اَلثَّانِي التَّحْذِيرُ، وَهُوَ مَعْمُولٌ بِتَقْدِيرِ: اِتَّقِ، تَحْذِيرًا مِمَّا بَعْدَهُ، نَحْوُ: إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، أَصْلُهُ: اِتَّقِكَ وَالْأَسَدَ، أَوْ ذُكِرَ الْمُحَذَّرُ مِنْهُ مُكَرَّرًا، نَحْوُ: اَلطَّرِيقَ الطَّرِيقَ۔
گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ مفعولِ مطلق جو ہے اس کو کبھی کبھار حذف کر لیا جاتا ہے اور یہ حذف دو قسم پر ہے: کبھی یہ حذف جوازاً ہوتا ہے اور کبھی حذف وجوباً ہوتا ہے۔ جوازاً حذف وہاں ہو گا جہاں پر کوئی قرینہ موجود ہو اور وجوباً حذف جو ہے وہ بعض جگہ ہو گا اور وہ سماع پر موقوف ہے، وہ عربوں سے ہم نے اسی طرح سنا ہے، اس کا کوئی ضابطہ وغیرہ نہیں ہے، جیسے: شُكْرًا، حَمْدًا، رَعْيًا وغیرہ بھئی۔
اس کے بعد مفعول بہ کی بحث شروع ہوئی تھی اور آپ نے پڑھا کہ مفعول بہ وہ نام ہے اس چیز کا جس پر فاعل کا فعل واقع ہو، فاعل کا فعل واقع ہو۔ جیسے: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، تو یہ عَمْرًا کیا ہے؟ مفعول بہ۔ اور کبھی کبھار یہ مفعول بہ فاعل پر مقدم ہو جاتا ہے۔ اصل میں تو مفعول بہ فاعل کے بعد آنا چاہیے بھئی۔ پہلے فاعل، کیونکہ ہر فعل کے لیے کیا ضروری؟ فاعل ضرور چاہیے۔ مفعول بہ کو ذکر کریں یا نہ کریں، اس کو بعض اوقات حذف بھی کر لیتے ہیں لیکن فاعل کا ذکر ضروری ہوتا ہے اور مفعول بہ کا درجہ اس کے بعد ہے تو اس کو بعد میں ذکر کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار یہ مفعول بہ کیا ہے فاعل پر مقدم بھی ہو جاتا ہے اور یہ جائز ہے، اس سے معنی میں فرق نہیں آئے گا۔
تو کبھی کبھار اس کو فاعل پر مقدم بھی کر دیتے ہیں اور کبھی کبھار اس مفعول بہ کے فعل کو حذف بھی کر لیتے ہیں اور یہ حذف دو قسم پر ہے: کبھی یہ حذف جوازاً ہوتا ہے اور کبھی وجوباً۔ جوازاً حذف وہاں ہو گا جہاں کوئی قرینہ موجود ہو۔ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں: ضَرَبْتُ زَيْدًا، تو میں صرف زَيْدًا بھی کہہ سکتا ہوں، زَيْدًا بھی۔ ضَرَبْتُ، اصل میں تو کیا تھا؟ ضَرَبْتُ زَيْدًا، میں نے زید کی پٹائی کی۔ میں نے زید کی پٹائی کی۔ میں یہ آپ سے کہنا چاہتا ہوں: میں نے زید کی پٹائی کی۔ لیکن آپ کو پہلے سے ہی پتا ہے کہ فعل جو ہوا ہے وہ ضرب والا ہوا ہے لیکن آپ کو یہ نہیں پتا پٹائی ہوئی کس کی ہے؟ تو آپ نے مجھ سے پوچھا: مَنْ ضَرَبْتَ؟ آپ نے کس کی پٹائی کی؟ تو مجھے جواب میں کیا کہنا چاہیے؟ ضَرَبْتُ زَيْدًا۔ لیکن میں ضَرَبْتُ زَيْدًا نہیں کہتا، میں صرف کہتا ہوں: زَيْدًا، تو یہ بھی جائز ہے۔ کیونکہ ضرب کا ذکر تو سوال میں آپ کے آ گیا تھا، آپ نے پوچھا ہی کس کے بارے میں تھا؟ ضرب کے بارے میں کہ مَنْ ضَرَبْتَ؟ آپ نے کس کی پٹائی کی ہے؟ تو صرف کس کا علم نہیں تھا؟ مضروب کا پتا نہیں تھا اور فعل کا یعنی ضرب کا علم تھا تو میں نے ضرب کو حذف کر دیا اور جواب میں صرف کیا کہا؟ زَيْدًا۔ تو جب قرینہ موجود ہو، مفعول بہ کے فعل کو حذف کرنا جائز ہے۔
تو یہ جوازاً۔ اور بعض جگہ یہ جو حذف ہو گا یہ وجوباً ہو گا اور وجوباً آپ نے پڑھا چار جگہیں ہیں بھئی۔ ان چار میں سے پہلی جگہ سماعی ہے، وَالْبَوَاقِي قِيَاسِيَّةٌ، اور باقی جگہیں قیاسی ہیں۔ تو پہلی جگہ جو ہے وہ سماعی ہے اور وہ ہم نے پڑھ لی تھی جیسے اس کی کچھ مثالیں انہوں نے ذکر کر دیں: امْرَأً وَنَفْسَهُ، اور: وَانْتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ، اور: أَهْلًا وَسَهْلًا بھئی۔
