قَالَ: ”وَمَا سُقِيَ بِغَرْبٍ أَوْ دَالِيَةٍ أَوْ سَانِيَةٍ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ عَلَى الْقَوْلَيْنِ لِأَنَّ الْمُؤْنَةَ تَكْثُرُ فِيهِ وَتَقِلُّ فِيمَا يُسْقَى بِالسَّمَاءِ أَوْ سَيْحًا، وَإِنْ سُقِيَ سَيْحًا وَبِدَالِيَةٍ فَالْمُعْتَبَرُ أَكْثَرُ السَّنَةِ كَمَا هُوَ فِي السَّائِمَةِ“.
گزشتہ سبق میں عُشر کی تفصیل شروع ہوئی تھی اور آپ نے پڑھا کہ امام صاحب کے نزدیک زمین سے جو بھی پیداوار حاصل ہو چاہے تھوڑی ہو یا زیادہ ہو، اس کے اندر عُشر واجب ہے۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک دو شرطیں ہیں اس میں، ایک تو یہ کہ وہ پیداوار ایسی ہو جو سال بھر تک آسانی سے محفوظ رہتی ہو اور دوسری شرط یہ کہ اس میں نصاب کی بھی شرط ہے اور وہ نصاب پانچ وسق ہے پانچ وسق، اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے بھئی۔
اب آگے فرماتے ہیں: ”قَالَ: وَمَا سُقِيَ بِغَرْبٍ أَوْ دَالِيَةٍ أَوْ سَانِيَةٍ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ عَلَى الْقَوْلَيْنِ“. صاحب قدوری فرماتے ہیں: اور وہ زمین جس کو سیراب کیا جائے بِغَرْبٍ، غرب کہتے ہیں بڑے ڈول کو بھئی، بڑا ڈول۔ أَوْ دَالِيَةٍ، دالیہ کہتے ہیں رہٹ کو بھئی رہٹ۔ رہٹ جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ کنویں کے اوپر وہ ڈول باندھے جاتے ہیں گول پہیے کی شکل میں اور پھر ان کو بیل وغیرہ چلا کر گھمایا جاتا ہے اور اس طرح کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے۔ سَانِيَةٍ، سانیہ وہ اونٹ یا اونٹنی جس کے ذریعے اسی طرح پانی نکالا جاتا ہے کنویں سے زمین کو سیراب کیا جاتا ہے۔
بھئی گزشتہ سبق میں یہ بات ذکر ہوئی تھی کہ زمین جو ہے اس کے اندر عُشر دینا پڑے گا یعنی دسواں حصہ۔ لیکن یاد رکھیے یہ وہ زمین ذکر ہوئی جس کو دریا کے پانی سے یعنی بہتے پانی سے سیراب کیا جائے یا بارش کے پانی سے وہ سیراب ہوتی ہے۔ لیکن اگر زمین ایسی ہے کہ اس پر مشقت ہوتی ہے اس کو سیراب کرنے میں اور اس پر خرچہ ہوتا ہے تو یاد رکھیے اس صورت میں اس پیداوار کے اندر عُشر نہیں واجب ہوگا بلکہ نصفِ عُشر واجب ہوگا بھئی، نصفِ عُشر، یعنی بیسواں حصہ۔ کتنا حصہ؟ بیسواں حصہ۔ تو خرچہ اور مشقت جب بڑھ گئی تو شریعت نے نرمی کر دی اور عُشر کے بجائے کیا واجب کیا؟ نصفِ عُشر واجب کیا۔
تو کہتے ہیں: ”وَمَا سُقِيَ بِغَرْبٍ أَوْ دَالِيَةٍ أَوْ سَانِيَةٍ“ اور وہ زمین جس کو سیراب کیا جائے ڈول کے ساتھ یا رہٹ کے ساتھ یا اونٹ کے ساتھ ”فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ“ تو اس کے اندر نصفِ عُشر واجب ہے ”عَلَى الْقَوْلَيْنِ“ دونوں قولوں پر، یعنی امام صاحب کے نزدیک بھی اور صاحبین کے نزدیک بھی نصفِ عُشر آئے گا۔ البتہ وہ شرطیں صاحبین کے نزدیک وہی ہیں بھئی کہ وہ چیز باقی رہنے والی ہو اور اس کی مقدار کتنی ہو؟ پانچ وسق ہو بھئی۔
”لِأَنَّ الْمُؤْنَةَ تَكْثُرُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ مشقت جو ہے اس کے اندر زیادہ ہے۔ جب ڈول کے ذریعے یا رہٹ وغیرہ کے ذریعے سیراب کریں گے تو مشقت زیادہ، خرچہ زیادہ، تو لہٰذا اس لیے نصفِ عُشر آئے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْمُؤْنَةَ تَكْثُرُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ مشقت اس کے اندر زیادہ ہے ”وَتَقِلُّ فِيمَا يُسْقَى بِالسَّمَاءِ أَوْ سَيْحًا“ اور تھوڑی ہے مشقت اس کے اندر جس کو بارش سے سیراب کیا جاتا ہے یا جاری پانی سے بھئی۔
”وَإِنْ سُقِيَ سَيْحًا وَبِدَالِيَةٍ“ اب بھئی ایک زمین ہے اس کو بہتے پانی سے یا دریا کے پانی سے بھی سیراب کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اس کو ڈول کے ساتھ بھی سیراب کیا جاتا ہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ اس میں پھر اکثر کا اعتبار ہے۔ جیسے سائمہ جانوروں کے اندر اکثرِ سال کا اعتبار تھا، اگر سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارے اور کچھ حصہ اس کو گھر پر چارہ لا کر کھلایا جائے تو اس کو کیا شمار کرتے تھے؟ سائمہ شمار کرتے تھے۔ تو یہاں بھی اسی طرح اگر سال کا اکثر حصہ اس کو بہتے پانی وغیرہ سے سیراب کیا جاتا ہے تو پھر وہ اس کا حکم آ جائے گا، اور اگر سال کا اکثر حصہ اس کو ڈول وغیرہ کے ساتھ سیراب کیا جاتا ہے تو پھر یہ حکم آ جائے گا یعنی پھر نصفِ عُشر ہو گا بھئی۔
یہ معنی ہے: ”وَإِنْ سُقِيَ سَيْحًا وَبِدَالِيَةٍ“ اور اگر سیراب کیا جاتا ہو بہتے پانی کے ساتھ اور رہٹ کے ساتھ یعنی دونوں کے ساتھ ”فَالْمُعْتَبَرُ أَكْثَرُ السَّنَةِ“ تو معتبر جو ہے وہ سال کا اکثر حصہ ہے یعنی اکثر حصے میں جس طرح سیراب کیا جاتا ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا ”كَمَا هُوَ فِي السَّائِمَةِ“ جیسے کس کے اندر تھا؟ سائمہ جانور میں تھا۔
”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِيمَا لَا يُوسَقُ“ بھئی صاحبین نے ایک شرط لگائی تھی بھئی کہ وہ پیداوار کس قسم کی ہونی، وہ پیداوار ایک تو باقی رہنے والی ہو اور دوسری شرط کیا لگائی تھی؟ اس کی کتنی مقدار ہو؟ پانچ وسق ہونی چاہیے اس کی مقدار۔ اب ان پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ بھئی بعض چیزوں تو ایسی ہیں کہ ان کو وسق سے نہیں ان کی مقدار ماپی جاتی بھئی، وسق کے ذریعے ان کی مقدار نہیں ماپی جاتی، اس میں کیا کریں گے؟ مثلاً جیسے بھئی پیمانے ہیں، تو سستی چیز ہوتی ہے اس کے لیے پیمانے بڑے بڑے ہوتے ہیں اور مہنگی چیز ہو اس کے لیے پیمانے چھوٹے ہوتے ہیں۔ جیسے چینی وغیرہ خریدتے ہیں آپ کلو کے حساب سے خریدتے ہیں، من کے حساب سے خریدتے ہیں، لیکن اگر سونا خریدنے لگے اب وہ کلو اور من کے حساب سے تو نہیں خریدا جاتا، وہ تو چھوٹے چھوٹے پیمانے ہیں کیونکہ مہنگی چیز ہے۔ تو اسی طرح یہ جو پیداواریں ہیں یہ بھی مختلف قسم کی، بعض سستی ہیں ان کے لیے پیمانے بڑے، بعض مہنگی ہیں تو ان کے پیمانے چھوٹے ہیں۔ تو وہ پیداوار جن کے اندر جن کو وسق کے ساتھ ماپا ہی نہیں جاتا، چھوٹے پیمانوں سے ماپا جاتا ہے، ان میں کیا کریں گے؟ ان میں کیا کریں گے؟
تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں قیمت کا اعتبار کریں گے۔ کس چیز کا؟ اس لیے کیونکہ شرعی پیمانہ تو وسق ہے جیسا کہ ذکر ہو گیا حدیث کے اندر، لیکن اب جب شرعی پیمانہ ممکن نہ رہا تو پھر قیمت کا اعتبار کریں گے۔ یعنی وہ جو پیداوار ہے اس کی قیمت وسق کے ذریعے جس چیز کو ماپا جاتا ہے جو سستی ترین چیز ہے جس کو کس سے ماپا جاتا ہے؟ وسق کے ساتھ، اس کی قیمت کو اس کی قیمت پہنچ جائے تو اس میں عُشر واجب ہو گا۔
مثلاً جیسے صاحبِ ہدایہ ذکر کریں گے کہ ہمارے زمانے میں مکئی بڑی سستی ہے بھئی۔ جو چیزیں وسق کے ساتھ ماپی جاتی ہیں ان میں سب سے سستی چیز کیا ہے؟ مکئی ہے، جسے جوار بھی کہتے ہیں، تو جوار ہے تو وہ سب سے سستی چیز ہے۔ تو فرض کریں مثلاً جوار پانچ وسق ہوں تو اس کی قیمت دس ہزار بنتی ہے، کتنے کی بنتی ہے؟ دس ہزار کی۔ تو کہتے ہیں جو چیز وسق کے ساتھ نہیں ماپی جاتی اس میں پھر اس قیمت کا اعتبار کر لیں جو سستی ترین چیز پانچ وسق کی جتنی قیمت بنتی تھی اور وہ دس ہزار بنتی تھی تو مثلاً زعفران ہے، زعفران یہ آپ جانتے ہوں گے بھئی یہ گھاس ہے زرد یا سرخ سے رنگ کی اور اس کو دوائیوں وغیرہ میں بھی اور کھانے وغیرہ میں بھی خوشبو کے لیے استعمال کرتے ہیں اور دوائیوں میں بھی استعمال کرتے ہیں، تو زعفران وہ تو قیمتی چیز ہے اس کو تو وسق کے ساتھ نہیں ماپا جاتا، تو پھر اس سستی ترین چیز کے ساتھ اس کا اندازہ لگا لیں گے۔ تو مثلاً زعفران چاہے تھوڑا سا ہے لیکن اس کی قیمت اگر پانچ وسق جوار تک پہنچتی ہے یعنی دس ہزار تک اس کی قیمت پہنچتی ہے تو اس کے اندر کیا واجب ہو گا؟ عُشر واجب ہو گا ورنہ عُشر واجب نہیں۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ سب سے اعلیٰ پیمانے کا اعتبار کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں شرعی پیمانہ تو وسق ہے، پانچ وسق ہو، لیکن جس چیز میں وسق ممکن نہیں اس کے پیمانے چھوٹے ہیں تو پھر اس چیز کا جو سب سے بڑا پیمانہ ہے اس کا اعتبار کریں گے۔ اس کا سب سے بڑا پیمانہ استعمال ہونے والا، وہ والے پانچ پیمانے ہو جائیں تو اس کے اندر عُشر ہو گا، اگر وہ پانچ پیمانے سب سے بڑے والے اس کے نہیں بنتے تو اس میں عُشر بھی نہیں۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کس چیز کا اعتبار کرتے ہیں پھر؟ قیمت کا اعتبار کرتے ہیں کہ جو وسق کے ذریعے ماپی جانے والی سستی ترین چیز کے پانچ وسق تک اس چیز کی قیمت پہنچ جائے تو اس میں عُشر ہو گا۔ اور امام محمد رحمہ اللہ؟ اس چیز کے سب سے بڑے پیمانے، تو وہ فرماتے ہیں زعفران کے اندر قیمت نہیں دیکھیں گے بلکہ کیا دیکھیں گے؟ جو زعفران کا سب سے بڑا پیمانہ ہے وہ پانچ پیمانے ہو جاتے ہیں تو اس کے اندر عُشر ہو گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِيمَا لَا يُوسَقُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان چیزوں میں جن کو جن کا وسق نہیں کیا جاتا ”كَالزَّعْفَرَانِ“ جیسے کہ زعفران ہے ”وَالْقُطْنِ“ اور جیسے کہ کپاس ہے، روئی بھئی، قطن روئی اور کپاس کو کہتے ہیں، ”وَالْقُطْنِ“ اور جیسے کپاس ہے ”يَجِبُ فِيهِ الْعُشْرُ“ تو ان میں عُشر واجب ہو گا ”إِذَا بَلَغَتْ قِيمَتُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ مِنْ أَدْنَى مَا يُوسَقُ“ جب ان کی قیمت پانچ وسق کو پہنچ جائے من أدنى ما يوسق، وہ سب سے ادنیٰ چیز جو سب سے کم تر چیز جس میں وسق جاری ہوتا ہے جس کا وسق کیا جاتا ہے، ”كَالذُّرَةِ“ یہ یاد رکھیے یہ ذال مشدد ہے، را نہیں مشدد، ذرة ذرة ہے بھئی لفظ، ”كَالذُّرَةِ“ جیسے کہ جوار ہے یعنی مکئی ہے ”فِي زَمَانِنَا“ ہمارے زمانے میں ”لِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُ التَّقْدِيرُ الشَّرْعِيُّ فِيهِ فَاعْتُبِرَتْ قِيمَتُهُ“ اس لیے کیونکہ ان کے اندر شرعی تقدیر تو ممکن نہیں ہے، شرعی پیمانے کے ساتھ تو ان کا اندازہ کرنا ممکن نہیں کیونکہ ان میں وسق چلتا ہی نہیں ہے، ”فَاعْتُبِرَتْ قِيمَتُهُ“ تو اس کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا ”كَمَا فِي عُرُوضِ التِّجَارَةِ“ جیسے کس کے اندر ہے؟ سامانِ تجارت کے اندر ہے بھئی۔ سامانِ تجارت ہے بھئی اب زکوٰۃ تو کس کے اندر واجب ہے؟ دو سو درہم یا بیس دینار کے اندر ہے، تو اب دو سو درہم اب سامان سامانِ تجارت ہے وہ تو درہموں کی صورت میں نہیں ہے، تو وہاں یہ پیمانہ چل ہی نہیں سکتا تو پھر وہاں کس چیز کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ قیمت کا، تو یہاں بھی اسی طرح قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔
”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ: يَجِبُ الْعُشْرُ إِذَا بَلَغَ الْخَارِجُ خَمْسَةَ أَعْدَادٍ مِنْ أَعْلَى مَا يُقَدَّرُ بِهِ نَوْعُهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عُشر واجب ہو گا جب پیداوار پہنچ جائے پانچ کے عدد کو، پانچ عددوں کو، من أعلى ما يقدر به، اس سب سے اعلیٰ پیمانے کو جس کے ساتھ اس کی نوع کا اس قسم کا حساب کیا جاتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ کہ جب پیداوار پہنچ جائے پانچ عددوں کو اس سب سے بڑے پیمانے کو جس کے ساتھ اس قسم کا حساب لگایا جاتا ہے، ”فَاعْتَبَرَ فِي الْقُطْنِ خَمْسَةَ أَحْمَالٍ“ پس امام محمد رحمہ اللہ اعتبار کرتے ہیں کپاس میں پانچ حِمل کا، حِمل حا کے کسرہ کے ساتھ، پانچ حملوں کا اعتبار کرتے ہیں، ”كُلُّ حِمْلٍ ثَلَاثُمِائَةِ مَنٍّ“ اور ہر حِمل جو ہے وہ تین سو من کا ہے۔ کتنے کا ہے؟ تین سو من بھئی، اور من میں نے بتلایا تھا کس کے برابر ہے؟ دو رطل کے برابر ہے یعنی ایک مد کے برابر بھئی، بعض بعض علماء نے یہ ذکر کیا ہے بھئی۔
تو کپاس کا چونکہ سب سے بڑا پیمانہ حِمل ہے لہٰذا وہی پانچ معتبر ہوں گے۔ ”وَفِي الزَّعْفَرَانِ خَمْسَةَ أَمْنَاءٍ“ اور زعفران کے اندر وہ اعتبار کرتے ہیں پانچ منوں کا ”لِأَنَّ التَّقْدِيرَ بِالْوَسْقِ كَانَ لِاعْتِبَارِ أَنَّهُ أَعْلَى مَا يُقَدَّرُ بِهِ“ کیونکہ وسق کے ساتھ جو اندازہ کرنا تھا كان لاعتبار أنه أعلى ما يقدر به، اس اعتبار سے تھا کہ وہ سب سے بڑا پیمانہ تھا جس کے ساتھ ان چیزوں کا حساب۔ تو وسق جو شریعت نے اس لیے متعین کیا کیونکہ وہ سب سے بڑا پیمانہ تھا جس کے ساتھ ان چیزوں کا حساب لگایا جاتا تھا اور ان کے اندر تو وسق کا ہو نہیں سکتا تو ان کے اندر جو ان کا بڑا پیمانہ ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ التَّقْدِيرَ بِالْوَسْقِ“ اس لیے کیونکہ وسق کے ساتھ اندازہ لگانا ”كَانَ لِاعْتِبَارِ أَنَّهُ أَعْلَى مَا يُقَدَّرُ بِهِ“ وہ اس وجہ سے تھا کہ وہ سب سے بڑا پیمانہ تھا جس کے ساتھ ان کا حساب لگایا جاتا تھا۔
”وَفِي الْعَسَلِ الْعُشْرُ إِذَا أُخِذَ مِنْ أَرْضِ الْعُشْرِ“ اور شہد کے اندر بھی عُشر ہے، شہد کے اندر بھی عُشر ہے ”إِذَا أُخِذَ مِنْ أَرْضِ الْعُشْرِ“ جب اس کو کہاں سے حاصل کیا جائے؟ عشری زمین سے حاصل کیا جائے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: لَا يَجِبُ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہد میں عُشر واجب نہیں ”لِأَنَّهُ مُتَوَلِّدٌ مِنَ الْحَيَوَانِ“ اس لیے کیونکہ یہ حیوان یعنی ایک شہد کی مکھی سے پیدا ہوتا ہے ”فَأَشْبَهَ الْإِبْرَيْسَمَ“ تو یہ کس کے مشابہ ہو گیا؟ ریشم کے مشابہ ہو گیا بھئی، ابریسم ریشم بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شہد جو ہے یہ شہد کی مکھی سے پیدا ہوتا ہے، وہ اس کو بناتی ہے، تو یہ ریشم کے مشابہ ہو گیا جیسے ریشم کو ریشم جو ہے وہ ریشم کا کیڑا بناتا ہے، تو جیسے وہ ریشم ایک جانور سے حاصل ہوتا ہے ایک کیڑے سے، اسی طرح شہد بھی ایک شہد کی مکھی سے حاصل ہوتا ہے تو یہ اس کے مشابہ ہوا اور ریشم کے اندر تو بالاتفاق عُشر نہیں، تو یہ شہد بھی اسی کی طرح ہے یہ بھی ایک جانور سے ایک مکھی سے حاصل کیا جاتا ہے تو اس میں بھی عُشر واجب نہیں ہو گا۔
”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: فِي الْعَسَلِ الْعُشْرُ“ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”فِي الْعَسَلِ الْعُشْرُ“ شہد میں عُشر ہے، یہ حدیث میں آیا ہے۔ ”وَلِأَنَّ النَّحْلَ“ اور دوسری دلیل بھی اور امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب بھی دے رہے ہیں، ”وَلِأَنَّ النَّحْلَ يَتَنَاوَلُ مِنَ الْأَنْوَارِ وَالثِّمَارِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ شہد کی مکھی وہ کھاتی ہے من الأنوار والثمار، انوار جمع ہے نَوْرٌ کی، نَوْرٌ نون کے فتحہ کے ساتھ اور یہ پھول کو کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ شہد کی مکھی جو ہے وہ کھاتی ہے پھولوں میں سے والثمار اور پھلوں میں سے ”وَفِيهِمَا الْعُشْرُ“ اور پھولوں اور پھلوں میں تو کیا واجب ہوتا ہے؟ عُشر واجب ہوتا ہے ”فَكَذَا فِيمَا يَتَوَلَّدُ مِنْهَا“ تو اسی طرح اس چیز کے اندر بھی عُشر واجب ہو گا جو ان دونوں ان سے پیدا ہوتا ہے یعنی شہد۔ یہ شہد کس سے بناتی ہے شہد کی مکھی؟ پھولوں اور پھلوں سے، اور پھولوں اور پھلوں میں کیا واجب؟ عُشر، تو ان پھولوں اور پھلوں سے جو چیز پیدا ہوتی ہے اس میں بھی کیا واجب ہو گا؟ عُشر، تو شہد ان سے پیدا ہوتا ہے اس میں عُشر واجب ہو گا۔
”بِخِلَافِ دُودِ الْقَزِّ“ بخلاف ریشم کے کیڑے کے ”لِأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ الْأَوْرَاقَ“ اس لیے کیونکہ وہ پتے کھاتا ہے ”وَلَا عُشْرَ فِيهِ“ اور پتوں کے اندر تو عُشر نہیں، لہٰذا جب پتوں کے اندر عُشر نہیں تو پتوں سے جو چیز بناتا ہے وہ کیڑا اس کے اندر بھی عُشر واجب نہیں، اس لیے ریشم کے اندر عُشر واجب نہیں ہو گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”ثُمَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ يَجِبُ فِيهِ الْعُشْرُ قَلَّ أَوْ كَثُرَ“ پھر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شہد کے اندر عُشر واجب ہو گا چاہے شہد تھوڑا ہو یا زیادہ ”لِأَنَّهُ لَا يَعْتَبِرُ النِّصَابَ“ اس لیے کیونکہ امام صاحب نصاب کا اعتبار نہیں کرتے جیسے پہلے ذکر ہوا، ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّهُ يَعْتَبِرُ فِيهِ قِيمَةَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس کے اندر پانچ وسق کی قیمت کا اعتبار کرتے ہیں جیسا کہ ان کی اصل ہے ان کا ضابطہ ہے کہ جس چیز کے اندر وسق والا پیمانہ جاری نہیں ہوتا تو پھر وہاں کیا کیا جائے گا؟ جو وسق کے ذریعے سستی ترین چیز ماپی جاتی ہے اس کے پانچ وسق کی مقدار کو جب اس چیز کی قیمت پہنچ جائے تو اس میں کیا واجب ہو گا؟ عُشر بھئی، تو اسی طرح شہد کی جب اس کی قیمت پانچ وسق کو پہنچ جائے۔
اور دوسری روایت: ”وَعَنْهُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے دوسری روایت یہ ہے ”أَنَّهُ لَا شَيْءَ فِيهِ حَتَّى يَبْلُغَ عَشَرَ قِرَبٍ“ کہ شہد کے اندر کچھ بھی نہیں ہے یہاں تک کہ وہ دس مشکیزوں کو اس کی مقدار پہنچ جائے بھئی۔ مشکیزہ بھئی وہ مشک جس کے اندر پانی وغیرہ ہوتا ہے اسی طرح شہد، گھی وغیرہ ان کے الگ مشکیزے ہوتے تھے خاص مقدار کے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پانی کا مشکیزہ تو بڑا ہوتا ہے شہد کا چھوٹا ہوتا تھا اسی طرح شہد اور گھی وغیرہ کا بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ شہد میں کچھ بھی واجب نہیں یہاں تک کہ وہ دس مشکیزوں کو اس کی مقدار پہنچ جائے اور ہر مشکیزہ جو ہے وہ کہتے ہیں پچاس رطل کا ہو گا، بعضوں نے رطل لکھا ہے بعضوں نے من لکھا ہے کہ پچاس من کا ہو گا۔ دلیل ان کی: ”لِحَدِيثِ بَنِي شَبَابَةَ“ بنی شبابہ کی حدیث کی وجہ سے ”أَنَّهُمْ كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذٰلِكَ“ کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ادا کرتے تھے۔ تو یہ وہ اپنے وہ شہد وغیرہ ان کے علاقے میں ہوں گی مکھیاں بہت زیادہ بھئی تو وہ ہر دس مشکیزوں میں سے ایک مشکیزہ حضور علیہ السلام کو ادا کرتے تھے۔ تو یہ دو روایتیں ہو گئیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے۔
”وَعَنْهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے یہ روایت ہے یہ تیسری روایت آ گئی ان کی کہ وعنہ اور ان سے روایت ہے ”خَمْسَةَ أَمْنَاءٍ“ کتنے من ہو؟ پانچ من ہو بھئی من، تو اس کے اندر عُشر ہو گا، پانچ من سے کم ہو تو اس میں عُشر نہیں۔
”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ: خَمْسَةَ أَفْرَاقٍ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ شہد کتنا ہو کس مقدار کو پہنچے؟ پانچ فرق کی مقدار کو، ”كُلُّ فَرْقٍ سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ رِطْلًا“ اور ہر فرق جو ہے وہ چھتیس رطل کا ہے۔ تو یہ فرق پیمانہ ہے یہ چھتیس رطل کے برابر ہے اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں پانچ فرق ہوں تو اتنا شہد ہو تو اس کے اندر عُشر ہو گا، ”لِأَنَّهُ أَقْصَى مَا يُقَدَّرُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ انتہائی درجے کا وہ پیمانہ ہے جس کے ساتھ اس کا حساب لگایا جاتا ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کا ضابطہ کیا تھا؟ جو سب سے بڑا پیمانہ ہو اس کا اعتبار کیا جاتا ہے اور شہد کے اندر سب سے بڑا پیمانہ کیا ہے؟ فرق کا ہے، تو کہتے ہیں یہی پانچ معتبر ہیں۔
”وَكَذَا فِي قَصَبِ السُّكَّرِ“ اور اسی طرح گنے کے اندر ہے۔ اسی طرح گنے کے اندر ہے یعنی گنے کے اندر بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ اسی طرح پانچ وسق کی قیمت کا اعتبار کرتے ہیں کیونکہ گنے کے گنے کو جو ہے اس کو اس میں وسق کیونکہ گنے کے اندر وسق جاری نہیں ہوتا۔ جب ایسی چیز ہو جس میں وسق جاری نہ ہو تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ اس کی قیمت لگا لو اگر اس کی قیمت وسق کے ذریعے جو سب سے سستی چیز ماپی جاتی ہے اس کے پانچ وسق تک اس کی قیمت پہنچ جائے تو اس کے اندر کیا واجب ہو گا؟ عُشر واجب ہو گا ورنہ عُشر واجب نہیں۔ اور جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ اس کے سب سے بڑے پیمانے کا اعتبار کرو تو گنے کا جو سب سے بڑا پیمانہ ہے وہ پانچ اگر ہو جاتے ہیں تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں عُشر واجب ہو گا، اگر اس سے کم ہے تو اس میں عُشر واجب نہیں۔ یہ معنی ہے: ”وَكَذَا فِي قَصَبِ السُّكَّرِ“ اور اسی طرح گنے کے اندر بھی ہے یعنی اسی طرح اختلاف ہے امام امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس میں پانچ وسق کی قیمت کا اعتبار کرتے ہیں اور امام محمد رحمہ اللہ اس کے پانچ بڑے پیمانوں کا اعتبار کرتے ہیں۔
