Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-074

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 138
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
”وَمَنْ صَلَّى فِي السَّفِينَةِ قَاعِدًا مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَالْقِيَامُ أَفْضَلُ، وَقَالَا: لَا يُجْزِيهِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ؛ لِأَنَّ الْقِيَامَ مَقْدُورٌ عَلَيْهِ فَلَا يُتْرَكُ“ باب صلاۃ المریض۔ بھئی، مریض کی نماز سے متعلقہ احکامات ذکر ہو رہے ہیں۔ اب آخر میں صاحبِ ہدایت بتلا رہے ہیں آپ کے کہ اگر کوئی شخص کشتی کے اندر نماز پڑھتا ہے بھئی۔ یعنی ایسی کشتی ہے جو دریا میں، سمندر میں چل رہی ہے۔ اور کشتی میں یہ شخص بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے بغیر کسی عذر کے، بغیر کسی سبب کے، تو بھی امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز یہ کافی ہو جائے گی، یعنی اس طرح پڑھنا اس کے لیے جائز ہے، البتہ کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ بغیر عذر کے بیٹھ کر پڑھے گا تو اس کی نماز ہی جائز نہیں بھئی۔ ”وَمَنْ صَلَّى فِي السَّفِينَةِ قَاعِدًا“ اور جس نے نماز پڑھی کشتی کے اندر بیٹھ کر ”مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ“ بغیر کسی سبب کے ”أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو یہ کافی ہوگی اس کے لیے امام صاحب کے نزدیک ”وَالْقِيَامُ أَفْضَلُ“ اور قیام کیا ہے؟ کھڑے ہونا اس کے لیے افضل ہے۔ ”وَقَالَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں ”لَا يُجْزِيهِ“ یہ اس کے لیے کافی نہیں ”إِلَّا مِنْ عُذْرٍ“ مگر کسی عذر، کوئی عذر ہو پھر بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے، ویسے بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نفلوں کی بات نہیں ہو رہی، فرض کی بات ہو رہی ہے۔ تو اس میں قیام وہ فرماتے ہیں فرض ہے، بغیر عذر کے قیام جو ہے اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ جی تو دلیل آگے ان کی صاحبین کی، کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْقِيَامَ مَقْدُورٌ عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ قیام جو ہے وہ اس کی قدرت میں ہے، وہ قیام پر قادر ہے ”فَلَا يُتْرَكُ“ لہٰذا اس کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ ”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْغَالِبَ فِيهَا دَوَرَانُ الرَّأْسِ“ کہ غالب جو ہے کشتی کے اندر وہ سر کا چکرانا ہے۔ عموماً کشتی میں کیا ہے؟ سر چکراتا ہے ”وَهُوَ كَالْمُتَحَقِّقِ“ اور غالب چیز کس کی طرح ہے؟ متحقق جو پائی جائے، جو ثابت ہو بھئی۔ تو کشتی میں غالباً سر چکراتا ہے اور غالب چیز کس کی طرح شمار کی جاتی ہے؟ ثابت شدہ چیز کی طرح کہ گویا ثابت ہی ہے۔ اور جب ثابت ہے یعنی جب حقیقتاً کسی کا سر چکرا رہا ہو تو پھر اس صورت میں تو بالاتفاق اس کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ تو یہاں بھی دورانِ سر چونکہ غالب ہوتا ہے تو یہ یقینی چیز کی طرح ہوا، اور اس وجہ سے وہ بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔ ”إِلَّا أَنَّ الْقِيَامَ أَفْضَلُ“ مگر یہ کہ اس کے لیے قیام افضل ہے ”لِأَنَّهُ أَبْعَدُ عَنْ شُبْهَةِ الْخِلَافِ“ اس لیے کیونکہ یہ زیادہ دور ہے اختلاف کے شبہے سے، کیونکہ یہ زیادہ دور ہے اختلاف... بھئی دیکھیے، اگر کھڑے ہو کر پڑھے گا تو فرماتے ہیں یہ افضل ہے کیونکہ اس صورت میں اختلاف کے شبہے سے بچ جائے گا۔ کس سے؟ اختلاف سے۔ کیونکہ اختلاف آیا یا نہیں آیا فقہاء کا؟ تو بیٹھ کر پڑھنا امام صاحب کے نزدیک جائز ہے اور صاحبین کے نزدیک جائز نہیں، تو کھڑے ہو کر پڑھے گا تو پھر تو اختلاف سے ہی بچ جائے گا بھئی، پھر تو بالاتفاق سب کے نزدیک ہی صحیح ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ أَبْعَدُ عَنْ شُبْهَةِ الْخِلَافِ“ اس لیے کیونکہ یہ زیادہ دور ہے اختلاف کے شبہے سے۔ ”وَالْخُرُوجُ أَفْضَلُ“ خروج سے مراد ہے کشتی سے نکلنا۔ اور کشتی سے نکلنا اس کے لیے افضل ہے، یعنی اگر اس کے لیے ممکن ہو تو کنارے پر اتر کر، نکل کر، پھر کیا کرنی چاہیے اس کو؟ نماز پڑھنی چاہیے۔ تو کہتے ہیں ”وَالْخُرُوجُ أَفْضَلُ مَا أَمْكَنَهُ“ اور نکلنا اس کے لیے افضل ہے جس قدر اس کے لیے ممکن ہو سکے ”لِأَنَّهُ أَسْكَنُ لِقَلْبِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ زیادہ اطمینان بخش ہے اس کے دل کے لیے۔ اس میں اس کے دل کا زیادہ اطمینان ہے، اطمینان سے نماز ادا کر لے گا بھئی۔ ”وَالْخِلَافُ فِي غَيْرِ الْمَرْبُوطَةِ“ اور اختلاف اس کشتی کے اندر ہے جو بندھی ہوئی نہ ہو۔ مربوط، بندھی ہوئی۔ وہ کشتی، ایک بھئی کشتی کنارے پر بندھی ہوئی ہے اور ایک دریا میں چل رہی ہے، تو کون سی... یہ اختلاف کس صورت میں ہے؟ جو غیر مربوطہ ہے، جو بندھی ہوئی کنارے پر نہیں ہے بلکہ دریا میں چل رہی ہے۔ ”وَالْمَرْبُوطَةُ كَالشَّطِّ“ شط کہتے ہیں دریا کے کنارے کو بھئی، طاء مشدد ہے شطّ۔ ”وَالْمَرْبُوطَةُ كَالشَّطِّ“ اور بندھی ہوئی کشتی جو ہے وہ دریا کے کنارے کی طرح ہے۔ کس کی طرح؟ دریا کے کنارے۔ یعنی جیسے دریا کے کنارے پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں بغیر عذر کے، اسی طرح جو کشتی بندھی ہوئی ہے اس میں بھی بیٹھ کر بغیر عذر کے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ ”وَمَنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ خَمْسُ صَلَوَاتٍ أَوْ دُونَهَا قَضَى، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ لَمْ يَقْضِ“ ”وَمَنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ خَمْسُ صَلَوَاتٍ“ اور جس پر بےہوشی طاری ہوئی پانچ نمازوں تک ”أَوْ دُونَهَا“ یا اس سے کم ”قَضَى“ تو کیا کرے گا؟ ان نمازوں کی قضا کرے گا۔ ”وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ لَمْ يَقْضِ“ اور اگر اس سے زیادہ بےہوشی طاری ہوئی، اس سے زیادہ وقت گزرا بےہوشی میں، تو ”لَمْ يَقْضِ“ پھر قضا نہیں کرے گا بھئی۔ ”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے بھئی، استحسان۔ تو یہاں آپ کو انہوں نے مسئلہ بتلا دیا کہ جس پر پانچ نمازوں تک یا اس سے کم بےہوشی طاری ہوئی تو وہ ان نمازوں کی قضا کرے گا جب اسے ہوش آ جائے۔ اور اگر اس سے زیادہ وہ بےہوش رہا تو پھر اس صورت میں اس پر ان کی قضا بھی نہیں، اور یہ استحساناً یہ حکم دیا گیا کہ ان کی قضا کرے گا اگر کم ہوئیں، زیادہ ہوئیں پھر قضا نہیں کرے گا۔ تو یہاں بھئی استحسان آیا، استحسان۔ معلوم ہوا اس کے مقابلے میں کیا ہوگا؟ قیاس، کیونکہ استحسان کہتے ہی اس دلیل کو ہیں جس کے مقابلے میں قیاس ہو۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے، استحساناً یہ حکم دیا گیا ورنہ اس کے مقابلے میں قیاس ہے، اور قیاس تو یہ کہتا ہے کہ اس پر قضا ہونی ہی نہیں چاہیے جب وہ بےہوشی ایک پوری نماز کے وقت کا احاطہ کر لے، تو پھر تو اس پر قضا ہونی ہی نہیں چاہیے کیونکہ اس کا عجز پایا گیا، یہ سارا وقت بےہوش رہا، مثلاً ظہر کے وقت سے پہلے بےہوش ہوا ہے اور عصر تک بےہوش ہے تو سارا وقت کس میں گزر گیا؟ بےہوشی میں گزر گیا۔ تو اس دوران تو یہ نماز کے ادا کرنے سے عاجز ہے بھئی، نماز ادا کر ہی نہیں سکتا، بےہوش ہے، تو اس پر یہ نماز واجب بھی نہیں ہونی چاہیے، لیکن استحساناً کیا کہا جائے گا کہ اس پر قضا واجب ہے، قضا ضروری ہے، یہ قضا کرے گا اگر پانچ نمازوں تک یا اس سے کم بےہوش رہا۔ تو کہتے ہیں ”وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ، وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا قَضَاءَ عَلَيْهِ إِذَا اسْتَوْعَبَ الْإِغْمَاءُ وَقْتَ صَلَاةٍ كَامِلٍ“ اور قیاس تو یہ ہے کہ اس پر قضا نہیں ہونی چاہیے جب گھیر لے، استوعب یستوعب کا معنی گھیر لینا، احاطہ کر لینا، جب احاطہ کر لے الإغماء بےہوشی وقت صلاۃ کامل پوری نماز کے وقت کا۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب بےہوشی پورے نماز کے وقت کا احاطہ کر لے تو اس پر قضا نہیں ہونی چاہیے ”لِتَحَقُّقِ الْعَجْزِ“ عجز کے پائے جانے کی وجہ سے، کیونکہ یہ شخص کیا ہے؟ نماز کی ادائیگی سے عاجز ہے۔ نیز اس کی طرف خطاب بھی متوجہ نہیں، خطاب کو یہ سننے کی اس میں اہلیت نہیں ہے بھئی، جو خطاب اللہ کی طرف سے ہوا: ﴿أَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾، کیا کرو تم لوگ؟ نماز قائم کرو، تو اللہ کا یہ حکم اس کی طرف متوجہ نہیں کیونکہ وہ بےہوش ہے بھئی، بےہوش ہے تو عاجز ہے۔ ”فَشَبِهَ الْجُنُونَ“ یہ فشبہ، بھئی یاد رکھیے یہ ”فَأَشْبَهَ“ ہے، اشبہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اشبہ۔ ہدایہ کے دیگر نسخوں میں اشبہ کا لفظ موجود ہے۔ اور شبہ اس لیے نہیں کیونکہ یہ جو شبہ، یہ باب مجرد سے استعمال ہی نہیں۔ مزید فیہ وغیرہ سے استعمال ہوتا ہے، مجرد سے یہ باب استعمال نہیں ہوتا، آپ لغت اٹھا کر دیکھیں گے اس میں آپ کو یہ مجرد کا باب نہیں ملے گا۔ ہاں مزید فیہ وغیرہ کے ملیں گے: اشبہ یا شبّہ یا شابہ وغیرہ، یہ صیغے ملیں گے۔ تو ”فَأَشْبَهَ الْجُنُونَ“ تو یہ جنون کے مشابہ ہوا، تو یہ کس کے مشابہ ہوا؟ جنون کے مشابہ ہوا، اور جنون جب پورے وقت کا احاطہ کر لے تو نماز واجب نہیں ہوتی۔ جنون کیا کر لے؟ ایک شخص پر جنون آیا، پاگل پن کا دورہ آیا، اب وہ تو بیچارہ معذور ہو گیا اور پورے وقت رہا، یعنی ظہر سے پہلے شروع ہوا اور عصر تک رہا تو پورے ظہر کے وقت کا اس جنون نے احاطہ کر لیا تو اس پر اس ظہر کی نماز کی قضا نہیں۔ اور تو یہ جو بےہوشی بھی ہے یہ کس کے مشابہ ہوئی؟ جنون کے، اور جنون کے اندر تو قضا نہیں آتی لہٰذا یہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس بےہوشی کے اندر بھی قضا نہیں آنی چاہیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو استحساناً لیکن یہ استحساناً یہ حکم دیا گیا کہ پانچ یا اس سے کم نمازیں بےہوش رہا تو قضا کرنا پڑے گی بھئی، ورنہ قیاس تو یہ تقاضا کر رہا تھا اس پر قضا نہیں ہونی چاہیے۔ آگے استحسان کی وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں۔ ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْمُدَّةَ إِذَا طَالَتْ كَثُرَتِ الْفَوَائِتُ“ کہ مدت جب لمبی ہو جائے ”كَثُرَتِ الْفَوَائِتُ“ تو فوت شدہ نمازیں کثیر ہو جاتی ہیں، جب مدت کیا ہو؟ طویل ہو جائے، لمبی ہو جائے یعنی زیادہ دیر تک بےہوشی رہی یعنی ایک دن رات سے زیادہ ”كَثُرَتِ الْفَوَائِتُ“ تو فوت شدہ نمازیں کثیر ہو جائیں گی ”فَيَحْرُجُ فِي الْأَدَاءِ“ تو حرج ہوگا ادا کے اندر، اب دشواری ہوگی، تنگی ہوگی ادا کے اندر، اور آپ پڑھ چکے کہ شریعت کے اندر تنگی، نئی تنگی کو اور حرج کو دور کیا گیا ہے لوگوں سے۔ جب نمازیں کثیر ہو، مدت لمبی ہو جائے گی تو ”كَثُرَتِ الْفَوَائِتُ“ تو فوت شدہ نمازیں کثیر ہو جائیں گی ”فَيَحْرُجُ فِي الْأَدَاءِ“ تو حرج ہوگا ادا کے اندر، تنگی ہوگی ادا میں ”وَإِذَا قَصُرَتْ“ اور جب مدت تھوڑی ہوگی ”قَلَّتْ“ تو فوت شدہ نمازیں تھوڑی ہوں گی ”فَلَا حَرَجَ“ پھر ادائیگی میں کوئی حرج نہیں۔ بھئی اگر مدت لمبی ہو، ایک دن رات سے زیادہ بےہوش رہا تو فوت شدہ نمازیں زیادہ ہو جائیں گی اور ان کی ادائیگی دشوار ہوگی، حرج ہوگا اس میں، اور حرج کو شریعت میں دور کیا گیا ہے لہٰذا اس پر ان کی قضا نہیں، لیکن اگر ایک دن رات سے کم بےہوش رہا تو پھر تو تھوڑی سی نمازیں ہیں، پھر ان کی ادائیگی میں کوئی دشواری نہیں، تو بےشک یہ بےہوش ہے لیکن ان کی ادائیگی میں کوئی دشواری نہیں، تین ہوں گی یا چار ہوں گی یا زیادہ سے زیادہ پانچ نمازیں ہوں گی، تو ان کی قضا کرنا کوئی مشکل کام نہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے تو ان کی قضا اس کے ذمے ہوگی۔ یہ معنی ہے ”وَإِذَا قَصُرَتْ قَلَّتْ“ اور جب وہ مدت چھوٹی ہو تو فوت شدہ نمازیں تھوڑی ہوں گی ”فَلَا حَرَجَ“ تو پھر کوئی حرج نہیں۔ اور کثیر، کثیر کب ہوں گی؟ کہتے ہیں ”وَالْكَثِيرُ أَنْ تَزِيدَ عَلَى يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ“ اور کثیر وہ ہیں کہ وہ بڑھ جائیں نمازیں کس پر؟ ایک دن اور ایک رات، یا وہ یوں کہیں وہ بےہوشی بڑھ جائے ایک دن اور ایک رات پر ”لِأَنَّهُ يَدْخُلُ فِي حَدِّ التَّكْرَارِ“ اس لیے کیونکہ وہ نمازیں کس میں داخل ہو جائیں گی؟ حدِ تکرار میں داخل ہو جائیں گی، کیونکہ پھر تو نمازیں چھ ہو جائیں گی، اور چھ نمازیں تو کل کتنی ہیں ایک دن رات میں؟ پانچ، تو جب چھ ہوئیں تو کسی ایک نماز میں تکرار آ جائے گا، وہ دو دفعہ ہو جائے گی تو نمازیں کیا ہو گئیں؟ کثیر ہو جائیں گی۔ تو کثیر یہ ہے کہ بڑھ جائیں بھئی ایک دن اور ایک رات پر، اس لیے کیونکہ وہ حدِ تکرار میں داخل ہو جائیں گی۔ ”وَالْجُنُونُ كَالْإِغْمَاءِ“ اور جنون بےہوشی کی طرح ہے۔ یہ جواب ہے وہ جو اوپر قیاس کیا گیا تھا اغماء کو جنون پر۔ اوپر قیاس کیا ذکر ہوا تھا؟ کہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کوئی ایک نماز، پوری نماز کا وقت بےہوش رہے تو اس پر اس نماز کی قضا نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ شخص عاجز ہے، یہ کیا ہے؟ یہ جو بےہوش تھا یہ عاجز تھا اس دوران، نماز کے ادا کرنے پر قادر ہی نہیں تھا۔ تو بےہوشی کس کے مشابہ ہوئی؟ جنون کے مشابہ ہو گئی، اور جنون جو ہے وہ ایک پورے وقت کا احاطہ کر لے تو اس میں قضا نہیں آتی۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ نہیں بھئی، یہ جو قیاس تھا نا، یہ دوسری روایت پر مبنی ہے، وہ جو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ جنون ایک وقت کا پورا احاطہ کر لے تو اس نماز کی اس شخص پر قضا نہیں، یہ ایک روایت تھی۔ اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں نہیں بھئی، اغماء کو جنون پر قیاس نہیں کریں گے بلکہ جنون کو کس پر قیاس کریں گے؟ اغماء پر۔ جنون کو قیاس کریں گے اغماء پر اور اغماء کے اندر جیسے پانچ نمازیں یا اس سے کم ہوں تو اس میں کیا کرنا پڑتی ہے؟ قضا کرنا پڑتی ہے، تو جنون کا بھی یہی حکم ہے کہ پانچ نمازیں یا اس سے کم جنون کے اندر گزری ہیں پھر افاقہ ہو گیا آدمی ٹھیک ہو گیا تو کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی، اور اگر اس سے زیادہ جنون رہا تو پھر ان کی قضا نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو انہوں نے کیا کیا تھا؟ وہاں پر قیاس میں اغماء کو قیاس کیا تھا جنون پر اس روایت پر کہ جنون جب ایک وقت کی نماز کا احاطہ کر لے تو اس میں قضا نہیں۔ تو انہوں نے صحیح قول آپ کو آگے صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ نہیں، صحیح قول یہ ہے کہ اغماء کو جنون پر قیاس نہیں کریں گے بلکہ جنون کو کس پر قیاس کریں گے؟ اغماء پر قیاس کریں گے، اور جنون کے اندر بھی یہی حکم ہوگا کہ پانچ نمازوں سے کم میں ہے تو یا پانچ کے برابر ہے تو پھر قضا کرنا پڑے گی، یہ نہیں کہ ایک وقت کا پورا کا احاطہ کر لے تو پھر اس کی قضا ہی نہ ہو، ایسا نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”وَالْجُنُونُ كَالْإِغْمَاءِ“ اور جنون جو ہے بےہوشی کی طرح ہے ”كَذَا ذَكَرَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ صاحبِ ہدایہ حوالہ بھی دے رہے ہیں کہ اسی طرح ذکر کیا ہے ابو سلیمان جوزجانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے، یہ شاگرد ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے بھئی، تو انہوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے کہ جنون کس کی طرح ہے؟ بےہوشی کی طرح ہے، اس پر قیاس کیا جائے گا۔ ”بِخِلَافِ النَّوْمِ“ بخلاف کس کے؟ نیند کے، کہ نیند کو بھئی کس کے ساتھ ملحق کریں گے؟ اگر ایک آدمی بھئی چوبیس گھنٹے سے زیادہ سویا ہی رہا تو یہ شخص بھی عاجز ہے، یہ شخص بھی کیا ہے؟ سویا رہا بھئی، پتہ ہی نہیں چلا، غفلت میں تھا، تو اس پر بھی کیا نمازوں کی قضا آئے گی یا قضا نہیں آئے گی؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں بھئی، نیند کو اس اغماء پر قیاس نہیں کریں گے اس لیے کیونکہ اتنی طویل نیند نہایت نادر ہے، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی اتنی دیر تک چوبیس گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ سویا رہے، اور تو یہ نادر چیز ہے اور نادر چیز پر شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا بھئی، لہٰذا اگر کبھی ایسا ہوتا بھی ہے تو بھی اس کو کیا کرنا پڑیں گی؟ نمازیں قضا کرنا پڑیں گی چاہے اس سے زیادہ ہی کیوں نہ سویا رہے بھئی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ کہتے ہیں ”بِخِلَافِ النَّوْمِ لِأَنَّ امْتِدَادَهُ نَادِرٌ“ بخلاف نیند کے، اس لیے کیونکہ نیند کا لمبا ہونا نادر ہے ”فَيُلْحَقُ بِالْقَاصِرِ“ تو اس کو قاصر کے ساتھ ملایا جائے گا۔ بھئی اغماء دو قسم کا تھا نا، ایک اغماء ہے ممتد لمبا یعنی چوبیس گھنٹے سے بھی زیادہ بےہوش رہا، اور ایک اغماء ہے قاصر، اس سے کم بےہوش رہا یعنی پانچ نمازیں یا اس سے کم بےہوش رہا چوبیس گھنٹے یا اس سے زیادہ بےہوش نہ رہا۔ چوبیس گھنٹے یا اس سے زیادہ بےہوش رہے وہ کیا ہے؟ اغماءِ ممتد، اور اس میں کیا ہوتی ہے؟ قضا نماز واجب ہی نہیں ہوتی اس پر، قضا اس میں نہیں آتی، اور دوسری قسم ہے کہ پانچ نمازیں یا اس سے کم بےہوش رہا یہ ہے اغماءِ قاصر، تو لہٰذا نیند کو اغماءِ قاصر کے ساتھ ملایا جائے گا کیونکہ لمبی نیند کا ہونا نہایت نادر ہے، اور جب اغماءِ قاصر کے ساتھ اس کو ملایا جائے گا تو اغماءِ قاصر کا کیا حکم تھا؟ اس میں قضا آتی تھی یا نہیں؟ اس میں قضا آتی تھی، تو اس میں بھی قضا آئے گی چاہے یہ لمبی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّ امْتِدَادَهُ نَادِرٌ فَيُلْحَقُ بِالْقَاصِرِ“ اس لیے کیونکہ نیند کا لمبا ہونا نادر ہے تو اس کو قاصر یعنی اغماءِ قاصر کے ساتھ ملایا جائے گا۔ ”ثُمَّ الزِّيَادَةُ تُعْتَبَرُ مِنْ حَيْثُ الْأَوْقَاتُ“ اچھا بھئی، اب یہاں سے اب آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ کس چیز کا اعتبار کیا جائے گا؟ آپ نے ہمیں کہا ایک دن رات کا ذکر کیا، تو کیا گھنٹوں کا حساب رکھا جائے گا بےہوشی کے اندر؟ کوئی شخص چوبیس گھنٹے پورے یا اس سے زیادہ بےہوش رہا تو پھر اس سے قضا ساقط ہوگی یا چھ نمازیں جب اس پر آ جائیں گی تو تب اس پر قضا ساقط ہوگی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نمازوں کے اوقات کے اعتبار سے دیکھا جائے گا۔ جب اس پر چھ نمازیں اس کے ذمے قضا ہو جائیں، یعنی چھٹی نماز کا وقت بےہوشی کی حالت میں گزرے گا تو اب اس پر چھ نمازیں آئیں گی، اب نمازیں کثیر ہو گئیں، حدِ تکرار میں داخل ہو گئیں، اب اس سے قضا ساقط ہو جائے گی۔ معلوم ہوا، آج ظہر سے پہلے کوئی بےہوش ہوا تو امام محمد رحمہ اللہ کے قول کے مطابق اگلے دن ظہر سے پہلے تک یہ ابھی کتنی نمازیں ہوئی ہیں اس کے ذمے؟ پانچ ہی ہوئی ہیں، تو پھر پورا ظہر کا وقت بھی اسی حالت میں گزر گیا اور عصر کے وقت جا کر اس کو ہوش آتا ہے تو اب چھٹی نماز کا وقت بھی نکلا، اب اس کے ذمے سے قضا ساقط ہو گئی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، گھنٹوں کا اعتبار کیا جائے گا۔ آج مثلاً اگر کوئی دوپہر کے وقت بےہوش ہوا اور اگلے دن دوپہر تک وہ بےہوش رہا تو اس سے نمازیں ساقط ہو جائیں گی چھٹی نماز کا یعنی یوں کہیں، نمازوں کے اوقات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ جب کہ ایک دن رات سے بس زیادہ ہو جائے چاہے چھٹی نماز کا ابھی وقت پورا نہ گزرا ہو۔ تو کہتے ہیں ”ثُمَّ الزِّيَادَةُ تُعْتَبَرُ مِنْ حَيْثُ الْأَوْقَاتُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ پھر زیادتی جو ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا نمازوں کے اوقات کے حیثیت سے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”لِأَنَّ التَّكْرَارَ يَتَحَقَّقُ بِهِ“ کیونکہ تکرار اسی سے پایا جائے گا، کس اعتبار سے آئے گا تکرار؟ نمازوں کے اوقات کے اعتبار سے جب چھٹی نماز کا وقت گزرے گا۔ ”وَعِنْدَهُمَا مِنْ حَيْثُ السَّاعَاتُ“ اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک من حیث الساعات، زیادتی کا اعتبار گھنٹوں کی حیثیت سے یعنی چوبیس گھنٹے دیکھے جائیں گے۔ ”وَهُوَ الْمَأْثُورُ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ اور یہی منقول ہے حضرت علی اور حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں درست بات کو۔ ”بَابٌ فِي سَجْدَةِ التِّلَاوَةِ“ یہ باب ہے سجدۂ تلاوت کے بیان میں۔ جی، آپ جانتے ہیں بھئی قرآن میں، قرآن میں کئی جگہوں پر سجدۂ تلاوت ہے، اور ان آیتوں کو اگر کوئی پڑھ لے، ان کی تلاوت کر لے تو اس پر کیا واجب ہو جاتا ہے؟ سجدۂ تلاوت، اسے سجدہ کرنا پڑتا ہے بھئی۔ تو اس باب میں اس کی تفصیل بیان ہوگی۔ ”بَابٌ فِي سَجْدَةِ التِّلَاوَةِ“ یہ باب ہے سجدۂ تلاوت کے بیان میں۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”سُجُودُ التِّلَاوَةِ فِي الْقُرْآنِ أَرْبَعَةَ عَشَرَ“ کہ سجدۂ تلاوت جو ہیں قرآن میں چودہ ہیں۔ اب وہ جگہیں بیان کر رہے ہیں کہاں کہاں پر ہیں، کہتے ہیں ”فِي آخِرِ الْأَعْرَافِ“ سورۂ اعراف کے آخر میں ”وَفِي الرَّعْدِ“ اور سورۂ رعد میں ”وَالنَّحْلِ“ اور سورۂ نحل میں ”وَبَنِي إِسْرَائِيلَ“ اور سورۂ بنی اسرائیل میں ”وَمَرْيَمَ“ اور سورۂ مریم میں ”وَالْأُولَى مِنَ الْحَجِّ“ اور جو پہلا ہے کس میں؟ سورۂ حج میں۔ یاد رکھیے سورۂ حج کے اندر، سورۂ حج کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کے نزدیک دو سجدے ہیں، دو سجدے ہیں لیکن ہمارے نزدیک عند الاحناف جو ہے اس میں ایک سجدہ ہے، وہ جو پہلے مقام پر آیا، اور دوسرا سجدہ ہے ہم کہتے ہیں کہ اس سے نماز مراد ہے، کیا مراد ہے؟ نماز مراد ہے کیونکہ وہاں سجدے کے ساتھ ساتھ رکوع کا بھی ذکر ہے، اور سجدے کے ساتھ رکوع کا ذکر ہو تو اس سے کیا مراد ہوتی ہے؟ نماز مراد ہوتی ہے، تو وہ وہاں سجدہ نہیں ہے بلکہ وہ نماز کا ذکر ہو رہا ہے وہاں پر۔ تو اسی لیے کہا ”وَالْأُولَى مِنَ الْحَجِّ“ اور جو پہلا سجدہ ہے سورۂ حج میں سے، ”وَالْفُرْقَانِ“ اور ایک سجدہ کس میں ہے؟ سورۂ فرقان میں ہے ”وَالنَّمْلِ“ اور سورۂ نمل میں ”وَالم تَنْزِيلَ“ اور سورۂ اٰلم تنزیل میں ”وَص“ اور سورۂ ص میں ”وحم السَّجْدَةِ“ اور حم سجدہ کے اندر ”وَالنَّجْمِ“ اور سورۂ النجم میں ”وَإِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ“ اور سورۂ إذا السماء انشقت میں ”وَاقْرَأْ“ اور سورۂ اقرأ میں بھئی۔ تو یہ چودہ مقامات پر سجدے ہیں بھئی عند الاحناف بھئی۔ ”كَذَا كُتِبَ فِي مُصْحَفِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اسی طرح مکتوب ہے مصحفِ عثمان میں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآن مجید کا نسخہ تیار کروا کر تمام مملکت میں اس کو، اس کے نقلوں کو بھیجا گیا تو اس میں اسی طرح درج ہے بھئی۔ ”وَهُوَ الْمُعْتَمَدُ“ اور اسی پر اعتماد ہے، وہی معتمد ہے۔ ”وَالسَّجْدَةُ الثَّانِيَةُ فِي الْحَجِّ لِلصَّلَاةِ عِنْدَنَا“ اور دوسرا سجدہ جو ہے سورۂ حج میں وہ کس کے لیے ہے؟ نماز کے لیے ہے یعنی اس سے نماز مراد ہے، وہاں سجدہ نہیں ہے۔ ”وَمَوْضِعُ السَّجْدَةِ فِي حم السَّجْدَةِ عِنْدَ قَوْلِهِ: لَا يَسْأَمُونَ فِي قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَهُوَ الْمَأْخُوذُ لِلِاحْتِيَاطِ“ اور سجدے کا مقام حم السجدہ کے اندر وہ اللہ تعالیٰ کے قول ”لَا يَسْأَمُونَ“ پر کے پاس پر ہے بھئی، اس وقت، اس پر کیا کیا جائے گا؟ سجدہ کیا جائے گا ”فِي قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق ”وَهُوَ الْمَأْخُوذُ لِلِاحْتِيَاطِ“ اور اسی کو لیا گیا بطورِ احتیاط کے، اسی کو لیا گیا، اسی قول کو لیا گیا بطورِ احتیاط کے۔ بھئی یاد رکھیے، حم السجدہ کے اندر دو روایتیں ہیں، دو روایتیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ یہ ”لَا يَسْأَمُونَ“ پر سجدہ ہے، اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے ماقبل کی جو آیت ہے اس کے آخر میں ہے ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ﴾ یہاں پر سجدہ ہے بھئی، یہاں پر سجدہ۔ تو ہم نے، احناف نے، احناف ہمیشہ احتیاط والی صورت ہی اختیار کرتے ہیں، تو ہم نے اس قول کو اختیار کیا جو کہ یہ جو بعد والی آیت میں ہے، اس سے سجدہ واجب ہو اور اس قول میں احتیاط زیادہ ہے۔ اس میں کیا ہے؟ احتیاط۔ آپ کہیں گے اس میں احتیاط کس طرح زیادہ؟ بھئی دیکھیے، اگر یہ کہا جائے، یہ کہا جائے کہ ماقبل کی جو آیت ہے، ماقبل کی جو آیت ہے، اس، وہ آیتِ سجدہ ہے اور اس سے کیا واجب ہوگا؟ سجدہ۔ یہ اگر کہا جائے، اس قول کو اختیار کر لیا جائے، اور حقیقت ایسی ہو کہ سجدہ کس سے آ رہا ہو؟ بعد والی آیت سے، تو پہلے والی آیت پڑھ کر ہی کوئی سجدہ کر لیتا ہے اور حقیقت میں تو سجدہ کہاں تھا؟ بعد میں تھا، تو یہ سجدہ ادا ہو جائے گا؟ نہیں، کیونکہ سجدہ تو واجب ہوتا ہے آیتِ سجدہ پڑھنے سے اور آیتِ سجدہ تو ابھی آگے آ رہی تھی، وہ تو ابھی پڑھی ہی نہیں ہے، اس سے پہلے ہی سجدہ کر لیا اور اس سے پہلے تو سجدہ نہیں، کیونکہ آیتِ سجدہ اس کا پڑھنا یہ ہے سبب، اور سجدہ کیا ہے؟ اس کا حکم ہے، سجدہ اس کا حکم۔ اور سبب پایا جائے تو پھر حکم پایا جاتا ہے، سبب سے پہلے حکم نہیں، ظہر کی نماز آپ ابھی پڑھنا چاہیں ظہر سے پہلے ہی، پڑھ سکتے ہیں؟ نہیں، کیونکہ ظہر کی نماز کا سبب کیا ہے؟ ظہر کا وقت۔ وقت آئے گا تو حکم بھی آ جائے گا، نماز واجب ہو جائے گی، پھر پڑھیں گے تو ہوگی، اس سے پہلے نہیں۔ تو یہاں پر بھی اگر اس قول کو اختیار کر لیا جائے کہ پہلے والی جو آیت ہے اس سے کیا واجب ہوتا ہے؟ سجدہ، اور اس پر پھر کوئی سجدہ کر لیتا ہے اور حقیقت میں ایسا ہو کہ سجدہ کس سے ہو؟ بعد والی آیت سے، تو پھر وہ سجدہ ادا نہیں ہوا، وہ سجدہ رہ گیا اس کے ذمے۔ اور اگر دوسرے قول کو اختیار کیا جائے کہ کس سے، سجدہ کس سے واجب ہو رہا ہے؟ بعد والی آیت سے، اور حقیقت میں ایسا ہو کہ سجدہ کس سے واجب ہو رہا ہے؟ پہلی آیت سے، تو پہلی آیت سے سجدہ واجب ہو چکا، اب اگر ایک آیت کے بعد بھی کر لے گا تو ہو جائے گا یا نہیں ہوگا؟ وہ تو ہو جائے گا، تو احتیاط کس صورت میں ہے؟ بعد والے آیت پر کہ اس کو آیتِ سجدہ قرار دیا جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ سجدے کا مقام حم السجدہ میں اللہ تعالیٰ کے قول ”لَا يَسْأَمُونَ“ پر ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق ”وَهُوَ الْمَأْخُوذُ لِلِاحْتِيَاطِ“ اور اسی کو لیا گیا بطورِ احتیاط کے۔ ”وَالسَّجْدَةُ وَاجِبَةٌ فِي هَذِهِ الْمَوَاضِعِ عَلَى التَّالِي وَالسَّامِعِ سَوَاءٌ قَصَدَ سَمَاعَ الْقُرْآنِ أَوْ لَمْ يَقْصُدْ“ اور سجدہ واجب ہوگا ان جگہوں میں ”عَلَى التَّالِي“ تلاوت کرنے والے پر ”وَالسَّامِعِ“ اور سننے والے پر۔ سجدہ صرف تلاوت کرنے والے پر نہیں واجب بلکہ سننے والے پر بھی واجب ہے جو آیتِ سجدہ کو سن لیتا ہے۔ ”سَوَاءٌ قَصَدَ سَمَاعَ الْقُرْآنِ أَوْ لَمْ يَقْصُدْ“ برابر ہے کہ اس نے چاہے قرآن سننے کا ارادہ کیا ہو یا ارادہ نہ کیا ہو، جیسے بھی ہو لیکن جب سن لے گا تو اس پر آیتِ سجدہ کو سن لے گا تو سجدہ واجب ہو جائے گا۔ ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے: ”السَّجْدَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَهَا وَعَلَى مَنْ تَلَاهَا“ سجدہ واجب ہے اس شخص پر جس نے آیتِ سجدہ کو سنا اور اس شخص پر جس نے اس کی تلاوت کی، سجدہ لازم ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ یہاں کیا آیا ”عَلَى“، ”عَلَى“، اور علیٰ کس لیے آتا ہے؟ لزوم کے لیے آتا ہے، ایک شخص پر دوسری چیز کو لازم کرنے کے لیے آتا ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں ”الْمَالُ عَلَى زَيْدٍ“ یہ مال کس پر لازم ہے؟ زید پر، تو علیٰ استعمال کرتے ہیں اس موقع پر۔ تو ”وَهِيَ كَلِمَةُ إِيجَابٍ“ اور یہ علیٰ جو ہے یہ کلمۂ ایجاب ہے یعنی واجب کرنے والا کرنے کا کلمہ ہے ”وَهُوَ غَيْرُ مُقَيَّدٍ بِالْقَصْدِ“ اور یہ قصد ارادے کے ساتھ مقید نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے حدیث میں کیا آیا ”السَّجْدَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَهَا“ یہاں کوئی ارادہ ارادے یا غیر ارادے کے کوئی بات ذکر ہے؟ یہاں ارادے کی کوئی قید ذکر نہیں کی گئی، معلوم ہوا سن لے گا تو سجدہ واجب ہو جائے گا چاہے اس کے سننے کا ارادہ ہو یا ارادہ نہ ہو بھئی۔ ”وَإِذَا تَلَا الْإِمَامُ آيَةَ السَّجْدَةِ سَجَدَهَا وَسَجَدَهَا الْمَأْمُومُ مَعَهُ“ اور جب تلاوت کر لے امام آیتِ سجدہ کو تو سجدہ کرے ”وَسَجَدَهَا الْمَأْمُومُ مَعَهُ“ اور سجدہ کرے مقتدی بھی اس کے ساتھ، مقتدی بھی سجدہ اس کے ساتھ کرے۔ ”لِالْتِزَامِهِ مُتَابَعَتَهُ“ اس لیے کیونکہ اس مقتدی نے التزام کیا ہے اس امام کی متابعت کا، اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے اس کی متابعت کو کہ وہ کیا کرے گا؟ اس کی پیروی کرے گا بھئی۔ ”وَإِذَا تَلَا الْمَأْمُومُ لَمْ يَسْجُدِ الْإِمَامُ وَلَا الْمَأْمُومُ“ وَمَنْ صَلَّى فِي السَّفِينَةِ قَاعِدًا مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَالْقِيَامُ أَفْضَلُ، وَقَالَا: لَا يُجْزِيهِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ؛ لِأَنَّ الْقِيَامَ مَقْدُورٌ عَلَيْهِ فَلَا يُتْرَكُ. بَابُ صَلَاةِ الْمَرِيضِ۔ مریض کی نماز سے متعلقہ احکامات ذکر ہو رہے ہیں۔ اب آخر میں صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں آپ کے کہ اگر کوئی شخص کشتی کے اندر نماز پڑھتا ہے بھئی۔ یعنی ایسی کشتی ہے جو دریا میں، سمندر میں چل رہی ہے۔ اور کشتی میں یہ شخص بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے بغیر کسی عذر کے، بغیر کسی سبب کے تو بھی امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز یہ کافی ہو جائے گی یعنی یہ اس طرح پڑھنا اس کے لیے جائز ہے، البتہ کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ بغیر عذر کے بیٹھ کر پڑھے گا تو اس کی نماز ہی جائز نہیں بھئی۔ وَمَنْ صَلَّى فِي السَّفِينَةِ قَاعِدًا اور جس نے نماز پڑھی کشتی کے اندر بیٹھ کر مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ بغیر کسی سبب کے أَجْزَأَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو یہ کافی ہوگی اس کے لیے امام صاحب کے نزدیک وَالْقِيَامُ أَفْضَلُ اور قیام کیا ہے، کھڑے ہونا اس کے لیے افضل ہے۔ وَقَالَا اور صاحبین فرماتے ہیں لَا يُجْزِيهِ یہ اس کے لیے کافی نہیں إِلَّا مِنْ عُذْرٍ مگر کسی عذر، کوئی عذر ہو پھر بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے، ویسے بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ نفلوں کی بات نہیں ہو رہی، فرض کی بات ہو رہی ہے۔ تو اس میں قیام وہ فرماتے ہیں فرض ہے، بغیر عذر کے قیام جو ہے اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ جی تو دلیل آگے ان کی صاحبین کی، کہتے ہیں لِأَنَّ الْقِيَامَ مَقْدُورٌ عَلَيْهِ اس لیے کیونکہ قیام جو ہے وہ اس کی قدرت میں ہے، وہ قیام پر قادر ہے فَلَا يُتْرَكُ لہٰذا اس کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ وَلَهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْغَالِبَ فِيهَا دَوَرَانُ الرَّأْسِ کہ غالب جو ہے کشتی کے اندر وہ سر کا چکرانا ہے۔ عموماً کشتی میں کیا ہے؟ سر چکراتا ہے۔ وَهُوَ كَالْمُتَحَقَّقِ، اور غالب چیز کس کی طرح ہے؟ متحقق، جو پائی جائے، جو ثابت ہو بھئی۔ تو کشتی میں غالباً سر چکراتا ہے اور غالب چیز کس کی طرح شمار کی جاتی ہے؟ ثابت شدہ چیز کی طرح کہ گویا ثابت ہی ہے۔ اور جب ثابت ہے یعنی جب حقیقتاً کسی کا سر چکرا رہا ہو تو پھر اس صورت میں تو بالاتفاق اس کے لیے بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ تو یہاں بھی دورانِ سر چونکہ غالب ہوتا ہے تو یہ یقینی چیز کی طرح ہوا اور یقینی اس وجہ سے وہ بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔ إِلَّا أَنَّ الْقِيَامَ أَفْضَلُ؛ مگر یہ کہ اس کے لیے قیام افضل ہے لِأَنَّهُ أَبْعَدُ عَنْ شُبْهَةِ الْخِلَافِ، اس لیے کیونکہ یہ زیادہ دور ہے اختلاف کے شبہے سے، کیونکہ یہ زیادہ دور ہے اختلاف۔ بھئی دیکھیے! اگر کھڑے ہو کر پڑھے گا تو فرماتے ہیں یہ افضل ہے کیونکہ اس صورت میں اختلاف کے شبہے سے بچ جائے گا۔ کس سے؟ اختلاف۔ کیونکہ اختلاف آیا یا نہیں آیا فقہاء کا؟ تو بیٹھ کر پڑھنا امام صاحب کے نزدیک جائز ہے اور صاحبین کے نزدیک نہیں جائز۔ تو کھڑے ہو کر پڑھے گا تو پھر تو اختلاف سے بچ جائے گا بھئی، پھر تو بالاتفاق سب کے نزدیک ہی صحیح ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے لِأَنَّهُ أَبْعَدُ عَنْ شُبْهَةِ الْخِلَافِ اس لیے کیونکہ یہ زیادہ دور ہے اختلاف کے شبہے سے۔ وَالْخُرُوجُ أَفْضَلُ، خروج سے مراد ہے کشتی سے نکلنا، اور کشتی سے نکلنا اس کے لیے افضل ہے یعنی اگر اس کے لیے ممکن ہو تو کنارے پر اتر کر، نکل کر پھر کیا کرنی چاہیے اس کو؟ نماز پڑھنی چاہیے۔ تو کہتے ہیں وَالْخُرُوجُ أَفْضَلُ مَا أَمْكَنَهُ اور نکلنا اس کے لیے افضل ہے جس قدر اس کے لیے ممکن ہو سکے لِأَنَّهُ أَسْكَنُ لِقَلْبِهِ، اس لیے کیونکہ یہ زیادہ اطمینان بخش ہے اس کے دل کے لیے، اس میں اس کے دل کا زیادہ اطمینان ہے، اطمینان سے نماز ادا کر لے گا بھئی۔ وَالْخِلَافُ فِي غَيْرِ الْمَرْبُوطَةِ، اور اختلاف اس کشتی کے اندر ہے جو بندھی ہوئی نہ ہو۔ مربوط، باندھی ہوئی۔ وہ کشتی، ایک بھئی کشتی کنارے پر باندھی ہوئی ہے اور ایک دریا میں چل رہی ہے، تو کون سی یہ اختلاف کس صورت میں ہے؟ جو غیر مربوطہ ہے جو باندھی ہوئی کنارے پر نہیں ہے بلکہ دریا میں چل رہی ہے۔ وَالْمَرْبُوطَةُ كَالشَّطِّ، شط کہتے ہیں دریا کے کنارے کو بھئی، طاء مشدد ہے شطّ۔ وَالْمَرْبُوطَةُ كَالشَّطِّ اور باندھی ہوئی کشتی جو ہے وہ دریا کے کنارے کی طرح ہے۔ کس کی طرح؟ دریا کے کنارے۔ یعنی جیسے دریا کے کنارے پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں بغیر عذر کے، اسی طرح جو کشتی باندھی ہوئی ہے اس میں بھی بیٹھ کر بغیر عذر کے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے۔ وَمَنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ خَمْسُ صَلَوَاتٍ أَوْ دُونَهَا قَضَى، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ لَمْ يَقْضِ. وَمَنْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ خَمْسُ صَلَوَاتٍ اور جس پر بے ہوشی طاری ہوئی پانچ نمازوں تک أَوْ دُونَهَا یا اس سے کم قَضَى تو کیا کرے گا ان نمازوں کی؟ قضا کرے گا۔ وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ لَمْ يَقْضِ اور اگر اس سے زیادہ بے ہوشی طاری ہوئی، اس سے زیادہ وقت گزرا بے ہوشی میں تو لَمْ يَقْضِ پھر قضا نہیں کرے گا بھئی۔ وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ، اور یہ استحسان ہے بھئی، استحسان۔ تو یہاں آپ کو انہوں نے مسئلہ بتلا دیا کہ جس پر پانچ نمازوں تک یا اس سے کم بے ہوشی طاری ہوئی تو وہ ان نمازوں کی قضا کرے گا جب اسے ہوش آ جائے اور اگر اس سے زیادہ وہ بے ہوش رہا تو پھر اس صورت میں اس پر ان کی قضا بھی نہیں اور یہ استحساناً یہ حکم دیا گیا کہ ان کی قضا کرے گا اگر کم ہوئیں، زیادہ ہوئیں پھر قضا نہیں کرے گا۔ سمجھ میں، تو یہاں بھئی استحسان آیا، استحسان۔ تو معلوم ہوا اس کے مقابلے میں کیا ہوگا؟ قیاس، کیونکہ استحسان کہتے ہی اس دلیل کو ہیں جس کے مقابلے میں قیاس ہو۔ تو کہتے ہیں وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ اور یہ استحسان ہے، استحساناً یہ حکم دیا گیا ورنہ اس کے مقابلے میں قیاس ہے اور قیاس تو یہ کہتا ہے کہ اس پر قضا ہونی ہی نہیں چاہیے جب وہ بے ہوشی ایک پوری نماز کے وقت کا احاطہ کر لے۔ تو پھر تو اس پر قضا ہونی ہی نہیں چاہیے کیونکہ اس کا عجز پایا گیا، یہ سارا وقت بے ہوش رہا مثلاً ظہر کے وقت سے پہلے بے ہوش ہوا ہے اور عصر تک بے ہوش ہے تو سارا وقت کس میں گزر گیا؟ بے ہوشی میں گزر گیا، تو اس دوران تو یہ نماز کے ادا کرنے سے عاجز ہے بھئی، نماز ادا کر ہی نہیں سکتا، بے ہوش ہے تو اس پر یہ نماز واجب بھی نہیں ہونی چاہیے لیکن استحساناً کیا کہا جائے گا کہ اس پر قضا واجب ہے، قضا ضروری ہے، یہ قضا کرے گا اگر پانچ نمازوں تک یا اس سے کم بے ہوش رہا۔ تو کہتے ہیں وَهَذَا اسْتِحْسَانٌ یہ استحسان ہے، وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا قَضَاءَ عَلَيْهِ إِذَا اسْتَوْعَبَ الْإِغْمَاءُ وَقْتَ صَلَاةٍ كَامِلٍ اور قیاس تو یہ ہے کہ اس پر قضا نہیں ہونی چاہیے جب گھیر لے، اسْتَوْعَبَ يَسْتَوْعِبُ کا معنی گھیر لینا، احاطہ کر لینا، جب احاطہ کر لے الْإِغْمَاءُ بے ہوشی وَقْتَ صَلَاةٍ كَامِلٍ پورے نماز کے وقت کا۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب بے ہوشی پورے نماز کے وقت کا احاطہ کر لے تو اس پر قضا نہیں ہونی چاہیے لِتَحَقُّقِ الْعَجْزِ عجز کے پائے جانے کی وجہ سے کیونکہ یہ شخص کیا ہے نماز کی ادائیگی سے عاجز ہے، نیز اس کی طرف خطاب بھی متوجہ نہیں، خطاب کو یہ سننے کی اس میں اہلیت نہیں ہے بھئی، جو خطاب اللہ کی طرف سے ہوا أَقِيمُوا الصَّلَاةَ کیا کرو تم لوگ؟ نماز قائم کرو، تو اللہ کا یہ حکم اس کی طرف متوجہ نہیں کیونکہ وہ بے ہوش ہے بھئی، بے ہوش ہے تو عاجز ہے۔ فَأَشْبَهَ الْجُنُونَ، یہ فشَبِهَ، بھئی یاد رکھیے یہ فَأَشْبَهَ ہے، أَشْبَهَ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ أَشْبَهَ۔ ہدایہ کے دیگر نسخوں میں أَشْبَهَ کا لفظ موجود ہے اور شَبِهَ اس لیے نہیں کیونکہ یہ جو شَبِهَ یہ باب مجرد سے استعمال ہی نہیں، مزید فیہ وغیرہ سے استعمال ہوتا ہے، مجرد سے یہ باب استعمال نہیں ہوتا، آپ لغت اٹھا کر دیکھیں گے اس میں آپ کو یہ مجرد کا باب نہیں ملے گا ہاں مزید فیہ وغیرہ کے ملیں گے، أَشْبَهَ یا شَبَّهَ یا شَابَهَ وغیرہ یہ صیغے ملیں گے۔ فَأَشْبَهَ الْجُنُونَ تو یہ جنون کے مشابہ ہوا، تو یہ کس کے مشابہ ہوا؟ جنون کے مشابہ ہوا اور جنون جب پورے وقت کا احاطہ کر لے تو نماز واجب نہیں ہوتی۔ جنون کیا کر لے؟ ایک شخص پر جنون آیا، پاگل پن کا دورہ آیا اب وہ تو بیچارہ معذور ہو گیا اور پورے وقت رہا یعنی ظہر سے پہلے شروع ہوا اور عصر تک رہا تو پورے ظہر کے وقت کا اس جنون نے احاطہ کر لیا تو اس پر اس ظہر کی نماز کی قضا نہیں۔ اور تو یہ جو بے ہوشی بھی ہے یہ کس کے مشابہ ہوئی؟ جنون کے، اور جنون کے اندر تو قضا نہیں آتی لہٰذا یہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس بے ہوشی کے اندر بھی قضا نہیں آنی چاہیے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو استحساناً لیکن یہ استحساناً یہ حکم دیا گیا کہ پانچ یا اس سے کم نمازیں بے ہوش رہا تو قضا کرنا پڑے گی بھئی ورنہ قیاس تو یہ تقاضا کر رہا تھا اس پر قضا نہیں ہونی چاہیے۔ آگے استحسان کی وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں۔ وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ: استحسان کی وجہ یہ ہے: أَنَّ الْمُدَّةَ إِذَا طَالَتْ كَثُرَتِ الْفَوَائِتُ کہ مدت جب لمبی ہو جائے تو كَثُرَتِ الْفَوَائِتُ تو فوت شدہ نمازیں کثیر ہو جاتی ہیں۔ جب مدت کیا ہو؟ طویل ہو جائے، لمبی ہو جائے یعنی زیادہ دیر تک بے ہوشی رہی یعنی ایک دن رات سے زیادہ تو كَثُرَتِ الْفَوَائِتُ تو فوت شدہ نمازیں کثیر ہو جائیں گی فَيَحْرُجُ فِي الْأَدَاءِ تو حرج ہوگا ادا کے اندر، اب دشواری ہوگی، تنگی ہوگی ادا کے اندر اور آپ پڑھ چکے کہ شریعت کے اندر تنگی نہیں، تنگی کو اور حرج کو دور کیا گیا ہے لوگوں سے۔ جب نمازیں کثیر ہو، مدت لمبی ہو جائے گی تو كَثُرَتِ الْفَوَائِتُ تو فوت شدہ نمازیں کثیر ہو جائیں گی فَيَحْرُجُ فِي الْأَدَاءِ تو حرج ہوگا ادا کے اندر، تنگی ہوگی ادا میں، وَإِذَا قَصُرَتْ اور جب مدت تھوڑی ہوگی قَلَّتْ تو فوت شدہ نمازیں تھوڑی ہوں گی فَلَا حَرَجَ پھر ادائیگی میں کوئی حرج نہیں۔ بھئی اگر مدت لمبی ہو، ایک دن رات سے زیادہ بے ہوش رہا تو فوت شدہ نمازیں زیادہ ہو جائیں گی اور ان کی ادائیگی دشوار ہوگی، حرج ہوگا اس میں، تو اور حرج کو شریعت میں دور کیا گیا ہے لہٰذا اس پر ان کی قضا نہیں، لیکن اگر ایک دن رات سے کم بے ہوش رہا تو پھر تو تھوڑی سی نمازیں ہیں، پھر ان کی ادائیگی میں کوئی دشواری نہیں تو بے شک یہ بے ہوش ہے لیکن ان کی ادائیگی میں کوئی دشواری نہیں، تین ہوں گی یا چار ہوں گی یا زیادہ سے زیادہ پانچ نمازیں ہوں گی تو ان کی قضا کرنا کوئی مشکل کام نہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے تو ان کی قضا اس کے ذمے ہوگی۔ یہ معنی ہے وَإِذَا قَصُرَتْ قَلَّتْ اور جب وہ مدت چھوٹی ہو تو قَلَّتْ فوت شدہ نمازیں تھوڑی ہوں گی فَلَا حَرَجَ تو پھر کوئی حرج نہیں۔ اور کثیر، کثیر کب ہوں گی؟ کہتے ہیں: وَالْكَثِيرُ أَنْ تَزِيدَ عَلَى يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ اور کثیر وہ ہیں کہ وہ بڑھ جائیں نمازیں کس پر؟ ایک دن اور ایک رات۔ یا وہ یوں کہیں وہ بے ہوشی بڑھ جائے ایک دن اور ایک رات پر لِأَنَّهُ يَدْخُلُ فِي حَدِّ التَّكْرَارِ اس لیے کیونکہ وہ نمازیں کس میں داخل ہو جائیں گی؟ حدِ تکرار میں داخل ہو جائیں گی کیونکہ پھر تو نمازیں چھ ہو جائیں گی اور چھ، نمازیں تو کل کتنی ہیں ایک دن رات میں؟ پانچ، تو جب چھ ہوئیں تو کسی ایک نماز میں تکرار آ جائے گا، وہ دو دفعہ ہو جائے گی تو نمازیں کیا ہو گئیں؟ کثیر ہو جائیں گی۔ تو کثیر یہ ہے کہ وہ بڑھ جائیں بھئی ایک دن اور ایک رات پر اس لیے کیونکہ وہ حدِ تکرار میں داخل ہو جائیں گی۔ وَالْجُنُونُ كَالْإِغْمَاءِ اور جنون بے ہوشی کی طرح ہے۔ یہ جواب ہے وہ جو اوپر قیاس کیا گیا تھا اغماء کو جنون پر۔ اوپر قیاس کیا ذکر ہوا تھا؟ کہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کوئی ایک نماز، پوری نماز کا وقت بے ہوش رہے تو اس پر اس نماز کی قضا نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ شخص عاجز ہے، یہ کیا ہے؟ یہ جو بے ہوش تھا یہ عاجز تھا اس دوران نماز کے ادا کرنے پر قادر ہی نہیں تھا۔ تو بے ہوشی کس کے مشابہ ہوئی؟ جنون کے مشابہ ہو گئی اور جنون جو ہے وہ ایک پورے وقت کا احاطہ کر لے تو اس میں قضا نہیں آتی۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ نہیں بھئی، یہ جو قیاس تھا نا یہ دوسری روایت پر مبنی ہے وہ جو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ جنون ایک وقت کے پورا احاطہ کر لے تو اس نماز کی اس شخص پر قضا نہیں، یہ ایک روایت تھی۔ اس کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں نہیں بھئی، اغماء کو جنون پر قیاس نہیں کریں گے بلکہ جنون کو کس پر قیاس کریں گے؟ اغماء پر۔ جنون کو قیاس کریں گے اغماء پر اور اغماء کے اندر جیسے پانچ نمازیں یا اس سے کم ہوں تو اس میں کیا کرنا پڑتی ہے؟ قضا کرنا پڑتی ہے تو جنون کا بھی یہی حکم ہے کہ پانچ نمازیں یا اس سے کم جنون کے اندر گزری ہیں پھر افاقہ ہو گیا آدمی ٹھیک ہو گیا تو کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی اور اگر اس سے زیادہ جنون رہا تو پھر ان کی قضا نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو انہوں نے کیا کیا تھا؟ وہاں پر قیاس میں اغماء کو قیاس کیا تھا جنون پر اس روایت پر کہ جنون جب ایک وقت کی نماز کا احاطہ کر لے تو اس میں قضا نہیں۔ تو انہوں نے صحیح قول آپ کو آگے صاحبِ ہدایہ نے بتلایا نہیں، صحیح قول یہ ہے کہ اغماء کو جنون پر قیاس نہیں کریں گے بلکہ جنون کو کس پر قیاس کریں گے؟ اغماء پر قیاس کریں گے اور جنون کے اندر بھی یہی حکم ہوگا کہ پانچ نمازوں سے کم میں ہے تو یا پانچ کے برابر ہے تو پھر قضا کرنا پڑے گی، یہ نہیں کہ ایک وقت کا پورا کا احاطہ کر لے تو پھر اس کی قضا ہی نہ ہو، ایسا نہیں ہے۔ یہ معنی ہے وَالْجُنُونُ كَالْإِغْمَاءِ اور جنون جو ہے بے ہوشی کی طرح ہے كَذَا ذَكَرَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى صاحبِ ہدایہ حوالہ بھی دے رہے ہیں کہ اسی طرح ذکر کیا ہے ابو سلیمان جوزجانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے، یہ شاگرد ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے بھئی، تو انہوں نے اسی طرح ذکر کیا ہے کہ جنون کس کی طرح ہے؟ بے ہوشی کی طرح ہے، اس پر قیاس کیا جائے گا۔ بِخِلَافِ النَّوْمِ بخلاف کس کے؟ نیند کے کہ نیند کو بھئی کس کے ساتھ ملحق کریں گے؟ اگر ایک آدمی بھئی چوبیس گھنٹے سے زیادہ سویا ہی رہا تو یہ شخص بھی عاجز ہے، یہ شخص بھی کیا ہے؟ سویا رہا بھئی، پتہ ہی نہیں چلا، غفلت میں تھا تو اس پر بھی کیا نمازوں کی قضا آئے گی یا قضا نہیں آئے گی؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ نہیں بھئی، نیند کو اس اغماء پر قیاس نہیں کریں گے، اس لیے کیونکہ اتنی طویل نیند نہایت نادر ہے، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی اتنی دیر تک چوبیس گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ سویا رہے اور تو یہ نادر چیز ہے اور نادر چیز پر شرعی حکم مرتب نہیں ہوتا بھئی، لہٰذا اگر کبھی ایسا ہوتا بھی ہے تو بھی اس کو کیا کرنا پڑیں گی نمازیں؟ قضا کرنا پڑیں گی چاہے اس سے زیادہ ہی کیوں نہ سویا رہے بھئی، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ کہتے ہیں بِخِلَافِ النَّوْمِ بخلاف نیند کے لِأَنَّ امْتِدَادَهُ نَادِرٌ اس لیے کیونکہ نیند کا لمبا ہونا نادر ہے فَيُلْحَقُ بِالْقَاصِرِ تو اس کو قاصر کے ساتھ ملایا جائے گا۔ بھئی اغماء دو قسم کا تھا نا، ایک اغماء ہے ممتد لمبا یعنی چوبیس گھنٹے سے بھی زیادہ بے ہوش رہا اور ایک اغماء ہے قاصر، چھوٹ اس سے کم بے ہوش رہا یعنی پانچ نمازیں یا اس سے کم بے ہوش رہا، چوبیس گھنٹے یا اس سے زیادہ بے ہوش نہ رہا۔ چوبیس گھنٹے یا اس سے زیادہ بے ہوش رہے وہ کیا ہے؟ اغماءِ ممتد، اور اس میں کیا ہوتی ہے؟ قضا ساقط، قضا نہیں ہوتی، نماز واجب ہی نہیں ہوتی اس پر، قضا اس میں نہیں آتی۔ اور دوسری قسم ہے کہ پانچ نمازیں یا اس سے کم بے ہوش رہا یہ ہے اغماءِ قاصر، تو لہٰذا نیند کو اغماءِ قاصر کے ساتھ ملایا جائے گا کیونکہ لمبی نیند کا ہونا نہایت نادر ہے۔ اور جب اغماءِ قاصر کے ساتھ اس کو ملایا جائے گا تو اغماءِ قاصر کا کیا حکم تھا؟ اس میں قضا آتی تھی یا نہیں؟ اس میں قضا آتی تھی، تو اس میں بھی قضا آئے گی چاہے یہ لمبی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ معنی ہے لِأَنَّ امْتِدَادَهُ نَادِرٌ اس لیے کیونکہ نیند کا لمبا ہونا نادر ہے فَيُلْحَقُ بِالْقَاصِرِ تو اس کو قاصر یعنی اغماءِ قاصر کے ساتھ ملایا جائے گا۔ ثُمَّ الزِّيَادَةُ تُعْتَبَرُ مِنْ حَيْثُ الْأَوْقَاتِ، اچھا بھئی! یہاں سے اب آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ کس چیز کا اعتبار کیا جائے گا؟ آپ نے ہمیں کہا ایک دن رات کا ذکر کیا تو کیا گھنٹوں کا حساب رکھا جائے گا بے ہوشی کے اندر؟ کوئی شخص چوبیس گھنٹے پورے یا اس سے زیادہ بے ہوش رہا تو پھر اس سے قضا ساقط ہوگی یا چھ نمازیں جب اس پر آ جائیں گی تو تب اس پر قضا ساقط ہوگی؟ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نمازوں کے اوقات کے اعتبار سے دیکھا جائے گا۔ جب اس پر چھ نمازیں اس کے ذمے قضا ہو جائیں یعنی چھٹی نماز کا وقت بے ہوشی کی حالت میں گزرے گا تو اب اس پر چھ نمازیں آئیں گی، اب نمازیں کثیر ہو گئیں، حدِ تکرار میں داخل ہو گئیں، اب اس سے قضا ساقط ہو جائے گی۔ معلوم ہوا، آج ظہر سے پہلے کوئی بے ہوش ہوا تو امام محمد رحمہ اللہ کے قول کے مطابق اگلے دن ظہر سے پہلے تک یہ ابھی کتنی نمازیں ہوئی ہیں اس کے ذمے؟ پانچ ہی ہوئی ہیں، تو پھر پورا ظہر کا وقت بھی اسی حالت میں گزر گیا اور عصر کے وقت جا کر اس کو ہوش آتا ہے تو اب چھ، چھٹی نماز کا وقت بھی نکلا، اب اس کے ذمے سے قضا ساقط ہو گئی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، گھنٹوں کا اعتبار کیا جائے گا۔ آج مثلاً اگر کوئی دوپہر کے وقت بے ہوش ہوا اور اگلے دن دوپہر تک وہ بے ہوش رہا تو اس سے نمازیں ساقط ہو جائیں گی، چھٹی نماز کا یعنی یوں کہیں نمازوں کے اوقات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ جبکہ ایک دن رات سے بس زیادہ ہو جائے چاہے چھٹی نماز کا ابھی وقت پورا نہ گزرا ہو۔ تو کہتے ہیں ثُمَّ الزِّيَادَةُ تُعْتَبَرُ مِنْ حَيْثُ الْأَوْقَاتِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ پھر زیادتی جو ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا نمازوں کے اوقات کے حیثیت سے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک لِأَنَّ التَّكْرَارَ يَتَحَقَّقُ بِهِ کیونکہ تکرار اسی سے پایا جائے گا۔ کس اعتبار سے آئے گا تکرار؟ نمازوں کے اوقات کے اعتبار سے جب چھٹی نماز کا وقت گزرے گا۔ وَعِنْدَهُمَا اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک مِنْ حَيْثُ السَّاعَاتِ، زیادتی کا اعتبار کس حیثیت سے کیا جائے گا؟ گھنٹوں کی حیثیت سے یعنی چوبیس گھنٹے دیکھے جائیں گے۔ وَهُوَ الْمَأْثُورُ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ اور یہی منقول ہے حضرت علی اور حضرت عبد اللہ ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں درست بات کو۔ بَابٌ فِي سَجْدَةِ التِّلَاوَةِ یہ باب ہے سجدۂ تلاوت کے بیان میں۔ جی، آپ جانتے ہیں بھئی قرآن میں، قرآن میں کئی جگہوں پر سجدۂ تلاوت ہے اور ان آیتوں کو اگر کوئی پڑھ لے، ان کی تلاوت کر لے تو اس پر کیا واجب ہو جاتا ہے؟ سجدۂ تلاوت، اسے سجدہ کرنا پڑتا ہے بھئی۔ تو اس باب میں اس کی تفصیل بیان ہوگی۔ بَابٌ فِي سَجْدَةِ التِّلَاوَةِ یہ باب ہے سجدۂ تلاوت کے بیان میں۔ قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: سُجُودُ التِّلَاوَةِ فِي الْقُرْآنِ أَرْبَعَةَ عَشَرَ کہ سجدۂ تلاوت جو ہیں قرآن میں چودہ ہیں۔ اب وہ جگہیں بیان کر رہے ہیں کہاں کہاں پر ہیں، کہتے ہیں: فِي آخِرِ الْأَعْرَافِ سورۂ اعراف کے آخر میں، وَفِي الرَّعْدِ اور سورۂ رعد میں، وَالنَّحْلِ اور سورۂ نحل میں، وَبَنِي إِسْرَائِيلَ اور سورۂ بنی اسرائیل میں، وَمَرْيَمَ اور سورۂ مریم میں، وَالْأُولَى مِنَ الْحَجِّ اور جو پہلا ہے کس میں؟ سورۂ حج میں۔ یاد رکھیے سورۂ حج کے اندر، سورۂ حج کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کے نزدیک دو سجدے ہیں، دو سجدے ہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک، عِنْدَ الْأَحْنَاف جو ہے اس میں ایک سجدہ ہے وہ جو پہلے مقام پر آیا اور جو دوسرا سجدہ ہے ہم کہتے ہیں کہ اس سے نماز مراد ہے، کیا مراد ہے؟ نماز مراد ہے کیونکہ وہاں سجدے کے ساتھ ساتھ رکوع کا بھی ذکر ہے اور سجدے کے ساتھ رکوع کا ذکر ہو تو اس سے کیا مراد ہوتی ہے؟ نماز مراد ہوتی ہے تو وہ وہاں سجدہ نہیں ہے بلکہ وہ نماز کا ذکر ہو رہا ہے وہاں پر۔ تو اسی لیے کہا وَالْأُولَى مِنَ الْحَجِّ اور جو پہلا سجدہ ہے سورۂ حج میں سے، وَالْفُرْقَانِ اور ایک سجدہ کس میں ہے؟ سورۂ فرقان میں ہے، وَالنَّمْلِ اور سورۂ نمل میں، وَالم تَنْزِيلَ اور سورۂ الم تنزیل میں، وَص اور سورۂ ص میں، وَحم السَّجْدَةِ اور حم سجدہ کے اندر، وَالنَّجْمِ اور سورۂ النجم میں، وَإِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ اور سورۂ اذا السماء انشقت میں، وَاقْرَأْ اور سورۂ اقرأ میں بھئی۔ تو یہ چودہ مقامات پر سجدے ہیں بھئی عِنْدَ الْأَحْنَاف بھئی۔ كَذَا كُتِبَ فِي مُصْحَفِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اسی طرح مکتوب ہے مصحفِ عثمان میں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآنِ مجید کا جو نسخہ تیار کروا کر تمام مملکت میں اس کو اس کے نقلوں کو بھیجا گیا تو اس میں اسی طرح درج ہے بھئی۔ وَهُوَ الْمُعْتَمَدُ اور اسی پر اعتماد ہے، وہی معتمد ہے۔ وَالسَّجْدَةُ الثَّانِيَةُ فِي الْحَجِّ لِلصَّلَاةِ عِنْدَنَا اور دوسرا سجدہ جو ہے سورۂ حج میں وہ کس کے لیے ہے؟ نماز کے لیے ہے یعنی اس سے نماز مراد ہے وہاں سجدہ نہیں ہے۔ وَمَوْضِعُ السَّجْدَةِ فِي حم السَّجْدَةِ عِنْدَ قَوْلِهِ لَا يَسْأَمُونَ فِي قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَهُوَ الْمَأْخُوذُ لِلِاحْتِيَاطِ اور سجدے کا مقام حم السجدہ کے اندر وہ اللہ تعالیٰ کے قول لَا يَسْأَمُونَ پر کے پر ہے بھئی۔ اس وقت، اس پر کیا کیا جائے گا؟ سجدہ کیا جائے گا۔ فِي قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق، وَهُوَ الْمَأْخُوذُ لِلِاحْتِيَاطِ اور اسی کو لیا گیا بطورِ احتیاط کے، اسی کو لیا گیا اسی قول کو لیا گیا بطورِ احتیاط کے۔ بھئی یاد رکھیے یہ حم السجدہ کے اندر دو روایتیں ہیں، دو روایتیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ یہ لَا يَسْأَمُونَ پر سجدہ ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے ماقبل کی جو آیت ہے اس کے آخر میں ہے وَإِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ یہاں پر سجدہ ہے بھئی، یہاں پر سجدہ۔ تو ہم نے احناف نے، احناف ہمیشہ احتیاط والی صورت ہی اختیار کرتے ہیں تو ہم نے اس قول کو اختیار کیا جو کہ یہ جو بعد والی آیت میں ہے اس سے سجدہ واجب ہو اور اس قول میں احتیاط زیادہ ہے، اس میں کیا ہے؟ احتیاط۔ آپ کہیں گے اس میں احتیاط کس طرح زیادہ؟ بھئی دیکھیے! اگر یہ کہا جائے، یہ کہا جائے کہ ماقبل کی جو آیت ہے، ماقبل کی جو آیت ہے اس وہ آیتِ سجدہ ہے اور اس سے کیا واجب ہوگا؟ سجدہ۔ یہ اگر کہا جائے اس قول کو اختیار کر لیا جائے اور حقیقت ایسی ہو کہ سجدہ کس سے آ رہا ہو؟ بعد والی آیت سے، تو پہلے والی آیت پڑھ کر ہی کوئی سجدہ کر لیتا ہے اور حقیقت میں تو سجدہ کہاں تھا؟ بعد میں تھا، تو یہ سجدہ ادا ہو جائے گا؟ نہیں، کیونکہ سجدہ تو واجب ہوتا ہے آیتِ سجدہ پڑھنے سے اور آیتِ سجدہ تو ابھی آگے آ رہی تھی، وہ تو ابھی پڑھی ہی نہیں ہے، اس سے پہلے ہی سجدہ کر لیا اور اس سے پہلے تو سجدہ نہیں کیونکہ آیتِ سجدہ اس کا پڑھنا یہ ہے سبب اور سجدہ کیا ہے؟ اس کا حکم ہے، سجدہ اس کا حکم۔ اور سبب پایا جائے تو پھر حکم پایا جاتا ہے، سبب سے پہلے حکم نہیں۔ ظہر کی نماز آپ ابھی پڑھنا چاہیں ظہر سے پہلے ہی، پڑھ سکتے ہیں؟ نہیں، کیونکہ ظہر کی نماز کا سبب کیا ہے؟ ظہر کا وقت۔ وقت آئے گا تو حکم بھی آ جائے گا، نماز واجب ہو جائے گی، پھر پڑھیں گے تو ہوگی، اس سے پہلے نہیں۔ تو یہاں پر بھی اگر اس قول کو اختیار کر لیا جائے کہ پہلے والی جو آیت ہے اس سے کیا واجب ہوتا ہے؟ سجدہ، اور اس پر پھر کوئی سجدہ کر لیتا ہے اور حقیقت میں ایسا ہو کہ سجدہ کس سے ہو؟ بعد والی آیت سے، تو پھر وہ سجدہ ادا نہیں ہوا، وہ سجدہ رہ گیا اس کے ذمے۔ اور اگر دوسرے قول کو اختیار کیا جائے کہ کس سے سجدہ کس سے واجب ہو رہا ہے؟ بعد والی آیت سے، اور حقیقت میں ایسا ہو کہ سجدہ کس سے واجب ہو رہا ہے؟ پہلی آیت سے، تو پہلی آیت سے سجدہ واجب ہو چکا، اب اگر ایک آیت کے بعد بھی کر لے گا تو ہو جائے گا یا نہیں ہوگا؟ وہ تو ہو جائے گا۔ تو احتیاط کس صورت میں ہے؟ بعد والے آیت پر کہ اس کو آیتِ سجدہ قرار دیا جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ سجدے کا مقام حم السجدہ میں اللہ تعالیٰ کے قول لَا يَسْأَمُونَ پر ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق وَهُوَ الْمَأْخُوذُ لِلِاحْتِيَاطِ اور اسی کو لیا گیا بطورِ احتیاط کے۔ وَالسَّجْدَةُ وَاجِبَةٌ فِي هَذِهِ الْمَوَاضِعِ عَلَى التَّالِي وَالسَّامِعِ سَوَاءٌ قَصَدَ سَمَاعَ الْقُرْآنِ أَوْ لَمْ يَقْصِدْ، اور سجدہ واجب ہوگا ان جگہوں میں عَلَى التَّالِي تلاوت کرنے والے پر وَالسَّامِعِ اور سننے والے پر۔ سجدہ صرف تلاوت کرنے والے پر نہیں واجب بلکہ سننے والے پر بھی واجب ہے جو آیتِ سجدہ کو سن لیتا ہے۔ سَوَاءٌ قَصَدَ سَمَاعَ الْقُرْآنِ أَوْ لَمْ يَقْصِدْ برابر ہے کہ اس نے چاہے قرآن سننے کا ارادہ کیا ہو یا ارادہ نہ کیا ہو، جیسے بھی ہو لیکن جب سن لے گا تو اس پر آیتِ سجدہ کو سن لے گا تو سجدہ واجب ہو جائے گا۔ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: ”السَّجْدَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَهَا وَعَلَى مَنْ تَلَاهَا“ بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے: ”السَّجْدَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَهَا وَعَلَى مَنْ تَلَاهَا“ سجدہ واجب ہے اس شخص پر جس نے آیتِ سجدہ کو سنا اور اس شخص پر جس نے اس کی تلاوت کی، سجدہ لازم ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ یہاں کیا آیا؟ عَلَى، عَلَى۔ اور عَلَى کس لیے آتا ہے؟ لزوم کے لیے آتا ہے، ایک شخص پر دوسری چیز کو لازم کرنے کے لیے آتا ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: الْمَالُ عَلَى زَيْدٍ یہ مال کس پر لازم ہے؟ زید پر، تو عَلَى استعمال کرتے ہیں اس موقع پر۔ تو وَهِيَ كَلِمَةُ إِيجَابٍ اور یہ عَلَى جو ہے یہ کلمۂ ایجاب ہے یعنی واجب کرنے والا کرنے کا کلمہ ہے وَهُوَ غَيْرُ مُقَيَّدٍ بِالْقَصْدِ اور یہ ارادے کے ساتھ مقید نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے! حدیث میں کیا آیا: ”السَّجْدَةُ عَلَى مَنْ سَمِعَهَا“ یہاں کوئی ارادہ، ارادے یا غیر ارادے کی بات ذکر ہے؟ یہاں ارادے کی کوئی قید ذکر نہیں کی گئی، معلوم ہوا سن لے گا تو سجدہ واجب ہو جائے گا چاہے اس کے سننے کا ارادہ ہو یا ارادہ نہ ہو بھئی۔ وَإِذَا تَلَا الْإِمَامُ آيَةَ السَّجْدَةِ سَجَدَهَا وَسَجَدَهَا الْمَأْمُومُ مَعَهُ، اور جب تلاوت کر لے امام آیتِ سجدہ کو تو سجدہ کرے وَسَجَدَهَا الْمَأْمُومُ مَعَهُ اور سجدہ کرے مقتدی بھی اس کے ساتھ، مقتدی بھی سجدہ اس کے ساتھ کرے لِالْتِزَامِهِ مُتَابَعَتَهُ، اس لیے کیونکہ اس مقتدی نے التزام کیا ہے اس امام کی متابعت کا، اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے اس کی متابعت کو کہ وہ کیا کرے گا؟ اس کی پیروی کرے گا بھئی۔ وَإِذَا تَلَا الْمَأْمُومُ لَمْ يَسْجُدِ الْإِمَامُ وَلَا الْمَأْمُومُ فِي الصَّلَاةِ، اچھا بھئی! یہ مسئلہ تو بتلا دیا آپ کو: امام آیتِ سجدہ تلاوت کرے تو جب امام سجدہ کرے گا تو مقتدی کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ سجدہ کرنا پڑے گا۔ اگر اس کا عکس ہو، مقتدی نے آیتِ سجدہ تلاوت کر لی نماز میں تو یاد رکھیے کہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں سجدہ نہیں کریں گے اور نماز کے بعد بھی ان کے ذمے سجدہ نہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں تو سجدہ نہیں کریں گے لیکن نماز کے بعد کیا کرنا پڑے گا؟ سجدہ کرنا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دلائل آگے آ رہے ہیں بھئی۔ وَإِذَا تَلَا الْمَأْمُومُ اور جب مقتدی تلاوت کر لے لَمْ يَسْجُدِ الْإِمَامُ وَلَا الْمَأْمُومُ فِي الصَّلَاةِ تو سجدہ نہیں کرے گا امام اور نہ مقتدی نماز میں وَلَا بَعْدَ الْفَرَاغِ اور نہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يَسْجُدُونَهَا إِذَا فَرَغُوا کہ وہ سجدہ کریں گے جب نماز سے فارغ ہو جائیں لِأَنَّ السَّبَبَ قَدْ تَقَرَّرَ اس لیے کیونکہ سبب جو ہے وہ وہ ثابت ہو چکا ہے، وہ پایا گیا ہے۔ سبب پایا گیا ہے آیتِ سجدہ کے وجوب کا۔ کس چیز کا؟ کیا سبب پایا گیا؟ تلاوت، تلاوت اور تلاوت کس نے کی ہے؟ تلاوت تو ایک نے کی ہے اور باقیوں کے حق میں کیا پایا گیا؟ سماع، سننا پایا گیا تو سبب پایا گیا ہے لہٰذا ان پر سجدہ واجب ہے اور نماز کے بعد کریں گے۔ تو وہ فارغ ہو جائیں تو وہ سب سجدہ کریں گے لِأَنَّ السَّبَبَ قَدْ تَقَرَّرَ اس لیے کیونکہ سبب تحقیق پایا گیا ہے وَلَا مَانِعَ بِخِلَافِ حَالَةِ الصَّلَاةِ اور کوئی مانع بھی نہیں ہے یعنی جب نماز سے فارغ ہو چکے ہیں اب سجدہ کرنے میں کوئی مانع بھی نہیں ہے۔ بِخِلَافِ حَالَةِ الصَّلَاةِ بخلاف نماز کی حالت کے لِأَنَّهُ يُؤَدِّي إِلَى خِلَافِ وَضْعِ الْإِمَامَةِ أَوِ التِّلَاوَةِ بخلاف نماز کی حالت کے کیونکہ وہ پہنچانے والا ہے وضعِ امامت کے خلاف یا وضعِ تلاوت کے خلاف کو۔ اگر نماز میں سجدہ کیا جائے نماز میں مانع موجود ہے، نماز میں کیا موجود ہے؟ مانع موجود ہے، اس لیے کیونکہ اگر وہاں پر سجدہ کیا جائے گا تو پھر اس صورت میں یا تو یہ وضعِ امامت کے خلاف لے جائے گا اس تک پہنچا دے گا یا کس کے خلاف ہو جائے گا؟ وضعِ تلاوت کے خلاف ہو جائے گا۔ بھئی وضعِ امامت، بھئی دیکھیے! مقتدی نے آیتِ سجدہ تلاوت کی ہے اور نماز میں اب اگر سجدہ کرتے ہیں تو دو ہی صورتیں ہیں: یا تو مقتدی پہلے سجدہ کرے گا اور امام اس کی پیروی کرتے ہوئے وہ بھی کیا کرے گا؟ سجدہ کرے گا، یا امام پہلے سجدہ کرے گا اور مقتدی کیا کرے گا؟ اس کے بعد سجدہ کرے گا۔ اگر مقتدی پہلے سجدہ کرتا ہے اور امام بعد میں سجدہ کرتا ہے یہ تو وضعِ امامت کے خلاف ہوا، امام اس کی پیروی، امام کو کرنی چاہیے یا مقتدی کو امام کی پیروی کرنی چاہیے؟ مقتدی کو امام کی پیروی کرنی چاہیے تو یہ کس کے خلاف ہو جائے گا اگر اگر کون پہلے سجدہ کر لے؟ مقتدی اگر پہلے کرے اور امام بعد میں کرے تو یہ وضعِ امامت کے خلاف۔ اور اگر امام پہلے کرتا ہے اور مقتدی بعد میں کرتا ہے تو یہ وضعِ تلاوت کے خلاف ہو جائے گا اس لیے کیونکہ آیتِ سجدہ جو تلاوت کرتا ہے وہ پہلے سجدہ کرتا ہے اور سننے والا اس کا اس کے بعد اس کی پیروی کرتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اگر امام پہلے کرتا ہے پھر تو وضعِ تلاوت کے خلاف ہو جائے گا، پہلے تو کس کو کرنا چاہیے تلاوت، وضعِ تلاوت کے مطابق؟ مقتدی کو کرنا چاہیے۔ تو چونکہ نماز کے اندر ان دو خرابیوں میں سے ایک ضرور لازم آتی ہے لہٰذا اس وجہ سے نماز میں نہیں کریں گے، ہاں نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ کریں گے، یہ کس کا قول چل رہا ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کا اور ان کی دلیل ذکر ہو رہی ہے۔ یہ معنی ہے لِأَنَّهُ يُؤَدِّي إِلَى خِلَافِ وَضْعِ الْإِمَامَةِ أَوِ التِّلَاوَةِ اس لیے کیونکہ یہ پہنچانے والا ہے یعنی اگر نماز میں سجدہ کر لیں تو یہ پہنچائے گا إِلَى خِلَافِ وَضْعِ الْإِمَامَةِ أَوِ التِّلَاوَةِ وضعِ امامت یا وضعِ تلاوت کے خلاف تک۔ وَلَهُمَا شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْمُقْتَدِيَ مَحْجُورٌ عَنِ الْقِرَاءَةِ لِنَفَاذِ تَصَرُّفِ الْإِمَامِ عَلَيْهِ، وَتَصَرُّفُ الْمَحْجُورِ لَا حُكْمَ لَهُ، شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ کہ مقتدی محجور عن القراءۃ ہے۔ مقتدی کیا ہے؟ محجور، جس پر پابندی ہو، شریعت کی طرف سے پابندی ہو۔ تو مقتدی محجور عن القراءۃ ہے، شریعت کی طرف سے اس کی اس پر نماز کے اندر قرات پر پابندی لگائی گئی ہے۔ بھئی کیوں پابندی لگائی گئی ہے؟ لِنَفَاذِ تَصَرُّفِ الْإِمَامِ عَلَيْهِ اس وجہ سے کہ امام کا تصرف اس پر جاری ہوتا ہے، اس پر نافذ ہوتا ہے۔ امام کا اختیار کیا ہے اس پر جاری ہوتا ہے یعنی امام تلاوت کرتا ہے تو وہ اس مقتدی کی بھی تلاوت شمار ہوتی ہے بھئی، شمار ہوتی ہے۔ تو لہٰذا مقتدی کیا ہوا؟ محجور عن القراءۃ یعنی قرات سے اس پر پابندی ہے، پابندی ہے۔ وَتَصَرُّفُ الْمَحْجُورِ لَا حُكْمَ لَهُ اور محجور جو تصرف کرے اس کا کوئی حکم نہیں، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ اب مقتدی نے قرات تو کر لی لیکن یہ تو کیا تھا؟ محجور عن القراءۃ تھا، اس پر تو پابندی تھی، یہ قرات نہیں کر سکتا بلکہ قرات کون کرتا ہے نماز میں، جماعت میں؟ امام کرتا ہے تو اس پر پابندی ہے لہٰذا اگر یہ قرات کر بھی لے اس کا کوئی اعتبار نہیں یعنی اس کی قرات بھی اس وقت لا قرات کی طرح ہوگی بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جس پر پابندی ہو اس کو محجور کہتے ہیں، جیسے آپ جانتے ہیں آپ نے مسائل پڑھے ہوں گے کہ غلام کیا ہے؟ محجور ہے، اس کے تصرفات نافذ ہوتے ہیں یا نافذ نہیں ہوتے؟ اس کے تصرفات نافذ، بہت سے امور کے اندر اس پر پابندی ہے شرعاً بھئی، اسی طرح نابالغ پر بھی بعض امور میں کیا ہے؟ اس پر پابندی ہے، وہ محجور ہے، ان کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں وَتَصَرُّفُ الْمَحْجُورِ لَا حُكْمَ لَهُ اور محجور جو تصرف کرے، جو اختیار استعمال کرے لَا حُكْمَ لَهُ اس کا کوئی حکم نہیں۔ بِخِلَافِ الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، اعتراض یہ کہ جنب اور حائض بھئی، جنب اور حائض، جو شخص جنابت کی حالت میں ہے یا اسی طرح جو عورت حیض کی حالت میں ہے وہ بھی تو محجور ہیں، ان پر بھی تو پابندی ہے شرعاً وہ قرآن کی تلاوت نہیں کر سکتے، لیکن اس کے باوجود اگر وہ تلاوت کرتے ہیں تو سننے والوں پر کیا واجب ہو جاتا ہے؟ سجدۂ تلاوت واجب ہو جاتا ہے، اور جو جنب مرد ہے اس پر بھی سجدۂ تلاوت واجب ہوگا لیکن وہ پاک ہونے کے بعد پھر کیا کرے گا؟ وہ سجدہ کرے گا۔ جبکہ عورت جو ہے حائض اس پر واجب ہی نہیں کیونکہ اس میں نماز کی صلاحیت ہی نہیں کیونکہ آپ پڑھ چکے کہ حالتِ حیض کی جو نمازیں ہیں یعنی اس کی عورت پر وہ نمازیں واجب نہیں، ان کی قضا بھی اس کے ذمے نہیں ہے بھئی، مسئلہ پڑھ چکے ہیں یا نہیں بھئی؟ جی، تو اس پر قضا، تو اس میں اس میں نماز کی چونکہ صلاحیت ہی نہیں ہے لہٰذا اس پر پاک ہونے کے بعد بھی یہ سجدہ واجب نہیں، اس کی قضا نہیں اس کے ذمے۔ تو اشکال کیا تھا کہ یہ جیسے یہ محجور ہے اسی طرح وہ بھی کیا ہیں دونوں؟ محجور ہیں، اور وہاں آپ نے کیا حکم بتلایا ہمیں؟ کہ ان سے کوئی سنے گا تو اس پر کیا واجب ہو جائے گا؟ سجدۂ تلاوت واجب ہو جائے گا بھئی، اور جنابت والا جنابت میں جو شخص ہے اس پر بھی سجدۂ تلاوت کیا ہے؟ واجب ہو گیا لیکن اس وقت مانع ہے، وہ جنابت کی حالت میں ہے، بعد میں کیا کرے گا؟ سجدہ کرے گا۔ تو یہاں پر بھی یہاں پر بھی نماز کے اندر مانع موجود تھا، سجدہ نہیں کر سکتے لیکن بعد میں ان کو کیا کرنا چاہیے؟ سجدہ کرنا چاہیے۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو جواب یہ کہ نہیں بھئی! وہ محجور نہیں ہیں، یہ جو مقتدی تھا یہ تو محجور عن القراءۃ تھا جبکہ وہ منہی عن القراءۃ ہیں، وہ کیا ہیں؟ منہی عن القراءۃ ہیں، ان کو قرات سے روکا گیا ہے، پابندی نہیں ہے بلکہ ان کو روکا گیا ہے، وہ کریں گے تو اس پر اثر مرتب ہوگا اور چنانچہ سننے والوں پر کیا واجب ہوگا؟ سجدہ۔ تو وہ جو اگر وہ پڑھتے ہیں ان کو منع کیا گیا تھا، وہ کرتے ہیں تو حرام فعل کرتے ہیں بھئی، حرام فعل کرتے ہیں اور اس کا سننے والوں پر بھی وہ سجدہ کیا ہوگا؟ واجب ہوگا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ایک ہے محجور عن القراءۃ، اس پر پابندی ہے اس کی قرات کا اعتبار ہی نہیں، اور ایک ہے منہی عن القراءۃ جس کو قرات سے روکا گیا ہے، منع کیا گیا ہے، تو یہ دونوں الگ چیزیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں بِخِلَافِ الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ بخلاف جنابت والے کے اور حائضہ عورت کے لِأَنَّهُمَا مَنْهِيَّانِ عَنِ الْقِرَاءَةِ اس لیے کیونکہ یہ دونوں منع کیے گئے ہیں قرات سے تو یہ منہی عن القراءۃ ہوئے، محجور عن القراءۃ نہیں۔ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَى الْحَائِضِ بِتِلَاوَتِهَا مگر یہ ہے کہ جو حائضہ عورت ہے اس پر آیتِ سجدہ تلاوت کی کرنے کی وجہ سے سجدہ واجب نہیں ہوگا كَمَا لَا يَجِبُ بِسَمَاعِهَا جیسے کہ اس پر آیتِ سجدہ سننے سے بھی سجدہ واجب، تلاوت سے بھی اس پر واجب نہیں ہوگا جیسے کہ سننے سے اس پر واجب نہیں ہوتا لِانْعِدَامِ أَهْلِيَّةِ الصَّلَاةِ بوجہ اہلیتِ صلاۃ کے معدوم ہونے کے کہ اس میں نماز کی صلاحیت ہی نہیں ہے بِخِلَافِ الْجُنُبِ بخلاف کس کے؟ جنابت والے کے کہ اس میں اہلیت ہے لیکن مانع ہے، وہ کیا کرے؟ غسل کرنے کے بعد پھر سجدہ کرے گا۔ تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ جو مقتدی ہے وہ محجور عن القراءۃ ہے اور جنب اور حیض کیا ہیں؟ منہی عن القراءۃ ہیں۔ محجور عن القراءۃ جو ہے اس کی قرات پر کوئی حکم مرتب نہیں ہوگا، اس کے اس تصرف کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاتا، جس پر جس تصرف کی پابندی شرعاً ہو اس کے اس تصرف کا کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی، تو وہ تصرف کرتا بھی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں، اس پر حکم مرتب نہیں ہوگا لہٰذا سجدہ بھی نہیں ائے گا۔ جبکہ یہ جو جنب اور حیض ہیں یہ منہی عن القراءۃ ہیں یعنی ان کو قرات سے منع کیا گیا ہے اور جس شخص کو کسی تصرف سے روکا گیا ہو اس کے اس تصرف پر حکم مرتب ہوتا ہے، اس کے اس تصرف پر حکم مرتب ہوتا ہے، حکم مرتب ہوتا ہے۔ جیسے دیکھیے! جمعہ کی اذان کے وقت اور اس کے بعد بیع و شراء سے منع کیا گیا ہے، بیع و شراء سے منع کیا گیا ہے لیکن اگر کوئی اس وقت بیع و شراء کرتا ہے، بیع تو اس کی فاسد ہے لیکن اگر مشتری اس کی مرضی سے اس مبیع پر قبضہ کر لیتا ہے تو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے، کیا بن جاتا ہے؟ مالک۔ دیکھو حکم مرتب ہو رہا ہے اس سے، منع کیا گیا تھا کس چیز سے؟ بیع و شراء سے، تو وہ منہی عن البیع ہوا بیع و شراء ہوا، تو لیکن پھر بھی اس پر کیا ہو رہا ہے؟ حکم مرتب ہو رہا ہے۔ تو محجور جو ہوتا ہے، ضابطہ سمجھ میں آیا بھئی؟ محجور کا جو تصرف ہے اس پر حکم مرتب نہیں ہوتا، اس کے تصرف کا کوئی اعتبار نہیں، اور جو منہی عن التصرف ہوتا ہے اس کے تصرف کا اعتبار ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو جمعہ کے وقت اگر وہ بیع و شراء کرتا ہے وہ شرعاً غلط کام کر رہا ہے لیکن بہرحال دوسرا کیا ہوگا؟ اس کی مبیع پر قبضہ کرے گا تو اس کا مالک بن جائے گا۔ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مقتدی جو ہے اس کو آپ نے محجور عن القراءۃ کہا اور جنب اور حیض کو منہی عن القراءۃ کہا، یہ فرق کیوں کیا گیا؟ سوال سمجھ میں آیا بھئی؟ یا تو دونوں کو منہی قرار دیں یا دونوں کو محجور، یہ کیا معنی ایک کو آپ کہہ رہے ہیں وہ محجور وہ جو مقتدی ہے وہ محجور عن القراءۃ ہے اور جو جنب اور حیض ہیں وہ کیا ہیں؟ منہی عن القراءۃ ہیں۔ تو اس کو اس کو بھی مقتدی کو بھی یوں کہیں وہ منہی عن القراءۃ ہے، کیا ہے؟ آپ نے اس کو محجور عن القراءۃ کیوں کہا؟ تو وجہ صاحبِ ہدایہ نے ذکر کر دی، دیکھیے وہ کیا فرماتے ہیں کتاب کے اندر: وَلَهُمَا أَنَّ الْمُقْتَدِيَ مَحْجُورٌ عَنِ الْقِرَاءَةِ مقتدی محجور عن القراءۃ ہے یعنی قرات کرنے کی اس پر پابندی ہے کہ وہ قرات نہیں کرے گا۔ کیوں؟ لِنَفَاذِ تَصَرُّفِ الْإِمَامِ عَلَيْهِ اس پر امام کا تصرف جاری کرنے کے لیے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس پر امام کا کیونکہ امام کی قرات اس کی بھی قرات ہو گئی بھئی، اس کی بھی قرات ہو گئی، چنانچہ حدیث میں آتا ہے: ”مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ“ جس شخص کا کوئی امام ہو تو امام کی قرات اس کی بھی قرات ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ یہ حدیث اور اس کو آٹھ صحابہ روایت کرنے والے ہیں۔ معلوم ہوا امام کی قرات اس کی قرات ہے، امام کا تصرف اس پر نافذ ہو رہا ہے اور امام کا تصرف اس پر تبھی نافذ ہوگا جب اس کے اپنے تصرف پر کیا لگا دی جائے؟ پابندی لگا دی جائے بھئی۔ بات سمجھ میں، تو لہٰذا اس لیے یہاں پر چونکہ امام کا تصرف اس پر نافذ کرنا ہے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اس کے اپنے تصرف پر کیا کر لی جائے؟ پابندی لگا لی جائے، جبکہ جنب اور حیض میں تو ایسا نہیں، ان کا تو کوئی قائم مقام نہیں بنایا گیا، کسی کا اور کا تصرف ان پر نافذ نہیں کیا جاتا تو لہٰذا وہ منہی عن القراءۃ ہیں اور یہ محجور عن القراءۃ ہیں، فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ وَلَوْ سَمِعَهَا رَجُلٌ خَارِجَ الصَّلَاةِ سَجَدَهَا. بھئی اگر اس آیتِ سجدہ کو، کس نے سجدہ آیتِ سجدہ تلاوت کی؟ مقتدی نے، تو نہ مقتدی پر سجدہ واجب اور نہ امام پر اور اسی طرح دیگر جو لوگ ہیں مقتدی ہیں ان پر بھی نہیں واجب، لیکن اگر اسی آیتِ سجدہ کو سن لیا کسی ایسے شخص نے جو ان کے ساتھ نماز میں شامل نہیں تھا، ان کی نماز سے خارج تھا، چاہے الگ ویسے بیٹھا ہوا تھا، گزر رہا تھا یا الگ اپنی نماز پڑھ رہا تھا لیکن ان کے ساتھ نماز میں شامل نہیں تھا تو اس نے سن لیا تو کیا اس پر سجدہ واجب ہوگا؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، اس پر سجدہ واجب ہوگا بھئی، اس پر کیا ہوگا؟ کیونکہ اس کے حق میں سبب پایا گیا اور وہ کیا تھا؟ آیتِ سجدہ کا سن لینا، تو اس نے سن لیا تو اس پر آیت اس پر سجدہ واجب ہے۔ وَلَوْ سَمِعَهَا رَجُلٌ خَارِجَ الصَّلَاةِ اور اگر سنا اس آیتِ سجدہ کو کسی شخص نے جو نماز اس نماز سے باہر ہے سَجَدَهَا تو وہ سجدہ کرے گا هُوَ الصَّحِيحُ یہی قول صحیح ہے لِأَنَّ الْحَجْرَ ثَبَتَ فِي حَقِّهِمْ فَلَا يَعْدُوهُمْ، اس لیے کیونکہ پابندی ثابت ہے ان مقتدیوں کے حق میں ثابت ہے فَلَا يَعْدُوهُمْ لہٰذا یہ ان سے تجاوز نہیں کرے گی۔ یہ پابندی کس پر ہے صرف؟ مقتدیوں پر پابندی ہے تو یہ پابندی تجاوز کر کے جو نماز سے باہر لوگ ہیں ان پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی بھئی، تو ان پر جب پابندی نہیں ہے تو ان پر سجدہ واجب ہوگا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ وَإِنْ سَمِعُوا وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ سَجْدَةً مِنْ رَجُلٍ لَيْسَ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَسْجُدُوهَا فِي الصَّلَاةِ، وَإِنْ سَمِعُوا اور اگر انہوں نے سنا، انہوں نے سنا وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ اس حال میں کہ وہ کس میں تھے؟ نماز میں تھے یعنی وہ جو نماز پڑھ رہے ہیں اور کس چیز کو سنا؟ سَجْدَةً أَيْ آيَةَ سَجْدَةٍ کس چیز کو؟ آیتِ سجدہ کو سنا مِنْ رَجُلٍ ایک ایسے شخص سے لَيْسَ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ جو ان کے ساتھ نماز میں شامل نہیں ہے لَمْ يَسْجُدُوهَا فِي الصَّلَاةِ تو یہ اس کو اس وہ سجدہ نہیں کریں گے فِي الصَّلَاةِ نماز میں۔ اب اس کا عکس ہے بھئی، نماز سے میں ایک شخص شامل نہیں ہے وہ آیتِ سجدہ کی تلاوت کرتا ہے اور جو نماز پڑھ رہے ہیں جماعت کے ساتھ وہ کیا کر لیتے ہیں؟ اس کی آیتِ سجدہ کو سن لیتے ہیں، چاہے ایک پڑھ رہا ہو، جماعت کے ساتھ پڑھ رہے ہوں لیکن نماز سے باہر ایک آدمی کی تلاوت سن لیتے ہیں تو پھر کیا کریں گے؟ نماز کے اندر سجدہ نہیں کریں گے۔ نماز کے اندر سجدہ نہیں کریں گے، ہاں بعد میں کریں گے کیونکہ سبب پایا گیا، کیا سبب؟ سننا آیتِ سجدہ کا۔ تو کہتے ہیں لَمْ يَسْجُدُوهَا فِي الصَّلَاةِ تو سجدہ وہ آیتِ سجدہ کا سجدہ نہیں کریں گے فِي الصَّلَاةِ نماز میں لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِصَلَاتِيَّةٍ اس لیے کیونکہ یہ سجدہ نماز والا سجدہ نہیں، لِأَنَّهَا لَيْسَتْ بِصَلَاتِيَّةٍ کیونکہ یہ سجدہ نماز والا سجدہ نہیں لِأَنَّ سَمَاعَهُمْ هَذِهِ السَّجْدَةَ لَيْسَ مِنْ أَفْعَالِ الصَّلَاةِ اس لیے کیونکہ ان کا سن لینا اس سجدے کو یہ نماز کے افعال میں سے نہیں ہے، وَسَجَدُوهَا بَعْدَهَا اور یہ اس سجدے کو وہ کریں گے نماز کے بعد لِتَحَقُّقِ سَبَبِهَا اس کا سبب پائے جانے کی وجہ سے۔ وَلَوْ سَجَدُوهَا فِي الصَّلَاةِ لَمْ يُجْزِهِمْ، اور اگر انہوں نے یہ سجدہ کر لیا نماز میں ہی، کس سے سنی آیتِ سجدہ؟ خارجِ صلاۃ ایک شخص سے اور یہ کس میں ہیں؟ نماز میں ہیں، تو یہ نماز میں نہیں کریں گے، بعد میں سجدہ کریں گے لیکن اگر یہ نماز میں ہی سجدہ کر لیتے ہیں کہتے ہیں لَمْ يُجْزِهِمْ تو یہ ان کے لیے کافی نہیں ہوگا، بعد میں پھر کیا کرنا پڑے گا ان کو؟ سجدہ کرنا پڑے گا۔ دیکھیے بھئی فقہائے احناف کی گہرائی، سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں نہیں؟ نماز میں کر لیا تو یہ سجدہ کیوں نہیں ادا ہوا؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ نَاقِصٌ اس لیے کیونکہ یہ سجدہ جو انہوں نے نماز میں کیا یہ ناقص تھا۔ یہ کیا تھا؟ ناقص تھا، عام آدمی ہوگا وہ تو کہے گا نماز کے اندر سجدہ کیا ہے یہ تو کامل سجدہ ہے، کیا ہے؟ کامل سجدہ ہے، اعلیٰ درجے کا سجدہ ہے لیکن فقہاء کی گہرائی دیکھیے بھئی! فرماتے ہیں کہ اس نے سجدہ ناقص ادا کیا اور جو چیز کامل واجب ہوئی ہو اس کو ادا بھی کیسا کرنا پڑتا ہے؟ کامل ادا کرنا پڑتا ہے اور جو چیز ناقص واجب ہوئی ہو وہ ناقص ادا کرنے سے بھی ہو جائے گی، ناقص ادا کرنے سے بھی ہو جائے گی۔ تو ان پر جو سجدہ واجب ہوا وہ کامل واجب ہوا اور نماز میں اگر اس کو کرتے ہیں تو یہ کس قسم کا ہوگا؟ ناقص ہوگا۔ بھئی کیوں؟ ناقص کیوں ہوگا؟ کہتے ہیں لِمَكَانِ النَّهْيِ، نہی کے مکان، مکان یہ مصدر ہے یاد رکھنا مکان، بمعنی وجود اور ثبوت کے، وجود اور ثبوت کے اور یہ پہلے بھی دو تین چار جگہ آ چکا ہے ہدایہ میں، صاحبِ ہدایہ اس کو استعمال کرتے ہیں اسی طرح، تو یہ کس معنی میں ہے؟ وجود، أَيْ لِوُجُودِ النَّهْيِ نہی کے پائے جانے کی وجہ سے۔ بھئی شریعت نے آپ کو کیا بتلایا ہے کہ نماز جیسی ہم نے بتلائی ہے، شریعت نے جیسی بتلائی ہے اسی طرح پڑھنا پڑے گی یا اپنی طرف سے بھی اس میں چیزوں کا اضافہ آپ کر سکتے ہیں؟ جیسی شریعت نے بتلائی ہے اسی طرح نماز ادا کرنا پڑے گی، اپنی طرف سے کسی چیز کا اس میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا تو لہٰذا اگر آپ اس میں یہ سجدہ کرتے ہیں تو اس سے روکا گیا ہے یا نہیں روکا گیا؟ یہ آپ اپنی طرف سے اضافہ کر رہے ہیں تو اس سے تو کیا کیا گیا ہے؟ نماز میں اپنی طرف سے کوئی چیز ملانے سے روکا گیا ہے، روکا گیا ہے۔ تو لہٰذا یہ نہی پائی گئی، شریعت نے روکا ہوا ہے کہ نماز میں اپنی طرف سے کوئی چیز شامل نہیں کرنی تو لہٰذا نہی کے پائے جانے کے باوجود، شریعت کے روکنے کے باوجود یہ پھر وہ سجدہ کرتا ہے تو وہ کامل ہوا یا ناقص ہوا؟ وہ ناقص ہوا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے لِأَنَّهُ نَاقِصٌ لِمَكَانِ النَّهْيِ اس لیے کیونکہ یہ سجدہ ناقص ہے نہی کے پائے جانے کی وجہ سے فَلَا يَتَأَدَّى بِهِ الْكَامِلُ تو اس ناقص سجدے سے وہ کامل سجدہ جو اس پر واجب ہوا ہے وہ ادا نہیں ہوگا، اس پر واجب تو کیسا ہوا ہے؟ کامل، تو ادا بھی کیسی چاہیے؟ کامل چاہیے، اس ناقص سے وہ ادا نہیں ہوگا۔ قَالَ: وَأَعَادُوهَا، وَأَعَادُوهَا اس سجدۂ تلاوت کا اعادہ کریں گے، لوٹائیں گے۔ یہ جو بھئی ایک شخص نے خارجِ صلاۃ آیتِ سجدہ تلاوت کی، انہوں نے نماز کے اندر سنا اور نماز میں ہی کیا کر لیا؟ سجدہ کر لیا، تو وہ ادا نہیں ہوا لہٰذا پھر کیا کریں گے؟ نماز کے بعد پھر اس سجدے کو لوٹائیں گے، پھر کریں گے۔ یہ معنی ہے وَأَعَادُوهَا اور اس سجدے کا اعادہ کریں گے لِتَقَرُّرِ سَبَبِهَا بوجہ اس کے سبب کے ثابت ہو جانے کے کہ اس کا سبب پایا گیا ہے اور وہ کیا ہے؟ سماع ہے، وَلَمْ يُعِيدُوا الصَّلَاةَ اور نماز کا اعادہ نہیں کریں گے، نماز کا اعادہ نہیں کریں گے۔ بھئی کیوں؟ نماز میں انہوں نے اپنی طرف سے ایک سجدہ ملایا تو نماز کا اعادہ کیوں نہیں کریں گے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ سجدہ یہ بھی نماز کے افعال کی جنس میں سے ہے، نماز کے افعال کی جنس میں سے ہے، تو صرف سجدہ کرنے کی وجہ سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کی نماز ہی فاسد ہو گئی، نماز ہی، ہاں اور کوئی ایسا ایسا عمل کرتا ہے جو نماز کے منافی ہے، جو نماز کی جنس میں سے نہیں پھر تو نماز فاسد ہوتی ہے، صرف سجدے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ لِأَنَّ مُجَرَّدَ السَّجْدَةِ لَا يُنَافِي إِحْرَامَ الصَّلَاةِ اس لیے کیونکہ محض سجدہ جو ہے وہ نماز کے احرام کے منافی نہیں ہے۔ وَفِي النَّوَادِرِ، جی یہ تو متن میں آیا، یہ ظاہرِ روایت۔ ظاہرِ روایت کس مسئلے کو کہتے ہیں جو کس میں آئے؟ امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابوں میں جو مسئلہ ہو تو کہتے ہیں یہ ظاہرِ روایت میں، یوں کہیں امام محمد رحمہ اللہ کی چھ کتابوں کو ظاہرِ روایت کہتے ہیں بھئی، اور وہ کون کون سی ہیں؟ مبسوط، زیادات، جامع صغیر اور جامع کبیر اور سیر کبیر اور سیر صغیر بھئی۔ اور اس کے علاوہ بھئی امام محمد رحمہ اللہ کی اور بھی بہت سی تصانیف ہیں بلکہ علماء فرماتے ہیں ان کی تصانیف کی تعداد ایک ہزار ہے بھئی، ایک ہزار۔ تو باقی تصانیف جو ہیں جو ان کو نوادر کہا جاتا ہے، نوادر۔ تو اس کی کیا وجہ ہے؟ ان بعض ان چھ کتابوں کو ظاہرِ روایت، ان کو ترجیح کیوں دیتے ہیں اور باقیوں کو نوادر کہتے ہیں، ان کو اس ان کو ترجیح کیوں نہیں؟ کیا وجہ ہے؟ ہاں شاباش! یہ تواتر کے طریقے پر منقول ہیں، اس کو نقل کرنے والے اتنے لوگ ہیں کہ اس پر بڑا ہی یقین ہے کہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہے، اور باقی جو ہیں وہ اتنے زیادہ ان کو روایت کرنے والے اور نقل کرنے والے نہیں، جب نقل کرنے والے بہت تھوڑے ہیں تو پھر اس درجے کا اعتماد نہیں رہتا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ وَفِي النَّوَادِرِ أَنَّهَا تَفْسُدُ لِأَنَّهُمْ زَادُوا فِيهَا مَا لَيْسَ مِنْهَا اور نوادر میں یہ ہے یعنی نوادر کی روایت میں یہ آیا ہے أَنَّهَا تَفْسُدُ وہ نماز فاسد ہو جائے گی، ظاہرِ روایت میں تو کیا آیا؟ آیتِ سجدہ کا سجدہ کس میں کیا تھا؟ نماز میں، تو وہ نماز فاسد نہیں اور نوادر میں کیا آیا أَنَّهَا تَفْسُدُ وہ نماز فاسد ہو جائے گی لِأَنَّهُمْ زَادُوا فِيهَا مَا لَيْسَ مِنْهَا اس لیے کیونکہ ان لوگوں نے بڑھا دیا اس نماز کے اندر اس چیز کو جو اس نماز میں سے نہیں، اس کے افعال میں سے نہیں۔ وَقِيلَ هُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور کہا گیا ہے کہ یہ صرف کن کا قول ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے۔ فَإِنْ قَرَأَهَا الْإِمَامُ وَسَمِعَهَا رَجُلٌ لَيْسَ مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ فَدَخَلَ مَعَهُ بَعْدَمَا سَجَدَهَا الْإِمَامُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ أَنْ يَسْجُدَهَا، صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص آیتِ سجدہ کو سن لیتا ہے امام سے، امام نے کیا تلاوت کی؟ آیتِ سجدہ، اور یہ شخص ابھی نماز میں شامل نہیں ہوا اس نے آیتِ سجدہ کو سن لیا۔ یوں کہیں مثلاً آپ صف تک، جماعت تک پہنچنے والے تھے، چند قدم دور تھے ابھی کہ تو آپ نے سن لی آیتِ سجدہ، امام نے تلاوت کی ہے اور آپ کے پہنچتے پہنچتے امام نے وہ پھر سجدہ بھی کر لیا۔ اب آپ نماز میں شامل ہوئے تو کیا آپ اب وہ سجدہ آپ پر آپ کو کرنا پڑے گا؟ کہتے ہیں بھئی اگر اسی رکعت میں شامل ہوئے ہیں تو اسی طرح سمجھا جائے گا گویا آپ نے اس سجدے کو پا لیا، گویا آپ بھی اس میں ساتھ کیا ہو گئے؟ یوں سمجھیں کہ شریک ہو گئے، جب اس رکعت کو پا لیا تو اس سجدے کو آپ نے پا لیا لہٰذا آپ کی طرف اب بعد میں اس کے اعادے کی ضرورت، وہ سجدہ اس شخص کے ذمے باقی نہیں اب۔ فَإِنْ قَرَأَهَا الْإِمَامُ وَسَمِعَهَا رَجُلٌ لَيْسَ مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ اگر قرات کی آیتِ سجدہ کی امام نے اور سن لیا اس کو ایک ایسے شخص نے جو اس کے ساتھ نماز میں نہیں تھا فَدَخَلَ مَعَهُ بَعْدَمَا سَجَدَهَا تو وہ اس کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا بعد اس کے جب امام نے سجدہ کر لیا تھا، بَعْدَمَا سَجَدَهَا الْإِمَامُ جب کہ وہ آیتِ سجدہ کا سجدہ امام نے کر لیا تھا لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ أَنْ يَسْجُدَهَا تو نہیں ہے اس مقتدی پر کہ وہ اس کو وہ سجدہ کرے لِأَنَّهُ صَارَ مُدْرِكًا لَهَا بِإِدْرَاكِ الرَّكْعَةِ اس لیے کیونکہ وہ مقتدی جو ہے وہ بھی اس سجدے کو پانے والا ہو گیا اس رکعت کو پانے کی وجہ سے۔ وَإِنْ دَخَلَ مَعَهُ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَهَا سَجَدَهَا مَعَهُ، اور آپ جماعت تک پہنچ رہے تھے، امام نے آیتِ سجدہ تلاوت کی، آپ ابھی نماز سے باہر تھے اور پھر امام ابھی سجدے میں نہیں گیا تھا آپ پہنچ گئے، چند قدم ہی کے فاصلے پر تھے اب امام سجدے میں گیا تو کیا اب آپ بھی اس سجدہ کریں گے امام کے ساتھ؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، آپ جب اقتداء کر رہے ہیں، متابعت کر رہے ہیں تو آپ پر کیا ضروری کہ امام کی اقتداء کریں اور نیز آپ کے حق میں سبب پایا گیا ہے، آپ نے آیتِ سجدہ کو سنا ہے، سنا ہے۔ تو جب آیت جب اقتداء کر رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں امام کی؟ اقتداء کر رہے ہیں تو اب آپ بھی سجدہ کریں گے، سجدہ کریں گے۔ اگر آپ نے امام سے آیتِ سجدہ کو نہ سنا ہوتا پھر بھی آپ کو سجدہ کرنا پڑتا یا نہیں؟ مثلاً جماعت بڑی ہے، کئی صفیں ہیں اور امام ذرا آہستہ آواز میں قرات کر رہا ہے اور آپ پچھلی صف میں کھڑے ہیں، امام نے آیتِ سجدہ تلاوت کی، آپ تک آواز نہیں پہنچی اور امام سجدہ کرتا ہے تو آپ کو کرنا پڑے گا یا نہیں کرنا پڑے گا؟ تو جب نہ سننے کی صورت میں آپ کو سجدۂ تلاوت کرنا پڑتا ہے امام کی اقتداء میں تو یہاں تو آپ نے بطریق، سنا ہے تو بطریقِ اولیٰ آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ امام کے ساتھ سجدہ کرنا پڑے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے وَإِنْ دَخَلَ مَعَهُ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَهَا اور اگر وہ داخل ہو گیا امام کے ساتھ قبل اس کے کہ امام وہ سجدہ کرتا سَجَدَهَا مَعَهُ تو امام کے ساتھ وہ سجدہ یہ مقتدی بھی کرے گا لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَسْمَعْهَا سَجَدَهَا مَعَهُ اس لیے کیونکہ اگر اس نے اس آیتِ سجدہ کو نہ سنا ہوتا تو بھی سجدہ کرتا امام کے ساتھ فَهُنَا أَوْلَى تو یہاں بطریقِ اولیٰ وہ سجدہ کرے گا۔ وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُ، اور اگر وہ امام کے ساتھ داخل ہی نہیں ہوا، داخل ہی نہیں ہوا تو کہتے ہیں سَجَدَهَا پھر بھی اس کو علیحدہ کیا کرنا پڑے گا؟ سجدہ کرنا۔ وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُ اگر وہ امام کے ساتھ شامل نہیں ہوا نماز میں سَجَدَهَا تو بھی سجدہ یہ کرے گا لِتَحَقُّقِ السَّبَبِ سبب کے پائے جانے کی وجہ سے کہ اس نے آیتِ سجدہ کو سنا ہے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
169 approved lectures · 74 of 169