فَصْلٌ: اَلِاسْمُ الْمُعْرَبُ عَلَى نَوْعَيْنِ: مُنْصَرِفٌ، وَهُوَ مَا لَيْسَ فِيهِ سَبَبَانِ أَوْ وَاحِدٌ يَقُومُ مَقَامَهُمَا مِنَ الْأَسْبَابِ التِّسْعَةِ، كَزَيْدٍ، وَيُسَمَّى الِاسْمَ الْمُتَمَكِّنَ، وَحُكْمُهُ أَنْ يَدْخُلَهُ الْحَرَكَاتُ الثَّلَاثُ مَعَ التَّنْوِينِ، تَقُولُ: جَاءَنِي زَيْدٌ، وَرَأَيْتُ زَيْدًا، وَمَرَرْتُ بِزَيْدٍ.
وَغَيْرُ مُنْصَرِفٍ: وَهُوَ مَا فِيهِ سَبَبَانِ أَوْ وَاحِدٌ مِنْهَا يَقُومُ مَقَامَهُمَا، وَالْأَسْبَابُ التِّسْعَةُ هِيَ: اَلْعَدْلُ، وَالْوَصْفُ، وَالتَّأْنِيثُ، وَالْمَعْرِفَةُ، وَالْعُجْمَةُ، وَالْجَمْعُ، وَالتَّرْكِيبُ، وَالْأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ، وَوَزْنُ الْفِعْلِ. وَحُكْمُهُ أَنْ لَا يَدْخُلَهُ الْكَسْرَةُ وَالتَّنْوِينُ، وَيَكُونُ فِي مَوْضِعِ الْجَرِّ مَفْتُوحًا أَبَدًا، تَقُولُ: جَاءَنِي أَحْمَدُ، وَرَأَيْتُ أَحْمَدَ، وَمَرَرْتُ بِأَحْمَدَ.
أَمَّا الْعَدْلُ: فَهُوَ تَغَيُّرُ اللَّفْظِ مِنْ صِيغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ إِلَى صِيغَةٍ أُخْرَى تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًا، وَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ وَزْنِ الْفِعْلِ أَصْلًا، وَيَجْتَمِعُ مَعَ الْعَلَمِيَّةِ.
بھئی انہوں نے آپ کو پہلے بتایا تھا کہ اسم دو قسم پر ہے: یا معرب ہوگا یا مبنی ہوگا۔ اب پھر معرب کی تقسیم کر رہے ہیں کہ معرب جو ہے وہ دو قسم پر ہے: یا وہ منصرف ہوگا یا غیر منصرف ہوگا بھئی، غیر منصرف۔
غیر منصرف وہ معرب ہے جس میں دو اسبابِ منعِ صرف پائے جائیں، یا کوئی ایک ایسا سببِ منعِ صرف ہو جو دو کے قائم مقام ہو۔ غیر منصرف وہ ہے جس میں دو اسبابِ منعِ صرف پائے جائیں یا کوئی ایک ایسا پایا جائے جو دو کے قائم مقام ہو۔ اور جو ایسا نہیں وہ منصرف ہے۔ اس سے آپ کو منصرف کا بھی پتہ چل گیا، منصرف کیا کون سا معرب ہوا؟ جس میں دو سبب منعِ صرف کے نہ ہوں، یا ایک جو دو کے قائم مقام ہو وہ نہ ہو بھئی، وہ نہ ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ہاں آسان سی بات ہے۔
کہتے ہیں: فَصْلٌ: أَيْ هَذَا فَصْلٌ، میں نے آپ کو بتایا تھا کہ یہ خبر ہے اور اس کا مبتدا محذوف ہے کہ یہ فصل ہے۔ کہتے ہیں: اَلِاسْمُ الْمُعْرَبُ عَلَى نَوْعَيْنِ، اس کو کیسے پڑھیں گے؟ اَلِاسْمُ نہ پڑھنا، اَلِاسْمُ نہ پڑھنا، کیونکہ اسم کا ہمزہ وصلی ہے، اسم کا ہمزہ وصلی۔ اور اسی طرح اَلْ، الف لام جو ہے اس کا بھی ہمزہ کیا ہوتا ہے؟ وصلی، اور ہمزہ وصلی درمیانِ عبارت میں گر جاتا ہے، اس کو اگر پڑھا جائے تو یہ غلطی ہے۔ لہٰذا اَلِاسْمُ اگر یوں پڑھیں گے یہ تو آپ نے اَلِاسْمُ، الف لام والا ہمزہ تو درمیانِ عبارت میں ہے یا شروع عبارت میں ہے؟ وہ تو شروع میں ہے، وہ تو رہے گا، سمجھ میں آیا جب آپ ماقبل کے ساتھ نہیں جوڑ رہے نا اس کو اس سے پڑھ رہے ہیں تو اَلْ کا الف لام کا ہمزہ کیا ہے؟ وصلی، لیکن یہ ابھی گرے گا نہیں، ہاں یہ بیچ میں آ جاتا اس سے ماقبل بھی کوئی لفظ ہوتا تو پھر یہ بھی گر جاتا۔ ہاں اِسْمُ کا ہمزہ وصلی ہے اور وہ درمیان میں آ گیا تو وہ گر جائے گا۔ تو اب اَلْ کا الف لام کا لام بھی ساکن، آگے اسم میں سے ہمزہ تو گر گیا سین بھی ساکن، سین بھی ساکن، تو لام بھی ساکن سین بھی ساکن تو دو ساکن جمع ہو گئے، تو اب ایک کو حرکت دینا پڑے گی تو اور وہ لام کو حرکت دیں گے اول کو، اور اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ بِالْكَسْرِ، ضابطہ کیا ہے؟ اَلسَّاكِنُ إِذَا حُرِّكَ بِالْكَسْرِ، ساکن کو جب حرفِ ساکن کو جب حرکت دی جاتی ہے تو اس کو کسرہ والی حرکت دیتے ہیں۔ لہٰذا لام کو کسرہ دیا تو اَلِاسْمُ کیا بن گیا؟ اَلِاسْمُ، لیکن اب تیز پڑھیں گے کسی کو پتہ نہیں چلے گا آپ لام کے نیچے کسرہ پڑھ رہے ہیں یا ہمزہ کے نیچے کسرہ پڑھ رہے ہیں، پتہ ہی نہیں چلے گا۔
تو کہتے ہیں: اَلِاسْمُ الْمُعْرَبُ عَلَى نَوْعَيْنِ، اسمِ معرب جو ہے دو قسم پر ہے: مُنْصَرِفٌ ایک منصرف ہے، اور دو سطروں کے بعد آ رہا ہے: وَغَيْرُ مُنْصَرِفٍ اور دوسرا کیا ہے؟ غیر منصرف ہے بھئی۔ مل گیا بھئی غیر منصرف؟ دو سطروں کے بعد آ رہا ہے، یہ دو قسم پر ہے: ایک منصرف ہے اور دوسرا غیر منصرف ہے۔ اب بیچ میں منصرف کی تعریف کر رہے ہیں۔ میں نے آپ کو کیا بتایا؟ منصرف کیا کسے کہتے ہیں؟ وہ اسمِ معرب ہے جس میں دو اسبابِ منعِ صرف نہ ہوں، یا کوئی ایک ایسا نہ ہو جو دو کے قائم مقام، جو نہ ہو وہ منصرف، اور جس میں ایسا ہو یعنی دو اسبابِ منعِ صرف ہوں یا ایک سبب ہو جو دو کے قائم مقام وہ موجود ہو تو وہ کیا ہے؟ وہ غیر منصرف ہے۔