”وَمَا يُوجَدُ فِي الْجِبَالِ مِنَ الْعَسَلِ وَالثِّمَارِ فَفِيهِ الْعُشْرُ“ اور وہ جو پایا جائے پہاڑوں کے اندر شہد اور پھلوں میں سے تو اس کے اندر بھی عُشر۔ پہاڑوں میں بھئی پھل ملتے ہیں یا کیا ملتا ہے؟ شہد، تو اس میں بھی عُشر واجب ہے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ أَنَّهُ لَا يَجِبُ لِانْعِدَامِ السَّبَبِ وَهِيَ الْأَرْضُ النَّامِيَةُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کے اندر کچھ بھی واجب نہیں، طرفین تو کیا فرماتے ہیں؟ اس میں عُشر ہے، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہاڑوں میں جو شہد اور پھل ملیں اس میں عُشر نہیں ”لِانْعِدَامِ السَّبَبِ“ سبب کے معدوم ہونے کی وجہ سے کیونکہ سبب نہیں پایا جا رہا، بھئی سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”وَهِيَ الْأَرْضُ النَّامِيَةُ“ ارضِ نامیہ ہے، نما والی زمین ہے اور یہ تو پہاڑوں میں ملے ہیں ارضِ نامیہ کے اندر یعنی خراجی یا عشری زمین کے اندر خراجی یا عشری زمین میں نہیں ملے بھئی۔ ”وَوَجْهُ الظَّاهِرِ: أَنَّ الْمَقْصُودَ حَاصِلٌ وَهُوَ الْخَارِجُ“ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے کہ مقصود حاصل ہے اور وہ پیداوار ہے۔ طرفین کیا فرماتے تھے کہ پہاڑوں کے اندر بھی جو شہد اور پھل ملیں ان کے اندر بھی کیا واجب ہے؟ عُشر واجب ہے، تو اس ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے کہ بے شک ارضِ نامیہ نہیں ہے یہ پہاڑوں سے ملے ہیں ارضِ نامیہ نہیں ہے، لیکن پھر بھی مقصود تو حاصل ہے اور مقصود کیا ہے؟ پیداوار تو حاصل ہے بھئی۔
”قَالَ: وَكُلُّ شَيْءٍ أَخْرَجَتْهُ الْأَرْضُ مِمَّا فِيهِ الْعُشْرُ لَا يُحْتَسَبُ فِيهِ أَجْرُ الْعُمَّالِ وَنَفَقَةُ الْبَقَرِ“ ہر وہ ایسی چیز جس کو زمین اگائے ان چیزوں میں سے جن کے اندر عُشر ہوتا ہے ”لَا يُحْتَسَبُ فِيهِ أَجْرُ الْعُمَّالِ“ عمال جمع ہے عامل کی، عامل کام کرنے والا یعنی مزدور وغیرہ، تو اس میں حساب نہیں کیا جائے گا کام کرنے والوں کی اجرت کا ”وَنَفَقَةُ الْبَقَرِ“ اور اسی طرح بیلوں کے خرچے کا۔ بیلوں کے خرچے کا حساب نہیں کیا جائے گا یعنی اس کو اس کی اس کی کٹوتی الگ نہیں کی جائے گی۔ مثلاً بھئی یہ نہیں کیا جائے گا کہ ایک آدمی نے فصل کاشت کی اور وہ فصل مثلاً سو من فصل ہوئی اور وہ کہتا ہے بھئی میں نے مزدور لگائے تھے ان پر بھی میرا خرچہ ہوا، بیلوں وغیرہ پر بھی میرا خرچہ ہوا، تو کوئی بیس من کے لگ بھگ تو میرا خرچہ ہو گیا، تو بیس من کے برابر میرا جتنا بیس من کی قیمت ہے اتنا میرا اس پر کیا ہوا ہے؟ خرچہ ہوا ہے، لہٰذا بیس من کو نکال دیں کہ بیس من کے اندر تو عُشر نہیں کیونکہ یہ تو میرے خرچے کے ہیں، باقی اسی من کے اندر سے کیا دے دیتا ہے وہ؟ عُشر دے دیتا ہے، تو کہتے ہیں نہیں بھئی نہیں، جو خرچہ ہوا ہو وہ اس کے اندر عُشر نہ مانا جائے یہ کرنا صحیح نہیں بلکہ سارے کے اندر عُشر آئے گا۔ اور اسی حساب سے اگر بارش وغیرہ سے زمین سیراب کی ہے تو اس صورت میں دسواں حصہ، اور اگر رہٹ وغیرہ یا ڈول کے ذریعے سیراب کی ہے تو بیسواں حصہ دینا پڑے گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
یہ معنی ہے: ”لَا يُحْتَسَبُ فِيهِ أَجْرُ الْعُمَّالِ وَنَفَقَةُ الْبَقَرِ“ تو اس میں حساب نہیں کیا جائے گا مزدوروں کی اجرت کا اور بیل کے خرچے کا، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَكَمَ بِتَفَاوُتِ الْوَاجِبِ لِتَفَاوُتِ الْمُؤْنَةِ فَلَا مَعْنَى لِرَفْعِهَا“ جی اس مقام کو اچھی طرح سمجھ لیں یہ مشکل مقام ہے بھئی، اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حَكَمَ“ وہ فیصلہ فرمایا ہے ”بِتَفَاوُتِ الْوَاجِبِ“ واجب کے مختلف ہونے کا ”لِتَفَاوُتِ الْمُؤْنَةِ“ مشقت کے اختلاف کی وجہ سے۔ مشقت کے مختلف ہونے کی وجہ سے حضور علیہ السلام نے مختلف واجب کا فیصلہ فرمایا ہے۔ بھئی دیکھیے، بارش کے پانی سے زمین سیراب ہوتی ہے یا دریا کے پانی سے تو مشقت کم، تو حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا اس میں کتنا واجب ہے؟ اس میں دسواں حصہ عُشر ہے۔ اور جس کے اندر مشقت ہوئی ہے مثلاً رہٹ وغیرہ یا ڈول وغیرہ کے ذریعے اس کو سیراب کیا ہے تو اس میں حضور علیہ السلام نے کتنا واجب قرار دیا؟ اس میں بیسواں حصہ واجب قرار دیا۔ تو حضور علیہ السلام نے مشقت کے مختلف ہونے کی وجہ سے واجب بھی مختلف کیے ہیں۔ بعض میں عُشر واجب کیا اور بعض میں نصفِ عُشر واجب فرمایا ہے۔
”فَلَا مَعْنَى لِرَفْعِهَا“ تو کوئی، معنی یہاں علت اور سبب کے معنی میں ہے، ”فَلَا مَعْنَى لِرَفْعِهَا“ لہٰذا اس خرچے کو دور کرنے کی کوئی علت نہیں ہے۔ ہا ضمیر مؤنت کو راجع ہے۔ اس خرچے کو دور کرنے اور اس کو اٹھانے کی کوئی علت نہیں ہے۔ دلیل کس چیز کی چل رہی ہے؟ کہ فصل پر جو خرچہ ہوا ہے مزدوروں کا یا بیلوں کا یا اسی طرح اور بھی جو بھی خرچہ ہوا ہے ان خرچوں کا حساب کر کے اس کو نکالا نہیں جائے گا۔ یہ نہیں کہ اس کے بقدر میں عُشر نہ ہو اور باقی میں عُشر ہو، نہیں، بلکہ سارے میں عُشر دینا پڑے گا، چاہے عُشر آئے چاہے نصفِ عُشر آئے۔ دلیل اس اس کی ذکر ہو رہی ہے، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے خرچے کے مختلف ہونے کے اعتبار سے واجب بھی مختلف قرار دیا ہے، بعضوں میں عُشر ہے تو بعضوں میں نصفِ عُشر ہے، ”فَلَا مَعْنَى لِرَفْعِهَا“ رفع کا معنی اٹھا دینا، دور کر دینا، یعنی جیسے میں نے صورت ذکر کر دی کہ وہ آدمی مثلاً کیا کہتا ہے؟ میرا خرچہ کتنا ہوا ہے؟ بیس من کے برابر میرا خرچہ ہوا ہے تو یہ بیس من الگ کرو اس میں سے عُشر نہیں کیونکہ یہ تو کس کے ہیں؟ خرچے کے ہیں، باقی اسی من میں کیا کرو؟ اس میں سے عُشر لے لو، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں نہیں، ”فَلَا مَعْنَى لِرَفْعِهَا“ اس خرچے کو نکالنے کی اور اٹھانے کی کوئی علت نہیں۔ اٹھانے کی کوئی علت نہیں ہے کیونکہ حضور علیہ السلام نے مختلف واجب قرار دیے ہیں خرچوں کے مختلف ہونے کے اعتبار سے۔
تو اگر اس خرچے کو ہم نکال لیتے ہیں جو فصل والے کا ہوا ہے فصل والے کا ہوا ہے، پھر تو اس صورت میں ایک ہی واجب ہو گا سب پر، حالانکہ ایک ہی واجب ہے سب پر یا حضور علیہ السلام نے مختلف واجب قرار دیے ہیں؟ بعضوں میں عُشر ہے تو بعضوں میں، لیکن اگر یہ خرچہ نکال لیا جائے پھر تو ایک ہی واجب سب پر لازم آئے گا۔ مثلاً دیکھیے صورت بنا لیں، صورت یہ کہ ایک شخص کے اگر بارش سے زمین سیراب ہوتی ہے، اس میں بیس من بیس من غلہ ہو تو کتنا آئے گا اس پر؟ عُشر آئے گا دسواں حصہ، اور بیس من کا دسواں حصہ کتنا ہے؟ دو من، تو اس پر دو من آئیں گے بھئی عُشر کے۔ اور اگر ایک شخص ہے وہ کیا کرتا ہے اس کی زمین وہ اس کو ڈول کے ساتھ سیراب کرتا ہے اور اس میں سے اس کو چالیس من پیداوار حاصل ہو جاتی ہے، کتنی؟ چالیس من پیداوار حاصل ہوئی، اور اس کا فرض کریں خرچہ ہوا ہے بیس من کے برابر اس پر خرچہ ہوا ہے مشقت ہوئی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب چالیس میں سے بیس کو نکال دیں کہ یہ تو کس کے ہیں؟ خرچے کے، تو باقی کتنے رہ گئے؟ بیس رہ گئے، تو جب خرچے کو نکال لیا تو اب اس کے اندر عُشر آنا چاہیے یا نصفِ عُشر؟ اب تو عُشر پورا آنا چاہیے کیونکہ خرچے کو تو اس نے خود نکالا، تو اس کے اندر بھی کتنا آ جائے گا؟ عُشر اور وہ کتنا بنتا ہے؟ دو من۔ تو اگر اس طرح خرچے کو نکالا جائے پھر تو سب کے اندر ایک ہی واجب ماننا پڑے گا، حالانکہ حضور علیہ السلام نے تو ایک واجب نہیں فرمایا بلکہ خرچے کے اعتبار سے مختلف واجب فرمائے ہیں، لہٰذا کوئی علت نہیں ہے، کوئی سبب نہیں ہے کہ اس خرچے کو اس میں سے نکال دیا جائے کیونکہ اس صورت میں
قَالَ: ”وَمَا سُقِيَ بِغَرْبٍ أَوْ دَالِيَةٍ أَوْ سَانِيَةٍ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ عَلَى الْقَوْلَيْنِ، لِأَنَّ الْمُؤْنَةَ تَكْثُرُ فِيهِ وَتَقِلُّ فِيمَا يُسْقَى بِالسَّمَاءِ أَوْ سَيْحًا، وَإِنْ سُقِيَ سَيْحًا وَبِدَالِيَةٍ فَالْمُعْتَبَرُ أَكْثَرُ السَّنَةِ كَمَا هُوَ فِي السَّائِمَةِ“.
گزشتہ سبق میں عشر کی تفصیل شروع ہوئی تھی، اور آپ نے پڑھا کہ امام صاحب کے نزدیک زمین سے جو بھی پیداوار حاصل ہو، چاہے تھوڑی ہو یا زیادہ ہو، اس کے اندر عشر واجب ہے۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک دو شرطیں ہیں اس میں: ایک تو یہ کہ وہ پیداوار ایسی ہو جو سال بھر تک آسانی سے محفوظ رہتی ہو، اور دوسری شرط یہ کہ اس میں نصاب کی بھی شرط ہے اور وہ نصاب پانچ وسق ہے پانچ وسق، اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے بھئی۔
اب آگے فرماتے ہیں: ”قَالَ وَمَا سُقِيَ بِغَرْبٍ أَوْ دَالِيَةٍ أَوْ سَانِيَةٍ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ عَلَى الْقَوْلَيْنِ“. صاحب قدوری فرماتے ہیں: اور وہ زمین جس کو سیراب کیا جائے بِغَرْبٍ، غرب کہتے ہیں بڑے ڈول کو بھئی، بڑا ڈول۔ أَوْ دَالِيَةٍ، دالیہ کہتے ہیں رہٹ کو بھئی، رہٹ۔ رہٹ جانتے ہیں یا نہیں بھئی؟ کنویں کے اوپر وہ ڈول باندھے جاتے ہیں گول پہیے کی شکل میں اور پھر ان کو بیل وغیرہ چلا کر گھمایا جاتا ہے اور اس طرح کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے۔ سَانِيَةٍ، سانیہ وہ اونٹ یا اونٹنی جس کے ذریعے اسی طرح پانی نکالا جاتا ہے کنویں سے، زمین کو سیراب کیا جاتا ہے۔
بھئی گزشتہ سبق میں یہ بات ذکر ہوئی تھی کہ زمین جو ہے اس کے اندر عشر دینا پڑے گا یعنی دسواں حصہ۔ لیکن یاد رکھیے یہ وہ زمین ذکر ہوئی جس کو دریا کے پانی سے یعنی بہتے پانی سے سیراب کیا جائے یا بارش کے پانی سے وہ سیراب ہوتی ہے۔ لیکن اگر زمین ایسی ہے کہ اس پر مشقت ہوتی ہے اس کو سیراب کرنے میں اور اس پر خرچہ ہوتا ہے، تو یاد رکھیے اس صورت میں اس پیداوار کے اندر عشر نہیں واجب ہوگا بلکہ نصف عشر واجب ہوگا بھئی نصف عشر، یعنی بیسواں حصہ۔ کتنا حصہ؟ بیسواں حصہ۔ تو خرچہ اور مشقت جب بڑھ گئی تو شریعت نے نرمی کر دی اور عشر کے بجائے کیا واجب کیا؟ نصف عشر واجب کیا۔
تو کہتے ہیں ”وَمَا سُقِيَ بِغَرْبٍ أَوْ دَالِيَةٍ أَوْ سَانِيَةٍ“ اور وہ زمین جس کو سیراب کیا جائے ڈول کے ساتھ ”أَوْ دَالِيَةٍ“ یا رہٹ کے ساتھ ”أَوْ سَانِيَةٍ“ یا اونٹ کے ساتھ ”فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ“ تو اس کے اندر نصف عشر واجب ہے ”عَلَى الْقَوْلَيْنِ“ دونوں قولوں پر، یعنی امام صاحب کے نزدیک بھی اور صاحبین کے نزدیک بھی نصف عشر آئے گا۔ البتہ وہ شرطیں صاحبین کے نزدیک وہی ہیں بھئی کہ وہ چیز باقی رہنے والی ہو اور اس کی مقدار کتنی ہو؟ پانچ وسق ہو بھئی۔
”لِأَنَّ الْمُؤْنَةَ تَكْثُرُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ مشقت جو ہے اس کے اندر زیادہ ہے۔ جب ڈول کے ذریعے یا رہٹ وغیرہ کے ذریعے سیراب کریں گے تو مشقت زیادہ خرچہ زیادہ، تو لہٰذا اس لیے نصف عشر آئے گا۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْمُؤْنَةَ تَكْثُرُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ مشقت اس کے اندر زیادہ ہے ”وَتَقِلُّ فِيمَا يُسْقَى بِالسَّمَاءِ أَوْ سَيْحًا“ اور تھوڑی ہے مشقت اس کے اندر جس کو بارش سے سیراب کیا جاتا ہے ”أَوْ سَيْحًا“ یا جاری پانی سے بھئی۔
