وَلَيْسَ عَلَى الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ زَكَاةٌ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ، فَإِنَّهُ يَقُولُ: هِيَ غَرَامَةٌ مَالِيَّةٌ فَتُعْتَبَرُ بِسَائِرِ الْمُؤَنِ كَنَفَقَةِ الزَّوْجَاتِ وَصَارَ كَالْعُشْرِ وَالْخَرَاجِ، وَلَنَا أَنَّهَا عِبَادَةٌ فَلَا تَتَأَدَّى إِلَّا بِالِاخْتِيَارِ تَحْقِيقًا لِمَعْنَى الِابْتِلَاءِ، وَلَا اخْتِيَارَ لَهُمَا لِعَدَمِ الْعَقْلِ بِخِلَافِ الْخَرَاجِ لِأَنَّهُ مُؤْنَةُ الْأَرْضِ۔
بھئی گزشتہ سبق کے آخر میں یہ مسئلہ ذکر ہوا تھا، امام کرخی اور اور ابوبکر جصاص رازی رحمہما اللہ ان کا اختلاف ذکر ہوا تھا۔ امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کی ادائیگی فی الفور ضروری ہے، جب واجب ہو جائے فوراً ادا کرنا پڑے گی۔ اور دلیل انہوں نے یہ ذکر کی تھی کیونکہ زکوٰۃ کے بارے میں مطلق امر آیا ہے۔ اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں؟ ”آتُوا الزَّكَاةَ“ زکوٰۃ ادا کرو، اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ جلدی کرو یا دیر سے کرو۔ مطلق امر ہے، کیا ہے؟ مطلق امر ہے اس میں کسی قسم کی قید نہیں۔ اور مطلق امر تقاضا کرتا ہے کہ فی الفور مامور بہٖ کو بجا لایا جائے، یعنی جو حکم دیا گیا ہے فوراً اس پر عمل کیا جائے۔ یہ کس کا مقتضا ہے؟ مطلق امر کا، مطلق امر اس کا تقاضا کرتا ہے۔ تو زکوٰۃ کے بارے میں بھی مطلق امر آیا ہے، لہٰذا یہ کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ فوری ادائیگی ہونی چاہیے تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
جبکہ ابوبکر جصاص رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ جو ہے واجب ہے تراخی کے طریقے پر، تراخی کے ساتھ، یعنی بعد میں بھی کیا کر سکتا ہے؟ ادا کر سکتا ہے۔ اور دلیل ان کی یہ دلیل ذکر کی، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ سارا ساری عمر جو ہے وہ اس کی ادا کا وقت ہے۔ عمر بھر میں وہ جب بھی ادا کرے گا اس زکوٰۃ کو، اس کو ادا ہی کہیں گے، قضا نہیں کہیں گے۔ معلوم ہوا یہ ساری عمر اس کی ادائیگی کا وقت ہے۔ اور جب ساری عمر اس کی ادا کا وقت ہے تو معلوم ہوا فی الفور ادائیگی ضروری نہیں۔ اور نیز اسی لیے وہ فرماتے ہیں: ”وَلِهٰذَا لَا يَضْمَنُ بِهَلَاكِ النِّصَابِ بَعْدَ التَّفْرِيطِ“ کہ وہ شخص ضامن نہیں ہوگا نصاب کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے بعد التفریط، کوتاہی کرنے کے بعد۔ تفریط کا کیا معنی؟ کسی چیز میں حد سے کمی کرنا، تو کوتاہی کرنے کے بعد۔ بھئی اس کی میں نے صورت ذکر کر دی۔
وہ فرماتے ہیں، ان کی دلیل چل رہی ہے کہ کہتے ہیں اسی وجہ سے اگر نصاب ہلاک ہو جائے تو اس پر ضمان نہیں آتا۔ صورت یہ، ایک آدمی ہے اس پر مال، نصاب کے بقدر مال تھا اس کے پاس اور اس پر سال گزر گیا تو اس پر زکوٰۃ واجب ہو گئی، لیکن اس نے سستی کی، کوتاہی کی، زکوٰۃ ادا نہیں کی۔ اور کچھ مدت کے بعد اس کا وہ سارا مال ہلاک ہو گیا، سارا مال ختم ہو گیا، تو اس سے زکوٰۃ ساقط ہو جاتی ہے بھئی۔ فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ اس سے زکوٰۃ ساقط ہو گئی کیونکہ اس بیچارے کا سارا مال ختم ہو گیا۔ تو امام ابوبکر جصاص رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھو اس صورت میں اس پر ضمان نہیں آ رہا۔ وہ جو زکوٰۃ واجب ہوئی تھی اب وہ اس کے ذمے نہیں ہے، یہ بھی اسی وجہ سے کہ فی الفور اس کی ادائیگی ضروری نہیں بلکہ ساری عمر میں کیا ہے؟ اس کو ادا کر سکتا ہے۔ اگر فی الفور یعنی جیسے ہی واجب ہوئی تھی زکوٰۃ، اسی وقت اس کی ادائیگی ضروری ہوتی پھر تو اس صورت میں اب جب اس کا مال ہلاک ہوا ہے تو اس پر کیا آنا چاہیے؟ ضمان آنا چاہیے، لیکن اس پر ضمان نہیں آتا اور فقہاء کیا فرماتے ہیں؟ اس شخص سے زکوٰۃ ساقط ہو جاتی ہے۔ تو یہ بھی اسی وجہ سے ہے کیونکہ زکوٰۃ کی ادا کا وقت کیا ہے؟ ساری عمر ہے۔ لہٰذا یہ فی الفور ادائیگی اس میں لازمی نہیں ہے۔ ہاں، بہتر تو یہی ہے کہ فوراً کیا کر دے؟ ادائیگی کر دے، لیکن تراخی کے ساتھ بھی جائز ہے، تراخی کے ساتھ واجب ہوئی ہے زکوٰۃ بھئی تراخی کے طریقے پر۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟
