اس سبق میں ہم شرح وقایہ آخرین کا دوسرا حصہ یعنی کتاب الشفوع سے پڑھیں گے۔
تو آئیے شروع میں دعا پڑھ لیں۔ میرے ساتھ ساتھ پڑھیے بسم اللہ الرحمن الرحیم, الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد و علی آلہ و اصحابہ اجمعین۔ اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و اصحابہ و بارک وسلم۔ اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و اصحابہ و بارک وسلم۔ اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و اصحابہ و بارک وسلم۔
رَبَّنَا يَسِّرْ لَنَا هَذَا الْكِتَابَ وَلَا تُعَسِّرْهُ وَتَمِّمْ بِالْخَيْرِ وَبِكَ نَسْتَعِينُ يَافَتَّاحُ يَا عَلِيمُ۔ رَبَّنَا يَسِّرْ لَنَا هَذَا الْعِلْمَ وَلَا تُعَسِّرْهُ وَتَمِّمْ بِالْخَيْرِ وَبِكَ نَسْتَعِينُ يَافَتَّاحُ يَا عَلِيمُ۔ رَبَّنَا يَسِّرْ لَنَا هَذَا الْكِتَابَ وَلَا تُعَسِّرْهُ وَتَمِّمْ بِالْخَيْرِ وَبِكَ نَسْتَعِينُ يَافَتَّاحُ يَا عَلِيمُ۔
اللہم نور قلوبنا بنور معرفتک وطہر قلوبنا عممن سواک یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا ارحم الراحمین، یا اکرم الاکرمین۔ اللہم نور قلوبنا وطہر قلوبنا، اللہم اجعل حبک احب الاشیاء إلینا، اللہم اجعل حبک وحب نبیک وحب القرآن وحب الصحابۃ احب الاشیاء إلینا۔ اللہم یسر امورنا ولا تعسرھا وتممھا بالخیر یا قاضی الحاجات، یا قاضی الحاجات، یا قاضی الحاجات۔
اللہم نور قلوبنا واشرح صدورنا، اللہم اجعل سنۃ رسولک صلی اللہ علیہ وسلم احب الاشیاء إلینا، اللہم اجعلنا ممن احیا سنۃ رسولک صلی اللہ علیہ وسلم، اللہم اجعل توفیقک وعونک خیر رفیقنا فی صعوبتنا وفی امورنا وفی لیالینا وفی نہورنا وفی حرکاتنا وسکناتنا وفی بیوتنا وخارج بیوتنا۔ اللہم نور قلوبنا واشرح صدورنا فلا منور إلا أنت ولا شارح إلا أنت، اللہم إنک علی کل شيء قدیر وبالإجَابَةِ جَدِيرٌ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہم صلی علی سیدنا و مولانا محمد و علی آلہ و اصحابہ و بارک وسلم۔ یا حی یا قیوم، یا حی یا قیوم، یا حی یا قیوم، یا عزیز یا لطیف، یا عزیز یا لطیف، یا عزیز یا لطیف، یا اللہ، یا اللہ، یا اللہ لا حول ولا قوۃ الا بالله، لا حول ولا قوۃ الا بالله، لا حول ولا قوۃ الا بالله، لا إله إلا أنت سبحانک إنی كنت من الظالمین، لا إله إلا أنت سبحانک إنی كنت من الظالمین۔
رَبَّنَا أَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْاعْتِمَادُ وَالتُّكْلَانُ۔ رَبَّنَا وَفِّقْنَا لِلْخَيْرِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ۔ رَبَّنَا وَفِّقْنَا لِلْخَيْرِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ۔ رَبَّنَا وَفِّقْنَا لِلْخَيْرِ وَالْعَمَلِ الصَّالِحِ۔ اللہم ارزقنا الأعمال الصالحۃ واجرنا من السیئات۔ رَبَّنَا يَسِّرْ لَنَا فَهْمَ العلوم وفهم أسرارها وفهم دقائقها۔ رَبَّنَا يَسِّرْ لَنَا فَهْمَ العلوم وفهم حقائقها وفهم أسرارها وفهم دقائقها۔
