كِتَابُ الزَّكَاةِ
الزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى الْحُرِّ الْعَاقِلِ الْبَالِغِ الْمُسْلِمِ إِذَا مَلَكَ نِصَابًا مِلْكًا تَامًّا وَحَالَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ. أَمَّا الْوُجُوبُ فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى: ”وَآتُوا الزَّكَاةَ“، وَلِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ“، وَعَلَيْهِ إِجْمَاعُ الْأُمَّةِ، وَالْمُرَادُ بِالْوَاجِبِ الْفَرْضُ لِأَنَّهُ لَا شُبْهَةَ فِيهِ.
كتاب الزكاة۔ گزشتہ سبق میں کتاب الصلاۃ مکمل ہوئی، اور کتاب الصلاۃ کے بعد صاحبِ ہدایہ کتاب الزکاۃ لے کر آئے اتباع کرتے ہوئے قرآن کا۔ کیونکہ قرآن میں جہاں نماز کا ذکر آتا ہے، وہاں عموماً اس کے ساتھ زکوٰۃ کا بھی ذکر آتا ہے بھئی۔ اور تقریباً بیاسی مقامات پر نماز کے ساتھ ساتھ کس کا حکم آتا ہے؟ زکوٰۃ کا حکم آتا ہے۔ تو اس لیے کتاب الصلاۃ کے بعد یہ کتاب الزکاۃ لے کر آئے۔
یاد رکھیے! عند الجمہور زکوٰۃ فرض ہوئی ہے سن دو ہجری میں بھئی، سن دو ہجری میں۔ اسی طرح رمضان کے روزے بھی سن دو ہجری میں فرض ہوئے ہیں۔ البتہ زکوٰۃ کی فرضیت روزوں کی فرضیت سے پہلے ہوئی۔ تو پہلے زکوٰۃ کی فرضیت کا حکم آیا اور اس کے بعد روزوں کی فرضیت کا حکم آیا بھئی۔
اور عربی زبان میں زکوٰۃ کے کئی معانی آتے ہیں۔ زکوٰۃ کے کئی معانی آتے ہیں؛ جیسے زکوٰۃ کا ایک معنی ہے طہارت، طہارت، پاکی یعنی پاکی حاصل کرنا۔ اسی طرح زکوٰۃ کا ایک معنی ہے نَمَاءٌ، نماء یعنی زیادتی، بڑھوتری بھئی، افزائش، کسی چیز کا زیادہ ہونا، یہ کیا ہے؟ نماء۔ تو یہ بھی زکوٰۃ کا معنی آتا ہے۔ اسی طرح زکوٰۃ کا ایک معنی برکت کے بھی ہیں بھئی، برکت۔ اور اسی طرح زکوٰۃ کا ایک معنی مدح و ثنا بھی ہے یعنی تعریف کرنا، مدح و ثنا بھی ہے یعنی تعریف کرنا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو زکوٰۃ کے کئی معانی آتے ہیں عربی زبان میں: طہارت بھی ہے، نماء بھی ہے، یرحمک اللہ، طہارت بھی ہے، نماء بھی ہے، برکت بھی ہے، اور اسی طرح حمد و ثنا بھی ہے۔ اور یہ چاروں معانی جو ہیں شرعی زکوٰۃ کے اندر پائے جاتے ہیں۔ شریعت میں تو زکوٰۃ وہ مخصوص مال جو اللہ کے راستے میں انسان نکال کر دیتا ہے، اس کو کہتے ہیں، اور اس کے اندر یہ چاروں معنی پائے جاتے ہیں۔ زکوٰۃ دے گا تو یہ زکوٰۃ اس کے مال کی طہارت کا ذریعہ ہے، مال کیا ہو جائے گا اس سے؟ پاک ہو جائے گا۔ نیز زکوٰۃ جو ہے دے گا تو یہ مال کے بڑھنے کا سبب ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ مال دے گا اللہ کے راستے میں تو اس سے مال اور زیادہ ہوگا، کم نہیں ہوگا بھئی۔ اور اسی طرح زکوٰۃ دے گا تو یہ برکت کا باعث ہے بھئی، برکت کا، مال کے اندر برکت آ جائے گی۔ اور نیز زکوٰۃ ادا کرنا یہ مدح و ثنا کا باعث ہے، قابلِ مدح و ثنا ہے کہ ایک شخص کیا کر رہا ہے؟ اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر عمل کر رہا ہے، اور فقراء کو مال دے رہا ہے بھئی۔ تو یہ سارے معانی کس کے اندر پائے جاتے ہیں؟ زکوٰۃ کے جو شرعی معنی ہے زکوٰۃ کا، اس میں بھی پائے جاتے ہیں۔
اور شرعاً زکوٰۃ کسے کہتے ہیں؟ تعریف لکھ لیجیے بھئی، زکوٰۃ کی تعریف لکھ لیجیے۔
الزَّكَاةُ هُوَ تَمْلِيكُ جُزْءِ مَالٍ عَيَّنَهُ الشَّارِعُ مِنْ مُسْلِمٍ فَقِيرٍ غَيْرِ هَاشِمِيٍّ وَلَا مَوْلَاهُ مَعَ قَطْعِ الْمَنْفَعَةِ عَنِ الْمُمَلِّكِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ لِلَّهِ تَعَالَى.
تملیک، ”مَلَّكَ يُمَلِّكُ تَمْلِيكًا“ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ مالک بنانا۔ مملک، مالک بنانے والا، اسی تملیک سے ہے، اسم فاعل کا صیغہ۔ تو زکوٰۃ کی اصطلاحی تعریف کیا ہوئی؟ هُوَ تَمْلِيكُ جُزْءِ مَالٍ عَيَّنَهُ الشَّارِعُ مِنْ مُسْلِمٍ فَقِيرٍ غَيْرِ هَاشِمِيٍّ وَلَا مَوْلَاهُ مَعَ قَطْعِ الْمَنْفَعَةِ عَنِ الْمُمَلِّكِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ لِلَّهِ تَعَالَى.
