Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء أول · dars-073

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 148
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
بَابُ صَلَاةِ الْمَرِيضِ إِذَا عَجَزَ الْمَرِيضُ عَنِ الْقِيَامِ صَلَّى قَاعِدًا يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: ”صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى الْجَنْبِ تُؤْمِئُ إِيمَاءً“ وَلِأَنَّ الطَّاعَةَ بِحَسَبِ الطَّاقَةِ. بَابُ صَلَاةِ الْمَرِيضِ، یہ باب ہے مریض کی نماز کے بیان میں کہ مریض جو ہے جو قیام یا قعود وغیرہ پر کی استطاعت نہیں رکھتا وہ نماز کیسے ادا کرے گا بھئی؟ تو فرماتے ہیں: إِذَا عَجَزَ الْمَرِيضُ عَنِ الْقِيَامِ صَلَّى قَاعِدًا يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ، جب عاجز آجائے مریض عَنِ الْقِيَامِ کھڑا ہونے سے، یعنی کھڑا نہ ہو سکے صَلَّى قَاعِدًا يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ تو نماز پڑھے بیٹھ کر، يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ رکوع اور سجدہ کرے بھئی۔ بیٹھ کر کیا کرے؟ رکوع اور سجدہ کرے لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ، بوجہ حضور علیہ السلام کے عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمانے کے۔ آپ نے عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: صَلِّ قَائِمًا کہ تم نماز پڑھو کھڑے ہو کر۔ سمجھ میں آیا؟ یہ بیمار تھے بھئی، تو حضور نے فرمایا: صَلِّ قَائِمًا کہ تم نماز پڑھو کھڑے ہو کر فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا اگر اس کی تم استطاعت نہ رکھتے ہو، اس کی طاقت نہ رکھتے ہو فَقَاعِدًا تو بیٹھ کر فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے فَعَلَى الْجَنْبِ تو پہلو پر، تو کس پر نماز پڑھو؟ پہلو پر تُؤْمِئُ إِيمَاءً اشارہ کرتے ہوئے۔ اس حال میں کہ تم کیا کرنے والے ہو؟ اشارہ کرنے والے ہو، اشارے سے پھر نماز پڑھو۔ تو یہ حدیث میں آیا، تو یہ ہوئی نقلی دلیل۔ آگے عقلی دلیل بھی صاحبِ ہدایہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الطَّاعَةَ بِحَسَبِ الطَّاقَةِ، اس لیے کیونکہ اطاعت جو ہے یعنی اللہ کی جو اطاعت ہے بِحَسَبِ الطَّاقَةِ وہ طاقت کے بقدر ہوگی۔ تو جو مریض ہے، کھڑا نہیں ہو سکتا تو اس کی طاقت ہی اتنی ہے وہ پھر بیٹھ کر پڑھے گا، اور جو بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا تو اس کی طاقت ہی اتنی ہے کہ وہ کیا کرے گا؟ لیٹ کر پڑھے گا اشارے کے ساتھ بھئی۔ تو طاعت جو ہے وہ طاقت کے بقدر ہوگی۔ اور یہ بھی یاد رکھیے، متن میں آیا: إِذَا عَجَزَ الْمَرِيضُ، جب کھڑے ہونے سے عاجز آجائے، تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ سرے سے کھڑا ہی نہیں ہو سکتا تو پھر بیٹھ کر پڑھنے کی گنجائش ہے، ویسے پڑھنے کی گنجائش ہی نہیں۔ بہت آدمی بیمار ہو، پھر بھی کھڑا ہو سکتا ہے یا نہیں بھئی بعض اوقات؟ کھڑا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ معنی نہیں ہے بھئی، بلکہ مراد یہ ہے کہ جب وہ ضعیف ہو یعنی کمزوری بہت زیادہ ہو، کھڑا ہونا دشوار ہو اس کے لیے۔ یرحمک اللہ۔ کھڑا ہونا اس کے لیے مشکل ہو، تکلیف کا باعث بنتا ہے یا اسی طرح کھڑا تو ہو جاتا ہے لیکن اس کی وجہ سے درد وغیرہ ہوتا ہے بدن میں زیادہ، تو ان سب صورتوں میں اس کو گنجائش ہے وہ کیا کر سکتا ہے؟ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ یہ سب صورتیں اس میں شامل ہیں بھئی۔ تو بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع اور سجدہ کرے گا، رکوع اور سجدہ، جب اس پر قادر ہے۔ اگر اس پر بھی قدرت نہیں ہے رکوع اور سجدہ کرنے کی بھی تو پھر کیا کرے؟ اشارے سے نماز پڑھے بھئی، اشارے سے۔ اور ذکر آیا یہاں عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھئی۔ صحابہ کا ذکر بھی آتا ہے تو دل میں حلاوت محسوس ہوتی ہے۔ عمران بن حصین جلیل القدر صحابی ہیں بھئی اور یہ بیمار تھے بھئی۔ اور روایات میں آتا ہے کہ یہ اتنے بیمار تھے، اتنے بیمار کہ 30 کہ 40 سال تک یہ چارپائی پر پڑے تھے اور پہلو بھی نہیں بدل سکتے تھے بھئی، اتنے بیمار تھے، اتنے بیمار۔ لیکن اس کے باوجود اطمینان اور سکون تھا ان پر اور ہر وقت وہ خوش ہی دکھائی دیتے تھے، ہر وقت خوش ہی دکھائی دیتے تھے، ذرا آپ اندازہ کریں بھئی۔ تو اور یہ اپنے لیے دعا نہیں کرتے تھے کہ اللہ مجھ کو صحت دے دے۔ تو بعض ایک موقع پر ان کے کچھ رشتہ دار، چچا وغیرہ اکٹھے ہوئے ان کے پاس اور ان کی یہ حالت دیکھ رہے ہیں کہ اتنا عرصہ ہو گیا یہ چارپائی پر پڑے ہوئے ہیں کچھ کر ہی نہیں سکتے، تو ان کی یہ حالت دیکھ کر وہ رونے لگ پڑے اور کہنے لگے: آپ اپنے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟ آپ تو صحابیِ رسول ہیں، جلیل القدر افراد میں سے ہیں، آپ دعا کریں گے تو اللہ آپ کو شفا دے دیں گے، آپ اپنے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟ تو وہ عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ کسی سے ذکر نہیں کرتے تھے، لیکن اس وقت وہ کچھ رشتہ دار وغیرہ اور وہ رو رہے ہیں تو پھر یہ بات آپ نے ذکر فرمائی اور کہنے لگے کہ تمہیں کیا معلوم اس بیماری اور تکلیف کے اندر مجھے اللہ کی کتنی برکات حاصل ہو رہی ہیں، اللہ کی طرف سے کتنی رحمتیں مجھ پر نازل ہو رہی ہیں، تم اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ شب و روز فرشتے میرے پاس آ کر مجھے کہتے ہیں: اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا عِمْرَانُ، میں ان کے سلام کو سنتا بھی ہوں اور ان کو جواب بھی دیتا ہوں۔ تو یہ برکتیں کس کی وجہ سے ہیں؟ یہ اس بیماری اور تکلیف کی وجہ سے ہیں۔ تو مومن کی حالت عجیب ہے بھئی، اس پر حدیث میں آتا ہے کہ مومن کی حالت عجیب ہے کہ جب وہ خوش ہوتا ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اس پر مزید اللہ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اور جب تکلیف اس پر آتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور اس پر پھر مزید اللہ کی رحمت اس پر نازل ہوتی ہے بھئی۔ تو مومن کی حالت دونوں ہر حال میں وہ اللہ کی رحمت اس پر نازل ہوتی رہتی ہے بھئی۔ اور یقیناً صبر کا مقام اونچا ہے کہ ایک تکلیف آئی ہوئی ہے اور پھر انسان کیا کرتا ہے؟ اس پر صبر کرتا ہے، تو اور اس پر اتنا اجر ملتا ہے حتیٰ کہ کہ روایات میں آتا ہے کہ انسان پر تکلیف آتی ہے تو دراصل اس تکلیف کے ذریعے اللہ اس کو اونچا مقام دینا چاہتے ہیں، اپنے عمل کے ذریعے وہ اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا تو اللہ اس پر تکلیف لے آتے ہیں، وہ تکلیف برداشت کرتا ہے صبر کے ساتھ اور اس وجہ سے اللہ اس کو بہت اونچا مقام دے دیتے ہیں، بہت اونچا مقام۔ اور قیامت کے دن بھئی کہتے ہیں قیامت کے دن لوگوں کو لوگوں کو مختلف درجے ہوں گے اور جو جنہوں نے دنیا کے اندر تکلیف میں زندگی گزاری ان کو ان کی تکلیف کی وجہ سے اللہ بڑے اونچے مرتبے دیں گے، بڑے اونچے مقامات نصیب فرمائیں گے۔ تو وہ ان اونچے مقامات کو جب دیکھیں گے کہ تو اور تکلیف آپ جانتے ہیں تکلیف تکلیف ہے، لیکن جب ایک دفعہ گزر گئی، گزر گئی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسی بھی تکلیف آتی ہے گزر جاتی ہے بہرحال، بس انسان اگر صبر کرے بھئی اور آخرت پر اپنی نظر رکھے۔ تو وہ کہیں گے کہ اچھا ان تکلیفوں پر ہمیں اتنا اونچا مقام ملا تو تمنا کریں گے: کاش دنیا میں ہماری کھالیں قینچیوں سے لوگ کاٹتے! اتنا اجر ہے! اتنا اجر ہے! تو یہ وہ حدیث میں باقاعدہ آتا ہے، وہ تمنا کریں گے۔ کیا تمنا کریں گے؟ کہ دنیا میں ہماری کھال قینچیوں سے لوگ کاٹ دیتے، پھر ہمیں اس تکلیف پر اتنا اجر ہے تو اس پہ تو اور اونچا اجر ملے ملتا ہمیں بھئی۔ تو یہ چالیس سال تک بیمار رہے بھئی اور اس حال میں بھی ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے بھئی۔ جلیل القدر صحابی ہیں، راویِ حدیث ہیں بھئی، حدیث روایت کرتے ہیں۔ قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعِ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ أَوْمَأَ إِيمَاءً. صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعِ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ اور اگر وہ طاقت نہیں رکھتا رکوع اور سجدہ کرنے کی أَوْمَأَ إِيمَاءً تو پھر کیا کرے گا؟ اشارہ کرے گا يَعْنِي قَاعِدًا یعنی بیٹھ کر۔ بیٹھ کر کیا کرے گا؟ اشارہ کرے گا لِأَنَّهُ وُسْعُ مِثْلِهِ. وُسْعٌ کہتے ہیں طاقت کو بھئی، طاقت اور قوت بھئی۔ لِأَنَّهُ وُسْعُ مِثْلِهِ اس لیے کیونکہ یہی اس جیسے کی طاقت ہے، کیونکہ یہی اس جیسے کی یعنی اشارے سے، لِأَنَّهُ ہا ضمیر راجع ہے اشارے کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرنا، یعنی اشارے کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرنا ہی وُسْعُ مِثْلِهِ اس جیسے آدمی کی طاقت ہے، یہی اس کی طاقت ہے۔ وَجَعَلَ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ، اور کرے اپنے سجدے کو، سجود میں نے بتلایا تھا بھئی عربی زبان میں کسے کہتے ہیں؟ سجدے کو۔ وَجَعَلَ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ اور اپنے سجدے کو زیادہ پست کرے مِنْ رُكُوعِهِ اپنے رکوع سے۔ یعنی سجدہ سجدہ بھی اشارے سے کر رہا ہے، رکوع بھی اشارے سے کر رہا ہے تو سجدے کا اشارہ، سجدے میں اپنے آپ کو ذرا زیادہ جھکائے تھوڑا سا تاکہ رکوع اور سجدے کا فرق ہو جائے، تو اس میں ذرا زیادہ اشارہ ہو۔ جی، لِأَنَّهُ قَائِمٌ مَقَامَهُمَا فَأَخَذَ حُكْمَهُمَا، اس لیے کیونکہ اشارہ جو ہے وہ ان دونوں یعنی رکوع اور سجدے کے قائم مقام ہے فَأَخَذَ حُكْمَهُمَا تو یہ ان دونوں کا حکم لے لے گا۔ اور جس طرح سجدہ رکوع کی بنسبت زیادہ پست ہوتا ہے تو اسی طرح اس کا اشارہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ رکوع کی بنسبت زیادہ پست اور نیچے ہونا چاہیے۔ وَلَا يَرْفَعُ إِلَى وَجْهِهِ شَيْئًا يَسْجُدُ عَلَيْهِ، اور نہ اٹھائے اپنے چہرے کی طرف کوئی چیز کہ اس پر سجدہ کرے۔ یعنی مریض کو کیا کرنا چاہیے؟ اشارے سے رکوع اور سجدہ کرنا چاہیے، یہ نہیں کہ سجدے کے وقت کوئی چیز اٹھاتا ہے، تکیہ یا لکڑی وغیرہ یا کوئی چیز اٹھا کر پیشانی اور ناک پر لگا لیتا ہے اس، اس پر ناک اور پیشانی لگا لیتا ہے، نہیں۔ بلکہ کیا کرے گا؟ اشارہ، اشارے کے ساتھ کرے، یعنی کسی چیز کو اٹھا کر چہرے کی طرف یعنی مراد یہ ہے کہ وہ چیز یعنی سر کو ہلاتا ہی نہیں ہے، وہ چیز اٹھا کر کیا کر لیتا ہے؟ ناک اور ماتھے پر لگا لیتا ہے، یہ وہ صورت بیان ہو رہی ہے، اس طرح نہ کرے۔ لیکن اگر کوئی کر لیتا ہے تو کہتے ہیں پھر دیکھو آپ کہ اس نے اشارہ بھی کیا ہے یا نہیں؟ یعنی سر کو بھی ہلایا ہے یا سر کو سر اپنی جگہ پر ہے اور وہ چیز اٹھا کر ماتھے اور ناک پر لگا لی ہے، تو پھر تو اشارہ نہیں پایا گیا، اور اشارہ نہیں پایا گیا تو پھر اس کا رکوع اور سجدہ بھی اس کا سجدہ بھی نہیں ہوا، لہٰذا نماز ہی اس کی نہیں ہوگی۔ ہاں، اگر کوئی چیز تکیہ وغیرہ اٹھا کر کہاں لگا لیا اس نے؟ پیشانی اور ناک پر لگایا اور ساتھ ساتھ سر بھی حرکت بھی دی اس نے سر کو پوری طرح، تو اشارہ پایا گیا۔ تو کیا پایا گیا؟ لہٰذا سجدہ ادا ہو جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَلَا يَرْفَعُ إِلَى وَجْهِهِ شَيْئًا يَسْجُدُ عَلَيْهِ اور نہ اٹھائے اپنے چہرے کی طرف کسی چیز کو کہ اس پر سجدہ کرے لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے کہ ”إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تَسْجُدَ عَلَى الْأَرْضِ فَاسْجُدْ، وَإِلَّا فَأَوْمِ بِرَأْسِكَ“ کہ اگر تو قادر ہے اس بات پر کہ تو زمین پر سجدہ کرے تو سجدہ کر، وَإِلَّا اور اگر ایسا نہیں ہے، وَإِلَّا، إلّا سے پہلے کیا آیا؟ واو آیا، تو یہ کیا ہے؟ إِنْ اور لَا سے مرکب، اور اگر ایسا نہ ہو یعنی تو سجدہ نہیں کر سکتا زمین پر فَأَوْمِ بِرَأْسِكَ تو اشارہ کر اپنے سر کے ساتھ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور دیکھا کہ وہ نماز میں نماز پڑھ رہا ہے اور نماز پڑھتے ہوئے اس نے کیا کیا ہے مریض نے؟ تکیہ اٹھایا، تکیہ اٹھایا کہ اس پر کیا کرے گا؟ سجدہ۔ تو حضور علیہ السلام نے اس کے ہاتھ سے تکیہ لے کر پھینک دیا، تو اس نے پھر لکڑی لی کہ اس پر کرے گا سجدہ وغیرہ، تو حضور علیہ السلام نے اسے بھی پھینک دیا اور پھر یہ فرمایا کہ اگر تو کیا کر سکتا ہے؟ زمین پر سجدہ کر سکتا ہے تو زمین پر سجدہ کر ورنہ کیا کر؟ سر کے سر سے اشارہ کر کے نماز پڑھو، رکوع اور سجدہ کرو۔ وَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ، اور اگر اس شخص نے ایسا کر لیا، صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں بھئی، متن میں تو آیا تھا چہرے کی طرف کوئی چیز اٹھا کر نہ لے جائے لیکن اگر وہ وَإِنْ فَعَلَ ذَلِكَ اس نے ایسا کر لیا وَهُوَ يَخْفِضُ رَأْسَهُ اور اس وہ اپنے سر کو بھی پست کرتا ہے أَجْزَأَهُ تو یہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا۔ کیوں؟ وہ چیز اٹھانے کی وجہ سے اور ماتھے پر لگانے سے سجدہ نہیں ہوا بلکہ کس کی وجہ سے ہوا؟ اشارہ کرنے کی وجہ سے، اور اشارہ تو پایا گیا۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ يَخْفِضُ رَأْسَهُ اور وہ اپنے سر کو جھکاتا ہے أَجْزَأَهُ تو یہ اس کے لیے کافی ہے لِوُجُودِ الْإِيمَاءِ اشارہ پائے جانے کی وجہ سے۔ وَإِنْ وَضَعَ ذَلِكَ عَلَى جَبْهَتِهِ لَا يُجْزِيهِ لِانْعِدَامِهِ، اور اگر اس نے اس چیز کو رکھا اپنی پیشانی پر لَا يُجْزِيهِ تو یہ اس کے لیے کافی نہیں لِانْعِدَامِهِ أَيْ لِانْعِدَامِ الْإِيمَاءِ اشارہ نہ پائے جانے کی وجہ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اشارہ ہے تو ہو جائے گا رکوع سجدہ، اشارہ نہیں تو سجدہ بھی نہیں۔ وَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعِ الْقُعُودَ، اور اگر وہ بیٹھنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا اسْتَلْقَى عَلَى ظَهْرِهِ تو وہ لیٹ جائے اپنی کمر کے بل، یعنی کمر کس پر لگائے؟ زمین پر، یعنی لیٹا ہوا یعنی کمر کے بل لیٹ جائے کمر نیچے کی طرف ہو۔ اِسْتَلْقَیٰ، اِسْتَلْقٰی یَسْتَلْقِی کے معنی ہیں چت لیٹنا، یعنی یہ کمر زمین پر رکھ کر لیٹنا یعنی سیدھا لیٹنا۔ تو اسْتَلْقَى عَلَى ظَهْرِهِ اپنی کمر پر لیٹ جائے وَجَعَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْقِبْلَةِ اور کر دے اپنے پاؤں قبلے کی طرف، سیدھا لیٹ جائے گا، پاؤں قبلے کی طرف ہو جائیں گے وَأَوْمَأَ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ اور اشارہ کرے رکوع اور سجدے کا۔ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، آپ نے فرمایا: ”يُصَلِّي الْمَرِيضُ قَائِمًا“ نماز پڑھے مریض کھڑے ہو کر، بیمار شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھے فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو بیٹھ کر، بیٹھ کر نماز پڑھے فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَى قَفَاهُ۔ قَفَا کہتے ہیں گدی کو بھئی، یہ گردن کا پچھلا حصہ جو کمر کی جانب ہے اس کو گدی کہتے ہیں، قَفَا، عربی میں قَفَا۔ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَى قَفَاهُ يُؤْمِئُ إِيمَاءً اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا یعنی بیٹھنے کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر اپنی گدی کے بل لیٹ کر يُؤْمِئُ إِيمَاءً اشارہ کرتے ہوئے فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا فَاللَّهُ تَعَالَى أَحَقُّ بِقَبُولِ الْعُذْرِ مِنْهُ تو اللہ تعالیٰ زیادہ لائق ہیں اس سے عذر قبول کرنے کے، جیسے انسان ایک دوسرے کا عذر قبول کر لیتے ہیں تو اللہ زیادہ لائق ہیں کہ اس کے عذر کو قبول کر لیں کہ جبکہ وہ اشارے کے ساتھ بھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ وَإِنِ اسْتَلْقَى عَلَى جَنْبِهِ وَوَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ جَازَ، اور اگر وہ لیٹ گیا عَلَى جَنْبِهِ اپنے پہلو پر۔ بھئی، اسْتَلْقٰی کا ویسے معنی تو ہے چت لیٹنا، سیدھا یعنی کمر زمین پر، لیکن یہاں صرف کس معنی میں ہے؟ لیٹنے کے معنی میں ہے، اس لیے کہا: وَإِنِ اسْتَلْقَى عَلَى جَنْبِهِ اور اگر وہ لیٹا اپنے پہلو پر وَوَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ جَازَ اور اس کا چہرہ قبلے کی طرف تھا تو یہ تو یہ بھی جائز ہے لِمَا رَوَيْنَا مِنْ قَبْلُ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے پہلے روایت کر دی۔ بھئی اس حدیث میں تو کیا آیا؟ یہ جو ابھی گزری ایک سطر پہلے، فَعَلَى قَفَاهُ، کس طرح لیٹے؟ گدی پر یعنی چت لیٹ جائے، سیدھا لیٹ جائے کمر زمین پر رکھ کر، لیکن اگر پہلو پر لیٹ کر نماز پڑھتا ہے تو بھی جائز ہے اس حدیث کی وجہ سے جو پہلے گزری، وہ جو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضور علیہ السلام نے فرمایا، اس میں آیا تھا: فَعَلَى الْجَنْبِ، کس پر لیٹ کر؟ پہلو پر لیٹ کر۔ تو یہ معنی ہے لِمَا رَوَيْنَا مِنْ قَبْلُ، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے پہلے روایت کی إِلَّا أَنَّ الْأَوْلَى هُوَ الْأُولَى عِنْدَنَا، مگر یہ کہ أَنَّ الْأَوْلَى کہ زیادہ بہتر جو ہے هُوَ الْأُولَى وہ پہلی صورت ہے ہمارے نزدیک۔ بھئی یہ جو متن آیا نا ابھی، اسی متن اور اس سے پچھلے متن میں آیا، پہلے کیا صورت ذکر کی؟ بیٹھنے کی استطاعت نہیں ہے تو کیا کرے؟ اسْتَلْقَى عَلَى ظَهْرِهِ وَجَعَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْقِبْلَةِ، چت لیٹ جائے اور پاؤں کس طرف کر لے؟ قبلے کی طرف، اس طرح نماز پڑھے۔ اور اگر وہ پہلو پر لیٹ گیا اور چہرہ قبلے کی طرف تھا تو بھی جائز ہے۔ تو دو صورتیں ذکر کر دیں، لیکن کہتے ہیں: إِلَّا أَنَّ الْأَوْلَى هُوَ الْأُولَى عِنْدَنَا کہ زیادہ بہتر جو ہے ہمارے نزدیک وہ پہلی صورت ہے۔ کون سی پہلی صورت؟ قبلے کی طرف پاؤں ہوں، چت لیٹ جائے اور پاؤں کس طرف ہوں؟ قبلے کی طرف ہوں بھئی۔ تو پہلا لفظ ہے اَلْأَوْلٰی، بہتر ہے۔ اور دوسرا لفظ ہے اَلْأُوْلٰی، جو پہلی صورت ہے بھئی، پہلی صورت۔ بعضوں نے اس کا عکس کیا، وہ کہتے ہیں پہلا لفظ ہے اَلْأُوْلٰی اور دوسرا لفظ ہے اَلْأَوْلٰی، معنی دونوں صورتوں میں یہی بنتا ہے کہ پہلی صورت جو ہے وہ اولیٰ ہے۔ عِنْدَنَا، ہمارے نزدیک یعنی احناف کے نزدیک بہتر صورت کیا ہے؟ پہلی صورت ہے کہ کمر کے بل لیٹ کر نماز پڑھے، خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ، برخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے، معلوم ہوا ان کے نزدیک اولیٰ صورت کون سی ہے؟ پہلو کے بل ہے۔ بھئی، چت لیٹے گا تو کس طرح ہوگی نماز؟ کمر زمین پر لگی ہوئی ہے اور پاؤں کس طرف ہیں؟ قبلے کی طرف ہیں۔ اور پہلو پر لیٹے گا تو پھر تو پھر چہرہ قبلے کی طرف ہوگا، پاؤں اور سر شمالاً جنوباً یہاں سے بنیں گے بھئی۔ مثلاً قبلہ کس طرف ہے؟ مغرب کی طرف ہے، تو پہلی صورت کے مطابق مشرق کی طرف سر بن رہا ہے اور مغرب کی طرف پاؤں ہیں تو وہ پاؤں قبلے کی طرف ہیں۔ اور دوسری صورت میں پہلو پر جب لیٹے گا تو شمالاً جنوباً لیٹے گا اور چہرہ کس طرف ہوگا؟ قبلے کی طرف ہوگا، لیکن اولیٰ کیا ہے؟ کون سی صورت؟ کمر کے بل لیٹ کر قبلے کی طرف پاؤں ہوں بھئی۔ وجہ ذکر کر رہے ہیں بھئی کہ ہمارے نزدیک پہلی صورت اولیٰ کیوں ہے؟ کہتے ہیں: لِأَنَّ إِشَارَةَ الْمُسْتَلْقِي تَقَعُ إِلَى هَوَاءِ الْكَعْبَةِ، اس لیے کیونکہ چت لیٹنے والے کا اشارہ جو ہے تَقَعُ وہ واقع ہوگا إِلَى هَوَاءِ الْكَعْبَةِ کعبہ کی فضا کی طرف۔ بھئی دیکھیے، لیٹنا ہے نا، لیٹ کر اشارے سے نماز پڑھنی ہے، تو کچھ اس کے سر کو اونچا کر دیں گے، بڑا تکیہ وغیرہ کچھ رکھ دیں گے کچھ تھوڑا سا اونچا ہو جائے پھر ہی اشارہ آرام سے کر سکے گا ورنہ تو اشارہ کرنا بھی بالکل سیدھا لیٹ کر تو اشارہ بڑا مشکل، تو تھوڑا سا کچھ اس کی کمر وغیرہ اونچی کر دیں گے کچھ بیٹھنے کی طرح کچھ ہو جائے ہے لیٹا ہی ہوا اور پھر وہ اشارے سے نماز پڑھے۔ اور اس صورت میں جب وہ اشارہ کر رہا ہے تو لیٹا ہوا ہے تو چہرہ قبلے کی طرف تو نہیں، چہرہ تو کچھ اوپر کی جانب ہوگا، تو سجدے کا اشارہ کس طرف ہوگا سجدے اور رکوع کا، خصوصاً سجدے کا؟ کعبہ کے اوپر فضا کی سیدھ کی طرف ہو جائے گا، فضا کی طرف ہو جائے گا۔ اور اگر پہلو پر لیٹ کر نماز ادا کرے گا تو پھر اشارہ تو اس کا پاؤں کی جانب ہوگا، چہرہ تو ہے قبلے کی طرف لیکن جو اشارہ ہے وہ کس طرف کو ہو رہا ہے؟ پاؤں کی طرف ہو رہا ہے۔ صورت ذہن میں آ رہی ہے؟ چت لیٹا ہے کمر کے بل اور پاؤں کس طرف ہیں؟ قبلے کی طرف، اب جب اشارہ کرے گا تو اشارہ کس طرف کو ہو رہا ہے؟ کعبہ کی سیدھ تو کعبہ ہی کی ہے لیکن اس کے اوپر فضا کی طرف اشارہ ہے۔ اور جب پہلو پر لیٹا ہوا ہے پھر تو شمالاً جنوباً وہ لیٹا ہوا ہے تو اب چہرہ تو ہے قبلے کی طرف لیکن جب اشارہ کر رہا ہے وہ اشارہ کس طرف ہو رہا ہے سجدے کا؟ پاؤں کی طرف ہو رہا ہے۔ تو کون سی صورت اولیٰ؟ کس طرف اشارہ بہتر ہے؟ کعبے کی فضا کی طرف اشارہ اولیٰ، اس لیے ہم نے کہا پہلی صورت اولیٰ ہے ورنہ جائز دونوں ہیں بھئی، آپ پڑھ چکے دونوں کا ذکر حدیث میں آ گیا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ إِشَارَةَ الْمُسْتَلْقِي تَقَعُ إِلَى هَوَاءِ الْكَعْبَةِ اس لیے کیونکہ چت لیٹنے والے کا اشارہ وہ واقع ہوگا کعبہ کی فضا کی طرف وَإِشَارَةَ الْمُضْطَجِعِ عَلَى جَنْبِهِ إِلَى جَانِبِ قَدَمَيْهِ، اور مضطجع پہلو پر لیٹنے والا، اور پہلو پر جو الْمُضْطَجِعِ عَلَى جَنْبِهِ اور پہلو پر لیٹنے والے کا اشارہ إِلَى جَانِبِ قَدَمَيْهِ وہ کس طرف ہوگا؟ اس کے قدموں کی جانب ہوگا وَبِهِ تَتَأَدَّى الصَّلَاةُ اور اس سے نماز ادا ہو جائے گی، اس سے کیا ہوگی؟ نماز ادا ہو جائے گی۔ تو یہ بِهِ کی ضمیر راجع کی علماء نے یہ جو اشارہ ہے ہوائے کعبہ کی طرف، کس کی طرف؟ ہاں، اور لیکن زیادہ مناسب یہ بنتا ہے بھئی کہ یہ جو پہلو پر لیٹنے والا ہے اس کا اشارہ جو ہے اس کی طرف راجع کیا جائے بھئی، اس کی طرف کہ اس سے بھی کیا ہے، آپ یہ نہ کہیں کہ اس کا تو اشارہ پاؤں کی طرف ہو رہا ہے شاید نماز ہی ادا نہیں ہوگی، کہتے ہیں نہیں، اس سے بھی کیا ہوگی؟ نماز ادا ہو جائے گی کیونکہ چہرہ قبلے کی طرف ہی ہے اس کا اور نیز اس کا ذکر حدیث میں آیا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَبِهِ تَتَأَدَّى الصَّلَاةُ، اور اس سے نماز ادا ہو جائے گی، یا اگر راجع کرتے ہیں ہوائے کعبہ کی طرف تو بھی بات ٹھیک بن جاتی ہے بھئی، اس لیے کہ بھئی اس تو اس کا اس کا کعبہ اس کا اشارہ کس طرف ہو رہا ہے؟ کعبہ کی فضا کی طرف ہو رہا ہے، تو آپ کے ذہن میں یہ وہم نہ آئے تو کعبہ کی طرف تو پھر بھی نہیں، کس کی طرف ہے؟ فضائے کعبہ کی طرف ہے لہٰذا شاید نماز نہیں ہوئی، کہتے ہیں نہیں، اس میں اس صورت میں بھی کیا ہے؟ نماز ہو جائے گی، اور وجہ وہی ہے جو کس میں ذکر ہوئی کہ یہ دونوں طریقے کس میں ذکر ہیں؟ حدیث میں ذکر ہیں، سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلائے ہیں بھئی۔ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعِ الْإِيمَاءَ بِرَأْسِهِ أُخِّرَتْ عَنْهُ، وَلَا يُؤْمِئُ بِعَيْنَيْهِ وَلَا بِقَلْبِهِ وَلَا بِحَاجِبَيْهِ، اگر وہ استطاعت نہیں رکھتا الْإِيمَاءَ بِرَأْسِهِ اپنے سر کے ساتھ اشارہ کرنے کی، اتنا بیمار ہے کہ سر کے ساتھ بھی اشارہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا أُخِّرَتْ عَنْهُ تو نماز اس سے مؤخر ہو جائے گی وَلَا يُؤْمِئُ بِعَيْنَيْهِ وَلَا بِقَلْبِهِ وَلَا بِحَاجِبَيْهِ اور اشارہ نہ کرے اپنی آنکھوں سے، سر بھی نہیں ہلا سکتا، صرف کس کے اشارے سے نماز ادا کرتا ہے؟ آنکھوں کے اشارے سے، کہتے ہیں نہیں بھئی، آنکھوں سے اشارے کے ساتھ نماز ادا نہ کرے، وَلَا بِقَلْبِهِ یا دل کے اشارے سے، دل ہی دل میں کیا کر رہا ہے؟ اشارہ کر رہا ہے اور ظاہر سر، آنکھوں وغیرہ میں بھی کوئی حرکت نہیں، اس طرح بھی نہ کرے، وَلَا بِحَاجِبَيْهِ اور نہ اپنی بھوؤں کے ساتھ۔ بھویں یہ جو ماتھے اور آنکھوں کے درمیان جو بال ہیں ہڈی کے کنارے پر، ان کے ساتھ اشارہ کر کے بھی نماز ادا نہ کرے، بلکہ آخری حد وہی ہے، سر کے ساتھ اشارہ کر سکتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ پھر نماز کیا ہو جائے گی اس سے؟ مؤخر ہو جائے گی، پھر جب تندرست ہو جائے تو اس کے بعد پھر ان کی قضا کرے، اس طرح اگر آنکھوں کے اشارے سے یا بھوؤں کے یا دل کے اشارے سے ادا کرے گا تو بھی نماز نہیں ہوگی، اسے بعد میں کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی اگر تندرست ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعِ الْإِيمَاءَ بِرَأْسِهِ أُخِّرَتْ عَنْهُ اگر یہ طاقت نہیں رکھتا اپنے سر سے اشارہ کرنے کی تو نماز اس سے مؤخر ہو جائے گی وَلَا يُؤْمِئُ بِعَيْنَيْهِ وَلَا بِقَلْبِهِ وَلَا بِحَاجِبَيْهِ اور اشارہ نہ کرے اپنی آنکھوں سے اور نہ اپنے دل سے اور نہ اپنی بھوؤں سے خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ برخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں ہو جائے گی۔ ہاں تو لِمَا رَوَيْنَا، اب یہ ہماری دلیل ہے، ان کے ساتھ اشارہ نہ کرے لِمَا رَوَيْنَا اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی مِنْ قَبْلُ پہلے۔ بھئی وہ جو اوپر حدیث آئی تھی کہ ”إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تَسْجُدَ عَلَى الْأَرْضِ فَاسْجُدْ، وَإِلَّا فَأَوْمِ بِرَأْسِكَ“ اگر تو زمین پر سجدہ کرنے پر قادر ہے تو سجدہ کر ورنہ اشارہ کر اپنے سر سے۔ آگے آنکھوں سے یا بھوؤں وغیرہ سے یا دل سے اشارے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر نہیں فرمایا، معلوم ہوا ان کے ساتھ نماز نہیں ہوگی، اگر ان کے ساتھ نماز جائز ہوتی تو حضور علیہ السلام ضرور اس کو بھی ذکر فرماتے۔ یہ معنی ہے لِمَا رَوَيْنَا اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی مِنْ قَبْلُ پہلے، وَلِأَنَّ نَصْبَ الْأَبْدَالِ بِالرَّأْيِ مُمْتَنِعٌ اور نیز اس لیے کیونکہ ابدال جمع ہے بدل کی، اس لیے کیونکہ بدلوں کو قائم کرنا، بدلوں کو مقرر کرنا رائے کے ساتھ مُمْتَنِعٌ یہ ممتنع ہے، یہ درست نہیں۔ بھئی دیکھیے، قیام کا قیام کا بدل کیا ہے؟ بیٹھنا، اور اس کا بدل کیا ہے؟ لیٹنا۔ تو دیکھو کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھے، بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتا تو لیٹ کر پڑھے، لیکن یہ بدل کیا ہم نے مقرر کیے ہیں یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلائے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو یہ جو بدل مقرر کیے گئے ہیں، یہ یہ چیز کوئی اپنی رائے سے بدل مقرر نہیں کر سکتا بلکہ یہ کس نے بتلائے ہیں؟ حضور علیہ السلام نے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص اب یہ کہتا ہے کہ جیسے امام زفر اس بات کی طرف گئے کہ بھوؤں سے یا آنکھوں کے اشارے وغیرہ سے نماز ادا کر لے گا تو یہ تو بدل کو مقرر کرنا ہوا اپنی رائے سے، اور بدل کو تو اپنی رائے سے مقرر نہیں کیا، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آنکھوں کا اشارہ یہ سر کے اشارے کے قائم مقام ہو گیا، یا سر کا اشارہ یہ سجدے کے قائم مقام ہو گیا؟ یہ یہ چیز عقل میں آنے والی نہیں، عقل کے ذریعے اس کو طے نہیں کیا جا سکتا، یہ کس نے بتائے ہیں؟ حضور۔ بھئی سجدہ ایک ہے سجدہ کرنا، ایک ہے صرف سر سے اشارہ کرنا، تو عقل کیا کہتی ہے، یہ اس کا قائم مقام ہے؟ نہیں، بظاہر سجدہ کیا اور چیز ہے، صرف ہلکا سا اشارہ اور چیز ہے، تو عقل کے ذریعے اس کا فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ وَلِأَنَّ نَصْبَ الْأَبْدَالِ بِالرَّأْيِ مُمْتَنِعٌ اور اس لیے کیونکہ بدلوں کا قائم کرنا، بدلوں کا مقرر کرنا بالرائے کس کے ذریعے؟ رائے کے ذریعے مُمْتَنِعٌ یہ ممتنع ہے۔ وَلَا قِيَاسَ عَلَى الرَّأْسِ، یہ بھی ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ اور فرماتے ہیں: یہ بھی آپ نہ کہیں کہ ہم سر پر قیاس کرتے ہیں، سر کے ساتھ اشارہ جائز تو بھوؤں کے ساتھ بھی اشارہ جائز، کہتے ہیں آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے، اس لیے کیونکہ سر جو ہے اس کے ذریعے باقاعدہ ایک رکنِ نماز ادا ہوتا ہے، سجدہ کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ سر کے ذریعے، تو اس کے ذریعے تو باقاعدہ ایک رکنِ نماز ادا ہوتا ہے جبکہ بھویں اس طرح نہیں ہیں، ان کے ذریعے کوئی رکنِ نماز ادا نہیں ہو سکتا، لہٰذا ان کو راس پر بھی قیاس نہیں کر سکتے۔ تو نہ اپنی رائے سے بدل مقرر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سر پر قیاس کیا جا سکتا ہے بھوؤں وغیرہ کا۔ وَلَا قِيَاسَ عَلَى الرَّأْسِ اور سر پر قیاس بھی نہیں صحیح، قیاس بھی نہیں ہوگا لِأَنَّهُ يَتَأَدَّى بِهِ رُكْنُ الصَّلَاةِ دُونَ الْعَيْنِ اس لیے کیونکہ سر کے ذریعے ایک نماز کا ایک رکن ادا ہوتا ہے نہ کہ آنکھوں سے وَأُخْتَيْهَا اور جو اس کے دو بہنیں ہیں، نہ کہ آنکھوں سے اور نہ اس کی جو دو بہنیں ہیں۔ کون بھئی دو بہنیں؟ یعنی قلب اور حاجبین، بھوؤں سے جو اشارہ ہے ان کو اس کی بہنیں کہا کیونکہ بہنیں ایک دوسرے کے مشابہ، تو یہ بھی کیا ہیں؟ ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، اس لیے ان کو کہا۔ دُونَ الْعَيْنِ، تو اس لیے کیونکہ سر کے ذریعے نماز کا رکن ادا ہوتا ہے نہ کہ آنکھوں کے ذریعے اور جو اس کے دو مشابہ چیزیں ہیں۔ وَقَوْلُهُ: ”أُخِّرَتْ عَنْهُ“ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّهُ لَا تَسْقُطُ الصَّلَاةُ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ صاحبِ قدوری کا قول جو ہے أُخِّرَتْ عَنْهُ، نماز اس سے کیا کر دی جائے گی؟ مؤخر کر دی جائے گی یعنی نماز اس سے مؤخر ہو جائے گی، إِشَارَةٌ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف إِلَى أَنَّهُ لَا تَسْقُطُ الصَّلَاةُ عَنْهُ کہ نماز اس سے ساقط نہیں ہوگی، یہ نہیں کہ بعد میں پڑھنی نہیں پڑے گی بلکہ صرف کیا ہوگی؟ مؤخر ہوگی، اس وقت پڑھ نہیں سکتا، جب تندرست ہو گیا تو کیا کرنا پڑے گی؟ پڑھنا پڑے گی۔ تو دیکھو اسی لیے انہوں نے کہا: أُخِّرَتْ عَنْهُ، نماز اس سے مؤخر ہو جائے گی، یہ نہیں کہا کہ تَسْقُطُ عَنْهُ، نماز اس سے ساقط ہو جائے گی۔ اور صاحبِ قدوری کا قول أُخِّرَتْ عَنْهُ إِشَارَةٌ یہ اشارہ ہے إِلَى أَنَّهُ لَا تَسْقُطُ الصَّلَاةُ عَنْهُ کہ نماز اس سے ساقط نہیں ہوگی۔ وَإِنْ كَانَ الْعَجْزُ أَكْثَرَ مِنْ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِذَا كَانَ مُفِيقًا، اگرچہ عجز جو ہے عاجز ہونا عاجز ہونا ایک دن رات سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی نماز اس سے ساقط نہیں إِذَا كَانَ مُفِيقًا جبکہ یہ افاقے سے ہو یعنی اس کو ہوش ہو۔ افاقے سے مفیق ہو، کیا معنی؟ جب ہوش ہے تو پھر چاہے یہ عجز ایک دن رات سے زیادہ ہی کیوں نہ رہا۔ بھئی آگے آپ مسئلہ پڑھیں گے کہ ایک شخص اگر بے ہوش ہو جاتا ہے، ایک دو نمازوں تک بے ہوش رہا تو اس کو بعد میں قضا کرنا پڑے گی پانچ نمازوں تک، لیکن اگر ایک دن رات پورا بے ہوش رہا، 24 گھنٹے سے بھی زیادہ وہ بے ہوش رہا تو پھر جو نمازیں بے ہوشی میں گزریں ان کی قضا بھی اس کے ذمے نہیں آئے گی، اس کی قضا بھی اس پر نہیں آئے گی جب ایک دن رات سے زیادہ بے ہوش رہا۔ تو یہاں بتلا رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ بھئی یہ شخص عاجز ہے، نمازیں اس سے مؤخر ہو جائیں گی، ساقط نہیں ہوں گی چاہے یہ عاجزی ایک دن رات سے زیادہ ہی کیوں نہ رہے جبکہ یہ مفیق ہو یعنی ہوش میں ہو، کیا ہو؟ ہوش میں ہو۔ وَإِنْ كَانَ الْعَجْزُ أَكْثَرَ مِنْ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِذَا كَانَ مُفِيقًا جبکہ عجز ایک دن یا رات سے زیادہ ہو إِذَا كَانَ مُفِيقًا جبکہ یہ ہوش میں ہو وَهُوَ الصَّحِيحُ اور یہی قول صحیح ہے۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ بے ہوش آدمی ایک دن رات سے زیادہ رہا تو نمازیں ساقط، یہ بیچارہ بالکل عاجز ہے نماز پڑھ ہی نہیں سکتا اشارہ بھی نہیں کر سکتا، ایک دن رات سے زیادہ گزر گیا پھر بھی آپ فرما رہے ہیں کہ اس سے نماز ساقط نہیں؟ کہتے ہیں بھئی وجہ یہ کہ یہ خطاب کو سمجھتا ہے، کس کو؟ خطاب کہتے ہیں دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر جو کلام کیا جائے اس کو خطاب کہتے ہیں، یہ جو آپ حضرات کی طرف متوجہ ہو کر میں تقریر کر رہا ہوں یہ بھی کیا ہے؟ خطاب ہے، تو دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر یعنی یوں کہے دوسرے سے جو بھی بات کی جائے وہ کیا ہے؟ خطاب۔ تو قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿أَقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾ کیا کرو؟ نماز قائم کرو، تم لوگ نماز قائم کرو، تو یہ خطاب ہے اور یہ اس سے کیا ہے؟ نماز کی فرضیت ثابت ہوتی ہے اور یہ شخص جب ہوش میں ہے تو یہ اس خطاب کو سمجھ رہا ہے یا نہیں سمجھ رہا؟ جب خطاب کو سمجھ رہا ہے تو خطاب اس کی طرف متوجہ بھی ہے اور اس پر نمازیں بھی فرض ہیں لیکن صرف یہ ہے اس وقت ادا نہیں کر سکتا، لیکن خطاب اس کی طرف متوجہ ہوا اور یہ اس کو سمجھ گیا، نماز اس پر فرض ہے اب بعد میں ادا کرنا پڑے گی جبکہ بے ہوش آدمی اس کی طرف تو خطاب متوجہ ہی نہیں کیونکہ وہ خطاب کو سمجھتا ہی نہیں، لہٰذا اسی لیے بے ہوش سے کوئی کلام بھی نہیں کیا جاتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ وَهُوَ الصَّحِيحُ اور یہی قول صحیح ہے لِأَنَّهُ يَفْهَمُ مَضْمُونَ الْخِطَابِ اس لیے کیونکہ یہ خطاب کے مضمون کو سمجھتا ہے بِخِلَافِ الْمُغْمَى عَلَيْهِ برخلاف اس شخص کے جو بے ہوش ہو۔ وَإِنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ وَلَمْ يَقْدِرْ عَلَى الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ لَمْ يَلْزَمْهُ الْقِيَامُ وَيُصَلِّي قَاعِدًا يُؤْمِئُ إِيمَاءً. صورتِ مسئلہ: ایک آدمی ہے وہ کھڑے ہونے پر تو قادر ہے لیکن رکوع اور سجدے پر قادر نہیں، رکوع اور سجدے پر قادر نہیں۔ تو کہتے ہیں کہ اب یہ کیا کرے؟ کیا کھڑے ہو کھڑا تو ہو سکتا ہے تو اور نماز میں قیام کیا ہے؟ فرض ہے، تو کیا یہ کھڑے ہو کر اشارہ اور رکوع کرنا اس کے لیے ضروری ہے یا بیٹھ کر بھی اشارے کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے؟ تو آپ کو بتلائیں گے یہ کہ بھئی کہ جب یہ رکوع اور سجدہ نہیں کر سکتا، جو بھی رکوع اور سجدہ نہ کر سکے اس سے قیام بھی ساقط ہو جاتا ہے، قیام بھی ساقط۔ اب اس کے ذمے کھڑا ہونا فرض نہیں، اب یہ چاہے تو بیٹھ کر بھی اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے، رکوع اور سجدے کا اشارہ کرے، اور بیٹھ کر پڑھنا یہ زیادہ بہتر ہے، اس لیے کیونکہ جب بیٹھ کر اشارہ کرے گا تو یہ سجدے کے زیادہ مشابہ ہے، ایک ہے کھڑے ہو کر اشارے سے نماز پڑھنا، ایک ہے بیٹھ کر اشارے سے پڑھنا، تو کیا چیز سجدے کے زیادہ مشابہ ہے، کھڑے ہو کر اشارہ یا بیٹھ کر؟ بیٹھ کر اشارہ سجدے کے زیادہ مشابہ ہے اس کے قریب ہے، لہٰذا بیٹھ کر اشارے سے پڑھے۔ اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھئی آپ نے ہمیں بتایا جو رکوع اور سجدہ نہیں کر سکتا اس سے قیام بھی ساقط ہو جاتا ہے، قیام اس پر فرض رہتا ہی نہیں، اس کی کیا وجہ؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے قیام اس لیے فرض ہے نماز کے اندر تاکہ انسان قیام سے سجدے میں جائے گا سیدھا تو اس میں انتہا درجے کی تعظیم ہے، تو اس لیے جب سجدہ فرض تھا تو قیام کو بھی کیا کر دیا گیا؟ فرض کر دیا گیا تاکہ یہ قیام کی حالت سے سیدھا کس کے اندر جائے؟ سجدے کے اندر جائے اور انتہا درجے کی عظمت کا اظہار کرے، اللہ کی تعظیم کا اظہار کرے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب قیام یہ جب یہ رکوع اور سجدہ نہیں کر سکتا تو لہٰذا اب اس پر قیام بھی فرض نہیں ہے بھئی، کیونکہ قیام تو فرض ہی کس لیے تھا تاکہ قیام سے سیدھا کس میں جائے؟ سجدے میں جائے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ رُكْنِيَّةَ الْقِيَامِ لِلتَّوَسُّلِ بِهِ إِلَى السَّجْدَةِ اس لیے کیونکہ قیام کا رکن ہونا لِلتَّوَسُّلِ بِهِ إِلَى السَّجْدَةِ اس کے ذریعے سجدے تک پہنچنے کی وجہ سے ہے کہ اس کے ذریعے کس تک پہنچے گا؟ لِلتَّوَسُّلِ بِهِ إِلَى السَّجْدَةِ سجدے تک اس کے ذریعے پہنچا جائے، توصل کا معنیٰ پہنچنا، لِلتَّوَسُّلِ بِهِ کہ اس کے ذریعے پہنچا جائے إِلَى السَّجْدَةِ سجدے تک۔ قیام کا رکن ہونا اس لیے ہے تاکہ اس قیام کے ذریعے پہنچا جائے سجدے تک لِمَا فِيهَا مِنْ نِهَايَةِ التَّعْظِيمِ اس وجہ سے کہ اس کے اندر انتہا درجے کی تعظیم ہے کہ قیام سے آدمی سیدھا کس میں جائے؟ سجدے میں جائے۔ فَإِذَا كَانَ لَا يَتَعَقَّبُهُ السُّجُودُ تو جب اس کے پیچھے سجدہ نہیں ہے، یہ قیام تو کر سکتا ہے لیکن اس قیام کے پیچھے سجدہ نہیں کیونکہ وہ سجدے پر تو قادر ہی نہیں، تو جب قیام کے پیچھے سجدہ نہ ہو لَا يَكُونُ رُكْنًا تو پھر یہ رکن بھی نہیں رہے گا یعنی فرض نہیں رہے گا فَيَتَخَيَّرُ تو اس مریض کو اختیار ہوگا وَالْأَفْضَلُ هُوَ الْإِيمَاءُ قَاعِدًا اور افضل وہ بیٹھ کر اشارہ کرنا ہے لِأَنَّهُ أَشْبَهُ بِالسُّجُودِ اس لیے کیونکہ بیٹھ کر اشارہ یہ سجدے کے زیادہ مشابہ ہے۔ وَإِنْ صَلَّى الصَّحِيحُ بَعْضَ صَلَاتِهِ قَائِمًا ثُمَّ حَدَثَ بِهِ مَرَضٌ أَتَمَّهَا قَاعِدًا يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ أَوْ يُؤْمِئُ إِنْ لَمْ يَقْدِرْ أَوْ مُسْتَلْقِيًا إِنْ لَمْ يَقْدِرْ. صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک آدمی تندرست تھا اور اس نے کھڑے ہو کر نماز شروع کی اور پھر اس کو مرض لاحق ہوا، بیچ میں تکلیف بیماری وغیرہ شروع ہو گئی، تو کیا اب یہ بیٹھ کر باقی نماز یعنی وہ فرض جو پڑھ رہا ہے وہ پورے کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ کہتے ہیں ہاں بھئی، وہ بیٹھ کر کیا کر سکتا ہے؟ باقی نماز تو اسی نماز پر بنا کرتے ہوئے بیٹھ جائے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پھر لیٹ جائے اسی نماز پر بنا کرتے ہوئے، دو مثلاً دو رکعتیں پڑھ چکا ہے اس کے بعد یہ مرض لاحق ہوا تو اسی پر کیا کر سکتا ہے؟ بنا کر سکتا ہے۔ اس لیے کیونکہ یہ بنا اقتدا کی طرح ہے، کس کی طرح؟ اقتدا۔ جیسے اقتدا کے اندر امام کا اعلیٰ ہونا ضروری، امام اعلیٰ ہو تو ادنیٰ اس کی اقتدا کر سکتا ہے، یعنی امام کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا ہے اور مقتدی بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے تو یہ اقتدا صحیح، اور امام کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا ہے اور مقتدی لیٹ کر نماز پڑھ رہا ہے تو امام کیا ہے؟ اعلیٰ، لہٰذا یہ اقتدا صحیح۔ لیکن اس کا اگر عکس ہو، امام اشارے سے نماز پڑھنے والا ہے اور مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والا ہے تو مقتدی کی حالت کیا اس کی نماز کیا ہوئی؟ اعلیٰ ہوئی، تو اس صورت میں اقتدا صحیح نہیں۔ تو یہاں بھی بنا اسی طرح ہے، اگر پہلا حصہ ہوا اعلیٰ نماز کا اور بعد والا ہوا ادنیٰ تو کیا کر سکتا ہے؟ بنا کر اور کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا ہے اور پھر بعد میں بیٹھ کر یا اشارے سے نماز پڑھنا چاہتا ہے تو شروع کا حصہ تھا اعلیٰ، بعد والا حصہ کیا ہوا؟ ادنیٰ، تو بنا کر سکتا ہے ادنیٰ کی کس پر؟ اعلیٰ پر۔ لیکن اگر اس کا عکس ہو پھر نہیں، ایک شخص نے نماز شروع کی تھی اشارے سے اور بیچ میں تندرست ہو گیا، اب اسی پر وہ بنا کرنا چاہتا ہے دو رکعتیں اشارے سے پڑھ چکا ہے اب دو رکعتیں کس طرح پڑھنا چاہتا ہے؟ کھڑے ہو کر، کہتے ہیں نہیں، بنا نہیں کر سکتا، جیسے اقتدا نہیں تھی صحیح امام اشارہ کرنے والا اور مقتدی رکوع اور سجدہ کرنے والا ہو تو اقتدا صحیح نہیں تھی تو یہاں پر بھی نماز کا پہلا حصہ جب ادنیٰ ہے بعد والا اعلیٰ ہے تو ادنیٰ پر اعلیٰ کی بنا صحیح نہیں، مسئلہ سمجھ میں آ گیا؟ وَإِنْ صَلَّى الصَّحِيحُ بَعْضَ صَلَاتِهِ قَائِمًا اور اگر ایک تندرست آدمی نے اپنی کچھ نماز کھڑے ہو کر پڑھ لی ثُمَّ حَدَثَ بِهِ مَرَضٌ پھر اس کو پیش آ گیا مرض أَتَمَّهَا قَاعِدًا تو وہ اس نماز کو پورا کرے بیٹھ کر يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے، بیٹھ کر کیا کر لے؟ رکوع اور سجدہ، أَوْ يُؤْمِئُ إِنْ لَمْ يَقْدِرْ یا اشارہ کر لے اگر وہ رکوع اور سجدے پر قادر نہیں أَوْ مُسْتَلْقِيًا إِنْ لَمْ يَقْدِرْ یا لیٹ کر اگر وہ بیٹھنے پر بھی قادر نہیں لِأَنَّهُ بَنَى الْأَدْنَى عَلَى الْأَعْلَى اس لیے کیونکہ اس نے بنیاد رکھ لی ہے ادنیٰ کی کس پر؟ اعلیٰ پر فَصَارَ كَالِاقْتِدَاءِ تو یہ کس کی طرح ہو گیا؟ اقتدا کی طرح ہو گیا۔ وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ، اب آپ مجھے مسئلہ بتائیے بھئی۔ ایک آدمی ہے وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے بھئی، رکوع اور سجدہ کرتا ہے، بیٹھا ہے لیکن کیا کر رہا ہے؟ رکوع اور سجدہ کر رہا ہے کھڑا نہیں ہو سکتا، اور ایک دو رکعتیں پڑھنے کے بعد وہ تندرست ہو گیا اب کھڑے ہو کر نماز باقی پڑھنا چاہتا ہے اسی پر بنا کرتے ہوئے، بنا کر سکتا ہے یا بنا نہیں کر سکتا؟ جی؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بنا نہیں کر سکتا کیونکہ ان کے نزدیک امام اگر بیٹھ کر نماز پڑھائے اور مقتدی کھڑے ہو کر پڑھے تو ان کے نزدیک اقتدا صحیح نہیں۔ لیکن شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک پڑھ سکتا ہے، سمجھ میں آیا؟ تو یہ اختلاف اقتدا میں ہے، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں امام بیٹھا ہو مقتدی کھڑا ہو اقتدا صحیح نہیں، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں امام بیٹھا ہو مقتدی کھڑا ہو تو اقتدا صحیح ہے۔ تو جب اقتدا صحیح ہے تو وہ فرماتے ہیں یہاں پر بنا بھی صحیح، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اقتدا صحیح نہیں لہٰذا یہاں پر بنا بھی صحیح نہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک امام بیٹھا ہو مقتدی کھڑا ہو لیکن امام اشارے سے رکوع سجدہ نہیں کر رہا بیٹھ کر باقاعدہ کیا کر رہا ہے؟ رکوع اور سجدہ باقاعدہ وہ کرتا ہے تو پھر اقتدا صحیح ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، دلیل پڑھ چکے آپ بھئی کہ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں نماز کس طرح پڑھائی تھی کہ آپ بیٹھ کر پڑھ رہے تھے اور لوگ پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ لِمَرَضٍ اور جو شخص نماز پڑھتا ہے بیٹھ کر رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے لِمَرَضٍ بیماری کی وجہ سے ثُمَّ صَحَّ پھر وہ تندرست ہو گیا بَنَى عَلَى صَلَاتِهِ قَائِمًا تو وہ بنا کرے گا اپنی نماز پر کھڑے ہو کر عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: اسْتَقْبَلَ، اور امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ نئے سرے سے نماز پڑھے گا، بنا نہیں کر سکتا بِنَاءً عَلَى اخْتِلَافِهِمْ فِي الِاقْتِدَاءِ بوجہ ان کے اختلاف کے فِي الِاقْتِدَاءِ کس میں؟ اقتدا میں، اقتدا میں ان میں اختلاف کی وجہ سے یہ یوں فرماتے ہیں۔ شیخین فرماتے تھے چونکہ اقتدا جائز ہے تو بنا بھی کر سکتے، امام محمد رحمہ اللہ چونکہ فرماتے ہیں اقتدا نہیں صحیح تو بنا بھی نہیں کر، وَقَدْ تَقَدَّمَ بَيَانُهُ اور تحقیق اس کا بیان پیچھے گزر چکا ہے باب الامامت کے اندر بھئی۔ وَإِنْ صَلَّى بَعْضَ صَلَاتِهِ بِإِيمَاءٍ ثُمَّ قَدَرَ عَلَى الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ اسْتَأْنَفَ عِنْدَهُمْ جَمِيعًا. دوسری صورت: ایک آدمی نے کچھ نماز کا حصہ اشارے سے ادا کیا یعنی رکوع اور سجدہ، رکوع اور سجدہ کس طرح کیا ہے؟ اشارے سے، اور پھر وہ تندرست ہو گیا اب وہ اسی پر بنا کرنا چاہتا ہے اب وہ رکوع اور سجدے پر قادر ہو گیا، تو بنا کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ نہیں، اب بالاتفاق وہ بنا نہیں کر سکتا کیونکہ اقتدا جیسے یہاں صحیح نہیں اسی طرح بنا بھی امام اشارے سے رکوع اور سجدہ کرے مقتدی کیا کرے؟ رکوع اور سجدے پر قادر ہے تو اقتدا صحیح نہیں بالاتفاق، تو بنا بھی یہاں صحیح نہیں۔ وَإِنْ صَلَّى بَعْضَ صَلَاتِهِ بِإِيمَاءٍ اور اگر پڑھی اس نے اپنی کچھ نماز اشارے کے ساتھ ثُمَّ قَدَرَ عَلَى الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ پھر وہ قادر ہو گیا رکوع اور سجدے پر اسْتَأْنَفَ تو نئے سرے سے پڑھے گا عِنْدَهُمْ جَمِيعًا ان سب کے نزدیک، تمام ائمہ کے نزدیک لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ اقْتِدَاءُ الرَّاكِعِ بِالْمُؤْمِي فَكَذَا الْبِنَاءُ اس لیے کیونکہ جائز نہیں ہے اقتدا کرنا رکوع کرنے والے کا بِالْمُؤْمِي کس کی اقتدا؟ اشارہ کرنے والے کی فَكَذَا الْبِنَاءُ تو اسی طرح بنا بھی ہے۔ وَمَنِ افْتَتَحَ التَّطَوُّعَ قَائِمًا ثُمَّ أَعْيَا لَا بَأْسَ أَنْ يَتَوَكَّأَ عَلَى عَصًا أَوْ حَائِطٍ أَوْ يَقْعُدَ. اچھا بھئی، صورت یہ: ایک آدمی نے نفل پڑھنا شروع کیے کھڑے ہو کر پھر تھک گیا، اب وہ کسی لاٹھی کا سہارا لے لیتا ہے، لاٹھی پر ٹیک لگا لیتا ہے یا دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا ہے، ساتھ ہی اس کے دیوار ہے، یہ نہیں کہ دور جا کر پھر دیوار کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں پھر تو بنا کوئی صورت نہیں، تو ساتھ ہی دیوار کے ساتھ ہی کھڑا تھا اسی کے ساتھ پہلو لگا لیا کچھ ٹیک لگا لی، یا بیٹھ جاتا ہے تو کیا ایسا کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ یہ عذر ہے، وہ تھک گیا ہے، یہ کیا ہے؟ عذر ہے، لہٰذا ٹیک وغیرہ لگا سکتا ہے یا بیٹھ سکتا ہے کیونکہ عذر کی حالت میں اس کی گنجائش ہے۔ یہ معنی ہے: وَمَنِ افْتَتَحَ التَّطَوُّعَ، تَطَوُّع بھئی نفل، اور جس نے آغاز کیا نفلوں کا قَائِمًا کھڑے ہو کر ثُمَّ أَعْيَا پھر وہ تھک گیا لَا بَأْسَ أَنْ يَتَوَكَّأَ عَلَى عَصًا تو کوئی حرج نہیں کہ وہ ٹیک لگا لے عَلَى عَصًا کس پر؟ لاٹھی پر أَوْ حَائِطٍ یا کس پر؟ دیوار پر أَوْ يَقْعُدَ یا یہ کہ وہ بیٹھ جائے لِأَنَّ هَذَا عُذْرٌ اس لیے کیونکہ یہ عذر ہے۔ وَإِنْ كَانَ الِاتِّكَاءُ بِغَيْرِ عُذْرٍ يُكْرَهُ، اور اگر یہ ٹیک لگانا بغیر کسی عذر کے تھا يُكْرَهُ تو پھر یہ مکروہ ہے بھئی، مکروہ ہے۔ لِأَنَّهُ إِسَاءَةٌ فِي الْأَدَبِ، إِسَاءَةٌ کہتے ہیں خرابی، خرابی بھئی، کسی کام کو غلط کرنا۔ لِأَنَّهُ إِسَاءَةٌ فِي الْأَدَبِ اس لیے کیونکہ یہ بے ادبی ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ بے ادبی ہے۔ یہاں تک مسئلہ سمجھ میں آیا بھئی؟ اچھا بھئی، مسئلہ یاد رکھیے، آپ پڑھ چکے ہیں، آپ پڑھ چکے ہیں کہ ایک شخص نفل کھڑے ہو کر شروع کرتا ہے اور درمیان میں کچھ حصہ باقی حصہ کچھ حصہ اس نے کھڑے ہو کر پڑھ لیا باقی حصہ وہ بیٹھ کر پڑھنا چاہتا ہے، تو امام صاحب کے نزدیک جائز ہے بلا کراہت کے، جائز ہے بلا کراہت کے کہ وہ بیٹھ سکتا ہے، اور صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ بغیر عذر کے بیٹھنا صحیح نہیں، لہٰذا وہ فرماتے ہیں کہ یہ درست نہیں بھئی، ان کے نزدیک جائز ہی نہیں ہے اس طرح کرنا، مکروہ نہیں بلکہ جائز ہی نہیں ہے ان کے نزدیک۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ امام صاحب کے نزدیک نفلوں میں درمیان میں بغیر عذر کے بیٹھنا بھی جائز، اور صاحبین کے نزدیک جائز نہیں۔ اور یہاں کیا آیا مسئلہ؟ کہ اگر یہ ٹیک لگایا بغیر عذر کے تو یہ کیا ہے؟ مکروہ ہے، کیا ہے؟ مکروہ ہے، تو پھر فرق بیان کرنا پڑے گا امام صاحب کے مذہب کے مطابق بھئی۔ امام صاحب کے نزدیک بیٹھنا بغیر عذر کے مکروہ نہیں لیکن ٹیک لگانا بغیر عذر کے مکروہ ہے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ امام صاحب کے نزدیک بغیر عذر کے بیٹھنا جائز ہے مکروہ نہیں، اور ٹیک لگانا بغیر عذر کے مکروہ ہے، تو کیا وجہ ہے اس کی؟ تو وجہ یہ کہ فرق ان دونوں میں یہ ہے کہ اس لیے کیونکہ جو نفل پڑھنے والا ہے اس کو ابتداءً بیٹھنے کی اجازت ہے، اختیار ہے، نفل بیٹھ کر پڑھے جا سکتے ہیں یا نہیں؟ احادیث پیچھے گزری تھی کہ جو بیٹھ کر نماز پڑھے اس کو نصف اجر ملتا ہے کھڑے ہونے والے کی بنسبت بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں اس کو ابتداءً بیٹھنے کا اختیار تھا تو بیچ نماز میں بھی وہ اختیار باقی، جس جو حصہ ابھی اس نے ادا نہیں کیا اس میں بھی اختیار باقی رہے گا، وہ درمیان میں کیا کر سکتا ہے؟ بیٹھ سکتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ لیکن ٹیک لگانا اس کو اس کو شروع میں اس کو اختیار نہیں تھا تو درمیان میں بھی بغیر عذر کے اختیار نہیں ہوگا، فرق سمجھ میں آ گیا؟ وَقِيلَ: لَا يُكْرَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، یہ دوسرے بعض فقہاء نے ذکر کیا، پہلے قول کے مطابق ٹیک لگانا بغیر عذر کے امام صاحب کے نزدیک مکروہ ہے، اور وَقِيلَ اور کہا گیا: لَا يُكْرَهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ کہ بغیر عذر کے ٹیک لگانا بھی امام صاحب کے نزدیک مکروہ نہیں، کیوں؟ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَوْ قَعَدَ عِنْدَهُ يَجُوزُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَكَذَا لَا يُكْرَهُ الِاتِّكَاءُ اس لیے کیونکہ اگر وہ بیٹھ جائے امام صاحب کے نزدیک تو جائز ہے بغیر کسی عذر کے، جیسے اس کے لیے بیٹھنا بغیر عذر کے جائز ہے فَكَذَا لَا يُكْرَهُ الِاتِّكَاءُ تو اسی طرح ٹیک لگانا بھی ان کے نزدیک مکروہ نہیں، یہ دوسری روایت آئی، فرق سمجھ میں آیا؟ وَعِنْدَهُمَا يُكْرَهُ، اور صاحبین کے نزدیک مکروہ ہے لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ الْقُعُودُ عِنْدَهُمَا فَيُكْرَهُ الِاتِّكَاءُ اس لیے کیونکہ ان کے نزدیک بیٹھنا جائز نہیں ہے تو ٹیک لگانا بھی مکروہ ہوگا۔ بیٹھنا کیا معنی؟ شروع سے تو بیٹھنا جائز ہے، بیچ میں بیٹھنے کی بات ہو رہی ہے درمیانِ صلاۃ میں، نفلوں میں بیٹھنا ان کے نزدیک بغیر عذر کے جائز نہیں تو اسی طرح ٹیک لگانا بھی مکروہ ہوگا۔ وَإِنْ قَعَدَ بِغَيْرِ عُذْرٍ يُكْرَهُ بِالِاتِّفَاقِ، اور اگر وہ بیٹھ گیا بغیر کسی عذر کے تو مکروہ ہے بالاتفاق بھئی۔ اگر بغیر عذر کے نفلوں میں بیچ میں بیٹھ گیا تو بالاتفاق مکروہ ہے، بالاتفاق مکروہ۔ وَتَجُوزُ الصَّلَاةُ عِنْدَهُ، اور نماز جائز ہو جائے گی امام صاحب کے نزدیک، مکروہ تو ہے لیکن نماز ہو جائے گی وَلَا تَجُوزُ عِنْدَهُمَا اور صاحبین کے نزدیک نماز ہی جائز نہیں اس طرح نماز ہی درست نہیں ہوگی وَقَدْ مَرَّ فِي بَابِ النَّوَافِلِ اور تحقیق یہ بات باب النوافل میں گزر چکی ہے، کس میں؟ باب النوافل میں۔ بھئی دیکھیے، توجہ سے، یہاں آیا متن میں: اگر وہ بیٹھ گیا بغیر کسی عذر کے تو مکروہ ہے بالاتفاق بھئی۔ بالاتفاق کا کیا معنی؟ امام صاحب کے نزدیک بھی اور صاحبین کے نزدیک بھی۔ یہاں ایک دو اعتراضات ہوتے ہیں، ایک اعتراض تو یہ ایک اعتراض تو یہ کہ بالاتفاق کیسے کہا؟ پیچھے ذکر ہوا تھا کہ امام صاحب کے نزدیک بیٹھنا بغیر عذر کے بھی بیٹھنا جائز ہے کیونکہ ابتداءً اس کو اختیار ہے بیٹھنے کا تو درمیان میں بھی جو حصہ ابھی ادا نہیں کیا اس میں بھی کیا رہے گا اس کو؟ اختیار رہے گا، اختیار رہے گا۔ تو جواب یہ کہ اس سلسلے میں امام صاحب سے دو روایتیں ہیں، دو روایتیں ہیں اور ایک روایت یہ ہے کہ بغیر عذر کے بیٹھے گا تو مکروہ ہے، البتہ نماز جائز ہے نماز ہو جائے گی، نفل ہو جائیں گے، البتہ مکروہ ہے۔ لیکن علامہ فخر الاسلام رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ صحیح قول یہ ہے کہ امام صاحب کے نزدیک بغیر عذر کے بھی بیٹھے تو مکروہ بھی بغیر عذر کے بیٹھے تو مکروہ بھی نہیں ہے، یہ صحیح قول یہ ہے بھئی۔ تو وہاں جو ذکر ہوا تھا وہ تھا کس قول پر؟ اس دوسرے قول پر مبنی تھا اور یہاں دوسرے قول پر مبنی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اور بعض شارحین نے تو یہ لکھا کہ یہ بالاتفاق کا لفظ یہ کسی لکھنے، کاتب کی غلطی سے یہاں آ گیا ہے، سمجھ میں آیا؟ ورنہ امام صاحب کے نزدیک مکروہ بھی نہیں ہے بھئی، مکروہ بھی نہیں ہے۔ تو ایک تو یہ اشکال، جواب سمجھ میں آ گیا کہ بالاتفاق کا ایک جواب کیا کہ یہ کس یہ کس پر مبنی ہے؟ دوسری روایت پر مبنی ہے، دوسری روایت میں کیا آیا تھا؟ امام صاحب کے نزدیک بغیر عذر کے بیٹھنا مکروہ ہے، اور وہ پہلے جو ذکر ہوا تھا وہ کس پر مبنی تھا؟ وہ دوسری روایت جس کو علامہ فخر الاسلام نے صحیح قرار دیا ہے، اور بعض شارحین نے یہ بھی کہا کہ یہ بالاتفاق کا لفظ کسی لکھنے والے کی غلطی سے کسی نے لکھ دیا اور اسی طرح چلا ایا نسخوں میں بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ پر بھی یہاں اعتراض کیا گیا بھئی کہ صاحبِ ہدایہ آگے فرما رہے ہیں: وَلَا تَجُوزُ عِنْدَهُمَا، صاحبین کے نزدیک جائز ہی نہیں ہے، بغیر عذر کے بیٹھے گا تو جائز ہی نہیں ہے نماز ہی نہیں ہوگی اس کی۔ تو جب جائز نہیں ہے تو متن میں تو یہ کیا آ رہا ہے کیا آیا؟ مکروہ ہے، تو مکروہ سے تو یہی پتہ چل رہا ہے کہ نماز ہو جائے گی البتہ مکروہ ہوگی مکروہ ہوگی، تو اس کو کیسے اس کے اندر انہوں نے داخل کیا یعنی غیر جائز کو صاحبِ ہدایہ نے کیسے مکروہ کہا بھئی، کیسے مکروہ کہا؟ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وَإِنْ قَعَدَ، دوبارہ آپ دیکھ لیجیے: وَإِنْ قَعَدَ بِغَيْرِ عُذْرٍ يُكْرَهُ بِالِاتِّفَاقِ اور اگر وہ بیٹھا بغیر کسی عذر کے تو مکروہ ہے بالاتفاق وَتَجُوزُ الصَّلَاةُ عِنْدَهُ اور نماز جائز ہو جائے گی امام صاحب کے نزدیک وَلَا تَجُوزُ عِنْدَهُمَا اور صاحبین کے نزدیک جائز نہیں ہوگی وَقَدْ مَرَّ فِي بَابِ النَّوَافِلِ اور تحقیق یہ بات گزر چکی ہے نوافل کے باب میں۔ تو صاحبِ ہدایہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ انہوں نے لَا تَجُوزُ کو يُكْرَهُ کے اندر کیسے داخل کیا کہ يُكْرَهُ سے کیا مراد ہے؟ یہاں پر نماز جائز ہی نہیں ہے، تو جواب یہ دیا بعض محشی حضرات نے کہ کراہت سے مراد یہاں کراہتِ لغوی ہے یعنی ناپسندیدہ ہونا، کیا مراد ہے؟ ناپسندیدہ ہونا، اور ناجائز بھی کیا ہے؟ ناپسندیدہ تو ہے، تو لہٰذا اس اعتبار سے یہ اس میں داخل ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ.
169 approved lectures · 73 of 169