اب جو باقی قیاسی ہیں آج ہم ان کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں بھئی: وَالْبَوَاقِي قِيَاسِيَّةٌ، اور باقی قیاسی ہیں بھئی۔ یعنی باقی تین جگہیں، چار میں سے ایک تو ہوئی سماعی اور تین کیا ہیں؟ قیاسی ہیں۔ اب وہ گنوانے لگے ہیں وہ تین قسمیں، تو کہتے ہیں: اَلثَّانِي التَّحْذِيرُ، دوسری قسم جو ہے وہ تحذیر ہے۔ کون سی جگہیں بیان ہو رہی ہیں؟ قیاسی۔ کون سی، کس چیز کی قیاسی جگہیں؟ جہاں مفعول بہ کے فعل کو حذف کر لیں۔ مفعول بہ کو باقی رکھتے ہیں اور اس کے فعل کو حذف کر لیتے ہیں اور یہ حذف کون سا ہے؟ وجوباً ہے یعنی حذف کرنا واجب ہے، اگر ذکر کرتے ہیں تو غلط کرتے ہیں آپ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اگر ذکر کرتے ہیں تو یہ عربی اعتبار سے آپ غلطی کرتے ہیں۔
تو ان وجوبی جگہوں میں سے دوسری جگہ تحذیر ہے۔ تحذیر ہے۔ تحذیر کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهُوَ مَعْمُولٌ بِتَقْدِيرِ اِتَّقِ، تحذیر جو ہے وہ اسم ہے جو معمول ہو اِتَّقِ کی تقدیر کے ساتھ۔ کس کی تقدیر کے ساتھ؟ اِتَّقِ کی تقدیر یعنی اِتَّقِ کا لفظ وہاں مقدر ہو اور کس لیے ہے؟ تَحْذِيرًا مِمَّا بَعْدَهُ، حَذَّرَ يُحَذِّرُ تَحْذِيرًا کا معنی ہوتا ہے ڈرانا۔ تَحْذِيرًا مِمَّا بَعْدَهُ، مابعد سے ڈرانے کے لیے، جو اس کے مابعد ہے اس سے ڈرانے کے لیے۔ نَحْوُ: إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، جیسے: إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ۔
بھئی تحذیر کا معنی ہوتا ہے ڈرانا کسی کو اور آپ اردو میں بھی اسی طرح کہتے ہیں۔ مثلاً آپ کا ساتھی کہیں کھڑا ہے اور اس کے قریب ہی پاؤں کے پاس آپ کو سانپ نظر آیا تو آپ فوراً اس کو متنبہ کریں گے، اس کو ڈرائیں گے، اس کو بچائیں گے، کس طرح؟ اس کو کیا کہیں گے؟ آپ اس کو یہ نہیں کہیں گے سانپ سے بچو سانپ سے بچو، بلکہ آپ اس کو کہیں گے: سانپ سانپ! تو جس چیز سے ڈرا رہے ہیں اس کو آپ ذکر کریں گے، پوری لمبی بات نہیں کریں گے کیونکہ اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ آپ پوری لمبی بات کریں۔ آپ لمبی بات کریں گے تو اتنی دیر میں تو سانپ اس کو کاٹ لے گا بھئی۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، عربی زبان میں بھی اسی طرح ہے کہ جب کسی کو کسی چیز سے ڈرانا ہو یا اس سے بچانا ہو تو وہاں پر فعل کو حذف کر لیتے ہیں۔ جیسے آپ نے فعل کو حذف کر لیا، آپ نے کیا کہا اس سے؟ سانپ سانپ کہا لیکن یہ نہیں کہا کہ تم سانپ سے بچو، تم سانپ سے بچو، دیکھا؟ وہ بچنے کے فعل کو کیا کر لیا؟ حذف کر لیا کیونکہ وقت ہی اتنا نہیں ہے، کیونکہ اگر آپ اس کو ذکر کریں گے اتنی دیر میں تو سانپ اسے کاٹ لے گا بھئی۔
تو یہاں پر بھی عربی زبان میں بھی اسی طرح اس کو حذف کر لیتے ہیں اور اسی لیے انہوں نے کہا کہ تحذیر: وَهُوَ مَعْمُولٌ، وہ اسم ہے جو معمول ہو، بِتَقْدِيرِ اِتَّقِ، کس تقدیر کے ساتھ؟ اِتَّقِ۔ یعنی وہاں اِتَّقِ کا لفظ مقدر ہو، اِتَّقِ یا اِتَّقِ جیسا کوئی لفظ کیا ہو؟ مقدر ہو۔ وہ معمول ہوتا ہے اِتَّقِ کی تقدیر کے ساتھ۔ کیوں؟ تَحْذِيرًا مِمَّا بَعْدَهُ، ڈرانے کے لیے مِمَّا اس چیز سے بَعْدَهُ جو اس کے بعد ہو۔
اچھا، بِتَقْدِيرِ اِتَّقِ تَحْذِيرًا مِمَّا بَعْدَهُ، اس کے مابعد سے ڈرانے کے لیے، نَحْوُ: إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، جیسے: إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ۔ إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، أَصْلُهُ: اِتَّقِكَ وَالْأَسَدَ، اصل کلام یوں ہے، اصل اس کی یوں ہے: اِتَّقِ، تو بچا، اِتَّقِ، تو بچا۔ آگے کاف ضمیر مفعول کی آ گئی اپنے آپ کو، اے مخاطب! اِتَّقِكَ، تو اپنے آپ کو بچا۔ کس سے؟ عَنِ الْأَسَدِ، وہ یہاں محذوف ہے بھئی۔ اِتَّقِكَ عَنِ الْأَسَدِ، تو اپنے آپ کو بچا شیر سے۔ اور آگے ہے: وَالْأَسَدَ، یہاں بھی اسی طرح ہے: وَاتَّقِ الْأَسَدَ عَنْ نَفْسِكَ، اور تو شیر کو بچا اپنے آپ سے۔ تو اپنے آپ کو شیر سے بچا اور شیر کو اپنے آپ سے بچا۔
