں آتا ہے؟ ضمہ کی صورت میں، ”جَاءَنِي زَيْدٌ“ دیکھو یہ زید کا رفع بتلا رہا ہے کہ یہ فاعل ہے، تو رفع کی ایک صورت کیا ہے؟ ضمہ۔ کبھی یہ رفع کس کی صورت میں ہوتا ہے؟ واؤ کی صورت میں، ”جَاءَنِي مُسْلِمُونَ“ دیکھو یہ واؤ بتلا رہا ہے کہ مسلمون جاء کے لیے فاعل ہے۔ اور کبھی کبھار یہ رفع کی علامت کیا ہوتی ہے؟ الف ہوتی ہے، ”جَاءَنِي رَجُلَانِ“ آئے میرے پاس کوئی دو آدمی بھئی۔ تو علامتِ رفع ضمہ کی صورت بھی ہو سکتا ہے اور واؤ بھی ہو سکتا ہے اور الف بھی۔ تو بہرحال جو بھی علامت ہو گی اس پر وہ مبنی ہو گا۔ منادیٰ مفرد معرفہ اس پر مبنی ہو گا۔ جیسے ”يَا زَيْدُ“، تو دیکھو یہ ”يَا زَيْدُ“ میں زید کیا ہے؟ مبنی ہے، کس پر؟ علامتِ رفع کیا ہے یہاں؟ ضمہ، یہ مبنی علی الضم ہے۔ اور ”يَا رَجُلُ“ یہ بھی کیا ہے؟ مبنی علی الضم۔ ”يَا زَيْدَانِ“ یہ کیا ہے؟ مبنی علی الالف ہے۔ اور ”يَا زَيْدُونَ“ یہ کیا ہے؟ مبنی علی الواؤ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو معلوم ہوا منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی ہو گا کس پر؟ علامتِ رفع پر، یعنی مبنی ہو گا کہنا یہ چاہتے ہیں۔ منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو وہ کیا ہو گا؟ مبنی ہو گا، اور علامتِ رفع پر مبنی ہو گا۔ ضابطہ آپ کو بتا دیا: کون سا منادیٰ؟ مفرد معرفہ۔ کیا معنی مفرد اور کیا معنی معرفہ؟ پہلے اس کو سمجھ لیں۔ یاد رکھو علمِ نحو کی کتابوں میں جب مفرد کا لفظ آئے تو وہ چار چیزوں کے مقابلے میں آ سکتا ہے: کبھی ایک کے مقابلے میں آئے گا، کبھی دوسری کے، کبھی تیسری کے، کبھی چوتھی کے، وہ آپ نے موقع محل کے مطابق پہچاننا ہے کہ یہاں مفرد سے کون سا مفرد مراد ہے۔ کبھی کبھار یاد رکھو مفرد مرکب کے مقابلے میں آتا ہے، جب کہہ دیا جائے یہ مفرد ہے آپ سمجھ جائیں معلوم ہوا مرکب نہیں ہے۔ جیسے کلمہ کی تعریف پڑھی تھی آپ نے: ”اَلْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“، دیکھا؟ یہاں یہ مفرد آیا تھا یہ کس کے مقابلے میں ہے؟ مرکب۔ وہ معنی مرکب نہ ہو بلکہ کیا ہو؟ مفرد ہو۔ اور اگر معنی کی صفت بنائیں تو معلوم ہوا وہ معنی مفرد ہو یعنی مرکب نہ ہو۔ تو کبھی کبھار مفرد آتا ہے کس کے مقابلے میں؟ مرکب کے مقابلے میں۔ اسی طرح کبھی مفرد تثنیہ اور جمع کے مقابلے میں آتا ہے، جب آپ کو کہہ دیا جائے یہ مفرد ہے آپ سمجھ جاتے ہیں معلوم ہوا یہ تثنیہ اور جمع نہیں ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں ”هُوَ“ مفرد کی ضمیر ہے، آپ سمجھ گئے معلوم ہوا یہ تثنیہ اور جمع نہیں ہے۔ اور کبھی کبھار مفرد آتا ہے جملے کے مقابلے میں، جب کہہ دیا جائے یہ مفرد ہے معلوم ہوا کہ یہ جملہ نہیں ہے۔ اور کبھی کبھار مفرد جو ہے وہ مضاف اور مشابہ مضاف کے مقابلے میں آتا ہے، جب کہہ دیا جائے یہ مفرد ہے معلوم ہوا یہ مضاف بھی نہیں اور مشابہ مضاف بھی نہیں۔ دیکھیے آگے ایک دو سطریں چھوڑ کر ایک مثال آ رہی ہے: ”وَيُنْصَبُ إِنْ كَانَ مُضَافًا، نَحْوُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ، أَوْ مُشَابِهًا لِلْمُضَافِ، نَحْوُ: يَا طَالِعًا جَبَلًا“۔ اب دیکھیے ”يَا عَبْدَ اللّٰهِ“، یا حرفِ ندا ہے اور عبد اللہ منادیٰ ہے، لیکن آپ اس میں دیکھ رہے ہیں عبد اللہ، عبد مضاف لفظِ اللہ مضاف الیہ، تو اصل میں منادیٰ کون ہے؟ عبد ہے پہلا لفظ اور یہ مضاف ہو رہا ہے، تو منادیٰ کس قسم کا ہے؟ مضاف۔ اور آگے آ رہا ہے مشابہ للمضاف جیسے ”يَا طَالِعًا جَبَلًا“، اے پہاڑ پر چڑھنے والے! یہ ہے مشابہ مضاف۔ عبد اللہ میں عبد کا لفظ کیا تھا؟ مضاف، اور آگے ”يَا طَالِعًا جَبَلًا“ اس میں منادیٰ کون ہے؟ طالع، یہ مشابہ مضاف ہے۔ مضاف کا معنی پورا نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ مضاف الیہ نہ ملائیں۔ جیسے ”غُلَامُ زَيْدٍ“، جب تک اس غلام کے ساتھ زید کا لفظ نہیں ملے گا بات پوری نہیں ہو گی۔ اسی طرح یاد رکھو ایک مشابہ مضاف ہوتا ہے، مشابہ مضاف اس میں وہ مضاف مضاف الیہ تو نہیں ہوتے آپس میں لیکن پہلا لفظ دوسرے لفظ کا محتاج ہوتا ہے اپنا معنی پورا ادا کرنے میں، جیسے ”يَا طَالِعًا جَبَلًا“، طالع کا معنی چڑھنے والا، کس پر چڑھنے والا؟ جبل، پہاڑ پر۔ جب تک یہ جبلاً کا لفظ ساتھ نہیں ملائیں گے معنی پورا نہیں ہو گا۔ تو یہ بھی کس کی طرح ہوئے؟ مضاف مضاف الیہ جیسے ہی ہوئے، تو اس کو کہتے ہیں مشابہ مضاف۔ تو لہٰذا منادیٰ کی بحث میں جب مفرد کا لفظ آ جائے تو کس کو نکالنا مقصد ہوتا ہے؟ مضاف اور مشابہ مضاف کو۔ تو کہتے ہیں منادیٰ کئی قسم پر ہے: ”فَإِنْ كَانَ مُفْرَدًا“، اگر منادیٰ کیا ہو؟ مفرد ہو، یعنی مضاف بھی نہ ہو اور مشابہ مضاف بھی نہ ہو۔ ”مَعْرِفَةً“، اور مفرد بھی ہو معرفہ بھی ہو، یعنی نکرہ نہ ہو۔ بھئی یاد رکھو ایک قیمتی بات: آپ نے پڑھا ہے نکرہ پر جب الف لام داخل ہو جائے تو وہ اس کو معرفہ بنا دیتا ہے، جیسے رجل کا معنی کوئی آدمی لیکن اس پر الف لام لے آئیں ”اَلرَّجُلُ“ تو یہ اب کیا بن گیا؟ معرفہ۔ معلوم ہوا یہ الف لام آلۂ تعریف ہیں۔ اسی طرح یاد رکھنا یہ جو حرفِ ندا ہے یہ بھی آلۂ تعریف ہے، جس اسم پر داخل ہوتا ہے اس کو معرفہ بنا دیتا ہے۔ جیسے رجل، رجل کا معنی کوئی آدمی، لیکن جب اس پر یا حرفِ ندا داخل ہوا ”يَا رَجُلُ“، اے آدمی! اب مجھے بتائیے جب آپ اس طرح آواز دیں گے تو کسی متعین آدمی کو آواز دی یا کی وجہ سے یہ کیا بن گیا؟ معرفہ بن گیا ہے۔ تو انہوں نے کہا منادیٰ اگر مفرد معرفہ ہو تو مبنی ہو گا علامتِ رفع پر۔ مفرد کا معنی تو سمجھ میں آ گیا کہ مضاف یا مشابہ مضاف نہ ہو، اور نیز معرفہ ہو تو یاد رکھیے معرفہ سے یہاں مراد عام ہے، چاہے قبل الندا وہ معرفہ ہو چاہے بعد الندا وہ معرفہ بن جائے۔ مثلاً ”يَا زَيْدُ“، زید کسی کا نام ہے، علم ہے اور علم کیا ہے؟ معرفہ، تو زید کا لفظ ندا سے پہلے ہی معرفہ تھا۔ اور دوسری مثال رجل، رجل کا لفظ معرفہ ہے یا نکرہ؟ نکرہ، میں کہتا ہوں ”يَا رَجُلُ“ اب کیا بن گیا؟ معرفہ۔ تو معرفہ سے یہاں مراد عام ہے کہ معرفہ ہونا چاہیے، جب وہ منادیٰ ہو تو معرفہ ہونا چاہیے۔ منادیٰ ہو تو معرفہ ہونا چاہیے۔ جیسے ”يَا زَيْدُ“، بے شک پہلے سے معرفہ ہے کوئی حرج نہیں۔ ندا کے بعد بھی کیا ہے؟ معرفہ۔ ہم نے بھی معرفہ کی بات کی۔ ”يَا رَجُلُ“، بے شک ندا سے پہلے نکرہ تھا لیکن اس وقت تو کیا ہے؟ معرفہ۔ تو منادیٰ کیا ہو؟ مفرد ہو اور معرفہ۔ معرفہ چاہے قبل الندا ہو چاہے بعد الندا، دونوں کو شامل ہے۔ جب منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو ”يُبْنَى عَلَى عَلَامَةِ الرَّفْعِ“، تو وہ مبنی ہو گا کس پر؟ علامتِ رفع پر۔ علامتِ رفع کیا ہیں؟ کہتے ہیں: ”كَالضَّمَّةِ وَنَحْوِهَا“، جیسے ضمہ ہے اور اس جیسے اور حروف، بین السطور دیا بھی ہوا ہے: ”كَالْأَلِفِ وَالْوَاوِ“، جیسے الف اور واؤ۔ ”نَحْوُ: يَا زَيْدُ“، مثال کے طور پر ”يَا زَيْدُ“۔ اب مجھے بتائیے، یہ زید کیا ہے؟ مفرد بھی ہے اور معرفہ بھی ہے، اور جب منادیٰ یا بھی حرفِ ندا بھی داخل ہو گیا تو یہ منادیٰ ہوا، اور منادیٰ کس قسم کا ہے؟ مفرد ہے، معرفہ ہے، تو یہ کیا ہو گا؟ مبنی ہو گا کس پر؟ علامتِ رفع پر۔ اور علامتِ رفع زید پر رفع کس طرح آتا ہے؟ ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، دیکھو ضمہ کی صورت میں آتا ہے، تو اسی پر مبنی ہو جائے گا۔ یا زید، بھئی پتہ کیسے چلا یہ مبنی ہے؟ اس کو معرب کیوں نہیں کہتے کہ یہ مرفوع ہے؟ مرفوع نہیں کہہ رہے بلکہ کیا کہہ رہے ہیں؟ مبنی علی الضم کہہ رہے ہیں۔ تو مرفوع کیوں نہیں کہتے؟ مرفوع کہو گے تو کہیں گے یہ معرب ہے۔ معرب جس پر رفع، نصب، جر وغیرہ ظاہر ہوتے ہیں، اور ایک ہے مبنی، مبنی کی حالت اسی طرح رہتی ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آتی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے: ”يَا زَيْدُ“، اس زید اس پر ہم کیا پڑھ رہے ہیں؟ ضمہ، تو آپ اس کو مبنی کیوں کہہ رہے ہیں؟ آپ اس کو مرفوع کہہ دیں۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ جواب میں پہلے بھی ایک ذکر کر چکا ہوں اس طرح کا، کیا جواب؟ کہ بھئی اگر یہ معرب ہوتا تو اس پر تنوین آتی: ”يَا زَيْدٌ“۔ تنوین نہیں آ رہی، معلوم ہوا یہ مبنی ہے۔ جیسے بھئی وہ ایک دو صفحے پیچھے مثال آئی تھی: ”لَا رَجُلَ قَائِمٌ“۔ یہاں میں نے بتلایا تھا کہ یہ رجل جو ہے مبنی علی الفتح ہے، تو میں نے اشکال بھی ذکر کیا تھا کہ اس کو مبنی کیوں کہتے ہو؟ اوپر ”أَفْضَلَ مِنْكَ“ کا آیا تھا اس کو معرب ہی کہتے ہو اور وہاں کہتے ہو منصوب لفظاً، اور یہاں ”لَا رَجُلَ“ کے اندر کہتے ہو مبنی علی الفتح۔ تو وجہ کیا؟ میں نے بتلایا تھا کہ وہ تو غیر منصرف ہے اس لیے وہاں پر تنوین نہیں آئی، یہ رجل یہ تو غیر منصرف نہیں ہے، اگر یہ معرب ہوتا تو اس پر کیا آنی چاہیے تھی؟ تنوین۔ اسی طرح زید، اس پر بھی تنوین آنی چاہیے تھی اگر یہ معرب ہوتا۔ تنوین تو صرف کس پر نہیں آتی؟ معرب ہو اور تنوین نہ آئے یہ صرف کس میں ہوتا ہے؟ غیر منصرف میں، اور یہ تو غیر منصرف نہیں ہے بھئی۔ اس میں تو دو سبب نہیں ہیں علاماتِ منع صرف کے، تو اس پر تو تنوین آنی چاہیے تھی، تنوین نہیں آ رہی معلوم ہوا یہ معرب ہے ہی نہیں اس وقت بلکہ کیا بن چکا ہے؟ مبنی، کیونکہ مبنی پر تنوین نہیں آتی۔ بات سمجھ میں آ گئی: ”يَا زَيْدُ“۔ اسی طرح دیکھیے ”يَا رَجُلُ“۔ پہلی مثال ہے کہ منادیٰ ندا سے پہلے ہی کیا تھا؟ معرفہ تھا، اور ”يَا رَجُلُ“ وہ منادیٰ ہے جو ندا سے پہلے معرفہ نہیں تھا بلکہ ندا کے بعد کیا بن گیا؟ معرفہ۔ اور یہ دونوں مبنی ہیں ضمہ پر، مبنی علی الضم ہیں۔ اور ”يَا زَيْدَانِ“ یہ کیا ہے؟ مبنی علی الالف ہے، اور ”يَا زَيْدُونَ“ مبنی علی الواؤ ہے، یعنی جو بھی علامتِ رفع ہو گی تو اسی پر مبنی ہو جائے گا۔ اب آپ سے کوئی ترکیب کہے کہ ترکیب کرو ”يَا زَيْدُ“، تو ترکیب یوں کریں گے بھئی: زید مبنی، زَید مبنی علی الضم ہے، اور مبنی کا اعراب کیسے بتاتے ہیں؟ محلاً بتاتے ہیں۔ اور یہ منادیٰ کیا ہوتا ہے؟ آپ کو ابھی اوپر شروع میں بتایا تھا، یہ مفعول بہ ہے دراصل، اور اس کے عامل کو حذف کرنا واجب ہے اور وہ کیا ہوتا ہے؟ ”أَدْعُو“، اور یہ حرفِ ندا اس کا قائم مقام ہوتا ہے۔ تو یہاں پر یوں کہیں گے: یا حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے، ”أَدْعُو“ فعل انا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”زَيْدُ“ مبنی علی الضم منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا، شاباش! اور ”يَا رَجُلُ“، اب اس کی ترکیب آپ کیجیے: یا حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے، ”أَدْعُو“ فعل انا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”رَجُلُ“ مبنی علی الضم منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ تو یہ مبنی ہیں اس لیے ان پر نصب نہیں آ رہا، کیونکہ مبنی پر اعراب آتا ہی نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور ”يَا زَيْدَانِ“ اس میں بھی اسی طرح ہو گا: یا حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے، ”أَدْعُو“ فعل انا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”زَيْدَانِ“ مبنی علی الالف منصوب محلاً۔ اب آپ پہ کوئی اشکال کر دے منصوب ہے تو ”زَيْدَيْنِ“ کیوں نہیں کہتے؟ کیونکہ تثنیہ کا نصب تو کس کے ساتھ آتا ہے؟ یا کے ساتھ، تو ”زَيْدَيْنِ“ کہنا چاہیے، آپ فوراً جواب میں کیا کہیں گے؟ یہ مبنی ہے بھئی، منادیٰ مفرد معرفہ ہو تو یہ مبنی ہے۔ دوسرا اشکال: یہ منادیٰ مفرد معرفہ کب ہے؟ یہ تو تثنیہ معرفہ ہے، آپ تو کہہ رہے ہیں منادیٰ مفرد معرفہ جو ہو گا وہ ہو گا مبنی علامتِ رفع پر، یہ تو مفرد ہے ہی نہیں یہ تو تثنیہ ہے۔ کیا جواب دیں گے؟ ہم نے جو مفرد ذکر کیا تھا ہم نے وہ تثنیہ اور جمع کے مقابلے میں نہیں ذکر کیا تھا، وہ مفرد کس کے مقابلے میں تھا؟ مضاف اور مشابہ مضاف کے، لہٰذا یہ بھی مفرد ہی ہے، یہ مضاف ہے؟ نہیں، مشابہ مضاف ہے؟ نہیں، تو یہ مفرد ہے بھئی۔ وہاں ہم نے مفرد کوئی تثنیہ اور جمع کے مقابلے میں ذکر ہی نہیں کیا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ مبنی علی الالف ہے، منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ۔ اسی طرح ”يَا زَيْدُونَ“ بھی ہے بھئی: یا حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے، ”أَدْعُو“ فعل انا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، ”زَيْدُونَ“ مبنی علی الواؤ منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ ”وَيُخْفَضُ بِلَامِ الِاسْتِغَاثَةِ“، اور مجرور مکسور ہوتا ہے یعنی کسرہ دیا جاتا ہے، خفض کسرے کو کہتے ہیں۔ خفض کسے کہتے ہیں؟ کسرے کو۔ ”وَيُخْفَضُ“، اور کسرہ دیا جاتا ہے یعنی مکسور ہوتا ہے منادیٰ ”بِلَامِ الِاسْتِغَاثَةِ“، لامِ استغاثہ کی وجہ سے۔ منادیٰ مکسور ہوتا ہے یعنی اس پر کسرہ آتا ہے لامِ استغاثہ کی وجہ سے، یعنی جر آتا ہے اس پر جر۔ تو کہتے ہیں منادیٰ مجرور ہوتا ہے لامِ استغاثہ کی وجہ سے۔ بھئی یہاں دو تین لفظ سمجھ لیں۔ استغاثہ، استغاثہ کہتے ہیں فریاد کرنا۔ استغاثہ کا کیا معنی؟ فریاد کرنا، اظہارِ غم کرنا بھئی، دکھ کا اظہار کرنا۔ مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے بکر، اور وہ اس وقت سخت غم کی حالت میں ہے، دکھ میں ہے، تکلیف میں ہے، اور آپ آواز دیتے ہیں اپنے دوسرے ساتھی زید کو کہ وہ آ کر اس کی تکلیف دور کرے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو آپ کا جو ساتھی ہے مثلاً بکر وہ ہے تکلیف میں، اور آپ جو ہیں اس کے لیے آپ فریاد کرنے والے ہیں تو آپ ہوئے مستغیث، فریاد کرنے والے۔ اور زید جس سے آپ نے فریاد کی وہ ہوا مستغاث، مستغاث اسم مفعول کا صیغہ ہے، مستغیث اسم فاعل کا۔ تو آپ ہیں آواز دینے والے، آپ کون ہوئے؟ مستغیث۔ اور کس کو آواز دی؟ زید کو، وہ کیا ہوا؟ مستغاث۔ اور جس کے لیے آواز دی یعنی جو بکر ہے وہ ہوا مستغاث لہ، جس کے لیے فریاد کی گئی۔ تو اب یاد رکھیے، جب کوئی تکلیف میں ہو اور اس کے لیے اس کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے کسی دوسرے کو ندا دی جائے تو اس کو استغاثہ کہتے ہیں۔ یہ بھی اسی ندا کی طرح ہے لیکن تھوڑا سا فرق ہے۔ بکر تکلیف میں تھا آپ نے زید کو آواز دی ہے، تو زید منادیٰ ہوا یا منادیٰ نہیں ہوا؟ منادیٰ ہوا، لیکن یہ عام قسم کی ندا ہے یا تھوڑا سا فرق ہے؟ تھوڑا فرق ہے کہ اس کی تکلیف دور کرنے کے لیے آپ اس کو آواز دے رہے ہیں، تو لہٰذا اس کو استغاثہ کہتے ہیں۔ اور اس میں تھوڑا فرق ہے، فرق یہ کہ اس صورت میں پھر لام بھی آ جاتا ہے، کیا آ جاتا ہے؟ لام۔ اور لام تو جارہ ہے، جر دیتا ہے، تو لہٰذا یہ لام جر دے گا اور منادیٰ مجرور ہو جائے گا۔ مثلاً میں کہوں گا، کس کو آواز دینی ہے؟ زید کو، اس پر میں لام جارہ داخل کروں گا اور کہوں گا: ”يَا لَزَيْدٍ“۔ دیکھو زید پر میں نے لام جارہ داخل کیا اور زید پر اب جر آ گیا، یہ معنی ہے ”وَيُخْفَضُ بِلَامِ الِاسْتِغَاثَةِ“، اور منادیٰ مجرور ہو گا، مکسور ہو گا لامِ استغاثہ کی وجہ سے، ”نَحْوُ: يَا لَزَيْدٍ“۔ سوال: بھئی لام جارہ کے نیچے تو کسرہ والی حرکت ہوتی ہے: ”غُلَامٌ لِزَيْدٍ“، ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“، ”هٰذَا الْكِتَابُ لِزَيْدٍ“، تو یہاں آپ نے لام پر فتحہ پڑھا۔ جواب یہ کہ یہاں دو قسم کے لام آئیں گے: ایک لام مستغاث لہ پر داخل کرتے ہیں اور ایک لام مستغاث پر داخل کرتے ہیں۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ مستغاث کون ہے؟ جس کو آواز دی ہے، تو اس پر جو لام لائیں اس پر بھی لام لاتے ہیں، اور مستغاث لہ جس کے لیے یعنی وہ جو بکر ہے جس کی وجہ سے آپ پکار رہے ہیں اس پر بھی لام داخل کرتے ہیں، تو دونوں لاموں میں فرق کرنے کے لیے وہ جو مستغاث لہ پر لام آتا ہے اس کے نیچے اسی طرح کسرہ رکھتے ہیں لیکن مستغاث پر جو لام آتا ہے اس پر فتحہ والی حرکت پڑھتے ہیں۔ نصب نہیں، نصب تو اعراب ہے۔ رفع، نصب، جر یہ خاص ہے معرب کے ساتھ، اور ضم، فتح، کسر یہ خاص ہے مبنی کے ساتھ، اور ضمہ، فتحہ، کسرہ گول تا ساتھ جڑ جائے تو پھر یہ عام ہے یہ معرب کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور مبنی کے ساتھ بھی استعمال ہوتے ہیں۔ تو مستغاث پر جو لام آتا ہے اس پر فتحہ پڑھتے ہیں اور مستغاث لہ پر جو لام آتا ہے اس پر کسرہ پڑھتے ہیں فرق کرنے کے لیے دونوں میں۔ مثلاً میں کہتا ہوں، زید کو آواز دی میں نے، کس کے لیے آواز دی؟ بکر کے لیے، میں کہتا ہوں: ”يَا لَزَيْدٍ لِبَكْرٍ“۔ دیکھا؟ لام سے ہی آپ کو پتہ چل گیا کہ زید کون ہے؟ مستغاث ہے کیونکہ لام مفتوح ہے، اور بکر کون ہے؟ مستغاث لہ ہے کیونکہ اس کے لام کے نیچے کسرہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ لام جارہ یہ جر دے گا: ”يَا لَزَيْدٍ“۔ ”وَيُفْتَحُ بِإِلْحَاقِ أَلِفِهَا“، اور اس پر فتحہ بھی پڑھا جاتا ہے یعنی یہ منادیٰ مفتوح ہوتا ہے الفِ استغاثہ کے ساتھ ملانے کی وجہ سے۔ الحاق کا معنی ملانا۔ بھئی دیکھیے، بکر تکلیف میں ہے میں آواز دینا چاہتا ہوں زید کو، ایک صورت کیا تھی میں کیسے کہوں؟ ”يَا لَزَيْدٍ“۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ میں آخر میں الف بڑھا دوں اور الف کے ساتھ وقف کے لیے ہا بھی بڑھا دیتے ہیں، اور جب الف آخر میں بڑھایا تو پھر شروع میں لام نہیں بڑھانا، ”يَا لَزَيْدٍ“ تھا نا، اب لام نہیں بڑھانا کیونکہ لام چاہتا ہے میرے بعد زید کے آخر میں جر آئے اور آخر میں الف لے آؤ تو الف چاہتا ہے میرے سے قبل فتحہ آئے، تو دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا لام لاؤ گے تو الف نہیں لانا، الف لاؤ گے تو لام نہیں لانا۔ جب الف لے آئے تو الف کے ساتھ ہا بھی لے آتے ہیں گول ہا، اور یوں کہتے ہیں: ”يَا زَيْدَاهْ“۔ عمرو تکلیف میں ہے، آواز آپ کس کو دے رہے ہیں؟ زید کو، کیسے دیتے ہیں؟ ”يَا زَيْدَاهْ“۔ بھئی یہ الف کیوں بڑھاتے ہیں؟ یہ ہا کیوں بڑھاتے ہیں؟ بھئی وجہ یہ کہ تکلیف کا اظہار کرنا ہے، غم کا مصیبت کا اظہار کر رہے ہیں، فریاد کر رہے ہیں اس سے مدد طلب کر رہے ہیں، تو آواز لمبی ہونی چاہیے۔ آواز لمبی ہونی چاہیے تاکہ دکھ کا اظہار ہو جائے اچھی طرح، اور پھر اس کے لیے الف آخر میں بڑھاتے ہیں اور پھر ساتھ ہا بھی بڑھا دیتے ہیں تاکہ اور بھی آواز لمبی ہو جائے: ”يَا زَيْدَاهْ“۔ دیکھا؟ آواز اور بھی لمبی ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے ”وَيُفْتَحُ بِإِلْحَاقِ أَلِفِهَا“، اور منادیٰ مفتوح ہوتا ہے الفِ استغاثہ کے ساتھ ملانے کی وجہ سے، ”نَحْوُ: يَا زَيْدَاهْ“۔ ”وَيُنْصَبُ إِنْ كَانَ مُضَافًا“، بھئی یہ درمیان میں استغاثہ کی بات گزر گئی۔ اب شروع میں آپ کو بتایا تھا منادیٰ اگر مفرد معرفہ ہو تو وہ مبنی ہو گا علامتِ رفع پر، اگر وہ مفرد نہ ہو کیا معنی؟ مضاف ہو یا مشابہ مضاف ہو، پھر کیا حکم ہے؟ اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُنْصَبُ“، اور منادیٰ منصوب ہو گا ”إِنْ كَانَ مُضَافًا“ اگر وہ مضاف ہو، ”نَحْوُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ“، جیسے ”يَا عَبْدَ اللّٰهِ“۔ ترکیب کیجیے: یا حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے، انا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”عَبْدَ“ منصوب لفظاً مضاف، یہ مبنی نہیں ہے یہ منصوب ہے، وہ ”زَيْدُ“ اور ”رَجُلُ“ کیا تھا؟ مبنی۔ تو یہ منصوب لفظاً مضاف، لفظِ اللہ مجرور لفظاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مفعول بہ ہوا ”أَدْعُو“ فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ تو کہتے ہیں منادیٰ منصوب ہو گا ”إِنْ كَانَ مُضَافًا“ اگر وہ مضاف ہو جیسے ”يَا عَبْدَ اللّٰهِ“، ”أَوْ مُشَابِهًا لِلْمُضَافِ“ یا وہ مشابہ للمضاف ہو، مضاف کے مشابہ ہو تو بھی وہ کیا ہو گا؟ منصوب۔ مشابہ مضاف کسے کہتے ہیں میں نے بتایا تھا کہ مضاف جس طرح اپنا معنی ادا کرنے میں، اپنا معنی پورا کرنے میں مضاف الیہ کا محتاج، اسی طرح بعض اوقات دو اسم ہوتے ہیں وہ آپس میں مضاف مضاف الیہ تو نہیں ہوتے لیکن ایک اسم اپنا معنی پورا ہونے میں دوسرے اسم کا محتاج ہوتا ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مشابہ مضاف۔ جیسے طالع کا لفظ ہے یہاں پر: ”نَحْوُ: يَا طَالِعًا جَبَلًا“۔ ترکیب کیجیے: یا حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے، انا ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، اور ”طَالِعًا“ منصوب لفظاً صیغہ اسم فاعل، ہوا ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اور ”جَبَلًا“ یہ منصوب لفظاً یہ مفعول ہے طالع کے لیے۔ چڑھنے والا، کس پر چڑھنے والا؟ پہاڑ پر۔ تو وہ جو آدمی ہے چڑھنے والا وہ ہوا فاعل اور پہاڑ ہوا مفعول، تو یہ جبلاً منصوب ہے کس بنا پر؟ مفعول ہے طالع کے لیے اور اس کے بغیر طالع کا معنی پورا نہیں ہوتا۔ تو اسم فاعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر شبہ جملہ ہو کر مفعول بہ ہوا ”أَدْعُو“ فعل کے لیے، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ انہوں نے اوپر کہا تھا منادیٰ اگر مفرد معرفہ ہو تو مبنی ہو گا علامتِ رفع پر۔ مفرد اگر نہ ہو یعنی مضاف یا مشابہ مضاف ہو تو اس کا کیا حکم ہو گا؟ بتا دیا کہ منصوب ہو گا۔ اور اوپر انہوں نے کہا تھا اگر معرفہ ہو، بھئی اگر وہ معرفہ نہ ہو پھر؟ اب وہ بتانے لگے ہیں: کہتے ہیں ”أَوْ نَكِرَةً غَيْرَ مُعَيَّنَةٍ“، یا منادیٰ کیا ہو؟ ایسا نکرہ ہو جو متعین نہ ہو تو بھی وہ منصوب ہو گا، سب کا عطف اسی پر ہے نا: ”وَيُنْصَبُ إِنْ كَانَ مُضَافًا أَوْ مُشَابِهًا لِلْمُضَافِ أَوْ نَكِرَةً غَيْرَ مُعَيَّنَةٍ“۔ ان سب صورتوں میں کیا ہو گا؟ منصوب ہو گا۔ منادیٰ منصوب ہو گا اگر وہ مضاف ہو یا مشابہ مضاف ہو یا نکرہ غیر معینہ ہو۔ ”كَقَوْلِ الْأَعْمَى“، اعمیٰ کہتے ہیں اندھے کو، نابینا جو ہے، جیسے اندھے کا یہ قول: ”يَا رَجُلًا خُذْ بِيَدِي“، اے آدمی! میرا ہاتھ پکڑ لے۔ یہ جو ”يَا رَجُلًا“ ہے، یہ جو یا جس رجل پر داخل ہوا بھئی آپ کو میں نے بتایا کہ الف لام جب کسی لفظ پر داخل ہوتا ہے اس کو معرفہ بنا دیتا ہے، اسی طرح یہ حرفِ ندا بھی جب کسی لفظ پر داخل ہوتے ہیں تو اس کو معرفہ بنا دیتے ہیں۔ سوال یہ کہ یہ تو پھر معرفہ ہو گیا، ”يَا رَجُلُ“ کیا بن گیا؟ معرفہ، لیکن یہ کس کی مثال ذکر کر رہے ہیں؟ نکرہ غیر معینہ کی۔ یہ کیا وجہ؟ ابھی آپ نے ہمیں ضابطہ بتایا کہ یا آلۂ تعریف ہے، جیسے الف لام آلۂ تعریف ہے، تو یا کی وجہ سے بھی لفظ کیا بن جاتا ہے؟ معرفہ، تو رجل کو کیا ہونا چاہیے؟ معرفہ۔ جواب: یہاں نہیں بنے گا معرفہ۔ پہلی مثال میں ”يَا رَجُلُ“ معرفہ بن گیا تھا، یہاں رجل معرفہ نہیں بنے گا۔ بھئی کیوں نہیں بنے گا؟ بھئی دیکھیے دونوں میں فرق ہے: پہلی ندا آپ نے دی تھی، ایک ایسے آدمی نے آواز دی تھی جس کو دکھائی دیتا ہے، اس نے آواز دی اے آدمی! اس نے کسی متعین کو آواز دی یا ویسے ہی آواز دے دی؟ اس کے سامنے کوئی آدمی گزر رہا تھا اس نے اس کو آواز دی تو وہ متعین ہے، اور متعین پر جو چیز دلالت کرے اس کو معرفہ کہتے ہیں۔ معرفہ کہتے ہی کس کو ہیں جو متعین پر دلالت کرے، تو وہاں ”يَا رَجُلُ“ میں جو رجل ہے وہ متعین ہے، کوئی عام ہر آدمی نہیں ہے۔ لیکن یہاں اندھا کہہ رہا ہے، اندھے کو تو کچھ پتہ نہیں آنکھیں بند ہیں، بینائی بیچارے کی ہے نہیں دکھائی نہیں دے رہا، وہ ویسے ہی پکارتا ہے کوئی بھی آدمی ہو جائے میرا ہاتھ پکڑ لے، ”يَا رَجُلًا“، اے آدمی میرا ہاتھ پکڑ لے! اب ایک آدمی اس طرف جا رہا ہے ایک آدمی اس طرف جا رہا ہے، کسی متعین کو وہ آواز دے رہا ہے؟ نہیں، کوئی بھی ہو سکتا ہے کوئی بھی آدمی ہو۔ تو معلوم ہوا یہاں پر ”يَا رَجُلًا“ وہ کہتا ہے لیکن یا حرفِ ندا اس پر داخل ہوا رجل پر لیکن پھر بھی وہ معرفہ نہیں بلکہ کیا ہے؟ نکرہ کا نکرہ ہی ہے۔ اسی لیے کہا: ”أَوْ نَكِرَةً غَيْرَ مُعَيَّنَةٍ“، یا وہ کیا ہو؟ ایسا نکرہ ہو جو معین نہ ہو یعنی حرفِ ندا داخل ہونے کے باوجود متعین نہ ہو، وہ بھی منصوب ہو گا جیسے اندھے کا قول ”يَا رَجُلًا خُذْ بِيَدِي“۔ ترکیب کیجیے: یا حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے، ”رَجُلًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ، نکرہ غیر معینہ ہے یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے، تو منصوب لفظاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر ندا۔ یہ کیا ہے؟ ندا، آگے ہے جوابِ ندا۔ دیکھو آپ کسی کو پکارتے ہیں نا: اے زید! تمہارا کیا حال ہے؟ تو اے زید یہ ہے ندا، اور آگے جو بات کرتے ہیں اس کو کہتے ہیں جوابِ ندا۔ جو بھی بات آپ کر دیں وہ کیا ہے؟ جوابِ ندا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: اے زید! میرے لیے پانی لے آؤ، تو اے زید یہ کیا ہے؟ ندا، اور میرے لیے پانی لے آؤ یہ جوابِ ندا۔ اور بھی کوئی بات ہو جائے، مثلاً میں کہتا ہوں: اے بکر! کل میرے پاس خالد آیا تھا، تو اے بکر یہ کیا ہے؟ ندا، اور کل میرے پاس خالد آیا تھا یہ جوابِ ندا ہے۔ تو یاد رکھیے یہ جو جملہ انشائیہ ہوتا ہے نا یہ ندا ہوتا ہے، یعنی پہلا حصہ ”يَا زَيْدُ“، ”يَا عَبْدَ اللّٰهِ“، یہ ہے انشا۔ آپ نے پڑھا ہے کہ ندا بھی انشا کی قسموں میں سے ہے، یہ پہلے حصے کی بات چل رہی ہے ”يَا زَيْدُ“ اس کی، آگے جوابِ ندا وہ الگ ہے، وہ جملہ انشائیہ بھی ہو سکتا ہے اور جملہ خبریہ بھی ہو سکتا ہے، وہ موقع محل کے مطابق ہے۔ تو ہم یوں کریں گے: ”يَا رَجُلًا“ یہ ہے ندا، اور ”خُذْ بِيَدِي“ جوابِ ندا۔ ندا جوابِ ندا سے مل کر جملہ ندائیہ ہوا، بس۔ یہ نہیں کہنا خبریہ ہوا، انشائیہ ہوا، بس صرف یہ کہو جملہ ندائیہ ہوا۔ اب کیجیے ترکیب: یا حرفِ ندا قائم مقام ”أَدْعُو“ فعل کے، ”أَدْعُو“ فعل انا ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، ”رَجُلًا“ منصوب لفظاً مفعول بہ، فعل فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر ندا۔ اور ”خُذْ بِيَدِي“، میرا ہاتھ پکڑ لے، ”خُذْ“ فعلِ امر، انت ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر فاعل، ”بِيَدِي“: با جارہ، ”يَدِ“ مجرور لفظاً مضاف، یا ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور با جارہ کے لیے، جار اپنے مجرور سے مل کر متعلق ہوا ”خُذْ“ فعلِ امر کے ساتھ۔ فعل اپنے فاعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر جوابِ ندا، ندا اپنے جوابِ ندا سے مل کر جملہ ندائیہ ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ حل ہو گیا بھئی: ”وَيُخْفَضُ بِلَامِ الِاسْتِغَاثَةِ، نَحْوُ: يَا لَزَيْدٍ، وَيُفْتَحُ بِإِلْحَاقِ أَلِفِهَا“، منادیٰ مفتوح ہو گا الفِ استغاثہ کے الف کے ساتھ جوڑنے کی وجہ سے، پھر مفتوح ہو گا۔ چلیے بس بھئی: ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
104 approved lectures · 57 of 104