قَالَ: ”ثُمَّ يَأْتِي مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ مَكَّةَ أَوْ مِنَ الْغَدِ أَوْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ طَوَافَ الزِّيَارَةِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ“، ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَلَقَ أَفَاضَ إِلَى مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ عَادَ إِلَى مِنًى وَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى“.
افعالِ حج بیان ہو رہے ہیں بھئی۔ اور حجِ افراد کا طریقہ ذکر کر رہے ہیں۔ اور دسویں ذی الحجہ کا دن ہو چکا ہے۔ حاجی نے رمی بھی کر لی، اور اگر قربانی کرنا چاہتا تھا وہ بھی کر لی، اور اس کے بعد حلق یا قصر بھی کروا لیا۔ اب طوافِ زیارت کرنا ہے عید کے انہی تین دنوں کے اندر بھئی۔ البتہ افضل کیا ہے؟ کس دن کرے؟ پہلے دن یعنی یہی آج کے دن دسویں ذی الحجہ کو کرے۔ اور جائز کتنے دنوں تک ہے؟ تین دن تک، یعنی بغیر کراہت کے۔ اور اس کے بعد بھی کرے گا تو یہ ہو جائے گا، البتہ اس صورت میں دم لازم آئے گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یہی اب طوافِ زیارت کے بارے میں ذکر کریں گے بھئی۔
قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”ثُمَّ يَأْتِي مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ مَكَّةَ“، پھر حاجی آ جائے اپنے اسی دن میں مکہ۔ کہاں آ جائے؟ مکہ آ جائے، یعنی دسویں کو ہی۔ ”أَوْ مِنَ الْغَدِ“، یا اگلے روز یعنی گیارہ کو آ جائے۔ ”أَوْ مِنْ بَعْدِ الْغَدِ“، یا اگلے سے اگلے روز، اگلے کے بعد آ جائے یعنی بارہ ذی الحجہ کو، یعنی عید کے ان تین دنوں میں۔ ”فَيَطُوفُ بِالْبَيْتِ طَوَافَ الزِّيَارَةِ سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ“، پس طواف کر لے بیت اللہ کا طوافِ زیارت، سَبْعَةَ أَشْوَاطٍ سات چکر بھئی۔
دلیل ذکر کر رہے ہیں: ”لِمَا رُوِيَ“، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ: ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَلَقَ“، کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق فرما لیا، ”أَفَاضَ إِلَى مَكَّةَ“، تو آپ مکہ لوٹے، ”فَطَافَ بِالْبَيْتِ“، تو پھر آپ نے طواف کیا بیت اللہ کا، ”ثُمَّ عَادَ إِلَى مِنًى“، پھر آپ منیٰ واپس لوٹ آئے، ”وَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى“، اور آپ نے ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھی۔
”وَوَقْتُهُ أَيَّامُ النَّحْرِ“، وقت بتلا رہے ہیں بھئی، طوافِ زیارت کن دنوں میں کیا جائے گا؟ ایام النحر، جو قربانی کے تین دن ہیں ان میں۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَقْتُهُ أَيَّامُ النَّحْرِ“، اور طوافِ زیارت کا وقت جو ہے وہ نحر یعنی قربانی کے ایام ہیں۔ ”لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى عَطَفَ الطَّوَافَ عَلَى الذَّبْحِ“، اس لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں طواف کا عطف کیا ہے ذبح پر۔ ”قَالَ“، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا﴾، تو تم کھاؤ اس میں سے، یعنی اس قربانی کے جانور میں سے تم کھاؤ، ”ثُمَّ قَالَ“، پھر آگے اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا﴾، اور یعنی ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾، اور چاہیے کہ حج کرنے والے طواف کریں بیتِ عتیق کا، اس قدیم گھر کا۔
تو دیکھیے ﴿فَكُلُوا مِنْهَا﴾، تو تم لوگ اس قربانی کے جانور میں سے اس کے گوشت میں سے کھاؤ اور حج کرنے والوں کو طواف کرنا چاہیے، تو یہ ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا﴾ کا عطف کس پر ہے؟ ﴿فَكُلُوا مِنْهَا﴾ اس پر عطف ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ قربانی کے اور طواف کا ان کا وقت ایک ہی ہے بھئی، اور قربانی تو تین دن تک کی جا سکتی ہے تو لہٰذا یہ طوافِ زیارت بھی تین دن تک کیا جا سکتا ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
تو اللہ نے قرآن میں ذکر فرمایا ہے: ﴿فَكُلُوا مِنْهَا﴾ پس کھاؤ تم اس میں سے، ”ثُمَّ قَالَ“، پھر آگے اللہ فرماتے ہیں بھئی: ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا﴾ اور چاہیے کہ طواف کریں حج کرنے والے، ”فَكَانَ وَقْتُهُمَا وَاحِدًا“، تو ان دونوں کا وقت ایک ہی ہوگا، یعنی قربانی کا اور طواف کا۔