”وَإِنْ سُقِيَ سَيْحًا وَبِدَالِيَةٍ“ اب بھئی ایک زمین ہے اس کو بہتے پانی سے یا دریا کے پانی سے بھی سیراب کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اس کو ڈول کے ساتھ بھی سیراب کیا جاتا ہے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ اس میں پھر اکثر کا اعتبار ہے۔ جیسے سائمہ جانوروں کے اندر اکثر سال کا اعتبار تھا، اگر سال کا اکثر حصہ باہر چر کر گزارے اور کچھ حصہ اس کو گھر پر چارہ لا کر کھلایا جائے تو اس کو کیا شمار کرتے تھے؟ سائمہ شمار کرتے تھے۔ تو یہاں بھی اسی طرح اگر سال کا اکثر حصہ اس کو بہتے پانی وغیرہ سے سیراب کیا جاتا ہے تو پھر وہ اس کا حکم آ جائے گا، اور اگر سال کا اکثر حصہ اس کو ڈول وغیرہ کے ساتھ سیراب کیا جاتا ہے تو پھر یہ حکم آ جائے گا یعنی پھر نصف عشر ہو گا بھئی۔
یہ معنی ہے ”وَإِنْ سُقِيَ سَيْحًا وَبِدَالِيَةٍ“ اور اگر سیراب کیا جاتا ہو بہتے پانی کے ساتھ ”وَبِدَالِيَةٍ“ اور رہٹ کے ساتھ یعنی دونوں کے ساتھ ”فَالْمُعْتَبَرُ أَكْثَرُ السَّنَةِ“ تو معتبر جو ہے وہ سال کا اکثر حصہ ہے، یعنی اکثر حصے میں جس طرح سیراب کیا جاتا ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا ”كَمَا هُوَ فِي السَّائِمَةِ“ جیسے کس کے اندر تھا؟ سائمہ جانور میں تھا۔
”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِيمَا لَا يُوسَقُ“ بھئی صاحبین نے ایک شرط لگائی تھی بھئی کہ وہ پیداوار کس قسم کی ہونی وہ پیداوار ایک تو باقی رہنے والی ہو اور دوسری شرط کیا لگائی تھی؟ اس کی کتنی مقدار ہو؟ پانچ وسق ہونی چاہیے اس کی مقدار۔ اب ان پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ بھئی بعض چیزیں تو ایسی ہیں کہ ان کو وسق سے نہیں ان کی مقدار ماپی جاتی بھئی، وسق کے ذریعے ان کی مقدار نہیں ماپی جاتی، اس میں کیا کریں گے؟ مثلاً جیسے بھئی پیمانے ہیں، تو سستی چیز ہوتی ہے اس کے لیے پیمانے بڑے بڑے ہوتے ہیں، اور مہنگی چیز ہو اس کے لیے پیمانے چھوٹے ہوتے ہیں۔ جیسے چینی وغیرہ خریدتے ہیں آپ کلو کے حساب سے خریدتے ہیں، من کے حساب سے خریدتے ہیں، لیکن اگر سونا خریدنے لگے اب وہ کلو اور من کے حساب سے تو نہیں خریدا جاتا، وہ تو چھوٹے چھوٹے پیمانے ہیں کیونکہ مہنگی چیز ہے۔ تو اسی طرح یہ جو پیداواریں ہیں یہ بھی مختلف قسم کی، بعض سستی ہیں ان کے لیے پیمانے بڑے، بعض مہنگی ہیں تو ان کے پیمانے چھوٹے ہیں۔ تو وہ پیداوار جن کے اندر جن کو وسق کے ساتھ ماپا ہی نہیں جاتا، چھوٹے پیمانوں سے ماپا جاتا ہے، ان میں کیا کریں گے؟ ان میں کیا کریں گے؟
تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں قیمت کا اعتبار کریں گے، کس چیز کا؟ قیمت کا۔ اس لیے کیونکہ شرعی پیمانہ تو وسق ہے جیسا کہ ذکر ہو گیا حدیث کے اندر، لیکن اب جب شرعی پیمانہ ممکن نہ رہا تو پھر قیمت کا اعتبار کریں گے۔ یعنی وہ جو پیداوار ہے اس کی قیمت وسق کے ذریعے جس چیز کو ماپا جاتا ہے، جو سستی ترین چیز ہے جس کو کس سے ماپا جاتا ہے؟ وسق کے ساتھ، اس کی قیمت کو اس کی قیمت پہنچ جائے تو اس میں عشر واجب ہو گا۔ مثلاً جیسے صاحبِ ہدایہ ذکر کریں گے کہ ہمارے زمانے میں مکئی بڑی سستی ہے بھئی۔ جو چیزیں وسق کے ساتھ ماپی جاتی ہیں ان میں سب سے سستی چیز کیا ہے؟ مکئی ہے، جوار جسے جوار بھی کہتے ہیں، تو جوار ہے تو وہ سب سے سستی چیز ہے۔ تو فرض کریں مثلاً جوار پانچ وسق ہوں تو اس کی قیمت دس ہزار بنتی ہے، کتنے کی بنتی ہے؟ دس ہزار کی۔ تو کہتے ہیں جو چیز وسق کے ساتھ نہیں ماپی جاتی اس میں پھر اس قیمت کا اعتبار کر لیں جو سستی ترین چیز پانچ وسق کی جتنی قیمت بنتی تھی، اور وہ دس ہزار بنتی تھی، تو مثلاً زعفران ہے، زعفران یہ آپ جانتے ہوں گے بھئی یہ گھاس ہے زرد یا سرخ رنگ کی اور اس کو دوائیوں وغیرہ میں بھی اور کھانے وغیرہ میں بھی خوشبو کے لیے استعمال کرتے ہیں اور دوائیوں میں بھی استعمال کرتے ہیں، تو زعفران وہ تو قیمتی چیز ہے، اس کو تو وسق کے ساتھ نہیں ماپا جاتا، تو پھر اس سستی ترین چیز کے ساتھ اس کا اندازہ لگا لیں گے۔ تو مثلاً زعفران چاہے تھوڑا سا ہے لیکن اس کی قیمت اگر پانچ وسق جوار تک پہنچتی ہے یعنی دس ہزار تک اس کی قیمت پہنچتی ہے تو اس کے اندر کیا واجب ہو گا؟ عشر واجب ہو گا، ورنہ عشر واجب نہیں۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ سب سے اعلیٰ پیمانے کا اعتبار کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں شرعی پیمانہ تو وسق ہے، پانچ وسق ہو، لیکن جس چیز میں وسق ممکن نہیں اس کے پیمانے چھوٹے ہیں تو پھر اس چیز کا جو سب سے بڑا پیمانہ ہے اس کا اعتبار کریں گے۔ اس کا سب سے بڑا پیمانہ استعمال ہونے والا، وہ والے پانچ پیمانے ہو جائیں تو اس کے اندر عشر ہو گا۔ اگر وہ پانچ پیمانے سب سے بڑے والے اس کے نہیں بنتے تو اس میں عشر بھی نہیں۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کس چیز کا اعتبار کرتے ہیں پھر؟ قیمت کا اعتبار کرتے ہیں کہ جو وسق کے ذریعے ماپی جانے والی سستی ترین چیز کے پانچ وسق تک اس چیز کی قیمت پہنچ جائے تو اس میں عشر ہو گا۔ اور امام محمد رحمہ اللہ اس چیز کے سب سے بڑے پیمانے، تو وہ فرماتے ہیں زعفران کے اندر قیمت نہیں دیکھیں گے بلکہ کیا دیکھیں گے؟ جو زعفران کا سب سے بڑا پیمانہ ہے وہ پانچ پیمانے ہو جاتے ہیں تو اس کے اندر عشر ہو گا۔
تو کہتے ہیں ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِيمَا لَا يُوسَقُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان چیزوں میں جن کو جن کا وسق نہیں کیا جاتا ”كَالزَّعْفَرَانِ“ جیسے کہ زعفران ہے ”وَالْقُطْنِ“ اور جیسے کہ کپاس ہے، روئی بھئی، قطن روئی اور کپاس کو کہتے ہیں، ”وَالْقُطْنِ“ اور جیسے کپاس ہے ”يَجِبُ فِيهِ الْعُشْرُ إِذَا بَلَغَتْ قِيمَتُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ مِنْ أَدْنَى مَا يُوسَقُ“ تو ان میں عشر واجب ہو گا جب ان کی قیمت پانچ وسق کو پہنچ جائے من ادنی ما یوسق، وہ سب سے ادنیٰ چیز جو سب سے کمتر چیز جس میں وسق جاری ہوتا ہے جس کا وسق کیا جاتا ہے ”كَالذُّرَةِ“ یہ یاد رکھیے ذال مشدد ہے، را نہیں مشدد، را ذرة، ذرة ہے بھئی لفظ۔ ”كَالذُّرَةِ“ جیسے کہ جوار ہے یعنی مکئی ہے ”فِي زَمَانِنَا“ ہمارے زمانے میں، ”لِأَنَّهُ لَا يُمْكِنُ التَّقْدِيرُ الشَّرْعِيُّ فِيهِ فَاعْتُبِرَتْ قِيمَتُهُ“ اس لیے کیونکہ ان کے اندر شرعی تقدیر تو ممکن نہیں ہے۔ شرعی پیمانے کے ساتھ تو ان کا اندازہ کرنا ممکن نہیں کیونکہ ان میں وسق چلتا ہی نہیں ہے ”فَاعْتُبِرَتْ قِيمَتُهُ“ تو اس کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا ”كَمَا فِي عُرُوضِ التِّجَارَةِ“ جیسے کس کے اندر ہے؟ سامانِ تجارت کے اندر ہے بھئی۔ سامانِ تجارت ہے بھئی، اب زکوٰۃ تو کس کے اندر واجب ہے؟ دو سو درہم یا یا بیس دینار کے اندر ہے، تو اب دو سو درہم اب سامان سامانِ تجارت ہے وہ تو درہموں کی صورت میں نہیں ہے، تو وہاں یہ پیمانہ چل ہی نہیں سکتا، تو پھر وہاں کس چیز کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ قیمت کا، تو یہاں بھی اسی طرح قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔
”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ يَجِبُ الْعُشْرُ إِذَا بَلَغَ الْخَارِجُ خَمْسَةَ أَعْدَادٍ مِنْ أَعْلَى مَا يُقَدَّرُ بِهِ نَوْعُهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عشر واجب ہو گا جب پیداوار پہنچ جائے ”خَمْسَةَ أَعْدَادٍ“ پانچ کے عدد کو، پانچ عددوں کو ”مِنْ أَعْلَى مَا يُقَدَّرُ بِهِ نَوْعُهُ“ اس سب سے اعلیٰ پیمانے کو جس کے ساتھ اس کی نوع کا اس قسم کا حساب کیا جاتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ کہ جب پیداوار پہنچ جائے خمسة اعداد پانچ عددوں کو من اعلی ما یقدر به نوعه، اس سب سے بڑے پیمانے کو جس کے ساتھ اس قسم کا حساب لگایا جاتا ہے۔ ”فَاعْتَبَرَ فِي الْقُطْنِ خَمْسَةَ أَحْمَالٍ“ پس امام محمد رحمہ اللہ اعتبار کرتے ہیں کپاس میں پانچ حِمْل کا، حِمْل حا کے کسرہ کے ساتھ، پانچ حملوں کا اعتبار کرتے ہیں ”كُلُّ حِمْلٍ ثَلَاثُمِائَةِ مَنٍّ“ اور ہر حمل جو ہے وہ تین سو من کا ہے۔ کتنے کا ہے؟ تین سو من بھئی۔ اور من میں نے بتلایا تھا کس کے برابر ہے؟ دو رطل کے برابر ہے یعنی ایک مد کے برابر بھئی، بعض بعض علماء نے یہ ذکر کیا ہے بھئی۔ تو کپاس کا چونکہ سب سے بڑا پیمانہ حِمْل ہے لہٰذا وہی پانچ معتبر ہوں گے۔ ”وَفِي الزَّعْفَرَانِ خَمْسَةَ أَمْنَاءٍ“ اور زعفران کے اندر وہ اعتبار کرتے ہیں خمسة امناء، پانچ منوں کا، ”لِأَنَّ التَّقْدِيرَ بِالْوَسْقِ كَانَ لِاعْتِبَارِ أَنَّهُ أَعْلَى مَا يُقَدَّرُ بِهِ“ کیونکہ وسق کے ساتھ جو اندازہ کرنا تھا ”كَانَ لِاعْتِبَارِ أَنَّهُ أَعْلَى مَا يُقَدَّرُ بِهِ“ اس اعتبار سے تھا کہ وہ سب سے بڑا پیمانہ تھا جس کے ساتھ ان چیزوں کا حساب۔ تو وسق جو شریعت نے اس لیے متعین کیا کیونکہ وہ سب سے بڑا پیمانہ تھا جس جس کے ساتھ ان چیزوں کا حساب لگایا جاتا تھا، اور ان کے اندر تو وسق کا ہو نہیں سکتا، تو ان کے اندر جو ان کا بڑا پیمانہ ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ التَّقْدِيرَ بِالْوَسْقِ كَانَ لِاعْتِبَارِ أَنَّهُ أَعْلَى مَا يُقَدَّرُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ وسق کے ساتھ اندازہ لگانا وہ اس وجہ سے تھا کہ وہ سب سے بڑا پیمانہ تھا جس کے ساتھ ان کا حساب لگایا جاتا تھا۔
”وَفِي الْعَسَلِ الْعُشْرُ إِذَا أُخِذَ مِنْ أَرْضِ الْعُشْرِ“ اور شہد کے اندر بھی عشر ہے، شہد کے اندر بھی عشر ہے ”إِذَا أُخِذَ مِنْ أَرْضِ الْعُشْرِ“ جب اس کو کہاں سے حاصل کیا جائے؟ عشری زمین سے حاصل کیا جائے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَجِبُ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں شہد میں عشر واجب نہیں ”لِأَنَّهُ مُتَوَلِّدٌ مِنَ الْحَيَوَانِ“ اس لیے کیونکہ یہ حیوان یعنی ایک شہد کی مکھی سے پیدا ہوتا ہے ”فَأَشْبَهَ الْإِبْرَيْسَمَ“ تو یہ کس کے مشابہ ہو گیا؟ ریشم کے مشابہ ہو گیا بھئی، ابریسم ریشم بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ شہد جو ہے یہ شہد کی مکھی سے پیدا ہوتا ہے، وہ اس کو بناتی ہے، تو یہ ریشم کے مشابہ ہو گیا، جیسے ریشم کو وہ ریشم جو ہے وہ ریشم کا کیڑا بناتا ہے، تو جیسے وہ ریشم ایک جانور سے حاصل ہوتا ہے، ایک کیڑے سے، اسی طرح شہد بھی ایک شہد کی مکھی سے حاصل ہوتا ہے، تو یہ اس کے مشابہ ہوا، اور ریشم کے اندر تو بالاتفاق عشر نہیں، تو یہ شہد بھی اسی کی طرح ہے یہ بھی ایک جانور سے ایک مکھی سے حاصل کیا جاتا ہے تو اس میں بھی عشر واجب نہیں ہوگا۔