جی، تو آگے کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ عَلَى الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ زَكَاةٌ“ اور بچے اور مجنون یعنی پاگل پر زکوٰۃ نہیں ہے، ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچے اور مجنون جو ہیں، بچہ اور مجنون جو ہیں ان کے مال پر بھی زکوٰۃ واجب ہو گی۔ لہٰذا ان کا جو نگران ہو گا وہ ادا کرے گا اس میں سے، کیا کرے گا؟ ادا کرے گا بھئی۔ جبکہ ہمارے نزدیک بچے اور مجنون پر نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ جو ہے ایک مالی غرامت ہے بھئی، کیا ہے؟ مالی غرامت ہے۔ تو لہٰذا اس کا، یعنی غرامت کہتے ہیں بھئی یاد رکھیے غرامت، دیکھیے کتاب میں: ”فَإِنَّهُ يَقُولُ: هِيَ غَرَامَةٌ مَالِيَّةٌ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں زکوٰۃ کیا ہے؟ مالی غرامت ہے۔ غرامت کہتے ہیں ضمان کو، ضمان، تاوان، جرمانہ بھئی، ضمان بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں یہ ایک مالی ضمان ہے، مالی ضمان ہے یعنی مال واجب ہوا ہے، مالی چیز کے واجب ہونے کو غرامت کے ساتھ تعبیر کیا کہ یہ اس پر مال واجب ہوا ہے، مال واجب۔ لہٰذا اس کو باقی جو مالی بوجھ ہیں انہی پر قیاس کیا جائے گا۔ جو باقی مالی بوجھ انسان پر پڑتے ہیں، یہ بھی زکوٰۃ بھی کیا ہے؟ ایک مالی ضمان ہے تو اس کو انہی پر قیاس کیا جائے گا۔ اور وہ مالی بوجھ تو بچے اور مجنون پر بھی واجب ہوتے ہیں، ان کے مال میں سے ادا کیے جاتے ہیں، لہٰذا زکوٰۃ بھی ان کے مال میں سے ادا کی جائے گی۔
تو مثلاً بھئی ایک بچہ ہے، اس کے والدین نے کیا کیا ہے؟ اس کا نکاح کر دیا اور پھر مثلاً والدین کا انتقال ہوا، تو اب یہ اس کی بیوی ہے اس کا نفقہ کس میں سے دیا جائے گا؟ اس بچے کے مال میں سے دیا جائے گا بھئی، کیونکہ یہ اس کی بیوی ہے تو اس کا نفقہ کس پر آئے گا؟ بچے پر آئے گا بھئی۔ اسی طرح اگر بچے کے پاس زمین ہے، اگر وہ عشری زمین ہے تو اس میں سے عشر دیا جائے گا، اگر خراجی زمین ہے تو اس میں سے کیا ادا کیا جائے گا؟ خراج ادا کیا جائے گا۔ تو وہ فرماتے ہیں دیکھو یہ جو بیوی کا نفقہ ہے، یا اسی طرح عشر ہے، یا اسی طرح خراج ہے، یہ سارے کیا ہیں؟ یہ مالی بوجھ ہیں جو اس پر اس شخص پر ڈالے جاتے ہیں۔ جس نے نکاح کیا اس پر شریعت نے کیا کیا؟ بیوی کا خرچہ ڈال دیا کہ اس کا خرچہ، رہنے سہنے، کھانے پینے کا خرچہ اس شخص کے ذمے ہوتا ہے۔ تو جیسے یہ مالی بوجھ ہیں، اسی طرح یہ زکوٰۃ بھی کیا ہے؟ ایک مالی ضمان ہے، تو اس کو بھی ان پر قیاس کیا جائے گا اور وہ مالی بوجھ تو بچے پر بھی آتے تھے، اسی طرح مجنون پر بھی آتے ہیں، اس کے مال میں سے بھی وہ ادا کیے جاتے ہیں۔ تو لہٰذا اس زکوٰۃ کو بھی اس پر قیاس کیا جائے گا تو یہ بھی ان کے مال میں سے ادا کی جائے گی، بچے اور مجنون کے مال میں سے۔ دلیل ان کی سمجھ میں آئی بھئی؟ کہ دیگر مالی بوجھ جو ہیں وہ ادا کیے جاتے ہیں، وہ بچے کے مال پر لازم ہوتے ہیں، تو یہ بھی کیا ہے؟ ایک مالی ضمان ہے زکوٰۃ، جب یہ مالی ضمان ہے تو یہ انہی کی طرح ہوا اور وہ تو بچے کے اور مجنون کے مال میں سے بھی ادا ہوتے ہیں لہٰذا اس کو بھی ادا کیا جائے گا۔ تو بچے اور مجنون پر بھی معلوم ہوا زکوٰۃ واجب ہے، ان کے مال میں سے ادا کیا جائے گا۔ تقریر سمجھ میں آگئی بھئی؟
یہ معنی ہے: ”خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فَإِنَّهُ يَقُولُ هِيَ غَرَامَةٌ مَالِيَّةٌ فَتُعْتَبَرُ بِسَائِرِ الْمُؤَنِ“ وہ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ جو ہے یہ ایک مالی ضمان ہے، مالی تاوان ہے، تو اس کو قیاس کیا جائے گا باقی، مؤن کہتے ہیں بھئی بوجھ کو بھئی، باقی جو بوجھ ہیں یعنی جو مالی بوجھ ہیں ان پر اس کو قیاس کیا جائے گا، ”كَنَفَقَةِ الزَّوْجَاتِ وَصَارَ كَالْعُشْرِ وَالْخَرَاجِ“ جیسے بیویوں کا نفقہ ہے اور یہ کس کی طرح ہو گیا؟ عشر اور یہ عشر اور خراج کی طرح ہو گیا، یہ ان کی دلیل ہے۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّهَا عِبَادَةٌ“ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ مالی ضمان نہیں ہے، یہ بوجھ نہیں ہے، یہ عبادت ہے۔ زکوٰۃ کیا ہے؟ عبادت ہے۔ اسی لیے شریعت نے بڑی آسانیاں دیں؛ مال ہو، نصاب کے بقدر، ہر مال میں نہیں بلکہ کتنا مال ہو؟ نصاب، اور مال بھی کون سا ہو؟ بڑھنے والا ہو، مال نامی ہو، سمجھ میں آیا؟ سونا چاندی، کرنسی یا سامانِ تجارت ہو، گھر کے سامان میں نہیں۔ نیز اور سہولت دی کہ مال آتے ہی فوراً نہیں زکوٰۃ آئے گی بلکہ ایک سال پورا گزرے گا۔ تو اس میں یہ تو زکوٰۃ جو ہے یہ عبادت ہے بھئی، ”فَلَا تَتَأَدَّى إِلَّا بِالِاخْتِيَارِ تَحْقِيقًا لِمَعْنَى الِابْتِلَاءِ“ پس یہ زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی مگر اختیار کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ اختیار کے ساتھ، کہ زکوٰۃ ادا کرنے والے کو اختیار بھی ہو۔ ”تَحْقِيقًا لِمَعْنَى الِابْتِلَاءِ“ ثابت کرنے کے لیے ابتلاء کے معنیٰ کو۔ ابتلاء کہتے ہیں آزمائش، آزمائش کے معنیٰ کو ثابت کرنے کے لیے اختیار ماننا پڑے گا، کیا ماننا پڑے گا؟ اختیار ماننا پڑے گا۔