”وَأَوَّلُ وَقْتِهِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ“، اوّلِ وقت بھئی، بھئی یہ طوافِ زیارت کا وقت شروع کب سے ہوتا ہے؟ کب کر لیا جائے تو یہ جائز ہو جائے گا بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَأَوَّلُ وَقْتِهِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ“، اور طوافِ زیارت کا اوّلِ وقت جو ہے فجر طلوع ہونے کے بعد ہے قربانی والے دن، یعنی یہ دس ذی الحجہ کو جب فجر طلوع ہو جائے تو طوافِ زیارت کا وقت شروع ہو گیا۔
”لِأَنَّ مَا قَبْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ“، اس لیے کیونکہ اس سے ماقبل جو رات ہے، ”وَقْتُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ“، وہ عرفات میں وقوف کا وقت ہے۔ اس سے ماقبل بھئی، رات کہاں گزاری تھی؟ مزدلفہ میں۔ اور دن کہاں گزارا تھا؟ عرفات میں۔ اور عرفات کا وقت کب سے کب تک تھا؟ زوال کے بعد سے لے کر طلوعِ فجر تک تھا۔ تو یہ تو وقوفِ عرفہ کا وقت تھا اور اس کے بعد کس کا وقت آئے گا؟ طوافِ زیارت کا وقت آئے گا، کیونکہ طوافِ زیارت کس پر مرتب ہوتا ہے؟ وقوفِ عرفہ پر۔ پہلے وقوفِ عرفہ ہے اور اس کے بعد طوافِ زیارت۔ اور وقوفِ عرفہ کا وقت تو ہے زوال کے بعد سے لے کر فجر تک، اور فجر کے بعد پھر کس کا وقت شروع ہو جائے گا؟ طوافِ زیارت کا وقت شروع ہو جائے گا دسویں ذی الحجہ کو۔ ترتیب سمجھ میں آ رہی ہے؟
یہ معنیٰ ہے: ”لِأَنَّ مَا قَبْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَقْتُ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ“، اس لیے کیونکہ اس سے ماقبل جو رات ہے وہ تو وقوفِ عرفہ کا وقت ہے، ”وَالطَّوَافُ مُرَتَّبٌ عَلَيْهِ“، اور یہ طواف جو ہے اس پر مرتب ہے، یعنی اس وقوفِ عرفہ پر مرتب ہے۔
”وَأَفْضَلُ هَذِهِ الْأَيَّامِ أَوَّلُهَا كَمَا فِي التَّضْحِيَةِ“، اور افضل جو ہے ان ایام میں سے پہلا دن ہے، ”كَمَا فِي التَّضْحِيَةِ“، جیسے کہ قربانی کے اندر ہے۔ بھئی قربانی تینوں دن کی جا سکتی ہے عید کے لیکن افضل کون سا دن ہے؟ پہلا دن کہ پہلے دن قربانی کی جائے بھئی۔ اسی طرح یہ طواف بھی تینوں دن کیا جا سکتا ہے لیکن افضل کیا ہے؟ پہلا دن ہے۔ یہ معنیٰ ہے: ”وَأَفْضَلُ هَذِهِ الْأَيَّامِ أَوَّلُهَا“، اور افضل ان ایام میں سے پہلا دن ہے، ”كَمَا فِي التَّضْحِيَةِ“، جیسے کہ قربانی میں ہے، ”وَفِي الْحَدِيثِ أَفْضَلُهَا أَوَّلُهَا“، اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ ان ایام میں سے افضل جو ہے وہ پہلا دن ہے۔
”فَإِنْ كَانَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ“، بھئی میں نے آپ سے ذکر کیا تھا کہ حج کے افعال میں سے ایک فعل سعی بھی ہے۔ جیسے سعی عمرے میں کی جاتی ہے صفا اور مروہ کے درمیان، اسی طرح حج میں بھی سعی کی جائے گی۔ اور حاجی یہ سعی پہلے بھی کر سکتا ہے۔ تو حجِ افراد والا ہے تو وہ طوافِ قدوم کے بعد بھی کیا کر سکتا ہے؟ سعی کر سکتا ہے۔ یا طوافِ قدوم کے بعد تو نہیں کرتا لیکن جتنے دن پھر مکہ میں رہا حج سے پہلے وہ کسی بھی طواف کے بعد کیا کر سکتا ہے؟ حج کی سعی کر سکتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کیا کر لے پھر؟ ایک طواف کر لے اور اس میں رمل اور اضطباع کر لے اور پھر اس کے بعد یہ حج والی سعی کر لے۔ جب اس دن اگر سعی اس نے کر لی ہے پہلے سے ہی تو پھر اب سعی کی ضرورت نہیں۔ اور اگر پہلے سعی نہیں کی تھی تو اس طوافِ زیارت کے بعد کیا کر لے گا؟ سعی کر لے گا۔ یہی ذکر کر رہے ہیں۔
”فَإِنْ كَانَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَقِيبَ طَوَافِ الْقُدُومِ لَمْ يَرْمُلْ فِي هَذَا الطَّوَافِ“، اور اگر حاجی سعی کر چکا ہے صفا اور مروہ کے درمیان طوافِ قدوم کے بعد، ”لَمْ يَرْمُلْ فِي هَذَا الطَّوَافِ“، تو پھر رمل نہیں کرے گا اس طواف میں یعنی طوافِ زیارت میں۔ اگر سعی پہلے کر چکا ہے تو اس طوافِ زیارت میں رمل نہیں کرے گا۔ کیوں؟ ہاں، کیونکہ رمل تو اس طواف میں کیا جاتا ہے جس کے بعد سعی ہو، اور سعی تو یہ پہلے کر چکا ہے لہٰذا اس طوافِ زیارت کے بعد سعی نہیں تو لہٰذا اس کے اندر رمل بھی نہیں۔ اور اگر پہلے سعی نہیں کی تو اب کیا کرنا پڑے گی؟ سعی کرنا پڑے گی، تو اس طوافِ زیارت کے بعد سعی آئے گی اور جس طواف کے بعد سعی آئے اس میں کیا کرنا پڑتا ہے؟ رمل اور اضطباع کرنا پڑتا ہے، لیکن اضطباع تو یہاں نہیں ہوگا کیونکہ احرام یہ اتار چکا ہے، کیا پہن چکا ہے؟ سلے ہوئے کپڑے پہن چکا ہے، البتہ رمل کرے گا۔ کیا کرے گا؟ رمل، کب؟ جب اس طواف کے بعد کیا کرنی ہو؟ سعی۔ اور اگر سعی نہیں کرنی تو رمل بھی نہیں کرنا۔
