Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-079

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 134
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ صَلَاةِ الجُمُعَةِ: ”لَا تَصِحُّ الجُمُعَةُ إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ أَوْ فِي مُصَلَّى المِصْرِ وَلَا تَجُوزُ فِي القُرَى؛ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَا جُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيقَ وَلَا فِطْرَ وَلَا أَضْحَى إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ“. بَابُ صَلَاةِ الجُمُعَةِ، یہ باب ہے نماز جمعہ کے بیان میں۔ صلاۃ المسافر کے باب کے بعد صاحبِ ہدایہ صلاۃِ جمعہ کا باب لے کر آئے، اور اس کی ماقبل کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ جیسے مسافر کے اس کے سفر کی وجہ سے نماز کی تنصیف ہو جاتی ہے اور چار رکعت کے بجائے دو رکعت ادا کرنی پڑتی ہے، اسی طرح جمعے کے اندر بھی نماز کی تنصیف ہو گئی، ظہر کے چار رکعت کے بجائے اب کتنے ادا کیے جاتے ہیں؟ جمعے کی دو رکعتیں ادا کی جاتی ہیں۔ اور صلاۃ المسافر کو مقدم کیا، کیونکہ اس کے اندر ہر چار رکعت والی نماز دو رکعت ہو جاتی ہے، جبکہ جمعے کے اندر صرف ایک خاص نماز یعنی ظہر جو ہے اس کی تنصیف ہوتی ہے، تو عام کو مقدم کیا اور خاص کو مؤخر کیا۔ اور اسی طرح یاد رکھیے بھئی یہ تمام ابواب جو صاحبِ ہدایہ لا رہے ہیں، ان میں سے ہر ایک کی ماقبل باب کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے۔ لیکن میں زیادہ عام طور پر ذکر نہیں کرتا بھئی، کیونکہ حاشیہ وغیرہ میں وہ حوالہ انہوں نے لکھ دیا ہوتا ہے، درج کر دیا ہوتا ہے بھئی۔ تو اب صلاۃِ جمعہ کا بیان کریں گے۔ جمعے کی شرائط وغیرہ اور احکامات اس باب میں ذکر کریں گے۔ تو فرماتے ہیں: ”لَا تَصِحُّ الجُمُعَةُ إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ“، جمعہ صحیح نہیں ہے یعنی جمعے کی نماز صحیح نہیں ہے، ”إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ“، مگر جامع شہر کے اندر، مصرِ جامع کے اندر بھئی۔ مصرِ جامع کسے کہتے ہیں؟ یہ آگے شرح میں آپ کو بتلائیں گے بھئی۔ یاد رکھیے! امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شہرِ جامع وہ ہے جہاں لوگوں کی دینی اور دنیاوی ضرورتیں پوری ہوتی ہوں۔ شہرِ جامع وہ ہے جہاں دینی اور دنیاوی ضرورتیں ان کی پوری ہوتی ہوں۔ تو دنیاوی ضرورتیں، مثلاً کہتے ہیں وہاں بازار ہو بھئی جہاں سے کیا کر سکیں وہ اپنی ضرورتیں پوری کر سکیں۔ اسی طرح کوئی قاضی وغیرہ ہو جو مقدمات کا فیصلہ کرے، مظلوم کو اس کا حق دلائے اور ظالم کو اس کے ظلم سے روکے بھئی۔ اور اسی طرح دینی ضرورتیں بھی پوری ہوتی ہوں یعنی وہاں کوئی مفتی ہو جو کیا کرے؟ لوگوں کو مسائل کے سلسلے میں فتویٰ دے اور ان کی رہنمائی کرے بھئی۔ تو اس قسم کی جگہ کو، اس قسم کی بستی کو مصرِ جامع کہیں گے اور یہاں پر جمعہ جائز ہو گا، جبکہ عام دیہات وغیرہ میں جمعہ جائز نہیں بھئی، یعنی جمعے کی نماز وہاں جائز نہیں، وہاں ظہر ہی کی نماز پڑھی جائے گی بھئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے دو روایتیں انہوں نے نقل کی ہیں یہیں پر شرح کے اندر۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ایک روایت تو یہ ہے ان سے کہ مصرِ جامع وہ ہر وہ جگہ ہے جہاں کوئی امیر اور قاضی ہو بھئی جو کیا کرے؟ احکام کو نافذ کرے اور حدود وغیرہ کو قائم کرے بھئی۔ اور دوسری روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے یہ ہے کہ مصرِ جامع اس بستی کو کہیں گے کہ جہاں کے لوگ جب سارے جمع ہو جائیں تو اس جگہ کی جو سب سے بڑی مسجد ہے اس میں نہ سما سکیں بھئی۔ وہ سارے لوگ اگر جمع ہو جائیں تو اسی جگہ کی جو سب سے بڑی مسجد ہے اس کے اندر وہ نہ سما سکیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ مصرِ جامع کہیں گے بھئی۔ تو آج کل فقہاء جس پر فتویٰ دیتے ہیں کہ وہ بستی جس کی آبادی کم از کم تین چار ہزار ہو اور وہاں بازار وغیرہ ہو تو وہاں جمعہ جائز ہو گا، اس سے کم ہو تو وہاں جمعہ جائز نہیں ہو گا۔ اسی طرح بعض مفتی حضرات اس کے اندر بازار کی بھی قید لگاتے ہیں، اور اسی طرح بنیادی ضرورتوں میں بعض اس کے اندر ہسپتال کی بھی قید لگاتے ہیں، اور اسی طرح مظلوم کی مدد وغیرہ کے لیے بعض مفتی حضرات اس میں تھانے وغیرہ کی بھی قید لگاتے ہیں کہ وہاں تھانہ وغیرہ بھی ہو، پولیس ہو جو کیا کر سکے؟ مظلوم کی مدد کر سکے اور ظالم کو ظلم سے روک سکے بھئی۔ تو آج کل بس جس جگہ کی آبادی تین چار ہزار ہو کم از کم اور وہاں بازار ہو تو وہاں جمعہ جائز ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لَا تَصِحُّ الجُمُعَةُ إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ“، جمعہ صحیح نہیں ہے مگر جامع مصر میں، جامع شہر کے اندر، ”أَوْ فِي مُصَلَّى المِصْرِ“۔ مصلیٰ کہتے ہیں بھئی جہاں وہ سب لوگ اکٹھے ہو کر نماز وغیرہ ادا کرتے ہیں یعنی عیدگاہ جس کو کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ عیدگاہ بھئی۔ تو قدیم زمانے میں آپ جانتے ہیں، پڑھ چکے ہوں گے کہ سارے شہر والے، ساری بستی والے وہ عید کی نماز ایک ہی جگہ باہر نکل کر، شہر سے باہر نکل کر اکٹھے ادا کرتے تھے بھئی۔ اسی طرح جمعہ بھی پہلے بستی کے اندر ایک ہی ہوا کرتا تھا اور سارے لوگ نکل کر کیا کرتے تھے؟ ایک ہی جگہ پر اس عیدگاہ کے اندر جمعے کی نماز ادا کیا کرتے تھے۔ لیکن اب چونکہ شہر بہت بڑھ گئے، بہت بڑے ہو گئے، اب تو تمام لوگوں کا باہر نکلنا اور ایک جگہ اکٹھے ہونا یہ بڑا دشوار ہو گیا، تو فقہاء نے اجازت دی کہ اب شہر کے اندر بھی مساجد کے اندر بھی عید کی نماز اور جمعے کی نماز جائز ہے۔ مثلاً لاہور ہی کو لے لیجیے، اگر یہاں بھی یہ حکم جاری کر دیا جائے کہ عید کی نماز یا جمعے کی نماز ایک ہی جگہ ہو گی اور سارے مثلاً شہر سے باہر کوئی میدان ہے وہاں نکلیں گے اور وہاں ادا کریں گے، تو لاہور کی تو اتنی آبادی اور اتنا بڑھ گیا کہ شاید صبح سے شام ہو جائے، سارے لوگ ہی نہ نکل سکیں، وہاں تک پہنچ ہی نہ سکیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اتنے شہر بڑھ گئے۔ تو اب اگر یہ حکم دیا جائے کہ سارے لوگ باہر نکلیں گے اور وہاں جمعے یا عید کی نماز ادا کی جائے گی، تو لوگ حرج میں اور تنگی میں پڑ جائیں گے، حالانکہ شریعت کے اندر تو تنگی کو دور کیا گیا ہے، تو اس لیے مفتی حضرات کیا اجازت دیتے ہیں کہ شہر کے اندر بھی، مساجد کے اندر جمعے کی نماز بھی جائز اور عید کی نماز بھی جائز ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے کہ جمعہ صحیح نہیں ہے مگر مصرِ جامع میں ”أَوْ فِي مُصَلَّى المِصْرِ“ یا شہر کی عیدگاہ میں، ”وَلَا تَجُوزُ فِي القُرَى“ اور جائز نہیں ہے بستیوں میں۔ قریٰ جمع ہے قریہ کی، بستی کو کہتے ہیں۔ مراد یہاں دیہات ہیں دیہات، یعنی چھوٹی بستیاں جو ہیں، اور چھوٹی بستیوں میں، دیہاتوں میں جائز نہیں ہے۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ یہ مصرِ جامع کی قید کیوں ہم نے لگائی کہ اس کے بغیر جائز نہیں جمعے کی نماز؟ کہتے ہیں: ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، آپ فرماتے ہیں: ”لَا جُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيقَ وَلَا فِطْرَ وَلَا أَضْحَى إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ“، کہ جمعہ نہیں ہے یعنی جمعے کی نماز نہیں ہے، ”وَلَا تَشْرِيقَ“ اور تشریق نہیں ہے یعنی تکبیراتِ تشریق نہیں ہیں، ”وَلَا فِطْرَ“ اور عید الفطر نہیں ہے یعنی عید الفطر کی نماز نہیں ہے، ”وَلَا أَضْحَى“ اور یعنی عید الاضحیٰ کی نماز نہیں ہے، ”إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعٍ“، مگر کس میں؟ مصرِ جامع کے اندر۔ تو یہ حدیث میں آ گیا کہ جمعہ، تکبیراتِ تشریق اور دونوں عیدوں کی نماز مصرِ جامع ہی میں ہو گی، ان کے علاوہ میں نہیں ہو گی۔ یہاں بعض علماء نے صاحبِ ہدایہ پر اعتراض کیا ہے بھئی۔ اعتراض یہ کیا کہ اے صاحبِ ہدایہ! آپ اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے طور پر ذکر کر رہے ہیں، جبکہ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے بھئی، حضرت علی رضی اللہ عنہ۔ تو یہ بعض علماء نے ذکر کیا اور اعتراض کیا صاحبِ ہدایہ پر بھئی۔ تو علامہ عینی صاحبِ بنایہ جو ہیں وہ جواب دیتے ہیں کہ بعض علماء کا اس کو مرفوع حدیث کے طور پر نہ پانا یہ اس کو مستلزم نہیں ہے کہ یہ حضور علیہ السلام کا قول نہ ہو بھئی۔ بعض کو اگر یہ حضور علیہ السلام کے قول کے طور پر بطورِ حدیث کے نہیں ملا تو اس سے یہ ضروری نہیں کہ حضور علیہ السلام کا قول بھی نہ ہو، بلکہ فرماتے ہیں اس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے حضور علیہ السلام کے قول کے طور پر نقل فرمایا ہے بھئی، اور وہ جیسے عظیم فقیہ ہیں اسی طرح عظیم محدث بھی ہیں بھئی، تو ان کا قول کافی ہے اس سلسلے میں، وہ قابلِ اعتماد ہیں۔ اور نیز اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے، تو بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ راشد ہیں بھئی۔ تو اور حدیث میں کیا آیا ہے کہ تم میری سنت کو لازم پکڑو اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو بھئی، تو یہ خلیفہ راشد کا قول ہے۔ اور نیز وہ فرما رہے ہیں، اگر مان لیا جائے کہ یہ انہی کا قول ہے، وہ فرما رہے ہیں کہ صرف شہرِ جامع ہی کے اندر جمعہ، تشریق اور عید کی نمازیں ہوں گی، اور یہ بات عقل سے معلوم ہو سکتی ہے؟ آپ کی عقل آپ کو کیا بتلاتی ہے؟ عقل تو یہ بات نہیں بتلا سکتی کہ کہاں جمعے کی نماز ہونی چاہیے، ہو گی اور کہاں نہیں ہو گی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ عقل سے اس کا پتہ نہیں چل سکتا۔ تو یہ اور اس طرح کی بات جو صحابہ سے منقول ہو اور جس کا پتہ عقل سے نہ لگ سکتا ہو تو وہ قول بھی صحابہ کا حدیثِ مرفوع کے درجے میں ہوتا ہے کہ صحابی اس طرح فرما رہے ہیں اور یہ بات تو عقل سے معلوم نہیں ہو سکتی، معلوم ہوا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہو گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ تو کہتے ہیں بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ جمعے کی نماز نہیں ہے اور تکبیراتِ تشریق نہیں ہیں اور دونوں عیدوں کی نمازیں نہیں ہیں مگر مصرِ جامع میں۔ ”وَالمِصْرُ الجَامِعُ“، اب مصرِ جامع کسے کہتے ہیں؟ وہ دو روایتیں جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے منقول میں نے ذکر کر دیں، انہی کو اب ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَالمِصْرُ الجَامِعُ كُلُّ مَوْضِعٍ لَهُ أَمِيرٌ وَقَاضٍ يُنَفِّذُ الأَحْكَامَ وَيُقِيمُ الحُدُودَ“، مصرِ جامع ہر ایسا مقام ہے کہ جس کا کوئی ایسا امیر اور قاضی ہو جو شرعی احکام نافذ کرتا ہو، ”وَيُقِيمُ الحُدُودَ“ اور حدود کو قائم کرتا ہو، حدود کو قائم کرتا ہو۔ مصرِ جامع وہ ہے جہاں پر کوئی امیر اور قاضی ہو بھئی، امیر اور قاضی ہو۔ یہ ایک روایت آئی امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے، آگے ذکر بھی کر رہے ہیں: ”وَهَذَا عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، یہ روایت ہے کس سے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے۔ بھئی جب کہہ دیا کہ ”يُنَفِّذُ الأَحْكَامَ“، ایسا امیر یا قاضی جو کیا کرتا ہو؟ احکام نافذ کرتا ہو، تو اس کے اندر حدود بھی داخل ہو گئی تھیں کیونکہ حدود بھی کس میں سے ہیں؟ شرعی احکام میں سے ہیں، لیکن پھر اس کو بعد میں علیحدہ ذکر کیا، وہ اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ کہ حدود کا معاملہ چونکہ نہایت اہم ہے اور ان کا مقام دوسری چیزوں سے بڑھ کر ہے، حتیٰ کہ حدود اور قصاص کے سلسلے میں عورت کی گواہی بھی قبول نہیں کی جاتی، تو ان کی اہمیت کی وجہ سے ان کو علیحدہ ذکر کیا بھئی اگرچہ یہ احکام کے اندر بھی داخل تھیں۔ اور نیز اس کے ذریعے مَرأۃ قاضیہ کو نکال دیا، کیونکہ وہ عورت اگر عورت کو قاضیہ بنا دیا جائے تو اور چیزوں کے اندر اس کے احکامات نافذ ہوں گے بھئی، لیکن حدود اور قصاص کے مسئلے میں اس کے احکام نافذ نہیں ہوں گے، کیونکہ جس طرح عورت حدود اور قصاص کے مسئلے میں گواہ نہیں بن سکتی اسی طرح اس مسئلے کے اندر وہ قاضی بھی نہیں بن سکتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اور یہ روایت ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے یہ جو مصرِ جامع کی تعریف کی گئی۔ ”وَعَنْهُ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ہی ایک دوسری روایت یہ ہے: ”أَنَّهُمْ إِذَا اجْتَمَعُوا فِي أَكْبَرِ مَسَاجِدِهِمْ لَمْ يَسَعْهُمْ“، کہ جب وہ لوگ، اس بستی والے جمع ہو جائیں اپنی مسجدوں میں سب سے بڑی مسجد کے اندر، ”لَمْ يَسَعْهُمْ“ تو مسجد میں ان کی گنجائش نہ ہو، مسجد میں وہ نہ سما سکیں۔ ”وَالأَوَّلُ اخْتِيَارُ الكَرْخِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَهُوَ الظَّاهِرُ، وَالثَّانِي اخْتِيَارُ الثَّلْجِيِّ“. تو دو روایتیں آ گئیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے: ایک کیا؟ کہ مصرِ جامع وہ ہے جہاں پر امیر اور قاضی ہو جو احکام کو نافذ کرتا ہو۔ دوسری روایت کیا آئی؟ کہ مصرِ جامع وہ ہے جہاں کے سارے لوگ جمع ہو جائیں تو اس علاقے کی سب سے بڑی مسجد کے اندر وہ لوگ نہ سما سکیں۔ تو پہلی روایت جو ہے ”اخْتِيَارُ الكَرْخِيِّ“، وہ اختیار وہ مختار ہے، پسندیدہ ہے کس کی؟ امام کرخی کی، انہوں نے اس کو ترجیح دی ہے، ”وَهُوَ الظَّاهِرُ“ اور وہ ظاہر ہے بھئی، ”وَالثَّانِي اخْتِيَارُ الثَّلْجِيِّ“، اور دوسری روایت جو ہے وہ مختار ہے امام ثلجی کی بھئی۔ امام ثلجی یاد رکھیے، یہ شاگرد ہیں امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بھئی، اور ان کا نام محمد ابن شجاع ہے بھئی، محمد ابن شجاع بھئی۔ اور ان کی وفات ہوئی ہے 266 ہجری میں بھئی، 266 ہجری میں۔ کہتے ہیں یہ عصر کی نماز میں تھے، سجدے کی حالت میں تھے جب ان کا انتقال ہوا بھئی۔ تو دیکھیے یہ ہیں ہمارے فقہاء بھئی۔ تو ان کا انتقال کس حالت میں ہوا؟ سجدے کی حالت میں، اور انسان اللہ کے سب سے قریب ہوتا ہے سجدے کی حالت میں بھئی۔ تو یہ ان کا مختار ہے، انہوں نے اس دوسری روایت کو ترجیح دی ہے اور اس کو اختیار کیا ہے۔ ”وَالحُكْمُ غَيْرُ مَقْصُورٍ عَلَى المُصَلَّى“، بھئی اوپر کیا آیا تھا متن میں؟ ”أَوْ فِي مُصَلَّى المِصْرِ“، کس کے اندر؟ شہر کی عیدگاہ کے اندر، شہر۔ تو کیا جمعہ شہر کی عیدگاہ ہی میں ہو گا اور کسی جگہ، شہر کے اردگرد کسی دوسرے کھلے میدان میں نہیں ہو سکتا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے۔ کہتے ہیں بھئی کہ شہر کی عیدگاہ ہی میں ہونا ضروری نہیں بلکہ شہر کے آبادی کے ساتھ جو کھلی جگہ ہو بھئی، جو ان لوگوں کی ضرورتوں کے کام آتی ہے، مثلاً وہیں ان کے بچے وغیرہ بھی کھیلتے ہیں اور چیزوں امور وغیرہ کاموں میں ان کے وہ کام آتی ہے، تو وہ سب اسی کے اندر داخل ہیں، کیونکہ یہ جو شہر کے ساتھ ساتھ جو میدان ہوتا ہے یہ اس شہر ہی کے حکم میں ہوتا ہے، جیسے شہر کے ذریعے وہ لوگ اپنی ضرورتیں شہر سے پوری کرتے ہیں، اسی طرح اس کھلی جگہ سے بھی اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں، تو لہٰذا یہ سب کا وہی حکم ہے، ان سب کے اندر جمعے کی نماز جائز ہو گی، خاص وہ مصلیٰ مصر ہی کے اندر اس کا ہونا ضروری نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالحُكْمُ غَيْرُ مَقْصُورٍ عَلَى المُصَلَّى“، اور یہ حکم جو ہے مصلیٰ یعنی عیدگاہ کے اندر بند نہیں ہے کہ صرف وہیں پر نماز ہو، ”بَلْ يَجُوزُ فِي جَمِيعِ أَفْنِيَةِ المِصْرِ“، بلکہ جائز ہے شہر کی تمام افنیہ میں۔ افنیہ جمع ہے فناء کی، فناء۔ فناء اصل میں کہتے ہیں گھر کا جو صحن ہوتا ہے۔ گھر کا جو صحن ہوتا ہے، اگر اندر ہو یا گھر کے باہر جو اگر اندر نہیں ہے تو باہر جو کھلی جگہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ فناءِ دار کہتے ہیں۔ تو یہاں یہ بھی شہر کے ساتھ کھلی جگہ جو ہے وہ اسی صحن کی طرح ہی ہے شہر کے لیے۔ تو یہ جائز ہے شہر کی تمام افنیہ میں یعنی تمام صحنوں میں، ”لِأَنَّهَا“ اسی کیونکہ یہ جو افنیۂ مصر ہیں یہ جو شہر کے اردگرد کھلی جگہ ہے ”بِمَنْزِلَتِهِ“ أَيْ بِمَنْزِلَةِ المِصْرِ، یہ شہر ہی کے درجے میں ہے ”فِي حَوَائِجِ أَهْلِهِ“ شہر والوں کی ضرورتوں کے معاملے میں، جیسے شہر سے وہ لوگ کیا کرتے ہیں؟ اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں، اسی طرح اس کھلی جگہ سے بھی اپنی ضرورتیں پوری کرتے ہیں۔ ”وَيَجُوزُ بِمِنًى إِنْ كَانَ الأَمِيرُ أَمِيرَ الحِجَازِ أَوْ كَانَ الخَلِيفَةَ مُسَافِرًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا جُمُعَةَ بِمِنًى“. اور جائز ہے جمعہ منیٰ میں۔ بھئی کل میں نے بتلایا تھا، حج کا مختصر طریقہ بیان کیا تھا کہ حاجی جاتا ہے اور سب سے پہلے مثلاً حجِ تمتع کر رہا ہے تو سب سے پہلے جا کر عمرہ کرے گا اور پھر اس کے بعد جب ایامِ حج آئیں گے یعنی آٹھویں تاریخ آئے گی تو پھر حج کا احرام پہن کر کہاں آ جائے گا؟ منیٰ میں، اور پھر نویں کو وہ عرفات جائے گا اور پھر مغرب ہو جانے کے بعد وہ پھر عرفات سے واپسی ہو گی، راستے میں مزدلفہ مقام ہے وہاں رات کا گزارنا واجب ہے عند الاحناف، تو وہاں رات گزارے گا اور پھر صبح کہاں پہنچ جائے گا؟ منیٰ کے اندر، اور اب پھر منیٰ کے اندر ہی چند دن قیام ہو گا اور اسی کے اندر افعالِ حج مزید جو باقی ہیں وہ سرانجام دیے جائیں گے، مثلاً قربانی کی جائے گی، رمیِ جمرات یعنی وہ شیطان کو کنکریاں ماری جائیں گی اور اسی دوران کیا کیا جائے گا؟ طوافِ زیارت جو حج میں فرض ہے وہ بھی یہیں منیٰ سے وہ کرنے جاتا ہے اور پھر واپس آ جاتا ہے، تو یہ ارکانِ حج وہ پھر کہاں سرانجام دیتا ہے؟ منیٰ میں قیام پذیر ہوتے ہوئے۔ تو اب منیٰ میں آٹھویں کو بھی گئے اور اسی طرح پھر دسویں، گیارہویں، بارہویں وغیرہ کو بھی قیام کہاں ہوتا ہے؟ منیٰ۔ تو منیٰ کے اندر جمعے کا دن اگر آ گیا تو کیا جمعے کی نماز ادا کی جائے گی یا جمعے کی نماز ادا نہیں کی جائے گی، منیٰ میں جمعہ نہیں ہے؟ تو بتلا رہے ہیں کہ بھئی منیٰ کے اندر بھی جمعے کی نماز جائز ہے۔ یہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ، وہ فرماتے ہیں کہ منیٰ میں بھی جمعہ جائز ہے، لیکن اگر امیر جو ہے وہ امیرِ حجاز ہو یا خلیفہ خود یہاں موجود ہو چاہے بطورِ مسافر ہی کے کیوں نہ ہو۔ یعنی مقیم نہیں ہے، 15 دن کی اقامت نہیں ہے بلکہ بطورِ مسافر کے موجود ہے، پھر بھی منیٰ کے اندر جمعہ جائز ہو گا، جمعہ جائز ہو گا۔ دیکھیے تفصیل آ رہی ہے آگے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ بِمِنًى“، اور جمعہ جائز ہے منیٰ میں، ”إِنْ كَانَ الأَمِيرُ أَمِيرَ الحِجَازِ“، اگر امیر کون ہو؟ حجاز کا امیر یعنی اس وقت امیرِ حج کون ہے؟ حجاز کا امیر ہے یہاں پر بھئی۔ بھئی حجاز یہ عرب کا ایک بڑا علاقہ ہے اور جو تہامہ اور نجد کے درمیان ہے تو اس کو حجاز کہتے ہیں، یوں کہیے صوبہ ہے، ایک بڑا کیا ہے؟ صوبہ ہے اور اسی کے اندر یہ مکہ وغیرہ آتے ہیں۔ تو اگر یہاں کا امیر یعنی حاکم جس کو خلیفہ نے اس سارے صوبے کا حاکم بنایا ہے اگر وہ موجود ہے تو پھر منیٰ کے اندر جمعہ جائز ہے۔ منیٰ کے اندر جمعہ جائز ہے، اس لیے کیونکہ اس کے حکم سے دوسرے جمعہ قائم کروا سکتے ہیں تو یہ خود بطریقِ اولیٰ جمعہ قائم کر سکتے ہیں بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ اسی طرح خلیفہ اگر یہاں موجود ہو چاہے مسافر کے طور پر ہی کیوں نہ موجود ہو، وہ بھی پھر بھی کیا جائز ہے یہاں پر؟ جمعہ پڑھنا، جمعہ یہاں پر جائز ہو گا، اس لیے کیونکہ خلیفہ جو ہے جب اس کے حکم پر کوئی دوسرا جمعہ قائم کروا سکتا ہے تو یہ خود بطریقِ اولیٰ جمعہ کروا سکتا ہے، اور اس کے ساتھ مسافر کی قید لگا دی، اشارہ کر دیا اس بات کی طرف جب مسافر ہو خلیفہ تو پھر جمعہ قائم کروا سکتا ہے تو مقیم ہونے کی حالت میں بطریقِ اولیٰ جمعہ قائم کروا سکتا ہے۔ اور نیز اس مسئلے کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ خلیفہ، خلیفہ جو ہے وہ بھئی خلیفہ کی بات آ رہی ہے بار بار، یہ آگے آپ کو بتلائیں گے کہ جمعے کو قائم کروانا، جمعہ صرف خلیفہ ہی یا خلیفہ نے جس کو حکم دیا ہو وہی قائم کروا سکتا ہے، ہر ایک کو اجازت نہیں ہے بھئی۔ جی آگے مسئلے کی تفصیل آ جائے گی۔ تو یہاں اس مسئلے کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ خلیفہ اگر اپنی مملکت کے دورے پر نکلتا ہے، اپنی مملکت کے دورے پر، اب دیکھیے اتنی دور جانے کا ارادہ ہے جو تین دن یا اس سے زیادہ کی مسافت ہے، مختلف شہروں میں وہ چکر لگا رہا ہے تو مسافر ہو گا، لیکن پھر بھی ہر ہر شہر کے اندر اس پر جمعہ واجب ہو گا اور کیا کرے گا وہ؟ جمعہ قائم کروائے گا بھئی، جمعہ قائم کروائے گا۔ اور دلیل وہی کہ جب اس کے حکم پر دوسرے جمعہ قائم کرواتے ہیں تو یہ خود بطریقِ اولیٰ جمعہ قائم کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ بِمِنًى إِنْ كَانَ الأَمِيرُ أَمِيرَ الحِجَازِ“، اور منیٰ میں بھی جمعہ جائز ہے اگر امیر یعنی امیرِ حج ”أَمِيرَ الحِجَازِ“ وہ کون ہو امیرِ حج؟ امیرِ حجاز، حجاز کا جو امیر ہے اور حاکم ہے وہ امیرِ حج ہو، ”أَوْ كَانَ الخَلِيفَةَ“، یا کون ہو امیرِ حج؟ خلیفہ ہو، ”مُسَافِرًا“ اس حال میں کہ وہ مسافر ہو، ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا جُمُعَةَ بِمِنًى“، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ منیٰ کے اندر جمعہ نہیں ہے یعنی یہاں جمعے کی نماز نہیں پڑھی جائے گی، یہاں جائز نہیں ہے، ”لِأَنَّهَا مِنَ القُرَى“، ان کی دلیل یہ ہے بھئی۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ منیٰ جو ہے ”مِنَ القُرَى“ بستیوں میں سے یعنی دیہاتوں میں سے ہے۔ کس میں سے ہے؟ یہ ایک دیہات ہے مکہ کے ساتھ، ”حَتَّى لَا يُعَيَّدَ بِهَا“، عَيَّدَ يُعَيِّدُ کے معنی ہوتے ہیں عید منانا، کیا معنی ہے؟ عید منانا، اور مراد یہاں عید کی نماز ہے بھئی، کیا مراد ہے؟ عید کی نماز۔ کہتے ہیں کہ یہ منیٰ جو ہے دیہاتوں میں سے ہے، ”حَتَّى لَا يُعَيَّدَ بِهَا“ یہاں تک کہ اس کے اندر عید کی نماز بھی ادا نہیں کی جاتی۔ بھئی دیکھیے نویں کو سارے چلے گئے تھے عرفات اور واپس چلے مزدلفہ میں رات کو قیام کیا اور اگلے دن دسویں کو کہاں پہنچ گئے؟ منیٰ۔ اور یہ دس ذوالحجہ ہے اور عید کا دن ہے، لیکن منیٰ کے اندر عید کی نماز ادا نہیں کی جاتی۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یہاں جمعہ بھی جائز نہیں، یہ دیہات ہے۔ اگر دیہات نہ ہوتا، شہر ہوتا تو یہاں پر عید کی نماز کا بھی حکم دیتی شریعت، لیکن شریعت نے یہاں عید کی نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا، معلوم ہوا یہ دیہات ہے، اور جب دیہات ہے تو یہاں جمعے کی نماز بھی جائز نہیں ہو گی۔ یہ معنی ہے: ”حَتَّى لَا يُعَيَّدَ بِهَا“، یہاں تک کہ اس میں عید کی نماز نہیں پڑھی جاتی۔ ”وَلَهُمَا“، شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّهَا تَتَمَصَّرُ فِي أَيَّامِ المَوْسِمِ“، تَتَمَصَّرُ کہ یہ جو منیٰ جو ہے یہ شہر بن جاتا ہے ”فِي أَيَّامِ المَوْسِمِ“۔ موسم، ایامِ حج بھئی، حج کا زمانہ، سمجھ میں آیا؟ موسم یعنی موسمِ حج ہے، مراد ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ”أَنَّهَا تَتَمَصَّرُ فِي أَيَّامِ المَوْسِمِ“، کہ یہ منیٰ جو ہے شہر بن جاتا ہے حج کے زمانہ میں۔ کیا بن جاتا ہے؟ شہر بن جاتا ہے۔ اتنے لوگ بھئی لاکھوں حاجی نکل آتے ہیں اور بازار بن جاتے ہیں وہاں باقاعدہ بھئی، لوگ وہاں خرید و فروخت اپنی ضروریات کی چیزیں وہاں سے خریدتے ہیں، تو یہ شہر بن جاتا ہے۔ تو جب یہ شہر بن گیا تو دیہات نہ رہا، کیا بن گیا؟ شہر بن گیا تو یہاں جمعہ جائز۔ اور باقی آپ نے جو کہا کہ یہاں عید کی نماز ادا نہیں کی جاتی، یہ اس کو دلیل بنایا، کہتے ہیں نہیں بھئی اس کو دلیل نہیں بنا سکتے، ”وَعَدَمُ التَّعْيِيدِ لِلتَّخْفِيفِ“، اور عید کی نماز نہ ہونا ”لِلتَّخْفِيفِ“ آسانی کے لیے ہے، سہولت کے لیے ہے۔ کس کے لیے ہے؟ سہولت۔ شریعت نے یہاں عید کی نماز واجب نہیں کی، عید کی نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا کس لیے؟ آسانی کے لیے، کیونکہ اس دن حاجی افعالِ حج میں مشغول ہوتا ہے بھئی، رمیِ جمرات کرنی ہے اس دن شیطان کو کنکریاں مارنی ہیں اور اسی طرح قربانی کرنی ہے بھئی اس نے، اور حلق سر کے بال وغیرہ منڈوانے ہیں وغیرہ ارکانِ حج یہاں ادا کر رہا ہے افعالِ حج اور اسی طرح میں نے ذکر کر دیا قربانی کرنی ہے، اور قربانی منیٰ کے اندر اتنا مشکل کام ہے کہ جن کو تجربہ ہوتا ہے ان کو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔ لاکھوں لوگ ہیں بھئی لاکھوں لوگ، اور وہ قربانی کا انتظام کرنے، آج کل تو اور جدید طریقے آ گئے، پیسے جمع کروا دیے جاتے ہیں، مختلف وہاں ادارے وغیرہ ہیں اور وہ ان کی طرف سے قربانی کر دیتے ہیں، لیکن پھر بھی بہت سے لوگ کیا کرتے ہیں؟ خود قربانی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ پھر قربانی کے لیے نکلتے ہیں، جگہ بنائی ہوئی ہے مقرر کی گئی ہے حکومت کی طرف سے، وہاں جاتے ہیں اور کئی کلومیٹر چلنا اور آنا اور اتنا ہجوم ہوتا ہے، اور تو جانا، جانور تلاش کرنا، خریدنا، پھر اس کو ذبح وغیرہ کرنا، قربانی کرنا، تو یہ بڑا مشکل کام ہے آسان نہیں ہے۔ اتنی سہولتیں ہو گئیں پھر بھی یہ کام آج بھی بڑا ہی مشکل ہے، تو قدیم زمانے میں کتنا مشکل ہو گا بھئی۔ تو یہاں اب اگر حاجی کو عید کی نماز ادا کرنے کا بھی حکم دے دیا جائے تو وہ تو بڑی مشکل میں پڑ جائے گا بھئی۔ ادھر افعالِ حج بھی سرانجام دینے ہیں اور ادھر عید کی نماز، اس میں تو پھر کتنا مجمع ہو جاتا اور پھر کتنی مشکل میں لوگ پڑ جاتے، تو شریعت میں تنگی اور دشواری نہیں ہے اس کو دور کیا گیا ہے، تو لہٰذا سہولت کے طور پر عید کی نماز یہاں پڑھنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَدَمُ التَّعْيِيدِ لِلتَّخْفِيفِ“، اور عید کی نماز کا نہ ہونا آسانی کے لیے ہے، ”وَلَا جُمُعَةَ بِعَرَفَاتٍ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“، اور عرفات کے اندر جمعہ نہیں ہے ان سب کے قول میں بھئی یعنی ائمہ ثلاثہ: امام محمد، امام ابو یوسف اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ، تینوں کے نزدیک عرفات میں جمعہ نہیں ہے۔ کیوں؟ دلیل کیا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ فَضَاءٌ“، اس لیے کیونکہ عرفات جو ہے وہ کھلی جگہ ہے۔ فضاء کسے کہتے ہیں؟ کھلی جگہ۔ ”وَبِمِنًى أَبْنِيَةٌ“، اور منیٰ کے اندر تعمیرات ہیں، عمارتیں ہیں۔ منیٰ میں کچھ نہ کچھ آبادی ہے، کچھ عمارتیں وغیرہ موجود ہیں بلکہ اب تو اور زیادہ ہو گئیں عمارتیں، اور جبکہ عرفات میں تو کوئی عمارت نہیں وہ تو کھلا میدان ہے بھئی۔ تو لہٰذا وہاں پر جمعہ نہیں بھئی، کیونکہ جمعہ کہاں ہوتا ہے؟ شہر کے اندر ہوتا ہے، جنگل وغیرہ میں نہیں ہوتا بھئی۔ ”وَالتَّقْيِيدُ بِالخَلِيفَةِ وَأَمِيرِ الحِجَازِ“، بھئی یہ متن کے اندر انہوں نے قید لگائی کہ امیرِ حجاز ہونا چاہیے، وہ امیرِ حج ہو، یا خلیفہ خود کیا ہو؟ وہ آیا ہو اور وہ امیرِ حج ہو۔ تو یہ خلیفہ اور امیرِ حجاز کی قید کیوں لگائی؟ کہتے ہیں: ”وَالتَّقْيِيدُ بِالخَلِيفَةِ وَأَمِيرِ الحِجَازِ لِأَنَّ الوِلَايَةَ لَهُمَا“، اور مقید کرنا خلیفہ اور امیرِ حجاز کے ساتھ اس لیے ہے کیونکہ ولایت انہی دونوں کو حاصل ہے۔ انہی کے حکم پر کیا قائم کیا جاتا ہے؟ جمعہ قائم کیا جاتا ہے، تو ان کو ولایت حاصل ہے اس کی بھئی۔ ”أَمَّا أَمِيرُ المَوْسِمِ فَيَلِي أُمُورَ الحَجِّ لَا غَيْرُ“، اچھا ان کے علاوہ اگر کوئی اور امیرِ حج ہے، اس کو خلیفہ نے بھیجا ہے یا حاکم نے امیرِ حجاز نے بھیجا کہ تم کیا ہو اس سال امیرِ حج ہو، حج کے امور کی نگرانی کرو، تو یہ ہو گا امیرِ موسم، کیا کہیں گے؟ یا امیرِ حج کہہ لیں یا امیرِ موسمِ حج کہہ لیں، تو یہ ہو تو یہ جمعہ قائم نہیں کروا سکتا۔ بھئی یہ کیوں نہیں قائم کروا سکتا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کو امورِ حج کی ولایت حاصل ہوتی ہے، اس کو کس پر کس چیز کا نگران بنایا گیا؟ کس چیز کی ولایت دی گئی ہے؟ حج کے امور کی ولایت اس کو دی گئی ہے، ان پر اس کو والی بنایا گیا ہے، جمعے وغیرہ اور چیزوں پر والی نہیں بنایا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا أَمِيرُ المَوْسِمِ فَيَلِي أُمُورَ الحَجِّ لَا غَيْرُ“، باقی امیرِ موسم جو ہے وہ فَيَلِي وہ والی ہے، وہ اس کو ولایت حاصل ہے فَيَلِي تو اس کو ولایت حاصل ہے امورِ حج، حج کے معاملات کی، لَا غَيْرُ نہ کہ ان کے علاوہ کی، تو اس کو جمعے وغیرہ کی ولایت ہی حاصل نہیں ہے تو وہ کہاں سے قائم کروائے گا۔ دیکھیے اب آگے وہ مسئلہ آیا جس کی طرف میں نے جو میں نے آپ کو بتلایا تھا، بتلا رہے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ إِقَامَتُهَا إِلَّا لِلسُّلْطَانِ“، اور جائز نہیں ہے جمعہ قائم کروانا سوائے بادشاہ کے یعنی خلیفہ کے۔ خلیفہ کے علاوہ اور کوئی جمعہ قائم نہیں کروا سکتا، ”أَوْ لِمَنْ أَمَرَهُ السُّلْطَانُ“، یا وہ جس کو بادشاہ نے یعنی خلیفہ نے حکم دیا ہو۔ خلیفہ خود جمعہ قائم کروائے گا یا جس کو خلیفہ حکم دے گا وہ قائم کروائے گا۔ بھئی یہ کیا وجہ ہے؟ خلیفہ اور بادشاہ کی قید کیوں لگا رہے ہیں؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا تُقَامُ بِجَمْعٍ عَظِيمٍ“، اس لیے کہ جمعہ قائم کیا جاتا ہے ایک عظیم مجمعے کے ساتھ۔ پورے بستی والے اکٹھے ہو کر جیسے قدیم طریقہ تھا، سارے لوگ اکٹھے ہو کر آتے تھے بھئی، تو یہ ایک عظیم مجمعے کے ساتھ جمعہ قائم کیا جاتا ہے، ”وَقَدْ تَقَعُ المُنَازَعَةُ فِي التَّقَدُّمِ وَالتَّقْدِيمِ“، اور کبھی کبھار جھگڑا واقع ہو جاتا ہے فِي التَّقَدُّمِ وَالتَّقْدِيمِ، تقدم آگے ہونا، تقدیم آگے کرنا، تو کبھی آگے ہونے میں جھگڑا ہوتا ہے اور کبھی آگے کرنے میں جھگڑا ہو گا۔ بھئی دیکھیے بہت بڑا مجمع ہے، سارے شہر والے آئے ہیں جمعے کی نماز ادا کرنے کے لیے، تو اب جھگڑے کا احتمال ہے، ایک ایک امام کہے گا جمعے کی نماز میں پڑھاؤں گا اور دوسرا کیا کہے گا؟ جمعے کی نماز میں پڑھاؤں گا، تو آگے ہونے میں بھی جھگڑا ہو سکتا ہے، اور کبھی تقدیم آگے کرنے کے اندر بھی جھگڑا ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ تو کہیں گے کہ فلاں بزرگ جو ہیں وہ پڑھائیں گے جمعے کی نماز، دوسرے لوگ کہیں گے نہیں فلاں بزرگ جو ہیں وہ پڑھائیں گے، تو اس آگے کرنے کے اندر بھی جھگڑا ہو سکتا ہے۔ ”وَقَدْ تَقَعُ فِي غَيْرِهِ“، اور کبھی اس کے علاوہ اور چیزوں کے اندر بھی جھگڑا ہو سکتا ہے، مثلاً بعض کہیں گے کہ شہر کے ساتھ یہ جو فلاں جگہ ہے یہاں پر جمعہ ادا کیا جائے گا، دوسرے کہیں گے نہیں اس سے تھوڑا سا ہٹ کر جو فلاں جگہ ہے وہاں پر ادا کریں گے جمعہ، اس میں بھی جھگڑے کا احتمال ہے، اور نیز اسی طرح بعض یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جمعہ ذرا جلدی ادا کریں گے، بعض کہیں گے نہیں ذرا تھوڑی تاخیر سے، تو چونکہ بہت بڑا مجمع ہے تو جھگڑے کے احتمال کافی زیادہ ہے، اس لیے یہ صرف کون قائم کروا سکتا ہے؟ بادشاہ یا بادشاہ جس کو حکم دے دے کہ یہ ہے یہ قائم کروائے گا جمعہ، یہ ہے امام وغیرہ، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهَا تُقَامُ بِجَمْعٍ عَظِيمٍ وَقَدْ تَقَعُ المُنَازَعَةُ فِي التَّقَدُّمِ وَالتَّقْدِيمِ وَقَدْ تَقَعُ فِي غَيْرِهِ فَلَا بُدَّ مِنْهُ تَتْمِيمًا لِأَمْرِهَا“، اس لیے کیونکہ جمعہ قائم کیا جاتا ہے عظیم مجمعے کے ساتھ، اور کبھی کبھار جھگڑا واقع ہو جاتا ہے آگے ہونے میں یا آگے کرنے میں، ”وَقَدْ تَقَعُ فِي غَيْرِهِ“ اور کبھی اس کے علاوہ میں جھگڑا ہو جاتا ہے، ”فَلَا بُدَّ مِنْهُ“ لہٰذا سلطان کا ہونا ضروری ہے ”تَتْمِيمًا لِأَمْرِهَا“ أَيْ لِأَمْرِ الجُمُعَةِ، پورا کرنے کے لیے جمعے کے معاملے کو تاکہ اچھی طرح سے جمعے کا معاملہ پورا ہو جائے، کوئی جھگڑا نہ آئے۔ ”وَمِنْ شَرَائِطِهَا الوَقْتُ فَتَصِحُّ فِي وَقْتِ الظُّهْرِ وَلَا تَصِحُّ بَعْدَهُ“. اور جمعے کی شرائط میں سے وقت ہے بھئی، وقت ہے۔ ”فَتَصِحُّ فِي وَقْتِ الظُّهْرِ“، تو جمعہ صحیح ہے ظہر کے وقت میں، ”وَلَا تَصِحُّ بَعْدَهُ“ اور ظہر کے وقت کے بعد جمعہ صحیح نہیں، ظہر کے وقت کے بعد جمعہ صحیح نہیں۔ تو وقت شرط میں سے ہے، جمعے کی شرائط میں سے ہے، شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ جیسے وضو نماز کے لیے شرط ہے، وضو ہے تو نماز بھی ہو گی، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں ہو گی، اسی طرح جمعے کے لیے وقت شرط ہے اور وہ ظہر کا وقت ہے، تو اس وقت میں صحیح ہو گی اور اس کے بعد صحیح نہیں ہو گی۔ چنانچہ آپ نے وہ مسئلہ پڑھا تھا کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک تشہد کی مقدار بیٹھ جانے کے بعد اگر ظہر کا وقت نکل گیا تو وہ نماز کیا ہو جائے گی؟ نماز باطل ہو جائے گی۔ مسئلہ پڑھا تھا یا نہیں بھئی؟ کہاں آیا تھا مسئلہ؟ ذرا نکالیں بھئی۔ بارہ مسائل تھے وہ۔ ہاں یہ دیکھیے یہ میری کتاب میں صفحہ 133 پر یہ مسئلہ آیا تھا بھئی کہ ”أَوْ دَخَلَ وَقْتُ العَصْرِ وَهُوَ فِي الجُمُعَةِ“، یا کون سا وقت داخل ہو گیا؟ عصر کا، اور وہ کس نماز میں تھا؟ جمعے کی نماز میں تھا، اور کس وقت؟ اوپر کیا آیا تھا؟ ”بَعْدَ مَا قَعَدَ قَدْرَ التَّشَهُّدِ“، کتنے کے بعد؟ تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد پھر یہ عصر کا وقت داخل ہو گیا اور امام جمعے میں ہے، آخر میں آ رہا ہے ”بَطَلَتِ الصَّلَاةُ“، تو ان سب صورتوں میں کیا ہو جائے گی؟ نماز باطل ہو جائے گی۔ اب وجہ آپ کو سمجھ میں آ گئی ہو گی کہ نماز کیوں باطل ہو گی، کیونکہ یہ ظہر کا وقت جمعے کی شرائط میں سے ہے، اور میں نے بتلا دیا شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، یہ وضو کی طرح ہی گویا شرط ہے اور وضو ہوتا ہے تو نماز ہوتی ہے، وضو نہیں تو نماز بھی نہیں، تو یہاں بھی یہ وقت ہے تو نماز ہو گی، یہ وقت گزر گیا ہے بیچ میں جس وقت بھی گزر گیا بس نماز کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں اور جمعے کی شرائط میں سے ایک وقت ہے: ”فَتَصِحُّ فِي وَقْتِ الظُّهْرِ وَلَا تَصِحُّ بَعْدَهُ“، تو وقت کے اندر ظہر کے وقت میں تو جمعہ صحیح ہے اور وقت کے بعد صحیح نہیں ہے، ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“، بوجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے، آپ نے فرمایا: ”إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ فَصَلِّ بِالنَّاسِ الجُمُعَةَ“، کہ جب سورج مائل ہو جائے یعنی ڈھل جائے، جب سورج ڈھل جائے یعنی زوال ہو جائے، ”فَصَلِّ بِالنَّاسِ الجُمُعَةَ“ تو لوگوں کو جمعے کی نماز پڑھا، یہ حدیث میں آیا۔ ”وَلَوْ خَرَجَ الوَقْتُ وَهُوَ فِيهَا اسْتَقْبَلَ الظُّهْرَ“، اور اگر وقت نکل گیا ”وَهُوَ فِيهَا“ اور امام کس میں تھا؟ ابھی جمعے کی نماز ہی میں تھا، مشغول تھا، ”اسْتَقْبَلَ الظُّهْرَ“ تو نئے سرے سے ظہر کی نماز پڑھے۔ امام جمعے کی نماز کے اندر مشغول ہے اور نماز کے اندر ہی ظہر کا وقت نکل گیا، کون سا وقت شروع ہو گیا؟ عصر کا، اور تو شرط ختم ہو گئی اور شرط ختم تو مشروط بھی ختم، لہٰذا جمعے کی نماز باطل ہو گئی، اور اب اب ظہر کی نماز پڑھے گا نئے سرے سے بھئی، ظہر کی نماز نئے سرے سے۔ یہ معنی ہے کہ ”اسْتَقْبَلَ الظُّهْرَ“ نئے سرے سے ظہر کی نماز پڑھے گا۔ ”وَلَا يَبْنِي“، اس پر بنا نہیں کر سکتا۔ بھئی جمعے کی نماز امام پڑھا رہا تھا اور نماز کے اندر ہی عصر کا وقت داخل ہو گیا یعنی ظہر کا وقت نکل گیا، جب ظہر کا وقت نکلا تو جمعے کی نماز باطل ہو گئی، تو بھئی اسی پر بنا کر لے، ایک رکعت پڑھا چکا ہے اسی پر بنا کرتے ہوئے ظہر کی نماز پوری پڑھا دے، آگے تین رکعتیں اور ملا لے، صورت ذہن میں آ رہی ہے؟ تو بنا اسی پر کر لے اور آگے تین رکعتیں پڑھا کر ظہر پوری کر دے، تو بتلا رہے ہیں آپ کو کہ نہیں بھئی بنا نہیں کر سکتا اس پر، کیونکہ دونوں نمازیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، جمعے کے اندر دو رکعت ہے، جمعہ دو رکعت ہے اور ظہر کی نماز چار رکعت ہے، جمعے کے اندر جہراً قرات کی جاتی ہے اونچی آواز سے اور ظہر کی نماز میں سراً قرات کی جاتی ہے یعنی آہستہ آواز کے ساتھ، اور نیز جمعے کی شرائط ہیں جو ابھی ذکر ہو رہی ہیں بھئی اور ظہر کے لیے وہ شرائط نہیں ہیں بھئی، تو اس لیے بنا نہیں کر سکتا، نئے سرے سے یہ نماز ختم کرے اور نئے سرے سے ظہر کی نماز پڑھائے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا يَبْنِي عَلَيْهَا“، اور اس پر بنا نہیں کر سکتا ظہر کی نماز کی، ”لِاخْتِلَافِهِمَا“ بوجہ ان دونوں کے مختلف ہونے کے یعنی جمعے اور ظہر کے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کی وجہ سے۔ ”وَمِنْهَا الخُطْبَةُ“، اور جمعے کی شرائط میں سے خطبہ ہے۔ یہ متن ہے یاد رکھیے: ”وَمِنْهَا الخُطْبَةُ“، اس پر لکیر لگی ہوئی ہے؟ اس پر لکیر اگر نہیں ہے تو لکیر لگائیں بھئی، یہ متن ہے۔ ”وَمِنْهَا الخُطْبَةُ“، اور جمعے کی شرائط میں سے خطبہ ہے۔ یاد رکھو بھئی ہمیشہ یاد رکھو، یہ جو خطبہ جمعے سے پہلے دیا جاتا ہے یہ جمعے کی شرائط میں سے ہے، اور شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، جیسے وضو نماز کے لیے شرط ہے، وضو ہے تو نماز ہو گی، وضو نہیں ہے تو نماز بھی نہیں، لہٰذا جب خطبہ شرط ہے تو خطبہ ہو گا تو جمعے کی نماز ہو گی، اگر خطبہ نہیں تو جمعے کی نماز بھی نہیں ہو گی بھئی، پڑھ بھی لیں پھر بھی نہیں ہو گی، خطبے کا ہونا ضروری ہے۔ مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے ”وَمِنْهَا الخُطْبَةُ“، اور جمعے کی شرائط میں سے خطبہ ہے۔ دلیل اس کی کیا ہے کہ یہ شرط ہے؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَلَّاهَا بِدُونِ الخُطْبَةِ فِي عُمُرِهِ“، اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ نہیں پڑھا بغیر خطبے کے ”فِي عُمُرِهِ“ زندگی بھر میں، اپنے عمر بھر میں آپ نے کبھی بھی جمعہ بغیر خطبے کے نہیں پڑھا بھئی، ہمیشہ آپ خطبہ دیتے تھے، اور معلوم ہوا یہ لازمی ہے۔ اگر خطبہ ضروری نہ ہوتا تو کبھی کبھار جواز بتلانے کے لیے حضور علیہ السلام اس کو ترک بھی فرما دیتے، اس کو چھوڑ بھی دیتے، لیکن آپ نے کبھی نہیں اس کو چھوڑا، معلوم ہوا یہ ضروری ہے، لازمی ہے، شرط ہے بھئی۔ ”وَهِيَ قَبْلَ الصَّلَاةِ بَعْدَ الزَّوَالِ“، اور یہ نماز سے پہلے ہو گا ”بَعْدَ الزَّوَالِ“ زوال کے بعد یعنی سورج کے ڈھلنے کے بعد ہو گا، جب سورج عین سر سے کس طرف کو ڈھل جائے؟ مغرب کی طرف کو، اس کے بعد ہو گا۔ تو یہ بھی ضروری ہے بھئی، اگر خطبہ خطبہ سورج ڈھلنے سے پہلے دے دیا تو بھی یہ خطبہ لا خطبہ ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا اب بھی جمعے کی نماز پڑھیں گے سورج ڈھلنے کے بعد تو وہ ہو گی ہی نہیں کیونکہ خطبہ نہیں پایا گیا۔ اور نیز اس خطبے کا نماز سے پہلے ہونا ضروری ہے، لہٰذا اگر نماز کے بعد دیتا ہے خطبہ دیا جائے اس کا کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا جمعے کی نماز پہلے پڑھ لی اور خطبہ بعد میں دیا تو خطبہ پہلے نہیں پایا گیا لہٰذا جمعے کی نماز ہی نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ قَبْلَ الصَّلَاةِ بَعْدَ الزَّوَالِ“، اور یہ خطبہ جو ہے نماز سے پہلے ہو گا بعد الزوال سورج کے ڈھلنے کے بعد ہو گا، ”بِهِ وَرَدَتِ السُّنَّةُ“، اسی کے ساتھ سنت وارد ہوئی ہے یعنی سنت اسی طرح ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنت اسی طرح وارد ہوئی ہے۔ ”وَيَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِقَعْدَةٍ“، اور جو امام ہے وہ خطبہ دے خطبتین، کتنے خطبے؟ دو خطبے، ”يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِقَعْدَةٍ“ جدائی کرے ان دو خطبوں کے درمیان ”بِقَعْدَةٍ“ قعدے کے ساتھ یعنی درمیان میں بیٹھے گا بھئی۔ ایک خطبہ دے گا اور پھر امام بیٹھ جائے گا اور کم از کم تین سبحان اللہ کی مقدار بیٹھے بھئی یا اگر تین آیتوں کے بقدر بیٹھ جاتا ہے تو اور اچھی بات ہے، اور پھر اس کے بعد دوسرا خطبہ دے گا بھئی۔ یہ معنی ہے کہ دو خطبے دے گا وہ، ”يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِقَعْدَةٍ“ جدائی کرے گا ان دو خطبوں کے درمیان قعدے کے ساتھ، ”بِهِ جَرَى التَّوَارُثُ“، اسی کے ساتھ توارث جاری ہے۔ توارث کہتے ہیں یعنی اسی طرح عمل ہوتا چلا آیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک اسی طرح عمل ہوتا چلا آیا ہے کہ دو کہ کیا کیا جاتا؟ دو خطبے ہوتے اور درمیان میں خطبہ دینے والا بیٹھ جاتا۔ اسی طرح حضور علیہ السلام سے مروی ہے، اسی طرح خلفائے راشدین سے اور اسی طرح تابعین، تبع تابعین اور بعد کے تمام علماء سے اسی طرح منقول ہے، اسی طرح عمل ہوتا چلا آیا ہے۔ ”وَيَخْطُبُ قَائِمًا عَلَى الطَّهَارَةِ“، اور خطبہ دے گا امام بھئی ”قَائِمًا“ کھڑے ہو کر ”عَلَى الطَّهَارَةِ“ وضو پر، یعنی وضو کی حالت میں کھڑے ہو کر کیا کرے گا؟ خطبہ دے گا بھئی۔ اور یاد رکھیے یہ کھڑے ہونا اور وضو کا ہونا یہ ہمارے نزدیک سنت ہے بھئی۔ کھڑے لہٰذا کوئی بیٹھ کر خطبہ دے دے یا بغیر طہارت کے دے دے تو بھی بہرحال خطبے کی شرط پوری ہو جائے گی، خطبے کی شرط پوری ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَخْطُبُ قَائِمًا عَلَى الطَّهَارَةِ“، اور خطبہ دے گا کھڑے ہو کر وضو پر، ”لِأَنَّ القِيَامَ فِيهِ مُتَوَارَثٌ“، اس لیے کیونکہ قیام جو ہے کھڑے ہونا خطبے کے اندر متوارث ہے، یہ اسی طرح عمل ہوتا چلا آیا ہے حضور علیہ السلام کے زمانے سے لے کر۔ ”ثُمَّ هِيَ شَرْطُ الصَّلَاةِ فَيُسْتَحَبُّ فِيهَا الطَّهَارَةُ كَالْأَذَانِ“، پھر یہ خطبہ جو ہے نماز کی شرط ہے تو مستحب ہے اس کے اندر طہارت یعنی اس کے اندر وضو کا ہونا مستحب ہے، فرض یا واجب نہیں۔ لیکن چونکہ یہ نماز کی شرط ہے تو اس کے اندر مستحب یہ ہے کہ خطبہ دینے والے کا وضو ہونا چاہیے بھئی، ”كَالْأَذَانِ“ جیسے کہ اذان ہے بھئی اذان ہے کہ اس کے اندر بھی وضو کا ہونا، طہارت کا ہونا مستحب ہے بھئی، لیکن بغیر وضو کے بھی کوئی اذان دے گا تو اذان ہو جائے گی بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ نے کہا ”كَالْأَذَانِ“ جیسے کیا ہے؟ اذان ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ خطبہ تو نماز کے لیے شرط ہے، شرط ہے اور اذان تو اس کے لیے شرط نہیں بھئی، شرط نہیں ہے، تو پھر یہ کیسے اس کو اس کے اذان کے مثل کہہ رہے ہیں بھئی کہ وہ جیسے کیا ہے؟ اذان ہے، تو جواب یہ کہ بھئی یہ مشابہت صرف مستحب ہونے میں ہے، ”فَيُسْتَحَبُّ فِيهَا الطَّهَارَةُ“ خطبے میں کیا ہے؟ طہارت مستحب ہے ”كَالْأَذَانِ“ جیسے کس میں؟ اذان جو ہے کہ اس کے اندر طہارت کیا ہے؟ مستحب، تو یہ شرط ہونے میں مشابہت نہیں بیان کی جا رہی بلکہ کس چیز میں مشابہت بیان کی جا رہی ہے؟ طہارت کے مستحب ہونے میں کہ دونوں میں طہارت مستحب ہے۔ ”وَلَوْ خَطَبَ قَاعِدًا أَوْ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ جَازَ“، اور اگر خطبہ دیا امام نے بیٹھ کر یا بغیر وضو کے ”جَازَ“ تو بھی جائز ہے ”لِحُصُولِ المَقْصُودِ“، کیونکہ مقصود حاصل ہو گیا، مقصد حاصل ہو گیا اور مقصد کیا تھا خطبے کے ذریعے؟ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا تھا۔ اب بغیر وضو کے بھی اور بیٹھ کر کیا کر دیتا ہے؟ خطبہ دے دیتا ہے تو وعظ و نصیحت کا مقصد حاصل ہو گیا بھئی۔ ”إِلَّا أَنَّهُ يُكْرَهُ“، مگر یہ یہ مکروہ ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے، مکروہِ تحریمی، ”لِمُخَالَفَةِ التَّوَارُثِ“، اس لیے کیونکہ اس میں توارث کی مخالفت ہے۔ جیسا عمل حضور علیہ السلام کے زمانے سے ہوتا چلا آیا ہے اس کی مخالفت ہے، کیونکہ توارث کس طرح ہے؟ کھڑے ہو کر ہو اور طہارت کے ساتھ، وضو کے ساتھ ہو، تو اس نے اس کی مخالفت کی اس لیے مکروہ ہے۔ اور نیز ”وَلِلْفَصْلِ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ“، بوجہ جدائی ہونے خطبے اور نماز کے درمیان، اس وجہ سے کہ اگر بغیر وضو کے خطبہ امام دے گا تو پھر خطبہ دینے کے بعد تو نماز تھی لیکن اس کا تو وضو نہیں، اس کو جانا پڑے گا، وضو کر کے آئے گا اور پھر نماز پڑھائے گا تو خطبے اور نماز میں جدائی آ گئی، فصل آ گیا، حالانکہ خطبے اور نماز میں تو فصل نہیں ہے بھئی، تو اس وجہ سے بھی یہ مکروہ ہے۔ ”فَإِنِ اقْتَصَرَ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا: لَا بُدَّ مِنْ ذِكْرٍ طَوِيلٍ يُسَمَّى خُطْبَةً“. بھئی خطبہ کتنا ہونا چاہیے؟ کتنا ہونا چاہیے کہ جس سے خطبے کی شرط پوری ہو جائے اور پھر جمعے کی نماز پڑھنا درست ہو جائے؟ تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص آ کر صرف خطبے میں صرف اتنا امام کہہ دے ”اللهُ أَكْبَرُ“ یا صرف کہہ دے ”سُبْحَانَ اللهِ“ یا صرف کہہ دے ”الحَمْدُ لِلَّهِ“، بس بھئی خطبہ ہو گیا، خطبہ ہو گیا، شرط پوری ہو گئی، لہٰذا اب جمعہ ہو جائے گا، جمعہ ہو جائے گا، سمجھ میں آیا؟ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں بلکہ اتنا لمبا کلام ہو جس کو خطبہ کہا جاتا ہو بھئی، جس کو لوگ وعظ کہیں کہ امام صاحب نے کیا دیا؟ وعظ فرمایا، تقریر کی، کم از کم اللہ کی حمد و ثنا ہو، حضور علیہ السلام پر درود و سلام ہو اور اس کے بعد کچھ مختصر کلام ہو اور لوگوں کو اس میں وعظ کرے، نصیحت کرے، قرآن کی آیت وغیرہ اس میں پڑھے، تو کم از کم اتنا کلام ہو جس کو خطبہ کہا جاتا ہے، اس سے کم ہو، الحمد للہ، سبحان اللہ اس کو تو کوئی خطبہ نہیں کہتا، اس کو کوئی تقریر کہتا ہے بھئی؟ خطبہ جس کو اردو میں آپ تقریر کہتے ہیں، تو الحمد للہ، سبحان اللہ صرف کوئی کہہ دے اس کو تقریر نہیں کہتا، تو لہٰذا اس سے جائز نہیں ہو گا، صاحبین فرماتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے فتویٰ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر ہے، سمجھ میں آیا؟ صرف سبحان اللہ یا الحمد للہ کہے تو بھی خطبہ ادا ہو جائے گا۔ اور یہ بھی یاد رکھیے یہ صرف جواز کی بات ہو رہی ہے یعنی کہ ایسا کرنا چاہیے، امام صاحب فرماتے ہیں نماز ہو جائے گی، خطبہ ہو گیا، ہاں البتہ ایسا کرنا مکروہ ہے بھئی، ایسا کرنا مکروہ ہے، مکروہِ تحریمی ہے اس لیے کیونکہ جو طریقہ حضور علیہ السلام کے زمانے سے چلا آیا ہے اس کی اس نے مخالفت کر دی تو مکروہ ہو گا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”فَإِنِ اقْتَصَرَ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“، اگر اکتفاء کر لیا اللہ کے ذکر پر تو جائز ہے امام صاحب کے نزدیک، ”وَقَالَا“، اور صاحبین فرماتے ہیں: ”لَا بُدَّ مِنْ ذِكْرٍ طَوِيلٍ يُسَمَّى خُطْبَةً“، صاحبین فرماتے ہیں کہ ضروری ہے لمبے ذکر کا ہونا جس کو خطبہ کہا جاتا ہو، ”لِأَنَّ الخُطْبَةَ هِيَ الوَاجِبَةُ“، اس لیے کیونکہ خطبہ ہی واجب ہے اور سبحان اللہ صرف آ کر کہہ دیا یا صرف الحمد للہ کہہ دیا یا صرف اللہ اکبر کہہ دیا تو اس کو کوئی بھی خطبہ نہیں کہتا، تو کہتے ہیں وہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّ الخُطْبَةَ هِيَ الوَاجِبَةُ وَالتَّسْبِيحَةُ وَالتَّحْمِيدَةُ لَا تُسَمَّى خُطْبَةً“، اس لیے کیونکہ خطبہ ہی واجب ہے اور ایک تسبیح کو یا ایک ایک تسبیح یعنی ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنا، ”وَالتَّحْمِيدَةُ“ اور ایک تحمید یعنی ایک مرتبہ الحمد للہ کہنا، ”لَا تُسَمَّى خُطْبَةً“ اس کو خطبہ نہیں کہتے۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ حَتَّى يَخْطُبَ خُطْبَتَيْنِ اعْتِبَارًا لِلْمُتَعَارَفِ“، امام شافعی رحمہ اللہ اور بھی قید بڑھاتے ہیں، وہ فرماتے ہیں دو خطبوں کا ہونا بھی ضروری ہے، صرف ایک ہی نہیں بلکہ کتنے؟ دو خطبوں کا، وہ فرماتے ہیں کہ جائز نہیں ہے ”حَتَّى يَخْطُبَ خُطْبَتَيْنِ“ کہ دو خطبے دے دے ”اعْتِبَارًا لِلْمُتَعَارَفِ“ اعتبار کرتے ہوئے متعارف یعنی عادت کا۔ متعارف بمعنی عرف کے ہے، کس معنی میں ہے؟ عرف، اور عرف کسے کہتے ہیں؟ عادت کو، کیونکہ عادتاً خطبہ کس کو کہتے ہیں؟ صرف سبحان اللہ کہنے کو خطبہ نہیں کہتے، وہ لمبا کلام ہوتا ہے، تو دو خطبے دے اس طرح لمبے کلام والے۔ اب امام صاحب کی دلیل آئی بھئی، امام صاحب کی دلیل، اور آپ جانتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ جس قول کو ترجیح دیتے ہیں اس کی دلیل سب سے آخر میں ذکر کرتے ہیں۔ امام صاحب کی دلیل سنیے بھئی، امامِ دنیا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل، وہ فرماتے ہیں: ”وَلَهُ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾ مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“، امام صاحب کی دلیل جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾ پس تم لوگ کو جلدی کرو اللہ کے ذکر کی طرف، سعی کرو کوشش کرو اللہ کے ذکر کی طرف، ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ اس میں کوئی فصل اور فرق نہیں کیا گیا۔ بھئی دیکھیے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں امام صاحب کی دلیل بھئی، وہ فرماتے ہیں قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾، اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعے کے دن اذان دے دی جائے ﴿فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾ تو تم سعی کرو، کوشش کرو، جلدی کرو ﴿إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾ کس کی طرف؟ اللہ کے ذکر کی طرف، اللہ کے ذکر کی طرف۔ تو یہاں ذکر اللہ آیا اور بالاتفاق تمام مفسرین کے نزدیک ذکر اللہ سے مراد خطبہ ہے، کیا ہے؟ خطبہ مراد ہے، تو ذکر اللہ ذکر کیا گیا اور قرآن میں اور اس کے اندر کوئی فرق نہیں کیا گیا کہ وہ ذکر اللہ لمبا ہونا چاہیے یا لمبا نہیں ہونا چاہیے۔ تو صرف اللہ اکبر کہہ دیں یہ ذکر اللہ ہے یا ذکر اللہ نہیں ہے؟ یہ بھی اللہ کا ذکر، صرف سبحان اللہ کوئی کہہ دے یہ بھی کیا ہے؟ اللہ کا ذکر ہے، الحمد للہ صرف کوئی کہہ دے یہ بھی کیا ہے؟ اللہ کا ذکر ہے، تو قرآن کے اندر یہ تفصیل بیان نہیں کی گئی کہ وہ خطبہ وہ جو اللہ کا ذکر ہے وہ طویل ہونا چاہیے، چھوٹا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ وہاں صرف کیا آیا؟ جلدی کرو کس کی طرف؟ اللہ کے ذکر کی طرف، اور سبحان اللہ یا صرف الحمد للہ یہ بھی اللہ ہی کا ذکر ہی ہے تو لہٰذا اس سے بھی خطبہ کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ تو وہ یہ قرآن ان کی دلیل ہے کہ یہاں صرف ذکر اللہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَلَهُ قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾ مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“، اور امام صاحب کی دلیل اللہ کا قول ﴿فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ﴾ ہے ”مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ“ بغیر کسی فرق کے، بغیر کسی فرق کے کیا معنی؟ یعنی یہاں طویل ذکر اللہ یا کم ذکر اللہ میں کوئی فرق نہیں کیا گیا، کوئی تفصیل نہیں، بس مطلقاً ذکر اللہ ہونا چاہیے بھئی۔ اور نیز ان کی دلیل یہ ہے: ”وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: الحَمْدُ لِلَّهِ“، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ انہوں نے فرمایا ”الحَمْدُ لِلَّهِ“، انہوں نے الحمد للہ فرمایا۔ بھئی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خلیفہ بنے تو پہلی مرتبہ تشریف لائے اور منبر پر چڑھے اور آپ نے فرمایا ”الحَمْدُ لِلَّهِ“، پھر اس کے بعد آپ کی زبان بند ہو گئی، کلام نہ کر سکے، تو آپ نیچے اتر آئے اور جمعے کی نماز پڑھا دی، اور اس وقت سارے صحابہ موجود تھے لیکن کسی نے آپ پر اعتراض نہیں کیا، کسی نے بھی اعتراض، معلوم ہوا صرف الحمد للہ بھی کیا ہے؟ اس یہ اس سے بھی خطبہ ہو گیا بھئی، تو اس پر گویا صحابہ کا اجماع ہو گیا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ”وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: الحَمْدُ لِلَّهِ فَأُرْتِجَ عَلَيْهِ فَنَزَلَ وَصَلَّى“، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے الحمد للہ فرمایا ”فَأُرْتِجَ عَلَيْهِ“، أُرْتِجَ عَلَيْهِ کے معنی ہوتے ہیں زبان کا بند ہو جانا، کسی کا کلام کرنے پر قادر نہ رہنا، ”فَأُرْتِجَ عَلَيْهِ“ تو ان کی زبان بند ہو گئی، وہ کلام نہ کر سکے، ”فَنَزَلَ“ تو آپ نیچے اتر آئے ”وَصَلَّى“ اور نماز پڑھی یعنی جمعہ پڑھایا بھئی، جمعہ پڑھایا۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ المَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔
169 approved lectures · 79 of 169