وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ أَشْهُرِ الْحَجِّ فَطَافَ لَهَا أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْوَاطٍ ثُمَّ دَخَلَتْ أَشْهُرُ الْحَجِّ فَتَمَّمَهَا وَأَحْرَمَ بِالْحَجِّ كَانَ مُتَمَتِّعًا، لِأَنَّ الْإِحْرَامَ عِنْدَنَا شَرْطٌ فَيَصِحُّ تَقْدِيمُهُ عَلَى أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَإِنَّمَا يُعْتَبَرُ أَدَاءُ الْأَفْعَالِ فِيهَا وَقَدْ وُجِدَ الْأَكْثَرُ وَلِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ۔
حج تمتع کا بیان چل رہا ہے بھئی۔ اور حج تمتع آپ پڑھ چکے کہ اس میں عمرہ اور حج دونوں عبادتیں کی جاتی ہیں بھئی۔ تو اب آپ کو آگے مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ یہ عمرہ اور یہ حج جو ہے، یہ دونوں اشہر حج میں ہونے چاہئیں بھئی۔ یعنی حج تو ہوگا ہی اشہر حج میں، یہ متمتع کا جو عمرہ ہے وہ بھی اسی اشہر حج کے اندر ہو تو پھر یہ شخص متمتع کہلائے گا۔ اور اگر اس کا عمرہ اشہر حج سے پہلے ہوا، چاہے اسی سال ہوا لیکن اشہر حج سے پہلے اس نے عمرہ کیا ہے تو پھر اس صورت میں یہ متمتع نہیں کہلائے گا بھئی، یہ متمتع نہیں ہے بھئی۔ اور ثمرہ ظاہر ہوگا وجوب قربانی کے اندر بھئی۔ تو اگر عمرہ بھی اس نے اشہر حج ہی میں کیا تھا تو یہ متمتع ہے اور متمتع پر قربانی واجب ہوتی ہے تو اس پر حج کی قربانی بھی واجب ہوگی۔ اور اگر عمرہ اس نے اشہر حج سے پہلے کیا تھا تو پھر اس صورت میں یہ متمتع نہیں اور اس پر حج کی قربانی بھی واجب نہیں ہے بھئی۔
اب صورت یہ کہ ایک شخص نے عمرے کا احرام جو ہے وہ اشہر حج سے پہلے باندھ لیا، یعنی رمضان کے اندر ہی عمرے کا احرام باندھ لیا۔ عمرے کا احرام اس نے رمضان ہی میں باندھ لیا اور عمرہ بھی شروع کر دیا۔ اور عمرے کے اندر تو طواف اور سعی ہے، اور طواف کے اندر سات چکر لگائے جاتے ہیں بیت اللہ کے، بیت اللہ کے۔ تو یہ جو اس نے احرام پہلے باندھ لیا اشہر حج سے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا بھئی۔ اس لیے کیونکہ احرام ہمارے نزدیک شرط ہے بھئی۔ احرام کیا ہے؟ شرط ہے، وہ عمرے کا رکن نہیں ہے۔ اسی طرح حج کے لیے بھی احرام شرط ہے، حج کا رکن نہیں ہے۔ تو اگر شرط کو مقدم بھی کر دیا جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جیسے وضو جو ہے وضو، وضو نماز کے لیے شرط ہے تو اگر وقت سے پہلے بھی کر لیا جائے تو اس سے کوئی فرق، کوئی فرق اس سے نہیں پڑتا بھئی۔ تو اس نے احرام اشہر حج سے پہلے باندھا ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہاں، اس کے عمرے کے افعال کو دیکھو کہ یہ عمرے کے افعال اس نے اشہر حج میں کیے ہیں یا اس سے پہلے کیے ہیں۔ اگر عمرے کے افعال جو ہیں اس نے اشہر حج سے پہلے کیے تو پھر یہ متمتع نہیں۔ اور اگر عمرے کے افعال اس نے اشہر حج کے اندر کیے ہیں تو پھر یہ متمتع ہے۔
اور اسی طرح اگر عمرے کے کچھ افعال اس نے اشہر حج سے پہلے کیے اور کچھ بعد میں کیے، تو پھر کیا کریں گے؟ کہ اس کو متمتع کہیں گے یا نہیں کہیں گے؟ تو کہتے ہیں بھئی عمرے کے اندر آپ طواف کے اکثر حصے کو دیکھ لیں۔ اگر طواف کا اکثر حصہ اس نے اشہر حج کے اندر کیا ہے تو یوں کہیں گے کہ یہ عمرہ بھی گویا اس نے اشہر حج کے اندر ہی کیا ہے۔ اور اگر طواف کے اکثر چکر اس نے اشہر حج سے پہلے کیے ہیں تو یوں سمجھا جائے گا گویا اس نے عمرہ اشہر حج سے پہلے کیا ہے۔ اور عمرے کے اندر جو طواف ہے اس کے اندر تو سات چکر ہیں، تو سات چکروں میں سے اکثر کسے کہیں گے؟ چار کو۔ جو نصف سے زائد ہے وہ کیا، اسے کیا کہتے ہیں؟ اکثر شئے کہتے ہیں۔ تو اگر اس نے طواف کے چار چکر جو ہیں وہ اشہر حج میں کیے، یعنی اشہر حج سے پہلے اس نے تین یا تین سے کم چکر لگائے تھے، تو بھی اکثر کس میں پایا گیا طواف؟ اشہر حج میں۔ تو اس کو متمتع کہیں گے۔ اور اگر اس نے عمرے کے چار یا چار سے زیادہ چکر اشہر حج سے پہلے لگا لیے تھے تو اس صورت میں یوں سمجھا جائے گا گویا اس نے عمرہ پہلے ہی کیا ہے تو اس کو متمتع نہیں کہیں گے۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟
تو کہتے ہیں: وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ أَشْهُرِ الْحَجِّ، اور جس نے عمرے کا احرام باندھا اشہر حج سے پہلے ہی، فَطَافَ لَهَا أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْوَاطٍ، پھر اس نے اس عمرے کا طواف کیا چار چکروں سے کم بھئی۔ چار چکروں سے کم، اور یہ بھی کب کیے؟ اشہر حج سے پہلے ہی۔ ثُمَّ دَخَلَتْ أَشْهُرُ الْحَجِّ، پھر حج کے مہینے داخل ہوگئے، فَتَمَّمَهَا، تو پھر اس نے عمرے کو پورا کر لیا۔ اور اشہر حج سے پہلے کتنے چکر کیے تھے؟ چار سے کم کیے تھے، اور معلوم ہوا اشہر حج میں کتنے کر لیے؟ چار یا چار سے زیادہ کر لیے۔ تو عمرہ گویا کس میں ہوا؟ اشہر حج میں ہوا، لہٰذا اس کو کیا کہیں گے؟ متمتع کہیں گے جبکہ یہ اسی سال حج بھی کرے۔ فَتَمَّمَهَا، تو اس نے اشہر حج میں عمرہ پورا کر لیا، وَأَحْرَمَ بِالْحَجِّ، اور حج کا احرام باندھ لیا، كَانَ مُتَمَتِّعًا، تو یہ شخص متمتع ہوگا۔ لِأَنَّ الْإِحْرَامَ عِنْدَنَا شَرْطٌ فَيَصِحُّ تَقْدِيمُهُ عَلَى أَشْهُرِ الْحَجِّ، اس لیے کیونکہ احرام ہمارے نزدیک شرط ہے، یعنی رکن نہیں، جب یہ شرط ہے تو صحیح ہے اس کو مقدم کرنا اشہر حج پر۔ وَإِنَّمَا يُعْتَبَرُ أَدَاءُ الْأَفْعَالِ فِيهَا، اعتبار تو کس چیز کا کیا جاتا ہے؟ کہ وہ ادائے افعال کس کے اندر ہوں؟ اشہر حج میں ہوں، اور یہاں پر بھی ادائے افعال کس کے اندر پائے گئے؟ اشہر حج میں پائے گئے، کیونکہ اکثر پائے گئے، اکثر افعال، اکثر طواف کے چکر اشہر حج میں پائے گئے تو لہٰذا یوں سمجھا جائے گا عمرہ ہی اشہر حج میں ہوا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يُعْتَبَرُ أَدَاءُ الْأَفْعَالِ فِيهَا، اور معتبر تو وہ اشہر حج کے اندر افعال کا ادا کرنا ہے، وَقَدْ وُجِدَ الْأَكْثَرُ، اور تحقیق اکثر افعال تو پائے گئے، یعنی کس کے اندر پائے گئے؟ اشہر حج میں، وَلِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، اور اکثر کے لیے کل کا حکم ہے، تو گویا کل عمرہ ہی کس کے اندر پایا گیا؟ اشہر حج میں، تو یہ متمتع ہے۔