”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الْعَسَلِ الْعُشْرُ“ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”فِي الْعَسَلِ الْعُشْرُ“ شہد میں عشر ہے، یہ حدیث میں آیا ہے۔ ”وَلِأَنَّ النَّحْلَ“ اور دوسری دلیل بھی اور امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا جواب بھی دے رہے ہیں، ”وَلِأَنَّ النَّحْلَ يَتَنَاوَلُ مِنَ الْأَنْوَارِ وَالثِّمَارِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ شہد کی مکھی وہ کھاتی ہے من الانوار والثمار، انوار جمع ہے نورٌ کی نورٌ، نون کے فتحہ کے ساتھ، اور یہ پھول کو کہتے ہیں۔ اس لیے کیونکہ شہد کی مکھی جو ہے وہ کھاتی ہے پھولوں میں سے ”وَالثِّمَارِ“ اور پھلوں میں سے ”وَفِيهِمَا الْعُشْرُ“ اور پھولوں اور پھلوں میں تو کیا واجب ہوتا ہے؟ عشر واجب ہوتا ہے ”فَكَذَا فِيمَا يَتَوَلَّدُ مِنْهَا“ تو اسی طرح اس چیز کے اندر بھی عشر واجب ہوگا جو ان دونوں ان سے پیدا ہوتا ہے، یعنی شہد۔ یہ شہد کس سے بناتی ہے شہد کی مکھی؟ پھولوں اور پھلوں سے، اور پھولوں اور پھلوں میں کیا واجب؟ عشر، تو ان پھولوں اور پھلوں سے جو چیز پیدا ہوتی ہے اس میں بھی کیا واجب ہوگا؟ عشر، تو شہد ان سے ہی پیدا ہوتا ہے اس میں عشر واجب ہوگا۔ ”بِخِلَافِ دُودِ الْقَزِّ“ بخلاف ریشم کے کیڑے کے ”لِأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ الْأَوْرَاقَ“ اس لیے کیونکہ وہ پتے کھاتا ہے ”وَلَا عُشْرَ فِيهِ“ اور پتوں کے اندر تو عشر نہیں، لہٰذا جب پتوں کے اندر عشر نہیں تو پتوں سے جو چیز بناتا ہے وہ کیڑا اس کے اندر بھی عشر واجب نہیں، اس لیے ریشم کے اندر عشر واجب نہیں ہوگا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”ثُمَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَجِبُ فِيهِ الْعُشْرُ قَلَّ أَوْ كَثُرَ“ پھر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شہد کے اندر عشر واجب ہوگا چاہے شہد تھوڑا ہو یا زیادہ ”لِأَنَّهُ لَا يَعْتَبِرُ النِّصَابَ“ اس لیے کیونکہ امام صاحب نصاب کا اعتبار نہیں کرتے جیسے پہلے ذکر ہوا۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ يَعْتَبِرُ فِيهِ قِيمَةَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس کے اندر پانچ وسق کی قیمت کا اعتبار کرتے ہیں، جیسا کہ ان کی اصل ہے ان کا ضابطہ ہے کہ جس چیز کے اندر وسق والا پیمانہ جاری نہیں ہوتا تو پھر وہاں کیا کیا جائے گا؟ جو وسق کے ذریعے سستی ترین چیز ماپی جاتی ہے اس کے پانچ وسق کی مقدار کو جب اس چیز کی قیمت پہنچ جائے تو اس میں کیا واجب ہوگا؟ عشر بھئی، تو اسی طرح شہد کی جب اس کی قیمت پانچ وسق کو پہنچ جائے۔
اور دوسری روایت ”وَعَنْهُ“ امام امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے دوسری روایت یہ ہے ”أَنَّهُ لَا شَيْءَ فِيهِ حَتَّى يَبْلُغَ عَشَرَ قِرَبٍ“ کہ شہد کے اندر کچھ بھی نہیں ہے یہاں تک کہ وہ دس مشکیزوں کو اس کی مقدار پہنچ جائے بھئی۔ مشکیزہ بھئی، وہ مشک جس کے اندر پانی وغیرہ ہوتا ہے، اسی طرح شہد، گھی وغیرہ ان کے الگ مشکیزے ہوتے تھے خاص مقدار کے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو پانی کا مشکیزہ تو بڑا ہوتا ہے، شہد کا چھوٹا ہوتا تھا اسی طرح شہد اور گھی وغیرہ کا بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ شہد میں کوئی کچھ بھی واجب نہیں یہاں تک کہ وہ دس مشکیزوں کو اس کی مقدار پہنچ جائے۔ اور ہر مشکیزہ جو ہے وہ کہتے ہیں پچاس رطل کا ہوگا، بعضوں نے رطل لکھا ہے بعضوں نے من لکھا ہے کہ پچاس من کا ہوگا بھئی۔ دلیل ان کی ”لِحَدِيثِ بَنِي شَبَابَةَ“ بنی شبابہ کی حدیث کی وجہ سے ”أَنَّهُمْ كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ“ کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ادا کرتے تھے۔ تو یہ وہ اپنے وہ شہد وغیرہ ان کے علاقے میں ہوں گی مکھیاں بہت زیادہ بھئی، تو وہ ہر دس مشکیزوں میں سے ایک مشکیزہ حضور علیہ السلام کو ادا کرتے تھے۔ تو یہ دو روایتیں ہو گئیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے۔ ”وَعَنْهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ہی روایت ہے، یہ تیسری روایت آ گئی ان کی کہ ”وَعَنْهُ خَمْسَةَ أَمْنَاءٍ“ کتنے من ہو؟ پانچ من ہو بھئی من، تو اس کے اندر عشر ہوگا، پانچ من سے کم ہو تو اس میں عشر نہیں۔
”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ خَمْسَةَ أَفْرَاقٍ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ شہد کتنا ہو کس مقدار کو پہنچے؟ پانچ پانچ فرق کی مقدار کو، ”كُلُّ فَرَقٍ سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ رِطْلًا“ اور ہر فرق جو ہے وہ چھتیس رطل کا ہے۔ تو یہ فرق پیمانہ ہے، یہ چھتیس رطل کے برابر ہے، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں پانچ فرق ہوں تو اس اتنا شہد ہو تو اس کے اندر عشر ہوگا۔ ”لِأَنَّهُ أَقْصَى مَا يُقَدَّرُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ انتہائی درجے کا وہ پیمانہ ہے جس کے ساتھ اس کو اس کا حساب لگایا جاتا ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کا ضابطہ کیا تھا؟ جو سب سے بڑا پیمانہ ہو اس کا اعتبار کیا جاتا ہے، اور شہد کے اندر سب سے بڑا پیمانہ کیا ہے؟ فرق کا ہے، تو کہتے ہیں یہی پانچ معتبر ہیں۔
”وَكَذَا فِي قَصَبِ السُّكَّرِ“ اور اسی طرح گنے کے اندر ہے۔ اسی طرح گنے کے اندر ہے یعنی گنے کے اندر بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ اسی طرح پانچ وسق کی قیمت کا اعتبار کرتے ہیں۔ کیونکہ گنے کے گنے کو جو ہے اس کو اس میں وسق کیونکہ گنے کے اندر وسق جاری نہیں ہوتا، جب ایسی چیز ہو جس میں وسق جاری نہ ہو تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ اس کی قیمت لگا لو اگر اس کی قیمت وسق کے ذریعے جو سب سے سستی چیز ماپی جاتی ہے اس کے پانچ وسق تک اس کی قیمت پہنچ جائے تو اس کے اندر کیا واجب ہوگا؟ عشر واجب ہوگا ورنہ عشر واجب نہیں۔ اور جبکہ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ اس کے سب سے بڑے پیمانے کا اعتبار کرو، تو گنے کا جو سب سے بڑا پیمانہ ہے وہ پانچ اگر ہو جاتے ہیں تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس میں عشر واجب ہوگا اگر اس سے کم ہے تو اس میں عشر واجب نہیں۔ یہ معنی ہے ”وَكَذَا فِي قَصَبِ السُّكَّرِ“ اور اسی طرح گنے کے اندر بھی ہے، یعنی اسی طرح اختلاف ہے۔ امام امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس میں پانچ وسق کی قیمت کا اعتبار کرتے ہیں اور امام محمد رحمہ اللہ اس کے پانچ بڑے پیمانوں کا اعتبار کرتے ہیں۔
”وَمَا يُوجَدُ فِي الْجِبَالِ مِنَ الْعَسَلِ وَالثِّمَارِ فَفِيهِ الْعُشْرُ“ اور وہ جو پایا جائے پہاڑوں کے اندر شہد اور پھلوں میں سے ”فَفِيهِ الْعُشْرُ“ تو اس کے اندر بھی عشر۔ پہاڑوں میں بھئی پھل ملتے ہیں یا کیا ملتا ہے؟ شہد، تو اس میں بھی عشر واجب ہے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يَجِبُ لِانْعِدَامِ السَّبَبِ وَهِيَ الْأَرْضُ النَّامِيَةُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کے اندر کچھ بھی واجب نہیں۔ طرفین تو کیا فرماتے ہیں؟ اس میں عشر ہے، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہاڑوں میں جو شہد اور پھل ملیں اس میں عشر نہیں۔ ”لِانْعِدَامِ السَّبَبِ“ سبب کے معدوم ہونے کی وجہ سے کیونکہ سبب نہیں پایا جا رہا، بھئی سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں ”وَهِيَ الْأَرْضُ النَّامِيَةُ“ ارضِ نامیہ ہے، نمو والی زمین ہے، اور یہ تو پہاڑوں میں ملے ہیں، ارضِ نامیہ کے اندر یعنی خراجی یا عشری زمین کے اندر خراجی یا عشری زمین میں نہیں ملے بھئی۔ ”وَوَجْهُ الظَّاهِرِ“ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْمَقْصُودَ حَاصِلٌ وَهُوَ الْخَارِجُ“ کہ مقصود حاصل ہے اور وہ پیداوار ہے۔ طرفین کیا فرماتے تھے کہ پہاڑوں کے اندر بھی جو شہد اور پھل ملیں ان کے اندر بھی کیا واجب ہے؟ عشر واجب ہے، تو اس ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے کہ بے شک ارضِ نامیہ نہیں ہے، یہ پہاڑوں سے ملے ہیں ارضِ نامیہ نہیں ہے، لیکن پھر بھی مقصد تو حاصل ہے اور مقصود کیا ہے؟ پیداوار تو حاصل ہے بھئی۔
”قَالَ: وَكُلُّ شَيْءٍ أَخْرَجَتْهُ الْأَرْضُ مِمَّا فِيهِ الْعُشْرُ لَا يُحْتَسَبُ فِيهِ أَجْرُ الْعُمَّالِ وَنَفَقَةُ الْبَقَرِ“ ہر وہ ایسی چیز جس کو زمین اگائے ان چیزوں میں سے جن کے اندر عشر ہوتا ہے ”لَا يُحْتَسَبُ فِيهِ أَجْرُ الْعُمَّالِ“ عمال جمع ہے عامل کی، عامل کام کرنے والا یعنی مزدور وغیرہ، تو اس میں حساب نہیں کیا جائے گا کام کرنے والوں کی اجرت کا ”وَنَفَقَةُ الْبَقَرِ“ اور اسی طرح بیلوں کے خرچے کا۔ بیلوں کے خرچے کا حساب نہیں کیا جائے گا یعنی اس کو اس کی اس کی کٹوتی الگ نہیں کی جائے گی۔ مثلاً بھئی یہ نہیں کیا جائے گا کہ ایک آدمی نے فصل کاشت کی اور وہ فصل مثلاً سو من فصل ہوئی اور وہ کہتا ہے بھئی میں نے مزدور لگائے تھے ان پہ بھی میرا خرچہ ہوا، بیلوں وغیرہ پر بھی میرا خرچہ ہوا، تو کوئی بیس من کے لگ بھگ تو میرا خرچہ ہو گیا، تو بیس من کے برابر میرا جتنا بیس من کی قیمت ہے اتنا میرا اس پر کیا ہوا ہے؟ خرچہ ہوا ہے، لہٰذا بیس من کو نکال دیں کہ بیس من کے اندر تو عشر نہیں کیونکہ یہ تو میرے خرچے کے ہیں، باقی اسی من کے اندر سے کیا دے دیتا ہے وہ؟ عشر دے دیتا ہے، تو کہتے ہیں نہیں بھئی نہیں۔ جو خرچہ ہوا ہو وہ اس کے اندر عشر نہ مانا جائے یہ کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ سارے کے اندر عشر آئے گا، اور اسی حساب سے اگر بارش وغیرہ سے زمین سیراب کی ہے تو اس صورت میں دسواں حصہ، اور اگر رہٹ وغیرہ یا ڈول کے ذریعے سیراب کی ہے تو بیسواں حصہ دینا پڑے گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟
یہ معنی ہے ”لَا يُحْتَسَبُ فِيهِ أَجْرُ الْعُمَّالِ وَنَفَقَةُ الْبَقَرِ“ تو اس میں حساب نہیں کیا جائے گا مزدوروں کی اجرت کا اور بیل کے خرچے کا، ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَكَمَ بِتَفَاوُتِ الْوَاجِبِ لِتَفَاوُتِ الْمُؤْنَةِ فَلَا مَعْنَى لِرَفْعِهَا“ جی اس مقام کو اچھی طرح سمجھ لیں یہ مشکل مقام ہے بھئی۔ اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حَكَمَ“ وہ فیصلہ فرمایا ہے ”بِتَفَاوُتِ الْوَاجِبِ“ واجب کے مختلف ہونے کا ”لِتَفَاوُتِ الْمُؤْنَةِ“ مشقت کے اختلاف کی وجہ سے۔ مشقت کے مختلف ہونے کی وجہ سے حضور علیہ السلام نے مختلف واجب کا فیصلہ فرمایا ہے۔ بھئی دیکھیے، بارش کے پانی سے زمین سیراب ہوتی ہے یا دریا کے پانی سے تو مشقت کم، تو حضور علیہ السلام نے کیا فرمایا اس میں کتنا واجب ہے؟ اس میں دسواں حصہ عشر ہے۔ اور جس کے اندر مشقت ہوئی ہے مثلاً رہٹ وغیرہ یا ڈول وغیرہ کے ذریعے اس کو سیراب کیا ہے تو اس میں حضور علیہ السلام نے کتنا واجب قرار دیا؟ اس میں بیسواں حصہ واجب قرار دیا، تو حضور علیہ السلام نے مشقت کے مختلف ہونے کی وجہ سے واجب بھی مختلف کیے ہیں۔ بعض میں عشر واجب کیا اور بعض میں نصف عشر واجب فرمایا ہے۔ ”فَلَا مَعْنَى لِرَفْعِهَا“ تو کوئی معنی یہاں علت اور سبب کے معنی میں ہے، ”فَلَا مَعْنَى لِرَفْعِهَا“ لہٰذا اس خرچے کو دور کرنے کی کوئی علت نہیں ہے۔ ہا ضمیر مؤنت کو راجع ہے۔ اس خرچے کو دور کرنے اور اس کو اٹھانے کی کوئی علت نہیں ہے۔