تو معنی بھی اس کا سمجھ لیجیے بھئی کہ زکوٰۃ اصطلاحِ شریعت میں: ”هُوَ تَمْلِيكُ جُزْءِ مَالٍ“ وہ مالک بنانا ہے مال کے ایسے جز کا ”عَيَّنَهُ الشَّارِعُ“ جس کو شارع نے یعنی اللہ اور اس کے رسول نے مقرر کیا ہے۔ زکوٰۃ کسے کہتے ہیں؟ مال کے ایک مخصوص جز کا مالک بنانا، وہ جز جسے کس نے متعین کیا ہے؟ شارع نے متعین کیا ہے۔ اور کس کو مالک بنانا؟ ”مِنْ مُسْلِمٍ فَقِيرٍ“، یہ ”مِنْ“ صلہ ہے تملیک کا، تملیک کا صلہ ”مِنْ“ آتا ہے۔ مالک بنانا کس کو؟ ”مِنْ مُسْلِمٍ فَقِيرٍ“ کسی ایسے مسلمان فقیر کو ”غَيْرِ هَاشِمِيٍّ“ جو ہاشمی نہ ہو، یعنی سید نہ ہو، حضور علیہ السلام کے خاندان کا نہ ہو۔ ”وَلَا مَوْلَاهُ“ اور مولٰی سے مراد ہے معتق بھئی، معتق، جس کو آزاد کیا گیا ہو۔ ”وَلَا مَوْلَاهُ“ اور اس کا معتق بھی نہ ہو، یعنی ہاشمی کو بھی نہیں دے سکتے اور جو اس ہاشمی کا معتق ہے، آزاد کردہ غلام ہے، اس کو بھی نہیں دے سکتے۔
”مَعَ قَطْعِ الْمَنْفَعَةِ عَنِ الْمُمَلِّكِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“ اور یہ کہ وہ جو نفع ہے یعنی زکوٰۃ کے دینے میں مملک جو ہے یعنی مالک بنانے والا، یعنی وہ جو زکوٰۃ دینے والا ہے جو فقیر کو کیا کر رہا ہے؟ زکوٰۃ کا مالک بنا رہا ہے، تو یہ جو مملک ہے مالک بنانے والا، اس سے نفعے کو کاٹتے ہوئے ”مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“ ہر اعتبار سے، یعنی مالک کو اس زکوٰۃ کے دینے میں کوئی نفع نہ ہو۔ زکوٰۃ کے دینے میں کوئی نفع نہ ہو، یہ نہ ہو کسی دنیاوی مقصد کے لیے کسی کو مال دے رہا ہے، وہ زکوٰۃ نہیں ہو سکتی بھئی۔ زکوٰۃ صرف کس لیے دی جائے گی؟ اللہ کی رضا کے لیے ہوگی۔ تو لہٰذا اس میں اگر مالک کا نفع ہے تو یہ درست نہیں ہے بھئی۔ اور نیز ”لِلَّهِ تَعَالَى“ کس لیے ہوگی یہ زکوٰۃ؟ اللہ کی رضا کے لیے ہوگی بھئی۔
معنی سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو زکوٰۃ کہتے ہیں وہ اپنے مال کے کسی جز کا مالک بنانا، وہ جز جسے شارع نے متعین کیا ہے، کسی مسلمان ایسے مسلمان فقیر کو جو غیر ہاشمی ہو اور اس کا معتق بھی نہ ہو، اور ساتھ یہ کہ مالک بنانے والا جو ہے یعنی زکوٰۃ دینے والا ہے اس کو کوئی نفع نہ ہو کسی بھی لحاظ سے، اور کس لیے دے رہا ہو؟ صرف اللہ کی رضا کے لیے۔
تو دیکھیے مالک بنانا ہے مال کے جز کا، مالک بنانا ہے مال کے جز کا، یہ چالیسواں حصہ یعنی یا وہ دسواں، چالیسواں حصہ جو عام سونے چاندی وغیرہ کی زکوٰۃ میں یا وہ دسواں حصہ جو عشر میں آتا ہے بھئی، تو یہ ادا کرنا۔ اور کس نے متعین کیا ہے؟ شارع نے یعنی اللہ اور اس کے رسول نے متعین کیا ہے۔
”مِنْ مُسْلِمٍ“، مسلم کی قید کے ذریعے کافر کو نکال دیا۔ زکوٰۃ کے اندر مالک بنانا ضروری ہے بھئی، پہلی قید آئی ”تَمْلِيكُ جُزْءٍ“ مالک بنانا، لہٰذا معلوم ہوا کسی وقف چیز کے اندر زکوٰۃ نہیں خرچ کی جا سکتی۔ لہٰذا اگر کوئی مسجد پر زکوٰۃ لگانا چاہتا ہے، ہسپتال پر لگانا چاہتا ہے، کوئی سڑک بنوانا چاہتا ہے، نہیں بھئی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ زکوٰۃ کے اندر کسی فقیر محتاج کو مالک بنانا ضروری ہے، اس کو دینا ضروری ہے۔ تو یہ تملیک کی قید کا یہ فائدہ ہے کہ مالک بنانا ضروری۔
اگلی قید آئی ”مِنْ مُسْلِمٍ“، وہ جس کو زکوٰۃ دی جا رہی ہے وہ فقیر اور محتاج کس طرح کا ہونا چاہیے؟ مسلمان ہونا چاہیے، لہٰذا کافر کو زکوٰۃ دی جائے تو ادا نہیں ہوگی بھئی، ادا نہیں ہوگی۔ کفار کسی کی مدد کرنا چاہتا ہے ویسے صدقہ، نفلی صدقہ یعنی خیرات وغیرہ کر سکتا ہے، لیکن زکوٰۃ اس کو نہیں دے سکتا بھئی۔
”غَيْرِ هَاشِمِيٍّ“ کی قید آگئی بھئی، غیر ہاشمی، کہ وہ محتاج جو ہے جو ضرورت مند ہے وہ ہاشمی نہیں ہونا چاہیے، حضور علیہ السلام کے خاندان کا نہ ہو، حضور علیہ السلام کی اولاد میں سے نہ ہو۔ ”وَلَا مَوْلَاهُ“ اور نہ کسی ہاشمی کا معتق ہو، اس کا آزاد کردہ بھی نہیں ہونا چاہیے، اس کو بھی نہیں دے سکتے۔
اور نیز اگلی قید آئی ”مَعَ قَطْعِ الْمَنْفَعَةِ عَنِ الْمُمَلِّكِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“ کہ مالک سے مالک کو اس میں کسی قسم کا کوئی نفع نہ ہو بھئی، ”لِلَّهِ تَعَالَى“ اور کس لیے ہو؟ اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے بھئی، اور کوئی مقصد نہیں اس میں۔ اور سمجھ میں آیا؟ تو یہ تعریف علماء نے لکھی ہے زکوٰۃ کی۔
اور یاد رکھیے یہاں ایک اور قید بھی معتبر ہے، ایک اور قید، اور وہ یہ: ”وَلَا يَكُونُ الْآخِذُ أَصْلًا وَلَا فَرْعًا لَهُ“ بھئی، کہ لینے والا جو ہے، زکوٰۃ لینے والا وہ زکوٰۃ دینے والے کی اصل یا فرع نہ ہو۔ معلوم ہوا زکوٰۃ اپنے والدین کو دینا صحیح نہیں۔ دادا دادی کو دینا صحیح نہیں، کیونکہ وہ زکوٰۃ دینے والے کے لیے اصل ہیں، اصل ہیں، ان کو دینا صحیح نہیں۔ اسی طرح جو اس زکوٰۃ دینے والے کی فرع ہے یعنی اولاد جو ہے، اس کو بھی زکوٰۃ دینا صحیح نہیں۔ ہاں بھئی بہنوں کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اگر وہ الگ ہیں اور ضرورت مند ہیں تو ان کو دے سکتے ہیں بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا بھئی؟ اپنے اصول و فروع کو زکوٰۃ دینا درست نہیں، اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ ہاں بھئی بہنوں وغیرہ کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں بھئی۔