اب اس کی عکس صورت ذکر کریں گے کہ چار یا چار سے زیادہ چکر اشہر حج سے پہلے لگا لیے تھے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ طَافَ لِعُمْرَتِهِ قَبْلَ أَشْهُرِ الْحَجِّ أَرْبَعَةَ أَشْوَاطٍ فَصَاعِدًا، اور اگر اس نے طواف کیا عمرے کا اشہر حج سے پہلے ہی چار چکر فَصَاعِدًا یا اس سے زیادہ، ثُمَّ حَجَّ مِنْ عَامِهِ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ مُتَمَتِّعًا، پھر اس نے حج بھی کر لیا اپنے اسی سال کے اندر تو یہ متمتع نہیں ہوگا، لِأَنَّهُ أَدَّى الْأَكْثَرَ قَبْلَ أَشْهُرِ الْحَجِّ، اس لیے کیونکہ اس نے اکثر عمرہ اشہر حج سے پہلے ادا کر لیا ہے، وَهَذَا، اور یہ اس وجہ سے۔ بھئی اکثر عمرہ اشہر حج سے پہلے ادا کر لیا لیکن بہرحال کچھ حصہ تو کس میں پایا گیا؟ اشہر حج میں پایا گیا، تو آپ یہ کیوں کہتے ہیں اس صورت میں کہ اس نے عمرہ اشہر حج سے پہلے ہی کر لیا ہے؟ اشہر حج سے پہلے ہی کر لیا ہے۔ ایک ضابطہ تو ذکر ہوگیا، کیا؟ لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ۔ جب اکثر عمرہ اشہر حج سے پہلے پایا گیا تو گویا کل عمرہ ہی اشہر حج سے پہلے پایا گیا۔ اور نیز، وَهَذَا، اور یہ اس وجہ سے ہے، لِأَنَّهُ صَارَ بِحَالٍ، کہ وہ شخص ایسی حالت پر ہوگیا ہے، لَا يَفْسُدُ نُسُكُهُ بِالْجِمَاعِ، کہ اس کی عبادت جماع سے بھی فاسد نہیں ہوتی، فَصَارَ كَمَا إِذَا تَحَلَّلَ مِنْهَا قَبْلَ أَشْهُرِ الْحَجِّ، تو یہ اسی طرح ہوگیا جیسے وہ حلال ہوگیا ہو اس عمرے سے اشہر حج سے پہلے ہی۔
بھئی یاد رکھیے، یہ عمرے اور حج کے لیے، عمرے اور حج کے لیے یہ احرام شرط ہے۔ احرام شرط ہے۔ تو جب عمرے یا حج کے لیے احرام باندھ لیا اس شخص نے تو جب تک یہ عمرے یا حج کا کوئی بڑا رکن نہیں کر لیتا، بڑا رکن نہیں کر لیتا تو اس وقت تک ابھی احرام پکا نہیں ہوا۔ ابھی تک احرام پکا نہیں۔ ابھی تک صرف احرام باندھا ہے نا، جب تک کوئی بڑا رکن نہیں کر لیتا یہ احرام پکا نہیں۔ لہٰذا اگر اس نے عمرے میں طواف کرنے سے پہلے ہی، عمرے کا احرام باندھ چکا ہے اور اس نے بیوی کے ساتھ صحبت کر لی۔ بھئی بیوی کے ساتھ صحبت تو ممنوع تھی احرام کے اندر اور ابھی اس نے طواف نہیں کیا، تو یہ احرام ابھی پکا نہیں ہوا اور احرام کے پکا ہونے سے پہلے ہی کیا کر دی اس نے؟ بڑی جنایت کر دی، تو لہٰذا یاد رکھیے اس کا عمرہ ہی فاسد ہو جائے گا۔ عمرہ ہی کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا۔ لیکن حج اور عمرہ اگر فاسد ہو جائیں، حج اور عمرہ اگر فاسد ہو جائیں ہمیشہ یاد رکھنا، اس کا پھر یہ معنی نہیں کہ اب باقی افعال چھوڑ دیے جائیں، نہیں۔ یہ شخص کیا کرے گا؟ عمرے کے افعال پورے کرے گا۔ یعنی طواف بھی کرے گا اور سعی بھی کرے گا۔ البتہ یہ عمرہ ہوا نہیں اس کا، عمرہ کیا ہو چکا؟ فاسد ہو چکا ہے، لیکن اس کے افعال یہ سارے سرانجام دے گا اور پھر اس کے بعد عمرہ جب پورا کر لے گا، پھر حلق یا قصر کے ذریعے کیا کرے گا؟ احرام سے نکلے گا، کیونکہ یہ احرام اس نے کس لیے باندھا تھا؟ ان افعال کو ادا کرنے کے لیے، تو بے شک اگرچہ عمرہ فاسد ہو چکا لیکن یہ افعال اس کو کرنا پڑیں گے، یہ افعال کرے گا اور پھر یہ اس احرام سے نکل جائے گا بھئی، احرام سے نکل جائے گا، لیکن یہ عمرہ ہوا فاسد، اس کا اعتبار کوئی نہیں، لہٰذا بعد میں اس کو اس کی قضا کرنا پڑے گی اور نیز جنایت بھی چونکہ اس نے بڑی کی تھی لہٰذا اس پر دم بھی لازم ہوگا، تو ایک جانور کی قربانی بھی کرنا پڑے گی اور اس عمرے کی قضا بھی کرنا پڑے گی۔ یہ کس صورت میں؟ جب اس نے بیوی کے ساتھ صحبت کر لی طواف کرنے سے پہلے ہی یا اکثر طواف کرنے سے پہلے ہی، یعنی چار چکر پورے ہونے سے پہلے اگر اس نے صحبت کر لی تب بھی یہی حکم ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تب بھی یہی حکم ہے۔
اسی طرح حج کے اندر ہے، حج کا احرام بھی جب باندھ لیا جب تک حج کا کوئی بڑا رکن یہ ادا نہیں کر لیتا یہ احرام ابھی پختہ نہیں ہوا۔ یہ احرام ابھی پختہ نہیں ہوا اور پختہ ہونے سے پہلے یہ کیا کر لیتا ہے؟ بیوی سے صحبت کر لیتا ہے تو اس کا حج ہی فاسد ہو گیا۔ کیونکہ ابھی احرام پکا نہیں ہوا تھا اور اس نے اتنی بڑی جنایت کر لی تو اس کا حج ہی فاسد ہو جائے گا۔ لیکن حج فاسد ہونے کا یہ معنی نہیں کہ اب یہ احرام اتار دے اور بس ختم ہوا حج، نہیں۔ حج کے افعال کرتا رہے، آخر تک سارے افعال حج کے کرے گا اور پھر اسی طریقے سے حج کے حج کے احرام سے حلال ہوگا جس طرح پہلے صحیح حج کرنے والا کیا ہوتا ہے؟ احرام سے حلال ہوتا ہے۔ تو یہ حج کے اس نے افعال تو سارے کر لیے لیکن ان کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ یہ کیا کر چکا ہے؟ حج کو فاسد کر چکا ہے، تو حلال ہو جائے، اب اس کے ذمے اس حج کی قضا واجب ہے، اس کی قضا کرے گا اگلے سال آ کر بھئی۔ اور نیز اس نے جنایت کی، بہت بڑی جنایت کی بھئی، تو لہٰذا اس صورت میں حج کے اندر بھی دم واجب ہوگا۔ تو اس کا حج فاسد ہوگیا اور اس پر بھیڑ بکری کی قربانی واجب ہوگی۔ عمرے کو فاسد کر دیا تو اس صورت میں بھی کس کی قربانی واجب ہوگی؟ بھیڑ بکری کی قربانی واجب ہوگی، اور اگر اس نے حج کو فاسد کیا ہے تو اس صورت میں بھی کیا کرنا پڑے گا؟ بھیڑ بکری کی قربانی بھی کرے گا اور اس حج کی قضا بھی کرے گا۔ صورت مسئلہ سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھی طرح؟ تو یہ حج کے افعال کرتا رہے گا آخر تک اور پھر حج سے حلال ہو جائے گا لیکن اس نے جنایت کی ہے، حج کو فاسد کیا ہے تو اس پر ایک دم واجب ہوگا۔ اس حج کی بھی قضا کرنا پڑے گی اور حج کے اندر جنایت کی ہے، حج کو فاسد کیا ہے لہٰذا اس پر ایک بھیڑ بکری کی قربانی بھی واجب ہے بھئی۔ تو عمرہ فاسد کرنے کی صورت میں بھی عمرے کی قضا بھی کرے گا اور ایک بھیڑ بکری کی قربانی بھی اس پر واجب ہے، اور حج کو فاسد کر دینے کی صورت میں بھی حج کی قضا بھی کرے گا اگلے سال اور بھیڑ بکری کی قربانی بھی اس پر واجب ہے بھئی۔ یہ وہ صورت تھی جب اس نے کوئی حج یا عمرے کا بڑا رکن ادا کرنے سے پہلے بیوی سے صحبت کی تھی بھئی۔ تو اس صورت میں حج اور عمرہ ہی کیا ہوگئے تھے؟ فاسد، کیونکہ احرام ابھی پکا نہیں ہوا تھا، مضبوط نہیں ہوا تھا۔ رکن ادا کر لیتا کوئی ایک تو احرام کیا ہو جاتا؟ پکا ہو جاتا، مضبوط ہو جاتا۔