اللہم إنا نسألك العافية والسلامة الظاهرة والباطنة في الدنيا والآخرة، اللہم اقض لنا، اللہم اقض لنا بالخير وقنا شر ما قضيت، وقنا شر ما قضيت۔ اللہم اصلح أحوالنا، اللہم اصلح أحوالنا وقلوبنا یا قاضی الحاجات، یا قاضی المهمات، یا دافع الأمراض والبلیات۔ اللہم اجعلنا من المؤمنين الصالحين، الصائمين، الصائمين، المصلين، الصابرين، الشاكرين، الذاكرين، المحسنين۔
اللہم نقنا من الذنوب كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، اللہم آمن روعاتنا واستر عوراتنا، اللہم أعذنا من كل آفت ومن كل معصية نعرفها أو لا نعرفها، وأعذنا من كل حادثة وحزن وخوف۔ رَبَّنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَبِالْإِجَابَةِ جَدِيرٌ۔ رَبَّنَا وَفِّقْنَا لِمُطَالَعَةِ هَذِهِ العلوم والمسائل والأحكام والأسَرار والفواءد۔ رب افتح لنا أسرار هذا العلم وحقيقته ودقائقه۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ دَرْسَنَا ودراستنا، رَبَّنَا تَقَبَّلْ دَرْسَنَا ودراستنا، رَبَّنَا تَقَبَّلْ دَرْسَنَا ودراستنا۔
رَبَّنَا زِدْنَا عِلْمًا، رَبَّنَا زِدْنَا عِلْمًا، رَبَّنَا زِدْنَا عِلْمًا وزدنا نوراً وزدنا حباً لك ولرسولك ولصحابۃ رسولك، يا قاضی الحاجات، يا رافع الدرجات، يا دافع البليات، يا شافی الأمراض، يا شافی الأمراض، يا شافی الأمراض۔ اللہم اشفنا من جميع الأمراض، يا مجیب الدعوات أجب دعاءنا ولا تجعلنا محرومين، يا مجیب الدعوات أجب دعاءنا ولا تجعلنا محرومين، يا مجیب الدعوات أجب دعاءنا ولا تجعلنا محرومين، فإنك على كل شيء قدیر وبالإجابة جَدِيرٌ، آمین آمین آمین ثم آمین، والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
---
اچھا بھئی اب کوئی ساتھی آپ میں سے اس کتاب میں سے بھی عبارت کچھ پڑھ لے بھئی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم، کتاب الشفعة۔ هِي تملُّكُ عَقَارٍ عَلَى مُشْتَرِيهِ جَبْرًا بِمِثْلِ ثَمَنِهِ أَيْ بِمِثْلِ ثَمَنِ الْمُشْتَرِي وَهُوَ الثَّمَنُ الَّذِي اشْتَرَى بِهِ وَتَجِبُ بَعْدَ الْبَيْعِ الْمُرَادُ بِالْوُجُوبِ الثُّبُوتُ وَتَسْتَقِرُّ بِالْإِشْهَادِ إِذْ حَقُّ الشُّفْعَةِ قبل الإشهاد حقُّ الشُّفْعَةِ إِذْ حَقُّ الشُّفْعَةِ قَبْلَ الْإِشْهَادِ مُتَزَلْزِلٌ لِأَنَّهُ بِحَيْثُ لَوْ أَخَّرَ لَوْ أَخَّرَتِ الطَّلَبَ تَبْطُلُ فَإِذَا أَشْهَدَ اسْتَقَرَّ أَيْ لَا تَبْطُلُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالتَّأْخِيرِ وَيُمْلَكُ وَيُمْلَكُ وَيُمْلَكُ بِالْأَخْذِ بِالتَّرَاضِي أَوْ بِقَضَاءِ الْقَاضِي بِقَدْرِ رُءُوسِ الشُّفَعَاءِ إِلَّا الْمِلْكَ۔