اور یہ بھی یاد رکھیے، یہ بھی یاد رکھیے زکوٰۃ صرف سونے، چاندی، سونے، چاندی، مالِ کرنسی جو کرنسی ہے، سونا چاندی ہے، کرنسی ہے، اور مالِ تجارت، صرف ان مالوں میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ کس کس چیز میں؟ سونا ہے، چاندی ہے، کرنسی ہے، اور مالِ تجارت جو ہے مالِ تجارت۔ اور جانوروں وغیرہ میں زکوٰۃ اس کی آگے تفصیل آرہی ہے، تو عام مال وغیرہ جو ہے اس میں صرف سونے کو دیکھیں گے، چاندی کو دیکھیں گے، کرنسی اگر کوئی ہے کسی بھی قسم کی اس کرنسی کو دیکھا جائے گا، اور مالِ تجارت جو ہے۔
اور مالِ تجارت یاد رکھیے وہ ہے جس کو انسان خریدتا ہی اس نیت سے ہے کہ اس کو آگے بیچے گا، جس کو آگے بیچے گا اور نفع کمائے گا، وہ ہے مالِ تجارت۔ تو کس کس چیز کے اندر زکوٰۃ ہے بھئی؟ سونا ہے، چاندی ہے، اور کرنسی ہے، اور مالِ تجارت ہے، اس کے اندر زکوٰۃ ہے۔ اور مالِ تجارت کس کو کہتے ہیں؟ انسان جس کو خریدتا ہی اس نیت سے ہے کہ بعد میں کل میں اس کو بیچ کر نفع کماؤں گا، تو یہ مالِ تجارت ہے۔ چاہے اس نیت سے کوئی گاڑی خریدی ہے، چاہے اس نیت سے کوئی پلاٹ خریدا ہے، چاہے اس نیت کے ساتھ اور چیزیں دکان کی خریدی ہیں، یہ ساری کس کے اندر داخل ہیں؟ مالِ تجارت کے اندر داخل ہیں، مالِ تجارت میں۔
اور جو چیز تجارت کے لیے نہیں خریدتا، اپنے استعمال کے لیے یا گھر کے لیے خریدتا ہے تو یاد رکھنا گھر کے سامان پر زکوٰۃ نہیں، چاہے کروڑوں ہی کا کیوں نہ ہو۔ سمجھ میں آیا؟ گھر کے سامان پر، استعمال کی چیزوں کے اندر اس میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ ضابطہ میں نے ذکر کر دیا، کیونکہ زکوٰۃ صرف کس کے اندر ہے؟ سونے، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت، اور گھر کا سامان تو تجارت کے لیے نہیں ہوتا جتنا بھی زیادہ کیوں نہ ہو بھئی۔
اور یہ بھی یاد رکھیے، ایک چیز آپ نے خریدی تجارت کی نیت سے، تجارت کی نیت سے تو اس میں کیا آئے گی؟ زکوٰۃ، لیکن خریدنے کے بعد آپ کی نیت بدل گئی، آپ نے کہا چھوڑو میں اس کو بیچتا نہیں ہوں، اپنے لیے یہ گھر پر استعمال کے لیے رکھ لیتا ہوں، آپ وہ چیز میں آپ کی تجارت کی نیت آپ نے ختم کر دی، بس بھئی زکوٰۃ اس پر سے ختم ہو گئی۔ اب وہ مالِ تجارت نہ رہا کیونکہ آپ نے کس لیے مخصوص کر لیا اس کو؟ اپنے استعمال کے لیے، گھر کے لیے بھئی۔ پھر کل کو آپ کی نیت دوبارہ بن گئی کہ چلو اب میں بیچتا ہوں، اس سے نفع کماتا ہوں، پھر بھی یاد رکھو زکوٰۃ نہیں، ہاں جب اس کو بیچ دیں گے، پیسے آئیں گے تو ان پر زکوٰۃ آئے گی بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آگیا بھئی؟
اور یہ بھی یاد رکھیے، کرائے پر دینے کے لیے اگر چیزیں کسی نے رکھی ہوئی ہیں تو ان میں زکوٰۃ نہیں ہوتی۔ لہٰذا آپ نے کئی گھر رکھے ہوئے ہیں آپ کرایہ پر دیتے ہیں، تو ان میں زکوٰۃ نہیں، کیونکہ وہ گھر بیچنے کے لیے تو نہیں رکھے آپ نے، بیچنے کے لیے نہیں، تو کرایہ پر دینے کے لیے جو چیزیں ہوں یا اسی طرح ایک شخص ہے اس نے کئی گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں، کئی گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں لیکن گاڑیاں وہ بیچتا نہیں ہے بلکہ کس لیے ہیں؟ کرایہ پر دیتا ہے، تو پھر ان میں بھی زکوٰۃ نہیں۔ ہاں اگر گاڑیاں آگے بیچنے کے لیے رکھی ہیں، آپ کا شوروم ہے اور آپ نے گاڑیاں رکھی ہیں، تو یہ تو بیچنے کے لیے ہیں، یہ سامانِ تجارت ہے، اس کے اندر زکوٰۃ واجب ہوگی بھئی، زکوٰۃ واجب ہوگی۔
جی اب دیکھیے کتاب پر بھئی:
”كِتَابُ الزَّكَاةِ، الزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى الْحُرِّ الْعَاقِلِ الْبَالِغِ الْمُسْلِمِ“، زکوٰۃ واجب ہے یعنی فرض ہے، واجب یہاں کس معنی میں ہے؟ فرض کے معنی میں ہے، آگے صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے۔ ”الزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ عَلَى الْحُرِّ الْعَاقِلِ الْبَالِغِ الْمُسْلِمِ“، زکوٰۃ واجب ہے ”عَلَى الْحُرِّ“ آزاد آدمی پر، وہ آزاد آدمی ”الْعَاقِلِ“ جو عقل رکھنے والا ہو، عاقل ہو، سمجھ میں آیا؟ ہاں عاقل سے تو مجنون نکل گیا۔ آگے ”الْبَالِغِ“ کی قید آئی، اس کے ذریعے نابالغ نکل گیا۔ ”الْمُسْلِمِ“ اور کس پر یہ واجب ہوتی ہے زکوٰۃ؟ مسلمان پر واجب ہوتی ہے۔
کب واجب ہوتی ہے؟ ”إِذَا مَلَكَ نِصَابًا مِلْكًا تَامًّا“، جب وہ مالک ہو نصاب کا، نصاب کا۔ جو سونے اور چاندی وغیرہ کا نصاب ہے آپ پڑھ چکے ہوں گے کہ ساڑھے سات تولے سونا ہو اگر کسی کے پاس اور اس پر سال گزر جائے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی، اور اس سے کم ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں۔ اسی طرح اگر کسی کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی ہے اور اس پر سال گزر گیا تو اس میں زکوٰۃ واجب ہے، اگر اس سے کم ہے تو اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ یا ان کی قیمت کے برابر سامان، قیمت کے برابر کرنسی ہے یا سامانِ تجارت ہے تو اس پر سال گزر جائے تو پھر اس میں سال گزر جائے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی ورنہ واجب نہیں۔