اللہ تعالیٰ نے بندوں پر عبادات لازم فرمائی ہیں اور ان عبادات کے ذریعے بندوں کی آزمائش کی گئی ہے کہ کون ان پر عمل کرتا ہے اور ان کو بجا لاتا ہے اور کون ان پر عمل نہیں کرتا، کون ان پر عمل نہیں کرتا۔ اور آزمائش تبھی ہوگی جب اس شخص کو اختیار بھی ہو۔ اگر اس بیچارے کو اختیار ہی کوئی نہیں ہے، پھر آزمائش ہے؟ جی؟ آزمائش تو اسی میں ہے نا کہ اپنے اختیار سے ایک آدمی کرتا ہے یا نہیں کرتا، تو اختیار کا ہونا ضروری ہے۔ تو آزمائش تبھی ہوگی جب ان کے لیے کیا مانا جائے؟ اختیار، اور اختیار تو ان دونوں کو نہیں ہے بھئی، نہ مجنون کو اختیار ہے اور نہ بچے کو۔ جب ان کو اختیار نہیں ہے تو یہاں پر آزمائش بھی نہیں ہو سکتی، کیونکہ آزمائش تو کہاں ہوتی ہے؟ جہاں دوسرے کو اختیار ہو کہ دیکھیں وہ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو کہتے ہیں ہماری دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّهَا عِبَادَةٌ“ کہ زکوٰۃ عبادت ہے، ”فَلَا تَتَأَدَّى إِلَّا بِالِاخْتِيَارِ“ تو یہ ادا نہیں ہوگی مگر اختیار کے ساتھ ہی، یعنی ادا کرنے والے کے لیے کیا ضروری ہے؟ اس کے لیے اختیار کا ہونا ضروری ہے۔ بھئی کیوں اختیار کا ہونا ضروری ہے، اس کے بغیر ادا نہیں ہوگی؟ کہتے ہیں: ”تَحْقِيقًا لِمَعْنَى الِابْتِلَاءِ“ آزمائش کے معنیٰ کو ثابت کرنے کے لیے، تبھی کون سا معنیٰ ثابت ہوگا؟ آزمائش کا معنیٰ ثابت ہوگا، تبھی آزمائش پائی جائے گی اس کے بغیر تو آزمائش ہی نہیں بغیر اختیار کے۔ ”وَلَا اخْتِيَارَ لَهُمَا“ اور ان دونوں کا تو کوئی اختیار نہیں ہے، شریعت نے بچے اور مجنون کو اختیار نہیں دیا۔ چنانچہ اسی لیے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی بچہ اگر خود خود اپنی زکوٰۃ ادا کرتا ہے اپنے مال کی، تو وہ بھی فرماتے ہیں ادا نہیں ہوئی۔ معلوم ہوا ان کے نزدیک بھی بچے کو اختیار نہیں ہے۔ وہ دے تو رہا ہے اپنے مال کی زکوٰۃ لیکن وہ ادا نہیں ہوئی کیونکہ اختیار ہی نہیں ہے، اور یہاں پر مقصود کیونکہ عبادت ہے اور عبادت کے لیے کیا ضروری ہے؟ اختیار کا ہونا ضروری ہے، تو اس کے لیے اختیار نہیں ہے۔ تو وہ بھی فرماتے ہیں وہ جو نگران ہے وہ کیا کرے گا؟ اس کے مال میں سے ادا کرے گا، وہ خود ادا نہیں کر سکتا۔
یہ معنی ہے: ”وَلَا اخْتِيَارَ لَهُمَا لِعَدَمِ الْعَقْلِ“ اور ان دونوں کا تو کوئی اختیار نہیں ہے عقل کے نہ ہونے کی وجہ سے، کیونکہ مجنون میں تو عقل بالکل ہے ہی نہیں اور بچے میں بھی اگر وہ سمجھدار بھی ہے تو وہ عقل پوری نہیں ہے بھئی۔ تو ان دونوں کا کوئی اختیار نہیں ہے عقل نہ ہونے کی وجہ سے۔ جب اختیار نہیں تو پھر ان کی آزمائش بھی نہیں۔ اور جب آزمائش نہیں تو ان پر یہ زکوٰۃ بھی فرض نہیں کیونکہ زکوٰۃ عبادت ہے اور عبادت کس لیے ہے؟ آزمائش کے طور پر ہے کہ کون ان پر عمل کرتا ہے اور کون عمل نہیں کرتا۔
”بِخِلَافِ الْخَرَاجِ“ یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کے قیاس کا۔ انہوں نے زکوٰۃ کو قیاس کیا تھا عشر اور خراج پر، تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ عشر اور خراج پر آپ قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں مختلف چیزیں ہیں، زکوٰۃ اور چیز ہے، عشر اور خراج اور چیز ہیں۔ زکوٰۃ عبادت ہے جبکہ خراج وہ بوجھ ہے، مالی بوجھ جو شریعت نے ڈالا ہے اس شخص پر۔ خراج کیا ہے؟ مالی بوجھ ہے بھئی، مالی بوجھ ہے۔ چنانچہ آپ نے مسائل پڑھے ہوں گے کہ کچھ زمینیں خراجی ہیں، کچھ عشری زمینیں ہیں۔ عشری زمین جس میں پیداوار کا دسواں حصہ دینا پڑتا ہے، چاہے تھوڑی ہو پیداوار چاہے زیادہ ہو، کتنا حصہ دینا پڑتا ہے؟ دسواں حصہ، بشرطیکہ اس کو پانی اس زمین کو پانی خود نہ لگانا پڑتا ہو، بارش وغیرہ کی وجہ سے پانی ہو جاتا ہے یا دریا ساتھ ہے یا خود ہی پانی اس کے سیم وغیرہ وہاں پہنچتا ہے اس طرح کی جگہ ہے، اور اگر پانی خود لگانا پڑتا ہے یا اس کا خرچہ وغیرہ اس پر ہوتا ہے تو پھر یاد رکھیے وہاں عشر بھی نہیں ہے، نصفِ عشر ہے۔ آگے ابھی تفصیل باب آنے والا ہے اس کا بھئی عشر وغیرہ کا۔