آج بدھ کا دن ہے اور اور بعض احادیث میں آتا ہے کہ بدھ کے دن جو کام آغاز کیا جائے اللہ اس کو تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ صاحبِ ہدایت جو تھے عظیم فقیہ گزرے ہیں احناف کے وہ بھی عموماً اپنے درس کا آغاز بدھ کے دن سے کیا کرتے تھے۔ تو الحمد للہ آج ہم بھی بدھ کا دن ہے بدھ کے دن آغاز کر رہے ہیں۔ اور ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے درس کے آغاز میں دعا پڑھتے ہیں وہ بھی ہم نے دعا بھی کرلی۔
تو یہ شرح وقایہ آخرین کا دوسرا حصہ ہے بھئی اور مصنف کے احوال وغیرہ اور کچھ ابتدائی باتیں وہ پہلے حصے کے شروع میں بیان کی جاتی ہیں۔ تو کل سے ہم کتاب شروع کریں گے اور شروع میں میں پھر وہی مصنف کے حالات مختصراً ذکر کردیتا ہوں تاکہ آپ کو آپ کے لیے تکرار ہو جائے اور ذہن نشین ہو جائیں۔
یاد رکھیے شرح وقایہ کے مصنف کا نام عبیداللہ ہے عبیداللہ۔ عبیداللہ ابن مسعود ابن محمود ابن احمد اور یہ بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں بہت بڑے حتی کہ اس زمانے کے علماء نے ان کو صدر الشریعہ کا لقب دیا۔ اتنے بڑے عالم تھے اتنا علم اللہ نے ان کو نصیب فرمایا تھا کہ علماء نے ان کو صدر الشریعہ کا لقب دیا۔ اور ان کے دادا جو تھے وہ اتنے بڑے عالم تھے کہ وہ تاج الشریعہ کا لقب ان کو علماء نے دیا تھا۔ ان کے پردادا بھی اتنے بڑے عالم تھے کہ ان کو علماء نے ان کو بھی صدر الشریعہ کا لقب دیا تھا۔
تو پردادا بھی صدر الشریعہ اور ان کا بھی کیا لقب؟ صدر الشریعہ۔ تو پھر فرق کرنے کے لیے علماء پردادا کے نام کے ساتھ اکبر ملا دیتے ہیں صدر الشریعہ اکبر اور ان کے نام کے ساتھ صدر الشریعہ اصغر اصغر ملا دیتے ہیں۔ اور یہ یہ صحابی رسول عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ حدیث، تفسیر، فقہ، اصول فقہ، نحو، لغت، ادب اسی طرح منطق اور فلسفہ کے بہت بڑے ماہر تھے، بہت بڑے ماہر تھے۔ اور ان کی وفات ہوئی ہے 747 ہجری میں۔ 747 ہجری میں گویا یہ ساتویں آٹھویں صدی کے عالم گزرے ہیں۔ آٹھویں صدی کہہ لیں۔ 700 آپ کہیں گے 747 ہجری ہے تو آٹھویں صدی کیسے؟ بھئی 700 ہجری کا مطلب کیا ہے؟ کہ 700 سال پورے ہو چکے ہجرت کو۔ تو 700 جب ہو گئے اس کا مطلب ہے 700 سال پورے ہو گئے تو اگلی کون سی صدی شروع ہو گئی؟ آٹھویں تو یہ 747 یہ کون سی صدی چل رہی ہے؟ آٹھویں چل رہی ہے۔