اور یہ بھی یاد رکھنا ضروری بات بھئی، سونے کا نصاب کتنا بتایا؟ ساڑھے سات تولے۔ اس سے کم ہو تو اس میں زکوٰۃ نہیں، یہ اس صورت میں ہے جب اس شخص کے پاس صرف سونا موجود ہے، کرنسی کا ایک روپیہ بھی اس کے پاس نہیں، چاندی کا تھوڑا ایک ذرہ بھی چاندی اس کے پاس نہیں، اور سامانِ تجارت ایک روپے کا بھی اس کے پاس نہیں ہے، صرف سونا ہی سونا ہے۔ تو اب دیکھو ساڑھے سات تولے ہے اور سال گزر گیا ہے تو زکوٰۃ آئے گی، ورنہ زکوٰۃ نہیں آئے گی اگر اس سے کم ہوا۔ یا دوسری صورت، صرف چاندی ہے، نہ اس کے پاس کوئی سونا ہے معمولی سا بھی، نہ اس کے پاس کرنسی ہے، نہ اور کوئی مالِ تجارت ہے، صرف چاندی ہے تو دیکھو ساڑھے باون تولے چاندی اس وقت اس کی قیمت اتنی ساڑھے باون تولے ہے تو زکوٰۃ ہوگی سال کے بعد، ورنہ زکوٰۃ نہیں، صورت سمجھ میں آگئی؟
لیکن اگر کسی کے پاس سونا بھی ہے تھوڑا سا، چاندی بھی ہے تھوڑی سی، یا ان کے ساتھ کچھ کرنسی بھی ہے یا سامانِ تجارت ہے، تو پھر ساروں کو ملا کر دیکھیں گے کہ ان کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی تک پہنچتی ہے یا نہیں؟ اگر ساڑھے باون تولے چاندی تک ان کی قیمت پہنچتی ہے تو اس میں زکوٰۃ آئے گی جب سال گزر جائے ورنہ زکوٰۃ نہیں۔
اور ساڑھے سات تولے سونے کا اعتبار نہیں کیا، ساڑھے باون تولے چاندی کا اعتبار کیا گیا کیونکہ چاندی سستی ہے، تھوڑا مال ہی اس تک پہنچ جائے گا تو اس میں فقیروں کا فائدہ ہے۔ اور سونا تو بڑا مہنگا ہے تو وہاں تک تو اگر اس کو متعین کر لیں تو وہاں تک زیادہ مال چاہیے ہوگا تو تھوڑے کے اندر زکوٰۃ آئے گی نہیں اور پھر فقیروں بیچاروں کا نقصان ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟
لہٰذا ایک شخص جو ہے اس کے پاس صرف صرف آدھا تولہ سونا ہے اور ایک روپیہ بھی تھا اس کے پاس جب سال پورا ہوا، کتنا سونا؟ آدھا تولہ، ایک، فرض کریں ویسے بتا رہا ہوں کچھ تھوڑی سی کرنسی بھی ہے سو روپیہ ہے، پچاس روپے، دو سو روپے جتنی بھی ہے۔ اب ایک چیز ہے یا دو چیزیں آگئیں؟ دو آگئیں، بس جب دو آ جائیں گی تو پھر کیا کرو؟ دیکھو ساڑھے باون تولے چاندی تک یہ پہنچتے ہیں یا نہیں؟ صرف سونا ہوتا تو ہم کہتے دیکھتے ساڑھے سات تولے تک ہے یا نہیں، لیکن اب تو دوسری چیز بھی ساتھ آگئی، اب کیا دیکھو؟ ان کی قیمت لگاؤ اور آدھا تولہ سونا کتنے کا ہے آج کل؟ جی کوئی تیس ہزار کے لگ بھگ ہے، اور ساتھ کوئی دو سو روپے بھی مثلاً اس کے پاس ہیں تو یہ تیس ہزار دو سو روپے ہو گئے اس کے پاس۔ اب اس دو چیزیں آگئیں تو دیکھیں گے اس کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی تک پہنچتی ہے یا نہیں؟ چاندی کا ہم نے حساب لگایا ساڑھے باون تولے چاندی بھئی، چاندی کس طرح آج کل تولہ؟ جی، بارہ تیرہ سو روپے ہے، تو حساب لگایا ساڑھے باون تولے کو تیرہ سے ضرب دیں بھئی کتنا بنتا ہے؟ تولہ تیرہ سو روپے کا ہے نا، اس کے لگ بھگ، کتنا بتا رہے ہیں آپ؟ جی، پینسٹھ ہزار؟ ہاں پینسٹھ ہزار، پورا حساب جتنا تولہ جتنے کا ہے وہ قیمت کا پتہ کر کے اس سے حساب لگایا جائے گا، تو مثلاً یہ بنتا ہے پینسٹھ ہزار۔ تو لہٰذا اس میں زکوٰۃ نہیں آئے گی، لیکن اگر یہی سونا ہوتا کوئی تولہ سوا تولے کے لگ بھگ، تو یہ اب سوا تولہ سونا ہے اور ساتھ تھوڑی سی کرنسی ہے، تو اگر صرف سونے کے نصاب کو دیکھا جائے پھر تو یہ پورا نہیں کیونکہ صرف سوا تولہ ہے اور سونے کا نصاب تو کتنا؟ ساڑھے سات، لیکن یہاں اب جب کرنسی بھی تھوڑی سی ساتھ آگئی یا کچھ سامانِ تجارت آگیا یا کچھ تھوڑی سی چاندی آگئی، تو اب چاندی کا اعتبار کریں گے، اب دیکھو ساڑھے باون تولے چاندی تک اس کی قیمت پہنچ گئی ہے تو لہٰذا اس میں کیا دینا پڑے گی؟ زکوٰۃ جبکہ اس پر سال گزر جائے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
اور یہ بھی یاد رکھنا، سال گزر جائے، سال کے اول اور آخر کا اعتبار ہے، درمیان کا کوئی اعتبار نہیں۔ لہٰذا سال کے شروع میں ایک شخص کے پاس نصاب پورا تھا، کیا تھا؟ نصاب پورا تھا ساڑھے سات تولے سونے یا ساڑھے باون تولے چاندی یا ان کے بقدر مال تھا، اور پھر سال کے بیچ میں مال بڑا تھوڑا رہ گیا، اور آٹھ دس مہینے درمیان میں اسی طرح گزرے مال بڑا ہی تھوڑا تھا اس کے پاس، لیکن آخری مہینے میں جا کر پھر سال جب پورا ہوا تو نصاب کو مال پہنچ رہا تھا یا اس سے زائد تھا، تو بس زکوٰۃ دینی پڑے گی بھئی، کیونکہ کس کا اعتبار ہے؟ اول اور آخر کا اعتبار ہے، درمیان میں اگر مال کچھ کم بھی ہو جائے اس سے فرق نہیں پڑتا بھئی، فرق نہیں پڑتا۔
ہاں ایک صورت میں، ایک صورت میں فرق پڑے گا، وہ یہ کہ جب سال کے بیچ میں کسی وقت مال سارا ہی ختم ہو گیا، بالکل ختم ہو گیا مال سارا کچھ، تو اب اب پھر سال کے آخر میں مال آگیا لیکن اب نہیں اس کا اعتبار، جب درمیان میں مال ختم ہو گیا تو بس اب حساب ختم ہوا، اب جب جس دن اس کے پاس نصاب کے بقدر مال آ جائے گا، اس دن سے سال شروع ہوگا دوبارہ، دوبارہ حساب لگایا جائے گا، اس دن سے سال شروع ہوگا اور پھر اگلے سال جب وہ دن آ جائے گا اور اس دن پھر دیکھا جائے گا اب اس کے پاس نصاب ہے یا نصاب نہیں ہے، پھر زکوٰۃ آئے گی اس کے مطابق۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ جی اب دیکھیے کتاب پر:
تو کہتے ہیں زکوٰۃ واجب ہے آزاد، عاقل، بالغ مسلمان پر ”إِذَا مَلَكَ نِصَابًا مِلْكًا تَامًّا“ جب وہ مالک ہو نصاب کا۔ نصاب یہ جو شریعت نے مقرر کیا ہے جس مال کے اندر زکوٰۃ آتی ہے اور اس سے کم ہو تو اس میں زکوٰۃ نہیں آتی، یہ نصاب کہلاتا ہے۔ تو جب وہ شخص مالک ہو کس کا؟ نصاب کا، ”مِلْكًا تَامًّا“ اور کس طرح کا مالک ہو؟ ملکِ تام کے ساتھ یعنی پوری ملکیت حاصل ہو، پوری ملکیت، یعنی مال اس کے قبضے میں بھی ہو اور یہ مالک بھی ہے اور اس کے قبضے اور تصرف میں بھی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ پوری ملکیت حاصل ہے، جس طرح اس کو خرچ کرنا چاہتا ہے جو اس میں تصرف کرنا چاہتا ہے کر سکتا ہے، پورا مالک ہے مال کا۔
لہٰذا مکاتب نکل گیا، غلام بھی نکل گئے کیونکہ غلام تو خیر غلام تو ہاں حر کی قید سے بھی نکل گئے تھے اور نیز وہاں مکاتب جو ہے مکاتب، تو مکاتب جو ہے وہ مال کا مال پر اس کا قبضہ تو ہوتا ہے، مکاتب جانتے ہیں بھئی؟ کہ وہ غلام جس کو آقا نے کہہ دیا ہو کہ اگر تم مجھے مثلاً دس لاکھ روپے ادا کر دو گے تو تم میں پھر تو پھر تم آزاد ہو۔ وہ اس عقد کو قبول کر لیتا ہے، دونوں کے درمیان عقد ہو گیا، اور پھر یہ غلام مکاتب کہلاتا ہے، اور آقا پھر اس سے خدمت نہیں لے سکتا بھئی۔ یعنی جبراً خدمت نہیں لے سکتا، وہ خدمت کرتا رہے تو الگ بات ہے، اور یہ غلام جائے گا اور جا کر مال کمائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا، تو یہ ہے مکاتب، مکاتب۔
تو لہٰذا مکاتب اب تجارت کر رہا ہے، مال کما رہا ہے لیکن اس کی ملک تام نہیں، کامل نہیں۔ قبضہ تو اس کا ہے مال پر لیکن ملک کامل نہیں ہے بھئی، کیونکہ اگر وہ اس عرصے کے اندر پیسے جمع نہ کر سکا تو پھر عام غلام بن جائے گا، اور سارا کچھ کس کا ہو جائے گا؟ جو کمایا ہے یا جو مالک کو دے چکا ہے، سارا کچھ مالک کا ہے اور یہ پھر غلام بن جائے گا۔ تو اس کی ملک تام نہیں۔
ملک تام نہیں، نیز اسی طرح اس کے ذریعے اعتراض ہے عورت کا جو مہر ہے جو اس کو جس پر ابھی اس نے قبضہ نہیں کیا، خاوند نے اس کو دیا نہیں، دیا نہیں۔ اور نیز اسی طرح اس کے ذریعے وہ مال بھی اس سے نکل گیا جس کے ملنے کی امید ہی نہ ہو، آپ نے کسی کو قرضہ دیا تھا اب اس کے نکلنے کی کوئی امید ہی نہیں ہے، صورت ہی نہیں ہے، تو اس کے اندر بھی زکوٰۃ نہیں ہے بھئی۔ یہ ساری تفصیل آگے صاحبِ ہدایہ بھی بیان کریں گے۔
تو مالک ہو جب وہ ”إِذَا مَلَكَ نِصَابًا مِلْكًا تَامًّا“ جب وہ مالک ہو نصاب کا، اور کس طرح کی ملکیت ہو؟ پوری ملکیت ہو ”مِلْكًا تَامًّا“ پوری ملکیت ہو۔ ”وَحَالَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ“ اور اس پر ایک سال گزر جائے، حول کہتے ہیں سال کو، ”وَحَالَ عَلَيْهِ“ اور گزر جائے اس پر ”الْحَوْلُ“ سال بھئی۔ اور میں نے بتایا سال کے اول اور آخر کا اعتبار کریں گے، درمیان کا نہیں بھئی۔
”أَمَّا الْوُجُوبُ“ اب صاحبِ ہدایہ دلائل ذکر کر رہے ہیں بھئی، متن میں آیا تھا ”الزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ“، زکوٰۃ کیا ہے؟ فرض ہے، اس کی دلیل کیا؟ کہتے ہیں: ”أَمَّا الْوُجُوبُ فَلِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَآتُوا الزَّكَاةَ“، کہ زکوٰۃ کا وجوب تو وہ اللہ کے اس قول کی وجہ سے ہے: ”وَآتُوا الزَّكَاةَ“، اور تم لوگ زکوٰۃ ادا کرو۔
”وَلِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ اور نیز دوسری دلیل، حضور اور حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے زکوٰۃ واجب ہے، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”أَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ“، ادا کرو تم لوگ اپنے مالوں کی زکوٰۃ۔
اور تیسری دلیل: ”وَعَلَيْهِ إِجْمَاعُ الْأُمَّةِ“، اور اس پر پوری امت کا اجماع ہے کہ زکوٰۃ فرض ہے، اور اجماع بھی دلائلِ شرعیہ میں سے ایک دلیل ہے آپ پڑھ چکے ہیں۔
”وَالْمُرَادُ بِالْوَاجِبِ الْفَرْضُ“، بھئی متن میں آیا تھا ”الزَّكَاةُ وَاجِبَةٌ“، میں نے آپ کو بتلایا تھا یہاں واجب کس معنی میں ہے؟ فرض، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالْمُرَادُ بِالْوَاجِبِ الْفَرْضُ“، اور واجب سے مراد فرض ہے، ”لِأَنَّهُ لَا شُبْهَةَ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر کوئی شبہ نہیں ہے، اس کے فرض ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے۔