یاد رکھیے تو یہ زمینیں دو قسم کی ہیں، کچھ عشری ہیں ان میں عشر آتا ہے اور کچھ خراجی ہیں جن میں کیا دینا پڑتا ہے؟ خراج دینا پڑتا ہے، تو اس کی بھی مقدار ہے جو فقہ کی کتابوں کے اندر مذکور ہے بھئی۔ تو عشری زمین وہ ہے یاد رکھو کہ مسلمان کسی علاقے پر جب قبضہ کر لیں، جہاد میں مصروف ہیں اور وہ علاقہ انہوں نے فتح کر لیا، اور پھر خلیفۃ المسلمین جو ہے ان لوگوں سے زمینیں لے لے اور مسلمانوں کے حوالے کر دے، مسلمانوں کو اس کا مالک بنا دے، تو اب اس کے مالک چونکہ مسلمان ہیں تو ان کو عشر دینا پڑے گا پیداوار کا دسواں حصہ، یا بعض صورتوں میں بیسواں حصہ جیسے میں نے ابھی ذکر کیا۔
اور اگر خلیفۃ المسلمین یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ان لوگوں سے زمینیں نہ چھینی جائیں، زمینیں انہی لوگوں کے پاس رہنے دی جائیں، ان کافروں کے پاس، ان سے خراج وصول پھر کیا جائے جو خاص حساب اور تناسب سے مختلف زمینوں کے اعتبار سے وصول کیا جاتا ہے، تو پھر یہ خراجی زمین کہلاتی ہے۔ کس کے پاس ہے یہ؟ کفار کے پاس ہے تو ان سے خراج لیا جاتا ہے بھئی سال بھر میں۔
اور پھر یہ بھی یاد رکھیے کہ عشر کے اندر فرق اور خراج، عشر میں یہ ہے کہ عشر میں پیداوار ہوگی تو دسواں حصہ دیں گے، پیداوار زیادہ ہے تو عشر بھی زیادہ ہوگا، پیداوار کم ہے تو عشر بھی اتنا ہی کم، اور پیداوار نہیں ہے تو عشر بھی نہیں ہے۔ جبکہ خراج کے اندر سال بھر کے اندر وہ مقدار دینا پڑے گی چاہے کوئی وہ چیز کچھ کاشت کرے یا کاشت نہ کرے وہ اس کو دینا پڑے گا بھئی جو خراج ہے، خراج ہے۔
اور پھر یہ بھی یاد رکھیے، خراجی زمین اگر پھر کافر سے کوئی مسلمان خرید لیتا ہے تو بھی وہ خراجی ہی رہے گی عشری نہیں بنے گی، اب اس کو بھی کیا دینا پڑے گا؟ خراج دینا پڑے گا، صورت سمجھ میں آگئی۔ اسی طرح مسلمانوں کی زمین تھی، عشری زمین تھی، لیکن کافر نے اس کو خرید لیا تو بس اب یہ کیا بن جائے گی؟ خراجی زمین بن جائے گی، خراج لیا جائے گا۔ پھر اس کو بعد میں کوئی مسلمان واپس بھی خرید لے، پھر یہ عشری نہیں بنے گی بلکہ کیا رہے گی؟ خراجی ہی رہے گی۔ تفصیل سمجھ میں آگئی؟
تو ہم کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا اس زکوٰۃ کو خراج پر قیاس کرنا صحیح نہیں، اس لیے کیونکہ زکوٰۃ عبادت ہے جبکہ خراج وہ مؤنت ہے، یعنی بوجھ ہے، مالی بوجھ ہے جو اس شخص پر ڈالا گیا ہے، تو لہٰذا وہ اس پر قیاس نہیں کر سکتے، ایک عبادت ہے اور دوسرا کیا ہے؟ بوجھ ہے، لہٰذا دونوں مختلف چیزیں ہیں۔
اور نیز اسی طرح عشر بھی عشر پر بھی قیاس نہیں کیا جا سکتا زکوٰۃ کو، اس لیے کیونکہ عشر میں دونوں پہلو ہیں، عشر میں دونوں پہلو ہیں۔ اس میں بوجھ والا پہلو بھی ہے اور اس میں عبادت والا پہلو بھی ہے۔ کون سا پہلو ہے؟ بوجھ والا پہلو بھی ہے اور، تو اس میں مؤنت والا، مؤنت میم پر ضمہ ہے اور یہ ہمزہ ساکن ہے، مؤنت، اور اسی طرح معونت بھی لفظ ہے، اس کو اسی طرح دونوں طرح پڑھتے ہیں، دونوں لفظ آئے ہیں بھئی۔ تو عشر میں مؤنت والا پہلو بھی ہے، بوجھ والا پہلو بھی ہے اور عبادت والا پہلو بھی ہے۔
بوجھ والا پہلو بایں لحاظ ہے کہ عشر کے اندر دیکھو شریعت سال کے گزرنے کی شرط نہیں لگاتی بلکہ جیسے پیداوار ہوئی فوراً کیا کرنا پڑے گا اس میں سے؟ عشر دینا پڑے گا، جبکہ زکوٰۃ میں تو کیا سہولت دی تھی شریعت نے؟ سال گزرنے کی سہولت دی تھی۔ اور نیز عشر کے اندر نصاب کی بھی شرط نہیں ہے، جتنی بھی پیداوار ہوگی اس میں سے کتنا دینا پڑے گا؟ دسواں حصہ دینا پڑے گا، دینا پڑے گا۔ اور نیز عشر دَین وغیرہ کی وجہ سے ساقط بھی نہیں ہوتا، حالانکہ زکوٰۃ کے ابھی مسائل آگے آئیں گے، زکوٰۃ دَین یعنی قرض وغیرہ کی وجہ سے زکوٰۃ کیا ہو جاتی ہے؟ ساقط ہو جاتی ہے۔ ایک آدمی ہے اس کے پاس پندرہ لاکھ روپے ہیں لیکن اس پر قرضہ بیس لاکھ روپے ہے، تو اس شخص پر زکوٰۃ نہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ یہ جتنا مال ہے یہ تو کس کے اندر آ جاتا ہے؟ قرضے کے اندر ہی اس کا آ جاتا ہے، لہٰذا یوں سمجھیں گے گویا اس کے پاس مال ہے ہی نہیں، تو اس پر زکوٰۃ نہیں۔
تو لہٰذا عشر جو ہے اس میں دونوں پہلو ہیں، مؤنت والا پہلو بھی ہے اور عبادت والا۔ تو مؤنت والا پہلو کس اعتبار سے ہے؟ میں نے کیا بتلایا؟ کہ اس میں شریعت نے سال کے گزرنے کی شرط بھی نہیں لگائی، اس میں نصاب کی شرط بھی نہیں لگائی، اور نیز وہ دَین وغیرہ کی وجہ سے ساقط بھی نہیں ہوتا، معلوم ہوا کون سا پہلو ہے؟ بوجھ والا، مؤنت والا پہلو ہے، دینا پڑے گا ہر حال کے اندر بھئی۔