تو کہتے ہیں خود بتلا رہے ہیں: مُنْصَرِفٌ، وَهُوَ مَا لَيْسَ فِيهِ سَبَبَانِ وہ ہے، وہ اسمِ معرب ہے کہ نہ ہو اس کے اندر، مَا سے مراد ہے اسمِ معرب کیونکہ اسی کی بات چل رہی ہے نا، کہتے ہیں وہ منصرف وہ اسمِ معرب ہے: لَيْسَ فِيهِ سَبَبَانِ جس میں دو سبب نہ ہوں، سَبَبَانِ تثنیہ آیا، جس میں دو سبب نہ ہوں، أَوْ وَاحِدٌ يَقُومُ مَقَامَهُمَا یا ایک جو دو کے قائم مقام ہو وہ نہ ہو، مِنَ الْأَسْبَابِ التِّسْعَةِ نو اسباب میں سے۔ بھئی اسبابِ منعِ صرف نو ہیں۔ یہ جس کلمے کے اندر دو جمع ہو جائیں، کل کتنے ہیں؟ نو۔ ان نو میں سے اگر کسی کلمے کے اندر دو آ جائیں تو پھر وہ کیا بن جاتا ہے؟ منصرف نہیں رہتا بلکہ غیر منصرف، اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو دو کے قائم مقام ہیں تو وہ ایک بھی آ جائے لیکن وہ تو کس کے قائم مقام ہے؟ دو کے، تو بھی وہ کلمہ کیا بن جائے گا؟ غیر منصرف بن جائے گا۔ اسی لیے کہا: مِنَ الْأَسْبَابِ التِّسْعَةِ کتنے اسباب میں سے؟ نو۔
اچھا بھئی، میں نے آپ کو کل بتایا تھا کہ حروفِ یرملون سے پہلے کیا آ جائے؟ نونِ ساکن، تو اس نون کو بھی اسی اگلے حرف کی جنس سے بدل کر اس میں ادغام کرتے ہیں۔ تو یہاں کیا آیا؟ أَوْ وَاحِدٌ يَقُومُ، اصل میں کیا تھا؟ وَاحِدٌ يَقُومُ، وَاحِدٌ کے آخر میں کیا آ رہی ہے؟ تنوین، اور تنوین کس چیز کا نام ہے؟ نونِ ساکن کا نام ہے، اور اس کے بعد کیا آ رہی ہے؟ یا، اور یا حروفِ یرملون میں سے ہے یا نہیں؟ یرملون: یا، را، میم، لام، واؤ، نون، ان میں سے ایک دیکھو یا بھی ہے۔ تو یا سے پہلے نونِ ساکن آ گیا تو اس نون کو بھی یا کر کے یا میں ادغام کیا تو کیسے پڑھیں گے؟ وَاحِدٌ يَّقُومُ، سمجھ میں آیا بھئی؟
دوبارہ تعریف دیکھیں منصرف کی، کہتے ہیں: وَهُوَ مَا لَيْسَ فِيهِ سَبَبَانِ أَوْ وَاحِدٌ يَقُومُ مَقَامَهُمَا مِنَ الْأَسْبَابِ التِّسْعَةِ وہ اسمِ معرب ہے کہ نہ ہو اس کے اندر دو سبب، یا ایک جو دو کے قائم مقام ہو وہ نہ ہو نو اسبابِ منعِ صرف میں سے۔ دوبارہ ترجمہ: منصرف وہ اسم ہے جس میں نو اسبابِ منعِ صرف میں سے کوئی دو سبب نہ ہوں یا کوئی ایک جو دو کے قائم مقام ہو وہ نہ ہو، كَزَيْدٍ جیسے کہ زید بھئی۔
وَيُسَمَّى الِاسْمَ الْمُتَمَكِّنَ، دیکھا؟ وَيُسَمَّى الِاسْمَ، اب اَلِاسْمَ بھی نہیں پڑھنا، الف لام والا ہمزہ بھی گر گیا کیونکہ بیچ میں آ گیا۔ وَيُسَمَّى الِاسْمَ الْمُتَمَكِّنَ اور اس کو کیا کہتے ہیں منصرف کو؟ اسمِ متمکن بھی کہتے ہیں، کیونکہ یہ اعراب کو جگہ دے دیتا ہے، تمکن کا کیا معنی؟ جگہ دینا، کیونکہ اعراب کو جگہ دے دیتا ہے۔
وَحُكْمُهُ أَنْ يَدْخُلَهُ الْحَرَكَاتُ الثَّلَاثُ مَعَ التَّنْوِينِ اور منصرف کا حکم، حُكْمُهُ ہا ضمیر کس کو راجع؟ منصرف کو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَحُكْمُهُ، میں نے کہا ہا ضمیر، آپ کہیں گے ضمیر تو ہو ہے یہاں پر: حُكْمُهُ، کیا ہے؟ ہو ضمیر ہے، ہاں عموماً طلباء سے یہ غلطی ہوتی ہے بھئی، ہو نہیں اس کو پڑھنا، اس کو ہا پڑھنا ہے کیونکہ یہ ایک حرف ہے، یہ کیا ہے؟ ایک حرف ہے، اور جب ایک حرف کا نام لینا ہو تو اس کا وہ نام لیتے ہیں وہ جو حروفِ تہجی میں اس کا نام تھا: الف، با، تا، ثا، جیم وغیرہ میں سے، اور یہ اس کا کیا نام ہے؟ ہا ہے، سمجھ میں آیا؟ جیسے دیکھو آپ نے ترکیب پڑھی ہوگی کچھ نہ کچھ اولیٰ کے اندر بھی، ترکیب کرتے ہیں بسم اللہ کی، کیسے کرتے ہیں ترکیب؟ بَاءٌ جَارَّةٌ يَا بَاءُ حَرْفِ جَرٍّ۔ بھئی با کیوں کہتے ہو؟ بِسْمِ یہ کیوں نہیں کہتے؟ بی جارہ، کوئی بھی بی جارہ نہیں کہتا، کیوں نہیں کہتا؟ کیونکہ یہ بی یہ تو ایک حرف ہے اور جب ایک حرف ہو تو اس کا نام لینا ہو تو وہ نام لیتے ہیں جو الف با تا ثا کے اندر تھا، اور الف با تا ثا کے اندر اس کا کیا نام ہے؟ با ہے، سمجھ میں آئی بات؟ تو جب ایک حرف ہو اس کا نام لینا ہو تو وہ نام لیتے ہیں جو وہ حروفِ تہجی الف با تا ثا وغیرہ کے اندر جو اس کا نام ہوتا ہے۔ تو حُكْمُهُ اس کے اندر ہا ضمیر ہے، ہا ضمیر، اور یہ کس کو راجع؟ منصرف کو۔ منصرف کا حکم بیان ہو رہا ہے، منصرف کا حکم یہ ہے: أَنْ يَدْخُلَهُ الْحَرَكَاتُ الثَّلَاثُ کہ اس پر تین حرکتیں داخل ہوتی ہیں۔
