Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-070

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 137
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ سُجُودِ السَّهْوِ ”يَسْجُدُ لِلسَّهْوِ فِي الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ السَّلَامِ ثُمَّ يَتَشَهَّدُ ثُمَّ يُسَلِّمُ، وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً يَسْجُدُ قَبْلَ السَّلَامِ لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَجَدَ لِلسَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ، وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ السَّلَامِ، وَرُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ“. ”بَابُ سُجُودِ السَّهْوِ“ یہ باب ہے سجدہ سہو کے بیان میں۔ ادا اور قضا کا بیان مکمل ہوا۔ اب اس ادا یا قضا کے اندر اگر کوئی بھول ہو جائے، سہو کا معنی ہے بھول بھئی بھول اور غلطی بھئی، تو نماز کے اندر اگر کوئی بھول یا غلطی ہو جائے تو آپ جانتے ہیں کہ اس صورت میں آخر میں سجدہ سہو کیا جاتا ہے بھئی سہو کے دو سجدے کیے جاتے ہیں۔ اور طریقہ تو آپ کو علم ہوگا ہی کہ آخری تشہد میں جب تشہد پڑھ لیا جائے ”عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ تک یعنی درود سے پہلے ہی دائیں طرف سلام پھیرا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد سہو کے دو سجدے کیے جاتے ہیں اور پھر اس کے بعد دوبارہ تشہد، درود اور دعا پڑھی جاتی ہے اور پھر سلام پھیر دیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی کہ سجدہ سہو جو ہے واجب کے ترک پر یا واجب میں تاخیر وغیرہ ہو جائے تو اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ تفصیل آگے اس باب کے اندر آرہی ہے بھئی کہ کس صورت میں سجدہ سہو واجب ہوگا۔ تو بہرحال خلاصہ حاصل کلام یہ کہ کوئی واجب چھوٹ جائے یا اسی طرح ان میں تاخیر ارکان میں تاخیر ہو جائے تو اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ اور واجب چھوٹنے پر سجدہ سہو ہے جب بھولے سے واجب کو بھولے سے واجب رہ جائے۔ اگر جان بوجھ کر کوئی واجب کو چھوڑتا ہے تو پھر اس صورت میں سجدہ سہو کرنے سے بھی اس کی تلافی نہیں ہو سکتی، اس کو دوبارہ نماز پڑھنا پڑے گی بھئی۔ تو اگر بھولے سے واجب چھوٹ جائے تو اس صورت میں سجدہ سہو کرنے پڑیں گے بھئی۔ اور یہ مسئلہ بھی یاد رکھیے کہ آگے یہ ذکر بھی کریں گے صاحبِ ہدایہ بھئی کہ سہو کے سجدے چاہے سلام سے پہلے کیے جائیں چاہے سلام کے بعد کیے جائیں، دونوں صورتوں میں دونوں صورتیں جائز ہیں۔ البتہ ہمارے نزدیک عِنْدَ الْأَحْنَافِ اولیٰ یہ ہے، بہتر یہ ہے کہ سہو کے سجدے سلام کے بعد کیے جائیں۔ اگر پہلے بھی کوئی کر لیتا ہے تو وہ سجدہ سہو ہو جائیں گے بھئی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھیے کہ ہم عموماً ہم رائج کیا طریقہ ہے، کس طریقے پر فقہاء کے کس قول پر عمل ہوتا ہے؟ ایک طرف سلام کرنے کے بعد سجدہ سہو کیے جاتے ہیں جبکہ صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے کہ دونوں طرف سلام کرنے کے بعد پھر سہو کے سجدے کیے جائیں۔ تو بہرحال جس طریقے کو بھی اختیار کر لیا جائے، چاہے ایک طرف سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لیں یا دونوں طرف سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لیں تو وہ سجدے ہو جائیں گے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ بھی مسئلہ یاد رکھیے، بڑی قیمتی بات بھئی۔ ایک شخص نے ایک شخص مثلاً آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور کوئی واجب آپ سے بھولے سے رہ گیا اور آپ نے ارادہ کیا کہ آخر میں میں سجدہ سہو کروں گا۔ آخر میں آپ بھول گئے، آپ سلام پھیر کر بیٹھ گئے۔ تو جب تک آپ قبلہ رخ بیٹھے ہیں اور آپ کا سینہ قبلے سے نہیں پھیرا اور نماز کے منافی یعنی کوئی عمل نہیں کیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کسی سے کلام وغیرہ نہیں کیا، نماز کے منافی کوئی کوئی چیز آپ نے کھائی پی نہیں اور اسی طرح سلام کے بعد قبلہ رخ بیٹھے ہوئے ہیں، بیشک آپ نے اور ذکر بھی شروع کر دیا، درود شریف پڑھتے جا رہے ہیں یا ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“، ”سُبْحَانَ اللَّهِ“، ”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ“ وغیرہ پڑھتے جا رہے ہیں اور دس پندرہ منٹ گزر گئے آپ اسی ذکر کے اندر مشغول ہیں لیکن نماز کے منافی کوئی عمل ابھی تک آپ نے نہیں کیا اور آپ کا سینہ بھی قبلے سے نہیں پھیرا، تو اب اب پھر اچانک آپ کو یاد آیا: اوہو، نماز کے اندر تو میرے سے میرے سے بھول ہوئی تھی، میرے ذمے سہو کے دو سجدے تھے۔ تو پھر آپ اسی وقت کیا کر سکتے ہیں؟ سہو کے دو سجدے کر سکتے ہیں، کیونکہ ابھی تک آپ نے نماز کے منافی کوئی عمل نہیں کیا۔ لیکن اگر نماز کے منافی عمل کر لیا ہے تو بس پھر اب سہو کے سجدوں سے وہ وہ درست نہیں ہوگی، اب پھر نماز کا اعادہ کرنا پڑے گا، نماز پھر لوٹانا پڑے گی بھئی۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آگیا؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ ”بَابُ سُجُودِ السَّهْوِ“ یہ باب ہے سہو کے سجدے کے بیان میں۔ ”يَسْجُدُ لِلسَّهْوِ فِي الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ السَّلَامِ ثُمَّ يَتَشَهَّدُ ثُمَّ يُسَلِّمُ“ سجدہ کرے سہو کا زیادتی کی صورت میں بھی اور کمی کی صورت نماز میں کوئی زیادتی کر دے مثلاً دو کے بجائے تین سجدے کر دیے، ایک رکوع کے بجائے دو رکوع کر دیے تو یہ زیادتی کر دی، اس صورت میں بھی سہو کے سجدے کریں گے سہو کا سجدہ کریں گے، ”وَالنُّقْصَانِ“ اور کمی کر دی مثلاً کوئی واجب چھوٹ گیا، تو کہتے ہیں ”يَسْجُدُ لِلسَّهْوِ فِي الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ سَجْدَتَيْنِ“ اور سہو کے سجدہ کرے زیادتی اور کمی کی صورت میں ”سَجْدَتَيْنِ“ دو سجدے نماز پڑھنے والا ”بَعْدَ السَّلَامِ“ کس کے بعد؟ سلام کے بعد، ”ثُمَّ يَتَشَهَّدُ“ پھر تشہد پڑھے، ”ثُمَّ يُسَلِّمُ“ پھر سلام پھیر دے۔ ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَسْجُدُ قَبْلَ السَّلَامِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سجدہ کرے ”قَبْلَ السَّلَامِ“ سلام سے پہلے۔ ہمارے نزدیک سلام کے بعد اور ان کے نزدیک سلام سے پہلے۔ دلیل ان کی وہ فرماتے ہیں: ”لِمَا رُوِيَ“ بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی ہے ”أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَجَدَ لِلسَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ“ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ فرمایا سہو کا ”قَبْلَ السَّلَامِ“ سلام سے پہلے، یہ حدیث میں آیا ہے۔ تو معلوم ہوا سلام سے پہلے ہوں گے۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل تھی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کا قول ہے: ”لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ“ ہر بھول کے جو ہیں ہر غلطی کے جو ہیں ”سَجْدَتَانِ“ دو سجدے ہیں ”بَعْدَ السَّلَامِ“ کس کے بعد؟ سلام کے بعد۔ نیز دوسری حدیث ہے ”وَرُوِيَ“ اور روایت کیا گیا ہے ”أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ“ کہ حضور علیہ السلام نے سجدہ فرمایا ”سَجْدَتَيِ السَّهْوِ“ اصل میں تھا ”سَجْدَتَيْنِ السَّهْوِ“، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، حضور علیہ السلام نے سجدہ فرمایا سہو کے دو سجدے ”بَعْدَ السَّلَامِ“ کس کے بعد؟ سلام کے بعد بھئی۔ تو دیکھیے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل وہ صرف فعلی حدیث ہے۔ اس میں حضور علیہ السلام کا فعل نقل فرما کیا گیا کہ حضور علیہ السلام نے سہو کے سجدے سلام سے پہلے فرمائے۔ تو دیکھو فعل ذکر ہے حضور علیہ السلام کا قول ذکر نہیں، جبکہ ہمارے پاس دو حدیثیں ہیں۔ ایک حدیث کون سی؟ حضور علیہ السلام کا قول ہے، حضور علیہ السلام باقاعدہ خود فرما رہے ہیں اپنی زبان مبارک سے کہ سہو کے دو سجدے ہیں بعد السلام، کس کے بعد؟ سلام کے بعد۔ اور نیز دوسری حدیث کہ حضور علیہ السلام نے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے فرمائے۔ تو ہماری حدیث قولی بھی ہے اور فعلی، ایک میں قول ذکر ہے حضور علیہ السلام کا ایک میں حضور علیہ السلام کا فعل ذکر ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”فَتَعَارَضَتْ رِوَايَتَا فِعْلِهِ“، ”رِوَايَتَا“ اصل میں تھا ”رِوَايَتَانِ فِعْلِهِ“، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں ”فَتَعَارَضَتْ رِوَايَتَا فِعْلِهِ“ حضور علیہ السلام کے فعل کی دو روایتیں جو ہیں ”تَعَارَضَتْ“ ان میں باہم کیا آگیا؟ تعارض آگیا، مقابلہ آگیا۔ ایک حضور ایک حدیث سے کیا معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام نے کس طرح کیے سہو کے سجدے؟ سلام سے پہلے۔ اور دوسری روایت سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام نے سہو کے سجدے کیے سلام کے بعد۔ تو دونوں روایتوں میں تعارض آگیا، ”وَإِذَا تَعَارَضَا تَسَاقَطَا“ تو جب تعارض آیا تو دونوں ساقط ہوگئیں، دونوں حدیث کیا ہوئیں؟ ساقط ہوگئیں۔ اب صرف قولی حدیث باقی رہ گئی، اس کے مقابل کوئی اور حدیث نہیں۔ اور اس میں تو کیا آیا تھا کہ حضور علیہ السلام خود فرما رہے ہیں کہ سہو کے دو سجدے ہیں سلام کے بعد، تو اس سے استدلال کیا جائے گا اور وہ ہماری مؤید ہے وہ حدیث، وہ کیا بتلا رہی ہے کہ سہو کے سجدے کب ہوں گے؟ سلام کے بعد ہوں گے جیسے کہ احناف کا مذہب ہے۔ ”فَتَعَارَضَتْ رِوَايَتَا فِعْلِهِ فَبَقِيَ التَّمَسُّكُ بِقَوْلِهِ سَالِمًا“، تمسک کا معنی استدلال کرنا، دلیل پکڑنا۔ پس باقی رہا دلیل پکڑنا حضور علیہ السلام کے قول کے ساتھ ”سَالِمًا“ سالم ہوکر۔ وہ سالم ہوکر حضور علیہ السلام کے قول سے استدلال کرنا سالم ہوکر باقی رہ گیا یعنی اس کے معارض اور مقابل کوئی حدیث نہیں۔ ”وَلِأَنَّ“ جی، پہلے نقلی دلیل ذکر کر دی، اب صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہ عقل بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ سہو کے سجدے سلام کے بعد ہونے چاہئیں۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ بھئی دیکھیے، سجدہ سہو جو ہے اس میں تکرار نہیں۔ اس میں تکرار نہیں، سہو کے دو ہی سجدے ہیں ایک ہی دفعہ کیے جائیں گے، بار بار ان کو نہیں کیا جائے گا۔ تو ان کو سلام کے بعد ہی ہونا چاہیے تاکہ اگر سلام تک بھی کوئی غلطی ہو جائے سلام میں بھی تاخیر ہو جائے، مثلاً ایک آدمی ہے اور اب آخری قعدے کے اندر سلام کا وقت آگیا لیکن وہ سوچ میں پڑ گیا کہ میں نے پتہ نہیں تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار رکعتیں اور اس میں کم از کم وہ اس نے تاخیر کر دی تین ”سُبْحَانَ اللَّهِ“ کہنے کی مقدار۔ اتنی دیر تک وہ سوچتا ہی رہا اور اتنی تاخیر ہو جائے تو آپ جانتے ہیں کہ اس صورت میں کیا آتا ہے؟ سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ تو اگر اس نے پہلے ہی سجدہ سہو کیا ہوا تو اب پھر کمی آگئی نماز کے اندر نقصان آگیا کہ اس نے سلام میں تاخیر کر دی تو پھر سجدہ سہو کا کیا کرنا پڑے گا؟ دوبارہ کرنا پڑیں گے اور دوبارہ تو وہ مشروع ہیں ہی نہیں، سجدہ سہو تو کتنی دفعہ کرنے ہیں؟ ایک ہی دفعہ وہ مشروع ہیں، تو اس طرح نماز کے اندر کمی رہ جائے گی اور اس کی تلافی کی کوئی صورت نہیں۔ لیکن اگر سجدہ سہو کب ہوں؟ سلام کے بعد ہوں تو اس صورت میں یہ جو کمی آئی اس کی بھی کیا ہو جائے گی؟ تلافی ہو جائے گی کیونکہ نماز کے اندر چاہے ایک واجب بھولے سے رہ جائے چاہے ایک سے زیادہ واجب بھولے سے رہ جائیں، ایک ہی سجدہ سہو کرنا پڑے گا اور یعنی دو سجدے اکٹھے اور اس سے ان سب کی کیا ہو جائے گی؟ تلافی ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو عقل بھی کیا کرتی؟ تائید کرتی ہے کہ سہو کے سجدوں کو کب ہونا چاہیے؟ سلام کے بعد۔ ”وَلِأَنَّ سُجُودَ السَّهْوِ مِمَّا لَا يَتَكَرَّرُ“ اور اس لیے کیونکہ سہو کا جو سجدہ ہے ان چیزوں میں سے ہے جس میں تکرار نہیں ہے ”فَيُؤَخَّرُ عَنِ السَّلَامِ“ تو اس کو مؤخر کیا جائے گا سلام سے ”حَتَّى لَوْ سَهَا عَنِ السَّلَامِ“ یہاں تک کہ اگر اس سے سہو ہو گیا سلام سے یعنی سلام میں سہو ہو گیا یعنی اس میں دیر تاخیر وغیرہ ہو گئی ”يَنْجَبِرُ بِهِ“ تو اس سے اس کی تلافی ہو جائے گی ”وَهٰذَا الْخِلَافُ فِي الْأَوْلَوِيَّةِ“ اور یہ جو اختلاف ہے احناف اور شوافع کا یہ اولیٰ ہونے میں ہے، کس چیز میں ہے؟ اولیٰ۔ ان کے نزدیک امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اولیٰ اور بہتر کیا ہے؟ سجدہ سہو سلام سے پہلے۔ اور ہمارے نزدیک اولیٰ اور بہتر یہ ہے کہ سجدہ سہو سلام کے بعد ہونا چاہیے، باقی جواز اور عدمِ جواز کا اختلاف نہیں۔ ہمارے نزدیک بھی اگر سلام سے پہلے کر دے گا تو جائز ہو جائیں گے لیکن اولیٰ کیا ہے؟ سلام کے بعد کرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اولیٰ یہ ہے کہ سلام سے پہلے کرے لیکن اگر سلام کے بعد بھی کر لے گا تو بھی جائز ہے۔ تو یہ اختلاف جو ہے ”فِي الْأَوْلَوِيَّةِ“ اولیٰ ہونے میں ہے۔ ”وَيَأْتِي بِتَسْلِيمَتَيْنِ“ اچھا بھئی، سجدہ سہو سے پہلے سلام کیا جائے گا کیونکہ سجدہ سہو کس کے بعد ہے؟ سلام کے بعد۔ تو اب اس سلام میں ایک طرف صرف دائیں طرف سلام پھیرا جائے گا یا دونوں طرف سلام پھیرا جائے گا اور پھر سہو کے سجدے کیے جائیں گے؟ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَيَأْتِي بِتَسْلِيمَتَيْنِ“ اور دو سلام لے کر آئے یعنی دو سلام کرے ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے ”صَرْفًا لِلسَّلَامِ الْمَذْكُورِ إِلَى مَا هُوَ الْمَعْهُودُ“ تاکہ پھیرا جائے اس سلام کو جو ذکر کیا گیا حدیث کے اندر ”إِلَى مَا هُوَ الْمَعْهُودُ“ اس سلام کی طرف جو معلوم ہے، متعین ہے اور معلوم سلام کیا ہے نماز کے آخر میں، ایک طرف یا دونوں طرف؟ نماز کے آخر میں دونوں طرف سلام پھیرا جاتا ہے۔ تو وہ جو معلوم سلام ہے اس حدیث میں جو سلام کا لفظ آیا اس سلام کو اس کی طرف پھیر دیں گے اور وہ مراد ہوگا اس سے اور وہ تو ایک طرف ہے یا دو طرف؟ دو طرف، تو لہٰذا یہاں پر بھی سہو کے سجدوں سے پہلے دونوں طرف سلام پھیرا جائے گا، کیا کیا جائے گا؟ دونوں طرف سلام پھیرا جائے گا اور پھر سہو کے سجدے کیے جائیں گے۔ عبارت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو صاحبِ ہدایہ نے اس قول کو ترجیح دی کہ سہو کے سجدوں سے پہلے دونوں طرف سلام پھیرا جائے اور پھر سجدے کیے جائیں۔ جبکہ اور کئی فقہاء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ صرف دائیں طرف سلام پھیرا جائے گا اور پھر کیا کیا جائے گا؟ سہو کے دو سجدے کیے جائیں گے اور انہی کے قول پر آپ دیکھتے ہیں عمل جاری ہے بھئی۔ معلوم ہوا اس قول کو فقہاء نے راجح قرار دیا ہے، تو بہرحال صاحبِ ہدایہ نے اس قول کو راجح قرار دیا اور اس کو صحیح کہا۔ تو کہتے ہیں ”وَيَأْتِي بِتَسْلِيمَتَيْنِ هُوَ الصَّحِيحُ“ اور لے کر آئے دو سلام یعنی دو سلام کرے ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے ”صَرْفًا لِلسَّلَامِ الْمَذْكُورِ“ تاکہ پھیرا جائے اس سلام کو جو ذکر کیا گیا ”إِلَى مَا هُوَ الْمَعْهُودُ“ اس سلام کی طرف جو متعین ہے، معلوم ہے۔ ”وَيَأْتِي بِالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَالدُّعَاءِ“ اور لے کر آئے یعنی درود کو حضور علیہ السلام پر ”وَالدُّعَاءِ“ اور دعا کو ”فِي قَعْدَةِ السَّهْوِ“ کس کے اندر؟ سہو کے قعدے میں، یعنی سہو کے دو سجدوں کے بعد جو قعدہ کیا ہے جو بیٹھا ہے اس میں درود بھی پڑھے اور دعا بھی پڑھے ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے ”لِأَنَّ الدُّعَاءَ مَوْضِعُهُ آخِرُ الصَّلَاةِ“ اس لیے کیونکہ دعا جو ہے اس کا مقام نماز کا آخر ہے، اور اب نماز کا آخر آیا سہو کے جو سجدے کر لیے تو اب نماز کا آخر آیا تو اب درود پڑھے کیونکہ درود بھی حضور علیہ السلام کے لیے دعا ہے اور اپنے لیے بھی پھر کیا کر لے؟ دعا کر لے کیونکہ دعا کا مقام آخرِ صلاۃ ہے۔ ”قَالَ: وَيَلْزَمُهُ السَّهْوُ إِذَا زَادَ فِي صَلَاتِهِ فِعْلًا مِنْ جِنْسِهَا لَيْسَ مِنْهَا“ اور لازم ہو جائے گا اس پر نماز پڑھنے والے پر سہو یعنی سہو کا سجدہ ”إِذَا زَادَ فِي صَلَاتِهِ“ جب وہ زیادتی کر دے یعنی بڑھا دے اپنی نماز میں ”فِعْلًا“ کوئی ایسا فعل ”مِنْ جِنْسِهَا“ جو اس نماز کی جنس میں سے ہو ”لَيْسَ مِنْهَا“ لیکن نماز میں سے نہ ہو۔ نماز کے افعال کی جنس میں سے تو ہے لیکن نماز میں سے نہیں۔ نماز کے افعال کی جنس میں سے ہو لیکن نماز میں سے نہ ہو، مثلاً دو کے بجائے کتنے سجدے کر دیے؟ تین سجدے کر دیے۔ اب یہ تیسرا سجدہ جو ہے یہ نماز کے افعال کی جنس میں سے ہے، نماز میں بھی کیا کیے جاتے ہیں؟ سجدے تو کیے جاتے ہیں، لیکن یہ والا سجدہ نماز میں سے نہیں ہے کیونکہ دو سجدے کیے جاتے ہیں تیسرا نہیں، تو یہ نماز کی جنس میں سے تو ہے لیکن نماز میں نہیں ہے۔ تو اس قسم کی اگر زیادتی کر دی تو سجدہ سہو واجب ہوگا۔ ”وَهٰذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ سَجْدَةَ السَّهْوِ وَاجِبَةٌ“ اور یہ عبارت جو ہے صاحبِ قدوری کا یہ قول، کون سا؟ ”وَيَلْزَمُهُ“ اور اس پر سہو لازم ہے یعنی سہو کے سجدے لازم ہیں، دیکھو یہ لازم کا لفظ جو ہے دلالت کر رہا ہے ”عَلَى أَنَّ سَجْدَةَ السَّهْوِ وَاجِبَةٌ“ کہ سہو کا سجدہ واجب ہے ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے ”لِأَنَّهَا تَجِبُ لِجَبْرِ نُقْصَانٍ تَمَكَّنَ فِي الْعِبَادَةِ فَتَكُونُ وَاجِبَةً“۔ ”لِأَنَّهَا تَجِبُ“، بھئی یہاں تجب کا معنی تثبت کے کرنا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے کیونکہ یہ واجب ہونے کی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کس چیز کی دلیل؟ کہ یہ سجدہ سہو واجب ہیں، واجب ہیں۔ تو لہٰذا جب دلیل ذکر کر رہے ہیں تو یہاں تجب کے معنی اگر یہ ترجمہ کریں ”لِأَنَّهَا تَجِبُ“ اس لیے کیونکہ سہو کے سجدے واجب ہوتے ہیں، بھئی واجب ہونے کی تو دلیل ذکر کی جا رہی ہے تو واجب ہونے پہلے یہ تو ہمیں بتائیں کہ یہ واجب ہیں بھی یا واجب نہیں؟ تو لہٰذا یہاں واجب کا معنی واجب کے نہ کریں بلکہ کیا معنی کریں؟ ”تَجِبُ أَيْ تَثْبُتُ“ ثابت ہونے کے معنی میں کریں اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ وجب یجب ثبت کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے بھئی۔ ”لِأَنَّهَا تَجِبُ“ اس لیے کیونکہ یہ سجدہ سہو جو ہے یہ ثابت ہوتا ہے ”لِجَبْرِ نُقْصَانٍ تَمَكَّنَ“، بھئی نقصان نکرہ آیا اور تمکن یہ فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت عموماً بنتا ہے اور اس صورت میں موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا یا ایسی۔ اب ترجمہ سنیے: ”لِأَنَّهَا تَجِبُ“ اس لیے کیونکہ سہو کا سجدہ جو ہے یہ ثابت ہوتا ہے ”لِجَبْرِ نُقْصَانٍ“ ایسے نقصان کی تلافی کے لیے ”تَمَكَّنَ فِي الْعِبَادَةِ“ جو آگیا ہے کس کے اندر؟ عبادت میں، ایک ایسا نقصان جو عبادت کے اندر آگیا ہے اس کی تلافی کے لیے یہ ثابت ہوتا ہے ”فَتَكُونُ وَاجِبَةً“ تو یہ کیا ہوگا؟ واجب ہوگا ”كَالدِّمَاءِ فِي الْحَجِّ“ جیسے کہ دم ہیں، قربانیاں ہیں ”فِي الْحَجِّ“ کس کے اندر؟ حج کے اندر۔ بھئی آپ نے اگر کتاب الحج کے اندر احکام آپ کو یاد ہوں، آپ نے پڑھے ہوں گذشتہ کتابوں کے اندر، آپ نے پڑھا ہوگا وہاں کہ حج کے اندر بعض چیزیں واجب ہیں اور واجب اگر کوئی رہ جائے تو اس صورت میں حاجی پر دم یعنی قربانی واجب ہوتی ہے، اس کو ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی پھر ہی اس کی تلافی اس غلطی کی کیا ہوگی؟ تلافی ہوگی بھئی۔ تو جیسے حج کے اندر قربانیاں نقصان کی تلافی کے لیے آتی ہیں اور وہ کیا ہوتی ہیں؟ واجب ہوتی ہیں، تو یہاں پر بھی عبادت کے اندر کیا آگیا؟ نقصان اور کمی آگئی، تو اس کی وجہ سے سہو کے جو سجدے ہوں گے وہ بھی کیا ہوں گے؟ واجب ہوں گے۔ دلیل سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے ”كَالدِّمَاءِ فِي الْحَجِّ“ جیسے کہ قربانیاں ہیں حج کے اندر۔ ”وَإِذَا كَانَ وَاجِبًا لَا يَجِبُ إِلَّا بِتَرْكِ وَاجِبٍ“ اور جب یہ سہو کا سجدہ واجب ہے تو پھر یہ واجب بھی نہیں ہوگا ”إِلَّا بِتَرْكِ وَاجِبٍ“ مگر کسی واجب کو چھوڑنے سے ہی ”أَوْ تَأْخِيرِهِ“ یا واجب کو مؤخر کرنے سے ”أَوْ تَأْخِيرِ رُكْنٍ“ یا کسی رکن کو مؤخر کرنے سے ”سَاهِيًا“ بھولے سے، ”هٰذَا هُوَ الْأَصْلُ“ یہی ضابطہ ہے، یہی اصل ہے۔ جب یہ واجب ہے، سجدہ سہو کیا ہے؟ واجب، تو یہ کسی واجب کے چھوٹنے پر ہی آنا چاہیے، سنت کے چھوٹنے پر نہیں بھئی کیونکہ واجب کا درجہ سنت سے بڑھ کر ہے بھئی۔ تو ”وَإِذَا كَانَ وَاجِبًا لَا يَجِبُ إِلَّا بِتَرْكِ وَاجِبٍ أَوْ تَأْخِيرِهِ أَوْ تَأْخِيرِ رُكْنٍ سَاهِيًا هٰذَا هُوَ الْأَصْلُ“ اور جب یہ واجب ہے تو یہ واجب بھی نہیں ہوگا مگر کسی واجب کو چھوڑنے سے ہی یا واجب کے اندر تاخیر اس کو مؤخر کرنے سے یا کسی رکن کو مؤخر کرنے سے بھولے سے، یہی اصل ہے۔ معلوم ہوا کوئی واجب اگر چھوٹ گیا یا واجب میں تاخیر کر دی اپنے محل سے اس کو مؤخر کر دیا یا کسی رکن کو یعنی فرض کو کیا کر دیا؟ مؤخر کر دیا، ان سب صورتوں کے اندر کیا واجب ہوگا؟ سجدہ سہو واجب ہوگا۔ کوئی واجب چھوٹ گیا اس کی مثال: مثلاً نماز میں درمیان والا قعدہ کیا ہے؟ واجب۔ دو رکعت کے بعد جو قعدہ تھا وہ واجب۔ کوئی بھولے سے وہ قعدہ کرنے کے بجائے سیدھا کھڑا ہو گیا تو اب وہ واجب رہ گیا تو اب سجدہ سہو واجب ہوگا۔ اسی طرح اگر واجب کے اندر تاخیر آجائے، وہ مؤخر ہو جائے مؤخر کر دے اس کو، مثلاً سلام کے اندر کیا کر دی؟ تاخیر کر دی، تین ”سُبْحَانَ اللَّهِ“ کہنے کی مقدار تک وہ سوچ میں ہی پڑا رہا تو سلام تو واجب تھا تو واجب میں کیا آگئی؟ تاخیر، تو اس صورت میں بھی سہو کے سجدے واجب ہوں گے۔ اسی طرح رکن کے اندر تاخیر کر دی، مثلاً دو دو سجدوں کے بجائے تین سجدے کر دیے تو تیسرا سجدہ جب کیا تو دو سجدوں کے بعد تو قیام چاہیے تھا تو اس صورت میں کیا آیا؟ قیام میں تاخیر آگئی، لہٰذا اس وجہ سے بھی کیا ہوگا؟ سجدہ سہو واجب ہوگا۔ ”هٰذَا هُوَ الْأَصْلُ“ یہی ضابطہ ہے۔ ”وَإِنَّمَا وَجَبَتْ بِالزِّيَادَةِ“ یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ٹھیک ہے کوئی واجب بھولے سے رہ گیا اس صورت میں تو سجدہ سہو واجب ہونا چاہیے کیونکہ نماز میں کمی آگئی، لیکن اگر کچھ زیادتی کر دی مثلاً دو کے بجائے تین سجدے کر دیے یا دو ایک رکوع کے بجائے دو رکوع کر دیے تو اس زیادتی کی صورت میں کیوں سجدہ سہو واجب ہوگا؟ تو اس کا جواب ذکر کر رہے ہیں: ”وَإِنَّمَا وَجَبَتْ بِالزِّيَادَةِ“ اور زیادتی کی وجہ سے بھی سجدہ سہو واجب ہوگا ”لِأَنَّهَا لَا تَعْرَى عَنْ تَأْخِيرِ رُكْنٍ أَوْ تَرْكِ وَاجِبٍ“، عَرِيَ يَعْرَى کے معنی خالی ہونا، اس لیے کیونکہ یہ جو زیادتی جو ہے یہ بھی خالی نہیں ہے ”عَنْ تَأْخِيرِ رُكْنٍ“ کسی رکن کے مؤخر کرنے سے ”أَوْ تَرْكِ وَاجِبٍ“ یا واجب کو چھوڑنے، اس لیے کیونکہ جب کسی عمل کو زیادہ کرے گا نماز کے اندر مثلاً دو کے بجائے کیا کر دیے؟ تین سجدے، تو اس صورت میں بھی کسی واجب کے اندر یا تو واجب کے اندر تاخیر آجائے گی یا کسی فرض کے اندر رکن کے اندر کیا آجائے گی؟ تاخیر آجائے گی، تو لہٰذا اس صورت میں بھی سجدہ سہو واجب ہوگا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سجدہ سہو کب واجب ہوگا؟ جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے یا اس میں اس کو کیا کر دے؟ مؤخر کر، ضابطہ بھئی وہ ضابطے پہ نظر رکھیں۔ کسی واجب کو چھوڑ دے یا واجب کو کیا کر دے؟ مؤخر کر دے یا کسی رکن کو مؤخر کر دے بھولے سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو ”سَاهِيًا“ کی قید لگائی، بھولے سے۔ جان بوجھ کر نہیں، جان بوجھ کر کرے گا تو پھر نماز ہی نہیں ہوگی، دوبارہ نماز پڑھنا پڑے گی بھئی۔ ”قَالَ: وَيَلْزَمُهُ إِذَا تَرَكَ فِعْلًا مَسْنُونًا“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ سجدہ سہو اس نماز پڑھنے والے پر لازم ہوگا ”إِذَا تَرَكَ فِعْلًا مَسْنُونًا“ جب وہ کسی مسنون فعل کو چھوڑ دے، کس کو چھوڑ دے؟ مسنون فعل کو، کسی سنت فعل کو چھوڑ دے تو سجدہ سہو اس نماز پڑھنے والے پر لازم ہوگا۔ اس پر فوراً اشکال آپ کے ذہن میں آئے گا کہ سجدہ سہو سنت کے چھوڑنے پر تو نہیں آتا بلکہ کس پر آتا ہے؟ واجب کے چھوڑنے پر آتا ہے۔ تو اسی کا اس اسی اشکال کا جواب آگے صاحبِ ہدایہ دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”كَأَنَّهُ أَرَادَ بِهِ فِعْلًا وَاجِبًا“ گویا کہ صاحبِ قدوری نے اس فعلِ مسنون کے ذریعے کس کا ارادہ کیا؟ فعلِ واجب کا۔ تو پھر اس کو مسنون کیوں کہا؟ اس کا بھی جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ أَرَادَ بِتَسْمِيَتِهِ سُنَّةً أَنَّ وُجُوبَهَا بِالسُّنَّةِ“ مگر صاحبِ قدوری نے ارادہ کیا اس کا نام سنت رکھنے سے کس چیز کا ارادہ کیا؟ کہ اس کا وجوب کس سے ثابت ہے؟ سنت سے ثابت ہے بھئی، چاہے کوئی سنت ہے چاہے واجب ہے چاہے فرض ہے، ان سب کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ سنت سے کیونکہ ان سب کو حضور علیہ السلام نے ادا فرمایا ہے۔ واجب کا پتہ بھی سنت سے چلا، اس لیے اس کو مسنون قرار دیا بھئی، مسنون اس کا نام رکھا۔ ”قَالَ: أَوْ تَرَكَ قِرَاءَةَ الْفَاتِحَةِ لِأَنَّهَا وَاجِبَةٌ أَوِ الْقُنُوتَ أَوِ التَّشَهُّدَ أَوْ تَكْبِيرَاتِ الْعِيدَيْنِ“ یا چھوڑ دیا نماز پڑھنے والے نے ”قِرَاءَةَ الْفَاتِحَةِ“ فاتحہ کی قرات کو ”لِأَنَّهَا وَاجِبَةٌ“ اس کیونکہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے۔ آپ پڑھ چکے کہ قرات تو نماز کے اندر فرض ہے لیکن خاص طور پر فاتحہ کا پڑھنا یہ واجب ہے۔ اسی طرح فاتحہ کے ساتھ پھر سورت کا ملانا یا ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں کا ملانا، یہ بھی واجب اور نیز ان کے اندر جو ترتیب ہے کہ پہلے فاتحہ ہونی چاہیے پھر سورت وغیرہ ہونی چاہیے، یہ بھی کیا ہے؟ واجب ہے۔ ”لِأَنَّهَا وَاجِبَةٌ“ اس لیے کیونکہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے، ”أَوِ الْقُنُوتَ“ أَيْ تَرَكَ الْقُنُوتَ یا کس کو چھوڑ دیا؟ دعائے قنوت کو چھوڑ دیا، ”أَوِ التَّشَهُّدَ“ یا تشہد کو چھوڑ دیا، ”أَوْ تَكْبِيرَاتِ الْعِيدَيْنِ“ یا عید کی دونوں جو عیدیں ہیں ان کی تکبیرات کو چھوڑ دیا، تو ان صورتوں میں بھی سجدہ سہو لازم ہوگا۔ ”لِأَنَّهَا وَاجِبَاتٌ“ اس لیے کیونکہ یہ سب چیزیں واجب ہیں، ”فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهَا مِنْ غَيْرِ تَرْكِهَا مَرَّةً“ دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ ان کے واجب ہونے کی کیا دلیل ہے؟ کہتے ہیں: ”فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهَا مِنْ غَيْرِ تَرْكِهَا مَرَّةً“، ”فَإِنَّهَا“ فا آیا بھئی یہ جگہ جگہ اس طرح کی عبارت آتی ہے اور آپ نے پڑھا ہے نور الانوار، اصول الشاشی وغیرہ میں کہ فا کبھی علت بیان کرنے کے لیے آتی ہے تو اس کے ما بعد کیا ذکر ہوتی ہے؟ علت اور دلیل ذکر ہوتی ہے اور اس فا کا ترجمہ کس کے ساتھ کریں گے؟ کیونکہ کیونکہ، یہ ترجمہ یا اس وجہ سے، اس وجہ سے، جو بھی آپ ترجمہ کرنا چاہیں۔ ”لِأَنَّهَا وَاجِبَاتٌ“ کیونکہ یہ واجبات ہیں ”فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ کیونکہ حضور علیہ السلام جو ہیں ”وَاظَبَ عَلَيْهَا“ حضور علیہ السلام نے ان پر پابندی فرمائی ہے ”مِنْ غَيْرِ تَرْكِهَا مَرَّةً“ بغیر اس کو ایک مرتبہ بھی چھوڑے۔ ایسی پابندی فرمائی ہے کہ کبھی ان کو ایک مرتبہ بھی نہیں چھوڑا، معلوم ہوا یہ واجب ہیں اور جو سنت ہے اس میں کبھی کبھار حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا ہوتا ہے؟ کبھی ترک بھی فرما دیتے ہیں اگرچہ بہت قلیل ہی کیوں نہ ہو، عام معمول تو ہوتا ہے اس پر عمل فرماتے ہیں لیکن بعض اوقات یہ بتلانے کے لیے کہ یہ واجب نہیں ہے، حضور علیہ السلام اس کو ترک بھی فرما دیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے ان پر پابندی فرمائی پابندی فرمائی ہے ”مِنْ غَيْرِ تَرْكِهَا مَرَّةً“ بغیر اس کو چھوڑے ایک مرتبہ، ”وَهِيَ أَمَارَةُ الْوُجُوبِ“ اور یہ واجب ہونے کی علامت ہے، امارت کا معنی علامت، اور یہ واجب ہونے کی علامت ہے۔ یہ پہلی دلیل۔ پہلی دلیل کیا ان کے واجب ہونے کی؟ کیونکہ حضور علیہ السلام نے ان پر پابندی فرمائی۔ بَابُ سُجُودِ السَّهْوِ۔ يَسْجُدُ لِلسَّهْوِ فِي الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ السَّلَامِ، ثُمَّ يَتَشَهَّدُ، ثُمَّ يُسَلِّمُ۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً يَسْجُدُ قَبْلَ السَّلَامِ لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَجَدَ لِلسَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ۔ وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ السَّلَامِ“۔ وَرُوِيَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ۔ بَابُ سُجُودِ السَّهْوِ۔ یہ باب ہے سجدۂ سہو کے بیان میں۔ ادا اور قضا کا بیان مکمل ہوا۔ اب اس ادا یا قضا کے اندر اگر کوئی بھول ہو جائے، سہو کا معنی ہے بھول بھئی بھول اور غلطی بھئی۔ تو نماز کے اندر اگر کوئی بھول یا غلطی ہو جائے تو آپ جانتے ہیں کہ اس صورت میں آخر میں سجدۂ سہو کیا جاتا ہے بھئی، سہو کے دو سجدے کیے جاتے ہیں۔ اور طریقہ تو آپ کو علم ہوگا ہی کہ آخری تشہد میں جب تشہد پڑھ لیا جائے ”عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ تک، یعنی درود سے پہلے ہی دائیں طرف سلام پھیرا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد سہو کے دو سجدے کیے جاتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد دوبارہ تشہد، درود اور دعا پڑھی جاتی ہے اور پھر سلام پھیر دیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی کہ سجدۂ سہو جو ہے واجب کے ترک پر یا واجب میں تاخیر وغیرہ ہو جائے تو اس صورت میں سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے۔ تفصیل آگے اس باب کے اندر آ رہی ہے بھئی کہ کس صورت میں سجدۂ سہو واجب ہوگا۔ تو بہرحال خلاصۂ حاصلِ کلام یہ کہ کوئی واجب چھوٹ جائے یا اسی طرح ان میں تاخیر، ارکان میں تاخیر ہو جائے تو اس صورت میں سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے۔ اور واجب چھوٹنے پر سجدۂ سہو ہے جب بھولے سے واجب کو بھولے سے واجب رہ جائے۔ اگر جان بوجھ کر کوئی واجب کو چھوڑتا ہے تو پھر اس صورت میں سجدۂ سہو کرنے سے بھی اس کی تلافی نہیں ہو سکتی، اس کو دوبارہ نماز پڑھنا پڑے گی بھئی۔ تو اگر بھولے سے واجب چھوٹ جائے تو اس صورت میں سجدۂ سہو کرنے پڑیں گے بھئی۔ اور یہ مسئلہ بھی یاد رکھیے کہ آگے یہ ذکر بھی کریں گے صاحبِ ہدایہ بھئی کہ سہو کے سجدے چاہے سلام سے پہلے کیے جائیں، چاہے سلام کے بعد کیے جائیں دونوں صورتیں دونوں صورتیں جائز ہیں۔ البتہ ہمارے نزدیک عِنْدَ الْأَحْنَافِ اولیٰ یہ ہے، بہتر یہ ہے کہ سہو کے سجدے سلام کے بعد کیے جائیں۔ اگر پہلے بھی کوئی کر لیتا ہے تو وہ سجدۂ سہو ہو جائیں گے بھئی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھیے کہ ہم عموماً ہم رائج کیا طریقہ ہے، کس طریقے پر فقہاء کے کس قول پر عمل ہوتا ہے؟ ایک طرف سلام کرنے کے بعد سجدۂ سہو کیے جاتے ہیں، جبکہ صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے کہ دونوں طرف سلام کرنے کے بعد پھر سہو کے سجدے کیے جائیں۔ تو بہرحال جس طریقے کو بھی اختیار کر لیا جائے، چاہے ایک طرف سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لیں یا دونوں طرف سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لیں تو وہ سجدے ہو جائیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور یہ بھی مسئلہ یاد رکھیے، بڑی قیمتی بات بھئی۔ ایک شخص نے ایک شخص مثلاً آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور کوئی واجب آپ سے بھولے سے رہ گیا اور آپ نے ارادہ کیا کہ آخر میں میں سجدۂ سہو کروں گا۔ آخر میں آپ بھول گئے، آپ سلام پھیر کر بیٹھ گئے۔ تو جب تک آپ قبلہ رخ بیٹھے ہیں اور آپ کا سینہ قبلے سے نہیں پھیرا اور نماز کے منافی یعنی کوئی عمل نہیں کیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کسی سے کلام وغیرہ نہیں کیا، نماز کے منافی کوئی کوئی چیز آپ نے کھائی پی نہیں اور اسی طرح سلام کے بعد قبلہ رخ بیٹھے ہوئے ہیں، بے شک آپ نے اور ذکر بھی شروع کر دیا، درود شریف پڑھتے جا رہے ہیں یا ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ“، ”سُبْحَانَ اللهِ“، ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ وغیرہ پڑھتے جا رہے ہیں اور دس پندرہ منٹ گزر گئے آپ اسی ذکر کے اندر مشغول ہیں، لیکن نماز کے منافی کوئی عمل ابھی تک آپ نے نہیں کیا اور آپ کا سینہ بھی قبلے سے نہیں پھیرا، تو اب پھر اچانک آپ کو یاد آیا اوہو! نماز کے اندر تو میرے مجھ سے بھول ہوئی تھی، میرے ذمے سہو کے دو سجدے تھے، تو پھر آپ اسی وقت کیا کر سکتے ہیں؟ سہو کے دو سجدے کر سکتے ہیں، کیونکہ ابھی تک آپ نے نماز کے منافی کوئی عمل نہیں کیا۔ لیکن اگر نماز کے منافی عمل کر لیا ہے تو بس پھر اب سہو کے سجدوں سے وہ وہ درست نہیں ہوگی، اب پھر نماز کا اعادہ کرنا پڑے گا، نماز پھر لوٹانا پڑے گی بھئی۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ جی۔ اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ بَابُ سُجُودِ السَّهْوِ۔ یہ باب ہے سہو کے سجدے کے بیان میں۔ يَسْجُدُ لِلسَّهْوِ فِي الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ السَّلَامِ، ثُمَّ يَتَشَهَّدُ، ثُمَّ يُسَلِّمُ۔ سجدہ کرے سہو کا زیادتی کی صورت میں بھی اور کمی کی نماز میں کوئی زیادتی کر دے، مثلاً دو کے بجائے تین سجدے کر دیے، ایک رکوع کے بجائے دو رکوع کر دیے، تو یہ زیادتی کر دی اس صورت میں بھی سہو کے سجدے کریں گے سہو کا سجدہ کریں گے، وَالنُّقْصَانِ اور کمی کر دی مثلاً کوئی واجب چھوٹ گیا۔ تو کہتے ہیں: يَسْجُدُ لِلسَّهْوِ فِي الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ سَجْدَتَيْنِ اور سہو کا سجدہ کرے زیادتی اور کمی کی صورت میں سَجْدَتَيْنِ دو سجدے نماز پڑھنے والا، بَعْدَ السَّلَامِ کس کے بعد؟ سلام کے بعد، ثُمَّ يَتَشَهَّدُ پھر تشہد پڑھے، ثُمَّ يُسَلِّمُ پھر سلام پھیر دے۔ وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى يَسْجُدُ قَبْلَ السَّلَامِ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سجدہ کرے قَبْلَ السَّلَامِ سلام سے پہلے۔ ہمارے نزدیک سلام کے بعد اور ان کے نزدیک سلام سے پہلے۔ دلیل ان کی، وہ فرماتے ہیں: لِمَا رُوِيَ بوجہ اس حدیث کے جو روایت کی گئی ہے، أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَجَدَ لِلسَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ فرمایا سہو کا قَبْلَ السَّلَامِ سلام سے پہلے، یہ حدیث میں آیا ہے۔ تو معلوم ہوا سلام سے پہلے ہوں گے۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل تھی۔ وَلَنَا اور ہماری دلیل، قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حضور علیہ السلام کا قول ہے: ”لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ“ ہر بھول کے جو ہیں ہر غلطی کے جو ہیں سَجْدَتَانِ دو سجدے ہیں، بَعْدَ السَّلَامِ کس کے بعد؟ سلام کے بعد۔ نیز دوسری حدیث ہے: وَرُوِيَ اور روایت کیا گیا ہے، أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ کہ حضور علیہ السلام نے سجدہ فرمایا سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، اصل میں تھا سَجْدَتَيْنِ السَّهْوِ نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ حضور علیہ السلام نے سجدہ فرمایا سہو کے دو سجدے، بَعْدَ السَّلَامِ کس کے بعد؟ سلام کے بعد بھئی۔ تو دیکھیے امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل وہ صرف فعلی حدیث ہے۔ اس میں حضور علیہ السلام کا فعل نقل کیا گیا کہ حضور علیہ السلام نے سہو کے سجدے سلام سے پہلے فرمائے۔ تو دیکھو فعل ذکر ہے حضور علیہ السلام کا، قول ذکر نہیں۔ جبکہ ہمارے پاس دو حدیثیں ہیں۔ ایک حدیث کون سی؟ حضور علیہ السلام کا قول ہے، حضور علیہ السلام باقاعدہ خود فرما رہے ہیں اپنی زبانِ مبارک سے کہ سہو کے دو سجدے ہیں بَعْدَ السَّلَامِ، کس کے بعد؟ سلام کے بعد۔ اور نیز دوسری حدیث کہ حضور علیہ السلام نے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے فرمائے۔ تو ہماری حدیث قولی بھی ہے اور فعلی۔ ایک میں قول ذکر ہے حضور علیہ السلام کا، ایک میں حضور علیہ السلام کا فعل ذکر ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: فَتَعَارَضَتْ رِوَايَتَا فِعْلِهِ، رِوَايَتَا اصل میں تھا رِوَايَتَانِ فِعْلِهِ، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: فَتَعَارَضَتْ رِوَايَتَا فِعْلِهِ حضور علیہ السلام کے فعل کی دو روایتیں جو ہیں فَتَعَارَضَتْ ان میں باہم کیا آ گیا؟ تعارض آ گیا، مقابلہ آ گیا۔ ایک حضور ایک حدیث سے کیا معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام نے کس طرح کیے سہو کے سجدے؟ سلام سے پہلے۔ اور دوسری روایت سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام نے سہو کے سجدے کیے سلام کے بعد۔ تو دونوں روایتوں میں تعارض آ گیا، وَإِذَا تَعَارَضَا تَسَاقَطَا، تو جب تعارض آیا تو دونوں ساقط ہو گئیں۔ دونوں حدیث کیا ہوئیں؟ ساقط ہو گئیں۔ اب صرف قولی حدیث باقی رہ گئی، اس کے مقابل کوئی اور حدیث نہیں۔ اور اس میں تو کیا آیا تھا کہ حضور علیہ السلام خود فرما رہے ہیں کہ سہو کے دو سجدے ہیں سلام کے بعد۔ تو اس سے استدلال کیا جائے گا اور وہ ہماری مؤید ہے وہ حدیث، وہ کیا بتلا رہی ہے کہ سہو کے سجدے کب ہوں گے؟ سلام کے بعد ہوں گے، جیسے کہ احناف کا مذہب ہے۔ فَتَعَارَضَتْ رِوَايَتَا فِعْلِهِ تو باہم متعارض ہو گئیں حضور علیہ السلام کے فعل کی دونوں روایتیں، فَبَقِيَ التَّمَسُّكُ بِقَوْلِهِ سَالِمًا، تمسک کا معنی استدلال کرنا، دلیل پکڑنا۔ پس باقی رہا دلیل پکڑنا حضور علیہ السلام کے قول کے ساتھ سَالِمًا سالم ہو کر۔ وہ سالم ہو کر حضور علیہ السلام کے قول سے استدلال کرنا سالم ہو کر باقی رہ گیا، یعنی اس کے معارض اور مقابل کوئی حدیث نہیں۔ وَلِأَنَّ، جی پہلے نقلی دلیل ذکر کر دی، اب صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہ عقل بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ سہو کے سجدے سلام کے بعد ہونے چاہییں۔ عقلی دلیل یہ ہے کہ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ بھئی دیکھیے سجدۂ سہو جو ہے اس میں تکرار نہیں۔ اس میں تکرار نہیں، سہو کے دو ہی سجدے ہیں ایک ہی دفعہ کیے جائیں گے، بار بار ان کو نہیں کیا جائے گا۔ تو ان کو سلام کے بعد ہی ہونا چاہیے تاکہ اگر سلام تک بھی کوئی غلطی ہو جائے، سلام میں بھی تاخیر ہو جائے، مثلاً ایک آدمی ہے اور اب آخری قعدے کے اندر سلام کا وقت آ گیا لیکن وہ سوچ میں پڑ گیا کہ میں نے پتہ نہیں تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار رکعتیں، اور اس میں کم از کم وہ اس نے تاخیر کر دی تین سبحان اللہ کہنے کی مقدار۔ اتنی دیر تک وہ سوچتا ہی رہا، اور اتنی تاخیر ہو جائے تو آپ جانتے ہیں کہ اس صورت میں کیا آتا ہے؟ سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے۔ تو اگر اس نے پہلے ہی سجدۂ سہو کیا ہوا تو اب پھر کمی آ گئی نماز کے اندر نقصان آ گیا کہ اس نے سلام میں تاخیر کر دی، تو پھر سجدۂ سہو کا کیا کرنا پڑے گا؟ دوبارہ کرنا پڑیں گے، اور دوبارہ تو وہ مشروع ہیں ہی نہیں، سجدۂ سہو تو کتنی دفعہ کرنے ہیں؟ ایک ہی دفعہ وہ مشروع ہیں۔ تو اس طرح نماز کے اندر کمی رہ جائے گی اور اس کی تلافی کی کوئی صورت نہیں۔ لیکن اگر سجدۂ سہو کب ہوں؟ سلام کے بعد ہوں، تو اس صورت میں یہ جو کمی آئی اس کی بھی کیا ہو جائے گی؟ تلافی ہو جائے گی، کیونکہ نماز کے اندر چاہے ایک واجب بھولے سے رہ جائے، چاہے ایک سے زیادہ واجب بھولے سے رہ جائیں ایک ہی سجدۂ سہو کرنا پڑے گا اور یعنی دو سجدے اکٹھے اور اس سے ان سب کی کیا ہو جائے گی؟ تلافی ہو جائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو عقل بھی کیا کرتی تائید کرتی ہے کہ سہو کے سجدوں کو کب ہونا چاہیے؟ سلام کے بعد۔ وَلِأَنَّ سُجُودَ السَّهْوِ مِمَّا لَا يَتَكَرَّرُ اور اس لیے کیونکہ سہو کا جو سجدہ ہے ان چیزوں میں سے ہے جس میں تکرار نہیں ہے، فَيُؤَخَّرُ عَنِ السَّلَامِ تو اس کو مؤخر کیا جائے گا سلام سے، حَتَّى لَوْ سَهَا عَنِ السَّلَامِ یہاں تک کہ اگر اس سے سہو ہو گیا سلام سے، یعنی سلام میں سہو ہو گیا یعنی اس میں دیر تاخیر وغیرہ ہو گئی، يَنْجَبِرُ بِهِ تو اس سے اس کی تلافی ہو جائے گی۔ وَهٰذَا الْخِلَافُ فِي الْأَوْلَوِيَّةِ اور یہ جو اختلاف ہے احناف اور شوافع کا، یہ اولیٰ ہونے میں ہے۔ کس چیز میں ہے؟ اولیٰ۔ ان کے نزدیک امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اولیٰ اور بہتر کیا ہے؟ سجدۂ سہو سلام سے پہلے۔ اور ہمارے نزدیک اولیٰ اور بہتر یہ ہے کہ سجدۂ سہو سلام کے بعد ہونا چاہیے، باقی جواز اور عدمِ جواز کا اختلاف نہیں۔ ہمارے نزدیک بھی اگر سلام سے پہلے کر دے گا تو جائز ہو جائیں گے، لیکن اولیٰ کیا ہے؟ سلام کے بعد کرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی اولیٰ یہ ہے کہ سلام سے پہلے کرے، لیکن اگر سلام کے بعد بھی کر لے گا تو بھی جائز ہے۔ تو یہ اختلاف جو ہے فِي الْأَوْلَوِيَّةِ اولیٰ ہونے میں ہے۔ وَيَأْتِي بِتَسْلِيمَتَيْنِ، اچھا بھئی سجدۂ سہو سے پہلے سلام کیا جائے گا، کیونکہ سجدۂ سہو کس کے بعد ہے؟ سلام کے بعد۔ تو اب اس سلام میں ایک طرف صرف دائیں طرف سلام پھیرا جائے گا یا دونوں طرف سلام پھیرا جائے گا اور پھر سہو کے سجدے کیے جائیں گے؟ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَيَأْتِي بِتَسْلِيمَتَيْنِ اور دو سلام لے کر آئے، یعنی دو سلام کرے، هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے، صَرْفًا لِلسَّلَامِ الْمَذْكُورِ إِلَى مَا هُوَ الْمَعْهُودُ تاکہ پھیرا جائے اس سلام کو جو ذکر کیا گیا حدیث کے اندر إِلَى مَا هُوَ الْمَعْهُودُ اس سلام کی طرف جو معلوم ہے، متعین ہے۔ اور معلوم سلام کیا ہے نماز کے آخر میں ایک طرف یا دونوں طرف؟ نماز کے آخر میں دونوں طرف سلام پھیرا جاتا ہے، تو وہ جو معلوم سلام ہے، اس حدیث میں جو سلام کا لفظ آیا اس سلام کو اس کی طرف پھیر دیں گے اور وہ مراد ہوگا اس سے۔ اور وہ تو ایک طرف ہے یا دو طرف؟ دو طرف۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی سہو کے سجدوں سے پہلے دونوں طرف سلام پھیرا جائے گا، کیا کیا جائے گا؟ دونوں طرف سلام پھیرا جائے گا اور پھر سہو کے سجدے کیے جائیں گے۔ عبارت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو صاحبِ ہدایہ نے اس قول کو ترجیح دی کہ سہو کے سجدوں سے پہلے دونوں طرف سلام پھیرا جائے اور پھر سجدے کیے جائیں، جبکہ اور کئی فقہاء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ صرف دائیں طرف سلام پھیرا جائے گا اور پھر کیا کیا جائے گا؟ سہو کے دو سجدے کیے جائیں گے، اور انہی کے قول پر آپ دیکھتے ہیں عمل جاری ہے بھئی۔ معلوم ہوا اس قول کو فقہاء نے راجح قرار دیا ہے، تو بہرحال صاحبِ ہدایہ نے اس قول کو راجح قرار دیا اور اس کو صحیح کہا۔ جی تو کہتے ہیں: وَيَأْتِي بِتَسْلِيمَتَيْنِ، هُوَ الصَّحِيحُ اور لے کر آئے دو سلام، یعنی دو سلام کرے هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے، صَرْفًا لِلسَّلَامِ الْمَذْكُورِ إِلَى مَا هُوَ الْمَعْهُودُ تاکہ پھیرا جائے اس سلام کو جو ذکر کیا گیا اس سلام کی طرف جو متعین ہے معلوم ہے۔ وَيَأْتِي بِالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَالدُّعَاءِ اور لے کر آئے یعنی درود کو حضور علیہ السلام پر وَالدُّعَاءِ اور دعا کو، فِي قَعْدَةِ السَّهْوِ کس کے اندر؟ سہو کے قعدے میں، یعنی سہو کے دو سجدوں کے بعد جو قعدہ کیا ہے جو بیٹھا ہے اس میں درود بھی پڑھے اور دعا بھی پڑھے، هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے، لِأَنَّ الدُّعَاءَ مَوْضِعُهُ آخِرُ الصَّلَاةِ اس لیے کیونکہ دعا جو ہے اس کا مقام نماز کا آخر ہے، اور اب نماز کا آخر آیا، سہو کے جو سجدے کر لیے تو اب نماز کا آخر آیا، تو اب درود پڑھے کیونکہ درود بھی حضور علیہ السلام کے لیے دعا ہے اور اپنے لیے بھی پھر کیا کر لے؟ دعا کر لے، کیونکہ دعا کا مقام آخرِ صلاۃ ہے۔ قَالَ: وَيَلْزَمُهُ السَّهْوُ إِذَا زَادَ فِي صَلَاتِهِ فِعْلًا مِنْ جِنْسِهَا لَيْسَ مِنْهَا۔ اور لازم ہو جائے گا اس پر نماز پڑھنے والے پر سہو، یعنی سہو کا سجدہ، إِذَا زَادَ فِي صَلَاتِهِ جب وہ زیادتی کر دے یعنی بڑھا دے اپنی نماز میں، فِعْلًا کوئی ایسا فعل، مِنْ جِنْسِهَا جو اس نماز کی جنس میں سے ہو، لَيْسَ مِنْهَا لیکن نماز میں سے نہ ہو۔ نماز کے افعال کی جنس میں سے تو ہے لیکن نماز میں سے نہیں۔ نماز کے افعال کی جنس میں سے ہو لیکن نماز میں سے نہ ہو، مثلاً دو کے بجائے کتنے سجدے کر دیے؟ تین سجدے کر دیے، اب یہ تیسرا سجدہ جو ہے یہ نماز کے افعال کی جنس میں سے ہے، نماز میں بھی کیا کیے جاتے ہیں؟ سجدے تو کیے جاتے ہیں، لیکن یہ والا سجدہ نماز میں سے نہیں ہے کیونکہ دو سجدے کیے جاتے ہیں تیسرا نہیں، تو یہ نماز کی جنس میں سے تو ہے لیکن نماز میں نہیں ہے، تو اس قسم کی اگر زیادتی کر دی تو سجدۂ سہو واجب ہوگا۔ وَهٰذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ سَجْدَةَ السَّهْوِ وَاجِبَةٌ اور یہ عبارت جو ہے صاحبِ قدوری کا یہ قول کون سا؟ وَيَلْزَمُهُ، اور اس پر سہو لازم ہے، یعنی سہو کے سجدے لازم ہیں۔ دیکھو یہ لازم کا لفظ جو ہے دلالت کر رہا ہے عَلَى أَنَّ سَجْدَةَ السَّهْوِ وَاجِبَةٌ کہ سہو کا سجدہ واجب ہے، وَهُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے، لِأَنَّهَا تَجِبُ لِجَبْرِ نُقْصَانٍ تَمَكَّنَ فِي الْعِبَادَةِ فَتَكُونُ وَاجِبَةً۔ لِأَنَّهَا تَجِبُ، بھئی یہاں تَجِبُ کا معنی تَثْبُتُ کے کرنا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے کیونکہ یہ واجب ہونے کی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کس چیز کی دلیل؟ کہ یہ سجدۂ سہو واجب ہیں، واجب ہیں۔ تو لہٰذا جب دلیل ذکر کر رہے ہیں تو یہاں تَجِبُ کے معنی واجب اگر یہ ترجمہ کریں: لِأَنَّهَا تَجِبُ اس لیے کیونکہ سہو کے سجدے واجب ہوتے ہیں، بھئی واجب ہونے کی تو دلیل ذکر کی جا رہی ہے، تو واجب ہونے پہلے یہ تو ہمیں بتائیں کہ یہ واجب ہیں بھی یا واجب نہیں، تو لہٰذا یہاں واجب کا معنی واجب کے نہ کریں بلکہ کیا معنی کریں؟ تَجِبُ أَيْ تَثْبُتُ، ثابت ہونے کے معنی میں کریں اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ وَجَبَ يَجِبُ، ثَبَتَ کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے بھئی۔ لِأَنَّهَا تَجِبُ اس لیے کیونکہ یہ سجدہ جو ہے یہ ثابت ہوتا ہے، لِجَبْرِ نُقْصَانٍ تَمَكَّنَ، بھئی نُقْصَانٍ نکرہ آیا اور تَمَكَّنَ یہ فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت عموماً بنتا ہے اور اس صورت میں موصوف سے پہلے کیا لفظ لاتے ہیں؟ ایسا یا ایسی۔ اب ترجمہ سنیے: لِأَنَّهَا تَجِبُ اس لیے کیونکہ سہو کا سجدہ جو ہے یہ ثابت ہوتا ہے، لِجَبْرِ نُقْصَانٍ ایسے نقصان کی تلافی کے لیے، تَمَكَّنَ فِي الْعِبَادَةِ جو آ گیا ہے کس کے اندر؟ عبادت میں۔ ایک ایسا نقصان جو عبادت کے اندر آ گیا ہے اس کی تلافی کے لیے یہ ثابت ہوتا ہے، فَتَكُونُ وَاجِبَةً تو یہ کیا ہوگا؟ واجب ہوگا، كَالدِّمَاءِ فِي الْحَجِّ جیسے کہ دم ہیں، قربانیاں ہیں فِي الْحَجِّ کس کے اندر؟ حج کے اندر۔ بھئی آپ نے اگر کتاب الحج کے اندر احکام آپ کو یاد ہوں، آپ نے پڑھے ہوں گذشتہ کتابوں کے اندر، آپ نے پڑھا ہوگا وہاں کہ حج کے اندر بعض چیزیں واجب ہیں اور واجب اگر کوئی رہ جائے تو اس اس صورت میں حاجی پر دم یعنی قربانی واجب ہوتی ہے، اس کو ایک جانور کی قربانی کرنا پڑے گی پھر ہی اس کی تلافی اس غلطی اور کی کیا ہوگی؟ تلافی ہوگی بھئی۔ تو جیسے حج کے اندر قربانیاں نقصان کی تلافی کے لیے آتی ہیں اور وہ کیا ہوتی ہیں؟ واجب ہوتی ہیں، تو یہاں پر بھی عبادت کے اندر کیا آ گیا؟ نقصان اور کمی آ گئی تو اس کی وجہ سے سہو کے جو سجدے ہوں گے وہ بھی کیا ہوں گے؟ واجب ہوں گے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے كَالدِّمَاءِ فِي الْحَجِّ، جیسے کہ قربانیاں ہیں حج کے اندر۔ وَإِذَا كَانَ وَاجِبًا لَا يَجِبُ إِلَّا بِتَرْكِ وَاجِبٍ اور جب یہ سہو کا سجدہ واجب ہے لَا يَجِبُ تو پھر یہ واجب بھی نہیں ہوگا إِلَّا بِتَرْكِ وَاجِبٍ مگر کسی واجب کو چھوڑنے سے ہی، أَوْ تَأْخِيرِهِ یا واجب کو مؤخر کرنے سے، أَوْ تَأْخِيرِ رُكْنٍ یا کسی رکن کو مؤخر کرنے سے، سَاهِيًا بھولے سے، هٰذَا هُوَ الْأَصْلُ یہی ضابطہ ہے، یہی اصل ہے۔ جب یہ واجب ہے، سجدۂ سہو کیا ہے؟ واجب۔ تو یہ کسی واجب کے چھوٹنے پر ہی آنا چاہیے، سنت کے چھوٹنے پر نہیں بھئی، کیونکہ واجب کا درجہ سنت سے بڑھ کر ہے بھئی۔ تو وَإِذَا كَانَ وَاجِبًا جب یہ واجب ہے تو لَا يَجِبُ تو یہ واجب بھی نہیں ہوگا إِلَّا بِتَرْكِ وَاجِبٍ مگر کسی واجب کو چھوڑنے سے ہی، أَوْ تَأْخِيرِهِ یا واجب کے اندر تاخیر اس کو مؤخر کرنے سے، أَوْ تَأْخِيرِ رُكْنٍ یا کسی رکن کو مؤخر کرنے سے، سَاهِيًا بھولے سے، هٰذَا هُوَ الْأَصْلُ یہی اصل ہے۔ معلوم ہوا کوئی واجب اگر چھوٹ گیا یا واجب میں تاخیر کر دی، اپنے محل سے اس کو مؤخر کر دیا، یا کسی رکن کو یعنی فرض کو کیا کر دیا؟ مؤخر کر دیا۔ ان سب صورتوں کے اندر کیا واجب ہوگا؟ سجدۂ سہو واجب ہوگا۔ کوئی واجب چھوٹ گیا اس کی مثال: مثلاً نماز میں درمیان والا قعدہ کیا ہے؟ واجب۔ دو رکعت کے بعد جو قعدہ تھا وہ واجب، کوئی بھولے سے وہ قعدہ کرنے کے بجائے سیدھا کھڑا ہو گیا تو اب وہ واجب رہ گیا تو اب سجدۂ سہو واجب ہوگا۔ اسی طرح اگر واجب کے اندر تاخیر آ جائے وہ مؤخر ہو جائے مؤخر کر دے اس کو، مثلاً سلام کے اندر کیا کر دی؟ تاخیر کر دی، تین سبحان اللہ کہنے کی مقدار تک وہ سوچ میں ہی پڑا رہا تو سلام تو واجب تھا تو واجب میں کیا آ گئی؟ تاخیر، تو اس صورت میں بھی سہو کے سجدے واجب ہوں گے۔ اسی طرح رکن کے اندر تاخیر کر دی، مثلاً دو دو سجدوں کے بجائے تین سجدے کر دیے تو تیسرا سجدہ جب کیا تو دو سجدوں کے بعد تو قیام چاہیے تھا، تو اس صورت میں کیا آیا؟ قیام میں تاخیر آ گئی، لہٰذا اس وجہ سے بھی کیا ہوگا؟ سجدۂ سہو واجب ہوگا۔ هٰذَا هُوَ الْأَصْلُ یہی ضابطہ ہے۔ وَإِنَّمَا وَجَبَتْ بِالزِّيَادَةِ، یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ ٹھیک ہے کوئی واجب بھولے سے رہ گیا اس صورت میں تو سجدۂ سہو واجب ہونا چاہیے، کیونکہ نماز میں کمی آ گئی۔ لیکن اگر کچھ زیادتی کر دی مثلاً دو کے بجائے تین سجدے کر دیے یا دو ایک رکوع کے بجائے دو رکوع کر دیے تو اس زیادتی کی صورت میں کیوں سجدۂ سہو واجب ہوگا؟ تو اس کا جواب ذکر کر رہے ہیں: وَإِنَّمَا وَجَبَتْ بِالزِّيَادَةِ اور زیادتی کی وجہ سے بھی سجدۂ سہو واجب ہوگا، لِأَنَّهَا لَا تَعْرَى عَنْ تَأْخِيرِ رُكْنٍ أَوْ تَرْكِ وَاجِبٍ، عَرِيَ يَعْرَى کے معنی خالی ہونا، اس لیے کیونکہ یہ جو زیادتی جو ہے یہ بھی خالی نہیں ہے عَنْ تَأْخِيرِ رُكْنٍ کسی رکن کے مؤخر کرنے سے، أَوْ تَرْكِ وَاجِبٍ یا واجب کو چھوڑنے سے۔ اس لیے کیونکہ جب کوئی کسی عمل کو زیادہ کرے گا نماز کے اندر مثلاً دو کے بجائے کیا کر دیے؟ تین، تو اس صورت میں بھی کسی واجب کے اندر یا تو واجب کے اندر تاخیر آ جائے گی یا کسی فرض کے اندر، رکن کے اندر کیا آ جائے گی؟ تاخیر آ جائے گی، تو لہٰذا اس صورت میں بھی سجدۂ سہو واجب ہوگا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سجدۂ سہو کب واجب ہوگا؟ جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے یا اس میں اس کو کیا کر دے؟ مؤخر کر، ضابطہ بھئی وہ ضابطے پہ نظر رکھیں، کسی واجب کو چھوڑ دے یا واجب کو کیا کر دے؟ مؤخر کر دے، یا کسی رکن کو مؤخر کر دے بھولے سے، سمجھ میں آیا بھئی؟ دیکھو سَاهِيًا کی قید لگائی، بھولے سے، جان بوجھ کر نہیں، جان بوجھ کر کرے گا تو پھر نماز ہی نہیں ہوگی، دوبارہ نماز پڑھنا پڑے گی بھئی۔ قَالَ: وَيَلْزَمُهُ إِذَا تَرَكَ فِعْلًا مَسْنُونًا، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ سجدۂ سہو اس نماز پڑھنے والے پر لازم ہوگا إِذَا تَرَكَ فِعْلًا مَسْنُونًا جب وہ کسی مسنون فعل کو چھوڑ دے، کس کو چھوڑ دے؟ مسنون فعل کو، کسی سنت فعل کو چھوڑ دے تو سجدۂ سہو اس نماز پڑھنے والے پر لازم ہوگا۔ اس پر فوراً اشکال آپ کے ذہن میں آئے گا کہ سجدۂ سہو سنت کے چھوڑنے پر تو نہیں آتا بلکہ کس پر آتا ہے؟ واجب کے چھوڑنے پر آتا ہے، تو اسی کا اشکال اسی اشکال کا جواب آگے صاحبِ ہدایہ دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں: كَأَنَّهُ أَرَادَ بِهِ فِعْلًا وَاجِبًا گویا کہ صاحبِ قدوری نے اس فعلِ مسنون کے ذریعے کس کا ارادہ کیا؟ فِعْلًا وَاجِبًا فعلِ واجب کا۔ تو پھر اس کو مسنون کیوں کہا؟ اس کا بھی جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: إِلَّا أَنَّهُ أَرَادَ بِتَسْمِيَتِهِ سُنَّةً مگر صاحبِ قدوری نے ارادہ کیا اس کا نام سنت رکھنے سے، کس چیز کا ارادہ کیا؟ أَنَّ وُجُوبَهَا بِالسُّنَّةِ کہ اس کا وجوب کس سے ثابت ہے؟ سنت سے ثابت ہے بھئی۔ چاہے کوئی سنت ہے، چاہے واجب ہے، چاہے فرض ہے ان سب کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ سنت سے، کیونکہ ان سب کو حضور علیہ السلام نے ادا فرمایا ہے۔ واجب کا پتہ بھی سنت سے چلا اس لیے اس کو مسنون قرار دیا بھئی، مسنون اس کا نام رکھا۔ قَالَ: أَوْ تَرَكَ قِرَاءَةَ الْفَاتِحَةِ لِأَنَّهَا وَاجِبَةٌ أَوِ الْقُنُوتَ أَوِ التَّشَهُّدَ أَوْ تَكْبِيرَاتِ الْعِيدَيْنِ۔ یا چھوڑ دیا نماز پڑھنے والے نے قِرَاءَةَ الْفَاتِحَةِ فاتحہ کی قرات کو، لِأَنَّهَا وَاجِبَةٌ اس کیونکہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے۔ آپ پڑھ چکے کہ قرات تو نماز کے اندر فرض ہے، لیکن خاص طور پر فاتحہ کا پڑھنا یہ واجب ہے۔ اسی طرح فاتحہ کے ساتھ پھر سورت کا ملانا یا ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتوں کا ملانا یہ بھی واجب، اور نیز ان کے اندر جو ترتیب ہے کہ پہلے فاتحہ ہونی چاہیے پھر سورت وغیرہ ہونی چاہیے یہ بھی کیا ہے؟ واجب ہے۔ لِأَنَّهَا وَاجِبَةٌ اس لیے کیونکہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے، أَوِ الْقُنُوتَ أَيْ تَرَكَ الْقُنُوتَ یا کس کو چھوڑ دیا؟ دعائے قنوت کو چھوڑ دیا، أَوِ التَّشَهُّدَ یا تشہد کو چھوڑ دیا، أَوْ تَكْبِيرَاتِ الْعِيدَيْنِ یا عید کی دونوں جو عیدیں ہیں ان کی تکبیرات کو چھوڑ دیا، تو ان صورتوں میں بھی سجدۂ سہو لازم ہوگا۔ لِأَنَّهَا وَاجِبَاتٌ اس لیے کیونکہ یہ سب چیزیں واجب ہیں، فَإِنَّهُ عَلَيْهِ، دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ ان کے واجب ہونے کی کیا دلیل ہے؟ کہتے ہیں: فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهَا مِنْ غَيْرِ تَرْكِهَا مَرَّةً، فَإِنَّهَا ”فَ“ آیا بھئی، یہ جگہ جگہ اس طرح کی عبارت آتی ہے اور آپ نے پڑھا ہے نور الانوار، اصول الشاشی وغیرہ میں کہ ”فَ“ کبھی علت بیان کرنے کے لیے آتی ہے، تو اس کے ما بعد کیا ذکر ہوتی ہے؟ علت اور دلیل ذکر ہوتی ہے اور اس ”فَ“ کا ترجمہ کس کے ساتھ کریں گے؟ کیونکہ کیونکہ، یہ ترجمہ یا اس وجہ سے اس وجہ سے، جو بھی آپ ترجمہ کرنا چاہیں۔ لِأَنَّهَا وَاجِبَاتٌ کیونکہ یہ واجبات ہیں، فَإِنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ کیونکہ حضور علیہ السلام جو ہیں وَاظَبَ عَلَيْهَا حضور علیہ السلام نے ان پر پابندی فرمائی ہے مِنْ غَيْرِ تَرْكِهَا مَرَّةً بغیر اس کو ایک مرتبہ بھی چھوڑے، ایسی پابندی فرمائی ہے کہ کبھی ان کو ایک مرتبہ بھی نہیں چھوڑا، معلوم ہوا یہ واجب ہیں۔ اور جو سنت ہے اس میں کبھی کبھار حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا ہوتا ہے؟ کبھی ترک بھی فرما دیتے ہیں اگرچہ بہت قلیل ہی کیوں نہ ہو، عام معمول تو ہوتا ہے اس پر عمل فرماتے ہیں، لیکن بعض اوقات یہ بتلانے کے لیے کہ یہ واجب نہیں ہے حضور علیہ السلام اس کو ترک بھی فرما دیتے۔ تو کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے ان پر پابندی فرمائی پابندی فرمائی ہے مِنْ غَيْرِ تَرْكِهَا مَرَّةً بغیر اس کو چھوڑے ایک مرتبہ، وَهِيَ أَمَارَةُ الْوُجُوبِ اور یہ واجب ہونے کی علامت ہے، امارت کا معنی علامت، اور یہ واجب ہونے کی علامت ہے۔ یہ پہلی دلیل۔ پہلی دلیل کیا ان کے واجب ہونے کی؟ کیونکہ حضور علیہ السلام نے ان پر پابندی فرمائی ہے اور کبھی ان کو چھوڑا نہیں، یہ واجب ہونے کی علامت۔ دوسری دلیل: وَلِأَنَّهَا تُضَافُ إِلَى جَمِيعِ الصَّلَاةِ اور اس لیے کیونکہ ان کی نسبت کی جاتی ہے پوری نماز کی طرف، فَدَلَّ أَنَّهَا مِنْ خَصَائِصِهَا، ان کی نسبت کی جاتی ہے پوری نماز کی طرف، چنانچہ کہتے ہیں قُنُوتُ الْوِتْرِ بھئی، قُنُوتُ الْوِتْرِ وتر کی قنوت، یا یوں کہتے ہیں تَشَهُّدُ الصَّلَاةِ نماز کا تشہد، نماز کی طرف دیکھو اضافت کی گئی، اضافت کی جاتی ہے۔ قُنُوتُ الْوِتْرِ، کس کی طرف اضافت کی گئی؟ وتروں کی طرف قنوت کی اضافت کی گئی۔ تَشَهُّدُ الصَّلَاةِ، صلاۃ کی طرف تشہد کی اضافت کی گئی۔ تَكْبِيرَاتُ الْعِيدَيْنِ، دیکھو عید کی نماز کی طرف تکبیر کی اضافت کی گئی۔ لِأَنَّهَا تُضَافُ إِلَى جَمِيعِ الصَّلَاةِ اس لیے کیونکہ ان کی اضافت کی جاتی ہے پوری نماز کی طرف، فَدَلَّ أَنَّهَا مِنْ خَصَائِصِهَا تو یہ دلالت کرتا ہے اس بات پر کہ یہ نماز کے خصائص خصوصیات میں سے ہے، وَذٰلِكَ بِالْوُجُوبِ اور یہ جو اختصاص ہے یہ کس وجہ سے ہوتا ہے؟ وجوب کی وجہ سے ہی ہوتا ہے تو معلوم ہوا یہ چیزیں واجب ہیں۔ ان کی نماز کی طرف اضافت کی جاتی ہے، معلوم ہوا ان کا نماز کے ساتھ اختصاص ہے اور اختصاص کس کی وجہ سے ہوتا ہے؟ وجوب کے ساتھ ہی ہوتا ہے بھئی، وجوب کے ساتھ۔ ثُمَّ ذِكْرُ التَّشَهُّدِ يَحْتَمِلُ الْقَعْدَةَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةَ وَالْقِرَاءَةَ فِيهِمَا، جی اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ أَوِ التَّشَهُّدَ، صاحبِ قدوری نے تشہد ذکر کیا کہ جس نے تشہد کو چھوڑ دیا تو اس پر بھی کیا لازم ہے؟ سجدۂ سہو۔ اب تشہد سے کیا مراد ہے؟ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: يَحْتَمِلُ الْقَعْدَةَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةَ، بھئی تشہد دیکھیے بھئی، تشہد قعدۂ اولیٰ اس کو بھی کہتے ہیں، اس پر بھی تشہد کا لفظ بولا جاتا ہے، قعدۂ ثانیہ پر جو ہے اس پر بھی تشہد۔ وہ جو بیٹھنا ہے بیٹھنا صرف، اس بیٹھنے پر بھی تشہد کا لفظ بولا جاتا ہے اور اس بیٹھنے کی صورت میں جو دعا وغیرہ پڑھی جاتی ہے اس پر بھی کیا لفظ بولا جاتا ہے؟ تشہد کا۔ تو اس سے قعدۂ اولیٰ مراد ہے یا قعدۂ ثانیہ مراد ہے؟ قعدۂ اولیٰ میں جو پڑھا جاتا ہے وہ مراد ہے یا قعدۂ ثانیہ میں جو پڑھا جاتا ہے وہ مراد ہے؟ تو چار احتمال آ گئے، کتنے؟ چار۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: يَحْتَمِلُ الْقَعْدَةَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةَ وَالْقِرَاءَةَ فِيهِمَا یہ احتمال رکھتا ہے قعدۂ اولیٰ کا بھی اور قعدۂ ثانیہ کا بھی اور ان دونوں میں جو قرات کی جاتی جو پڑھا جاتا ہے اس کا بھی، ان چاروں کا اس میں احتمال ہے، وَكُلُّ ذٰلِكَ وَاجِبٌ اور یہ سب کیا ہیں؟ واجب ہیں، وَفِيهَا سَجْدَةُ السَّهْوِ اور ان میں سجدۂ سہو ہوگا، وَهُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ یہ سب کے سب واجب ہیں۔ آپ کے ذہن میں فوراً اشکال آئے گا، آیا یا نہیں آیا؟ کیا اشکال؟ کہ آخری قعدہ تو فرض ہے، صاحبِ ہدایہ نے اس کو کیسے واجب کہہ دیا بھئی؟ کیسے واجب کہہ؟ تو بعض علماء بعض فقہاء نے جواب دیا کہ یہاں صاحبِ ہدایہ سے تسامح ہوا ہے، بھول ہو گئی، بھولے سے یہ کہہ گئے۔ لیکن یہ بات دل مانتا ہی نہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے بھئی؟ آپ ایک ابھی طلباء ہیں آپ کے ذہن میں فوراً کیا آیا؟ کہ آخری قعدہ تو فرض ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے صاحبِ ہدایہ اتنی واضح چیز کے اندر غلطی ہو جائے ان سے بھئی؟ تو تو پھر اور علماء جواب دیتے ہیں، کہتے ہیں بھئی یہاں پر تخصیص ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہدایہ کی عبارات بڑی فصیح و بلیغ ہیں بھئی، صاحبِ ہدایہ بڑی فصیح و بلیغ عبارات لاتے ہیں اور چنانچہ یہاں پر بھی انہوں نے تخصیص کی ہے۔ تخصیص یہ ہے کہ چیزیں ساری ذکر ہوتی ہیں اور بعض کو اس حکم سے نکال دیے جاتے ہیں یعنی وہ مراد نہیں ہوتیں، وہ مراد نہیں ہوتیں، اور یہ کلامِ عرب کے اندر ہوتا رہتا ہے بھئی کہ ذکر کل کا کیا جاتا ہے اور مراد بعض ہوتی ہیں اور بعض کی تخصیص کر لی جاتی ہے، یعنی ان کو اس حکم سے نکال دیا۔ تو یہاں پر بھی چار چیزیں ہیں: قعدۂ اولیٰ بھی اور اس کے اندر جو پڑھا جاتا ہے وہ بھی، اور قعدۂ ثانیہ بھی اور اس کے اندر جو پڑھا جاتا ہے وہ بھی، لیکن ان میں سے کس کی تخصیص ہے؟ قعدۂ ثانیہ کی تخصیص ہے۔ تو قعدۂ اولیٰ بھی واجب، اس کے اندر جو پڑھا جاتا ہے وہ بھی واجب، قعدۂ ثانیہ کے اندر جو پڑھا جاتا ہے وہ بھی واجب، اور قعدۂ ثانیہ خود کیا ہے؟ وہ اس سے خارج ہے بھئی، تو یہاں کیا ہے؟ تخصیص ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور بعضوں نے اور جواب دیا، وہ فرماتے ہیں کہ بھئی دیکھیے قعدۂ ثانیہ جو ہے ایک اس کی اپنی ذات ہے، ذات کے اعتبار سے وہ فرض ہے، ذات کے توجہ ہے بھئی؟ ذات کے اعتبار سے وہ قعدہ فرض ہے اور ایک اس قعدے کا محل ہے۔ کس مقام پر یہ قعدہ کرنا ہے؟ اور کس مقام پر یہ قعدہ ہوتا ہے؟ آخری رکعت کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے، یہ جڑا ہونا یہ جو اس کا محل ہے یہ واجب ہے، یہ کیا ہے؟ چنانچہ آپ نے بھی پڑھا کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور چوتھی رکعت کے آخر میں وہ بیٹھنا بھول گیا، یہ بیٹھنا تو فرض تھا، وہ کھڑا ہو گیا پانچویں رکعت کے لیے۔ آپ نے پڑھا اگر پانچویں رکعت کا ابھی سجدہ نہیں کیا تو پانچویں رکعت کو چھوڑ کر پھر کیا کر دے؟ واپس آ جائے، بیٹھ جائے اور یہ آخری قعدہ کرے اور پھر کیا کرے؟ سہو کے سجدے کر لے، سہو کے سجدے۔ تو دیکھو جب واپس آیا وہ قعدہ ذات کے اعتبار سے پایا گیا، فرض تو ادا ہو گیا، لیکن اس کا محل کیا تھا؟ وہ آخری رکعت کے ساتھ اس کا اتصال ہونا چاہیے جڑا ہونا چاہیے تھا، وہ اتصال رہ گیا، وہ اتصال اسی لیے سجدۂ سہو کرنا پڑتا ہے وہاں پر۔ تو صاحبِ ہدایہ کی مراد یہاں وہ اتصال مراد ہے، قعدۂ اخیرہ کا آخری رکعت کے ساتھ اتصال جو ہے وہ کیا ہے؟ واجب ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے وَكُلُّ ذٰلِكَ وَاجِبٌ اور یہ سب واجب ہیں، وَفِيهَا سَجْدَةُ السَّهْوِ اور ان کے اندر سجدۂ سہو ہوگا، وَهُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے۔ وَلَوْ جَهَرَ الْإِمَامُ فِيمَا يُخَافَتُ أَوْ خَافَتَ فِيمَا يُجْهَرُ تَلْزَمُهُ سَجْدَتَا السَّهْوِ۔ اور اگر امام جہر کرے یعنی اونچی آواز سے قرات پڑھے فِيمَا يُخَافَتُ اس نماز میں جن میں اخفاء جن میں اخفاء کیا جاتا ہے یعنی آواز کو آہستہ رکھا جاتا ہے، پست رکھا جاتا ہے۔ خَافَتَ يُخَافِتُ کے معنی ہوتے ہیں آواز کو پست رکھنا، آہستہ، چپکے چپکے چیز کہنا پڑھنا بھئی۔ وَلَوْ جَهَرَ الْإِمَامُ اور اگر امام نے بلند آواز سے قرات کی جہر کیا فِيمَا يُخَافَتُ اس نماز میں جس میں آہستہ آواز سے قرات کی جاتی ہے یعنی اخفاء کیا جاتا ہے، أَوْ خَافَتَ فِيمَا يُجْهَرُ یا امام نے آہستہ آواز سے قرات کی یعنی اخفاء کیا فِيمَا يُجْهَرُ اس نماز میں جس کے اندر جہر کیا جاتا ہے، تَلْزَمُهُ سَجْدَتَا السَّهْوِ تو لازم ہوں گے اس پر سہو کے دو سجدے بھئی، لِأَنَّ الْجَهْرَ فِي مَوْضِعِهِ وَالْمُخَافَتَةَ فِي مَوْضِعِهَا مِنَ الْوَاجِبَاتِ اس لیے کیونکہ جہر فِي مَوْضِعِهِ اپنے مقام کے اندر وَالْمُخَافَتَةَ فِي مَوْضِعِهَا اور مخافتت اپنے مقام کے اندر مِنَ الْوَاجِبَاتِ یہ کس میں سے ہیں؟ واجبات میں سے ہیں بھئی۔ جہر کا جو مقام ہے وہاں جہر ہی کیا کرے گا امام اور مخافتت کا جو مقام ہے وہاں امام مخافتت ہی کرے گا، یہ واجب ہیں۔ وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ فِي الْمِقْدَارِ اور مختلف ہیں روایتیں مقدار کے بارے میں۔ بھئی دیکھیے مسئلہ یہ بتایا انہوں نے کہ اگر مخافتت والی نماز ہے یعنی جس میں آہستہ قرات کی جاتی ہے اس میں امام کیا کر لے؟ جہر کر لے، تو کیا کرنا پڑے گا؟ سجدۂ سہو۔ بھئی کتنا جہر کر لے؟ ایک دو لفظ، ایک آیت، دو آیتیں، تین آیتیں، کتنا جہر کر لے تو سجدۂ سہو واجب ہو جائے گا بھئی؟ اور دوسری طرف کیا ہے؟ جہری نماز تھی لیکن اس میں امام غلطی سے کیا کر لیتا ہے؟ اخفاء کر لیتا ہے، آہستہ آواز سے قرات کر لیتا ہے، تو کب سجدۂ سہو واجب ہوگا؟ ایک دو لفظ آہستہ آواز سے قرات کیے تھے ابھی کہ یاد آ گیا یا ایک آیت یا دو تین آیتیں؟ تو کتنی مقدار پر سجدۂ سہو واجب ہوگا بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ فِي الْمِقْدَارِ اور روایت مختلف ہے کس کے بارے میں؟ مقدار کے بارے میں، وَالْأَصَحُّ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے، قَدْرُ مَا تَجُوزُ بِهِ الصَّلَاةُ فِي الْفَصْلَيْنِ کہ اتنی مقدار جس سے نماز جائز ہو جاتی ہے فِي الْفَصْلَيْنِ دونوں فصلوں میں، دونوں صورتوں میں۔ یعنی اخفاء کیا اور کرنا کیا تھا؟ جہر، یا جہر کیا اور کرنا کیا تھا؟ اخفاء۔ ان دونوں صورتوں میں اتنی مقدار کے اندر سجدۂ سہو واجب ہوگا جس مقدار سے کیا ہو جاتی ہے؟ نماز واجب نماز کا فرض ادا ہو جاتا ہے، نماز جائز ہو جاتی ہے، اور وہ کتنی مقدار ہے؟ امام صاحب کے نزدیک ایک آیت اور صاحبین کے نزدیک تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت۔ یہ اگر وہ اتنی مقدار مقام تھا جہر کا اور وہ اخفاء کے ساتھ اس نے اتنا پڑھ لیا، یا مقام تھا اخفاء کا اور اتنی مقدار اس نے جہراً پڑھ لی تو اس صورت میں سجدۂ سہو واجب ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَالْأَصَحُّ قَدْرُ مَا تَجُوزُ بِهِ الصَّلَاةُ فِي الْفَصْلَيْنِ اور زیادہ صحیح جو ہے وہ مقدار ہے کہ جس سے نماز جائز ہو جاتی ہے فِي الْفَصْلَيْنِ دونوں صورتوں میں، لِأَنَّ الْيَسِيرَ مِنَ الْجَهْرِ وَالْإِخْفَاءِ لَا يُمْكِنُ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ اس لیے کیونکہ تھوڑا سا جو ہے جہر اور اخفاء میں سے ممکن نہیں ہے اس سے بچنا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ تھوڑی مقدار کے کرنا جہر تھا اور اخفاء کر دیا ایک دو لفظ پڑھ لیے یا تین لفظ پڑھ لیے تو اتنی مقدار سے تو بچنا ممکن نہیں ہے، ہاں اتنی مقدار جس سے نماز جائز ہو جاتی ہے یہ تو کثیر مقدار ہے اور اس سے بچنا ممکن ہے بھئی، لہٰذا اس اتنی مقدار سے بھی اگر وہ نہ بچا پھر سجدۂ سہو ہوگا واجب، اگر اس سے کم ہوئی تو پھر سجدۂ سہو واجب نہیں۔ یہ معنی ہے لِأَنَّ الْيَسِيرَ مِنَ الْجَهْرِ وَالْإِخْفَاءِ لَا يُمْكِنُ الِاحْتِرَازُ عَنْهُ اس لیے کیونکہ تھوڑا سا جہر اور اخفاء میں سے وہ کہ ممکن نہیں ہے اس سے بچنا، وَعَنِ الْكَثِيرِ مُمْكِنٌ اور کثیر سے بچنا ممکن ہے، وَمَا تَصِحُّ بِهِ الصَّلَاةُ كَثِيرٌ اور جس وہ مقدار جس سے نماز صحیح ہو جاتی ہے وہ کثیر مقدار ہے لہٰذا اس کا اعتبار کیا جائے گا، غَيْرَ أَنَّ ذٰلِكَ عِنْدَهُ آيَةٌ وَاحِدَةٌ علاوہ اس کے کہ وہ جو ہے وہ جس سے نماز جائز ہو جاتی ہے وہ مقدار جو ہے وہ ایک آیت ہے امام صاحب کے نزدیک، وَعِنْدَهُمَا ثَلَاثُ آيَاتٍ اور صاحبین کے نزدیک تین آیتیں ہیں۔ وَهٰذَا فِي حَقِّ الْإِمَامِ دُونَ الْمُنْفَرِدِ اور یہ امام کے حق میں ہے نہ کہ منفرد اکیلے نماز پڑھنے والے کے حق میں نہیں۔ امام نے جہری نماز میں اخفاء کر لیا یا اخفاء والی نماز میں جہر کر لیا اس کے حق میں یہ سہو کے سجدے واجب ہوں گے، منفرد اکیلا جو نماز پڑھ رہا ہے اس پر نہیں۔ لِأَنَّ الْجَهْرَ وَالْمُخَافَتَةَ مِنْ خَصَائِصِ الْجَمَاعَةِ اس لیے کیونکہ جہر اور مخافتت یعنی اونچی آواز سے قرات کرنا اور آہستہ آواز سے قرات کرنا یہ جماعت کے خصائص میں سے ہے، بعض جماعت کے بعض نمازوں کے اندر جہر واجب ہے اور بعضوں کے اندر اخفاء واجب ہے بھئی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ کہ جہری نماز ہے مثلاً عشاء ہے یا مغرب ہے اور کوئی شخص اکیلا پڑھ رہا ہے پھر تو ٹھیک ہے اس کے لیے جہر واجب نہیں۔ اس کو اختیار ہے، آپ پڑھ چکے ہیں، چاہے کیا کرے؟ آہستہ آواز سے پڑھے، چاہے جہر کرے اور اپنے آپ کو سنائے، آپ پڑھ چکے ہیں۔ تو اس میں تو ٹھیک ہے اختیار ہے، لیکن اخفاء کے اندر تو اخفاء تو اس کے لیے ضروری ہے اخفاء والی نمازوں میں، مثلاً کون سی نماز اکیلے پڑھ رہا ہے؟ ظہر کی نماز اکیلے پڑھ رہا ہے تو اب تو اخفاء واجب ہے، جہراً قرات کرے گا تو پھر اس پر کیا لازم ہو جائیں گے؟ سہو کے سجدے لازم ہو جائیں گے۔ تو صاحبِ ہدایہ تو فرما رہے ہیں جہر اور مخافتت کس کے خصائص میں سے ہیں؟ جماعت کے۔ حالانکہ ٹھیک ہے جہر تو اکیلے کی نماز کے خصائص میں سے نہیں لیکن مخافتت تو اس کے اندر بھی ضروری۔ تو جواب یہ کہ صاحبِ ہدایہ کا قول جو ہے وہ ظاہرِ روایت کے مطابق ہے۔ ظاہرِ روایت کے مطابق جو اکیلا نماز پڑھنے والا ہے اس پر اخفاء والی نماز کے اندر بھی اخفاء لازم نہیں، اس نماز میں بھی وہ کیا کر سکتا ہے؟ جہر کر سکتا ہے، اور یہ جو عام مشہور ہے یہ نوادر کی روایت ہے۔ نوادر آپ پڑھ چکے کچھ ظاہرِ روایت کسے کہتے ہیں؟ امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابیں جو مشہور ہیں جو بتواتر منقول ہیں ان کے اندر جو مسئلہ ہے اس کو ظاہرِ روایت کہتے ہیں اور باقی جو امام محمد رحمہ اللہ کی تصانیف ہیں ان کے اندر اگر وہ مسئلہ ذکر ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ نوادر کہتے ہیں کہ یہ نوادر کے اندر یہ مسئلہ اس طرح آیا ہے۔ تو وہ روایت کون سی ہے؟ نوادر والی، اور ظاہرِ روایت کے مطابق اخفاء اس پر لازم نہیں ہے بھئی، تو صاحبِ ہدایہ کا قول کس پر مبنی ہے؟ ظاہرِ روایت پر۔ قَالَ: وَسَهْوُ الْإِمَامِ يُوجِبُ عَلَى الْمُؤْتَمِّ السُّجُودَ لِتَقَرُّرِ السَّبَبِ الْمُوجِبِ فِي حَقِّ الْأَصْلِ۔ بھئی یہاں سے یہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں کہ امام سے اگر سہو ہوا کوئی بھول ہوئی تو مقتدی پر بھی سہو کے سجدے واجب ہو جائیں گے، یعنی اس کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ امام کے ساتھ سہو کے سجدے کرنا پڑیں گے۔ اس لیے کیونکہ مقتدی نے اپنی نماز کے صحیح اور فاسد ہونے میں کس کے اتباع کس کا وہ اتباع کر رہا ہے؟ امام کے اتباع کو اس نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے، تو لہٰذا اس کو امام کا اتباع کرنا پڑے گا۔ امام کی نماز میں کمی آتی ہے تو اس کی نماز میں بھی کمی آئے گی، لہٰذا وہ سجدے کرتا ہے تو اس کو بھی کیا کرنا پڑیں گے؟ سہو کے سجدے، اور اس کی نماز اگر صحیح ہو جاتی ہے تو اس کی بھی نماز صحیح ہو جائے گی، اور اس کی نماز اگر فاسد ہوتی ہے تو اس کی بھی نماز اس کی نماز مقتدی کی نماز بھی فاسد۔ اور یہ خود بخود ہوگی یا اس نے خود اپنے اوپر اس کا التزام کیا مقتدی نے؟ مقتدی نے خود اس کا التزام کیا، جب وہ ایک شخص کی اقتداء کر رہا ہے تو گویا اپنے اوپر اس بات کو لازم کر رہا ہے کہ اس کی نماز صحیح ہوئی تو میری بھی صحیح، اس کی نماز فاسد ہوئی تو میری بھی فاسد، لہٰذا اس کی نماز میں کمی آئی تو اس کی نماز میں بھی کیا آئے گی؟ کمی آئے گی، لہٰذا وہ اس کی تلافی کے طور پر سہو کے سجدے امام کرتا ہے تو یہ مقتدی بھی کیا کرے گا؟ سہو کے سجدے اس کے ساتھ کرے گا۔ یہ معنی ہے: وَسَهْوُ الْإِمَامِ يُوجِبُ عَلَى الْمُؤْتَمِّ السُّجُودَ اور امام کا سہو، امام کی بھول اور غلطی جو ہے یہ واجب کرتی ہے مقتدی پر بھی سجدے کو، لِتَقَرُّرِ السَّبَبِ الْمُوجِبِ فِي حَقِّ الْأَصْلِ، تقرر کا معنی ثابت ہونا، موجب واجب کرنے والا واجب کرنے والا، لِتَقَرُّرِ السَّبَبِ الْمُوجِبِ اس لیے کیونکہ واجب کرنے والا سبب جو ہے وہ ثابت ہو گیا، فِي حَقِّ الْأَصْلِ کس کے حق میں؟ اصل یعنی امام کے حق میں، اس لیے کیونکہ امام کے حق میں وہ سجدوں کو واجب کرنے والا سبب ثابت ہو گیا پایا گیا۔ وَلِهٰذَا يَلْزَمُهُ حُكْمُ الْإِقَامَةِ بِنِيَّةِ الْإِمَامِ اور اسی وجہ سے مقتدی پر لازم ہو جاتا ہے اقامت کا حکم امام کی نیت کرنے سے، امام کے نیت کرنے سے۔ بھئی دیکھیے آپ جانتے ہیں کہ مسافر جو ہے مسافر شرعاً جو مسافر ہے وہ سفر کے اندر چار رکعت والی نماز کے بجائے کتنی رکعت پڑھے گا؟ دو رکعت۔ اسی طرح جماعت بھی کروائیں گے تو کتنے کی کروائیں گے؟ دو رکعت والی وہ کروائیں گے چار رکعت نہیں۔ لیکن اگر امام مقیم تھا اور آپ مسافر تھے، آپ اس مقیم امام کے پیچھے جا کر نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو کیا آپ دو پڑھیں گے یا آپ چار ہی پڑھنا پڑیں گی؟ اب آپ کو چار ہی پڑھنا پڑیں گی، دیکھو امام کا اتباع کرنا پڑے گا۔ اسی طرح مثلاً کوئی جماعت تھی اور وہ سارے مسافر تھے، جو امام ہے وہ بھی مسافر ہے۔ اب انہوں نے چار رکعت والی نماز پڑھنا شروع کر دی اس امام کی متابعت کرتے ہوئے، وہ امام بھی کیا ہے؟ مسافر۔ دورانِ صلاۃ میں امام کا ارادہ بن گیا کہ میں یہیں پندرہ دن قیام کرتا ہوں تو وہ فوراً کیا بن گیا؟ مقیم بن گیا۔ اب اس کو دو کے بجائے چار رکعت پڑھنا پڑیں گی، اور جب یہ چار رکعت یہ پڑھے گا تو مقتدیوں پر بھی لازم ہے وہ اس کا اتباع کرتے ہوئے ان کو بھی کتنی پڑھنا پڑیں گی؟ چار، اگرچہ مقتدی مسافر ہیں انہوں نے کوئی نیت نہیں کی اقامت کی، لیکن امام کا اتباع کرتے ہوئے ان پر بھی وہ حکم لازم ہو جائے گا اور ان کو بھی کتنا پڑھنا پڑیں گے؟ چار رکعت بھئی۔ تو جیسے وہاں پر امام کے پر جو حکم لازم ہوا تھا وہ کس پر لازم ہو گیا؟ مقتدیوں پر بھی آ گیا، اسی طرح یہاں پر بھی مقتدیوں پر بھی امام کی نماز میں بھول ہوئی ہے اور اس پر سجدے لازم ہوئے ہیں تو مقتدیوں پر بھی کیا ہو جائیں گے؟ سجدے لازم ہو جائیں گے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَلِهٰذَا اور اسی وجہ سے، يَلْزَمُهُ حُكْمُ الْإِقَامَةِ مقتدی پر لازم ہو جاتا ہے اقامت اقامت والا حکم، بِنِيَّةِ الْإِمَامِ امام کے نیت کرنے کی وجہ سے۔ فَإِنْ لَمْ يَسْجُدِ الْإِمَامُ لَمْ يَسْجُدِ الْمُؤْتَمُّ پس اگر امام سجدہ نہ کرے یعنی سہو کے سجدے نہ کرے، لَمْ يَسْجُدِ الْمُؤْتَمُّ تو مقتدی بھی سجدے نہیں کرے گا، لِأَنَّهُ يَصِيرُ مُخَالِفًا کیونکہ وہ امام کیونکہ اگر وہ کرے گا تو کیا بن جائے گا؟ امام کا مخالف، امام کی مخالفت لازم آئے گی، وَمَا الْتَزَمَ الْأَدَاءَ إِلَّا مُتَابِعًا اور اس نے تو ادا کا التزام نہیں کیا مگر متابع ہوتے ہوئے ہی۔ اس نے کس طرح ادا کا التزام کیا ہے کہ وہ کس طرح نماز ادا کرے گا؟ جب اقتداء کر رہا ہے تو امام کی متابعت کرتے ہوئے وہ ادا کرے گا، تو جب امام نے نہیں کیے سجدے تو یہ بھی سجدے نہیں کرے گا ورنہ کیا لازم آئے گی؟ امام کی مخالفت لازم آئے گی جو اس صحیح نہیں ہے اس کے لیے۔ یہ معنی ہے: وَمَا الْتَزَمَ الْأَدَاءَ إِلَّا مُتَابِعًا اور اس نے ادا کا التزام نہیں کیا، یعنی ادا کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا إِلَّا مُتَابِعًا مگر کس حالت میں؟ متابع ہوتے ہوئے متابع ہونے کی حالت میں۔ فَإِنْ سَهَا الْمُؤْتَمُّ لَمْ يَلْزَمِ الْإِمَامَ وَلَا الْمُؤْتَمَّ السُّجُودُ پس اگر مقتدی بھول گیا اب عکس صورت ہے بھئی، پہلے کون بھولا تھا؟ امام۔ اگر مقتدی سے کوئی بھول ہوئی کوئی واجب رہ گیا تو پھر اس صورت میں امام پر بھی سہو کے سجدے لازم نہیں اور مقتدی پر بھی سہو کے سجدے لازم نہیں۔ اس لیے کیونکہ اگر مقتدی پر سہو کے سجدے لازم قرار دیے جائیں تو پھر اس صورت میں امام کی مخالفت لازم آتی ہے اور امام کی مخالفت تو اس کے لیے جائز نہیں، اور اگر امام پر سہو کے سجدوں کو لازم قرار دیا جائے کس کی غلطی کی وجہ سے؟ مقتدی کی غلطی کی وجہ سے، تو اس صورت میں اصل کو تابع بنانا لازم آئے گا اور تابع کو اصل بنانا لازم آئے گا حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ لِأَنَّهُ لَوْ سَجَدَ وَحْدَهُ كَانَ مُخَالِفًا لِإِمَامِهِ اس لیے کیونکہ اگر اس نے اکیلے سجدے کر لیے تو یہ امام کی مخالفت کرنے والا ہوگا، وَلَوْ تَابَعَهُ الْإِمَامُ اور اگر امام اس کے متابعت کرتا ہے، يَنْقَلِبُ الْأَصْلُ تَبَعًا تو اصل پلٹ جائے گا تابع ہو کر، اور یہ درست نہیں۔ وَمَنْ سَهَا عَنِ الْقَعْدَةِ الْأُولَى ثُمَّ تَذَكَّرَ وَهُوَ إِلَى حَالَةِ الْقُعُودِ أَقْرَبُ عَادَ وَقَعَدَ وَتَشَهَّدَ۔ صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص چار رکعت والی نماز پڑھ رہا ہے مثلاً اور قعدۂ اولیٰ آپ نے پڑھا ہے واجب ہے، تو دوسری رکعت ادا کرنے کے بعد وہ قعدۂ اولیٰ بھول گیا، قعدۂ اولیٰ بھول گیا اور کھڑا ہونے لگا، کھڑا ہونے لگا تھا کہ اس کو یاد آ گیا کہ اوہو! یہاں تو کیا کرنا ہے؟ قعدہ۔ تو اب کیا کرے؟ تو کہتے ہیں بھئی اگر یہ بیٹھنے کے قریب ہے، کس حالت میں ہے؟ کھڑا ہو رہا ہے، درمیان میں ہے لیکن اپنی حالت کو دیکھ لے، اگر یہ بیٹھنے کے قریب ہے تو بیٹھ جائے اور تشہد پڑھ لے اور اس پر سجدۂ سہو بھی لازم نہیں۔ سجدۂ سہو بھی بھئی کیوں نہیں لازم؟ یہ تو کھڑا ہونے لگا تھا، تھوڑا سا اٹھ بھی گیا تھا لیکن بیٹھنے کے قریب تھا، کس کے قریب تھا؟ تو کہتے ہیں بھئی قَرِيبٌ إِلَى الشَّيْءِ فِي حُكْمِ الشَّيْءِ ہوتی ہے، جو چیز جس کے قریب ہو اس کا وہی حکم ہوتا ہے۔ اب یہ کھڑا ہو رہا تھا لیکن یہ کھڑا ہونا بھی کس کے قریب تھا؟ بیٹھنے کے قریب تھا تو اس کو بھی بیٹھنا ہی شمار کیا جائے گا، گویا یہ بیٹھا ہی رہا کھڑا ہوا ہی نہیں، جب کھڑا ہوا ہی نہیں تو اس پر سہو کے سجدے بھی واجب نہیں۔ اور اگر یہ کھڑا ہونے کے قریب تھا تو کہتے ہیں پھر کھڑا ہو جائے پھر واپس نہ بیٹھے، اس لیے کیونکہ جب کھڑے جب یہ کھڑا ہونے کے قریب ہے تو یہ کھڑے ہونے کے حکم میں ہے اور کھڑا ہونا تو فرض ہے قیام تو فرض ہے اور بیٹھنا تو واجب تھا، لہٰذا اب فرض کو چھوڑ کر واجب کی طرف واپس نہ جائے بھئی، صورت سمجھ میں آئی؟ لہٰذا کھڑا کھڑا ہونے کے قریب ہے تو کھڑا ہو جائے قیام کر لے اور پھر نماز کے آخر میں کیا کر لے؟ سجدۂ سہو کر لے بھئی۔ یہ معنی ہے: وَمَنْ سَهَا عَنِ الْقَعْدَةِ الْأُولَى اور جو بھول گیا قعدۂ اولیٰ کو، ثُمَّ تَذَكَّرَ پھر اس کو یاد آیا، وَهُوَ إِلَى حَالَةِ الْقُعُودِ أَقْرَبُ اس حال میں کہ وہ بیٹھنے کی حالت کے زیادہ قریب تھا، عَادَ تو لوٹ جائے، وَقَعَدَ اور بیٹھ جائے، وَتَشَهَّدَ اور کیا کرے؟ تشہد پڑھ لے۔ لِأَنَّ مَا يَقْرُبُ مِنَ الشَّيْءِ يَأْخُذُ حُكْمَهُ اس لیے کیونکہ وہ جو کسی چیز کے قریب ہوتا ہے يَأْخُذُ حُكْمَهُ وہ اسی کے حکم کو لے لیتا ہے، یعنی قَرِيبٌ إِلَى الشَّيْءِ فِي حُكْمِ الشَّيْءِ یعنی جو چیز جس کے قریب ہو اسی کے حکم میں ہوتی ہے۔ ثُمَّ قِيلَ پھر کہا گیا ہے: يَسْجُدُ لِلسَّهْوِ کہ یہ سہو کے سجدے کرے گا، لِلتَّأْخِيرِ کس وجہ سے؟ تاخیر کی وجہ سے تاخیر کی وجہ سے، تاخیر آ گئی، کس کے اندر تاخیر آئی؟ قعدے کے اندر بھئی، تھوڑا سا اٹھ گیا تھا یا نہیں بھئی؟ تو تاخیر آ گئی۔ وَالْأَصَحُّ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَالْأَصَحُّ زیادہ صحیح یہ ہے أَنَّهُ لَا يَسْجُدُ کہ وہ سجدہ نہ کرے، یعنی سہو کے سجدے نہیں کرے گا، كَمَا إِذَا لَمْ يَقُمْ جیسے کہ وہ نہ کھڑا ہوا ہو، جب اس صورت میں جیسے نہیں تھے سہو کے سجدے نہیں ہوتے، اس صورت میں بھی نہیں ہوں گے۔ وَلَوْ كَانَ إِلَى الْقِيَامِ أَقْرَبَ لَمْ يَعُدْ اور اگر وہ قیام کے قریب ہے زیادہ کھڑے ہونے کے زیادہ قریب ہے جب اس کو یاد آیا، لَمْ يَعُدْ تو پھر نہ لوٹے، لِأَنَّهُ كَالْقَائِمِ مَعْنًى اس لیے کیونکہ یہ بھی کھڑے ہونے کی طرح ہی ہے مَعْنًى باعتبار معنی کے، اس کے زیادہ قریب ہے تو اسی کی طرح ہے، وَيَسْجُدُ لِلسَّهْوِ اور اس صورت میں پھر کیا کرے گا؟ جب کھڑا ہو گیا تو قعدہ تو رہ گیا تھا، لہٰذا وَيَسْجُدُ لِلسَّهْوِ سہو کا سجدہ کرے گا، لِأَنَّهُ تَرَكَ الْوَاجِبَ اس لیے کیونکہ اس نے واجب کو چھوڑ دیا ہے۔ وَإِنْ سَهَا عَنِ الْقَعْدَةِ الْأَخِيرَةِ اور اگر نماز پڑھنے والا بھول گیا کس کو؟ قعدۂ اخیرہ کو جو فرض ہے، حَتَّى قَامَ إِلَى الْخَامِسَةِ یہاں تک کہ وہ کھڑا ہو گیا پانچویں رکعت کی طرف، رَجَعَ إِلَى الْقَعْدَةِ مَا لَمْ يَسْجُدْ تو یہ لوٹ جائے قعدہ یعنی بیٹھنے کی طرف مَا لَمْ يَسْجُدْ جب تک اس نے پانچویں رکعت کا سجدہ نہیں کیا۔ بھئی کیوں لوٹ جائے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ فِيهِ إِصْلَاحَ صَلَاتِهِ اس لیے کیونکہ اس کے اندر اس کی نماز کی اصلاح ہے۔ اسی صورت میں اس کی نماز صحیح ہو سکتی ہے ورنہ تو اس کی اگر یہ قعدہ تو کیا ہے؟ فرض ہے یہ رہ جاتا ہے۔ تو اس لِأَنَّ فِيهِ إِصْلَاحَ صَلَاتِهِ اس لیے کیونکہ اس صورت کے اندر اس کی نماز کی اصلاح ہے، وَأَمْكَنَهُ ذٰلِكَ اور اس کے لیے یہ ممکن بھی ہے، لِأَنَّ مَا دُونَ الرَّكْعَةِ بِمَحَلِّ الرَّفْضِ اس لیے کیونکہ وہ جو ایک رکعت سے کم جو ہو بِمَحَلِّ الرَّفْضِ وہ کس محل میں ہے؟ چھوڑنے کے محل میں ہے، اس کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ جو ایک رکعت ابھی پوری نہیں ہوئی اس کو کیا کیا جا سکتا ہے؟ چھوڑا جا سکتا ہے۔ سجدہ کر لیا ہے اگر پانچویں رکعت کا پھر حکم اور ہے وہ تفصیل آگے آئے گی۔ یہ کب کون سی صورت بیان ہو رہی ہے؟ قعدۂ اخیرہ بھول کر کھڑا ہو گیا پانچویں رکعت کے لیے اور ابھی سجدہ پانچویں رکعت کا نہیں کیا، بے شک رکوع کر چکا ہے لیکن سجدہ ابھی نہیں کیا تو واپس بیٹھ جائے، کیونکہ اس موقع پر نہ اس اس محل پر اس رکعت کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ وَأَلْغَى الْخَامِسَةَ، تو چھوڑا جا سکتا ہے اس کو چھوڑ دے، وَأَلْغَى الْخَامِسَةَ اس پانچویں رکعت کو کیا کر دے؟ چھوڑ دے۔ أَلْغَى الْخَامِسَةَ کا کیا معنی؟ بھئی یہ ابھی سجدہ نہیں کیا نا، جب سجدہ نہیں کیا تو کیا حکم انہوں نے بیان کیا؟ چھوڑ دے، محلِ رفض میں ہے اس کو کیا کر دے؟ چھوڑ دے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ متن میں آ رہا ہے، سمجھ میں آیا؟ صاحبِ ہدایہ نے تو بیان کر دیا کہ یہ محلِ رفض میں ہے اس کو چھوڑا جا سکتا ہے لیکن ماتن نے تو ابھی بیان نہیں کیا تھا، وہ بیان کر رہے ہیں: وَأَلْغَى الْخَامِسَةَ کہ بیٹھ جائے اور جب تک سجدہ نہیں کیا، وَأَلْغَى الْخَامِسَةَ اور پانچویں رکعت کو چھوڑ دے۔ تو أَلْغَى کا معنی چھوڑ دینا، چھوڑ دینا۔ لیکن اس کا زیادہ با لفظوں کے مطابق صحیح ترجمہ جو اس کا بنتا ہے نا وَأَلْغَى الْخَامِسَةَ کا، اس کو لغو کر دے، پانچویں رکعت کو کیا کر دے؟ لغو کر دے۔ سمجھ میں آیا؟ لغو کر دے۔ تو یہ کوئی ہاں ایک لفظ کے ساتھ اس کا اس کا ترجمہ صحیح ہوتا ہے لیکن وہ ہے انگریزی کا لفظ: وَأَلْغَى الْخَامِسَةَ اور پانچویں رکعت کو کینسل کر دے یعنی۔ کیا کر دے؟ کینسل کر دے بھئی۔ لِأَنَّهُ رَجَعَ إِلَى شَيْءٍ مَحَلُّهُ قَبْلَهَا فَيَرْتَفِضُ، تو اس کو چھوڑ دے۔ بھئی پانچویں رکعت کو چھوڑ دے، کیونکہ وہ ایک ایسی چیز کی طرف لوٹ رہا ہے جس کا محل اس سے پہلے ہی تھا، وہ رہ گئی تھی لہٰذا اسی کی طرف لوٹ رہا ہے اس کا محل اس سے پہلے تھا۔ لِأَنَّهُ رَجَعَ إِلَى شَيْءٍ مَحَلُّهُ قَبْلَهَا اس لیے کیونکہ وہ لوٹا ہے ایک ایسی چیز کی طرف جس کا محل اس سے پہلے ہے۔ کس چیز کی طرف لوٹا؟ قعدے کی طرف، اور اس قعدے کا محل اس قیام پانچویں رکعت کے قیام سے پہلے ہی تھا، فَيَرْتَفِضُ تو اس کو چھوڑ دے اس رکعت کو، وَسَجَدَ لِلسَّهْوِ اور سہو کا سجدہ کرے، لِأَنَّهُ أَخَّرَ وَاجِبًا اس لیے کیونکہ اس نے واجب کو کیا کر دیا؟ مؤخر کر دیا، کیا کر دیا؟ مؤخر کر دیا۔ تو واجب سے یا تو فرض مراد ہے، کیونکہ یہ فرض تھا آخری قعدہ تو کیا ہے؟ فرض۔ تو یہاں واجب سے مراد وہ اصطلاحی واجب نہیں مراد، لغوی واجب مراد ہے۔ واجب کا کیا معنی؟ جو لازمی ہو ضروری ہو، تو اس نے لازمی چیز کو ایک چھوڑ دیا یعنی فرض کو چھوڑ دیا۔ یا واجب کو واجب کے معنی میں ہی رکھیں، اس نے واجب کو کیا کر دیا؟ مؤخر۔ کیا معنی؟ یعنی وہ جو اتصال تھا اس اتصال کو اس نے چھوڑ، تو پھر اس صورت میں ترک کی صورت ترکِ واجب لا لازم آ رہا ہے۔ تو بہرحال واجب کو یہاں واجبِ لغوی کے معنی میں رکھیں زیادہ مناسب ہے۔ تو یہ معنی ہے: وَسَجَدَ لِلسَّهْوِ اور سہو کا سجدہ کرے، لِأَنَّهُ أَخَّرَ وَاجِبًا اس لیے کیونکہ اس نے فرض کو کیا کر دیا ہے؟ مؤخر کر دیا ہے۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 70 of 169