تو یہ آٹھویں صدی یعنی 747 ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ تو ساتویں صدی کے آخر میں ان کی پیدائش ہوئی ہوگی اور آٹھویں صدی کے نصف میں تقریباً ان کا انتقال ہوا ہے بھئی۔ اور شرح وقایہ اس کو اللہ نے بڑی قبولیت دی ہے۔ یاد رکھیے اس کا اس میں ایک متن ہے اور پھر اس کے ساتھ وہ شرح کرتے ہیں۔ کتاب میں آپ دیکھ رہے ہیں جن جن الفاظ کے اوپر لکیر کھینچی گئی ہے یہ متن ہے متن۔
اور پھر درمیان میں جگہ جگہ وہ اس متن کی شرح کرتے ہیں تو یہ جو متن ہے یہ ان کے دادا تاج الشریعہ کا لکھا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ متن لکھا تھا بھئی مختصر کتاب لکھی جاتی جس میں سارے مسائل کی طرف اشارہ کیا جاتا اور پھر استاد کو تقریر کرنا پڑتی تھی تفصیلی۔ جیسے انہوں نے اس متن کو دیکھو کھول کھول کر بیان کیا ہے کہ یہاں کیا مسئلہ ذکر کرنا چاہتے ہیں صورت مسئلہ کس طرح ہوگی اور تفصیل بیان کرتے ہیں۔
تو یہ متن ان کے دادا جو ہیں تاج الشریعہ کا لکھا ہوا ہے اور اس متن کا نام ہے وقایہ، وقایہ۔ اور انہوں نے اس کی شرح کی تو وہ کیا بن گئی؟ شرح وقایہ۔ تو یہ ہم شرح وقایہ پڑھ رہے ہیں بھئی۔ اور پھر انہوں نے بعد میں اسی متن جو ہے جو ان کے دادا کا لکھا ہوا ہے اس کا بھی انہوں نے اختصار لکھا بھئی اس متن کا اور اس کا نام انہوں نے رکھا نقایہ، نقایہ۔ یہ جو وقایہ متن ہے اس کا اختصار لکھا کس نے؟ شارح وقایہ نے یعنی علامہ صدر الشریعہ اصغر نے۔ اپنے دادا کی کتاب کا اختصار لکھا۔ تو متن پہلے مختصر تھا اس کو اور بھی زیادہ مختصر کیا جو اور اس میں بہتری ہو سکتی تھی بہتری لے کر آئے اور اس کا نام نقایہ رکھا اور اس کو عمدہ بھی کہتے ہیں۔ وہ متن کیا کہلاتا ہے؟ عمدہ، عمدہ۔
اور یہ دیکھو کتنے علم و فضل والا خاندان تھا بھئی کہ ایک کے بعد ایک بڑا علم کا پہاڑ اس میں آ رہا ہے بھئی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے وہ یہ وہ زمانہ ساتویں آٹھویں صدی ہجری اور ہر طرف بڑے بڑے جبال العلوم تھے بھئی ہر طرف لیکن اس زمانے میں بھی ان بڑے علماء نے ان کو صدر الشریعہ کا لقب دیا معلوم ہوا کہ ان کا تو بہت ہی اونچا مقام ہوگا علم کے اندر بھئی اور اسی طرح ان کے دادا، پردادا وغیرہ سب تو ان کی اس کتاب کو اللہ تعالی نے بڑی قبولیت نصیب فرمائی۔ دیکھو یہ داخل درس ہے اور پوری دنیا میں علم دین پڑھنے اور پڑھانے والے اس کتاب کو پڑھتے ہیں، پڑھاتے ہیں اور ان کے لیے عظیم اجر کا باعث بنتا ہے۔
اور کسی کتاب کا داخل درس ہونا عند اللہ اس کی قبولیت کی علامت ہے بھئی۔ جب تمام طلبہ اور علماء ایک کتاب کی طرف متوجہ ہو جائیں بھئی معلوم ہوا اللہ کے نزدیک یہ کتاب کیا ہے؟ مقبول ہے اور معلوم ہوا کہ اس کا مصنف بھی اللہ کے مقبول بندوں میں سے ہے تو یہ بڑے نیک اور متقی عالم دین تھے۔