اور نیز عبادت والا پہلو بھی ہے باعتبار مصرف کے، کہ یہ کس کو دی جاتی ہے؟ فقراء کو، محتاجوں کو، مسکینوں کو یہ عشر دیا جاتا ہے، تو اس میں عبادت والا پہلو بھی ہے۔ لیکن بوجھ والا مؤنت والا پہلو عشر کے اندر غالب ہے، غالب ہے، اور عبادت کا پہلو تابع ہے، تو اعتبار غالب کا ہوتا ہے، تابع کا نہیں۔ تو لہٰذا اس پر بھی آپ قیاس نہیں کر سکتے۔ زکوٰۃ کیا ہے؟ عبادت ہے، اور عشر میں کون سا پہلو غالب؟ مؤنت والا پہلو غالب ہے، تو لہٰذا جو پہلو غالب ہے اسی کا اعتبار کیا جاتا ہے، تو گویا یہ مؤنت ہے اور زکوٰۃ تو عبادت ہے، تو عبادت کو مؤنت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْخَرَاجِ“ بخلاف خراج کے، ”لِأَنَّهُ مُؤْنَةُ الْأَرْضِ“ کیونکہ خراج جو ہے وہ زمین کا بوجھ ہے، ”وَكَذٰلِكَ الْغَالِبُ فِي الْعُشْرِ مَعْنَى الْمُؤْنَةِ“ اور اسی طرح غالب جو ہے عشر کے اندر بھی بوجھ والا معنیٰ ہے، مؤنت والا معنیٰ ہے، ”وَمَعْنَى الْعِبَادَةِ تَابِعٌ“ اور عبادت والا معنیٰ اس کے اندر تابع ہے۔ تو لہٰذا اس کو زکوٰۃ کو خراج اور عشر پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
آگے فرماتے ہیں، الگ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں: ”وَلَوْ أَفَاقَ فِي بَعْضِ السَّنَةِ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ إِفَاقَتِهِ فِي بَعْضِ الشَّهْرِ فِي الصَّوْمِ“ کہتے ہیں اگر مجنون جو ہے اس کو افاقہ ہو گیا ”فِي بَعْضِ السَّنَةِ“ سال کے کچھ حصے کے اندر، سال کے کچھ حصے میں اس کا جنون ختم ہو گیا وہ صحیح ہو گیا اور پھر دوبارہ اس کو جنون ہو گیا، تو سال کے کچھ حصے کے اندر بھی جنون ختم ہو جائے اور اس کو افاقہ ہو جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی، اس کے مال میں سے دی جائے گی۔ اور یہ اسی طرح ہے جس طرح رمضان کے اندر، رمضان کے اندر اگر مجنون کو کچھ دیر کے لیے افاقہ ہو گیا تو اس رمضان کے مہینے کے روزے اس پر فرض ہو جائیں گے۔ بعد میں اگر وہ ٹھیک ہو جاتا ہے اس کو کیا کرنا پڑے گی؟ ان روزوں کی قضا کرنا پڑے گی۔ تو لہٰذا رمضان کے اندر اگر مجنون کو کچھ دیر کے لیے بھی افاقہ ہو جائے تو وہ پورا رمضان کے مہینے اس پر فرض ہو جاتے ہیں، اسی طرح اگر سال بھر کے اندر اگر اس کو کسی وقت افاقہ ہو گیا تو اس سال کی زکوٰۃ بھی اس کے ذمے لازم ہو جائے گی۔ تو ہمارے نزدیک تو مجنون پر زکوٰۃ نہیں لیکن اگر سال بھر میں کسی وقت اس کو کیا ہو گیا؟ افاقہ، تو اس سال کی زکوٰۃ کیا ہوگی؟ اس پر لازم ہوگی بشرطیکہ اس کا مال نصاب کو پہنچتا ہو بھئی۔
یہ معنی ہے: ”وَلَوْ أَفَاقَ فِي بَعْضِ السَّنَةِ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ إِفَاقَتِهِ فِي بَعْضِ الشَّهْرِ فِي الصَّوْمِ“ اور اگر اس مجنون کو افاقہ ہو گیا سال کے کچھ حصے میں تو یہ اسی درجے میں ہے جیسے کہ اس کو افاقہ ہو مہینے کے کچھ حصے میں روزے کے اندر۔
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّهُ يُعْتَبَرُ أَكْثَرُ الْحَوْلِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اعتبار کرتے ہیں اکثر سال کا۔ وہ فرماتے ہیں سال کا حساب لگاؤ، اگر سال کا اکثر حصہ یعنی چھ ماہ سے زائد، اکثر شے کیا ہوتا ہے؟ نصف سے زائد، تو سال کا اگر اکثر حصہ یعنی چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک اس کو افاقہ رہا، جنون نہ تھا اس دوران، اور کچھ حصہ جنون رہا لیکن وہ نصف سے کم ہے، تو اس صورت میں اس سال کی زکوٰۃ اس پر واجب ہوگی ورنہ اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، تو وہ کس کا اعتبار کرتے ہیں؟ اکثر کا اعتبار کرتے ہیں۔ یہ معنی ہے: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے یہ ایک روایت ہے ”أَنَّهُ يُعْتَبَرُ أَكْثَرُ الْحَوْلِ“ کہ اعتبار کیا جائے گا سال کے اکثر کا۔
