Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-139

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 139
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
قَالَ: ”وَمَنْ صَلَّى الظُّهْرَ فِي رَحْلِهِ وَحْدَهُ صَلَّى الْعَصْرَ فِي وَقْتِهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً، وَقَالَا: يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا الْمُنْفَرِدُ، لِأَنَّ جَوَازَ الْجَمْعِ لِلْحَاجَةِ إِلَى امْتِدَادِ الْوُقُوفِ، وَالْمُنْفَرِدُ مُحْتَاجٌ إِلَيْهِ“. حج افراد کا طریقہ ذکر کر رہے ہیں صاحب ہدایہ اور صاحب قدوری بھئی۔ اور اب تک آپ نے پڑھ لیا کہ حج افراد کرنے والا وہ احرام باندھے گا حج کی نیت سے، اور پھر جب مکہ پہنچ جائے تو طواف قدوم جو ہے وہ سنت ہے وہ کرے گا۔ اور اس کے بعد وہ حج کی سعی کرنا چاہتا ہے تو اس طواف قدوم کے اندر وہ اضطباع بھی کر لے گا یعنی دائیں کندھے کو بھی ننگا کر لے گا اور پہلے تین چکروں میں رمل بھی کرے گا۔ طواف کے بعد طواف کے دو واجب رکعتیں جو ہیں واجب الطواف وہ ادا کر لے گا، پھر اس کے بعد صفا مروہ کے درمیان سعی کرے گا۔ اور پھر جب آٹھویں ذی الحجہ آ جائے گی تو پھر وہ منی روانہ ہو گا، جب فجر پڑھ لی اور سورج طلوع ہو گیا اب منی روانہ ہو جائے گا۔ اور وہاں پانچ نمازیں ادا کرے گا یعنی ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور اگلے دن کی فجر کی نماز۔ اور انہی ایام میں امام جو ہے وہ تین خطبے بھی دے گا۔ پہلا خطبہ ساتویں ذی الحجہ کو ہو گا، دوسرا خطبہ نویں ذی الحجہ کو، اور تیسرا خطبہ گیارہویں ذی الحجہ کو، یعنی ایک ایک دن چھوڑ کر خطبہ دے گا امام۔ اور پھر جب حاجی منی سے عرفات چلا گیا نویں ذی الحجہ کو، تو پھر وہاں پر امام دوسرا خطبہ دے گا۔ اور خطبے کے بعد ظہر اور عصر کی نماز جو ہے ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ظہر ہی کے وقت میں ادا کی جائیں گی۔ اور اب اگر کوئی شخص اپنی جگہ پر نماز ادا کرتا ہے چاہے اکیلا ہو چاہے دوسری جماعت ہو اپنی، تو اس کا طریقہ آج بیان کریں گے کہ اس صورت میں بھی عصر اور ظہر کو جمع کیا جائے گا یا جمع نہیں کیا جائے گا۔ تو حاصل کلام یہ ہے یاد رکھیے گا کہ امام صاحب کے نزدیک جمع بین الصلاتین کے لیے تین شرطیں تھیں بھئی، تین شرطیں جیسے پہلے ذکر ہو چکا۔ ایک تو یہ کہ جماعت کروانے والا وہ امام المسلمین ہو یا اس کا کوئی نائب ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور وہ تو وہ بڑی جماعت ہی کے ساتھ ہو گا یعنی جیسے آج کل وہ مسجد نمرہ کے اندر وہ جو امام ہوتا ہے وہ باقاعدہ حکومت کی طرف سے مقرر ہے، تو وہ نائب ہے بھئی نائب، سمجھ میں آیا؟ تو وہ ہو، اور دوسری شرط کہ اس میں جماعت ہونی چاہیے وہ بھی موجود ہوتی ہے، اور تیسری شرط یہ کہ احرام بھی ہونا چاہیے۔ تو امام صاحب کے نزدیک یہ تین شرطیں ہونا ضروری ہیں جمع بین الصلاتین کے لیے، اور اسی پر فتویٰ بھی اسی پر ہے بھئی۔ تو لہٰذا بڑی جماعت ہو، اور وہ امام جو نائب ہے حکومت کی طرف سے مقرر ہے، اور حالت احرام میں ہو تو انسان کیا کر سکتا ہے؟ پھر وہاں جمع بین الصلاتین کر سکتا ہے۔ البتہ اس کے اندر ایک چیز کا ضرور لحاظ رکھنا جو میں نے پہلے بیان کر دی تھی کہ امام کا مسافر ہونا ضروری ہے، اس لیے کیونکہ یہاں پر ان کی طرف سے بھی جو امام مقرر ہوتا ہے وہ قصر کرواتا ہے۔ یعنی ظہر بھی چار کے بجائے دو رکعت پڑھاتا ہے، عصر بھی چار کے بجائے دو رکعت پڑھاتا ہے، یہ قصر کیا جا رہا ہے، اور قصر صرف سفر شرعی کے اندر جائز ہے اس کے بغیر تو قصر جائز نہیں، تو اگر امام مسافر ہو تو حنفی مقتدی اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں، لیکن اگر امام مسافر نہیں ہے یہیں مکہ سے آیا ہے تو پھر اس کے لیے تو قصر جائز نہیں لہٰذا اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جائے گی ورنہ نماز ہی نہیں ہو گی۔ تو اس صورت میں پھر ظہر اور عصر کی نماز اپنے مقام پر انسان ادا کر لے، اپنی جماعت کروا لے، اور جمع بین الصلاتین کو بھی ترک کر دیا جائے گا، ظہر کی نماز ظہر کے وقت میں ہو گی اور عصر کی نماز عصر کے وقت میں ہو گی کیونکہ یہاں پر وہ بڑی جماعت نہیں، نائب جماعت نہیں کروا رہا، حالانکہ امام المسلمین یا اس کے نائب کا جماعت کروانا شرط تھا کس کے لیے؟ جمع بین الصلاتین۔ جماعت بھی موجود ہے اگر اپنی جگہ پر کوئی جماعت کرواتا ہے، جماعت بھی موجود ہے، احرام بھی موجود ہے، لیکن ایک شرط پوری نہیں کہ نماز کروانے والا کون ہو؟ امام المسلمین یا اس کا نائب ہو۔ تو حاصل کلام یہ ہوا کہ اپنی جگہ پر جب بھی یہ نمازیں ادا کی جائیں گی تو اپنے اپنے وقت پر ادا کی جائیں گی، جمع بین الصلاتین یہاں نہیں ہو گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں اپنے مقام پر بھی جب یہ نمازیں ادا کی جائیں تو پھر جمع بین الصلاتین کیا جائے گا بھئی، جمع بین الصلاتین۔ لیکن میں نے بتلایا کہ فتویٰ کس کے قول پر ہے؟ امام صاحب کے قول پر۔ یہی بیان کر رہے ہیں۔ قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَنْ صَلَّى الظُّهْرَ فِي رَحْلِهِ“ رحل کجاوے کو بھی کہتے ہیں، اسی طرح اس کا ایک معنی رہائش گاہ کے بھی آتے ہیں، تو یہاں یہ رہائش گاہ کے معنی میں ہے یعنی جہاں پر وہ حاجی جس جگہ پر مقیم ہے وہ اقامت والی جگہ وہ ہے رحل بھئی۔ تو صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَنْ صَلَّى الظُّهْرَ فِي رَحْلِهِ“ اور جس نے ظہر کی نماز ادا کی اپنی رہائش کی جگہ پر، اپنی اقامت گاہ پر، ”وَحْدَهُ“ اکیلے ہی، ”صَلَّى الْعَصْرَ فِي وَقْتِهِ“ تو وہ عصر کی نماز اپنے وقت میں پڑھے گا، یعنی اب جمع بین الصلاتین نہیں کرے گا، ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب کے نزدیک، ”وَقَالَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں: ”يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا الْمُنْفَرِدُ“ کہ منفرد بھی ان دو جماعتوں کو، ان دو نمازوں کو جمع کرے گا، ”لِأَنَّ جَوَازَ الْجَمْعِ لِلْحَاجَةِ إِلَى امْتِدَادِ الْوُقُوفِ“ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ یہ جو جمع بین الصلاتین کیا جاتا ہے عرفات کے اندر اس کا مقصد یہ ہے تاکہ وقوف عرفات لمبا ہو جائے۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہونا ہے، رونا ہے، دعائیں کرنی ہیں، تو یہ اس کے لیے انسان کو اس وقوف کے لیے تاکہ اسے لمبا وقت مل جائے لہٰذا منفرد بھی اس کا محتاج ہے، وہ محتاج ہے کہ اسے بھی لمبا وقت ملے وقوف عرفات کا بھئی، تو لہٰذا وہ بھی کیا کرے گا؟ جمع بین الصلاتین کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ جَوَازَ الْجَمْعِ لِلْحَاجَةِ إِلَى امْتِدَادِ الْوُقُوفِ“ اس لیے کیونکہ یہ جمع کا جائز ہونا وقوف کے لمبا ہونے کی حاجت کی وجہ سے یہ دو نمازوں کا جمع کرنا جائز ہوا ہے، ”وَالْمُنْفَرِدُ مُحْتَاجٌ إِلَيْهِ“ اور منفرد بھی اس کا محتاج ہے۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب فرماتے ہیں کہ دیکھیے ہر نماز کے لیے شریعت نے الگ وقت مقرر کیا ہے، اور عصر کی نماز کا وقت عصر کے وقت ہے اس سے پہلے نہیں، اور یہ نصوص کے ذریعے، قطعی نصوص کے ذریعے ثابت ہے قرآن و حدیث کے، تو یہ قطعی نصوص کے ذریعے ثابت ہے لہٰذا اس پر عمل ضروری ہے۔ کس پر عمل ضروری ہے؟ کہ ہر نماز کو اس کے اپنے وقت پر ادا کرنا چاہیے کیونکہ یہ کس کے ذریعے ثابت ہے؟ نصوص کے ذریعے، قرآن و حدیث کے قطعی دلائل سے ثابت ہے کہ ہر نماز اپنے وقت پر ہونی چاہیے۔ اور یہاں پر کیا کیا جا رہا ہے؟ عصر کو وقت سے پہلے ادا کیا جا رہا ہے یعنی اس پر عمل کو ترک کیا جا رہا ہے، لہٰذا اس پر عمل کو اسی مقام پر ترک کیا جائے گا جس کے ساتھ شریعت وارد ہوئی ہے، جیسا شریعت میں آیا ہے بھئی۔ کیا کیا جا رہا ہے؟ بھئی ہر نماز کے وقت کی حفاظت کی جائے گی یا نہیں کی جائے گی؟ کی جائے گی۔ ہر نماز کے وقت کی حفاظت کی جائے گی، اس کو اپنے وقت پر ادا کیا جائے گا، صرف کس جگہ پر اس کو چھوڑا جائے گا؟ جہاں شریعت نے بتلایا ہو۔ ویسے تو ویسے چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہے۔ عصر کی نماز عصر ہی کے وقت ہو سکتی ہے، آپ ظہر کے وقت کسی بھی صورت میں عام احوال میں ادا نہیں کر سکتے۔ تو یہاں دیکھیے وہ وقت کی حفاظت ضروری تھی لیکن اس وقت کی حفاظت کو چھوڑ دیا گیا اور کس مقام پر چھوڑا جائے گا؟ جہاں شریعت نے بتلایا ہے، اور شریعت نے کہاں بتلایا ہے؟ عرفہ والے دن، اور کیا شرائط تھیں اس کے اندر؟ امام المسلمین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جماعت کروا رہے تھے اور امام وہ تھے اور جماعت بھی تھی ساتھ، وہ اکیلے نماز ادا کر رہے تھے یا جماعت کے ساتھ؟ جماعت کے ساتھ۔ تو دوسری شرط یہ کہ جماعت بھی ہونی چاہیے اور تیسری شرط یہ کہ ان کے پیچھے جو ادا کرنے والے تھے وہ حاجی تھے یا غیر حاجی تھے؟ حاجی تھے، وہ سب حج کا احرام باندھے ہوئے تھے، معلوم ہوا یہ تین شرطیں ضروری ہیں۔ ان کے بغیر وقت کی حفاظت کو ترک نہیں کیا جائے گا بھئی کیونکہ اس کے بارے میں نصوص آئی ہیں، قطعی طور پر یہ بات نصوص کے اندر آئی ہے کہ ہر نماز کو اس کے وقت میں ادا کیا جائے گا اور لہٰذا اس کو اگر چھوڑیں گے ہم تو اسی مقام پر چھوڑنے کی گنجائش ہو گی جس کے بارے میں جہاں شریعت نے گنجائش دی ہے، اور شریعت نے گنجائش دی ہے کس صورت میں؟ جبکہ جماعت کروانے والا کون ہو؟ امام المسلمین، اور نماز بھی کس کے ساتھ ہو؟ جماعت کے ساتھ ہو، اور پڑھنے والے بھی حالتِ احرام میں ہوں وہ ان کے لیے گنجائش ہو گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ الْمُحَافَظَةَ عَلَى الْوَقْتِ فَرْضٌ بِالنُّصُوصِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ وقت کی محافظت یعنی وقت کی حفاظت جو ہے فرض ہے نصوص کی وجہ سے یعنی قرآن و حدیث کی وجہ سے، ”فَلَا يَجُوزُ تَرْكُهُ إِلَّا فِيمَا وَرَدَ الشَّرْعُ بِهِ“ لہٰذا اس محافظت علی الوقت کو ترک کرنا جائز نہیں ہے مگر اس صورت ہی میں جس کے ساتھ شریعت وارد ہوئی ہے، ”وَهُوَ الْجَمْعُ بِالْجَمَاعَةِ مَعَ الْإِمَامِ“ اور وہ کون سی صورت ہے کہ وہ جمع کیا جائے نمازوں کو جماعت کے ساتھ امام یعنی امام المسلمین کے ساتھ، ”وَالتَّقْدِيمُ لِصِيَانَةِ الْجَمَاعَةِ“ یہاں سے جواب دے رہے ہیں صاحبین کی دلیل کا۔ صاحبین نے کیا ذکر کیا تھا کہ یہ جمع کرنا کیوں جائز ہوا ہے عرفات کے اندر تاکہ حاجی کو وقوف عرفات کا وقت زیادہ سے زیادہ مل سکے، تو اس کا بتلا رہے ہیں امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہاں پر یہ جو عصر کی نماز کو اپنے وقت پر مقدم کیا گیا یہ جماعت کی حفاظت کے لیے ہے۔ کس لیے ہے؟ یہ وقوف کو لمبا کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ جماعت کی حفاظت کے لیے ہے۔ وجہ یہ کہ ظہر کے وقت سارے حاجی اکٹھے ہو گئے اور جماعت ادا کر لی امام المسلمین کے ساتھ یا اس کے نائب کے ساتھ، اور پھر اگر ابھی عصر ادا نہیں کی جائے گی سارے حاجی اپنے اپنے مقام پر واپس چلے جائیں گے جہاں جہاں اقامت ہے ان کی، اور پھر عصر کے وقت سارے دوبارہ اکٹھے ہوں گے تو مشکل میں پڑ جائیں گے کیونکہ وقت تھوڑا ہے اور پھر سارے اکٹھے ہوں اور اپنی جگہ پر پہنچیں تو اب وقوف کے وقت میں بڑی کمی آ جائے گی بھئی۔ تو لہٰذا یہاں پر جو جمع کو جائز قرار دیا گیا وہ جماعت کی حفاظت کے لیے ہے۔ کس لیے ہے؟ ورنہ تو جماعت کی حفاظت نہ ہو سکے گی، لوگ بکھر جائیں گے، پھر پھیل جائیں گے کس کے اندر؟ عرفات کے اندر، اور دوسری مرتبہ سب کے لیے جمع ہونا مشکل ہو جائے گا۔ تو یہاں یہ جمع کرنا جائز ہے کس وجہ سے جائز ہے؟ جماعت کی حفاظت کے لیے جائز ہوا ہے، وقوف کو لمبا کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ کس لیے ہے؟ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ امام صاحب کیا فرماتے ہیں یہاں جمع کرنا یعنی جمع بین الصلاتین کیوں جائز ہوا ہے؟ جماعت کی حفاظت کے لیے جائز ہوا ہے، وقوف کو لمبا کرنے کے لیے نہیں۔ اس لیے کیونکہ وقوف تو پھر بھی لمبا ہو سکتا ہے۔ حاجی اگر اپنی جگہ پر نماز ادا کر رہا ہے تو کھانے اور پینے میں بھی مشغول ہو گا یا نہیں؟ کھانا بھی اس نے کھانا ہے، سمجھ میں آئی بات؟ تو کھانا کھانے وغیرہ میں بھی مشغول ہو گا تو اس کی وجہ سے بھی دیکھو وقوف کے لمبا ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کھانے پہ تو چند منٹ لگیں گے، اور اسی طرح اگر وہ اپنے اپنے وقت پر ظہر اور عصر ادا کرے گا تو بھی وقوف کے لمبا ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا، ظہر کی نماز وہ اپنے وقت پر ادا کرتا ہے اپنی جگہ پر چند منٹ لگیں گے، عصر کی نماز اپنے وقت پر ادا کرتا ہے چند منٹ لگیں گے، جیسے کھانے پینے سے امتداد وقوف پر کوئی فرق نہیں پڑتا اسی طرح اپنے اپنے وقت پر پڑھنے سے بھی امتداد وقوف میں کوئی فرق نہیں پڑے گا اس پہ تو چند منٹ لگیں گے۔ لہٰذا معلوم ہوا یہاں جو جمع بین الصلاتین جائز ہوا یہ وقوف کو لمبا کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ کس لیے ہے؟ جماعت کی حفاظت کے لیے ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّقْدِيمُ لِصِيَانَةِ الْجَمَاعَةِ“ اور مقدم کرنا جو ہے یعنی عصر کو جو مقدم کرنا ہے وہ جماعت کی حفاظت کے لیے ہے، ”لِأَنَّهُ يَعْسُرُ عَلَيْهِمُ الِاجْتِمَاعُ لِلْعَصْرِ بَعْدَمَا تَفَرَّقُوا فِي الْمَوْقِفِ“ اس لیے کیونکہ مشکل ہو جائے گا لوگوں پر جمع ہونا عصر کے لیے بعد اس کے کہ جب وہ بکھر گئے ہوں موقف میں، جبکہ وہ متفرق ہو گئے ہوں، جدا جدا ہو گئے ہوں موقف کے اندر تو پھر ان کے لیے جمع ہونا مشکل ہو گا، ”لَا لِمَا ذَكَرَاهُ“ نہ کہ اس وجہ سے جس کو صاحبین نے ذکر کیا، یعنی امتداد وقوف کے لیے نہیں ہے، ”إِذْ لَا مُنَافَاةَ“ اس لیے کیونکہ کوئی منافات نہیں ہے کس چیز میں؟ امتداد وقوف میں اور اپنے اپنے وقت میں نماز کے ادا کرنے میں۔ اپنے اپنے وقت میں نماز ادا کی جائے اور امتداد وقوف بھی پایا جائے یہ دونوں ہو سکتے ہیں کیونکہ نماز پر کوئی اتنا زیادہ وقت تو نہیں لگتا بھئی، یہ معنی ہے ”إِذْ لَا مُنَافَاةَ“ اس کے کیونکہ کوئی منافات نہیں ہے۔ ”ثُمَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ الْإِمَامُ شَرْطٌ فِي الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا“ یہاں سے امام صاحب اور امام زفر کا اختلاف ذکر فرما رہے ہیں۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں امام المسلمین کا دونوں جماعتوں میں ہونا شرط ہے کہ جماعت کروانے والا کون ہو؟ امام المسلمین یا اس کا نائب ہو۔ ظہر میں بھی وہ ہونا چاہیے اور عصر میں بھی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام المسلمین کا ہونا صرف عصر کی نماز میں شرط ہے، ظہر کی نماز میں شرط نہیں۔ امام صاحب کے نزدیک دونوں میں شرط، اور امام زفر رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ عصر میں۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز تو اپنے وقت کے اندر ہے اس میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی لہٰذا اس میں امام المسلمین کا ہونا شرط نہیں ہے، ہاں عصر کی نماز کو اپنے وقت سے بدلا گیا ہے، ادا تو اس کو کرنا چاہیے تھا عصر کے وقت لیکن کب ادا کیا جا رہا ہے؟ ظہر کے وقت، تو چونکہ صرف عصر کی نماز میں تبدیلی آئی ہے اس کو صرف بدلا گیا ہے اپنے وقت سے لہٰذا اس کے اندر امام المسلمین کا ہونا شرط ہے، ظہر کی نماز میں امام المسلمین کا ہونا شرط نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ الْإِمَامُ شَرْطٌ فِي الصَّلَاتَيْنِ جَمِيعًا“ پھر امام صاحب کے نزدیک امام کا ہونا شرط ہے دونوں نمازوں میں، ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْعَصْرِ خَاصَّةً“ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام کا ہونا شرط ہے عصر میں خاص طور پر، ”لِأَنَّهُ هُوَ الْمُغَيَّرُ عَنْ وَقْتِهِ“ اس لیے کیونکہ عصر ہی کی نماز کو بدلا گیا ہے اپنے وقت سے، ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الْإِحْرَامُ بِالْحَجِّ“ اور اسی اختلاف پر احرام بالحج بھی ہے بھئی۔ اسی اختلاف پر احرام بالحج بھی ہے۔ امام صاحب کے نزدیک بھئی دونوں نمازوں کے اندر حج کا احرام ہونا ضروری ہے پھر ہی جمع بین الصلاتین اس شخص کے لیے جائز ہو گا ورنہ جائز نہیں، اگر ایک مقیم آدمی ہے یا ایک غیر حاجی ہے وہ ویسے ہی کیا کر رہا ہے؟ یہاں پر آ کر نماز ادا کر رہا ہے تو اس کے لیے جائز نہیں بلکہ دونوں نمازوں میں کیا ہونا ضروری؟ احرام کا ہونا ضروری۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عصر کے اندر احرام کا ہونا ضروری ہے کیونکہ عصر کو اپنے وقت سے بدلا گیا ہے لہٰذا ظہر کی نماز تو اپنے وقت میں ادا کی جا رہی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ صرف عصر میں احرام کی شرط لگاتے ہیں۔ یہ معنی ہے ”وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ الْإِحْرَامُ بِالْحَجِّ“ اور اسی اختلاف پر ہے احرام حج کا۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، امام زفر رحمہ اللہ کی تو دلیل گزر گئی وہ فرماتے ہیں کیونکہ صرف عصر کو اپنے وقت سے بدلا گیا ہے لہٰذا اس میں شرط ہے امام کا ہونا بھی اور احرام کا ہونا بھی۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ دونوں میں امام المسلمین کا ہونا بھی ضروری اور احرام کا ہونا بھی ضروری، تو ان کی دلیل اب ذکر ہو رہی ہے۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ التَّقْدِيمَ عَلَى خِلَافِ الْقِيَاسِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ یہ جو تقدیم عصر ہے، عصر کو مقدم کرنا ہے یہ کیا ہے؟ خلاف القیاس ہے۔ قیاس تو کیا تقاضا کرتا ہے؟ ہر نماز کو اپنے اپنے وقت پر ہونا۔ تو یہاں پر جو عصر کی نماز کو مقدم کیا گیا یہ خلاف القیاس ہے، ”عُرِفَتْ شَرْعِيَّتُهُ فِيمَا إِذَا كَانَتِ الْعَصْرُ مُرَتَّبَةً عَلَى ظُهْرٍ مُؤَدًّى بِالْجَمَاعَةِ مَعَ الْإِمَامِ فِي حَالَةِ الْإِحْرَامِ بِالْحَجِّ“ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو عصر کا مقدم کرنا ہے یہ خلاف القیاس ہے، اس کے مشروع ہونے کو جانا گیا ہے یعنی یہ بات جانی گئی ہے کہ یہ جائز ہے، کیا جائز ہے؟ عصر کی نماز کو اپنے وقت سے مقدم کرنا۔ اس کا جائز ہونا جو ہے اس کو جانا گیا ہے اس صورت میں، اب وہ شرطیں ساری ذکر ہوں گی امام صاحب کی، اس صورت میں ”إِذَا كَانَتِ الْعَصْرُ مُرَتَّبَةً عَلَى ظُهْرٍ“ جبکہ یہ عصر کس پر مرتب ہو؟ ظہر پر۔ بھئی عصر کی نماز کو اپنے وقت سے کیا کیا جا رہا ہے؟ پہلے ادا کیا جا رہا ہے، اپنے وقت پر مقدم کیا جا رہا ہے اور یہ خلاف القیاس ہے اور جو چیز خلاف القیاس ہوتی ہے وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے، تو یہاں پر بھی عصر کی نماز کا مقدم ہونا جو کہ خلاف القیاس ہے اس کی تقدیم کے جائز ہونے کو جانا گیا ہے کس صورت میں؟ ”إِذَا كَانَتِ الْعَصْرُ مُرَتَّبَةً عَلَى ظُهْرٍ“ جب یہ عصر کس پر مرتب ہو؟ ظہر پر، یعنی اس سے پہلے کون سی نماز ہو؟ ظہر کی ہو، پھر اس کے بعد عصر کی ہو۔ ”عَلَى ظُهْرٍ مُؤَدًّى بِالْجَمَاعَةِ“ ایسی ظہر جو ادا کی گئی ہو کس کے ساتھ؟ جماعت کے ساتھ، ”مَعَ الْإِمَامِ“ کس کے ساتھ؟ امام یعنی امام المسلمین کے ساتھ، ”فِي حَالَةِ الْإِحْرَامِ بِالْحَجِّ“ کون سی حالت میں؟ حج کے احرام کی حالت میں، حج کے احرام۔ ”فَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ“ لہٰذا یہ تقدیم اسی پر بند رہے گی۔ چونکہ یہ خلاف القیاس ہے اور جو چیز خلاف القیاس ہوتی ہے وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے لہٰذا یہ تقدیم عصر، عصر کو اپنے وقت سے مقدم کرنا یہ بھی بند رہے گی اسی صورت پر جیسا شریعت میں آیا ہے، اور شریعت میں یہ کب آیا ہے؟ کس صورت میں مقدم کرنا جائز ہے؟ جب عصر کی نماز جو ہے وہ مرتب ہو کس پر؟ ایسی ظہر کی نماز پر جس کو کس کے ساتھ ادا کیا گیا ہے؟ جماعت کے ساتھ ادا کیا گیا ہے، کس کے ساتھ؟ امام المسلمین کے ساتھ ادا کیا گیا ہے، اور کس حالت میں ادا کیا گیا ہے؟ حج کے احرام کی حالت میں اس کو ادا کیا گیا ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی اچھی طرح؟ اب ترجمہ دوبارہ دیکھ لیجیے۔ تو امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّ التَّقْدِيمَ عَلَى خِلَافِ الْقِيَاسِ عُرِفَتْ شَرْعِيَّتُهُ فِيمَا إِذَا كَانَتِ الْعَصْرُ مُرَتَّبَةً عَلَى ظُهْرٍ مُؤَدًّى بِالْجَمَاعَةِ مَعَ الْإِمَامِ فِي حَالَةِ الْإِحْرَامِ بِالْحَجِّ فَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ“ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو عصر کو مقدم کرنا ہے یہ خلاف القیاس ہے اور جانا گیا ہے اس کے مشروع ہونے کو یعنی اس کے جائز ہونے کو اس صورت میں ”إِذَا كَانَتِ الْعَصْرُ مُرَتَّبَةً عَلَى ظُهْرٍ“ جبکہ وہ عصر مرتب ہو رہی ہو ایسی ظہر کی نماز پر ”مُؤَدًّى بِالْجَمَاعَةِ“ جس کو ادا کیا گیا ہو جماعت کے ساتھ ”مَعَ الْإِمَامِ“ امام کے ساتھ ”فِي حَالَةِ الْإِحْرَامِ بِالْحَجِّ“ حج کے احرام کی حالت میں ”فَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ“ لہٰذا یہ تقدیم عصر اسی پر بند رہے گی، صرف اسی حالت میں اس کے مقدم کرنے کی اس کو مقدم کرنا جائز ہو گا اور صورتوں میں اس کو مقدم کرنا جائز نہیں لہٰذا یہ تینوں چیزیں اس کے اندر شرط ہوں گی: جماعت بھی ہو، امام المسلمین بھی ہو، اور حج کا احرام بھی ہو بھئی۔ حاصل کلام یہ کہ امام صاحب کے نزدیک تینوں شرطیں ہیں: احرام بھی ہو، جماعت بھی ہو، اور امام المسلمین بھی ہو۔ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک عصر کے اندر یہ تینوں شرطیں ہونا ضروری ہیں کیونکہ اس کو صرف اپنے وقت سے بدلا گیا ہے۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک صرف احرام کا ہونا شرط ہے، جماعت کا ہونا بھی شرط نہیں اور امام المسلمین کا ہونا بھی شرط نہیں ہے بھئی۔ ”ثُمَّ لَا بُدَّ مِنَ الْإِحْرَامِ بِالْحَجِّ قَبْلَ الزَّوَالِ فِي رِوَايَةٍ تَقْدِيمًا لِلْإِحْرَامِ عَلَى وَقْتِ الْجَمْعِ“ پھر یاد رکھیے کہ یہ اس میں احرام کا ہونا شرط ہے، احرام کا ہونا شرط ہے۔ تو یہ احرام کب سے ہونا چاہیے؟ کیا صرف ظہر کی نماز سے پہلے اگر کسی نے حج کا احرام باندھ لیا اور حج شروع کر دیا کیا یہ کافی ہو جائے گا؟ تو یاد رکھیے اس میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت یہ کہ یہ احرام زوال سے پہلے ہونا چاہیے، شرط ہے۔ یہ احرام کب ہونا چاہیے حج کا؟ زوال سے پہلے۔ لہٰذا زوال کے بعد اگر کوئی حج کا احرام باندھ کر حج شروع کرتا ہے یہاں پر تو اس کے لیے یہ جمع بین الصلاتین جائز نہیں۔ جمع بین الصلاتین جائز نہیں۔ اور دوسری روایت یہ ہے کہ یہ احرام جو ہے نماز پر مقدم ہو جائے تو کافی ہے یعنی ظہر کی نماز سے پہلے احرام باندھ لیا تو کافی۔ تو پہلی روایت کیا؟ زوال سے پہلے احرام ہونا شرط ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ جیسے ہی زوال ہو گا ساتھ ہی جمع بین الصلاتین کا وقت شروع ہو گیا، تو لہٰذا پہلے سے ہی کیا ہو انسان اس حالت میں ہو کہ جمع اس کے لیے جائز ہو کیونکہ زوال ہوتے ہی کس کا وقت شروع ہو رہا ہے؟ جمع کا وقت، تو جیسے ہی وہ وقت ہو وہ شرط پوری پہلے سے ہونی چاہیے بھئی۔ اور دوسرا دوسری روایت کیا ہے؟ نماز سے پہلے بھی احرام ہو جائے چاہے زوال کے بعد ہی کیوں نہ ہو تو بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے اس لیے کیونکہ مقصود تو نماز ہے اور نماز سے پہلے تو احرام پایا گیا لہٰذا کافی ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ ”ثُمَّ لَا بُدَّ مِنَ الْإِحْرَامِ بِالْحَجِّ قَبْلَ الزَّوَالِ فِي رِوَايَةٍ“ پھر ضروری ہے حج کا احرام زوال سے پہلے ہی ایک روایت کے مطابق، ”تَقْدِيمًا لِلْإِحْرَامِ عَلَى وَقْتِ الْجَمْعِ“ تاکہ مقدم کر دیا جائے احرام کو جمع کے وقت پر، جمع بین الصلاتین کے وقت پر، ”وَفِي أُخْرَى يُكْتَفَى بِالتَّقْدِيمِ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور دوسری روایت کے مطابق اکتفاء کیا جائے گا اس احرام کے نماز پر مقدم ہونے پر ہی، ”لِأَنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ الصَّلَاةُ“ اس لیے کیونکہ مقصود وہ نماز ہی ہے بھئی۔ قَالَ: ”ثُمَّ يَتَوَجَّهُ إِلَى الْمَوْقِفِ فَيَقِفُ بِقُرْبِ الْجَبَلِ وَالْقَوْمُ مَعَهُ عَقِيبَ انْصِرَافِهِمْ مِنَ الصَّلَاةِ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”ثُمَّ يَتَوَجَّهُ إِلَى الْمَوْقِفِ“ پھر امام جو ہے متوجہ ہو جائے موقف کی طرف یعنی وقوف کی جگہ کی طرف، ”فَيَقِفُ بِقُرْبِ الْجَبَلِ“ پس وہ وقوف کرے یعنی کھڑا ہو پہاڑ کے قریب بھئی، وہاں پہاڑی ہے ایک چھوٹی سی بھئی عرفات میں جسے جبل رحمت کہتے ہیں، تو پس وہ وقوف کرے امام اس پہاڑی کے قریب، ”وَالْقَوْمُ مَعَهُ“ اس حال میں کہ لوگ ان کے ساتھ ہوں، ”عَقِيبَ انْصِرَافِهِمْ مِنَ الصَّلَاةِ“ نماز سے پلٹ جانے کے بعد۔ نماز سے پلٹنے کے بعد بھئی امام کس طرف متوجہ ہو جائے؟ موقف کی طرف اور وہاں اس پہاڑی کے قریب وقوف کرے اس حال میں کہ لوگ ان کے ہمراہ ہوں۔ ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَاحَ إِلَى الْمَوْقِفِ عَقِيبَ الصَّلَاةِ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے موقف کی طرف نماز کے بعد، ”وَالْجَبَلُ يُسَمَّى جَبَلَ الرَّحْمَةِ“ اور یہ پہاڑ جو ہے اس کو جبل رحمت کہتے ہیں، ”وَالْمَوْقِفُ الْمَوْقِفَ الْأَعْظَمَ“ اور اس موقف کو موقف اعظم کہتے ہیں۔ قَالَ: ”وَعَرَفَاتٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ إِلَّا بَطْنَ عُرَنَةَ، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: عَرَفَاتٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ، وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ وَادِي مُحَسِّرٍ“. صاحب قدوری فرماتے ہیں کہ عرفات سارا کا سارا موقف ہے بھئی۔ عرفات میں جہاں بھی انسان وقوف کرنا چاہے وقوف کر سکتا ہے سوائے بطن عرنہ کے۔ یہ ایک جگہ ہے وہاں پر اس کا نام کیا ہے بطن عرنہ۔ تو صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَعَرَفَاتٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ“ اور عرفات جو ہے سارا کا سارا وہ موقف ہے، ”إِلَّا بَطْنَ عُرَنَةَ“ سوائے بطن عرنہ کے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے آپ نے فرمایا: ”عَرَفَاتٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ“ کہ عرفات سارا کا سارا موقف ہے، ”وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ“ یہ ابھی حدیث چل رہی ہے بھئی اگلے ”قَالَ“ تک یہ ساری حدیث چل رہی ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: عرفات سارا کا سارا موقف ہے، ”وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عُرَنَةَ“ ارتفع کے ایک معنی جدا رہنے اور الگ رہنے کے آتا ہے اور یہی معنی یہاں مراد ہے، کہ عرفات سارا موقف ہے اور تم لوگ جدا رہو بطن عرنہ سے یعنی اس سے الگ رہو، اس سے دور رہو۔ ”وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ“ اسی طرح مزدلفہ سارا کا سارا موقف ہے، ”وَارْتَفِعُوا عَنْ وَادِي مُحَسِّرٍ“ اور تم لوگ جدا رہو وادی محسر سے۔ محسر یہ سین کے کسرہ کے ساتھ ہے بھئی، اس میں فاعل کا صیغہ ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ محسر بھئی، ”وَعَنْ وَادِي مُحَسِّرٍ“۔ تو یہ عرفات کے قریب ایک وادی ہے اور اس کا نام وادی محسر ہے بھئی۔ اور کہتے ہیں یہاں وہ ابرہہ جو ہے وہ یمن کا گورنر اپنا لشکر لے کر آیا تھا اور یہاں اس کا وہ لشکر تباہ و برباد ہوا، اللہ کی طرف سے اس پر عذاب نازل ہوا۔ بھئی بیت اللہ کی اللہ تعالیٰ نے ابتدا سے ہی لوگوں کے دلوں میں بے انتہا حرمت اور بے انتہا عظمت لوگوں کے دلوں میں اللہ نے بٹھا دی تھی اور تمام لوگ بیت اللہ کا بے انتہا احترام کرتے تھے۔ یمن کا جو گورنر تھا ابرہہ اس کو اس بات سے بڑی تکلیف تھی کہ یہ سارے لوگ بیت اللہ کے پاس کیوں جاتے ہیں۔ چنانچہ اس نے بیت اللہ کے مقابلے میں اپنے ہاں ایک بڑا بیت بنوایا بھئی، اور بڑا زبردست بھئی اور قیمتی پتھر وغیرہ ان کے ذریعے بنوایا، بڑا خوبصورت اور بڑا عالی شان قسم کا بھئی۔ اور لوگوں کو مجبور کرتا تھا کہ اس کا طواف کرو بھئی، زبردستی لوگوں پر وہ زبردستی کرتا تھا۔ تو کہاں بیت اللہ بھئی اس کی تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں عظمت بٹھا رکھی تھی اور کہاں ایک انسانی بیت بنایا ہوا! چنانچہ وہ لوگوں کو زبردستی اس پر مجبور کرتا تھا۔ ایک رات کسی نے ایسا کیا کہ اس کے جو جگہ بنوائی ہوئی تھی اس میں پیشاب پاخانہ وغیرہ کر کے آ گیا رات کو۔ اس کو صبح خبر ملی، بڑا غصہ چڑھا بھئی، یہ میری اس جگہ کی کس نے بے حرمتی کی ہے! اور پھر اس نے لشکر تیار کیا کہ اب میں جاؤں گا اور بیت اللہ جو ہے اس کو نہیں چھوڑوں گا اس کو میں گرا کر آؤں گا بھئی۔ بڑا لشکر تیار کیا اور اس میں بہت سے ہاتھی بھی اس نے لیے بھئی لشکر کے اندر۔ عرب والوں نے تو پہلے کبھی ہاتھی دیکھے ہی نہیں تھے بھئی، تو یہ پوری شان و شوکت کے ساتھ اور بڑا لشکر جرار لے کر وہ چل پڑا بھئی۔ اور چلتے چلتے جب وہ یہاں پہنچا مزدلفہ میں بھئی، یہ وادی محسر کے اندر پہنچا بھئی۔ ادھر قریش والوں کو پتہ چلا کہ ابرہہ بڑا لشکر لے کر آ رہا ہے تو قریش والے جو ہیں ان کو ادھر اطلاع ملی کہ ابرہہ بڑا لشکر لے کر آیا ہے اور قریب ہی پہنچ گیا ہے بیت اللہ کے اوپر حملہ کرنا چاہتا ہے اس کو گرانا چاہتا ہے، تو حضور علیہ السلام کے دادا وغیرہ جو تھے انہوں نے سارے قریش والوں کو حکم دیا کہ مکہ خالی کر دو سارے پہاڑوں پر چلے جاؤ۔ کسی نے کہا یہ کیا بات ہے، تم بیت اللہ کی تمہیں ذرا بھی عزت اور عظمت کا خیال نہیں ہے تم اس کے لیے لڑ بھی نہیں سکتے، ایک فوج آ رہی ہے اس کے ساتھ تمہیں لڑنا تو چاہیے؟ تو عجیب جواب دیا حضور علیہ السلام کے دادا وغیرہ نے بھئی۔ فرمانے لگے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور اس کی حفاظت بھی اللہ تعالیٰ ہی کریں گے بھئی۔ چنانچہ سارے پہاڑوں پر چلے گئے۔ ادھر ابرہہ وہ اپنا لشکر لے کر اور بڑے بڑے ہاتھی لشکر کے آگے چل رہے ہیں اور جو دیکھتا ہے اس پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ تو یہاں کہتے ہیں یہ وادی محسر کے اندر جب وہ پہنچا تو یہاں ہاتھیوں نے آگے چلنے سے انکار کر دیا۔ بڑا زور لگایا بھئی ہاتھی آگے چلتے ہی نہیں۔ واپس موڑیں تو دوڑنے لگتے ہیں اور آگے چلائیں تو ایک قدم نہیں ہلا رہے۔ حتیٰ کہ ان کو مار مار کر انہوں نے زخمی کر دیا، نیزے چبھوئے، سب کچھ کیا، زخمی ہو گئے ہاتھی لیکن ایک قدم اس سے آگے نہیں جا رہے، اور پھر یہیں پر اللہ تعالیٰ نے وہ پرندے بھیج دیے چھوٹے چھوٹے جنہوں نے وہ کنکریاں اٹھائی ہوئی تھیں۔ ہر پرندے نے تین تین کنکریاں اٹھائی ہوئی تھیں، اور چھوٹے چھوٹے چڑیا جیسے پرندے اور چھوٹی چھوٹی کنکریاں بھئی چنے کے دانے کے برابر، ایک کنکری ایک پنجے میں، دوسری کنکری دوسرے پنجے میں، ایک چونچ کے اندر، یہ ہر پرندے نے تین تین کنکریاں اٹھائی ہوئی ہیں اور وہ آئے اور اس لشکر کے اوپر جب وہ پہنچے تو انہوں نے وہ کنکریاں چھوڑ دیں بھئی۔ آج سائنس اتنی ترقی کر گئی لیکن ابھی تک اس قدر طاقتور گولی نہیں ایجاد کر سکی جتنی خطرناک وہ کنکریوں نے جو خطرناک عمل کیا بھئی۔ وہ جس شخص کے سر پر پڑ جاتی تھیں نیچے اس کے قدم سے نکل جاتی تھیں بھئی، ہاتھیوں کے اوپر پڑتی تھیں ان کے قدموں کے نیچے سے نکل جاتی تھیں بھئی۔ چنانچہ سارا لشکر وہیں پر نیست و نابود کر دیا گیا اور تمام لوگوں پر بیت اللہ کی عظمت اور ہیبت اور زیادہ ان پر چھا گئی کہ کس طرح اس عظیم لشکر کو اللہ نے تباہ و برباد کر دیا اور نمونہ عبرت بنا دیا۔ تو یہ کہتے ہیں یہ وادی محسر کے اندر ان پر یہ عذاب آیا اس لیے یہاں عذاب آیا، اور جہاں اللہ کا عذاب آئے وہاں ٹھہرنا نہیں چاہیے بھئی، وہاں سے انسان اگر گزرنا بھی پڑے جلد سے جلد نکل جائے وہاں سے بھئی۔ تو یہاں اس لیے منع کیا گیا بھئی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ“ کہ مزدلفہ سارا کا سارا موقف ہے یعنی وقوف کی جگہ ہے، ”وَارْتَفِعُوا عَنْ وَادِي مُحَسِّرٍ“ اور جدا رہو وادی محسر سے، دور رہو وادی محسر سے۔ قَالَ: ”وَيَنْبَغِي لِلْإِمَامِ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ عَلَى رَاحِلَةٍ“. فقہائے کرام پر اللہ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوں بھئی، کیسے دین کی ایک چھوٹی سے چھوٹی بات کو محفوظ کیا بھئی کہ کس طرح نمازیں ادا کرنی ہیں، پھر کس طرح چلنا ہے، حضور علیہ السلام کس وقت چلے تھے؟ سورج طلوع ہونے سے پہلے چلے تھے یا سورج طلوع ہونے کے بعد چلے تھے؟ پھر حضور علیہ السلام صحابہ کو لے کر کہاں پر آئے؟ کہاں آپ نے وقوف فرمایا؟ اور پھر کس طرح سے وقوف فرمایا؟ اور ایک ایک چیز انہوں نے محفوظ کی اور احکام کی صورت میں احادیث سے نکال کر ان کو بیان کر دیا بھئی۔ تو کہتے ہیں صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَنْبَغِي لِلْإِمَامِ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ عَلَى رَاحِلَةٍ“ اور مناسب ہے امام کے لیے کہ وہ وقوف عرفہ کرے سواری پر۔ امام المسلمین کو کس پر وقوف کرنا چاہیے؟ اپنی سواری پر، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَفَ عَلَى نَاقَتِهِ“ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف فرمایا اپنی اونٹنی پر، ”وَإِنْ وَقَفَ عَلَى قَدَمَيْهِ جَازَ“ اور اگر امام نے وقوف فرمایا اپنے قدموں پر یعنی ویسے قدموں پر ہی کھڑے ہو کر وقوف کیا تو یہ بھی جائز ہے، ”وَالْأَوَّلُ أَفْضَلُ لِمَا بَيَّنَّا“ اور اول صورت افضل ہے یعنی سواری پر افضل ہے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی یعنی کہ حضور علیہ السلام نے اونٹنی پر وقوف فرمایا تھا۔ ”وَيَنْبَغِي أَنْ يَقِفَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ“ اور مناسب یہ ہے کہ امام وقوف کرے قبلہ رخ ہو کر، قبلے کی طرف متوجہ ہو کر، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَفَ كَذَلِكَ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے اسی طرح وقوف فرمایا تھا یعنی قبلہ رخ ہو کر، ”وَقَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ: خَيْرُ الْمَوَاقِفِ مَا اسْتُقْبِلَتْ بِهِ الْقِبْلَةُ“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مواقف میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اندر استقبال قبلہ کیا جائے، ”وَيَدْعُو وَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْمَنَاسِكَ“ اور امام جو ہے وہ دعا بھی کرے اور لوگوں کو حج کے اعمال بھی سکھائے، ”لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَدْعُو يَوْمَ عَرَفَةَ مَادًّا يَدَيْهِ كَالْمُسْتَطْعِمِ الْمِسْكِينِ“ بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ دعا فرما رہے تھے یوم عرفہ والے دن اس حال میں کہ آپ نے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے جیسے کہ کھانا مانگنے والا مسکین ہوتا ہے، ”وَيَدْعُو بِمَا شَاءَ“ اور امام دعا کرے جو چاہے، ”وَإِنْ وَرَدَ الْآثَارُ بِبَعْضِ الدَّعَوَاتِ“ اگرچہ احادیث آئی ہیں بعض دعاؤں کے بارے میں۔ اگرچہ احادیث میں بعض دعائیں آئی ہیں لیکن امام جو بھی چاہے یہاں دعا کر سکتا ہے۔ ”وَقَدْ أَوْرَدْنَا تَفْصِيلَهَا فِي كِتَابِنَا الْمُتَرْجَمِ بِـ: عُدَّةِ النَّاسِكِ فِي عِدَّةٍ مِنَ الْمَنَاسِكِ بِتَوْفِيقِ اللَّهِ تَعَالَى“ اور تحقیق ہم لائے ہیں ان دعاؤں کی تفصیل اپنی کتاب میں جو موسوم ہے یعنی جس کا نام جو ہے وہ ”عُدَّةُ النَّاسِكِ فِي عِدَّةٍ مِنَ الْمَنَاسِكِ“ ہے بھئی۔ یہ صاحب ہدایہ نے کتاب لکھی جس میں وہ دعائیں وغیرہ ذکر ہیں، حج کے طریقہ اور تفصیلات ذکر ہیں بھئی۔ ”عُدَّةُ النَّاسِكِ“، نسک میں نے بتایا تھا کسے کہتے ہیں؟ عبادت کو، اور عام یہ استعمال عموماً حج کے لیے ہوتا ہے۔ تو عدہ، ”عُدَّةُ النَّاسِكِ“، عدہ کا معنی ہے تیاری، ”عُدَّةُ النَّاسِكِ“ حاجی کی تیاری ”فِي عِدَّةٍ مِنَ الْمَنَاسِكِ“، عدہ کہتے ہیں شمار کو، مناسک حج کی عبادتیں بھئی حج کے افعال جو ہیں، حاجی کی تیاری افعال حج کے شمار میں یعنی ان کے مجموعے میں حاجی کی تیاری، تو اس میں ہم لے کر آئے ہیں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے۔ قَالَ: ”وَيَنْبَغِي لِلنَّاسِ أَنْ يَقِفُوا بِقُرْبِ الْإِمَامِ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں اور مناسب ہے لوگوں کے لیے کہ وہ کھڑے ہوں، وہ وقوف کریں امام کے قریب ہی، ”لِأَنَّهُ يَدْعُو وَيُعَلِّمُ فَيَعُوا وَيَسْتَمِعُوا“ اس لیے کیونکہ امام جو ہے وہ دعا کرے گا اور سکھائے گا حج کے احکامات، دعا بھی وہ کرے گا اور حج کے احکام بھی سکھائے گا تو یہ اس کو یاد کریں اور توجہ سے سنیں، ”وَيَنْبَغِي أَنْ يَقِفُوا وَرَاءَ الْإِمَامِ“ اور مناسب یہ ہے کہ لوگ جو ہیں وہ وقوف کریں امام کے پیچھے، امام کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے سب کو، ”لِيَكُونَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ“ تاکہ وہ بھی قبلہ رخ ہو جائیں۔ امام کا رخ قبلے کی طرف ہے اور لوگ اس کے پیچھے ہوں گے تو لوگوں کا رخ بھی کس طرف ہو جائے گا؟ قبلے کی طرف، یہ معنی ہے ”لِيَكُونَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ“ تاکہ وہ قبلہ رخ ہو جائیں بھئی۔ ”وَهَذَا بَيَانُ الْأَفْضَلِيَّةِ“ اور یہ افضل ہونے کا بیان ہے کہ افضل یہ ہے یوں کریں، ”لِأَنَّ عَرَفَاتٍ كُلَّهَا مَوْقِفٌ عَلَى مَا ذَكَرْنَا“ اس لیے کیونکہ عرفات جو ہے وہ سارا کا سارا موقف ہے بوجہ اس حدیث کے جس کو ہم نے ذکر کر دیا، تو جہاں بھی چاہے وہ وقوف کر سکتا ہے، افضل یہ ہے کہ امام کے پاس کرے ورنہ جہاں چاہے وقوف کر لے چاہے اپنی رہائش کی جگہ پر ہی کر لے جہاں قیام ہے اس کا۔ قَالَ: ”وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَغْتَسِلَ قَبْلَ الْوُقُوفِ بِعَرَفَةَ وَيَجْتَهِدَ فِي الدُّعَاءِ“. صاحب قدوری فرماتے ہیں اور مستحب یہ ہے کہ حاجی جو ہے وہ غسل کر لے وقوف عرفہ سے پہلے، اس سے پہلے کیا ہے مستحب یہ ہے کہ غسل کر لے، ”وَيَجْتَهِدَ فِي الدُّعَاءِ“ اور مستحب یہ ہے کہ کوشش کرے دعا میں یعنی خوب دعائیں مانگے بھئی۔ ”أَمَّا الِاغْتِسَالُ فَهُوَ سُنَّةٌ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ“ باقی غسل کرنا تو وہ سنت ہے اور واجب نہیں ہے، ”وَلَوِ اكْتَفَى بِالْوُضُوءِ جَازَ“ اور اگر حاجی نے وضو پر اکتفاء کر لیا تو بھی جائز ہے، ”كَمَا فِي الْجُمُعَةِ وَالْعِيدَيْنِ وَعِنْدَ الْإِحْرَامِ“ جیسے کہ جمعے کے اندر ہے اور دونوں عیدوں کے اندر ہے اور احرام کے وقت ہے بھئی، ان مواقع پر اگرچہ غسل سنت ہے لیکن اگر کوئی وضو بھی کر لے تو جائز ہے۔ ”وَأَمَّا الِاجْتِهَادُ“ باقی متن میں یہ بھی آیا تھا کہ دعا میں خوب کوشش کرے اس کی بھی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اور باقی دعا میں جو کوشش ہے ”فَلِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اجْتَهَدَ فِي الدُّعَاءِ فِي هَذَا الْمَوْقِفِ لِأُمَّتِهِ“ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقف میں دعا میں خوب کوشش فرمائی اپنی امت کے لیے، آپ نے اپنی امت کے لیے دعا میں یہاں بہت کوشش فرمائی خوب دعائیں فرمائیں، ”فَاسْتُجِيبَ لَهُ إِلَّا فِي الدِّمَاءِ وَالْمَظَالِمِ“ تو آپ کی دعائیں قبول کی گئیں سوائے دماء کے یعنی خونوں کے، خون جو ہے قتل قتلوں میں، اور مظالم، مظالم جمع ہے مظلمۃ کی اور یہ ظلم اور ناانصافی کو کہتے ہیں۔ قتلوں اور ناانصافیوں کے علاوہ باقی آپ کی جتنی دعائیں تھیں امت کے حق میں وہ ساری قبول کر لی گئیں، لیکن ناحق کوئی کسی کو قتل کرتا ہے یا کسی پر ظلم کرتا ہے ناانصافی کرتا ہے اس کے سلسلے میں آپ کی دعا قبول نہیں کی گئی، باقی تمام چیزوں کے اندر آپ نے اور جتنی دعائیں مانگیں اپنی امت کے لیے وہ ساری قبول کر لی گئیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ البتہ یہ دو قسم کے جو لوگ ہیں یہ قتل کرنے والے اور ظلم اور ناانصافی کرنے والے ان کی بخشش کا وعدہ نہیں کیا گیا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَيُلَبِّي فِي مَوْقِفِهِ سَاعَةً بَعْدَ سَاعَةٍ“ اور حاجی تلبیہ کہتا رہے اپنے موقف پر ایک گھڑی کے بعد دوسری گھڑی، یعنی تھوڑی تھوڑی دیر بعد حاجی کیا کرتا رہے؟ تلبیہ کہتا رہے۔ ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ كَمَا يَقِفُ بِعَرَفَةَ“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حاجی جیسے ہی وقوف کرے گا عرفات میں تو تلبیہ بند کر دے گا۔ یہ کون فرماتے ہیں؟ امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ رحمت واسعۃ وہ فرماتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں یہ تلبیہ میں زبان کے ذریعے دعوت کو قبول کیا جا رہا تھا کہ اے اللہ میں آ گیا ہوں، اے اللہ میں آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے حاضر ہوں، اے اللہ میں آ گیا ہوں۔ تو یہ زبان سے کہنا تھا جب تک باقاعدہ حج کے ارکان نہیں شروع کیے تھے، اور جب باقاعدہ حج کے ارکان شروع کر دیے، عمل باقاعدہ شروع کر دیا تو اب زبان سے کہنے کی ضرورت نہیں۔ اب زبان سے کیونکہ اب تو باقاعدہ عمل ہی شروع کر دیے، اس سے پہلے تو کوئی باقاعدہ عمل شروع نہیں کیے تھے بھئی۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں زبان سے تب تک کہیں گے جب تک عمل ابھی شروع نہیں کیا، کہتے رہیں گے اللہ میں آ گیا ہوں میں حاضر ہوں، اور جب باقاعدہ عمل شروع کر دیا اب تو باقاعدہ ارکان شروع کر دیے ہیں اب کہنے کی ضرورت نہیں اب تو اس کا عمل بتلا رہا ہے کہ وہ آ گیا ہے اور حاضر ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَقْطَعُ التَّلْبِيَةَ كَمَا يَقِفُ بِعَرَفَةَ“ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ حاجی جو ہے تلبیہ کو بند کر دے گا جیسے ہی وہ وقوف کرے گا عرفہ میں، ”لِأَنَّ الْإِجَابَةَ بِاللِّسَانِ قَبْلَ الِاشْتِغَالِ بِالْأَرْكَانِ“ اس لیے کیونکہ زبان سے جواب دینا یہ حج کے ارکان میں مشغول ہونے سے پہلے ہے اور جب حج کے ارکان میں مشغول ہو گیا تو اب تو باقاعدہ عمل کر رہا ہے اب زبان سے کہنے کی حاجت نہیں۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”مَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ“ وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ آپ تشریف لے آئے جمرہ عقبہ پر، کس پر؟ جمرہ عقبہ پر آخری جو جمرہ ہے جمرہ کبریٰ، اور وہ کس دن رمی کرتے ہیں اس کی؟ آج نویں ذی الحجہ ہے، عرفات میں ہیں، اگلے دن کہاں پہنچیں گے؟ رات منی میں گزاریں گے اور صبح کہاں پہنچیں گے؟ پھر واپس منی میں پہنچیں گے اور یہ دسویں ذی الحجہ اور عید کا دن ہے اور میں نے آپ کو بتلایا تھا اس دن جمرہ کبریٰ کی رمی کریں گے۔ تین جمرات ہیں، جو مسجد خیف ایک بڑی مسجد ہے منی کے اندر، اس مسجد خیف کے قریب ایک جمرہ ہے اس کو جمرہ صغریٰ کہتے ہیں، پھر اس سے آگے قبلے کی طرف جائیں بیت اللہ کی طرف جائیں تو چند قدم کے فاصلے پر دوسرا جمرہ ہے اس کو جمرہ وسطیٰ کہتے ہیں، پھر اس سے اور آگے بیت اللہ کی طرف چند قدم اور چلیں تو پھر تیسرا جمرہ ہے، ترتیب سمجھ میں آ رہی ہے؟ مسجد خیف کے قریب جمرہ صغریٰ ہے، اس سے آگے جمرہ وسطیٰ، اور بیت اللہ کی طرف جو سب سے قریب والا ہے وہ کیا ہے؟ جمرہ کبریٰ ہے۔ تو یوم النحر یعنی دسویں ذی الحجہ کو صرف اس جمرہ کبریٰ کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں، جبکہ گیارہ اور بارہ کو تینوں جمرات کو کنکریاں مارتے ہیں، پہلے صغریٰ کو، پھر وسطیٰ کو، اور پھر کبریٰ کو۔ تو گیارہ اور بارہ کو تینوں جمرات کی رمی کرتے ہیں لیکن دس کو صرف جمرہ کبریٰ کی رمی کرتے ہیں تو یہ جمرہ عقبہ یہ جمرہ کبریٰ ہے بھئی۔ تو یہاں تک حضور علیہ السلام تلبیہ کہتے رہے۔ پھر جب دسویں ذی الحجہ کو آپ نے کیا کیا؟ اس جمرہ کبریٰ پر کنکریاں مارنی شروع کیں تو پہلی کنکری مارتے ہی بس اس کے بعد تلبیہ دوبارہ آپ نے نہیں کہا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حضور علیہ السلام ہمیشہ تلبیہ کہتے رہے ”حَتَّى أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ“ یہاں تک کہ آپ جمرہ عقبہ پر تشریف لے آئے پھر آپ نے بند فرما دیا۔ ”وَلِأَنَّ التَّلْبِيَةَ فِيهِ كَالتَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ تلبیہ جو ہے حج کے اندر جیسے کہ تکبیر ہوتی ہے نماز میں، ”فَيَأْتِي بِهَا إِلَى آخِرِ جُزْءٍ مِنَ الْإِحْرَامِ“ لہٰذا حاجی اس کو لے کر آئے گا احرام کے آخری جز تک یعنی احرام کے آخری حصے تک وہ تلبیہ کہتا رہے گا اور یہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد ہی اب حاجی نے کیا کرنا ہے؟ قربانی کرنی ہے اور احرام کو اتارنا ہے لہٰذا اس وقت تک وہ تلبیہ کہتا رہے گا۔ چلیے بس ہَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 139 of 169