تین حرکتیں داخل ہوتی ہیں، غیر منصرف میں ایسا نہیں۔ غیر منصرف کا ابھی آپ نے اعراب پڑھا تھا، نو قسمیں پڑھیں یا نہیں پڑھیں؟ غیر منصرف کا رفع کس کے ساتھ آتا تھا؟ ضمہ کے ساتھ: جَاءَنِي عُمَرُ، اور نصب اور جر دونوں کس کے ساتھ آتے تھے؟ فتحہ، دیکھا؟ تو ضمہ بھی آ رہا ہے فتحہ بھی، کسرہ آ ہی نہیں رہا، تو تین حرکتیں اس پہ آتی ہیں یا دو حرکتیں؟ اعراب تو تینوں آتے ہیں، اعراب کی بات نہیں کر رہا، حرکتیں کتنی آتی ہیں؟ ایک ضمہ والی اور نصبی جری میں فتحہ، کسرہ آیا کہیں؟ نہیں، تو ضمہ اور فتحہ آتا ہے اس پر، ضمہ اور فتحہ آتا ہے کسرہ نہیں، تو معلوم ہوا اس پر تینوں حرکتیں داخل نہیں، لیکن منصرف پر تینوں حرکتیں کیا ہیں؟ داخل ہوتی ہیں، اسی لیے کہا: وَحُكْمُهُ أَنْ يَدْخُلَهُ الْحَرَكَاتُ الثَّلَاثُ اور حکم منصرف کا یہ ہے کہ اس پر تینوں حرکتیں داخل اس پر تین حرکتیں داخل ہوتی ہیں، مَعَ التَّنْوِينِ ساتھ کس کے؟ تنوین کے۔ اور یاد رکھو غیر منصرف پر تنوین نہیں آتی: جَاءَنِي عُمَرُ، میں نے نہیں کہا، تنوین نہیں پڑھی کیونکہ تنوین آتی ہی نہیں غیر منصرف پر۔ اور ویسے زید ہوتا تو میں یوں کہتا: جَاءَنِي زَيْدٌ، دیکھو اس پہ تنوین آ رہی ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو غیر منصرف پر کسرہ بھی نہیں آتا اور تنوین بھی نہیں، جبکہ منصرف پر یہ دونوں آتی ہیں۔
تو کہتے ہیں منصرف کا حکم: أَنْ يَدْخُلَهُ الْحَرَكَاتُ الثَّلَاثُ مَعَ التَّنْوِينِ کہ اس پر داخل ہوتی ہیں تین حرکتیں مع التنوين تنوین کے ساتھ۔ تَقُولُ آپ کہتے ہیں، اب مثال ذکر کرنے لگے ہیں کہ مثال کے طور پر آپ یوں کہتے ہیں: جَاءَنِي زَيْدٌ، وَرَأَيْتُ زَيْدًا، وَمَرَرْتُ بِزَيْدٍ۔ تو زَيْدٌ دیکھو رفع آیا ضمہ آیا تنوین کے ساتھ، وَرَأَيْتُ زَيْدًا فتحہ آیا تنوین کے ساتھ، وَمَرَرْتُ بِزَيْدٍ کسرہ آیا کس کے ساتھ؟ تنوین کے ساتھ، تو یہ منصرف ہے۔
وَغَيْرُ مُنْصَرِفٍ اور دوسری قسم غیر منصرف ہے معرب کی: وَهُوَ مَا فِيهِ سَبَبَانِ أَوْ وَاحِدٌ مِنْهَا يَقُومُ مَقَامَهُمَا اور وہ اسمِ معرب ہے جس کے اندر دو سبب ہوں، أَوْ وَاحِدٌ مِنْهَا یہ مِنْهَا کی ضمیر راجع ہے وہ جو اسبابِ تسعہ گزرا تھا، دیکھو مِنْهَا، ہا یہ بھی ہا ضمیر ہے، حُكْمُهُ میں بھی ہا ضمیر تھی، مِنْهَا کے ساتھ بھی کیا ہے؟ ہا ضمیر ہے، تو نام ایک ہی جیسا ہے دونوں کا لیکن ایک مذکر کی ہے اور ایک مؤنث کی ہے۔ دیکھو مِنْهَا کی ہا ضمیر کے نیچے نو نمبر لکھا ہے اور وہ اسبابِ تسعہ کے نیچے بھی نو نمبر لکھا ہے، معلوم ہوا یہ ضمیر اس کو راجع ہے۔ تو کہتے ہیں غیر منصرف وہ اسمِ معرب ہے فِيهِ سَبَبَانِ جس میں کوئی سے دو سبب ہوں، أَوْ وَاحِدٌ مِنْهَا یا ان نو میں سے ایک ہو، وَاحِدٌ ایک ہو مِنْهَا ان نو میں سے، يَقُومُ مَقَامَهُمَا جو ان دو کے قائم مقام ہو۔
وَالْأَسْبَابُ التِّسْعَةُ هِيَ اور وہ نو اسباب یہ ہیں بھئی، اب بیان کرنے لگے ہیں: وَالْأَسْبَابُ التِّسْعَةُ هِيَ: اَلْعَدْلُ، وَالْوَصْفُ، وَالتَّأْنِيثُ، وَالْمَعْرِفَةُ، وَالْعُجْمَةُ، وَالْجَمْعُ، وَالتَّرْكِيبُ، وَالْأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ، وَوَزْنُ الْفِعْلِ۔ یہ ہیں اسبابِ منعِ صرف نو بھئی: عدل ہے، وصف ہے، تانیث ہے، معرفہ ہے، عجمہ ہے، عین پہ پیش پڑھنا: عُجْمَہ، اور جمع ہے، ترکیب ہے، اور وَالْأَلِفُ وَالنُّونُ الزَّائِدَتَانِ اور وہ الف اور نون جو زائد ہوں یعنی اصلی نہ ہوں، حرفِ اصلی نہ ہوں، وہ الف اور نون جو زائد ہوں، وَوَزْنُ الْفِعْلِ اور وزنِ فعل ہے۔ آگے ان سب کو تفصیل سے بیان کرنے لگے ہیں، یہ نو اسبابِ منعِ صرف ہیں بھئی، یہ آپ کو یاد ہونے چاہئیں، کوئی پوچھ لے آپ سے اسبابِ منعِ صرف کون سے ہیں آپ فوراً بیان کر سکیں۔