انہوں نے اسی طرح انہوں نے فقہ حنفی کے اصول فقہ کے اندر ایک متن لکھا اس کا نام ہے تنقیح تنقیح اصول فقہ کے اندر۔ فقہ کے جو اصول ہیں یہ تو فقہ ہے نا اور جو فقہ کے اصول فقہ میں انہوں نے کتاب لکھی وہ تنقیح متن لکھا۔ پھر اس تنقیح متن کی خود ہی شرح لکھی اس کا نام ہے توضیح۔ اور پھر اس توضیح پر علامہ تفتازانی جو کہ ایک شافعی المصلک عالم دین گزرے ہیں بہت بڑے عالم، انہوں نے اس توضیح کی شرح لکھی اس کا نام ہے تلویح، تلویح۔
تو جب آپ در سادسہ میں پہنچیں گے تو وہاں آپ پڑھیں گے توضیح تلویح۔ تو وہ تنقیح متن ہے اور توضیح شرح ہے دونوں علامہ صدر الشریعہ اصغر کے لکھے ہوئے ہیں اور جو اس کی شرح تلویح ہے وہ علامہ تفتازانی کی ہے تو وہ بھی داخل درس ہے اس کو بھی اللہ نے بڑی قبولیت نصیب فرمائی۔
والد صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ احناف کی جو اصول فقہ کی کتابیں ہیں ان میں کچھ کمزوری ہے۔ کچھ کمزوری ہے۔ اور ایک کتاب جو درس میں داخل ہے ان میں سے بہت زبردست ہے اصول فقہ حنفی میں اور وہ توضیح ہے بھئی تنقیح اور توضیح۔ تو وہ بہت زبردست کتاب انہوں نے لکھی احناف کے اصول فقہ میں۔ یہ بہت بڑے عالم دین تھے بھئی اور قدیم زمانے میں علماء کے درمیان مناظرے ہوا کرتے تھے۔
کسی علمی مسئلے کے بارے میں مناظرے ہوتے، مباحثے ہوتے بحثیں ہوتیں اور جو مناظرے میں جیت جاتا علماء کے اور عوام کی نظروں میں اس کا مقام بڑا بلند ہو جاتا کہ یہ تو بہت بڑا عالم ہے کوئی اس کا مقابلہ ہی نہیں کر سکتا۔ تو اسی زمانے میں جب کہ یہ علامہ عبیداللہ ابن مسعود صدر الشریعہ اصغر کا زمانہ ہے یہ یہ ہرات میں رہتے تھے اسی زمانے میں شہر رے میں قطب الدین رازی گزرے ہیں۔
یہ بہت بڑے عالم اور خاص طور پر منطق کے تو بے انتہا ماہر تھے۔ تو اس زمانے میں میں نے بتایا علماء کے مناظرے ہوتے تھے تو انہوں نے ارادہ کیا ان کو بھی شہرت پہنچی صدر الشریعہ کی سنا کہ اس علاقے میں یہ سب سے بڑے عالم ہیں۔ تو سوچا کہ میں جاتا ہوں اور جا کر ان سے مناظرہ کرتا ہوں جب مناظرہ کروں گا ان سے جیتوں گا تو پھر ہر طرف میری شہرت ہو جائے گی اور خوب نام ہوگا۔
تو لیکن جانے سے پہلے یوں کیا اپنا ایک شاگرد بھیجا شاگرد کا نام تھا مبارک شاہ۔ مبارک شاہ جو جو قطب الدین رازی کے خاص شاگرد تھے اور یہ اولاً یہ غلام تھے غلام تھے۔ تو ان کو قطب الدین رازی نے ان کی تربیت کی ان کو علم سکھایا اور چونکہ یہ بہت ذہین تھے تو یہ بھی بڑے عالم بنے بھئی مبارک شاہ نام تھا۔
تو قطب الدین رازی نے اپنے شاگرد مبارک شاہ کو بھیجا کہ جاؤ جا کر ہرات شہر میں علامہ صدر الشریعہ کے درس میں بیٹھو اور کچھ عرصہ ان کے درس وغیرہ سنو اور دیکھو کہ یہ کس فن میں کمزور ہیں۔ جس فن میں کمزور ہوں گے میں جا کر اسی فن میں ان سے مناظرہ کروں گا تاکہ ان کو اسانی سے ہرا دوں۔