”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْأَصْلِيِّ وَالْعَارِضِيِّ“ اور کوئی فرق نہیں ہے اصلی جنون میں اور عارضی جنون میں۔ یاد رکھیے جنون دو قسم پر ہے، ایک جنونِ اصلی ہے ایک جنونِ عارضی۔ جنونِ اصلی یہ ہے کہ وہ شخص جو بالغ ہوا تو بالغ ہوتے وقت ہی وہ جنون کی حالت میں تھا تو اس کو کیا کہیں گے؟ جنونِ اصلی کہیں گے، بالغ ہی کس حالت میں ہوا ہے؟ جنون کی حالت میں ہوا ہے اس وقت بھی وہ مجنون ہی تھا۔ اور ایک جنونِ عارضی ہے کہ جب بالغ ہوا اس وقت تو جنون نہیں تھا بعد میں اس کو پیش آ گیا تو یہ کیا ہے؟ جنونِ عارضی ہے، عارضی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْأَصْلِيِّ وَالْعَارِضِيِّ“ کہ اصلی اور عارضی جنون میں کوئی فرق نہیں بھئی کوئی فرق نہیں، یعنی جیسے پیچھے مسئلہ ذکر ہوا سال کے اگر کچھ حصے کے اندر اگر اس کو افاقہ ہو گیا تو اس سال کی زکوٰۃ اس پر واجب ہوگی چاہے وہ جنون اصلی ہو چاہے عارضی ہو، جی۔
جی، اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو فرماتے ہیں کہ اکثر سال کا اعتبار کیا جائے گا تو یہاں بھی اصلی اور عارضی کا کوئی فرق نہیں۔ ہمارے نزدیک چاہے جنون اصلی ہو چاہے عارضی ہو دونوں کا ایک حکم ہے۔
”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے یہ روایت ہے: ”أَنَّهُ إِذَا بَلَغَ مَجْنُونًا“ کہ جب وہ شخص جو ہے وہ بالغ ہوا اس حال میں کہ وہ مجنون تھا یعنی جنونِ اصلی تھا، ”يُعْتَبَرُ الْحَوْلُ مِنْ وَقْتِ الْإِفَاقَةِ“ تو وہ فرماتے ہیں سال کا اعتبار کیا جائے گا افاقے کے وقت سے، ”بِمَنْزِلَةِ الصَّبِيِّ إِذَا بَلَغَ“ اس بچے کے درجے میں جب وہ بالغ ہو بھئی۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے وہ فرماتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ“ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، تو اس سے یہ نہ سمجھنا کہ یہ ان سے روایت ہی ہے اس سے اگرچہ یہ شبہ پڑتا ہے، امام صاحب کا مذہب ہی یہ ہے۔ امام صاحب کے نزدیک جب ایک شخص جب بالغ ہوا تو کس حالت میں تھا؟ جنون کی حالت میں تھا۔ پھر کچھ مدت کے بعد جا کر کسی وقت اس کو افاقہ ہوا، جنون ختم ہوا وہ صحیح ہو گیا اور اس کے پاس مال پہلے سے ہی ہے، نصاب کے بقدر مال پہلے سے ہی ہے، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ جب افاقہ ہوا اس وقت سے سال کا اعتبار کریں گے، اب سال کی گویا ابتدا ہو رہی ہے، کیا ہو رہی ہے؟ اور پھر جب پورا سال ہو جائے گا تو پھر آئے گی زکوٰۃ ورنہ زکوٰۃ نہیں ہے۔
وہ کیا فرماتے ہیں؟ جنونِ اصلی کی صورت میں جس وقت افاقہ ہوتا ہے اس وقت سے سال کا اعتبار کیا جائے گا، اس سے پہلے اگرچہ اس کے پاس نصاب کے بقدر مال تھا بھی اس کا کوئی اعتبار نہیں، جیسے کہ بچہ جب بالغ ہوتا ہے تو اس وقت سے سال کا اعتبار شروع ہوتا ہے سال کا اعتبار کیا جاتا ہے، اس سے پہلے اگرچہ مال تھا بھی اس کے پاس لیکن اس سے پہلے وہ نابالغ تھا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں تھی تو اس وقت کا اعتبار نہیں کریں گے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
یہ معنی ہے امام صاحب سے روایت ہے کہ ”أَنَّهُ إِذَا بَلَغَ مَجْنُونًا“ کہ جب بالغ ہو جائے اس حال میں کہ وہ مجنون ہو وہ شخص، ”يُعْتَبَرُ الْحَوْلُ مِنْ وَقْتِ الْإِفَاقَةِ“ تو اعتبار کیا جائے گا سال کا افاقے کے وقت سے، ”بِمَنْزِلَةِ الصَّبِيِّ إِذَا بَلَغَ“ اس بچے کے درجے میں جب وہ بالغ ہو جائے، تو یہ بھی اسی کی طرح ہے۔
”وَلَيْسَ عَلَى الْمُكَاتَبِ زَكَاةٌ“ اور مکاتب پر زکوٰۃ نہیں ہے، مکاتب پر زکوٰۃ، مکاتب میں نے ابھی گزشتہ سبق میں جیسے ذکر کیا وہ غلام جسے آقا نے کیا کہہ دیا؟ مثلاً تم مجھے پانچ سال کے اندر پندرہ لاکھ روپے لے آؤ تو تم آزاد ہو، غلام نے اس کو قبول کر لیا تو یہ مکاتب ہے، اور مکاتب جو ہے اس سے آقا جبراً خدمت نہیں لے سکتا، یہ جائے گا اور جا کر پیسے کمائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ تو یہ جو مکاتب ہے اب یہ تجارت اس نے شروع کر دی مال اس کے پاس کافی سارا ہے اور خرید و فروخت کر رہا ہے لیکن چونکہ اس کی ملکیت کامل نہیں، اس کی ملکیت، قبضہ بے شک اس کا ہے تصرف بھی کر رہا ہے سب کچھ کر رہا ہے لیکن اس کی ملکیت کامل نہیں ہے، کیونکہ اگر یہ ادا کر دے گا وہ مال پندرہ لاکھ پانچ سال میں ادا کر دے گا تو آزاد ہو جائے گا، اگر ادا نہ کر سکا پھر عقد ہی ختم ہو جائے گا پھر وہی عام غلام بن جائے گا۔ تو یہ پھر غلام بن جائے گا اور جو کچھ اس کے پاس ہوگا اس سارے کا مالک بھی کون بن جائے گا؟ آقا ہی بن جائے گا، تو معلوم ہوا اس کا اس کی ملکیت کامل نہیں ہے۔ تو لہٰذا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، کیونکہ حالانکہ ملکیت کس قسم کی ہونا ضروری ہے؟ کامل ملکیت۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَيْسَ عَلَى الْمُكَاتَبِ زَكَاةٌ“ اور مکاتب پر زکوٰۃ نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِمَالِكٍ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“ اس لیے کیونکہ وہ مالک نہیں ہے من کل وجہ، ہر اعتبار سے، یعنی پورے طور پر یہ مالک نہیں ہے، ہر اعتبار سے یہ مالک نہیں ہے۔ قبضے کے اعتبار سے تو مال پر قبضہ اس کا ہے اس اعتبار سے تو مالک ہے لیکن تصرف کے اعتبار سے یہ پورا مالک نہیں ہے۔ سمجھ میں آیا؟ جی، دیکھیے کتاب پر کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِمَالِكٍ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ لِوُجُودِ الْمُنَافِي“ اس لیے کیونکہ یہ مالک نہیں ہے من کل وجہ، ہر اعتبار سے، یعنی پورے طور پر، بوجہ ایک منافی چیز کے پائے جانے کے، کیونکہ ایک مالک ہونے کے منافی ایک چیز پائی جا رہی ہے، ”وَهُوَ الرِّقُّ“ اور وہ غلامی ہے کہ یہ غلام ہے۔ ”وَلِهٰذَا لَمْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ أَنْ يُعْتِقَ عَبْدَهُ“ لہٰذا یہ ان لوگوں میں سے نہیں ہے کہ جو کہ جو اہل ہوں کہ وہ اپنے غلام کو آزاد کریں۔ یہ اپنے غلام کو آزاد کرنے کے اہل لوگوں میں سے نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ اپنے غلام کو، غلاموں کی تجارت تو کر رہا ہے خرید و فروخت بھی کر رہا ہے لیکن ان کو آزاد نہیں کر سکتا، کرے بھی تو وہ غلام آزاد نہیں ہوتا۔ تو یہ اپنے غلام کو آزاد نہیں کر سکتا، معلوم ہوا کہ یہ پورے طور پر مال کا مالک نہیں ہے۔
”وَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ يُحِيطُ بِمَالِهِ فَلَا زَكَاةَ عَلَيْهِ“ جی، یہ وہ مسئلہ آ گیا جو میں نے ابھی ذکر کیا کہ ایک شخص پر اگر قرضہ ہے اور قرضہ ہے اور اس نے مثلاً اس پر پندرہ لاکھ قرضہ ہے اور مال اس کے پاس دس لاکھ ہے یا پندرہ لاکھ ہے لیکن یہ مال اگرچہ نصاب سے زائد ہے لیکن کس میں چلا جاتا ہے یہ سارا؟ قرضے ہی میں چلا جاتا ہے، تو لہٰذا اس صورت میں بھی اس پر زکوٰۃ نہیں آئے گی۔ تو معلوم ہوا ایک شخص پر اگر قرضہ ہے اور وہ قرضہ اس کے سارے مال کا احاطہ کر لیتا ہے، قرضے کے اندر وہ سارا مال آ جاتا ہے، تو اس شخص پر زکوٰۃ نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟
یہ معنی ہے: ”وَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ يُحِيطُ بِمَالِهِ فَلَا زَكَاةَ عَلَيْهِ“ اور جس شخص پر ایسا دَین ہے جو احاطہ کر لیتا ہے، گھیر لیتا ہے اس کے سارے مال کو، تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَجِبُ لِتَحَقُّقِ السَّبَبِ“ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ جس کے پاس مثلاً مال کتنا ہے؟ نصاب کے بقدر مال ہے اور اس پر قرضہ بھی ہے تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں بے شک قرضہ ہو لیکن اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی سبب کے پائے جانے کی وجہ سے، کیونکہ زکوٰۃ کا سبب پایا جا رہا ہے، ”وَهُوَ مِلْكُ نِصَابٍ نَامٍ“ اور وہ کیا ہے؟ نصابِ نامی کا مالک ہونا، ”وَهُوَ مِلْكُ نِصَابٍ نَامٍ“ وہ نامی نصاب کا مالک ہونا ہے۔ بھئی اس کے پاس مال ہے یا نہیں؟ مال ہے، اور مال بھی کس قسم کا ہے؟ سونا چاندی، کرنسی یا مالِ تجارت، اور یہ مالِ نامی ہے یا مالِ نامی نہیں ہے؟ یہ سب کیا ہے؟ مالِ نامی ہے، تو وہ مال نصابِ نامی کا مالک ہے، اور نصابِ نامی کو شریعت نے سبب قرار دیا، جس شخص کے پاس بھی نصابِ نامی ہوگا اس پر کیا واجب ہوتی ہے؟ زکوٰۃ، لہٰذا اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی۔
”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ مَشْغُولٌ بِحَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ“ کہ وہ جو نصابِ نامی ہے وہ تو مشغول ہے اس کی حاجتِ اصلی میں، وہ نصابِ نامی اگرچہ اس کے پاس وہ مال ہے لیکن وہ مال کس کے اندر مشغول ہے؟ حاجتِ اصلی یعنی وہ کس چیز میں پورا ہو جاتا ہے؟ قرضے میں ہی وہ تو پورا ہو جاتا ہے، تو یہ وہ اس کی حاجتِ اصلی، بنیادی ضرورت کے اندر ہی پورا ہو جاتا ہے اس کے اندر وہ مشغول ہے، ”فَاعْتُبِرَ مَعْدُومًا“ تو اس کو معدوم شمار کیا جائے گا گویا کہ ہے ہی نہیں، ”كَالْمَاءِ الْمُسْتَحَقِّ بِالْعَطَشِ وَثِيَابِ الْبِذْلَةِ وَالْمِهْنَةِ“ جیسے کہ وہ پانی جسے لازم کر لیا گیا پیاس کے لیے، یعنی جس کو لازم کر لیا گیا پیاس کے لیے۔