اور جب یہ کوئی بڑا رکن ادا کر لے حج یا عمرے کا تو پھر اس صورت میں اب احرام پکا ہو جائے گا۔ اب بیوی سے صحبت بھی کر لے گا تو حج یا عمرہ فاسد نہیں ہوگا۔ مثلاً عمرے کے لیے، عمرے کے اندر وہ طواف کر چکا ہے یا طواف کے اکثر چکر لگا چکا ہے یعنی چار یا چار سے زیادہ، اس کے بعد یہ بیوی سے صحبت کر لیتا ہے، بیوی سے صحبت کر لیتا ہے، اگرچہ اس نے بڑی جنایت کی لیکن بہرحال طواف کا اکثر حصہ ادا کر چکا تو گویا کل طواف ہی ادا کر چکا ہے کیونکہ لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، اور کل طواف، طواف تو رکن اعظم ہے عمرے کا لہٰذا اس کا احرام پکا ہو چکا، اب بیوی سے صحبت کرنے کی وجہ سے بھی اس کا احرام فاسد نہیں ہوگا، فاسد، ہاں البتہ اس نے جنایت کی ہے تو اس پر ایک بھیڑ بکری کی قربانی واجب ہوگی بھئی اور یہ عمرے کو پورا کر لے، اسی عمرے کو کیا کر لے؟ پورا کر لے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں حج کے اندر، حج کا مثلاً بڑا رکن اس نے وقوف عرفہ کر لیا اور اس کے بعد بیوی سے صحبت کر لی طواف زیارت کرنے سے پہلے ہی کیا کیا؟ بیوی سے صحبت کر لی، تو حج فاسد نہیں ہوگا کیونکہ یہ صحبت اس نے کب کی ہے؟ وقوف عرفہ کے بعد، اور حج کا رکن اعظم بھی کیا ہے؟ وقوف عرفہ ہے، تو لہٰذا اس کا احرام پکا ہو چکا، اب جماع کی وجہ سے بھی اس کا احرام فاسد نہیں ہوگا، لہٰذا یہ حج کے افعال کرتا چلا جائے اس کا حج صحیح ہو جائے گا۔ لیکن چونکہ اس نے جرم بہت بڑا کیا ہے لہٰذا یاد رکھیے بھئی یاد رکھیے، اس صورت میں حج کے معاملے میں اس پر قربانی واجب ہوگی لیکن قربانی اب یہاں بھیڑ بکری کی قربانی سے کام نہیں چلے گا بلکہ اونٹ یا گائے کی قربانی اس کو کرنا پڑے گی۔ عمرے کے اندر عمرے کا درجہ چونکہ کم لہٰذا وہاں پر بھیڑ بکری کی قربانی سے کام چل جاتا تھا لیکن حج کا درجہ چونکہ بڑا لہٰذا یہاں پر اگر اس نے وقوف عرفہ کے بعد جنایت کی ہے تو احرام پکا ہو چکا حج تو فاسد نہیں ہوا لیکن حج تو فاسد نہیں ہوا لیکن جنایت بہت بڑی اس نے کی ہے تو اس صورت میں بھیڑ بکری کی قربانی سے کام نہیں چلے گا بلکہ کیا ضروری اس کے لیے؟ اونٹ یا گائے کی قربانی کرنا پڑے گی بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا حج یا عمرے کا کوئی بڑا رکن کر لیا جائے یا بڑے رکن کا اکثر حصہ کر لیا جائے تو لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ تو گویا کل اس رکن ہی کو وہ کر چکا ہے اور اس صورت میں اس کا عمرہ یا حج فاسد نہیں ہوتا۔ تفصیل مسئلہ سمجھ میں آگئی؟
اب مسئلہ یہاں کتاب میں یہ ذکر ہو رہا تھا کہ ایک شخص نے اشہر حج سے پہلے ہی عمرے کے چار چکر کر، لگا لیے، چار چکر لگا لیے اور پھر باقی کا عمرہ اس نے اشہر حج میں مکمل کیا، لیکن لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ، اکثر کے لیے کل کا حکم ہے، تو جب چار یا چار سے زیادہ چکر طواف کے وہ پہلے لگا چکا ہے اشہر حج سے تو یوں سمجھا جائے گا گویا پورا عمرہ ہی کیا کر چکا وہ اشہر حج سے پہلے ادا کر چکا ہے، تو یہ متمتع نہیں ہوگا، کیونکہ متمتع تو وہ ہوتا ہے جو حج اور عمرہ دونوں اشہر حج کے اندر ادا کرتا ہے، حالانکہ اس نے تو عمرہ اشہر حج سے پہلے ادا کر لیا ہے۔ اور نیز یہ اس وجہ سے کیونکہ جب اس نے طواف کے چار چکر پہلے ہی لگا لیے کس کے اندر؟ اشہر حج سے پہلے ہی لگا لیے، تو اس کا احرام پکا ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ احرام کیا ہو گیا اس کا؟ احرام پکا ہو گیا۔ اب بیوی کے ساتھ صحبت کرے تو بھی عمرہ فاسد نہیں، فاسد نہیں۔ تو گویا یہ شخص ایسی حالت پر ہو گیا کہ بیوی سے صحبت کرنے سے بھی اس کا عمرہ فاسد نہیں ہو رہا، تو یوں سمجھا جائے گا گویا یہ پہلے ہی سے حلال ہو چکا ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ اس شخص نے کیا کیا ہے؟ چار چکر لگا چکا ہے اشہر حج سے پہلے، تو یہ ایسی حالت پر آ چکا ہے کہ بیوی سے صحبت بھی کر لے تو عمرہ فاسد نہیں، تو یوں ہی سمجھا جائے گا یہ عمرے سے حلال ہو چکا ہے، کیونکہ ایسی حالت پر آ گیا کہ بیوی کے ساتھ صحبت بھی کرے تو عمرہ فاسد نہیں، تو یوں ہی سمجھا جائے گا کہ یہ عمرے سے حلال ہی ہو چکا ہے، اور یہ کب ہو چکا ہے؟ اشہر حج سے پہلے ہی، کیونکہ چار چکر لگا لیے اس کے بعد وہ حالت آگئی تو یہ حالت ایسی ہے گویا پہلے سے ہی وہ حلال ہو چکا، تو گویا اشہر حج سے پہلے ہی وہ عمرے سے حلال ہونے کی حالت پر آ چکا ہے تو گویا اس کا عمرہ پہلے ہی پایا گیا اور لہٰذا یہ متمتع نہیں ہے بھئی۔ تفصیل سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح سب کو؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ أَدَّى الْأَكْثَرَ قَبْلَ أَشْهُرِ الْحَجِّ، اور یہ اس لیے کیونکہ اس نے اکثر عمرے کو ادا کر لیا ہے اشہر حج سے پہلے ہی، وَهَذَا، اور یہ اس وجہ سے، لِأَنَّهُ صَارَ بِحَالٍ، کہ یہ جو عمرہ کرنے والا ہے یہ ایسی حالت پر ہو گیا، لَا يَفْسُدُ نُسُكُهُ بِالْجِمَاعِ، کہ اس کی عبادت جو ہے وہ جماع سے بھی فاسد نہیں ہوتی، جب کتنے چکر لگا چکا ہے؟ چار، تو جماع سے بھی اس کی عبادت نہیں فاسد ہو رہی، فَصَارَ كَمَا إِذَا تَحَلَّلَ مِنْهَا قَبْلَ أَشْهُرِ الْحَجِّ، تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے یہ اس عمرے سے حلال ہو چکا ہے اشہر حج سے پہلے ہی۔
وَمَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يَعْتَبِرُ الْإِتْمَامَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طواف کے پورا ہونے کا اعتبار کیا جائے گا، پورا کب کر رہا ہے؟ اگر اس نے طواف پورا کر لیا اشہر حج سے پہلے تو پھر متمتع نہیں، اور بے شک زیادہ چکر اشہر حج سے پہلے لگا لے لیکن پورا کب کرے؟ اشہر حج میں، تو پورا کرنے کا اعتبار ہے تو یوں سمجھا جائے گا اس نے عمرہ بھی کس میں، یہ طواف بھی کس میں کیا؟ اشہر حج ہی میں کیا ہے تو عمرہ اشہر حج میں ہوا تو یہ کیا بنے گا؟ متمتع بنے گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يَعْتَبِرُ الْإِتْمَامَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، اور امام مالک رحمہ اللہ جو ہیں وہ اعتبار کرتے ہیں پورا کرنے کا فی اشہر الحج اشہر حج میں، وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا ذَكَرْنَا، اور دلیل ان کے خلاف وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دی کہ لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ الْكُلِّ بھئی۔ وَلِأَنَّ التَّرَفُّقَ بِأَدَاءِ الْأَفْعَالِ، اور نیز اس لیے کیونکہ فائدہ اٹھانا جو ہے وہ افعال کی ادائیگی کے ذریعے ہے، متمتع کیا ہوتا ہے؟ متمتع تمتع کا معنی ہی کیا ہے عربی زبان میں؟ فائدہ اٹھانا، تو فائدہ اٹھانا کس کے ذریعے ہوگا؟ کہ وہ افعال ادا کرے اور کس وقت ادا کرے وہ افعال؟ اشہر حج میں۔ صورت سمجھ میں آئی؟ وَلِأَنَّ التَّرَفُّقَ بِأَدَاءِ الْأَفْعَالِ، اس لیے کیونکہ فائدہ اٹھانا وہ افعال کی ادائیگی سے ہوگا، وَالْمُتَمَتِّعُ الْمُتَرَفِّقُ بِأَدَاءِ النُّسُكَيْنِ فِي سَفْرَةٍ وَاحِدَةٍ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، اور متمتع جو ہے وہ نفع اٹھانے والا ہے دو عبادتوں کی ادائیگی کا ایک ہی سفر میں اشہر حج کے اندر۔ تو اگر اس نے افعال پہلے کر لیے تو پھر تو یہ نفع اٹھانے والا نہیں ہے ایک ہی سفر میں دو اشہر حج کے اندر بھئی، تو لہٰذا اس کو پھر متمتع نہیں کہیں گے۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آگئی؟
قَالَ: صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَأَشْهُرُ الْحَجِّ شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَةِ وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، کہ حج کے مہینے جو ہیں وہ شوال ہے، ذوالقعدہ ہے اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔ كَذَا رُوِيَ عَنِ الْعَبَادِلَةِ الثَّلَاثَةِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، اسی طرح روایت کیا گیا ہے عبادلۂ ثلاثہ سے اور عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ان سب سے بھئی۔ عبادلۂ ثلاثہ اور عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان سب سے اسی طرح روایت کیا گیا ہے کہ اشہر حج جو ہیں وہ شوال، ذیقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں بھئی۔
عبادلہ یاد رکھیے یہ جمع ہے عبد اللہ کی، عبد اللہ کی بھئی۔ اور عبادلۂ ثلاثہ یہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما، اور حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما، ان تین پر یہ بولا جاتا ہے بھئی، ان کو کیا کہتے ہیں؟ عبادلۂ ثلاثہ کہتے ہیں۔ بلکہ حضرت عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی ان کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے، اور جب صرف عبادلہ کہا جائے تو اس سے مراد یہ چاروں ہوتے ہیں۔ عبادلہ سے کیا مراد ہوتے ہیں؟ یہ چاروں بھئی: حضرت عبد اللہ ابن مسعود، عبد اللہ ابن عمر، عبد اللہ ابن عباس اور عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھئی۔ تو ان سب سے اسی طرح روایت ہے۔
وَلِأَنَّ الْحَجَّ يَفُوتُ بِمُضِيِّ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، اور نیز اس لیے کیونکہ حج جو ہے وہ فوت ہو جاتا ہے دس ذوالحجہ کے گزرنے سے۔ بھئی پہلے نقلی دلیل ذکر کر دی کہ اشہر حج کون کون سے مہینے ہیں: شوال، ذیقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن۔ اور اب عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ دس ذوالحجہ کے گزرنے پر کہہ دیا جاتا ہے کہ اس شخص کا حج فوت ہو گیا۔ دس ذوالحجہ تک وہ حج کے افعال نہیں کر سکا تو کیا کہتے ہیں؟ کہ حج فوت ہو گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حج کا وقت گزر گیا، کیونکہ اگر ابھی بھی دس کے بعد بھی وقت باقی ہو تو پھر اس صورت میں تو فوت ہونا نہیں پایا جائے گا، کوئی بھی یہ نہیں کہے گا کہ حج کیا ہو گیا؟ فوت ہو گیا۔ لیکن دس ذوالحجہ کے گزرنے پر کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ اس کا حج فوت ہو گیا، معلوم ہوا یہ ذوالحجہ پورا نہیں مراد بلکہ اس کے صرف دس دن مراد ہیں، تو فوت ہونے کا معنی ہی یہ ہے کہ اس کا وقت گزر گیا، اس کا وقت گزر گیا۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْحَجَّ يَفُوتُ بِمُضِيِّ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، اور اس لیے کیونکہ حج جو ہے وہ فوت ہو جاتا ہے ذوالحجہ کے دس دن گزرنے سے، وَمَعَ بَقَاءِ الْوَقْتِ لَا يَتَحَقَّقُ الْفَوَاتُ، اور وقت کے باقی رہتے ہوئے تو فوت ہونا ثابت نہیں ہوتا، فوت ہونا تو نہیں پایا جاتا، معلوم ہوا وقت بھی گزر گیا اور معلوم ہوا وقت تھا ہی کب تک؟ دس ذوالحجہ تک، تو ذوالحجہ کے دس دن ہی شامل ہیں اشہر حج میں، باقی دن نہیں بھئی۔ وَهَذَا يَدُلُّ، اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے، یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے، عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى، کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے مراد جو ہے، اللہ قرآن میں جو فرماتے ہیں: الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ، کہ اللہ کا یہ قول جو ہے کہ حج کے مہینے معلوم ہیں، حج کے مہینے معلوم ہیں، اللہ کے اس قول سے مراد جو ہے: شَهْرَانِ وَبَعْضُ الثَّالِثِ لَا كُلُّهُ، دو ماہ اور تیسرے کا کچھ حصہ ہے لَا كُلُّهُ نہ کہ تینوں، نہ کہ تینوں سارے، سارے تینوں مہینے مراد نہیں ہیں بلکہ دو ماہ اور تیسرے کا کچھ حصہ یعنی دس دن ہیں بھئی۔