دلیل کس چیز کی چل رہی ہے؟ کہ فصل پر جو خرچہ ہوا ہے مزدوروں کا یا بیلوں کا یا اسی طرح اور بھی جو بھی خرچہ ہوا ہے، ان خرچوں کا حساب کر کے اس کو نکالا نہیں جائے گا۔ یہ نہیں کہ اس کے بقدر میں عشر نہ ہو اور باقی میں عشر ہو، نہیں بلکہ سارے میں عشر دینا پڑے گا، چاہے عشر آئے چاہے نصف عشر آئے۔ دلیل اس اس کی ذکر ہو رہی ہے، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے خرچے کے مختلف ہونے کے اعتبار سے واجب بھی مختلف قرار دیے ہیں، بعضوں میں عشر ہے تو بعضوں میں نصف عشر ہے۔ ”فَلَا مَعْنَى لِرَفْعِهَا“ رفع کا معنی اٹھا دینا، دور کر دینا۔ یعنی جیسے میں نے صورت ذکر کر دی کہ وہ آدمی مثلاً کیا کہتا ہے؟ میرا خرچہ کتنا ہوا ہے؟ بیس من کے برابر میرا خرچہ ہوا ہے، تو یہ بیس من الگ کرو اس میں سے عشر نہیں کیونکہ یہ تو کس کے ہیں؟ خرچے کے ہیں، باقی اسی من میں کیا کرو؟ اس میں سے عشر لے لو۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں نہیں، ”فَلَا مَعْنَى لِرَفْعِهَا“ اس خرچے کو نکالنے کے اور اٹھانے کی کوئی علت نہیں۔ اٹھانے کی کوئی علت نہیں ہے، کیونکہ حضور علیہ السلام نے مختلف واجب قرار دیے ہیں خرچوں کے مختلف ہونے کے اعتبار سے۔ تو اگر اس خرچے کو ہم نکال لیتے ہیں جو فصل والے کا ہوا ہے فصل والے کا ہوا ہے، پھر تو اس صورت میں ایک ہی واجب ہوگا سب پر، حالانکہ ایک ہی واجب ہے سب پر یا حضور علیہ السلام نے مختلف واجب قرار دیے ہیں؟ بعضوں میں عشر ہے تو بعضوں میں نصف، لیکن اگر یہ خرچہ نکال لیا جائے پھر تو ایک ہی واجب سب پر لازم آئے گا۔
مثلاً دیکھیے صورت بنا لیں، صورت یہ کہ ایک شخص کے اگر بارش سے زمین سیراب ہوتی ہے اس میں بیس من بیس من غلہ ہو، تو کتنا آئے گا اس پر؟ عشر آئے گا دسواں حصہ، اور بیس من کا دسواں حصہ کتنا ہے؟ دو من، تو اس پر دو من آئیں گے بھئی عشر کے۔ اور اگر ایک شخص ہے وہ کیا کرتا ہے؟ اس کی زمین وہ اس کو ڈول کے ساتھ سیراب کرتا ہے اور اس میں سے اس کو چالیس من پیداوار حاصل ہو جاتی ہے، کتنی؟ چالیس من پیداوار حاصل ہوئی، اور اس کا فرض کریں خرچہ ہوا ہے بیس من کے برابر اس پر خرچہ ہوا ہے مشقت ہوئی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب چالیس میں سے بیس کو نکال دیں کہ یہ تو کس کے ہیں؟ خرچے کے، تو باقی کتنے رہ گئے؟ بیس رہ گئے۔ تو جب خرچے کو نکال لیا تو اب اس کے اندر عشر آنا چاہیے یا نصف عشر؟ اب تو عشر پورا آنا چاہیے کیونکہ خرچے کو تو اس نے خود نکال دیا، تو اس کے اندر بھی کتنا آ جائے گا؟ عشر اور وہ کتنا بنتا ہے؟ دو من۔ تو اگر اس طرح خرچے کو نکالا جائے پھر تو سب کے اندر ایک ہی واجب ماننا پڑے گا، حالانکہ حضور علیہ السلام نے تو ایک واجب نہیں فرمایا بلکہ خرچے کے اعتبار سے مختلف واجب فرمائے ہیں۔ لہٰذا کوئی علت نہیں ہے، کوئی سبب نہیں ہے کہ اس خرچے کو اس میں سے نکال دیا جائے، کیونکہ اس صورت میں کیا خرابی لازم آتی ہے؟ ایک ہی واجب آتا ہے سب پر، حالانکہ سب پر ایک واجب تو ہے ہی نہیں بلکہ حضور علیہ السلام نے مختلف واجب فرمائے ہیں بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
یہ معنی ہے ”لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَكَمَ بِتَفَاوُتِ الْوَاجِبِ لِتَفَاوُتِ الْمُؤْنَةِ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے مشقت کے مختلف ہونے کے ساتھ مختلف قسم کے واجب کا حکم دیا ہے ”فَلَا مَعْنَى لِرَفْعِهَا“ تو کوئی سبب نہیں ہے اس خرچے کو نکالنے کا۔ کون سا خرچہ؟ یہ جو مالک کا اس پر ہوا ہے، اس خرچے کو نکالنے کی کوئی علت نہیں ہے، کیونکہ اس صورت میں کیا خرابی لازم آتی ہے؟ کہ اس صورت میں ایک ہی واجب سب میں آتا ہے اور حالانکہ نص کے اندر تو ایک واجب نہیں آیا بلکہ مختلف واجب آئے ہیں۔
”قَالَ: تَغْلِبِيٌّ لَهُ أَرْضُ عُشْرٍ فَعَلَيْهِ الْعُشْرُ مُضَاعَفًا“ تغلبی تھا بھئی، قبیلہ بنو تغلب کا، اور آپ پڑھ چکے ہیں قبیلہ بنو تغلب وہ قبیلہ جن کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا معاہدہ فرمایا تھا؟ کہ مسلمانوں سے جو زکوٰۃ لی جاتی ہے اس کا دگنا ان سے لیا جاتا ہے، تو ایک تغلبی تھا ”لَهُ أَرْضُ عُشْرٍ“ اور اس کی عشری زمین ہے، کون سی زمین ہے؟ عشری زمین ہے ”فَعَلَيْهِ الْعُشْرُ مُضَاعَفًا“ تو اس پر عشر ہوگا مضاعفاً، دگنا بھئی، کیونکہ ان سے معاہدہ ہی کیا ہوا تھا؟ کہ ان سے مسلمانوں کی بنسبت دگنا لیا جائے گا۔ ”عُرِفَ ذَلِكَ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ“ اور اس کو جانا گیا ہے صحابہ کے اجماع سے، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ساتھ صحابہ سے مشورہ کرنے کے بعد یہی معاہدہ کیا تھا تو اس پر صحابہ کا اجماع ہوا۔
”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّ فِيمَا اشْتَرَاهُ التَّغْلِبِيُّ مِنَ الْمُسْلِمِ عُشْرًا وَاحِدًا“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس صورت میں کہ جب کہ تغلبی نے اس زمین کو مسلمان سے خریدا ہو، اس میں ایک ہی عشر آئے گا۔ بھئی بنو تغلب کے کسی آدمی کے پاس کوئی عشری زمین ہے، متن میں مثلاً ذکر ہو گیا تو کہ اس سے کتنا عشر لیا جائے گا؟ دگنا عشر لیا جائے گا۔ البتہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تغلبی نے یہ زمین کسی مسلمان سے خریدی، تو پھر مسلمان سے کیا لیا جاتا تھا؟ عشر، تو اب تغلبی سے بھی عشر ہی لیا جائے گا، دگنا نہیں بھئی۔ اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں جب یہ عشری زمین ہے تو اس زمین کا وظیفہ عشر ہوا۔ خراجی زمین کا وظیفہ کیا ہوتا ہے؟ خراج، اس میں خراج دیتے ہیں، اور عشری زمین کا وظیفہ کیا ہے؟ عشر ہے۔ تو اس کے اندر عشر اس کا وظیفہ بن چکا ہے، اب مالک کے بدلنے سے وظیفہ نہیں بدلے گا، مسلمان سے عشر لیا جاتا تھا اب مالک بدل گیا اور کون بن گیا؟ تغلبی بن گیا تو بھی اس سے کیا لیا جائے گا؟ عشر ہی لیا جائے گا۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا ان کا؟
تو کہتے ہیں اس میں ایک ہی عشر آئے گا ”لِأَنَّ الْوَظِيفَةَ عِنْدَهُ لَا تَتَغَيَّرُ بِتَغَيُّرِ الْمَالِكِ“ اس لیے کیونکہ وظیفہ زمین کا جو ہے وہ ان کے نزدیک بدلتا نہیں ہے مالک کے بدلنے سے۔ ”فَإِنِ اشْتَرَاهَا مِنْهُ ذِمِّيٌّ فَهِيَ عَلَى حَالِهَا عِنْدَهُمْ“ پس اگر اس عشری زمین کو خرید لیا ”مِنْهُ“ اس تغلبی سے، کس نے خرید لیا؟ ”ذِمِّيٌّ“ کسی ذمی نے خرید لیا، یعنی کسی دوسرے عیسائی، کوئی بنو تغلب کا عیسائی نہیں تھا کوئی اور عیسائی تھا یا یہودی تھا، دار الاسلام میں رہتا ہے، تو اس ذمی نے خرید لیا ”فَهِيَ عَلَى حَالِهَا عِنْدَهُمْ“ تو یہ زمین اپنے حال پر ہی رہے گی، ”عِنْدَهُمْ“ تینوں ائمہ کے نزدیک بھئی، تینوں کے نزدیک۔ بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں بھئی وجہ یہ کہ گزشتہ باب میں ذکر ہوا تھا کہ عاشر پر جو شخص گزرتا ہے تو مسلمان سے جو لیا جاتا ہے ذمی سے اس کا دگنا لیا جاتا ہے، دگنا لیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی جب تغلبی کے پاس یہ زمین تھی تو اس سے کتنا لیا جاتا تھا؟ دگنا، عشر کا دگنا لیا جاتا تھا، جب دگنا لیا جاتا تھا کوئی اور ذمی بھی خرید لے تو بھی وہی صورت ہے اس سے بھی کیا لیا جاتا ہے؟ مسلمان سے دگنا ہی لیا جاتا ہے، تو یہ لہٰذا یہاں اسی طرح اس کو برقرار رکھیں گے، اس سے دگنا ہی لیا جائے گا، تو کوئی اور ذمی بھی خرید لے اسی طرح ہوگا۔
یہ معنی ہے ”فَإِنِ اشْتَرَاهَا مِنْهُ ذِمِّيٌّ فَهِيَ عَلَى حَالِهَا عِنْدَهُمْ“ تو اگر اس زمین اگر اس عشری زمین کو خرید لیا تغلبی سے کسی دوسرے ذمی نے تو یہ زمین اپنے حال پر ہی رہے گی یعنی دگنا عشر ہی اس سے لیا جائے گا ”عِنْدَهُمْ“ تینوں ائمہ کے نزدیک ”لِجَوَازِ التَّضْعِيفِ عَلَيْهِ فِي الْجُمْلَةِ“ اس لیے کیونکہ ان پر دگنا کرنا جائز ہے مجموعی اعتبار سے ”كَمَا إِذَا مَرَّ عَلَى الْعَاشِرِ“ جیسے کہ وہ جب گزرے کس پر؟ عاشر پر۔
”وَكَذَا إِذَا اشْتَرَاهَا مِنْهُ مُسْلِمٌ أَوْ أَسْلَمَ التَّغْلِبِيُّ“ اور اسی طرح ہوگا اگر اس زمین کو خرید لے ”مِنْهُ“ اس تغلبی سے ”مُسْلِمٌ“ کوئی مسلمان بھئی۔ تغلبی سے کتنا لیا جاتا تھا؟ دگنا عشر لیا جاتا ہے، تو اگر اس زمین کو کوئی مسلمان خرید لے تو مسلمان سے بھی دگنا عشر اب لیا جائے گا۔ اور اگر وہ تغلبی خود مسلمان ہو جائے تو بھی اس سے دگنا عشر ہی لیا جائے گا بھئی، کیونکہ اس زمین کا وظیفہ کیا ہے؟ دگنا عشر ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَكَذَا إِذَا اشْتَرَاهَا مِنْهُ“ اور اسی طرح اگر اس زمین کو خرید لیا اس تغلبی سے ”مُسْلِمٌ“ کسی مسلمان نے ”أَوْ أَسْلَمَ التَّغْلِبِيُّ“ یا کوئی مسلمان ہو گیا وہ تغلبی ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ جی؟ جی، نہیں بھئی ذمی نہیں۔ اوپر تھا اوپر تھا تغلبی سے ذمی خرید لیتا ہے، اب آگے ہے تغلبی سے مسلمان خرید لیتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں یہ یہ بین السطور پہ ہمیشہ اسی پہ نہ چلیں، یہ غلطیاں بہت اس طرح کی غلطیاں ہیں، ایک عبارت ایک جگہ کی ہوتی ہے وہ لکھ کہیں اور دیتا ہے بھئی۔ یہ کسی اور جگہ پر ہوگا ”أي من الذمي“، یہ اس نے اٹھا کر یہاں لکھ دیا ہے۔ اچھا بھئی۔
”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب کے نزدیک ”سَوَاءٌ كَانَ التَّضْعِيفُ أَصْلِيًّا أَوْ حَادِثًا“ برابر ہے کہ یہ دگنا کرنا اصلی ہو یا حادث ہو یعنی نیا پیش آیا ہو۔ بھئی ایک تو تضعیفِ اصلی ہے کہ زمین شروع سے ہی کس کے پاس تھی؟ تغلبی کے پاس تھی، تو اس سے دگنا عشر لیا جائے گا، تو یہ تضعیف ہے اصلی، یہ دگنا کرنا اصلی ہے۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ مسلمان کے پاس زمین تھی، مسلمان عشر دیتا تھا، اس کو کس نے خرید لیا؟ تغلبی نے خرید لیا، تو اب اس سے کتنا لیا جائے گا؟ دگنا عشر لیا جائے گا، تو یہ دگنا کرنا جو عشر کا ہوا یہ یہاں پر اصلی ہے یا اب پیش آیا ہے؟ اب پیش آیا ہے کیونکہ پہلے تو عشر مسلمان دے رہا تھا اب تغلبی مالک بنا ہے تو یہ دگنا کرنا حادث ہے۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ ایک تضعیف اصلی ہے کہ پہلے سے ہی کیا آ رہا ہے اس میں؟ دگنا عشر چلا آ رہا ہے، وہ زمین تھی ہی تغلبی کے پاس شروع سے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ مسلمان کے پاس تھی اور وہ عشر دیتا تھا لیکن آ کس کے پاس گئی؟ تغلبی کے پاس اس نے خرید لی، تو اب وہ کتنا دے گا؟ دگنا عشر دے گا، تو یہ جو دگنا کرنا ہے یہ کس قسم کا ہے؟ حادث ہے، نیا پیش آیا ہے۔
