قَالَ: وَيُؤْخَذُ مِنَ الْمُسْلِمِ رُبُعُ الْعُشْرِ، وَمِنَ الذِّمِّيِّ نِصْفُ الْعُشْرِ، وَمِنَ الْحَرْبِيِّ الْعُشْرُ، هَكَذَا أَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سُعَاتَهُ، وَإِنْ مَرَّ حَرْبِيٌّ بِخَمْسِينَ دِرْهَمًا لَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَكُونُوا يَأْخُذُونَ مِنَّا مِنْ مِثْلِهَا.
قَالَ: قَالَ سے مراد ہیں امام محمد رحمہ اللہ، اس لیے کیونکہ یہ باب جو ہم پڑھ رہے ہیں یہ قدوری کے اندر یہ باب ذکر نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح جو اگلا باب آ رہا ہے وہ بھی قدوری کے اندر نہیں ہے۔ تو یہ معلوم ہوا صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ میں نے اس متن کو ترتیب دیا ہے کس سے اخذ کرتے ہوئے؟ قدوری اور جامع صغیر سے۔ تو قدوری میں تو یہ نہیں، معلوم ہوا یہ جامع صغیر سے انہوں نے لیا، اور جامع صغیر کس کی تصنیف ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کی، تو معلوم ہوا وہ مراد ہیں قَالَ سے۔
تو وہ فرماتے ہیں: وَيُؤْخَذُ مِنَ الْمُسْلِمِ رُبُعُ الْعُشْرِ اور لیا جائے گا مسلمان سے عشر کا چوتھا حصہ۔ اور عشر کا چوتھا حصہ یہ کتنا ہوتا ہے؟ چالیسواں۔ بھئی دیکھیے مثلاً بھئی، آپ کے پاس چالیس روپے ہیں۔ یہ چالیس روپے آپ دس آدمیوں میں تقسیم کر دیں تو ایک ایک آدمی کو کتنا ملے گا؟ چار چار روپے۔ تو یہ عشر ہے، دیکھو دس آدمیوں میں چالیس تقسیم کیا تو ایک آدمی کو کتنا ملا؟ چار، تو یہ چار ہوا عشر چالیس کا۔ اور پھر اس چار کا چوتھا حصہ نکالیں، اس چار کو پھر اگلے چار آدمیوں میں اگر تقسیم وہ کرے تو چار آدمیوں میں میں سے ہر ایک کو کتنا ملے گا؟ ایک۔ تو یہ جو ایک ہے یہ اس عشر کا کتنا ہے؟ اس چار کا چوتھا ہے۔ لیکن چالیس میں سے یہ ایک ہے یعنی اس کا چالیسواں حصہ ہے۔ تو معلوم ہوا ربعِ عشر یہ دراصل کس حصے کا نام ہے؟ چالیسویں حصے کا نام ہے۔ دیکھو عشر کا چوتھا حصہ ہم نے نکالا اور وہ ایک روپیہ بن رہا ہے اور عشر تو تھا چالیس کا، تو معلوم ہوا یہ ایک اس چالیس کا کتنا حصہ بن رہا ہے؟ چالیسواں حصہ، تو یہ ربعِ عشر چالیسویں حصے کا نام ہے۔
تو کہتے ہیں: وَيُؤْخَذُ مِنَ الْمُسْلِمِ رُبُعُ الْعُشْرِ اور لیا جائے گا مسلمان سے چالیسواں حصہ، یعنی وہ زکوٰۃ ہے بھئی، اور زکوٰۃ میں بھی چالیسواں حصہ لیا جاتا ہے۔ اور میں نے آپ کو بتایا تھا ذمی سے اس کا دگنا لیا جائے گا، تو مسلمان سے ہے ربعِ عشر، اور ربعِ عشر کتنا ہے چالیس میں سے؟ چالیس کا ربعِ عشر کتنا ہے؟ چالیسواں حصہ کتنا ہے؟ ایک ہے ایک۔ اسی ایک کے دگنا کر دیں، دو بن گیا، تو یہ دگنا لیا جائے گا کس سے؟ ذمی سے۔ اور یہ دو اس عشر یعنی چار کا کتنا تھا؟ کتنا ہے؟ دو چار کا کتنا ہے؟ نصف، تو اس کو کہیں گے نصفِ عشر، یعنی اور یا یوں کہیں اسی مسلمان سے جو لیا اس کا دگنا ہے۔
یہ معنیٰ ہے: وَمِنَ الذِّمِّيِّ نِصْفُ الْعُشْرِ اور ذمی سے نصفِ عشر لیا جائے گا، یعنی اس سے بیسواں حصہ لیا جائے گا۔ وَمِنَ الْحَرْبِيِّ الْعُشْرُ اور حربی سے عشر لیا جائے گا دسواں حصہ، یعنی جو ذمی سے لیا اس کا بھی دگنا۔ مسلمان سے لیا چالیس میں سے ایک، ذمی سے لیا اس کا دگنا یعنی چالیس میں سے دو، اور یہ دو کیا ہے چالیس کا؟ بیسواں حصہ۔ اور حربی سے اس کا بھی دگنا لیں گے، اور دو کا دگنا کیا؟ چار، اور چار چالیس کا کیا ہے؟ دسواں حصہ یعنی عشر ہے۔ یہ معنیٰ ہے: وَمِنَ الْحَرْبِيِّ الْعُشْرُ اور حربی سے عشر لیا جائے گا۔
هَكَذَا أَمَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سُعَاتَهُ اسی طرح حکم دیا تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سُعَاتَهُ اپنے ساعیوں کو، سعاة جمع ہے ساعی کی، تو جو ان کے ساعی تھے زکوٰۃ وصول کرنے والے تھے ان کو اسی طرح حضرت عمر نے حکم دیا تھا کہ مسلمان سے چالیسواں حصہ، ذمی سے بیسواں حصہ اور حربی سے دسواں حصہ۔
وَإِنْ مَرَّ حَرْبِيٌّ بِخَمْسِينَ دِرْهَمًا اور اگر حربی گزرا عاشر پر بِخَمْسِينَ دِرْهَمًا پچاس درہم کے ساتھ، لَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُ شَيْءٌ تو اس سے کچھ نہیں لیا جائے گا، پچاس درہموں میں سے کچھ نہیں لیا جائے گا۔ إِلَّا أَنْ يَكُونُوا يَأْخُذُونَ مِنَّا مِنْ مِثْلِهَا مگر یہ کہ وہ بھی لیتے ہوں ہم سے مِّنْ مِثْلِهَا اس جیسے اس کے مثل مال میں سے۔ یعنی اگر وہ بھی ہمارے تاجروں کے پاس اگر پچاس درہم ہوں تو اس سے بھی کیا لیتے ہیں؟ کچھ وصول کرتے ہیں تو پھر ہم بھی اسی کے مثل لیں گے۔ اگر ان کے ملک میں ایسا ہے کہ وہ ہمارے تاجر کے پچاس درہموں میں سے بھی لیتے ہیں تو پھر ہم بھی کیا کریں گے؟ ان سے اسی کے بقدر لیں گے، ویسے ورنہ اگر وہ نہیں لیتے تو ہم بھی نہیں لیں گے۔
وجہ اس کی کہتے ہیں: لِأَنَّ الْأَخْذَ مِنْهُ بِطَرِيقِ الْمُجَازَاةِ اس لیے کیونکہ ان سے لینا یعنی حربیوں سے لینا جو ہے مجازات یعنی بدلے کے طریقے پر ہے، جتنا وہ لیتے ہیں ہم بھی بدلے کے طور پر اتنا ہی ان کے تاجروں سے لیں گے۔ بِخِلَافِ الْمُسْلِمِ وَالذِّمِّيِّ بخلاف مسلم اور ذمی کے، لِأَنَّ الْمَأْخُوذَ زَكَاةٌ أَوْ ضِعْفُهَا اس لیے کیونکہ وہ جو لیا جاتا ہے وہ زکوٰۃ ہے یا اس کا دگنا ہے۔ زکوٰۃ ہے یہ کس سے لی جائے گی؟ مسلمان سے، اور اس کا زکوٰۃ کا دگنا یہ کس سے لیا جائے گا؟ ذمی سے۔ اس لیے کیونکہ مسلمان اور ذمی جو ہیں ان سے جو لیا جاتا ہے وہ زکوٰۃ ہے یعنی چالیسواں حصہ، أَوْ ضِعْفُهَا یا اس کا دگنا جو ذمی سے لیا جاتا ہے۔ فَلَا بُدَّ مِنَ النِّصَابِ تو ضروری ہے اس کے لیے نصاب کا ہونا، اور یہاں تو کتنے درہم لے کر گزرا ہے؟ مثلاً پچاس درہم، تو ان سے نہیں لیا جائے گا کیونکہ پچاس درہم تو نصاب کو نہیں پہنچ رہے۔ تو مسلمان سے پچاس درہم میں کچھ نہیں لیا جائے گا کیونکہ یہ نصاب کو نہیں پہنچ رہا، اور ذمی سے مسلمان کی بنسبت دگنا لیا جاتا تھا لیکن جب مسلمان سے یہاں کچھ نہیں تو ذمی سے بھی کچھ نہیں ہوگا بھئی۔