یہی ذکر کر رہے ہیں کہ اگر وہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر چکا ہے طوافِ قدوم کے بعد، ”لَمْ يَرْمُلْ فِي هَذَا الطَّوَافِ“، تو وہ رمل نہیں کرے گا اس طواف میں، ”وَلَا سَعْيَ عَلَيْهِ“، اور اس پر سعی بھی واجب نہیں ہے، کیونکہ وہ واجب تو وہ پہلے ہی ادا کر چکا ہے، مزید سعی اس پر نہیں ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ لَمْ يُقَدِّمِ السَّعْيَ“، اور اگر اس نے سعی کو مقدم نہیں کیا تھا، ”رَمَلَ فِي هَذَا الطَّوَافِ وَسَعَى بَعْدَهُ“، تو رمل کرے گا اس طواف میں یعنی طوافِ زیارت میں، ”وَسَعَى بَعْدَهُ“، اور اس کے بعد سعی کرے گا، ”لِأَنَّ السَّعْيَ لَمْ يُشْرَعْ إِلَّا مَرَّةً“، اس لیے کیونکہ سعی مشروع نہیں ہے مگر ایک ہی مرتبہ، ”وَالرَّمَلُ مَا شُرِعَ إِلَّا مَرَّةً فِي طَوَافٍ بَعْدَهُ سَعْيٌ“، اور رمل بھی مشروع نہیں ہے مگر ایک ہی مرتبہ ایسے طواف میں جس کے بعد سعی ہو۔
”وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ هَذَا الطَّوَافِ“، اور حج کرنے والا دو رکعتیں پڑھے گا اس طواف کے بعد، ”لِأَنَّ خَتْمَ كُلِّ طَوَافٍ بِرَكْعَتَيْنِ فَرْضًا كَانَ الطَّوَافُ أَوْ نَفْلًا لِمَا بَيَّنَّا“، اس لیے کیونکہ ہر طواف کا ختم جو ہے وہ دو رکعتوں پر ہوگا، ”فَرْضًا كَانَ الطَّوَافُ أَوْ نَفْلًا“، چاہے وہ فرض طواف ہو چاہے نفل ہو، ”لِمَا بَيَّنَّا“، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ وہ حدیث پہلے بیان ہوئی تھی کہ ہر طواف کرنے والا کیا کرے؟ دو رکعت پڑھے گا بھئی۔
تو دیکھیے چاہے طواف فرض ہو چاہے نفل ہو، اس کے بعد کیا کرے گا؟ دو رکعتیں پڑھیں گے۔ یہ طوافِ زیارت فرض ہے، اور ماقبل میں جو طواف کیے تھے وہ نفل تھے، چاہے طوافِ قدوم تھا وہ بھی سنت ہے، لیکن سنت بھی کیا ہے دراصل؟ نفل ہی ہے، البتہ اس پر حضور علیہ السلام نے عمل کیا ہے۔
”قَالَ: وَقَدْ حَلَّ لَهُ النِّسَاءُ“، اور تحقیق حاجی کے لیے حلال ہو گئیں عورتیں، ”لَكِنْ بِالْحَلْقِ السَّابِقِ“، لیکن یہ عورتیں بیویاں کس کی وجہ سے حلال ہوئی ہیں؟ سابقہ حلق کی وجہ سے ہوئی ہیں، اس طواف کی وجہ سے حلال نہیں، ”إِذْ هُوَ الْمُحَلِّلُ“، اس لیے کیونکہ وہ حلق ہی حلال کرنے والا ہے، ”لَا بِالطَّوَافِ“، تو یہ طواف کی وجہ سے حلال نہیں ہوئیں، ”إِلَّا أَنَّهُ أَخَّرَ عَمَلَهُ فِي حَقِّ النِّسَاءِ“، مگر یہ کہ وہ جو حلق تھا، ”أَخَّرَ عَمَلَهُ“، اس نے اپنے عمل کو مؤخر کر دیا ”فِي حَقِّ النِّسَاءِ“ عورتوں کے حق میں۔ اس نے باقی چیزوں میں تو اپنا عمل ظاہر کیا، کپڑے بھی پہن سکتا ہے سلے ہوئے، خوشبو بھی لگا سکتا ہے، بال بھی کاٹ سکتا ہے، ناخن بھی کاٹ سکتا ہے، لیکن عورتوں کے حق میں اس نے اپنے عمل کو مؤخر کر دیا تھا طوافِ زیارت تک بھئی۔
”قَالَ: وَهَذَا الطَّوَافُ هُوَ الْمَفْرُوضُ فِي الْحَجِّ وَهُوَ رُكْنٌ فِيهِ“، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: یہ طواف جو ہے فرض ہے حج کے اندر، ”وَهُوَ رُكْنٌ فِيهِ“، اور یہ حج کے اندر رکن ہے۔ تو یہ فرض ہے اور جب تک فرض ادا نہ کیا جائے حج بھی ادا نہیں ہوگا۔ ”إِذْ هُوَ الْمَأْمُورُ بِهِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى“، اس لیے کیونکہ یہ طواف ہی جو ہے اس کا حکم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول میں: ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾، اور چاہیے کہ طواف کریں حج کرنے والے بیتِ عتیق کا یعنی اس قدیم گھر کا۔ ”وَيُسَمَّى طَوَافَ الْإِفَاضَةِ وَطَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ“، اور اس طواف کو طوافِ افاضہ بھی کہتے ہیں اور طوافِ یوم النحر بھی کہتے ہیں۔ تو اس کے تین نام ہو گئے: ایک طوافِ زیارت، طوافِ افاضہ، اور طوافِ یوم النحر بھئی۔
”وَيُكْرَهُ تَأْخِيرُهُ عَنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ“، اور مکروہ ہے یعنی مکروہِ تحریمی ہے مؤخر کرنا اس طواف کو ان ایام سے۔ کن ایام سے؟ یہ عید کے تین ایام سے مؤخر کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔ ”لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ مُؤَقَّتٌ بِهَا“، بوجہ اس دلیل کے جس کو ہم نے بیان کر دیا کہ یہ طواف جو ہے موقت ہے ان دنوں کے ساتھ، اس کا وقت مقرر ہے ان دنوں میں، اس کا وقت مقرر ہے ان دنوں کے ساتھ۔ ”وَإِنْ أَخَّرَهُ عَنْهَا لَزِمَهُ دَمٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور اگر حاجی نے مؤخر کر دیا اس طواف کو ان دنوں سے، ”لَزِمَهُ دَمٌ“، تو اس پر ایک دم لازم ہوگا یعنی ایک جانور کی قربانی لازم ہوگی امام صاحب کے نزدیک۔ ”وَسَنُبَيِّنُهُ فِي بَابِ الْجِنَايَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“، اور عنقریب ہم اس کو بیان کریں گے جنایتوں کے باب میں اگر اللہ نے چاہا۔ جنایتیں بھئی حج کے اندر اگر کوئی غلطی ہو جائے، کوئی جرم ہو جائے، مثلاً ناخن کاٹ لیے یا بال کاٹ لیے پہلے ہی یا اسی طرح اور کوئی ایسا عمل کیا جو احرام میں ممنوع تھا تو پھر اس صورت میں کیا واجب ہوگا اور کس صورت میں کتنا واجب ہوگا، اس کی تفصیل جو ہے صاحبِ ہدایہ باب الجنایات میں ذکر کریں گے۔