فَإِنْ قَدَّمَ الْإِحْرَامَ بِالْحَجِّ عَلَيْهَا جَازَ إِحْرَامُهُ وَانْعَقَدَ حَجًّا۔ بھئی ایک شخص ہے وہ حج کا احرام اشہر حج سے پہلے ہی باندھ لیتا ہے تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ تو ابھی بات گزر چکی، ابھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ احرام کیا ہے؟ حج اور عمرے کے لیے شرط ہے، اور شرط اگر وقت پر مقدم ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، جیسے مغرب کی نماز کے لیے کوئی مغرب کے وقت سے پہلے ہی وضو کر لے تو وضو نماز کے لیے شرط ہے اور مغرب کے وقت سے پہلے ہی کر لیا تو بھی یہ جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ قَدَّمَ الْإِحْرَامَ بِالْحَجِّ عَلَيْهَا، اگر مقدم کر دیا حج کے احرام کو عَلَيْهَا ان اشہر حج پر، جَازَ إِحْرَامُهُ، تو اس کا یہ احرام جائز ہے، وَانْعَقَدَ حَجًّا، اور اس کا حج منعقد ہو جائے گا، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں نہیں، حج کا احرام، وہ فرماتے ہیں یہ احرام جو ہے حج کا رکن ہے اور رکن کا بھی اشہر حج میں ہونا ضروری ہے۔ فَإِنَّ عِنْدَهُ يَصِيرُ مُحْرِمًا بِالْعُمْرَةِ، وہ فرماتے ہیں اگر اشہر حج سے پہلے کوئی حج کا احرام باندھے تو احرام تو ضرور ہو جائے گا لیکن بہرحال حج کا نہیں ہوگا، تو پھر کس کا ہوگا؟ کہتے ہیں بھئی حج کے علاوہ دوسری چیز جس کے لیے احرام باندھا جاتا ہے وہ عمرہ ہی ہے اور تو کوئی چیز نہیں، لہٰذا یہ احرام کس کا ہو جائے گا؟ عمرے کا ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: فَإِنَّ عِنْدَهُ يَصِيرُ مُحْرِمًا بِالْعُمْرَةِ، پس ان کے نزدیک یہ شخص جو ہے محرم بال Shakespeare/العمرة ہو جائے گا، لِأَنَّهُ رُكْنٌ عِنْدَهُ، اس لیے کیونکہ احرام جو ہے یہ رکن ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، وَهُوَ شَرْطٌ عِنْدَنَا، اور ہمارے نزدیک یہ احرام شرط ہے، فَأَشْبَهَ الطَّهَارَةَ فِي جَوَازِ التَّقْدِيمِ عَلَى الْوَقْتِ، تو یہ طہارت کے مشابہ ہو گیا فی جواز التقدیم علی الوقت وقت پر مقدم کرنے کے جائز ہونے میں۔ وقت پر مقدم کرنے کو مقدم کرنے کے جائز ہونے کے اعتبار سے، جیسے طہارت وقت پر مقدم کرنا جائز ہے اسی طرح احرام بھی شرط ہے تو وہ بھی وقت پر مقدم کرنا جائز ہے، اشہر حج سے پہلے بھی باندھنا جائز ہے۔
وَلِأَنَّ الْإِحْرَامَ تَحْرِيمُ أَشْيَاءَ وَإِيجَابُ أَشْيَاءَ، اور نیز اس لیے کیونکہ احرام جو ہے وہ کچھ چیزوں کو حرام کرنا ہے اور کچھ چیزوں کو واجب کرنا ہے۔ احرام کے ذریعے دراصل انسان کیا کرتا ہے؟ کچھ چیزوں کو اپنے اوپر واجب کرتا ہے اور کچھ چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرتا ہے، حرام کرتا ہے۔ مثلاً ناخن نہیں کاٹ سکتا، بال نہیں کاٹ سکتا، بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا، شکار وغیرہ نہیں کھیل سکتا، خوشبو نہیں لگا سکتا، تو دیکھو یہ سب چیزیں اس پر احرام کے ذریعے انسان کیا کر لیتا ہے؟ اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے، اور کچھ چیزوں کو اپنے اوپر واجب کر لیتا ہے، مثلاً طواف کرنا ہے، سعی کرنی ہے، اسی طرح حج کا ہے تو رمی کرنی ہے، وقوف مزدلفہ کرنا ہے وغیرہ بھئی۔ تو کچھ چیزوں کو احرام کے ذریعے اپنے اوپر انسان واجب کرتا ہے اور کچھ چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرتا ہے، اور یہ کام تو ہر زمانے کے اندر ہو سکتا ہے۔ اشہر حج میں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے اور اشہر حج سے پہلے بھی کیا جا سکتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کہتے ہیں یہ اسی طرح ہو گیا، یہ اسی طرح ہو گیا جیسے جگہ کے اعتبار جگہ کے اعتبار سے احرام کو مقدم کرنا جائز ہے۔ جب جگہ کے اعتبار سے مقدم کرنا احرام کو جائز ہے تو زمانے کے اعتبار سے بھی مقدم کرنا جائز ہوگا۔ بھئی جگہ کے اعتبار سے آپ احرام کو مقدم کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ آپ حج پر جا رہے ہیں، آپ کو کہاں جا کر احرام باندھنا چاہیے؟ میقات پر۔ میقات پر، اس سے آگے احرام کے بغیر گزرنا جائز نہیں تو وہاں احرام باندھنا ضروری ہے، لیکن کیا اس سے پہلے احرام باندھ سکتے ہیں یا نہیں باندھ سکتے؟ آپ گھر سے ہی باندھ کر چلنا چاہتے ہیں تو کیا کر سکتے ہیں؟ احرام باندھ سکتے ہیں۔ تو جیسے جگہ کے اعتبار سے احرام کو مقدم کرنا جائز ہے تو اسی طرح زمانے کے اعتبار سے بھی اس کو مقدم کرنا جائز ہوگا کیونکہ یہ کچھ چیزوں کا اپنے اوپر حرام کرنا ہے اور کچھ چیزوں کا اپنے اوپر واجب کرنے ہی کا نام ہے اور یہ ہر زمانے میں ہو سکتا ہے۔ یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ الْإِحْرَامَ تَحْرِيمُ أَشْيَاءَ وَإِيجَابُ أَشْيَاءَ، اور نیز اس لیے کیونکہ احرام جو ہے وہ کچھ چیزوں کو حرام کرنا ہے اور کچھ چیزوں کو واجب کرنا ہے، وَذَلِكَ يَصِحُّ فِي كُلِّ زَمَانٍ، اور ایسا کرنا تو صحیح ہے ہر زمانے کے اندر، فَصَارَ كَالتَّقْدِيمِ عَلَى الْمَكَانِ، اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے احرام کو مقدم کرنا ہے علی المكان، علی المكان جگہ پر۔
قَالَ: وَإِذَا قَدِمَ الْكُوفِيُّ بِعُمْرَةٍ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفَرَغَ مِنْهَا وَحَلَقَ أَوْ قَصَّرَ ثُمَّ اتَّخَذَ مَكَّةَ أَوِ الْبَصْرَةَ دَارًا وَحَجَّ مِنْ عَامِهِ ذَلِكَ فَهُوَ مُتَمَتِّعٌ۔ بھئی یہ مسئلہ تو آپ پہلے پڑھ چکے کہ ایک شخص اگر اشہر حج میں آیا اور اس نے عمرہ ادا کر لیا اور عمرے سے حلال ہو کر پھر وہ چلا گیا گھر واپس اور پھر اسی سال آ کر اس نے حج کیا تو یہ متمتع ہے یا متمتع نہیں ہے؟ یہ متمتع نہیں کیونکہ اس نے کیا کر لیا؟ المام صحیح کر لیا، یعنی اپنے وطن میں نازل ہوا ہے اور اس حال میں کہ اس پر مکہ واپس لوٹنا واجب نہیں کیونکہ احرام سے تو یہ حلال ہو چکا ہے عمرہ تو پورا کر کے آ گیا ہے، تو اب مکہ واپس جانا اس پر واجب نہیں ہے، تو اس نے المام صحیح کر لیا لہٰذا اس کا حج تمتع باطل ہو گیا اور اگر یہ پھر بھی چلا گیا اسی سال حج کے لیے تو یہ اس حج حج تمتع نہیں ہوگا بلکہ کون سا حج ہوگا؟ حج افراد ہوگا۔ یہ کون سی صورت ذکر ہوئی؟ کہ جب عمرہ کر کے یہ کہاں چلا گیا تھا؟ اپنے گھر چلا گیا تھا۔
اب دوسری صورتیں ذکر کر رہے ہیں۔ ایک شخص جو ہے آیا اور آ کر اس نے عمرہ ادا کیا اور عمرہ ادا کر کے مکہ ہی میں مقیم رہا اور پھر حج بھی کر لیا اسی سال، تو کیا یہ متمتع ہوگا یا نہیں؟ کہتے ہیں یہ بالاتفاق متمتع ہے، کیونکہ متمتع کرتا بھی اسی طرح ہے، اس کا عمرہ میقاتی ہوتا ہے، عمرے کا احرام کہاں سے باندھا ہوتا ہے؟ میقات سے، اور اس نے بھی کہاں سے باندھا؟ میقات سے۔ اور اس کا حج مکی ہوتا ہے، یعنی حج کا احرام کہاں سے باندھتا ہے؟ مکہ سے، اور یہ عمرہ کر کے جب مکہ ہی میں رہا تو لازمی بات ہے حج کا احرام کہاں سے باندھے گا؟ مکہ ہی سے باندھے گا، تو لہٰذا اس صورت میں بالاتفاق یہ شخص کیا ہوا؟ متمتع ہوا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