تو کہتے ہیں ”سَوَاءٌ كَانَ التَّضْعِيفُ أَصْلِيًّا أَوْ حَادِثًا“ برابر ہے کہ تضعیف اصلی ہو یا حادث ہو نئی پیش آنے والی ہو، یعنی مسلمان نے اس زمین کو خریدا تغلبی سے، یا وہ تغلبی کیا ہوا؟ مسلمان ہوا۔ اور اس میں دو صورتیں ہیں کہ تغلبی جو زمین کا دو عشر دیتا تھا یہ تضعیف یا تو اصلی ہوگی پہلے سے اسی طرح چلا آ رہا ہے، یا اس تغلبی نے اس کو کس سے خریدا تھا؟ مسلمان سے خریدا تھا پھر تضعیف اس کے بعد ہوئی دگنا ہوا، تو دونوں صورتوں میں چاہے تضعیف اصلی ہو چاہے تضعیف حادث ہو، تو پھر اس کو کون خریدے؟ مسلمان خریدے یا وہ تغلبی خود کیا ہو جائے؟ مسلمان ہو جائے، دگنا ہی عشر دینا پڑے گا۔ تو تضعیف چاہے اصلی ہو یا حادث دونوں میں حکم یہی ہے۔
یہ معنی ہے ”سَوَاءٌ كَانَ التَّضْعِيفُ أَصْلِيًّا أَوْ حَادِثًا“ برابر ہے کہ تضعیف اصلی ہو یا حادث ہو ”لِأَنَّ التَّضْعِيفَ صَارَ وَظِيفَةً لَهَا“ اس لیے کیونکہ تضعیف وہ اس زمین کا وظیفہ بن گیا ”فَتَنْتَقِلُ إِلَى الْمُسْلِمِ بِمَا فِيهَا“ تو یہ زمین منتقل ہو جائے گی مسلمان کی طرف اسی وظیفے کے ساتھ جو اس کے اندر تھا ”كَالْخَرَاجِ“ جیسے خراج ہے کہ مسلمان اگر خراجی زمین کو خریدتا ہے تو وہ پھر بھی کیا رہتی ہے؟ خراجی ہی رہتی ہے۔
”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَعُودُ إِلَى عُشْرٍ وَاحِدٍ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ زمین پھر لوٹ جائے گی ایک عشر کی طرف۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ زمین لوٹ جائے گی ایک عشر کی طرف ”لِزَوَالِ الدَّاعِي إِلَى التَّضْعِيفِ“ اس لیے کیونکہ داعی الی التضعیف جو ہے وہ ختم ہو گیا، تضعیف کا یعنی دگنا کرنے کا جو داعی تھا جو اس کی طرف دعوت دے رہا تھا وہ ختم ہو گیا، اور وہ کیا تھا؟ وہ تغلبی کا کفر تھا، تو اگر وہ مسلمان ہو گیا تو وہ کفر ختم ہوا یا اس کو کس نے خرید لیا؟ مسلمان نے تو وہ دونوں صورتوں میں وہ داعی ختم ہوا۔
”قَالَ فِي الْكِتَابِ: وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِيمَا صَحَّ عَنْهُ“ قال فی الکتاب، کتاب کے اندر فرماتے ہیں مصنف، مراد ہے مبسوط کی بھئی، کتاب الزکاۃ بھئی۔ کیا مراد ہے؟ مبسوط کی کتاب الزکاۃ، اس میں مصنف فرماتے ہیں یعنی شمس الائمہ رحمہ اللہ بھئی، وہ مبسوط کی کتاب الزکاۃ میں فرماتے ہیں ”وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ“ اور یہی قول ہے امام محمد رحمہ اللہ کا بھئی، یہی قول ہے امام محمد رحمہ اللہ کا بھی، کون سا؟ جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا ذکر ہوا، وہ کیا فرماتے ہیں کہ زمین جو ہے وہ تضعیف سے پھر کس طرف لوٹ آئے گی؟ عشرِ واحد کی طرف لوٹ آئے گی۔ تو وہ فرماتے ہیں اس کتاب کے اندر ”وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ“ کہ یہی قول ہے امام محمد رحمہ اللہ کا ”فِيمَا“ اس قول میں ”صَحَّ عَنْهُ“ أَيْ ثَبَتَ عَنْهُ، جو کس سے ثابت ہے؟ امام محمد۔ وہ فرماتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ سے جو قول صحیح طور پر ثابت ہے اس کے مطابق امام محمد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا ہے، یعنی امام محمد رحمہ اللہ اس مسئلے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔
آگے ”قَالَ“، قال سے مراد ہے صاحبِ ہدایہ، وہ فرماتے ہیں ”اخْتَلَفَتِ النُّسَخُ فِي بَيَانِ قَوْلِهِ“ کہ نسخے مختلف ہیں بھئی، یعنی مبسوط کے نسخے مختلف ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے قول کے بیان میں کہ وہ کس کے ساتھ ہیں اس مسئلے میں۔ ”وَالْأَصَحُّ“ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے ”أَنَّهُ مَعَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ وہ کس کے ساتھ ہیں؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں ”فِي بَقَاءِ التَّضْعِيفِ“ تضعیف کے باقی رہنے میں۔ یعنی وہ بھی فرماتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کہ اس کو اگر کوئی مسلمان بھی خرید لے یا تغلبی مسلمان ہو جائے دونوں صورتوں میں تضعیف باقی رہے گی، دگنا ہی عشر لیا جائے گا۔ ”إِلَّا أَنَّ قَوْلَهُ لَا يَتَأَتَّى إِلَّا فِي الْأَصْلِيِّ“ مگر یہ کہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول جو ہے وہ حاصل نہیں ہوتا مگر صرف اصلی کی صورت میں۔ جب تضعیف کون سی ہو؟ اصلی ہو، اسی صورت میں ان کا قول جاری ہو سکتا ہے۔ کیونکہ تضعیف اصلی ہے تو پہلے سے تضعیف چلی آ رہی ہے تو اب مالک بدل گیا، مسلمان آ گیا مالک بھئی، تو بھی وظیفہ زمین کا مالک کے بدلنے سے نہیں بدلتا تو تضعیف ہی رہے گی۔ اور اگر وہ زمین پہلے کیا تھی؟ مسلمان کے پاس تھی، اور تضعیف پھر حادث ہوئی ہے امام صاحب کے نزدیک، تضعیف کیسی ہوئی ہے؟ بعد میں پیش آئی، تغلبی نے خریدا تو اس پر عشر اب اس کو دگنا دینا پڑے گا، تو اس صورت میں اس صورت میں امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تو تضعیف آئے گی نہیں، تغلبی پر بھی تضعیف نہیں آئے گی کیونکہ مسلمان کے پاس تھی وہ کیا دیتا تھا؟ عشر دیتا تھا، تو جب تغلبی نے خریدا اس پر بھی کیا ائے گا؟ عشر ہی ائے گا کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مالک کے بدلنے سے زمین کا وظیفہ نہیں، تو ان کے نزدیک تو تضعیفِ حادث ہو ہی نہیں سکتی۔ جب شروع میں عشر ہے تو بعد میں بھی عشر ہی رہے گا، اگر پہلے سے تضعیف ہے تو بعد میں بھی تضعیف رہے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
”إِلَّا أَنَّ قَوْلَهُ لَا يَتَأَتَّى إِلَّا فِي الْأَصْلِيِّ“ مگر یہ کہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول حاصل نہیں ہوتا مگر تضعیفِ اصلی کے اندر ہی ”لِأَنَّ التَّضْعِيفَ الْحَادِثَ لَا يَتَحَقَّقُ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ نئی پیش آنے والی تضعیف وہ پائی ہی نہیں جاتی ان کے نزدیک ”لِعَدَمِ تَغَيُّرِ الْوَظِيفَةِ“ وظیفے کے نہ بدلنے کی وجہ سے۔ یہاں تک مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
”وَلَوْ كَانَتِ الْأَرْضُ لِمُسْلِمٍ بَاعَهَا مِنْ نَصْرَانِيٍّ يُرِيدُ بِهِ ذِمِّيًّا غَيْرَ تَغْلِبِيٍّ وَقَبَضَهَا فَعَلَيْهِ الْخَرَاجُ“ مسئلہ یہ: ایک مسلمان کی زمین تھی اور اس کے اندر عشر واجب تھا، اس مسلمان نے وہ زمین کسی عیسائی کے ہاتھ فروخت کر دی، عیسائی کے ہاتھ، یعنی تغلبی کے علاوہ کسی دوسرے عیسائی پر فروخت کر دی یا کسی ذمی پر، اور اس عیسائی نے اس پر قبضہ کر لیا، تو یاد رکھیے اب وہ زمین عشری نہ رہے گی بلکہ کیا بن جائے گی؟ خراجی بن جائے گی۔ کیونکہ زکوٰۃ، جو عشر جو ہے وہ زکوٰۃ ہے، اور زکوٰۃ عبادت ہے، اور کافر جو ہے وہ عبادت کا اہل نہیں، تو اس سے خراج لیں گے کیونکہ خراج کیا ہے؟ خراج بطورِ سزا کے ہے، اور کافر سزا کے زیادہ لائق ہے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے ”وَلَوْ كَانَتِ الْأَرْضُ لِمُسْلِمٍ“ اور اگر زمین جو تھی وہ کسی مسلمان کی تھی ”بَاعَهَا مِنْ نَصْرَانِيٍّ“ اس نے اس کو بیچ دیا کسی عیسائی کے ہاتھ ”يُرِيدُ بِهِ ذِمِّيًّا غَيْرَ تَغْلِبِيٍّ“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ یہ جو نصرانی متن کے اندر آیا اس کے ذریعے ماتن نے ارادہ کیا ایسے ذمی کا جو تغلبی نہ ہو، جو تغلبی نہ ہو کیونکہ اس کا مسئلہ پیچھے ذکر ہو گیا۔ اور نصرانی سے یعنی عیسائی سے عیسائی ہی نہیں مراد، کوئی بھی ذمی مراد ہے، کوئی بھی غیر مسلم مراد ہے۔ تو اس نے خرید لی ”وَقَبَضَهَا“ اور اس نے اس زمین پر پھر قبضہ کر لیا خریدنے کے بعد ”فَعَلَيْهِ الْخَرَاجُ“ تو اس پر خراج ہو گا ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب کے نزدیک ”لِأَنَّهُ أَلْيَقُ بِحَالِ الْكَافِرِ“ اس لیے کیونکہ خراج زیادہ لائق ہے کافر کی حالت کے۔ ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْعُشْرُ مُضَاعَفًا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس پر عشر ہی ہوگا مضاعفاً، دگنا کرتے ہوئے ”وَيُصْرَفُ مَصَارِفَ الْخَرَاجِ“ اور اس کو اس دگنے عشر کو خرچ کیا جائے گا خراج کے مصرفوں میں۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ اس پر دگنا عشر ہوگا ”اعْتِبَارًا بِالتَّغْلِبِيِّ“ قیاس کرتے ہوئے تغلبی پر، کہ جیسے تغلبی سے دگنا عشر اس پر دگنا عشر ہو جاتا تھا تو ذمی بھی جب خریدے گا تو اس میں عشر کیا ہو جائے گا؟ دگنا ہو جائے گا۔ اور نیز اس کے مصارف بھی تو کہتے ہیں وہ خراج والے مصارف ہوں گے۔ بھئی زکوٰۃ تو فقراء کا مسکینوں کا حق ہے، لیکن خراج جو ہے یاد رکھیے یہ ان پر خرچ کی جاتی ہے جو دشمنانِ اسلام سے جو حربیوں سے لڑنے والے ہیں بھئی، جو حربیوں سے لڑنے والے ہیں جو مجاہدین وغیرہ ہیں بھئی، اسی طرح راستوں کی نگہبانی وغیرہ کا میں بھی اس کو راستوں کی حفاظت وغیرہ پر بھی اس کو خرچ کیا جائے گا۔ تو خراج کا مصرف کیا ہے؟ وہ جماعت ہے جو کس سے لڑنے والی ہے؟ کفار سے لڑنے والی ہے، اور اسی طرح راستوں کی حفاظت پر اس کو خرچ کیا جائے گا جبکہ زکوٰۃ وہ فقراء پر خرچ کی جاتی ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے عشر لیا جائے گا دگنا کر کے اور اس کو خراج کے مصرفوں میں خرچ کیا جائے گا ”اعْتِبَارًا بِالتَّغْلِبِيِّ“ وہ کس پر قیاس کرتے ہیں؟ تغلبی پر۔ ”وَهَذَا أَهْوَنُ مِنَ التَّبْدِيلِ“ اور یہ جو ہے زیادہ آسان ہے بدلنے سے۔ بدلنے سے یہ زیادہ آسان۔ ایک صورت یہ: ایک چیز کی ذات ہی بدل دی جائے، اور ایک صورت یہ ہے: ایک چیز کی ذات کو نہ بدلا جائے صرف صفت کو بدل دیا جائے۔ تو کس کو بدلنا آسان ہے زیادہ؟ صفت کو۔ تو بہتر یہ ہے کہ صرف صفت میں تبدیلی لائی جائے، ذات کو نہ بدلا جائے۔ اگر عشری زمین کو ذمی نے خریدا ہے اور کہا جائے کہ اب اس کو کیا دینا پڑے گا؟ عشری زمین تھی، کس نے خریدا؟ ذمی نے، اوپر متن میں کیا آیا اس کو کیا دینا پڑے گا؟ اب عشر وہ نہیں لیا جائے گا اس سے بلکہ کیا لیا جائے گا؟ خراج لیا جائے گا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس صورت میں تو ذات ہی بدل دی گئی، عشر کو کس سے بدل دیا گیا؟ خراج۔ اس کے بجائے صرف صفت کو بدلا جائے کہ عشر ہی رکھو، صرف اس کی صفت بدل دو یعنی مقدار دگنی کر دو۔ دلیل ان کی سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اسی لیے وہ کہتے ہیں خراج نہیں ائے گا، عشر ہی ائے گا لیکن کس طرح کا؟ دگنا کر کے۔ یہ معنی ہے ”وَهَذَا أَهْوَنُ مِنَ التَّبْدِيلِ“ اور یہ زیادہ آسان ہے تبدیل کرنے کے مقابلے میں۔