”قَالَ: ثُمَّ يَعُودُ إِلَى مِنًى فَيُقِيمُ“، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”ثُمَّ يَعُودُ إِلَى مِنًى فَيُقِيمُ“، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَجَعَ إِلَيْهَا كَمَا رَوَيْنَا“، پھر وہ حاجی لوٹ جائے منیٰ کی طرف، ”فَيُقِيمُ“، تو وہاں مقیم رہے۔ منیٰ سے آیا تھا دسویں ذی الحجہ ہی کو اور طوافِ زیارت کر لیا تو واپس جا کر اب کہاں مقیم ہو جائے؟ منیٰ میں۔ ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَجَعَ إِلَيْهَا“، اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی منیٰ لوٹ آئے تھے، ”كَمَا رَوَيْنَا“، جیسے ہم نے روایت بیان کی بھئی، اوپر حدیث آئی تھی پہلی سطر میں ہی: ”ثُمَّ عَادَ إِلَى مِنًى“ بھئی۔
”وَلِأَنَّهُ بَقِيَ عَلَيْهِ الرَّمْيُ وَمَوْضِعُهُ بِمِنًى“، دوسری عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں: اور نیز اس لیے کیونکہ اس حاجی پر ابھی رمی باقی ہے، ابھی تو صرف پہلے دن کی رمی کی ہے، گیارہ اور بارہ کی رمی باقی ہے، ”وَمَوْضِعُهُ بِمِنًى“، اور رمی کی جگہ کہاں ہے؟ منیٰ میں، تو اس لیے وہیں پر مقیم رہے اور رمی کرے۔
”فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْيَوْمِ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ النَّحْرِ“، پس جب سورج ڈھل جائے دوسرے دن ایامِ نحر میں سے، جی اب گیارہویں تاریخ کا ذکر آ گیا۔ دسویں ذی الحجہ کے افعال پورے ہو گئے۔ کون سی تاریخ آ گئی؟ گیارہویں ذی الحجہ آ گئی۔ اور آج تینوں جمرات کی رمی کرنی ہے، تینوں جمرات کی، اور ایک جمرۂ صغریٰ ہے پہلے اس کی رمی ہوگی، پھر جمرۂ وسطیٰ کی، اور سب سے آخر میں جمرۂ کبریٰ کی۔ اور ترتیب میں نے آپ کو بتلائی تھی کہ منیٰ کے اندر ایک بہت بڑی مسجد ہے، مسجدِ خیف کہلاتی ہے بھئی، مسجدِ خیف۔ تو اس مسجدِ خیف سے مکہ کی طرف چلیں یعنی بیت اللہ کی طرف چلیں تو تین ستون آتے ہیں ترتیب سے۔ پہلا جو ستون ہے یہ ہے جمرۂ صغریٰ جو مسجد کے قریب ہے مسجدِ خیف کے، پھر اس سے چند قدم ہی آگے چلیں گے تو دوسرا ستون آئے گا یہ ہے جمرۂ وسطیٰ، اور پھر اس سے چند قدم مزید آگے چلیں گے تو جمرۂ کبریٰ آئے گا۔ معلوم ہوا سب سے جو قریب ہے مسجدِ خیف کے وہ کون سا ہے؟ صغریٰ ہے، اور جو سب سے بعید ہے مسجدِ خیف سے اور بیت اللہ کی طرف قریب ہے وہ کیا ہے؟ جمرۂ کبریٰ ہے۔ اور ترتیب کیا ہے؟ پہلے کس پر سات کنکریاں مارنی ہیں؟ صغریٰ پر، پھر وسطیٰ پر، اور پھر کبریٰ پر۔ اور نیز رمی کے بعد دعا بھی کرنی ہے، وقوف بھی کرنا ہے، اور کس رمی کے بعد؟ جس کے بعد رمی ہو، لہٰذا صغریٰ پر جب سات کنکریاں مار لیں پھر وقوف کرے گا یا نہیں کرے گا؟ شاباش، وقوف کرے گا۔ پھر اس کے بعد جب وہ آئے گا اور وسطیٰ پر سات کنکریاں مار لیں پھر کیا کرے گا؟ پھر ایک طرف کھڑا ہو کر قبلہ رخ ہو کر دعا کرے گا، ذکر کرے گا۔ پھر اس کے بعد کس پر آئے گا؟ جمرۂ کبریٰ پر، اس کے بعد پھر وقوف نہیں کرے گا بھئی، یہی اب بیان کر رہے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْيَوْمِ الثَّانِي مِنْ أَيَّامِ النَّحْرِ“، اور پھر جب سورج ڈھل جائے دوسرے دن ایامِ نحر میں سے، ”رَمَى الْجِمَارَ الثَّلَاثَ“، تو رمی کرے گا تینوں جمرات کی جب سورج ڈھل جائے۔ معلوم ہوا اس رمی کا وقت بھئی دوسرے اور تیسرے دن کب رمی کرنی ہے؟ سورج ڈھلنے کے بعد رمی کرنی ہے۔
”فَيَبْدَأُ بِالَّتِي تَلِي مَسْجِدَ الْخَيْفِ“، پس ابتدا کرے اس جمرے سے جو ملا ہوا ہے مسجدِ خیف کے ساتھ، جو اس کے قریب ہے، ”فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ“، پس رمی کرے اس کی سات کنکریوں کے ساتھ، ”يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ“، تکبیر کہے ہر کنکری کے ساتھ، ہر کنکری پھینکتے ہوئے بسم اللہ اللہ اکبر کہے۔ ”وَيَقِفُ عِنْدَهَا“، اور پھر کیا کرے اس جمرۂ صغریٰ کی رمی کے بعد اس کے پاس؟ وقوف کرے، ”ثُمَّ يَرْمِي الَّتِي تَلِيهَا“، پھر اس جمرے کی رمی کرے جو اس جمرے کے ساتھ جو ملا ہوا ہے یعنی جو درمیان والا ہے، ”مِثْلَ ذَلِكَ“، اسی کے مثل، ”وَيَقِفُ عِنْدَهَا“، اور اس جمرۂ وسطیٰ کے پاس بھی کیا کرے گا؟ وقوف کرے گا، ”ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ كَذَلِكَ“، پھر اس کے بعد رمی کرے گا جمرۂ عقبہ کی کذلک اسی طرح ہی، ”وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا“، اور اس کے پاس وقوف نہیں کرے گا۔