وَهَذَا فِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ اور یہ جامع صغیر کے اندر ہے بھئی، میں نے بھی آپ کو بتلایا تھا کہ یہ باب قدوری میں نہیں ہے بلکہ کہاں سے انہوں نے لیا؟ جامع صغیر۔ تو کہتے ہیں یہ جامع صغیر میں ہے۔ وَفِي كِتَابِ الزَّكَاةِ اور کتاب الزکوٰۃ کے اندر یعنی مبسوط کی جو کتاب الزکوٰۃ ہے اس کے اندر امام محمد فرماتے ہیں: لَا تَأْخُذُوا یہ تا ہے آپ کی کتابوں میں، تا نہیں بھئی یہ کتابت کی غلطی ہے، یہ نون ہے نون: لَا نَأْخُذُ مِنَ الْقَلِيلِ وَإِنْ كَانُوا يَأْخُذُونَ مِنَّا مِنْهُ۔ تو مبسوط کی کتاب الزکوٰۃ میں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَا نَأْخُذُ مِنَ الْقَلِيلِ کہ قلیل میں سے ہم نہیں لیں گے، وَإِنْ كَانُوا يَأْخُذُونَ مِنَّا مِنْهُ اگرچہ وہ ہم سے لیتے ہوں مِنْهُ أَيْ مِنَ الْقَلِيلِ، کس میں سے؟ قلیل میں سے۔ یہاں پر تو امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم بھی ان سے لیں گے اگر وہ پچاس درہم بھی ہمارے تاجروں کے معاف نہیں کرتے اس میں سے وہ دار الحرب والے ہمارے تاجروں سے لیتے ہیں تو ہم بھی بدلے کے طور پر ان سے لیں گے، جبکہ کتاب الزکوٰۃ کے اندر کیا وہ فرماتے ہیں؟ کہ بے شک وہ لیتے ہوں پھر بھی ہم نہیں لیں گے بھئی، تو دونوں صورتیں یہاں ذکر ہو گئیں بھئی۔
تو کہتے ہیں لَا نَأْخُذُ ہم نہیں لیں گے مِنَ الْقَلِيلِ تھوڑے میں سے، وَإِنْ كَانُوا يَأْخُذُونَ مِنَّا مِنْهُ اگرچہ وہ ہم سے اس تھوڑے میں سے بھی لیتے ہوں۔ لِأَنَّ الْقَلِيلَ لَمْ يَزَلْ عَفْوًا، دلیل بھی ذکر کر دی: لِأَنَّ الْقَلِيلَ لَمْ يَزَلْ عَفْوًا اس لیے کیونکہ تھوڑا جو ہے وہ ہمیشہ معاف ہوتا ہے۔ تھوڑا مال جو ہوتا ہے وہ ہمیشہ معاف ہوتا ہے۔ وَلِأَنَّهُ لَا يَحْتَاجُ إِلَى الْحِمَايَةِ اور نیز اس لیے کیونکہ وہ حفاظت کا محتاج بھی نہیں۔ تھوڑے مال کے حفاظت کی اتنی ضرورت بھی نہیں، ہاں زیادہ مال ہو تو پھر اس کی حفاظت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس کی کیا وجہ ذکر کر دی؟ کیونکہ تھوڑا معاف ہوتا ہے اور نیز اس میں حفاظت کی ضرورت بھی نہیں، اور جو ہم وصول کرتے تھے وہ کس وجہ سے وصول کرتے تھے؟ حفاظت کے لیے وصول کرتے۔ اور دوسرے قول کی وجہ بھی آ گئی کہ اگر پچاس میں وہ ہم سے لیتے ہیں تو ہم بھی لیں گے کیونکہ یہ وصول کرنا کس طریقے پر ہے؟ بدلے کے طور پر ہے، وہ ہم سے لیتے ہیں اتنے مال میں تو ہم بھی ان سے لیں گے۔
قَالَ: وَإِنْ مَرَّ حَرْبِيٌّ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ وَلَا يَعْلَمُ كَمْ يَأْخُذُونَ مِنَّا يَأْخُذُ مِنْهُ الْعُشْرَ۔ صورت یہ بھئی: حربی مال لے کر گزرا بھئی دو سو درہم، اور دو سو درہم تو نصاب ہے۔ یعنی زیادہ مال لے کر گزرا۔ اور اب ہمارے عاشر ہمارا عاشر اتنا ہی لے گا جتنا وہ ہمارے دو سو درہم میں سے لیتے ہیں، دار الحرب میں جتنا ہم سے لیتے ہیں ہم بھی اتنا ہی لیں گے، اور اس عاشر کو نہیں پتا کہ وہ کتنا لیتے ہیں تو اگر اس کو علم نہیں پتا نہیں چل سکتا کسی صورت میں یہاں پر تو پھر کہتے ہیں عشر ہی لے لے گا یہ۔ کتنا لے لے گا؟ عشر ہی لے لے گا، کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی طرح فرمایا ہے۔
تو کہتے ہیں: وَإِنْ مَرَّ حَرْبِيٌّ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ اگر حربی دو سو درہم کے ساتھ گزرا، وَلَا يَعْلَمُ كَمْ يَأْخُذُونَ مِنَّا اور یہ عاشر نہیں جانتا کہ وہ دار الحرب والے ہم سے کتنا لیتے ہیں، فَيَأْخُذُ مِنْهُ الْعُشْرَ تو اس سے عشر لے لے گا اس حربی سے، لِقَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ بہ وجہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمانِ مبارک کے، آپ نے فرمایا: فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَالْعُشْرُ۔ أَعْيَا کے معنیٰ تھکا دینے، فَإِنْ أَعْيَاكُمْ اگر تمہیں تھکا دے، فَالْعُشْرُ تو پھر عشر ہے، یعنی عشر لے لو۔ تھکا دے، کیا چیز؟ یہ معلوم کرنا کہ وہ ہم سے کتنا لیتے ہیں، اگر یہ تمہیں تھکا دے تم عاجز آ جاؤ تمہیں پتا نہ چل سکے کہ کتنا ہم سے لیتے ہیں وہ دار الحرب والے تو پھر کیا لے لو؟ عشر لے لو۔ یہ معنیٰ ہے: فَإِنْ أَعْيَاكُمْ اگر تمہیں یہ معلوم کرنا تھکا دے، فَالْعُشْرُ تو عشر ہے۔
وَإِنْ عَلِمَ أَنَّهُمْ يَأْخُذُونَ مِنَّا رُبُعَ الْعُشْرِ أَوْ نِصْفَ عُشْرٍ يَأْخُذُ بِقَدْرِهِ اور اگر عاشر جانتا ہے کہ وہ لیتے ہیں ہم سے ربعِ عشر یعنی چالیسواں حصہ، أَوْ نِصْفَ عُشْرٍ یا بیسواں حصہ لیتے ہیں، يَأْخُذُ بِقَدْرِهِ تو یہ عاشر بھی اسی کے بقدر لے لے، جتنا دار الحرب والے ہمارے تاجروں سے لیتے ہیں تو یہ عاشر بھی حربی سے اسی کے بقدر لے لے۔ وَإِنْ كَانُوا يَأْخُذُونَ الْكُلَّ لَا يَأْخُذُ الْكُلَّ اور اگر وہ سارا ہی مال لے لیتے ہیں دار الحرب والے ہمارے تاجر سے سارا کچھ ہی چھین لیتے ہیں، لَا يَأْخُذُ الْكُلَّ تو یہ ہمارا عاشر سارا مال ان سے نہ لے بھئی، لِأَنَّهُ غَدْرٌ اس لیے کیونکہ یہ دھوکا ہے۔ غدر کہتے ہیں دھوکے کو، عہد شکنی کو، عہد کو وعدے کو توڑنا۔ بھئی جب یہ حربی دار الحرب سے آیا تھا دار الاسلام میں تو امان لے کر آیا ہے یا بغیر امان کے؟ امان لے کر آیا ہے، جب ہم نے امان دے دی تو اس کا معنیٰ کیا ہے؟ اس کے جان و مال کی حفاظت کی جائے گی، اس کا جان و مال محفوظ ہے، تو اگر ہم اس سے سارا مال لے لیں تو ہم نے وعدہ پورا کیا یا عہد شکنی کر دی؟ عہد شکنی کر دی، ہم نے تو کہا تھا جان و مال محفوظ ہے اس کا، آ جائے اس کو امان ہے، اور اب ہم کیا کر رہے ہیں؟ اس کا سارا مال لے لیتے ہیں تو یہ عہد شکنی ہے اور دھوکا ہے، لہٰذا سارا مال وہ چاہے لیتے بھی ہوں ہم نہیں لیں گے۔ یہ معنیٰ ہے: وَإِنْ كَانُوا يَأْخُذُونَ الْكُلَّ لَا يَأْخُذُ الْكُلَّ اگر وہ سارا مال لے لیتے ہیں تو یہ عاشر سارا مال نہیں لے گا، لِأَنَّهُ غَدْرٌ کیونکہ یہ دھوکا ہے، یا یوں کہیں لِأَنَّهُ غَدْرٌ کیونکہ یہ عہد شکنی ہے۔