بھئی ایک آدمی ہے وہ جنگل میں سفر کر رہا ہے اور اس کے پاس اچھا خاصا پانی موجود ہے، اچھا خاصا پانی موجود ہے لیکن اس کو خوف ہے کہ اگر میں نے یہ پانی اس سے وضو کیا تو پھر میرے اور سواری کے پینے کے لیے پانی کہیں جنگل کے اندر ہمیں نہیں ملے گا، تو اس صورت میں آپ مسئلہ پڑھ چکے ہیں کہ اس شخص کے لیے تیمم کرنا جائز ہے۔ تو اب دیکھیے یہ پانی جس کو کس کے لیے لازم کر لیا اس نے؟ پینے کے لیے، اس کو وضو کے حق میں معدوم شمار کیا گیا، یوں سمجھا گیا گویا اس کے پاس پانی ہے ہی نہیں۔ ورنہ تو تیمم کی، اگر پانی کا اعتبار کریں گے پھر تو اس کو تیمم کی اجازت نہیں ہے بھئی، کیونکہ تیمم کی اجازت کب ہے؟ جب پانی نہ ملے، قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ”فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً“ جب تم کو پانی نہ ملے بھئی، تو لہٰذا اس پانی کو کیا شمار کیا گیا؟ معدوم، کیونکہ یہ اس کی حاجتِ اصلی میں مشغول ہے یہ پانی۔ تو یہاں بھی اسی طرح اس کے پاس اگرچہ وہ مال ہے لیکن وہ مال کس کے اندر مشغول ہے؟ اس کی حاجتِ اصلی یعنی اس کے قرضے کے اندر مشغول ہے، لہٰذا اس کو معدوم شمار کریں گے گویا اس کے پاس مال ہے ہی نہیں، اور جب مال ہے ہی نہیں تو اس پر زکوٰۃ بھی نہیں آئے گی۔
یہ معنی ہے: ”كَالْمَاءِ الْمُسْتَحَقِّ بِالْعَطَشِ“ وہ پانی جسے پیاس کے لیے لازم کر لیا گیا، ”وَثِيَابِ الْبِذْلَةِ وَالْمِهْنَةِ“ البذلۃ یہاں بھی تا پر دو نقطے ہونے چاہئیں بھئی گول تا جو ہے، البذلۃ۔ ثیابِ بذلہ کہتے ہیں کام کاج کے کپڑے بھئی، کام کاج کے وقت انسان جو کپڑے عام کپڑے پہنتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ثیابِ بذلہ۔ اسی طرح ثیابِ مہنہ، ثیابِ مہنہ جو ہے یہ بھی کام کاج کے کپڑے اور اسی طرح عام استعمال کے جو کپڑے ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ ثیابِ مہنہ کہتے ہیں، ثیابِ مہنہ۔ تو دونوں یہ مترادف ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ مترادف ہیں۔
تو جیسے یہ جو عام استعمال کے اور کام کاج کے کپڑے ہیں، ان کے اندر بالاتفاق زکوٰۃ نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے زکوٰۃ ان کے اندر؟ کیونکہ یہ اس کی حاجتِ اصلیہ کے اندر مشغول ہیں تو ان کو یوں سمجھا جائے گا گویا ہیں ہی نہیں، اور جب ہیں ہی نہیں تو ان پر زکوٰۃ بھی واجب نہیں ہوگی۔ تو دلیل دیکھیے دوبارہ بھئی: ”وَلَنَا أَنَّهُ مَشْغُولٌ بِحَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ فَاعْتُبِرَ مَعْدُومًا كَالْمَاءِ الْمُسْتَحَقِّ بِالْعَطَشِ وَثِيَابِ الْبِذْلَةِ وَالْمِهْنَةِ“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ اس کے پاس جو نصابِ نامی ہے یہ مشغول ہے اس کی حاجتِ اصلی میں تو اس کو معدوم شمار کیا جائے گا، جیسے کہ وہ پانی جس کو لازم کر لیا گیا ہو پیاس کے لیے اور جیسے کہ کام کاج کے اور عام استعمال کے کپڑے ہیں تو یہ بھی انہی کی طرح ہے۔
”وَإِنْ كَانَ مَالُهُ أَكْثَرَ مِنْ دَيْنِهِ زَكَّى الْفَاضِلَ إِذَا بَلَغَ نِصَابًا“ اسی صورت میں ایک آدمی پر مثلاً پندرہ لاکھ قرض ہے اور اس کے پاس مثلاً اس سے کچھ زائد ہے رقم، مثلاً اس کے پاس بیس لاکھ ہیں، کتنے ہیں؟ پچھلی صورت میں تو قرضے کی ادائیگی کے بعد نصاب کے بقدر مال بچتا ہی نہیں تھا، پندرہ لاکھ قرضہ تھا تو مثلاً پندرہ لاکھ ہی اس کے پاس موجود تھے۔ اب مال کچھ زائد ہے قرضے سے، قرضہ ہے پندرہ لاکھ اور مال کتنا ہے؟ بیس لاکھ، تو یہ جو زائد مال ہے اس کی زکوٰۃ اس کو دینا پڑے گی کیونکہ یہ اس کی حاجتِ اصلیہ کے اندر مشغول نہیں ہے بھئی۔ یہی ذکر کر رہے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مَالُهُ أَكْثَرَ مِنْ دَيْنِهِ زَكَّى الْفَاضِلَ إِذَا بَلَغَ نِصَابًا“ اور اگر اس کا مال اس کے دَین سے زیادہ ہوا تو یہ زکوٰۃ دے گا زائد مال کی جب یہ کس کو پہنچے؟ نصاب کو، یہ زائد مال نصاب کو پہنچتا ہو۔ اگر پندرہ لاکھ قرضہ ہے اور مال اس کے پاس ہے پندرہ لاکھ اور چند ہزار ہیں، تو یہ چند ہزار تو نصاب کو نہیں پہنچتے لہٰذا ان پر زکوٰۃ نہیں ہوگی، لیکن اگر نصاب کو پہنچتا ہے پھر زکوٰۃ آئے گی۔
یہ معنی ہے: ”إِذَا بَلَغَ نِصَابًا“ جبکہ وہ زائد جو ہے وہ نصاب کو پہنچتا ہو، ”لِفَرَاغِهِ عَنِ الْحَاجَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ حاجت سے فارغ ہے یعنی اس سے زائد ہے۔
بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