وَحُكْمُهُ اور حکم اس کا، کس کا؟ غیر منصرف کا، اور غیر منصرف کا حکم یہ ہے: أَنْ لَا يَدْخُلَهُ الْكَسْرَةُ وَالتَّنْوِينُ کہ داخل نہیں ہوتا اس پر کسرہ اور تنوین، وَيَكُونُ فِي مَوْضِعِ الْجَرِّ مَفْتُوحًا أَبَدًا اور یہ ہوگا فِي مَوْضِعِ الْجَرِّ، موضع: جگہ، فِي مَوْضِعِ الْجَرِّ جر کے مقام میں، مَفْتُوحًا أَبَدًا ہمیشہ مفتوح ہوگا۔ جر کے مقام میں بھی یہ کیا ہوگا؟ مفتوح ہوگا۔ مفتوح کہنا، مفتوح کہنا، منصوب نہیں کہنا، جیسے دیکھو: مَرَرْتُ بِعُمَرَ، مَرَرْتُ بِعُمَرَ، عمر پر فتحہ آ رہا ہے یا نہیں؟ فتحہ، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مفتوح ہے۔ تو حرکت کے اعتبار سے یہ مفتوح ہے، اعراب اگر کوئی آپ سے پوچھ لے اس کا اعراب کیا ہے؟ ہاں، مَرَرْتُ بِعُمَرَ، مجرور ہے کیونکہ با جارہ داخل ہو رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے تو مجرور، اس پر اگرچہ حرکت فتحہ والی ہے لیکن یہ دراصل یہ دراصل نصب نہیں ہے بلکہ یہ کیا ہے؟ جر ہے، اس کا جر آتا ہی کس شکل میں ہے؟ فتحہ کی صورت میں آتا ہے۔ اسی لیے کہا: وَيَكُونُ فِي مَوْضِعِ الْجَرِّ مَفْتُوحًا أَبَدًا اور یہ جر کے مقام میں بھی مفتوح ہوگا ہمیشہ۔
تَقُولُ آپ کہتے ہیں، دیکھا اب مثال کے طور پر مثالیں ذکر کر رہے ہیں مثلاً کہ آپ عربی میں یوں کہتے ہیں: جَاءَنِي أَحْمَدُ، وَرَأَيْتُ أَحْمَدَ، وَمَرَرْتُ بِأَحْمَدَ۔ جَاءَنِي أَحْمَدُ یہ غیر منصرف ہے، دیکھو تنوین نہیں آئی، تنوین نہیں آئی۔ وَرَأَيْتُ أَحْمَدَ یہ مفعول ہے تو دیکھو نصب آیا لیکن تنوین نہیں، وَمَرَرْتُ بِأَحْمَدَ۔ اب مَرَرْتُ بِأَحْمَدَ یہ احمد کا کیا اعراب ہے؟ مجرور ہے۔ کیسے پتہ چلا مجرور ہے؟ با جارہ اس پر داخل ہوئی ہے، لیکن اس پر تو ہم زبر پڑھ رہے ہیں؟ شاباش! اس کا جر آتا ہی اس شکل میں ہے، یہ دراصل جر ہی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ منصرف کو بھی بیان کر دیا، غیر منصرف کو بھی، اسبابِ منعِ صرف بھی بیان کر دیے یہ والے نو ہیں ان کے نام ذکر کر دیے اور مثال بھی دے دی۔ اب وہ اسبابِ منعِ صرف بال تفصیل بیان کرنے لگے ہیں، جو نو تھے ہر ایک کے بارے میں پوری پوری تفصیل آپ کو بتانے لگے ہیں، تو ان میں سب سے پہلا کیا تھا؟ عدل، وہی ذکر کرنے لگے ہیں۔
کہتے ہیں: أَمَّا الْعَدْلُ تو عدل جو ہے: فَهُوَ تَغَيُّرُ اللَّفْظِ مِنْ صِيغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ إِلَى صِيغَةٍ أُخْرَى تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًا۔ بھئی پہلے سمجھ لیں: یاد رکھیے عدل کہتے عدل کا معنی ہے پھیرنا، کیا معنی ہے؟ پھیرنا۔ مثلاً دیکھیے یہ ایک صیغہ ہے، یہ ایک صیغہ ہے، اور یہ اس کی قانونی شکل ہے یعنی صرفی قوانین لگائے، صیغے کی صورت کس طرح بنتی ہے؟ کون سے قوانین جاری ہوتے ہیں؟ صرفی قوانین۔ صرفی قوانین تقاضا کرتے ہیں کہ اس صیغے کی یہ صورت ہونی چاہیے، جیسے قَالَ اصل میں کیا تھا؟ قَوَلَ، تو اصل میں تو قَوَلَ تھا لیکن قانون لگ گیا صرفی کہ واؤ یا متحرک اور ماقبل فتحہ ہو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے، تو قَالَ۔ تو یہ قَالَ قانونی شکل ہے، قانون جس کا تقاضا کر رہا تھا، سمجھ میں آئی بات؟ تو اگر اس کے بجائے آپ کوئی اور صورت دے دیں تو پھر وہ قانون کے مطابق ہوگی یا قانون کے خلاف ہوگی؟ قانون کے خلاف، لیکن اس وقت قَالَ کیا ہے؟ قانون کے مطابق ہے، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو ایک لفظ تھا، قانون کے مطابق اس کی یہ صورت ہونی چاہیے صیغہ یوں ہونا چاہیے قانون کے مطابق، لیکن عرب اس کو کیا کرتے ہیں؟ اس کو پھیر کر اس کو ایک نئی شکل دے دیتے ہیں، وہ قانون کے مطابق نہیں ہے، قانون کے مطابق تو یہ پہلی شکل تھی، تو اس کو پھیر کر کیا بنا دیا؟ ایک نئی صورت دے دی، کیا دے دی؟ ایک نئی صورت دے دی، تو یہ ہے عدل۔ دیکھو انہوں نے پھیر دیا اس کو ایک نئی صورت کی طرف، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عدل کا کیا معنی؟ پھیرنا، اور کیا کس چیز کو پھیرنا؟ صیغے کو، اس کے کس سے؟ قانونی صورت سے دوسری صورت کی طرف، یہ کیا کہلاتا ہے؟ عدل۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: أَمَّا الْعَدْلُ فَهُوَ تَغَيُّرُ اللَّفْظِ وہ لفظ کا بدلنا ہے، تغیر کا معنی بدلنا، فَهُوَ تَغَيُّرُ اللَّفْظِ وہ لفظ کا بدلنا ہے مِنْ صِيغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ اصلی صیغے سے، اصلی صیغے سے کیا مراد ہے؟ وہ صیغہ جس کا قانون تقاضا کر رہا ہو کہ قانون کے مطابق یہ صورت ہونی چاہیے، وہ کیا ہے؟ صیغہ اصلی۔ تو وہ بدلنا ہے لفظ کا صیغہ اصلیہ سے إِلَى صِيغَةٍ أُخْرَى دوسرے صیغے کی طرف، تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًا تحقیقی طور پر یا تقدیری طور پر۔