”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ هِيَ عُشْرِيَّةٌ عَلَى حَالِهَا“ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ زمین عشری ہی رہے گی اپنے حال پر، کیونکہ ان کے نزدیک مالک کے بدلنے سے وظیفہ نہیں بدلتا۔ ”لِأَنَّهُ صَارَ مُؤْنَةً لَهَا“ اس لیے کیونکہ عشر جو ہے وہ اس زمین کا خرچہ ہو گیا، اس کا وظیفہ ہو گیا ”فَلَا تَتَبَدَّلُ كَالْخَرَاجِ“ تو یہ بدلے گا نہیں جیسے کہ خراج ہے، وہ نہیں بدلتا۔ خراجی زمین اگر مسلمان بھی خریدے تو وہ کیا رہتی ہے؟ خراجی، جیسے وہاں وظیفہ نہیں بدلتا تو یہاں بھی نہیں بدلے گا۔ ”ثُمَّ فِي رِوَايَةٍ يُصْرَفُ مَصَارِفَ الصَّدَقَاتِ وَفِي رِوَايَةٍ مَصَارِفَ الْخَرَاجِ“ پھر ایک روایت کے مطابق یہ جو عشر ہے، جو کس سے لیا جا رہا ہے؟ ذمی سے، کس سے؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ذمی پر بھی عشر ہی رہے گا نا، تو یہ عشر جو اس سے لیا جائے گا، یہ ایک روایت کے مطابق ”يُصْرَفُ مَصَارِفَ الصَّدَقَاتِ“ اس کو صدقات یعنی زکوٰۃ کے مصرفوں میں یعنی فقراء پر خرچ کیا جائے گا ”وَفِي رِوَايَةٍ مَصَارِفَ الْخَرَاجِ“ اور ایک روایت کے مطابق کس پر خرچ کیا جائے گا؟ خراج کے مصرفوں پر۔
خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ مسلمان کی زمین تھی عشری، اس کو خرید لیا ذمی نے، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اب یہ زمین عشری نہ رہے گی بلکہ کیا بن جائے گی؟ خراجی۔ جب خراجی بن گئی تو خراج کا مصرف جو ہے وہیں پر اس کو خرچ کریں گے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ خراجی نہیں بنے گی بلکہ وہی عشر دگنا کر دیا جائے گا اس پر، ہاں البتہ خرچ اس کو اسی خراج والے مصارف پر اس کو خرچ کیا جائے گا بھئی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جیسے پہلے عشری تھی اب بھی کیا رہے گی جب جب ذمی نے خرید لیا؟ اب بھی کیا رہے گی؟ عشری ہی رہے گی۔ البتہ اس کو خرچ کہاں کیا جائے گا؟ اس سلسلے میں ان سے دو روایتیں منقول ہیں: ایک روایت کے مطابق کہ یہ عشر ہے تو اس کا مصرف وہی عشر والا رہے گا، فقراء پر خرچ ہوگی۔ اور دوسری روایت یہ ہے کہ یہ اگرچہ ہے عشر لیکن وصول کس سے کیا جا رہا ہے؟ ذمی سے، لہٰذا اس کو خرچ کس پر کیا جائے گا؟ خراج کے مصرفوں پر خرچ کیا جائے گا۔
”فَإِنْ أَخَذَهَا مِنْهُ مُسْلِمٌ بِشُفْعَةٍ أَوْ رُدَّتْ عَلَى الْبَائِعِ لِفَسَادِ الْبَيْعِ فَهِيَ عُشْرِيَّةٌ كَمَا كَانَتْ“ صورتِ مسئلہ یہ: کہ مسلمان نے اپنی زمین کسی ذمی کو بیچ دی اور پہلے وہ عشری تھی، اب کیا بن جائے گی؟ خراجی بن جائے گی، متن میں آ گیا، خراجی بن جائے گی۔ لیکن اس زمین کے ساتھ کا کوئی پڑوسی دوسرا مسلمان تھا، اس کی زمین ساتھ تھی، اس نے شفعہ کر دیا۔ شفعہ جانتے ہیں یا نہیں؟ بھئی شفعہ جو نہیں جانتے یاد رکھیں، شفعہ اسے کہتے ہیں کہ آپ کوئی زمین یا مکان وغیرہ بیچتے ہیں تو جو اس مکان یا زمین کے پڑوسی ہیں جن کے زمین اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے، یا جن کے مکان اس مکان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، ان کو شریعت نے حق دیا ہے وہ اس زمین کو جبراً لے سکتے ہیں، کیا کر سکتے ہیں؟ جبراً لے سکتے ہیں۔ معنی یہ ہے کہ جس آدمی نے یہ زمین مثلاً پچاس لاکھ کی خریدی ہے تو اس زمین کا جو پڑوسی ہے وہ اس نئے خریدار کو پچاس لاکھ دے کر اس سے یہ زمین لے لے گا۔ وہ بے شک نہ بیچنا چاہے، یہ قاضی کے پاس جا کر جبراً کیا کر سکتا ہے؟ زمین اس سے صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ قیمت اس کو اس کی پوری دے دے گا۔ ہاں، وہ بیچنا بے شک نہیں چاہتا لیکن یہ اس سے لے سکتا ہے، لے سکتا ہے۔ اور اس کی شرائط اور تفصیل وغیرہ وہ تو کتاب الشفعہ کے اندر اتی ہیں، بہرحال میں نے خلاصہ بیان کر دیا کہ اس طرح ہوتا ہے شفعہ کہ آپ کے ساتھ والی زمین بکی ہے، آپ کو پتہ چلا آپ شفعہ کر کے اس کو وہی پیسے دے کر آپ لے سکتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور وجہ اس کی یہ، کیونکہ جو نیا خریدار ائے گا وہ اپ کا پڑوسی بن جائے گا اور پڑوسی اگر اچھا ہو تو زندگی بڑی راحت سے گزرتی ہے، اور اگر پڑوسی برا آدمی ہو وہ تو ہر وقت سر پر سوار ہے اس سے تو پھر جان چھوٹنے کی کوئی صورت نہیں رہتی۔ لہٰذا جب آپ کے ساتھ والے نے اپنی زمین بیچی تو آپ کے ساتھ مثلاً زید کی زمین تھی، آپ زید کے پڑوس پر تو راضی ہیں، زید تو نیک آدمی ہے لیکن آگے خریدار پتہ نہیں کس قسم کا آتا ہے وہ کیسا پڑوسی بنتا ہے، تو شریعت نے آپ کو حق دے دیا، آپ کیا کر سکتے ہیں اس زمین کو؟ وہی پیسے دے کر آپ لے سکتے ہیں اس زمین کو تاکہ نئے پڑوسی سے بچ جائیں۔ اگر اچھا ہے تو پھر بے شک آنے دیں، لینا چاہتے ہیں تو آپ لے سکتے ہیں بھئی، آپ کو حق دیا ہے شریعت نے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
اچھا اب یاد رکھیے، مسلمان نے اپنی زمین بیچی کسی ذمی کو، اور اس میں اب کیا ا جائے گا؟ خراج۔ لیکن اس زمین کے ساتھ دوسرے مسلمان کی زمین تھی، اس نے شفعہ کر کے یہ زمین لے لی اس ذمی سے، اس ذمی سے لے لی۔ تو کیا اب یہ خراجی ہوگی یا یہ اب عشری بن جائے گی؟ پہلے عشری تھی، کس نے خریدی؟ ذمی نے، خراجی بن گئی، اور ادھر مسلمان نے شفعہ کر کے اس سے لے لیا، تو کیا اب یہ عشری ہوگی یا خراجی رہے گی؟ کہتے ہیں بھئی یہ عشری ہوگی، کون سی ہوگی؟ عشری۔ بھئی یہ تو خراجی بن گئی تھی اور ایک دفعہ جب زمین خراجی بن جائے تو پھر وہ عشری نہیں بنتی؟ کہتے ہیں نہیں، ابھی یوں کہیں خراجی بنی ہی نہیں ہے، کیونکہ یہ جو پڑوسی تھا اس کو شریعت نے شفعہ کا حق دیا ہے، تو اس کا حق ابھی زمین کے ساتھ وابستہ تھا، اس مسلمان کا حق کیا تھا؟ یہ جس نے شفعہ کرنا ہے اس کا حق اس زمین کے ساتھ وابستہ ہے تو جب تک اس کا حق وابستہ ہے ابھی زمین پورے طور پر ذمی کے پاس گئی ہی نہیں ہے، لہٰذا یہ عشری ہی رہے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
اسی میں دوسری صورت ہے کہ مسلمان نے اپنی زمین ذمی کو بیچی لیکن بیعِ فاسد کر لی یعنی مثلاً بیع میں کوئی شرط لگا دی اور بیع میں شرط لگائی جائے تو بیع کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد۔ تو اس نے بیع میں کوئی شرط لگا دی۔ اب پھر وہ زمین جو ہے وہ واپس مسلمان کے پاس آ گئی۔ بیعِ فاسد کے ساتھ ساتھ کس کو بیچی تھی؟ ذمی کو، اور ذمی کے پاس جاتی ہے زمین کیا بن جاتی ہے؟ خراجی۔ لیکن پھر بیعِ فاسد کی وجہ سے وہ زمین واپس ا گئی کس کے پاس؟ مسلمان کے پاس ا گئی، تو کیا اب یہ خراجی رہے گی یا عشری؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ بھی عشری ہی رہے گی اس لیے کیونکہ یہ بیعِ فاسد ہوئی تھی تو ابھی بھی اس مالک کا حق تھا اس زمین کے ساتھ، یا یوں کہیں یہ کیونکہ ابھی بھی یہ بیع مستحق تھی کہ اس کو رد کیا جائے، کیا کیا جائے؟ رد، کیونکہ کون سی بیع ہوئی ہے؟ بیعِ فاسد ہوئی ہے، اور بیعِ فاسد کے اندر واجب ہے رد واجب ہے بھئی، اس کو فسخ کرنا اور ختم کرنا ضروری ہے۔ تو لہٰذا ابھی بھی اس کا حق اس زمین کے ساتھ وابستہ تھا، جب ابھی بھی حق وابستہ تھا تو یہ پورے طور پر خراجی نہ بنی، لہٰذا یہ عشری ہی رہے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟
یہ معنی ہے ”فَإِنْ أَخَذَهَا مِنْهُ مُسْلِمٌ“ پس اگر اس زمین کو لے لیا اس ذمی سے کسی مسلمان نے ”بِشُفْعَةٍ“ شفعہ کی وجہ سے، ایک صورت یہ۔ ”أَوْ رُدَّتْ عَلَى الْبَائِعِ لِفَسَادِ الْبَيْعِ“ یا وہ زمین بائع پر لوٹا دی گئی بیع کے فاسد ہونے کی وجہ سے ”فَهِيَ عُشْرِيَّةٌ كَمَا كَانَتْ“ تو یہ عشری ہی ہے جیسے کہ یہ تھی۔ ”أَمَّا الْأَوَّلُ“ باقی پہلی صورت جس میں شفعہ کی وجہ سے وہ لیتا ہے پھر بھی وہ کیا رہتی ہے؟ عشری رہتی ہے، اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں: ”فَلِتَحَوُّلِ الصَّفْقَةِ إِلَى الشَّفِيعِ“ یہ صفقہ لفظ ہے بھئی، صفت کتابت کی غلطی ہے۔ ”فَلِتَحَوُّلِ الصَّفْقَةِ إِلَى الشَّفِيعِ“ اس وجہ سے کیونکہ صفقہ کہتے ہیں عقد کو بھئی، اس لیے کیونکہ وہ عقد پھر گیا، پلٹ گیا ”إِلَى الشَّفِيعِ“ کس کی طرف؟ شفیع کی طرف۔ بھئی مسلمان سے زمین خریدی کس نے تھی؟ ذمی نے، اور پھر دوسرے مسلمان نے شفعہ کر کے اس سے لے لی، تو یوں سمجھا جائے گا وہ جو عقد مسلمان نے پہلے مسلمان نے ذمی کے ساتھ کیا تھا وہ عقد پلٹ کر کس کی طرف چلا گیا؟ مسلمان کی طرف پلٹ کر چلا گیا، تو گویا اس نے مسلمان ہی کو زمین بیچی ہے ذمی کو بیچی ہی نہیں ہے، تو لہٰذا جب مسلمان کو بیچی ہے تو کیا رہے گی؟ عشری رہے گی۔ یہ معنی ہے ”فَلِتَحَوُّلِ الصَّفْقَةِ إِلَى الشَّفِيعِ“ اس وجہ سے کہ عقد جو ہے وہ پلٹ گیا شفیع مسلمان شفیع کی طرف ”كَأَنَّهُ اشْتَرَاهَا مِنَ الْمُسْلِمِ“ تو گویا کہ اس نے اس زمین کو مسلمان ہی سے خریدا ہے، ذمی سے خریدا ہی نہیں۔
”وَأَمَّا الثَّانِي“ اور باقی دوسری صورت میں جس میں بیعِ فاسد کی وجہ سے زمین لوٹائی گئی تھی، تو دوسری صورت میں ”فَلِأَنَّهُ بِالرَّدِّ وَالْفَسْخِ بِحُكْمِ الْفَسَادِ جُعِلَ الْبَيْعُ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ“ اس لیے کیونکہ واپس کرنے کی وجہ سے ”وَالْفَسْخِ“ اور فسخ کرنے کی وجہ سے ”بِحُكْمِ الْفَسَادِ“ کس وجہ سے؟ فساد کے حکم کی وجہ سے جو فسخ کرنا اور رد کرنا ہے، ”جُعِلَ الْبَيْعُ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ“ تو بیع کو اسی طرح قرار دیا جائے گا گویا کہ بیع ہوئی ہی نہیں۔ ”وَلِأَنَّ حَقَّ الْمُسْلِمِ لَمْ يَنْقَطِعْ بِهَذَا الشِّرَاءِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ اس مسلمان کا حق وہ منقطع نہیں ہوا ”بِهَذَا الشِّرَاءِ“ اس شراء کی وجہ سے، اس خرید کی وجہ سے۔ بھئی جس نے مسلمان نے کس کو بیچی؟ ذمی کو، اور کس قسم کا عقد کیا؟ بیعِ فاسد کی، تو جب بیعِ فاسد کی اس کے اندر بیع کو رد کرنا ضروری ہوتا ہے، اس کو فسخ کرنا ضروری ہوتا ہے، تو جب اس کے اندر فسخ ضروری ہوا تو ابھی بھی مسلمان کا حق اس زمین سے منقطع نہیں ہوا، کٹا نہیں ہے بلکہ کیا ضروری ہے کہ وہ زمین اس پر واپس لوٹائی جائے بھئی۔ یہ معنی ہے ”وَلِأَنَّ حَقَّ الْمُسْلِمِ لَمْ يَنْقَطِعْ بِهَذَا الشِّرَاءِ“ اس لیے کیونکہ مسلمان کا حق وہ منقطع نہیں ہوا اس شراء کی وجہ سے ”لِكَوْنِهِ مُسْتَحِقَّ الرَّدِّ“ اس لیے کیونکہ یہ شراء کیا ہے؟ مستحق الرد ہے کہ اس کو واپس کیا جائے، لوٹایا جائے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