”هَكَذَا رَوَى جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِيمَا نَقَلَ مِنْ نُسُكِ رَسُولِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ مُفَسَّرًا“، اسی طرح روایت کیا ہے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث میں جس میں وہ نقل فرماتے ہیں حضور علیہ السلام کے افعالِ حج، ”مُفَسَّرًا“، اس حال میں کہ ان کی تفسیر کی گئی ہے، یعنی حضور علیہ السلام کے افعال کو بیان کرتے ہوئے اور ان کو ان کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی طرح ذکر فرمایا ہے۔ تو یہ ”مُفَسَّرًا“ یہ حال ہے ”مَا نَقَلَ“ سے، ما نقل وہ جو انہوں نے نقل کیا ہے، ”مُفَسَّرًا“، اس حال میں کہ اس کی تفسیر کی گئی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو انہوں نے وضاحت تفسیر کرتے ہوئے اس میں اس طرح ذکر فرمایا۔ تو یہ حال ہے ”مَا نَقَلَ“ سے، تو وہ جو منقول جو انہوں نے نقل فرمایا ہے ”مُفَسَّرًا“ اس حال میں کہ اس کی تفسیر کی گئی ہے یعنی تفصیل بیان کی گئی ہے، وضاحت کی گئی ہے۔
”وَيَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ فِي الْمَقَامِ الَّذِي يَقِفُ فِيهِ النَّاسُ“، اور وقوف کرے دونوں جمروں میں کے پاس، بھئی وقوف کس جگہ پر کرنا ہے رمی کرنے کے بعد؟ وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَيَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ“، اور وقوف کرے دونوں جمروں کے پاس، ”فِي الْمَقَامِ الَّذِي يَقِفُ فِيهِ النَّاسُ“، اس مقام میں جس میں لوگ وقوف کرتے ہیں بھئی، اور لوگ بھی کیا ہیں سامنے ہی وقوف کر رہے ہوں گے، دعا کر رہے ہوں گے وغیرہ تو وہاں وقوف کرے، جمرے کے سامنے ہی پاس ہی بھئی۔
”وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي“، اور اللہ کی حمد بیان کرے، وقوف میں کیا کیا کرنا ہے وہ بتلا رہے ہیں: ”وَيَحْمَدُ اللَّهَ“، اور وہ حاجی اللہ کی حمد بیان کرے، ”وَيُثْنِي“، اور اللہ کی ثنا کرے، ”وَيُهَلِّلُ وَيُكَبِّرُ“، اور لا الہ الا اللہ کہے اور تکبیر کہے یعنی اللہ اکبر کہے، ”وَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، اور حضور علیہ السلام پر درود پڑھے، ”وَيَدْعُو لِحَاجَتِهِ“، اور دعا کرے اپنی حاجت کے لیے یعنی اپنے لیے دعائیں کر لے بھئی، ”وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ“، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے بھئی، یعنی دونوں ہاتھ اٹھا کر کیا کر لے؟ دعا کر لے بھئی۔
”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قولِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: ”لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِي إِلَّا فِي سَبْعِ مَوَاطِنَ“، کہ ہاتھ نہیں اٹھائے جائیں گے مگر سات جگہوں میں، ”وَذَكَرَ مِنْ جُمْلَتِهَا عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ“، اور ان کے مجموعے میں آپ نے ذکر فرمایا کون سا مقام؟ جمرتین کے پاس جو ہے، ”وَالْمُرَادُ رَفْعُ الْأَيْدِي بِالدُّعَاءِ“، اور مراد جو ہے وہ دعا کے لیے ہاتھوں کا اٹھانا ہے، دعا کے ساتھ ہاتھوں کا اٹھانا ہے۔
”وَيَنْبَغِي أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِلْمُؤْمِنِينَ فِي دُعَائِهِ فِي هَذِهِ الْمَوَاقِفِ“، اور مناسب ہے حاجی کے لیے کہ وہ اور مومنوں کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرے، ”فِي دُعَائِهِ“، اپنی دعا میں، ”فِي هَذِهِ الْمَوَاقِفِ“، ان وقوف کی جگہوں میں، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَاجِّ وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ“، اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْحَاجِّ“، اے اللہ حاجی کی مغفرت فرما، ”وَلِمَنِ اسْتَغْفَرَ لَهُ الْحَاجُّ“، اور اے اللہ اس کی بھی مغفرت فرما جس کے لیے حاجی مغفرت طلب کرے، اے اللہ حاجی کی بھی مغفرت فرما اور جس کے لیے حاجی مغفرت مانگے اے اللہ اس کی بھی مغفرت فرما۔ لہٰذا حاجی کو چاہیے اپنے ساتھ ساتھ اور اپنے گھر والوں کے ساتھ اور مومنین کے لیے بھی کیا کرے مغفرت کی دعا کرے کیونکہ اس کی دعا کی قبولیت کے لیے حضور علیہ السلام نے دعا فرمائی ہے۔
”ثُمَّ الْأَصْلُ“، اب وہ ضابطہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ کہاں وقوف کس جمرے کے بعد کرنا ہے اور کس جمرے کے بعد نہیں کرنا۔ میں نے پہلے بیان کر دیا تھا کہ جس رمی کے بعد پھر رمی ہے اس جمرے کے پاس کیا کرے گا؟ وقوف کرے گا، اور جس جمرے کی رمی کے بعد پھر رمی نہیں ہے وہاں وقوف نہیں کرے گا۔ یہی ذکر کر رہے ہیں:
”ثُمَّ الْأَصْلُ أَنَّ كُلَّ رَمْيٍ بَعْدَهُ رَمْيٌ يَقِفُ بَعْدَهُ“، پھر ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ رمی جس کے بعد رمی ہو، ”يَقِفُ بَعْدَهُ“، تو وقوف کرے اس کے بعد، ”لِأَنَّهُ فِي وَسَطِ الْعِبَادَةِ“، اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے عبادت کے بیچ میں ہے۔ ایک رمی کر لی ہے آگے بھی ابھی پھر کیا کرنی ہے؟ رمی کرنی ہے تو یہ عبادت کے بیچ میں ہے لہٰذا کیا کر لے؟ دعا کر لے بھئی۔ اور پھر اگلی رمی کر لی اس کے بعد پھر رمی کرنی ہے تو عبادت کے بیچ میں ہی ہے ابھی تو کیا کر لے؟ دعا کر لے، اور پھر جب آخری رمی کر لے گا تو پھر اس کے بعد تو رمی نہیں لہٰذا عبادت پوری ہو گئی لہٰذا اب واپس چل پڑے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ فِي وَسَطِ الْعِبَادَةِ فَيَأْتِي بِالدُّعَاءِ فِيهِ“، اس لیے کیونکہ وہ عبادت کے بیچ میں ہے تو اس میں دعا کو لے آئے یعنی دعا کر لے، ”وَكُلُّ رَمْيٍ لَيْسَ بَعْدَهُ رَمْيٌ لَا يَقِفُ“، اور ہر وہ رمی جس کے بعد رمی نہیں ہے ”لَا يَقِفُ“ تو وہاں وقوف نہ کرے، ”لِأَنَّ الْعِبَادَةَ قَدِ انْتَهَتْ“، اس لیے کیونکہ عبادت تحقیق پوری ہو گئی، ”وَلِهَذَا لَا يَقِفُ بَعْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فِي يَوْمِ النَّحْرِ أَيْضًا“، اور اسی وجہ سے وقوف نہیں کرے گا جمرۂ عقبہ کے بعد بھی یوم النحر میں۔ یوم النحر والے دن جب جمرۂ عقبہ کی رمی کر لے گا تو اس کے بعد بھی اسی وجہ سے وقوف نہیں کرے گا کیونکہ اس کے بعد رمی نہیں ہے۔
”قَالَ: وَإِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ“، گیارہ تاریخ کا عمل مکمل ہوا۔ گیارہ تاریخ، تینوں جمرات کی رمی کر لی۔ اب بارہ تاریخ آ گئی، بارہ تاریخ کو بھی کیا کرنا ہے؟ اسی طرح تینوں جمرات کی رمی کرنی ہے، پہلے جمرۂ صغریٰ کی، پھر جمرۂ وسطیٰ کی، اور پھر جمرۂ کبریٰ کی۔ تیرہ تاریخ کی رمی اختیاری ہے، نہیں کرنا چاہتا تو تیرہ تاریخ کی فجرِ صادق سے پہلے پہلے کہاں چلا جائے؟ مکہ مکرمہ چلا جائے، اور اگر تیرہ کی فجر طلوع ہو گئی اور حاجی ابھی منیٰ ہی میں مقیم تھا تو تیرہ کی رمی بھی اس پر واجب ہو گئی اور تیرہ تاریخ کو بھی پھر وہ تینوں جمرات کو اسی ترتیب سے سات سات کنکریاں مارے گا۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
”قَالَ: وَإِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ“، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ“، اور جب اگلا روز آ جائے یعنی بارہ ذی الحجہ ہو جائے، ”رَمَى الْجِمَارَ الثَّلَاثَ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ كَذَلِكَ“، تو رمی کر لے تینوں جمرات کی بعد زوالِ شمس سورج کے ڈھل جانے کے بعد کذلک اسی طریقے پر۔ بھئی جمرۂ عقبہ کی جب رمی کی تھی دس تاریخ کو وہ زوال سے پہلے ہی کی تھی، اور کیونکہ مزدلفہ سے آیا تھا اور آتے ہی سیدھا حضور علیہ السلام نے رمی فرمائی تھی، رمی فرمائی تھی، تو اس کا وقت پہلے ہی سے شروع ہے اور جبکہ یہ گیارہ اور بارہ کو رمی کا وقت زوال کے بعد شروع ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَتَعَجَّلَ النَّفَرَ نَفَرَ إِلَى مَكَّةَ“، اور اگر حاجی کا ارادہ یہ ہے کہ جلدی روانہ ہو جائے، ”نَفَرَ إِلَى مَكَّةَ“، تو وہ مکہ روانہ ہو جائے۔ بارہ تاریخ کی رمی کر لی اب حاجی جلدی جانا چاہتا ہے تو کہاں چلا جائے؟ مکہ چلا جائے، مکہ وہ جا سکتا ہے۔ ”وَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ رَمَى الْجِمَارَ الثَّلَاثَ فِي الْيَوْمِ الرَّابِعِ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ“، اور اگر اس کا ارادہ ہے کہ وہ یہاں مقیم رہے، ”رَمَى الْجِمَارَ الثَّلَاثَ فِي الْيَوْمِ الرَّابِعِ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ“، تو پھر وہ رمی کرے گا تینوں جمرات کی چوتھے دن بھی یعنی کس تاریخ کو؟ تیرہ ذی الحجہ کو بھی، تو تینوں جمرات کی رمی کرے گا، ”بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ“، زوالِ شمس کے بعد بھئی سورج ڈھلنے کے بعد، ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“، بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے، اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى﴾، اللہ فرماتے ہیں: پس جس نے جلدی کی دو دن میں یعنی دو دن میں ہی واپس گیا، ”فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ“، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، ”وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ“، اور جس نے تاخیر کی تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے یعنی جو بعد میں بھی دو دن کے بعد بھی ٹھہرا رہا تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے، ”لِمَنِ اتَّقَى“، اس شخص کے لیے جو ڈرنے والا ہے، جو تقویٰ اختیار کرنے والا ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو معلوم ہوا حاجی جلدی بھی جا سکتا ہے دو دن کے بعد بھی جا سکتا ہے اور چاہے تو اگلا دن بھی رہ سکتا ہے۔