یہ لفظی، کس طرح ہے اصل میں کلام؟ اِتَّقِكَ عَنِ الْأَسَدِ وَاتَّقِ الْأَسَدَ، یہ جو دوسرا أَسَدَ آ رہا ہے نا وَالْأَسَدَ، یہ اصل میں کیا ہے؟ وَاتَّقِ الْأَسَدَ عَنْ نَفْسِكَ، اور شیر کو بچا عَنْ نَفْسِكَ، کس سے؟ اپنے نفس، اپنے آپ سے۔ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں؟ إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، یہ صاحبِ ہدایۃ النحو نے مختصر کر دیا کلام کو۔ اصل پورا کلام کیا ہے؟ اِتَّقِكَ عَنِ الْأَسَدِ، تو بچا اپنے آپ کو عَنِ الْأَسَدِ کس سے؟ شیر سے۔ اور جو وَالْأَسَدَ آگے ہے وہ اس طرح ہے: وَاتَّقِ الْأَسَدَ، اور تو بچا شیر کو، عَنْ نَفْسِكَ، کس سے؟ اپنے نفس سے، اپنے آپ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، تو پہلے میں سے: اِتَّقِكَ عَنِ الْأَسَدِ، اس عَنِ الْأَسَدِ کو حذف کر لیا گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اگلے میں: وَاتَّقِ الْأَسَدَ عَنْ نَفْسِكَ، وہاں سے بھی جار مجرور کو حذف کر لیا، عَنْ نَفْسِكَ۔ پہلے میں سے بھی جار مجرور کو حذف کر لیا واؤ سے ماقبل بھی اور واؤ کے مابعد۔ واؤ سے ماقبل جار مجرور کیا تھا؟ عَنِ الْأَسَدِ، وہ حذف کر دیا جار مجرور۔ اور واؤ کے مابعد جار مجرور کیا تھا؟ عَنْ نَفْسِكَ، اس جار مجرور کو بھی کیا کر لیا؟ حذف کر لیا۔ کیا رہ گیا؟ اِتَّقِكَ وَاتَّقِ الْأَسَدَ۔ پھر، تو کیا رہ گیا؟ اِتَّقِكَ وَاتَّقِ الْأَسَدَ۔ اب پھر دونوں میں سے اِتَّقِ فعل کو بھی حذف کر لیا۔ کیا کر لیا؟ فعل کو بھی حذف کر لیا۔ تو کیا رہ گیا؟ کَ وَالْأَسَدَ، کیا رہ گیا؟ کَ وَالْأَسَدَ۔ لیکن کَ، یہ جو کَ رہ گیا یہ تو ضمیرِ متصل ہے، اکیلا تو اس طرح کَ استعمال ہوتا ہی نہیں، کبھی آپ نے سنا ہے عربوں سے اس طرح؟ ہاں، تو اس کی جگہ پھر ضمیرِ منفصل لے آئے کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کچھ ضمیریں متصل ہیں اور کچھ منفصل۔ اور یہ کون سی ضمیر تھی؟ یہ کیا بن رہی تھی ترکیب میں؟ اِتَّقِكَ، مفعول بن رہی تھی۔ اِتَّقِ فعل تھا، اَنْتَ ضمیر اس کے اندر فاعل اور کاف ضمیر مفعول، تو یہ مفعول کی ضمیر ہے اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ تو یہ ضمیرِ متصل منصوب تھی تو اس کی جگہ ضمیرِ منصوب منفصل لے آئیں گے، کیا لے آئیں گے؟ کاف کی جگہ کون سی ضمیر لے آئیں گے؟ ضمیرِ منفصل۔ یہ متصل ہے نا، اِتَّقِكَ، یہ کاف اِتَّقِ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اکیلی یہ آتی ہی نہیں اور یہ ہے کون سی؟ منصوب، اور مخاطب کی ضمیر ہے۔ تو مخاطب ہی کی ہم ضمیر لائیں گے اور وہ بھی منصوب ہو گی لیکن متصل نہیں ہو گی بلکہ منفصل۔ منفصل کیوں ہو گی؟ کیونکہ اِتَّقِ کو تو آپ نے حذف کر دیا، جب حذف کر دیا اب تو متصل نہیں آ سکتی، اب تو کون سی آئے گی؟ منفصل ہی آئے گی، تو وہ پھر إِيَّاكَ ہے، کیا ہے؟ إِيَّاكَ۔ تو کیا بن گیا؟ إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ۔ کلام سمجھ میں آیا سارا؟
إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، اصل میں پورا کلام کیا تھا؟ اب دہرائیں بھئی: اِتَّقِكَ عَنِ الْأَسَدِ وَاتَّقِ الْأَسَدَ عَنْ نَفْسِكَ۔ پھر ماقبل میں بھی جار مجرور تھا مابعد میں بھی جار مجرور تھا، دونوں کو حذف کیا۔ ماقبل میں کیا تھا؟ عَنِ الْأَسَدِ، مابعد میں کیا تھا؟ عَنْ نَفْسِكَ، یہ دونوں حذف ہوئے، کیا رہ گیا؟ اِتَّقِكَ وَاتَّقِ الْأَسَدَ۔ پھر دونوں سے اِتَّقِ کو بھی حذف کر دیا کیونکہ یہ تحذیر کا موقع ہے، کسی کو آپ ڈرا رہے ہیں، خطرہ بالکل اس کے سر پر ہے، اگر آپ لمبی بات کریں گے جب تک وہ مصیبت اس پر واقع ہو جائے گی، لہٰذا آپ فعل کو بھی حذف کر کے مختصراً کلام کرنا چاہتے ہیں تو اِتَّقِ کو حذف کر دیا۔ تو کہنا کیا چاہیے تھا؟ کَ وَالْأَسَدَ، لیکن کَ تو ضمیرِ متصل ہے وہ تو الگ آتی ہی نہیں ہے تو اسی کو کس سے بدل دیں گے؟ ضمیرِ منفصل سے، جو اکیلی رہ سکے، ہو منصوب ہی لیکن اکیلی رہ سکے۔ تو وہ کون سی ہے پھر؟ إِيَّاكَ، یہ بھی دیکھو وہی ضمیر ہے، وہ بھی مخاطب کی ضمیر تھی مفرد مذکر کی، یہ بھی مفرد مذکر کی ضمیر ہے، البتہ وہ متصل تھی اور یہ منفصل ہے، اور وہ بھی منصوب تھی یہ بھی منصوب ہے۔ تو إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو إِيَّاكَ، یہ کیا ہے؟ یہ وہ مفعول بہ ہے جس کے فعل اِتَّقِ کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا۔ کیوں حذف کیا گیا؟ جس کے فعل کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کر لیا گیا، کس لیے؟ تَحْذِيرًا مِمَّا بَعْدَهُ، جو اس کے بعد ہے اس سے بچانے کے لیے۔ اور إِيَّاكَ کے بعد آگے کیا آ رہا ہے؟ وَالْأَسَدَ، تو یہ اسد شیر کا ذکر آ رہا ہے تو اس کو کس سے بچانے کے لیے؟ شیر سے۔ تو إِيَّاكَ سے کون مراد ہے؟ مخاطب۔ تو یہ مخاطب ہے جس کو آپ کس سے بچانا چاہتے ہیں؟ شیر سے، جس کا ذکر اس کے بعد میں ہے یعنی وَالْأَسَدَ، جس کا ذکر إِيَّاكَ کے بعد میں آ رہا ہے۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
دوبارہ دیکھیں ترجمہ: کہتے ہیں: وَهُوَ مَعْمُولٌ بِتَقْدِيرِ اِتَّقِ، وہ اسم ہے جو معمول ہوتا ہے اِتَّقِ کی تقدیر کے ساتھ، یعنی وہاں اِتَّقِ کا لفظ مقدر ہوتا ہے۔ إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، یہاں کون سا فعل مقدر ہے؟ اِتَّقِ، یہی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں وہ جو ہے وہ اسم ہے جو معمول ہوتا ہے اِتَّقِ کی تقدیر کے ساتھ، کیوں؟ تَحْذِيرًا، ڈرانے کے لیے، مِمَّا، اس چیز سے، بَعْدَهُ، جو اس کے بعد آ رہی ہے۔ جیسے إِيَّاكَ کے بعد کس کا ذکر آ رہا ہے؟ شیر کا، اس شیر سے ڈرانے کے لیے۔ اور اس میں ہمیشہ إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ اسی طرح کہیں گے، یعنی: اِتَّقِكَ وَاتَّقِ الْأَسَدَ، یوں کبھی بھی آپ عرب سے نہیں سنیں گے۔ کسی عرب سے ہم نے آج تک نہیں سنا، معلوم ہوا اس اِتَّقِ کو حذف کرنا واجب ہے بھئی۔
نَحْوُ: إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، جیسے: إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، أَصْلُهُ: اِتَّقِكَ وَالْأَسَدَ، اصل میں تھا یہ اِتَّقِكَ وَالْأَسَدَ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ترکیب کیجیے: إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، جی، بلکہ پورے جملے کی کر لیں۔ اِتَّقِكَ عَنِ الْأَسَدِ وَاتَّقِ الْأَسَدَ عَنْ نَفْسِكَ، جی۔ آسان ہے ترکیب بھئی۔ اِتَّقِ، فعلِ امر ہے فعل بافاعل۔ تو اِتَّقِ فعل، اَنْتَ ضمیر، اعراب بھئی؟ مرفوع محلاً اس کا فاعل، کاف ضمیر منصوب محلاً ضمیر ہے، منصوب محلاً مفعول بہ، عَنْ جارّہ، اَلْأَسَدِ مجرور، مجرور کون سا؟ مجرور لفظاً۔ اچھا، جار مجرور مل کر متعلق ہوئے، کس سے؟ اِتَّقِ، فعل ہے یا نہیں؟ میں نے بتایا تھا جار مجرور کتنی چیزوں سے متعلق ہوتا ہے؟ آٹھ سے، اور وہ آٹھ چیزیں کون سی ہیں؟ نمبر ایک: فعل، نمبر دو: مصدر، نمبر تین: اسمِ فاعل، نمبر چار: اسمِ مفعول، اور صفتِ مشبہ، اور اسمِ تفضیل، اور اور مبالغے کے صیغے، اور اور اسمِ فعل۔ ان آٹھ میں سے کوئی چیز ہے یہاں پر؟ جی، اِتَّقِ فعل ہے، اور پھر آپ نے یہ بھی دیکھنا ہے یہ اس سے جڑتا ہے یا نہیں جڑتا؟ جڑتا ہے یا، اور اس کا طریقہ میں نے بتایا تھا کہ جس سے جوڑنا ہے اس کو پکڑیں اور جس کو جوڑنا ہے اس کو پکڑیں۔ کس سے جوڑنا ہے؟ اِتَّقِ سے، اور کس کو جوڑنا ہے؟ عَنِ الْأَسَدِ، اب ذرا جوڑو: اِتَّقِ عَنِ الْأَسَدِ، ترجمہ کرو ذرا: اِتَّقِ تو بچ عَنِ الْأَسَدِ شیر سے۔ ترجمہ صحیح ہو رہا ہے؟ معلوم ہوا یہ اس سے جڑ رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یاد رکھیں یہ جو با ہے نا، با حروفِ جارہ میں سے با، یہ تو تقریباً ہر فعل کے ساتھ جڑ جاتی ہے۔ باقی افعال میں آپ عموماً آپ اس طرح جوڑ کر ترجمہ کریں گے تو ترجمہ ٹھیک ہو جائے گا، جس سے جڑے گا اس کے ساتھ ترجمہ ٹھیک ہو جائے گا آپ سمجھ جائیں گے، ٹھیک ہے؟ ہاں، اور بعض اوقات ترجمہ اردو کے اعتبار سے ٹھیک نہیں ہو گا، وہ ایسا بھی بعض جگہ ہو گا لیکن بہرحال عربی میں اس کے ساتھ وہی استعمال ہوتا ہے۔ سمجھ میں آ گئی صورت؟