تو یاد رکھیے فرض وہ چیز ہے وہ یہ فقہاء جو بعض چیزوں کو فرض قرار دیتے ہیں، بعض کو واجب قرار دیتے ہیں، بعض کو سنت قرار دیتے ہیں، بعض کو مستحب وغیرہ قرار دیتے ہیں، یہ کس بنیاد پر ہوتا ہے؟ دلائل کی بنیاد پر، سمجھ میں آیا بھئی؟ دلائل کی بنیاد پر دلائل کو دیکھا جاتا ہے۔ تو اگر ایک چیز کا ثبوت قطعی دلائل کے ساتھ ہو، کسی قسم کا اس میں شک اور شبہ نہیں تو وہ فرض ہوگی، اور اگر اس کے اندر شبہ آ جاتا ہے پھر اس کا درجہ کم ہو جائے گا، فرض نہیں کہہ سکتے بلکہ پھر کیا کہیں گے؟ واجب کہیں گے، اسی طرح دلائل کے اعتبار سے اس کو اس پر حکم لگایا جاتا ہے۔ تو زکوٰۃ کے میں جو ہے زکوٰۃ دلائلِ قطعیہ سے ثابت ہے، اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں، تو یہ واجب نہیں ہے بلکہ فرض ہے، فرض ہے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ لَا شُبْهَةَ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر کوئی شبہ نہیں ہے بھئی۔
”وَاشْتِرَاطُ الْحُرِّيَّةِ لِأَنَّ كَمَالَ الْمِلْكِ بِهَا“، اور آزاد ہونے کی شرط، بھئی متن میں آیا تھا ”وَاجِبَةٌ عَلَى الْحُرِّ“، جو شرطیں لگائی گئیں آزاد، عاقل، بالغ وغیرہ کی، ان کا فائدہ بتلا رہے ہیں کہ یہ شرطیں کیوں لگائی گئیں؟ کہتے ہیں: ”وَاشْتِرَاطُ الْحُرِّيَّةِ“ اور آزاد ہونے کی شرط جو ہے اس لیے ہے ”لِأَنَّ كَمَالَ الْمِلْكِ بِهَا“ اس لیے کیونکہ کامل ملک اس کے ذریعے ہوتی ہے۔ کوئی آزاد ہوگا تو مال کا کامل مالک بنے گا، اگر آزاد نہیں ہے تو کامل مالک نہیں، جیسے میں نے مثال بیان کر دی کہ مکاتب جو ہے مکاتب، مکاتب مالک نہیں اپنے مال کا پورے طور پر، کیونکہ بے شک قبضہ اسی کا ہے، وہ مال کو چیزوں کو خرید بھی رہا ہے، بیچ بھی رہا ہے، اپنے آزادی کے لیے مال اکٹھا کر رہا ہے لیکن اس کا قبضہ کامل نہیں۔ حتیٰ کہ حتیٰ کہ وہ غلام اس کو غلام کو اس نے خریدا اور پھر غلام غلاموں کو بھی خرید رہا ہے اور بیچ رہا ہے، وہ مکاتب کیا کر رہا ہے؟ تجارت کر رہا ہے، جو بھی تجارت کرے تو غلاموں کو بھی خرید رہا ہے اور بیچ رہا ہے، لیکن ان غلاموں میں سے کسی کو وہ آزاد نہیں کر سکتا۔ کرے بھی تو آزاد نہیں ہو سکتا غلام بھئی، اس لیے کیونکہ اس میں آزاد کرنے کی اہلیت ہی نہیں ہے، کیونکہ اس مال کا پورے طور پر مالک ہی نہیں، اگر پورے طور پر مالک ہوتا تو یہ کہنے سے کہ جاؤ تم آزاد ہو، وہ غلام کیا ہو جاتا؟ آزاد، لیکن وہ آزاد کر سکتا ہی نہیں، اس میں اہلیت ہی نہیں، کیونکہ اس کو کامل ملکیت حاصل نہیں۔ قبضہ بے شک اس کا ہے لیکن ملکیت اس کی نہیں۔
تو کہتے ہیں آزاد ہونے کی شرط اس لیے ہے ”لِأَنَّ كَمَالَ الْمِلْكِ بِهَا“ اس لیے کیونکہ مالک کمالِ ملک اس کے ذریعے ہوگا، پورا مالک ہونا اس کے ذریعے ہوگا، ”وَالْعَقْلِ وَالْبُلُوغِ لِمَا نَذْكُرُهُ“، اور متن میں جو عاقل، بالغ کی قید آئی تھی، تو یہ عقل اور بلوغ کی قید، بالغ ہونے کی قید ”لِمَا نَذْكُرُهُ“ اس وجہ سے ہے جس کو ہم ذکر کریں گے۔ اس کو ہم کیا کریں گے؟ ذکر کریں گے، آگے بھئی اگلا متن اسی صفحے پر آرہا ہے ”وَلَيْسَ عَلَى الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ زَكَاةٌ“، وہاں صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ بچے اور مجنون کے مال میں زکوٰۃ نہیں ہے، تو وہ کہتے ہیں وہاں ہم ذکر کریں گے۔
”وَالْإِسْلَامِ“، بھئی یہ اس کا عقل، بلوغ، اسلام ان سب کا عطف حریت پر ہے، اور حریت مجرور تھا مضاف الیہ، تو یہ بھی مجرور ہیں بھئی۔ ”وَالْإِسْلَامِ“ اور اسلام کی بھی شرط ہے ”لِأَنَّ الزَّكَاةَ عِبَادَةٌ“ اس لیے کیونکہ زکوٰۃ عبادت ہے ”وَلَا تَتَحَقَّقُ الْعِبَادَةُ مِنَ الْكَافِرِ“ اور عبادت جو ہے کافر سے ثابت نہیں ہو سکتی، کافر کی طرف سے نہیں ہو سکتی عبادت۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ اس لیے مسلمان ہونا ضروری ہے زکوٰۃ ادا کرنے والے کا۔
”وَلَا بُدَّ مِنْ مِلْكِ مِقْدَارِ النِّصَابِ“، اور نصاب کے بقدر کا مالک ہونا ضروری ہے کہ نصاب کے بقدر مال کا انسان مالک ہو، بھئی اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ قید کیوں لگائی متن میں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّرَ السَّبَبَ بِهِ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے مقرر فرمایا ہے سبب اس کے ساتھ، یعنی اس کو کیا قرار دیا حضور علیہ السلام نے؟ زکوٰۃ کے وجوب کا سبب نصاب کے بقدر مال ہے، مالِ تجارت وغیرہ۔ تو نصاب کو کس نے مقرر کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے، اس کو سبب بنایا ہے۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّرَ السَّبَبَ بِهِ“ اس لیے کہ حضور علیہ السلام نے سبب کو مقرر فرمایا ہے ”بِهِ“ أي بمقدار النصاب، کس کے ساتھ؟ مقدارِ نصاب کے ساتھ۔
جی اور متن میں قید آئی تھی ایک سال اس پر گزرنا چاہیے، بھئی یہ قید کیوں بڑھائی متن میں؟ اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَلَا بُدَّ مِنَ الْحَوْلِ“ اور ضروری ہے سال کا ہونا ”لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ مُدَّةٍ يَتَحَقَّقُ فِيهَا النَّمَاءُ“ اس لیے کیونکہ ضروری ہے ایسی مدت کا ہونا کہ ”يَتَحَقَّقُ فِيهَا النَّمَاءُ“، نماء کہتے ہیں زیادتی، بڑھوتری، زیادہ ہونا، اس لیے کیونکہ ایسی مدت کا پایا جانا اور ہونا ضروری ہے کہ جس کے اندر زیادتی پائی جائے یعنی مال زیادہ ہو جائے۔ ”وَقَدَّرَهَا الشَّرْعُ بِالْحَوْلِ“ اور مقرر کیا ہے اس کو شریعت نے ایک سال پہ، یا اندازہ لگایا ہے اس کا شریعت نے اس کا ایک سال کے ساتھ بھئی۔