”وَالْأَفْضَلُ أَنْ يُقِيمَ“، اور افضل یہ ہے کہ مقیم رہے بھئی، تیرہ تاریخ کو بھی کہاں رہے؟ منیٰ میں ہی رہے۔ ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ صَبَرَ حَتَّى رَمَى الْجِمَارَ الثَّلَاثَ فِي الْيَوْمِ الرَّابِعِ“، بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر فرمایا یعنی آپ رکے، ”حَتَّى رَمَى الْجِمَارَ الثَّلَاثَ فِي الْيَوْمِ الرَّابِعِ“، یہاں تک کہ آپ نے تینوں جمرات کی رمی فرمائی چوتھے دن بھی۔
”وَلَهُ أَنْ يَنْفِرَ مَا لَمْ يَطْلُعِ الْفَجْرُ مِنَ الْيَوْمِ الرَّابِعِ“، میں نے آپ کو کیا بتلایا تھا؟ یہ تیرہ تاریخ کی رمی کب واجب ہوگی؟ اگر تیرہ کی فجر طلوع ہو گئی۔ یہی ذکر کر رہے ہیں: ”وَلَهُ أَنْ يَنْفِرَ مَا لَمْ يَطْلُعِ الْفَجْرُ مِنَ الْيَوْمِ الرَّابِعِ“، اور حاجی کے لیے روانہ ہونا، واپس جانا جائز ہے جب تک فجر طلوع نہ ہو جائے، ”مِنَ الْيَوْمِ الرَّابِعِ“، چوتھے دن یعنی تیرہ ذی الحجہ کا۔ ”فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ“، پس جب فجر طلوع ہو جائے، ”لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَنْفِرَ“، تو اب اس کے لیے لوٹنا، اب اس کے لیے روانہ ہونا جائز نہیں، ”لِدُخُولِ وَقْتِ الرَّمْيِ“، کیونکہ رمی کا وقت داخل ہو گیا۔
”وَفِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک تیرہ تاریخ کی جب فجر طلوع ہو جائے گی تو اب تیرہ تاریخ کی رمی واجب ہو گئی۔ توجہ ہے؟ جب تیرہ تاریخ کی فجر طلوع ہو جائے گی تو تیرہ تاریخ کی رمی بھی حاجی پر واجب ہو گئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، بارہ تاریخ کو جب سورج ڈوب گیا اور حاجی منیٰ ہی میں تھا تو رات شروع ہوتے ہی اس پر رمی واجب ہو گئی یعنی سورج غروب ہوتے ہی رمی اس پر واجب۔ تو وہ فرماتے ہیں بارہ کا جب سورج ڈوب جائے گا اور حاجی منیٰ میں ہے تو اس پر اگلے دن کی رمی واجب۔ ہم کہتے ہیں نہیں سورج ڈوبنے سے نہیں بلکہ ابھی سات آٹھ گھنٹے کا اور وقت ہے، جب فجر طلوع ہوگی تو پھر اس وقت کیا ہو جائے گی اس پر رمی واجب ہو جائے گی۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو یہ معنیٰ ہے: ”وَفِيهِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا۔
”وَإِنْ قَدَّمَ الرَّمْيَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَعْنِي الْيَوْمَ الرَّابِعَ قَبْلَ الزَّوَالِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اب آگے اختلاف ذکر ہو رہا ہے امام صاحب کا اور صاحبین کا۔ تیرہ تاریخ آ چکی ہے اور یہ چوتھا دن ہے رمی کا، تو یہ رمی کب سے کب کر سکتے ہیں بھئی؟ کس وقت اس کا وقت شروع ہوتا ہے یعنی؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں یہ رمی صبح کے وقت بھی کر سکتا ہے یعنی زوال سے پہلے بھی کر سکتا ہے۔ گیارہ اور بارہ کو تو زوال سے پہلے درست نہیں تھا لیکن تیرہ تاریخ کو زوال سے پہلے بھی کر سکتا ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، جیسے گیارہ اور بارہ کو زوال کے بعد رمی کا وقت شروع ہوتا تھا تو یہاں پر بھی یہ رمی کب کرنا پڑے گی؟ زوال کے بعد کرنا پڑے گی یعنی تیرہ تاریخ کو بھئی تیرہ تاریخ کو۔ وہ فرماتے ہیں اس کو رخصت تھی یہ منیٰ سے کہاں چلا جاتا؟ مکہ چلا جاتا، لیکن اس نے تو رخصت سے فائدہ نہیں اٹھایا تو چوتھا دن بھی یہیں پر آ گیا، تو جب چوتھے دن میں رخصت سے فائدہ نہیں اٹھایا تو اس دن کا بھی وہی حکم ہو جائے گا جو گزشتہ دنوں یعنی گیارہ اور بارہ کا تھا اور گیارہ اور بارہ کو تو زوال کے بعد رمی ہوتی تھی لہٰذا اس دن بھی زوال کے بعد ہی رمی ہوگی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