وَإِنْ كَانُوا لَا يَأْخُذُونَ أَصْلًا لَا يَأْخُذُ اور اگر وہ سرے سے کچھ لیتے ہی نہیں ہیں، نہ چالیسواں حصہ لیتے ہیں بلکہ ہمارے جو تاجر جتنا مال لے کر جاتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں لیتے ہم سے، لَا يَأْخُذُ تو ہمارا عاشر جو ہے یہ بھی کچھ نہ لے بھئی۔ لِيَتْرُكُوا الْأَخْذَ مِنْ تُجَّارِنَا تاکہ وہ اسی طرح لینا چھوڑے رکھیں ہمارے تاجروں سے، جیسے اب نہیں لیتے آگے بھی اسی طرح نہ لیتے رہیں۔ وَلِأَنَّا أَحَقُّ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ اور نیز اس لیے کیونکہ ہم اخلاق، بلند اخلاقی اوصاف کے زیادہ لائق ہیں۔ جب وہ اتنے اعلیٰ اخلاق ہیں ان کا کہ ہمارے تاجروں سے کچھ نہیں لیتے تو ہم زیادہ لائق ہیں کس کے؟ بلند اخلاق کے کہ ہم ان سے بطریقِ اولیٰ کچھ نہ لیں بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
قَالَ: وَإِنْ مَرَّ الْحَرْبِيُّ عَلَى عَاشِرٍ فَعَشَّرَهُ ثُمَّ مَرَّ مَرَّةً أُخْرَى لَمْ يُعَشِّرْهُ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ۔ اور اگر حربی گزرا عَلَى عَاشِرٍ کسی عاشر پر فَعَشَّرَهُ اس نے عشر وصول کر لیا، ثُمَّ مَرَّ مَرَّةً أُخْرَى پھر وہ حربی دوبارہ گزرا اس عاشر پر، لَمْ يُعَشِّرْهُ تو دوبارہ اس سے عشر نہ لے، حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ یہاں تک کہ اس پر کیا گزر جائے؟ ایک سال۔ ایک سال میں ایک دفعہ لینا ہے بس، ایک دفعہ لے چکا ہے دوبارہ گزرا ہے تو دوبارہ نہ لے۔
وجہ اس کی، دوبارہ کیوں نہیں لے گا؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ الْأَخْذَ فِي كُلِّ مَرَّةٍ اسْتِئْصَالُ الْمَالِ اس لیے کیونکہ ہر مرتبہ میں عشر لینا اسْتِئْصَالُ الْمَالِ، استئصال کہتے ہیں کسی چیز کو جڑ سے ختم کر دینا، سرے سے بالکل پورے طور پر اس کو نیست و نابود کر دینا، مراد یہاں اس سے استہلاک ہے بھئی، کیا مراد ہے؟ استہلاک۔ اس لیے کیونکہ یہ عشر لینا فِي كُلِّ مَرَّةٍ ہر مرتبہ میں اسْتِئْصَالُ الْمَالِ یہ تو مال کو ہلاک کرنا ہے۔ یہ تو ہم سارا اس کا مال ہی کیا کر رہے ہیں بیچارے کا؟ پورا مال ہی نیست و نابود کر رہے ہیں۔ ہم نے امان دی ہوئی ہے کہ تم آؤ تمہارا مال بھی محفوظ اور تمہاری جان بھی محفوظ، اور ایک دفعہ ہم نے عشر لے لیا، دسواں حصہ اچھا خاصا ہوتا ہے، پھر دوبارہ دسواں حصہ لے رہے ہو بھئی، یہ تو اس کے مال ہی کو کیا کیا جا رہا ہے؟ ہلاک کیا جا رہا ہے۔ وَحَقُّ الْأَخْذِ لِحِفْظِهِ اور لینے کا حق تو کس لیے تھا؟ حفاظت کے لیے تھا، نہ یہ کہ اس کے مال کو کیا کر دیا جائے؟ ہلاک کر دیا جائے۔ تو وَحَقُّ الْأَخْذِ لِحِفْظِهِ اور لینے کا حق تو حفاظت کے لیے ہے۔
وَلِأَنَّ حُكْمَ الْأَمَانِ الْأَوَّلِ بَاقٍ، وَبَعْدَ الْحَوْلِ يَتَجَدَّدُ الْأَمَانُ، اور نیز اس لیے کیونکہ پہلے امان کا حکم باقی ہے۔ پہلے امان کا؟ حکم باقی ہے۔ بھئی جب وہ آیا تھا کیا لے کر آیا؟ امان لے کر آیا، اور اس امان کا حکم باقی ہے، اور سال جب گزرے گا تو امان نیا بن جائے گا، امان کیا ہے؟ نیا ہو جائے گا، تو پھر اس کے بعد اس سے دوبارہ لیا جائے گا لیکن سال گزرنے سے پہلے نہیں لیا جائے گا۔ یہ معنیٰ ہے: وَلِأَنَّ حُكْمَ الْأَمَانِ الْأَوَّلِ بَاقٍ اس لیے کیونکہ پہلے امان کا حکم باقی ہے، جب اسی سال میں دوبارہ گزر رہا ہے تو وہی پہلا ہی امان ہے اور اسی کا حکم باقی ہے، وَبَعْدَ الْحَوْلِ يَتَجَدَّدُ الْأَمَانُ اور سال گزرنے کے بعد پھر امان نیا ہو جائے گا، پھر نیا ہو جائے گا پھر دوبارہ اس سے عشر لیا جائے گا بھئی۔
لِأَنَّهُ لَا يُمَكَّنُ مِنَ الْمُقَامِ إِلَّا حَوْلًا، لِأَنَّهُ لَا يُمَكَّنُ اس لیے کیونکہ حربی کو قدرت نہیں دی جائے گی مِنَ الْمُقَامِ، مقام یاد رکھیے یہ مصدرِ میمی ہے، أَقَامَ يُقِيمُ إِقَامَةً سے، تو یہ بمعنیٰ اقامت کے ہوا، اس لیے کیونکہ اس کو قدرت نہیں دی جائے گی مِنَ الْإِقَامَةِ رہنے کی، إِلَّا حَوْلًا مگر ایک سال، مگر؟ توجہ ہے بھئی؟ یہ ذرا مشکل مقام ہے بھئی۔ اس لیے کیونکہ اس کو قدرت نہیں دی جائے گی اقامت کی إِلَّا حَوْلًا مگر ایک سال۔ یاد رکھو مسئلہ یہ ہے کہ دار الحرب سے جب کوئی حربی دار الاسلام میں امان لے کر داخل ہوتا ہے تو اس کو پورا سال مملکتِ اسلامیہ کے اندر رہنے کی اجازت نہیں، سال سے کم کم رہنے کی اجازت ہے اور پھر اس کو واپس جانا پڑے گا۔ دو مہینے رہے، چار مہینے رہے، چھ مہینے رہے، دس مہینے، گیارہ مہینے رہے، سال پورا رہنے کی اس کو اجازت نہیں ہے بھئی، سال پورا رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور اس کو کہہ دیا جائے گا اگر تم یہاں پورا سال رہے تو تم ذمی بن جاؤ گے، پھر تمہیں دار الحرب جانے کی واپس اجازت نہیں ہوگی، تمہیں یہیں ذمی بن کر زندگی گزارنا پڑے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حربی جب بھی دار الاسلام آئے اس کو ایک سال رہنے کی اجازت نہیں، اس سے کم کم رہنے کی اجازت ہوتی ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ اگر اس کو ہم اجازت دے دیں زیادہ عرصہ رہنے کی تو یہ یہاں کی زبان سیکھ لے گا، یہاں کے طور طریقے سیکھ لے گا، یہاں لوگوں سے تعلقات بنا لے گا اور پھر جاسوسی کرے گا بھئی، تو لہٰذا اس کو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی بھئی، اجازت نہیں۔ سال سے کم رہ سکتا ہے، سال نہیں۔ سال گزر گیا اور یہ نہیں گیا تو بس اب اس کو کیا بنا دیا جائے گا؟ ذمی، بس اب نہیں جا سکتے یہیں پر ہمیں سالانہ ٹیکس دو اور یہیں پر رہو گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے ذرا عبارت پر آئیے، صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ وہ فرماتے ہیں: لِأَنَّهُ لَا يُمَكَّنُ مِنَ الْمُقَامِ أَيْ مِنَ الْإِقَامَةِ اس لیے کیونکہ اس کو قدرت نہیں دی جائے گی رہنے کی إِلَّا حَوْلًا مگر ایک سال۔ کیا معلوم ہو رہا ہے؟ اس لیے کیونکہ اس کو ایک سال ہی رہنے کی اجازت دی جائے گی۔ اور مسئلہ کیا میں نے بتایا؟ ایک سال رہنے کی تو اجازت نہیں دی جائے گی، تو یہ عبارت درست نہیں ہے، تمام شارحین یہاں لکھتے ہیں بھئی کہ یہ عبارت صحیح نہیں۔ اور معلوم ہوا کہ یہ کسی لکھنے والے سے غلطی ہوئی ہے یہاں کچھ بھئی، غلطی ہوئی ہے۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا؟ کتابت کی کوئی غلطی ہوئی ہے کسی سے ابتداء کے اندر ہی کہیں اور پھر وہی نسخہ پھیل گیا اور شائع ہوا تو یہ، تو البتہ یہ لفظ غلط ہے۔ اب کیا اب اس کی اصلاح کس طرح کی جائے؟
