درس نمبر۔38 فصار كما إذا باع عبدا بألف على أنه بالخيار في أحدهما بعينه وسمى ثمنه. انہوں نے پہلے بیان کیا تھا بھئی شارح نے کہ تین مذاہب بیان ہوں گے اس کے بارے میں۔ ہاں مخصوص البعض کے بارے میں۔ تین مذاہب بیان ہوں گے اور پھر ہر ایک کی المشابہت ہر ایک کو تشبیہ دی جائے گی ایک مسئلہ فقہیہ کے ساتھ بھئی یعنی ان کی نظیر کے طور پر ایک مسئلہ فقہیہ ذکر کیا جائے گا جو ان جیسا ہو گا۔ ایک ہوتی ہے مثال اور ایک ہے نظیر۔ مثال جو ہے وہ ممثل لہ کے افراد میں سے ہوتی ہے اور نظیر جو ہے وہ ممثل لہ کے افراد میں سے نہیں بھئی۔ ممثل لہ کے افراد میں سے نہیں ہوتی۔ تو یہاں پر بھی یہ مسئلہ فقہیہ ذکر کریں گے یہ مسئلہ فقہیہ عام مخصوص البعض تو نہیں لیکن اس جیسا ہے۔ یہ مسئلہ فقہیہ عام مخصوص البعض تو نہیں لیکن اس جیسا ہے یعنی جیسے اس کی مشابہت استثناء اور ناسخ دونوں کے ساتھ تھی اس کی بھی مشابہت استثناء اور ناسخ دونوں کے ساتھ ہے بھئی۔ دیکھیے بھئی۔ فصار كما إذا باع عبدين بألف تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے بیچا کسی شخص نے عبدين دو غلاموں کو بألف ایک ہزار کے بدلے على، على شرط کے لیے آتا ہے۔ اس شرط پر کہ أنه بالخيار کہ اس کو اختیار ہے في أحدهما بعينه ان دو میں سے کسی ایک معین کے اندر وسمى ثمنه اور اس کے ثمن بھی اس نے ذکر کر دیے۔ صورتِ مسئلہ یہ ایک شخص نے اپنے دو غلاموں کو بیچا۔ مثلاً میرے دو غلام ہیں زید اور عمر۔ وہ میں نے آپ کے ہاتھ فروخت کیے لیکن اس طرح۔ میں نے کہا بھئی یہ دیکھیے یہ دو غلام ہیں یہ میں آپ کو ایک ہزار درہم کے بدلے بیچتا ہوں لیکن ان میں سے یہ جو زید ہے اس زید کے اندر مجھے اختیار حاصل ہے اگر میں چاہوں تو اس کی بیع کو تین دن میں فسخ کر سکتا ہوں۔ تو میں نے اپنے لیے بايع نے اپنے لیے کیا رکھ لیا؟ خیارِ شرط رکھ لیا۔ اور پھر ہر ایک کا ثمن بھی ذکر کر دیا ساتھ ساتھ بھئی کہ زید کی قیمت چھ سو ہے اور عمر کی کتنی ہے؟ چار سو ہے۔ زید کی قیمت چھ سو درہم اور عمر کی چار سو درہم قیمت ہے۔ اور خیار میں نے کس میں رکھا؟ زید۔ تو جس میں اختیار رکھا وہ غلام بھی متعین ہے دو میں سے اور دونوں کی قیمت کا بھی پتہ ہے زید ہے چھ سو درہم کا تو عمر ہے چار سو درہم کا۔ چار سو درہم کا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے كما إذا باع عبدين بألف جیسے بیچا کس نے دو غلاموں کو بألف ایک ہزار کے بدلے میں على أنه بالخيار في أحدهما بعينه اس شرط پر کہ اس کو اختیار ہے ان دو میں سے کسی ایک معین کے اندر اختیار ہے وسمى ثمنه اور اس کے ثمن بھی ذکر کر دیے کہ اس کے اتنے ثمن ہیں۔ کہتے ہیں تشبيه بدليل الخصوص المذكور بمسألة فقهية یہ تشبیہ ہے دلیلِ خصوص جو مذکور ہوئی اس کی مسئلہ فقہیہ کے ساتھ أي صار دليل الخصوص على هذا المذهب المختار نظير هذه المسألة الفقهية یعنی ہو گئی دلیلِ خصوص اس مذہبِ مختار پر جو ابھی بیان ہوا اس کے مطابق یہ دلیلِ خصوص کیا ہو گئی؟ نظير هذه المسألة الفقهية اس مسئلہ فقہیہ کی نظیر ہو گئی اس جیسی ہو گئی۔ وهي اور وہ یہ کہ أن يعين الخيار في أحد العبدين المبيعين اور وہ یہ کہ متعین کر لیا جائے اختیار کو دو غلام، دو ایسے غلام جن کو بیچا گیا ہے ان میں سے کسی ایک میں۔ اختیار کو کیا کر لیا جائے؟ متعین کر لیا جائے۔ کہ اس میں مجھے اختیار ہے۔ وسمى، سمي ثمنه على حدة اور ذکر کر دیے جائیں اس کے ثمن علیحدہ طور پر۔ جس غلام میں خیار رکھا اس کے ثمن بھی کیا کر دے؟ ذکر کر دے یعنی ایک کے ذکر کر دے جب ہزار میں سے ایک کے پیسے ذکر ہو جائیں گے تو دوسرے کے خود بخود پتہ چل جائیں گے۔ وذلك اور یہ اس وجہ سے لأن هذه المسألة على أربعة أوجه یہ چار صورتوں پر ہے، چار قسم پر ہے یہ مسئلہ۔ بھئی دیکھیے یہاں چار صورتیں بنتی ہیں۔ پہلی صورت کیا ذکر کی میں نے کہ جس غلام میں اختیار رکھا وہ بھی متعین ہے، کس میں اختیار رکھا؟ زید میں۔ اور وہ اور اس کے ثمن بھی معلوم ہیں یعنی ہزار میں سے اس کی کتنی قیمت ہے، پیسے ہیں اس کے؟ چھ سو درہم۔ یہ صورت بھئی۔ یعنی وہ غلام بھی متعین ہے جس میں اختیار ہے اور اس کے ثمن بھی معلوم ہیں۔ دوسری صورت دونوں ہی چیزیں مجهول ہوں۔ وہ غلام بھی معلوم نہیں جس میں اختیار ہے اور اس کے ثمن بھی معلوم نہیں ہیں۔ مثلاً میں آپ کو یوں کہتا ہوں میں نے یہ غلام، یہ دو غلام زید اور عمر میں آپ کے ہاتھ بیچتا ہوں ایک ہزار کے بدلے لیکن شرط یہ ہے کہ ان میں سے ایک غلام میں مجھے اختیار ہے میں چاہوں تو تین دن میں بیع کو فسخ کر دوں۔ اب میں نے کس میں اختیار رکھا کوئی تعین کی؟ نہیں، تو وہ غلام جس میں اختیار ہے وہ مجهول ہوا۔ ثمن بھی علیحدہ علیحدہ نہیں ذکر کیے تو ثمن بھی اس کے کیا ہو گئے؟ مجهول ہو گئے۔ غلام متعین ہوتا اور ثمن علیحدہ ذکر ہوتے تو پھر پتہ لگتا۔ تو غلام جس میں اختیار ہے وہ بھی دو میں سے کیا ہوا؟ مجهول اور اس کے ثمن بھی کیا ہو گئے؟ مجهول ہو گئے بھئی۔ تو غلام بھی مجهول ہوا اور اس کے ثمن بھی کیا ہو گئے؟ مجهول ہو گئے بھئی، مجهول ہو گئے۔ پہلی صورت کیا تھی؟ وہ غلام جس میں اختیار تھا وہ بھی متعین تھا اور اس کے ثمن بھی معلوم تھے۔ دوسری صورت وہ غلام جس میں اختیار ہے وہ بھی مجهول اور اس کے ثمن بھی مجهول۔ تیسری اور چوتھی صورت یہ ہے کہ دونوں میں سے ایک ایک کو مجهول رکھیں ایک کو معلوم رکھیں۔ پہلی صورت ہم بنا لیتے ہیں تیسری صورت یعنی کہ کہ غلام تو معلوم ہو لیکن ثمن اس کے کیا ہوں؟ مجهول۔ میں نے آپ کو دو غلام بیچے زید اور عمر، میں نے کہا یہ دو غلام میں آپ کو بیچتا ہوں یہ زید اور عمر ایک ہزار درہم کے بدلے لیکن اس شرط پر کہ یہ جو زید ہے اس کے اندر مجھے اختیار ہے میں چاہوں تو تین دن میں بیع کو کیا کر دوں؟ فسخ کر دوں۔ تو دیکھیے اب غلام متعین ہو گیا۔ لیکن اس غلام کے ثمن مجهول ہیں دونوں کے ثمن تو ہزار ہیں لیکن ہزار میں سے زید کے کتنے ہیں یہ پتہ نہیں۔ یہ تیسری صورت ہوئی۔ چوتھی صورت یہ کہ غلام مجهول ہو اور ثمن کیا ہوں؟ معلوم ہوں۔ مثلاً میں آپ کے ہاتھ دو غلام بیچتا ہوں کہ یہ زید اور عمر میں نے آپ کو ایک ہزار درہم کے بدلے بیچے ان میں سے زید جو ہے اس کی ثمن چھ سو درہم ہیں اور عمر کے چار سو درہم ہیں اس شرط پر کہ ان دو میں سے ایک غلام کے اندر مجھے اختیار حاصل ہے میں چاہوں تو تین دن میں اس کی بیع فسخ کر دوں۔ دونوں غلاموں کے ثمن تو علیحدہ علیحدہ ذکر ہیں زید ہے چھ سو درہم کا اور عمر ہے چار سو درہم کا لیکن اختیار کس میں ہے وہ معلوم نہیں، متعین نہیں بھئی۔ تو چار صورتیں ہوئیں۔ یہی بات ذکر کر رہے ہیں لأن هذه المسألة على أربعة أوجه اس لیے کیونکہ یہ مسئلہ جو ہے چار اقسام پر ہے، چار قسم پر ہے۔ أحدها ان میں سے ایک یہ ہے أن يعين محل الخيار ويسمى ثمنه کہ متعین کیا جائے محلِ خیار کو کہ کون کس میں اختیار ہے ويسمى ثمنه اور اس کے ثمن بھی ذکر کیے جائیں جیسا کہ متن میں ذکر ہوا یہی صورت محلِ خیار بھی متعین اور ثمن بھی ذکر۔ والثاني اور دوسری صورت یہ ہے أن لا يعين ولا يسمى کہ نہ تو غلام جس میں اختیار ہے (یعنی) محلِ خیار بھی متعین نہیں اور ثمن بھی ذکر نہیں بھئی، تو یہ ثمن مجهول ہوئے بھئی اور مبیع بھی مجهول ہوا۔ والثالث أن يعين ولا يسمى تیسری صورت یہ ہے کہ غلام تو جس میں اختیار ہے وہ غلام تو متعین ہے لیکن اس کے ثمن ذکر نہیں، ان کا پتہ نہیں۔ والرابع أن يسمى ولا يعين کہ ثمن تو ذکر ہوں ہر ایک کے علیحدہ لیکن ولا يعين لیکن غلام جس میں اختیار ہے وہ متعین نہیں۔ فالعبد الذي فيه الخيار داخل في العقد غير داخل في الحكم. پس وہ غلام جو فيه الخيار جس میں اختیار ہے داخل في العقد وہ عقد کے اندر تو داخل ہے۔ میں نے ایجاب دونوں کا کیا یا نہیں کیا؟ اور آپ نے بھی دونوں کے ہی قبول کیا ہے۔ تو عقد کے اندر تو یہ داخل ہے ایجاب و قبول کے اندر لیکن عقد کے حکم میں غير داخل في الحكم عقد کے حکم میں نہیں داخل بھئی۔ بیع کا کیا حکم ہے؟ مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے۔ مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے مبیع کا مالک۔ لیکن یہاں خیار رکھا ہے بايع نے اور آپ نے فقہ میں پڑھا ہے جب بايع خیار اپنے لیے رکھے تو مبیع اس کی ملک سے نہیں نکلتا۔ جب اس کی ملک سے نہیں نکلا تو مشتری کی ملک میں بھی داخل نہیں ہوا حالانکہ بیع کا تقاضا تو کیا ہے اس کا حکم تو کیا ہے کہ مبیع کو بايع کی ملک سے نکل کر کس کی ملک میں داخل ہونا چاہیے؟ تو صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ غلام جس میں اختیار ہے داخل في العقد وہ عقد میں تو داخل ہے لیکن غير داخل في الحكم حکم میں داخل نہیں یعنی مشتری اس کا مالک نہیں۔ فمن حيث أنه داخل في العقد تو اس حیثیت سے کہ یہ عقد کے اندر داخل ہے يكون رد المبيع بخيار الشرط تبديلا. اچھا بھئی! اب ادھر توجہ کریں ذرا سمجھ لیں بات کو۔ تو وہ غلام جس میں میں نے اختیار رکھا، میں نے آپ کو دو غلام بیچے تھے میں نے زید کے بارے میں اختیار رکھا اور زید اور عمر دونوں کے میں نے ثمن علیحدہ ذکر کر دیے۔ آپ دیکھیے ایجاب میں نے دونوں کا اکٹھا کیا ہے تو عقد میں تو دونوں داخل لیکن حکم کے اندر دونوں داخل نہیں، آپ صرف کس کے مالک بن رہے ہیں بیع کے بعد؟ آپ صرف عمر کے مالک بنے ہیں، زید کے مالک نہیں کیونکہ زید کے لیے اختیار میں نے رکھا ہے اور جب بايع خیار رکھے تو مبیع اس کی ملک سے نہیں نکلتا تو زید ابھی میری ملک سے جب نہیں نکلا تو آپ کی ملک میں پھر داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ جب میری ملک سے نکلے گا تو پھر ہی صورت ہے آپ کی ملک میں داخل ہو سکے۔ تو لہٰذا دو جہتیں آ گئیں۔ ایک جہت سے یہ جس غلام میں اختیار ہے یہ عقد میں داخل ہے، دوسری جہت سے داخل کس جہت سے داخل ہے؟ کہ عقد میں اس کو بھی ذکر کیا گیا تھا اس اعتبار سے یہ بھی عقد میں داخل۔ اور کس جہت سے داخل نہیں؟ حکم کے اعتبار سے یہ داخل صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ وہی بات دوبارہ کر رہا ہوں۔ وہ غلام جس میں اختیار رکھا اس میں کتنی جہتیں آ گئیں؟ من وجہ داخل ہے بیع میں، من وجہ داخل نہیں، داخل کس اعتبار سے ہے؟ عقد اس کا بھی ساتھ کیا اکٹھا دونوں کا میں نے ایجاب کیا تھا، اور کس اعتبار سے یہ داخل نہیں؟ کہ اس کے حکم میں نہیں داخل، مشتری اس کا مالک بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے؟ توجہ ہے؟ تو من وجہ یہ غلام بیع عقد میں داخل ہے اور من وجہ داخل نہیں۔ تو اس اعتبار سے کہ یہ عقد میں داخل ہے پھر میں اس کو واپس لے لیتا ہوں اور بیع کو فسخ کر دیتا ہوں۔ تو یہ تو پہلے عقد میں داخل تھا میں نے پھر کیا کر لیا اپنا اختیار استعمال کیا اور تین دن کے اندر بیع کو کیا کر دیا؟ تو یہ غلام میرے پاس واپس آ جائے گا۔ تو یہ تو غلام تو کیا تھا؟ صرف وہ اس جہت کا رکھو یہ کہ یہ عقد میں داخل تھا۔ تو یہ غلام تو کیا تھا؟ عقد میں داخل تھا اور میں نے اس کو جب واپس لے لیا تو گویا حکم کو بدل دیا۔ یہ داخل تھا میں نے اس کو کیا کر دیا؟ نکال دیا۔ یہ عقد میں داخل تھا میں نے کیا کر دیا؟ نکال دیا، تو حکم کو تبدیل کر دیا یا نہیں تبدیل کر دیا؟ تو یہ تبدیل آ گیا تبدیلی آ گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بیع کے اندر تو گویا کہ تبدیلی آ گئی، ایک چیز پہلے داخل تھی پھر اس کو کیا کر لیا گیا؟ نکال دیا گیا۔ جیسے بھئی، أحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا، پہلے بیع کا حکم کیا؟ کہ حلال اور پھر ربا کا حکم کیا؟ حرام، ان کو حکم سے نکال دیا گیا حلت سے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہاں بھی یہ غلام عقد میں داخل تھا لیکن جب میں نے عقد کو اس میں فسخ کر کے اس کو واپس لے لیا تو اس کے اندر کیا کیا؟ اس کو تبدیل کر دیا یعنی عقد کو بدل دیا اس کو نکال دیا عقد سے۔ تو اس اعتبار سے یہ نسخ کی طرح ہوا جیسے نسخ میں حکم بدلا جاتا ہے یہاں بھی کیا ہوا؟ عقد کو بدلا گیا، حکم کو بدلا گیا۔ اور دوسری جہت بھئی، یہ غلام دوسرے اعتبار سے تو عقد کے اندر حکم کے اعتبار سے تو عقد میں داخل نہیں تھا۔ آپ اس کے مالک بنے تھے؟ نہیں، تو اس اعتبار سے اس اعتبار سے یہ عقد میں داخل نہیں تھا تو اب میں اس کو واپس لے لیتا ہوں۔ اسے رد میں نظر رکھیں، رد کی دو جہتیں آ گئیں۔ میں نے آپ سے غلام واپس لے لیا تو تو یہ پہلے حکم میں داخل تھا؟ حکم میں، آپ مالک بنے تھے اس کے؟ نہیں، تو یہ حکم میں تو داخل نہیں تھا۔ جب حکم میں یہ پہلے ہی داخل نہیں تھا اور میں نے واپس لے لیا تو گویا اب میں نے بیان کر دیا کہ یہ حکم میں داخل نہیں تھا۔ کیا کیا؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ بھئی وہ غلام دوبارہ سمجھو۔ وہ غلام جس میں میں نے اختیار رکھا وہ من وجہ عقد میں داخل ہے اور من وجہ عقد میں داخل نہیں۔ من وجہ عقد میں داخل نہیں۔ تو اگر اس غلام کو جب میں واپس لے لیتا ہوں تو یہ جو غلام کا واپس لینا اس کی مشابہت نسخ کے ساتھ بھی ہے اس کی مشابہت استثناء کے ساتھ بھی ہے۔ نسخ کس کو کہتے ہیں؟ بدلنے کو۔ تو یہ غلام تو عقد میں داخل تھا تو میں نے اس کو واپس لے لیا تو عقد میں کیا آ گئی گویا کہ تبدیلی۔ تو یہ کس کی طرح ہوا؟ نسخ کی طرح جیسے نسخ بھی تبدیل کا نام ہے۔ اور استثناء بھئی، اس کی اس اعتبار سے کہ یہ حکم میں تو داخل نہیں تھا اور میں نے اس کو واپس تو حکم میں تو یہ داخل بھی نہیں تھا اور میں نے اس کو واپس بھی لے لیا تو یہ گویا بیان آ گیا کہ یہ عقد میں داخل بھئی پہلے استثناء سمجھ لو ذرا پھر یہ بات آپ کو سمجھ میں آئے گی۔ یہ بات پہلے بیان ہو چکی کہ جب میں نے کہا مثلاً جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا فرض کریں القوم کے کتنے افراد تھے؟ بیس افراد تھے تو جب میں نے کہا جَاءَنِي الْقَوْمُ تو زید اس میں کیا تھا؟ داخل تھا اور إِلَّا زَيْدًا کے ذریعے میں نے اس کو کیا کر دیا؟ نکال دیا۔ لیکن لفظ کو نہ دیکھیں لفظوں کے اعتبار سے زید القوم میں داخل تھا اور پھر کیا کیا گیا؟ نکالا گیا۔ لفظوں کا اعتبار نہ کریں میری مراد کی طرف ذرا توجہ کریں میں نے جب کہا جَاءَنِي الْقَوْمُ میرے پاس وہ لوگ آئے تو میری کیا مراد ہے؟ بیس کے بیس مراد ہیں ان میں سے یا کتنے مراد ہیں؟ بات میں کر رہا ہوں نا، مجھے تو پتہ ہے کون آئے ہیں اور کون نہیں آئے۔ تو جب میں نے کہا جَاءَنِي الْقَوْمُ وہ لوگ میرے پاس آئے تو میری کیا مراد ہے بیس کے بیس آئے؟ نہیں، تو اب مراد میں اور لفظ کے مصداق میں فرق ہے۔ قوم کا لفظ تو ان بیس کے بیس پر صادق آ رہا تھا لیکن ان بیس میں سے میری مراد کتنی ہے؟ انیس، تو القوم کے ذریعے میری مراد ہی انیس ہے اور پھر آگے میں اس اپنی مراد کو بیان بھی کر دیتا ہوں إِلَّا زَيْدًا۔ جب میں نے کہا جَاءَنِي الْقَوْمُ تو میری کتنی مراد ہے؟ انیس، معلوم ہوا زید مراد ہی نہیں ہے ان کے اندر۔ مراد ہی نہیں اور پھر میں نے اپنی اس مراد کو آگے بیان بھی کر دیا إِلَّا زَيْدًا۔ بھئی جَاءَنِي الْقَوْمُ میں زید میری زید مراد تھی میری؟ زید میری مراد ہی نہیں تھی۔ وہ ان میں داخل ہی نہیں تھا میری مراد کے اعتبار سے۔ لفظوں کے اعتبار سے بے شک وہ اس پر صادق آ رہا ہے، القوم کا لفظ زائد ہی ہے ان میں، لیکن میری مراد کے اعتبار سے زید ان میں داخل نہیں ہے۔ تو یہ آگے إِلَّا زَيْدًا میں کیوں لے کر آیا؟ تاکہ آپ کو بھی پتہ چلے کہ میری مراد اس سے کتنی ہے؟ 19 ہے بھئی، 20 کے 20 مراد نہیں ہے۔ صورت فرق، بات سمجھ میں آئی؟ تو یہاں جو استثنا کے اندر ہوتا ہے، مراد کے اعتبار سے، مراد کے اعتبار سے، یہ إِلَّا زَيْدًا نے زید کو ماقبل سے نکالا نہیں ہے۔ یہ تو ان میں داخل ہی نہیں تھا میری مراد کے اعتبار سے۔ میری مراد تو 19 تھے، زید کے علاوہ 19۔ جب زید کو نکال دیا تو ان 19 میں اب زید رہا؟ نہیں، تو میری مراد کے اعتبار سے تو زید پہلے ہی ان میں داخل نہیں تھا۔ تو إِلَّا زَيْدًا کے ذریعے صرف آپ کے لیے بھی میں نے بیان کر دیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہ جو استثنا ہوتا ہے، یہ بیان کرتا ہے کہ یہ چیز ماقبل میں داخل نہیں تھی۔ اسی طرح اللہ نے فرمایا: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾، یہ ﴿وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ نے ہمیں بتایا کہ بیع کے جو باقی افراد جن کے لیے حلت کا حکم ہے، وہ ان میں ربا مراد ہی نہیں ہے۔ وہ مراد ہی نہیں، باقی بیوع جو ہیں ربا کے علاوہ ان کا یہ حکم ہے، اور ربا کا یہ حکم ہے بھئی۔ یہ اس میں پہلے داخل ہی مراد کے اعتبار سے داخل ہی نہیں ہے، اس کو آگے پھر بیان بھی کر دیا گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آئی کہ نہیں سمجھ میں آئی؟ تو استثنا کس لیے آتا ہے؟ بیان کے لیے آیا کرتا ہے۔ بیان کے لیے آتا ہے۔ ورنہ مراد کے اعتبار سے وہ فرد تو پہلے بھی اس میں داخل نہیں۔ تو ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ﴾، تو اس کے ذریعے معلوم ہوا انہی بیوع کا ارادہ کیا گیا ہے جن میں ربا نہیں ہے۔ پھر آگے اس کو بیان بھی کر دیا گیا بھئی ﴿وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ کے ذریعے کہ یہ اس میں داخل نہیں ہے۔ تو یہاں دیکھیے بھئی، یہ غلام جو تھا من وجہ بیع کے اندر داخل، عقد میں داخل تھا، من وجہ عقد میں داخل نہیں۔ کس عقد ایجاب و قبول میں تو چونکہ اس کا ذکر ہے، اس اعتبار سے یہ غلام جس میں اختیار تھا، یہ عقد میں داخل۔ لیکن اس اعتبار سے کہ اس میں بائع نے خود اختیار رکھ لیا، تو مشتری اس کا مالک نہ بنا، اس اعتبار سے یہ عقد کے اندر داخل نہیں۔ تو جب اس غلام کو میں آپ سے واپس لے لیتا ہوں، تو یہ واپس لینا اس کی مشابہت نسخ کے ساتھ بھی ہے اور اس کی مشابہت استثنا کے ساتھ بھی۔ نسخ کے ساتھ اس طرح مشابہت کہ یہ غلام کیا تھا؟ من وجہ عقد میں داخل تھا، اب جب میں نے واپس نکال لیا تو گویا عقد کو کیا کر دیا؟ بدل دیا، اس کو عقد سے نکال دیا، اور یہ ہے تبدیل، اور نسخ بھی کس کو کس چیز کا نام ہے؟ تبدیل کا نام ہے۔ اور استثنا والی مشابہت کے اعتبار سے، بھئی یہ غلام جو تھا بیع کے حکم میں داخل نہیں تھا، جب میں نے اپنے لیے خیارِ شرط رکھا تو آپ اس کے مالک بنے؟ آپ اس کے مالک نہیں بنے، جب مالک نہیں بنے تو یہ بیع کے حکم میں بھی داخل، تو یہ غلام تو پہلے سے ہی بیع کے حکم میں داخل نہیں تھا۔ اب جب میں نے اس کو واپس لے لیا تو گویا آپ کے لیے بیان کر دیا کہ یہ عقد میں داخل نہیں تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بھی استثنا کی طرح ہوا جیسے استثنا بیان کے لیے آتا ہے، اس غلام کا واپس لینا بھی کیا ہے؟ یہ بیان کر رہا ہے کہ یہ عقد میں داخل نہیں تھا ۔ دیکھیے اب دوبارہ بھئی، فالعبد الذی فیہ الخیار داخل فی العقد غیر داخل فی الحکم، پس وہ غلام جس کے اندر خیار ہے، وہ عقد میں داخل ہے لیکن اس کے حکم میں داخل نہیں ہے۔ فمن حیث انہ داخل فی العقد، پس اس حیثیت سے کہ یہ عقد میں تو داخل ہے، یکون رد المبیع بخیار الشرط تبدیلا، تو مبیع کا واپس لوٹانا کس کے ساتھ؟ خیارِ شرط کے ساتھ، تبدیلا، یہ کیا ہے؟ پہلے وہ داخل تھا، اب اس کو کیا کر رہا ہے؟ نکال رہا ہے، تو یہ تبدیل ہے۔ فیکون کالنسخ، تو یہ رد نسخ کی طرح ہوا۔ ومن حیث انہ غیر داخل فی الحکم، اور اس حیثیت سے کہ یہ غلام، یہ جس میں اختیار ہے، یہ تو بیع کے حکم میں داخل نہیں، یعنی مشتری اس کا مالک نہیں ہے، نہیں بنا تھا، یکون ردہ بیانا انہ لم یدخل، تو یہ اس کا واپس لوٹانا یہ بات بیان کرنا ہے کہ یہ عقد میں داخل، یہ حکم میں پہلے بھی داخل نہیں تھا۔ اب باقاعدہ واپس لے کر اس کو کیا کر دیا؟ بیان بھی کر دیا کہ یہ عقد میں داخل نہیں تھا۔ فیکون کالاستثناء، تو یہ رد کرنا کس کی طرح ہوا؟ استثنا کی طرح ہوا، جی۔ فیکون کاللمخصص الذی لہ شبہ بالاستثناء وشبہ بالنسخ، تو یہ اس مخصص کی طرح ہوا، یہ رد، یہ رد، واپس جو ہم نے لیا، یہ کس کی طرح ہوا؟ بھئی، جیسے مخصص کیا کرتا ہے؟ دلیلِ خصوص بھئی، ﴿وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ کیا ہے؟ دلیلِ خصوص، کیا کر رہی ہے؟ کچھ افراد کو ماقبل سے نکال کر ان کو حرام قرار دے رہی ہے، تو یہ دلیلِ خصوص ہے۔ تو اس کو مخصص بھی کہتے ہیں، تو یہ جو مخصص ہے، یعنی دلیلِ خصوص، جیسے اس کی مشابہت کس کے ساتھ تھی؟ استثنا کے، ﴿وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ کی کس کے ساتھ مشابہت تھی؟ استثنا کے ساتھ بھی تھی اور ناسخ کے ساتھ بھی تھی۔ اسی طرح اس رد کی بھی مشابہت استثنا کے ساتھ بھی آ گئی اور ناسخ کے ساتھ بھی آ گئی، تو دیکھو یہ دونوں ایک جیسے ہوئے، اس کو نظیر کے طور پر پیش کر رہے ہیں نا، تو جیسے وہ دلیلِ عام مخصوص البعض، وہ مشابہ ہے استثنا کے بھی اور ناسخ کے، یہ جو عقد کے اندر پھر واپس لوٹایا غلام کو، یہ بھی اس کی بھی مشابہت ناسخ کے ساتھ بھی ہے اور، تو دونوں ایک جیسے ہوئے، تو یہ اس کی نظیر ہے بھئی۔ تو فیکون کالمخصص الذی لہ شبہ بالاستثناء وشبہ بالنسخ، تو یہ رد کرنا اس مخصص کی طرح ہے جس کی مشابہت ہے استثنا کے ساتھ بھی اور مشابہت ہے نسخ کے ساتھ بھی۔ فرعایت شبہ النسخ تقتضی صحت البیع فی الصور الاربع۔ دیکھیے، اس کی مشابہت نسخ کے ساتھ بھی ہے اور اس کی مشابہت استثنا کے ساتھ بھی آ گئی، اتنا تو پتہ چل گیا یا نہیں چلا؟ اچھا، نسخ والی مشابہت تقاضا کرتی ہے چاروں صورتوں میں بیع صحیح ہونی چاہیے۔ نسخ والی، نسخ والی مشابہت کیا تقاضا کرتی ہے؟ چاروں صورتوں میں بیع صحیح ہونی چاہیے۔ کون سی چار صورتیں؟ یعنی غلام بھی متعین ہو اور اس کا ثمن بھی معلوم ہو۔ دوسری صورت، غلام بھی غیر متعین ہو اور ثمن بھی غیر معلوم ہو۔ تیسری صورت، غلام تو متعین ہو لیکن ثمن ذکر نہ ہو۔ چوتھی صورت کہ ثمن تو ذکر ہوں لیکن غلام غیر متعین ہو۔ چاروں صورتوں میں نسخ والی مشابہت کیا تقاضا کرتی ہے؟ چاروں صورتوں میں بیع صحیح ہونی چاہیے، عقد صحیح ہونا چاہیے۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے، کیونکہ دو غلاموں کو، دو چیزوں کو اکٹھا بیچا گیا اور دو کے اندر ایک کے عقد کو، ایک کے اندر اگر بیع کو فسخ کر دیا جائے تو دوسرے پہ کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جب دو چیزوں کو اکٹھا بیچا جائے اور اس میں سے کیا کر لیا جائے؟ ایک کے اندر عقد کو فسخ کریں تو دوسرے کے اندر عقد پر کوئی خرابی نہیں آتی بھئی۔ تو لہٰذا جب وہ غلام کو واپس لے لے گا تو ایک کے اندر عقد کو فسخ کر لیا، تو دوسرے کے اندر عقد صحیح ہونا چاہیے، اس میں کسی قسم کا خلل نہیں آئے گا، تو لہٰذا چاروں صورتوں میں کیا ہونی، کیا ہونا چاہیے عقد کو؟ صحیح ہونا چاہیے، یہ کون سی مشابہت تقاضا کر رہی ہے؟ نسخ والی بھئی۔ فسخ کر رہے ہیں نا، فسخ نسخ کی طرح ہے۔ دو غلاموں کو اکٹھا بیچا تھا، ان میں سے ایک کو کیا کیا؟ واپس لے لیا، تو عقد کو اس میں فسخ کیا، یعنی کیا کر دیا عقد کو اس میں؟ منسوخ کر دیا گویا کہ، اور اس سے دوسرے غلام کے عقد پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اس کا عقد صحیح ہونا چاہیے بھئی۔ تو یہ نسخ والی مشابہت تقاضا کر رہی ہے کہ چاروں صورتوں میں عقد کیا ہونا چاہیے؟ آگے بتائیں گے، استثنا والی مشابہت تقاضا کرتی ہے کہ چاروں صورتوں میں عقد کو فاسد ہونا چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں فرعایت شبہ النسخ، پس نسخ کی مشابہت کی جو رعایت ہے، تقتضی، وہ تقاضا کرتی ہے صحت البیع فی الصور الاربع، بیع کے صحیح ہونے کا چاروں صورتوں میں، لان کلا من العبدین، اس لیے کیونکہ دو غلاموں میں سے ہر ایک جو ہے، بنظر الی الایجاب، کس طرف نظر کرتے ہوئے؟ ایجاب کی طرف نظر کرتے ہوئے، مبیع بیع واحد، یہ مبیع ہیں کس کے ساتھ بیع؟ ایک اکٹھا ایجاب کیا تھا بھئی دونوں کا میں نے کہ یہ دونوں غلام میں آپ کو بیچتا ہوں اس اس شرط پر اور اس اس طریقے پر، تو یہ دونوں غلام مبیع ہیں بیع واحد، جی۔ فلا یکون بیعا بالحصة ابتداء بل بقاء، تو لہٰذا یہ بیع بالحصہ ابتداءً نہیں بنے گا بلکہ بقاءً بنے گا۔ بھئی بیع بالحصہ کسے کہتے ہیں، پہلے یہ سمجھ لیں۔ بیع بالحصہ، یاد رکھیے بیع بالحصہ فاسد ہے۔ بیع بالحصہ اسے کہتے ہیں: زید اور عمر میرے دو غلام ہیں، ان دو میں سے ایک آپ کو بیچ رہا ہوں، نئی صورت ہے، پچھلی صورتوں کو چھوڑیں ذرا، نئی صورت ذہن میں رکھیں۔ میں کیا کر رہا ہوں؟ صرف ایک غلام کو آپ کو بیچنا چاہتا ہوں۔ لیکن عقد کس انداز میں کرتا ہوں؟ یہ نہیں کہتا کہ یہ غلام میں نے آپ کو بیچا 600 درہم میں، یا 500 درہم میں، بلکہ یوں کہتا ہوں، دیکھو توجہ رکھنا بھئی۔ غلام میرے پاس کتنے ہیں؟ بیچا کتنوں کو ہے؟ بیچنا صرف ایک کو ہے، اسی کی بات کروں گا۔ یہ دونوں غلام ہیں ہزار کے، ہزار درہم کے، اور میں آپ کو بیچ کون سا رہا ہوں صرف؟ زید، تو میں زید کے اب پیسے نہیں بیان کرتا، بلکہ یوں کہتا ہوں، یہ دونوں غلام ہیں ہزار کے، ان میں تو زید جو ہے، وہ میں آپ کو بیچتا ہوں ہزار میں سے اس کا جتنا حصہ بنتا ہے، اس حصے کے ثمن پر، اس حصے کے بقدر ثمن پر۔ تو یہ ہوئی بیع بالحصہ، اب کیا کرنا پڑے گا؟ ثمن مجهول ہو گئے بھئی، کیا کرنا پڑے گا؟ یہ تو ہزار میں نے بتایا، یہ دونوں غلام ہزار کے ہیں، ان میں سے میں نے زید کو بیچا ہزار میں سے اس کا جتنا حصہ بنتا ہے اتنے ثمن پر، اب کیا کرنا پڑے گا؟ دونوں غلاموں کو بازار لے کے جائیں گے، مارکیٹ میں ان کی قیمت لگوائیں گے۔ مارکیٹ میں مثلاً قیمت لگوائی تو پتہ چلا زید ہے 500 درہم کا، اور عمر ہے، وہ طاقتور غلام ہے، وہ ہزار درہم کا ہے۔ بازار میں قیمت لگوائی تو کیا پتہ چلا؟ بھئی وہ جو ہزار تھے نا، وہ ثمن ذکر ہو رہے تھے ثمن کے ساتھ۔ تو بازار جا کر جب قیمت لگوائی، زید کتنے کا؟ 500 کا، اور عمر کتنے کا؟ 1000 درہم کا، معلوم ہوا عمر کی قیمت زید کے مقابلے میں دگنی ہے۔ کتنی ہے؟ دگنی ہے، تو لہٰذا اب وہ جو اس نے کیا کہا تھا ہزار میں سے جو زید کا حصہ بنتا ہے اتنے کے بقدر پر آپ کو بیچتا ہوں۔ معلوم ہوا ہزار کے تین حصے کرنے پڑیں گے۔ کتنے حصے؟ بھئی ہم نے زید کے مقابلے میں دگنے پیسے لانے ہیں، عمر کے مقابلے میں ایک گنا پیسے لانے ہیں، تو کل کتنے حصے کرنے پڑیں گے؟ تین حصے کریں گے۔ ان تین، مثلاً 333 اور کچھ پیسے بن جائیں گے بھئی، تو معلوم ہوا ہزار میں سے 333 کس کے مقابلے میں آتے ہیں؟ زید کے مقابلے میں، اور عمر تو اس سے دگنا بنتا ہے، تو 666 اور کچھ پیسے یہ کس کے مقابلے میں آ جائیں گے؟ عمر، یہ کس کے ذریعے پتہ چلا؟ بازار سے باقاعدہ قیمت لگوائی، اس نے بیچتے، میں نے بیچتے ہوئے یہ کہا تھا نا کہ یہ دونوں تو ہیں ہزار کے، اور آپ کس کو خریدنا چاہتے ہیں؟ زید کو، زید میں آپ کو بیچ دیتا ہوں، لیکن ہزار میں سے جتنے اس کے پیسے اس کا حصہ بنتا ہے اس حصے پر بیچتا ہوں۔ اب ہزار میں سے اس کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ ہمیں ان کو مارکیٹ لے جا کر دونوں کی کیا کرنا پڑے گی؟ قیمت، قیمت لگوائیں گے پتہ چلے گا، اگر دونوں برابر ہیں، زید کی زید کی قیمت بھی 700 درہم مارکیٹ میں لگتی ہے، عمر کی بھی کتنی لگتی ہے؟ 700، معلوم ہوا ہزار میں سے زید کا کتنا حصہ؟ آدھا آدھا، دونوں برابر ہیں نا، تو ہزار میں سے بھی دونوں کے پیسے کتنے بنیں گے؟ ثمن آدھے آدھے بنیں گے، تو ہم پھر کہیں گے یہ زید کتنے کا ہے؟ 500 درہم کا۔ لیکن ہم نے فرض کرو قیمت لگوائی، پتہ چلا زید کی کتنی بنتی ہے مارکیٹ میں قیمت؟ 500، اور عمر کی کتنی ہے؟ 1000، معلوم ہوا عمر کی قیمت زید کے مقابلے میں دگنی ہے، تو لہٰذا اب اس ہزار میں سے زید کے مقابلے میں کتنے آتے ہیں؟ زید کے مقابلے میں ایک حصہ اور عمر کے مقابلے میں دو حصے آئیں گے، تو گویا اس ہزار کے تین حصے کرنے پڑیں گے، اور ان تین حصوں میں سے ایک حصہ پیسے کس کے مقابلے میں ہیں؟ زید کے مقابلے میں، اور دو حصے پیسے کس کے مقابلے میں ہیں؟ عمر کے مقابلے میں ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو اس کو کہتے ہیں بیع بالحصہ، اگر، اور یہ یاد رکھیے یہ جائز نہیں، فاسد ہے۔ کیونکہ جس وقت میں نے آپ کے ساتھ عقد کیا کہ بھئی زید 1000، یہ دونوں تو ہزار کے ہیں اور ان میں سے زید کا جتنا حصہ بنتا ہے اس ثمن پر میں نے زید، اتنے بچوں میں زید آپ کو بیچ دیا، کچھ پتہ چلا فوراً؟ نہیں، یہ اب تو، یہ تو اب آپ کو جانا پڑے گا، قیمت لگوانی پڑے گی، پھر جا کے پتہ چلے گا زید اتنے کا بنتا ہے ہزار میں سے، اور عمر اتنے کا بنتا ہے۔ تو ابتداءً ہی کیا بن، ابتداء میں پتہ نہیں، ثمن مجهول ہو گئے، اور آپ جانتے ہیں کہ ثمن مجهول ہوں تو بیع کیا ہو جاتی ہے؟ فاسد، تو بیع بالحصہ اس میں ثمن چونکہ مجهول ہوتے ہیں لہٰذا وہ بیع کیا ہے؟ فاسد ہے۔ بیع بالحصہ اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ یہی اب اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے کہا چاروں صورتوں میں نسخ والی مشابہت تقاضا کرتی ہے کہ چاروں صورتوں میں عقد کو صحیح ہونا چاہیے، تو یہاں پر بھی تو بیع بالحصہ لازم آئے گا۔ ان صورتوں میں جبکہ اس غلام کے پیسوں کا پتہ نہ ہو۔ چار صورتیں بنائی تھیں نا؟ چار صورتیں، اور ان چار صورتوں میں بعض کے اندر کیا تھے؟ ثمن مجهول تھے۔ بعض میں معلوم تھے، بعض میں مجهول، اور مجهول والی صورت کے اندر جب میں غلام کو واپس لوں گا، تو ثمن کا تو پتہ نہیں، تو پھر کیا کرنا پڑے گا؟ ہزار میں سے اس کا کتنا حصہ ہے؟ ہمیں کیا کرنا پڑے گا؟ قیمت لگوانی پڑے گی، اور پھر اس سے پتہ چلے گا کہ یہ دونوں برابر درجے کے ہیں یا ایک کی قیمت کچھ زیادہ ہے تو اس کے مقابلے میں ثمن بھی ہزار میں سے زیادہ آئیں گے، اور جس کی قیمت کم ہے ثمن بھی اس کے مقابلے میں کم ہو جائیں گے۔ تو یہ جو ہزار ہیں یہ تو ثمن تھے، قیمت کا تو پتہ نہیں، تو قیمت لگوائیں گے پھر پتہ چلے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو وہ صورتیں جن میں غلام کو میں واپس لیتا ہوں مثلاً، اور غلام کو جب واپس لوں گا تو اس کے تو ثمن پتہ نہیں تھے، جب اس کے ثمن پتہ نہیں وہ واپس تو کرنے ہیں، تو کیا کرنا پڑے گا؟ قیمت بازار سے لگوانا پڑے گی، یعنی کہ بیع بالحصہ بنے گی یہاں، کیا بن جائے گی؟ کون سی صورت بن جائے گی؟ اس کے، اس کے حصے میں کتنے آتے ہیں، اور بیع بالحصہ یہ تو فاسد ہے، تو ان میں عقد کو کیا ہونا چاہیے؟ اور آپ نے کیا کہا؟ چاروں صورتوں میں نسخ والی مشابہت تقاضا کرتی ہے کہ عقد صحیح ہونا چاہیے، حالانکہ بعض صورتوں میں تو کیا آ رہی ہے؟ بیع بالحصہ والی صورت بن رہی ہے، ان صورتوں میں تو عقد کو کیا قرار دینا چاہیے؟ فاسد، لیکن آپ کہہ رہے ہیں چاروں صورتوں میں نسخ والی مشابہت تقاضا کر رہی ہے کہ عقد صحیح ہونا چاہیے۔ تو جواب دے رہے ہیں اس کا بھئی: کہ بھئی، بیع بالحصہ یہاں پر ابتداءً نہیں ہے، بقاءً ہے۔ بیع بالحصہ ابتداءً شروع ہی سے ہو، عقد کے شروع سے ہی بیع بالحصہ ہو تو اس وقت کیا ہے؟ بیع فاسد ہے، لیکن اگر ابتداءً بیع بالحصہ نہیں، لیکن بقاءً بیع بالحصہ بنے تو اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ابتداءً تو میں نے دونوں غلام آپ کو بیچے تھے، کوئی بیع بالحصہ کی تھی؟ نہیں، لیکن بقاءً جب میں ایک غلام کو واپس لوں گا، تو اب اس کی قیمت کا پتہ کروانا پڑے گا، تو بیع کو بقا کے لیے کیا، کون سی بیع بن جائے گی یہ بقاءً؟ اب قیمت بیع بالحصہ اب بنے گی آ کے، پہلے تو دونوں غلاموں کو میں نے ایک ہی ایجاب کے ساتھ دونوں آپ کو کیا کیے تھے؟ آپ بھئی اکٹھا ذکر کیا تھا یعنی ایجاب میں تو ابتداءً کوئی حصے کی بات ہوئی تھی؟ نہیں تو ابتداءً بیع بالحِصہ نہیں تھی دونوں غلام بیچے تھے اور ہزار میں بیچے تھے ہاں ایک میں خیار رکھا تھا۔ اب جب میں خیار والے کو واپس لوں گا تو اب کیا خرابی لازم آئے گی؟ بیع بالحِصہ والی لیکن ابتداءً تھی یا بقاءً ہے؟ بقاءً ہے لہٰذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو چونکہ اگر یہ ابتداءً بیع بالحِصہ ہوتی تو یہ فاسد ہوتے لیکن یہ بقاءً بیع بالحِصہ ہے اس لیے یہ بھی صحیح ہو جائیں گے اور چاروں صورتیں کیا ہو جائیں گی؟ صحیح رہیں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے لأن کلا من العبدین بالنظر إلی الإیجاب مبیع بیع واحد اس لیے کہ دونوں غلام جو ہیں ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ ایجاب کی طرف نظر کرتے ہوئے مبیع بیع واحد وہ مبیع ہے ایک ہی بیع کے ساتھ فلا یکون بیعا بالحصة ابتداء بل بقاء تو یہ بیع بالحِصہ ابتداءً نہ ہوئی بلکہ بقاءً ہوئی۔ نسخ والی مشابہت کیا تقاضا کرتی ہے؟ چاروں صحیح۔ ورعایة شبہ الاستثناء تقتضي فساد البيع في الصور الأربع اور استثناء والی مشابہت کی رعایت تقاضا کرتی ہے کہ بیع فاسد ہونی چاہیے چاروں صورتوں میں۔ لجعل ما أي لجعل قبول ما یہاں قبول کا لفظ ہونا چاہیے بھئی۔ لجعل قبول ما ليس بمبیع شرطاً لقبول المبیع۔ بھئی مبیع کو قبول کرنے کے لیے غیر مبیع کو قبول کرنے کی شرط لگانا اس سے عقد فاسد ہو جاتا ہے۔ کیا ہو جاتا ہے؟ توجہ ہے ادھر؟ مبیع کو قبول کرنے کے لیے غیر مبیع کے قبول کرنے کی شرط لگانا اس سے عقد کیا ہو جاتا ہے؟ فاسد۔ دیکھو اس مثال سے بات سمجھ میں آئے گی توجہ رکھنا بھئی۔ ایک شخص ہے وہ آ کے ہاتھ زید اور عمر کو فروخت کرتا ہے کہ یہ میرے دو غلام ہیں، یہ میں ہزار درہم میں آپ کے ہاتھ فروخت کرتا ہوں۔ الگ صورت الگ صورت بناؤ پچھلی صورتوں کو نکال دو۔ اچھا یہ زید اور عمر میں آپ کے ہاتھ فروخت کرتا ہوں کتنے کے بدلے؟ ہزار کے بدلے۔ اب خریدنے والے کو نہیں پتہ زید تو ان میں ٹھیک ہے وہ غلام ہے لیکن عمر بیچارہ وہ تو غلام نہیں ہے وہ تو آزاد آدمی ہے۔ وہ پاس کھڑا ہوا ہے خریدنے والے کو پتہ نہیں کہ یہ جو اس کو بھی غلام بنا کر بیچ رہا ہے یہ اس کا غلام ہے ہی نہیں، یہ تو آزاد آدمی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھیے اب اس نے ایک ہی ایجاب کیا۔ میں نے ان دونوں غلاموں کو آپ کے ہاتھ کتنے میں بیچ دیا؟ ہزار درہم کے بدلے، دوسرے نے قبول کر لیا بیع ہوگئی۔ لیکن یہ عقد فاسد ہے بھئی، کیوں؟ ایک چیز ایک تو غلام تو ہے مبیع اور وہ آزاد وہ مال ہے؟ نہیں، وہ تو مال ہی نہیں وہ تو مبیع ہی نہیں تو لہٰذا گویا مبیع کو قبول کرنے کے لیے غیر مبیع کو قبول کرنے کی شرط لگا دی گئی۔ لفظوں میں تو شرط نہیں دکھر لیکن جب ایجاب دونوں کا اکٹھا ہوا ہے تو قبول بھی کیا کرنا پڑے گا؟ اکٹھا ہی کرنا پڑے گا کہ ہاں میں نے ان دونوں کو خرید لیا۔ یہ نہیں کر سکتا ایک کو قبول کرے صرف۔ جب ایجاب اکٹھا ہو تو قبول بھی اکٹھا، تو جب قبول اکٹھا کرے کر کرے گا تو ساتھ غیر مبیع کو بھی قبول کرنا لازم آئے گا یا نہیں آئے گا؟ تو گویا کہ بیچنے والے نے یوں شرط لگا دی لفظوں میں تو نہیں لیکن جب اس کو ساتھ ذکر کر دیا تو یہ اسی طرح ہو گیا۔ جیسے مبیع کو قبول کرنے کے لیے غیر مبیع کو بھی قبول کرنے کی شرط لگا دی گئی ہے اور یہ کیا ہے؟ فاسد ہے۔ تو یہ عقد کیا ہو جائے گا؟ فاسد۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے اچھی طرح؟ یہ اسی طرح ہے ایک بکری زندہ، ایک مردہ پڑی ہے مردہ اور وہ مردہ وہ تو مال نہیں بھئی۔ تو اس زندہ کے ساتھ مردہ کو کوئی بیچتا ہے کہ یہ دونوں میں تمہیں بیچتا ہوں سو درہم میں۔ بھئی زندہ بکری یہ تو مبیع اور مردہ بکری یہ تو غیر مبیع ہے تو جب دونوں کا اکٹھا ایجاب کر رہا ہے تو اس کو قبول بھی دونوں کو اکٹھا ہی کرنا پڑے گا تو گویا بائع مبیع کو قبول کرنے کے لیے کس کی شرط ساتھ لگا رہا ہے؟ غیر مبیع کو بھی قبول کرنے کی شرط لگا رہا ہے کیونکہ قبول تو اس نے دونوں کو ہی کرنا پڑے گا ایک کو قبول نہیں کر سکتا جیسا ایجاب ہوتا ہے ویسا ہی قبول ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں پر بھی دیکھیے بھئی ضابطہ اچھا ضابطہ سمجھ میں آگیا؟ کہ مبیع کو قبول کرنے کے لیے غیر مبیع کو قبول کرنے کی شرط لگانا اس سے عقد کیا ہو جاتا ہے؟ فاسد۔ تو اب دیکھیے جب میں نے دو غلاموں کو آپ کے ہاتھ فروخت کیا تھا اور ایک کے اندر میں نے اختیار خود رکھ لیا کہ میں اس چاہوں تو بیچ اس بیع کو کیا کر دوں اس میں تین دن میں فسخ کر دوں اور پھر اس کو میں کیا کر لیتا ہوں؟ واپس لے لیتا ہوں تو گویا جب میں نے بیچا تھا اس وقت تو دونوں کو ذکر کیا تھا اور ایک کو میں نے کیا کر لیا؟ واپس لے لیا، معلوم ہوا وہ مبیع نہ رہا حالانکہ عقد میں تو اس کا ذکر تھا، کہتے ہیں لیکن ہم نے اس مشابہت کا اعتبار اس لیے نہیں کیا۔ کیونکہ وہ جو غلام اور آزاد کو بیچا گیا تھا، کس کو؟ غلام اور آزاد کو، وہاں تو آزاد سرے سے مال ہی نہیں تھا وہ تو عقد میں داخل ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ اور قبول اس کا بھی کرنا ضروری تھا۔ جبکہ یہاں پر دونوں ہیں تو غلام، یہ جو ہم بیچ رہے ہیں اس میں دونوں ہیں تو غلام اور غلام ہے تو جو دوسرا جس میں اختیار جس میں اختیار ہے، جس میں اختیار وہ مبیع بننے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں رکھتا؟ رکھتا ہے۔ آزاد تو صلاحیت ہی نہیں رکھتا تھا، مردہ بکری تو صلاحیت ہی نہیں رکھتی تھی لیکن یہ تو غلام ہے یہ تو صلاحیت رکھتا ہے اور دونوں کا ہم نے اکٹھا ایجاب کیا تو دونوں مال ہیں، دونوں کا اکٹھا ایجاب کیا تو اس سے کوئی وہ خرابی بھی لازم غیر مبیع نہیں بلکہ یہ بھی کیا ہے؟ مبیع ہی ہے۔ یہاں وہ غیر بیع کو قبول مبیع کو قبول کرنے کے لیے غیر مبیع کو قبول کرنے کی شرط یہاں لازم نہیں آتی کیونکہ دونوں غلام ہیں، دونوں مال ہیں، دونوں مبیع بن سکتے ہیں اور ہم نے دونوں کا اکٹھا ایجاب کیا ہے، جبکہ وہاں مردہ بکری وہ تو مبیع بن ہی نہیں سکتی، آزاد آدمی وہ تو مبیع تو وہاں گویا مبیع کو قبول کرنے کے لیے کس کی شرط لگائی گئی؟ غیر مبیع کی اور یہاں پر مبیع کو قبول کرنے کے لیے مبیع ہی کی شرط لگائی گئی اور اس سے کوئی خرابی نہیں لازم آتی، بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی؟ کہتے ہیں ولم یعتبر ھاھنا جعل قبول ما دیکھو میں نے اوپر بتلایا تھا قبول کا لفظ ہونا چاہیے وہ یہاں انہوں نے ذکر کر دیا۔ اور اعتبار نہیں کیا گیا یہاں پر جعل قبول ما ليس بمبیع شرطاً لقبول المبیع مبیع کو قبول کرنے کے لیے غیر مبیع کو قبول کرنے کی شرط جو ہے اس کا اعتبار یہاں پر نہیں کیا گیا کمعتبر جیسا کہ اعتبار اس کا کیا گیا تھا إذا جمع بين الحر والعبد اس صورت میں جب جمع کیا جائے آزاد اور غلام کے بیچ یعنی جب ان دو کو جمع کیا جائے تو وہاں تو اعتبار کیا جاتا ہے یہاں اعتبار نہیں کیا گیا۔ جی وہ صورت جس میں غلام اور آزاد کو جمع کیا جائے وفصل الثمن اور ثمن کو الگ الگ ذکر کر دیا جائے۔ تو اس صورت میں لأن الحر لم یکن محلاً للبیع اس لیے کیونکہ آزاد وہ تو بیع کا محل ہی نہیں ہے واشتراط قبوله ليس من مقتضيات العقد اور اس کو قبول کرنے کی شرط یہ عقد کے مقتضیات میں سے عقد اس کا عقد اس کا تقاضا نہیں کرتا بھئی کیونکہ وہ جب وہ مال ہی نہیں وہ تو عقد میں داخل ہی نہیں ہونا چاہیے پھر اس کے قبول کرنے کی شرط کیوں لگے؟ وفي مسألتنا اور ہمارے اس مسئلے کے اندر العبد الذي فيه الخیار وہ غلام جس کے اندر اختیار ہے داخل في العقد وہ تو عقد میں داخل ہے بھئی، ہم نے اس کا بھی ایجاب کیا اور وہ مبیع بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ فلا يكون ضمه مخالفاً لمقتضى العقد لہٰذا اس کو ساتھ ملانا یہ مقتضائے عقد کے خلاف نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ وإن جھل أحدهما أو کلاہما اور اگر جی یہ باقی تین صورتیں، ہم نے کیا کہا؟ چار میں سے ایک صورت میں عقد صحیح ہو جائے گا اور باقی تین صورتوں میں عقد فاسد۔ ان باقی تین صورتوں میں یا تو غلام مجهول تھا یا ثمن مجهول تھے یا دونوں مجهول تھے۔ وہاں ہم نے استثناء والی مشابہت کا اعتبار کیا وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں وإن جھل أحدهما أو کلاہما اور اگر مجهول ہوں ان دو میں سے کوئی ایک یعنی غلام اور ثمن، غلام اور ثمن میں یعنی وہ غلام جس میں اختیار رکھا گیا اگر مجهول ہو ان دو میں سے کوئی ایک أو کلاہما یا دونوں مجهول ہوں لا يصح تو عقد صحیح نہیں ہوگا لشبه الاستثناء کس کی مشابہت کی وجہ سے؟ استثناء کی مشابہت کی وجہ سے، ففي صورت جہل کليہما پس ان دونوں کے مجهول ہونے کی صورت میں، کن دونوں کے؟ وہ غلام جس میں اختیار ہو وہ بھی کیا ہو؟ مجهول اور اس کے ثمن بھی مجهول ہوں۔ اس صورت میں یصیر یوں ہو جائے گا کأنه قال گویا کہ بائع نے یوں کہا بعت ھذین العبدین بآلاف إلا أحدهما إلا أحدهما بحصة ذلك صورت کونسی؟ غلام جس میں اختیار ہے وہ بھی کیا ہو؟ مجهول اور اس کے ثمن بھی کیا ہوں؟ مجهول، تو گویا بائع یوں بیع کر رہا ہے دیکھو ان ان صورتوں میں بیع بالحِصہ لازم آئے گی ابتداء سے ہی گویا بیع بالحِصہ کر رہا ہے اور بیع بالحِصہ تو کیا ہے؟ فاسد ہے تو ان تین صورتوں میں ہم نے اس لیے فاسد قرار دیا، دیکھو الفاظ صرف بتلا رہے ہیں کہ بائع نے تو یوں نہیں کہا لیکن گویا اس کی مراد یہ ہے بیع بالحِصہ گویا کر رہا ہے دیکھیے پہلی صورت کونسی تھی؟ جب غلام جس میں اختیار ہے وہ بھی مجهول اور اس کے ثمن بھی مجهول کأنه قال گویا بائع نے یوں کہا بعت ھذین العبدین بآلاف میں نے آپ کے ہاتھ فروخت کر دیے یہ دو غلام کتنے کے بدلے؟ ایک ہزار کے بدلے إلا أحدهما بحصة ذلك مگر ان دونوں میں سے ایک کو اس کے حصے کے بقدر وہ میں نہیں بیچتا۔ ان میں سے ایک کو اس کے حصے کے بقدر تو دیکھو بیع بالحِصہ آئی، وہ کے احدهما سے پتہ چلا کونسا والا غلام؟ نہیں، غلام بھی مجهول۔ اور بحصة ذلك جو اس کا حصہ بنتا ہے، معلوم ہوا اس کے ثمن کا بھی پتہ نہیں بھئی۔ وذلك باطل اور یہ تو باطل ہے۔ وفي صورة جہل المبیع اور اس صورت میں جب مبیع مجهول ہو۔ یعنی غلام متعین نہیں اگرچہ ثمن ہر ایک کے معلوم ہیں۔ یصیر یوں ہو جائے گا کأنه قال گویا کہ بائع نے یوں کہا بعت ھذین العبدین بآلاف إلا أحدهما بخمس مائة میں نے بیچ دیا ان دو غلاموں کو کتنے کے بدلے؟ ایک ہزار کے بدلے إلا أحدهما مگر ان دو میں سے ایک یعنی اس کو نہیں بیچا۔ کتنے؟ بخمس مائة کتنے میں؟ پانچ سو۔ تو دیکھو ثمن ہر ایک کے پتہ چل گئے۔ لیکن کس ایک کو نہیں بیچا کس میں اختیار رکھا؟ احدهما کہا کوئی تعین نہیں اور وفي صورت جہل الثمن اور ثمن کے مجهول ہونے کی صورت میں یصیر یوں ہو گیا کأنه قال گویا کہ اس نے یوں کہا بعتھما بآلاف میں نے ان دونوں غلاموں کو بیچا ایک ہزار کے بدلے إلا ھذا مگر یہ والا جو متعین غلام ہے، دیکھو غلام متعین ہو رہا ہے جس میں اختیار ہے لیکن ثمن مجهول ہوں گے دیکھو بحصة من الألف ہزار میں سے جو اس کا حصہ ہے۔ جی، تو دو صورتوں میں دیکھو بیع بالحِصہ آرہی ہے اور دو ایک صورت میں مبیع مجهول ہے۔ کونسی دو صورتوں میں بیع بالحِصہ ہے؟ دیکھو الا کے بعد دیکھو بحصة کا لفظ کہاں آرہا ہے؟ پہلی اور تیسری بھئی، یہ بیع بالحِصہ ہونے کی وجہ سے فاسد اور درمیان والی مبیع مجهول ہونے کی وجہ سے فاسد بھئی۔ ولم یعتبر في ھذہ الصور شبه الناصح اور اچھا بھئی! ان تین صورتوں میں آپ نے ناسخ کی مشابہت کا کیوں اعتبار نہیں کیا؟ استثناء والی مشابہت کا کیوں اعتبار کیا؟ کہتے ہیں ولم یعتبر في ھذہ الصور اور اعتبار نہیں کیا گیا ان تین صورتوں کے اندر شبه الناصح ناسخ کی مشابہت کا لأن الناصح المجهول یسقط بنفسه کیونکہ ان تین صورتوں کے اندر یا تو مبیع مجهول ہے یا ثمن مجهول ہیں یا دونوں مجهول ہیں، تو اگر ناسخ کی مشابہت کا اعتبار کریں تو ناسخ گویا کہ مجهول ہوا اور ناسخ مجهول آپ جانتے ہیں خود ساقط ہو جاتا ہے اور ماقبل کا حکم اپنے حال پر باقی رہتا ہے تو وہ خود ساقط ہو جاتا ہے، تو گویا کہ یوں کہنا پڑے گا کہ وہ خیار ساقط ہوا۔ ناسک خود خود کیا ہو جاتا ہے؟ باطل۔ تو یہاں پر گویا کہ دو غلاموں کو بیچا جا رہا ہے اور پھر ایک غیر معین غلام کے اندر بیع کو فسخ کیا جا رہا ہے کس میں فسخ کیا جا رہا ہے؟ غیر معین میں جب فسخ کیا جا رہا ہے تو یہ فسخ کس کی طرح ہوا؟ ناسخ کی طرح۔ اور ناسخ معلوم ہے یا مجھول ہے؟ ناسخ مجھول ہے اور ناسخ مجھول تو کوئی فائدہ نہیں دیتا وہ تو خود کیا ہو جاتا ہے؟ خود ساقط ہو جاتا ہے جب یہ خود فسخ خود ساقط ہو گیا فسخ کا اختیار کیا ہوا؟ ساقط جب اختیار ساقط ہوا تو دونوں کے اندر بیع لازم ہو گئی۔ یعنی دونوں کے اندر بیع واقع ہو گئی، لازم ہو گئی۔ حالانکہ بیچنے والا دونوں میں عقد کرنا چاہتا ہے یا صرف ایک کو بیچنا چاہتا ہے اور ایک میں اختیار رکھنا چاہتا ہے؟ تو اگر ناسخ والی مشابہت کا اعتبار کریں تو ناسخ کون سا ہوا؟ مجھول اور ناسخ مجھول تو خود کیا ہو جاتا ہے؟ ساقط ہو جاتا ہے تو گویا وہ اختیار جو تھا وہ بھی کیا ہو جائے گا؟ کیونکہ وہ اختیار میں کیا تھا؟ ایک غلام کو واپس لیتے تھے نا اور وہ کس کی طرح ہو جاتا تھا؟ ناسخ کی طرح ہو جاتا تھا اور لیکن یہاں تو ناسخ کیا بن جائے گا؟ جب دونوں میں سے ایک چیز مجھول ہے تو ناسخ بھی گویا کیا ہے؟ اور ناسخ مجھول کے بارے میں آپ پہلے پڑھ چکے ہیں وہ کیا ہو جایا کرتا ہے؟ وہ ساقط ہو جاتا ہے اس سے حکم پر کوئی اثر تو بیچنے والا دو غلاموں کو بیچ رہا ہے اور ان میں سے ایک کا اختیار رکھنا چاہتا تھا اور وہ اختیار کس کی طرح ہے؟ نسخ کی طرح تو جب ناسخ ساقط ہوا تو گویا یہ اختیار اس کی طرح یہ بھی کیا ہو گیا؟ جب یہ اختیار ساقط ہوا تو دونوں کی بیع ہو جائے گی۔ اب بائے بیچنے والے کو اختیار نہیں رہے گا حالانکہ بیچنے والا یہ چاہتا ہے کہ میں دونوں کو بیچ دوں اور اختیار نہ رکھوں نہیں وہ تو چاہتا ہے ایک کو بیچوں اور ایک کا اختیار رکھوں سوچوں اگر میری مرضی ہوئی تو بیچوں گا میری مرضی ہوئی تو نہیں بیچوں گا تو یہ اس کی مرضی کے خلاف ہوا اس لحاظ اس لیے ناسخ والے مشابہت کے ہم نے رعایت نہیں رکھی۔ کہتے ہیں ولم یعتبر فی ہذہ الصور فی ہذہ الصور شبہ الناسخ اور اعتبار نہیں کیا گیا ان اخری تین صورتوں میں ناسخ کی مشابہت کا لان ناسخ المجہول یسقط بنفسہ اس لیے کیونکہ ناسخ مجھول تو خود ساقط ہو جاتا ہے فیبطل شرط الخیار تو شرط خیار کیا ہو جائے گی؟ باطل۔ ولیلزم العقد فی العبدین اور عقد دونوں غلاموں میں لازم ہو جائے گا وهو خلاف ما قصدہ القائل اور یہ تو خلاف ہو جائے گا اس کے جس کا کہنے والے یعنی بائے نے کیا کیا تھا؟ ارادہ کیا تھا بائے کا تو یہ ارادہ تھا ایک کو بیچنا چاہتا ہوں اور ایک میں کیا کرنا چاہتا ہوں؟ اختیار رکھنا چاہتا ہوں اور لیکن دو چیزوں میں سے ایک مجھول ہے تو اب اگر اب ناسخ والے جہت کے رعایت رکھیں تو ناسخ مجھول ہوا اور ناسخ مجھول تو خود کیا ہو جاتا ہے؟ ساقط ہو جایا کرتا ہے تو یہ خیار شرط بھی اس کی طرح ہے یہ بھی ساقط ہو جائے گا تو گویا کہ خیار شرط ہے ہی نہیں اور جب خیار شرط نہ ہو دو غلاموں کو اکٹھا بیچا جائے تو دونوں میں کیا ہو جاتی ہے؟ بیع منعقد تو کہنا پڑے گا دونوں غلاموں میں بیع منعقد ہو گئی حالانکہ بیچنے والا تو دونوں میں منعقد نہیں کرنا اس نے تو ایک میں ارادہ کیا ہے بیع کے لزوم کا اور ایک میں غیر لزوم کا۔ تو اور اگر ناسخ والے مشابہت کی رعایت رکھیں تو دونوں میں بیع لازم ہو جاتی ہے جو کہ اس بائے کی مرضی اور اس کے ارادے کے خلاف ہو جائے گا جو کہ درست نہیں لہذا اس لیے ہم نے ناسخ والے مشابہت کی رعایت نہیں رکھی بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں اگئی؟ چلیے بس بھئی ھذا والامر واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