Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

هداية النحو جديد · dars-001

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 19 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 90
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی، آئیے شروع میں دعا پڑھ لیں۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ رَبَّنَا يَسِّرْ لَنَا هَٰذَا الْكِتَابَ وَلَا تُعَسِّرْهُ وَتَمِّمْهُ بِالْخَيْرِ وَبِكَ نَسْتَعِينُ، يَا فَتَّاحُ يَا عَلِيمُ۔ رَبَّنَا يَسِّرْ لَنَا هَٰذَا الْعِلْمَ وَلَا تُعَسِّرْهُ وَتَمِّمْهُ بِالْخَيْرِ وَبِكَ نَسْتَعِينُ، يَا فَتَّاحُ يَا عَلِيمُ۔ رَبَّنَا يَسِّرْ لَنَا هَٰذَا الْفَنَّ وَلَا تُعَسِّرْهُ وَتَمِّمْهُ بِالْخَيْرِ وَبِكَ نَسْتَعِينُ، يَا فَتَّاحُ يَا عَلِيمُ۔ آمِينَ، آمِينَ، ثُمَّ آمِينَ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَبَارِكْ وَسَلِّمْ۔ اچھا بھئی، اب کتاب پر دیکھیے بھئی۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ، وَالصَّلَاةُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ۔ أَمَّا بَعْدُ: فَهَٰذَا مُخْتَصَرٌ مَضْبُوطٌ فِي النَّحْوِ، جَمَعْتُ فِيهِ مُهِمَّاتِ النَّحْوِ عَلَىٰ تَرْتِيبِ الْكَافِيَةِ، مُبَوَّبًا وَمُفَصَّلًا بِعِبَارَةٍ وَاضِحَةٍ، مَعَ إِيرَادِ الْأَمْثِلَةِ فِي جَمِيعِ مَسَائِلِهَا مِنْ غَيْرِ تَعَرُّضٍ لِلْأَدِلَّةِ وَالْعِلَلِ، لِئَلَّا يُشَوِّشَ ذِهْنَ الْمُبْتَدِي عَنْ فَهْمِ الْمَسَائِلِ، وَسَمَّيْتُهُ بِهِدَايَةِ النَّحْوِ، رَجَاءَ أَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ تَعَالَىٰ بِهِ الطَّالِبِينَ، وَرَتَّبْتُهُ عَلَىٰ مُقَدِّمَةٍ وَثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ وَخَاتِمَةٍ، بِتَوْفِيقِ الْمَلِكِ الْعَزِيزِ الْعَلَّامِ۔ اچھا بھئی، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ بسم اللہ کے بارے میں ایک نکتہ، ایک بڑا خوبصورت اور پیارا نکتہ یاد رکھیے بھئی۔ دیکھیے! بسم اللہ کے اندر لفظِ اللہ آیا، اس کے بعد الرحمن آیا، اس کے بعد الرحیم آیا۔ تو یاد رکھیے، یہ لفظِ اللہ جو ہے یہ ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے عَلَم ہے۔ جس طرح انسانوں کے اندر کسی کا نام زید ہے، کسی کا نام بکر ہے، کسی کا نام خالد ہے، اسی طرح یہ جو لفظِ اللہ ہے یہ ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے عَلَم ہے یعنی نام ہے۔ اور لفظِ اللہ کے اندر کوئی نکتہ نہیں بھئی، کوئی نکتہ نہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح یہ نام کسی نکتے سے پاک ہے، اسی طرح وہ ذات جس کا یہ نام ہے وہ ذات بھی ہر طرح کے عیبوں سے بالکل پاک ہے بھئی، وہ ذات بھی ہر طرح کے عیبوں سے بالکل پاک ہے۔ اس کے بعد لفظِ اللہ کی ایک صفت آئی الرحمن اور دوسری صفت آئی الرحیم۔ الرحمن کے اندر ایک نکتہ ہے بھئی صرف نون میں، الرحیم کے اندر دو نقطے ہیں یاء کے۔ تو الرحمن کے اندر ایک نکتہ لا کر گویا اس بات کی طرف اشارہ کر دیا گیا کہ یہ صفت صرف خاص ہے اللہ تعالیٰ کے لیے، یعنی یہ صفت خاص ہے صرف خالق کے لیے۔ تو یہ رحمن صفت جو ہے یہ خالق کے لیے استعمال ہوتی ہے، مخلوق کے لیے یہ صفت استعمال نہیں ہوتی۔ تو یہ ایک نقطے میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ صفت کس کے ساتھ خاص ہے؟ خالق کے ساتھ۔ جبکہ الرحیم کے اندر دو نقطے ہیں، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح یہ لفظ یہ صفت بن سکتی ہے خالق کے لیے، اسی طرح یہ صفت بن سکتی ہے مخلوق کے لیے بھی بھئی۔ چنانچہ اسی لیے قرآن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان کرتے ہوئے اللہ فرماتے ہیں: ”وَبِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ“۔ تو دیکھیے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بیان ہو رہی ہے رحیم بھئی رحیم۔ تو معلوم ہوا یہ لفظ خالق کے ساتھ بھی بولا جا سکتا ہے اور مخلوق کے لیے بھی بھئی، مخلوق کے لیے۔ ”الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“۔ تمام تعریفیں جو ہیں ”لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ“ اس اللہ کے لیے جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔ ”وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ“ اور انجام ہے متقیوں کے لیے۔ بھئی انجام تو ہر ایک کا ہونا ہے، چاہے متقی ہو چاہے غیر متقی ہو، تو پھر کیا معنی کہ وہ انجام ہے متقیوں کے لیے؟ جواب یہ کہ یہاں مضاف محذوف ہے: ”أَيْ: حُسْنُ الْعَاقِبَةِ لِلْمُتَّقِينَ“ یا ”خَيْرُ الْعَاقِبَةِ لِلْمُتَّقِينَ“، یعنی اچھا انجام ہے کس کے لیے؟ متقیوں کے لیے، متقیوں کے لیے۔ یا یہاں صفت محذوف نکال لیں: ”وَالْعَاقِبَةُ الْحَسَنَةُ لِلْمُتَّقِينَ“، اچھا انجام ہے کس کے لیے؟ متقیوں کے لیے۔ ”وَالصَّلَاةُ عَلَىٰ رَسُولِهِ“ اور رحمت نازل ہو اس اللہ کے پیغمبر پر، ”مُحَمَّدٍ“ جن کا نام محمد ہے، ”وَآلِهِ“ اور ان کی آل پر۔ آل سے مراد ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل سے مراد ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے، اتباع کرنے والے، اور ان کے راستے پر چلنے والے، یعنی تمام متقی مومنین بھئی، تمام متقی مومنین۔ تو رحمت نازل ہو اللہ کے پیغمبر پر محمد جن کا نام محمد ہے، اور ان کی آل پر، ”وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ“ اور ان کے صحابہ پر سب کے سب، اور ان کے تمام صحابہ پر بھئی، تمام صحابہ پر۔ تو ”أَصْحَابِهِ“ کے بعد ”أَجْمَعِينَ“ لا کر شیعوں کا رد کر دیا گیا بھئی۔ شیعہ صرف دو چار صحابہ کو مانتے ہیں اور کسی کو نہیں مانتے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور الحمد للہ ثم الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے بھئی، صحابہ کی۔ تو شیعوں کا رد کرنے کے لیے کیا کہا؟ ”وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ“ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ پر رحمت نازل ہو۔ بھئی صحابہ نہایت مبارک لوگ ہیں بھئی، جن کو اللہ نے چن لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لیے۔ اور یاد رکھو، صحابہ پر اعتراض دراصل براہِ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی اعتراض ہے، اس لیے کیونکہ صحابہ شاگرد ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ اور شاگرد نیک ہوں، ماہر ہوں، اچھے ہوں، متقی ہوں، یہ علامت ہوتی ہے اس بات کی کہ معلوم ہوا ان کا استاد بھی بڑا ماہر، نیک، متقی انسان ہے۔ اور اگر شاگرد ہی بیکار اور خراب ہوں تو اس سے پتہ چلتا ہے، ہر دیکھنے والا یہی کہتا ہے کہ معلوم ہوا ان کا استاد بھی انہی کی طرح تھا۔ تو صحابہ کو اگر خراب کہا جائے اور ان کا انکار کیا جائے گا تو دراصل یہ اعتراض ہے کس پر؟ براہِ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ لیکن الحمد للہ ہمیں اللہ نے صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے بھئی، صحابہ کی محبت۔ آپ کو آج کم از کم دو دو رکعت نفل اس بات پر ادا کرنے چاہییں، اس نعمت پر کہ اللہ نے آپ کو صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے۔ صحابہ کا واسطہ ہے تو ہمارا ایمان محفوظ ہے، ہمارا دین محفوظ ہے۔ اس لیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین جو نقل ہوا، سب سے پہلے نقل کرنے والے صحابہ ہیں، انہوں نے حضور علیہ السلام کو دیکھا اور اگلی نسلوں کی طرف وہ باتیں ساری کیا کر دیں؟ منتقل کر دیں۔ تو اگر صحابہ کا واسطہ بیچ میں سے نکال دو تو پھر دین کو نقل کرنے والا کون؟ پھر تو نقل کرنے والا کوئی رہا ہی نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جب پہلا واسطہ ہی نا قابلِ اعتبار ہوا، معلوم ہوا انہوں نے جتنی حدیثیں بیان کیں، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں بیان کیں، جو دین بیان کیا، معلوم ہوا وہ سارے نا قابلِ اعتماد ہو گئے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو صحابہ جو ہیں وہ تو عظیم لوگ ہیں جن کو اللہ نے یہ عظیم شرف نصیب فرمایا کہ پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام کی رفاقت کے لیے اور ان کی خدمت کے لیے ان کو چن لیا بھئی، خدمت کے لیے۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے بھئی، کوئی بڑے سے بڑا ولی بھی ادنیٰ درجے کے صحابی کے مقام کو اور مرتبے کو کبھی نہیں پہنچ سکتا بھئی۔ صحابی کا مقام اتنا اونچا ہے بھئی، صحابی کا مقام اتنا اونچا ہے۔ اور یہ مقام اس کو حاصل ہوا اس لمحے کی بدولت کہ اس نے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے بھئی۔ اللہ نے اس کو یہ عظیم شرف بخشا کہ اس نے کیا کیا؟ ایمان کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور ان کا فیض اٹھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے انوارات اس پر پڑے بھئی۔ تو اسی لیے کہا: ”وَالصَّلَاةُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ“ اور رحمت نازل ہو اللہ کے پیغمبر محمد پر اور ان کے پیروی کرنے والے متقی مومنین پر اور تمام صحابہ پر۔ ”أَمَّا بَعْدُ“: حمد و صلاۃ کے بعد، حمد و صلاۃ کے بعد۔ یاد رکھیے یہ ”أَمَّا بَعْدُ“ بھئی، ”أَمَّا بَعْدُ“ کا لفظ جو ہے یہ آپ دیکھیں گے، آپ دیکھتے ہیں کہ علماء استعمال کرتے ہیں اپنے خطبوں میں، تقاریر کے اندر بھی، اور اپنی کتابوں وغیرہ کے اندر بھی، اور خطوط وغیرہ کے اندر بھی۔ یاد رکھیے یہ لفظ استعمال کرنا خطوط کے اندر، کتابوں کے اندر، اور خطبات وغیرہ کے اندر یہ سنت ہے بھئی، سنت ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسی طرح خلفائے راشدین وغیرہ سے اس کا استعمال ثابت ہے بھئی۔ تو علماء نے اس پر لکھا ہے کہ سب سے پہلے یہ لفظ کس نے استعمال کیا؟ کس نے استعمال کیا؟ تو بعض علماء نے لکھا کہ یہ لفظ سب سے پہلے حضرت یعقوب علیہ السلام نے استعمال کیا، جو والد ہیں حضرت یوسف علیہ الصلاۃ والسلام کے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا واقعہ مشہور ہے بھئی اور آپ نے بھی سنا ہوگا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام جو تھے ان کے بیٹے تھے کافی، اور ان کو سب سے زیادہ محبت جو تھی حضرت یوسف علیہ السلام سے تھی۔ تو باقی بھائیوں کو اس بات سے بڑی تکلیف ہوتی کہ یہ حضرت یوسف علیہ السلام سے سب سے زیادہ محبت کیوں کرتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام چھوٹے سے تھے، تو حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھئی بچپن میں اپنے ساتھ والد صاحب کی منت سماجت کر کے لے گئے اور پھر وہاں ان کو کنویں کے اندر ڈال دیا، اور واپس آ کر بتلایا والد صاحب کو کہ ان کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔ ادھر حضرت یوسف علیہ السلام کنویں کے اندر اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی اور ایک قافلہ گزر رہا تھا وہاں سے، انہوں نے کنویں کے اندر ڈول لٹکایا پانی نکالنے کے لیے تو ان کو معلوم ہوا کہ اندر تو ایک بچہ ہے بھئی۔ چنانچہ وہ ان کو نکال کر اپنے ساتھ لے گئے اور پھر ان کو غلام بنا کر بیچ دیا، اور پھر ہوتے ہوتے ایک وقت یہ آیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے حکمران بن گئے بھئی۔ اور اس زمانے کے اندر مصر کے اندر بڑا قحط آیا اور کئی سال تک یہ قحط رہا، اور یہ ایک خواب کے ذریعے پہلے ہی اللہ کی طرف سے بتلا دیا گیا تھا کہ قحط آنے والا ہے، چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے پہلے سے ہی غلے کو محفوظ کرنے کا انتظام فرما لیا۔ چنانچہ جب قحط شروع ہوا، لوگوں کے پاس اناج غلہ وغیرہ ختم ہو گیا کھانے کے لیے کچھ نہیں، اور حضرت یوسف علیہ السلام جو ادھر مصر کے حکمران تھے انہوں نے بہت غلہ محفوظ کیا ہوا تھا بھئی۔ تو چنانچہ لوگ ان کے پاس غلہ لینے کے لیے آنے لگے۔ ادھر حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو اس بات کا علم نہیں کہ یہ جو مصر کے حکمران ہیں یہ ہمارے وہی بھئی ہیں جن کو ہم نے کنویں میں ڈالا تھا، کیونکہ اتنے سال گزر گئے اور اتنے سال گزر گئے تھے ان کا خیال بھی نہیں تھا کہ یہ وہاں سے زندہ بچ کر چلے گئے ہوں گے۔ تو یہ بھی اپنے والد سے اجازت لے کر کہ ہم غلہ لے کر آتے ہیں، مصر کا حکمران نیک انسان ہے وہ سب کو غلہ دے رہا ہے ہمیں بھی غلہ دے دے گا، چنانچہ یہ سارے بھئی مل کر حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوئے، لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ پہچان نہ سکے کیونکہ اتنا طویل عرصہ گزر گیا تھا، وہ بڑے ہو گئے تھے، داڑھی وغیرہ بھی آ گئی ہے، صورت بدل گئی ہے، پہچان نہیں پائے کہ حضرت یوسف علیہ السلام ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کو پہچان لیا، مگر انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو نہ پہچانا۔ تو ان کو بھی یہ جتنے افراد تھے ان کو غلہ وغیرہ دیا، انہوں نے اپنے ایک بھئی کے لیے بھی غلہ مانگا جس کو وہ ساتھ لے کر نہیں آئے تھے، جن کا نام بنیامین تھا بھئی۔ بنیامین جو تھے یہ حضرت یوسف علیہ السلام کے سگے بھئی تھے، یعنی ماں باپ شریک یوں کہیں۔ بھئی یاد رکھیے، حضرت یعقوب علیہ السلام کی کئی بیویاں تھیں، اور جس بیوی سے حضرت یوسف علیہ السلام تھے اسی سے ایک اور بیٹا بھی تھا جس کا نام بنیامین تھا، یعنی حضرت یوسف علیہ السلام اور بنیامین جو تھے ان کی ماں بھی ایک ہی تھی، ماں بھی ایک ہی تھی۔ تو حضرت یوسف علیہ السلام کے گم ہو جانے کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام بے انتہا غمزدہ رہتے اور دن رات روتے رہتے تھے، یہاں تک کہ روتے روتے ان کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی اور وہ نابینا ہو گئے۔ اور یہ جو بنیامین تھے ان کو وہ ہمیشہ اپنے پاس رکھتے تھے کیونکہ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کے سگے بھئی تھے، ان کی ماں بھی ایک ہی تھی، تو اس کے ذریعے وہ اپنے دل کو قرار اور سکون دیا کرتے تھے بھئی جب بھی انہیں یوسف علیہ السلام یاد آتے۔ تو یہ جو بھئی آئے تھے، انہوں نے غلہ لے لیا تو اپنے بھئی بنیامین کے بارے میں، تو یہ بھئی جب غلہ لینے کے لیے آنے لگے تو والد نے بنیامین کو بھیجنے سے انکار کر دیا کہ نہیں بھئی، تم غلہ لینے تم سب جاؤ لیکن بنیامین کو میں نہیں بھیجوں گا، پہلے بھی تم اسے اپنے ساتھ لے گئے تھے، یوسف کو ساتھ لے گئے تھے اور اس کو تم نے گموا دیا، تو مجھے خطرہ ہے کہیں اس کو بھی نہ گموا آؤ۔ چنانچہ اس کے بغیر ہی گئے تھے، تو انہوں نے وہاں بادشاہ سے کہا کہ ہمارا ایک بھئی ہے ہم اس کو اپنے ساتھ نہیں لا سکے، اس کے لیے بھی غلہ دے دیں۔ تو اس مرتبہ تو ان کے لیے وہ غلہ دے دیا، لیکن ساتھ ہی ان کو کہہ دیا گیا کہ بھئی اگلی مرتبہ آؤ گے غلہ لینے تو اس بھئی کو ساتھ لے کر آنا ورنہ اس کے حصے کا غلہ تمہیں نہیں ملے گا۔ چنانچہ یہ غلہ لے گئے اور پھر دوبارہ جب وہ غلہ ختم ہونے لگا، دوبارہ یہ آنے لگے تو انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ ابا جان! ہم نے وہاں وعدہ کیا تھا کہ اگلی مرتبہ اپنے اس بھئی کو لے کر آئیں گے، تو آپ بنیامین کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، ہم اس کا بہت خیال رکھیں گے اور کسی صورت اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچنے دیں گے، اس کو گم نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن حضرت یعقوب علیہ السلام نے بڑی سختی سے انکار کر دیا کہ نہیں، میں تم پر اعتماد نہیں کر سکتا، تم نے پہلے بھی میرے ایک بیٹے کو گموا دیا، آخر بڑی منت سماجت کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کو اجازت دے دی بنیامین کو لے جانے کی۔ تو یہ بنیامین کو لے کر حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچے۔ اب حضرت یوسف علیہ السلام جو تھے اپنے اس بھئی کو اپنے پاس روکنا چاہتے تھے، چنانچہ انہوں نے اس کا طریقہ یہ کیا، غلاموں وغیرہ کو اپنے غلاموں کو سمجھا دیا، انہوں نے ایک شاہی پیالہ، سونے اور جواہرات جس پر سونا اور جواہرات لگے ہوئے تھے، وہ پیالہ بنیامین کے سامان میں چھپا دیا۔ ان کے سامان میں چھپا دیا اور پھر شور مچ گیا، شور مچا دیا کہ ایک پیالہ بادشاہ کا ایک پیالہ گم ہو گیا ہے۔ اور چنانچہ سارے لوگوں کی تلاشی لی گئی تو کسی کے سامان سے پیالہ نہیں مل رہا، اب ان کے ان بھائیوں کی باری آئی تو ان کی بھی تلاشی لینے لگے، تو ان کے بھائیوں نے کہا کہ ہم کیوں تلاشی دیں؟ ہم تو پیغمبروں کی اولاد ہیں، ہمارا خاندان تو ہمارے خاندان میں تو نبوت چلی آ رہی ہے، ہم میں سے کبھی کسی نے چوری آج تک نہیں کی، تو ہم تلاشی نہیں دیں گے۔ لیکن انہوں نے کہا: نہیں، تلاشی تو تمہیں ہر حال میں دینا پڑے گی، بادشاہ کا بہت قیمتی پیالہ گم ہوا ہے، اور اگر یہ پیالہ تمہارے سامان سے نکل آیا پھر؟ تم تو کہہ رہے ہو ہم نے کبھی چوری نہیں کی، اور اگر تمہارے سامان سے نکل آیا پھر اس کی کیا سزا ہوگی؟ یاد رکھیے، یہ جو حضرت یعقوب علیہ السلام وغیرہ کی شریعت میں چور کی سزا یہ ہوتی کہ اگر کوئی چور پکڑا جاتا تو وہ جس سے چوری کی ہے، جس کا مال چرایا ہے، اسی کا غلام اس کو بنا دیا جاتا تھا، سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ اس کا مالک بن جایا کرتا تھا۔ تو چنانچہ ادھر اب پیالہ نہیں مل رہا، ان سے کہا بھئی اگر چور پکڑا جائے اس کی سزا کیا ہوگی؟ تم کہہ رہے ہو ہمارے سامان میں پیالہ نہیں ہے، اگر تمہارے سامان سے نکل آیا پھر کیا سزا ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ جس کے سامان سے نکلا وہ اس کو غلام بنا دیا جائے گا اس بادشاہ کا جس کی چوری کی ہے اس نے۔ تو جب تلاشی لی تو بنیامین کے سامان میں سے وہ پیالہ نکل آیا کیونکہ انہوں نے خود ہی غلاموں نے اس کے اندر چھپایا ہوا تھا۔ تو اب تو یہ بھئی سارے بڑے پریشان ہوئے کہ بنیامین اب تو بادشاہ کا غلام بن جائے گا، اس کو اب ہمیں یہیں چھوڑنا پڑے گا، اب ہم کیا کریں؟ اب تو ہم اپنے والد کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، وہ پہلے ہی ہم پر اعتماد نہیں کر رہے تھے کہ ایک بھئی کو گم کر دیا دوسرے کو میں لے جانے نہیں دوں گا، کتنے وعدے اور قسمیں کھا کر ہم ان سے یہ بھئی کو لے کر آئے تھے۔ تو بڑی منت سماجت کی کہ کسی طرح ہم اس کو لے جاتے ہیں، لیکن اجازت نہیں دی گئی کہ نہیں بھئی، تم نے خود کہا تھا کہ یہ اس کا غلام ہوگا، وہ جو مصر کا یہ قانون نہیں تھا کہ وہ غلام بنا لیا جاتا تھا، لیکن حضرت یعقوب علیہ السلام وغیرہ کی شریعت میں کیا تھا؟ اسی کا غلام۔ تو دیکھو کیسی ترکیب اللہ نے ان کے ذہن میں ڈال دی کہ خود ہی ان سے پہلے پوچھ لیا کہ ہاں تم بتاؤ کیا سزا ہوگی اس چور کی؟ اپنے قانون کے مطابق تو اس کو غلام نہیں بنا سکتے تھے، لیکن انہی سے جب پوچھ لیا انہوں نے خود ہی کہہ دیا جی وہ کیا ہوگا؟ غلام بنا لیا جائے گا، اب وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے، خود اپنی زبان دے چکے ہیں سب کے سامنے بھئی۔ چنانچہ بنیامین کو روک لیا، ادھر یہ بھئی بڑے پریشان، نہایت غمزدہ، کوئی صورت سمجھ نہیں آ رہی، اب کریں تو کیا کریں؟ ابا جان کو جا کر کیا منہ دکھائیں گے ہم؟ لیکن بہرحال والد صاحب کی طرف چل پڑے، لیکن ایک بھئی یہیں رہ گیا، اس نے کہا: نہیں، میں تو کسی صورت اپنے والد کا سامنا نہیں کر سکتا، کتنی مشکل سے، کتنی قسمیں اور وعدے کیے تھے ہم نے ان کے سامنے اور ہمارے ہاتھ سے دوسرا بیٹا بھی ان کا نکل گیا، تو کیا منہ لے کر ہم ان کے سامنے جائیں؟ وہ تو شرم کی وجہ سے وہ گئے ہی نہیں، باقی بھئی آ گئے۔ اور آ کر حضرت یعقوب علیہ السلام کو بتلایا کہ ابا جان! اس طرح اس طرح واقعہ وہاں پیش آیا۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام جلال میں آ گئے بھئی، اور انہوں نے عزیزِ مصر کو ایک خط لکھا۔ اس خط کے اندر کہتے ہیں سب سے پہلے انہوں نے لفظِ ”أَمَّا بَعْدُ“ استعمال کیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ اتنی لمبی تفصیل بتانے کا مقصد کیا تھا؟ کہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے سب سے پہلے ”أَمَّا بَعْدُ“ کا لفظ استعمال کیا، ان کا وہ جو خط ہے وہ کتابوں کے اندر نقل ہوتا ہے، علماء اس کو ذکر کرتے ہیں اس میں ”أَمَّا بَعْدُ“ کا لفظ ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے خط کے اندر لکھا: اے عزیزِ مصر! یاد رکھ، ہمارا خاندان پیغمبروں والا خاندان ہے، ہمارے خاندان کے اندر پشت ہا پشت سے نبوت چلی آ رہی ہے، اور ہمارے خاندان میں ہمیشہ نیک اور متقی لوگ پیدا ہوتے ہیں، اور ہمارے خاندان والوں میں سے کسی نے آج تک چوری نہیں کی، آج تک ہم نے کسی چور کو جنم نہیں دیا، اور میرا یہ خط جیسے ہی تجھے ملے فوراً میرے اس بیٹے کو چھوڑ دے اور اس کو میری طرف بھیج دے، ورنہ یاد رکھ اگر تو نے فوراً میرے بیٹے کو نہ بھیجا تو میں تمہارے لیے ایسی بددعا کروں گا کہ تمہاری سات نسلیں جو ہیں سات پشتیں بھی اس بددعا کو یاد رکھیں گی اور اس کے اثر کو محسوس کریں گی۔ چنانچہ کہتے ہیں یہ خط جب حضرت یوسف علیہ السلام کو ملا تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ پکار اٹھے کہ میں ہی یوسف ہوں، میں ہی یوسف ہوں، بھائیوں کو بتلا دیا۔ اور پھر اپنی قمیص دے کر بھیجا کہ یہ قمیص جو ہے میری لے جاؤ اور میرے والد صاحب کی آنکھوں پر اور چہرے پر لگا دینا، ان کی ان شاء اللہ بینائی واپس آ جائے گی۔ چنانچہ قمیص لائی گئی، حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر لگائی، آنکھوں پر لگائی گئی تو فوراً ان کی بینائی واپس آ گئی اور پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے ان سب کو اپنے پاس وہاں بلوا لیا بھئی۔ تو یہ سب سے پہلے یہ لفظ کس نے استعمال کیا؟ تو یہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ لفظ استعمال کیا۔ جبکہ بعضوں نے کہا کہ یہ لفظ سب سے پہلے استعمال کرنے والے سَحْبَان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ سحبان یہ خطیب تھے عرب کے بہت بڑے، اور حضور علیہ السلام کے زمانے میں بھی اور بعد میں بھی یہ تھے، اور بہت بڑے خطیب تھے۔ ان کو اللہ نے خطابت کا عظیم ملکہ نصیب فرمایا تھا اور نہایت فصیح و بلیغ تھے بھئی، نہایت فصیح و بلیغ تھے۔ اللہ نے ان کو فصاحت و بلاغت کے اندر اتنا اونچا مقام دیا تھا کہ پورے عرب میں ان کا نام گونجتا تھا بھئی، اور ان کا نام ضرب المثل بن گیا تھا، ضرب المثل بن گیا تھا بطورِ مثال کہ ان کا نام ذکر کیا جاتا تھا کہ کوئی فصیح و بلیغ ہو تو سحبان کی طرح ہو۔ ان کا نام باقاعدہ ضرب المثل بن گیا بھئی۔ آج بھی، آج بھی عربی زبان میں کوئی بڑا ہی فصیح و بلیغ ہو تو کہتے ہیں: ”فُلَانٌ أَفْصَحُ مِنْ سَحْبَانَ“ کہ فلاں تو سحبان سے بھی زیادہ کیا ہے؟ فصیح ہے۔ تو دیکھو ہر جگہ فصاحت جہاں فصاحت کا ذکر ہوتا ہے ان کے نام کو بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ تو یہ ان کی فصاحت و بلاغت کا ایک واقعہ سنیے! ایک مرتبہ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں ان کے پاس تشریف لائے، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اس وقت اور بھی عرب کے بڑے بڑے خطیب موجود تھے، لیکن جب انہوں نے سحبان کو دیکھا تو ایک ایک کر کے خاموشی سے وہاں سے نکل گئے کیونکہ وہ جانتے تھے وہ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے، ان کو اللہ نے بہت اونچا مقام دیا ہے فصاحت و بلاغت میں۔ تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ اے سحبان! تم ہمارے سامنے بھی تقریر کرو کچھ، ہم نے تمہاری فصاحت و بلاغت کی بڑی تعریف سنی ہے تو ہمارے سامنے بھی کچھ بیان کرو ہم بھی سن لیں۔ تو حضرت سحبان نے ایک عصا منگوایا یعنی ایک لاٹھی، اور اس پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور تقریر شروع کر دی۔ کہتے ہیں ظہر کے بعد تقریر شروع کی تھی اور ظہر کے بعد سے مسلسل بولتے جا رہے ہیں، تقریر کرتے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ قریب تھا کہ عصر کی نماز فوت ہو جاتی تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پکارے کہ نماز کا وقت ہے، تو حضرت سحبان فرمانے لگے کہ میں تو وعظ و نصیحت کے اندر مشغول تھا، وعظ و نصیحت کی وجہ سے میں نماز سے غافل ہو گیا تھا۔ اور دیکھیے کتنے ظہر سے لے کر عصر تک تقریر کر رہے ہیں، لیکن کہتے ہیں اس دوران وہ ایک مرتبہ بھی تقریر کے اندر نہیں رکے، کہیں پر نہیں کھنکھارے، کہیں پر نہیں کھانسے، اور ایسا نہیں کہ ایک موضوع کو چھوڑ کر کسی دوسری بات کی طرف چلے گئے ہوں، جس بات کو شروع کرتے تھے اختتام تک پہنچاتے تھے اور جب تک اس کو پورا نہیں کر لیتے تھے دوسری بات کی طرف منتقل نہیں ہوتے تھے، اور اس پوری تقریر میں کہیں نہیں کھنکھارے، کہیں نہیں کھانسے، حالانکہ خطیب حضرات کی عادت ہوتی ہے کہ جہاں پر ذرا تقریر میں پھنسنے لگے، رکنے لگے تو فوراً کھنکھارنا شروع کر دیتے ہیں، وہ چند لمحے ان کو میسر آ جاتے ہیں اور ذہن پھر تقریر کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور پھر وہ آگے بات شروع کر دیتے ہیں، یا کھنکھارنے لگتے ہیں یا پھر کھانسنے لگتے ہیں، چند لمحے مل جاتے ہیں اور پھر وہ دوبارہ اسی طرح تقریر شروع کر دیتے ہیں، لیکن وہ ایک مرتبہ بھی نہیں کھنکھارے، ایک مرتبہ بھی نہیں کھانسے بھئی۔ تو بعض علماء نے لکھا کہ یہ جو سحبان تھے انہوں نے سب سے پہلے ”أَمَّا بَعْدُ“ کا لفظ استعمال کیا، لیکن علماء لکھتے ہیں یہ قول ضعیف ہے، اس لیے کیونکہ یہ تو کیونکہ ”أَمَّا بَعْدُ“ کا لفظ تو حضور علیہ السلام نے بھی استعمال فرمایا ہے اور صحابہ کرام نے بھی استعمال فرمایا ہے، تو سحبان تو ان کے زمانے اور ان کے بعد کے زمانے کے ہیں، تو یہ تو ان سے پہلے کون استعمال فرما رہے ہیں؟ حضور علیہ السلام بھی اور آپ کے صحابہ بھی۔ چلیے، بس کرتے ہیں بھئی، باقی پھر اگلے سبق میں پڑھ لیں گے بھئی۔ بس بھئی، ”هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
104 approved lectures · 1 of 104
Current dars-001
Next ▶ Last ⏭