Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-088

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 137
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَإِذَا سُبِيَ صَبِيٌّ مَعَ أَحَدِ أَبَوَيْهِ وَمَاتَ لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ تَبَعٌ لَهُمَا، إِلَّا أَنْ يُقِرَّ بِالْإِسْلَامِ وَهُوَ يَعْقِلُ لِأَنَّهُ صَحَّ إِسْلَامُهُ اسْتِحْسَانًا، أَوْ يُسْلِمَ أَحَدُ أَبَوَيْهِ لِأَنَّهُ يَتْبَعُ خَيْرَ الْأَبَوَيْنِ دِينًا۔ گزشتہ سبق کے آخر میں یہ مسئلہ چل رہا تھا کہ اگر پیدا ہونے والا بچہ جو ہے، اس میں اگر زندگی کی کوئی علامت دیکھی گئی، پھر اس کا انتقال ہوا، تو اس کا نام بھی رکھا جائے گا، اسے غسل بھی دیا جائے گا اور اس پر نمازِ جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ اور اگر اس میں زندوں والی کوئی علامت نہ دیکھی گئی، تو پھر اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اور اس کو البتہ غسل دیا جائے گا مختار قول کے مطابق اور پھر کسی کپڑے میں لپیٹ کر اس کو دفن کر دیا جائے گا بھئی۔ تو نمازِ جنازہ بھی نہیں اس میں اور اسی طرح مسنون کفن بھی اس میں نہیں ہے بھئی۔ اب آپ کو مسئلہ بتلا رہے ہیں کہ کسی بچے کو قید کر لیا گیا اس کے والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ۔ بھئی، جو قیدی پکڑے گئے ان میں ان مردوں اور عورتوں کے ساتھ کچھ بچے بھی تھے، تو یہ کوئی بچہ بھی قید ہوا اپنے والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ اور پھر اس کا انتقال ہوا، پھر اس کا انتقال ہوا، تو کہتے ہیں اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اس لیے کیونکہ اس کے والدین میں سے کوئی ایک ساتھ قید ہوا ہے اور وہ مسلمان نہیں ہے، تو یہ بچہ بھی ان کے تابع ہو گا، تو اس کو بھی مسلمان شمار نہیں کیا جائے گا اور اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی بھئی، بات سمجھ میں آئی۔ ہاں اگر وہ بچہ کچھ سمجھدار ہے اور وہ اسلام کا اقرار کر اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کر لیتا ہے سمجھدار ہے، تو پھر اس کا اسلام استحساناً صحیح ہو گا اور اس صورت میں اگر اس کا انتقال ہوتا ہے تو اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، اگرچہ اس کے والدین مسلمان نہ ہوں بھئی، مسلمان نہ ہوں۔ یا ایک اور صورت کہ اس میں بھی اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی کہ اس کے والدین میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے بھئی۔ کوئی ایک کیا ہو جائے؟ مسلمان ہو جائے، تو پھر اس صورت میں بچے پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور وہ اپنے اس مسلمان والد یا والدہ کے تابع شمار ہو گا۔ یاد رکھیے بچہ جو ہے دین کے اعتبار سے والدین میں سے جو بہتر ہو اس کے تابع ہوتا ہے۔ مثلاً، مثلاً ماں اگر یہودیہ ہے اور والد مسلمان ہے، تو اسلام اور یہودیت ان دونوں میں سے کون سا مذہب بہتر ہے؟ یہ ظاہر سی بات ہے اسلام بہتر ہے، تو لہٰذا بچے کو اس بہتر دین والے کے تابع سمجھا جائے گا، والدین میں سے جو بہتر دین پر ہے اور وہ مسلمان ہے تو بچے کو بھی مسلمان شمار کیا جائے گا۔ تو بچہ اپنے دین میں والدین میں سے جو بہتر جس کا دین بہتر ہو اس کے تابع شمار ہوتا ہے، جبکہ آزادی اور غلامی میں بچہ ماں کے تابع ہے بھئی، ماں کے تابع۔ لہٰذا اگر ماں آزاد ہے تو بچہ بھی آزاد شمار ہو گا اور اگر ماں باندی ہے تو بچے کو غلام شمار کیا جائے گا اگرچہ والد اس کا آزاد ہو۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا سُبِيَ صَبِيٌّ مَعَ أَحَدِ أَبَوَيْهِ اور جب قید کر لیا گیا بچے کو اس کے والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ، وَمَاتَ اور پھر اس کا انتقال ہوا اس بچے کا، لَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ تو اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، لِأَنَّهُ تَبَعٌ لَهُمَا اس لیے کیونکہ یہ بچہ ان کے تابع ہے، إِلَّا أَنْ يُقِرَّ بِالْإِسْلَامِ مگر یہ کہ وہ اقرار کر لے مسلمان ہونے کا، وَهُوَ يَعْقِلُ اس حال میں کہ وہ سمجھدار ہو، سمجھدار ہو بھئی، سمجھتا ہو، عقل رکھتا ہو اور پھر وہ اسلام کا اقرار کرتا ہے مسلمان ہونے کا، تو اس کا اقرار صحیح ہے، لِأَنَّهُ صَحَّ إِسْلَامُهُ اسْتِحْسَانًا اس لیے کیونکہ اس کا مسلمان ہونا صحیح ہے استحساناً بھئی، أَوْ يُسْلِمَ أَحَدُ أَبَوَيْهِ یا یہ کہ مسلمان ہو جائے اس کے والدین میں سے کوئی ایک، تو اس صورت میں بھی پھر اس کو مسلمان شمار کیا جائے گا اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: أَوْ يُسْلِمَ أَحَدُ أَبَوَيْهِ یا یہ کہ مسلمان ہو جائے اس کے والدین میں سے کوئی ایک، لِأَنَّهُ يَتْبَعُ خَيْرَ الْأَبَوَيْنِ دِينًا اس لیے کیونکہ وہ تابع ہو گا والدین میں سے جو بہتر ہے دیناً، باعتبار دین کے اس کے تابع ہو گا۔ وَإِنْ لَمْ يُسْبَ مَعَهُ أَحَدُ أَبَوَيْهِ صُلِّيَ عَلَيْهِ اور اگر اس کو والدین میں سے کسی ایک کے ساتھ قید نہیں کیا گیا، یعنی صرف قیدیوں میں کون آ گیا؟ بچہ آ گیا، جہاد تھا، لوگوں کو قیدی بنایا گیا، بعد میں دیکھا تو صرف ایک بچہ ہے ان میں اور اس کے والدین میں سے کوئی نہیں ہے، صُلِّيَ عَلَيْهِ پھر اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی بھئی۔ بھئی، پھر کیوں پڑھی جائے گی؟ صرف اکیلا بچہ قیدی ہوا، کہتے ہیں: لِأَنَّهُ ظَهَرَتْ تَبَعِيَّةُ الدَّارِ فَحُكِمَ بِالْإِسْلَامِ كَمَا فِي اللَّقِيطِ کہتے ہیں پھر کیونکہ ظاہر ہو گا دار کے تابع ہونا، یعنی دار الاسلام کے تابع ہونا ظاہر ہو گا۔ بھئی، پہلے والدین تھے، والدین تو بچہ ان کے تابع تھا اور جب والدین میں سے کوئی بھی نہیں اس کے ساتھ قید کے اندر، تو پھر اب بچہ جو ہے اس دار یعنی اس مملکت کے تابع ہو گا، اس مملکت کے۔ اور کہاں پر قید کر کے لے آئے ہیں؟ دار الاسلام میں قید کر کے لائے ہیں تو وہ دار الاسلام کے تابع ہوا اور اس کو کیا شمار کیا جائے گا؟ مسلمان شمار کرتے ہوئے اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔ یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ ظَهَرَتْ تَبَعِيَّةُ الدَّارِ اس لیے کیونکہ دار یعنی وطن کا تابع ہونا ظاہر ہو گا، فَحُكِمَ بِالْإِسْلَامِ تو اس کے مسلمان ہونے کا حکم لگایا جائے گا، كَمَا فِي اللَّقِيطِ جیسے لقیط کے اندر ہے۔ لقیط بھئی وہ بچہ جو کہیں ملے پڑا ہوا اور اس کے والدین کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ تو یہ یاد رکھیے یہ جو بچہ ملا ہے اس کو لقیط کہتے ہیں، لقیط۔ اور یہ دار کے تابع شمار ہوتا ہے، دار کے تابع شمار ہو گا۔ لہٰذا دار الاسلام میں ہے تو اس کو مسلمان شمار کیا جائے گا اور دار الحرب دار الحرب میں ہے تو ان کے تابع شمار ہو گا بھئی۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی ہے کہ فَحُكِمَ بِالْإِسْلَامِ تو حکم لگایا جائے گا مسلمان ہونے کا، كَمَا فِي اللَّقِيطِ جیسے کہ لقیط میں ہے۔ وَإِذَا مَاتَ الْكَافِرُ وَلَهُ وَلِيٌّ مُسْلِمٌ فَإِنَّهُ يَغْسِلُهُ وَيُكَفِّنُهُ وَيَدْفِنُهُ بھئی، اگر کوئی کافر مر گیا اور اس کا مسلمان ولی ہے، اور کوئی نہیں، کافر اولیاء میں سے کوئی نہیں، مسلمان ولی ہے، تو پھر مسلمان جو ہے اس کا ولی وہ اس کو غسل بھی دے، کفن بھی دے اور اس کو دفن بھی کرے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ لیکن غسل، کفن وغیرہ اور دفن کرنا یہ وہ مسنون طریقے کے مطابق نہیں ہو گا۔ سمجھ میں آیا؟ آگے بیان کر رہے ہیں بھئی۔ بِذَلِكَ أُمِرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي حَقِّ أَبِيهِ أَبِي طَالِبٍ اور اسی کا حکم دیا گیا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے والد ابو طالب کے حق میں، لَكِنْ يُغْسَلُ غَسْلَ الثَّوْبِ النَّجِسِ لیکن غسل دیا جائے گا اس کو نجس کپڑے کے دھونے کی طرح، یعنی جس طرح نجس کپڑا دھویا جاتا ہے اسی طرح اس پر بس پانی بہا دیا جائے گا، وَيُلَفُّ فِي خِرْقَةٍ اور اس کو ایک کپڑے کے ٹکڑے میں لپیٹ دیا جائے گا، مسنون کفن نہیں بلکہ کپڑے کے ٹکڑے میں لپیٹ دیا جائے گا، وَتُحْفَرُ حَفِيرَةٌ اور اس کے لیے گڑھا کھودا جائے گا، مِنْ غَيْرِ مُرَاعَاةِ سُنَّةِ التَّكْفِينِ وَاللَّحْدِ بغیر رعایت کیے کفن دینے کی اور لحد کی سنت کا۔ کفن دینے اور لحد کی سنت کی رعایت کیے بغیر ہی اس کے لیے کیا کیا جائے گا؟ ایک گڑھا کھودا جائے گا اور ایک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے گا، وَلَا يُوضَعُ فِيهِ بَلْ يُلْقَى اور اس کو اس میں رکھا نہیں جائے گا جیسے کہ میت کو رکھتے ہیں، بَلْ يُلْقَى اس کے اندر اس میں ڈال دیا جائے گا، اس گڑھے میں ڈال دیا جائے گا اس کو بھئی۔ یہاں تک مسائل سمجھ میں آ گئے بھئی؟ فَصْلٌ فِي حَمْلِ الْجَنَازَةِ یہ فصل ہے جنازے کے اٹھانے کے بیان میں کہ اب جنازہ اٹھا کر کس طرح لے کر جائیں گے، نمازِ جنازہ ہو چکی ہے، اب میت کو اٹھا کر کہاں لے جانا ہے؟ دفن کے لیے لے کر جانا ہے۔ کہتے ہیں: وَإِذَا حَمَلُوا الْمَيِّتَ عَلَى سَرِيرِهِ أَخَذُوا بِقَوَائِمِهِ الْأَرْبَعِ اور جب وہ لوگ اٹھائیں میت کو عَلَى سَرِيرِهِ اس کے تخت پر، اس کی چارپائی پر، أَخَذُوا تو پکڑ لیں گے اس کو بِقَوَائِمِهِ الْأَرْبَعِ اس کے چار پایوں سے۔ چارپائی جو ہے اس کے جو چاروں پائے ہیں اس سے اس کو پکڑ کر اٹھا لیں گے۔ بِذَلِكَ وَرَدَتِ السُّنَّةُ اسی کے ساتھ سنت وارد ہوئی ہے، یعنی یہی مسنون طریقہ ہے۔ وَفِيهِ تَكْثِيرُ الْجَمَاعَةِ اور اس کے اندر جماعت کا کثیر کرنا ہے، جماعت کی تکثیر ہے، یعنی جماعت کیا ہو گی؟ زیادہ۔ بھئی، آگے دراصل امام شافعی رحمہ اللہ کا قول آ رہا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میت کو دو آدمی اٹھائیں گے، دو آدمی۔ اور آگے والا جو آدمی ہے وہ اس چارپائی کو اپنی گردن پر رکھے گا بھئی۔ آگے ہے نا، چارپائی پشت کی طرف کہاں پر آ گئی اس کے؟ گردن پر بھئی اگلا حصہ۔ اور ایک آدمی پیچھے ہو گا، وہ چارپائی کے پچھلے حصے کو اپنے سینے پر رکھ لے گا بھئی۔ گردن کے قریب کس طرح رکھ لے گا؟ سینے پر رکھ لے گا، اس طرح اٹھا کر اس کو چلیں گے، جبکہ ہمارے نزدیک مسنون طریقہ یہ ہے کہ چارپائی کو چار آدمی اٹھائیں گے، ہر پائے کو ایک ایک آدمی پکڑ کر اس کو اٹھا لے گا۔ اور اس میں تکثیرِ جماعت ہے، کیونکہ اٹھانے والے کتنے ہیں؟ چار، اور ان کے قول کے مطابق اٹھانے والے کتنے؟ دو ہیں، تو اس کے اندر تکثیرِ جماعت ہے، جماعت زیادہ ہے۔ تو کہتے ہیں: وَفِيهِ تَكْثِيرُ الْجَمَاعَةِ اس کے اندر جماعت کی تکثیر ہے، جماعت کو کثیر کرنا ہے، وَزِيَادَةُ الْإِكْرَامِ اور زیادہ اکرام ہے۔ دو کے اٹھانے میں وہ اکرام نہیں جتنا چار کے اٹھانے میں اکرام زیادہ ہے، چار کے اٹھانے میں۔ کیونکہ انہوں نے چار کناروں سے، چار پایوں سے پکڑ کر چارپائی کو اٹھایا، کسی بوجھ اور سامان کو جیسے اٹھایا جاتا ہے ایسے نہیں اٹھایا، بلکہ کس طرح اٹھایا؟ ہاں، بوجھ ہو اس کو تو جیسے بھی اٹھا لیا جائے، لیکن یہاں کیا کیا جا رہا ہے؟ چاروں پایوں کو ایک ایک آدمی پکڑ کر اٹھا رہا ہے، تو اس میں احترام زیادہ ہے بھئی۔ یہ معنی ہے کہ اس کے اندر وَزِيَادَةُ الْإِكْرَامِ اکرام کی زیادتی ہے، احترام کی زیادتی ہے، وَالصِّيَانَةُ اور نیز اس کے اندر حفاظت ہے، حفاظت بھئی، کہ دو اٹھاتے ہیں تو اس کے اندر اتنی حفاظت نہیں، خطرہ ہے پھر بھی گرنے کا، لیکن چار اٹھائیں گے تو پھر میت کے گرنے کا خطرہ نہیں ہے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: السُّنَّةُ أَنْ يَحْمِلَهَا رَجُلَانِ سنت یہ ہے کہ اس کو اٹھائیں گے رَجُلَانِ دو آدمی، يَضَعُهَا السَّابِقُ عَلَى أَصْلِ عُنُقِهِ رکھے گا اس کو سابق یعنی مقدم جو آگے والا آدمی ہے وہ رکھے گا اس کو عَلَى أَصْلِ عُنُقِهِ کس پر؟ اپنی گردن کی جڑ پر بھئی۔ آگے ہے نا پچھلی پشت کی جانب اس کی گردن کی جڑ پر چارپائی کا اگلا حصہ آ جائے گا، وَالثَّانِي عَلَى صَدْرِهِ اور دوسرا پیچھے والا آدمی اٹھائے گا چارپائی کو اپنے سینے پر۔ دلیل ان کی؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ جَنَازَةَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ هَكَذَا حُمِلَتْ وہ فرماتے ہیں کیونکہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ہیں، جو قبیلۂ اوس کے سردار تھے، ان کا جنازہ اسی طرح اٹھایا گیا تھا، اسی طرح اٹھایا گیا تھا۔ قُلْنَا ہم کہتے ہیں: كَانَ ذَلِكَ لِازْدِحَامِ الْمَلَائِكَةِ عَلَيْهِ کہ وہ ان پر ملائکہ کے ہجوم کی وجہ سے تھا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابی گزرے ہیں بھئی اور یہ انصار کا قبیلۂ اوس جو تھا اس کے سردار تھے بھئی، وہ اس کے سردار تھے اور روایات میں آتا ہے کہ ان کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے نازل ہوئے تھے بھئی۔ اور یہ وہ شخص ہیں کہ جب ان کا انتقال ہوا تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ سعد کی موت سے اللہ کا عرش بھی لرزنے لگا بھئی، اللہ کا عرش بھی لرزنے لگا۔ علماء وجہ ذکر کرتے ہیں کہ یا تو یہ غم کی وجہ سے تھا کہ اتنی بڑی شخصیت کا انتقال ہوا تو اس غم کی وجہ سے وہ عرشِ الٰہی لرزنے لگا، یا کہتے ہیں خوشی کی وجہ سے وہ خوشی کی وجہ سے جھومنے لگا، خوشی کی وجہ سے جھومنے لگا کہ ایک بڑی ہی جلیل القدر روح جو ہے اس کی طرف آ رہی ہے بھئی، ایک بڑی ہی جلیل القدر روح آسمانوں کی طرف آ رہی ہے۔ تو ان کے جنازے میں بے انتہا فرشتوں کا چونکہ ہجوم تھا، اس وجہ سے ان کے جنازے کو اس طرح اٹھایا گیا۔ جواب سمجھ میں آیا؟ ہم کیا کہتے ہیں کہ ان کے جنازے میں فرشتوں کا بے انتہا ہجوم تھا اس لیے ان کے جنازے کو اس طرح اٹھایا گیا، حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں جنازے میں اپنے پنجوں کے بل چل رہے تھے، پورا قدم زمین پر نہیں رکھ رہے تھے بلکہ جو پنجہ ہے اس کے بل زمین پر چل رہے تھے، فرشتوں کے بے انتہا ہجوم کی وجہ سے۔ تو یہ معنی ہے: قُلْنَا كَانَ ذَلِكَ لِازْدِحَامِ الْمَلَائِكَةِ عَلَيْهِ تو ہم کہتے ہیں کہ وہ ان پر فرشتوں کے ہجوم کی وجہ سے تھا اس لیے یوں اٹھایا گیا۔ وَيَمْشُونَ بِهِ مُسْرِعِينَ دُونَ الْخَبَبِ اور چلیں گے اس کو میت کو لے کر مُسْرِعِينَ تیزی سے، جلدی سے، دُونَ الْخَبَبِ نہ کہ دوڑ کر۔ خبب کہتے ہیں دوڑ، ہلکی رفتار سے دوڑنا بھئی، دوڑتے ہوئے لے کر اس کو نہیں چلیں گے، تیزی سے تو چلیں گے لیکن دوڑ کر نہیں بھئی۔ لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سُئِلَ عَنْهُ قَالَ مَا دُونَ الْخَبَبِ اس لیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا اس کے بارے میں کہ میت کو لے کر کس طرح چلیں، تو آپ فرمانے لگے: مَا دُونَ الْخَبَبِ دوڑنے کے علاوہ، یعنی دوڑ کر نہ ہو بھئی۔ تو میت کو لے کر بھئی جلدی جلدی چلیں گے قبرستان کی طرف، قبرستان کی طرف، اور لیکن اتنی رفتار نہ ہو کہ میت ہی ہلنے لگے۔ سمجھ میں آیا؟ احترام کے ساتھ ہو البتہ جلدی جلدی ہو، تو اس لیے کیونکہ اگر نیک آدمی ہے تو تاکہ اسے جلد سے جلد اس کے آخرت کے گھر تک پہنچا دیں اور اللہ نے اس کے لیے جو انعامات تیار کر رکھے ہیں اس تک جلدی جلدی اس کو پہنچا دیں بھئی۔ اور اگر برا آدمی ہے تو پھر تاکہ جلدی سے جلدی اس بوجھ کو اپنے سروں سے اتار دیں بھئی۔ وَإِذَا بَلَغُوا إِلَى قَبْرِهِ يُكْرَهُ أَنْ يَجْلِسُوا قَبْلَ أَنْ يُوضَعَ عَنْ أَعْنَاقِ الرِّجَالِ اور جب پہنچ جائیں اس کی قبر تک تو مکروہ ہے کہ وہ لوگ بیٹھیں قبل اس کے کہ رکھا جائے اس کو لوگوں کی گردنوں سے۔ یاد رکھیے بھئی جنازہ جب لے کر چلے اور قبرستان پہنچ گئے، تو جنازے کے رکھنے سے پہلے لوگوں کا بیٹھنا مکروہ ہے بھئی، مکروہ ہے۔ ہاں اگر کوئی ضرورت وغیرہ ہو پھر الگ بات ہے، ویسے اس کو رکھنے کے بعد پھر بیٹھ سکتے ہیں۔ دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ کیا وجہ ہے اس کی؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ قَدْ تَقَعُ الْحَاجَةُ إِلَى التَّعَاوُنِ اس لیے کیونکہ کبھی کبھار ضرورت پیش آ جاتی ہے إِلَى التَّعَاوُنِ ایک دوسرے کی مدد کی، جنازے کو اتارتے ہوئے بعض اوقات ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے، وَالْقِيَامُ أَمْكَنُ مِنْهُ اور قیام وہ زیادہ قادر ہے اس پر، مِنْهُ مِنَ الْجُلُوسِ کس کے مقابلے میں؟ بیٹھنے، تو قیام جو ہے اس میں دوسرے کی مدد کرنا بیٹھنے کی بنسبت قیام کی حالت میں زیادہ قدرت ہوتی ہے اس پر۔ وَكَيْفِيَّةُ الْحَمْلِ أَنْ تَضَعَ مُقَدَّمَ الْجَنَازَةِ عَلَى يَمِينِكَ ثُمَّ مُؤَخَّرَهَا عَلَى يَمِينِكَ ثُمَّ مُقَدَّمَهَا عَلَى يَسَارِكَ ثُمَّ مُؤَخَّرَهَا عَلَى يَسَارِكَ إِيثَارًا لِلتَّيَامُنِ اور كَيْفِيَّةُ الْحَمْلِ اٹھانے کی کیفیت، کس طرح اٹھا کر چلیں گے اس کو؟ کہتے ہیں اٹھا کر اس کے اٹھانے کی کیفیت یہ ہے: أَنْ تَضَعَ مُقَدَّمَ الْجَنَازَةِ عَلَى يَمِينِكَ بلکہ یہاں جِنازہ پڑھیں بھئی، کیا پڑھیں؟ جِنازہ، کیونکہ وہ چارپائی مراد ہے۔ اور اٹھانے کی کیفیت یہ ہے: أَنْ تَضَعَ مُقَدَّمَ الْجِنَازَةِ عَلَى يَمِينِكَ کہ آپ رکھیں اس چارپائی کے اگلے حصے کو عَلَى يَمِينِكَ اپنے دائیں پر، یعنی دائیں کندھے پر، ثُمَّ مُؤَخَّرَهَا عَلَى يَمِينِكَ پھر اس کے پچھلے حصے کو رکھیں چارپائی کے اپنے دائیں کندھے پر، ثُمَّ مُقَدَّمَهَا عَلَى يَسَارِكَ پھر اس کے اگلے حصے کو رکھیں اپنے بائیں کندھے پر، ثُمَّ مُؤَخَّرَهَا عَلَى يَسَارِكَ پھر اس کے پچھلے حصے کو رکھیں اپنے بائیں کندھے پر، إِيثَارًا لِلتَّيَامُنِ ترجیح دیتے ہوئے تیامن کو، دائیں طرف کو ترجیح دیتے ہوئے بھئی، دائیں طرف سے کرنا تیامن کا معنی ہے دائیں طرف سے کرنا، دائیں طرف کو یعنی ترجیح دیتے ہوئے۔ بھئی، جنازہ اٹھا کر لے جانے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ چار آدمیوں نے چاروں پایوں سے اس چارپائی کو اٹھایا ہے، تو اب باری باری اٹھاتے ہیں، تو مستحب یہ ہے کہ کندھا دینے والا پہلے اگلے حصے کو کیا کرے؟ چارپائی کا جو چارپائی کے اگلے حصے کو پہلے اپنے بائیں کندھے پر رکھے، بائیں کندھے پر۔ تو چارپائی کا کون سا حصہ ہو جائے گا؟ رکھنا کس پر ہے؟ دائیں کندھے پر پہلے رکھنا ہے، کس پر؟ دائیں کندھے پر پہلے رکھنا ہے۔ جب دائیں کندھے پر رکھیں گے تو چارپائی کا کون سا حصہ ہو جائے گا؟ چارپائی کا بایاں حصہ، تو چارپائی کا اگلا جو بایاں حصہ ہے اس کو کہاں پر رکھ لے؟ اپنے دائیں کندھے پر رکھ لے، دائیں کندھے پر۔ اور پھر کندھا دینے والا کم از کم دس قدم چلے۔ پھر اس کے بعد اب پھر وہ کندھا دینا چاہتا ہے، اب اسی جانب کا جو پچھلا پایا ہے اس کو اپنے دائیں کندھے پر رکھے اور پھر کم از کم کتنا چل لے؟ دس قدم تک ساتھ چل لے بھئی۔ پھر اس کے بعد کندھا دینا چاہتا ہے، تو اب دوسری طرف آ جائے اور دوسری طرف چارپائی کا ہو جائے گا دایاں حصہ اور اس شخص کے کس کندھے پر آئے گا؟ بائیں کندھے، تو اب چارپائی کا جو اگلا حصہ ہے اس کو اپنے بائیں کندھے پر رکھ کر کم از کم کتنا کندھا دے دے؟ دس قدم تک اس کو کندھا دے دے۔ پھر اس کے بعد اس سے جو پچھلا حصہ ہے چارپائی کا اسی جانب والا، اس کو اپنے بائیں کندھے پر رکھ کر کم از کم دس قدم تک اس کو کندھا دے دے، یہ ہے مستحب طریقہ بھئی، طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو لہٰذا جب آپ اپنے دائیں کندھے پر رکھیں گے پہلے، تو چارپائی کا تو بایاں حصہ ہو گیا بے شک، لیکن میت کی یہ دائیں جانب ہی ہے۔ آپ غور کریں، چارپائی کا اگلا حصہ کس پر آیا پہلے؟ دائیں کندھے پر، تو چارپائی کا تو بایاں کنارہ ہے، لیکن میت کا کون سا حصہ اس طرف ہے؟ میت کا دایاں پہلو ہی ہے آپ کی طرف بھئی، طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اور عبارت لے کر آئے صاحبِ صاحبِ ہدایہ، مخاطب کے صیغے لے کر آئے کہ اٹھانے کی کیفیت یہ ہے: أَنْ تَضَعَ أَنْ تَضَعَ مُقَدَّمَ الْجِنَازَةِ عَلَى يَمِينِكَ کہ آپ رکھیں چارپائی کے اگلے حصے کو اپنے اپنے دائیں کندھے پر، یہ مخاطب کے صیغے کو لے کر آئے، دراصل یہ جامع صغیر کی عبارت ہے، اسی کو صاحبِ صاحبِ ہدایہ نے نقل فرمایا۔ اور جامع صغیر کے اندر یہ عبارت جو نقل کی گئی یہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے، آپ اپنے شاگرد امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو جنازہ اٹھانے کا طریقہ سکھلا رہے تھے، تو آپ نے یہ فرمایا کہ اس طرح اٹھاؤ، تو یہ الفاظ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہیں جو صاحبِ ہدایہ نے نقل فرمائے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے یہ مخاطب کے صیغے لے کر آئے ہیں۔ اب دوبارہ دیکھ لیجیے بھئی، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اپنے شاگرد امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے فرماتے ہیں کہ اٹھانے کی کیفیت یہ ہے: أَنْ تَضَعَ مُقَدَّمَ الْجِنَازَةِ عَلَى يَمِينِكَ کہ تم رکھو جنازے کے اگلے حصے کو اپنے دائیں کندھے پر، ثُمَّ مُؤَخَّرَهَا عَلَى يَمِينِكَ پھر اس جنازے کے پچھلے حصے کو اپنے دائیں کندھے پر، ثُمَّ مُقَدَّمَهَا عَلَى يَسَارِكَ پھر جنازے کے اگلے حصے کو اپنے بائیں کندھے پر، ثُمَّ مُؤَخَّرَهَا عَلَى يَسَارِكَ پھر اس کے پچھلے حصے کو اپنے بائیں کندھے پر، إِيثَارًا لِلتَّيَامُنِ تیامن کو ترجیح دیتے ہوئے، دائیں طرف سے کرنے شروع کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے، وَهَذَا فِي حَالَةِ التَّنَاوُبِ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں، تناوب کہتے ہیں باری باری کوئی عمل کرنا، تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: وَهَذَا فِي حَالَةِ التَّنَاوُبِ یہ تناوب کی حالت میں ہو گا، یعنی باری باری کرنے کی صورت میں یہ ترتیب ہو گی کہ پہلے ایک طرف سے کندھا دیا پھر دوسری طرف، پھر تیسری طرف اور پھر چوتھی طرف وہ کندھا دیں گے بھئی، طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ فَصْلٌ فِي الدَّفْنِ یہ فصل ہے دفن کرنے کے بیان میں کہ اب میت کو دفن کیسے کیا جائے گا۔ کہتے ہیں: وَيُحْفَرُ الْقَبْرُ وَيُلْحَدُ اور قبر کھودی جائے گی، وَيُلْحَدُ اور لحد بنائی جائے گی، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے، آپ نے فرمایا: ”اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا“ کہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق ہمارے علاوہ کے لیے یعنی اوروں کے لیے ہے۔ بھئی، یاد رکھیے یہ لحد اور شق یہ قبر کی دو قسمیں ہیں بھئی، قبر۔ قبر میں یاد رکھیے مستحب طریقہ یہ ہے کہ قبر کم از کم نصف قد کے برابر گہری ہونی چاہیے۔ قبر کم از کم کتنی گہری ہو؟ نصف قد کے برابر گہری ہو یا اس سے کچھ زائد ہو، البتہ قد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، قبر کی گہرائی قد سے زیادہ نہیں، تو نصف قد سے لے کر قد کے درمیان تک بھئی، زیادہ مناسب یہ ہے کہ سینے کے لگ بھگ اتنی گہری قبر ہونی چاہیے بھئی۔ اور پھر اس میں دو طریقے ہیں قبر کے: ایک جسے لحد کہتے ہیں، بھئی یہ لحد اس کو بغلی قبر بھی کہتے ہیں، بغلی قبر بھی، تو یہ قبر جب کھود لی گئی تو قبلے کی طرف جو قبر کی دیوار ہے اس میں جگہ بنائی جاتی ہے اس طرف، جی؟ قبلے کی جانب اس میں وہ دیوار میں جگہ بنائی جاتی ہے نچلے حصے کے اندر، یعنی اس طرف کو یوں کہیں ایک خانہ بنا لیا جاتا ہے۔ جو قبلے کی طرف جو دیوار ہے اس دیوار کے نچلے حصے میں ایک خانہ اس طرف کو کھود لیا جاتا ہے اور اس کے اندر پھر میت کو لٹایا جاتا ہے اس خانے کے اندر بھئی، یہ ہے لحد بھئی لحد۔ اور دوسری ہے شق بھئی، شق وہ سیدھی قبر بھئی اور اس میں بھی بعض نے لکھا کہ سیدھی قبر کھودی، وہ قبر تھوڑی چوڑائی میں ذرا زیادہ ہو گی، پھر جو قبر کے آخری حصہ نیچے نچلی سطح جو ہے قبر کی، اس کے اندر درمیان میں ایک یوں کہیں خانہ سا سیدھا خانہ زمین میں ذرا اور گہرا تھوڑا سا جس میں وہ میت کو پھر رکھ دیں گے وہ کھودا جاتا ہے، طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ دو طریقے ہیں بھئی، اور دونوں جائز ہیں یہ بھی یاد رکھیے بھئی۔ البتہ ہمارے نزدیک لحد افضل ہے، افضل کیا ہے؟ لحد بنائی جائے، بغلی قبر بنائی جائے، یعنی قبلے کی طرف نیچے دیوار میں وہ خانہ بنا کر اس میں میت کو لٹایا جائے۔ اور میت کو لٹاتے ہوئے یہ بھی یاد رکھیں اس کو قبلہ رخ کر دینا چاہیے بھئی اور وہ کفن پر جو گرہیں وغیرہ باندھی گئی تھیں تاکہ کہیں کفن نہ کھل جائے، ان گرہوں کو اب کھول دیا جائے کیونکہ اب ان کے کفن کے منتشر ہونے کا خطرہ نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا افضل ہمارے نزدیک لحد ہے، لیکن لحد میں آپ نے دیکھا کہ دیوار کے اندر پھر قبلے کی طرف ایک خانہ بنایا جاتا ہے، تو یہ وہیں پر ممکن ہو گا جہاں کی زمین سخت ہو گی، ورنہ دیوار کے اندر نیچے قبلے کی طرف جب اگر آپ خانہ بناتے ہیں زمین اگر نرم ہوئی پھر تو اوپر والی زمین نیچے بیٹھ جائے گی بھئی، تو لہٰذا جہاں سخت زمین ہو وہاں لحد بنانا افضل ہے اور جہاں زمین نرم ہے لحد بنائیں گے تو زمین بیٹھ جاتی ہے، تو وہاں شق پر عمل کیا جائے گا اور سیدھی قبر ہی کھودی جائے گی بھئی، طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے: وَيُحْفَرُ الْقَبْرُ وَيُلْحَدُ اور قبر کھودی جائے گی اور لحد بنائی جائے گی، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ ”اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا“ کہ لحد ہمارے لیے ہے اور شق ہمارے علاوہ کے لیے۔ وَيُدْخَلُ الْمَيِّتُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ اور داخل کی جائے گی میت اس جانب سے جو قبلے کی طرف ہے، قبلے کے ساتھ ملی ہوئی ہے یعنی قبلے کی طرف ہے۔ اب بھئی میت کو قبر میں اتارنا ہے تو یاد رکھیے اب وہ چارپائی جو ہے میت کی اس کو قبلے کی جانب لے آئیں گے، قبلے۔ مثلاً دیکھیے یہاں پر قبلہ ہے مغرب کی جانب، تو قبر کو اب شمالاً جنوباً کھودا جائے گا۔ قبر شمالاً جنوباً کھودی جائے گی تاکہ جب اندر میت کو پہلو پر لٹائیں تو اس کا رخ کس طرف ہو جائے؟ قبلے کی طرف ہو جائے۔ تو اب جب میت کو قبر میں اتارنے لگے وہ چارپائی قبلے والی جانب لے آئیں گے اور پھر اس طرف سے میت کو قبر میں اتارا جائے گا بھئی، قبر میں اتارا جائے گا۔ تو یہ ہمارے نزدیک، جبکہ خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، فَإِنَّ عِنْدَهُ يُسَلُّ سَلًّا کیونکہ ان کے نزدیک جو ہے يُسَلُّ سَلًّا میت کو کھینچا جائے گا، کھینچ کر قبر میں لائیں گے، ان کے نزدیک مسنون طریقہ یہ ہے۔ ہمارے نزدیک کیا مسنون طریقہ ہوا؟ چارپائی قبلے کی طرف لے آئے، پھر چارپائی سے میت کو اٹھایا اور جو قبر میں اتار رہے ہیں وہ اس کو پھر قبر میں رکھ دیں گے نیچے، جبکہ ان کے نزدیک مسنون طریقہ یہ ہے کہ چارپائی جو ہے وہ پاؤں کی جانب لے آئیں گے، کس جانب؟ پاؤں کی جانب اور پاؤں کی جانب بھی اس طریقے سے لانی ہے کہ میت کا سر قبر کی طرف ہے اور پاؤں دوسری جانب کو ہیں، مثلاً دیکھیے قبر ہے شمالاً جنوباً، ذہن میں صورت بنا لی بھئی؟ قبر ہے شمالاً جنوباً اور میت کو اب کس طرف لے آئے؟ پاؤں کی جانب، اس کا سر کس طرف ہے؟ قبر کی طرف ہے یعنی یوں کہیں سر اس کا پاؤں والی طرف ہے اور پاؤں دوسری آگے کی طرف نکلے ہوئے ہیں، اب یہاں سے میت کو اس چارپائی سے یوں کھینچ کر اٹھا کر قبر کے اندر رکھ دیا جائے گا بھئی۔ تو ہمارے نزدیک قبلے کی طرف لائیں گے اور چارپائی سے اٹھا کر میت کو قبر میں لے جائیں گے، جبکہ ان کے نزدیک اٹھا کر لے جانے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ کہ چارپائی کا سر آ گیا قبر کے پاؤں کی طرف اور وہاں سے پھر میت کو چارپائی سے کیسے اٹھائیں گے؟ کہ اس کے سر والے حصے کو پکڑیں گے اور کھینچتے ہوئے قبر کی طرف لے جائیں گے وہ تو یہ ذہن میں یہ نہ سوچیں کھینچ رہے ہیں، توہین وغیرہ والی، تو نہیں نہیں۔ ان کے نزدیک مسنون طریقہ یہ ہے جیسے وہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کو اس طرح قبر میں اتارا گیا تھا اور حضور علیہ السلام کو چار افراد نے قبر میں اتارا تھا، لیکن اس طریقے سے اتارا تھا چارپائی سے یعنی یوں اٹھایا تھا، چارپائی سے یوں اٹھایا تھا کہ سر کی جانب سے حضور علیہ السلام کے جسم مبارک کو پکڑا گیا اور پھر اندر کی طرف اس کو لے آئے، تو یعنی کہ اس میں وہ کھینچنا ہی ہے، یعنی اس طریقے سے ان کو اٹھا کر اندر میت میں قبر میں لے آئے، طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اس طریقے سے اٹھا کر لے آئے۔ تو لہٰذا ان کے نزدیک یہ مسنون ہے۔ یہ معنی ہے: خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، فَإِنَّ عِنْدَهُ يُسَلُّ سَلًّا ان کے نزدیک جو ہے اس کو کھینچا جائے گا، لِمَا رُوِيَ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُلَّ سَلًّا بوجہ اس حدیث کے جس کو روایت کیا گیا کہ حضور علیہ السلام کو اس طرح اس طریقے پر قبر میں اتارا گیا، وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ جَانِبَ الْقِبْلَةِ مُعَظَّمٌ فَيُسْتَحَبُّ الْإِدْخَالُ مِنْهُ کہ قبلے کی جانب معظم و محترم ہے تو مستحب ہے اس جانب سے میت کو داخل کرنا۔ اور باقی آپ نے دلیل میں کیا ذکر کیا کہ حضور علیہ السلام کو اس طریقے سے قبر میں اتارا گیا تھا، تو ہم کہتے ہیں: وَاضْطَرَبَتِ الرِّوَايَاتُ فِي إِدْخَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضور علیہ السلام کو قبر میں داخل کرنے کے بارے میں روایات مضطرب ہیں، یعنی مختلف ہیں، بعض روایات میں کسی طرح ذکر ہے اور بعض روایات میں کسی طرح ذکر ہے، لہٰذا ان کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ کوئی ایک طریقہ ذکر نہیں ہے، اگر ایک ہوتا تو پھر پھر تو اس کو آپ دلیل بنا سکتے تھے لیکن وہاں روایات میں اضطراب ہے بھئی، دونوں طریقے سمجھ میں آ گئے بھئی؟ فَإِذَا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ يَقُولُ وَاضِعُهُ: ”بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ“ پس جب اس میت کو قبر میں رکھا جائے تو يَقُولُ وَاضِعُهُ تو اس کو رکھنے والا یہ کہے: ”بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ“، اس میت کو قبر میں رکھنے والا اس موقع پر کیا کہے؟ ”بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ“، كَذَا قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعَ أَبَا دُجَانَةَ فِي الْقَبْرِ اسی طرح حضور علیہ السلام نے فرمایا جس وقت کہ آپ نے رکھا ابو دجانہ کو فِي الْقَبْرِ قبر میں۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب حضور علیہ السلام نے قبر میں اتارا اور قبر میں رکھا تو آپ نے اسی طرح فرمایا بھئی۔ صاحبِ ہدایہ نے یہاں ابو دجانہ صحابی کا نام ذکر کیا کہ ان کو اس طرح قبر میں اتارتے وقت حضور علیہ السلام نے اس طرح فرمایا، معلوم ہوا حضور علیہ السلام ان کو قبر میں اتارنے والوں میں شامل تھے اور آپ نے ان کو رکھنے کے بعد پھر ”بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ“ فرمایا، تو صاحبِ ہدایہ نے ابو دجانہ نام ذکر کیا اور شارحین یہاں فرماتے ہیں کہ یہ ابو دجانہ نہیں بلکہ یہ حضرت ذو البجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے بھئی۔ کون تھے؟ ذو البجادین، بجادین با کے کسرہ کے ساتھ ہے جیسا کہ علامہ عینی نے بنایہ کے اندر ذکر فرمایا ہے، ذو البجادین، با کے نیچے کسرہ ہے۔ بھئی دراصل یہ بعض کتابوں کے اندر بعض علماء سے یہ غلطی ہوئی اور انہوں نے کیا درج کر دیا؟ ابو دجانہ انہوں نے لکھ دیا کیونکہ نام بہرحال کچھ قریب قریب ہیں، دونوں میں جیم بھی آ رہا ہے، دال بھی آ رہا ہے، قریب قریب تھے تو بعض سے یہ غلطی ہوئی انہوں نے اپنی کتابوں میں ابو دجانہ ذکر کیا اور صاحبِ ہدایہ نے بھی ان سے اخذ کرتے ہوئے ان کے قول پر اعتماد کرتے ہوئے کیا ذکر کر دیا؟ ابو دجانہ، ورنہ صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت ذو البجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے، جبکہ ابو دجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کا تو انتقال حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں ہوا، ان کے زمانے میں ہوا۔ وَيُوَجِّهُ إِلَى الْقِبْلَةِ اور اس کو متوجہ کر دے قبلے کی طرف۔ بھئی، میت کو قبر میں رکھنے کے بعد اس کو قبلہ رخ کر دینا چاہیے کہ اس کا رخ کس طرف ہو جائے؟ قبلے کی طرف ہو جائے، لہٰذا جو دیوار وغیرہ ہے اس کے ساتھ اس میت کی کچھ ٹیک لگوا دی جائے گی تاکہ اس کا رخ قبلے کی طرف ہو جائے۔ یہ معنی ہے: وَيُوَجِّهُ إِلَى الْقِبْلَةِ اور قبلے کی طرف اس کو متوجہ کر دے یعنی قبلہ رخ کر دے اس کو، بِذَلِكَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسی کا حکم دیا حضور علیہ السلام نے، وَيَحُلُّ الْعُقْدَةَ اور گرہ کو کھول دے، يَحُلُّ الْعُقْدَةَ گرہ کو کھول دے، لِوُقُوعِ الْأَمْنِ مِنَ الِانْتِشَارِ اس لیے کیونکہ انتشار سے امن واقع ہو گیا۔ بھئی، کفن جب میت کو قبر کے اندر لٹا دیا تو اس کو قبلہ رخ کر دیا جائے اور پھر جو کفن کو باندھا گیا تھا گرہ دی گئی تھی تاکہ کہیں کفن کھل نہ جائے، تو اب تو قبر کے اندر میت کو لٹا دیا، اب تو کفن کے کھلنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے، لہٰذا اب ان گرہوں کو کھول دیا جائے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَيَحُلُّ الْعُقْدَةَ اور اس گرہ کو کھول دے، لِوُقُوعِ الْأَمْنِ مِنَ الِانْتِشَارِ اس وجہ سے کہ منتشر ہونے سے امن حاصل امن واقع ہو گیا، امن حاصل ہو گیا، اب کفن کے منتشر ہونے یعنی کھلنے اور بکھرنے کا خطرہ نہیں ہے بھئی۔ وَيُسَوَّى اللَّبِنُ عَلَى اللَّحْدِ اور برابر کر دیا جائے کچی اینٹوں کو لحد پر۔ بھئی ایک ہے لبن اور ایک ہے آجُرّ، را مشدد ہے، آجُرّ۔ لبن کہتے ہیں کچی اینٹ کو اور آجُرّ کہتے ہیں پکی اینٹ کو۔ بھئی آپ جانتے ہیں اینٹیں مٹی سے بنائی جاتی ہیں اور پھر ان کو بھٹی کے اندر پکایا جاتا ہے تو یہ سخت صورت اختیار کر لیتی ہیں، تو وہ جو کچی اینٹ ہو پکانے سے پہلے آگ کے اندر اس کو لبن کہتے ہیں اور جب پکا دیا سخت ہو گئی تو اب اس کو کیا کہتے ہیں؟ آجر کہتے ہیں، تو یہاں کچی اینٹیں استعمال کرنا مستحب ہے پکی نہیں بھئی۔ وَيُسَوَّى اللَّبِنُ عَلَى اللَّحْدِ اور برابر کر دی جائیں کچی اینٹیں لحد پر، لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُعِلَ عَلَى قَبْرِهِ اللَّبِنُ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام جو ہیں آپ کی قبر مبارک پر کچی اینٹیں رکھی گئیں۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ میت کو لحد میں لٹا دیا اور پھر اس کو قبلہ رخ کر دیا گیا، کوئی کسی چیز وغیرہ کے ساتھ اس کو کچھ سہارا دے کر اس کا رخ کس طرف کر دیا گیا؟ قبلے کی طرف کر دیا گیا اور یہ لحد کیا تھی؟ قبلے کی جانب جو دیوار تھی اس میں ایک خانہ بنایا گیا تھا، تو اب اس خانے کو بند کر دیا جائے کس کے ساتھ؟ کچی اینٹوں کے ساتھ بھئی، یہ معنی ہے۔ وَيُسَجَّى قَبْرُ الْمَرْأَةِ بِثَوْبٍ حَتَّى يُجْعَلَ اللَّبِنُ عَلَى اللَّحْدِ وَلَا يُسَجَّى قَبْرُ الرَّجُلِ۔ سَجَّى يُسَجِّي کے معنی ہوتے ہیں ڈھانپنا یعنی پردہ کرنا۔ وَيُسَجَّى قَبْرُ الْمَرْأَةِ بِثَوْبٍ اور ڈھانپ دیا جائے گا عورت کی قبر کو کسی کپڑے سے، یعنی اس پر پردہ کر دیا جائے گا۔ یاد رکھیے عورت کی قبر پر کپڑے وغیرہ چادروں سے پردہ کرنا مستحب ہے، کیا ہے؟ مستحب ہے۔ اور اگر کفن کھلنے کا خوف ہو تو پھر واجب ہے، پردہ کرنا واجب ہے۔ تو یہ معنی ہے: اور ڈھانپ دیا جائے گا یعنی پردہ کر دیا جائے گا عورت کی قبر پر کسی کپڑے سے، حَتَّى يُجْعَلَ اللَّبِنُ عَلَى اللَّحْدِ یہاں تک کہ کچی اینٹیں رکھ دی جائیں لحد پر، اس وقت تک پردہ کر دیں گے۔ وَلَا يُسَجَّى قَبْرُ الرَّجُلِ اور ڈھانپا نہیں جائے گا مرد کی قبر کو یعنی اس پر پردہ نہیں کیا جائے گا، لِأَنَّ مَبْنَى حَالِهِنَّ عَلَى السَّتْرِ اس لیے کیونکہ عورتوں کی حالت عورتوں کی حالت کی بنیاد ستر یعنی پردے پر ہے، عورت کے لیے کیا مناسب ہے؟ پردہ مناسب ہے، تو ان کی حالت کی بنیاد پردے پر ہے، وَمَبْنَى حَالِ الرِّجَالِ عَلَى الِانْكِشَافِ اور مردوں کی حالت کی بنیاد انکشاف یعنی کشف پر ہے، مردوں کی حالات پر کی بنیاد پردے پر نہیں ہے بلکہ کشف یعنی غیر پردے پر ہے، کھلے ہونے پر ہے۔ وَيُكْرَهُ الْآجُرُّ وَالْخَشَبُ اور مکروہ ہے پکی اینٹ وَالْخَشَبُ اور لکڑی۔ لک تخت لکڑی وغیرہ اور لکڑی کے تختے وغیرہ استعمال کرنا یا پکی اینٹیں استعمال کرنا مکروہ ہے، لِأَنَّهُمَا لِإِحْكَامِ الْبِنَاءِ، أَحْكَمَ يُحْكِمُ اِحْکَام کا معنی مضبوط کرنا، اس لیے کیونکہ یہ جو اینٹ پکی اینٹیں اور لکڑی جو ہے یہ عمارت کی مضبوطی کے لیے ہوتی ہیں، وَالْقَبْرُ مَوْضِعُ الْبِلَى، با کے کسرہ کے ساتھ، وَالْقَبْرُ مَوْضِعُ الْبِلَى اور قبر تو گلنے کی جگہ ہے، بوسیدہ ہونے کی جگہ ہے، تو لہٰذا وہ یہاں پر مکروہ ہیں۔ ہاں اگر ضرورت ہو تو پھر جائز ہے بھئی، ضرورت ہو تو جائز ہے، تو ضرورت کی بنا پر مثلاً وہ زمین جو ہے نرم وغیرہ ہے یا کوئی ایسی مجبوری آ گئی تو پھر جائز ہے۔ ثُمَّ بِالْآجُرِّ أَثَرُ النَّارِ فَيُكْرَهُ تَفَاؤُلًا، پھر جو پکی اینٹ جو ہے اس پہ آگ کا اثر ہوتا ہے، اینٹ پکتی کیسے ہے اس کو کس پر پکاتے ہیں؟ آگ پر، تو اس میں آگ کا اثر ہوتا ہے، فَيُكْرَهُ تَفَاؤُلًا تو وہ بدفالی کے اعتبار سے بھی مکروہ ہو گی۔ کس اعتبار سے؟ بدفالی کے اعتبار سے مکروہ ہو گی، کوئی شخص اس سے بدفالی مراد لے گا کہ اس شخص کی قبر پر کس طرح کی اینٹیں لگائی گئیں؟ وہ اینٹیں جو آگ پر پکائی گئی تھیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو بدفالی کوئی لے گا کہ آگ والی چیز اس کی قبر میں آ گئی۔ وَلَا بَأْسَ بِالْقَصَبِ اور کانے میں کوئی حرج نہیں۔ قصب کہتے ہیں کانا، نرکل بھئی نرکل۔ بھئی وہ جو کاتب جس سے قلم بناتے ہیں قلم بناتے ہیں اور اس سے لکھتے ہیں، نیز اسی کی وہ بناتے ہیں بھئی پردے کے لیے ہاں چک وغیرہ، چک بھی اسی کی بنتی ہے، اس کو نرکل بھی کہتے ہیں اور کانا بھی۔ تو کہتے ہیں کانوں کے اندر کوئی حرج نہیں یعنی وہ قبر پر لگا سکتے ہیں وہ قبر کے اندر۔ وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ اور جامع صغیر کے اندر ہے، جامع صغیر میں یہ لکھا ہے کہ وَيُسْتَحَبُّ اللَّبِنُ وَالْقَصَبُ، لبن اور یعنی کچی اینٹ اور یہ نرکل جو ہیں یہ مستحب ہیں، یہ کیا ہیں؟ مستحب ہیں۔ صاحبِ قدوری نے تو فرمایا تھا کانوں میں یعنی نرکل میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن جامع صغیر میں آیا کہ کانوں کا لگانا مستحب ہے، لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُعِلَ عَلَى قَبْرِهِ طُنٌّ مِنْ قَصَبٍ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام کی قبر مبارک پر لگایا گیا طُنٌّ، طن کہتے ہیں گٹھا بھئی، مِنْ قَصَبٍ وہ نرکل جو وہ جو کانے ہیں ان کا ایک گٹھا لگایا گیا حضور علیہ السلام کی قبر پر۔ ثُمَّ يُهَالُ التُّرَابُ پھر مٹی ڈالی جائے۔ پھر اس قبر پر مٹی ڈالی جائے اور یاد رکھیے بھئی مٹی ڈالنے کی ابتدا جو ہے وہ مستحب یہ ہے سر کی طرف سے کی جائے، سر کی طرف سے مٹی ڈالنا شروع کی جائے اور ہر شخص مستحب یہ ہے کہ ہر شخص تین تین مٹھی مٹی ڈالے بھئی۔ تین مٹھی مٹی ڈالے بھئی تو اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں میں مٹی لے کر قبر پر ڈالے تین مرتبہ بھئی، دونوں ہاتھوں میں دونوں ہاتھوں میں مٹی اٹھا کر قبر پر ڈالے اور پہلی مرتبہ جب دونوں ہاتھوں میں مٹی لے کر قبر پر ڈالے تو اس وقت کہے: ”مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ“، اس وقت پہلی مرتبہ میں کیا کہے؟ ”مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ“، اور دوسری مرتبہ میں کہے گا: ”وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ“، اور تیسری مرتبہ میں کہے گا: ”وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى“ بھئی، تو یہ طریقہ ہے بھئی، یہ طریقہ ہے۔ تو یہ معنی ہے: ثُمَّ يُهَالُ التُّرَابُ پھر اس پر مٹی ڈالی جائے گی، وَيُسَنَّمُ الْقَبْرُ اور قبر کو مسنم کیا جائے گا یعنی کوہان نما بنایا جائے گا۔ کوہان بھئی آپ نے وہ اگر اونٹ کو دیکھا ہو، اونٹ کی کمر پر ایک ابھری ہوئی اس کی ہڈی ہوتی ہے، ابھرا ہوا حصہ ہوتا ہے اس کو کوہان کہتے ہیں، تو قبر بھی کوہان نما ہونی چاہیے، کوہان کی طرح۔ اور یاد رکھیے یہ بھی بھئی کہ قبر کی اونچائی زمین سے ایک بالشت یا اس سے تھوڑی معمولی سی کچھ زیادہ ہو جائے اتنی اونچائی ہونی چاہیے، ایک بالشت سے زیادہ اونچی قبر بنانا یعنی کافی زیادہ، تھوڑی بہت ہو تو اس کی خیر ہے ایک بالشت سے تھوڑی بہت زیادہ ہو، ہاں زیادہ اونچی ہے اس سے تو پھر ایسا کرنا مکروہ ہے بھئی، مکروہ ہے۔ یرحمک اللہ۔ یہ معنی ہے تو يُسَنَّمُ الْقَبْرُ قبر کو کوہان نما بنایا جائے گا۔ سنام کہتے ہیں سنام وہ اونٹ کا جو کوہان ہوتا ہے تو وہ بھی اسی سے ہے يُسَنَّمُ الْقَبْرُ قبر کو کوہان نما بنایا جائے گا، وَلَا يُسَطَّحُ اور اس کو برابر نہیں کیا جائے گا اوپر سے اس کے سطح کو برابر نہیں کیا جائے گا، کیا معنی برابر نہیں کیا جائے گا؟ أَيْ لَا يُرَبَّعُ یعنی چار کونوں والی نہیں بنائی جائے گی۔ چار کونے اس کے نہیں بلکہ کوہان کی طرح گولائی میں ہونی چاہیے، مربہ نہیں ہونی چاہیے، لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ تَرْبِيعِ الْقُبُورِ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے قبروں کی تربیع سے منع فرمایا ہے۔ قبروں کی تربیع سے منع فرمایا ہے۔ وَمَنْ شَاهَدَ قَبْرَهُ أَخْبَرَ أَنَّهُ مُسَنَّمٌ اور جنہوں نے حضور علیہ السلام کی قبر کا مشاہدہ کیا ہے، أَخْبَرَ انہوں نے بتلایا ہے، انہوں نے خبر دی ہے کہ أَنَّهُ مُسَنَّمٌ کہ حضور علیہ السلام کی قبر مبارک بھی کس طرح ہے؟ مسنم ہے، یعنی اوپر سے گولائی کے اندر ہے، چوڑائی میں اور چار کونوں والی نہیں ہے بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے قبر پر پھر اس کے بعد جب مٹی ڈال دی گئی تو اس پر پانی کا چھڑک دینا بھی مستحب ہے، مستحب ہے اور پھر دفن کرنے کے بعد فوراً نہیں چلنا چاہیے بلکہ مستحب یہ ہے کہ انسان کچھ دیر وہاں ٹھہرے اور اس میت کے لیے دعا کر لے بھئی۔ تو کسی کا انتقال ہو جائے تو دفنانے سے پہلے اس کے لیے باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا یہ درست نہیں ہے، لیکن جب دفن کر دیا گیا اب اس کے لیے مستحب کیا ہے کہ فوراً انسان نہ جائے بلکہ وہاں پر اس کے لیے دعا کر لے بھئی، اسی طرح یا قرآن پڑھ لے اس کے لیے کچھ بھئی، تو یہ مستحب ہے۔ اچھا یاد رکھیے بھئی میت کو تابوت کے اندر دفن کرنا بھی صحیح ہے بھئی، چاہے لکڑی کا تابوت ہو چاہے لوہے کا ہو چاہے پتھر وغیرہ جس چیز کا بھی تابوت ہو اس میں بھی دفن کرنا جائز ہے، لیکن اس کے اندر پھر بہتر یہ ہے کہ اس تابوت کے اندر کچھ مٹی بچھا دی جائے بھئی، پھر اس پر کیا کر دیا جائے میت کو رکھا جائے بھئی تابوت کے اندر۔ اور اسی طرح یہ بھی یاد رکھیے بھئی جنازہ جب لے کر چل رہے ہوں تو اس وقت بلند آواز سے کوئی ذکر وغیرہ کرنا یا دعا وغیرہ پڑھنا یہ مکروہ ہے بھئی، دعا جب جنازہ لے کر جا رہے ہوں۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
169 approved lectures · 88 of 169