تو بعض نے کہا، بعض کہتے ہیں کہ یہ لَا يُمَكَّنُ سے لَا کو ختم کر دیں۔ لَا کو ختم کر دیں پھر عبارت صحیح ہو جائے گی: لِأَنَّهُ يُمَكَّنُ مِنَ الْمُقَامِ إِلَّا حَوْلًا، اب ترجمہ کیا ہوا؟ اس لیے کیونکہ حربی کو قدرت دی جائے گی رہنے کی إِلَّا حَوْلًا سوائے سال کے۔ یعنی سال نہیں رہ سکتا سال سے کم۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اس کو قدرت دی جائے گی رہنے کی مگر ایک سال، یعنی اس کی اجازت نہیں ہوگی، تو ایک سال سے کم کم رہنے کی اجازت۔ عبارت صحیح ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟
بعضوں نے دوسری صورت میں اصلاح کی، انہوں نے کہا یہ إِلَّا جو ہے یہ بس کسی کاتب کی غلطی ہے، یہ لفظ نکال دیں تو عبارت صحیح ہو جاتی ہے۔ اب وہ لَا باقی ہے اور کس کو ختم کرنا ہے؟ إِلَّا، اب دیکھیے: لِأَنَّهُ لَا يُمَكَّنُ مِنَ الْمُقَامِ حَوْلًا، إِلَّا ختم کر دیا ہم نے۔ اس لیے کیونکہ اس کو قدرت نہیں دی جائے گی رہنے کی حَوْلًا پورا سال، پورا سال رہنے کی قدرت نہیں دی جائے گی۔ اب عبارت صحیح ہو گئی یا نہیں ہو گئی؟
بعضوں نے تیسرا جواب دیا، کہتے ہیں حَوْلًا سے مراد قَرِيبٌ مِّنَ الْحَوْلِ لے لیں۔ حول سے سال سے کیا مراد لے لیں؟ قَرِيبٌ مِّنَ الْحَوْلِ جو سال کے قریب ہے لیکن پورا نہیں سال سے کم ہے۔ تو اب پھر اسی طرح معنیٰ صحیح بن جاتا ہے کہ اس کو قدرت نہیں دی جائے رہنے کی إِلَّا قَرِيبًا مِّنَ الْحَوْلِ مگر ایک سال کے قریب بس، صرف اسی کے ایک سال کے قریب ہی رہ سکتا ہے پورا سال نہیں رہ سکتا۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب اس پر اشکال ہوتا ہے۔ اب اشکال ہوتا ہے کہ صاحبِ ہدایہ دلیل ذکر کر رہے ہیں، کس چیز کی؟ اوپر متن میں کیا آیا؟ یرحمک اللہ۔ اوپر متن میں آیا: ایک دفعہ عشر دے چکا ہے حربی تو اس سے دوبارہ اگر وہ دوبارہ عاشر پر گزرتا ہے تو اس سے دوبارہ عشر نہیں لے گا مگر قبلِ جب سال پورا ہو چکا ہو، اگلے سال لے، تو متن سے پتا چل رہا ہے اگلے سال دے گا عشر۔ اور نیچے مسئلہ بھی ذکر ہو گیا اور صاحبِ ہدایہ کے عبارت کی تصحیح بھی ہو گئی کہ کتنا رہنے کی اجازت ہے اس کو؟ سال سے کم۔ تو یہ کیسے اس کی دلیل ہے اور کس طرح دونوں باتوں میں تناقض ہے؟ ادھر کہہ رہے ہیں کہ وہ رہنے کی اجازت ہی نہیں ایک سال اور اوپر کہہ رہے ہیں دوسرے سال آئے گا تو پھر کیا دے گا؟ دوبارہ عشر اس سے لیا جائے گا۔ تو جواب یہ کہ یہ وہ صورت ذکر ہو رہی ہے کہ اس کو اجازت تو ایک سال رہنے کی نہیں تھی لیکن امام کو پتا نہیں، حکومت والوں کو پتا نہیں اور یہ ایک سال سے زائد بھی رہا، جیسا ہوتا بھی ہے آپ دیکھتے ہیں آج کل بھی لوگ ممالک مختلف ممالک میں جاتے ہیں اور ویزے کے بعد بھی وہیں پر چھپ کر رہتے ہیں بھئی۔ تو یہ وہ صورت ذکر ہو رہی ہے جس میں امام کو اور اس کے جو عاملین ہیں ان کو پتا نہیں، تو سال گزر گیا ہے تو پھر اس صورت میں اس سے اس سے کیا کیا جائے گا؟ دوبارہ لیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔
سوال یہ کہ صاحبِ ہدایہ دلیل کس کی ذکر کر رہے ہیں؟ جی؟ لِأَنَّهُ لَا يُمَكَّنُ مِنَ الْمُقَامِ حَوْلًا اس کو ایک سال رہنے کی اجازت نہیں۔ اور دلیل کس کی؟ وَبَعْدَ الْحَوْلِ يَتَجَدَّدُ الْأَمَانُ سال کے بعد امان نیا ہو جائے گا، اس کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں۔ کیا دلیل ذکر فرما رہے ہیں؟ کس چیز کی دلیل ہے؟ پہلے ادھر دیکھیے توجہ کیجیے۔ کس چیز کی دلیل؟ سال کے بعد امان نیا ہو جائے گا اس کی دلیل۔ کیا دلیل؟ کیونکہ ان کو ایک سال رہنے کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ بھئی وجہ یہ، دلیل اس دعوے کے مطابق ہے۔ دعویٰ یہ کہ سال کے بعد امان نیا ہو جائے گا۔ دلیل کیا؟ کیونکہ ان کو ایک سال رہنے کی اجازت نہیں، تو جب بھی اجازت دی وہ سال سے کم کم کی ہے، لہٰذا جب اگلے سال بھی وہیں رہا تو امان خود بخود نیا ہو جائے گا، کیونکہ ہم نے جو پہلی اجازت دی تھی وہ کتنے عرصے کی دی تھی؟ ایک سال سے کم دی تھی، تو وہ امان ایک سال سے کم کا تھا، لہٰذا اگلا سال آیا تو امان خود بخود کیا ہو جائے گا؟ نیا ہو جائے گا۔ اب دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ معنیٰ ہے: وَبَعْدَ الْحَوْلِ يَتَجَدَّدُ الْأَمَانُ اور سال کے گزرنے کے بعد امان نیا ہو جائے گا، لِأَنَّهُ لَا يُمَكَّنُ مِنَ الْمُقَامِ حَوْلًا اس لیے کیونکہ ان کو قدرت نہیں دی جائے گی اقامت کی ایک سال، وَالْأَخْذُ بَعْدَهُ لَا يَسْتَأْصِلُ الْمَالَ اور سال گزرنے کے بعد عشر لینا لَا يَسْتَأْصِلُ الْمَالَ یہ مال کو ہلاک نہیں کرتا۔ اوپر آیا تھا نا اگر دوسری دفعہ گزرے اور پھر ہم عشر لیں تو یہ تو مال کو ہلاک کرنا ہے، تو اب وہ بھی وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں کہ اب تو کس کی ہم نے قید متن میں آ گئی؟ سال کی قید آئی، اور سال کے بعد دوبارہ عشر ہو تو یہ اس صورت میں مال کا ہلاک کرنا نہیں پایا جاتا، اس سے مال ہلاک نہیں ہوگا کیونکہ ایک سال بڑی لمبی مدت ہے، اس میں اس نے اور نفع کما لیا ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