”وَإِنْ قَدَّمَ الرَّمْيَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَعْنِي الْيَوْمَ الرَّابِعَ“، اور اگر حاجی نے رمی کو مقدم کر دیا اس دن میں یعنی کہ چوتھے دن میں، ”قَبْلَ الزَّوَالِ“، زوال سے پہلے ہی، رمی کو مقدم کر دیا زوال سے پہلے ہی، ”بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ“، فجر کے طلوع ہو جانے کے بعد، ”جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، تو یہ امام صاحب کے نزدیک جائز ہے۔ ”هَذَا اسْتِحْسَانٌ“، اور یہ استحسان ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ زوال سے پہلے جائز نہیں ہونا چاہیے لیکن استحساناً امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ جائز ہے بھئی۔ دیکھیے آگے قیاس بھی آ رہا ہے صاحبین کا: ”وَقَالَا: لَا يَجُوزُ“، اور صاحبین فرماتے ہیں: زوال سے پہلے جائز نہیں ہے، ”اعْتِبَارًا بِسَائِرِ الْأَيَّامِ“، قیاس کرتے ہوئے باقی ایام پر۔ باقی ایام میں زوال سے پہلے رمی جائز نہیں تھی تو تیرہ تاریخ کو بھی انہی پر قیاس کرتے ہوئے زوال سے پہلے رمی جائز نہیں ہوگی۔
”وَإِنَّمَا التَّفَاوُتُ فِي رُخْصَةِ النَّفْرِ“، اور فرق جو تھا وہ صرف روانگی کی رخصت میں تھا۔ گیارہ اور بارہ کی رمی واجب تھی اور تیرہ تاریخ کا فرق کیا تھا اس سے؟ کہ اس میں روانگی کی رخصت تھی، جانا چاہے تو جا سکتا ہے، صرف اس میں فرق تھا۔ یہ معنیٰ ہے: ”وَإِنَّمَا التَّفَاوُتُ فِي رُخْصَةِ النَّفْرِ“، اور فرق جو تھا وہ صرف روانگی کی رخصت میں تھا، ”فَإِذَا لَمْ يَتَرَخَّصْ“، پس جب اس نے رخصت نہیں لی، اس حاجی نے رخصت نہیں لی اس دن کی، ”الْتَحَقَ بِهَا“، تو یہ دن بھی مل گیا بہا ان دنوں کے ساتھ، اور ان دنوں میں تو زوال کے بعد رمی تھی لہٰذا اس میں بھی زوال کے بعد ہوگی۔
”وَمَذْهَبُهُ مَرْوِيٌّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا“، اور امام صاحب کا جو مذہب ہے وہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے بھئی، کہ زوال سے پہلے بھی کر سکتا ہے تیرہ تاریخ کو۔
”وَلِأَنَّهُ“، جی یہ امام صاحب کی دلیل اب آگے آ رہی ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا تھا کہ زوال سے پہلے یہ رمی جائز نہ ہو لیکن استحساناً یہ رمی زوال سے پہلے بھی جائز ہوگی تو آگے وہ دلیل آ رہی ہے امام صاحب کی بھئی۔ ”وَلِأَنَّهُ لَمَّا ظَهَرَ أَثَرُ التَّخْفِيفِ فِي هَذَا الْيَوْمِ فِي حَقِّ التَّرْكِ“، عجیب دلیل ہے امام صاحب کی۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس دن تو رمی کو بالکل چھوڑ دینے کی بھی رخصت ہے کہ انسان کیا کرے؟ پہلے ہی مکہ چلا جائے، تو جب اس رمی کو بالکل چھوڑ دینے کی رخصت ہے تو اس کے وقت کے اندر تو بطریقِ اولیٰ رخصت ہوگی کہ جب مرضی کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
”وَلِأَنَّهُ لَمَّا ظَهَرَ أَثَرُ التَّخْفِيفِ فِي هَذَا الْيَوْمِ فِي حَقِّ التَّرْكِ“، اور اس لیے کیونکہ جب تخفیف کا اثر ظاہر ہوا، ہلکا ہو گیا نا، ہلکا حکم ہو گیا یا نہیں بھئی کہ وہ چھوڑ سکتا ہے، تو جب تخفیف کا اثر ظاہر ہوا فی ھذا الیوم اس دن میں فی حق الترک چھوڑنے کے حق میں، جب چھوڑنے کے حق میں تخفیف کا حکم ظاہر ہو گیا اس دن میں، ”فَلِأَنْ يَظْهَرَ فِي جَوَازِهِ فِي الْأَوْقَاتِ كُلِّهَا أَوْلَى“، تو یہ کہ ظاہر ہو اس تخفیف کا اثر اس رمی کے جائز ہونے میں فی الاوقات کلھا تمام اوقات میں اولیٰ یہ بطریقِ اولیٰ ہوگا۔ ترجمہ سمجھ میں آیا بھئی؟
”بِخِلَافِ الْيَوْمِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي“، بخلاف پہلے اور دوسرے دن کے، ”حَيْثُ لَا يَجُوزُ الرَّمْيُ فِيهِمَا إِلَّا بَعْدَ الزَّوَالِ فِي الْمَشْهُورِ مِنَ الرِّوَايَةِ“، کیونکہ جائز نہیں ہے رمی کرنا ان دو دنوں میں یعنی پہلے اور دوسرے دن میں۔ کون سے پہلے اور دوسرے دن؟ ہاں، گیارہ اور بارہ مراد ہیں۔ تو اس لیے کیونکہ پہلا اور دوسرا دن یعنی گیارہ اور بارہ کو جب تینوں جمرات کی رمی کی تھی تو وہاں جائز نہیں تھا رمی کرنا ان دو دنوں میں الا بعد الزوال مگر زوال کے بعد ہی فی المشہور من الروایہ مشہور روایت کے مطابق، ”لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ تَرْكُهُ فِيهِمَا“، اس لیے کیونکہ وہاں پر رمی کا چھوڑنا بھی ان دو دنوں میں جائز نہیں، جب چھوڑنا جائز نہیں تھا تو وہاں وقت کے اندر بھی کوئی تخفیف نہیں، اور یہاں چھوڑنے کے اندر تخفیف ظاہر ہو رہی ہے تو وقت کے اندر تخفیف بطریقِ اولیٰ ظاہر ہوگی۔
”فَبَقِيَ عَلَى الْأَصْلِ الْمَرْوِيِّ“، تو وہ دونوں جو رمی ہیں ان دو دنوں کی وہ اپنی اصل روایت کی گئی پر وہ اپنی روایت کی گئی اصل پر ہی باقی رہیں گی ان دو دنوں کی رمی۔ اور ان میں کیا اصل روایت کی گئی ہے؟ کہ کب ہو؟ زوال کے بعد ہو بھئی، زوال کے بعد ہو۔ ”فَبَقِيَ عَلَى الْأَصْلِ الْمَرْوِيِّ“، تو وہ رمی باقی رہے گی اپنی روایت کی ہوئی اصل پر یعنی زوال سے پہلے وہ جائز نہیں ہوگی بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