بھئی یاد رکھو عدل کی دو قسمیں ہیں: عدل کا معنی سمجھ میں آ گیا؟ کیا معنی؟ پھیرنا، اور صیغہ اصلیہ سے کیا مراد ہے؟ وہ صیغہ جس کا قانون تقاضا کر رہا ہے جو قانون کے مطابق ہے۔ اس صیغے سے پھیر کر دوسرا صیغہ بنا دینا اس کو یعنی دوسری صورت اس کو دے دینا، دوسری صورت دے دینا۔ یہ یاد رکھیے یہ عدل دو قسم پر ہے: ایک عدلِ تحقیقی ہے اور ایک عدلِ تقدیری ہے۔
عدلِ تحقیقی وہ ہے جس کی ہمارے پاس دلیل موجود ہو کہ یہ صیغہ اصل میں یہ تھا، صیغہ اصل میں اس کی صورت اصل میں یوں تھی، پھر عربوں نے اس کو پھیر کر یہ نئی صورت دے دی ہے تو دیکھو ایک ہوئی پہلے والی صورت، ایک ہوئی بعد والی صورت، یہ پہلے والی صورت سے پھیر کر کون سی صورت دے دی؟ بعد والی، تو کوئی دلیل چاہیے یا نہیں چاہیے؟ دلیل چاہیے، تو اگر دلیل موجود ہو کہ دیکھو یہ دلیل ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ پہلے یہ تھا اب اس کو یہ بنا دیا گیا، اگر دلیل موجود ہے تو اس کو کہتے ہیں عدلِ تحقیقی۔ اور اگر دلیل موجود نہ ہو تو اس کو کہتے ہیں عدلِ تقدیری۔ تقدیر کا معنی فرض کر لینا، یہاں عدل فرض کر لیا، دلیل ہے نہیں ہمارے پاس لیکن ہم نے فرض کر لیا کہ پہلے صورت یہ تھی بعد میں صورت یہ والی بنا دی دوسری صورت، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عدل کی کتنی قسمیں؟ دو ہیں: ایک تَحْقِیقِیٌّ اور ایک تَقْدِیرِیٌّ۔ تحقیقی عدل وہ جس کی ہمارے پاس دلیل موجود ہو، اور عدلِ تقدیری وہ جس کی ہمارے پاس دلیل موجود نہ ہو۔
تو کہتے ہیں دوبارہ تعریف دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: أَمَّا الْعَدْلُ فَهُوَ تَغَيُّرُ اللَّفْظِ مِنْ صِيغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ إِلَى صِيغَةٍ أُخْرَى تَحْقِيقًا أَوْ تَقْدِيرًا، عدل وہ لفظ کا بدل جانا ہے صیغہ اصلیہ سے دوسرے صیغے کی طرف تحقیقی طور پر یا تقدیری طور پر۔
اچھا بھئی تفصیل یاد رکھو، آپ کہیں گے یہ کیا بات ہوئی؟ بعض میں ہمارے پاس دلیل موجود ہے بعض میں ہمارے پاس دلیل بھی نہیں موجود؟ بھئی بعض لفظ ایسے ہیں ہمارے پاس دلیل موجود نہیں، لیکن پھر بھی نحوی علماء فرماتے ہیں، علمائے نحو فرماتے ہیں کہ یہاں عدل ہوا ہے، یہاں کیا ہوا ہے؟ اس لفظ کے اندر، اس معرب کے اندر دوسرا سبب عدل ہے۔ بھئی کیا دلیل ہے عدل ہے اس لفظ کے اندر؟ پہلے یہ صورت تھی اب یہ صورت بن گئی ہے، دلیل کوئی نہیں ہوتی لیکن وہ کیا فرماتے ہیں؟ اس میں کیا ہوا ہے؟ عدل ہوا ہے، ایک سبب مان لیتے ہیں۔
بھئی وجہ یہ ہے، یاد رکھو کہ عربی زبان تو پہلے تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور اس سے پہلے بھی کون سی زبان لوگ بولتے تھے عرب میں؟ عربی زبان بولتے تھے، لیکن یہ جو علمِ صرف اور علمِ نحو وغیرہ ہیں یہ علوم بعد میں علماء نے ایجاد ان کو وجود دیا بھئی، اللہ نے ان کے دلوں میں یہ باتیں ڈال دیں اور یہ علوم انہوں نے مدون کیے بھئی۔ پہلے علمِ نحو اور علمِ صرف نہیں تھے، عربوں کو مثلاً دیکھو علمِ نحو میں قانون آپ نے پڑھا ہے نحو کے اندر: اَلْفَاعِلُ مَرْفُوعٌ، فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، اس پر رفع پڑھتے ہیں۔ عربوں کو اس قانون کا پتہ نہیں تھا کیونکہ یہ تو علمِ نحو کا قانون ہے اور پہلے کیا علمِ نحو تھا؟ علمِ نحو تو بعد میں مدون ہوا، تو علمِ نحو نہیں تھا لیکن عرب پھر بھی فاعل پر ہمیشہ رفع پڑھا کرتے تھے، زبان ان کی تھی ان کو پتہ تھا تو وہ کیا کرتے تھے؟ فاعل پر ہمیشہ رفع۔ وَالْمَفْعُولُ مَنْصُوبٌ یہ ضابطہ ہے یا نہیں؟ مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب، یہ قانون پہلے عربوں کو پتہ نہیں تھا لیکن وہ ہر مفعول پر کیا پڑھتے تھے؟ نصب ہی پڑھا کرتے تھے، اور مضاف الیہ مجرور ہوتا ہے نحو کا قانون ہے، عربوں نے یہ قانون عربوں نے نہیں پڑھا تھا لیکن وہ مضاف الیہ پر ہمیشہ کیا پڑھتے تھے؟ جر ہی پڑھا کرتے تھے۔