جی تو مسئلہ یہ ذکر ہوا بھئی کہ حربی ایک دفعہ جب عشر دے چکا ہے تو اس سے دوسری مرتبہ عشر نہیں لیا جائے گا۔ اس پر ایک واقعہ جو کتابوں میں ذکر ہے بھئی، اور ہماری درخشندہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جانے والے واقعات میں سے ایک واقعہ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اسی طرح ایک حربی عیسائی تھا، وہ بہت سارے گھوڑے وغیرہ اور غلام مالِ تجارت لے کر کوفہ یا بصرہ میں آیا، اور غلام، غلام تو اس طرح سمجھیں جیسے آج کل کوئی اعلیٰ قسم کی گاڑی قیمتی ہوتی ہے اس طرح شمار ہوتا تھا اتنا مہنگا کہ بڑے بڑے مالدار ہی رکھ سکتے تھے، عام آدمی تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا بھئی۔ تو وہ بڑا یہ مال لے کر گزرا اور اس سے جب وہ شہر میں داخل ہونے لگا تو عاشر نے اس سے عشر وصول کر لیا۔ جب عشر وصول کر لیا وہ چلا گیا اور اپنا مال وغیرہ بیچتا رہا، اب کچھ عرصے کے بعد دوبارہ اب واپس آ رہا ہے اب پھر اس عاشر پر گزرا تو عاشر نے پھر کہا: عشر لاؤ بھئی دسواں حصہ اپنے مال کا۔ اس نے کہا: میں نے عشر دے تو دیا جب میں جا رہا تھا، دوبارہ کیوں عشر دوں اس کا؟ تو اس نے کہا: نہیں نہیں، عشر اب گزر رہے ہو دوبارہ تمہیں دوبارہ عشر دینا پڑے گا۔ تو اس نے کہا: نہیں، دوبارہ میں کیسے عشر دوں؟ بڑی ان سے بات وغیرہ کی لیکن وہ نہیں مانے کہ نہیں بھئی دوبارہ گزرو گے عشر دینا پڑے گا۔
اور تو اس نے آگے گزرنے کے بجائے اپنے غلاموں کو کہا کہ تم یہیں رہو، مال وغیرہ کی حفاظت کرو، میں نے سنا ہے کہ مسلمانوں کا خلیفہ جو ہے مسلمانوں کے ہاں بڑا عدل و انصاف ہے اور ان کے عدل و انصاف کی شہرت اور خود بھی میں مشاہدہ کر چکا ہوں، میں جاتا ہوں خلیفۃ المسلمین کے پاس بھئی۔ چنانچہ وہ وہاں سے چلا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت تھی، اور طویل سفر طے کر کے وہ مدینہ منورہ پہنچا بھئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کے معاملات سننے میں مصروف ہیں بھئی، یہ بھی وہاں پر حاضر ہوا۔ جب اس کی باری آئی اس سے پوچھا: کیا بات ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔ اس نے کہا: جی میں اس طرح ایک دفعہ عشر ادا کر چکا ہوں، اب دوبارہ گزر رہا ہوں چند مہینے کے بعد تو وہ مجھے پھر کہہ رہا ہے دوبارہ عشر ادا کرو۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا: كُفِيتَ، تمہاری کفایت کر دی گئی، تمہارا کام ہو گیا۔ بس پھر اپنے اور باتوں میں مصروف ہو گئے، اور لوگوں کے مسائل سننے، بس یہ چند سیکنڈ وقت اس کو دیا اور کیا فرمایا: كُفِيتَ، تمہارا کام ہو گیا۔
اب اس نے دیکھا میری طرف توجہ ہی نہیں، بڑا ہی مایوس اور پریشان وہاں سے نکلا کہ میری تو انہوں نے توجہ سے بات بھی نہیں سنی بھئی، بڑا مایوس ہو کر نکلا، اور اسی غم اور پریشانی کے ساتھ وہ آہستہ آہستہ سفر کرتا ہوا واپس پہنچا۔ اور غلاموں کو کہا: چلو بھئی لو بھئی سارا مال لو اور چلیں ہم۔ اور ان عشر والوں کے پر اب گزرنے لگا تو عشر نکالا، یہ لو بھئی۔ عشر والوں نے کہا: نہیں نہیں، تم سے ایک دفعہ عشر ہم لے چکے ہیں، جاؤ اپنا مال لے جاؤ بھئی، اپنا مال یہاں سے لے جاؤ۔ وہ حیران رہ گیا کہ میرے یہاں پہنچنے سے پہلے خلیفۃ المسلمین کی طرف سے عدل و انصاف یہاں پر پہنچ چکا ہے، تو وہیں پر اس نے کلمہ پڑھا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ۔ تو دیکھو اس کے پہنچنے سے پہلے خلیفہ کی طرف سے حکم آ چکا تھا کہ ایک دفعہ عشر لے لیا ہے تو دوبارہ عشر نہیں لینا بھئی، تو وہیں پر وہ مسلمان ہو گیا بھئی وہیں پر۔
اللہ! سمجھ میں آیا بھئی؟ تو حضرت عمر وہ سمجھا شاید میری طرف توجہ ہی نہیں کی انہوں نے تو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بات سنی، بات ٹھیک، بس كُفِيتَ تمہارا تمہاری کفایت کر دی گئی، اتنا ایک لفظ فرمایا بس۔ اور پھر یہ بھی نہیں اپنے دوسرے کاموں میں مصروف ہو گئے، اس حکم وہ بھول گئے رہ گئے، نہیں نہیں، وہ حکم بھی انہوں نے لکھوایا بھی ہوگا تحریر کروایا اور فوراً بھجوا دیا کہ فوراً جا کر یہ وہاں یہ کہہ دو عاشر سے کہ آئندہ جس ایک دفعہ عشر لے لیا ہو تو دوبارہ عشر نہیں لینا بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس طرح کے ایسے ایسے واقعات انسان انسان سوچتا ہے حیران رہ جاتا ہے کہ یہ صحابہ کیسے لوگ تھے اور کس طرح عدل و انصاف، اتنا عدل و انصاف! تاریخ میں آتا ہے: دمشق پر جب مسلمانوں نے قبضہ کر لیا دمشق پر بھئی، اور وہاں پر ان لوگوں پر جو غیر مسلم تھے جزیہ مقرر کر دیا گیا، جزیہ بڑا معمولی سا ہوتا ہے سال بھر کا معمولی سا ہوتا ہے بہت تھوڑا سا ہوتا ہے، فی کس اتنے پیسے دینے پڑتے ہیں مطلب اس کہ ہم تمہارے سارا سال تمہاری حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ تو ان سے بھی وہ جزیہ لے لیا گیا، اور ابھی چند مہینے پانچ چھ مہینے گزرے تھے کہ اچانک کسی اور محاذ پر تمام مسلمانوں کی مجاہدین کی ضرورت پڑ گئی۔ چنانچہ خلیفہ کی طرف سے حکم آ گیا مسلمانوں کو کہ دمشق کو خالی کر دو سارا لشکر وہاں پہنچے، فلاں جگہ پر بڑی دشمن ہے وہاں ضرورت ہے بھئی۔ اب مسلمان دمشق کو خالی کر کے جانے لگے ہیں تو انہوں نے دمشق والوں کو بلایا اور ساروں کو ان کا جزیہ واپس کر دیا کہ لو بھئی اپنا مال واپس رکھو، یہ تو ہم نے تم سے لیا تھا حفاظت کے لیے لیکن اب ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے، ہمیں یہاں سے نکلنا پڑ رہا ہے فوری طور پر جانا پڑ رہا ہے، اور یہ اپنا مال اپنے پاس واپس رکھو۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ مسلمان جب وہاں سے نکل رہے تھے بھئی، وہ غیر مسلم بچے، عورتیں راستوں کے کناروں پر، چھتوں پر سارے جمع تھے اور زار و قطار رو رہے تھے کہ تم جیسے انصاف پسند لوگ ہم نے آج تک دیکھے نہیں اور سنا نہیں، ہمارے تو اپنے پہلے ہم پر حکمران تھے وہ ہمیں چھوڑتے نہیں تھے، ظلم و زیادتی کرتے تھے، اور تم جیسے اتنا انصاف کہ واپس جاتے ہوئے وہ پیسے، عدل و انصاف کا تو انہوں نے مشاہدہ کیا ہی ہوگا جو مسلمانوں نے وہاں پر عدل و انصاف قائم کیا، جاتے ہوئے کیا کیا؟ وہاں وہ جزیہ بھی ان کو واپس کر کے جا رہے تھے۔ وہ سارے رو رہے تھے اور دعائیں کر رہے تھے کہ اللہ تم جیسے تم لوگوں کو دوبارہ واپس لے کر آئیں جلد سے جلد بھئی۔ اللہ! اللہ!
