Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-122

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 131
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَمَنِ ابْتَلَعَ الْحَصَاةَ أَوِ الْحَدِيدَ أَفْطَرَ لِوُجُودِ صُورَةِ الْفِطْرِ وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ لِعَدَمِ الْمَعْنَى، وَمَنْ جَامَعَ فِي أَحَدِ السَّبِيلَيْنِ عَامِدًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ اسْتِدْرَاكًا لِلْمَصْلَحَةِ الْفَائِتَةِ وَالْكَفَّارَةُ لِتَكَامُلِ الْجِنَايَةِ۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنِ ابْتَلَعَ الْحَصَاةَ أَوِ الْحَدِيدَ أَفْطَرَ“ اور جس نے نگل لیا، ”الْحَصَاةَ“ کنکری کو، حصاة کہتے ہیں کنکری اور سنگریزے کو بھئی۔ کنکری جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ تو حصاة کہتے ہیں کنکری اور سنگریزے کو۔ ”وَمَنِ ابْتَلَعَ الْحَصَاةَ“ اور جس نے کنکری کو نگل لیا، ”أَوِ الْحَدِيدَ“ یا لوہے کو، یعنی لوہے کا کوئی چھوٹا ٹکڑا نگل گیا، ”أَفْطَرَ“ تو یہ اس کے روزے کو توڑ دے گا، ”لِوُجُودِ صُورَةِ الْفِطْرِ“ اس لیے کیونکہ فطر کی صورت پائی گئی کہ ایک چیز خارج سے کہاں پہنچ گئی؟ پیٹ کے اندر پہنچ گئی تو صورتاً فطر موجود ہے۔ اگرچہ معناً فطر نہیں، معناً فطر تو کس طرح ہوتا ہے؟ کہ وہ ایسی چیز ہو جو جسم کو غذائیت دینے والی ہے یا نفع دینے والی ہے، مثلاً کوئی دوا وغیرہ ہے۔ تو معناً فطر یہاں نہیں پایا گیا کیونکہ یہ بدن کو کوئی نفع دینے والی چیز نہیں ہے بھئی۔ تو صورتاً فطر پایا گیا تو اس وجہ سے صرف اس پر قضا آئے گی، کفارہ نہیں آئے گا۔ ”وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ“ اور اس پر کفارہ نہیں ہے، ”لِعَدَمِ الْمَعْنَى“ کیونکہ معنیٰ فطر نہیں پایا گیا، کوئی بدن کو نفع دینے والی چیز نہیں داخل ہوئی بدن میں۔ ”وَمَنْ جَامَعَ فِي أَحَدِ السَّبِيلَيْنِ عَامِدًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ“ اور جس شخص نے جماع کیا اپنی بیوی سے، ”فِي أَحَدِ السَّبِيلَيْنِ“ دو راستوں میں سے کسی ایک میں، یعنی اگلے یا پچھلے راستے میں سے کسی ایک میں، ”عَامِدًا“ جان بوجھ کر، یعنی کہ اس کو روزہ یاد تھا، ”فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ“ تو اس پر قضا واجب ہے، اور آگے متن میں آ رہا ہے ”وَالْكَفَّارَةُ“ اور نیز اس پر کیا آئے گا؟ کفارہ بھی آئے گا۔ تو اس پر قضا واجب ہے، ”اسْتِدْرَاكًا لِلْمَصْلَحَةِ الْفَائِتَةِ“، استدراک کہتے ہیں تلافی کرنا، فوت شدہ مصلحت کی تلافی کے لیے اس پر قضا واجب ہے۔ بھئی دیکھیے، روزے میں مصلحت یہ ہے کہ اس کے ذریعے نفس امارہ مغلوب ہوتا ہے۔ یہ جو انسان کا نفس ہے نا نفس، یہ انسان کو برائی پر ابھارتا ہے، برائی پر اس کو آمادہ کرتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ کہلاتا ہے نفس امارہ، وہ نفس جو حکم دینے والا ہے، نفس امارہ بالسوء، برائی کا حکم دینے والا ہے۔ تو روزے کا مقصد یہ ہے تاکہ انسان کا یہ نفس امارہ مغلوب ہو جائے۔ ورنہ تو یہ نفس، یہ خواہشات ذکر کرتا رہتا ہے، مثلاً کبھی کھانے پینے کی خواہش دل میں پیدا ہو رہی ہے، انسان اس کو پورا کرتا ہے، کبھی نفس کہتا ہے کہ ادھر کو گھومنے چلتے ہیں، گھومنے کی خواہش پوری ہو رہی ہے، کبھی نفس کہتا ہے فلاں سے باتیں کرتے ہیں بھئی بیٹھ کر، اس کی خواہش پوری ہو رہی ہے، کبھی اور غلط خواہشات پر انسان کو ابھارتا ہے، تو سارا سال یہ گویا نفس انسان پر غالب سے غالب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ تو پھر شریعت نے روزے واجب کیے، اور ایک آدھ دن کے نہیں پورے ایک مہینے کے واجب کیے تاکہ یہ نفس جو تاکہ یہ نفس کیا ہے؟ مغلوب ہو جائے بھئی، مغلوب ہو جائے، جو نیکی کے سلسلے میں رکاوٹ بنتا ہے اور برائی کی طرف انسان کو لے کر جاتا ہے۔ لہٰذا اس نفس کو مغلوب کرنے کے لیے شریعت نے روزے کا حکم دیا، یعنی اس کی جو تین بڑی خواہشات ہیں کھانا، پینا اور جماع، ان پر پابندی لگا دی گئی۔ یعنی روزے کا حکم دے کر ان چیزوں پر صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک ان چیزوں پر پابندی لگا دی گئی جو اس کی تین یہ بڑی خواہشات ہیں تاکہ یہ مغلوب ہو جائے، اور صرف ایک روزے یا دو کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ پورا رمضان کا مہینہ روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا تاکہ یہ نفس اچھی طرح مغلوب ہو جائے بھئی، اچھی طرح مغلوب ہو جائے۔ تو روزے کا مقصد کیا ہوا؟ نفس امارہ کو مغلوب کرنا، تو یہ ہے مصلحت روزے کے اندر بھئی۔ مصلحت یہ روزے کی، اور مصلحتوں میں سے ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے تاکہ نفس امارہ مغلوب ہو جائے۔ اور یہاں پر تو اس نے کیا کیا ہے؟ اس کی خواہش پوری کر دی ہے، نفس کی خواہش پوری کر دی، روزے کی حالت میں اس نے کیا کر لیا؟ صحبت کر لی ہے، تو نفس کی خواہش پوری کر دی، تو نفس امارہ مغلوب ہوا یا غالب ہو گیا؟ غالب ہو گیا، تو وہ مصلحت ہی فوت ہو گئی جس کے لیے روزے کو واجب کیا گیا تھا۔ تو اس فوت شدہ مصلحت کی تلافی کے لیے اس کی قضا کرنا پڑے گی، یہ روزہ پھر رکھنا پڑے گا۔ وجہ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنیٰ ہے ”اسْتِدْرَاكًا لِلْمَصْلَحَةِ الْفَائِتَةِ“، تلافی کرنے کے لیے فوت شدہ مصلحت کی اس پر قضا واجب ہو گی۔ ”وَالْكَفَّارَةُ لِتَكَامُلِ الْجِنَايَةِ“ اور کفارہ بھی واجب ہو گا، جنایت کے کامل ہونے کی وجہ سے۔ کیونکہ بڑی کامل درجے کی، بڑے کامل درجے کا اس نے جرم کیا ہے، جب کامل درجے کا جرم پایا گیا تو اب کفارہ بھی واجب ہو گا بھئی۔ ”وَلَا يُشْتَرَطُ الْإِنْزَالُ فِي الْمَحَلَّيْنِ اعْتِبَارًا بِالِاغْتِسَالِ“ اور انزال کی شرط نہیں ہو گی دونوں جگہوں میں، یعنی دونوں سبیلین میں سے کسی ایک کے اندر بھی انزال کی شرط نہیں ہو گی، ”اعْتِبَارًا بِالِاغْتِسَالِ“ قیاس کرتے ہوئے غسل پر۔ بھئی جیسے پیچھے غسل کے مسائل ذکر ہوئے تھے، وہاں آپ نے پڑھا تھا کہ نفس دخول پایا جائے تو اس سے غسل فرض ہو جائے گا، غسل واجب ہو جائے گا، انزال اس کے اندر شرط ہی نہیں۔ تو یہاں پر بھی نفس دخول سے ہی، نفس دخول سے ہی یہ قضا اور کفارہ دونوں واجب ہو جائیں گے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے ”وَلَا يُشْتَرَطُ الْإِنْزَالُ فِي الْمَحَلَّيْنِ“ اور انزال کی شرط نہیں لگائی جائے گی دونوں جو محل ہیں ان میں، ”اعْتِبَارًا بِالِاغْتِسَالِ“ قیاس کرتے ہوئے غسل پر۔ ”وَهَذَا لِأَنَّ قَضَاءَ الشَّهْوَةِ يَتَحَقَّقُ دُونَهُ وَإِنَّمَا ذَلِكَ شَبْعٌ“ یہ ایک اعتراض یا ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنایت تو کامل تب ہو گی جب شہوت پوری ہو جائے، اور جب تک انزال نہیں ہوا تب تک تو شہوت پوری نہیں ہوئی، لہٰذا جنایت کامل نہیں ہوئی، لہٰذا اس صورت میں کفارہ نہیں آنا چاہیے۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ نہیں بھئی، کہ انزال کے بغیر بھی شہوت پوری ہو جاتی ہے، البتہ انزال جو ہے وہ سیر ہو جانا ہے، یعنی جی کا پوری طرح بھر جانا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جیسے ایک ہے ایک لقمہ کھانا اور ایک ہے سیر ہو کر کھانا کھا لینا، تو ایک لقمے سے بھی کیا ہو جائے گا؟ روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح بغیر انزال کے بھی شہوت پوری ہو جاتی ہے لیکن انزال سے جی پوری طرح بھر جاتا ہے، بغیر انزال کے بھی شہوت پوری ہو جاتی ہے تو معلوم ہوا جنایت یہ کس قسم کی ہے؟ کامل درجے کی ہے، جب کامل درجے کی ہے تو کفارہ بھی یہاں پر واجب ہو گا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے ”وَهَذَا لِأَنَّ قَضَاءَ الشَّهْوَةِ يَتَحَقَّقُ دُونَهُ“ اور یہ اس لیے کیونکہ شہوت کا پورا ہونا، ”يَتَحَقَّقُ“ وہ پایا جاتا ہے، ”دُونَهُ“ اس کے بغیر بھی، یعنی انزال کے بغیر بھی، ”وَإِنَّمَا ذَلِكَ شَبْعٌ“ اور وہ انزال تو ”شَبْعٌ“ سیر ہو جانا ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يَجِبُ الْكَفَّارَةُ بِالْجِمَاعِ فِي الْمَوْضِعِ الْمَكْرُوهِ“ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے یہ روایت ہے کہ کفارہ واجب نہیں ہوتا، ”بِالْجِمَاعِ فِي الْمَوْضِعِ الْمَكْرُوهِ“ جماع کرنے سے مکروہ محل میں، مکروہ مقام میں، یعنی پچھلے مقام میں۔ امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ پچھلے مقام کے اندر جماع کرنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ ”اعْتِبَارًا بِالْحَدِّ“ حد پر قیاس کرتے ہوئے، جیسے اس کی وجہ سے حد واجب نہیں ہوتی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو ”اعْتِبَارًا بِالْحَدِّ عِنْدَهُ“ قیاس کرتے ہوئے حد پر امام صاحب کے نزدیک، تو وہ حد پر قیاس کرتے ہیں کہ جیسے اس کی وجہ سے حد واجب نہیں ہوتی اسی طرح اس کی وجہ سے کفارہ بھی واجب نہیں ہو گا۔ ”وَالْأَصَحُّ أَنَّهَا تَجِبُ“ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ کفارہ واجب ہو گا۔ تو امام صاحب سے اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں، ایک روایت تو یہ جو ذکر کر دی کہ اس صورت میں کفارہ واجب نہیں ہو گا، اور آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ زیادہ صحیح قول امام صاحب کا اور جو زیادہ صحیح روایت یہ ہے کہ اس صورت میں بھی کفارہ واجب ہو جائے گا۔ ”وَالْأَصَحُّ أَنَّهَا تَجِبُ“ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے امام صاحب کا کہ کفارہ واجب ہو گا، ”لِأَنَّ الْجِنَايَةَ مُتَكَامِلَةٌ لِقَضَاءِ الشَّهْوَةِ“ اس لیے کیونکہ جنایت جو ہے وہ پوری ہے، کامل ہے لقضاء الشہوة، شہوت کے پورا ہونے کی وجہ سے۔ ”وَلَوْ جَامَعَ مَيْتَةً أَوْ بَهِيمَةً فَلَا كَفَّارَةَ أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ“ اور اگر کسی شخص نے جماع کیا، ”مَيْتَةً“ کسی مردار سے، مردہ عورت سے، ”أَوْ بَهِيمَةً“ یا کسی چوپائے سے، کسی جانور سے، ”فَلَا كَفَّارَةَ“ تو پھر کفارہ نہیں، ”أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ“ انزال ہو یا انزال نہ ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کفارہ نہیں ہے، یہ نہیں کہ روزہ نہیں ٹوٹے گا بلکہ کفارہ نہیں ہے بھئی۔ ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، ”لِأَنَّ الْجِنَايَةَ تَكَامُلُهَا بِقَضَاءِ الشَّهْوَةِ فِي مَحَلٍّ مُشْتَهًى وَلَمْ يُوجَدْ“ یہ ہماری دلیل ذکر ہو رہی ہے، ہمارے نزدیک جنایت جو ہے، ”تَكَامُلُهَا بِقَضَاءِ الشَّهْوَةِ“ وہ پوری ہوتی ہے شہوت پوری کرنے سے، ”فِي مَحَلٍّ مُشْتَهًى“ محلِ مشتہیٰ میں۔ کس محل میں؟ محلِ مشتہیٰ کے اندر شہوت پوری کرنے سے جنایت پوری ہو گی، ”وَلَمْ يُوجَدْ“ اور محلِ مشتہیٰ تو یہاں نہیں پایا گیا، شہوت والا محل نہیں پایا گیا بھئی۔ اسی لیے، اسی لیے طبیعتِ سلیمہ اس کو ناگوار سمجھتی ہے، کیا کسی مردے سے صحبت کی جائے یا کسی جانور سے، حتیٰ کہ عام لوگ بھی اس کو سنیں گے تو اس کو اس شخص کی اس شخص کے جنون اور حماقت پر محمول کریں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا عام طبیعتیں بھی کیا کرتی ہیں اس سے؟ ناگوار سمجھتی ہیں اور نفرت کرتی ہیں، تو طبیعتِ سلیمہ تو بطریقِ اولیٰ اس سے نفرت کرے گی بھئی۔ تو یہاں پر کیونکہ محلِ مشتہیٰ کے اندر شہوت کو پورا کرنا نہیں پایا گیا اس لیے یہاں کفارہ واجب نہیں ہو گا بھئی۔ کوئی بھی اس کو محلِ شہوت نہیں سمجھتا بلکہ لوگ اس کو اس کے جنون پر یا اس کی دیوانگی پر محمول کریں گے بھئی۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ ”لِأَنَّ الْجِنَايَةَ تَكَامُلُهَا بِقَضَاءِ الشَّهْوَةِ فِي مَحَلٍّ مُشْتَهًى“ اس لیے کہ جنایت جو ہے وہ پوری ہوتی ہے وہ مشتہیٰ محل کے اندر شہوت پوری کرنے سے، مشتہیٰ محل کے اندر شہوت پوری کرے گا تو جنایت پوری ہو گی، ”وَلَمْ يُوجَدْ“ اور محلِ مشتہیٰ تو نہیں پایا گیا۔ ”ثُمَّ عِنْدَنَا كَمَا تَجِبُ الْكَفَّارَةُ بِالْوِقَاعِ عَلَى الرَّجُلِ تَجِبُ عَلَى الْمَرْأَةِ“ پھر ہمارے نزدیک جیسے کفارہ واجب ہوتا ہے، ”بِالْوِقَاعِ“ جماع کی وجہ سے، ”عَلَى الرَّجُلِ“ مرد پر، ”تَجِبُ عَلَى الْمَرْأَةِ“ تو عورت پر بھی واجب ہوتا ہے۔ کفارہ جیسے مرد پر واجب ہوتا ہے جماع کی وجہ سے اسی طرح عورت پر بھی واجب ہوتا ہے، لیکن یاد رکھیے اس میں کہ جبکہ عورت کی مرضی بھی شامل ہو اس کے اندر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس پر بھی کفارہ واجب ہو گا، اور اگر اس کی مرضی شامل نہیں تھی یعنی بیوی تو کسی حال میں یہ نہیں چاہتی تھی تو پھر اس صورت میں اس پر صرف قضا آئے گی اس پر کفارہ نہیں آئے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلٍ لَا تَجِبُ عَلَيْهَا لِأَنَّهَا مُتَعَلِّقَةٌ بِالْجِمَاعِ وَهُوَ فِعْلُهُ وَإِنَّمَا هِيَ مَحَلُّ الْفِعْلِ“ امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول یہ ہے کہ عورت پر کفارہ واجب نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ جماع کی وجہ سے کفارہ واجب ہوتا ہے اور جماع کرنا مرد کا فعل ہے، عورت صرف محلِ جماع ہے، عورت کیا ہے؟ محلِ جماع ہے، اور کفارہ واجب ہوتا ہے جماع کی وجہ سے، اور جماع تو صرف کون کرتا ہے؟ مرد کرتا ہے، لہٰذا جماع کا سبب وہ صرف مرد کے اندر پایا جا رہا ہے تو کفارہ بھی صرف اسی پر آئے گا۔ عورت تو جماع نہیں کرتی بلکہ وہ صرف کیا ہے؟ محلِ جماع ہے، تو وہاں جماع کا سبب ہی نہیں پایا گیا، اس وجہ سے اس پر کفارہ بھی واجب نہیں۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلٍ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک قول میں، یعنی اس میں ان کا دوسرا قول بھی ہے، ایک قول ان کا یہ ہے: ”لَا تَجِبُ عَلَيْهَا“ کہ اس عورت پر واجب نہیں ہو گا کفارہ، ”لِأَنَّهَا مُتَعَلِّقَةٌ بِالْجِمَاعِ“ اس لیے کیونکہ وہ عورت جو ہے وہ تو جماع سے متعلق ہے، ”وَهُوَ فِعْلُهُ“ اور جماع تو اس مرد کا فعل ہے، ”وَإِنَّمَا هِيَ مَحَلُّ الْفِعْلِ“ اور یہ عورت تو محلِ فعل ہے صرف بھئی، جماع اس کی طرف سے نہیں ہے۔ ”وَفِي قَوْلٍ تَجِبُ“ اور ایک قول کے مطابق، امام شافعی رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق ”تَجِبُ“، عورت پر بھی کفارہ واجب ہو گا۔ ایک قول کے مطابق، امام شافعی رحمہ اللہ کا دوسرا قول کیا آیا؟ عورت پر بھی کفارہ واجب ہو گا، ”وَيَتَحَمَّلُ الرَّجُلُ عَنْهَا“ اور آدمی، وہ جو مرد ہے وہ برداشت کرے گا اس کی طرف سے۔ برداشت کون کرے گا؟ وہ مرد برداشت کرے گا، یعنی اس بیوی کی طرف سے بھی اس کو ہی کفارہ دینا پڑے گا۔ عورت پر بھی واجب ہوا لیکن اٹھائے گا کون؟ مرد یعنی خاوند اٹھائے گا، تو اس پر اپنی طرف سے بھی کفارہ اسے دینا پڑے گا اور بیوی کی طرف سے بھی کفارہ دینا پڑے گا۔ ”اعْتِبَارًا بِمَاءِ الِاغْتِسَالِ“ قیاس کرتے ہوئے غسل کے پانی پر۔ جیسے خاوند اپنی بیوی سے صحبت کر لے اور اب پانی بغیر پیسوں کے نہیں مل رہا تو غسل کی حاجت ہے تو خاوند جیسے اپنے لیے پانی خریدنا اس کے لیے ضروری ہے، اسی طرح بیوی کے لیے پانی خرید کر اس کو غسل کے لیے پانی فراہم کرنا یہ بھی کس کی ذمہ داری؟ خاوند کی ذمہ داری ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے جیسے غسل کے پانی کا بوجھ کس پر پڑتا ہے؟ خاوند پر پڑتا ہے، تو یہاں پر وہ کفارے کا بوجھ بھی کس کو اٹھانا پڑے گا بیوی کی طرف سے؟ خاوند کو اٹھانا پڑے گا۔ یہ معنیٰ ہے ”وَيَتَحَمَّلُ الرَّجُلُ عَنْهَا اعْتِبَارًا بِمَاءِ الِاغْتِسَالِ“ اور مرد جو ہے وہ برداشت کرے گا عورت کی طرف سے کفارے کو، ”اعْتِبَارًا بِمَاءِ الِاغْتِسَالِ“ قیاس کرتے ہوئے غسل کے پانی پر۔ ”وَلَنَا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُظَاهِرِ“ اور ہماری دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے کہ ”مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ“ جس نے روزہ توڑ دیا رمضان میں، ”فَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُظَاهِرِ“ تو اس پر وہی واجب ہے جو ظہار کرنے والے پر ہے، اس پر وہی واجب ہے جو مظاہر یعنی ظہار کرنے والے پر واجب ہے، اور ظہار تو آپ پڑھ چکے ہیں، ظہار کس کو کہتے ہیں کہ خاوند جو ہے اپنی بیوی کو ماں کے ساتھ تشبیہ دے، یعنی یوں کہے: ”أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي“ تو مجھ پر اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی پشت، یعنی جیسے میری ماں مجھ پر حرام ہے اسی طرح تو بھی مجھ پر حرام ہے۔ تو یہ اس نے بڑی ہی غلط بات کہی، انتہا درجے کی غلط بات کہی، لہٰذا اس صورت میں اب اگر اس بیوی کو وہ رکھنا چاہتا ہے اور اپنے کہے ہوئے کی تلافی کرنا چاہتا ہے تو اس کا کفارہ قرآن میں ذکر کیا گیا، قرآن میں ذکر کیا گیا کہ اس صورت میں اس شخص کو ایک غلام یا باندی آزاد کرنا پڑے گی، اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو پھر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا پڑیں گے، اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ تو ظہار کا کفارہ کیا ہے؟ غلام یا باندی آزاد کریں گے، اگر اس کی استطاعت نہیں یا وہ نہیں ملتے تو پھر ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے، اگر اس کی بھی استطاعت نہیں تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ تو حدیث میں بھی یہی آیا کہ ”مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُظَاهِرِ“ جس نے روزہ توڑ دیا رمضان میں تو اس پر وہ کفارہ واجب ہے جو ظہار کرنے والے پر واجب ہے۔ اب حدیث کے اندر جو ہے ”مَنْ“ آیا، ”مَنْ أَفْطَرَ“ جس نے روزہ توڑ دیا، اور یہ ”مَنْ“ عام ہے، یہ مذکر کو بھی شامل ہے اور مؤنث کو، معلوم ہوا مرد پر بھی کفارہ آئے گا اور عورت پر بھی آئے گا۔ ”وَكَلِمَةُ مَنْ تَنْتَظِمُ الذُّكُورَ وَالْإِنَاثَ“ اور کلمہٴ ”مَنْ“ جو ہے وہ شامل ہے مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی۔ ”وَلِأَنَّ السَّبَبَ جِنَايَةُ الْإِفْسَادِ لَا نَفْسُ الْوِقَاعِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ کفارے کا سبب، ”جِنَايَةُ الْإِفْسَادِ“ روزہ فاسد کرنے کا جرم ہے۔ یہ کفارے کا سبب کیا ہے؟ روزہ فاسد کر دینے کا جرم ہے، اس شخص نے کیا کیا ہے؟ روزہ فاسد کیا ہے، تو یہ روزہ فاسد کرنے کا جرم یہ سبب ہے کفارے کا، ”لَا نَفْسُ الْوِقَاعِ“ نفسِ جماع نہیں۔ نفسِ جماع وہ اس کفارے کا سبب نہیں ہے بلکہ روزے کو فاسد کرنے کا جرم ہے اور اس کے اندر تو عورت بھی شریک ہے اس کے ساتھ، جیسے اس مرد نے کیا کیا ہے روزہ فاسد کرنے کا جرم کیا ہے اگر عورت کی مرضی شامل تھی تو اس نے بھی کیا کیا ہے؟ روزہ فاسد کرنے کا جرم کیا ہے، لہٰذا کفارے کا سبب دونوں میں پایا گیا بھئی تو دونوں پر کفارہ آئے گا۔ تو نفسِ وقاع کفارے کا سبب نہیں ہے کیونکہ وقاع یعنی جماع تو صرف کس میں پایا گیا؟ مرد میں پایا گیا لیکن یہاں جماع ہے ہی نہیں سبب بلکہ سبب کیا ہے؟ روزے کو فاسد کرنے کا جرم، تو یہ دونوں نے کیا ہے، دونوں نے روزے کو فاسد کیا ہے۔ یہ معنیٰ ہے ”وَلِأَنَّ السَّبَبَ جِنَايَةُ الْإِفْسَادِ لَا نَفْسُ الْوِقَاعِ“ اور اس لیے کیونکہ کفارے کا سبب جو ہے وہ روزہ فاسد کرنے کا جرم ہے، ”لَا نَفْسُ الْوِقَاعِ“ نفسِ جماع نہیں ہے، ”وَقَدْ شَارَكَتْهُ فِيهَا“ اور تحقیق وہ عورت بھی مرد کے ساتھ شریک ہے اس جنایت کے اندر۔ ”وَلَا تَحَمُّلَ“ یہاں سے آگے بتلا رہے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ذکر کیا تھا؟ ماءِ اغتسال پر قیاس کرتے ہوئے کیا فرمایا تھا کہ اس کفارے کو عورت کی طرف سے کون برداشت کرے گا؟ مرد یعنی اس کا خاوند ہی برداشت کرے گا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ جو کفارہ ہے یہ یا تو عبادت ہے یا سزا۔ یاد رکھیے یہ جو کفارہ ہے نا، اس میں عبادت کا پہلو بھی ہے اور اس میں سزا کا پہلو بھی ہے۔ عبادت تو ظاہر ہے، روزہ وغیرہ رکھ رہا ہے تو یہ عبادت ہے یا عبادت نہیں ہے؟ فقراء وغیرہ کو کھلا رہا ہے یہ بھی کیا ہے؟ عبادت ہے۔ اور سزا کا پہلو بھی ہے کہ یہ اس پر کیوں لازم ہوا؟ کیونکہ اس نے ایک جرم کیا تھا روزہ توڑا تھا۔ تو اس کفارے کے اندر عبادت والا پہلو بھی ہے اور سزا والا پہلو بھی ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے کہ بیوی کی طرف سے کون برداشت کرے گا؟ خاوند برداشت کرے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ یا تو یہ کفارہ عبادت ہے یا یہ کیا ہے؟ سزا ہے، اور عبادت بھی جس شخص پر لازم ہوتی ہے اسی کو ادا کرنا پڑتی ہے اس کی جگہ کوئی دوسرا ادا کرے تو اس کی طرف سے ادا نہیں ہو سکتا، اور سزا بھی اسی شخص کو دی جاتی ہے جس نے جرم کیا ہوتا ہے دوسرے شخص دوسرا شخص اس کی سزا کو برداشت کر لے اور اٹھا لے یہ اس طرح کبھی بھی نہیں کیا جاتا بھئی۔ دنیا کے اندر بھی آپ دیکھ لیں کہ مجرم ہی کو سزا دی جاتی ہے اس کا کوئی اور رشتہ دار کہے میں سزا برداشت کرنے کو تیار ہوں، کوئی بھی اس کو قبول نہیں کرے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”وَلَا تَحَمُّلَ“ اور برداشت کرنا نہیں ہے، یعنی خاوند کی طرف سے یا اٹھانا نہیں ہے خاوند کی طرف سے اس کفارے کا، ”لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ أَوْ عُقُوبَةٌ“ اس لیے کیونکہ وہ کفارہ یا تو عبادت ہے یا سزا ہے، ”وَلَا يَجْرِي فِيهَا الْحَمْلُ“ اور اس کے اندر اٹھانا جاری نہیں ہوتا کہ ایک شخص کیا کر لے دوسرے کی عبادت کو یا سزا کو اٹھا لے۔ ”وَلَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ مَا يُتَغَذَّى بِهِ أَوْ مَا يُدَاوَى بِهِ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْكَفَّارَةُ“ اور اگر روزہ دار نے کھایا، ”أَوْ شَرِبَ“ یا پیا، ”مَا“ اس چیز کو، ”يُتَغَذَّى بِهِ“ جس سے غذا حاصل کی جاتی ہے، ”أَوْ مَا يُدَاوَى بِهِ“ یا ایسی چیز کو کھایا یا پیا ”يُدَاوَى بِهِ“ جس کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے، یعنی کوئی دوا وغیرہ ہے، ”فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْكَفَّارَةُ“ تو اس پر قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں۔ یعنی کوئی چیز کھا لی پی لی اور کس طرح کی چیز ہے؟ جسے بطورِ غذا کے کھایا جاتا ہے یا اس کو بطورِ دوا کے کھایا جاتا ہے تو اس میں قضا بھی آئے گا اور کفارہ بھی آئے گا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: لَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر کفارہ نہیں ہے، صرف کیا آئے گی؟ قضا آئے گی، ”لِأَنَّهَا شُرِعَتْ فِي الْوِقَاعِ بِخِلَافِ الْقِيَاسِ“ اس لیے کیونکہ کفارہ تو مشروع ہوا ہے صرف کس میں؟ ”فِي الْوِقَاعِ“ جماع کے اندر، ”بِخِلَافِ الْقِيَاسِ“ خلافِ قیاس طریقے پر۔ کفارہ صرف کس کے اندر آیا ہے؟ جماع کے اندر مشروع ہوا ہے خلافِ قیاس۔ یعنی یوں کہیں کہ کفارہ خلافِ قیاس صرف کس کے اندر مشروع ہوا ہے؟ جماع میں، ”لِارْتِفَاعِ الذَّنْبِ بِالتَّوْبَةِ“ اس وجہ سے کہ گناہ تو اٹھ گیا، معاف ہو گیا ”بِالتَّوْبَةِ“ توبہ کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ بھئی توبہ کی وجہ سے تو گناہ معاف ہو جاتا ہے یا معاف نہیں ہوتا؟ توبہ کی وجہ سے تو گناہ معاف ہو جاتا ہے۔ تو وہ ایک آگے روایت بھی آ رہی ہے کہ وہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور انہوں نے رمضان میں روزے کی حالت میں جان بوجھ کر بیوی سے صحبت کر لی تھی، اور پھر حضور علیہ السلام کے پاس آئے اور پھر وہاں پر اس کو اس کفارے کا حکم دیا گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کفارے کا حکم دیا، حکم دیا۔ اور جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ہیں تو یقیناً نادم ہو کر آئے ہیں کہ یہ میں نے کیا کر لیا، کتنی بڑی غلطی میں نے کر لی، یہ بات ظاہر ہے یا نہیں؟ ہاں ظاہر بھی ہے اور حدیث کے الفاظ سے بھی ظاہر ہو گا کہ وہ کتنے پریشان تھے اس بات پر کہ یہ مجھ سے کیسی غلطی ہو گئی، اتنی بڑی غلطی ہو گئی، تو وہ نادم ہو کر آئے تھے یعنی توبہ کر کے آئے تھے، اللہ سے بھی معافی مانگی ہو گی توبہ، اور جب توبہ کر لی جائے پھر تو گناہ کیا ہو جاتا ہے؟ معاف ہو جاتا ہے۔ جب توبہ سے گناہ معاف ہو جاتا ہے تو پھر اس صورت میں تو گناہ معاف ہو گیا تو پھر تو کفارہ نہیں آنا چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کیونکہ گناہ تو توبہ سے ختم ہو گیا لیکن خلافِ قیاس یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کا حکم دیا؟ کفارے کا حکم دیا۔ تو گناہ جب توبہ سے معاف ہو گیا، یا یوں کہیں گناہ جب توبہ سے معاف ہو جاتا ہے تو قیاس کیا تقاضا کرتا ہے، کوئی اور سزا ہونی چاہیے؟ نہیں، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب ایک چیز اللہ کی طرف سے معاف ہو گئی تو اب مزید اس میں کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے، تو یہ جو کفارے کو واجب کیا گیا یہ مطابقِ قیاس ہوا یا خلافِ قیاس؟ خلافِ قیاس ہوا۔ تو یہی بات امام شافعی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ ”لِأَنَّهَا شُرِعَتْ فِي الْوِقَاعِ بِخِلَافِ الْقِيَاسِ لِارْتِفَاعِ الذَّنْبِ بِالتَّوْبَةِ“ اس لیے کیونکہ کفارہ جو ہے جماع کے اندر خلافِ قیاس طریقے پر مشروع ہوا ہے ”لِارْتِفَاعِ الذَّنْبِ بِالتَّوْبَةِ“ اس وجہ سے کہ گناہ جو ہے وہ تو اٹھ گیا ہے یعنی معاف ہو گیا ہے ”بِالتَّوْبَةِ“ توبہ کی وجہ سے، ”فَلَا يُقَاسُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ“ تو اس پر کسی اور چیز کو قیاس نہیں کیا جائے گا۔ یعنی اے احناف، حدیث سے تو صرف جماع کی صورت میں کفارے کا ثبوت ہے تو تم اس پر کھانے اور پینے کی صورت بھی قیاس کرتے ہوئے کہتے ہو کہ کھانے اور پینے کی صورت میں بھی کفارہ آئے گا، حالانکہ کفارے کا ثبوت تو خلافِ قیاس ہے اور جو چیز خلافِ قیاس ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ تو تمہارا اس پر کھانے اور پینے کو تمہارا کھانے اور پینے کو جماع پر قیاس کرنا درست نہیں ہے، لہٰذا ان میں کفارہ نہیں آئے گا کھانے اور پینے میں بلکہ صرف کیا آئے گا؟ قضا آئے گی۔ ”وَلَنَا أَنَّ الْكَفَّارَةَ تَعَلَّقَتْ بِجِنَايَةِ الْإِفْطَارِ فِي رَمَضَانَ عَلَى وَجْهِ الْكَمَالِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ کفارے کا تعلق جو ہے ”بِجِنَايَةِ الْإِفْطَارِ“ روزہ توڑنے کے جرم کے ساتھ ہے، روزہ توڑنے کے جرم کے ساتھ ہے ”فِي رَمَضَانَ“ رمضان کے مہینے میں، ”عَلَى وَجْهِ الْكَمَالِ“ کامل طریقے پر۔ یعنی کامل طریقے پر جو روزہ توڑنے کا جرم پایا گیا فی رمضان، رمضان کے اندر اس کے ساتھ ہے کفارے کا تعلق۔ ترجمے پر نظر ہے بھئی؟ ”وَلَنَا أَنَّ الْكَفَّارَةَ تَعَلَّقَتْ بِجِنَايَةِ الْإِفْطَارِ فِي رَمَضَانَ عَلَى وَجْهِ الْكَمَالِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ کفارے کا تعلق رمضان میں کامل طریقے پر روزہ توڑنے کا جرم جو ہے اس کے ساتھ ہے، روزہ توڑنے کے جرم کے ساتھ ہے یعنی کامل طور پر جو روزہ توڑنے کا جرم پایا گیا رمضان میں اس کے ساتھ کفارے کا تعلق ہے، اور روزہ توڑنے کا کامل جرم روزہ توڑنے کا کامل جرم جو ہے یہ جیسے صحبت کی صورت میں یعنی جماع کی صورت میں پایا جاتا ہے اسی طرح کھانے اور پینے کی صورت میں بھی پایا جاتا ہے۔ ”وَقَدْ تَحَقَّقَتْ“ اور تحقیق یہ جرم پایا گیا ہے۔ جب اس نے کچھ کھایا ہے یا پیا ہے تو یہ جرم پایا گیا ہے اور جب بھی یہ جرم پایا جائے گا، کون سا جرم؟ روزہ توڑنے کا جرم، اور کس طریقے پر؟ کامل طریقے پر ہو، پورا جرم ہو اور کس مہینے میں ہو؟ رمضان میں ہو، تو اس سے کفارے کا تعلق ہے اور یہ جرم تو پایا گیا ہے یہاں پر جب اس نے کچھ کھایا ہے یا پیا ہے، تو لہٰذا اس صورت میں بھی کیا واجب ہو گا؟ کفارہ واجب ہو گا۔ ”وَبِإِيجَابِ الْإِعْتَاقِ تَكْفِيرًا عُرِفَ أَنَّ التَّوْبَةَ غَيْرُ مُكَفِّرَةٍ لِهَذِهِ الْجِنَايَةِ“ یہاں سے وہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جو بات ذکر کی تھی اس کا جواب دے رہے ہیں، اس کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ اچھی طرح اس بات کو سمجھ لیجیے گا بھئی۔ بھئی دیکھیے، امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا تھا کہ گناہ جو ہے وہ توبہ سے معاف ہو جاتا ہے تو یہ جو صحبت والی غلطی جس نے کی اس کا یہ جرم بھی توبہ سے معاف ہو چکا ہے، پھر اس کو جو کفارے کا حکم دیا گیا یہ خلافِ قیاس ہے لہٰذا اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ آپ کی بات ہمیں تسلیم ہے کہ توبہ سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، مٹ جاتے ہیں لیکن یہ والا جرم جو ہے، کون سا جرم؟ روزہ توڑنے کا جرم جو ہے، یہ ایسا جرم ہے کہ یہ توبہ سے نہیں مٹتا، توبہ سے ختم نہیں ہوتا۔ اور دلیل اس کی کیا ہے؟ کیونکہ اس میں غلام آزاد کرنا وغیرہ جو ہے یہ چیزیں واجب کی گئی ہیں۔ اس میں کیا واجب کی گئی ہیں؟ کفارہ واجب کیا گیا ہے یا نہیں واجب کیا گیا؟ ہم کہتے ہیں یہ کفارہ واجب کرنا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ والا جرم جو ہے یہ توبہ سے نہیں مٹتا۔ عام گناہ ٹھیک ہے توبہ سے عام جرائم جو ہیں ٹھیک ہے وہ توبہ سے مٹ جائیں گے ختم ہو جائیں گے لیکن یہ والی جنایت جو ہے یہ توبہ سے معاف نہیں ہوتی، یہ کس سے پتہ چلا؟ یہ جو کفارہ شریعت نے واجب کیا ہے کہ غلام وغیرہ آزاد کرنا پڑے گا یا ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا۔ معلوم ہوا یہ جرم توبہ سے معاف نہیں ہوتا اور اس کے اندر کفارہ ضرور دینا پڑے گا پھر ہی یہ جرم ختم ہو گا اور معاف ہو گا۔ تو لہٰذا جب کھائے گا اور پیے گا تب بھی یہ جرم پایا گیا یعنی روزہ توڑنے والا، اور یہ جرم تو توبہ سے معاف نہیں ہوتا اس میں تو کیا ضروری ہوتا ہے؟ کفارہ ضروری، تو لہٰذا کھانے اور پینے کی صورت میں بھی کیا کرنا پڑے گا؟ کفارہ دینا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”وَبِإِيجَابِ الْإِعْتَاقِ تَكْفِيرًا“ اور اعتاق کو واجب کرنے کی وجہ سے، ”تَكْفِيرًا“ کفارہ ادا کرنے کے لیے، ترجمہ تکفیراً سے میں شروع کروں گا، کفارہ ادا کرنے کے لیے اعتاق کو واجب کرنے سے، ”عُرِفَ“ یہ جان لیا گیا، ”أَنَّ التَّوْبَةَ“ کہ توبہ جو ہے، ”غَيْرُ مُكَفِّرَةٍ لِهَذِهِ الْجِنَايَةِ“ وہ مٹانے والی نہیں ہے اس جنایت یعنی اس جرم کو۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ دوبارہ ترجمہ سنیں بھئی: ”وَبِإِيجَابِ الْإِعْتَاقِ تَكْفِيرًا عُرِفَ أَنَّ التَّوْبَةَ غَيْرُ مُكَفِّرَةٍ لِهَذِهِ الْجِنَايَةِ“ یاد رکھو بھئی، یاد رکھو، یہ ”بِإِيجَابِ الْإِعْتَاقِ تَكْفِيرًا“ اس کا تعلق ہے ”عُرِفَ“ سے۔ یہ جار مجرور ہے نا، اور جار مجرور کے لیے متعلق چاہیے تو اس کا تعلق کس سے ہے؟ ”عُرِفَ“، جان لیا گیا۔ بھئی کس چیز سے جانا گیا؟ ”بِإِيجَابِ الْإِعْتَاقِ تَكْفِيرًا“ یہ جو بطورِ کفارے کے غلام آزاد کرنے کو واجب کہا گیا ہے واجب کیا گیا ہے اس سے جان لیا گیا کہ ”أَنَّ التَّوْبَةَ غَيْرُ مُكَفِّرَةٍ لِهَذِهِ الْجِنَايَةِ“ کہ توبہ جو ہے وہ اس جرم کو مٹانے والی نہیں ہے۔ عام جرم تو ٹھیک ہے توبہ سے مٹ جائیں گے لیکن یہ جرم توبہ سے مٹنے والا نہیں، یہ کس سے پتہ چلا؟ یہ جو بطورِ کفارے کے غلام کے آزاد کرنے کو واجب کیا گیا۔ تو لہٰذا معلوم ہوا یہ جرم جو ہے جو بھی کر لے گا یعنی روزے کو فاسد کر دے گا جان بوجھ کر رمضان کے اندر کامل طریقے پر تو پھر یہ جرم اب توبہ سے نہیں معاف ہو گا بلکہ کیا ضروری ہو گا؟ کفارہ ضروری ہو گا۔ تو یہ جرم جب صحبت کی صورت میں پایا گیا ہے یعنی روزہ توڑنے کا تو کھانے اور پینے کی صورت میں بھی یہی جرم پایا گیا، اور یہ جرم تو بغیر کفارے کے صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتا تو کفارہ اس میں بھی آ جائے گا بھئی، یعنی کھانے اور پینے کی صورت میں بھی کفارہ آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”ثُمَّ قَالَ: وَالْكَفَّارَةُ مِثْلُ كَفَّارَةِ الظِّهَارِ“ پھر صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور روزے کا کفارہ جو ہے، ”مِثْلُ كَفَّارَةِ الظِّهَارِ“ وہ ظہار کے کفارے کی طرح ہے، ”لِمَا رَوَيْنَا“ بوجہ اس حدیث کے جو ہم نے روایت کر دی، وہ جو پیچھے آیا تھا: ”مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُظَاهِرِ“ جس نے رمضان کا روزہ توڑا تو اس پر وہ کفارہ واجب ہے جو ظہار کرنے والے پر واجب ہوتا ہے۔ تو اس حدیث کی وجہ سے پتہ چل گیا کہ روزے کا کفارہ بھی کیا ہے؟ ظہار کے کفارے کی طرح ہے، ایک تو اس حدیث سے پتہ چلا۔ ”وَلِحَدِيثِ الْأَعْرَابِيِّ“ اور دیہاتی کی حدیث کی وجہ سے بھی، ”فَإِنَّهُ قَالَ“ یہ ایک دیہاتی تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، کہنے لگے، ”فَإِنَّهُ قَالَ“ تو وہ کہنے لگے: ”يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ“ اے اللہ کے پیغمبر، میں ہلاک ہو گیا، ”وَأَهْلَكْتُ“ اور دوسروں کو ہلاکت میں ڈال دیا، ہَلَکْتُ میں ہلاک ہو گیا، وَأَھْلَکْتُ اور میں نے ہلاک کر دیا یعنی دوسروں کو ہلاکت میں ڈال دیا۔ ”فَقَالَ: مَاذَا صَنَعْتَ؟“ تو سرورِ کونین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”مَاذَا صَنَعْتَ؟“ تم نے کیا کیا ہے؟ ”قَالَ: وَاقَعْتُ امْرَأَتِي فِي نَهَارِ رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا“ میں نے جماع کر لیا اپنی بیوی سے رمضان میں دن کے وقت میں ”مُتَعَمِّدًا“ جان بوجھ کر۔ ”فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْتِقْ رَقَبَةً“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”أَعْتِقْ رَقَبَةً“ ایک گردن آزاد کرو، یعنی ایک غلام یا باندی آزاد کرو۔ ”فَقَالَ: لَا أَمْلِكُ إِلَّا رَقَبَتِي هَذِهِ“ تو وہ کہنے لگا وہ دیہاتی کہ میں تو مالک نہیں ہوں سوائے اپنی اس گردن کے، میرے پاس تو کوئی غلام وغیرہ نہیں ہے صرف میں اپنی ہی گردن کا مالک ہوں۔ ”فَقَالَ: صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ“ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ“ کہ روزہ رکھو دو ماہ تک مسلسل۔ ”فَقَالَ: هَلْ جَاءَنِي مَا جَاءَنِي إِلَّا مِنَ الصَّوْمِ؟