دوسری صورت یہ ہے کہ یہ شخص گھر سے آیا، آ کر اس نے عمرہ ادا کیا اور عمرے سے حلال ہو گیا، پھر اس کے بعد یہ دوبارہ میقات سے باہر نکل گیا لیکن اپنے وطن نہیں گیا، اپنے وطن جائے گا تو پھر تو المام صحیح ہو جائے گا اور اس کا تمتع کیا ہو جائے گا؟ باطل۔ تو یہ میقات سے تو نکلا لیکن اپنے وطن نہیں گیا، کسی دوسری جگہ مثلاً وطن کیا تھا اس کا؟ آیا کہاں سے تھا؟ کوفہ سے، فرض کر لیں۔ اور واپس جا کر اب کہاں رہنے لگا؟ مثلاً بصرہ میں رہنے لگا، یہ بطور مثال کے دو شہر ذکر کیے، ورنہ بس اپنے وطن کے علاوہ کہیں اور جا کر رہنے لگا، تو کیا اس صورت میں پھر یہ اسی سال حج بھی کر لے تو یہ متمتع ہوگا یا متمتع نہیں ہوگا؟ تو ایک روایت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اتفاقی ہے کہ بالاتفاق یہ متمتع ہے۔ بالاتفاق یہ کیا ہے؟ متمتع ہے بھئی، متمتع ہے۔ اس لیے کیونکہ متمتع اس کو کہتے ہیں جو ایک ہی سفر کے اندر حج اور عمرہ دونوں عبادتیں ادا کرے۔ اور یہ شخص بھی ایک ہی سفر کے اندر دونوں عبادتیں ادا کرنے والا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے ایک سفر کہاں ہے؟ ایک سفر میں تو عمرہ کیا تھا اور پھر واپس چلا گیا تھا کسی دوسرے شہر اور حج کے لیے تو اس نے دوبارہ سفر کیا ہے؟ جواب یہ کہ نہیں بھئی، جب تک یہ اپنے وطن واپس نہیں جاتا یہ کیا چل رہا ہے؟ وہی پہلا سفر ہی چل رہا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ پہلی روایت آئی کہ یہ مسئلہ اتفاقی ہے، ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک یہ شخص کیا ہوگا؟ متمتع ہوگا، جب اس نے کیا کیا تھا؟ عمرہ کے بعد پھر میقات سے نکل گیا تھا لیکن اپنے وطن نہیں گیا اور پھر کیا کیا ہے؟ حج کیا ہے اسی سال۔
جبکہ دوسرے بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ مسئلہ اتفاقی نہیں ہے۔ امام صاحب کے نزدیک یہ متمتع ہے، امام صاحب کی یہ دلیل ہے کہ ابھی پہلا سفر چل رہا ہے لہٰذا یہ کیا ہے؟ متمتع ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں یہ متمتع نہیں، اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں متمتع وہ ہے جس کا عمرہ میقاتی ہو یعنی عمرے کا احرام کہاں سے باندھا ہو؟ میقات سے، اور حج مکی ہو یعنی حج کا احرام کہاں سے باندھا ہو؟ مکہ سے، حالانکہ اس شخص کا عمرہ بھی میقاتی اور حج بھی میقاتی، کیونکہ میقات سے باہر نکل گیا تھا نا تو حج کے لیے بھی احرام کہاں سے باندھ کے آئے گا؟ میقات سے، تو اس کا حج بھی میقاتی اور عمرہ بھی میقاتی، لہٰذا اس کو متمتع نہیں کہیں گے۔ اور ثمرہ ظاہر ہوگا وجوب دم کے بارے میں کہ اس پر حج کی قربانی واجب ہوگی یا واجب نہیں، تو امام صاحب کے نزدیک چونکہ یہ متمتع ہے لہٰذا اس پر تمتع کی قربانی واجب ہوگی، جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ متمتع نہیں لہٰذا اس پر حج کی قربانی بھی واجب نہیں۔ دونوں صورتیں سمجھ میں آگئیں؟ ایک صورت کیا تھی؟ اس نے عمرے کے بعد مکہ ہی کو وطن بنایا۔ دوسری صورت کیا تھی؟ کہ اس نے عمرے کے بعد میقات سے باہر کسی اور جگہ کو وطن بنا لیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ دیکھیے اب یہ دونوں مسئلے اکٹھے ذکر کریں گے۔
قَالَ: وَإِذَا قَدِمَ الْكُوفِيُّ بِعُمْرَةٍ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: اور جب آیا کوفہ والا کوئی شخص بِعُمْرَةٍ عمرے کے لیے فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حج کے مہینوں میں، وَفَرَغَ مِنْهَا، اور وہ یہ شخص عمرے سے فارغ ہو گیا، وَحَلَقَ أَوْ قَصَّرَ، اور اس نے حلق کروا دیا یعنی سر کے بال استرے سے صاف کروا دیے أَوْ قَصَّرَ یا سر کے بال چھوٹے کروا دیے، یعنی عمرے سے حلال ہو گیا، ثُمَّ اتَّخَذَ مَكَّةَ أَوِ الْبَصْرَةَ دَارًا، پھر اس نے مکہ یا بصرہ کو اپنا دار بنا لیا۔ مکہ کو بنایا تو یہ ایک صورت، اور بصرہ کو بنایا؟ دوسری صورت۔ بصرہ کہاں ہے؟ میقات سے باہر ہے یعنی کسی دوسری جگہ، میقات سے باہر جا کر رہنے لگا، وَحَجَّ مِنْ عَامِهِ ذَلِكَ، اور اس نے پھر حج کر دیا اپنے اسی سال میں، فَهُوَ مُتَمَتِّعٌ، تو یہ شخص کیا ہے؟ متمتع ہے۔ مکے مکی والی صورت میں تو بالاتفاق کیا ہے؟ متمتع، اور بصرہ کو وطن بنایا تو اس میں بھی ایک روایت کیا آئی ہے؟ کہ یہ متمتع ہی ہے۔ أَمَّا الْأَوَّلُ، باقی پہلا جو ہے، کون سا پہلا؟ جس نے مکہ کو وطن بنایا، فَلِأَنَّهُ تَرَفَّقَ بِنُسُكَيْنِ فِي سَفَرٍ وَاحِدٍ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، اس لیے کیونکہ اس نے نفع اٹھایا ہے دو عبادتوں کا ایک ہی سفر میں حج کے مہینوں میں، تو لہٰذا یہ تو بالاتفاق کیا ہے؟ متمتع ہے۔ وَأَمَّا الثَّانِي، اور باقی دوسرا جو ہے وہ کون سا؟ جس نے بصرہ کو دار بنا لیا وہاں اقامت اختیار کر لی، فَقِيلَ هُوَ بِالِاتِّفَاقِ، تو کہا گیا ہے وہ بھی بالاتفاق کیا ہے؟ متمتع ہے۔ وَقِيلَ، اور کہا گیا ہے: هُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، کہ یہ امام صاحب کا قول ہے، وَعِنْدَهُمَا لَا يَكُونُ مُتَمَتِّعًا، اور صاحبین کے نزدیک یہ بصرہ کو دار بنانے والا متمتع نہیں ہوگا۔ بھئی کیوں نہیں ہوگا صاحبین کے نزدیک؟ ان کی دلیل آ رہی ہے، کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُتَمَتِّعَ مَنْ تَكُونُ عُمْرَتُهُ مِيقَاتِيَّةً وَحَجَّتُهُ مَكِّيَّةً، اس لیے کیونکہ متمتع وہ ہے کہ جس کا عمرہ میقاتی ہو اور حج اس کا مکی ہو، وَنُسُكَاهُ هَذَانِ مِيقَاتِيَّانِ، اور اس کی یہ دونوں عبادتیں کیا ہیں؟ یہ تو میقاتی ہیں، عمرہ بھی میقاتی عمرے کا احرام بھی میقات سے باندھا اور پھر حج کا احرام بھی میقات سے باندھا ہے۔ یہ صاحبین کے نزدیک، صاحبین کے نزدیک یہ متمتع نہیں۔ وَلَهُ، اور امام صاحب کے نزدیک یہ بھی کیا ہے؟ متمتع ہے، تو اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں: وَلَهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ سَفْرَتَهُ الْأُولَى قَائِمَةٌ مَا لَمْ يَعُدْ إِلَى وَطَنِهِ، کہ پہلا سفر قائم ہے یعنی وہ موجود ہے مَا لَمْ يَعُدْ إِلَى وَطَنِهِ جب تک یہ اپنے وطن واپس نہیں لوٹتا۔ تو پہلا سفر ہی اس کا چل رہا ہے، وَقَدِ اجْتَمَعَ لَهُ نُسُكَانِ فِيهِ، اور تحقیق اس کے لیے جمع ہو گئیں دو عبادتیں فِيهِ اسی سفر کے اندر، فَوَجَبَ دَمُ التَّمَتُّعِ، تو اس پر تمتع کا دم واجب ہوگا۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