تو شروع میں یہ علمِ نحو مدون نہیں تھا، علمِ صرف بھی، اور پھر ان کی ضرورت پیش آئی، قرآن اور حدیث کو صحیح طریقے سے پڑھنے کے لیے اور اس کا معنی سمجھنے کے لیے ان علوم کی ضرورت پڑی۔ عربوں کو تو پتہ عربوں کو تو پتہ تھا وہ فاعل پہ رفع پڑھتے تھے مفعول پہ نصب پڑھتے تھے، لیکن بعد میں جب اسلام پھیلتا گیا اور قوموں کے اندر اب انہوں اب ان کو ان کے سامنے عربی کے الفاظ لکھ دیں ان کو تو نہیں پتہ چلے گا کس پر رفع پڑھنا ہے، کس پر نصب پڑھنا ہے، کس پہ جر پڑھنا ہے۔ پہلے یہ جو زبر، زیر، پیش ہیں یہ بھی نہیں تھے، یہ بھی بعد میں علمائے اسلام نے کیا کیا؟ یہ انہوں نے بنائے لوگوں کی آسانی کے لیے۔ دیکھو آج ہمارا بچہ عربی کے ایک لفظ اسے نہیں آتا لیکن قرآن وہ بہترین پڑھتا ہے کیونکہ اس پر وہ زبر، زیر، پیش وغیرہ یہ سب چیزیں ڈلی ہوئی ہیں۔ یہ کس نے کیا؟ علمائے اسلام، اللہ نے ان کو منتخب کیا تھا قرآن کی اس خدمت کے لیے، انہوں نے اپنی زندگیاں گزار دیں کہ کس طرح آسان سے آسان صورت ہو جائے کہ لوگ قرآن کو پڑھ سکیں، چاہے ان کو عربی آتی ہو چاہے نہ آتی ہو۔ عربوں کے سامنے عربی لکھیں گے چاہے زبر زیر پیش نہ ہو وہ پھر بھی اس کو صحیح پڑھتا چلا جائے گا، صورت سمجھ میں، لیکن عجمی جو غیر عرب ہیں ان کے لیے دیکھو یہ اعراب کی وجہ سے کتنی سہولت ہو گئی بھئی۔
تو علمائے نحو نے یہ علمِ نحو جو ہے مدون کیا اور یہ اس علم کو ترتیب دیا۔ اب انہوں نے دیکھا کہ عرب جب بولتے ہیں تو کچھ لفظ ایسے ہیں جن پر وہ کسرہ اور تنوین نہیں پڑھتے، یہ جو غیر منصرف جس کا بعد میں انہوں نے نام رکھا، عرب کو غیر منصرف کا کچھ پتہ نہیں تھا غیر منصرف کسے کہتے ہیں، عرب کے سامنے آپ ذکر کر دیتے وہ کہتا مجھے کیا پتہ غیر منصرف کسے کہتے ہیں، لیکن وہ غیر منصرف پر کبھی بھی کسرہ اور تنوین نہیں پڑھتے تھے، پڑھتے ٹھیک تھے لیکن مطلب یہ کیونکہ اس وقت اب علمِ نحو مدون ہی نہیں ہوا تھا، بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں؟ تو علمائے نحو اب عربی زبان کے قوانین بنا رہے ہیں بھئی کہ یہاں پر زیر آتا زیر آئے گا، یہاں زبر آئے گا، یہاں اس طرح پڑھیں گے، یہاں اس طرح پڑھیں گے، عربوں کی زبان دیکھتے جا رہے ہیں اور قوانین بناتے جا رہے ہیں بھئی، قوانین۔ عمریں گزار دیں انہوں نے ان قوانین کو، ہم تو آسانی سے پڑھ لیتے ہیں ایک سال کے اندر پوری آپ ہدایۃ النحو پڑھ لیتے ہیں اور پورے قوانین یاد کر لیتے ہیں، اور ان قوانین کو یہ صورت دینے میں علماء نے اپنی زندگیاں گزار دیں بھئی۔ ایک ایک کلامِ عرب کے اشعار ان کے دیکھتے، ان کے اور چیزیں دیکھتے کہ یہ کس طرح کہاں زبر پڑھتے ہیں، کہاں زیر پڑھتے ہیں، کیسے، پھر قوانین بنائے کہ فاعل مرفوع ہوتا ہے، مفعول منصوب ہوتا ہے، مضاف الیہ مجرور ہوتا ہے، حال پہ نصب آتا ہے، تمیز پہ بھی نصب آتا ہے، اس طرح انہوں نے سارے اور سمجھ میں آیا، یہ قوانین انہوں نے ترتیب دیے بھئی۔
تو انہوں نے جب وہ یہ علمِ نحو کی تدوین کر رہے تھے، اس میں انہوں نے عربوں کی زبان میں غور و فکر کر رہے تھے، انہوں نے دیکھا کہ عرب جو ہیں بعض الفاظ ایسے ہیں اس پر کسرہ بھی نہیں پڑھتے اور تنوین بھی نہیں پڑھتے، یہ جو غیر منصرف تھے، یہ لفظ ان کو ملے۔ تو اب انہوں نے غور شروع کیا کہ یہ عرب اس پہ کسرہ اور تنوین کیوں نہیں پڑھتے؟ جَاءَنِي عُمَرٌ کیوں نہیں کہتے؟ جَاءَنِي عُمَرُ کیوں کہتے ہیں؟ مَرَرْتُ بِعُمَرَ کیوں کہتے ہیں؟ مَرَرْتُ بِعُمَرٍ کیوں نہیں کہتے؟ کوئی قانون چاہیے نا، عام لوگوں کو بھی تاکہ پتہ چلے۔ چنانچہ انہوں نے غور و فکر کرتے کرتے بالاخر یہ قانون بنایا کہ غیر منصرف عرب اس کو پڑھتے ہیں جس میں دو سبب ہوں، کس کے؟ اسبابِ منعِ صرف میں سے، اور یا کوئی ایک سبب ہو جو قائم مقام دو کے ہو، یہ ضابطہ انہوں نے بنا دیا کہ یہ اسبابِ منعِ صرف ہیں، ان میں سے دو جس لفظ میں آئیں گے معلوم ہوا وہ غیر منصرف ہے اس پہ کسرہ اور تنوین نہیں پڑھنا، عرب بھی اس پہ کسرہ اور تنوین نہیں پڑھتے۔ اور یہ ایک ایسا سبب آ جائے جو دو کے قائم مقام ہو تو اس پر بھی کسرہ اور تنوین نہیں پڑھنا کیونکہ عرب بھی اس پر کسرہ اور تنوین نہیں پڑھتے، کسرہ اور تنوین نہیں پڑھتے۔