تو مبارک شاہ اپنے استاد کا حکم سن کر چل پڑے اور وہاں پہنچے اور علامہ صدر الشریعہ کے درس میں شریک ہوئے۔ اتفاق سے ان دنوں علامہ صدر الشریعہ منطق کا درس دے رہے تھے بھئی۔ منطق کا اور قطب الدین رازی بھی اصل جو بڑا مقام تھا منطق میں تھا۔ تو صدر الشریعہ ان دنوں منطق کا درس دے رہے تھے۔ مبارک شاہ درس میں شریک ہوئے تو حیران رہ گئے عجیب انداز تھا علامہ صدر الشریعہ کا۔
کوئی منطقی مسئلہ جب ذکر کرتے تھے تو کہتے تھے کہ اس مسئلے کے بارے میں منطق کے فلاں امام یوں فرماتے ہیں۔ اور پھر کہتے لیکن ان کے قول میں یہ یہ خرابی ہے اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے یہ اعتراض ہوتا ہے یہ اعتراض ہوتا ہے۔ پھر دوسرے جو بڑے علماء گزرے ہوتے بڑے ائمہ گزرے ہوتے اور فلاں امام جو منطق کے گزرے ہیں وہ اس مسئلے میں یوں کہتے ہیں لیکن ان کے قول میں پھر یہ خرابی ہے یہ خرابی ہے یہ اعتراض ہے۔
اور پھر فلاں عالم اس مسئلے میں یوں کہتے ہیں تو وہ جو بڑے بڑے علماء ہوتے سب کے قول نقل کرتے اور سب کے اقوال کو رد کرتے ان پر اعتراضات ذکر کرتے چلے جاتے اور آخر میں کہتے میں اس مسئلے کے اندر یہ کہتا ہوں اور پھر اپنا قول نقل کرتے تھے اور فرماتے کہ میرے قول پر ان میں سے ایک بھی اعتراض وارد نہیں ہوتا بھئی۔
تو عجیب علمی انداز اللہ نے ان کو دیا تھا تو مبارک شاہ یہ انداز دیکھ کر حیران رہ گئے اور اپنے استاد کو خط لکھا کہ استاد محترم یہ آپ ہرگز مقابلے کے لیے تشریف نہ لے کر آئیں یہ آدمی تو آگ کا شعلہ ہے یہ اگر آپ تشریف لائے تو بڑی شرمندگی اٹھانا پڑے گی یہاں جیتنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
تو منطق میں یہ حال تھا ان کا۔ تو میں نے بتایا منطق، لغت، نحو، تفسیر، حدیث ہر چیز میں یہی عالم تھا ان کے علم کا جب ہی تو علماء نے انہیں صدر الشریعہ کا لقب دیا تھا بھئی۔ اور یہ وہی زمانہ ہے جس میں میر سید السند اور علامہ تفتازانی بھی گزرے ہیں۔ اسی زمانے میں تقریباً ان کے کچھ عرصے بعد اس انہی سالوں میں میر سید السند جو آپ پڑھتے ہیں نحومیر بھئی، نحومیر۔ یہ میر سید السند کی کتاب ہے اور یہ بھی بہت بڑے عالم گزرے اسی طرح علامہ تفتازانی بہت بڑے عالم گزرے جن کا متن تہذیب تہذیب المنطق شرح تہذیب کے نام سے آپ پڑھ چکے ہیں بھئی۔
تو میر سید السند بھی اسی زمانے میں تھے علامہ تفتازانی بھی یا یوں کہو ان کے زمانے کے بعد تھا ان کے ساتھ ہی ان کے ساتھ ہی زمانہ تھا جو میر سید السند ہیں یہ مبارک شاہ کے شاگرد تھے بھئی۔ یہ میر سید السند جو ہیں یہ تحصیل علم کے لیے قطب الدین رازی کے پاس پہنچے۔ تو قطب الدین رازی بہت بوڑھے ہو چکے تھے اس زمانے میں جو علماء طلبہ تھے وہ بڑے بڑے علماء کو تلاش کرتے ان کے بارے میں پوچھتے اور ان سے جا کر علم حاصل کیا کرتے تھے۔