فَإِنْ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَأَفْسَدَهَا وَفَرَغَ مِنْهَا وَقَصَّرَ ثُمَّ اتَّخَذَ الْبَصْرَةَ دَارًا ثُمَّ اعْتَمَرَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَحَجَّ مِنْ عَامِهِ لَمْ يَكُنْ مُتَمَتِّعًا۔ بھئی صورت مسئلہ یہ کہ میقات کی حدود سے باہر کو سے کوئی شخص آیا، جیسے اوپر ذکر تھا کوفہ والا، کوفہ بھی کدھر ہے؟ میقات سے باہر، تو کوفہ والا شخص آیا اور اس نے آ عمرے کا احرام باندھا اشہر حج میں لیکن درمیان میں اس نے بیوی سے صحبت کر لی تو اس کا عمرہ فاسد ہو گیا۔ طواف سے طواف سے پہلے ہی اس نے کیا کر لی؟ بیوی سے صحبت کر لی تو اس کا عمرہ فاسد ہو گیا۔ لیکن بہرحال عمرہ یا حج فاسد بھی ہو جائے تو اس کے افعال انسان پر لازم ہے وہ کرتا چلا جائے، یہ عمرے کے سارے افعال اس نے کر لیے اور پھر حلق یا قصر بھی کروا لیا اور اس عمرے سے وہ فارغ ہوا لیکن اب اس پر ایک دم لازم ہے اور عمرے کی قضا لازم ہے۔ یہ پھر یہ اس عمرے کی قضا کرتا ہے۔ پھر اس میں تین صورتیں ہیں اس عمرے کی قضا کرنے کی:
ایک صورت یہ: یہ ابھی گھر چلا گیا، پھر کسی وقت آیا انہی حج کے مہینوں میں اور کیا کیا؟ عمرے کی قضا کی اور پھر اسی سال حج بھی کیا، تو کیا یہ متمتع ہوگا یا نہیں؟
دوسری صورت: کہ یہ عمرہ فاسد ہونے کے بعد اور پھر اس نے افعال کر لیے، پھر یہ مکہ ہی میں مقیم رہا اور پھر وہیں سے کیا کی اس نے؟ اس عمرے کی قضا بھی کی اور پھر اسی سال حج بھی کیا، تو متمتع ہوگا یا نہیں؟ یہ دوسری صورت آ گئی۔
تیسری صورت یہ ہے: کہ عمرہ فاسد ہو گیا، تو یہ پھر میقات سے نکلا لیکن اپنے وطن نہیں گیا، کسی اور جگہ جا کر رہنے لگا اور پھر وہاں سے وہ آیا اور اس نے اس عمرے کی بھی قضا کی اور اسی سال حج بھی کیا، تو اس کو متمتع کہیں گے یا نہیں کہیں گے؟
تینوں صورتیں سمجھ میں آگئیں؟ کہ یہ شخص اصلاً کہاں کا رہنے والا ہے؟ کوفہ یعنی میقات سے باہر کا رہنے والا ہے، اور احرام باندھ کر اشہر حج میں آیا اور عمرے کو کیا کر دیا؟ فاسد کر دیا، پھر اس کے بعد یہ اس عمرے کی قضا کرتا ہے تو اس کی تین صورتیں ہیں کہ وہیں مکہ میں رہتے ہوئے ہی قضا کرتا ہے اور پھر حج بھی کرے گا، یا اپنے وطن چلا گیا اور پھر وہاں سے آ کر عمرہ بھی کیا اور اسی سال کیا کیا؟ حج بھی کیا، اور تیسری صورت یہ کہ میقات سے نکل گیا لیکن اپنے وطن نہیں گیا اور پھر اسی سال آ کر قضا بھی عمرے کی کی اور حج بھی کیا، تو ان تینوں صورتوں میں کیا حکم ہوگا؟ وہ اب بیان کریں گے۔ صورتیں اچھی طرح سمجھ میں آگئیں؟
تو کہتے ہیں: فَإِنْ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ، تو اگر وہ کوفہ والا عمرے کے لیے آیا، فَأَفْسَدَهَا، پھر اس نے اس عمرے کو فاسد کر دیا، یعنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی طواف سے پہلے ہی، وَفَرَغَ مِنْهَا، اور پھر پھر اس عمرے سے وہ فارغ بھی ہوا، کیا معنی؟ یعنی اس کے سارے افعال بھی اس نے کر لیے، وَقَصَّرَ، اور بال بھی چھوٹے کروا لیے، ثُمَّ اتَّخَذَ الْبَصْرَةَ دَارًا، پھر اس نے بصرہ کو اپنا دار بنا لیا، اس کو اپنا دار اقامت بنا لیا وہاں اقامت اختیار کر لی۔ تو کون سی صورت ذکر ہو رہی ہے؟ کہ میقات سے باہر چلا گیا ہے اور کسی اور جگہ اپنے وطن کے علاوہ کسی اور جگہ وہ رہنے لگا، اب وہاں سے آ کر یہ عمرہ کرے گا تو اس کو متمتع کہیں گے یا متمتع نہیں کہیں گے۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ اتَّخَذَ الْبَصْرَةَ دَارًا، پھر اس نے بصرہ کو دار بنا لیا یعنی دار اقامت، ثُمَّ اعْتَمَرَ، پھر اس نے عمرہ کیا، کون سا عمرہ؟ وہی قضا، فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، حج کے مہینوں میں، وَحَجَّ مِنْ عَامِهِ، اور حج بھی کر لیا اپنے اسی سال میں، لَمْ يَكُنْ مُتَمَتِّعًا، تو یہ متمتع نہیں، یہ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، یہ کس کے نزدیک ہے؟ امام صاحب کی کے نزدیک ہے، وَقَالَا هُوَ مُتَمَتِّعٌ، صاحبین اس صورت میں اختلاف کرتے ہیں اور وہ فرماتے ہیں کہ یہ متمتع ہے، یہ متمتع ہے۔ لِأَنَّهُ إِنْشَاءُ سَفَرٍ، صاحبین فرماتے ہیں جب یہ میقات سے نکل گیا، کہاں سے؟ میقات سے نکل گیا، اب جب وہاں سے مثلاً بصرہ وغیرہ جہاں بھی وہ رہنے لگا وہاں سے جب یہ آئے گا تو یہ گویا ایک نیا سفر ہے، کیا ہے؟ ایک نیا سفر ہے، اور اسی سفر میں اس نے عمرہ بھی کر لیا اور پھر اسی سفر میں اس نے کیا کر لیا؟ حج بھی کر لیا، تو اس نے ایک ہی سفر میں دو عبادتوں کا نفع اٹھا لیا، اور متمتع بھی کس کو کہتے ہیں؟ جو ایک ہی سفر میں دو عبادتوں کا نفع اٹھائے، لہٰذا اس کو کیا کہیں گے؟ متمتع کہیں گے۔ سمجھ میں آئی بات؟ وہ فرماتے ہیں اس کا پہلا سفر جو تھا جو گھر سے آیا تھا وہ تو عمرہ فاسد ہونے کی وجہ سے ختم ہو گیا بھئی، کس کی وجہ سے؟ عمرہ فاسد ہوا تھا وہ تو ختم ہو گیا سفر، اور یہ جو اب سفر کر کے آیا ہے کہاں سے آیا ہے؟ حرم کے یا میقات کے اندر سے آیا ہے یا باہر سے آ رہا ہے؟ باہر سے آ رہا ہے، تو یہ ایک نیا سفر ہے اور اسی میں اس نے عمرہ بھی کیا اور اسی میں حج بھی کیا تو اس کو متمتع کہیں گے۔ جبکہ امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ یہ متمتع نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: وَقَالَا، صاحبین فرماتے ہیں: هُوَ مُتَمَتِّعٌ، یہ شخص متمتع ہے، لِأَنَّهُ إِنْشَاءُ سَفَرٍ، اس لیے کیونکہ یہ انشاء سفر ہے، انشاء کا معنی وجود دینا، اس لیے کیونکہ یہ بصرہ سے اس کا نکلنا یہ کیا ہے؟ سفر کو وجود دینا ہے، ایک نیا سفر کیا جا رہا ہے، وَقَدْ تَرَفَّقَ بِنُسُكَيْنِ، اور تحقیق اس نے نفع اٹھا لیا دو عبادتوں کا، تو لہٰذا یہ متمتع ہے۔ وَلَهُ، اور امام صاحب کی دلیل، امام صاحب کیا فرماتے تھے؟ پچھلے مسئلے میں بھی ذکر ہو چکا کہ جب تک یہ اپنے وطن نہیں جائے گا وہی پہلا سفر چل رہا ہے، اور پہلا سفر کے اندر تو اس کا ایک عمرہ فاسد ہو چکا، معلوم ہوا اس سفر میں اس کو دو صحیح عبادتوں کی توفیق نہ مل سکی لہٰذا یہ متمتع نہیں، حالانکہ متمتع کے لیے کیا ضروری تھا؟ اس کو دو صحیح عبادتوں کی توفیق ملے، پہلا پہلے عبادت عمرہ اس کو تو اس نے فاسد کر دیا، بعد میں بے شک اس کی قضا کر لیتا ہے لیکن پہلا عمرہ تو کیا ہو چکا؟ فاسد ہو چکا، یہ تو اسی کی قضا کر رہا ہے، لہٰذا یوں کہیں گے اس کو اس سفر میں دو صحیح عبادتوں کی توفیق نہیں ملی، یہ نفع اس نے نہیں اٹھایا اور جب یہ نفع نہیں اٹھایا تو یہ متمتع بھی نہیں ہے۔ امام صاحب کی دلیل سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو: وَلَهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّهُ بَاقٍ عَلَى سَفَرِهِ مَا لَمْ يَرْجِعْ إِلَى وَطَنِهِ، کہ یہ شخص اپنے سفر پر ہی باقی ہے جب تک کہ اپنے وطن واپس نہیں لوٹتا، اور اس سفر میں تو اس کو دو صحیح عبادتوں کی توفیق نہیں مل سکی۔
یاد رکھیے یہ صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف اس صورت میں ہے جب یہ شخص جو ہے اشہر حج کے اندر بصرہ کی طرف نکلا ہو اور بصرہ میں اس نے اقامت اختیار کی ہو اور پھر وہاں سے آیا ہو بھئی۔ یہ اختلاف کس صورت میں ہے؟ اشہر حج کے اندر وہ نکلا ہو اور اس نے بصرہ میں اقامت اختیار کی ہے اور پھر عمرہ اور حج کرنے کے لیے وہاں سے آیا ہے تو اس صورت میں امام صاحب کے نزدیک یہ متمتع نہیں جبکہ صاحبین کے نزدیک وہ متمتع ہے۔ لیکن اگر اس کے بجائے وہ اشہر حج سے پہلے ہی نکل گیا تھا بصرہ کی طرف، یہ جو عمرہ فاسد کیا اس نے یہ اشہر حج سے پہلے فاسد کیا تھا اور اشہر حج سے پہلے ہی نکل کر کہاں چلا گیا؟ بصرہ چلا گیا، اور پھر اشہر حج کے اندر وہ بصرہ سے آیا اور اس نے پھر عمرہ بھی کیا اور حج بھی کیا، تو یاد رکھیے اس صورت میں وہ بالاتفاق متمتع ہوگا بھئی، بالاتفاق متمتع ہوگا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا یہ اختلاف صرف کس صورت میں ہے؟ جب وہ اشہر حج کے اندر نکلا ہو بصرہ کی طرف بھئی، اور اگر اشہر حج سے پہلے ہی بصرہ کی طرف نکلا تھا پھر بالاتفاق وہ متمتع ہے بھئی۔
دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں اب۔ پہلی صورت کیا تھی؟ عمرہ فاسد کر کے وہ میقات سے باہر نکل گیا تھا اور پھر آ کر اس نے عمرہ اور حج کیا تھا۔ دوسری صورت یہ کہ عمرہ فاسد کر دیا اور پھر وطن چلا گیا اور پھر وہاں سے آ کر عمرہ بھی کرتا ہے اور حج بھی اسی سال کرتا ہے، تو یاد رکھیے اس صورت میں بالاتفاق یہ متمتع ہے، کیونکہ جب گھر واپس چلا گیا تو سفر کیا ہوا؟ ختم ہو گیا سفر، اور اب جب آئے گا تو یہ نیا سفر ہے اور اسی سفر میں اس کا دو عبادت، دو صحیح عبادتوں کی توفیق مل گئی تو لہٰذا اس یہ کیا کہلائے گا؟ متمتع کہلائے گا اور اس پر حج کی قربانی بھی واجب ہوگی۔
تو کہتے ہیں: فَإِنْ كَانَ رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ، اور اگر یہ شخص اپنے گھر واپس لوٹ گیا، ثُمَّ اعْتَمَرَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، اور پھر اس نے عمرہ کیا حج کے مہینوں میں، وَحَجَّ مِنْ عَامِهِ، اور حج بھی کیا اسی سال اپنے اسی سال میں، يَكُونُ مُتَمَتِّعًا فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا، تو یہ شخص متمتع ہوگا ہمارے تینوں ائمہ کے قول کے مطابق، لِأَنَّ هَذَا إِنْشَاءُ سَفَرٍ، اس لیے کیونکہ یہ انشاء سفر ہے، جب دوبارہ گھر سے چلے گا تو یہ انشاء سفر ہے، ایک نئے سفر کو وجود دینا ہے، لِانْتِهَاءِ السَّفَرِ الْأَوَّلِ، اس وجہ سے کہ پہلا سفر تو ختم ہو چکا ہے، جب یہ وطن واپس چلا گیا تھا پہلا سفر ختم ہو چکا، تو اب یہ نیا سفر ہے، وَقَدِ اجْتَمَعَ لَهُ نُسُكَانِ صَحِيحَانِ فِيهِ، اور تحقیق اس کے لیے جمع ہو گئیں دو صحیح عبادتیں فِيهِ اسی سفر میں۔
اب آگے تیسری صورت ذکر کریں گے کہ عمرے کو فاسد کر کے وہ کہاں رہنے لگ پڑا؟ مکہ ہی میں رہنے لگ پڑا اور وہاں اس نے عمرے کی قضا بھی کی اور اسی سال حج بھی کیا۔ آپ مجھے بتائیے اس کو متمتع کہیں گے یا نہیں کہیں گے؟ کیوں نہیں کہیں گے؟ وجہ اس کی یہ کہ یہ مکی ہے، مکی ہے اور مکہ والے کے لیے تو تمتع درست ہی نہیں، وہ تو متمتع بن ہی نہیں سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: وَلَوْ بَقِيَ بِمَكَّةَ، اور اگر یہ عمرہ فاسد کرنے والا مکہ ہی میں باقی رہا، وَلَمْ يَخْرُجْ إِلَى الْبَصْرَةِ، اور وہ بصرہ کی طرف نہیں نکلا، حَتَّى اعْتَمَرَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، یہاں تک کہ اس نے عمرہ کر لیا حج کے مہینوں میں، وَحَجَّ مِنْ عَامِهِ، اور حج بھی کر لیا اپنے اسی سال میں، لَا يَكُونُ مُتَمَتِّعًا بِالِاتِّفَاقِ، تو یہ بالاتفاق متمتع نہیں ہوگا، لِأَنَّ عُمْرَتَهُ مَكِّيَّةٌ، اس لیے کیونکہ اس کا عمرہ مکی ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے عمرہ کیسے مکی ہے؟ عمرہ تو یہ گھر سے سفر کر کے آیا تھا اور پھر وہ فاسد ہو گیا عمرہ، تو یہ تو اسی کی قضا کر رہا ہے؟ کہتے ہیں بھئی وہ سفر جب عمرہ فاسد کر دیا تھا وہ سفر کیا ہو گیا تھا؟ ختم ہو گیا تھا، اب یہ عمرہ کر رہا ہے تو یہ عمرے کہاں سے کر رہا ہے؟ میقات سے احرام باندھ کر آ رہا ہے یا وہیں حرم سے نکل کر احرام باندھ لیتا ہے؟ وہیں حرم سے نکلتا ہے اور احرام باندھ لیتا ہے، تو اس کا عمرہ بھی مکی ہوا، حالانکہ متمتع کا تو عمرہ میقاتی ہوتا ہے۔ لِأَنَّ عُمْرَتَهُ مَكِّيَّةٌ، اس لیے کیونکہ اس کا عمرہ مکی ہے، وَالسَّفَرُ الْأَوَّلُ انْتَهَى بِالْعُمْرَةِ الْفَاسِدَةِ، اور پہلا سفر جو ہے وہ تو ختم ہو چکا عمرۂ فاسدہ کی وجہ سے، وَلَا تَمَتُّعَ لِأَهْلِ مَكَّةَ، تو اس کا عمرہ مکی ہوا، اور حج تمتع تو مکہ والوں کے لیے نہیں ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، ھٰذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