بھئی دیکھیے، زکوٰۃ میں جو ہے نا زکوٰۃ میں صرف نصاب کے بقدر مال نہیں ہونا چاہیے بلکہ وہ مال ایسا ہو کہ اس میں زیادتی ہو، وہ بڑھنے والا مال ہو، کس طرح کا مال ہو؟ اگر صرف مال کی بات ہوتی پھر تو گھر میں میں نے ابھی مسئلہ بتایا گھر میں چاہے کروڑوں کا سامان ہے چیزیں ہیں گھر کے استعمال کے لیے گاڑیاں ہیں، ایک آدمی نے بیس گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں تو اگر ان چیزوں کی قیمت لگائی جائے پھر تو نصاب کا مالک ہے یا نہیں؟ نصاب تو بڑا معمولی سا ہے، لیکن ان کے اندر زکوٰۃ نہیں، اس وجہ سے کیونکہ صرف اتنے مال کا مالک نہیں ہونا ضروری بلکہ وہ مال نامی ہونا چاہیے، نامی۔ نامی اسی نماء سے ہے، نماء سے، تو نمو کہتے ہیں بڑھنے کو اور نماء کا معنی بڑھنا، وہ مال بڑھنے والا ہو۔
جب مال بڑھنے والا ہے اور سال بھی گزر گیا، تو سال کے اندر انسان جو ہے وہ اپنے مال کو تجارت میں لگاتا ہے اور چیزوں کی قیمتیں سال بھر میں کم زیادہ ہوتی رہتی ہیں، کوئی چیز سردیوں میں مہنگی ہے کوئی گرمیوں میں مہنگی ہے، مختلف اتار چڑھاؤ قیمتوں کے اندر آتے ہیں، تو انسان اس کے مطابق مال خریدتا ہے اور پھر بیچتا ہے اور نفع حاصل کرتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سال ایک بڑی طویل مدت ہے جس کے اندر قیمتیں کم اور زیادہ ہوتی رہتی ہیں، تو اس لیے شریعت نے سال کو مقرر فرما دیا کہ سال میں عموماً کیا ہو جاتا ہے؟ مال بڑھ جاتا ہے، تو مال بڑھ گیا ہے اب اس میں سے صرف کیا کر دو؟ ڈھائی فیصد دے دو، یعنی چالیسواں حصہ۔ کتنا دے دو؟ چالیسواں حصہ دے دو، بڑی ہی معمولی سی مقدار ہے بھئی، بڑی معمولی سی مقدار ہے۔ اور سال بھر میں سال بھر میں مال کوئی ڈھائی فیصد بڑھتا ہے؟ مال تو کتنا ہی زیادہ ہو گیا ہوگا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مال کافی زیادہ ہو گیا ہوگا، تو لیکن شریعت نے معمولی سی مقدار ڈھائی فیصد مقرر کر دی کہ سال کے بعد یہ دو۔
اور پھر اس میں یہ ضروری نہیں ہے کہ مال حقیقتاً بڑھے، بلکہ ایک آدمی نے مال جو ہے وہ تجارت میں لگایا ہی نہیں، گھر پر ہی رکھا ہوا ہے، لیکن سال گزر گیا تو اس میں سے بھی زکوٰۃ دینا پڑے گی، آپ اصولِ فقہ میں پڑھ چکے ہیں۔ کیونکہ اس مال کے اندر بھی یوں فرض کر لیا جائے گا کہ زیادتی آگئی ہے۔ حقیقتاً تو اس میں زیادتی نہیں ہوئی کیونکہ تجارت میں لگایا ہی نہیں، یہ تو گھر پر پڑا ہوا تھا، لیکن تقدیراً زیادتی آگئی۔ تقدیراً کا کیا معنی؟ فرض کر لینا، تقدیر کا کیا معنی ہے ایک؟ فرض، فرض کر لیا گیا کہ اس کے اندر کیا آ چکی ہے؟ زیادتی آ چکی ہے۔ کیونکہ کوتاہی اس کی طرف سے پائی گئی، اس نے مال تجارت میں نہیں لگایا، اگر لگاتا تو بڑھتا یا نہ بڑھتا بھئی؟ تو یہ بڑھ جاتا بھئی، تو یہ لہٰذا چاہے حقیقتاً مال کے اندر زیادتی آئے سال گزرنے کے بعد، چاہے تقدیراً زیادتی ہو جب سال اس پر گزرا ہے تو اس کے اندر زکوٰۃ آئے، زکوٰۃ آئے گی بھئی۔
تو یہ دیکھو سہولت تھی، شریعت کی طرف سے سہولت آگئی، ہر مال کے اندر زکوٰۃ نہیں بلکہ اس مال میں جس میں زیادتی ہوتی ہے، اس طرح کا مال ہو جو بڑھتا ہے، اور پھر جب وہ حقیقتاً بڑھ جائے کب؟ ایک سال کے بعد جا کر دینی ہے، ابھی فوراً زکوٰۃ نہیں دینی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟
یہ معنی ہے کہ ”وَلَا بُدَّ مِنَ الْحَوْلِ“ اور سال کا ہونا ضروری ہے ”لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ مُدَّةٍ يَتَحَقَّقُ فِيهَا النَّمَاءُ“ اس لیے کیونکہ ضروری ہے ایسی مدت کا پایا جانا جس کے اندر زیادتی پائی جائے، یعنی زیادتی مال کے اندر ہو جائے، مال بڑھ جائے، ”وَقَدَّرَهَا الشَّرْعُ بِالْحَوْلِ“ اور اندازہ لگایا ہے اس مدت کا شریعت نے سال کے ساتھ ”لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ اور وجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے: ”لَا زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ“، اور کہ زکوٰۃ نہیں ہے مال کے اندر یہاں تک کہ اس پر ایک سال گزر جائے۔ یہ تو تھی نقلی دلیل، حدیث میں آیا حضور علیہ السلام فرماتے ہیں مال میں زکوٰۃ نہیں یہاں تک کہ اس پر ایک سال گزر جائے۔
آگے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ جو ابھی میں نے آپ کے سامنے تقریر کی، وہ عقلی دلیل یہ: ”وَلِأَنَّهُ الْمُمْكِنُ بِهِ مِنَ الِاسْتِنْمَاءِ لِاشْتِمَالِهِ عَلَى الْفُصُولِ الْمُخْتَلِفَةِ“، اس لیے کیونکہ ممکن ہے سال میں استنماء یعنی اس کا مال کا بڑھنا ممکن ہے ”لِاشْتِمَالِهِ عَلَى الْفُصُولِ الْمُخْتَلِفَةِ“ اس وجہ سے کہ سال مشتمل ہوتا ہے مختلف قسم کے موسموں پر، ”وَالْغَالِبُ تَفَاوُتُ الْأَسْعَارِ فِيهَا“ اور غالب جو ہے عموماً کیا ہوتا ہے؟ ان موسموں میں اسعار قیمتیں بھئی نرخ جو ہیں نرخ، اور غالب جو ہے وہ نرخوں کا مختلف ہونا ہے اس سال کے اندر اس موسموں کے اندر۔ سال بھر میں عموماً نرخ مختلف ہوتے ہیں، گھٹتے بڑھتے ہیں، کسی چیز کی قیمت کم ہوتی ہے، کسی کی زیادہ ہوتی ہے۔ تو یہ سال کو مقرر کیا کیونکہ سال مختلف موسموں پر مشتمل ہے اور ان موسموں کے اندر اکثر اور غالب کیا ہوتا ہے؟ چیزوں کے نرخ بدلتے ہیں، ”فَأُدِيرَ الْحُكْمُ عَلَيْهِ“ تو حکم کو بھی دائر کر دیا گیا اسی پر، حکم کا مدار کس پر کر دیا گیا؟ سال پر، کیونکہ سال کے اندر مال بڑھ جاتا ہے کیونکہ موسم مختلف ہے قیمتوں کے اس چیزوں کے نرخ بدلتے ہیں۔ دلیل بھی سمجھ میں آئی یا نہیں آئی؟ یہ معنی ہے ”فَأُدِيرَ الْحُكْمُ عَلَيْهِ“ تو حکم کا مدار سال پر کر دیا گیا، سال پر کر دیا گیا۔ اب نماء کو نہیں دیکھیں گے کہ سال گزرنے کے بعد مال میں زیادتی ہوئی یا زیادتی نہیں ہوئی، بس سال کے اوپر دار و مدار آگیا، کس پر؟ سال پر، ہاں۔ جب سال کو شریعت نے مقرر کر دیا تو اب سال پر مدار ہے، سال دیکھو گزر گیا ہے اور نصاب کے بقدر مال ہے، چاہے اس میں زیادتی نہیں ہوئی لیکن کیا سمجھا جائے گا؟ تقدیراً کیا ہو چکی ہے؟ زیادتی، زکوٰۃ دینا پڑے گی بھئی اگر وہ نصاب کے بقدر ہے۔
”ثُمَّ قِيلَ هِيَ وَاجِبَةٌ عَلَى الْفَوْرِ“، اچھا پھر اس کے بعد یہ زکوٰۃ کی ادائیگی فوراً ضروری ہے یا تاخیر سے بھی انسان ادا کر دے تو کر سکتا ہے؟ تو اس میں یاد رکھیے دو قول ہیں بھئی، امام کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فوری ادائیگی ضروری ہے اگر کیونکہ مطلقِ امر آیا، کیا آیا؟ مطلقِ امر آیا جیسے ”أَقِيمُوا الصَّلَاةَ“ نماز قائم کرو، ”وَآتُوا الزَّكَاةَ“، ”آتُوا الزَّكَاةَ“ کیا کرو؟ زکوٰۃ ادا کرو، تو ”آتُوا“ امر کا صیغہ آیا تو مطلقِ امر آیا اور تو یہ تقاضا کرتا ہے فوری عمل کا بھئی، کہ اس پر کیا کیا جائے؟ فوری عمل کیا جائے، اپنے ملازم سے کہتے ہیں، آپ نے اپنے ملازم سے کہا پانی لے آؤ، تو اگر وہ تاخیر کرے گا آپ ناراض ہوں گے یا نہیں ہوں گے؟ ناراض ہوں گے، سمجھ میں آیا؟ تو مطلقِ امر کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ کہ فی الفور اس پر عمل کیا جائے، الا یہ کہ کوئی قرینہ ساتھ مل جائے تو پھر تاخیر بھی درست۔ تو وہ یہ دلیل دیتے ہیں، کہتے ہیں یہاں مطلقِ امر آیا ہے اور مطلقِ امر کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ کہ فی الفور ادائیگی ہونی چاہیے۔ تو یہ امام کرخی فرماتے ہیں۔
جبکہ ابوبکر جصاص رازی رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ جو ہے واجب ہے علی التراخی، تراخی کے طریقے پر کہ تاخیر سے اطمینان سے بھی ادا کرنا چاہے تو ادا کر سکتا ہے، اس لیے کیونکہ وہ فرماتے ہیں زندگی بھر میں جب بھی وہ ادا کرے گا، زکوٰۃ آج فرض ہوئی اس پر وہ ادا نہیں کرتا، دس سال بعد جا کر ادا کرتا ہے، کہتے ہیں تب بھی اس کو ادا ہی کہیں گے، قضاء نہیں کہیں گے۔ تو پھر بھی اس کو ادا ہی کہنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے اندر فی الفور ادائیگی ضروری نہیں، ہاں افضل یہی ہے فوراً ادا کرنی چاہیے، یعنی وہ فرماتے ہیں کہ تاخیر کرے جان بوجھ کر بلکہ افضل کیا ہے؟ فوراً ہی ادا کرنی چاہیے کیونکہ زندگی کا کوئی پتہ نہیں، لیکن اگر تاخیر کر دیتا ہے پھر بھی اس کو کیا کہیں گے؟ ادا ہی کہیں گے، قضاء نہیں بھئی، تو لہٰذا اس میں فوری ادائیگی نہیں ضروری، البتہ افضل یہ ہے۔
”ثُمَّ قِيلَ هِيَ وَاجِبَةٌ عَلَى الْفَوْرِ“ پھر کہا گیا ہے، یہ امام کرخی کا قول آرہا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ واجب ہے علی الفور، فوری طور پر یعنی جلدی ادائیگی اس کی ضروری ہے ”لِأَنَّهُ مُقْتَضَى مُطْلَقِ الْأَمْرِ“ کیونکہ یہ مطلقِ امر کا مقتضیٰ ہے، مطلقِ امر کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ فوری ادائیگی کا۔ ”وَقِيلَ عَلَى التَّرَاخِي“ اور بعض علماء نے کہا وہ اور کہا گیا ہے علی التراخی کہ زکوٰۃ واجب ہے تراخی پر یعنی کہ اطمینان سے دے سکتا ہے ”لِأَنَّ جَمِيعَ الْعُمُرِ وَقْتُ الْأَدَاءِ“ اس لیے کیونکہ ساری عمر جو ہے وہ ادائیگی کا وقت ہے ”وَلِهَذَا لَا يَضْمَنُ بِهَلَاكِ النِّصَابِ بَعْدَ التَّفْرِيطِ“ اور اسی وجہ سے وہ ضامن بھی نہیں ہوتا نصاب کے ہلاک ہو جانے کے بعد بعد التفریط، کوتاہی کرنے کے بعد، کس کے بعد؟ کوتاہی۔
بھئی ایک آدمی ہے اس پر زکوٰۃ آئی لیکن اس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی اور سستی کی، سال گزر گیا اس نے ابھی تک نہیں دی زکوٰۃ سال گزرنے والا، اور پھر اس کا سارا مال ہلاک ہوا، سارا مال ہلاک، تو فقہاء فرماتے ہیں زکوٰۃ بھی اس سے ساقط ہو گئی، یہ اس کے ذمے دین نہیں۔ اب جو زکوٰۃ واجب ہوئی تھی اس کے ذمے دین نہیں کیونکہ کیا ہوا؟ سارا مال اس بیچارے کا ہلاک ہو گیا، ہلاک ہو گیا۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فی الفور ادائیگی ضروری نہیں، اگر فی الفور ادائیگی ضروری ہوتی پھر تو یہ جو مال چاہے ہلاک بھی ہو گیا اس پر ضمان آتا یا نہ آتا؟ آنا چاہیے تھا لیکن ضمان اس پر نہیں، معلوم ہوا کہ کہ اس کا اس کے اندر فی الفور ادائیگی ضروری نہیں۔ یہ معنی ہے ”وَلِهَذَا لَا يَضْمَنُ بِهَلَاكِ النِّصَابِ بَعْدَ التَّفْرِيطِ“ اسی وجہ سے وہ ضامن نہیں ہوگا نصاب کے ہلاک ہو جانے کی وجہ سے بعد التفریط کوتاہی کرنے کے بعد بھئی۔ چلیے باقی کچھ تفصیل اگلے سبق میں پھر کر لیں گے، بس بھئی هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