جیسے میں کہتا ہوں: اِشْتَرَيْتُ مِنْ زَيْدٍ، اِشْتَرَيْتُ میں نے خریدا، مِنْ زَيْدٍ کس سے؟ زید سے۔ جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا؟ جڑ رہا ہے، میں نے زید سے خریدا۔ تو اِشْتَرَيْتُ کے ساتھ مِنْ استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح بِعْتُ کے ساتھ بھی مِنْ استعمال ہوتا ہے بَاعَ يَبِيعُ کے ساتھ۔ بِعْتُ مِنْ زَيْدٍ، بِعْتُ میں نے بیچا، میں نے کوئی چیز بیچی مثلاً کتاب بیچی: بِعْتُ كِتَابًا مِنْ زَيْدٍ، کس کے کس کو بیچی؟ زید کو۔ تو تو بھی اسی طرح کہیں گے: بِعْتُ كِتَابًا میں نے کتاب بیچی مِنْ زَيْدٍ کس کو؟ زید کو۔ میں نے کتاب زید کو بیچی، لیکن اس کا جب بھی یاد رکھیں ترجمہ کریں مِنْ زَيْدٍ جس کے ہاتھ کوئی چیز بیچی جائے تو یوں ترجمہ کریں: بِعْتُ كِتَابًا میں نے کتاب بیچی مِنْ زَيْدٍ زید کو یوں نہ کہیں، زید کے ہاتھ، میں نے کتاب بیچی زید کے ہاتھ۔ سمجھ میں آ گئی صورت؟ کیونکہ بعض جگہ اگر آپ اس طرح کا ترجمہ کریں گے تو ترجمہ درست نہیں بنے گا، معنی خراب ہو جائے گا، یوں لگے گا یوں معلوم ہو گا جیسے آپ نے زید ہی کو بیچا ہے پکڑ کر۔ کس کو بیچا ہے؟ ہاں، وہ مثالیں آئیں گی آپ خود غور کریں گے آپ کو پتا لگ جائے گا۔ تو اگر اس کا ترجمہ کریں میں نے بیچا، اچھا ذرا کتاب کو نکال دو خود یہیں پر دیکھ لو: بِعْتُ كِتَابًا مِنْ زَيْدٍ، میں نے کتاب بیچی زید کو، پچھلا ترجمہ کریں میں نے کتاب بیچی زید کو، ذرا کتاب کو مفعول ہے نا مفعول کو تو حذف بھی کر لیتے ہیں، تو اب کرو: بِعْتُ مِنْ زَيْدٍ، میں نے بیچا زید کو، دیکھو یوں لگ رہا ہے جیسے زید کو ہی آپ نے پکڑ کر بیچ دیا ہے۔ لہٰذا یہ مِنْ جس پر داخل ہوتا ہے وہ آدمی ہوتا ہے جس کے ہاتھ آپ چیز فروخت کرتے ہیں، ٹھیک ہے؟ تو لہٰذا وہاں ترجمہ یوں کریں: بِعْتُ مِنْ زَيْدٍ، میں نے زید کے ہاتھ فروخت کی، زید کے ہاتھ بیچی۔
اب بات میں کر رہا تھا کہ جار مجرور کو جس سے جوڑنا ہو اس کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں، آپ دیکھیں ترجمے سے ہی پتا چل جائے گا۔ لیکن یہاں بعض اوقات ترجمہ صحیح نہیں بنے گا جیسے: بِعْتُ مِنْ زَيْدٍ، میں نے بیچا زید سے، دیکھو ترجمہ اردو میں صحیح نہیں بن رہا لیکن پھر بھی بَاعَ کا صلہ مِنْ ہی آتا ہے۔ اسی طرح عربی میں بولتے ہیں۔ تو آپ نے جب بھی دیکھنا ہے کہنے کا مقصد یہ ہے جار مجرور جب کلام میں آ جائیں آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ ضرور متعلق ہوں گے، ان آٹھ میں سے کوئی ایک موجود ہو یا دو تین موجود ہوں تو ہر ایک کے ساتھ باری باری جوڑ کر ترجمہ کریں، آپ دیکھیں جس کے ساتھ وہ جڑ رہا ہو گا اس کے ساتھ ترجمہ ٹھیک ہو جائے گا۔ اور اگر دو یا تین کے ساتھ ترجمہ ٹھیک ہوتا ہے پھر جس کے ساتھ آپ کو مناسب لگے اس کے ساتھ جوڑ دیں اور جن کے ساتھ نہیں جڑ رہا وہاں ترجمہ ٹھیک نہیں ہو گا عموماً۔ لیکن بعض اوقات جڑ رہا ہو گا اور اردو کے اعتبار سے ترجمہ صحیح نہیں لیکن جڑ اسی کے ساتھ رہا ہو گا جیسے بِعْتُ مِنْ زَيْدٍ۔ اردو کے اعتبار سے ترجمہ بنتا ہے: بِعْتُ مِنْ زَيْدٍ، میں نے زید سے بیچا، مِنْ کا معنی سے ہوتا ہے نا؟ بِعْتُ مِنْ زَيْدٍ میں نے زید سے بیچا۔ تو دیکھو اردو کے اعتبار سے ترجمہ صحیح نہیں تو آپ یہ نہ کہیں کہ یہ مِنْ زَيْدٍ بِعْتُ سے نہیں جڑ رہا، نہیں، یہ اسی بَاعَ کے ساتھ جڑ رہا ہے لیکن اردو میں پھر اس کا ترجمہ کیسے کریں گے؟ بِعْتُ مِنْ زَيْدٍ میں نے بیچا زید کے ہاتھ، یا یوں ترجمہ کر لیں: میں نے بیچا زید پر، میں نے بیچا اس کتاب کو زید پر، تو یوں بھی ترجمہ کر سکتے ہیں۔