جی اب دیکھیے کتاب پر: وَإِنْ عَشَّرَهُ فَرَجَعَ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ عَشَّرَهُ أَيْضًا۔ اب دوسری صورت ہے، حربی نے عشر ادا کر دیا اور دار الحرب چلا گیا، اور پھر دار الحرب سے وہ واپس آیا دوبارہ عاشر پر گزرا تو کیا اب عشر لیں گے یا نہیں لیں گے؟ کہتے ہیں اب عشر لیں گے، چاہے اسی دن ہی کیوں نہ گزرے۔ جب ایک دفعہ دار الحرب چلا گیا اور پھر دوبارہ عاشر پر گزرا تو اب اس سے عشر لیا جائے گا، اس لیے کیونکہ کیونکہ وہ دار الحرب گیا اپنے وطن گیا مال لے کر گیا تو تو امید ہے اس نے اس پر نفع کما لیا ہوگا، کیا کر لیا ہوگا؟ نفع کما لیا ہوگا۔ اور چونکہ اب اس بات کا پتا تو نہیں چل سکتا کہ پتا نہیں نفع کمایا ہے یا نہیں لیکن بہرحال سفر تو پایا گیا ہے نا دار الاسلام سے دار الحرب کی طرف اور پھر دار الحرب سے، بس۔ تو بس جو دار الاسلام سے دار الحرب کی طرف جو سفر پایا گیا اس سفر ہی کو نفع کے قائم مقام کر دیا گیا، کیونکہ بعض اوقات سبب کا پتا نہیں چلتا تو سبب کے سبب کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ سبب کا قائم مقام کر دیا جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ، جیسے بھئی آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ نیند کے اندر کوئی سو جائے اور سو جائے لیٹ کر یا پہلو پر تو اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے، حالانکہ نیند تو سبب نہیں وضو ٹوٹنے کا، وضو ٹوٹنے کا سبب کیا ہے؟ کہ احتمال ہے اس حالت میں کیا ہوا ہوگا؟ خروجِ نجاست ہوا ہوگا، لیکن اس کا پتا نہیں چل سکتا تو اس خروجِ نجاست کا سبب جو ہے یعنی استرخائے مفاصل والی نیند جو ہے اسی کو کیا کر دیا گیا؟ سبب کے سبب کو اس سبب کا قائم مقام کر دیا گیا اور نیند پر ہی وضو ٹوٹنے کا حکم لگا دیا گیا، مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔
تو کہتے ہیں: وَإِنْ عَشَّرَهُ فَرَجَعَ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ اور اگر اس نے اس سے عشر لے لیا پھر وہ لوٹ گیا دار الحرب، ثُمَّ خَرَجَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ پھر وہ نکلا اپنے اسی دن یعنی اسی دن پھر نکلا دار الحرب سے کدھر کو؟ دار الاسلام کی طرف، عَشَّرَهُ أَيْضًا تو اس سے تو بھی اس سے عشر لے گا۔ دلیل اس کی کہتے ہیں: لِأَنَّهُ رَجَعَ بِأَمَانٍ جَدِيدٍ اس لیے کیونکہ وہ نئے امان کے ساتھ آیا ہے، اور وہ جو عشر پہلے لیا تھا وہ پچھلے امان کا تھا یہ نیا امان ہے تو اس کا عشر بھی الگ ہوگا۔ وَكَذَا الْأَخْذُ بَعْدَهُ لَا يُفْضِي إِلَى الِاسْتِئْصَالِ اور اسی طرح دار الحرب سے لوٹنے کے بعد عشر لینا یہ مال کو ہلاک کرنے تک بھی نہیں پہنچاتا کیونکہ سفر کے اندر اس نے کیا کر لیا ہوگا؟ نفع کما لیا ہوگا بھئی۔
وَإِنْ مَرَّ ذِمِّيٌّ بِخَمْرٍ أَوْ خِنْزِيرٍ عَشَّرَ الْخَمْرَ دُونَ الْخِنْزِيرِ اور اگر ذمی شراب یا خنزیر لے کر عاشر پر گزرا عَشَّرَ الْخَمْرَ دُونَ الْخِنْزِيرِ تو عاشر شراب کا عشر لے گا نہ کہ خنزیر کا۔ صورت یہ کہ حربی گزرا عاشر پر اور اس کے پاس صرف شراب ہے تو اس صورت میں اس سے شراب کا عشر لیا جائے گا، لیکن عشر کے طور پر شراب نہیں لی جائے گی اس کی قیمت لی جائے گی بھئی، اس کی قیمت۔ اور اسی طرح اگر خنزیر لے کر گزرا تو پھر اس صورت کے اندر اس سے عشر نہیں لیا جائے گا، عشر نہیں لیا جائے گا۔ تو شراب کے اندر تو عشر لیں گے اور خنزیر کے اندر عشر نہیں لیں گے، یہی بات بیان کر رہے ہیں: عَشَّرَ الْخَمْرَ دُونَ الْخِنْزِيرِ کہ شراب کا عشر لے وہ عاشر نہ کہ خنزیر کا۔
اور انہوں نے جو کہا نا: وَقَوْلُهُ اور ماتن کا قول جو ہے نا: عَشَّرَ الْخَمْرَ، کس کا عشر لے لے؟ شراب کا، أَيْ مِنْ قِيمَتِهَا یعنی اس کی قیمت میں سے لے گا، عینِ شراب کو نہیں لے گا، کیونکہ شراب جو ہے نہ مسلمان اس کا مالک بن سکتا ہے نہ دوسرے کو مالک بنا سکتا ہے بھئی، سمجھ رہے ہیں؟ اسی طرح خنزیر ہے، خنزیر، یرحمک اللہ، خنزیر اور شراب جو ہیں یہ ہمارے نزدیک مال نہیں، مال نہیں۔ ان کا مسلمان مالک بن بھی نہیں سکتا، مالک بننے کا کیا معنیٰ؟ پہلے اس کی ملک میں نہیں تھی اور اب کس میں داخل ہو جائے؟ اس کی ملکیت میں داخل ہو جائے، یہ مالک بن جائے، یہ بھی نہیں صحیح۔ اور دوسری صورت یہ کہ دوسرے کو مالک بنا دے، یہ بھی درست نہیں۔ مثلاً مسلمان جو ہے اس کے پاس مثلاً انگور کا رس تھا وہ خود ہی شراب میں تبدیل ہو گیا، اب یہ مسلمان اس شراب کا مالک ہے۔ کیونکہ ملک میں شراب داخل نہیں ہو رہی، ملک میں تو یہ چیز پہلے ہی تھی، بدل کس میں گئی؟ شراب۔ اب یہ کسی اور کو مالک بنانا چاہتا ہے یعنی بیچنا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی، کسی اور کو بھی اس کا مالک نہیں بنا سکتا۔ تو خنزیر اور خمر میں نہ تملک جائز ہے نہ تملیک جائز ہے، نہ خود مالک بن سکتا ہے نہ کسی دوسرے کو مالک بنا سکتا ہے۔
تو اسی لیے کہا اس کی قیمت میں سے لے گا خنزیر وہ شراب کو نہیں لے گا۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَا يُعَشِّرُهُمَا دونوں میں عشر نہیں لے گا، کسی کا بھی عشر نہ لے عاشر، لِأَنَّهُ لَا قِيمَةَ لَهُمَا اس لیے کیونکہ ان دونوں کی کوئی قیمت نہیں، شریعت میں ان کی کوئی قیمت نہیں، یہ مال ہے ہی نہیں ہمارے نزدیک تو ان کا عشر بھی نہیں لیں گے۔
وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللهُ: يُعَشِّرُهُمَا، امام زفر فرماتے ہیں دونوں کا عشر لے گا، خنزیر کا بھی عشر عاشر لے لے گا اور شراب کا بھی۔ بھئی یہ اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں: لِاسْتِوَائِهِمَا فِي الْمَالِيَّةِ عِنْدَهُمْ بہ وجہ ان دونوں کے برابر ہونے میں فِي الْمَالِيَّةِ مال ہونے کے اندر عِنْدَهُمْ ان کے نزدیک۔ اس لیے کیونکہ جو حربی ہیں دار الحرب والے ہیں یا جو غیر مسلم ہیں بھئی، جو غیر مسلم ہیں ان کے نزدیک یہ کیا ہے؟ یہ مال ہونے میں برابر ہیں۔ ہمارے نزدیک تو ٹھیک ہے نہ خنزیر مال ہے نہ شراب مال ہے لیکن ان کے نزدیک شراب بھی مال، خنزیر بھی مال، چنانچہ وہ یہ دونوں چیزیں خریدتے بھی ہیں اور بیچتے۔ تو ان کے نزدیک جب مال ہے تو لہٰذا دونوں کے دونوں میں سے کیا کیا جائے گا؟ عشر لیا جائے گا۔
وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ: يُعَشِّرُهُمَا إِذَا مَرَّ بِهِمَا جُمْلَةً، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھئی، ادھر دیکھیے بھئی، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر خنزیر اکیلے لے کر گزرا صرف خنزیر ہے اس حربی کے پاس تو ان کی ان سے ان میں عشر نہ لے، صرف شراب لے کر گزرا تو پھر کیا کرے اس کا؟ عشر لے، جیسا متن میں آیا۔ اور اگر دونوں لے کر اکٹھے گزرا، خنزیر بھی اس کے پاس ہیں اور شراب، تو پھر اس صورت میں دونوں کا عشر لے لے، شراب کا تو لینا ہی تھا اب کس کا لے لے؟ خنزیر کا بھی لے لے، گویا جب وہ اکٹھا لے کر گزرتا ہے تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ خنزیر کو شراب کے تابع کر دیتے ہیں۔ اکیلے خنزیر میں تو عشر نہیں تھا لیکن اب جب اکٹھے لے کر گزر رہا ہے اب اب اس کے تابع بنا دیا، شراب میں تو لیا جاتا ہے تو لہٰذا خنزیر میں بھی لیا جائے گا، مسئلہ سمجھ میں آ گیا۔ یہ معنیٰ ہے: وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ يُعَشِّرُهُمَا کہ دونوں میں عشر وہ لے لے إِذَا مَرَّ بِهِمَا جُمْلَةً جب وہ ان کے ساتھ ان دونوں کو اکٹھا لے کر گزرا، كَأَنَّهُ جَعَلَ الْخِنْزِيرَ تَبَعًا لِلْخَمْرِ گویا کہ انہوں نے خنزیر کو تابع بنا دیا شراب کے، فَإِنْ مَرَّ بِكُلِّ وَاحِدٍ عَلَى الِانْفِرَادِ عَشَّرَ الْخَمْرَ دُونَ الْخِنْزِيرِ یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی انہی کا قول چل رہا ہے، وہ فرماتے ہیں اگر ان میں سے ہر ایک کو عَلَى الِانْفِرَادِ اکیلے لے کر گزرا، عَشَّرَ الْخَمْرَ تو کس کا عشر لے گا؟ شراب کا عشر وہ عاشر لے لے گا دُونَ الْخِنْزِيرِ نہ کہ خنزیر کا۔
وَوَجْهُ الْفَرْقِ عَلَى الظَّاهِرِ اور ظاہرِ روایت پر فرق کی وجہ بھئی، کہ کیا وجہ ہے جو متن میں آیا کہ شراب میں عشر لے گا اور خنزیر میں عشر نہیں لے گا، تو فرق بیان کرنے لگے ہیں کہ شراب اور خنزیر میں فرق کیا ہے۔ کہتے ہیں بھئی فرق کی وجہ یہ ہے: بھئی یاد رکھیے، چیزیں دو قسم پر ہیں: کچھ مثلیات کہلاتی ہیں اور کچھ ذوات القیم۔ مثلیات وہ چیزیں ہیں جن کا مثل مل جاتا ہے، جیسے چینی ہے، آٹا ہے، گندم ہے وغیرہ، یہ کیا ہیں؟ مثلیات۔ آپ کے پاس اگر چینی ہے تو اسی کا مثل اسی جیسی چینی بازار سے بھی مل جاتی ہے یا نہیں مل جاتی؟ مل جاتی ہے۔ آپ کے پاس اگر گندم ہے تو اسی کا مثل یعنی اسی طرح گندم بازار سے مل جاتی ہے یا نہیں ملتی؟ مل جاتی ہے۔ تو وہ چیزیں جن کا مثل مل جاتا ہو ان کو کہتے ہیں مثلیات یا اسی طرح ان کو کہتے ہیں ذوات الامثال بھئی۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا مثل نہیں ملتا ان کو کہتے ہیں ذوات القیم یعنی قیمت والی بھئی، قیمت والی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مثلاً آپ کے پاس گاڑی ہے بھئی گاڑی، یہ گاڑی یاد رکھیے یہ ذوات القیم میں سے ہے، کس میں سے ہے؟ ذوات القیم میں سے ہے، کیونکہ اسی جیسی اور اس ہی جیسی گاڑی اور آپ کو کہیں سے بھی نہیں ملے گی، آپ کہیں گے بھئی کیوں نہیں ملتی؟ بعینہ اسی جیسی اور گاڑی مل جاتی ہے، نہیں بھئی نہیں، وہ جو بھی گاڑی آپ لے آئیں بالکل آپ کی گاڑی جیسی شکل ہی کیوں نہ ہو پھر بھی وہ آپ کی گاڑی کی طرح نہیں، اس لیے کیونکہ گاڑی اب ایک گاڑی آپ چلاتے ہیں وہ گاڑی کوئی اور چلاتا تھا، آپ پتا نہیں ہو سکتا ہے احتیاط سے استعمال کرتے ہوں وہ احتیاط سے استعمال نہ کرتا ہو، تو ظاہری طور پر تو گاڑیاں ایک جیسی لیکن انجن کے اندر کیا ہوگی؟ کچھ نہ کچھ کمی کمی بیشی ہوگی، سمجھ میں آیا؟ اسی طرح جانور ہیں بھئی وہ بھی وہ بھی ذوات القیم میں سے ہیں مثلیات میں سے نہیں، مثلاً بکری ہے اب آپ کہیں گے بالکل اسی جیسی اور بکری تلاش کی جا سکتی ہے، بھئی آپ بے شک تلاش کر لیں لیکن پھر بھی ایک جیسی دونوں دونوں بکریاں ایک جیسی نہیں ہیں، جیسے گاڑی کے اندر صرف ظاہری صفات کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ کس کو دیکھا جاتا ہے؟ باطنی صفات کو بھی دیکھا دیکھا جائے گا، تو ظاہری اعتبار سے دونوں گاڑیاں چاہے بالکل ایک جیسی ہوں لیکن باطنی اعتبار سے بالکل ایک جیسی ہو ہی نہیں سکتیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اسی طرح اگر دو بکریاں ہیں چاہے دیکھنے میں بالکل ایک جیسی ہی کیوں نہ ہوں لیکن باطنی اعتبار سے ایک جیسی نہیں ہوں گی بھئی۔ ہو سکتا ہے یہ بکری دودھ نکالے آرام سے دودھ نکالنے دیتی ہے دوسری آرام سے دودھ نکالنے ہی نہیں دیتی بھئی، سمجھ رہے ہیں؟ تو لہٰذا باطنی اوصاف ضرور مختلف ہوں گے، تو یہ جانور وغیرہ اور یہ گاڑیاں وغیرہ یہ کس میں سے ہیں؟ ذوات القیم میں سے، جبکہ اس کے مقابلے میں یہ گندم وغیرہ چینی یہ چیزیں کس میں سے ہیں؟ ذوات الامثال میں سے ہیں۔
اور یاد رکھیے بھئی یاد رکھیے، ذوات القیم کے اندر اگر کوئی شخص کسی کی چیز غصب کر لے اگر کوئی شخص کسی کی چیز غصب کر لے اور وہ چیز اس کے پاس ہلاک ہو جائے تو اگر وہ چیز ذوات القیم میں سے تھی تو اس کی قیمت دینا پڑے گی۔ لہٰذا کسی نے کسی کی بکری غصب کر لی اور وہ اس کے پاس ہلاک ہو گئی تو بدلے کے طور پر اس پر کیا آئے گا؟ اس بکری کی قیمت آئے گی کیونکہ بکری کس میں سے ہے؟ ذوات القیم میں سے۔ لیکن اس کے بجائے اگر جو چیز ہلاک اس کے پاس ہوئی وہ مثلی تھی، مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کی دس من گندم غصب کر لی اور گندم کس میں سے ہے؟ مثلیات میں سے ہے، تو اب وہ گندم اگر اس کے پاس ہلاک ہو گئی تو بدلے کے طور پر اس کو بھی اسی کا مثل دینا پڑے گا، قیمت نہیں آئے گی بلکہ اس کا مثل آئے گا، یعنی دس من گندم ہی اب اس کو لا کر دینا پڑے گی بھئی اسی جیسی۔ صورت سمجھ؟ معلوم ہوا ذوات القیم اگر غصب میں ہلاک ہو جائے کیا دینا پڑتا ہے؟ قیمت دینا، اور ذوات الامثال اگر ہلاک ہو جائے غاصب کے پاس تو کیا دے گا اس کا؟ مثل دے گا، مثل دے گا۔
