Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-111

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 137
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
قَالَ: ”وَإِذَا كَانَتْ لِمُسْلِمٍ دَارُ خِطَّةٍ فَجَعَلَهَا بُسْتَانًا فَعَلَيْهِ الْعُشْرُ، مَعْنَاهُ إِذَا سَقَاهُ بِمَاءِ الْعُشْرِ، أَمَّا إِذَا كَانَتْ تُسْقَى بِمَاءِ الْخِرَاجِ فَفِيهَا الْخِرَاجُ؛ لِأَنَّ الْمُؤْنَةَ فِي مِثْلِ هَذَا تَدُورُ مَعَ الْمَاءِ، وَلَيْسَ عَلَى الْمَجُوسِيِّ فِي دَارِهِ شَيْءٌ؛ لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ جَعَلَ الْمَسَاكِنَ عَفْوًا، وَإِنْ جَعَلَهَا بُسْتَانًا فَعَلَيْهِ الْخِرَاجُ“. بھئی عشر کا بیان چل رہا ہے اور اب مسئلہ ذکر کر رہے ہیں۔ قَالَ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَتْ لِمُسْلِمٍ دَارُ خِطَّةٍ“ کہ جب کسی مسلمان کا کوئی دارِ خطہ ہو۔ بھئی خطہ، خطۃ کہتے ہیں کسی زمین کو متعین کرنا، یعنی امام جو ہے خلیفۃ المسلمین کسی زمین کو خط کھینچ کر یعنی نشان لگا کر متعین کر دے کہ یہ تمہاری ہو گئی۔ کسی علاقے وغیرہ کو کیا کر دیا گیا؟ فتح کر لیا مجاہدین نے، اور اس زمین کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا گیا، تو ایک زمین مثلاً ایک مسلمان کے حق میں آئی اور اس کے اندر گھر ہے۔ کیا ہے؟ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ یعنی اس میں فصلیں نہیں کاشت کی جاتیں، گھر وغیرہ ہے یا ویسے زمین ہے تو اب جب عام زمین ہے، گھر وغیرہ ہے تو کیا اس کے اندر عشر یا خراج آئے گا؟ گھر کے اندر عشر یا خراج ہوتا ہے؟ گھر کے اندر تو عشر یا خراج نہیں ہوتا۔ تو پھر بعد میں اس مسلمان نے اس کو باغ بنا لیا۔ تھا تو وہ گھر لیکن اس نے کیا کیا اس کو؟ باغ بنا لیا۔ اب اس کے اندر کیا آئے گا؟ کیا آئے گا؟ عشر آئے گا یا؟ کہتے ہیں بھئی اس کے اندر دار و مدار پانی پر ہے۔ جس قسم کے پانی سے وہ اس زمین کو سیراب کرے گا تو اسی وہی چیز آئے گی۔ اگر عشری پانی کے ساتھ اس کو سیراب کرے اور باغ بنائے تو اس کے اندر عشر آئے گا، اور اگر خراجی پانی کے ساتھ اس کو سیراب کرے تو اس صورت میں اس میں کیا واجب ہوگا؟ خراج واجب ہوگا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَتْ لِمُسْلِمٍ دَارُ خِطَّةٍ“ اور جب کسی مسلمان کا کوئی دارِ خطہ تھا یعنی اور خطہ میں نے کیا بتلایا؟ باقاعدہ خط کھینچ کر، نشانیاں لگا کر زمین تقسیم امام کی طرف سے وہ زمین تقسیم کی جاتی تھی کہ یہاں سے یہاں تک فلاں کی ہو گئی، یہاں سے لے کر یہاں تک فلاں۔ تو وہ جو نشان لگائے جاتے، خط کھینچے جاتے وہ ہے خطہ، سمجھ میں آیا؟ مراد ہے متعین کرنا چاہے جس صورت میں بھی ہو، متعین کرنا۔ تو اس کا کوئی دار تھا اور دار بھی کس قسم کا تھا؟ دارِ خطہ تھا یعنی متعین کر کے اس کو دیا گیا تھا۔ اب اس کے اندر تو فی الحال نہ عشر ہے اور نہ خراج کیونکہ وہ دار ہے۔ ”فَجَعَلَهَا بُسْتَانًا“ پھر اس نے اس کو کیا بنا دیا؟ باغ بنا دیا، ”فَعَلَيْهِ الْعُشْرُ“ تو اس پر عشر واجب ہے۔ کیا واجب ہے؟ عشر واجب ہے۔ تو بھئی میں نے تو آپ کو کیا بتلایا؟ کہ پانی کا اعتبار۔ اگر پانی کون سا لگایا جائے؟ عشری، تو عشر واجب۔ اگر خراجی پانی لگائے گا تو خراج واجب۔ تو پھر متن میں تو آرہا ہے ”فَعَلَيْهِ الْعُشْرُ“ اس پر کیا واجب ہے؟ عشر۔ صاحبِ ہدایہ خود معنی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ إِذَا سَقَاهُ بِمَاءِ الْعُشْرِ“ معنی اس کا یہ ہے جب اس کو کس پانی کے ساتھ سیراب کیا ہو؟ عشری پانی کے ساتھ تو پھر اس میں عشر ہوگا۔ ”أَمَّا إِذَا كَانَتْ تُسْقَى بِمَاءِ الْخِرَاجِ فَفِيهَا الْخِرَاجُ“ اور باقی اگر اس کو سیراب کیا گیا ہو خراج کے پانی کے ساتھ تو اس میں خراج ہوگا، ”لِأَنَّ الْمُؤْنَةَ فِي مِثْلِ هَذَا تَدُورُ مَعَ الْمَاءِ“ اس لیے کیونکہ جو خرچہ جو ہے اس قسم کی جگہوں میں وہ تَدُورُ وہ گھومتا ہے ”مَعَ الْمَاءِ“ کس کے ساتھ؟ پانی کے ساتھ، یعنی اس کا مدار پانی پر ہوتا ہے۔ پانی عشری تو عشر واجب، پانی خراجی تو خراج واجب۔ سمجھ میں آیا؟ مؤنت وہی جو عشر یا خراج لیا جائے گا نا، وہ کس کے ساتھ گھومتا ہے؟ پانی کے ساتھ۔ پانی عشری تو عشر والا، عشر والی مؤنت آئے گی، عشر والا خرچہ اس پر آئے گا، وہ دینا پڑے گا۔ اور اگر پانی خراجی ہے تو خراج آئے گا، خراج والی مؤنت اس سے لی جائے گی بھئی۔ ”وَلَيْسَ عَلَى الْمَجُوسِيِّ فِي دَارِهِ شَيْءٌ“ اچھا بھئی، گھروں کے اندر تو کچھ نہیں مسلمانوں کے گھر ہیں۔ لیکن اگر کوئی مجوسی ہے یا اور ذمی وغیرہ ہیں، ان کے گھر ہیں، کیا ان کے گھروں پر بھی ان سے کوئی ٹیکس وغیرہ لیا جائے گا؟ کوئی چیز اس میں واجب ہوگی؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، گھروں کے اندر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”وَلَيْسَ عَلَى الْمَجُوسِيِّ فِي دَارِهِ شَيْءٌ“ اور نہیں ہے مجوسی پر یعنی آتش پرست جو آگ کی عبادت کرتے ہیں، جو آتش پرست ہیں اس پر اس کے گھر میں کوئی چیز واجب نہیں، ”لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ جَعَلَ الْمَسَاكِنَ عَفْوًا“ اس لیے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جَعَلَ الْمَسَاكِنَ عَفْوًا انہوں نے رہائش گاہوں کو معاف قرار دے دیا، رہنے کی جگہوں کو معاف قرار دیا اور اس میں کچھ بھی واجب نہیں کیا ان ذمیوں پر۔ ”وَإِنْ جَعَلَهَا بُسْتَانًا فَعَلَيْهِ الْخِرَاجُ“ اور اگر وہ مجوسی کیا کرتا ہے؟ اس گھر کو باغ بنا لیتا ہے، ”فَعَلَيْهِ الْخِرَاجُ“ تو اس پر کیا واجب ہوگا؟ خراج واجب ہوگا، خراج واجب ہوگا۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَإِنْ سَقَاهَا بِمَاءِ الْعُشْرِ“ اگرچہ وہ اس کو سیراب کرے عشری پانی سے ہی۔ بھئی مدار کس پر تھا؟ پانی پر تھا، لیکن یہاں اگر عشری پانی سے سیراب کرے تو بھی اس پر عشر نہیں آئے گا بلکہ کیا آئے گا؟ خراج آئے گا، کیونکہ عشر عبادت ہے اور کافر عبادت کا اہل نہیں ہے، بلکہ اس پر خراج ہی آئے گا بھئی۔ تو اس پر عشر واجب کرنا ہی ممکن نہیں ہے، اب کیا کیا جائے؟ تو خراج ہی آئے گا۔ یہ معنی ہے ”وَإِنْ سَقَاهَا بِمَاءِ الْعُشْرِ“ اگرچہ وہ اس کو عشری پانی سے سیراب کرے، ”لِتَعَذُّرِ إِيجَابِ الْعُشْرِ“ اس وجہ سے کہ عشر کا واجب کرنا ممکن ہی نہیں ہے، ”إِذْ فِيهِ مَعْنَى الْقُرْبَةِ“ اس لیے کیونکہ عشر کے اندر قربت یعنی عبادت والا معنی ہے اور یہ تو عبادت کا اہل نہیں، ”فَتَعَيَّنَ الْخِرَاجُ“ تو خراج ہی متعین ہوا، ”وَهُوَ عُقُوبَةٌ تَلِيقُ بِحَالِهِ“ اور خراج جو ہے وہ سزا ہے جو اس کے حال کے مناسب بھی ہے، کافر کے حال کے مناسب بھی ہے کہ وہ سزا کا ہی اہل ہے کہ وہ اللہ کی وحدانیت کی طرف نہیں آتا بھئی۔ ”وَعَلَى قِيَاسِ قَوْلِهِمَا“ اور صاحبین کے قول پر تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ ”يَجِبُ الْعُشْرُ فِي الْمَاءِ الْعُشْرِيِّ“ کہ یہاں پر بھی عشر ہی واجب ہونا چاہیے کس کے اندر؟ ماء عشری، عشری پانی کی صورت میں یہاں بھی عشر ہی واجب ہونا چاہیے، ”إِلَّا أَنَّ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ عُشْرًا وَاحِدًا“ مگر یہ کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کیا واجب ہوگا؟ ایک ہی عشر واجب ہوگا، ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ عُشْرَانِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک دو عشر واجب ہوں گے، ”وَقَدْ مَرَّ الْوَجْهُ“ اور تحقیق اس کی وجہ گزر چکی جو ہم نے بیان کر دی تھی، وہ صورت جہاں پر وہ کسی مسلمان کی زمین تھی اور اس کو کس نے خرید لیا؟ کسی ذمی نے خرید لیا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر دگنا عشر آئے گا اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک زمین کا وظیفہ ایک دفعہ عشر ہو چکا ہے اب وہ دوبارہ بدلے گا نہیں، لہٰذا اس پر ایک ہی عشر آئے گا۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ الْمَاءُ الْعُشْرِيُّ“ اب تفصیل بیان کر رہے ہیں کہ بھئی آپ نے ہمیں بتلایا دار و مدار پانی پر ہے، عشری پانی ہے تو عشر آئے گا، خراجی پانی ہے تو خراج۔ تو یہ عشری پانی کس کو کہتے ہیں؟ خراجی پانی کس کو کہتے ہیں؟ وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ الْمَاءُ الْعُشْرِيُّ مَاءُ السَّمَاءِ وَالْآبَارِ وَالْعُيُونِ وَالْبِحَارِ الَّتِي لَا تَدْخُلُ تَحْتَ وِلَايَةِ أَحَدٍ“ پھر عشری پانی جو ہے وہ مَاءُ السَّمَاءِ آسمان کا پانی یعنی بارش کا پانی ہے، ”وَالْآبَارِ“ اور کنوؤں کا پانی ہے، ”وَالْعُيُونِ“ اور چشموں کا پانی ہے، ”وَالْبِحَارِ“ اور سمندروں کا پانی ہے وہ سمندر ”الَّتِي لَا تَدْخُلُ تَحْتَ وِلَايَةِ أَحَدٍ“ جو کسی کی ولایت کے تحت نہیں آتے یعنی کسی کی ان پر حکمرانی نہیں ہے، کسی کا ان پر قبضہ نہیں ہے۔ تو یہ سارا جو ہے عشری پانی ہے۔ ”وَالْمَاءُ الْخِرَاجِيُّ الْأَنْهَارُ الَّتِي شَقَّهَا الْأَعَاجِمُ“ تو کہتے ہیں مائے خراجی وہ نہریں ہیں جن کو اعاجم یعنی عجمیوں نے کھودا ہے، جن کو یعنی اسلام سے پہلے جو عجمی بادشاہوں نے جو نہریں کھدوائیں ان سب کا پانی کیا ہے؟ خراجی پانی ہے۔ ان کے ساتھ اگر زمینوں کو کوئی سیراب کرتا ہے تو اس میں کیا آئے گا؟ خراج آئے گا اگر اس کو پہلے اس میں کچھ نہیں تھا تو اب خراج اس کے اندر آئے گا۔ ”وَمَاءُ جَيْحُونَ وَسَيْحُونَ وَدِجْلَةَ وَالْفُرَاتِ عُشْرِيٌّ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور دریائے جیحون کا پانی اور دریائے سیحون کا پانی اور اسی طرح دریائے دجلہ کا پانی اور دریائے فرات کا پانی ”عُشْرِيٌّ“ یہ سب کیا ہیں؟ عشری ہیں، یہ سب دریاؤں کے نام ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ دجلہ اور فرات یہ تو عراق میں دو دریا بہتے ہیں، اسی طرح یہ سیحون جو ہے انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ترکی کے اندر کوئی دریا ہے اور اسی طرح جیحون جو ہے یہ بلخ علاقے کے اندر کوئی دریا ہے بھئی۔ تو یہ قدیم نام ہیں اب ہو نام بدل گئے ہوں گے بھئی۔ تو یہ سب دریا جو ہیں ان کا پانی کیا ہے؟ عشری ہے ”عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، ”لِأَنَّهُ لَا يَحْمِيهَا أَحَدٌ كَالْبِحَارِ“ اس لیے کیونکہ کوئی ایک بھی ان کی حفاظت نہیں کرتا جیسے کیا ہیں؟ جیسے سمندر ہیں، جیسے کہ سمندر ہیں اور سمندروں کا اوپر ذکر آیا کہ ان کا پانی کیا ہے؟ عشری ہے، تو ان دریاؤں کی بھی کوئی حفاظت نہیں کرتا تو ان کا پانی بھی کیا ہے؟ عشری ہے۔ ”وَخِرَاجِيٌّ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ان کا پانی خراجی ہے، ”لِأَنَّهَا يُتَّخَذُ عَلَيْهَا الْقَنَاطِيرُ مِنَ السُّفُنِ“ اس لیے کیونکہ بنائے جاتے ہیں ان دریاؤں پر ”الْقَنَاطِيرُ مِنَ السُّفُنِ“ پل، قناطیر کس کو کہتے ہیں؟ قناطیر جمع ہے قنطرۃ کی، پل کو کہتے ہیں جو دریا کے اوپر بنایا جاتا ہے۔ تو وہ پل مِنَ السُّفُنِ، سفن جمع ہے سفینۃ، کیونکہ ان دریاؤں پر کیا بنائے جاتے ہیں؟ کشتیوں کے پل بنائے جاتے ہیں، ”وَهَذَا يَدٌ عَلَيْهَا“ اور یہی اس پر قبضہ ہے، یہی اس پر۔ بھئی امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو دریا وغیرہ ہیں ان کا پانی عشری ہے کیونکہ ان پر کسی کا قبضہ نہیں، کسی کی تسلط نہیں۔ اور جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، ان کا پانی خراجی ہے کیونکہ ان پر قبضہ چلتا ہے، ان پر کیا کر لیا جاتا ہے؟ کشتیوں کے پل بنا لیے جاتے ہیں اور یہ کشتیوں کے پل ان پر بنانا یہی ان پر قبضہ ہے بھئی۔ ”وَفِي أَرْضِ الصَّبِيِّ وَالْمَرْأَةِ التَّغْلِبِيَّيْنِ مَا فِي أَرْضِ الرَّجُلِ“ اور بچے کی زمین میں اور عورت کی زمین میں، وہ بچہ اور عورت التَّغْلِبِيَّيْنِ جو قبیلہ بنو تغلب سے تعلق رکھتے ہیں، وہ واجب ہوگا ”فِي أَرْضِ الرَّجُلِ“ جو مرد کی زمین میں واجب ہوتا ہے۔ بھئی جو مرد کی زمین میں جو واجب ہوتا ہے جس طرح یعنی دگنا عشر، دگنا عشر وہی کس کے اندر واجب ہوگا؟ تغلبی عورت ہے اس کی زمین میں بھی وہی دگنا عشر ہوگا اور تغلبی بچے کی زمین ہے تو اس کے اندر بھی اسی طرح دگنا عشر ہوگا۔ یہ معنی ہے ”وَفِي أَرْضِ الصَّبِيِّ وَالْمَرْأَةِ التَّغْلِبِيَّيْنِ مَا فِي أَرْضِ الرَّجُلِ“ اور تغلبی بچے اور عورت کی زمین میں بھی وہی ہے جو مرد کی زمین میں ہے یعنی جو تغلبی مرد کی زمین میں ہے۔ ”يَعْنِي الْعُشْرَ الْمُضَاعَفَ فِي الْعُشْرِيَّةِ وَالْخِرَاجَ الْوَاحِدَ فِي الْخِرَاجِيَّةِ“ یعنی کہ دگنا عشر ہوگا عشری زمین میں اور ایک ہی خراج ہوگا خراجی زمین میں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ ان سے کیا معاہدہ ہوا تھا کہ مسلمانوں سے جو لیا جاتا ہے اس کا دگنا لیا جائے گا اور مسلمانوں سے تو عشر لیا جاتا ہے تو عشر تو دگنا ہوگا لیکن خراج ایک ہی ہوگا۔ ”وَالْخِرَاجَ الْوَاحِدَ فِي الْخِرَاجِيَّةِ“ اور ایک خراج ہوگا خراجی زمین میں، ”لِأَنَّ الصُّلْحَ قَدْ جَرَى عَلَى تَضْعِيفِ الصَّدَقَةِ دُونَ الْمُؤْنَةِ الْمَحْضَةِ“ اس لیے کیونکہ صلح جو تھی وہ تحقیق جاری ہوئی تھی صدقے یعنی زکوٰۃ کے دگنا کرنے پر ”دُونَ الْمُؤْنَةِ الْمَحْضَةِ“ نہ کہ صرف خرچے کے۔ صرف خرچے کو دگنا کرنے کا معاہدہ ان سے نہیں ہوا تھا بلکہ کس چیز کو دگنا کرنے کا معاہدہ ہوا تھا؟ جو مسلمانوں سے لیا جاتا ہے۔ مسلمانوں سے تو کیا لی جاتی ہے؟ زکوٰۃ اور عشر لیا جاتا ہے تو وہ چیز ان پر دگنی ہوگی، لیکن صرف اگر کوئی خرچہ ہے جیسے خراج، خراج ٹھیک ہے ان پر ٹیکس ہے، خرچہ ہے۔ لیکن کیا ان سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ٹیکس تم سے دگنا لیا جائے گا؟ ٹیکس کے دگنا ہونے کی بات نہیں ہوئی تھی اس لیے خراج ایک ہی لیا جائے گا، البتہ عشر دگنا لیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: اس لیے کیونکہ صلح تحقیق صدقے کے دگنا کرنے پر جاری ہوئی تھی، صرف خرچے کے اوپر، خرچے کے دگنا کرنے پر نہیں تھی بھئی۔ ”ثُمَّ عَلَى الصَّبِيِّ وَالْمَرْأَةِ إِذَا كَانَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْعُشْرُ فَيُضَعَّفُ ذَلِكَ إِذَا كَانَا مِنْهُمْ“ پھر جو بچہ ہے اور عورت ہے جب وہ مسلمانوں میں سے ہوں تو ان پر کیا واجب ہوتا ہے ان کی زمینوں میں؟ ”الْعُشْرُ“ ان پر عشر واجب ہوتا ہے، اور تغلبی لوگوں سے جو چیز مسلمانوں پر واجب ہوتی ہے وہی ان سے دگنی لی جاتی ہے، تو جب مسلمان عورت اور بچے پر عشر آتا ہے تو تغلبی عورت اور بچے پر کیا آئے گا؟ عشر کا دگنا آئے گا جیسے متن میں ذکر ہوا۔ یہ معنی ہے کہ بچہ اور عورت جب مسلمانوں میں سے ہوں تو ان پر عشر آتا ہے، ”فَيُضَعَّفُ ذَلِكَ إِذَا كَانَا مِنْهُمْ“ تو اسی کو دگنا کیا جائے گا جب یہ بچہ اور عورت جو ہیں یہ قبیلہ بنو تغلب میں سے ہوں۔ ”وَلَيْسَ فِي عَيْنِ الْقِيرِ وَالنِّفْطِ فِي أَرْضِ الْعُشْرِ شَيْءٌ“ اور قیر کے چشمے میں اور نفط کے چشمے میں عشری زمین میں کچھ بھی نہیں ہے۔ عشری زمین میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یاد رکھیے قیر جو ہے نا قِيرٌ، قیر، قاف دو نقطوں والا، یا ہے اور را، قیر۔ قیر کہتے ہیں تارکول کو۔ کس کو؟ تارکول، بھئی یہ جس سے سڑکیں بنتی ہیں جس کو آپ لُک کہتے ہیں یہ، یہ کیا ہے؟ عربی میں اس کو قِيرٌ کہتے ہیں، قیر۔ اور اسی طرح تارکول جیسا ہی ایک مادہ ہوتا ہے وہ بھی زمین سے نکلتا ہے اور اسی کی طرح ہوتا ہے، اس کو بھی قیر کہتے ہیں، کوئی تیل وغیرہ ہے تارکول کی شکل کا کہتے ہیں زمین سے نکلتا ہے اور اس کے لیے اس کو کشتیوں وغیرہ پر لگاتے ہیں تاکہ کشتی کے اندر پانی داخل نہ ہو بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ تو وہ وہ تارکول یا جو اس کا اس جیسا جو تیل ہے اس کا کوئی چشمہ نکل آیا کسی کی زمین میں۔ چشمے کی صورت میں وہ وہاں سے نکل رہا ہے۔ تو اس کے اندر اور زمین کون سی ہے؟ عشری۔ تو اس کے اندر کچھ واجب نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ یہ زمین کی پیداوار میں سے نہیں ہے۔ یہ قیر اور عشر تو کس کے اندر آتا ہے؟ زمین کی پیداوار کے اندر یعنی فصلوں وغیرہ میں یا پھلوں میں آتا ہے، تو اس کے اندر عشر واجب نہیں ہوگا۔ اسی طرح نفط ہے، نِفْطٌ۔ یہ نفط یہ بھی کوئی تیل وغیرہ کی قسم ہے جیسے یہ پیٹرول وغیرہ اس جیسی چیز ہے بھئی۔ تو اگر نفط کا چشمہ پھوٹا کسی کی زمین میں، وہاں سے نفط نکلنے لگا چشمے کی صورت میں تو اور زمین کون سی ہے؟ عشری زمین، تو اس کے اندر کچھ بھی واجب نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ فِي عَيْنِ الْقِيرِ وَالنِّفْطِ فِي أَرْضِ الْعُشْرِ شَيْءٌ“ اور قیر اور نفط کے چشمے میں کچھ بھی نہیں ہے عشری زمین میں، ”لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَنْزَالِ الْأَرْضِ“ اس لیے کیونکہ یہ زمین کی پیداوار میں سے نہیں ہے، ”وَإِنَّمَا هُوَ عَيْنٌ فَوَّارَةٌ كَعَيْنِ الْمَاءِ“ یہ تو ایک پھوٹنے والا چشمہ ہے جیسے کہ پانی کا چشمہ ہوتا ہے۔ فوارہ؟ جوش کے ساتھ ابلنے والا، پھوٹنے والا۔ تو یہ تو ایک پھوٹنے والا اور جوش کے ساتھ نکلنے والا فوارہ ہے جیسے کہ پانی کا فوارہ ہوتا ہے، تو اس کے یہ زمین کی پیداوار نہیں ہے اس سے اس میں عشر نہیں ہوگا۔ ”وَعَلَيْهِ فِي أَرْضِ الْخِرَاجِ خِرَاجٌ“ اور اسی پر اس پر خراجی زمین میں خراج ہوگا، یعنی خراجی زمین کے اندر اگر کیا نکل آیا؟ یہ چشمہ نکل آیا تو چاہے قیر کا ہو چاہے نفط کا ہو، اس میں اس پر خراج لیا جائے گا۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَهَذَا إِذَا كَانَ حَرِيمُهُمَا صَالِحًا لِلزِّرَاعَةِ“ یہ اس وقت ہے کہ جب ان کا حریم جو ہے، حریم جو اس کے ارد گرد کی جگہ ہے۔ اس چشمے، چشمے اور کنویں وغیرہ کے ارد گرد کی جو جگہ ہوتی ہے بھئی وہ اس کا حریم کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ حریم۔ یہ کہتے ہیں اس صورت میں جب چشموں کا حریم جو ان کے ارد گرد کی جگہ ہے ”صَالِحًا لِلزِّرَاعَةِ“ جب وہ زراعت کے قابل ہو یعنی جب اس میں کاشت ہو سکے۔ یہ نہیں کہ یہ چشمہ نکل آیا اب وہاں کچھ کوئی چیز اگا بھی نہیں سکتے اور پھر بھی ان سے کیا لیا جائے؟ خراج لیا جائے، ایسا نہیں۔ کیونکہ خراج کا سبب کیا ہے؟ ارضِ نامی۔ تو اگر کچھ نہیں اگا سکتے پھر تو وہ ارضِ نامی نہیں، اور جب ارضِ نامی نہیں تو پھر اس میں خراج بھی نہیں۔ تو لہٰذا اسی لیے کہا کہ یہ اس وقت ہے جب ان کے ارد گرد کی زمین صَالِحًا لِلزِّرَاعَةِ جب وہ زراعت کے، کاشت کے قابل ہو، ”لِأَنَّ الْخِرَاجَ يَتَعَلَّقُ بِالتَّمَكُّنِ مِنَ الزِّرَاعَةِ“ اس لیے کیونکہ خراج کا تعلق زراعت پر قدرت کے ساتھ ہے، زراعت پر قدرت ہے تو خراج ہے، زراعت پر قدرت نہیں تو خراج بھی نہیں، اور جب وہ زمین میں نفط یا قیر کا چشمہ نکل آیا اور وہ کاشت کے قابل ہی نہیں رہی زمین، تو خراج کا تو تعلق ہی کس سے تھا؟ کہ انسان کاشت پر قادر ہو، تو اب کاشت پر قادر ہی نہ رہا لہٰذا اس کے اندر پھر خراج بھی نہیں ہوگا۔ تو اب اس کے اندر خراج کس طرح ہوگا؟ انہوں نے متن میں کیا کہا؟ ”وَعَلَيْهِ فِي أَرْضِ الْخِرَاجِ خِرَاجٌ“ عین القیر اور عین النفط کے اندر کیا ہوگا؟ خراج ہوگا۔ تو بعض فقہاء پھر اس طرف گئے کہ معنی یہ ہے کہ وہ جو چشمے کی جگہ ہے اس کو ملا کر سارے میں سے خراج وصول کیا جائے گا۔ خراج کا سبب کیا ہے؟ ارضِ نامی ہے نا تو اس کو بھی اسی میں شمار کرتے ہوئے سارے کا کیا کریں گے؟ خراج لیں گے، تو خراج کا سبب ارضِ نامی ہے، اور لازمی بات ہے زمین زیادہ ہوگی تو خراج بھی زیادہ ہوگا، زمین تھوڑی ہوگی تو خراج بھی تھوڑا۔ تو لہٰذا بعض مشائخ گئے کہ اس میں بھی اس چشمے کے اندر بھی خراج ہوگا، اس کا معنی یہ ہے کہ اس چشمے کو بھی ساتھ شمار کریں گے کہ یہ بھی زمین کا حصہ ہے اور پھر سارے میں سے خراج لیا جائے گا۔ جبکہ بعض مشائخ اس طرف گئے کہ نہیں، بلکہ اس چشمے کے اس کی زمین کو نکال دیں گے اور باقی کا اعتبار کریں گے، اس کے اندر اسی طرح خراج لیا جائے گا بھئی، خراج لیا جائے گا۔ اچھا بھئی، عشر کا بیان تو مکمل ہوا۔ ایک مسئلہ یاد رکھیے کہ گھر کے اندر اگر کوئی پھل دار درخت وغیرہ ہوں یا اسی طرح گھر کے اندر کوئی کسی نے سبزیاں وغیرہ یہ یہ چیزیں کاشت کی ہوں، تو یاد رکھیے اس کے اندر عشر نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ گھر کے اندر اگر کوئی پھل دار درخت وغیرہ ہیں یا اسی طرح کیاریاں بنائی ہیں اس میں سبزیاں کاشت کی ہیں تو ان کے اندر عشر نہیں ہے بھئی۔ ”بَابُ مَنْ يَجُوزُ دَفْعُ الصَّدَقَاتِ إِلَيْهِ وَمَنْ لَا يَجُوزُ“ یہ باب ہے اس شخص کے بیان میں کہ جائز ہے اس کو صدقات دینا، ”وَمَنْ لَا يَجُوزُ“ اور اس شخص کے بیان میں کہ جائز نہیں ہے، یعنی جس کو صدقات دینا جائز نہیں۔ تو اس باب میں وہ لوگ بیان ہوں گے جو صدقے اور زکوٰۃ کے مستحق ہیں اور ان کو صدقہ زکوٰۃ دینا جائز ہے، اور وہ لوگ ذکر ہوں گے جن کو صدقات دینا جائز نہیں ہے یعنی زکوٰۃ وغیرہ۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”الْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ} الْآيَةَ“ کہ اصل اس کے اندر اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ} الآیۃ، کہ صدقات تو فقراء کے لیے ہیں الآیۃ۔ اس کو منصوب بھی پڑھ سکتے ہیں، اس کو مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں۔ ”الْآيَةُ“ أي: ”الْآيَةُ مَعْلُومَةٌ“ پوری آیت نہیں لکھی، آیت کا ایک حصہ تھوڑا سا لکھ دیا اور آگے کیا فرما دیا کہ ”الْآيَةُ مَعْلُومَةٌ“ آیت معلوم ہے، آپ ساری آیت پڑھ لیجیے بھئی، آپ کو علم ہے۔ یا اس کو منصوب پڑھیں گے اور یہ ”اقْرَأْ“ فعل کے لیے مفعول ہوگا، أي: ”اقْرَأِ الْآيَةَ“ کہ ہم نے تو کچھ حصہ لکھ دیا، آیت طویل ہے، آپ کیا کیجیے؟ آیت کو پورا آپ کو معلوم ہے آپ اس کو پڑھ لیجیے۔ تو قرآن کے اندر بھئی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ} کہ صدقات جو ہیں وہ فقراء کے لیے ہیں اور مساکین کے لیے ہیں، ”وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا“ اور وہ جو عامل ہیں ان صدقات پر، أي: ”عَامِلِينَ عَلَى تَحْصِيلِهَا“ جو ان صدقات کو حاصل کرنے پر عامل، عاملین وہ جن کو خلیفہ نے مقرر کیا ہے اور وہ لوگوں کے پاس جا کر ان سے ان کے مالوں کی زکوٰۃ وصول کرتے ہیں، وہ ہیں عامل جس کو کیا کہتے ہیں؟ ساعی بھی کہتے ہیں، ساعی۔ تو وہ جو عامل ہیں ان کو دی جائے گی جو زکوٰۃ کی تحصیل پر عامل ہیں، ”وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ“ اور مؤلفۃ القلوب ہیں۔ مؤلفۃ القلوب بھئی، أَلَّفَ يُؤَلِّفُ تالیف کے معنی ہوتے ہیں جوڑنے کے، جوڑنے کے۔ تو مؤلفۃ القلوب وہ جن کے دلوں کو جوڑا گیا ہے یعنی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ۔ وہ جن کے دلوں کو جوڑا گیا ہے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ۔ بھئی یہ مؤلفۃ القلوب کچھ لوگ تھے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زکوٰۃ کے مال میں سے دیا کرتے تھے اور کچھ ان میں کافر تھے تو کچھ مسلمان تھے۔ کافروں کو جو دیتے تھے مال بعض کو اس وجہ سے دیتے تھے تاکہ وہ اسلام کی طرف مائل ہو جائیں اور اسلام لے آئیں، تو ان کو کیا دیا کرتے تھے؟ کچھ مال دیتے تھے۔ اور بعض کافروں کو اس لیے دیتے تھے تاکہ مسلمان ان کے شر سے، ان کی تکلیف سے محفوظ رہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ تھے مؤلفۃ۔ اور کچھ مسلمان تھے، بعض لوگ جو نئے مسلمان ہوئے تھے یا اور جن کے ایمان کمزور تھے، تو ان کو حضور علیہ السلام یہ کچھ مال وغیرہ دیا کرتے زکوٰۃ کے مال میں سے تاکہ ان کے دل مسلمانوں کے ساتھ جڑے رہیں اور تاکہ ایمان جو ہے ان کے دل میں مضبوط ہو جائے، تو یہ کیا تھے؟ مؤلفۃ القلوب۔ تو یہ کفار میں سے بھی کچھ لوگ تھے اور اسی طرح مسلمانوں میں سے بھی تھے جو جن کا ایمان کمزور تھا، نئے مسلمان ہوئے تھے، تو ان کے دلوں کو مسلمانوں اور اسلام کے ساتھ جڑا رکھنے کے لیے اور جوڑنے کے لیے حضور علیہ السلام یہ زکوٰۃ میں سے ان کو دیتے تھے، یہ ہیں مؤلفۃ القلوب بھئی۔ ”وَفِي الرِّقَابِ“ اور گردنوں کے اندر بھئی یعنی گردنوں کے چھڑانے کے اندر۔ یہ زکوٰۃ خرچ کی جائے گی بھئی، زکوٰۃ کے مصارف بیان ہو رہے ہیں کہ زکوٰۃ کس کو دی جائے گی؟ فقراء کو جو فقیر ہیں ان کو دی جائے گی، اور مساکین اور جو مسکین ہیں، اور اسی طرح ”وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا“ اور جو اس زکوٰۃ کو حاصل کرنے پر، اس کے وصول کرنے پر عامل ہیں، اور اسی طرح جو مؤلفۃ القلوب ہیں ان کو دی جائے گی، ”وَفِي الرِّقَابِ“ اور اس کو نیز کس میں خرچ کیا جائے گا صدقات کو؟ گردنوں کے چھڑانے میں یعنی یہ کہ مکاتب وغیرہ جو ہیں ان کا بدلِ کتابت ادا کر کے ان کو چھڑایا جائے گا۔ مکاتب وہ غلام جس کو آقا نے کہہ دیا ہے مثلاً کہ پانچ سال میں پندرہ لاکھ روپے لے آؤ تو تم آزاد ہو۔ اب یہ بیچارہ محنت کر رہا ہے، پیسے اکٹھے کرنے کی کوشش کر رہا ہے اپنی آزادی کے لیے، تو یہ بھی زکوٰۃ کا مستحق ہے کہ اس نے جو ادائیگی کرنی ہے تو زکوٰۃ کے ذریعے اس کی مدد کی جائے تاکہ وہ جلد سے جلد اپنے آپ کو آزاد کروا سکے۔ اسی طرح ”وَالْغَارِمِينَ“، غارمین جو ہیں مقروض بھئی مقروض، جن پر قرضہ ہے۔ جن پر قرضہ ہے تو ان کی بھی زکوٰۃ کے مال کے ساتھ مدد کی جائے گی تاکہ اپنا وہ قرضہ اتار سکیں۔ ”وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ“ اور وہ جو اللہ کے راستے میں ہیں بھئی، جو اللہ کے راستے میں ہیں یعنی مجاہدین بھئی۔ سب کی آگے اس کتاب میں تفصیل آرہی ہے بھئی، بس میں تو وہ آیت کا معنی بیان کر رہا ہوں۔ ”وَابْنِ السَّبِيلِ“ اور یہ زکوٰۃ کس کس کو دی جائے گی؟ مسافر کو بھئی۔ ”فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ“ یہ یہ فریضہ ہے اللہ کی طرف سے، ”وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ“ اور اللہ خوب جاننے والے، خوب حکمت والے ہیں۔ آیت کا معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ دیکھیے اب سارے ایک ایک قسم کو تفصیل سے صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے اور صاحبِ قدوری بھئی۔ تو صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”الْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ} الْآيَةَ“ کہ اصل جو ہے اس کے اندر کہ صدقات کن کو دیے جائیں گے؟ اس کے اندر اصل اللہ تعالیٰ کا قول ہے یہ {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ} الآیۃ، یہ آیت ہے بھئی۔ ”فَهَذِهِ ثَمَانِيَةُ أَصْنَافٍ“ تو یہ آٹھ قسمیں ہیں بھئی، آٹھ قسمیں ہو گئیں بھئی۔ کون کون سی؟ فقراء ہو گئے، مساکین، عاملین، مؤلفۃ القلوب، اور وفي الرقاب، اور اسی طرح غارمین، وفي سبیل اللہ، اور اور ابن السبیل، یہ ہو گئے بھئی آٹھ ہو گئے بھئی۔ تو یہ ”فَهَذِهِ ثَمَانِيَةُ أَصْنَافٍ“ یہ آٹھ قسمیں ہیں۔ ”وَقَدْ سَقَطَ مِنْهَا الْمُؤَلَّفَةُ قُلُوبُهُمْ“ اور تحقیق مؤلفۃ القلوب اس میں سے ساقط ہو گئے ہیں، ”لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَعَزَّ الْإِسْلَامَ“ اس لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو قوت نصیب فرما دی ہے، ”وَأَغْنَى عَنْهُمْ“ اور ان سے اسلام کو بے نیاز کر دیا ہے، ”وَعَلَى ذَلِكَ انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ“ اور اسی پر اجماع منعقد ہے بھئی، اسی پر صحابہ کا اجماع ہوا ہے بھئی، اجماع ہوا ہے۔ بھئی یاد رکھیے، مؤلفۃ القلوب جیسا میں نے بیان کر دیا، یہ کچھ لوگ تھے جن کو حضور علیہ السلام دیتے تھے تاکہ ان کے دل اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جڑے رہیں، کچھ کافر تھے اور کچھ ان میں مسلمان تھے لیکن ایمان کمزور تھا، نئے مسلمان ہوئے تھے۔ اب آگے صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَقَدْ سَقَطَ مِنْهَا“ یہ جو مؤلفۃ القلوب ہیں یہ ساقط ہو چکے ہیں، اس لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو قوت دے دی ہے ”وَأَغْنَى عَنْهُمْ“ اور اسلام کو ان سے، اسلام کو اور مسلمانوں کو ان سے بے نیاز کر دیا ہے، اب اسلام قوی ہو گیا، اب ان کو دینے کی ضرورت نہیں، اب ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ”وَعَلَى ذَلِكَ انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ“ اور اسی پر اجماع ہوا ہے یعنی صحابہ کا اسی پر اجماع ہوا ہے، تو لہٰذا مؤلفۃ القلوب ساقط ہیں۔ ان کو اب نہیں دیں گے، تو باقی سات قسمیں رہ گئیں۔ کتنی قسمیں رہ گئیں؟ آیت میں آٹھ قسمیں ذکر تھیں نا جن کو جن کو زکوٰۃ دی جائے گی، اب ان میں سے سات رہ گئیں، یہ ساقط ہوئے۔ تو اس پر صحابہ کا اجماع ہوا ہے۔ بھئی واقعہ اس کا یوں ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اپنی زندگی میں یہ مؤلفۃ القلوب کو مال وغیرہ دیا کرتے تھے، تو جب حضور علیہ السلام کا انتقال ہو گیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا، تو دو سردار تھے بھئی دو سردار۔ ایک کا نام تھا عیینہ، عین، یا، پھر یا، پھر نون اور ہا، عُيَيْنَةُ۔ اور ایک کا نام تھا اقرع، الف، قاف دو نقطوں والا، را اور عین، أَقْرَعُ۔ تو یہ دو سردار تھے عیینہ اور اقرع، یہ ان کو یہ بھی مؤلفۃ القلوب میں سے تھے، اور ان کو حضور علیہ السلام مال وغیرہ دیتے تھے، تو یہ پھر آئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس اور کوئی جاگیر وغیرہ انہوں نے طلب کی بھئی۔ کوئی جاگیر وغیرہ کہ وہ علاقہ ہمیں دے دیں اور کہ حضور علیہ السلام ہمیں دیتے تھے، آپ بھی ہمیں یہ جاگیر دے دیجیے۔ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو لکھ کر دے دیا باقاعدہ بھئی، وہ جاگیر ان کے حوالے کر دی، لکھ کر دے دیا۔ اب انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے تو ان کی تحریر اور ان کی طرف سے رسید لے لی، اب آپس میں مشورہ کیا کہ بھئی عمر کے پاس بھی جانا چاہیے، وہ مسلمانوں میں بڑے معتبر آدمی ہیں اور ان کی بات سب مانتے ہیں، تو ان سے بھی تصدیق کروا لیتے ہیں تاکہ بات اور پکی ہو جائے۔ تو وہ آئے اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ملے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ کہنے لگے کہ ہم اس طرح حضور علیہ السلام ہمیں دیتے تھے اور اب ہم آئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ جو ہیں انہوں نے ہمیں دے دیا ہے، لکھ کر دے دیا ہے، جاگیر دے دی ہے، اب ہم چاہتے ہیں آپ بھی اس پر دستخط کر دیں یعنی اس کی تائید کر دیں، توثیق کر دیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عجیب شان ہوتی تھی، فرمانے لگے: اچھا، ابوبکر نے لکھ کر دے دیا ہے؟ کہنے لگے: ہاں، انہوں نے لکھ کر دے دیا۔ عمر فرمانے لگے: دکھاؤ ذرا مجھے بھئی۔ تو انہوں نے خط دیا کہ یہ دیکھیے یہ انہوں نے لکھ کر دے دیا ہے، تو وہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے وہ خط ان سے لیا اور پہلے اس پر تھوکا، لعاب ڈالا اور پھر اس کو آپس میں مل دیا، ساری تحریر خراب کر دی بھئی۔ گیلا کر کے اس کو کیا کیا لعاب کے ذریعے؟ ساری تحریر خراب کر دی اور پھر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، اور کہنے لگے کہ اب اسلام کو اللہ نے قوت نصیب فرما دی ہے، اب ہمیں تم جیسے لوگوں کی حاجت نہیں ہے۔ اگر اسلام پر ہو تو ٹھیک ہے نہیں تو ہمارے اور تمہارے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی، اب ہمیں تمہیں مال دینے کی ضرورت نہیں ہے، اب اسلام کو اللہ نے قوت بخشی ہے اور تم لوگوں سے اسلام کو اللہ نے بے نیاز کر دیا ہے۔ اور چنانچہ وہ بڑے پریشان ہوئے، یہ کیا ہو گیا ہمارا بنا بنایا کھیل بگڑ گیا سارا۔ چنانچہ واپس آئے وہاں سے بڑے غصے کے اندر اور حضرت ابوبکر صدیق کے پاس پہنچے اور ان کو یہ بات سنائی اور کہنے لگے کہ آپ نے ہمیں لکھ کر دیا تھا انہوں نے پھاڑ دیا یہ کاغذ، آپ خلیفہ ہیں یا وہ خلیفہ ہیں؟ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے عجیب جواب دیا، فرمایا: ”هُوَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ کہ وہ ہوں گے خلیفہ انشاء اللہ، تو ان کی آگے خلافت کی طرف بھی اشارہ فرما دیا بھئی۔ تو چنانچہ ان کو پھر لکھ کر نہیں دیا، اور یہ واقعہ صحابہ کے سامنے پیش آیا تھا اور کسی نے بھی اس کا رد نہیں کیا، معلوم ہوا کہ مؤلفۃ القلوب کے ساقط ہونے پر تمام صحابہ کا اتفاق ہو گیا۔ مؤلفۃ القلوب تھے اور ان کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا فرمایا ان سے؟ کہ اب ہمیں تمہیں دینے کی ضرورت نہیں، اب اسلام کو اللہ نے قوت نصیب فرما دی ہے، اور کس صحابہ میں سے کسی نے اس کا رد نہیں فرمایا، معلوم ہوا صحابہ کا اس پر اتفاق ہو گیا، تو یہ ہے اجماعِ سکوتی کہ باقی صحابہ خاموش رہے، خاموش رہنے کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے بھی اس کی تائید کر دی، تائید کر دی۔ تو سب کے نزدیک معتبر نہیں، البتہ احناف کے نزدیک یہ اجماعِ سکوتی بھی معتبر ہے، تو صحابہ کا اجماع ہوا لہٰذا یہ مؤلفۃ القلوب ساقط ہیں، ان کو اب نہیں دیا جائے گا۔ ان کو اب نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ اچھا، اب یاد رکھنا ایک قیمتی بات بھئی، قیمتی بات۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مؤلفۃ القلوب کا ذکر قرآن میں موجود ہے، قرآن کے اندر موجود ہے، تو اجماع کے ذریعے اس کو کیسے ساقط کیا جا سکتا ہے؟ اجماع بے شک قطعی دلیلوں میں سے ہے۔ اجماع کس کو کہتے ہیں؟ کہ ایک زمانے کے تمام مجتہد کسی مسئلے پر اکٹھے ہو جائیں تو یہ ہے اجماع، تو اجماع بے شک قطعی دلیل ہے اور اجماع کا انکار کرنے والا کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے، لیکن بہرحال اجماع جتنی بھی قوی دلیل ہو اس کے ذریعے قرآن کو کہ قرآن کے کسی حکم کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا، قرآن کے کسی حکم کو ساقط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو پھر اس کا کیا معنی کہ صحابہ کا اس پر اجماع ہوا ہے لہٰذا یہ کیا ہو گئے؟ ساقط ہو گئے بھئی۔ اجماع کی وجہ سے تو قرآن کا حکم ساقط نہیں ہو سکتا بھئی، اعتراض سمجھ میں آرہا ہے؟ تو اجماع جتنی بھی بڑی اور قوی دلیل مرضی ہو لیکن قرآن کا حکم اس کے ذریعے ساقط ہو جائے ایک یقینی اور قطعی حکم جو اللہ کی طرف سے ثابت ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ثابت ہے، اس کو اجماع کے ذریعے ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ تو جواب اس کا یاد رکھنا، جواب یہ کہ بھئی پورے طور پر مؤلفۃ القلوب ساقط نہیں ہیں بلکہ ساقط ہونے کا معنی یہ ہے کہ مؤلفۃ القلوب کو دینے کی جو علت تھی، وہ کیا علت تھی؟ کہ اسلام اور مسلمان کمزور تھے، ان کو دینے کی علت کیا تھی؟ اسلام اور مسلمان کمزور تھے، وہ علت ختم ہو گئی، اور حکم تو کب تک ہوتا ہے؟ جب تک علت ہے حکم ہے، علت نہیں تو حکم بھی نہیں۔ تو اللہ کا حکم تو اپنی طرف سے ابھی بھی باقی ہے، البتہ علت ختم ہو گئی لہٰذا حکم بھی کیا ہوا؟ ختم ہو گیا۔ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں سمجھ میں آرہی؟ اللہ کا حکم تو اسی طرح ہے، مؤلفۃ القلوب کیا ہیں؟ ان کو مال دیا جائے گا لیکن جب علت پائی جائے، کون سی علت؟ جب اسلام ضعیف ہو، اور وہ ضعفِ اسلام والی علت ختم ہوئی تو حکم بھی ختم ہوا، مؤلفۃ القلوب بھی کیا ہو گئے؟ ساقط۔ اور پھر اگر کسی زمانے میں یہ علت دوبارہ پائی گئی یعنی اسلام پھر کیا ہوا؟ کمزور ہوا، تو ان کو دینا جائز ہوگا کیونکہ حکم کا مدار کس پر ہے؟ علت پر ہے، تو جب علت ہوگی حکم ہے، علت نہیں تو حکم بھی نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے ”وَقَدْ سَقَطَ مِنْهَا الْمُؤَلَّفَةُ قُلُوبُهُمْ“ اور تحقیق اس میں سے مؤلفۃ القلوب جو ہیں وہ ساقط ہو گئے ہیں، ”لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَعَزَّ الْإِسْلَامَ“ اس لیے کیونکہ اللہ نے اسلام کو معزز فرما دیا، اسلام کو قوت عطا فرما دی، ”وَأَغْنَى عَنْهُمْ“ اور ان سے بے نیاز کر دیا، ان مؤلفۃ القلوب سے بے نیاز کر دیا اسلام کو، ”وَعَلَى ذَلِكَ انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ“ اور اسی پر اجماع منعقد ہوا۔ ”وَالْفَقِيرُ مَنْ لَهُ أَدْنَى شَيْءٍ وَالْمِسْكِينُ مَنْ لَا شَيْءَ لَهُ“ اب جو بھئی آٹھ قسمیں بیان ہوئی تھیں، آٹھ قسمیں، ساروں کی تفصیل بیان کریں گے صاحبِ قدوری۔ سب سے پہلے فقراء کا ذکر آیا تھا تو فقیر کسے کہتے ہیں وہ بتلا رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالْفَقِيرُ مَنْ لَهُ أَدْنَى شَيْءٍ“ فقیر وہ ہے جس کے پاس تھوڑی سی چیز ہو یعنی نصاب سے کم مال ہو اس کے پاس، وہ کیا ہے؟ فقیر، تھوڑا سا مال تو ہے لیکن نصاب سے کم کم ہے۔ ”وَالْمِسْكِينُ مَنْ لَا شَيْءَ لَهُ“ اور مسکین وہ ہے جس کے پاس کوئی چیز نہ ہو، مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ معلوم ہوا زیادہ بری حالت اور زیادہ محتاج کون ہے ان دونوں میں سے؟ مسکین ہے کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ”وَهَذَا مَروِيٌّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہ جو تعریف کی گئی فقیر اور مسکین کی، یہ روایت کی گئی ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، وہ فرماتے ہیں کہ فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ ہو اور مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ ”وَقَدْ قِيلَ عَلَى الْعَكْسِ“ اور تحقیق اس کے عکس بھی کہا گیا ہے کہ امام صاحب نے فرمایا ہے فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو اور مسکین وہ ہے جس کے پاس تھوڑا سا تھوڑا مال ہو لیکن نصاب سے کم ہو۔ ”وَلِكُلٍّ وَجْهٌ“ اور ہر ایک کی وجہ ہے، ہر ایک کی وجہ، یہ جو فقیر کی تعریف کرتے ہیں کہ جس کے پاس تھوڑا سا مال ہو اور مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو، تو یہ قول ویسے نہیں ہے بلکہ ہر ایک کی دلیل بھی ہے بھئی، دلیل کے مطابق ہے۔ ”ثُمَّ هُمَا صِنْفَانِ أَوْ صِنْفٌ وَاحِدٌ سَنَذْكُرُهُ فِي كِتَابِ الْوَصَايَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ پھر یہ دونوں یہ فقیر اور مسکین یہ ایک ہی قسم ہیں یا یہ دونوں الگ الگ قسمیں ہیں؟ ان کو ایک قسم شمار کریں گے یا ان کو الگ الگ قسم شمار کریں گے؟ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ اس کو ہم کتاب الوصایا کے اندر انشاء اللہ ذکر کریں گے، کتاب الوصایا میں۔ تو وہاں وہ یہ ذکر فرماتے ہیں کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں ایک ہی قسم ہیں، فقیر اور مسکین یہ ایک ہی قسم ہیں۔ اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں الگ الگ قسمیں ہیں، دونوں الگ الگ قسمیں ہیں۔ ثمرۂ اختلاف ظاہر ہوگا بطور مثال کے اس مسئلے کے اندر کہ ایک شخص نے وصیت کی کہ میرے مال میں سے مرنے کے بعد زید، فقراء اور مساکین کو کیا کرنا؟ میرے مال میں سے ایک لاکھ روپیہ دے دینا۔ اب امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ فقراء اور مساکین کیا ہیں؟ ایک ہی نوع ہیں، جب ایک ہی نوع ہیں ان کے مقابلے میں زید خاص ذکر ہے معلوم ہوا ایک لاکھ ان دونوں میں تقسیم ہوگا تو آدھا آدھا تقسیم ہوگا۔ آدھا کس کو دے دیں گے؟ زید کو، اور آدھا کس کو دے دیں گے؟ فقراء اور مساکین کو کیونکہ وہ یہ دونوں ایک ہی نوع ہیں۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں الگ الگ انواع ہیں لہٰذا وصیت والے نے تین چیزیں ذکر کر دی ہیں: زید کو بھی دینا ہے، فقراء کو بھی دینا ہے اور مساکین، تو لہٰذا اب تین حصے کیے جائیں گے، ایک حصہ زید کا، ایک فقراء کا اور ایک مساکین کا۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے ”ثُمَّ هُمَا صِنْفَانِ أَوْ صِنْفٌ وَاحِدٌ“ اور پھر یہ دونوں دو قسمیں ہیں یا ایک ہی قسم ہے، ”سَنَذْكُرُهُ فِي كِتَابِ الْوَصَايَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ عنقریب ہم اس کو ذکر کریں گے کتاب الوصایا کے اندر انشاء اللہ تعالیٰ۔ ”وَالْعَامِلُ“ اور عامل بھئی، ”وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا“ آیا تھا آیت میں، کہتے ہیں ”وَالْعَامِلُ يَدْفَعُ الْإِمَامُ إِلَيْهِ“ اور عامل جو ہے اس کو امام دے گا ”إِنْ عَمِلَ“ اگر اس نے عمل کیا ہو، اگر اس نے عمل کیا ہو تو اس کو بھی اس صدقات میں سے امام دے گا ”بِقَدْرِ عَمَلِهِ“ اس کے عمل کے بقدر یعنی جتنا عمل کیا جتنا کام کیا اس کے بقدر دے گا، ”فَيُعْطِيهِ مَا يَسَعُهُ وَأَعْوَانَهُ“ پس امام اس کو دے گا ما وہ مقدار يَسَعُهُ جو اس کے لیے کافی ہو جائے ”وَأَعْوَانَهُ“ اور اس کے مددگاروں کے لیے۔ یعنی اس میں کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں آٹھواں حصہ دے گا کیونکہ کیونکہ آیت کے اندر آٹھ قسمیں ذکر ہوئی ہیں اور ہر ایک کا حصہ ہے صدقات کے اندر، تو لہٰذا عاملین ایک قسم ہے تو ان کے حصے میں کتنا آئے گا؟ آٹھواں حصہ آئے گا، آٹھواں حصہ صدقات کا۔ جبکہ ہمارے نزدیک آٹھواں حصہ نہیں بلکہ اتنا مال ان کو دے گا امام جو ان کے لیے کافی ہو جائے جس سے ان کا خرچہ وغیرہ اور اس کے ساتھیوں کا خرچہ پورا ہو جائے، کیونکہ عامل اکیلا تو نہیں ہوگا نا، اس کے ساتھ اس کے مددگار وغیرہ ہوں گے، مال لینا ہے، وصول کرنا ہے اور مختلف جگہوں سے لینا ہے، تو وہ جو عامل اور اس کے جو مددگار ہیں ان کو صدقات میں سے اتنا مال دیں گے جس سے ان کا خرچہ وغیرہ پورا ہو جائے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے ”فَيُعْطِيهِ مَا يَسَعُهُ وَأَعْوَانَهُ“ اور دے گا امام ان کو اتنی مقدار جو اس کے لیے اور اس کے ساتھیوں کے لیے کافی ہو جائے بھئی، ”غَيْرَ مُقَدَّرٍ بِالثُّمُنِ“ ثمن کے ساتھ اس کا حساب نہیں لگایا جائے گا، ”غَيْرَ مُقَدَّرٍ بِالثُّمُنِ“ ثمن کے ساتھ یہ اس کا حساب نہیں ہوگا کہ آٹھواں حصہ دیا جائے جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بلکہ اتنا دے گا جو ان کے لیے کافی ہو جائے، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ“ بر خلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے کہ وہ فرماتے ہیں نہیں آٹھواں حصہ ہی دیا جائے گا۔ ”لِأَنَّ اسْتِحْقَاقَهُ بِطَرِيقِ الْكِفَايَةِ“ یہ ہماری دلیل ہے، اس لیے کیونکہ ان کا مستحق ہونا کفایت کے طریقے پر ہے، کس طریقے پر ہے؟ کفایت کے طریقے پر ہے۔ بھئی یاد رکھیے یہ جو زکوٰۃ کے عامل ہیں اس کو وصول کرنے والے ہیں ان کو جو زکوٰۃ میں سے مال دیا جائے گا وہ بایں اعتبار نہیں دیا جائے گا کہ یہ محتاج ہیں، ضرورت مند ہیں، بلکہ ان کو جو دیا جائے گا وہ ان کے خرچے کے اعتبار سے کہ جو ان کے لیے کافی ہو جائے، ان کی کفایت کے اعتبار سے دیا جائے گا، کس اعتبار سے؟ کفایت کے جو ان کے لیے کافی ہو جائے جس سے ان کا خرچہ اور ضرورتیں وغیرہ پوری ہو جاتی ہیں، تو یہ ان کو کفایت کے طریقے پر دیا جائے گا، زکوٰۃ کے طریقے پر نہیں دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ زکوٰۃ تو کس طریقے پر دی جاتی ہے کہ وہ شخص محتاج ہے، کیا ہے؟ تو ان کو محتاج ہونے کے اعتبار سے نہیں زکوٰۃ کے اعتبار سے یہ مال نہیں ملے گا بلکہ کس اعتبار سے ملے گا؟ کفایت کے اعتبار سے بھئی کہ ان کے لیے کافی ہو جائے۔ لہٰذا عامل اگرچہ مالدار ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس کو امام دے گا۔ حالانکہ مالدار کو تو زکوٰۃ نہیں دی جاتی لیکن عامل مالدار ہو پھر بھی کیا کرے گا؟ امام اس کو زکوٰۃ دے گا، کیوں؟ کیونکہ اس کو یہ زکوٰۃ زکوٰۃ کے طور پر نہیں دی جاتی بلکہ کس طور پر دی جاتی ہے؟ کفایت کے طور پر کہ جو اس سے اس کا خرچہ وغیرہ ضرورتیں اس کی اور اس کے ساتھیوں کی پوری ہو جائیں بھئی، یہ زکوٰۃ وصول کر کے لا رہے ہیں تو جو ان کا خرچہ وغیرہ ہو وہ پورا ہو جائے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ اسْتِحْقَاقَهُ بِطَرِيقِ الْكِفَايَةِ“ اس لیے کیونکہ اس کا مستحق ہونا وہ کفایت کے طریقے پر ہے، ”وَلِهَذَا يَأْخُذُ وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا“ اور اسی وجہ سے وہ لے گا اگرچہ وہ مالدار ہو، غنی عربی زبان میں مالدار کو کہتے ہیں، اگرچہ وہ مالدار ہو۔ ”إِلَّا أَنَّ فِيهِ شُبْهَةَ الصَّدَقَةِ“ یہاں سے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ آپ نے ہمیں بتایا اے صاحبِ ہدایہ کہ یہ جو عاملین کو زکوٰۃ کے مال میں سے دیا جاتا ہے یہ ان کو زکوٰۃ کے طور پر نہیں دیا جاتا بلکہ کس طور پر دیا جاتا ہے؟ کفایت کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اگر یہ کفایت کے طور پر دیا جاتا ہے تو پھر اگر کوئی عامل ہاشمی ہو یعنی حضور علیہ السلام کے خاندان میں سے ہو، اور آپ جانتے ہیں جو ہاشمی ہو، سید ہو، حضور علیہ السلام کے خاندان میں سے ہو اس کو زکوٰۃ نہیں دی جاتی، اس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ تو اگر تو اگر یہ زکوٰۃ جو عاملین کو دی جاتی ہے کفایت کے طریقے پر دی جاتی ہے تو اگر کوئی عامل ہاشمی ہو تو اس کو بھی دینا جائز ہونا چاہیے، لیکن آپ کیا فرماتے ہیں؟ فقہاء کیا بتلاتے ہیں؟ کہ ان کو نہیں دیں گے بھئی، ان کو نہیں دیں گے۔ حالانکہ جب کفایت کے طریقے پر دی جا رہی ہے زکوٰۃ کے طریقے پر تو دے ہی نہیں رہے، زکوٰۃ نہیں دے سکتے ان کو اور یہاں تو دے ہی کس طریقے پر رہے ہیں؟ کفایت کے طریقے پر تو لہٰذا ان کو بھی دینا چاہیے، کہتے ہیں بھئی ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے کہ دیا تو کفایت کے طریقے پر ہی جاتا ہے لیکن چونکہ اس کے اندر زکوٰۃ کا شبہ موجود ہے کیونکہ ادائیگی کس میں سے کی جا رہی ہے؟ زکوٰۃ کے مال میں سے ادائیگی کی جا رہی ہے تو اس میں زکوٰۃ کا شبہ آگیا، اور زکوٰۃ تو آپ جانتے ہیں یہ مال کا میل کچیل ہے، تو حضور علیہ السلام کی قرابت کو اس میل کچیل سے بچانے کے لیے وہ ہاشمی عامل جو ہے اس کو یہ نہیں لینا چاہیے کیونکہ اس کے اندر کس چیز کا شبہ ہے؟ زکوٰۃ کا شبہ ہے، اگرچہ دیا کفایت کے طریقے پر جا رہا ہے لیکن اس میں زکوٰۃ کا شبہ ہے۔ جبکہ مالدار مالدار چاہے وہ معزز کتنا ہی معزز کیوں نہ ہو لیکن معزز ہونے کے اندر وہ ہاشمی کے برابر نہیں ہے، لہٰذا عامل مالدار ہو تو بھی وہ لے کیونکہ اس کے حق میں شبۂ صدقہ کا اعتبار نہیں کیا گیا، زکوٰۃ کے شبہے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اس کے حق میں، البتہ ہاشمی وہ نہایت ہی معزز ہے اس کے حق میں شبۂ زکوٰۃ کا بھی اعتبار کیا جائے گا اور اس کو شبۂ زکوٰۃ سے بچنا چاہیے لہٰذا وہ نہ لے بھئی، مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ یہ معنی ہے ”إِلَّا أَنَّ فِيهِ شُبْهَةَ الصَّدَقَةِ“ مگر یہ کہ اس کے اندر زکوٰۃ کا شبہ ہے، ”فَلَا يَأْخُذُهَا الْعَامِلُ الْهَاشِمِيُّ“ لہٰذا اس کو ہاشمی عامل نہ لے، ”تَنْزِيهًا لِقَرَابَةِ الرَّسُولِ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَنْ شُبْهَةِ الْوَسَخِ“ بچانے کے لیے حضور علیہ السلام کی قرابت کو میل کچیل کے شبہے سے، ”وَالْغَنِيُّ لَا يُوَازِيهِ فِي اسْتِحْقَاقِ الْكَرَامَةِ“ اور مالدار جو ہے وہ برابر نہیں ہے اس ہاشمی کے فِي اسْتِحْقَاقِ الْكَرَامَةِ کرامت کے استحقاق میں یعنی اکرام کے اکرام کا مستحق ہونے میں یہ ہاشمی کے برابر نہیں، ”فَلَمْ تُعْتَبَرِ الشُّبْهَةُ فِي حَقِّهِ“ لہٰذا اس کے حق میں شبہے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، البتہ ہاشمی کے حق میں شبۂ زکوٰۃ کا بھی اعتبار کیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 111 of 169