“ تو وہ کہنے لگا: ”هَلْ“ ”هَلْ“ جب یہ ”إِلَّا“ کے ساتھ آئے نا ”هَلْ جَاءَنِي مَا جَاءَنِي إِلَّا“، تو ”هَلْ“ جب ”إِلَّا“ کے ساتھ آئے تو یہ حرفِ نفی کی طرح اس کا معنیٰ ہو گا یعنی نفی والا معنیٰ کریں گے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ”هَلْ“ یہاں سوال کے لیے نہیں ہے بلکہ نفی کے معنیٰ یعنی ”لَا“ والا معنیٰ ادا کرے گا اور ”لَا“ اور ”مَا“ کا معنیٰ۔ تو ”هَلْ جَاءَ“ نہیں آئی ”مَا“ وہ چیز، ”جَاءَنِي“ جو مجھ پر آئی ہے، ”إِلَّا مِنَ الصَّوْمِ“ مگر روزے کی وجہ سے، کہ یعنی یہ جو چیز مجھ پر آئی ہے تو روزے ہی کی وجہ سے تو آئی ہے، یعنی جس مصیبت میں پڑا ہوں روزے کی وجہ سے ہی تو مصیبت میں پڑا ہوں، آپ فرما رہے ہیں کہ ساٹھ مسلسل روزے رکھوں وہ میں کیسے رکھوں؟ ”فَقَالَ“ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: ”أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا“ کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ ”فَقَالَ: لَا أَجِدُ“ اس نے کہا میں نہیں پاتا، یعنی اتنا میرے پاس نہیں ہے کہ میں کیا کروں؟ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤں۔ ”فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْتَى بِفَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ وَيُرْوَى بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا“ تو حضور علیہ السلام نے حکم دیا صحابہ کو کہ ”أَنْ يُؤْتَى بِفَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ“ کہ لایا جائے ایک فَرَق تمر میں سے۔ فَرَق یہ پیمانہ ہے بھئی، پیمانے کا نام ہے اور جی انہوں نے لکھا ہوا ہے بین السطور کہ 16 رطل کے برابر ہے، 16 رطل کے برابر۔ لیکن یہاں انہوں نے فَرَق بین السطور جو ہے 16 رطل لکھا ہوا ہے، حالانکہ یہ کتاب الزکوٰۃ میں آیا تھا بھئی فَرَق کا ذکر کہ وہ شہد کے اندر امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے کہ اس میں فَرَق کا ذکر آیا تھا کہ پانچ فَرَق ہوں تو اس کے اندر کیا واجب ہو گا؟ زکوٰۃ واجب ہو گی یعنی عشر واجب ہو گا، اور فَرَق وہاں متن کے اندر انہوں نے ذکر کیا تھا کہ 36 رطل ہے، کتنا ہے؟ 36 رطل ہے بھئی، رطل۔ تو حضور علیہ السلام نے حکم دیا کہ لایا جائے ”بِفَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ“ ایک فَرَق تمر میں سے، ”وَيُرْوَى“ اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے، یعنی یہ بعض روایتوں میں تو فَرَق کا لفظ آیا ہے اور بعض روایتوں میں ”بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ“، انہوں نے لکھا ہے فی دیوان الادب: العرق: الزنبیل۔ زنبیل کہتے ہیں تھیلی کو، تو بعض روایتوں میں عَرَق کا لفظ ہے یعنی ایک حضور علیہ السلام نے حکم دیا ایسا تھیلا لانے کا، ”فِيهِ تَمْرٌ“ جس میں تمر تھے، یعنی ایسی ٹوکری جس کے اندر تمر تھے، ”خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا“ 15 صاع بھئی، کتنے؟ 15 صاع تمر تھے۔ ”وَقَالَ“ پھر حضور علیہ السلام جب وہ لے آئے صحابہ حضور علیہ السلام کے دیا تو آپ نے فرمایا ان دیہاتی صحابی کو وہ کھجوریں دیتے ہوئے فرمایا: ”فَرِّقْهَا عَلَى مَسَاكِينَ“ اس کو مسکینوں پر تقسیم کر دو۔ ”فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ أَحْوَجُ مِنِّي وَمِنْ عِيَالِي“ تو وہ کہنے لگے، لابة، لابة کہتے ہیں سیاہ پتھروں والی زمین، سیاہ پتھروں والی زمین۔ بھئی مدینہ منورہ اگر جائیں مکہ مکرمہ سے تو مدینہ سے پہلے قریب ہی اس کے زمین جو ہے اس میں ہر طرف بالکل سیاہ پتھر پھیلے ہوئے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے ساری یہ زمین بالکل جلی ہوئی ہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس طرح کے سیاہ پتھر پھیلے ہوئے ہیں۔ تو وہ جگہ مراد ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حَرَّة بھی کہتے ہیں اور یہ لابة بھی سیاہ پتھروں والی زمین کو کہتے ہیں۔ اور یہاں لَابَتَيْ آیا، اصل میں تثنیہ ہے، نون اضافت سے گر گیا، لَابَتَيْنِ تھا اصل میں پھر نون گر گیا۔ تو مدینے کے جو دو سیاہ پتھروں والی زمینیں ہیں معلوم ہوا کہیں یہ دو طرف ہوں گے بھئی، دو کناروں پر ہوں گے۔ تو وہ کہنے لگے: ”وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ“ کہ واللہ، مدینے کے دو سیاہ پتھروں والی زمین کے درمیان کوئی ایک بھی نہیں ہے، یعنی یہ پتھر دو طرف ہوں گے تو مراد کیا ہے؟ دو کناروں کے درمیان، مراد کیا ہے؟ یعنی مدینے کے، یا رسول اللہ، واللہ مدینے کے دو کناروں کے درمیان کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے، ”أَحْوَجُ مِنِّي وَمِنْ عِيَالِي“ جو زیادہ محتاج ہو مجھ سے اور میرے اہل و عیال سے بھئی۔ تو روایات میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی یہ بات سن کر مسکرا دیے حتیٰ کہ آپ کے دندانِ مبارک ظاہر ہو گئے، اور پھر آپ فرمانے لگے: ”فَقَالَ: كُلْ أَنْتَ وَعِيَالُكَ يُجْزِيكَ وَلَا يُجْزِي أَحَدًا بَعْدَكَ“ پس آپ نے پھر فرمایا: ”كُلْ أَنْتَ وَعِيَالُكَ“ کہ جاؤ بھئی، تم کھا لو اور تمہارے گھر والے کھا لیں، ”يُجْزِيكَ“ یہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا، ”وَلَا يُجْزِي أَحَدًا بَعْدَكَ“ اور تمہارے بعد کسی ایک کے لیے بھی یہ کافی نہیں ہو گا۔ سمجھ میں آیا کہ اپنے اوپر ہی صدقہ کر رہا ہے، اپنے کو اپنے آپ کو ہی دے رہا ہے، یہ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ باقیوں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ اس کو صدقہ کریں اوروں پر، تو یہ معلوم ہوا حضور علیہ السلام نے ان کی تخصیص فرما دی بھئی۔ اچھا تو یہ حدیث آ گئی بھئی، یہ حدیث بھئی، جس سے کیا معلوم ہوا کہ روزے کا کفارہ بھی کس کی طرح ہے؟ ظہار کے کفارے کی طرح ہے، کیونکہ اس میں بھی وہی تینوں چیزیں آئیں اور ترتیب کے ساتھ آئیں جو ظہار میں ذکر ہوئی ہیں۔ تو یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے گا، یہ جو قرآن میں آیا ہے نا یہ کفارہ یہ صرف ظہار کا ہے، روزے کے کفارے کا ثبوت حدیث سے ہے، قرآن سے نہیں ہے بھئی، یہ حدیث سے ہے۔ ”وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِ يُخَيَّرُ لِأَنَّ مُقْتَضَاهُ التَّرْتِيبُ وَعَلَى مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي نَفْيِ التَّتَابُعِ لِلنَّصِّ عَلَيْهِ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے، ادھر دیکھیے بھئی، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ کفارہ دینے والا جو ہے اس کو اختیار ہے ان تینوں چیزوں میں، چاہے وہ ایک غلام یا باندی آزاد کر دے، چاہے وہ ساٹھ روزے رکھ لے، اور چاہے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے، اس میں اس کو اختیار ہے۔ جبکہ ہم کہتے ہیں نہیں، ان کے اندر ترتیب ہے جیسے حدیث میں آیا ہے اور جیسے ظہار کے کفارے میں آیا ہے کہ پہلے غلام دینا پڑے گا اگر وہ نہیں ملتا پھر کس طرف جائیں گے؟ پھر روزوں کی طرف جائیں گے۔ اگر غلام ملتا ہے پھر روزوں کی طرف جانے کی اجازت نہیں، اور اگر پھر روزوں پہ جب چلے گئے تو پھر روزوں پر قدرت ہے تو روزے ہی رکھنا پڑیں گے، پھر کھانا کھلانے کی طرف جانے کی اجازت نہیں، تو ہمارے نزدیک ترتیب ضروری ہے بھئی، تو وہ فرماتے ہیں نہیں، اختیار ہے، کیا ہے؟ اختیار ہے، کون؟ امام شافعی رحمہ اللہ۔ اور تو یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے، دلیل ہے، اس کے اندر دیکھو ترتیب سے تینوں چیزیں ذکر ہو رہی ہیں۔ اور اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ جو ہیں وہ روزوں کے اندر پے در پے یعنی مسلسل کی شرط نہیں لگاتے، وہ فرماتے ہیں ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے مسلسل ہونا ضروری نہیں، ان دنوں میں کچھ رکھ لیے، کچھ چند دن چھوڑ کے پھر رکھ لیے، تو ساٹھ پورے کرنا ضروری ہیں، ان میں تتابع یعنی تسلسل ضروری نہیں، لیکن یہ حدیث ان کے خلاف بھی دلیل ہے اس لیے کیونکہ یہاں متتابعین ”صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ“ مسلسل روزے رکھنے کا حکم آ رہا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں ”وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِ يُخَيَّرُ“ اور یہ حدیث دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف ان کے اس قول کے اندر کہ ”يُخَيَّرُ“ کہ کفارہ دینے والے کو اختیار ہے تینوں میں سے جس کو بھی ادا کرے، ”لِأَنَّ مُقْتَضَاهُ التَّرْتِيبُ“ یہ ہماری دلیل چل رہی ہے اس لیے کیونکہ اس حدیث کا مقتضیٰ کیا ہے، یہ کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ ترتیب کا کہ ان میں اختیار نہیں ہے بلکہ ان تینوں چیزوں میں ترتیب ہے۔ ”وَعَلَى مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي نَفْيِ التَّتَابُعِ“ اور اسی طرح یہ حدیث دلیل ہے امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف بھی تتابع کی نفی کے اندر، یعنی امام مالک رحمہ اللہ نے جو مسلسل ہونے کی نفی کی ہے اس میں یہ ان کے خلاف دلیل ہے کیونکہ اس حدیث میں کیا آ گیا کہ وہ روزے کس طرح ہونے چاہییں؟ مسلسل ہونے چاہییں۔ ”لِلنَّصِّ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ ان پر تصریح کی گئی ہے حدیث میں، کیا آیا: ”صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ“، تصریح کر دی گئی مسلسل ہونے کی بھئی، تو یہ امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف بھی دلیل ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھیے، علماء فرماتے ہیں کہ یہاں صاحبِ ہدایہ سے تسامح ہوا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے بارے میں انہوں نے ذکر کیا کہ ان کے نزدیک اختیار ہے کفارہ دینے والے کو حالانکہ ایسا نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ بھی ہماری طرح اس میں ترتیب کے قائل ہیں۔ اور نیز اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ کی طرف صاحبِ ہدایہ نے مسلسل نہ ہونے کی نسبت کر دی کہ روزوں کا کفارے کے روزوں کا مسلسل ہونا ضروری نہیں حالانکہ یہ امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب نہیں ہے، ان کے نزدیک بھی روزوں کا مسلسل ہونا ضروری ہے۔ بلکہ یہ جو مذہب ہے کہ اختیار ہو گا چیزوں ان میں اور اسی طرح مسلسل ہونا بھی ضروری نہیں، یہ دونوں چیزیں مذہب ہیں ابن ابی لیلیٰ کا بھئی، ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ، عظیم فقیہ گزرے ہیں بھئی، عظیم فقیہ گزرے ہیں، یہ ان کا مذہب ہے بھئی، ان کا مذہب ہے کہ کفارہ دینے والے کو اختیار ہے تینوں میں سے جو بھی دینا چاہے دے دے اور اسی طرح ان کے نزدیک روزوں کا مسلسل رکھنا بھی ضروری نہیں، اور ان کے بھی باقاعدہ ادلہ ہیں کیونکہ بغیر دلیل کے فقہاء کی کوئی بات نہیں ہوتی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان کے پاس دلائل ہیں، لیکن بہرحال ہماری یہ حدیث جو ہے ان کے خلاف واضح دلیل ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَمَنْ جَامَعَ فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ فَأَنْزَلَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ“ اور جس نے جماع کیا ”فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ“ شرمگاہ کے علاوہ میں، جس نے بیوی سے جماع کیا شرمگاہ کے علاوہ میں، یعنی احد السبیلین کے علاوہ میں، ”فَأَنْزَلَ“ تو اس کو انزال ہو گیا، ”فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ“ تو اس پر قضا واجب ہے، ”لِوُجُودِ الْجِمَاعِ مَعْنًى“ اس لیے کیونکہ معناً جماع پایا گیا، اور معناً جماع کس چیز کا نام تھا؟ کہ مباشرت ہو، مرد اور عورت کے جسم کا ملانا پایا جائے اور شہوت سے انزال ہو، وہ چیز یہاں پائی گئی ہے تو معناً جماع ہے۔ ”وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ لِانْعِدَامِهِ صُورَةً“ اور اس پر کفارہ نہیں ہے اس لیے کیونکہ صورتاً انعدام ہے اس کا۔ وَمَنِ ابْتَلَعَ الْحَصَاةَ أَوِ الْحَدِيدَ أَفْطَرَ لِوُجُودِ صُورَةِ الْفِطْرِ، وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ لِعَدَمِ الْمَعْنَى. وَمَنْ جَامَعَ فِي أَحَدِ السَّبِيلَيْنِ عَامِدًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ اسْتِدْرَاكًا لِلْمَصْلَحَةِ الْفَائِتَةِ، وَالْكَفَّارَةُ لِتَكَامُلِ الْجِنَايَةِ. تو کہتے ہیں: وَمَنِ ابْتَلَعَ الْحَصَاةَ أَوِ الْحَدِيدَ أَفْطَرَ، اور جس نے نگل لیا الْحَصَاةَ کنکری کو، حصاة کہتے ہیں کنکری اور سنگریزے کو بھئی۔ کنکری جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ تو حصاة کہتے ہیں کنکری اور سنگریزے کو۔ وَمَنِ ابْتَلَعَ الْحَصَاةَ، اور جس نے کنکری کو نگل لیا، أَوِ الْحَدِيدَ یا لوہے کو، یعنی لوہے کا کوئی چھوٹا ٹکڑا نگل گیا، أَفْطَرَ تو یہ اس کے روزے کو توڑ دے گا، لِوُجُودِ صُورَةِ الْفِطْرِ اس لیے کیونکہ فطر کی صورت پائی گئی، کہ ایک چیز خارج سے کہاں پہنچ گئی؟ پیٹ کے اندر پہنچ گئی، تو صورۃً فطر موجود ہے اگرچہ معنًی فطر نہیں۔ معنًی فطر تو کس طرح ہوتا ہے؟ ہاں، کہ وہ ایسی چیز ہو جو جسم کو غذائیت دینے والی ہے یا نفع دینے والی ہے، مثلاً کوئی دوا وغیرہ ہے۔ تو معنًی فطر یہاں نہیں پایا گیا، کیونکہ یہ بدن کو کوئی نفع دینے والی چیز نہیں ہے بھئی۔ تو صورۃً فطر پایا گیا تو اس وجہ سے صرف اس پر قضا آئے گی، کفارہ نہیں آئے گا۔ وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ اور اس پر کفارہ نہیں ہے، لِعَدَمِ الْمَعْنَى کیونکہ معنیٰ فطر نہیں پایا گیا، کوئی بدن کو نفع دینے والی چیز نہیں داخل ہوئی بدن میں۔ وَمَنْ جَامَعَ فِي أَحَدِ السَّبِيلَيْنِ عَامِدًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، اور جس شخص نے جماع کیا اپنی بیوی سے فِي أَحَدِ السَّبِيلَيْنِ دو راستوں میں سے کسی ایک میں، یعنی اگلے یا پچھلے راستے میں سے کسی ایک میں، عَامِدًا جان بوجھ کر، یعنی کہ اس کو روزہ یاد تھا، فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ تو اس پر قضا واجب ہے، اور آگے متن میں آ رہا ہے وَالْكَفَّارَةُ اور نیز اس پر کیا آئے گا؟ کفارہ بھی آئے گا۔ تو اس پر قضا واجب ہے اسْتِدْرَاكًا لِلْمَصْلَحَةِ الْفَائِتَةِ، استدراک کہتے ہیں تلافی کرنا۔ اسْتِدْرَاكًا لِلْمَصْلَحَةِ الْفَائِتَةِ فوت شدہ مصلحت کی تلافی کے لیے۔ فوت شدہ مصلحت کی تلافی کے لیے اس پر قضا واجب ہے۔ بھئی دیکھیے، روزے میں مصلحت یہ ہے کہ اس کے ذریعے نفس امارہ مغلوب ہوتا ہے۔ نفس امارہ مغلوب ہوتا ہے۔ یہ جو انسان کا نفس ہے نا نفس، یہ انسان کو برائی پر ابھارتا ہے، برائی پر اس کو آمادہ کرتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ کہلاتا ہے نفس امارہ۔ امارہ، وہ نفس جو حکم دینے والا ہے۔ نفسِ أَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ، برائی کا حکم دینے والا ہے۔ تو روزے کا مقصد یہ ہے تاکہ انسان کا یہ نفس امارہ مغلوب ہو جائے۔ ورنہ تو یہ نفس، یہ خواہشات ذکر کرتا رہتا ہے، مثلاً کبھی کھانے پینے کی خواہش دل میں پیدا ہو رہی ہے انسان اس کو پورا کرتا ہے، کبھی نفس کہتا ہے کہ ادھر کو گھومنے چلتے ہیں گھومنے کی خواہش پوری ہو رہی ہے، کبھی نفس کہتا ہے فلاں سے باتیں کرتے ہیں بھئی بیٹھ کر اس کی خواہش پوری ہو رہی ہے، کبھی اور غلط خواہشات پر انسان کو ابھارتا ہے، تو سارا سال یہ گویا نفس انسان پر غالب سے غالب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ تو پھر شریعت نے روزے واجب کیے، اور ایک آدھ دن کے نہیں پورے ایک مہینے کے واجب کیے، تاکہ یہ نفس کیا ہے؟ مغلوب ہو جائے بھئی مغلوب ہو جائے، جو نیکی کے سلسلے میں رکاوٹ بنتا ہے اور برائی کی طرف انسان کو لے کر جاتا ہے۔ لہٰذا اس نفس کو مغلوب کرنے کے لیے شریعت نے روزے کا حکم دیا، یعنی اس کی جو تین بڑی خواہشات ہیں کھانا، پینا اور جماع، ان پر پابندی لگا دی گئی۔ یعنی روزے کا حکم دے کر ان چیزوں پر صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک ان چیزوں پر پابندی لگا دی گئی، جو اس کی تین یہ بڑی خواہشات ہیں، تاکہ یہ مغلوب ہو جائے۔ اور صرف ایک روزے یا دو کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ پورا رمضان کا مہینہ روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا تاکہ یہ نفس اچھی طرح مغلوب ہو جائے بھئی، اچھی طرح مغلوب ہو جائے۔ تو روزے کا مقصد کیا ہوا؟ نفس امارہ کو مغلوب کرنا، تو یہ ہے مصلحت روزے کے اندر بھئی۔ تو اور مصلحتوں میں سے ایک بڑی مصلحت یہ بھی ہے تاکہ نفس امارہ مغلوب ہو جائے۔ اور یہاں پر تو اس نے کیا کیا ہے؟ اس کی خواہش پوری کر دی ہے، نفس کی خواہش پوری کر دی، روزے کی حالت میں اس نے کیا کر لیا؟ صحبت کر لی ہے، تو نفس کی خواہش پوری کر دی۔ تو نفس امارہ مغلوب ہوا یا غالب ہو گیا؟ غالب ہو گیا، تو وہ مصلحت ہی فوت ہو گئی جس کے لیے روزے کو واجب کیا گیا تھا۔ تو اس فوت شدہ مصلحت کی تلافی کے لیے اس کی قضا کرنا پڑے گی، یہ روزہ پھر رکھنا پڑے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنیٰ ہے: اسْتِدْرَاكًا لِلْمَصْلَحَةِ الْفَائِتَةِ تلافی کرنے کے لیے فوت شدہ مصلحت کی، اس پر قضا واجب ہو گی۔ وَالْكَفَّارَةُ اور کفارہ بھی واجب ہو گا، لِتَكَامُلِ الْجِنَايَةِ جنایت کے کامل ہونے کی وجہ سے۔ کیونکہ بڑی کامل درجے کی، بڑے کامل درجے کا اس نے جرم کیا ہے۔ جب کامل درجے کا جرم پایا گیا تو اب کفارہ بھی واجب ہو گا بھئی۔ وَلَا يُشْتَرَطُ الْإِنْزَالُ فِي الْمَحَلَّيْنِ اعْتِبَارًا بِالِاغْتِسَالِ، اور انزال کی شرط نہیں ہو گی دونوں جگہوں میں، یعنی دونوں سبیلین میں سے کسی ایک کے اندر بھی انزال کی شرط نہیں ہو گی، اعْتِبَارًا بِالِاغْتِسَالِ قیاس کرتے ہوئے غسل پر، غسل پر۔ بھئی جیسے پیچھے غسل کے مسائل ذکر ہوئے تھے، وہاں آپ نے پڑھا تھا کہ نفس دخول پایا جائے تو اس سے غسل فرض ہو جائے گا، غسل واجب ہو جائے گا، انزال اس کے اندر شرط ہی نہیں۔ تو یہاں پر بھی نفس دخول سے ہی، نفس دخول سے ہی یہ قضا اور کفارہ دونوں واجب ہو جائیں گے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے: وَلَا يُشْتَرَطُ الْإِنْزَالُ فِي الْمَحَلَّيْنِ اور انزال کی شرط نہیں لگائی جائے گی دونوں جو محل ہیں ان میں، اعْتِبَارًا بِالِاغْتِسَالِ قیاس کرتے ہوئے غسل پر۔ وَهَذَا لِأَنَّ قَضَاءَ الشَّهْوَةِ يَتَحَقَّقُ دُونَهُ وَإِنَّمَا ذَلِكَ شَبْعٌ، یہ ایک اعتراض یا ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنایت تو کامل تب ہو گی جب شہوت پوری ہو جائے، اور جب تک انزال نہیں ہوا تب تک تو شہوت پوری نہیں ہوئی، لہٰذا جنایت کامل نہیں ہوئی، لہٰذا اس صورت میں کفارہ نہیں آنا چاہیے۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ نہیں بھئی، کہ انزال کے بغیر بھی شہوت پوری ہو جاتی ہے، البتہ انزال جو ہے وہ سیر ہو جانا ہے، یعنی جی کا پوری طرح بھر جانا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جیسے ایک ہے ایک لقمہ کھانا اور ایک ہے سیر ہو کر کھانا کھا لینا، تو ایک لقمے سے بھی کیا ہو جائے گا؟ روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح، بغیر انزال کے بھی شہوت پوری ہو جاتی ہے لیکن انزال سے جی پوری طرح بھر جاتا ہے۔ بغیر انزال کے بھی شہوت پوری ہو جاتی ہے تو معلوم ہوا جنایت یہ کس قسم کی ہے؟ کامل درجے کی ہے۔ جب کامل درجے کی ہے تو کفارہ بھی یہاں پر واجب ہو گا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنیٰ ہے: وَهَذَا لِأَنَّ قَضَاءَ الشَّهْوَةِ يَتَحَقَّقُ دُونَهُ اور یہ اس لیے کیونکہ شہوت کا پورا ہونا يَتَحَقَّقُ وہ پایا جاتا ہے دُونَهُ اس کے بغیر بھی، یعنی انزال کے بغیر بھی، وَإِنَّمَا ذَلِكَ شَبْعٌ اور وہ انزال تو شَبْعٌ سیر ہو جانا ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يَجِبُ الْكَفَّارَةُ بِالْجِمَاعِ فِي الْمَوْضِعِ الْمَكْرُوهِ، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے یہ روایت ہے کہ کفارہ واجب نہیں ہوتا بِالْجِمَاعِ فِي الْمَوْضِعِ الْمَكْرُوهِ جماع کرنے سے مکروہ محل میں، مکروہ مقام میں، یعنی پچھلے مقام میں۔ امام صاحب سے ایک روایت یہ ہے کہ پچھلے مقام کے اندر جماع کرنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ اعْتِبَارًا بِالْحَدِّ، حد پر قیاس کرتے ہوئے، جیسے اس کی وجہ سے حد واجب نہیں ہوتی، معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اعْتِبَارًا بِالْحَدِّ عِنْدَهُ قیاس کرتے ہوئے حد پر امام صاحب کے نزدیک۔ تو وہ حد پر قیاس کرتے ہیں کہ جیسے اس کی وجہ سے حد واجب نہیں ہوتی اسی طرح اس کی وجہ سے کفارہ بھی واجب نہیں ہو گا۔ وَالأَصَحُّ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے، أَنَّهَا تَجِبُ کہ کفارہ واجب ہو گا۔ تو امام صاحب سے اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں، ایک روایت تو یہ جو ذکر کر دی کہ اس صورت میں کفارہ واجب نہیں ہو گا، اور آگے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ زیادہ صحیح قول امام صاحب کا اور زیادہ صحیح روایت یہ ہے کہ اس صورت میں بھی کفارہ واجب ہو جائے گا۔ وَالأَصَحُّ أَنَّهَا تَجِبُ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے امام صاحب کا کہ کفارہ واجب ہو گا، لِأَنَّ الْجِنَايَةَ مُتَكَامِلَةٌ لِقَضَاءِ الشَّهْوَةِ اس لیے کیونکہ جنایت جو ہے وہ پوری ہے، کامل ہے، لِقَضَاءِ الشَّهْوَةِ شہوت کے پورا ہونے کی وجہ سے۔ وَلَوْ جَامَعَ مَيْتَةً أَوْ بَهِيمَةً فَلَا كَفَّارَةَ أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ، اور اگر کسی شخص نے جماع کیا مَيْتَةً کسی مردار سے، مردہ عورت سے، أَوْ بَهِيمَةً یا کسی چوپائے سے، کسی جانور سے، فَلَا كَفَّارَةَ تو پھر کفارہ نہیں، أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ انزال ہو یا انزال نہ ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کفارہ نہیں ہے، یہ نہیں کہ روزہ نہیں ٹوٹے گا، بلکہ کفارہ نہیں ہے بھئی۔ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، برخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، لِأَنَّ الْجِنَايَةَ تَكَامُلُهَا بِقَضَاءِ الشَّهْوَةِ فِي مَحَلٍّ مُشْتَهًى وَلَمْ يُوجَدْ، یہ ہماری دلیل ذکر ہو رہی ہے۔ لِأَنَّ الْجِنَايَةَ ہمارے نزدیک، جنایت جو ہے تَكَامُلُهَا بِقَضَاءِ الشَّهْوَةِ وہ پوری ہوتی ہے شہوت پوری کرنے سے فِي مَحَلٍّ مُشْتَهًى محلہ مشتہیٰ میں۔ کس محل میں؟ محلہ مشتہیٰ کے اندر شہوت پوری کرنے سے جنایت پوری ہو گی۔ وَلَمْ يُوجَدْ اور محلہ مشتہیٰ تو یہاں نہیں پایا گیا۔ شہوت والا محل نہیں پایا گیا بھئی۔ اسی لیے، اسی لیے طبیعتِ سلیمہ اس کو ناگوار سمجھتی ہے۔ کیا کیا؟ کسی مردے سے صحبت کی جائے یا کسی جانور سے۔ حتیٰ کہ عام لوگ بھی اس کو سنیں گے تو اس کو اس شخص کی، اس شخص کے جنون اور حماقت پر محمول کریں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو معلوم ہوا عام طبیعتیں بھی کیا کرتی ہیں اس سے؟ ناگوار سمجھتی ہیں اور نفرت کرتی ہیں، تو طبیعتِ سلیمہ تو بطریقِ اولیٰ اس سے نفرت کرے گی بھئی۔ تو یہاں پر کیونکہ محلہ مشتہیٰ کے اندر شہوت کو پورا کرنا نہیں پایا گیا، اس لیے یہاں کفارہ واجب نہیں ہو گا بھئی۔ کوئی بھی اس کو محلِ شہوت نہیں سمجھتا بلکہ لوگ اس کو اس کے جنون پر یا اس کی دیوانگی پر محمول کریں گے بھئی۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ لِأَنَّ الْجِنَايَةَ تَكَامُلُهَا بِقَضَاءِ الشَّهْوَةِ فِي مَحَلٍّ مُشْتَهًى اس لیے کیونکہ جنایت جو ہے وہ پوری ہوتی ہے وہ مشتہیٰ محل کے اندر شہوت پوری کرنے سے۔ مشتہیٰ محل کے اندر شہوت پوری کرے گا تو جنایت پوری ہو گی۔ وَلَمْ يُوجَدْ اور محلہ مشتہیٰ تو نہیں پایا گیا۔ ثُمَّ عِنْدَنَا كَمَا تَجِبُ الْكَفَّارَةُ بِالْوِقَاعِ عَلَى الرَّجُلِ تَجِبُ عَلَى الْمَرْأَةِ، پھر ہمارے نزدیک جیسے کفارہ واجب ہوتا ہے بالوقاع جماع کی وجہ سے عَلَى الرَّجُلِ مرد پر، تَجِبُ عَلَى الْمَرْأَةِ تو عورت پر بھی واجب ہوتا ہے۔ کفارہ جیسے مرد پر واجب ہوتا ہے جماع کی وجہ سے اسی طرح عورت پر بھی واجب ہوتا ہے، لیکن یاد رکھیے اس میں کہ جبکہ عورت کی مرضی بھی شامل ہو اس کے اندر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو اس پر بھی کفارہ واجب ہو گا۔ اور اگر اس کی مرضی شامل نہیں تھی، یعنی بیوی تو کسی حال میں یہ نہیں چاہتی تھی، تو پھر اس صورت میں اس پر صرف قضا آئے گی، اس پر کفارہ نہیں آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلٍ لَا تَجِبُ عَلَيْهَا لِأَنَّهَا مُتَعَلِّقَةٌ بِالْجِمَاعِ وَهُوَ فِعْلُهُ وَإِنَّمَا هِيَ مَحَلُّ الْفِعْلِ، امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول یہ ہے کہ عورت پر کفارہ واجب نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ جماع کی وجہ سے کفارہ واجب ہوتا ہے اور جماع کرنا مرد کا فعل ہے، عورت صرف محل جماع ہے۔ عورت کیا ہے؟ محل جماع ہے، اور کفارہ واجب ہوتا ہے جماع کی وجہ سے، اور جماع تو صرف کون کرتا ہے؟ مرد کرتا ہے، لہٰذا جماع کا سبب وہ صرف مرد کے اندر پایا جا رہا ہے تو کفارہ بھی صرف اسی پر آئے گا۔ عورت تو جماع نہیں کرتی بلکہ وہ صرف کیا ہے؟ محل جماع ہے، تو وہاں جماع کا سبب ہی نہیں پایا گیا اس وجہ سے اس پر کفارہ بھی واجب نہیں۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلٍ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک قول میں، یعنی اس میں ان کا دوسرا قول بھی ہے، ایک قول ان کا یہ ہے: لَا تَجِبُ عَلَيْهَا کہ اس عورت پر واجب نہیں ہو گا کفارہ، لِأَنَّهَا مُتَعَلِّقَةٌ بِالْجِمَاعِ اس لیے کیونکہ وہ عورت جو ہے وہ تو جماع سے متعلق ہے، وَهُوَ فِعْلُهُ اور جماع تو اس مرد کا فعل ہے، وَإِنَّمَا هِيَ مَحَلُّ الْفِعْلِ اور یہ عورت تو محلِ فعل ہے صرف بھئی، جماع اس کی طرف سے نہیں ہے۔ وَفِي قَوْلٍ تَجِبُ، اور ایک قول کے مطابق، امام شافعی رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق تَجِبُ عورت پر بھی کفارہ واجب ہو گا، ایک قول کے مطابق۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا دوسرا قول کیا آیا؟ عورت پر بھی کفارہ واجب ہو گا، وَيَتَحَمَّلُ الرَّجُلُ عَنْهَا، اور آدمی، وہ جو مرد ہے وہ برداشت کرے گا اس کی طرف سے۔ برداشت کون کرے گا؟ وہ مرد برداشت کرے گا، یعنی اس بیوی کی طرف سے بھی اس کو ہی کفارہ دینا پڑے گا۔ عورت پر بھی واجب ہوا لیکن اٹھائے گا کون؟ مرد، یعنی خاوند اٹھائے گا، تو اس پر اپنی طرف سے بھی کفارہ اسے دینا پڑے گا اور بیوی کی طرف سے بھی کفارہ دینا پڑے گا۔ اعْتِبَارًا بِمَاءِ الِاغْتِسَالِ، قیاس کرتے ہوئے غسل کے پانی پر۔ جیسے خاوند اپنی بیوی سے صحبت کر لے اور اب پانی بغیر پیسوں کے نہیں مل رہا، تو غسل کی حاجت ہے تو خاوند جیسے اپنے لیے پانی خریدنا اس کے لیے ضروری ہے اسی طرح بیوی کے لیے پانی خرید کر اس کو غسل کے لیے پانی فراہم کرنا یہ بھی کس کی ذمہ داری؟ خاوند کی ذمہ داری ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے جیسے غسل کے پانی کا بوجھ کس پر پڑتا ہے؟ خاوند پر پڑتا ہے، تو یہاں پر وہ کفارے کا بوجھ بھی کس کو اٹھانا پڑے گا بیوی کی طرف سے؟ خاوند کو اٹھانا پڑے گا۔ یہ معنیٰ ہے: وَيَتَحَمَّلُ الرَّجُلُ عَنْهَا اعْتِبَارًا بِمَاءِ الِاغْتِسَالِ اور مرد جو ہے وہ برداشت کرے گا عورت کی طرف سے کفارے کو، اعْتِبَارًا بِمَاءِ الِاغْتِسَالِ قیاس کرتے ہوئے غسل کے پانی پر۔ وَلَنَا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُظَاهِرِ“، ہماری دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے کہ: ”مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُظَاهِرِ“، جس نے روزہ توڑ دیا رمضان میں تو اس پر وہی واجب ہے جو ظہار کرنے والے پر ہے، اس پر وہی واجب ہے جو مظاہر یعنی ظہار کرنے والے پر واجب ہے۔ اور ظہار تو آپ پڑھ چکے ہیں، ظہار کس کو کہتے ہیں کہ خاوند جو ہے اپنی بیوی کو ماں کے ساتھ تشبیہ دے، یعنی یوں کہے: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، تو مجھ پر اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی پشت، یعنی جیسے میری ماں مجھ پر حرام ہے اسی طرح تو بھی مجھ پر حرام ہے۔ تو یہ اس نے بڑی ہی غلط بات کہی، انتہا درجے کی غلط بات کہی۔ لہٰذا اس صورت میں اب اگر اس بیوی کو وہ رکھنا چاہتا ہے اور اپنے کہے ہوئے کی تلافی کرنا چاہتا ہے تو اس کا کفارہ قرآن میں ذکر کیا گیا، قرآن میں ذکر کیا گیا کہ اس صورت میں اس شخص کو ایک غلام یا باندی آزاد کرنا پڑے گی، اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو پھر ساٹھ مسلسل روزے رکھنا پڑیں گے، اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ تو ظہار کا کفارہ کیا ہے؟ غلام یا باندی آزاد کریں گے، اگر اس کی استطاعت نہیں یا وہ نہیں ملتے تو پھر ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے، اگر اس کی بھی استطاعت نہیں تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ تو حدیث میں بھی یہی آیا کہ ”مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُظَاهِرِ“، جس نے روزہ توڑ دیا رمضان میں تو اس پر وہ کفارہ واجب ہے جو ظہار کرنے والے پر واجب ہے۔ اب حدیث کے اندر جو ہے، من آیا، مَنْ أَفْطَرَ جس نے روزہ توڑ دیا، اور یہ من عام ہے، یہ مذکر کو بھی شامل ہے اور مؤنث کو۔ معلوم ہوا مرد پر بھی کفارہ آئے گا اور عورت پر بھی آئے گا۔ وَكَلِمَةُ ”مَنْ“ تَنْتَظِمُ الذُّكُورَ وَالْإِنَاثَ، اور کلمۂ من جو ہے وہ شامل ہے مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی۔ وَلِأَنَّ السَّبَبَ جِنَايَةُ الْإِفْسَادِ لَا نَفْسُ الْوِقَاعِ، اور اس لیے کیونکہ یہ کفارے کا سبب جِنَايَةُ الْإِفْسَادِ روزہ فاسد کرنے کا جرم ہے۔ یہ، یہ کفارے کا سبب کیا ہے؟ روزہ فاسد کر دینے کا جرم ہے۔ اس شخص نے کیا کیا ہے؟ روزہ فاسد کیا ہے، تو یہ روزہ فاسد کرنے کا جرم یہ سبب ہے کفارے کا، لَا نَفْسُ الْوِقَاعِ نفسِ جماع نہیں۔ نفسِ، نفسِ جماع وہ اس کفارے کا سبب نہیں ہے بلکہ روزے کو فاسد کرنے کا جرم ہے، اور اس کے اندر تو عورت بھی شریک ہے اس کے ساتھ۔ جیسے اس مرد نے کیا کیا ہے؟ روزہ فاسد کرنے کا جرم کیا ہے، اگر عورت کی مرضی شامل تھی تو اس نے بھی کیا کیا ہے؟ روزہ فاسد کرنے کا جرم کیا ہے، لہٰذا کفارے کا سبب دونوں میں پایا گیا بھئی تو دونوں پر کفارہ آئے گا۔ تو نفسِ وقاع کفارے کا سبب نہیں ہے کیونکہ وقاع یعنی جماع تو صرف کس میں پایا گیا؟ مرد میں پایا گیا، لیکن یہاں جماع ہے ہی نہیں سبب بلکہ سبب کیا ہے؟ روزے کو فاسد کرنے کا جرم، تو یہ دونوں نے کیا ہے، دونوں نے روزے کو فاسد کیا ہے۔ یہ معنیٰ ہے: وَلِأَنَّ السَّبَبَ جِنَايَةُ الْإِفْسَادِ لَا نَفْسُ الْوِقَاعِ اور اس لیے کیونکہ کفارے کا سبب جو ہے وہ روزہ فاسد کرنے کا جرم ہے، لَا نَفْسُ الْوِقَاعِ نفسِ جماع نہیں ہے، وَقَدْ شَارَكَتْهُ فِيهَا اور تحقیق وہ عورت بھی مرد کے ساتھ شریک ہے اس جنایت کے اندر۔ وَلَا تَحَمُّلَ، یہاں سے آگے بتلا رہے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا ذکر کیا تھا؟ ماءِ اغتسال پر قیاس کرتے ہوئے کیا فرمایا تھا کہ اس کفارے کو عورت کی طرف سے کون برداشت کرے گا؟ مرد یعنی اس کا خاوند ہی برداشت کرے گا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ یہ جو کفارہ ہے، یہ یا تو عبادت ہے یا سزا۔ یاد رکھیے، یہ جو کفارہ ہے نا، اس میں عبادت کا پہلو بھی ہے اور اس میں سزا کا پہلو بھی ہے۔ عبادت کا پہلو بھی ہے اور سزا۔ عبادت تو ظاہر ہے، روزہ وغیرہ رکھ رہا ہے تو یہ عبادت ہے یا عبادت نہیں ہے؟ فقراء وغیرہ کو کھلا رہا ہے، یہ بھی کیا ہے؟ عبادت ہے۔ اور سزا کا پہلو بھی ہے کہ یہ اس پر کیوں لازم ہوا؟ کیونکہ اس نے ایک جرم کیا تھا روزہ توڑا تھا۔ تو اس کفارے کے اندر عبادت والا پہلو بھی ہے اور سزا والا پہلو بھی ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ بیوی کی طرف سے کون برداشت کرے گا؟ خاوند برداشت کرے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ یا تو یہ کفارہ عبادت ہے یا یہ کیا ہے؟ سزا ہے، اور عبادت بھی جس شخص پر لازم ہوتی ہے اسی کو ادا کرنا پڑتی ہے، اس کی جگہ کوئی دوسرا ادا کرے تو اس کی طرف سے ادا نہیں ہو سکتا۔ اور سزا بھی اسی شخص کو دی جاتی ہے جس نے جرم کیا جاتا ہے، دوسرے شخص، دوسرا شخص اس کی سزا کو برداشت کر لے اور اٹھا لے، یہ اس طرح کبھی بھی نہیں کیا جاتا بھئی۔ دنیا کے اندر بھی آپ دیکھ لیں کہ مجرم ہی کو سزا دی جاتی ہے، اس کا کوئی اور رشتہ دار کہے میں سزا برداشت کرنے کو تیار ہوں، کوئی بھی اس کو قبول نہیں کرے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَلَا تَحَمُّلَ اور برداشت کرنا نہیں ہے، یعنی خاوند کی طرف سے یا اٹھانا نہیں ہے خاوند کی طرف سے اس کفارے کا، لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ أَوْ عُقُوبَةٌ اس لیے کیونکہ وہ کفارہ یا تو عبادت ہے یا سزا ہے، وَلَا يَجْرِي فِيهَا الْحَمْلُ اور اس کے اندر اٹھانا جاری نہیں ہوتا کہ ایک شخص کیا کر لے؟ دوسرے کی عبادت کو یا سزا کو اٹھا لے۔ وَلَوْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ مَا يُتَغَذَّى بِهِ أَوْ مَا يُدَاوَى بِهِ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْكَفَّارَةُ، اور اگر روزہ دار نے کھایا أَوْ شَرِبَ یا پیا مَا اس چیز کو يُتَغَذَّى بِهِ جس سے غذا حاصل کی جاتی ہے، أَوْ مَا يُدَاوَى بِهِ یا ایسی چیز کو کھایا یا پیا يُدَاوَى بِهِ جس کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے، یعنی کوئی دوا وغیرہ ہے، فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْكَفَّارَةُ تو اس پر قضا اور کفارہ دونوں واجب ہیں۔ یعنی کوئی چیز کھا لی پی لی اور کس طرح کی چیز ہے؟ جسے بطورِ غذا کے کھایا جاتا ہے یا اس کو بطورِ دوا کے کھایا جاتا ہے، تو اس میں قضا بھی آئے گا اور کفارہ بھی آئے گا۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: لَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس پر کفارہ نہیں ہے، صرف کیا آئے گی؟ قضا آئے گی۔ لِأَنَّهَا شُرِعَتْ فِي الْوِقَاعِ بِخِلَافِ الْقِيَاسِ، اس لیے کیونکہ کفارہ تو مشروع ہوا ہے صرف کس میں؟ فِي الْوِقَاعِ جماع کے اندر، بِخِلَافِ الْقِيَاسِ خلافِ قیاس طریقے پر۔ کفارہ صرف کس کے اندر آیا ہے؟ جماع کے اندر مشروع ہوا ہے خلافِ قیاس۔ یعنی یوں کہیں کہ کفارہ خلافِ قیاس صرف کس کے اندر مشروع ہوا ہے؟ جماع میں، لِارْتِفَاعِ الذَّنْبِ بِالتَّوْبَةِ اس وجہ سے کہ گناہ تو اٹھ گیا، معاف ہو گیا بِالتَّوْبَةِ توبہ کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ توبہ کی وجہ سے تو گناہ معاف ہو جاتا ہے یا معاف نہیں ہوتا؟ توبہ کی وجہ سے تو گناہ معاف ہو جاتا ہے۔ تو وہ ایک آگے روایت بھی آ رہی ہے کہ وہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اور انہوں نے رمضان میں روزے کی حالت میں جان بوجھ کر بیوی سے صحبت کر لی تھی، اور پھر حضور علیہ السلام کے پاس آئے اور پھر وہاں پر اس کو اس کفارے کا حکم دیا گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کفارے کا حکم دیا، حکم دیا۔ اور جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ہیں تو یقیناً نادم ہو کر آئے ہیں کہ یہ میں نے کیا کر لیا، کتنی بڑی غلطی میں نے کر لی۔ یہ بات ظاہر ہے یا نہیں؟ ہاں ظاہر بھی ہے اور حدیث کے الفاظ سے بھی ظاہر ہو گا کہ وہ کتنے پریشان تھے اس بات پر کہ یہ مجھ سے کیسی غلطی ہو گئی، اتنی بڑی غلطی ہو گئی۔ تو وہ نادم ہو کر آئے تھے یعنی توبہ کر کے آئے تھے، اللہ سے بھی معافی مانگی ہو گی توبہ، اور جب توبہ کر لی جائے پھر تو گناہ کیا ہو جاتا ہے؟ معاف ہو جاتا ہے۔ جب توبہ سے گناہ معاف ہو جاتا ہے تو پھر اس صورت میں تو گناہ معاف ہو گیا تو پھر تو کفارہ نہیں آنا چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کیونکہ گناہ تو توبہ سے ختم ہو گیا، لیکن خلافِ قیاس یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کا حکم دیا؟ کفارے کا حکم دیا۔ تو گناہ جب توبہ سے معاف ہو گیا، یا یوں کہیں گناہ جب توبہ سے معاف ہو جاتا ہے تو قیاس کیا تقاضا کرتا ہے؟ کوئی اور سزا ہونی چاہیے؟ نہیں، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب ایک چیز اللہ کی طرف سے معاف ہو گئی تو اب مزید اس میں کوئی سزا نہیں ہونی چاہیے، تو یہ جو کفارے کو واجب کیا گیا یہ مطابقِ قیاس ہوا یا خلافِ قیاس؟ خلافِ قیاس ہوا۔ تو یہی بات امام شافعی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ لِأَنَّهَا شُرِعَتْ فِي الْوِقَاعِ بِخِلَافِ الْقِيَاسِ لِارْتِفَاعِ الذَّنْبِ بِالتَّوْبَةِ اس لیے کیونکہ کفارہ جو ہے جماع کے اندر خلافِ قیاس طریقے پر مشروع ہوا ہے، لِارْتِفَاعِ الذَّنْبِ بِالتَّوْبَةِ اس وجہ سے کہ گناہ جو ہے وہ تو اٹھ گیا ہے یعنی معاف ہو گیا ہے بِالتَّوْبَةِ توبہ کی وجہ سے، فَلَا يُقَاسُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ تو اس پر کسی اور چیز کو قیاس نہیں کیا جائے گا۔ یعنی اے احناف، حدیث سے تو صرف جماع کی صورت میں کفارے کا ثبوت ہے تو تم اس پر کھانے اور پینے کی صورت بھی قیاس کرتے ہوئے کہتے ہو کہ کھانے اور پینے کی صورت میں بھی کفارہ آئے گا، حالانکہ کفارے کا ثبوت تو خلافِ قیاس ہے، اور جو چیز خلافِ قیاس ہو وہ اپنے مورد پر بند رہتی ہے، اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ تو تمہارا اس پر کھانے اور پینے کو، تمہارا کھانے اور پینے کو جماع پر قیاس کرنا درست نہیں ہے، لہٰذا ان میں کفارہ نہیں آئے گا کھانے اور پینے میں بلکہ صرف کیا آئے گا؟ قضا آئے گی۔ وَلَنَا أَنَّ الْكَفَّارَةَ تَعَلَّقَتْ بِجِنَايَةِ الْإِفْطَارِ فِي رَمَضَانَ عَلَى وَجْهِ الْكَمَالِ، کہ کفارے کا تعلق جو ہے بِجِنَايَةِ الْإِفْطَارِ روزہ توڑنے کے جرم کے ساتھ ہے، روزہ توڑنے کے جرم کے ساتھ ہے، فِي رَمَضَانَ رمضان کے مہینے میں، عَلَى وَجْهِ الْكَمَالِ کامل طریقے پر۔ یعنی کامل طریقے پر جو روزہ توڑنے کا جرم پایا گیا فِي رَمَضَانَ رمضان کے اندر، اس کے ساتھ ہے کفارے کا تعلق۔ ترجمے پر نظر ہے بھئی؟ وَلَنَا أَنَّ الْكَفَّارَةَ تَعَلَّقَتْ بِجِنَايَةِ الْإِفْطَارِ فِي رَمَضَانَ عَلَى وَجْهِ الْكَمَالِ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ کفارے کا تعلق رمضان میں کامل طریقے پر روزہ توڑنے کا جرم جو ہے اس کے ساتھ ہے، روزہ توڑنے کے جرم کے ساتھ ہے یعنی کامل طور پر جو روزہ توڑنے کا جرم پایا گیا رمضان میں اس کے ساتھ کفارے کا تعلق ہے۔ اور روزہ توڑنے کا کامل جرم، روزہ توڑنے کا کامل جرم جو ہے، یہ جیسے صحبت کی صورت میں یعنی جماع کی صورت میں پایا جاتا ہے اسی طرح کھانے اور پینے کی صورت میں بھی پایا جاتا ہے۔ وَقَدْ تَحَقَّقَتْ اور تحقیق یہ جرم پایا گیا ہے۔ جب اس نے کچھ کھایا ہے یا پیا ہے تو یہ جرم پایا گیا ہے، اور جب بھی یہ جرم پایا جائے گا، کون سا جرم؟ روزہ توڑنے کا جرم، اور کس طریقے پر؟ کامل طریقے پر ہو، پورا جرم ہو، اور کس مہینے میں ہو؟ رمضان میں ہو، تو اس سے کفارے کا تعلق ہے اور یہ جرم تو پایا گیا ہے یہاں پر جب اس نے کچھ کھایا ہے یا پیا ہے، تو لہٰذا اس صورت میں بھی کیا واجب ہو گا؟ کفارہ واجب ہو گا۔ وَبِإِيجَابِ الْإِعْتَاقِ تَكْفِيرًا عُرِفَ أَنَّ التَّوْبَةَ غَيْرُ مُكَفِّرَةٍ لِهَذِهِ الْجِنَايَةِ، یہاں سے وہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جو بات ذکر کی تھی اس کا جواب دے رہے ہیں۔ اس کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ اچھی طرح اس بات کو سمجھ لیجیے گا بھئی۔ بھئی دیکھیے، امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا تھا کہ گناہ جو ہے وہ توبہ سے معاف ہو جاتا ہے، تو یہ جو صحبت والی غلطی جس نے کی اس کا یہ جرم بھی توبہ سے معاف ہو چکا ہے، پھر اس کو جو کفارے کا حکم دیا گیا یہ خلافِ قیاس ہے، لہٰذا اس پر اور چیزوں کو قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ آپ کی بات ہمیں تسلیم ہے کہ توبہ سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، مٹ جاتے ہیں، لیکن یہ والا جرم جو ہے، کون سا جرم؟ روزہ توڑنے کا جرم جو ہے، یہ ایسا جرم ہے کہ یہ توبہ سے نہیں مٹتا، توبہ سے ختم نہیں ہوتا۔ اور دلیل اس کی کیا ہے؟ کیونکہ اس میں غلام آزاد کرنا وغیرہ جو ہے یہ چیزیں واجب کی گئی ہیں۔ اس میں کیا واجب کی گئی ہیں؟ کفارہ واجب کیا گیا ہے یا نہیں واجب کیا گیا؟ ہم کہتے ہیں یہ کفارہ واجب کرنا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہ والا جرم جو ہے یہ توبہ سے نہیں مٹتا۔ عام گناہ ٹھیک ہے، توبہ سے عام جرائم جو ہیں ٹھیک ہے وہ توبہ سے مٹ جائیں گے، ختم ہو جائیں گے، لیکن یہ والی جنایت جو ہے یہ توبہ سے معاف نہیں ہوتی۔ یہ کس سے پتہ چلا؟ یہ جو کفارہ شریعت نے واجب کیا ہے کہ غلام وغیرہ آزاد کرنا پڑے گا یا ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا۔ معلوم ہوا یہ جرم توبہ سے معاف نہیں ہوتا اور اس کے اندر کفارہ ضرور دینا پڑے گا، پھر ہی یہ جرم ختم ہو گا اور معاف ہو گا۔ تو لہٰذا جب کھائے گا اور پیے گا تب بھی یہ جرم پایا گیا یعنی روزہ توڑنے والا، اور یہ جرم تو توبہ سے معاف نہیں ہوتا، اس میں تو کیا ضروری ہوتا ہے؟ کفارہ ضروری، تو لہٰذا کھانے اور پینے کی صورت میں بھی کیا کرنا پڑے گا؟ کفارہ دینا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَبِإِيجَابِ الْإِعْتَاقِ تَكْفِيرًا اور اعتاق کو واجب کرنے کی وجہ سے، تَكْفِيرًا کفارہ ادا کرنے کے لیے، ترجمہ تکفیراً سے میں شروع کروں گا، کفارہ ادا کرنے کے لیے اعتاق کو واجب کرنے سے عُرِفَ یہ جان لیا گیا، أَنَّ التَّوْبَةَ کہ توبہ جو ہے، غَيْرُ مُكَفِّرَةٍ لِهَذِهِ الْجِنَايَةِ وہ مٹانے والی نہیں ہے اس جنایت یعنی اس جرم کو۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ دوبارہ ترجمہ سنیں بھئی: وَبِإِيجَابِ الْإِعْتَاقِ تَكْفِيرًا عُرِفَ أَنَّ التَّوْبَةَ غَيْرُ مُكَفِّرَةٍ لِهَذِهِ الْجِنَايَةِ، یاد رکھو بھئی، یاد رکھو، یہ بِإِيجَابِ الْإِعْتَاقِ تَكْفِيرًا، اس کا تعلق ہے عُرِفَ سے۔ یہ جار مجرور ہے نا، اور جار مجرور کے لیے متعلق چاہیے، تو اس کا تعلق کس سے ہے؟ عُرِفَ، جان لیا گیا۔ بھئی کس چیز سے جانا گیا؟ بِإِيجَابِ الْإِعْتَاقِ تَكْفِيرًا، یہ جو بطورِ کفارے کے غلام آزاد کرنے کو واجب کہا گیا ہے، واجب کیا گیا ہے، اس سے جان لیا گیا أَنَّ التَّوْبَةَ غَيْرُ مُكَفِّرَةٍ لِهَذِهِ الْجِنَايَةِ کہ توبہ جو ہے وہ اس جرم کو مٹانے والی نہیں ہے۔ عام جرم تو ٹھیک ہے توبہ سے مٹ جائیں گے لیکن یہ جرم توبہ سے مٹنے والا نہیں، یہ کس سے پتہ چلا؟ یہ جو بطورِ کفارے کے غلام کے آزاد کرنے کو واجب کیا گیا۔ تو لہٰذا معلوم ہوا یہ جرم جو ہے جو بھی کر لے گا، یعنی روزے کو فاسد کر دے گا جان بوجھ کر رمضان کے اندر کامل طریقے پر، تو پھر یہ جرم اب توبہ سے نہیں معاف ہو گا بلکہ کیا ضروری ہو گا؟ کفارہ ضروری ہو گا۔ تو یہ جرم جب صحبت کی صورت میں پایا گیا ہے یعنی روزہ توڑنے کا، تو کھانے اور پینے کی صورت میں بھی یہی جرم پایا گیا اور یہ جرم تو بغیر کفارے کے صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتا، تو کفارہ اس میں بھی آ جائے گا بھئی، یعنی کھانے اور پینے کی صورت میں بھی کفارہ آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ثُمَّ قَالَ: ”وَالْكَفَّارَةُ مِثْلُ كَفَّارَةِ الظِّهَارِ“، پھر صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور روزے کا کفارہ جو ہے مِثْلُ كَفَّارَةِ الظِّهَارِ وہ ظہار کے کفارے کی طرح ہے، لِمَا رَوَيْنَا بوجہ اس حدیث کے جو ہم نے روایت کر دی، وہ جو پیچھے آیا تھا: ”مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُظَاهِرِ“، جس نے رمضان کا روزہ توڑا تو اس پر وہ کفارہ واجب ہے جو ظہار کرنے والے پر واجب ہوتا ہے۔ تو اس حدیث کی وجہ سے پتہ چل گیا کہ روزے کا کفارہ بھی کیا ہے؟ ظہار کے کفارے کی طرح ہے، ایک تو اس حدیث سے پتہ چلا، وَلِحَدِيثِ الأَعْرَابِيِّ اور دیہاتی کی حدیث کی وجہ سے بھی۔ فَإِنَّهُ قَالَ یہ ایک دیہاتی تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، کہنے لگے: فَإِنَّهُ قَالَ تو وہ کہنے لگے: ”يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ“، اے اللہ کے پیغمبر، میں ہلاک ہو گیا وَأَهْلَكْتُ اور دوسروں کو ہلاکت میں ڈال دیا۔ هَلَكْتُ میں ہلاک ہو گیا، وَأَهْلَكْتُ اور میں نے ہلاک کر دیا یعنی دوسروں کو ہلاکت میں ڈال دیا۔ فَقَالَ: ”مَاذَا صَنَعْتَ؟“ تو سرورِ کونین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”مَاذَا صَنَعْتَ؟“ تم نے کیا کیا ہے؟ قَالَ: ”وَاقَعْتُ امْرَأَتِي فِي نَهَارِ رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا“، میں نے جماع کر لیا اپنی بیوی سے رمضان میں دن کے وقت میں مُتَعَمِّدًا جان بوجھ کر۔ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَعْتِقْ رَقَبَةً“، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”أَعْتِقْ رَقَبَةً“ ایک گردن آزاد کرو یعنی ایک غلام یا باندی آزاد کرو۔ فَقَالَ: ”لَا أَمْلِكُ إِلَّا رَقَبَتِي هَذِهِ“، تو وہ کہنے لگا وہ دیہاتی کہ میں تو مالک نہیں ہوں سوائے اپنی اس گردن کے، میں تو میرے پاس تو کوئی غلام وغیرہ نہیں ہے، صرف میں اپنی ہی گردن کا مالک ہوں۔ فَقَالَ: ”صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ“، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ“ کہ روزہ رکھو دو ماہ تک مسلسل۔ فَقَالَ: ”هَلْ جَاءَنِي مَا جَاءَنِي إِلَّا مِنَ الصَّوْمِ؟“ تو وہ کہنے لگا: ہل، ہل جب یہ الا کے ساتھ آئے نا، ”هَلْ جَاءَنِي مَا جَاءَنِي إِلَّا“، تو ہل جب الا کے ساتھ آئے تو یہ حرفِ نفی کی طرح اس کا معنیٰ ہو گا یعنی نفی والا معنیٰ کریں گے۔ سمجھ میں آیا؟ تو ہل یہاں سوال کے لیے نہیں ہے بلکہ نفی کے معنیٰ، یعنی لا والا معنیٰ ادا کرے گا اور ما کا معنیٰ۔ تو ہل، نہیں آئی ما وہ چیز جَاءَنِي جو مجھ پر آئی ہے إِلَّا مِنَ الصَّوْمِ مگر روزے کی وجہ سے، یعنی یہ جو چیز مجھ پر آئی ہے تو روزے ہی کی وجہ سے تو آئی ہے، یعنی جس مصیبت میں پڑا ہوں روزے کی وجہ سے ہی تو مصیبت میں پڑا ہوں، آپ فرما رہے ہیں کہ ساٹھ مسلسل روزے رکھوں وہ میں کیسے رکھوں؟ فَقَالَ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے: ”أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا“، کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ فَقَالَ: ”لَا أَجِدُ“، اس نے کہا میں نہیں پاتا، یعنی اتنا میرے پاس نہیں ہے کہ میں کیا کروں؟ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤں۔ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤْتَى بِفَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ، وَيُرْوَى: بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، تو حضور علیہ السلام نے حکم دیا صحابہ کو أَنْ يُؤْتَى بِفَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ کہ لایا جائے ایک فَرَق تمر میں سے۔ فَرَق یہ پیمانہ ہے بھئی، پیمانے کا نام ہے اور جی، انہوں نے لکھا ہوا ہے بین السطور کہ سولہ رطل کے برابر ہے، سولہ رطل کے برابر، لیکن یہاں انہوں نے فرق بین السطور جو ہے سولہ رطل لکھا ہوا ہے، حالانکہ یہ کتاب الزکوٰۃ میں آیا تھا بھئی فرق کا ذکر، کہ وہ شہد کے اندر امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے؟ کہ اس میں فرق کا ذکر آیا تھا، کہ پانچ فرق ہوں تو اس کے اندر کیا واجب ہو گا؟ زکوٰۃ واجب ہو گی یعنی عشر واجب ہو گا، اور فرق وہاں متن کے اندر انہوں نے ذکر کیا تھا کہ چھتیس رطل ہے، کتنا ہے؟ چھتیس رطل ہے بھئی رطل۔ تو حضور علیہ السلام نے حکم دیا کہ لایا جائے بِفَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ ایک فرق تمر میں سے، وَيُرْوَى اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے، یعنی یہ بعض روایتوں میں تو فَرَق کا لفظ آیا ہے، اور بعض روایتوں میں بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، انہوں نے لکھا ہے فِي دِيوَانِ الْأَدَبِ: الْعَرَقُ: الزَّبِّيلُ، زنبیل کہتے ہیں تھیلی کو، تو بعض روایتوں میں عَرَق کا لفظ ہے یعنی ایک حضور علیہ السلام نے حکم دیا ایسا تھیلا لانے کا فِيهِ تَمْرٌ جس میں تمر تھے، یعنی ایسی ٹوکری جس کے اندر تمر تھے خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا پندرہ صاع بھئی، کتنے؟ پندرہ صاع تمر تھے۔ وَقَالَ، اور پھر حضور علیہ السلام جب وہ لے آئے صحابہ حضور علیہ السلام کو دیا تو آپ نے فرمایا، اس دیہاتی صحابی کو وہ کھجوریں دیتے ہوئے فرمایا: ”فَرِّقْهَا عَلَى مَسَاكِينَ“، اس کو مسکینوں پر تقسیم کر دو۔ فَقَالَ: ”وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ أَحْوَجُ مِنِّي وَمِنْ عِيَالِي“، لابة، لابة کہتے ہیں سیاہ پتھروں والی زمین، سیاہ پتھروں والی زمین۔ بھئی مدینہ منورہ اگر جائیں مکہ مکرمہ سے، تو مدینہ سے پہلے قریب ہی اس کے زمین جو ہے اس میں ہر طرف بالکل سیاہ پتھر پھیلے ہوئے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے ساری یہ زمین بالکل جلی ہوئی ہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس طرح کے سیاہ پتھر پھیلے ہوئے ہیں، تو وہ جگہ مراد ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حَرَّة بھی کہتے ہیں اور یہ لابة بھی سیاہ پتھروں والی زمین کو کہتے ہیں، اور یہاں لَابَتَيْ آیا، اصل میں تثنیہ ہے، نون اضافت سے گر گیا، لَابَتَيْنِ الْمَدِينَةِ تھا اصل میں، پھر نون گر گیا، تو مدینے کے جو دو سیاہ پتھروں والی زمینیں ہیں، معلوم ہوا کہیں یہ دو طرف ہوں گے بھئی دو کناروں پر ہوں گے۔ تو وہ کہنے لگے: ”وَاللَّهِ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَحَدٌ“، کہ واللہ، مدینے کے دو سیاہ پتھروں والی زمین کے درمیان کوئی ایک بھی نہیں ہے، یعنی یہ پتھر دو طرف ہوں گے تو مراد کیا ہے؟ دو کناروں کے درمیان۔ مراد کیا ہے؟ دو، یعنی مدینے کے یا رسول اللہ، واللہ مدینے کے دو کناروں کے درمیان کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے أَحْوَجُ مِنِّي وَمِنْ عِيَالِي جو زیادہ محتاج ہو مجھ سے اور میرے اہل و عیال سے بھئی۔ تو روایات میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی یہ بات سن کر مسکرا دیے حتیٰ کہ آپ کے دندانِ مبارک ظاہر ہو گئے، اور پھر آپ فرمانے لگے: فَقَالَ، پس آپ نے پھر فرمایا: ”كُلْ أَنْتَ وَعِيَالُكَ، يُجْزِيكَ وَلَا يُجْزِي أَحَدًا بَعْدَكَ“، کہ جاؤ بھئی تم کھا لو اور تمہارے گھر والے کھا لیں، يُجْزِيكَ یہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا، ”وَلَا يُجْزِي أَحَدًا بَعْدَكَ“ اور تمہارے بعد کسی ایک کے لیے بھی یہ کافی نہیں ہو گا۔ سمجھ میں آیا؟ کہ اپنے اوپر ہی صدقہ کر رہا ہے، اپنے کوئی اپنے آپ کو ہی دے رہا ہے، یہ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ باقیوں کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ اس کو صدقہ کریں اوروں پر، تو یہ معلوم ہوا حضور علیہ السلام نے ان کی تخصیص فرما دی بھئی۔ اچھا تو یہ حدیث آ گئی بھئی، یہ حدیث بھئی، جس سے کیا معلوم ہوا؟ کہ روزے کا کفارہ بھی کس کی طرح ہے؟ ظہار کے کفارے کی طرح ہے، کیونکہ اس میں بھی وہی تینوں چیزیں آئیں اور ترتیب کے ساتھ آئیں جو ظہار میں ذکر ہوئی ہیں۔ تو یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے گا یہ جو قرآن میں آیا ہے نا یہ کفارہ، یہ صرف ظہار کا ہے، روزے کے کفارے کا ثبوت حدیث سے ہے، قرآن سے نہیں ہے بھئی، یہ حدیث سے ہے۔ کہتے ہیں: وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِ يُخَيَّرُ لِأَنَّ مُقْتَضَاهُ التَّرْتِيبُ، وَعَلَى مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي نَفْيِ التَّتَابُعِ لِلنَّصِّ عَلَيْهِ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے، ادھر دیکھیے بھئی، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ کفارہ دینے والا جو ہے اس کو اختیار ہے ان تینوں چیزوں میں، چاہے وہ ایک غلام یا باندی آزاد کر دے، چاہے وہ ساٹھ روزے رکھ لے، اور چاہے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے، اس میں اس کو اختیار ہے، جبکہ ہم کہتے ہیں نہیں، ان کے اندر ترتیب ہے جیسے حدیث میں آیا ہے اور جیسے ظہار کے کفارے میں آیا ہے، کہ پہلے غلام دینا پڑے گا، اگر وہ نہیں ملتا پھر کس طرف جائیں گے؟ پھر روزوں کی طرف جائیں گے۔ اگر غلام ملتا ہے پھر روزوں کی طرف جانے کی اجازت نہیں، اور اگر پھر روزوں پہ جب چلے گئے تو پھر روزوں پر قدرت ہے تو روزے ہی رکھنا پڑیں گے، پھر کھانا کھلانے کی طرف جانے کی اجازت نہیں، تو ہمارے نزدیک ترتیب ضروری ہے بھئی، تو وہ فرماتے ہیں نہیں، اختیار ہے، کیا ہے؟ اختیار ہے، کون؟ امام شافعی رحمہ اللہ۔ اور تو یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے، دلیل ہے، اس کے اندر دیکھو ترتیب سے تینوں چیزیں ذکر ہو رہی ہیں۔ اور اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ جو ہیں وہ روزوں کے اندر پے در پے یعنی مسلسل کی شرط نہیں لگاتے، وہ فرماتے ہیں ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے مسلسل ہونا ضروری نہیں، ان دنوں میں کچھ رکھ لیے، کچھ چند دن چھوڑ کے پھر رکھ لیے، تو ساٹھ پورے کرنا ضروری ہیں ان میں تتابع یعنی تسلسل ضروری نہیں، لیکن یہ حدیث ان کے خلاف بھی دلیل ہے، اس لیے کیونکہ یہاں مُتَتَابِعَيْنِ، ”صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ“، مسلسل روزے رکھنے کا حکم آ رہا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں: وَهُوَ حُجَّةٌ عَلَى الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِ يُخَيَّرُ اور یہ حدیث دلیل ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف ان کے اس قول کے اندر کہ يُخَيَّرُ کہ کفارہ دینے والے کو اختیار ہے تینوں میں سے جس کو بھی ادا کرے، لِأَنَّ مُقْتَضَاهُ التَّرْتِيبُ، یہ ہماری دلیل چل رہی ہے، اس لیے کیونکہ اس حدیث کا مقتضیٰ کیا ہے؟ یہ کس چیز کا تقاضا کر رہی ہے؟ ترتیب کا، کہ ان میں اختیار نہیں ہے بلکہ ان تینوں چیزوں میں ترتیب ہے، اور اسی طرح یہ حدیث دلیل ہے عَلَى مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف بھی، فِي نَفْيِ التَّتَابُعِ تتابع کی نفی کے اندر، یعنی امام مالک رحمہ اللہ نے جو مسلسل ہونے کی نفی کی ہے اس میں یہ ان کے خلاف دلیل ہے، کیونکہ اس حدیث میں کیا آ گیا کہ وہ روزے کس طرح ہونے چاہییں؟ مسلسل ہونے چاہییں۔ لِلنَّصِّ عَلَيْهِ اس لیے کیونکہ ان پر تصریح کی گئی ہے حدیث میں، کیا آیا؟ ”صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ“، تصریح کر دی گئی مسلسل ہونے کی بھئی، تو یہ امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف بھی دلیل ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یاد رکھیے، علماء فرماتے ہیں کہ یہاں صاحبِ ہدایہ سے تسامح ہوا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے بارے میں انہوں نے ذکر کیا کہ ان کے نزدیک اختیار ہے کفارہ دینے والے کو، حالانکہ ایسا نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ بھی ہماری طرح اس میں ترتیب کے قائل ہیں۔ اور نیز اسی طرح امام مالک رحمہ اللہ کی طرف صاحبِ ہدایہ نے مسلسل نہ ہونے کی نسبت کر دی کہ روزوں کا، کفارے کے روزوں کا مسلسل ہونا ضروری نہیں، حالانکہ یہ امام مالک رحمہ اللہ کا مذہب نہیں ہے، ان کے نزدیک بھی روزوں کا مسلسل ہونا ضروری ہے، بلکہ یہ جو مذہب ہے کہ اختیار ہو گا چیزوں ان میں اور اسی طرح مسلسل ہونا بھی ضروری نہیں، یہ دونوں چیزیں مذہب ہیں ابن ابی لیلیٰ کا بھئی، ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ عظیم فقیہ گزرے ہیں بھئی عظیم فقیہ گزرے ہیں، یہ ان کا مذہب ہے بھئی ان کا مذہب ہے کہ کفارہ دینے والے کو اختیار ہے تینوں میں سے جو بھی دینا چاہے دے دے، اور اسی طرح ان کے نزدیک روزوں کا مسلسل رکھنا بھی ضروری نہیں اور ان کے بھی باقاعدہ ادلہ ہیں، کیونکہ بغیر دلیل کے فقہاء کی کوئی بات نہیں ہوتی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ان کے پاس دلائل ہیں، لیکن بہرحال ہماری یہ حدیث جو ہے ان کے خلاف واضح دلیل ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَمَنْ جَامَعَ فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ فَأَنْزَلَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، اور جس نے جماع کیا فِيمَا دُونَ الْفَرْجِ شرمگاہ کے علاوہ میں، جس نے بیوی سے جماع کیا شرمگاہ کے علاوہ میں، یعنی احد السبیلین کے علاوہ میں، فَأَنْزَلَ تو اس کو انزال ہو گیا، فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ تو اس پر قضا واجب ہے، لِوُجُودِ الْجِمَاعِ مَعْنًى اس لیے کیونکہ معنًی جماع پایا گیا، اور معنًی جماع کس چیز کا نام تھا؟ کہ مباشرت ہو، مرد اور عورت کے جسم کا ملانا پایا جائے اور شہوت سے انزال ہو، وہ چیز یہاں پائی گئی ہے تو معنًی جماع ہے۔ وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ اور اس پر کفارہ نہیں ہے، لِانْعِدَامِهِ صُورَةً اس لیے کیونکہ صورۃً جماع معدوم ہے، اور صورۃً جماع تو کس صورت میں ہوتا تھا؟ جب دخول پایا جائے، وہ تو یہاں نہیں پایا گیا، تو اس لیے صرف قضا آئے گی کفارہ نہیں آئے گا۔ وَلَيْسَ فِي إِفْسَادِ الصَّوْمِ غَيْرِ رَمَضَانَ كَفَّارَةٌ، میں نے آپ کو بتلایا تھا مسئلہ بھئی کہ کفارہ صرف کس روزے کو توڑنے کی صورت میں آتا ہے؟ رمضان کا روزہ توڑے جب تو اس میں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَيْسَ فِي إِفْسَادِ الصَّوْمِ غَيْرِ رَمَضَانَ كَفَّارَةٌ اور رمضان کے علاوہ کسی روزے کو توڑنے کی صورت میں کفارہ نہیں ہے، لِأَنَّ الْإِفْطَارَ فِي رَمَضَانَ أَبْلَغُ فِي الْجِنَايَةِ فَلَا يُلْحَقُ بِهِ غَيْرُهُ، اس لیے کیونکہ روزہ توڑنا رمضان کے اندر أَبْلَغُ فِي الْجِنَايَةِ یہ زیادہ بڑھا ہوا ہے فِي الْجِنَايَةِ جرم کے اندر، یعنی یہ جرم بہت بڑا ہے رمضان کے اندر روزہ توڑنا، فَلَا يُلْحَقُ بِهِ غَيْرُهُ تو اس کے علاوہ اور روزوں کو اس کے ساتھ نہیں ملایا جائے گا، اس میں روزہ توڑنا، باقی کے اندر بھی روزہ توڑنا اگرچہ جرم ہے لیکن اس درجے کا نہیں ہے، تو ان کا یہ حکم نہیں ہو گا۔ وَمَنِ احْتَقَنَ أَوِ اسْتَعَطَ أَوْ أَقْطَرَ فِي أُذُنِهِ أَفْطَرَ، احتقن، احتقن کا معنیٰ ہے حقنہ کروانا، حقنہ کروانا، حقنہ یہ بھئی یہ کوئی بعض اوقات کوئی بیماری وغیرہ کی وجہ سے پاخانے کے مقام سے دوا داخل کی جاتی تھی، اس کو حقنہ کہتے، حقنہ کہتے ہیں۔ اور اسْتَعَطَ، استعط کے معنیٰ ہیں ناک میں کوئی دوائی ٹپکانا، ناک میں کوئی دوائی ڈالنا۔ اور أَقْطَرَ فِي أُذُنِهِ کان میں کوئی قطرے ٹپکانا، یعنی دوائی وغیرہ کے قطرے مراد ہیں، پانی کے قطرے نہیں کیونکہ پانی اگر کان میں جائے یا قطرے ٹپکائے کان میں تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر دوائی کے قطرات کان میں ڈالے گا تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنِ احْتَقَنَ أَوِ اسْتَعَطَ أَوْ أَقْطَرَ فِي أُذُنِهِ أَفْطَرَ، اور جس نے حقنہ کروایا أَوِ اسْتَعَطَ یا ناک میں دوائی ٹپکائی، أَوْ أَقْطَرَ فِي أُذُنِهِ یا کان میں قطرے ڈالے، کس چیز کے؟ دوائی کے بھئی، أَفْطَرَ تو یہ چیزیں اس کے روزے کو توڑ دیں گی، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”الْفِطْرُ مِمَّا دَخَلَ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس فرمانِ مبارک کے کہ آپ نے فرمایا: ”الْفِطْرُ مِمَّا دَخَلَ“ کہ فطر اس چیز سے ہو گا جو اندر داخل ہو، فطر اس چیز سے ہو گا یعنی روزہ ٹوٹنا اس چیز سے ہو گا جو اندر داخل ہو، اور اس کے اندر بھی اندر داخل ہونا چیز کا پایا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ وَلِوُجُودِ مَعْنَى الْفِطْرِ، اور اس لیے کیونکہ معنًی فطر پایا گیا، ایک تو فطر تھا صورۃً، وہ کیا تھا؟ تو صورتِ فطر یہ ہے کہ کوئی چیز نگل لی، پیٹ کے اندر لے گیا، کوئی چیز نگل لی، وہ تو یہاں نہیں پائی جا رہی، البتہ معنیٰ فطر پایا جا رہا ہے، اور معنیٰ فطر کیا تھا؟ کہ بدن کے اندر کوئی ایسی چیز پہنچ جائے جو بدن کو نفع دینے والی ہو، تو یہ دوا جو ہے یہ بھی بدن کو نفع دے گی یا نہیں؟ یہ بھی نفع دے گی، بیماری کی وجہ سے تو یہ دوا ٹپکا رہا ہے تاکہ اس کو نفع ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِوُجُودِ مَعْنَى الْفِطْرِ تو یہ عقلی دلیل بھی آ گئی، پہلی حدیث تھی وہ نقلی دلیل، اب عقلی دلیل، کہتے ہیں: وَلِوُجُودِ مَعْنَى الْفِطْرِ اور فطر کے معنیٰ پائے جانے کی وجہ سے بھی، وَهُوَ وُصُولُ مَا فِيهِ صَلَاحُ الْبَدَنِ إِلَى الْجَوْفِ، اور وہ پہنچنا ہے اس چیز کا جس کے اندر بدن کی کا نفع ہے، بدن کی بہتری ہے، إِلَى الْجَوْفِ کہاں تک؟ جوف تک، اندر تک، بدن کے جوف، پیٹ تک بھئی۔ وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ اور اس پر کفارہ نہیں ہے، لِانْعِدَامِهِ صُورَةً اس لیے کیونکہ صورۃً فطر معدوم ہے، صورۃً فطر تو کیا تھا کہ کوئی چیز نگل کر اندر لے جائے، لہٰذا صورۃً فطر نہیں پایا گیا۔ وَلَوْ أَقْطَرَ فِي أُذُنَيْهِ الْمَاءَ أَوْ دَخَلَهُمَا لَا يَفْسُدُ صَوْمُهُ، اور اگر اس نے ٹپکایا اپنے کانوں کے اندر پانی کو، أَوْ دَخَلَهُمَا یا پانی خود داخل ہو گیا کانوں میں، یعنی نہاتے ہوئے وغیرہ، لَا يَفْسُدُ صَوْمُهُ تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا، لِانْعِدَامِ الْمَعْنَى وَالصُّورَةِ اس لیے کیونکہ معدوم ہے معنیٰ بھی اور صورت بھی فطر کی، معنًی بھی فطر نہیں پایا جا رہا اور صورۃً بھی فطر نہیں۔ صورۃً تو فطر کس طرح نہیں ہے؟ وہ تو نگلنے کی صورت میں ہے اور یہاں نگلنا نہیں ہے، اور معنًی بھی فطر نہیں ہے اس لیے کیونکہ کوئی ایسی چیز نہیں جو بدن کو نفع پہنچائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں صورۃً بھی فطر نہیں کیونکہ کوئی چیز اس نے نگلی نہیں ہے پیٹ تک نہیں لے کر گیا، اور معنًی بھی فطر نہیں ہے اور معنًی فطر کیا تھا؟ بدن کے نفع کی کوئی چیز اندر پہنچے، اور یہ کان کے اندر پانی گیا یہ کوئی نفع دے گا؟ یہ تو بلکہ تکلیف کا باعث ہے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے: لِانْعِدَامِ الْمَعْنَى وَالصُّورَةِ اس لیے کیونکہ فطر کا معنیٰ اور صورت معدوم ہیں تو روزہ فاسد نہیں ہو گا۔ بِخِلَافِ مَا إِذَا أَدْخَلَهُ الدُّهْنَ، بخلاف اس کے جبکہ وہ تیل داخل کرے، کان میں تیل ٹپکائے، تو وہ تو فائدہ دے گا بھئی، لہٰذا اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کوئی دوائی کان میں ٹپکائے گا یا تیل کے قطرات ٹپکاتا ہے پھر روزہ ٹوٹ جائے گا، ہاں پانی سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ وَلَوْ دَاوَى جَائِفَةً أَوْ آمَّةً بِدَوَاءٍ فَوَصَلَ إِلَى جَوْفِهِ أَوْ دِمَاغِهِ أَفْطَرَ، وَلَوْ دَاوَى جَائِفَةً أَوْ آمَّةً، یاد رکھیے، جائفہ، جائفہ وہ زخم جو پیٹ پر لگا ہو اور اندر تک پہنچا ہو، صرف باہر باہر اوپر جلد وغیرہ پر نہ ہو بلکہ پیٹ کے اندر تک یعنی جوف تک پہنچا ہو، اسی لیے اس کو جائفہ کہتے ہیں۔ تو جوف تک جو زخم پہنچا ہوا ہو پیٹ پر وہ ہے جائفہ، اور آمَّة، آمہ جو ہے یہ وہ زخم ہے جو سر پر لگے اور ام دماغ تک پہنچے بھئی، ام دماغ، اسی لیے اس کو آمہ کہتے ہیں کیونکہ یہ زخم کہاں تک پہنچا ہوا ہے؟ ام دماغ تک پہنچا ہوا ہے۔ ام دماغ یاد رکھیے، یہ دماغ کے گرد ایک باریک جھلی ہوتی ہے جس کی وجہ سے دماغ اپنی جگہ پر رہتا ہے۔ یہ کیا ہوتی ہے؟ دماغ کے گرد ایک باریک جھلی ہے، بھئی دیکھیے یہ سب سے پہلے تو اوپر یہ سر کی کھال ہے، کھال کے نیچے پھر ہڈی آئے گی، اس ہڈی کے نیچے پھر کیا ہو گا؟ دماغ ہے اور اس دماغ کے گرد کیا ہے؟ وہ باریک جھلی ہے، تو کسی نے کسی کو ایسا زخم لگایا جس نے کھال کو بھی کاٹ دیا، ہڈی کو بھی توڑ دیا اور کہاں تک پہنچ گیا وہ زخم؟ ام دماغ تک پہنچ گیا، ام دماغ تک۔ تو اب یہ اگر کوئی شخص اس جائفہ زخم پر جو پیٹ کے اندر تک پہنچا ہوا ہے دوائی لگاتا ہے یا آمہ زخم پر دوائی لگاتا ہے جو دماغ تک پہنچا ہوا ہے، تو یاد رکھیے اس صورت میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر دوائی اندر تک پہنچے گی تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر دوائی اندر تک نہیں پہنچتی تو پھر اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَلَوْ دَاوَى جَائِفَةً أَوْ آمَّةً اور اگر دوا لگائی جائفہ زخم پر یا آمہ زخم پر، یا یوں ترجمہ کریں: وَلَوْ دَاوَى اور اگر علاج کیا جائفہ کا أَوْ آمَّةً یا آمہ زخم کا بِدَوَاءٍ کسی دوا کے ساتھ، فَوَصَلَ إِلَى جَوْفِهِ تو وہ دوا پہنچ گئی اس کے پیٹ تک، أَوْ دِمَاغِهِ یا اس شخص کے دماغ تک، أَفْطَرَ تو یہ اس کے روزے کو توڑ دے گی، عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ امام صاحب کے نزدیک، وَالَّذِي يَصِلُ هُوَ الرَّطْبُ اور وہ جو پہنچے گی وہ تر دوا ہو گی۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ کون سی دوا اندر تک پہنچے گی؟ تر دوا جو گیلی دوائی ہے، جو خشک دوائی ہے وہ تو اندر تک نہیں پہنچے گی، تو گیلی البتہ جو ہو گی وہ اندر تک پہنچ جائے گی تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔ وَقَالَا: لَا يُفْطِرُ، اور صاحبین فرماتے ہیں: یہ دوا جو ہے اس کے روزے کو نہیں توڑے گی، لِعَدَمِ التَّيَقُّنِ بِالْوُصُولِ اس لیے کیونکہ یقین نہیں ہے اس کے پہنچنے کا، لِانْضِمَامِ الْمَنْفَذِ مَرَّةً وَاتِّسَاعِهِ أُخْرَى، اس وجہ سے کہ منفذ جو ہے جو راستہ ہے، یہ جو زخم کا راستہ ہے اندر تک پہنچا ہوا، یہ جو زخم کا راستہ ہے یہ کبھی کھلا ہوتا ہے اور کبھی بند ہو جاتا ہے۔ زخم کا منہ کبھی کھلا ہوتا ہے اور کبھی بند ہو جاتا ہے۔ تو جب اس کی کیفیت ایک جیسی نہیں رہتی تو یقینی نہیں، بھئی زخم کا منہ کبھی کھلا رہتا ہے اور کبھی بند ہوتا ہے، تو کبھی اس کا زخم کا منہ بند ہو جاتا ہے، تو لہٰذا جب دوا لگائی تو اگر زخم کا منہ کھلا ہے پھر تو وہ اندر تک پہنچے گی اور اگر زخم کا منہ بند ہے پھر تو دوا اندر تک نہیں پہنچے گی، لیکن یہاں یقینی طور پر علم ہی نہیں ہو سکتا کہ دوا اندر تک پہنچی ہے یا نہیں پہنچی، کیونکہ وہی زخم ہے کبھی اس کا منہ کھلا ہو گا اور کبھی بند ہو گا، تو لہٰذا جب یقین نہیں تو صرف شک ہے، شک کی وجہ سے اب روزہ توڑنے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔ یہ معنیٰ ہے: لِعَدَمِ التَّيَقُّنِ بِالْوُصُولِ اس لیے کیونکہ یقین نہیں ہے اس دوا کے پہنچنے کا، لِانْضِمَامِ الْمَنْفَذِ مَرَّةً وَاتِّسَاعِهِ أُخْرَى بوجہ مل جانے اس راستے کے ایک مرتبہ وَاتِّسَاعِهِ اور اس کے کھل جانے کے، وسیع ہو جانے کے أُخْرَى دوسری مرتبہ۔ یعنی بعض مرتبہ وہ زخم کا راستہ کھلا ہو گا بعض مرتبہ بند ہو گا۔ كَمَا فِي الْيَابِسِ مِنَ الدَّوَاءِ، جیسے کہ خشک ہے دوا میں سے۔ جیسے کیا ہے؟ خشک، جیسے خشک دوا لگائی جائے تو اس میں امام صاحب بھی فرماتے ہیں روزہ نہیں ٹوٹے گا، اس لیے کیونکہ دوا اندر تک نہیں پہنچی، جبکہ گیلی دوائی لگائی تر دوائی لگائی تو اندر تک اثر پہنچے گا اس لیے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ گیلی دوائی بھی لگائی جائے تو اندر تک دوا کے پہنچنے کا یقین نہیں تو یہ بھی کس کی طرح ہو گیا؟ خشک دوا کی طرح ہو گیا، اور خشک دوا میں تو بالاتفاق روزہ نہیں ٹوٹتا تو گیلی دوا کے اندر بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ وَلَهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے أَنَّ رُطُوبَةَ الدَّوَاءِ تُلاقِي رُطُوبَةَ الْجِرَاحَةِ، امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر گیلی دوائی ہوئی تو اس کی جو دوائی کی تری ہے، دوائی کی جو تری ہے وہ زخم کی تری سے ملے گی اور بڑھ جائے گی۔ کچھ تری کس کی تھی؟ زخم کی، اور کچھ تر دوائی لگائی تو تری بڑھ گئی۔ جب تری زیادہ ہو گئی تو وہ لازمی بات ہے نیچے کی طرف جائے گی اور اندر پہنچ جائے گی بھئی، جبکہ خشک دوائی لگائی جائے گی وہ تو تری بڑھائے گی نہیں بلکہ جو زخم کی تری ہے اس کو بھی کیا کر لے گی؟ جذب کر کے خشک کر دے گی، تو اس میں اندر پہنچنے کا احتمال نہیں ہے بھئی۔ تو اس لیے تر دوا کی صورت میں وہ فرماتے ہیں لازمی بات ہے جب تری بڑھ جائے گی وہ اندر کی طرف جائے گی اور اس سے پھر روزہ ٹوٹ جائے گا۔ تو وَلَهُ امام صاحب کی دلیل یہ ہے أَنَّ رُطُوبَةَ الدَّوَاءِ تُلاقِي رُطُوبَةَ الْجِرَاحَةِ کہ دوا کی تری جو ہے وہ مل جائے گی زخم کی تری کے ساتھ، فَيَزْدَادُ مَيْلًا إِلَى الْأَسْفَلِ تو بڑھ جائے گا اس کا میلان نیچے کی طرف، یہ زیادہ نیچے کی طرف پھر مائل ہو گی، زیادہ نیچے کی طرف جائے گی، فَيَصِلُ إِلَى الْجَوْفِ تو یہ کہاں تک پہنچ جائے گی؟ پیٹ تک یعنی اندر تک پہنچ جائے گی۔ بِخِلَافِ الْيَابِسِ، بخلاف خشک دوا کے، لِأَنَّهُ يَنْشَفُ رُطُوبَةَ الْجِرَاحَةِ وہ جو ہے وہ جذب کر لے گی زخم کی تری کو، فَيَنْسَدُّ فَمُهَا تو بند ہو جائے گا زخم کا منہ۔ تو اس سے تو زخم کا منہ بند ہو جائے گا اس سے وہ دوا اندر نہیں پہنچے گی تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، البتہ تر دوا سے وہ اندر تک پہنچے گی تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ وَلَوْ أَقْطَرَ فِي إِحْلِيلِهِ لَمْ يُفْطِرْ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، إحلیل بھئی، احلیل کہتے ہیں ذکر کے سوراخ کو، یعنی جو پیشاب کا سوراخ ہے اگر اس کے اندر کوئی کوئی دوا وغیرہ ٹپکاتا ہے، دوا ڈالتا ہے، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا امام صاحب کے نزدیک۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے بھی اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول کہتے ہیں اس سلسلے میں مضطرب ہے، بعض مقامات سے پتہ چلتا ہے بعض کتب سے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں؟ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اس مسئلے میں، اور بعض سے کیا پتہ چلتا ہے؟ کہ وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ أَقْطَرَ فِي إِحْلِيلِهِ لَمْ يُفْطِرْ اور جس نے قطرے ٹپکائے اپنے احلیل میں لَمْ يُفْطِرْ تو یہ اس کے روزے کو نہیں توڑے گا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ امام صاحب کے نزدیک، وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يُفْطِرُ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ اس کے روزے کو توڑ دے گا، وَقَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مُضْطَرِبٌ فِيهِ اور امام محمد رحمہ اللہ کا قول اس سلسلے میں مضطرب ہے۔ سمجھ میں آ گئی بات بھئی؟ فَكَأَنَّهُ وَقَعَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، یہاں سے وجہ ذکر کر رہے ہیں امام صاحب اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کی۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ گویا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس اس احلیل یعنی جو پیشاب کا سوراخ ہے اس میں اور پیٹ کے درمیان راستہ موجود ہے۔ ان کے نزدیک راستہ موجود ہے تو جب ادھر سے دوا ڈالے گا وہ کہاں تک پہنچے گی؟ پیٹ تک پہنچے گی لہٰذا اس وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ جبکہ امام صاحب کے نزدیک راستہ موجود نہیں ہے بھئی، راستہ موجود نہیں ہے تو لہٰذا دوا پیٹ تک نہیں پہنچے گی بلکہ درمیان میں مثانہ موجود ہے تو اس وجہ سے روزہ بھی نہیں ٹوٹے گا۔ اور آگے آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ بھئی دراصل یہ فقہی مسئلہ ہے ہی نہیں، یہ اس کا تعلق علمِ طب کے ساتھ ہے، ڈاکٹری کے علم کے ساتھ ہے، اس سے پتہ چلے گا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی راستہ ہے یا راستہ نہیں ہے۔ اگر راستہ ثابت ہو جاتا ہے پھر تو ظاہر سی بات ہے اس دوا کا اثر پیٹ تک پہنچے گا پھر تو روزہ ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا اور اگر راستہ نہیں ہے تو پھر اس صورت میں ظاہر سی بات ہے روزہ ٹوٹنے کا حکم نہیں لگایا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ فَكَأَنَّهُ وَقَعَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ گویا کہ یہ بات ثابت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک أَنَّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَوْفِ مَنْفَذًا گویا کہ یہ بات ثابت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کہ احلیل اور پیٹ کے درمیان منفذ ہے، راستہ ہے۔ جبھی وہ کیا فرماتے ہیں؟ روزہ ٹوٹنے کا حکم۔ وَلِهَذَا يَخْرُجُ مِنْهُ الْبَوْلُ، اور اسی وجہ سے احلیل سے بول یعنی پیشاب نکلتا ہے، وہ فرماتے ہیں پیشاب اسی لیے نکلتا ہے کہ معلوم ہوا راستہ موجود ہے۔ وَوَقَعَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ الْمَثَانَةَ بَيْنَهُمَا حَائِلٌ وَالْبَوْلُ يَتَرَشَّحُ مِنْهُ، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک گویا یہ بات ثابت ہے کہ مثانہ جو ہے وہ ان دونوں کے درمیان حائل ہے، احلیل اور جوف کے درمیان امام صاحب کے نزدیک معلوم ہوا کیا ثابت ہے؟ کہ مثانہ حائل ہے۔ اور باقی جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پیشاب جو آتا ہے یہ دلیل ہے اس بات کی کہ راستہ ہے، تو امام صاحب فرماتے ہیں: وَالْبَوْلُ يَتَرَشَّحُ مِنْهُ پیشاب جو ہے وہ پیٹ سے ٹپکتا ہے یعنی رستا ہے۔ پیشاب جو ہے پیٹ سے رستا ہے یعنی راستہ موجود نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور آج کل تو اب ڈاکٹری کے یہ علمِ طب کے ذریعے پتہ چل گیا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی راستہ نہیں ہے، راستہ نہیں ہے بھئی۔ یہ وہی جو پانی وغیرہ ہوتا ہے معدے اور آنتوں میں سے وہ جذب ہوتا ہے بدن کے اندر، خون کے ساتھ شامل ہوتا ہے اور پھر خون اس کو لے کر چلتا ہے اور پھر یہ جو فاسد مواد وغیرہ پانی ہوتا ہے اور پھر یہ خون جب گزرتا ہے گردے میں سے تو اس میں سے پھر جو ہے وہ گردہ یہ جو فاسد پانی ہوتا ہے اس کو گردہ جذب کرتا جاتا ہے اور پھر یہ کس کی صورت میں نکلتا ہے؟ پیشاب کی صورت میں نکلتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو انسان حیران ہوتا ہے اللہ نے کتنا عظیم نظام اندر چلا رکھا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ کوئی شخص بیمار ہو جائے تو اس کی بیماری پر حیران ہونے والی کوئی بات نہیں، بیمار ہوا ہے معلوم ہوا اندر جو نظام چل رہا ہے اس میں کہیں کچھ خرابی آ گئی ہے۔ تو اتنا عظیم نظام ہے، اتنا عظیم ہے کہ آپ تصور نہیں کر سکتے بھئی، تو اتنے عظیم نظام میں کہیں خرابی تھوڑی آ جائے تو یہ کوئی تعجب کی اور حیرت کی بات نہیں ہے، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اتنا عظیم نظام صحیح کیسے چل رہا ہے بھئی، جب آپ تندرست بیٹھے ہیں یہ کیسے پورا صحیح چل رہا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً اب یہ پیشاب ہی کو دیکھ لیجیے، بھئی آپ جانتے ہیں بعض اوقات یہ گردے فیل ہو جاتے ہیں، پھر وہ مشین کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ خون کی صفائی کی جاتی ہے اور اس سے وہ پیشاب جو فاسد پانی ہوتا ہے پیشاب کی صورت میں اس کو مشین کے ذریعے نکالا جاتا ہے، مشین کے ذریعے، اور وہ مریضوں کا وہ اس کو ڈائلیسز کہتے ہیں اور وہ غالباً دو یا تین دن میں ایک دفعہ کرتے ہیں۔ جب حد سے زیادہ یہ چیز یہ فاسد مادہ خون میں بڑھ جائے، مریض کا رنگ پورا خراب پورا رنگ اس کا خراب ہو جاتا ہے دو تین دن میں، پھر اس کے بعد ڈائلیسز کرتے ہیں اور وہ مواد خون سے نکال دیتے ہیں، اور بڑا تکلیف والا عمل ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد تین دن آہستہ آہستہ وہ پھر مواد بڑھتا چلا جاتا ہے، پھر اس کے بعد دوبارہ ڈائلیسز کیا جاتا ہے بھئی۔ معلوم ہوا ڈائلیسز سے تین دن میں گویا یا دو یا تین دن میں ایک دفعہ خون صاف کیا جاتا ہے بڑا ہی خرچہ کر کے اور بڑی ہی تکلیف اٹھا کر اور بڑی ہی قیمتی مشینوں کے ذریعے یہ کام کیا جاتا ہے، جبکہ ایک تندرست انسان کے گردے ایک دن میں تیس دفعہ سارے خون کو صاف کرتے ہیں۔ وہاں دو تین دن میں ایک دفعہ اور یہاں ایک ہی دن میں چوبیس گھنٹے میں کم از کم تیس دفعہ پورا خون گردوں میں سے نکلتا ہے اور اس کی صفائی ہوتی چلی جاتی ہے بھئی۔ تو اتنا عظیم نظام اندر چل رہا ہے کہ انسان جب یہ سائنس پڑھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے کہ اللہ نے کتنا عظیم نظام چلا رکھا ہے اندر بھئی۔ یہ تو ضمناً بات آ گئی، کتاب پر اب دیکھیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْبَوْلُ يَتَرَشَّحُ مِنْهُ اور پیشاب جو ہے وہ اس پیٹ سے رستا ہے یعنی ٹپکتا ہے، وَهَذَا لَيْسَ مِنْ بَابِ الْفِقْهِ، صاحبِ ہدایہ فرماتے فرما رہے ہیں کہ یہ اس مسئلے کا تعلق فقہ سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق کس سے ہے؟ طب سے ہے یعنی ڈاکٹری کے علم سے ہے۔ وَمَنْ ذَاقَ شَيْئًا بِفَمِهِ لَمْ يُفْطِرْ، بھئی ایک شخص نے کسی چیز کو منہ سے چکھا، زبان سے چکھا، تو کیا اس سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں ٹوٹے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، کوئی چیز چکھنے سے اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، الا یہ کہ اس چیز کے کچھ ذرات پیٹ میں چلے جائیں، تو پیٹ میں جانے کی تو ہم بات نہیں کر رہے ہم صرف کس کی بات کر رہے ہیں؟ چکھنے کی بات کر رہے ہیں، تو چکھنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن اگر پیٹ تک وہ ذرات گئے تو وہ روزہ ٹوٹ جائے گا بھئی، کیونکہ آپ مسئلہ پڑھ چکے ہیں کہ چھوٹی سی چیز ہی کیوں نہ ہو جو جو خود منہ میں داخل کی اور پیٹ کے اندر چلی گئی چاہے چنے کے دانے سے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو پھر بھی کیا کرے گی؟ وہ روزے کو توڑ دے گی۔ وَمَنْ ذَاقَ شَيْئًا بِفَمِهِ لَمْ يُفْطِرْ اور جس نے چکھا کسی چیز کو بِفَمِهِ اپنے منہ سے لَمْ يُفْطِرْ تو یہ چکھنا اس کے روزے کو نہیں توڑے گا، لِعَدَمِ الْفِطْرِ صُورَةً وَمَعْنًى اس لیے کیونکہ فطر نہیں پایا گیا نہ صورۃً اور نہ معنًی۔ صورۃً تو فطر کیا تھا؟ کوئی چیز نگلے، یہاں تو نگلنا ہے ہی نہیں صرف چکھا ہے، اور معنًی فطر کیا تھا؟ کہ جسم کے نفع والی چیز اندر پہنچے۔ وَيُكْرَهُ لَهُ ذَلِكَ، اور ایسا کرنا اس شخص کے لیے مکروہ ہے، یعنی کسی چیز کو منہ سے چکھنا مکروہ ہے، لِمَا فِيهِ مِنْ تَعْرِيضِ الصَّوْمِ عَلَى الْفَسَادِ اس وجہ سے کہ اس کے اندر روزے کو پیش کرنا ہے فساد پر۔ جب منہ سے کسی چیز کو چکھ رہا ہے گویا اپنے روزے کو خود فاسد ہونے پر، فساد پر پیش کر رہا ہے کیونکہ اس صورت میں احتمال یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کچھ ذرات پیٹ کے اندر تک چلے جائیں گے پہنچ جائیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو روزے کو یہ خود فساد پر پیش کرنا ہوا، لہٰذا اس لیے یہ مکروہ ہے بھئی، مکروہ ہے۔ لیکن علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی عورت ہے اور اس کا خاوند بڑا سخت مزاج والا ہے، سخت مزاج والا، تو اس عورت کے لیے مکروہ بھی نہیں ہے کہ یہ کھانا یعنی سالن بناتے ہوئے اس کو زبان سے چکھ لے، اندر لے جانے کی بات نہیں ہو رہی اس سے تو روزہ ٹوٹ جائے گا، ہاں چکھنے کی بات ہو رہی ہے، تو اس عورت کے لیے جائز ہے یہ کیا کر سکتی ہے؟ سالن کو چکھ سکتی ہے کہ نمک، مرچ وغیرہ ٹھیک ہے کہیں ایسا نہ ہو پھر مجھے غصے کا سامنا کرنا پڑے خاوند کی طرف سے۔ وَيُكْرَهُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَمْضَغَ لِصَبِيِّهَا الطَّعَامَ إِذَا كَانَ لَهَا مِنْهُ بُدٌّ لِمَا بَيَّنَّا، بھئی ایک عورت ہے اس کا چھوٹا بچہ ہے اور وہ ابھی کھانا وغیرہ نہیں کھا سکتا تو بعض اوقات مائیں پھر کیا کرتی ہیں کہ روٹی وغیرہ کا ٹکڑا جو ہے اس کو اپنے دانتوں سے چبا کر، نرم کر کے بچے کو کھلاتی ہیں۔ تو کیا اب روزے کی حالت میں اس عورت کے لیے ایسا کرنا جائز ہے یا جائز نہیں؟ کہتے ہیں بھئی اگر اس کے سوا کوئی اور صورت ممکن ہو جس کے ذریعے بچے کو کھلایا جا سکے، یعنی کوئی اور چیز ہے جس کے ذریعے اس کی خوراک ہو جائے گی، یا کوئی اور چبانے والا ایسا بچہ ذرا بڑی عمر کا ہے لیکن اس پر روزہ فرض نہیں ہے اگر وہ موجود ہے اس کے ذریعے یہ کام ہو سکتا ہے تو پھر تو اس عورت کے لیے ایسا کرنا مکروہ ہے، اور اگر اس کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں ہے تو پھر مکروہ بھی اس عورت کے لیے نہیں ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: وَيُكْرَهُ لِلْمَرْأَةِ اور مکروہ ہے عورت کے لیے أَنْ تَمْضَغَ کہ وہ چبائے، مَضَغَ يَمْضَغُ کے معنیٰ دانتوں سے کوئی چیز چبانا، اور مکروہ ہے عورت کے لیے کہ وہ چبائے لِصَبِيِّهَا اپنے بچے کے لیے الطَّعَامَ کھانے کو، إِذَا كَانَ لَهَا مِنْهُ بُدٌّ جبکہ اس عورت کے لیے اس کے علاوہ بھی کوئی چارہ موجود ہو کوئی اور صورت بھی موجود ہو، لِمَا بَيَّنَّا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی، یہ مکروہ ہے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کیونکہ اس صورت میں خود روزے کو فساد پر پیش کرنا ہے کیونکہ احتمال ہے کوئی ذرہ پیٹ میں چلا جائے گا اور روزہ ٹوٹ جائے گا۔ وَلَا بَأْسَ اور کوئی حرج نہیں ہے إِذَا لَمْ تَجِدْ مِنْهُ بُدٌّ کہ جب وہ عورت نہ پائے اس کے سوا کوئی چارہ، صِيَانَةً لِلْوَلَدِ بچے کو بچانے کے لیے، پھر کوئی حرج نہیں ہے بچے کو بچانے کے لیے کیونکہ بچے کو بچانے کے لیے پھر تو ضروری ہو گیا اس کے لیے۔ أَلَا تَرَى کیا آپ دیکھتے نہیں؟ أَنَّ لَهَا أَنْ تُفْطِرَ إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا کہ عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ افطار کر لے جب اس کو خوف ہو اپنے بچے کا۔ بھئی عورت کو اگر اپنے بچے کی جان کا خطرہ ہے تو اس کے لیے رمضان میں روزے چھوڑنا جائز ہے، بعد میں اس کی قضا کر لے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مثلاً بچے کو دودھ پلاتی ہے اور روزہ رکھنے کی وجہ سے تو پھر دودھ آتا ہی نہیں ہے اور بچے کی ہلاکت کا خطرہ ہے تو اس عورت کے لیے جائز ہے کہ یہ کیا کرے؟ اس وقت روزے چھوڑ دے، روزے نہ رکھے اور بعد میں پھر کسی وقت ان کی قضا کر لے۔ تو جب بچے کی وجہ سے روزوں کو چھوڑنے کی اجازت ہے عورت کو، تو اس کو بچے کی حفاظت کے لیے کوئی چیز چبا کر دینے کی بطریقِ اولیٰ اجازت ہو گی۔ یہ معنیٰ ہے: أَلَا تَرَى أَنَّ لَهَا أَنْ تُفْطِرَ إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اس عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ فطر کر لے یعنی روزہ نہ رکھے جب اس کو خوف ہو اپنے بچے پر۔ وَمَضْغُ الْعِلْكِ لَا يُفْطِرُ الصَّائِمَ، مضغ کا معنیٰ چبانا، عِلْک اور عَلْک، عین پر کسرہ بھی اور فتحہ دونوں صحیح، اور لام ساکن ہے۔ تو عِلْکٌ، عِلْکٌ جو ہے یہ کوئی گوند ہے بھئی گوند، جو درختوں سے حاصل ہوتی ہے۔ درختوں سے حاصل ہونے والی گوند جیسی کوئی چیز ہے، یا یوں کہیں جیسے آج کل یہ چنگم ہوتی ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس طرح کی کوئی چیز ہے جو درختوں سے حاصل ہوتی ہے۔ اور اس سے عورتیں بطورِ بطورِ مسواک کے بھی چباتی ہیں دانتوں کو صاف کرنے کے لیے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو تو کیا یہ اس گوند کو چبانے سے روزہ دار کا روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں ٹوٹے گا؟ کہتے ہیں بھئی نہیں، اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ کہتے ہیں: وَمَضْغُ الْعِلْكِ لَا يُفْطِرُ الصَّائِمَ، اور اس عِلک کا چبانا یہ روزہ دار کے روزے کو نہیں توڑتا، لِأَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَى جَوْفِهِ اس لیے کیونکہ یہ اس کے پیٹ تک نہیں پہنچتی۔ یہ تو چنگم کی طرح ہے نا، چنگم میں تو پھر بھی مٹھاس وغیرہ ہے وہ تو پیٹ تک پہنچے گی اس میں روزہ ٹوٹ جائے گا، لیکن یہ تو صرف کیا ہے؟ اس میں کوئی چیز ذائقہ وغیرہ نہیں۔ لیکن پھر بھی مکروہ ہے بھئی، اس کو چبانا بھی مکروہ ہے بھئی، اس لیے کیونکہ اس صورت میں بھی روزے کو کس پر پیش کرنا ہوا؟ فساد پر، کہ شاید کہیں ایسا نہ ہو اس کا کوئی جزء پیٹ کے اندر چلا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَى جَوْفِهِ اس لیے کیونکہ یہ اس کے پیٹ تک نہیں پہنچے گی۔ وَقِيلَ: إِذَا لَمْ يَكُنْ مُلْتَئِمًا يُفْسِدُ، اور کہا گیا ہے جب یہ جو گوند ہے یہ ملی ہوئی نہ ہو، إِذَا لَمْ يَكُنْ مُلْتَئِمًا یہ ملے ہوئے نہ ہو یعنی چپکی ہوئی نہ ہو، چپکی ہوئی نہیں ہے بلکہ منہ میں ڈالا تو ذرہ ذرہ ہو گئی۔ ایک تو صورت یہ ہے نا چنگم کی طرح چپکی ہوئی ہے اور ایک صورت کیا ہے؟ ذرہ ذرہ ہو کر بکھر گئی منہ کے اندر پھیل گئی، تو کہا گیا ہے: إِذَا لَمْ يَكُنْ مُلْتَئِمًا یہ گوند جب چپکی ہوئی نہ ہو، يُفْسِدُ تو یہ کیا کرے گی؟ روزے کو فاسد کر دے گی، لِأَنَّهُ يَصِلُ إِلَيْهِ بَعْضُ أَجْزَائِهِ اس لیے کیونکہ پیٹ تک پہنچ جائیں گے اس کے بعض اجزاء۔ انسان جتنی مرضی احتیاط کر لے، جتنی مرتبہ مرضی کلی کر لے لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی ذرہ دانتوں کے اندر جو رہ گیا ہو گا وہ ضرور پیٹ تک پہنچ جائے گا۔ اس لیے بعضوں نے کہا کہ یہ روزے کو فاسد کر دے گا۔ وَقِيلَ: إِذَا كَانَ أَسْوَدَ يُفْسِدُ، اور کہا گیا ہے کہ اگر یہ گوند سیاہ رنگ کی ہو، معلوم ہوا یہ کوئی اور قسم ہو گی اس کے اندر، اگر یہ سیاہ رنگ والی ہے يُفْسِدُ یہ روزے کو فاسد کر دے گی، وَإِنْ كَانَ مُلْتَئِمًا اگرچہ یہ چپکی ہوئی ہی ہو پھر بھی، اگرچہ یہ چپکی ہوئی ہو، لِأَنَّهُ يَتَفَتَّتُ اس لیے کیونکہ یہ جو سیاہ گوند ہے يَتَفَتَّتُ یہ چورا چورا ہو جاتی ہے، یہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے، اور جب ریزہ ریزہ ہو گئی پھر تو ظاہر سی بات ہے کہ پورے منہ میں پھیل گئی تو ضرور اس کا کوئی ذرہ پیٹ کے اندر پہنچ جائے گا۔ إِلَّا أَنَّهُ يُكْرَهُ لِلصَّائِمِ، مگر یہ کہ یہ مکروہ ہے روزہ دار کے لیے۔ اس گوند کا چبانا مکروہ متن میں آیا تھا نا؟ اس گوند کا چبانا روزے کو نہیں توڑتا مگر یہ مکروہ ہے روزہ دار کے لیے، لِمَا فِيهِ مِنْ تَعْرِيضِ الصَّوْمِ لِلْفَسَادِ اس وجہ سے کہ اس کے اندر روزے کو فساد پر پیش کرنا ہے، وَلِأَنَّهُ يُتَّهَمُ بِالْإِفْطَارِ اور نیز اس لیے کیونکہ اس پر تہمت آئے گی افطار کی، اس شخص کو متہم کیا جائے گا افطار کے ساتھ۔ دیکھنے والا کیا سمجھے گا اگر روزہ دار اس گوند کو چبا رہا ہے؟ وہ تو یہی سمجھے گا اس نے روزہ نہیں رکھا، تو دلوں میں بدگمانی آئے گی یا نہیں آئے گی؟ اسی لیے یہ مکروہ ہے۔ یہ معنیٰ ہے: وَلِأَنَّهُ يُتَّهَمُ بِالْإِفْطَارِ اس لیے کیونکہ وہ شخص وہ روزہ دار جو ہے وہ متہم ہو گا یعنی اس کے بارے میں بدگمانی دلوں میں آئے گی بِالْإِفْطَارِ کس چیز کی؟ افطار کی کہ اس نے روزہ نہیں رکھا۔ وَلَا يُكْرَهُ لِلْمَرْأَةِ إِذَا لَمْ تَكُنْ صَائِمَةً، ہاں اب ایسے مسئلہ بتلا رہے ہیں اگر عورت ویسے چباتی ہے بغیر روزے کی حالت کے، بغیر روزے تو کیا وہ چبا سکتی ہے اس کو یا نہیں؟ شرعاً کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں ہاں بھئی چبا سکتی ہے، اس لیے کیونکہ یہ ان کے لیے کس طرح ہے؟ مسواک کی طرح ہے کہ اس سے کیا ہو جاتے ہیں؟ ان کے دانت صاف ہو جاتے ہیں تو ان عورتوں کے لیے مکروہ بھی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يُكْرَهُ لِلْمَرْأَةِ إِذَا لَمْ تَكُنْ صَائِمَةً اور عورت کے لیے مکروہ نہیں ہے اس گوند کا چبانا جب وہ روزہ دار نہ ہو، لِقِيَامِهِ مَقَامَ السِّوَاكِ فِي حَقِّهِنَّ اس لیے کیونکہ یہ گوند جو ہے مسواک کے قائم مقام ہے ان عورتوں کے حق میں۔ وَيُكْرَهُ لِلرِّجَالِ عَلَى مَا قِيلَ، اور مکروہ ہے مردوں کے لیے اس گوند کا چبانا عَلَى مَا قِيلَ بوجہ اس کے جو کہا گیا ہے، جو بعض فقہاء نے فرمایا ہے، إِذَا لَمْ يَكُنْ مِنْ عِلَّةٍ جبکہ کسی بیماری کی وجہ سے نہ ہو۔ مردوں کے لیے ویسے چبانا مکروہ ہے بعض فقہاء لکھتے ہیں مگر یہ کہ بیماری کی وجہ سے ہو، اگر کسی بیماری کی وجہ سے اس کو گوند چبانے سے فائدہ ہوتا ہے پھر مکروہ نہیں ہے۔ یہ معنیٰ ہے إِذَا لَمْ يَكُنْ مِنْ عِلَّةٍ جب کسی بیماری کی وجہ سے نہ ہو تو پھر چبانا مکروہ ہے مردوں کے لیے۔ وَقِيلَ: لَا يُسْتَحَبُّ، اور کہا گیا ہے مستحب نہیں ہے۔ کہا گیا ہے؟ بعض فقہاء نے تو کہا بغیر بیماری کے، بغیر کسی وجہ کے بغیر کسی وجہ کے مرد کا چبانا مکروہ ہے، جبکہ بعض نے کہا مستحب نہیں ہے، یعنی بہتر نہیں ہے ہاں جائز ہے، چبا سکتا ہے۔ لَا يُسْتَحَبُّ مستحب نہیں ہے، لِمَا فِيهِ مِنَ التَّشَبُّهِ بِالنِّسَاءِ اس لیے کیونکہ اس کے اندر عورتوں کے ساتھ مشابہت کرنا ہے، کس کے ساتھ؟ اس لیے کیونکہ اس کے اندر عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا ہے۔ وَلَا بَأْسَ بِالْكَحْلِ وَدَهْنِ الشَّارِبِ، اور کوئی حرج نہیں ہے سرمہ لگانے میں، وَدَهْنِ الشَّارِبِ، دَہْن مصدر ہے مصدر، دُہْن دال کے اوپر پیش ہو تو یہ تیل کو کہتے ہیں اور دَہْن دَهَنَ يَدْهَنُ دَهْنًا کے معنیٰ تیل لگانا۔ اور اسی طرح کَحْل، کحل کا معنیٰ بھی سرمہ لگانا۔ وَلَا بَأْسَ بِالْكَحْلِ وَدَهْنِ الشَّارِبِ اور کوئی حرج نہیں سرمہ لگانے میں اور مونچھوں کو تیل لگانے میں۔ یرحمک اللہ۔ شارب مونچھ بھئی، کوئی حرج نہیں سرمہ لگانے میں وَدَهْنِ الشَّارِبِ اور مونچھوں کو تیل لگانے میں، لِأَنَّهُ نَوْعُ ارْتِفَاقٍ وَهُوَ لَيْسَ مِنْ مَحْظُورِ الصَّوْمِ، اس لیے کیونکہ یہ تو ایک قسم کا نفع اٹھانا ہے، کسی چیز سے نفع اٹھانا ہے، وَهُوَ لَيْسَ مِنْ مَحْظُورِ الصَّوْمِ محظور کا معنیٰ ہے ممنوع بھئی، ممنوع، ممنوع۔ سمجھ میں آیا؟ اصول فقہ کا ضابطہ آپ پڑھتے ہوں گے: اَلضَّرُورَاتُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ بھئی۔ ضرورت کیا ہے؟ وہ جائز کر دیتی ہے المحظورات ممنوع چیزوں کو بھی بھئی، تو وہ محظور یہ والا ہے ممنوع بھئی ظاء کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ لَيْسَ مِنْ مَحْظُورِ الصَّوْمِ اور یہ روزے کی ممنوع چیزوں میں سے بھی نہیں ہے۔ سرمہ لگانا یہ کوئی روزے میں منع نہیں اور اسی طرح تیل لگانا یہ روزے کے میں منع نہیں، تو یہ روزے کی ممنوع چیزوں میں سے نہیں ہے، یہ تو ایک قسم کا نفع اٹھانا ہے ایک چیز سے تو یہ جائز ہے۔ وَقَدْ نَدَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الِاكْتِحَالِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَإِلَى الصَّوْمِ فِيهِ، وَقَدْ نَدَبَ، ندب کا صلہ آ رہا ہے آگے الی، الی، نَدَبَ إِلَى اور ندب الی کے معنیٰ ہوتے ہیں کسی چیز کی طرف دعوت دینا۔ یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے ایک دفعہ بھئی کہیں کسی سبق میں پیچھے گزرا تھا میں نے آپ کو بتلایا تھا۔ وَقَدْ نَدَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الِاكْتِحَالِ اور تحقیق دعوت دی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے إِلَى الِاكْتِحَالِ سرمہ لگانے کی، يَوْمَ عَاشُورَاءَ یومِ عاشورہ والے دن، یعنی دس محرم کو، وَإِلَى الصَّوْمِ فِيهِ اور اس کے اندر روزہ رکھنے میں کی طرف۔ حضور علیہ السلام نے یومِ عاشورہ والے دن روزہ رکھنے اور سرمہ لگانے کی دعوت دی ہے کہ یعنی یہ مستحب ہے۔ وَلَا بَأْسَ بِالِاكْتِحَالِ لِلرِّجَالِ، یہاں سے صاحبِ ہدایہ ویسے ایک مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ مردوں کے لیے سرمہ لگانا کیا اس کا کیا حکم ہے؟ کہتے ہیں: وَلَا بَأْسَ بِالِاكْتِحَالِ لِلرِّجَالِ اور کوئی حرج نہیں سرمہ لگانے میں مردوں کے لیے، إِذَا قَصَدَ بِهِ التَّدَاوِيَ جب وہ اس کے ذریعے علاج کا ارادہ کرے، دُونَ الزِّينَةِ نہ کہ زینت۔ زینت کے ارادے سے پھر درست نہیں ہے بلکہ کس کیا ارادہ ہو؟ علاج، یعنی دوا کے طور پر اگر وہ لگاتا ہے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ وَيُسْتَحْسَنُ دَهْنُ الشَّارِبِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مِنْ قَصْدِهِ الزِّينَةُ، اور مستحسن ہے یعنی پسندیدہ ہے مونچھوں کو تیل لگانا جبکہ اس شخص کا ارادہ زینت کا نہ ہو، زینت کا جب ارادہ نہ ہو، لِأَنَّهُ يَعْمَلُ عَمَلَ الْخِضَابِ اس لیے کیونکہ یہ تیل بھی خضاب والا عمل کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ خضاب والا عمل کرتا ہے۔ بھئی یاد رکھیے، یہ تیل جب بالوں پر لگایا جائے تو اس سے بالوں کے اندر چمک پیدا ہو جاتی ہے اور سیاہ بال مزید سیاہ معلوم ہونے لگتے ہیں بھئی، حتیٰ کہ اگر سفید بال کچھ ہوں بھی وہ بھی پھر اس سیاہی کے اندر چھپ جاتے ہیں۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ایک معمولی کچھ بال سفید تھے بھئی، اور جب آپ تیل لگایا کرتے تھے تو وہ بال بھی چھپ جایا کرتے تھے، چھپ جایا کرتے تھے۔ اور چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی مبارک میں چودہ سے زیادہ سفید بال نہیں گنے بھئی، صرف چودہ بال سفید تھے۔ جبکہ بعض روایات کے اندر بیس بالوں تک کا ذکر ملتا ہے بھئی، تو بہت معمولی چند بال چند ایک بال سفید تھے بھئی۔ اور جیسے میں نے ذکر کر دیا کہ بعض روایات میں صراحتاً آتا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تیل لگایا کرتے تھے تو یہ سفید چند ایک بال جو تھے یہ بھی چھپ جایا کرتے تھے بھئی۔ تو اسی لیے صاحبِ ہدایہ نے فرمایا: لِأَنَّهُ يَعْمَلُ عَمَلَ الْخِضَابِ کہ یہ تیل کیا ہے؟ خضاب والا عمل کرتا ہے، خضاب والا عمل کرتا ہے۔ اور نیز یہ بین السطور لکھا ہوا ہے: وَبِالْخِضَابِ جَاءَتِ السُّنَّةُ، اور خضاب کے بارے میں حدیث آئی ہے بھئی، خضاب کے بارے میں حدیث آئی ہے تو اس کا یہ معنیٰ نہ سمجھنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خضاب لگاتے تھے۔ میں نے بتلا دیا کہ آخر عمر میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ایک بال ہی سفید ہوئے تھے، یہ اس حد تک پہنچے ہی نہیں تھے کہ اس میں خضاب کی ضرورت پیش آ جاتی بھئی خضاب۔ تو اس کے ذریعے غالباً اشارہ ہے جو مسلم شریف میں روایت آتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا بھئی، فتح مکہ والے دن وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے گئے وہ لائے گئے تو ان کے بال بہت سفید ہو چکے تھے، سر کے بھی اور داڑھی کے بھی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان بالوں کو بدل دو کسی چیز سے، ”وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ“ اور سیاہی سے بچو یعنی سیاہ رنگ نہ دو، کوئی اور رنگ دے کر ان کو ان کا رنگ بدل دو بھئی۔ تو اس کے ذریعے اس کی طرف اشارہ ہے بھئی۔ وَلَا يَفْعَلُ لِتَطْوِيلِ اللِّحْيَةِ إِذَا كَانَتْ بِقَدْرِ الْمَسْنُونِ وَهُوَ الْقَبْضَةُ، اور داڑھی کو لمبا کرنے کے لیے ایسا نہ کرے یعنی تیل نہ لگائے إِذَا كَانَتْ بِقَدْرِ الْمَسْنُونِ جب داڑھی مسنون مقدار کی ہو، وَهُوَ الْقَبْضَةُ اور وہ ایک قبضہ یعنی ایک مٹھی بھر مقدار ہے۔ قبضہ کہتے ہیں مٹھی بھر مقدار بھئی، تو ایک مٹھی کے برابر جب داڑھی ہے تو اس کو مزید لمبا کرنے کی نیت سے تیل نہ لگائے۔ داڑھی جو ہے سنت بھی ہے اور مرد کے لیے حسن و جمال کی علامت بھی ہے، لیکن بہت زیادہ طویل داڑھی بھی پسندیدہ نہیں بھئی۔ تو اسی لیے صاحبِ ہدایہ نے فرمایا کہ جب داڑھی سنت کے برابر ہو یعنی مٹھی بھر ہو تو اس کو مزید لمبا کرنے کے لیے تیل نہ لگایا جائے بھئی۔ وَلَا بَأْسَ بِالسِّوَاكِ الرَّطْبِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ لِلصَّائِمِ، اور کوئی حرج نہیں ہے بِالسِّوَاكِ الرَّطْبِ گیلی مسواک یعنی تر مسواک، اور کوئی حرج نہیں تر مسواک کرنے میں بِالْغَدَاةِ صبح کے وقت، وَالْعَشِيِّ اور زوال کے وقت۔ عشی یاد رکھیے کہتے ہیں زوال کے بعد سے شام تک یہ سارا وقت کیا کہلاتا ہے؟ عشی۔ تو صبح کے وقت میں تر مسواک کرنا اور زوال کے بعد تر مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں لِلصَّائِمِ روزہ دار کے لیے، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”خَيْرُ خِلَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ“، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ روزہ دار کی بہترین عادتوں میں سے مسواک ہے، روزہ دار کی بہترین عادتوں میں سے، بہترین خصلتوں میں سے السِّوَاكُ مسواک ہے، مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ بغیر کسی فصل کے، فرق کے، یعنی اس میں یہ فرق نہیں کیا گیا کہ وہ وہ سبز مسواک ہے یعنی خود ہی تر ہے یا پانی سے اس کو تر کیا گیا ہے، اس میں یہ تفصیل نہیں بس مطلقاً مسواک کو کیا قرار دیا گیا ہے؟ بہترین عادت قرار دیا گیا ہے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يُكْرَهُ بِالْعَشِيِّ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکروہ ہے مسواک بالعشی، کس وقت؟ زوال کے بعد بھئی، لِمَا فِيهِ مِنْ إِزَالَةِ الأَثَرِ الْمَحْمُودِ وَهُوَ الْخُلُوفُ، اس وجہ سے کہ اس کے اندر قابلِ تعریف اثر کو دور کرنا ہے، بھئی احادیث میں آتا ہے کہ کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو ہے یہ روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے بھئی، روزہ دار کے منہ کی بدبو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے اللہ کے نزدیک۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زوال کے بعد اگر مسواک کرے گا تو پھر یہ بو ختم ہو جائے گی حالانکہ اس کی تو تعریف کی گئی ہے، اس وجہ سے مکروہ ہے، زوال کے بعد مسواک کرنا مکروہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے یہ قابلِ تعریف اثر ختم ہو جائے گا۔ یہ معنیٰ ہے: لِمَا فِيهِ مِنْ إِزَالَةِ الأَثَرِ الْمَحْمُودِ وَهُوَ الْخُلُوفُ اس وجہ سے کہ اس کے اندر دور کرنا ہے اثر کو، کون سا اثر؟ المحمود جس کی تعریف کی گئی ہے اس اثر کو دور کرنا ہے، وَهُوَ الْخُلُوفُ، خلوف کہتے ہیں منہ کی بدبو بھئی، اور وہ جو منہ کی بدبو ہے، فَشَابَهَ دَمَ الشَّهِيدِ، تو یہ یہ خلوف مشابہ ہو گیا شہید کے خون کے، شہید کے خون کے، کیونکہ اس کے بارے میں بھی کیا آیا ہے کہ شہید سے اس کو خون کو صاف نہ کیا جائے کیونکہ قیامت کے دن جب وہ آئے گا تو اس کا خون جو ہے رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن خوشبو مشک جیسی ہو گی۔ تو کہتے ہیں یہ خلوف جو ہے منہ کی بدبو روزہ دار کی، یہ مشابہ ہو گئی شہید کے خون کے، اور جیسے شہید کے خون کو صاف نہیں کیا جاتا بلکہ اسی طرح خون سمیت دفن کیا جاتا ہے اسی طرح یہاں بھی اس خلوف کو دور نہیں کیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا؟ اس کو دور نہیں کیا جائے گا تو مسواک نہیں کریں گے۔ قُلْنَا: ہم کہتے ہیں کہ دونوں میں فرق ہے، خلوف میں اور شہید کے خون میں۔ قُلْنَا ہم کہتے ہیں: هُوَ أَثَرُ الْعِبَادَةِ کہ خلوف جو ہے هُوَ أَثَرُ الْعِبَادَةِ وہ تو عبادت کا اثر ہے۔ اس نے روزہ رکھا، اس روزے کی وجہ سے منہ میں کیا پیدا ہو گئی؟ کچھ کھایا پیا ہی نہیں ہے تو اس کی وجہ سے بدبو پیدا ہو گئی ہے، تو یہ عبادت کا اثر ہے، وَالأَلْيَقُ بِهِ الإِخْفَاءُ اور اس کے زیادہ لائق اس کو چھپانا ہے۔ عبادت میں کیا کرنا چاہیے؟ عبادت جس قدر چھپا کر ہو اتنا بہتر ہے تاکہ کہیں ریاکاری کا شبہ نہ پڑے کہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ عبادت کا اثر ہے وَالأَلْيَقُ بِهِ الإِخْفَاءُ اور اس کے زیادہ لائق اس کو چھپانا ہے، بِخِلَافِ دَمِ الشَّهِيدِ بخلاف شہید کے خون کے، لِأَنَّهُ أَثَرُ الظُّلْمِ وہ تو ظلم کا اثر ہے، وہ وہ زیادہ لائق ہے اس کو باقی رکھا جائے، اس کو باقی رکھا جائے کہ وہ تو انصاف کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کو اس ظالم سے انصاف دلایا جائے جس نے اس کو شہید کیا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو دونوں الگ چیزیں ہیں، وہ عبادت کا اثر ہے اور یہ ظلم کا اثر ہے، وہ تقاضا کرتا ہے اس کو چھپایا جائے اور یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس کو اس کو ظاہر کیا جائے، چھپایا نہ جائے بھئی۔ یہ معنیٰ ہے: بِخِلَافِ دَمِ الشَّهِيدِ لِأَنَّهُ أَثَرُ الظُّلْمِ بخلاف شہید کے خون کے کیونکہ وہ تو ظلم کا اثر ہے، وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الرَّطْبِ الْأَخْضَرِ وَبَيْنَ الْمَبْلُولِ بِالْمَاءِ لِمَا رَوَيْنَا، اور کوئی فرق نہیں ہے بَيْنَ الرَّطْبِ الْأَخْضَرِ وہ مسواک جو تر ہے، گیلی ہے، الأخضر سبز ہے، بھئی ایک مسواک وہ ہے سبز ہو گی، گیلی ہو گی، اور ایک مسواک وہ ہے جو خشک ہو گی، تو جو خشک ہو گی اس کو کس سے تر کرنا پڑے گا؟ پانی سے، اور جو سبز ہے، تر ہے اس میں پانی کی ضرورت نہیں، تو کہتے ہیں دونوں میں کوئی فرق نہیں، دونوں کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ حدیث میں کیا آیا؟ ”خَيْرُ خِلَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ“ مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ بغیر کسی فرق کے، وہاں کوئی فرق نہیں کیا گیا کہ وہ تر خود ہو یا تر کس سے کیا گیا ہو؟ پانی سے۔ تو یہ معنیٰ ہے: وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الرَّطْبِ الْأَخْضَرِ وَبَيْنَ الْمَبْلُولِ بِالْمَاءِ لِمَا رَوَيْنَا اور کوئی فرق نہیں ہے سرسبز، گیلی مسواک میں اور اس مسواک میں جس کو گیلا کیا گیا ہو پانی کے ساتھ، لِمَا رَوَيْنَا اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی اوپر بھئی کہ ”خَيْرُ خِلَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ“۔ اور نیز علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو خلوف ہے نا خلوف، یہ خلوف یہ منہ سے یہ بو نہیں آتی، یہ روزہ دار کے منہ سے جو بدبو آئے یہ منہ سے نہیں آتی، یہ دراصل معدہ معدہ جو ہے کئی گھنٹے تک خالی رہتا ہے تو یہ بو وہاں پیدا ہوتی ہے اور وہاں سے بخارات اٹھتے ہیں تو یہ خلوف اس کا اثر ہے، تو یہ دراصل بو منہ سے آ نہیں رہی بلکہ یہ تو یہ بو دراصل منہ سے نہیں آ رہی بلکہ کہاں سے آ رہی ہے؟ معدے سے آ رہی ہے، تو اگر مسواک کر بھی لی جائے تو یہ بو ختم نہیں ہو گی کیونکہ یہ تو کہاں سے آ رہی ہے؟ معدے سے آ رہی ہے، لہٰذا معلوم ہوا مسواک سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، تو مسواک جو ہے وہ جائز ہے بغیر کراہت کے ہی روزے کے اندر بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
169 approved lectures · 122 of 169