تو یہاں پر یاد رکھو، مسئلہ چل رہا ہے کہ خنزیر کا عشر نہیں لے گا عاشر البتہ شراب کا عشر لے گا۔ اس لیے کیونکہ شراب ذوات الامثال میں سے ہے مثلیات میں سے اور خنزیر ذوات القیم میں سے، اور ذوات القیم کے اندر آتی ہی کیا ہے؟ اس میں دینا ہی کیا پڑتا ہے اگر غاصب ہلاک؟ اس میں قیمت دینا پڑتی ہے۔ تو یہاں اگر خنزیر کے اندر بھی عشر لیا جائے اور عشر کس میں سے ہوگا؟ خنزیر کی قیمت میں سے، تو یاد رکھیے یہ قیمت دینا اسی طرح ہے جیسے وہ خنزیر دے رہا ہے۔ کیونکہ ذوات القیم میں آتی ہی کیا ہے؟ قیمت، تو وہاں پر قیمت بھی اس عین کی طرح اسی چیز کی طرح ہوتی ہے، کیونکہ اس کا مثل تو ملتا نہیں ہے تو قیمت دے رہا ہے گویا وہی چیز دے رہا ہے۔ تو یہاں پر اگر خنزیر میں کیا لیا جائے؟ عشر لیا جائے اور عشر کس میں سے لیں گے؟ اس کی قیمت میں سے، تو خنزیر تو ہے ہی ذوات القیم میں سے اور وہ عشر بھی کس میں سے دے رہا ہے؟ قیمت میں سے دے رہا ہے، اور ذوات القیم کے اندر قیمت بھی کس کی طرح ہوتی ہے؟ عینِ شے کی طرح ہوتی ہے، تو قیمت بھی کس کی طرح ہوئی؟ عینِ خنزیر کی طرح ہوئی، تو یہ عشر گویا کیا دے رہا ہے عشر کے طور پر؟ گویا خنزیر ہی دے رہا ہے اور خنزیر لینا تو مسلمان کے لیے جائز نہیں، اس لیے خنزیر کے اندر جو ہے عشر نہیں لے گا۔ جبکہ شراب جو ہے وہ مثلیات میں سے ہے، کس میں سے؟ مثلیات۔ ایک آدمی دوسرے کی شراب غصب کر دیتا ہے حربی حربی کی اور اس کو ہلاک ختم کر دیتا ہے تو بدلے کے طور پر اس پر کیا واجب ہوگا؟ شراب ہی واجب ہوگی اس کا مثل اس کو دینا پڑے گا کیونکہ شراب کس میں سے ہے؟ مثلیات۔ تو شراب ہے مثلیات میں سے، اور مثلی چیز کے اندر اس کا مثل واجب ہوتا ہے اس کی قیمت واجب نہیں ہوتی، تو اس کا مثل اسی کی طرح ہے قیمت اس کی طرح نہیں ہے، لہٰذا وہاں کیا دینا پڑتا ہے؟ مثل دینا پڑتا ہے قیمت نہیں۔ لیکن یہاں پر اس سے شراب کے عشر کے طور پر کیا لی جا رہی ہے؟ قیمت لی جا رہی ہے، اور مثلی کے اندر مثل لیا جاتا ہے یا قیمت لی جاتی ہے؟ مثل لیا جاتا ہے، تو معلوم ہوا مثل ہے اس کی طرح قیمت اس کی طرح نہیں ہے، تو یہاں شراب میں اس لیے قیمت لے لے گا کیونکہ قیمت جب دے رہا ہے تو یہ قیمت ہی ہے خود شراب نہیں کیونکہ یہ شراب مثلیات، اور خنزیر کے اندر اگر وہ قیمت بھی دے دے تو وہ تو ہے ہی ذوات القیم میں سے تو گویا کیا دے رہا ہے؟ خنزیر ہی دے رہا ہے۔ فرق بھی سمجھ میں آیا کہ نہیں؟ تو مثلیات میں مثل آتا ہے قیمت اس کے مثل شمار نہیں ہوتی، جبکہ ذوات القیم میں تو آتی ہی قیمت ہے تو وہ قیمت ہی گویا عینِ شے کی طرح ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: وَوَجْهُ الْفَرْقِ عَلَى الظَّاهِرِ اور ظاہرِ روایت پر فرق کی وجہ یہ ہے: أَنَّ الْقِيمَةَ فِي ذَوَاتِ الْقِيَمِ لَهَا حُكْمُ الْعَيْنِ کہ قیمت جو ہے ذوات القیم کے اندر لَهَا حُكْمُ الْعَيْنِ تو اس قیمت کا حکم اس عینِ شے والا ہی حکم ہے، وَالْخِنْزِيرُ مِنْهَا اور خنزیر ذوات القیم میں سے ہے تو یہاں اگر قیمت لے لی جائے تو گویا عینِ خنزیر لے لیا، وَذَوَاتُ الْأَمْثَالِ لَيْسَ لَهَا هَذَا الْحُكْمُ اور ذوات الامثال جو ہیں ان کا یہ حکم نہیں ہے، یعنی ان میں قیمت دینا عینِ چیز کا دینا نہیں کیونکہ وہاں تو عینِ چیز کیا ہے؟ اسی کا مثل ہوتا ہے، تو یہاں مثل نہیں لیا جا رہا قیمت دی۔ تو کہتے ہیں: وَالْخَمْرُ مِنْهَا اور خمر ذوات الامثال میں سے ہے جن کے اندر قیمت لینے کا حکم انہی کی طرح نہیں ہے۔
وَلِأَنَّ حَقَّ الْأَخْذِ لِلْحِمَايَةِ اور اس لیے کیونکہ عشر لینے کا حق جو ہے وہ حفاظت کرنے کی وجہ سے ہے، وَالْمُسْلِمُ يَحْمِي خَمْرَ نَفْسِهِ اور مسلمان اپنی شراب کی حفاظت کرتا ہے، يَحْمِي خَمْرَ نَفْسِهِ مسلمان کیا کرتا ہے؟ اپنی شراب کی حفاظت کرتا ہے لِلتَّخْلِيلِ سرکہ بنانے کے لیے۔ کیونکہ شراب کو دھوپ میں رکھا جائے یا نمک وغیرہ اس میں ڈال کر رکھا جائے تو وہ کس میں بدل جاتی ہے؟ سرکے میں۔ شراب کا تو استعمال جائز نہیں تھا لیکن اب سرکہ بن گیا اب اس کا استعمال کیا ہوا؟ جائز۔ تو مسلمان اپنی شراب کی حفاظت کرتا ہے، کس لیے حفاظت کرتا ہے؟ سرکہ بنانے کے لیے، تو جب اپنی شراب کی حفاظت کرتا ہے تو حربی جو گزرا ہے اس کی بھی شراب کی کیا کی جائے گی؟ حفاظت کی جائے گی، اور یہ جو ٹیکس ہم لے رہے ہیں یہ لے ہی کس چیز کا رہے ہیں؟ یہ حفاظت ہی کا تو لے رہے ہیں، تو جب مسلمان اپنی شراب کی حفاظت کرتا ہے تو اس کی بھی شراب کی کیا کی جائے گی؟ حفاظت کی جائے گی۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن خنزیر کا معاملہ اس طرح نہیں ہے، خنزیر تو مسلمان اگر مالک بھی ہو خنزیروں کا تو ان کی تو اس کو آزاد کر دینا اور چھوڑ دینا اس پر واجب ہے۔ کیونکہ شراب کے حلال ہونے کی صورت تھی کہ اس سے کیا کر لیا جائے؟ سرکہ، لیکن خنزیر کے حلال ہونے کی تو کوئی صورت نہیں ہے بھئی، تو خنزیر کو خنزیر اپنے خنزیروں کی بھی حفاظت وہ نہیں کرے گا بلکہ ان کو کیا کرنا واجب اس پر؟ چھوڑ دینا ان کو آزاد کر دینا واجب ہے، تو لہٰذا حربی کے بھی خنزیروں کی حفاظت اس کی ذمہ داری بھی نہیں لے گا۔ جب اپنے خنزیروں کی حفاظت نہیں کرتا ان کو آزاد چھوڑنا واجب ہے تو اس کے خنزیروں کی بھی حفاظت نہیں کرے گا، جب حفاظت نہیں کرے گا تو اس پر ٹیکس بھی نہیں لیا جائے گا، دلیل سمجھ میں آ گئی۔
یہ معنیٰ ہے: وَلِأَنَّ حَقَّ الْأَخْذِ لِلْحِمَايَةِ اور اس لیے کیونکہ عشر لینے کا حق جو ہے وہ حفاظت کرنے کی وجہ سے ہے، وَالْمُسْلِمُ يَحْمِي خَمْرَ نَفْسِهِ لِلتَّخْلِيلِ اور مسلمان اپنی ذاتی شراب کی حفاظت کرتا ہے سرکہ بنانے کے لیے، فَكَذَا يَحْمِيهَا عَلَى غَيْرِهِ تو اسی طرح شراب کی حفاظت کرے گا عَلَى غَيْرِهِ کسی دوسرے پر بھی، یعنی کسی دوسرے کے لیے بھی کیا کر سکتا ہے؟ شراب کی حفاظت کر سکتا ہے۔ وَلَا يَحْمِي خِنْزِيرَ نَفْسِهِ اور اپنے خنزیر کی حفاظت نہیں کر سکتا، بَلْ يَجِبُ تَسْيِيبُهُ بِالْإِسْلَامِ بلکہ واجب ہے اس کو کھلا چھوڑ دینا آزاد کر دینا، تسییب کا کیا معنیٰ؟ آزاد کر دینا، چھوڑ دینا، جانے دینا۔ بلکہ اس کو جانے دینا یعنی اس خنزیر کو آزاد کر کے جانے دینا اس پر واجب ہوگا بِالْإِسْلَامِ مسلمان ہونے کی وجہ سے۔ کس وجہ سے؟ مسلمان۔ بھئی میں ترجمہ کیا کر رہا ہوں: بِالْإِسْلَامِ اسلام کی وجہ سے، یہ بھی ترجمہ تو یہ بھی ٹھیک ہے لیکن مسلمان ہونے کی وجہ سے یہ ترجمہ زیادہ مناسب بنتا ہے۔ أَسْلَمَ يُسْلِمُ إِسْلَامًا، أَسْلَمَ کا کیا معنیٰ؟ مسلمان ہونا، تو اسی سے مصدر ہے إِسْلَام، اس کا کیا ترجمہ ہوگا؟ مصدری مع ترجمہ کریں: مسلمان ہونا، یہی میں ترجمہ کر رہا ہوں۔ بَلْ يَجِبُ تَسْيِيبُهُ بلکہ اس کو آزاد کر دینا اور چھوڑ دینا واجب ہے اس پر بِالْإِسْلَامِ کس کی وجہ سے؟ مسلمان ہونے کی وجہ سے۔ مثلاً بھئی ایک آدمی تھا وہ پہلے غیر مسلم تھا اور اس کے پاس بڑے خنزیر ہیں پھر وہ مسلمان ہو گیا تو اب اس پر کیا واجب ہے؟ ان خنزیروں کو چھوڑ دینا واجب ہے۔ یہ معنیٰ ہے: بَلْ يَجِبُ تَسْيِيبُهُ بِالْإِسْلَامِ بلکہ ان کو چھوڑ دینا واجب ہے اس پر مسلمان ہونے کی وجہ سے۔ تو جب اپنے خنزیروں کی حفاظت نہیں کر سکتا مسلمان فَكَذَا لَا يَحْمِيهِ عَلَى غَيْرِهِ تو اپنے علاوہ پر بھی اس کی حفاظت نہیں کرے گا، کسی دوسرے کے خنزیروں کی بھی حفاظت نہیں کرے گا، اور جب حفاظت نہیں کرے گا تو یہ ٹیکس لیا ہی کس لیے جاتا تھا؟ حفاظت کے لیے، تو اس کا ٹیکس بھی نہیں لیا جائے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