اب انہوں نے سارے یہ قانون بنایا اور ساری عربی زبان کے لفظ وہ دیکھتے جا رہے ہیں، سارے اس قانون پہ پورا اتر رہے ہیں۔ جس کو بھی دیکھا عرب اس کو غیر منصرف پڑھتے ہیں، دیکھتے تو اس میں دو سبب منعِ صرف کے ہوتے، یا ایک سبب کس کا ہوتا؟ ایک دو کے قائم مقام ہوتا۔ لیکن کچھ لفظ ان کو ایسے ملے کہ اس میں ایک ہی سبب تھا، لیکن عرب اس کو غیر منصرف پڑھتے تھے! بہت غور کیا، بہت غور کیا کہ ان کے اندر کیا وجہ ہے؟ دوسرا سبب کیا ہے؟ سبب تو ایک ہے اور ایک سبب سے غیر منصرف نہیں بنتا، ایک سبب سے تو غیر منصرف تو بہت غور و فکر کیا لیکن دوسرا سبب مل ہی نہیں رہا، ہے ہی نہیں وہاں پر، تو مجبور ہو کر انہوں نے کہا اپنے قانون کو بچانے کے لیے، قانون ان کا کیا تھا؟ غیر منصرف کس کو پڑھیں گے؟ جس میں دو سبب ہوں یا ایک قائم مقام دو کے، تو اپنے قانون کو بچانے کے لیے انہوں نے کہا اس میں دوسرا سبب عدل ہے، عدل کو فرض کر لیا وہاں پر۔ کیا کر لیا؟ عدل کو فرض کر لیا۔ دلیل کوئی نہیں تھی، لیکن عدل کو وہاں فرض کر لیا۔ جب عدل وہاں مان لیا، ایک سبب تو پہلے بھی موجود تھا، دوسرا یہ عدل مان لیا، کتنے سبب ہو گئے؟ دو، اب ہاں دیکھو اب بات ٹھیک بن گئی، اب بات ٹھیک بن گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ اپنے قانون کو بچانے کے لیے انہوں نے عدل کو فرض کر لیا، اور اتنا پیارا قانون بنا دیا کہ اب سارے عربی زبان کے لفظ جتنے لفظ ہیں سارے قانون کے اندر آ گئے۔ غیر منصرف وہی ہوگا جس میں دو اسباب منعِ صرف کے ہوں گے یا ایک سبب قائم مقام دو کے ہوگا، اور سارے لفظ دیکھے سب کے اندر اسی طرح تھا، چند لفظ جو تھے جن کے اندر یہ دو سبب نہیں تھے وہاں کیا مان لیا؟ عدل مان لیا، بات ٹھیک ہو گئی بھئی۔ تو یہ اس کے لیے انہوں نے عمریں گزاریں اور پھر یہ قوانین بنائے بھئی، اور اتنے پیارے اور حسین قوانین بنائے کہ پوری عربی زبان یوں لگتا ہے جیسے ان قانونوں کو دیکھ کر بنائی گئی ہے، حالانکہ قانون بعد میں ہے عربی زبان تو پہلے ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی۔
اسی لیے کہا کہ وہ لفظ کا بدلنا ہے صیغہ اصلیہ سے دوسرے صیغے کی طرف تحقیقی طور پر یا تقدیری طور پر، تقدیراً بھئی۔
وَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ وَزْنِ الْفِعْلِ أَصْلًا، اور یہ جمع نہیں ہوتا عدل جو ہے جمع نہیں ہوتا، يَجْتَمِعُ کے اندر ھُوَ ضمیر جو راجع ہے عدل کو، دیکھو یجتمع کے نیچے بھی دو ہے عدل کے نیچے بھی کیا لکھا ہے؟ دو، تو یہ ضمیر اس کو لوٹ رہی ہے، اور یہ عدل جمع نہیں ہوتا مَعَ وَزْنِ الْفِعْلِ کس کے ساتھ؟ وزنِ فعل کے ساتھ أَصْلًا ای قطعاً، قطعی طور پر یعنی کبھی بھی، کبھی بھی یہ وزنِ فعل کے ساتھ جمع نہیں ہوتا۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ بھئی دیکھیے اسبابِ منعِ صرف میں سے ایک وزنِ فعل بھی اوپر آپ نے پڑھا، نواں سبب کیا ذکر کیا؟ وزنِ فعل۔ لیکن جس یاد رکھو جس لفظ کے اندر عدل ہوگا وہاں وزنِ فعل نہیں ہوگا، اور جہاں وزنِ فعل ہوگا جس لفظ میں وہاں عدل نہیں ہوگا۔ دونوں نے جمع ہونا ہے یا نہیں؟ دو جمع ہوں دو اسبابِ منعِ صرف جمع ہوں گے تو لفظ کیا بنے گا؟ غیر منصرف بنے گا نا، ویسے تو نہیں بنے گا، دو اسبابِ منعِ صرف جمع ہوں گے، لیکن جو دو بھی اکٹھے ہوتے ہیں ہم غور کیا کہ جہاں عدل آتا ہے جس لفظ میں ایک سبب عدل ہے دوسرا کوئی اور ہو سکتا ہے لیکن وزنِ فعل دوسرا سبب نہیں ہوگا، اور جس لفظ میں ایک سبب وزنِ فعل ہے دوسرا سبب کچھ اور ہوگا لیکن کبھی بھی عدل نہیں ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ وزنِ فعل کے ساتھ جمع کیوں نہیں ہوتا؟ وجہ یہ کہ عدل کے چھ وزن ہیں بس، عدل کے کتنے وزن؟ چھ وزن، اور فعل کے اپنے اوزان ہیں، آپ نے گردانیں پڑھی ہیں: ماضی، مضارع، امر، نہی وغیرہ یہ ساری گردانیں پڑھی ہیں آپ نے، تو فعل کے اوزان معلوم ہیں یا نہیں آپ کو؟ یہ سارے فعل کے اوزان ہیں اور ان میں سے کوئی وزن بھی عدل کا نہیں ہے، عدل کے اپنے وزن فعل کے جب دونوں کے وزن ہی الگ الگ ہیں تو پھر کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ ایک وزن آئے گا تو لازمی بات ہے دوسرا نہیں آ سکتا، اور دوسرا وزن آتا ہے تو لازمی بات ہے پہلا وزن نہیں آ سکتا، اس لیے یہ دونوں اکٹھے بھی نہیں ہوتے۔ عدل کے چھ اوزان ہیں، کون سے چھ اوزان؟ یہ آپ کے حاشیے میں شعر دیے ہوئے ہیں بھئی:
اوزانِ عدل را بتمامے تو شش شمار
مل گیا؟ اوپر حاشیہ ہے، میری کتاب میں تین نمبر حاشیہ ہے:
وَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ وَزْنِ الْفِعْلِ، مل گیا؟ اسی میں آگے آ رہا ہے:
اوزانِ عدل را بتمامے تو شش شمار
اوزانِ عدل جو ہیں ان کو تو بتمامے پورے طور پر تو شش شمار چھ شمار کر، اوزانِ عدل پورے کے ان کو کتنا شمار کر؟ چھ ہیں، کون کون سے؟ شعر چل رہا ہے بھئی:
مَفْعَلْ فُعَلْ مثالھما مَثْلَثْ عُمَرْ
مَفْعَلْ جیسے مَثْلَثْ، فُعَلْ جیسے عُمَرْ۔
فَعْلَسْتْ ہمچو اَمْسِ فُعَالَسْتْ چوں ثُلَاثْ
فَعْلْ جیسے اَمْسْ، فُعَالْ چوں ثُلَاثْ۔
دیگر فَعَال دان تو قَطَامِ و فِعْل سِحْر
بس یہاں تک شعر ہے، دو شعر ہیں بھئی۔ دوبارہ سن لیں:
اوزانِ عدل را بتمامے تو شش شمار
مَفْعَلْ فُعَلْ مثالھما مَثْلَثْ عُمَرْ
فَعْلَسْتْ ہمچو اَمْسِ فُعَالَسْتْ چوں ثُلَاثْ
دیگر فَعَال دان تو قَطَامِ و فِعْل سِحْر
دیکھیے پہلا وزن ذکر کیا: مَفْعَلْ، آگے مثال بھی ذکر کر دی: مَثْلَثْ۔ دوسرا وزن ہے: فُعَلْ، اس کی مثال بھی ہے: عُمَرْ فُعَلْ۔ اگلا وزن ہے: فَعْلْ، عین ساکن ہے: فَعْلْ جیسے اَمْسْ۔ اگلا وزن ہے: فُعَالْ چوں ثُلَاثْ۔ اگلا وزن ہے: فَعَالْ، فا پہ اب زبر ہے: فَعَالْ جیسے قَطَامِ۔ اگلا وزن ہے: فِعْلْ، فا کے نیچے کسرہ ہے عین ساکن: فِعْلْ جیسے سِحْر۔ یہ چھ وزن ہیں، مثالیں بھی سب کی ساتھ ذکر کر دیں۔ کون سے وزن ہیں؟ مَفْعَلْ، فُعَلْ اور فَعْلْ، فُعَالْ اور فَعَالْ، اور فِعْلْ۔ ان کو آپ بے شک ترتیب دے کر الگ لکھ لیں پھر اس کو یاد کر لیں۔ پہلے مَفْعَلْ ہے، ایک وزن کیا؟ مَفْعَلْ، دوسرا کر لیں فُعَالْ، تیسرا کر لیں فَعَالْ، ایک جیسے اکٹھے کر لیں نا: مَفْعَلْ، فُعَالْ اور فَعَالْ، یہ تین ہو گئے۔ آگے فُعَلْ اور فَعْلْ اور فِعْلْ۔ ان میں فُعَلْ میں عین پہ زبر ہے، اگلے دو میں عین ساکن ہے: فَعْلْ اور فِعْلْ۔ تو کیا اوزان ہوئے؟ مَفْعَلْ، فُعَالْ اور فَعَالْ، اور فُعَلْ، اور فَعْلْ اور فِعْلْ، یہ چھ اوزان ہیں، اور آپ مجھے بتائیے مَفْعَلْ وزن افعال میں کبھی آپ نے پڑھا کہ شروع میں میم آ رہا ہو؟ مَفْعَلْ، نہیں، کوئی فعل ایسا ہم نے نہیں پڑھا جس کے شروع میں کیا آ رہا ہو؟ میم آ رہا ہو۔ فُعَالْ وزن پر بھی کوئی فعل نہیں، جتنی گردانیں ہیں آپ اس میں غور کر لیں۔ فَعَالْ وزن پر بھی کوئی فعل نہیں، فُعَلْ وزن پر بھی کوئی فعل نہیں، فُعِلَ تو ہے: ضُرِبَ، فُعِلَ تو ہے لیکن فُعَلْ وزن پر کوئی نہیں۔ اور فَعْلْ اور فِعْلْ کہ عین ساکن ہو ایسا بھی کوئی فعل ہم نے کبھی نہیں پڑھا، تو یہ اس کے اوزان ہیں اور یہ ان میں سے کوئی بھی فعل والا وزن نہیں اس لیے یہ فعل کے ساتھ جمع بھی نہیں ہوتے۔ تو اگر یہ شعر یاد کر لیں اچھی بات ہے نہیں تو کم از کم یہ چھ اوزان آپ کو یاد ہونے چاہئیں بھئی۔
اسی لیے کہا: وَلَا يَجْتَمِعُ مَعَ وَزْنِ الْفِعْلِ أَصْلًا اور یہ جمع نہیں ہوتا وزنِ فعل کے ساتھ قطعی طور پر، اصلاً قطعی طور پر یعنی کبھی بھی، وَيَجْتَمِعُ مَعَ الْعَلَمِيَّةِ اور جمع ہو جاتا ہے علمیت کے ساتھ۔ چلیے بس کرتے ہیں، باقی پھر اگلے سبق میں پڑھیں گے۔
خلاصہ کلام یہ کہ عدل کا معنی ہے پھیرنا، اور پھیرنا یعنی لفظ کو صیغہ اصلیہ سے پھیر کر اس کو نیا نئی صورت دے دینا، نیا صیغہ بنا دینا، اور یہ دو قسم پر ہے: ایک عدلِ تحقیقی اور ایک عدلِ تقدیری۔ عدلِ تحقیقی وہ ہے جس میں ہمارے پاس باقاعدہ دلیل موجود ہو کہ پہلے یہ تھا اب یہ بن گیا ہے نیا صیغہ، کیا موجود ہو باقاعدہ؟ دلیل موجود ہو، بغیر دلیل کے نہ ہو، یہ ہے عدلِ تحقیقی۔ اور دوسرا ہے عدلِ تقدیری جس کی ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہ ہو، نحویوں نے اپنے ضابطے کو بچانے کے لیے اس میں کس کو فرض کر لیا؟ عدل کو، تو وہ عدلِ تقدیری ہے۔ اور پھر آپ نے یہ پڑھا کہ یہ وزنِ فعل کے ساتھ کبھی بھی جمع نہیں ہوتا اس لیے کیونکہ عدل کے اپنے اوزان ہیں، جہاں جہاں جن لفظوں میں بھی عدل ہوا ہوگا آپ دیکھیں گے وہ ان چھ وزنوں میں سے کوئی وزن ہوگا، ہر جگہ عدل نہیں ہوگا، جہاں بھی عدل ہوا ہوگا کس میں ہوگا؟ ان یہ جو چھ مَفْعَلْ، فُعَالْ اور فَعَالْ، اور فُعَلْ، اور فِعْلْ اور فَعْلْ یہ جو چھ وزن ہیں وہ لفظ اسی وزن پر ہوں گے، وہ لفظ اسی وزن پر ہوں گے جن کے اندر کیا مانا گیا؟ عدل مانا گیا، ان کے علاوہ کوئی نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے دیکھو عُمَرُ کے اندر عدل مانتے ہیں اور یہ اوزانِ عدل میں سے ہے یا نہیں؟ دیکھا: عُمَرُ، فُعَلْ۔ تو جہاں جہاں بھی عدل ہوگا وہ انہی چھ اوزان میں سے وہ لفظ ہوگا اس کے علاوہ نہیں ہوگا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