اچھا جی، ہم ترکیب کر رہے تھے: اِتَّقِ عَنْ زَيْدٍ، تو بچ یا تو بچا اپنے آپ کو عَنْ زَيْدٍ، کس سے؟ اوہ، اِتَّقِ اِتَّقِكَ عَنِ الْأَسَدِ، تو بچا اپنے آپ کو کس سے؟ شیر سے۔ جڑ رہا ہے یا نہیں جڑ رہا؟ یہاں معنی صحیح ہو رہا ہے۔ تو اِتَّقِ فعل، اَنْتَ ضمیر تھا اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل، کاف ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، عَنِ الْأَسَدِ، عَنْ جارّہ، اَلْأَسَدِ مجرور لفظاً۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پر حرفِ جر داخل ہے۔ جار مجرور مل کر متعلق کس سے؟ اِتَّقِ فعل سے۔ اِتَّقِ فعل اپنے فاعل، مفعول اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ، کیونکہ امر ہے نا، اِتَّقِ تو بچ، امر ہے۔ جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر معطوف علیہ، کیونکہ آگے پھر ایک اور جملہ بھی آ رہا ہے، اس کا اس پر عطف ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ وَاتَّقِ الْأَسَدَ عَنْ نَفْسِكَ۔ اِتَّقِ پھر واؤ حرفِ عطف، اِتَّقِ فعل، اَنْتَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، اَلْأَسَدَ منصوب لفظاً، توجہ ہے؟ منصوب لفظاً مفعول بہ، عَنْ جارّہ، نَفْسِكَ مجرور، جی؟ نَفْسِكَ، نَفْسِ مجرور لفظاً مضاف، شاباش۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ اس پہ حرفِ جر داخل ہے۔ لفظاً کیوں؟ اس کے جر پر ہم تلفظ کر رہے ہیں، اور مضاف آپ کو کیسے پتا چلا مضاف ہے؟ ہاں شاباش، جس اسم کے ساتھ ضمیرِ متصل ہے تو وہ کیا بنتے ہیں؟ مضاف مضاف الیہ۔ تو نَفْسِ مجرور لفظاً مضاف، کاف ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ۔ مجرور کیوں؟ کیونکہ مضاف الیہ ہے۔ محلاً کیوں؟ کیونکہ ضمیر ہے۔ تو مضاف اپنے مضاف الیہ سے مل کر مجرور ہوا عَنْ جارہ کے لیے۔ جار مجرور مل کر متعلق اِتَّقِ فعل کے ساتھ متعلق ہوئے۔ اِتَّقِ فعل اپنے فاعل اور مفعول اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو کر معطوف۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دو جملے ہیں بھئی اصل میں۔
اور یہ جو پہلا جملہ ہے نا چلیے آپ کو یہ بھی بتا دوں، اِتَّقِكَ، اِتَّقِكَ، تو یہ اِتَّقِكَ بھی دراصل اِتَّقِ نَفْسَكَ ہے۔ اِتَّقِ نَفْسَكَ عَنِ الْأَسَدِ وَاتَّقِ الْأَسَدَ عَنْ نَفْسِكَ، تو یہاں نفس کا لفظ لے کر آتے ہیں۔ اِتَّقِ، انہوں نے تو ذکر کر دیا نا اِتَّقِكَ، مختصر بات کی کیونکہ یہ کتاب ابتدائی طلبہ کے لیے ہے ان کو سمجھانے کے لیے، چلیں آپ کو میں بتا دیتا ہوں۔ اِتَّقِكَ، تو اپنے آپ کو بچا، یوں عربی میں نہیں کہتے، عربی میں کہتے ہیں: اِتَّقِ نَفْسَكَ، تو اپنے آپ کو بچا، اپنے نفس کو بچا۔ ایسے موقع پر نفس کا لفظ درمیان میں لے آتے ہیں۔ کیوں لے آتے ہیں؟ بھئی وجہ یہ، وجہ یہ کہ اِتَّقِكَ مثلاً میں کہنا چاہتا ہوں آپ کو: تو اپنے آپ کو بچا، تو کیا کہوں گا؟ اِتَّقِكَ، اِتَّقِكَ، لیکن یہ یوں نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ اِتَّقِ نَفْسَكَ۔ بھئی کیوں، اِتَّقِكَ کیوں نہیں کہہ سکتے؟ وجہ یہ کہ اِتَّقِ اس کے اندر ضمیر کون سی؟ اَنْتَ، تو اَنْتَ مخاطب کی ضمیر ہے یعنی مخاطب اِتَّقِ کا فاعل ہے۔ مخاطب کیا ہے؟ فاعل ہے۔ بچنے کا فعل کرنے والا کون؟ مخاطب، تو اَنْتَ ضمیر بھی مخاطب کی اور آگے کاف ضمیر مفعول کی وہ بھی اس سے بھی کون مراد؟ مخاطب۔ تو اِتَّقِكَ اس کے اندر اَنْتَ ضمیر فاعل کی وہ بھی مخاطب، کاف ضمیر مفعول کی وہ بھی مخاطب، اور فاعل اور مفعول ایک ہی ذات ہو یہ پسندیدہ نہیں۔ کیونکہ دونوں الگ الگ ہونے چاہئیں۔ فاعل ہوتا ہے فعل کو سرانجام دینے والا اور مفعول وہ ہوتا ہے جس پر وہ فعل واقع ہوتا ہے تو دونوں کو کیا ہونا چاہیے؟ الگ الگ ہونا چاہیے۔ ایک ہے اثر ڈالنے والا، ایک دوسری ذات ہے اثر کو قبول کرنے والی، تو مؤثِّر اور مؤثَّر دونوں کو کیا ہونا چاہیے؟ الگ۔ لیکن اگر آپ کہیں اِتَّقِكَ تو اس میں تو آپ نے فاعل کی بھی فاعل بھی مخاطب، مفعول بھی کون؟ مخاطب، اور یہ پسندیدہ نہیں تو پھر اس میں کیا کر لیا جاتا ہے؟ درمیان میں بس نفس کے لفظ کو بڑھا دیتے ہیں: اِتَّقِ نَفْسَكَ، تو بچا نَفْسَكَ اپنی جان کو، اپنی ذات کو۔ تو اب تھوڑا سا فرق آ گیا۔ اگرچہ معنی اب بھی وہی ہے، صورت اب بھی وہی ہے لیکن بہرحال نفس کا ایک لفظ بڑھنے سے کچھ کیا آ گیا؟ کچھ فرق آ گیا۔ تو نفس کا لفظ بڑھا دیتے ہیں اور اِتَّقِكَ یوں نہیں کہتے بلکہ کیا کہتے ہیں؟ اِتَّقِ نَفْسَكَ، فرق کرنے کے لیے۔ باقی تفصیل آپ اگلے سال میں پڑھ لیں گے، زیادہ میں گہرائی میں نہیں لے کر جاتا آپ کے لیے بات اور مشکل ہو جائے گی، بس اتنا یاد رکھیں۔ تو اِتَّقِكَ بھی اصل میں کیا تھا؟ اِتَّقِ نَفْسَكَ بھئی۔ تو لہٰذا اگر آپ سے کوئی پوچھے إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ اس کی ترکیب کیجیے تو آپ پھر کیا کہیں گے کہ یہ اصل میں پورا کلام کس طرح ہے؟ اِتَّقِ نَفْسَكَ عَنِ الْأَسَدِ وَاتَّقِ الْأَسَدَ عَنْ نَفْسِكَ۔ پھر ترکیب آپ کر دیں گے بھئی۔
آگے دیکھیے کتاب پر: أَوْ ذُكِرَ الْمُحَذَّرُ مِنْهُ، بھئی ابھی اوپر گزرا حَذَّرَ يُحَذِّرُ تَحْذِيرًا کون سا باب ہے؟ بابِ تفعیل ہے، تو اسی سے مُحَذَّرٌ مِنْهُ، جس سے ڈرایا جائے۔ میں نے آپ سے کہا: سانپ سانپ! تو میں ہوا مُحَذِّر، ڈرانے والا، آپ ہوئے مُحَذَّر، جس کو میں نے ڈرایا، اور سانپ ہوا مُحَذَّرٌ مِنْهُ، جس سے ڈرایا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا اوپر والی مثال میں جیسے مُحَذَّرٌ مِنْهُ کیا تھا؟ اسد، شیر، شیر سے ڈرایا جا رہا تھا۔ تو تحذیر کی دوسری صورت یہ ہے: أَوْ ذُكِرَ الْمُحَذَّرُ مِنْهُ مُكَرَّرًا، یا ذکر کیا جائے مُحَذَّرٌ مِنْهُ کو مکرر، یعنی تکرار کے ساتھ یعنی دو دفعہ۔ کتنی مرتبہ؟ دو دفعہ۔ نَحْوُ، مثال کے طور پر: اَلطَّرِيقَ الطَّرِيقَ، قاف دونوں قاف دونوں یہ الطريق دونوں مفتوح ہیں بھئی۔ جیسے اردو میں ابھی مثال میں نے ذکر کی، آپ کا ساتھی ہے اس کے پاؤں کے پاس سانپ آپ کو نظر آیا، آپ فوراً کیا کہتے ہیں؟ سانپ سانپ! دو دفعہ کہہ دیتے ہیں۔ تو اسی طرح عربی میں بھی کیا کہتے ہیں؟ اسی لفظ جس سے مُحَذَّرٌ مِنْهُ، جس سے ڈرایا جا رہا ہے اس کو کتنی دفعہ ذکر کر دیتے ہیں؟ دو مرتبہ۔ اور یاد رکھو اِتَّقِ فعلِ امر ہے: تو بچا، یا تو بچ جا، تو یہ ضروری نہیں اِتَّقِ ہی کا لفظ ہو، اس جیسا کوئی بھی لفظ نکالا جا سکتا ہے موقع محل کے مطابق وہ محذوف ہوتا ہے وہاں پر۔ مثلاً بھئی، اور جیسے اَلطَّرِيقَ الطَّرِيقَ، طریق راستے کو کہتے ہیں، کوئی ساتھی راستے پر جا رہا ہے، اس کی توجہ نہیں اور اس کا خیال نہیں کہ یہ راستہ تو بڑا خوفناک ہے اور اس پر آگے اس کو خطرہ پیش آ سکتا ہے تو آپ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اَلطَّرِيقَ الطَّرِيقَ، یعنی: اِتَّقِ الطَّرِيقَ الطَّرِيقَ، اس راستے سے اِتَّقِ الطَّرِيقَ الطَّرِيقَ، اس راستے سے تو بچ جا یعنی اس پر نہ جا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اَلطَّرِيقَ الطَّرِيقَ، ترکیب کریں: اصل میں کلام کیا ہے؟ اِتَّقِ الطَّرِيقَ الطَّرِيقَ، جی۔ اِتَّقِ، فعلِ امر، اَنْتَ ضمیر مرفوع محلاً اس کا فاعل، اَلطَّرِيقَ، منصوب لفظاً مفعول بہ، کیونکہ ہماری بحث ہی اس وقت کس کی چل رہی ہے؟ مفعول بہ کی، تو یہ مفعول بہ ہے اور یاد رکھو پہلے اس کو مؤکد بنا لو۔ ایک ہی لفظ کو دو دفعہ ذکر کیا جائے نا تو پہلے کو کہتے ہیں مؤکد اور دوسرے کو کہتے ہیں تاکید۔ دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ تاکید، یعنی اس تاکید کا معنی پکا کرنا۔ یہ دوسرا لفظ آ کر اس پہلے لفظ کو پکا کر دیتا ہے، پختہ کر دیتا ہے۔ تو ترکیب یوں ہو گی: اِتَّقِ فعل، اَنْتَ ضمیر مرفوع محلاً اس کے اندر اس کا فاعل، اَلطَّرِيقَ منصوب لفظاً مؤکد، اور اَلطَّرِيقَ منصوب لفظاً تاکید۔ اچھا، جو پہلا اَلطَّرِيقَ ہے منصوب لفظاً، کوئی آپ سے پوچھ لے یہ کیوں منصوب ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ مفعول بہ ہے، شاباش۔ اور دوسرا اَلطَّرِيقَ کوئی آپ سے پوچھ لے یہ کیوں منصوب ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ کہ یہ تاکید ہے، یہاں دیکھا؟ دوسرا جواب دینا ہے، یہ نہیں کہنا یہ مفعول ہے، مفعول تو پہلا ہے۔ یہ تاکید ہے اور مؤکد اور تاکید کا اعراب ایک ہوتا ہے۔ تو مؤکد اپنی تاکید سے مل کر یہ مفعول بہ ہوا فعل کے لیے۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ انشائیہ ہوا۔ ترکیب سمجھ میں آ گئی؟
اسی کی اور مثالیں: دو ساتھی آپ کے کھیل رہے ہیں، ان کے قریب ہی کوئی دو چار ماہ کا چھوٹا سا بچہ لیٹا ہوا تھا کسی نے لٹایا، اب ان کا خیال نہیں کہ تو یہ نہ ہو کسی ان میں سے کسی کا پاؤں اس پر پڑ جائے تو آپ فوراً پکار کر ان کو کہتے ہیں: اَلصَّبِيَّ الصَّبِيَّ، یعنی بچے سے بچو، بچے کو اپنے آپ سے بچے سے دور ہو جاؤ، بچے سے دور ہو۔ تو دیکھا دو دفعہ کہا: اَلصَّبِيَّ الصَّبِيَّ، اس میں بھی اسی طرح کی ترکیب ہو گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا اس جیسا کوئی لفظ فعلِ امر والا نکال لیں گے۔
اچھا، اور یہ اسی طرح ہے، خطبہ آپ سنتے ہیں جمعے کے خطبے میں، آپ سنتے ہیں: ”اللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي“، ”اللهَ اللهَ فِي أَصْحَابِي“، یعنی کیا معنی؟ اللہ سے ڈرو فِي أَصْحَابِي، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں لوگوں سے: اللہ سے ڈرو فِي أَصْحَابِي، میرے صحابہ کے بارے میں، یعنی ان کو برا مت کہنا بھئی کبھی بھی۔ تو یہ کیا ہے، آپ سے اگر کوئی پوچھ لے یہ خطبے میں ”اللهَ اللهَ“ یہ دو دفعہ منصوب آ رہا ہے، تو ترکیب پوچھ لے تو آپ کیا کہیں گے؟ کہ یہ تحذیر کے قبیل سے ہے، تحذیر سے، اور یہاں فعل محذوف ہے اور پہلا لفظِ اللہ مفعول بنے گا اس کے لیے اور دوسرا لفظِ اللہ اس کی تاکید بنے گا۔ اور کیا فعل یہاں نکالیں گے مثلاً؟ اِتَّقُوا، اِتَّقِ واحد کا صیغہ ہے نا، اِتَّقِ اِتَّقِيَا اِتَّقُوا، گردان یاد ہے کہ نہیں؟ بھول گئے بھئی۔ کیا گردان پڑھی آپ، کون سا فعل پڑھا آپ نے؟ ناقص، اِتَّقَى ہی پڑھا ہے؟ جی؟ ناقص میں ناقص میں بابِ افتعال ہے۔ ناقص میں کون سا گردان کون سی گردان پڑھی آپ نے؟ رَمَى يَرْمِي تو مجرد سے ہے۔ ابھی مجرد پڑھ رہے ہیں؟ اچھا۔ وہاں بھی اسی طرح ہے: اِرْمِ اِرْمِيَا اِرْمُوا، یہاں بھی: اِتَّقِ اِتَّقِيَا اِتَّقُوا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ البتہ وہ مجرد سے ہے اور یہ بابِ افتعال سے ہے بھئی بابِ افتعال سے۔ کہ اِتَّقُوا، اے لوگو تم ڈرو اللہ سے فِي أَصْحَابِي، کس کے بارے میں؟ میرے صحابہ کے بارے میں یعنی ان کے بارے میں بری بات مت کرنا۔
تو معلوم ہوا تحذیر کی دو صورتیں ہیں: یا تو ایک صورت یہ ہے: إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ، اور دوسری صورت کیا ہے: أَوْ ذُكِرَ الْمُحَذَّرُ مِنْهُ مُكَرَّرًا، کہ مُحَذَّرٌ مِنْهُ کو جس چیز سے ڈرایا جا رہا ہے اس کو مکرر ذکر کیا جائے جیسے: اَلطَّرِيقَ الطَّرِيقَ۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