Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح الجامي · dars-057

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Ammar Ahsan
📍 Location Karachi, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 66
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی آگے سبق: فَالْعَدْلُ مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ أَيْ كَوْنُ الِاسْمِ مَعْدُوْلًا، خُرُوْجُهُ أَيْ خُرُوْجُ الِاسْمِ أَيْ كَوْنُهُ مُخْرَجًا عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ أَيْ عَنْ صُوْرَتِهِ الَّتِيْ يَقْتَضِي الْأَصْلُ وَالْقَاعِدَةُ أَنْ يَّكُوْنَ ذٰلِكَ الِاسْمُ عَلَيْهَا۔ گزشتہ سبق میں غیر منصرف کا بیان چل رہا تھا۔ اور صاحبِ قافیہ نے آپ کو بتلایا کہ غیر منصرف کا حکم یہ ہے کہ اس پر نہ کسرہ آتا ہے اور نہ تنوین آتی ہے۔ اور غیر منصرف کو منصرف کرنا یعنی منصرف پڑھنا بھی جائز ہے ضرورت کی وجہ سے یا تناسب کی وجہ سے۔ تو اس پر اشکال ہوا تھا کہ وَيَجُوْزُ صَرْفُهُ کہ غیر منصرف کا منصرف پڑھنا جائز ہے، اور آگے دو وجہیں ذکر ہوئی تھیں: لِلضَّرُوْرَةِ أَوْ لِلتَّنَاسُبِ، ضرورت کی وجہ سے یا تناسب کی وجہ سے۔ اور ضرورت سے مراد ہے ضرورتِ شعری۔ اور ضرورتِ شعری کی وجہ سے تو غیر منصرف کو منصرف پڑھنا جائز نہیں ہوتا بلکہ واجب ہوتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر شعر کا وزن ٹوٹ جاتا ہے۔ اوپر کہا وَيَجُوْزُ، جائز ہے اس کو منصرف پڑھنا، اور آگے لِلضَّرُوْرَةِ سے پتہ چلا کہ اس کا پڑھنا ضروری ہے۔ تو ضروری جو ہوا وہ تو جائز کے اندر داخل نہیں ہوگا۔ جائز کا تو معنی کیا سمجھ میں آتا ہے؟ کہ جس کا کرنا، نہ کرنا برابر ہو، یعنی اس کا کرنا ضروری نہ ہو بھئی۔ تو صاحبِ جامی نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ يَجُوْزُ جو ہے لَا يَمْتَنِعُ کے معنی میں ہے۔ یعنی يَجُوْزُ یہاں يُمْكِنُ کے معنی میں ہے، ممکن ہے اس کی صرف بھی، غیر منصرف کی صرف بھی ممکن ہے بھئی۔ تو امکان آگیا اور امکان دو قسم پر ہے: ایک امکانِ عام، ایک امکانِ خاص۔ امکانِ عام کہتے ہیں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی۔ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی، یعنی جانبِ مخالف ضروری نہیں ہے۔ مثلاً ایک ہے وجود اور ایک ہے عدم۔ ایک ہے وجود اور ایک ہے عدم۔ جب وجود کا امکان ذکر کیا جائے کہ یہ چیز ہو سکتی ہے، تو اس کی جانبِ مخالف کیا؟ عدم۔ معلوم ہوا عدم ضروری نہیں۔ عدم ضروری نہیں، اور یہ جو وجود ہے یہ چاہے ضروری ہو یا نہ ہو، دونوں اس کے اندر آگئے۔ بس عدم ضروری نہیں ہے۔ تو اس کو امکانِ عام کہتے ہیں بھئی، جس میں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے۔ اور دو جانبیں کون کون سی ہیں؟ میں نے بتلا دیا: ایک ہے وجود، ایک ہے عدم۔ وجود جس میں ایک چیز کے ہونے کا ذکر ہو اور عدم جس میں ایک چیز کے نہ ہونے کا ذکر ہو۔ مثلاً میں کہتا ہوں: ہو سکتا ہے زید آجائے، دیکھو اس میں آنے کا ذکر ہے، وجود کا ذکر ہے۔ اور ایک ہے میں کہتا ہوں: ہو سکتا ہے زید نہ آئے، دیکھو اس میں نہ آنے کا ذکر ہے یعنی عدم کا ذکر ہے۔ تو وجود اور عدم یہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ جہاں وجود ہوگا وہاں عدم نہیں، جہاں عدم ہے وہاں وجود نہیں، دونوں میں سے ایک چیز ہوگی بھئی۔ یعنی قضیہ یا موجبہ ہوگا یا سالبہ ہوگا۔ اگر قضیہ موجبہ ہو جس میں ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے اثبات ہوتا ہے کہ مثلاً زید عالم ہے، تو دیکھو اس میں ایجاب ہے، اس میں وجود کا ذکر ہے، ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا وجود ثابت ہے بھئی۔ اور ایک ہے کہ زید عالم نہیں ہے، یہ قضیہ سالبہ ہے، تو یہاں عدم کا ذکر ہو رہا ہے۔ تو بہرحال امکان دو قسم پر ہے: ایک امکانِ عام اور ایک امکانِ خاص۔ امکانِ عام میں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے اور امکانِ خاص میں دونوں جانب سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے، یعنی ہونا بھی ضروری نہیں اور نہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ اور پھر یہ امکانِ عام دو قسم پر ہے: ایک امکانِ عام مقید بجانب الوجود اور ایک امکانِ عام مقید بجانب العدم۔ امکانِ عام مقید بجانب الوجود جو مقید ہو وجود کی جانب، یعنی جس میں ہونے کا ذکر ہو، اور امکانِ عام مقید بجانب العدم جو عدم کے ساتھ، عدم کی جانب میں مقید ہو، یعنی جس میں نہ ہونے کا ذکر ہو بھئی۔ تو امکانِ عام جب مقید بجانب الوجود ہو تو وہ لَا يَمْتَنِعُ کے معنی میں ہوتا ہے۔ کس معنی میں؟ لَا يَمْتَنِعُ، یعنی عدم ضروری نہیں۔ تو عدم ضروری نہیں اور باقی وجود چاہے ضروری ہو یا نہ ہو، دونوں اس میں داخل ہوگئے۔ تو اس کو امکانِ عام مقید بجانب الوجود کہتے ہیں اور اس کو لَا يَمْتَنِعُ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور دوسرا امکانِ عام مقید بجانب العدم ہے اور اس کو لَا يَجِبُ سے تعبیر کرتے ہیں، لَا يَجِبُ سے، جس میں نہ ہونا ذکر ہوتا ہے۔ جب نہ ہونا ذکر ہوا تو معلوم ہوا ہونا ضروری نہیں۔ ہونا ضروری، جب ہونا ضروری نہیں ہے تو نہ ہونا دونوں آگئے، چاہے ضروری ہو یا نہ ہو، دونوں اس کے اندر آگئے۔ تو یہاں پر بھی بتلا دیا وَيَجُوْزُ سے کیا مراد ہے؟ لَا يَمْتَنِعُ مراد ہے، یعنی امکانِ عام مقید بجانب الوجود مراد ہے اور اس کو لَا يَمْتَنِعُ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کے اندر وجود ذکر ہوتا ہے۔ کیا ذکر ہوتا ہے؟ وجود ذکر ہوتا ہے، مقید بجانب الوجود ہے اور معلوم ہوا اس کی جانبِ مخالف ضروری نہیں، یعنی عدم ضروری نہیں۔ تو اس میں عدم ضروری نہیں ہوتا، باقی وجود چاہے ضروری ہو یا ضروری نہ ہو، دونوں آگئے۔ تو لِلضَّرُوْرَةِ میں ضروری ہے اور لِلتَّنَاسُبِ میں ضروری نہیں، دونوں اس کے اندر آگئے بھئی۔ اس کے بعد یہ لِلضَّرُوْرَةِ کے بارے میں ہم نے پڑھا تھا بھئی آخری سبق میں اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ضرورت سے مراد ضرورتِ شعری ہے بھئی۔ اور کبھی یہ ضرورتِ شعری ہوتی ہے کہ شعر کے وزن کو برقرار رکھنے کے لیے غیر منصرف کو منصرف پڑھا جاتا ہے اور کبھی رعایتِ قافیہ کی ضرورت کی وجہ سے غیر منصرف کو منصرف پڑھا جاتا ہے۔ اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جس وقت غیر منصرف شعر میں واقع ہوتا ہے تو بسا اوقات اس کے غیر منصرف ہونے کی وجہ سے شعر کے اندر کسر واقع ہوتی ہے، یعنی اس کا وزن ٹوٹ جاتا ہے، اس کو شعر کے وزن سے نکال دیتا ہے، اور کبھی اس کے اندر زحاف واقع ہوتا ہے اور زحاف کی وجہ سے وہ سلاست سے نکل جاتا ہے۔ سلاست کا معنی میں نے بتلایا تھا روانی۔ اشعار کے اندر خاص روانی اور ترنم ہوتا ہے بھئی، خاص روانی۔ جس کو ذرا بھی اللہ نے ذوق دیا ہو، بلکہ عام آدمی بھی شعر کے اندر جو روانی ہے، عام آدمی بھی، ہر سلیم الطبع آدمی شعر کے اندر روانی اور سلاست کو محسوس کرتا ہے کہ اس کے اندر خاص ایک ترنم ہے، خاص روانی ہے اور اس کے پڑھنے کا ایک خاص لطف ہے بھئی، تو شعر کے اندر خاص سلاست ہوتی ہے۔ لیکن اگر غیر منصرف جو ہے کبھی وہ آجائے تو اس کی وجہ سے شعر کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ شعر کی روانی متاثر ہوتی ہے، یعنی شعر کے اندر زحاف واقع ہوتا ہے۔ زحاف میں نے بتلایا بھئی، زحاف شعر کے اندر مخصوص جگہوں پر مخصوص قسم کی تبدیلی کرنے کو زحاف کہتے ہیں اور یہ تین قسم کی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار کیا کیا جاتا ہے؟ ساکن کو حذف کر لیتے ہیں، کبھی صرف حرکت کو حذف کرتے ہیں اور کبھی متحرک کو حذف کر لیتے ہیں۔ کتنی صورتیں؟ تین۔ کبھی ساکن کو حذف کرتے ہیں، کبھی صرف حرکت کو حذف کرتے ہیں اور کبھی متحرک کو حذف کرتے ہیں۔ تو جب متحرک کو حذف کیا معلوم ہوا وہ حرف بھی حذف اور اس کی حرکت بھی حذف، اس میں دونوں چیزیں آگئیں۔ پھر سنو، تین صورتیں: ساکن میں صرف ایک حرف حذف ہوا، جب حرکت حذف کی تو اس میں صرف حرکت حذف ہوئی حرف حذف نہیں ہوا، اور جب حرفِ متحرک کو حذف کیا تو وہ حرف بھی حذف اور اس کی حرکت بھی حذف ہو گئی۔ تو یاد رکھو یہ جو زحاف ہے اس کی وجہ سے شعر کے وزن میں روانی برقرار نہیں رہتی۔ عموماً زحاف کی وجہ سے شعر کے اندر وہ روانی اور وہ سلاست اور وہ ترنم باقی نہیں رہتا بھئی۔ میں نے بتایا شعر کے مخصوص اوزان ہوتے ہیں۔ ایک حرف ادھر ادھر ہوجائے تو شعر کا وزن ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن آپ دیکھتے ہیں انہی اوزان پر ہر شاعر اپنی اپنی بات کرتا ہے۔ ہر شاعر، ایک شاعر ایک چیز کے بارے میں شعر کہتا ہے، دوسرا دوسری چیز کے بارے میں، تیسرا تیسری چیز کے بارے میں۔ تو بعض اوقات شعر بناتے ہوئے، شعر بناتے ہوئے شاعر کو کوئی ایسا لفظ نہیں ملتا کہ جو پورا شعر کا وزن برقرار رکھا جاسکے، تو وہاں پر ان کے لیے زحاف کی گنجائش ہوتی ہے۔ وہ معمولی سا رد و بدل کر سکتے ہیں وزن میں، لیکن خاص طریقے سے، ہر طریقے سے نہیں، خاص طریقے سے ان کو معمولی سے رد و بدل کی اس میں گنجائش ہوتی ہے جس کی وجہ سے شعر کا وزن بدلتا ضرور ہے لیکن شعر کا وزن ٹوٹتا نہیں، خراب نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے سلاست اور روانی میں کمی آجاتی ہے، البتہ شعر کا وزن پھر بھی برقرار ہوتا ہے۔ اگر وہ اس کی گنجائش اس کو نہ دیتے تو پھر شاعر کے لیے وہاں کوئی لفظ اس کو مل ہی نہیں رہا تھا جو مناسب لفظ ہو وہاں لے کر آتا، تو اس کے لیے گویا یوں سمجھیں کچھ اس کو رخصت مل جاتی ہے کہ وزن میں معمولی سی وہ رد و بدل کے ساتھ بھی کہہ سکتا ہے، لیکن وہ رد و بدل بھی میں نے بتایا خاص قسم کا ہوتا ہے جس سے وزن تھوڑا بدلتا ہے، ٹوٹتا نہیں ہے، خراب نہیں ہوتا۔ تو اس کو زحاف کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ زحاف کہتے ہیں۔ تو پہلے کی مثال کہ جس میں غیر منصرف کو غیر منصرف پڑھا جاتا تو شعر کا وزن ٹوٹ جاتا، تو شعر کے وزن کو ٹوٹنے سے بچانے کی ضرورت کی وجہ سے غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا جیسے: صُبَّتْ عَلَيَّ مَصَائِبُ لَّوْ أَنَّهَا صُبَّتْ عَلَى الْأَيَّامِ صِرْنَ لَيَالِيَا۔ میں نے بتایا یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا شعر ہے بھئی۔ تو پھر علماء کا اس میں اختلاف، بعض فرماتے ہیں یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا شعر ہے اور بعض کہتے ہیں یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شعر ہے جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پڑھا بھئی۔ وَأَمَّا الثَّانِيْ اور دوسرے کی مثال جس میں زحاف سے بچنے کے لیے غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا، اگر غیر منصرف پڑھا جاتا تو شعر میں زحاف واقع ہوتا، تو یہ دوسرے کی مثال ہے جس میں زحاف سے بچنے کے لیے غیر منصرف کو منصرف پڑھا گیا جیسے: أَعِدْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَّنَا، یہ مقامِ استشہاد جو ہے نُعْمَانٍ ہے بھئی، نعمان، اور یہ نعمان اس میں الف نون زائدتان ہیں اور یہ غیر منصرف ہے لیکن زحاف سے بچنے کے لیے اس کو منصرف پڑھا گیا: أَعِدْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَّنَا۔ اور میں نے بتایا یہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نام ہے بھئی۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ کا یہ شعر ہے، وہ فرماتے ہیں: أَعِدْ ذِكْرَ نُعْمَانٍ لَّنَا إِنَّ ذِكْرَهُ هُوَ الْمِسْكُ مَا كَرَّرْتَهُ يَتَضَوَّعُ، کہ ہمارے لیے نعمان کا ذکر دہرائیے یعنی امامِ اعظم ابو حنیفہ کا، إِنَّ ذِكْرَهُ هُوَ الْمِسْكُ کہ بے شک ان کا ذکر جو ہے وہ مشک خوشبو ہے، مَا كَرَّرْتَهُ يَتَضَوَّعُ جس قدر اس کو بار بار دہراؤ گے اتنی ہی اس کی خوشبو مہکتی جائے گی، پھیلتی جائے گی بھئی۔ فَإِنَّهُ لَوْ فُتِحَ نُوْنُ نُعْمَانَ مِنْ غَيْرِ، جی، یہاں سے آگے یہ بیان کر رہے ہیں کہ یہاں نعمان جو غیر منصرف تھا اس کو منصرف پڑھا گیا صرف زحاف سے بچنے کے لیے۔ اگر اس کو غیر منصرف بھی پڑھا جاتا تو شعر میں زحاف واقع ہو جاتا۔ کیا واقع ہوتا؟ زحاف واقع ہوتا، البتہ شعر کا وزن پھر بھی برقرار رہتا۔ شعر کا وزن تو برقرار رہتا لیکن زحاف کی وجہ سے شعر میں سلاست نہ رہتی، روانی نہ رہتی، اس میں وہ ترنم نہ رہتا، تو زحاف سے بچنے کے لیے شاعر نے نُعْمَانٍ غیر منصرف کو منصرف پڑھا بھئی۔ پھر اعتراض یہ ہوا کہ آپ نے ہمیں بتلا دیا کہ زحاف شعر میں آجائے تو اس سے شعر کا وزن نہیں ٹوٹتا، شعر کا وزن نہیں ٹوٹتا، تو پھر جب شعر کا وزن برقرار ہے تو پھر تو زحاف اگر آ بھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ معلوم ہوا زحاف سے بچنا واجب نہیں ہے بھئی، کیونکہ شعر کا وزن ٹھیک رہتا ہے زحاف کے باوجود۔ تو معلوم ہوا زحاف سے بچنا واجب نہیں، تو آپ نے اس کو لِلضَّرُوْرَةِ کے تحت کیسے ذکر کر دیا؟ لِلضَّرُوْرَةِ میں تو وہ چیز ذکر ہو جس کا کرنا ضروری ہے اور زحاف سے بچنا تو ضروری نہیں، تو لِلضَّرُوْرَةِ کیسے اس زحاف کو شامل ہوئی بھئی؟ تو اس کا جواب دیا کہ بھئی بعض زحافات سے بچنا ضروری ہوتا ہے جب اس سے بچا جا سکے۔ کیونکہ زحاف کی وجہ سے شعر میں سلاست جو ہے اس میں کمی آرہی تھی، سلاست سے وہ شعر نکل رہا تھا، تو بعض اوقات جب زحاف سے بچنا ممکن ہو تو شعراء کے نزدیک وہاں بچنا ضروری ہوتا ہے، تو یہ بھی لِلضَّرُوْرَةِ کے تحت داخل ہے۔ بات سمجھ میں آگئی۔ وَأَمَّا الضَّرُوْرَةُ الْوَاقِعَةُ لِرِعَايَةِ الْقَافِيَةِ، جی، میں نے بتلایا تھا قافیہ جو ہے شعر کے آخر میں جو وزن آتا ہے اس کو قافیہ کہتے ہیں۔ قصیدے کے پہلے شعر میں جو قافیہ آتا ہے شاعر اختتامِ قصیدہ تک اس قافیے کا خیال رکھتا ہے، اس کا خیال رکھنا ضروری ہے بھئی۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی کہ امرؤ القیس جو ہے اپنے معلقے میں کہتا ہے: قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرَى حَبِيْبٍ وَّمَنْزِلِ، بِسِقْطِ اللِّوَى بَيْنَ الدَّخُوْلِ فَحَوْمَلِ۔ تو دیکھو یہ حَوْمَلِ، یہ ہے قافیہ۔ حَوْمَلِ وزن جو شعر کے آخر میں آرہا ہے، یہ کیا ہے؟ قافیہ۔ اور اسی پر وہ آخر تک چلتے رہے گا امرؤ القیس، پورے قصیدے کے اندر یہ حَوْمَلِ وزن برقرار رکھے گا۔ اور حَوْمَلِ وزن سے مراد یہ ہے کہ یعنی متحرک کے مقابلے میں متحرک اور ساکن کے مقابلے میں ساکن۔ چنانچہ اگلا شعر ہے بھئی: فَتُوْضِحَ فَالْمِقْرَاةِ لَمْ يَعْفُ رَسْمُهَا، لِمَا نَسَجَتْهَا مِنْ جَنُوْبٍ وَّشَمْأَلِ۔ دیکھا؟ حَوْمَلِ، شَمْأَلِ۔ تیسرا شعر دیکھ لیں بھئی: تَرَى بَعَرَ الْأَرْآمِ فِيْ عَرَصَاتِهَا، وَقِيْعَانِهَا كَأَنَّهَا حَبُّ فُلْفُلِ۔ كَأَنَّهَا حَبُّ فُلْفُلِ، دیکھو حَوْمَلِ، شَمْأَلِ، فُلْفُلِ۔ آپ کہیں گے: نہیں بھئی، فُلْفُلِ میں تو حرکتیں الگ ہیں۔ بھئی، بات وزنِ شعری کی چل رہی ہے، وزنِ شعری کے اندر متحرک کے مقابلے میں متحرک آنا چاہیے، ساکن کے مقابلے میں ساکن آنا چاہیے، حرکتیں ایک جیسی ہونا ضروری نہیں ہے۔ حَوْمَلِ دیکھو حَ متحرک اور وْ ساکن، فُلْفُلِ دیکھو اس میں فُ متحرک اور لْ ساکن، پھر حَوْمَلِ مَ پر حرکت اور آگے لِ مکسور، اور فُلْفُلِ اس کے آخر میں بھی فُ متحرک اور آگے لِ مکسور ہے۔ تو وزنِ شعری کے اندر متحرک کے مقابلے میں متحرک آتا ہے، ساکن کے مقابلے میں ساکن آتا ہے، حرکتوں کا ایک جیسا ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ تو اس کو رعایتِ قافیہ کہتے ہیں۔ اور یہ جو شعر کے آخر میں حرف آتا ہے اس کو حرفِ روی کہتے ہیں، حَرْفٌ رَوِيٌّ۔ اور یہ حرفِ روی جو ہے اسی کی طرف قصیدے کی نسبت کی جاتی ہے۔ جیسے اس کے آخر میں لام آیا تھا تو اس کو کہیں گے قصیدہ لامیہ، اگر آخر میں تا آجائے تو کہیں گے قَصِيْدَةٌ تَائِيَّةٌ، اور اگر آخر میں میم آجائے تو قَصِيْدَةٌ مِيْمِيَّةٌ، اگر نون آجائے تو قَصِيْدَةٌ نُوْنِيَّةٌ۔ تو اسی حرفِ روی جو بالکل آخر میں آیا جیسے یہاں لام ہے: حَوْمَلِ، شَمْأَلِ، فُلْفُلِ، دیکھو آخر میں لام آرہا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حَرْفٌ رَوِيٌّ، حرفِ روی بھئی۔ اور شاعر تمام پورے قصیدے میں اس کا اہتمام کرتا ہے کہ ہر شعر کے آخر میں یہی حرف آئے جیسے یہاں پر لامِ مکسور آیا تو پورے قصیدے کے اندر آخر میں لامِ مکسور لے کر آیا شاعر بھئی۔ اس کے بعد بتلایا تھا کہ کبھی کبھار غیر منصرف کو منصرف پڑھا جاتا ہے مناسبت کی وجہ سے تاکہ دو کلموں میں مناسبت حاصل ہو جائے۔ ایک ہے غیر منصرف اور ایک ہے منصرف، دو کلمے اکٹھے آگئے۔ اب غیر منصرف جو ہے اس پر تنوین نہیں آئے گی اور منصرف پر تنوین آئے گی تو دونوں میں مناسبت نہیں معلوم ہوگی اور مناسبت بھی عرب کے ہاں بڑی ضروری ہے کلمات کے اندر، تو چنانچہ وہ منصرف کی رعایت کرتے ہوئے غیر منصرف پر بھی کسرہ اور تنوین پڑھ دیتے ہیں جیسے: سَلَاسِلًا وَّأَغْلَالًا۔ سَلَاسِلَ دیکھو یہ جمع منتہی الجموع کا وزن ہے اور یہ دو سببوں کے قائم مقام ہے، لیکن اس کے ساتھ جو أَغْلَالًا لفظ تھا وہ منصرف تھا، اس پر تنوین آرہی تھی تو سَلَاسِلًا کو بھی وہی حکم دے دیا گیا اور اس پر بھی تنوین لائی گئی۔ تو سَلَاسِلًا وَّأَغْلَالًا یہ دونوں کی مثال ہے، یعنی وہ اسم جس کو مناسبت کی وجہ سے منصرف پڑھا گیا وہ اسم بھی ہے اس میں اور جس اسم کی وجہ سے اس کو منصرف پڑھا گیا وہ بھی اس میں ہے، تو یہ دونوں کی مثال ہے بھئی۔ اور پھر آپ کو صاحبِ قافیہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ وہ علتیں جو دو علتوں کے قائم مقام ہیں وہ دو ہیں: ایک جمع اور ایک الفا تانیث، تانیث کے دو الف، کیونکہ یہ دونوں علتیں مکرر ہیں، ان میں تکرار ہے۔ تو ان کی وجہ سے دو فرعیتیں آگئیں۔ اشکال ہوتا تھا نا کہ ایک علت دو کے قائم مقام کیسے ہو سکتی ہے؟ کیونکہ یہ علت کی وجہ سے اسم میں فرعیت آتی ہے اور فعل کے اندر دو فرعیتیں ہیں تو اسم کی مشابہت کس کے ساتھ آگئی؟ فعل کے ساتھ۔ لیکن مشابہت کب آئے گی؟ جب کم از کم دو فرعیتیں آئیں تو پھر فعل کی طرح ہو جائے گا اسم، کیونکہ فعل میں بھی دو فرعیتیں ہیں۔ تو جب ایک سبب دو کے قائم مقام ہے تو اسم میں تو ایک فرعیت آئی اس کی وجہ سے اور ایک فرعیت کی وجہ سے اس کی مشابہت تو فعل کے ساتھ پوری نہیں ہے، تو جواب دیا کہ یہ جو علتیں ہیں، یہ دو علتیں جو دو سببوں کے قائم مقام ہیں ان میں تکرار ہے بھئی۔ یہ جمع منتہی الجموع یہ عموماً دوسرے نمبر پر آتی ہے، دوسرے درجے میں، جیسے قَلْبٌ کی جمع آتی ہے أَقْلُبٌ اور پھر اس أَقْلُبٌ کی جمع آتی ہے أَقَالِبُ بھئی۔ تو معلوم ہوا گویا دو مرتبہ جمع آگئی، جمع کا تکرار آگیا، تو یہ دو فرعیتوں کے قائم مقام ہوگئی۔ اسی طرح تانیث کے جو دو الف ہیں، الفِ مقصورہ اور ممدودہ، وہ بھی دو تانیث کے درجے میں ہے، دو تانیث کے درجے میں، کس طرح؟ ایک تو وہ الفِ تانیث والا، ایک الفِ تانیث ہے، ایک اس کی وجہ سے فرعیت آئی، دوسرا ان میں لزومِ تانیث ہوتا ہے، یعنی اس الف کو اس کلمے کے ساتھ ہی وضع کیا گیا ہے، یہ الف اس کلمے سے جدا ہوتا ہی نہیں۔ تو ایک تانیث ہے اور ایک لزومِ تانیث ہے، تانیث اس کلمے کے ساتھ لازم ہے، تو اس لزومِ تانیث کو ایک اور تانیث کے درجے میں اتار لیا گیا۔ تو گویا دو تانیثیں آگئیں، تو گویا تانیث کا تکرار آگیا۔ جب تانیث کا تکرار آیا تو ایک تانیث کی وجہ سے فرعیت آتی تھی تو دو تانیثوں کی وجہ سے دو فرعیتیں آگئیں، جیسے جمع کے اندر دو جمعوں کی وجہ سے دو فرعیتیں آگئیں تو یہ اس کی مناسبت آگئی، مشابہت آگئی فعل کے ساتھ، اس لیے یہ لفظ کیا ہو جائے گا؟ کلمہ غیر منصرف ہو جائے گا۔ اور پھر آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ بھئی تا کو دو سببوں کے قائم مقام کیوں نہیں کیا؟ تو بتلایا کہ یہ جو تا ہے یہ وضع کے اعتبار سے کلمے کے ساتھ لازم نہیں ہوتی بلکہ یہ تو صرف مذکر مؤنث میں فرق کرنے کے لیے ساتھ ملائی جاتی ہے۔ وہی ضَارِبٌ ہے، مذکر کے لیے استعمال کرتے ہو تو اسی طرح رکھیں گے اور مؤنث کے لیے استعمال کرو تو فرق کرنے کے لیے ساتھ کیا ملا دیں گے؟ تائے مربوطہ یعنی گول تا ساتھ ملا دیں گے۔ تو یہ جو تائے تانیث ہے یہ کلمے کے ساتھ لازم نہیں ہوتی، یہ صرف مذکر اور مؤنث میں فرق کرنے کے لیے لائی جاتی ہے۔ اور کبھی یہ تا بھی لازم ہو جاتی ہے جب اس لفظ کو کسی کا نام بنا دیا جائے جیسے قَائِمَةٌ کے ساتھ تائے تانیث جڑی لیکن یہ تو اس کے ساتھ لازم نہیں ہے، لیکن پھر اس کو کسی کا نام بنا دیا گیا، اور جب نام بنایا یعنی علم بنایا تو علم میں تو کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی لہٰذا اب یہ تا اس سے جدا نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں بھئی یہاں بھی اگرچہ لزوم تو آگیا لیکن وہ جو وضعِ اول میں جیسے لزوم کے اندر قوت تھی وہ قوت یہاں پر نہیں، وہ جو کلمہ کو وضعِ اول میں الف کو جوڑا گیا تھا اس کلمے کے ساتھ وہ لزوم بڑا قوی تھا اور یہ اس درجے کا قوی نہیں ہے، لہٰذا یہ اس کے درجے میں نہیں۔ یا یوں کہیں کہ اعتبار وضعِ اول کا ہے، وضعِ اول میں جو لازم ہو تانیث والی علامت اس کا اعتبار ہے اور یہ جو علم بنایا گیا یہ تو وضعِ ثانی ہے۔ ایک لفظ ایک معنی کے لیے وضع تھا پہلے، پھر کسی کا نام رکھا گیا تو گویا یہ دوبارہ اس کے لیے وضع کر لیا گیا، تو وضعِ ثانی کا اعتبار نہیں ہے بلکہ کس کا اعتبار ہے؟ وضعِ اول کا، اور وضعِ اول کے اعتبار سے تو یہ تا لازم نہیں تھی، لہٰذا یہ دو سببوں کے قائم مقام نہیں ہو سکتی، بات سمجھ میں آگئی۔ اب آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: فَالْعَدْلُ مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ أَيْ كَوْنُ الِاسْمِ مَعْدُوْلًا، خُرُوْجُهُ أَيْ خُرُوْجُ الِاسْمِ أَيْ كَوْنُهُ مُخْرَجًا عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ۔ پہلے متن متن دیکھ لیجیے بھئی، کہتے ہیں: فَالْعَدْلُ خُرُوْجُهُ عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ، عدل جو ہے خُرُوْجُهُ أَيْ خُرُوْجُ الِاسْمِ، اسم کا نکلنا، عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ، اپنے صیغۂ اصلیہ سے۔ اسم کا اپنے صیغۂ اصلیہ سے نکلنا یہ عدل کہلاتا ہے۔ اسم کا اپنے صیغۂ اصلیہ سے نکلنا یہ عدل کہلاتا ہے۔ بھئی صیغۂ اصلیہ کسے کہتے ہیں؟ بھئی صیغۂ اصلیہ وہ ہے جس کا قانون اور ضابطہ تقاضا کر رہا ہو۔ قانون اور ضابطہ تقاضا کر رہا ہے کہ اس لفظ کو اس طرح ہونا چاہیے لیکن اس کو پھیر کر ایک نئی شکل دے دی گئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عدل۔ مثلاً جیسے عُمَرُ، عمر کی اصل ہے، علمائے نحو فرماتے ہیں: عَامِرٌ، اور عَامِرٌ دیکھو فَاعِلٌ صفت کا صیغہ ہے، اس میں فاعل کا صیغہ ہے، تو مجرد کے صیغوں سے اسم فاعل کس وزن پر آتا ہے؟ فَاعِلٌ وزن پر آتا ہے اور عَامِرٌ بھی اسی وزن پر ہے۔ لیکن اس کو پھیر کر ایک نیا وزن بنا لیا گیا، ایک نئی صورت دے دی گئی: عُمَرُ۔ دیکھو نئی صورت دے دی گئی، تو لفظ کو پھیر دیا گیا، کس سے؟ اپنے صیغۂ اصلیہ، صیغۂ اصلیہ کون سا؟ جس کا قانون اور ضابطہ تقاضا کر رہا تھا۔ قانون اور ضابطہ کیا تھا؟ کہ اسم فاعل جو ہے ثلاثی مجرد سے فَاعِلٌ وزن پر آتا ہے اور عامر بھی اسی فَاعِلٌ وزن پر تھا، قانون کے مطابق تھا، پھر اس کو پھیر کر ایک نئی صورت دے دی گئی، تو اس کو عدل کہتے ہیں کہ اسم کا اپنے صیغۂ اصلیہ سے نکلنا، یعنی یوں کہو اسم کا اپنی قانونی شکل سے نکل کر ایک نئی شکل اختیار کر لینا، یہ کیا ہے؟ عدل ہے۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: فَالْعَدْلُ مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ أَيْ كَوْنُ الِاسْمِ مَعْدُوْلًا۔ فَالْعَدْلُ، عدل جو ہے، مَصْدَرٌ، بتلا دیا کہ عدل یہ مصدر ہے بھئی، کون سا صیغہ ہے؟ مصدر ہے۔ اور مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ، مصدر مبنی للمفعول ہے، کیا معنی؟ میں بتلا چکا ہوں آپ کو، مبنی للمفعول ہونے کا کیا معنی؟ یعنی یہ مصدرِ مجہول ہے، مصدرِ مجہول ہے۔ بھئی دیکھو، جیسے فعل معروف کے لیے فاعل چاہیے اور فعل مجہول کے لیے نائب فاعل چاہیے، فعل کبھی معروف ہوتا ہے اور کبھی مجہول، اسی طرح یہ جو مصدر ہے یہ بھی کبھی مصدر معروف ہوتا ہے اور کبھی مجہول ہوتا ہے۔ جیسے دیکھو ضَرْبٌ، ضَرْبٌ کا معنی پٹائی کرنا بھی اور اس کا معنی پٹائی کیا جانا بھی، یعنی پٹائی ہونا بھی۔ ضَرْبٌ کا معنی پٹائی کرنا بھی اور ضَرْبٌ کا معنی پٹائی ہونا بھی۔ یوں یاد رکھو کہ جیسے فعل معروف اور مجہول ہوتا ہے اسی طرح مصدر بھی معروف اور مجہول ہوتا ہے۔ جیسے ضَرْبٌ کا معنی پٹائی کرنا بھی اور ضَرْبٌ کا معنی پٹائی ہونا بھی، پٹائی ہونا بھی یعنی پٹائی کیا جانا بھی۔ اور اسی طرح شُرْبٌ، شُرْبٌ کا معنی پینا بھی اور شُرْبٌ کا معنی پیا جانا بھی۔ اور أَكْلٌ، أَكْلٌ کا معنی کھانا کھانا بھی اور أَكْلٌ کا معنی کھانے کو کھایا جانا بھی بھئی۔ تو اردو میں تو دیکھو مختلف ہے: پینا الگ، پیا جانا الگ، پٹائی کرنا الگ اور پٹائی کیا جانا الگ، لیکن عربی میں وہی مصدر معروف کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور وہی مصدر مجہول کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ آپ گردانوں میں پڑھتے ہیں: ضَرَبَ يَضْرِبُ ضَرْبًا فَهُوَ ضَارِبٌ۔ دیکھو یہ صرفِ صغیر ہے۔ اور صرفِ صغیر میں صرف صرفِ کبیر کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ ضَرَبَ صرف ایک صیغہ لائے، باقی پوری گردان آپ خود پڑھ لیجیے گا، ماضی کے 14 صیغے ہیں بھئی، ہم نے اشارہ کر دیا۔ ضَرَبَ اس طرح گردان شروع ہوگی ماضی معروف کی۔ يَضْرِبُ، مضارع کے 14 صیغے ہیں مضارع معروف کے، لیکن صرف ایک صیغہ يَضْرِبُ لے آئے، پوری گردان کی طرف اشارہ کر دیا کہ پہلا صیغہ يَضْرِبُ ہے باقی گردان آپ اسی وزن پر خود بنا لیں، خود پڑھ لیں۔ پھر ضَرَبَ يَضْرِبُ ضَرْبًا یہ مصدر لایا گیا۔ پھر اس کے بعد فَهُوَ ضَارِبٌ، اسم فاعل کا وزن بھی بتلا دیا کہ باقی گردان آپ خود پڑھ لیں۔ اس کے بعد وَضُرِبَ فعل مجہول لے آئے، فعل مجہول کے 14 صیغے ہیں لیکن ایک ہی صیغہ لے آئے کہ اشارہ کر دیا کہ ضُرِبَ اس طرح ہوگی فعل مجہول کی گردان ضُرِبَ اور باقی گردان آپ خود پڑھ لیجیے۔ پھر يُضْرَبُ فعل مجہول مضارع لے آئے، اس میں بھی پوری گردان کی طرف اشارہ کر دیا۔ اور آگے پھر ضَرْبًا آیا، پھر ضَرْبًا آیا۔ تو اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو صرفِ صغیر ہے، اس میں تو ایک ایک صیغہ لا کر پوری گردان کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، تو پھر ضَرْبًا مصدر ایک دفعہ آگیا تھا تو دوبارہ اس کو کیوں ذکر کیا گیا؟ ایک لفظ کو بے کار لے آئے یہاں؟ تو جواب یہ کہ نہیں بھئی، بزرگوں کا، علماء کا کوئی ایک کام بھی بے کار نہیں، اس میں کوئی نہ کوئی بڑی گہری بات یا گہرا نکتہ ہوتا ہے، وہ الگ بات ہے آپ کا ذہن اس تک پہنچے یا نہ پہنچے۔ تو یہ جو دوسرا ضَرْبًا لائے اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ مصدرِ مجہول ہے۔ وہ مصدر جو پہلے گزرا تھا وہ معروف تھا کیونکہ وہ فعل معروف کے بعد آیا تھا: ضَرَبَ يَضْرِبُ ضَرْبًا، اور یہ ضُرِبَ يُضْرَبُ ضَرْبًا، یہ ضَرْبًا جو ہے فعل مجہول کے بعد آیا ہے، یہ مصدرِ مجہول ہے۔ اور دیکھو ضَرَبَ يَضْرِبُ ضَرْبًا، اس ضَرْبًا کو منصوب پڑھا کیونکہ یہ مفعول مطلق ہے، مفعول مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، تو یہاں بھی ضَرْبًا سے پہلے يَضْرِبُ کا فعل تھا اس لیے اس پر نصب پڑھا بھئی۔ تو دیکھا؟ ایک ضَرْبًا ہے وہ مصدرِ معروف ہے اور دوسرا مصدر جو ہے ضَرْبًا وہ مصدرِ مجہول ہے، اور نیز یہ نکتہ بتلا دیا کہ عربی میں مصدر معروف اور مجہول ایک ہی وزن ہے دونوں کا۔ وہی ضَرْبًا معروف مصدر کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور وہی ضَرْبًا مجہول مصدر کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اب وہ موقع کے مطابق آپ خود غور کریں گے کہ کہاں پر مصدر کون سے معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔ پھر میں نے آپ کو ایک اور بات بھی بتلائی تھی کہ یہ جو مصدر ہے، مصدر ہے، کبھی یہ اسم فاعل کے معنی میں بھی آجاتا ہے اور کبھی اسم مفعول کے معنی میں بھی۔ جیسے میں کہتا ہوں: زَيْدٌ عَدْلٌ، تو یہ عَدْلٌ مصدر ہے اور یہ کس معنی میں ہے؟ عَادِلٌ یعنی اسم فاعل کے معنی میں ہے۔ تو اسی طرح مصدر کبھی اسم فاعل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی اسم مفعول کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ تو کبھی کبھی عبارت میں اس طرح آجاتا ہے جیسے یہاں آیا: فَالْعَدْلُ مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ، یہ مصدر مبنی للمفعول ہے۔ مبنی للمفعول، طلبہ سے پوچھیں بھئی اس کا کیا معنی؟ وہ اس کا ترجمہ کرتے ہیں کہ معلوم ہوا یہ مصدر جو ہے اسم مفعول کے معنی میں ہے، مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ، یہ مصدر کس معنی میں ہے؟ اسم مفعول کے معنی میں، یعنی عَدْلٌ بمعنی مَعْدُوْلٌ کے ہے، حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے بھئی۔ یہاں صرف اتنا بتایا جا رہا ہے کہ یہ مصدر مبنی للمفعول ہے۔ بھئی دیکھو، یہ جو فعل معروف ہوتا ہے نا اس کو بنایا گیا ہے، بَنَى يَبْنِيْ کا معنی بنانا، اس کو بنایا گیا ہے کہ فاعل کی طرف اس کی نسبت کی جائے گی۔ اس کا اسناد کس کی طرف کیا جائے گا؟ فاعل کی طرف۔ تو یہ جو فعل معروف ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ کہ اس کو فاعل کے لیے بنایا گیا ہے۔ کبھی کسی جگہ کتاب میں عبارت آتی ہے تو مصنف کو خیال ہوتا ہے کہ میں نے تو ضَرَبَ لکھا ہے کوئی اس کو ضُرِبَ نہ پڑھ جائے، کوئی ضُرِبَ نہ پڑھ جائے تو وہ آگے لکھ دیتا ہے: مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ کہ یہ جو ضَرَبَ ہے یہ مبنی للفاعل ہے، یعنی اس کو فاعل کے لیے بنایا گیا ہے، یعنی یہ فعل معروف ہے۔ یہ فعل معروف ہے اس کو مجہول نہ پڑھنا، تو فعل کے آگے وہ لکھ دیتے ہیں۔ تو فعل جو ہے کبھی اس کو فاعل کے لیے بنایا جاتا ہے جب وہ معروف ہو، اور فعل مجہول کا اسناد کس کی طرف کیا جاتا ہے؟ نائب الفاعل یعنی مفعول کی طرف، تو اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ فعل جو ہے مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ، اس کو بنایا گیا ہے کس کے لیے؟ مفعول کے لیے یعنی مفعول کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے۔ تو جب کتاب کے اندر یہ آجائے: مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ، تو اس کا صرف اتنا معنی ہے کہ یہ مصدرِ مجہول ہے۔ یہ مصدرِ مجہول ہے۔ اور کبھی آئے گا مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْفَاعِلِ، اس کا صرف یہ معنی ہے کہ یہ مصدر معروف ہے، مبنی للفاعل ہے یعنی مصدرِ معروف ہے۔ باقی کہ یہ اسم فاعل یا اسم مفعول کے معنی میں ہے یہ یہاں بیان نہیں ہو رہا۔ صرف اتنا بتایا گیا یہ مصدر معروف ہے یا مجہول ہے۔ ہاں وہ الگ بات ہے مصدر کبھی اسم فاعل، اسم مفعول کے معنی میں بھی آتا ہے، لیکن اسم فاعل کے معنی میں وہ مصدر آئے گا جو مبنی للفاعل ہوگا۔ یعنی مصدرِ معروف، توجہ ہے؟ تو مصدر کا مبنی للفاعل ہونا اس میں صرف کیا بیان ہوا؟ کہ یہ مصدرِ معروف ہے۔ پھر آگے یہ اسم فاعل کے معنی میں ہے یا نہیں وہ الگ بات ہے، وہ یہاں پر ذکر نہیں، لیکن اگر کسی مصدر کے بارے میں یہ کہہ دیا جائے: یہ مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے جیسے عَدْلٌ بمعنی عَادِلٌ کے ہے تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ جو عَدْلٌ ہے یہ مصدرِ معروف ہے۔ کتاب والا تو صرف کیا بتائے گا آپ کو؟ کہ عدل کس معنی میں ہے؟ عادل کے معنی میں، تو دو باتیں سمجھ جانا اس سے: ایک تو یہ کہ اسم فاعل کے معنی میں ہے، یہ بات تو لفظوں سے سمجھ میں آرہی ہے، ساتھ ایک اور بات بھی سمجھ جانا کہ یہ مصدر مبنی للفاعل ہے یعنی معروف ہے، کیونکہ اسم فاعل کے معنی میں مصدر معروف ہوتا ہے، مصدر مجہول نہیں۔ اور جب کہہ دیا جائے کہ یہ مصدر اسم مفعول کے معنی میں ہے، کس معنی میں؟ تو ساتھ ہی ایک اور بات بھی سمجھ جانا، کیا؟ کہ یہ مصدرِ مجہول ہے، کیونکہ مصدر مجہول جو ہے وہ اسم مفعول کے معنی میں ہوتا ہے، وہ اسم فاعل کے معنی میں نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی۔ ایک ہے مصدر کا معروف و مجہول ہونا، ایک ہے مصدر کا اسم فاعل یا اسم مفعول کے معنی میں ہونا۔ تو یہ الگ چیز ہے کہ اسم فاعل یا اسم مفعول کے معنی میں ہے۔ تو جب کہا جائے مصدر مبنی للفاعل ہے، صرف کیا پتہ چلا؟ کہ یہ مصدر معروف ہے۔ اور جب کہا جائے مصدر مبنی للمفعول ہے تو صرف کیا پتہ چلا؟ یہ مصدر مجہول ہے، بس اتنا پتہ چلا۔ آگے یہ اسم فاعل یا اسم مفعول کے معنی میں ہے یا نہیں وہ یہاں پر ذکر نہیں ہے۔ لیکن جب آپ کو یہ کہا جائے کہ یہ مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے تو پھر آپ کو دو باتوں کا پتہ چل گیا، کیا؟ ایک تو یہ کہ اسم فاعل کے معنی میں ہے، دوسرا یہ بھی پتہ چل گیا کہ یہ مصدر مبنی للفاعل ہے، کیونکہ جو مصدر معروف ہوتا ہے وہی اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے، اور مصدرِ مجہول جو ہے وہ اسم مفعول کے معنی میں ہوتا ہے۔ تو یہاں صرف کیا بتایا گیا؟ مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ کہ یہ مصدر مبنی للمفعول ہے۔ أَيْ كَوْنُ الِاسْمِ مَعْدُوْلًا، یعنی اسم کا معدول ہونا۔ اسم کا معدول ہونا۔ یہ صاحبِ جامی فرما رہے ہیں، عدل کے آگے انہوں نے ذکر کیا: مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ، ایک تو یہ بتا دیا کہ یہ مصدرِ مجہول ہے اور پھر یہ عدل کس معنی میں ہے؟ دیکھو عدل کا معنی ہے پھیرنا اور مصدر مجہول کیا ہوگا؟ پھیرا جانا، توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا یہ پھیرنے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ پھیرے جانے کے معنی میں ہے، پھیرا جانا۔ اور مراد کیا ہے؟ كَوْنُ الِاسْمِ مَعْدُوْلًا، اسم کا معدول ہونا۔ اسم کا معدول ہونا، دراصل یہاں اشکال ہوتا ہے، توجہ سے بھئی۔ اشکال یہ کہ عدل کی تعریف خُرُوْجُهُ کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ عدل کی تعریف کس سے کی جا رہی ہے؟ خُرُوْجُهُ کے ساتھ کی جا رہی ہے، اور عدل ہے فعل متعدی، عدل کا معنی ہے پھیرنا۔ تو کلمے کو ایک صورت سے دوسری صورت کی طرف پھیرنا یہ کس کا کام ہے؟ متکلم کا، توجہ ہے؟ متکلم ایک لفظ کو ایک صورت سے کس کی طرف پھیر دے گا؟ دوسری صورت کی طرف، تو معلوم ہوا یہ عدل متکلم کی صفت ہے۔ عدل متکلم کی صفت ہے، جیسے میں کہتا ہوں: ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، کس نے پٹائی کی عمرو کی؟ زید نے، معلوم ہوا یہ ضرب کس کی صفت ہے؟ زید کی صفت ہے، پٹائی اس نے کی ہے۔ تو یہاں بھی عدل کا معنی ہے پھیرنا اور پھیرنے والا کون ہوتا ہے؟ متکلم جو کلام کر رہا ہے، جو عربی زبان پر تکلم کر رہا ہے، عدل اس کی صفت ہے اور خُرُوْجُهُ اسم کا نکلنا یہ تو کلمہ کی صفت ہے، کلمہ کیا ہوگا، اسم کیا ہوگا؟ اپنے صیغۂ اصلیہ سے نکلے گا۔ توجہ ہے؟ تو عدل صفت ہوئی کس کی؟ متکلم کی اور خُرُوْجُهُ صفت ہوئی کس کی؟ کلمہ کی، اسم کی، وہ اسم کی صفت ہوئی۔ تو لہٰذا دونوں میں تو مطابقت ہی نہیں ہے۔ عدل سے پتہ چلا یہ صفت کس کی؟ متکلم کی، آگے جب تعریف شروع کی پتہ کیا چلا یہ صفت کس کی؟ کلمہ کی صفت بیان ہو رہی ہے۔ تو معرف سے کیا پتہ چلا؟ معرف کون ہے جس کی تعریف کی جا رہی ہے؟ عدل کی، اور تعریف کیا ہے خُرُوْجُهُ کے ساتھ۔ معرف سے کیا پتہ چلا یہ صفت کس کی ہے؟ متکلم کی، اور تعریف سے کیا پتہ چلا یہ صفت کس کی ہے؟ کلمہ کی، دونوں میں مطابقت ہی نہیں ہے بھئی۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ دوسرا اشکال یہ ہوتا ہے کہ عدل یہ ہے فعل متعدی، پھیرنا دیکھو کسی کلمے کو پھیرے گا، کوئی متکلم کیا کرے گا؟ کلمے کو پھیرے گا۔ ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، ضَرَبَ کیا ہے؟ فعل متعدی، زید نے پٹائی کی معلوم ہوا کوئی نہ کوئی مضروب ہے، تو یہاں بھی متکلم نے پھیرا ہے معلوم ہوا کوئی کلمہ ہے جس کو اس نے پھیرا ہے، تو عدل فعل متعدی اور خُرُوْجٌ کا معنی ہے نکلنا یہ تو ہے فعل لازم۔ خُرُوْجٌ کا کیا معنی؟ نکلنا، خَرَجَ زَيْدٌ، زید نکلا، مجھے بتائیے کوئی مفعول کی ضرورت ہے؟ نہیں، لیکن عَدَلَ زَيْدٌ، زید نے پھیرا، کوئی معدول چاہیے یا نہیں چاہیے؟ جیسے ضَرَبَ زَيْدٌ، زید نے پٹائی کی، کوئی مضروب چاہیے یا نہیں چاہیے؟ مضروب چاہیے، تو عدل فعل متعدی ہے اور خروج فعل لازم ہے، تو فعل متعدی کی تعریف کرنا فعل لازم کے ساتھ یہ صحیح نہیں، تو دو اشکال ہوگئے۔ پہلا اشکال کیا؟ کہ عدل صفت کس کی؟ متکلم کی اور آگے جو تفسیر آپ نے بیان کی اس کی خُرُوْجُهُ کے ساتھ وہ تو صفت کس کی ہے؟ کلمہ کی ہے تو دونوں میں مطابقت ہی نہیں ہے، آپ عدل کی تعریف خروج کے ساتھ نہیں کر سکتے۔ دوسرا اشکال یہ ہوا کہ عدل ہے فعل متعدی اور خروج کیا ہے؟ فعل لازم ہے، آپ فعل متعدی کی تفسیر فعل لازم کے ساتھ نہیں کر سکتے۔ تو بتلا دیا مصنف نے کہ یہ جو عدل ہے یہاں مصدر مبنی للمفعول ہے بھئی، مصدر مبنی للمفعول ہے، أَيْ كَوْنُ الِاسْمِ مَعْدُوْلًا، یعنی اسم کا معدول ہونا۔ اسم کا معدول ہونا، جی، یہ کس کی صفت ہے؟ اسم کا معدول ہونا یہ اسم کی صفت ہے، خُرُوْجُهُ بھی کس کی صفت تھی؟ اسم کی، اور معدول ہونا یہ بھی کس کی صفت ہے؟ اسم کی صفت ہے، اسم معدول ہوگا یا معدول نہیں ہوگا۔ جواب سمجھ میں آیا کہ یہاں پر عدل کیا ہے؟ مصدر مبنی للمفعول ہے اور یہ کس معنی میں ہے؟ اسم کا معدول ہونا، تو دیکھو یہ تو معدول ہونا تو اسم کی صفت ہے بھئی، اور خُرُوْجُهُ یہ بھی کس کی صفت ہے؟ اسم کی صفت، تو دونوں میں اب تعارض نہ رہا بھئی، اشکال ختم ہوا۔ دوسرا اشکال کیا تھا؟ کہ عدل فعل متعدی ہے اور خروج کیا ہے؟ فعل لازم ہے، تو جواب دیا: أَيْ كَوْنُ الِاسْمِ مَعْدُوْلًا، اسم کا معدول ہونا، دیکھو فعل لازم جیسا ترجمہ کر دیا اس کا۔ اسم کا معدول ہونا، اسم کا معدول ہونا، جیسے خُرُوْجُهُ کا کیا معنی تھا؟ اسم کا نکلنا اور اس کا کیا معنی ہے؟ اسم کا معدول ہونا، تو اس کا ترجمہ کس طریقے پر کر دیا؟ فعل لازم کے طریقے پر کر دیا کہ اس کا معنی یہاں ہے اسم کا معدول ہونا، دونوں اشکال ختم ہوئے، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: فَالْعَدْلُ مَصْدَرٌ مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ، عدل جو ہے یہ مصدر مبنی للمفعول ہے، یعنی ایسا مصدر ہے مَبْنِيٌّ لِلْمَفْعُوْلِ جس کو مفعول کے لیے بنایا گیا ہے، یعنی مصدرِ مجہول ہے، أَيْ كَوْنُ الِاسْمِ مَعْدُوْلًا، یعنی اسم کا معدول ہونا، خُرُوْجُهُ أَيْ خُرُوْجُ الِاسْمِ، ضمیر کا مرجع بتلا دیا: خُرُوْجُهُ أَيْ خُرُوْجُ الِاسْمِ، کیسے پڑھیں گے؟ طلبہ پڑھتے ہیں: خُرُوْجُ الِاسْمِ، نہیں بھئی: خُرُوْجُ لِسْمِ، لام کے نیچے زیر پڑھیں: أَيْ خُرُوْجُ الِاسْمِ یعنی اسم کا نکلنا۔ بھئی اسم کا نکلنا کیا معنی؟ أَيْ كَوْنُهُ مُخْرَجًا، یعنی اسم کا مخرج ہونا، نکالا ہوا ہونا۔ جیسے کیا تھا؟ پیچھے كَوْنُ الِاسْمِ مَعْدُوْلًا، اسم کا معدول ہونا، یہاں بھی خروجِ اسم سے کیا مراد ہے؟ کیا حاصل معنی کیا ہے؟ اسم کا مخرج ہونا۔ وجہ یہ، بھئی دیکھو یہ جو عدل ہے اس میں اخراج کا اعتبار ضروری ہے۔ اسم کو ایک صورت سے نکال کر دوسری صورت دینا، تو دیکھو اخراج ضروری ہے، ایک صورت سے صیغۂ اصلیہ سے اخراج ہونا چاہیے نئی صورت کی طرف۔ تو عدل کی بنیاد ساری کس پر ہے؟ اس اخراج پر ہے، ایک صورت سے نکال کر دوسری صورت دی ہے تو عدل ہے، اگر نہیں دی تو پھر عدل کہاں سے بھئی؟ تو عدل کی بنیاد کس پر ہے؟ اخراج پر ہے، اخراج ہوگا تو عدل ہے، اخراج نہیں تو عدل بھی نہیں، تو اسی لیے خُرُوْجُهُ کا حاصل معنی بیان کر دیا: اسم کا نکلنا مراد یہ ہے اسم کا مخرج ہونا یعنی نکالا ہوا ہونا، اسم کا نکالا ہوا ہونا۔ تو یہ حاصل معنی بیان کر دیا۔ عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ، عَنْ صِيْغَتِهِ کی ہا ضمیر اسم کو راجع ہے، اس اسم کے صیغۂ اصلیہ سے۔ اسم کا نکالا ہوا ہونا، اسم کا مخرج ہونا کس سے؟ اپنے صیغۂ اصلیہ سے، اپنے صیغۂ اصلیہ سے۔ تو دیکھو یہاں پر صِيْغَتِهِ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ اسم کو راجع ہے، توجہ ہے؟ اصلی صیغہ سے نکالنا اور اصلی صیغے سے کیا مراد ہے میں نے بتلایا تھا؟ جس کا قانون اور ضابطہ تقاضا کر رہا ہو، جیسے عَامِرٌ سے کیا بنا؟ عُمَرُ، قانون اور ضابطہ کیا تقاضا کر رہا تھا؟ کہ عَامِرٌ وزن ہونا چاہیے، تو قانون جس کا تقاضا کر رہا تھا وہ ہے صیغۂ اصلیہ، اس سے نکال لینا، ایک نئی صورت دینا یہ کیا ہے؟ عدل ہے۔ أَيْ عَنْ صُوْرَتِهِ الَّتِيْ، یہاں سے بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ بھئی صیغہ، یاد رکھیے صیغہ صورت اور مادے دونوں کا نام ہوتا ہے۔ صیغہ صورت اور مادے دونوں کا نام ہوتا ہے۔ ضَارِبٌ کون سا صیغہ ہے؟ اسم فاعل، اس میں مادہ بھی ہے اور صورت بھی ہے، پھر کہیں گے اسم فاعل ہے۔ مَضْرُوْبٌ کون سا صیغہ ہے؟ اسم مفعول ہے، اس میں مادہ بھی ملحوظ ہے اور صورت بھی ملحوظ ہے بھئی۔ لیکن یہاں پر صیغہ سے مراد صرف صورت ہے بھئی: أَيْ عَنْ صُوْرَتِهِ، دیکھو صورت کے ساتھ ترجمہ کیا، یعنی ایک اسم کو نکالا جائے اس کے صیغۂ اصلیہ سے دوسرے صیغے کی طرف، معلوم ہوا مادہ وہی رہے گا صرف کیا بدلے گی؟ صورت بدلے گی، مادہ نہیں بدلے گا۔ توجہ ہے؟ مادہ نہیں بدلے گا، دیکھو عَامِرٌ سے کیا بنایا؟ عُمَرُ بنایا، مادہ وہی ہے: ع، م، ر۔ تو مادہ نہیں بدلے گا تو یہاں صیغۂ اصلیہ سے نکالنے کا کیا معنی ہے؟ اس صورت سے نکال کر نئی صورت دے دینا، مادہ کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ أَيْ عَنْ صُوْرَتِهِ الَّتِيْ يَقْتَضِي الْأَصْلُ وَالْقَاعِدَةُ، یعنی وہ صورت جس کا تقاضا اصل اور ضابطہ کر رہا ہو، أَنْ يَّكُوْنَ ذٰلِكَ الِاسْمُ عَلَيْهَا کہ اس اسم کو اس صورت پر ہونا چاہیے۔ یعنی وہ صورت کہ جس کا تقاضا اصل اور ضابطہ کر رہا ہے کہ اسم کو اس صورت پر ہونا چاہیے، تو اس صورت سے نکال دینا جس کا تقاضا ضابطہ کر رہا تھا۔ یہ ہے خُرُوْجُ الِاسْمِ عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ۔ ترجمہ سمجھ میں آگیا؟ پھر ترجمہ دیکھ لیں: أَيْ عَنْ صُوْرَتِهِ الَّتِيْ يَقْتَضِي الْأَصْلُ وَالْقَاعِدَةُ أَنْ يَّكُوْنَ ذٰلِكَ الِاسْمُ عَلَيْهَا، یعنی وہ صورت جس کا تقاضا ضابطہ اور قاعدہ کر رہا ہو کہ اسم کو اس پر ہونا چاہیے، اس صورت سے اس کو نکالنا۔ وَلَا يَخْفَى، یہاں سے تین چار اشکالات کے جواب دیں گے بھئی، آپ یہیں پر پوری بات سمجھ لیجیے۔ دیکھیے اسم کو نکالنا صیغۂ اصلیہ سے، اشکال ہوتا ہے: آپ کی تعریف تو مشتقات کو بھی شامل ہو گئی۔ ضَارِبٌ کس سے بنا ہے؟ ضَرْبٌ سے، مَضْرُوْبٌ بھی کس سے بنا ہے؟ ضَرْبٌ سے۔ تو دیکھا یہاں ضَارِبٌ کو بھی اس کے صیغۂ اصلیہ سے نکال کر ایک نئی صورت دے دی گئی، مَضْرُوْبٌ کو بھی اس کے صیغۂ اصلیہ سے نکال کر ایک نئی صورت دے دی گئی، تو لہٰذا ان میں بھی عدل کو ماننا چاہیے۔ ان میں بھی کیا آگیا؟ عدل، جب ان میں ضَارِبٌ اور مَضْرُوْبٌ میں عدل آگیا تو یہ تو صفت کے صیغے ہیں، تو صفت بھی آگئی، عدل بھی آگیا، دو سبب آگئے، لہٰذا ان کو غیر منصرف پڑھنا چاہیے، حالانکہ ان کو کوئی بھی غیر منصرف نہیں کہتا۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ تو جواب دیا: کہتے ہیں دیکھو عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ، اس میں صیغہ کی اضافت ہا ضمیر کی طرف ہے اور یہ ہا ضمیر اسم کو راجع ہے۔ اسم کو اپنے صیغہ سے نکالنا، اسم کا اپنے صیغہ سے نکلنا، اور مجھے بتائیے ضَرْبٌ کون سا صیغہ ہے؟ مصدر ہے۔ ضَارِبٌ کون سا صیغہ ہے؟ اسم فاعل، تو کیا ضَارِبٌ اور ضَرْبٌ کا ایک معنی ہے؟ جی، ایک معنی نہیں، میں نے آپ سے پوچھا ضَرْبٌ کون سا صیغہ؟ آپ نے کیا کہا؟ مصدر، میں نے کہا ضَارِبٌ کون سا صیغہ؟ آپ نے کیا کہا؟ اسم فاعل ہے۔ جب ضَارِبٌ اسم فاعل ہے معلوم ہوا ضَرْبٌ اس کا اپنا صیغہ نہیں ہے وہ تو اور صیغہ ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ کیا ضَارِبٌ کا اپنا صیغہ ہے ضَرْبٌ؟ کیا وہ بھی اسم فاعل ہے؟ نہیں، اسی طرح میں نے پوچھا ضَرْبٌ کون سا صیغہ؟ آپ نے کیا کہا؟ مصدر، اور میں نے کہا مَضْرُوْبٌ کون سا صیغہ؟ آپ نے کیا کہا؟ اسم مفعول، تو کیا یہ جو ضَرْبٌ ہے یہ مَضْرُوْبٌ کا اپنا صیغہ ہے؟ وہ بھی اسم مفعول کا صیغہ ہے کوئی؟ نہیں، تو یاد رکھو عدل میں معنی نہیں بدلتا، عدل میں صرف صورت بدلتی ہے، توجہ ہے؟ صورت بدلتی ہے، تو لہٰذا ضَرْبٌ کا معنی اور وہ مصدر ہے، ضَارِبٌ کا معنی اور، دیکھو معنی باقاعدہ بدل رہا ہے، حالانکہ عدل میں معنی نہیں بدلتا بھئی۔ تو جب صِيْغَتِهِ کہہ دیا، اسم کا نکلنا اپنے صیغے سے، تو ضَارِبٌ یہ تو اپنے صیغے سے نہیں نکلا، یہ تو مصدر سے نکلا ہے بھئی، لہٰذا اس کو عدل نہیں کہیں گے، بات سمجھ میں آگئی۔ دوسرا اشکال یہ ہوتا ہے، دوسرا اشکال کہ بھئی کچھ اسم ایسے ہیں جن میں کبھی کوئی ایک حرف حذف کر لیا جاتا ہے جیسے کچھ اسم ایسے ہیں جن کا آخری حرف حذف کر لیا گیا، جیسے يَدٌ اصل میں کیا تھا؟ يَدَوٌ اور دَمٌ اصل میں کیا تھا؟ دَمَوٌ تھا، تو یہ تو محذوفۃ الاعجاز ہیں۔ میں نے بتایا تھا اعجاز جمع ہے عجوز کی، اور عجوز کہتے ہیں پچھلے دھڑ کو، آپ گائے بیل بکری وغیرہ خریدنے جاتے ہیں تو اس کے پچھلے دھڑ کو دیکھتے ہیں، اگر وہ گوشت سے پر ہے تو اس کا مطلب ہے یہ حیوان خوب موٹا تازہ ہے، اور اگر پچھلا دھڑ ہڈیاں نکلی ہوئی ہوں تو اس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ حیوان بڑا کمزور ہے بھئی۔ تو یہ یہاں پر بھی کلمے کے اندر بھی جو آخری حصہ ہے وہ بھی عجوز کی طرح ہے۔ تو دیکھو يَدَوٌ سے آخر میں واؤ حذف ہوا یہ اس کا عجوز ہے اور دَمَوٌ سے واؤ حذف ہوا یہ اس کا عجوز یعنی آخری دھڑ ہے۔ تو کبھی کبھار کلمے کے آخر سے کوئی حرف حذف کر لیا جاتا ہے، کبھی درمیان سے حذف کرتے ہیں جیسے مَقُوْلٌ، اسم مفعول کا صیغہ ہے، یہ اصل میں کیا تھا؟ مَقْوُوْلٌ، توجہ ہے؟ مَقُوْلٌ اصل میں کیا تھا؟ مَقْوُوْلٌ، تو اس کے درمیان سے ایک حرف کو حذف کر لیا گیا۔ اور اسی طرح کبھی شروع سے ایک حرف حذف کر لیا جاتا ہے جیسے عِدَةٌ اصل میں کیا تھا؟ وِعْدٌ تھا، پھر واؤ کو حذف کر کے آخر میں کیا لے آئے؟ گول تا لے آئے بھئی، تو عِدَةٌ ہوا۔ تو یہ جن سے کیا کیا جاتا ہے؟ ایک آدھ حرف کو حذف کر دیا جاتا ہے تو ان کو بھی دیکھو اصل صورت سے نکال لیا گیا۔ کیا کیا گیا؟ اصل صورت سے نکال لیا گیا۔ يَدٌ کو اصل صورت يَدَوٌ سے نکال لیا گیا، ایک نئی صورت دے دی گئی تو ان میں بھی کیا کہنا چاہیے؟ عدل کہنا چاہیے ان کو کہ ان میں عدل ہوا ہے۔ مَقُوْلٌ میں بھی کیا کہنا چاہیے؟ عدل ہوا ہے۔ عِدَةٌ میں بھی کیا کہنا چاہیے؟ عدل ہوا ہے، لیکن کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے بھئی کہ ان میں عدل ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی مراد اس سے یہ ہے کہ صرف صورت میں تبدیلی آئے مادے میں تبدیلی نہ آئے، يَدَوٌ اور دَمَوٌ میں تو مادے کے اندر تبدیلی آگئی، مادہ ہی حذف کر دیا گیا، مادہ برقرار رہنا چاہیے۔ عدل میں مادہ برقرار رہنا چاہیے، لہٰذا يَدٌ اور دَمٌ کا اعتراض بھی ختم، عِدَةٌ اور مَقُوْلٌ وغیرہ کا اعتراض بھی ختم ہوا، کیونکہ اس میں مادہ باقی نہیں بھئی۔ پھر اشکال ہوتا ہے، اشکال یہ ہوتا ہے کہ مغیراتِ قیاسیہ جو ہیں ان کے اندر بھی عدل کو ماننا چاہیے۔ ان کے اندر عدل کو ماننا چاہیے، مثلاً مَقُوْلٌ، مَقُوْلٌ، یہ اصل میں کیا تھا؟ مَقْوُوْلٌ، تو یہ ہے اس کا صیغۂ اصلیہ، اصل صورت ہے، اسم مفعول کا وزن کیا ہے ثلاثی مجرد میں؟ مَفْعُوْلٌ، مَقْوُوْلٌ دیکھو اسی وزن پر ہے۔ پھر اس کو قوانین اور ضابطوں کے تحت کیا کیا گیا؟ مَقْوُوْلٌ میں واؤ کی حرکت قاف کو دے دی گئی، توجہ ہے؟ واؤ کی حرکت قاف کو دے دی گئی، اب دو واؤ ساکن جمع ہوئے، اجتماعِ ساکنین علی غیر حدہ آیا اور اس میں اگر اول مدہ ہو تو اس کو گراتے ہیں، تو ایک واؤ کو گرا دیا، توجہ ہے؟ تو کیا بن گیا؟ مَقُوْلٌ۔ اب کون سے واؤ کو گرایا؟ بعض علمائے نحو فرماتے ہیں کہ جو زائد تھا اس کو گرایا، کیونکہ ایک اصلی ہے، اصلی کو نہیں گراتے بلکہ کس کو گراتے ہیں؟ زائد، تو مَفْعُوْلٌ کے اندر ایک جو واؤ زائد آرہا تھا اس کو گرا دیا تو کیا بن گیا؟ مَقُوْلٌ۔ جبکہ بعض علمائے نحو فرماتے ہیں: نہیں، یہاں زائد کو نہیں گرانا، اصل کو گرانا ہے، کس کو؟ بھئی اصل کو کیوں گرانا ہے زائد کو گراتے ہیں؟ کہتے ہیں: نہیں، یہ جو زائد آرہا ہے یہ علامت ہے، یہ ہمیں بتا رہا ہے کہ یہ اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ مَفْعُوْلٌ میں یہ واؤ نہ آتا تو ہمیں پتہ ہی نہ چلتا یہ کون سا صیغہ ہے اسم مفعول کا، تو یہ واؤ اسم مفعول کے صیغے کی علامت ہے اور علامت کو نہیں گرایا جاتا، لہٰذا اصلی کو گرائیں گے یہاں پر۔ تو گویا دو گروہ ہوگئے: بعض کے نزدیک مَقُوْلٌ میں جو واؤ گرا ہے وہ اصلی گرا ہے، جب واؤ اصلی گرا ہے تو معلوم ہوا مادہ باقی پورا نہ رہا تو لہٰذا یہ بھی دَمٌ اور يَدٌ کی طرح کیا ہوا؟ نکل گیا، توجہ ہے؟ اور بعض کے نزدیک مادہ نہیں بدلا بلکہ زائد جو تھا وہ گرا ہے، مادہ ابھی بھی باقی ہے بھئی، مادہ ابھی بھی باقی ہے۔ تو یہ بھی عدل کے اندر داخل ہوا۔ یہ بھی کس میں داخل ہوا؟ عدل میں داخل ہوا، کس طرح داخل ہوا؟ کہ بھئی اصل قانون کیا تھا، صورت کیا ہونی چاہیے؟ مَقْوُوْلٌ ہونی چاہیے تھی، پھر اس سے نکال کر ایک نئی صورت دے دی: مَقُوْلٌ، مادہ بھی باقی ہے لہٰذا اس کو بھی کیا کہنا چاہیے؟ عدل کہنا چاہیے، تو آپ کو بتائیں گے کہ بھئی جو نئی صورت دی ہو وہ قانون اور ضابطے کے مطابق نہیں ہونی چاہیے۔ پہلی صورت تو قانون اور ضابطے کے مطابق تھی مَقْوُوْلٌ، دوسری قانون اور ضابطے کے مطابق نہیں ہونی چاہیے، اور مَقُوْلٌ کی دوسری صورت بھی قانون اور ضابطے کے مطابق ہے یا نہیں؟ قانون لگا کر باقاعدہ آپ نے اجتماعِ ساکنین کی وجہ سے ایک واؤ کو گرایا ہے۔ تو مَقْوُوْلٌ سے کیا بن گیا؟ مَقُوْلٌ۔ پہلی صورت بھی قانون کے مطابق اور مَقُوْلٌ یہ بھی قانون اور ضابطے کے مطابق ہے، قوانینِ اعلال وغیرہ کے قوانین لگائے یا نہیں لگائے آپ نے؟ تو یہ بھی قانون کے مطابق ہے، حالانکہ عدل میں دوسری صورت نئی صورت ہوتی ہے وہ کسی قانون اور ضابطے کے تحت نہیں ہوتی، لہٰذا یہ مغیراتِ قیاسیہ بھی نکل گئے۔ پھر ایک اور اشکال ہوتا ہے کہ کچھ صیغے جو شاذ ہوتے ہیں وہ اس کے اندر داخل ہو گئے۔ کچھ شاذ جمعیں وغیرہ جو ہیں وہ اس کے اندر داخل ہوگئیں، جیسے جیسے قَوْسٌ، قوس کمان کو کہتے ہیں، تیر کمان بھئی، اس قوس کی جمع جو ہے أَقْوُسٌ آتی ہے، ہمزہ قاف واؤ سین: أَقْوُسٌ۔ حالانکہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی جمع أَقْوَاسٌ آنی چاہیے تھی، اس کی جمع أَقْوَاسٌ آنی چاہیے تھی، تو معلوم ہوا یہ أَقْوُسٌ جو جمع آئی یہ خلافِ ضابطہ ہے، یہ خلافِ ضابطہ ہے۔ معلوم ہوا ادھر دیکھیے، معلوم ہوا قوس کی جمع پہلے بنائی گئی أَقْوَاسٌ اور وہ أَقْوَاسٌ تو کیا تھی؟ قانون اور ضابطے کے مطابق، پھر اس أَقْوَاسٌ سے کیا بنا لیا گیا؟ أَقْوُسٌ، اب یہ خلافِ ضابطہ ہے، اب تو یہ آپ کی تعریف میں داخل ہوگیا۔ آپ نے بھی ہمیں کیا کہا تھا؟ کہ پہلا صیغہ قانون کے مطابق ہو، دوسرے کو قانون کے مطابق نہیں ہونا چاہیے، تو لہٰذا اب یہ أَقْوُسٌ خلافِ قانون ہو گیا۔ پہلے قَوْسٌ سے کیا بنا؟ أَقْوَاسٌ، پھر أَقْوَاسٌ سے کیا بنا؟ أَقْوُسٌ، تو پہلا صیغہ جو بنا وہ قانون کے مطابق بنا، فَعْلٌ کی جمع أَفْعَالٌ آتی ہے بھئی، بات سمجھ میں آرہی ہے؟ اور پھر اس کو نکالا گیا اور نئی صورت دی گئی اور وہ خلافِ قانون ہے۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ نہیں بھئی، ہمیں یہ تسلیم نہیں ہے کہ قَوْسٌ کی جمع پہلے أَقْوَاسٌ لائی گئی اور پھر وہاں سے اس سے أَقْوُسٌ بنائی گئی، بلکہ یہاں ابتداءً ہی قَوْسٌ کی جمع أَقْوُسٌ بنا دی گئی۔ ابتداءً ہی قَوْسٌ کی جمع کیا لائی گئی؟ أَقْوُسٌ لائی گئی، لہٰذا یہاں پہلا صیغہ قانون کے مطابق ہو اور دوسرا خلافِ قانون، تو ایسا نہیں ہے، بلکہ ابتداءً ہی قَوْسٌ کی جمع أَقْوُسٌ لائی گئی یعنی خلافِ قانون لائی گئی۔ لہٰذا اب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ أَقْوُسٌ کس سے نکلا ہے؟ أَقْوَاسٌ سے، اگر یہ کہیں گے تو پھر تو عدل میں یہ داخل ہوگا، لیکن یہ درست نہیں ہے بھئی، أَقْوُسٌ، أَقْوَاسٌ سے نہیں بنی بلکہ ابتداءً قَوْسٌ کی جمع ہی کیا لائی گئی؟ أَقْوُسٌ لائی گئی۔ تو لہٰذا یہ عدل کی تعریف میں داخل نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی، جی۔ دیکھیے بھئی کہتے ہیں: وَلَا يَخْفَى أَنَّ صِيْغَةَ الْمَصْدَرِ لَيْسَتْ صِيْغَةَ الْمُشْتَقَّاتِ، اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ مصدر کا جو صیغہ ہے وہ مشتقات کا صیغہ نہیں ہے، فَبِإِضَافَةِ الصِّيْغَةِ إِلَى ضَمِيْرِ الِاسْمِ، پس صیغہ کی اضافت اسم کی ضمیر کی طرف کرنے سے خَرَجَتِ الْمُشْتَقَّاتُ كُلُّهَا، تمام مشتقات نکل گئے۔ بات سمجھ میں آئی؟ بات کیا ہوئی تھی کہ صیغہ کی اضافت ہے ہا ضمیر کی طرف اور ہا ضمیر اسم کو راجع ہے، اسم کو نکالنا اپنے صیغے سے، اور ضَارِبٌ جو ضرب سے بنا ہے تو یہ ضَرْبٌ، ضَارِبٌ کا اپنا صیغہ نہیں، اور اسی طرح مَضْرُوْبٌ ضرب سے بنا ہے تو یہ ضَرْبٌ، مَضْرُوْبٌ کا اپنا صیغہ نہیں، وہ تو مصدر ہے اور یہ اسم مفعول یا اسم فاعل ہے، دونوں کا صیغہ ہی الگ الگ ہے، اور یہ تھا کہ اپنے ہی صیغہ سے نکلے۔ بات سمجھ بھی آرہی ہے کہ نہیں۔ آگے دیکھیے: وَأَنَّ الْمُتَبَادَرَ مِنْ خُرُوْجِهِ عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ أَنْ تَكُوْنَ الْمَادَّةُ بَاقِيَةً، اور متبادر، متبادر کا معنی جو چیز ذہن کی طرف سبقت کرے۔ تو صیغۂ اصلیہ سے نکلنے سے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ مادے کو باقی ہونا چاہیے۔ کس کو؟ مادہ نہیں بدلنا چاہیے، لہٰذا اسمائے محذوفۃ الاعجاز وغیرہ کا اعتراض ختم کیونکہ اس میں مادہ باقی نہیں رہتا۔ وَأَنَّ الْمُتَبَادَرَ، دیکھو یہ أَنَّ الْمُتَبَادَرَ، یہ اس کا عطف پیچھے آیا تھا نا وَلَا يَخْفَى أَنَّ صِيْغَةَ الْمَصْدَرِ، یہ أَنَّ صِيْغَةَ الْمَصْدَرِ یہ فاعل ہے لَا يَخْفَى کا، اَنَّ کیا کرتا ہے؟ جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر اس کو مفرد کے معنی میں کر دیتا ہے، تو یہ فاعل بنے گا لَا يَخْفَى کا۔ آگے بھی ایک دو جگہ اور بھی آئے گا اسی طرح أَنَّ الْمُتَبَادَرَ، اس کا عطف بھی اسی أَنَّ صِيْغَةَ الْمَصْدَرِ پر ہے تو یہ بھی اس کا فاعل بنے گا، یعنی یہ بات بھی مخفی نہیں ہے کہ أَنَّ الْمُتَبَادَرَ مِنْ خُرُوْجِهِ عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ کہ اسم کا صیغۂ اصلیہ سے نکلنا اس سے جو بات متبادر ہوتی ہے یعنی ذہن میں فوراً آتی ہے کہ أَنْ تَكُوْنَ الْمَادَّةُ بَاقِيَةً وَّالتَّغَيُّرُ إِنَّمَا وَقَعَ فِي الصُّوْرَةِ فَقَطْ کہ مادہ باقی ہوگا اور تبدیلی صرف اس کی صورت میں واقع ہوئی ہوگی، فَلَا يَنْتَقِضُ بِمَا حُذِفَ عَنْهُ بَعْضُ الْحُرُوْفِ، لہٰذا یہ تعریف نہیں ٹوٹتی ان اسموں کے ذریعے جن میں سے بعض حروف کو کیا کر لیا جائے؟ حذف کر لیا جائے، چاہے شروع میں ہو چاہے درمیان میں ہو چاہے آخر میں ہو، تو اس کے ذریعے ان کو لے کر تعریف پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ پھر ترجمہ دیکھیے: وَأَنَّ الْمُتَبَادَرَ مِنْ خُرُوْجِهِ عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ اور صیغۂ اصلیہ سے اسم کے نکلنے سے جو بات ذہن میں متبادر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ أَنْ تَكُوْنَ الْمَادَّةُ بَاقِيَةً کہ مادہ جو ہے وہ باقی ہوگا وَّالتَّغَيُّرُ إِنَّمَا وَقَعَ فِي الصُّوْرَةِ فَقَطْ اور جو تغیر ہوا ہے وہ صرف اس کی صورت میں ہوگا، فَلَا يَنْتَقِضُ بِمَا حُذِفَ عَنْهُ بَعْضُ الْحُرُوْفِ لہٰذا عدل کی یہ تعریف ٹوٹتی نہیں ہے یعنی اس پر اعتراض وارد نہیں ہوتا بِمَا ان اسموں کے ان اسموں کے ذریعے کہ حُذِفَ عَنْهُ بَعْضُ الْحُرُوْفِ جن میں سے بعض حروف کو حذف کر لیا گیا ہو كَالْأَسْمَاءِ الْمَحْذُوْفَةِ الْأَعْجَازِ جیسے کہ وہ اسماء جن کے آخر کو حذف کر لیا گیا ہو مِثْلُ يَدٍ وَّدَمٍ جیسے کہ يَدٍ اور دَمٍ بھئی، فَإِنَّ الْمَادَّةَ لَيْسَتْ بَاقِيَةً فِيْهَا اس لیے کیونکہ ان کے اندر تو مادہ باقی نہیں ہے۔ وَأَنَّ خُرُوْجَهُ، جی، یہ اب تیسری بات، اس کا عطف بھی اسی پر ہے اور یہ بات بھی مخفی نہیں ہے کہ أَنَّ خُرُوْجَهُ عَنْ صِيْغَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ کہ اسم کا اپنے صیغہ سے نکلنا يَسْتَلْزِمُ دُخُوْلَهُ فِيْ صِيْغَةٍ أُخْرَى، یہ مستلزم ہے کہ وہ اسم داخل ہو جائے دوسرے صیغے میں یعنی دوسری صورت میں، أَيْ مُغَايِرَةٍ لِّلْأُوْلَى ایسی صورت جو پہلی صورت کے، أَيْ مُغَايِرَةٍ لِّلْأُوْلَى ایسی صورت جو پہلی صورت کے مغایر ہو۔ نئی صورت بھی آئے گی: وَلَا يَبْعُدُ أَنْ يُّعْتَبَرَ اور یہ بات بھی بعید نہیں ہے کہ أَنْ يُّعْتَبَرَ مُغَايَرَتُهَا لَهَا کہ اعتبار کیا جائے اس دوسرے صیغے کا مغایر ہونے کا، مغایرتہا ہا ضمیر کس کو راجع؟ دوسرے صیغے کو، بھئی پیچھے آیا تھا نا کہ صیغۂ اصلیہ سے نکلنا اس کے ساتھ لازم ہے کہ اسم داخل ہوگا ایک نئے صیغے میں یعنی ایک نئی صورت میں۔ تو ایک ہے صیغۂ اصلیہ، ایک ہے صیغۂ اخریٰ، نیا صیغہ، توجہ ہے؟ دوسرا صیغہ، تو اب مُغَايَرَتِهَا یہ ہا ضمیر راجع ہے دوسرے صیغے کو کہ وہ دوسرا صیغہ مغایر ہونا چاہیے لَهَا اس صیغۂ اصلیہ سے، یہ دوسرا صیغہ اس پہلے صیغہ سے مغایر ہونا چاہیے بھئی۔ وَلَا يَبْعُدُ أَنْ يُّعْتَبَرَ مُغَايَرَتُهَا لَهَا اور یہ بات بعید نہیں ہے کہ اعتبار کیا جائے مُغَايَرَتُهَا اس دوسرے صیغے کا مغایر ہونا، مختلف ہونا لَهَا اس صیغۂ اصلیہ سے فِيْ كَوْنِهَا غَيْرَ دَاخِلَةٍ تَحْتَ أَصْلٍ وَّقَاعِدَةٍ اس بات میں کہ یہ داخل نہ ہو کسی اصل اور قاعدے کے تحت۔ کہتے ہیں بھئی دیکھیے: ایک ہے صیغۂ اصلیہ، اس جب صیغۂ اصلیہ سے اسم نکلے گا تو اس کے ساتھ لازم ہے معلوم ہوا کہ ایک نیا صیغہ آئے گا، نئی صورت آئے گی، تو صرف صورت ہی نہیں آئے گی بلکہ جیسے یہ صورت اس پہلی صورت سے مغایر ہے اسی طرح یہ بایں لحاظ بھی مغایر ہوگی کہ وہ پہلی صورت ضابطے کے مطابق تھی اور ثانی کے لیے کوئی ضابطہ نہیں ہے، بایں اعتبار بھی ان میں کیا ہوگی؟ مغایرت ہوگی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يَبْعُدُ أَنْ يُّعْتَبَرَ مُغَايَرَتُهَا لَهَا اور یہ بات بعید نہیں ہے کہ اعتبار کیا جائے کہ وہ دوسرا صیغہ جو ہے وہ مغایر ہونا چاہیے صیغۂ اصلیہ سے، کس چیز میں مغایر ہونا چاہیے؟ فِيْ كَوْنِهَا غَيْرَ دَاخِلَةٍ تَحْتَ أَصْلٍ وَّقَاعِدَةٍ اس بات میں کہ یہ جو دوسرا صیغہ ہے یہ داخل نہ ہو کسی اصل اور ضابطے کے تحت كَمَا كَانَتِ الْأُوْلَى جیسے کہ پہلا داخل تھا کسی ضابطے کے تحت، تو ضابطے کے تحت ہونے کے اندر بھی مخالفت ہونی چاہیے۔ تو کہتے ہیں كَمَا كَانَتِ الْأُوْلَى دَاخِلَةً تَحْتَهُ جیسے کہ پہلا صیغہ جو ہے وہ ایک ضابطے کے تحت داخل تھا، فَخَرَجَتْ عَنْهُ الْمُغَيَّرَاتُ الْقِيَاسِيَّةُ تو مغیراتِ قیاسیہ بھی اس سے نکل گئے، مغیراتِ قیاسیہ بھی اس سے نکل گئے۔ قَالَ کس سے بنا ہے؟ قَوَلَ سے، جی، قَوَلَ بھی قانون کے مطابق کیونکہ ماضی کس وزن پر آتی ہے؟ ضَرَبَ، کس وزن پر؟ تو قَوَلَ اصل، پھر اس قَوَلَ سے کیا بنا؟ قَالَ اور یہ بھی قانون کے مطابق ہے، ایک نئی صورت آئی لیکن اس میں بھی واؤ متحرک ماقبل فتحہ اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ الف سے، تو پہلی صورت بھی ضابطے کے مطابق: قَوَلَ، نَصَرَ، دیکھو وہی وزن ہے یا نہیں؟ وہ کیونکہ ماضی باب نصر میں ماضی نَصَرَ یعنی تینوں حرف پر فتحہ ہوتا ہے، تو پہلی صورت بھی ضابطے کے مطابق اور قَالَ جو دوسری صورت بنی وہ بھی ضابطے کے مطابق۔ لہٰذا یہ جو مغیراتِ قیاسیہ ہیں، یہ قیاسی تبدیلیاں جو آپ ابواب میں، صیغوں میں کرتے ہیں وہ بھی اس سے نکل گئیں، ان کو عدل نہیں کہیں گے، کیونکہ ان میں پہلی صورت کے ساتھ ساتھ دوسری صورت بھی قانون کے مطابق ہے بھئی۔ تو یہ تمام مغیراتِ قیاسیہ نکل گئے اس سے۔ وَأَمَّا الْمُغَيَّرَاتُ الشَّاذَّةُ فَلَا نُسَلِّمُ، جی، مغیراتِ شاذہ کا اعتراض ہوتا تھا، کس طرح؟ قوس کی جمع کیا آئی؟ أَقْوَاسٌ، پھر أَقْوَاسٌ سے کیا بنا، نیا صیغہ کیا بنا لیا؟ أَقْوُسٌ، تو أَقْوَاسٌ تو ضابطے کے مطابق تھی۔ قوس کی جمع ضابطے کے مطابق آنی بھی کیا چاہیے؟ أَقْوَاسٌ، لیکن اس سے جو نئی صورت بنائی گئی أَقْوُسٌ وہ خلافِ ضابطہ ہے، لہٰذا یہ تو تب تعریف میں داخل ہو رہا ہے، یہ تو قانون کے مطابق نہیں ہے دوسری صورت جو ہے، تو اس کا بھی جواب دیں گے کہ یہ بات تسلیم نہیں ہے کہ قوس کی جمع پہلے أَقْوَاسٌ آئی اور پھر اس سے أَقْوُسٌ بنا، بلکہ قوس سے براہِ راست کیا بن گیا؟ أَقْوُسٌ بن گیا، تو یہاں کوئی ایسی صورت نہیں ہے درمیان میں جو ضابطے کے مطابق ہو اور پھر نئی صورت بنائی جائے۔ کہتے ہیں: وَأَمَّا الْمُغَيَّرَاتُ الشَّاذَّةُ اور باقی جو مغیراتِ شاذہ ہیں، شاذ اس کو کہتے ہیں جو استعمال کے اعتبار سے ٹھیک ہے لیکن قانون کے اعتبار سے ٹھیک نہیں، یعنی قانون کی گرفت میں نہیں آرہا اس کو شاذ کہتے ہیں۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا یہ جو صرف و نحو کے قوانین ہیں یہ سارے بعد میں بنائے گئے ہیں۔ عربوں کی زبان پہلے تھی، وہ عربی بولتے تھے، لیکن بعد میں قرآن و حدیث کی حفاظت کے لیے علماء نے صرف و نحو وغیرہ علوم کو باقاعدہ ایجاد کیا، وجود دیا اور ایسے ایسے قانون اور ضابطے بنائے کہ یوں لگتا ہے قانون اور ضابطے پہلے تھے اور عربی زبان اس کے مطابق اس کو دیکھ کر بنائی گئی۔ جیسے قَالَ اصل میں کیا تھا؟ قَوَلَ، حالانکہ ہم نے عربوں سے آج تک نہیں سنا کسی نے قَوَلَ پڑھا ہو۔ کیا پڑھا ہو؟ قَوَلَ پڑھا ہو، ہم نے تو صرف قَالَ سنا ہے، لیکن علمائے نحو نے اللہ تعالیٰ ان کو اجرِ عظیم نصیب فرمائے کتنی آسانیاں کر دیں بھئی۔ اب دیکھو قَالَ کی اصل قَوَلَ تھی، بھئی کیوں اصل قَوَلَ تھی؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ماضی فَعَلَ وزن پر آتی ہے باب نصر سے، کس وزن پر؟ فَعَلَ، تو یہ تو ہے قَالَ، معلوم ہوا اس کی اصل بھی کیا ہوگی؟ قَوَلَ ہوگی، کیا ہوگی؟ قَوَلَ، تو اس طرح کر کے ایک ایک ضابطے کے مطابق انہوں نے ایک ایک لفظ کو پرکھا اور ضابطے کے تحت اس کو لے آئے۔ لیکن کچھ لفظ ایسے تھے علماء نے بڑی کوشش کی کہ وہ کسی طرح قانون کے اندر آجائیں لیکن وہ قانون کے تحت نہیں آرہے، تو اس کو انہوں نے شاذ قرار دے دیا۔ کیا قرار دیا؟ شاذ، شاذ کا یہ معنی نہیں کہ وہ غلط ہیں، شاذ کا معنی یہ ہے کہ ہمارے قانون کے تحت نہیں آرہے، ہم نے تو بڑی کوشش کی کہ کسی طرح یہ قانون کے تحت آجائے لیکن یہ قانون کے تحت نہیں آرہا، تو ان کو شاذ کہتے ہیں۔ یعنی عرب اس کو قوس کی جمع أَقْوُسٌ ہی بولتے ہیں، معلوم ہوا یہ استعمال کے اعتبار سے بالکل ٹھیک ہے، عرب پڑھتے ہی أَقْوُسٌ ہیں، لیکن ہمیں ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ قوس کی جمع أَقْوُسٌ کیوں آئی؟ کوئی قانون ابھی تک ہم بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ایک ضابطہ ہو نا جس پر اور بھی لفظ آئیں اس کے مطابق ان میں تبدیلی ہو، ایسا ضابطہ ابھی تک ہمیں سمجھ میں نہیں آیا، کوئی ہم ضابطہ نہیں بنا سکے، تو أَقْوُسٌ استعمال کے اعتبار سے ٹھیک ہے لیکن ضابطے کی گرفت میں نہیں آرہا تو بایں اعتبار اس کو کیا کہتے ہیں؟ شاذ کہتے ہیں، بات سمجھ میں آگئی۔ جیسے دیکھو عَوِرَ يَعْوَرُ، عَوِرَ يَعْوَرُ، عَوِرَ يَعْوَرُ واؤ متحرک ہے ماقبل فتحہ ہے، اس کو کس سے بدلنا چاہیے؟ الف سے، لیکن عرب اس کو اسی طرح پڑھتے ہیں۔ تو چنانچہ علماء پھر فرماتے ہیں یہ شاذ ہیں بھئی، یہ شاذ ہیں بھئی، یعنی قانون کے تحت نہیں آرہے، اور جبکہ بعض پھر کہتے ہیں کہ یہ اصلِ مادہ پر دلالت کرنے کے لیے اس کو باقی رکھا گیا تاکہ پتہ چل جائے، اگر اس کو عَارَ پڑھ دیا جاتا تو مادے کا پتہ نہیں چلتا کہ یہاں درمیان میں واؤ تھا یا یا تھی، تو اس لیے اس کو اس کی اصل پر برقرار رکھا بھئی۔ تو بہرحال بعض صیغے ہوتے ہیں بعض علماء کے نزدیک شاذ ہوتے ہیں، پھر بعض علماء کوئی نہ کوئی قانون ایسا بنا لیتے ہیں اس میں تبدیلی کر کے کہ وہ شاذ بھی غیر شاذ بن جاتے ہیں، جیسے علم الصیغہ وغیرہ میں آپ نے پڑھا ہے، بعض وہ قوانین کی تقریر ایسی فرماتے ہیں کہ میری یہ تقریر لے لو گے تو یہ فلاں فلاں کلمے کا شاذ ہونا ختم ہو جائے گا، وہ قانون کے تحت آجائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَأَمَّا الْمُغَيَّرَاتُ الشَّاذَّةُ اور باقی مغیراتِ شاذہ جو ہیں، فَلَا نُسَلِّمُ تو ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے أَنَّهَا مُخْرَجَةٌ عَنِ الصِّيَغِ الْأَصْلِيَّةِ کہ یہ نکالے گئے ہیں صیغِ اصلیہ سے، فَإِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّ مِثْلَ أَقْوُسٍ وَّأَنْيُبٍ مِّنَ الْجُمُوْعِ الشَّاذَّةِ اس لیے کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ أَقْوُسٍ اور أَنْيُبٍ جیسی جو جموعِ شاذہ ہیں لَيْسَتْ مُخْرَجَةً عَمَّا هُوَ الْقِيَاسُ فِيْهَا ان کو نکالا نہیں گیا اس صیغے سے جو قیاس ہے ان کے اندر، أَعْنِيْ أَقْوَاسًا وَّأَنْيَابًا یعنی أَقْوَاسًا اور أَنْيَابًا، ظاہر یہی ہے کہ أَقْوُسٍ اور أَنْيُبٍ کو أَقْوَاسٍ اور أَنْيَابٍ سے نہیں نکالا گیا، بَلْ إِنَّمَا جُمِعَ الْقَوْسُ وَالنَّابُ ابْتِدَاءً عَلَى أَقْوُسٍ وَّأَنْيُبٍ عَلَى خِلَافِ الْقِيَاسِ بلکہ قوس اور ناب کو جمع کیا گیا ابتداءً شروع سے ہی کس وزن پر؟ عَلَى أَقْوُسٍ وَّأَنْيُبٍ، أَقْوُسٍ اور أَنْيُبٍ کے وزن پر، أَقْوُسٍ اور أَنْيُبٍ پر ان کی جمع بنائی گئی شروع سے ہی عَلَى خِلَافِ الْقِيَاسِ، خلاف القیاس بھئی، خلاف القیاس طریقے پر، مِنْ غَيْرِ أَنْ يُّعْتَبَرَ جَمْعُهُمَا أَوَّلًا عَلَى أَقْوَاسٍ وَّأَنْيَابٍ بغیر اس کے کہ اعتبار کیا جائے پہلے ان کی جمع جو تھی وہ أَقْوَاسٍ اور أَنْيَابٍ پر تھی، وَإِخْرَاجُ أَقْوُسٍ وَّأَنْيُبٍ عَنْهُمَا اور پھر أَقْوُسٍ اور أَنْيُبٍ کو ان سے نکالا گیا۔ یہ اعتبار یہاں نہیں کیا جاتا، بات سمجھ میں آگئی۔ جی، تو یہ أَقْوُسٍ میں نے بتایا یہ قوس کی جمع ہے بھئی، اور یہ کمان کو کہتے ہیں، تیر کمان۔ اسی طرح ناب جو ہے ناب، ناب یہ کچلی کے دانت کو کہتے ہیں، یہ اگر آپ دیکھیں یہ چار دانت سامنے والے ان کے ساتھ جو دائیں بائیں جو دو دانت ہیں وہ ذرا نوکیلے ہیں، یہ اوپر بھی اور نیچے بھی، یہ جو چار نوکیلے دانت ہیں ان کو ناب کہتے ہیں، کچلی والے دانت۔ سمجھ میں آیا؟ یہ حیوانات میں آپ غور کریں کچھ حیوانات جو ہیں سبزی خور ہیں جیسے گائے بیل بکری وغیرہ اور کچھ حیوانات جو ہیں گوشت خور ہیں جیسے شیر، کتا، بھیڑیا وغیرہ۔ جو سبزی خور حیوانات ہیں ان کو اللہ نے ہموار دانت دیے ہیں، گائے بیل بکری کے سارے دانت ہموار ہیں، ایک بھی دانت نوک والا نہیں، کیونکہ ان کو ہموار دانتوں کی ضرورت ہے گھاس کو کھانے کے لیے، تو اللہ نے بھی ویسے ہی دانت دیے۔ اور گوشت خور جانوروں کو گوشت کھانے کے لیے، چیرنے پھاڑنے کے لیے ان کو نوکیلے دانتوں کی ضرورت تھی، تو اللہ نے ان کو نوکیلے دانت دیے بھئی۔ اور انسان کو اللہ نے دونوں طرح کے دانت دیے ہیں، اس میں اشارہ ہے کہ انسان سبزی بھی کھا سکتا ہے اور گوشت بھی کھا سکتا ہے۔ تو یہ جو کچلی کا دانت ہے نوک دار اس کو کہتے ہیں نَابٌ، اور اس کی جمع أَنْيُبٌ آتی ہے خلاف القیاس بھئی، حالانکہ ضابطے کے مطابق جمع کیا آنی چاہیے؟ أَنْيَابٌ آنی چاہیے بھئی۔ چلیے بس کریں، بس بھئی: هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔
54 approved lectures · 26 of 54