تو علامہ قطب الدین رازی اس وقت بہت بوڑھے ہو چکے تھے میر سید السند ان کے پاس تحصیل علم کے لیے پہنچے تو وہ فرمانے لگے کہ بھئی میں تو اب بہت بوڑھا ہو گیا ہوں تم یوں کرو میرے شاگرد مبارک شاہ کے پاس چلے جاؤ اور ان سے علم حاصل کرو اور پھر ایک خط بھی لکھ کر دیا اپنے شاگرد مبارک شاہ کے نام کہ ان کو درس میں بیٹھنے کی اجازت دو۔
چنانچہ یہ خط لے کر پہنچے مبارک شاہ کے پاس تو مبارک شاہ نے ان کو اپنے درس میں بیٹھنے کی اجازت دے دی کہ میرے استاد کا خط ہے تو ان کو بیٹھنے کی اجازت دے دی۔ لیکن پابند لیکن پابند کیا کہ تمہیں صرف بیٹھنے کی اجازت ہے بولنے کی اجازت نہیں ہے کوئی سوال وغیرہ نہیں کر سکتے تم۔
تو چنانچہ یہ ان کے درس میں شریک ہوئے۔ اور استاد روزانہ درس دیتے اس زمانے میں بھی یہی انداز طلبہ پھر بیٹھ کر اس درس کا تکرار کیا کرتے اس کو یاد کیا کرتے تھے۔ تو مبارک شاہ ایک دن رات کے وقت اپنے گھر سے نکلے طلبہ کے کمروں کی طرف گئے کہ دیکھیں طلبہ کیا کر رہے ہیں کیا کر رہے ہیں جیسے استاد اپنے طلبہ کا جائزہ لینے کے لیے کبھی نکلتا ہے تو وہ چلتے چلتے میر سید السند کے کمرے کے قریب سے گزرے۔
تو دیکھا میر سید السند اونچی آواز میں سبق یاد کر رہے ہیں اور سبق کس طرح یاد کر رہے ہیں کہ میر سید السند فرماتے ہیں کہ یہ فلاں مسئلہ ہے اس مسئلے کے بارے میں کتاب کے مصنف نے یہ تقریر کی ہے اور میرے استاد محترم نے اس مسئلے کی یہ تقریر کی ہے اور میں اس مسئلے کی یہ تقریر کرتا ہوں میر سید السند طالب علم ہے اور اپنی تقریر کر رہا ہے کہ میں اس مسئلے کی یہ تقریر کرتا ہوں۔
مبارک شاہ نے ان کی تقریر سنی تو جھوم اٹھے کہ اللہ نے کیسا پیارا شاگرد نصیب فرما دیا کیسا پیارا شاگرد نصیب فرما دیا اچھا شاگرد مل جائے محنتی اور مبارک اور نیک اور متقی شاگرد مل جائے تو یہ تو استاد کے لیے بڑی سعادت کی بات ہے جو اس کے علوم کو زندہ کرتا ہے آگے پھیلاتا ہے اور اس کے لیے نیک نامی کا باعث بنتا ہے۔
تو مبارک شاہ کو اتنی خوشی ہوئی اتنی خوشی ہوئی کہ انہوں نے وہ باہر صحن کے اندر رقص کرنا شروع کر دیا بھئی خوشی کی وجہ سے خوشی کی وجہ سے۔ تو یہ تھے میر سید السند بھئی۔ میر سید السند اور آپ بھی دیکھتے ہیں بھئی کتنی پیاری کتابیں انہوں نے لکھی ہیں بھئی جیسے نحومیر آپ پڑھ چکے ہیں بھئی اسی طرح اور بھی ان کی قیمتی کتابیں۔
چلیے بس کریں بھئی باقی انشاء اللہ کل باقاعدہ کتاب ہم شروع کریں گے بھئی تو آپ نے خوب محنت کرنی ہے بھئی اللہ آپ میں سے ہر ایک کو بڑا عالم بنائے اور خوب خدمات دینیہ کی اللہ توفیق نصیب فرمائے۔ چلیے بس بھئی ہذا ہو المرام، واللہ أعلم بحقیقة الكلام۔