درس نمبر۔37 ثم ان المصنف رحمہ اللہ تعالی لما فرغ عن بيان العام غير المخصوص شرع في بيان العام المخصوص۔ واورد فيه ثلاثة مذاهب، وبين كل مذهب بدليل، وشبهه بمسالة فقهية۔ فقال: فإن لحقه خصوص معلوم او مجهول لا يبقى قطعيا، لكنه لا يسقط الاحتجاج به۔ کہتے ہیں: ثم ان المصنف رحمہ اللہ، پھر مصنف رحمہ اللہ جو ہیں لما فرغ عن بيان العام غير المخصوص، میں نے بتلایا تھا اپ کو کہ عام دو قسم پر ہے: ایک عام مخصوص البعض اور ایک عام غیر مخصوص البعض۔ عام غير مخصوص البعض وہ ہے جس میں سے کچھ افراد کو خاص نہ کیا گیا ہو، کچھ افراد کو اس حکم سے نہ نکالا گیا ہو، جبکہ عام مخصوص البعض وہ عام ہے کہ جس میں سے بعض افراد کو نکال لیا گیا ہو۔ اس کے حکم میں سے بعض افراد کو کیا کر لیا گیا ہو؟ نکال دیا گیا ہو بھئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں بھئی: درجہ رابعہ کے طلباء کو انعام دیا جائے۔ تو درجہ رابعہ کے طلباء کو انعام دیا جائے، درجہ رابعہ کے طلباء یہ عام ہے اور اس میں سے کسی فرد کی تخصیص نہیں کی گئی، سب کے لیے کیا حکم لگا دیا گیا؟ انعام دیا جائے، تو یہ عام غیر مخصوص البعض ہوا۔ اور اگر مثلاً میں ساتھ یہ بھی ملا دیتا ہوں کہ اور زید، عمر اور بکر کو انعام نہ دیا جائے، تو اب یہ مولانا اب یہ کس قسم کا عام ہوا؟ مخصوص البعض ہوا، کیونکہ بعض افراد کو اس کے حکم سے نکال دیا گیا۔ باقیوں کے لیے حکم ہوا کہ انہیں انعام دیا جائے، زید، عمر، بکر کے لیے حکم ہوا کہ انہیں انعام نہ دیا جائے، تو وہ انہیں اس حکم سے نکال دیا گیا بھئی۔ سو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عام مخصوص البعض۔ تو ابھی تک عام غیر مخصوص البعض کی بات چل رہی تھی بھئی کہ وہ ہمارے نزدیک قطعی ہے بھئی، اور اب عام مخصوص البعض کی بات شروع کریں گے اور بتلائیں گے کہ وہ ہمارے نزدیک قطعی نہیں ہے، بلکہ ظنی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ثم ان المصنف رحمہ اللہ لما فرغ عن بيان العام غير المخصوص، پھر جب مصنف رحمہ اللہ جو ہیں وہ فارغ ہوئے عام غیر مخصوص کے بیان سے، شرع في بيان عام المخصوص، تو وہ شروع ہوئے عام مخصوص کے بیان کے اندر۔ واورد فيه ثلاثة مذاهب، اور لائے اس کے اندر تین مذاہب بھئی۔ وبين كل مذهب بدليل، اور بیان کیا ہر مذہب کو اس کی دلیل کے ساتھ۔ ہر مذہب کو دلیل کے ساتھ بیان کیا، وشبهه بمسالة فقهية، اور تشبیہ دی اس کی مسئلہ فقهیہ کے ساتھ۔ تو تین مذاہب بیان کریں گے اور ہر مذہب کے ساتھ دلیل ذکر کریں گے اور اس کی تشبیہ بیان کریں گے مسئلہ فقهیہ کے ساتھ، کسی مسئلے، کسی فقہی مسئلے کے ساتھ۔ فقال، پس مصنف فرماتے ہیں: فإن لحقه خصوص معلوم او مجهول، اگر مل جائے عام کے ساتھ اگر عام کے ساتھ مل جائے خصوص معلوم کوئی مخصص معلوم یا او مجهول یا مخصص مجہول مل جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لا يبقى قطعيا، تو وہ عام جو ہے وہ قطعی نہیں رہے گا۔ لكنه لا يسقط الاحتجاج به، لیکن ساقط نہیں ہوگا اس سے استدلال کرنا، اس کے ذریعے استدلال کرنا ساقط، پھر بھی وہ قابل استدلال رہے گا۔ کیا بتلایا مصنف نے؟ کہ اگر عام کے ساتھ کیا مل جائے؟ کوئی خصوص معلوم مل جائے یا خصوص مجہول مل جائے تو پھر وہ قطعی نہ رہے گا۔ یعنی اس میں سے بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے تو پھر اس صورت میں وہ قطعی نہیں رہے گا۔ قطعی تو نہیں رہے گا، لیکن اس سے احتجاج کرنا، اس کے ذریعے استدلال کرنا، اسے بطور دلیل کے پیش کرنا یہ ساقط نہیں ہوگا، اسے پھر بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ بطور دلیل کے پیش کیا جا سکتا ہے، وہ حجت رہے گا، دلیل بنے گا بھئی۔ ہاں قطعی نہ رہا، بلکہ کیا بن گیا؟ ظنی بن گیا۔ بھئی خصوص معلوم اور خصوص مجہول بھئی۔ आगे شرح کے اندر بھی بیان کریں گے، یہی پر سمجھ لیں اپ بھئی، دیکھیے قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں: احل الله البيع، اللہ نے تمام بیوع کو حلال قرار دیا ہے، وحرم الربا، اور ربا کو حرام قرار دیا ہے۔ اگر صرف آیت کے اعتبار سے دیکھا جائے، تو اللہ کیا فرما رہے ہیں؟ وحرم الربا، اور ربا کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ دلیل مخصص ہے مولانا، اس دلیل کے ذریعے کیا ہو رہا ہے؟ تخصیص ہو رہی ہے، بیع کے بعض افراد کو نکالا جا رہا ہے کہ بیع ربا وہ حلال نہیں ہے، وہ کیا ہے؟ حرام۔ باقی بیوع کا کیا حکم بیان ہوا؟ وہ تو حلال ہیں، لیکن بیع ربا کیا ہے؟ حرام ہے بھئی۔ یہ کس کے ذریعے معلوم ہوا؟ وحرم الربا کے ذریعے، تو یہ دلیل ہوئی اور کس دلیل مخصص ہوئی، تخصیص کرنے والی دلیل ہے یہ بھئی۔ اس دلیل کے ذریعے تخصیص ہو رہی ہے بھئی۔ تو یہ مخصص ہے، یہ کیا ہے؟ مخصص ہے، دلیل مخصص ہے بھئی۔ اب مولانا ربا لغت میں زیادتی کے معنی ہیں ربا کے بھئی۔ کیا معنی ہوا وحرم الربا؟ اور ربا زیادتی کو حرام قرار دیا ہے، تو اس وقت مولانا صرف آیت پر نظر رکھی جائے، تو یہ مخصص جو ہے مجهول المراد ہے۔ کیا ہے؟ بھئی خود تو مجهول نہیں ہے۔ وحرم الربا، یہ تو معلوم ہے تخصیص ہو رہی ہے مولانا، کیا ہو رہی ہے؟ تخصیص ہو رہی ہے، ہاں اس کی مراد کیا ہے؟ بھئی یہ زیادتی سے کیا مراد ہے؟ یہ وہ مراد کیا ہے؟ مجهول ہے مولانا، کہ ربا سے کیا مراد ہے؟ کیونکہ ربا کا معنی تو زیادتی کے ہیں، اور ہر بیع ہوتی ہی زیادتی کے لیے، مشروع ہی زیادتی کے لیے ہوئی ہے، بیع کا مقصد ہی کیا ہے؟ تاجر چیز خرید کر لاتا ہے، آگے اس کو ذرا تھوڑا مہنگا بیچتا ہے تاکہ نفع کمائے۔ تو ہر بیع میں کیا ا جاتی ہے؟ زیادتی ا جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو لہذا صرف حرم الربا کو دیکھا جائے تو پھر اس کی مراد کا پتہ نہیں چلتا، تو اس اعتبار سے یہ مخصص کس قسم کا ہوا؟ مجهول المراد، مخصص خود نہیں مجهول، مخصص تو معلوم ہے، مخصص یہ ہے حرم الربا، یہ تو معلوم ہے، لیکن اس کی مراد کیا ہے؟ وہ مراد کیا ہے؟ وہ مجهول ہے، تو یہ کیسا مخصص ہوا؟ مجهول المراد مخصص ہوا مولانا۔ لیکن پھر حدیث کے اندر اس کا بیان اتا ہے مولانا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، آگے شرح کے اندر حدیث ا جائے گی باقاعدہ: الحنطة بالحنطة والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح والذهب بالذهب والفضة بالفضة مثلا بمثل يدا بيد والفضل ربا۔ اس حدیث کے ذریعے بیان ایا مولانا۔ کہ بیچو تم گندم کو گندم کے بدلے، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، نمک کو نمک کے بدلے، سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، مثلا بمثل، برابر کے بدلے برابر ہو، مثل کے بدلے مثل یعنی برابر کے بدلے برابر ہو، يدا بيد، ہاتھوں ہاتھ ہو یعنی نقد ہو مولانا، والفضل ربا، اور زیادتی ربا ہے، سود ہے۔ تو اس حدیث سے اس بیان اگیا اس کا مولانا، اب یہ پہلے جو تھا وہ مخصص معلوم مجهول تھا، اب کیا بن گیا؟ معلوم بن گیا، کیا بن گیا؟ معلوم بن گیا۔ تو یہی حرم الربا مخصص معلوم کی بھی مثال ہے اور مخصص مجهول کی بھی۔ مخصص مجهول کی مراد کب ہے؟ حدیث سے کے بغیر، اور حدیث کے ساتھ پھر یہ کیا ہے؟ مخصص معلوم کی مثال ہے بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ اچھا، تو کہتے ہیں: فإن لحقه خصوص معلوم او مجهول لا يبقى قطعيا، اگر مل جائے اس عام کے ساتھ کوئی خصوص معلوم او مجهول یا خصوص م مخصص مجهول، لا يبقى قطعيا، تو وہ عام قطعی نہیں قطعی نہیں رہتا، لكنه لا يسقط الاحتجاج به، لیکن اس کے ذریعے استدلال کرنا ساقط نہیں ہوتا۔ ای، ان دیکھیے اب آگے بھئی شرح میں: ای، ان لحق هذا العام الذي كان قطعيا مخصص معلوم المراد او مجهول المراد، یعنی اگر مل جائے اس عام کے ساتھ جو کہ قطعی تھا، مخصص معلوم المراد، ایسا مخصص جس کی مراد معلوم ہو، مخصص موصوف ہے مولانا، معلوم المراد اس کی صفت ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ مخصص جیسے نکرہ ہے، معلوم المراد بھی اسی طرح نکرہ ہے۔ اپ کے ذہن میں ائے گا کہ معلوم المراد مضاف مضاف الیہ مل کر تو معرفہ ہو گئے، یہ اس کی صفت کیسے بنیں گے نکرہ کے لیے؟ نہیں بھئی، یہ اضافت لفظیہ ہے بھئی، کون سی ہے؟ اضافت لفظیہ۔ اپ نے نحو کے اندر پڑھا ہوگا، اضافت لفظیہ کس کو کہتے ہیں؟ کہ صفت کے صیغہ ہو اور اس کی اضافت کر دی جائے اپنے معمول کی طرف بھئی۔ تو بھئی معلوم کیا چیز ہے؟ اسم مفعول، اور اسم مفعول کس کا تقاضا کرتا ہے؟ نائب فاعل کا تقاضا کرتا ہے۔ اب اپ مجھے بتائیے وہ معلوم کیا ہے؟ کیا چیز معلوم ہوگی یا کیا چیز مجهول ہوگی؟ وہی مراد۔ معلوم ہوا اگلے المراد اسی کے لیے نائب فاعل ہے۔ معلوم کیا ہوگی؟ مراد، یا مجهول کیا ہوگی؟ مراد، تو یہی اس کا نائب فاعل ہے، اور اسی صفت کے صیغے کی اضافہ تو یہ نائب فاعل ہوا، اس کا اور معمول ہو گیا، معلوم عامل اور المراد کیا ہوا؟ معلوم عامل اور المراد معمول ہوا اس کا، یہ اس نائب فاعل کو کیا کرے گا؟ رفع دے گا۔ پھر ہم نے اسی کی طرف اس کی اضافت کر دی۔ تو صیغہ صفت کا ہے، مضاف ہوا کس کی طرف؟ اپنے معمول کی طرف، اس کو اضافت لفظیہ کہتے ہیں، اور اپ نے پڑھا ہے اضافت لفظیہ صرف لفظوں میں تخفیف کا فائدہ دیتی ہے۔ اگر اضافت نہ ہوتی تو معلوم پر تنوین انی تھی۔ اضافت سے وہ تنوین گر گئی بس۔ تعریف یا تخصیص کا فائدہ یہاں پر حاصل نہیں ہوتا، جیسے معلوم کا لفظ اکیلا پہلے نکرہ تھا، اب اضافت کے بعد بھی اسی طرح نکرہ ہی ہے بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ای، ان لحق هذا العام الذي كان قطعيا، اگر مل جائے اس عام کے ساتھ جو کہ قطعی تھا، مخصص معلوم المراد، کیا مل جائے؟ ایسا مخصص جس کی مراد معلوم ہے، او مجهول المراد، ایسا مخصص جس کی مراد مجهول ہے، فالمختار، تو پس مختار مذہب یعنی پسندیدہ مذہب یہ ہے: انه لا تبقى قطعياته، کہ اس کی قطعیت باقی نہیں رہے گی۔ تو اس کی قطعیت اس عام کی قطعیت جو ہے باقی نہیں رہے گی، ولكن يجب العمل به، لیکن اس پر عمل واجب ہوگا، كما هو شان سائر الدلائل الظنية، جیسا کہ شان ہے باقی دلائل ظنیہ کی۔ جیسا کہ شان کس کی ہے؟ باقی دلائل ظنیہ کی بھئی۔ یاد رکھیے، سائر تمام کے معنی میں بھی اتا ہے، باقی کے معنی میں بھی اتا ہے۔ یہاں باقی کے معنی میں ہے، کیونکہ آگے اس کا بیان ا رہا ہے: من الخبر الواحد والقياس، یعنی کہ خبر واحد اور قیاس۔ یعنی کہ خبر واحد اور قیاس۔ اگر اس کا ترجمہ تمام کے کریں، جیسا کہ شان ہے تمام دلائل ظنیہ کی، یعنی کہ خبر واحد اور قیاس، تو تمام دلائل ظنیہ صرف یہ دو ہیں؟ یہ عام غیر مخصوص البعض بھی ہے، ابھی اپ نے پڑھا۔ عام مخصوص البعض، عام مخصوص البعض بھی ہے، تو پھر تو اس کو بھی ساتھ کا مستحق ہونا چاہیے تھا بھئی، تو یہ سارے کے سارے یہی نہیں ہیں، ہاں یہ اس کے علاوہ ہیں، تو باقی کا ترجمہ کریں سائر کا، جیسا کہ شان ہے، حال ہے مولانا باقی دلائل ظنیہ کا، یعنی کہ خبر واحد اور قیاس کا، کہ ان پر عمل واجب ہوتا ہے مولانا۔ والتخصيص في الاصطلاح، تخصیص کہتے کس کو ہیں مولانا؟ اصطلاحی تعریف بتلانے لگے ہیں۔ والتخصيص في الاصطلاح، اور اصطلاح کے اندر تخصیص جو ہے: هو قصر العام على بعض مسمياته، وہ بند کرنا ہے عام کو اپنے بعض مسمیات پر، یعنی بعض افراد پر، عام کو بند کرنا ہے اپنے بعض افراد پر، بكلام مستقل موصول، ایسے کلام کے ذریعے جو مستقل ہو اور موصول ملا ہوا ہو بھئی۔ ایسے کلام کے ذریعے جو مستقل ہو اور موصول ہو، ساتھ ملا ہوا ہو۔ مستقل ہونے کا معنی یہ ہے کہ پورا کلام ہو، فائدۂ تام دے مولانا، پورا کلام اکیلا ہی۔ سمجھ میں آیا؟ پورا کلام ہو بھئی، پورا جملہ ہو، پورا جملہ ہو بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ آگے ذکر ائے گا مولانا، کبھی یہ یہ جو ہے تخصیص شرط کے ذریعے بھی ہو جاتی ہے، کبھی استثناء کے ذریعے بھی تخصیص ہوتی ہے، لیکن کیا استثناء مثلاً جائني القوم إلا زيدا، یہ إلا زيدا پورا جملہ ہے؟ نہیں، لہذا یہ اصطلاحی تخصیص نہیں، تو زید کو قوم سے تو نکال دیا، لیکن اس کو اصطلاح کے اندر تخصیص نہیں کہیں گے، کیونکہ تخصیص کے لیے کیا ضروری ہے؟ وہ کیا ہونا چاہیے؟ ایسا کلام جو مستقل ہو، یعنی پورا ہو، فائدۂ تام دے اور موصول ہو، پچھلے کلام کے ساتھ، یعنی اس عام کے ساتھ کیا ہو؟ ملا ہوا ہو بھئی، اس سے الگ نہ ہو بھئی۔ جیسے دیکھیے بھئی: قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: احل الله البيع وحرم الربا، تو ربا کو کیا کر دیا گیا؟ حلت کے حکم سے نکال دیا گیا، معلوم ہوا: احل الله البيع، اس بیع سے مراد باقی بیوع ہیں، بیع ربا اس سے مراد نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھو بیع کا تو تقاضا بیع کا لفظ تو ہر بیع پر بولا جاتا ہے، لیکن اس کے بعض افراد کو اس سے کیا کر لیا گیا؟ نکال دیا، جب بعض افراد کو نکال دیا تو گويا بیع کو ہم نے بعض افراد پر ہی بند کر دیا، سارے افراد اس کے اندر داخل نہیں کیے۔ صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ بعض افراد پر ہی بیع کو بند کر دیا اور بعض کو اس کے حکم سے نکال دیا ہے، نکال دیا گیا ہے وحرم الربا کے ذریعے بھئی۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں اگئی بھئی؟ جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی تھی۔ کہ درجہ رابعہ کے طلباء کو انعام دیا جائے۔ اور زید، عمر، بکر کو انعام نہ دیا جائے۔ تو درجہ رابعہ کے طلباء یہ اس میں تو زید، عمر، بکر بھی شامل تھے، لیکن کیا میں نے ان کو اس میں شامل رکھا ہے یا ان کو نکال دیا ہے؟ نکال دیا ہے، تو اس عام کو میں نے اپنے سارے افراد پر ہی رکھا ہے یا بعض میں ہی بند کر دیا ہے؟ یعنی ان تین کے علاوہ کو میں بند کر دیا اس عام کو، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ صرف وہ مراد لیے ہیں اس سے یعنی۔ تو کہتے ہیں: اصطلاح کے اندر تخصیص: هو قصر العام على بعض مسمياته، وہ بند کرنا ہے عام کو اپنے بعض افراد پر، بكلام مستقل موصول، ایسے کلام کے ساتھ جو مستقل ہو، یعنی فائدۂ تام دے، موصول، اور پچھلے کلام کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ فإن لم يكن كلاما بأن كان عقلا او حسا او عادة او نحوه لم يكن تخصيصا اصطلاحا، اگر وہ مخصص جو ہے وہ کلام نہ ہو۔ وہ جو بعض افراد کو نکالنے والا ہے اگر وہ انہوں نے تین قیدیں ذکر کی مولانا: بكلام، کیا ہو وہ؟ کلام ہو۔ دوسری بات کی: مستقل، وہ کلام بھی کیا ہو؟ مستقل ہو۔ موصول، تیسری بات کیا ذکر کی؟ ساتھ ملا ہوا ہو، اب تینوں کا فائدہ بتلائیں گے بھئی۔ کہتے ہیں: فإن لم يكن كلاما، اگر وہ مخصص کلام نہ ہو، یعنی وہ جو دلیل مخصص ہے جو بعض افراد کو نکال رہی ہے، اگر وہ کلام نہ ہو بأن كان عقلا، بہیں طور کہ وہ عقل ہو، بعض اوقات عقل ہی بعض افراد کو عام سے نکال دیتی ہے بھئی، جیسے قرآن میں ہے بھئی: خالق كل شيء، اللہ تعالی کیا ہیں؟ ہر چیز کے ملا کر کرے۔ اس کے نفاذ کے وقت دونوں اکٹھے حکم نافذ ہو رہے ہیں۔ نفاذ کیا ہو رہا ہے دونوں کا؟ وصیت ایک سے اج کرے، ایک 10 سال بعد کرے، لیکن دونوں نے نافذ کب ہونا ہے؟ موت کے وقت۔ نفاذ کے وقت دونوں کو گویا کہ حکماً کیا ہو چکے ہیں؟ مقارنت آ گئی ان میں۔ کیا آ گئی؟ مقارنت آ گئی، سمجھ میں آیا؟ اور جب مقارنت ہو، کلامِ موصول ہو، اس صورت میں کیا حکم بتلایا تھا آپ نے؟ اس صورت میں تفصیل ہے، تو حلقہ پہلے کے لیے ہو گا اور نگینہ؟ کیونکہ اس وقت اگر کلامِ موصول میں صورت میں کہے پھر تو اشکال ہی کوئی نہیں، کلامِ مفصول کی صورت میں بھی اشکال نہیں رہتا، اس لیے کیونکہ دونوں کا نفاذ کس وقت ہونا ہے؟ موت کے وقت۔ پھر گویا وہاں جا کر دونوں گویا مل گئے، آپس میں مقارنت آ گئی اور جب مقارنت آئی تو اس صورت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ حلقہ پہلے کے لیے ہو گا اور نگینہ کس کے لیے ہو گا؟ دوسرے کے لیے، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں مولانا، کس پر؟ کہتے ہیں جیسے کسی شخص کے لیے رقبہ کی وصیت کی، مثلاً ایک آدمی نے وصیت کی میرے مرنے کے بعد میرا یہ جو غلام ہے زید کو دے دیا جائے۔ تو غلام کے رقبہ کی وصیت اس نے کس کے لیے کر دی؟ زید کے لیے، رقبہ سے مراد ذات ہے یعنی ذات اس غلام کی وصیت زید کے لیے کر دی۔ اور پھر کہتا ہے اور اس غلام کی خدمت عمر کے لیے ہے۔ میرے مرنے کے بعد یہ غلام کس کی خدمت کرے؟ عمر کی خدمت کرے۔ تو دیکھو اس نے رقبہ کی وصیت کی ہے زید کے لیے اور خدمت کی وصیت کس کے لیے کی ہے؟ عمر کے لیے کی ہے، تو یہ چاہے کلامِ مفصول کے ساتھ کہے، چاہے کلامِ موصول کے ساتھ کہے، دونوں صورتوں کے اندر خدمت زید کے لیے ہو گی اور خدمت نہیں ذات جو ہے وہ زید کے لیے ہو گی اور خدمت کس کے لیے ہو گی؟ عمر کے لیے، تو جیسے وہاں کلامِ موصول اور مفصول دونوں برابر ہیں اسی طرح انگوٹھی اور نگ میں بھی یہ دونوں کلام کیا ہوں گے آپس میں؟ برابر، یعنی چاہے الگ کہے چاہے ملا کر کہے، دونوں صورتوں میں اسی طرح ہو گا جیسے ذات اور خدمت کے اندر تھا بھئی۔ ہم کہتے ہیں آپ کا یہ قیاس قیاس مع الفارق ہے مولانا۔ فارق کا معنی ہے مختلف مختلف، یعنی ایک مختلف چیز پر کیا کر لینا؟ اس کے ساتھ قیاس کرنا، حالانکہ قیاس تو ایک جیسی چیز کا دوسری چیز پر کیا جاتا ہے اسی کی طرح کی چیز پر، لیکن آپ تو کیا کر رہے ہیں؟ ایک جیسی چیز نہیں ہے بلکہ مختلف چیز ہے، ان میں فرق ہے مولانا۔ فرق کیا ہے؟ ہم کہتے ہیں بھئی دیکھیے انگوٹھی کا لفظ نگینے اور حلقے دونوں کو شامل تھا۔ انگوٹھی کا لفظ لیکن دوسری صورت جو آپ ذکر کر رہے ہیں وہاں ایک چیز ہے رقبہ، ایک ہے خدمت۔ رقبہ ذات کے قبیل سے ہے، خدمت وصف کے قبیل سے ہے، تو رقبہ کا لفظ خدمت کو شامل ہی نہیں ہے کہ اس میں سے بعد میں اس کو نکالا جائے بھئی۔ جبکہ یہاں تو کیا تھا؟ انگوٹھی کا لفظ نگینے کو شامل تھا بعد میں اس کو کیا کیا گیا؟ اس حکم سے وہ نکال رہا ہے، تو انگوٹھی کا لفظ تو وہاں خاص اور عام میں تعارض آ جاتا ہے، جبکہ یہاں رقبہ کا لفظ خدمت کو شامل ہی، دونوں کی جنس ہی الگ ہیں، رقبہ بولا تو رقبہ ہی مراد ہوتی ہے خدمت اس سے مراد نہیں، اور خدمت بولا تو خدمت ہی مراد ہے رقبہ مراد نہیں۔ تو یہاں تعارض ہی نہیں آئے گا، جب اس نے کہا یہ رقبہ زید کے لیے ہے تو کیا خدمت بھی آ گئی بیچ میں؟ خدمت الگ چیز ہے بھئی، تو لہذا اور بعد میں خدمت کا کہا، وہاں چاہے کلامِ موصول سے کہے چاہے کلامِ مفصول سے کہے مولانا، تعارض کسی صورت میں بھی نہیں آتا کیونکہ یہ پہلے مسئلے کی طرح نہیں، جبکہ انگوٹھی کے مسئلے میں جب اس نے کیا کہا؟ انگوٹھی زید کے لیے ہے، تو اس میں نگینہ آ چکا تھا، پھر آگے پھر اسی نگینے کا ذکر کر رہا ہے تو تعارض آ گیا۔ جبکہ پہلے دوسری صورت میں رقبہ والی صورت میں جب رقبہ ذکر کیا خدمت آئی ہی نہیں، آگے پھر الگ خدمت ذکر کر دی تو کوئی تعارض آیا؟ نہیں، تو وہاں چاہے کلامِ مفصول سے کہے چاہے کلامِ موصول سے کہے، وہاں کوئی فرق، وہاں تعارض نہیں آتا بھئی۔ وَ عِنْدَ اَبِیْ یُوْسُفَ رَحِمَہُ اللّٰہُ یَکُوْنُ الْفَصْلُ لِلثَّانِیْ اَلْبَتَّۃَ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک نگینہ جو ہے وہ موسیٰ لہ الثانی کے لیے ہو گا البتہ قطعی طور پر سَوَاءٌ اَتٰی بِکَلَامٍ مَّوْصُوْلٍ اَوْ مَفْصُوْلٍ برابر ہے کہ وہ لے کر آئے کلامِ موصول کو یعنی ملائے ہوئے کلام کو او مفصول یا مفصول جدا کلام لِاَنَّ الْوَصِیَّۃَ اِنَّمَا تَلْزَمُ بَعْدَ مَمَاتِہٖ لَا فِیْ حَیَاتِہٖ اس لیے کہ وصیت جو ہے وہ لازم ہوتی ہے وصیت کرنے والے کی موت کے بعد نہ کہ اس کی زندگی میں فَکَانَ الْمَوْصُوْلُ وَالْمَفْصُوْلُ سَوَاءً تو اس صورت میں موصول اور مفصول دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں کَمَا فِی الْوَصِیَّۃِ بِالرَّقَبَۃِ لِاِنْسَانٍ وَّ بِخِدْمَتِہَا لِاٰخَرَ جیسے کہ اس وصیت میں ہے جو کسی انسان کسی غلام کی رقبہ کی ہو کسی انسان کے لیے اور اس کی خدمت کے لیے ہو کسی دوسرے کے لیے، جیسے کہ اس وصیت کے اندر ہے بھئی، اس میں جیسے کلامِ موصول اور مفصول دونوں کیا ہیں؟ برابر ہیں بھئی۔ قُلْنَا ہم جواب میں کہتے ہیں اَلْوَصِیَّۃُ بِالرَّقَبَۃِ لَا تَتَنَاوَلُ الْخِدْمَۃَ کہ رقبہ کی وصیت یہ شامل نہیں ہے خدمت کو لِاَنَّہُمَا جِنْسَانِ مُخْتَلِفَانِ اس لیے کہ یہ دونوں کیا ہیں؟ دو مختلف جنسیں ہیں مولانا، رقبہ ذات کے قبیل سے ہے اور خدمت صفات کی قبیل سے، صفت کے قبیل سے ہے۔ بِخِلَافِ الْخَاتَمِ بخلاف انگوٹھی کے فَاِنَّہٗ یَتَنَاوَلُ الْفَصْلَ لَا مَحَالَۃَ اس لیے کہ وہ نگینے کو شامل ہے قطعی طور پر فَیَکُوْنُ کَالْقِیَاسِ مَعَ الْفَارِقِ تو یہ کیا ہوا؟ کس کی طرح ہو جائے گا؟ قیاس مع الفارق کی طرح ہو جائے گا، اس انگوٹھی کے مسئلے کو قیاس کرنا کس پر؟ رقبہ والے مسئلے پر، یہ کس کی طرح ہوا؟ قیاس مع الفارق کی طرح کیونکہ دونوں ایک جیسے ہیں ہی نہیں، دونوں فرق ہے دونوں میں، دونوں مختلف ہیں بھئی۔ یہاں تک اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ثُمَّ اِنَّ فِیْ ہٰذَا الْمَقَامِ عَامَّیْنِ اِخْتَلَفَ فِیْہِمَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مَعَ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی ظَنًّامِّنْہُ بِاَنَّہُمَا مَخْصُوْصَانِ عِنْدَ اَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہُ وَلَیْسَ کَذَالِکَ پھر کہتے ہیں اس مقام پر عامین دو ایسے عام ہیں اختلف فیہما الشافعی جس میں اختلاف کیا ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے مع ابی حنیفہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ظناً منہ گمان کرتے ہوئے منہ ھا ضمیر امام شافعی رحمہ اللہ کو راجع ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اپنی طرف سے یہ گمان کرتے ہوئے کہ بانھما مخصوصان عند ابی حنیفہ کہ یہ دونوں مخصوص ہیں امام صاحب کے نزدیک وليس کذالک اور حالانکہ ایسا نہیں ہے، واقعہ ایسا، واقعے میں ایسا نہیں ہے بھئی۔ بھی دیکھیے یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں کہ یہاں پر دو عام ہیں جس میں امام شافعی رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اختلاف کیا ہے بھئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ گمان ہے کہ شاید امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ کیا ہیں؟ یہ عام مخصوص ہیں یعنی ان میں سے بعض افراد کو کیا کر لیا گیا ہے؟ خاص کر لیا گیا ہے، حالانکہ کہتے ہیں واقعہ ایسا نہیں، وہ عام امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک مخصوص ہیں ہی نہیں، مخصوص ہیں۔ تو دو عام ہیں ان میں کس نے اختلاف کیا؟ امام شافعی رحمہ اللہ نے، کس سے؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا کیا گمان ہوا؟ کہ شاید امام صاحب کے نزدیک یہ مخصوص ہیں، تو انہوں نے اختلاف کیا اس کے اندر۔ حالانکہ شارح بتلاتے ہیں واقعہ ایسا نہیں، امام صاحب کے نزدیک وہ مخصوص ہیں ہی نہیں، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تَقْرِیْرُ الْاَوَّلِ جی، پہلے مسئلہ سمجھ لو بھئی۔ یاد رکھیے قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَلَا تَاْکُلُوْا اور تم نہ کھاؤ مِمَّا اس ذبیحے میں سے، ما سے مراد ذبیحہ ہے، لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ جس پر ذکر نہ کیا گیا ہو اللہ کا نام بھئی۔ تو مس ذبیحے کو نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اب یاد رکھیے یہاں تین مذاہب ہیں بھئی۔ پہلا مذہب عند الاحناف بھئی، عند الاحناف اگر کوئی جانور ذبح کیا جائے اور ذبح کرنے والا جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لے، تو اس صورت میں وہ حرام ہے اس جانور کا کھانا حرام ہے بھئی، اس ذبیحے کا کھانا حرام ہے۔ اور اگر بھولے سے رہ جاتا ہے بھئی اللہ کا نام لینا وہ بھول گیا بھئی، تو اس صورت میں اس کا کھانا اس ذبیحے کا کھانا حلال ہے بھئی۔ تو عند الاحناف عمداً عمداً اگر جان بوجھ کر وہ تسمیہ چھوڑتا ہے تو وہ حظر ذبیحہ حرام اور اگر بھولے سے چھوڑتا ہے تو وہ حلال۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی چاہے جان بوجھ کر چھوڑ دے چاہے بھولے سے رہ جائے تسمیہ، دونوں صورتوں میں وہ ذبیحہ حرام ہے بھئی۔ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک جان بوجھ کر تسمیہ چھوڑے یا بھولے سے چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ ذبیحہ کیا ہو گا؟ حرام ہو گا کیونکہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ چاہے جان بوجھ کر بسم اللہ کو چھوڑے چاہے بھولے سے چھوڑے، دونوں صورتوں میں وہ جانور وہ ذبیحہ حلال ہے بھئی۔ تین مذاہب سمجھ میں آ گئے بھئی؟ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی جان بوجھ کر چھوڑے یا بھولے سے چھوڑے دونوں صورتوں میں ذبیحہ حرام، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی چاہے جان بوجھ کر چھوڑے چاہے بھولے سے چھوڑے پھر بھی ذبیحہ حلال، جبکہ عند الاحناف بھئی جان بوجھ کر چھوڑے تو ذبیحہ حرام اور اگر بھولے سے چھوڑے تو ذبیحہ حلال ہے بھئی۔ اب بات بحث یہ چل رہی ہے بھئی ذکر کیا شارح نے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے دو عاموں کے اندر اختلاف کیا ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، امام شافعی رحمہ اللہ کا گمان یہ ہے کہ شاید امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس میں تخصیص کے قائل ہیں جبکہ واقعہ ایسا نہیں ہے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس میں تخصیص کے قائل نہیں ہیں بھئی۔ اب پہلے کی تقریر ذکر کرنے لگے ہیں بھئی، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بھئی قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اور نہ کھاؤ تم اس ذبیحے میں سے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو بھئی، اور یہاں پر کلمہ ما آیا، ما، ما سے کیا مراد ہے میں نے بتلایا؟ ذبیحہ، نہ کھاؤ اس ذبیحے کو جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ یہ ما عام ہے مولانا چاہے جان بوجھ کر کیا کیا جائے؟ تسمیہ کو چھوڑا جائے یا بھولے سے چھوڑا جائے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ما عام ہے، یہ شامل ہوا جس پر عمداً تسمیہ کو چھوڑ دیا جائے یا ناسیاً کیا کیا جائے؟ چھوڑ دیا جائے بھئی، عامداً ہو یا ناسیاً ہو، لہذا جس پر تسمیہ کو چھوڑ دیا گیا اس کا کھانا جائز نہیں ہونا چاہیے چاہے عامداً ہو چاہے ناسیاً ہو۔ اس آیت سے کیا معلوم ہو رہا ہے؟ اے احناف! کہ تسمیہ جس ذبیحے پر جو ذبیحہ متروک التسمیہ ہے اس کا کھانا کیا ہونا چاہیے؟ لَا تَاْکُلُوْا نہ کھاؤ اس کو، اس کو کیا ہونا چاہیے؟ حرام ہونا چاہیے چاہے عامداً تسمیہ کو چھوڑا ہے چاہے ناسیاً، یہ ما کا عموم تقاضا کر رہا ہے۔ لیکن اے احناف! تم نے اس میں سے تخصیص کر دی اور ناسی کو نکال دیا بھئی کہ اگر بھولے سے کوئی کیا کر دیتا ہے؟ تسمیہ کو چھوڑ دیتا ہے تو اس کا کھانا تمہارے نزدیک حلال ہے، حالانکہ ما کا عموم کیا تقاضا کر رہا تھا؟ چاہے کہ متروک التسمیہ کیا ہونا چاہیے؟ حرام ہونا چاہیے چاہے ناسیاً ہو چاہے عامداً ہو، لیکن اے احناف! تم نے کیا کیا؟ تخصیص کر دی، ناسی کو اس حکم سے نکال دیا، تم کہتے ہو بھول جو بھول گیا اس کا ذبیحہ حلال ہے بھئی، تو معلوم ہوا تم نے تخصیص کی ہے اس کے اندر، کیا کی ہے؟ تخصیص کی ہے، اس حکم سے نکال دیا ناسی کو بھئی۔ تو ہم بھی اس میں تخصیص کرتے ہیں۔ جس نے جان بوجھ کر تسمیہ کو چھوڑا اس کی ہم تخصیص کر دیتے ہیں قیاس کرتے ہوئے ناسی پر، کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ جیسے ناسی کا ذبیحہ حلال ہے اسی طرح جو عامداً تسمیہ کو چھوڑ دیتا عمداً تسمیہ کو چھوڑ دیتا ہے اس کا ذبیحہ بھی کیا ہے؟ ایک تو یہ قیاس ہماری دلیل ہے، ہم اس عامد کو کس پر قیاس کر لیتے ہیں؟ ناسی پر، دوسری خبرِ واحد ہماری دلیل ہے بھئی، حدیث میں آتا ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا اَلْمُسْلِمُ یَذْبَحُ عَلَی اسْمِ اللّٰہِ سَمّٰی اَوْ لَمْ یُسَمِّ کہ مسلمان جو ہے وہ اللہ ہی کے نام پر ذکر ذبح کرتا ہے، اللہ کا نام لے یا اللہ کا نام نہ لے۔ حدیث میں کیا آتا ہے خبرِ واحد کے اندر بھئی؟ کہ مسلمان اللہ ہی کے نام پر ذبح کرنے والا ہے، اللہ کا نام وہ زبان سے ذکر کرے یا ذکر نہ کرے، تو کہتے ہیں کہ اے احناف! تم نے جیسے ناسی کی تخصیص کی تھی اسی طرح ہم عامد کی بھی تخصیص کر دیتے ہیں اور دو دلیلیں ہیں، پہلی دلیل کیا کہ ہم اس کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ ناسی پر، دوسری دلیل کیا ہے؟ خبرِ واحد ہے مولانا، اور خبرِ واحد کے ذریعہ بھی تخصیص جائز ہے جب عام مخصوص البعض ہو بھئی، تو یہ عام مخصوص البعض ظنی ہوتا ہے اور خبرِ واحد بھی ظنی ہے اور قیاس بھی ظنی ہے، تو قیاس اور خبرِ واحد کے ذریعے آگے اس کے اندر تخصیص کی جا سکتی ہے بھئی، بات ان کی سمجھ میں آئی بھئی؟ دیکھیے بھئی اب یہی بات ذکر کریں گے بھئی۔ کہتے ہیں تَقْرِیْرُ الْاَوَّلِ پہلے کی عام کی تقریر یہ ہے کہ اَنَّ فِیْ قَوْلِہٖ تَعَالٰی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے اندر وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ اور نہ کھاؤ تم اس ذبیحے میں سے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو کَلِمَۃُ مَا عَامَّۃٌ بھئی اس اللہ کے اس قول میں کلمہ ما جو ہے وہ عام ہے لِکُلِّ مَا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ عَامِدًا اَوْ نَاسِیًا ہر اس ذبیحے کو شاہ ہر عام ہے بھئی یعنی ہر اس ذبیحے کے لیے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، عامداً ہو اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو عامداً او ناسیاً بھئی، جان بوجھ کر یا بھولے سے فَیَنْبَغِیْ اَنْ لَّا یَحِلَّ مَتْرُوْکُ التَّسْمِیَۃِ اَصْلًا پس مناسب یہ ہے کہ حلال نہیں ہونا چاہیے متروک التسمیہ کو جس پر تسمیہ کو چھوڑ دیا گیا اس کو حلال نہیں ہونا چاہیے اصلاً قطعیً بھئی، قطعاً اس کو حلال نہیں ہونا چاہیے کَمَا ذَہَبَ اِلَیْہِ مَالِکٌ رَّحِمَہُ اللّٰہُ جیسے کہ اس کی طرف گئے ہیں امام مالک رحمہ اللہ وَلٰکِنَّکُمْ خَصَّصْتُمُ النَّاسِیَ مِنْ ہٰذَا لیکن اے احناف! تم نے خاص کر دیا اس میں سے ناسی کو مِنْ ہٰذَا اس عام میں سے، تم نے اس عام میں سے کیا کیا ہے؟ ناسی کو خاص کر دیا ہے وَقُلْتُمْ اور تم نے یہ کہا ہے اِنَّہٗ یَجُوْزُ مَتْرُوْکُ التَّسْمِیَۃِ نَاسِیًا کہ جائز ہے متروک التسمیہ ناسیاً جو ہو، بھولے سے جس پر تسمیہ کو کیا کر دیا گیا ہو؟ چھوڑ دیا گیا ہو اس کا کھانا جائز ہے وَالْاٰیَۃُ مَحْمُوْلَۃٌ عَلَی الْعَامِدِ اور تم کیا کہتے کہ آیت صرف کس پر محمول ہے؟ عامد پر محمول ہے، جان بوجھ کر چھوڑنے والے پر محمول ہے کہ اس کا ذبیحہ حلال نہیں، تقریر سمجھ میں آئی بھئی؟ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی ساری بات چل رہی ہے۔ تو کہتے ہیں تم نے کہا کہ متروک التسمیہ ناسیاً جائز ہے وَالْاٰیَۃُ مَحْمُوْلَۃٌ عَلَی الْعَامِدِ فَقَطْ اور آیت جو ہے فقط عامد پر محمول ہے، قُلْنَا یاد رکھیے یہ قلنا سے احناف کی بات نہیں ہے یہ وہی شوافع کی بات چل رہی ہے، قلنا ہم تو ہم شوافع بھی کہتے ہیں، اے احناف! تم نے یوں تخصیص کی ہے تو ہم شوافع بھی کہتے ہیں کہ اِنَّا یہ مولانا یہاں اِنَّا ہونا چاہیے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اِنَّا ہونا چاہیے بھئی، ہلکا سا نشان اس کو کاٹیں نہیں، یہ نہیں کہ ہو سکتا ہے اور بھی کوئی تاویل ممکن ہو، بہرحال یہاں میرے نزدیک بھئی یہی بہترین حل مجھے سمجھ میں آیا کہ اِنَّا ہو یہاں پر بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو قلنا ہم کہتے ہیں اِنَّا نَخُصُّ الْعَامِدَ مِنْہُ اَیْضًا کہ ہم اے ہم شوافع جو ہیں اس میں سے عامد کی بھی تخصیص کر لیتے ہیں بِالْقِیَاسِ عَلَی النَّاسِیْ کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ ناسی پر قیاس کرتے ہوئے وَ بِخَبَرِ الْوَاحِدِ اور کس کے ذریعے؟ خبرِ واحد کے ذریعے وَہُوَ قَوْلُہٗ عَلَیْہِ السَّلَامُ اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے اَلْمُسْلِمُ یَذْبَحُ عَلَی اسْمِ اللّٰہِ سَمّٰی اَوْ لَمْ یُسَمِّ کہ مسلمان جو ہے وہ اللہ ہی کے نام پر ذبح کرتا ہے سَمّٰی اَوْ لَمْ یُسَمِّ اللہ کا نام وہ ذکر کرے یا ذکر نہ کرے، ذکر نہ کرے۔ فَلَمْ یَبْقَ یہاں سے وہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی شوافع ہی بھئی، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ اے امام شافعی رحمہ اللہ! متروک التسمیہ کے دو ہی افراد تھے، بسم اللہ چھوڑنے کی دو ہی صورتیں تھیں، یا جان بوجھ کر چھوڑے گا یا بھولے سے چھوڑے گا، تو آپ نے جب دونوں کو نکال دیا تو اس صورت میں اس آیت پر عمل ہی باقی نہ رہا۔ متروک التسمیہ کی تو دونوں صورتوں ہی صورتیں تھیں کہ یا بھولے سے چھوٹے گا یا جان بوجھ کر، اور آپ نے کہا کہ جیسے بھولے والے کو تم نے نکالا ہے ہم نے کس کی تخصیص کر دی آگے؟ جان بوجھ کر جو چھوڑتا ہے اس کی بھی تخصیص کر دی۔ تو اس آیت سے کے تو دونوں ہی افراد نکل گئے، اب گویا اس آیت پر عمل ہی نہ رہا، گویا کہ یہ منسوخ ہے، گویا کہ یہ منسوخ۔ تو آپ اس کو منسوخ کر رہے ہیں کس کے ذریعے؟ خبرِ واحد اور قیاس کے ذریعے، حالانکہ خبرِ واحد اور قیاس کے ذریعے تو منسوخ نہیں کر سکتے۔ تو امامِ شافعی رحمہ اللہ اس کے جواب دے رہے ہیں مولانا، کہ نہیں بھئی، آیت پر اب بھی عمل ہے، آیت پر اب بھی عمل ہے۔ کس طرح عمل ہے؟ کہتے ہیں دیکھئے، اب بھی وہ ذبیحہ اس میں باقی ہے جسے بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ تو آیت کا معنی یہ ہوا کہ وہ ذبیحہ حلال نہیں ہے جسے بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ تو عمل ہو گیا یا نہیں بھئی؟ وہ بھی تو متروک التسمیہ ہے، اس پر بھی تو اللہ کا نام نہیں لیا گیا، اور اللہ فرما رہے ہیں: جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے مت کھاؤ۔ تو جسے بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہے اس پر تو بت کا نام لیا گیا ہے، اللہ کا نام نہیں لیا گیا، تو اس کو کھانا حرام ہوا، تو آیت پر اب بھی عمل ہے، آیت اب بھی معمول بہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ تو کہتے ہیں: فلم یبق فی الآیۃ إلا ما کان مذبوحاً بأ اسماء الأصنام، پس باقی نہیں رہا آیت کے اندر مگر وہ ذبیحہ جس کو ذبح کیا گیا ہو بتوں کے نام پر۔ یہاں تک تقریر، اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ پہلا اعتراض، پہلے جو عام جس میں اختلاف کیا امامِ شافعی رحمہ اللہ نے بھئی۔ احناف کی تقریر آگے آئے گی متن کے اندر بھئی، لیکن پہلے ان کے قیاس کا جواب دے دیا جائے اور اس خبرِ واحد جو انہوں نے پیش کی بھئی۔ قیاس کا تو جواب ہم یہ دیتے ہیں کہ آپ نے کیا کیا؟ عامد کو کس پر قیاس کیا؟ ناسی پر، آپ کا یہ قیاس درست نہیں ہے، یہ قیاس مع الفارق ہے مولانا، اس لیے کہ ناسی معذور ہے، اس کو عذرِ نسیان ہے۔ کیا ہے؟ معذور ہے، عذرِ نسیان کی وجہ سے اس نے تو بسم اللہ چھوڑی ہے، جب کہ عامد کا تو کوئی عذر نہیں ہے، لہذا یہاں پر اب آپ غیرِ معذور کو معذور پر قیاس کر رہے ہیں، حالانکہ غیرِ معذور کو معذور پر قیاس نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ قیاس کا یہ جواب ہوا۔ اور باقی خبرِ واحد، یہ آپ کے حاشیے میں دیا ہوا ہے مولانا، خبرِ واحد کے اوپر یہ، حدیث کے اوپر حاشیہ دیا ہے 18 نمبر حاشیہ بھئی۔ قال العینی فی شرح الہدایۃ، علامہ عینی فرماتے ہیں مولانا ہدایت کی شرح میں کہ إن هذا الحديث رواه الدارقطني، کہ اس حدیث کو دارقطنی نے بھی روایت کیا ہے اور بهذا اللفظ، ان لفظوں کے ساتھ۔ انہوں نے جو یہ حدیث روایت کی ہے اس میں تھوڑے لفظ زائد ہیں، وہ اگر لفظ زائد ہیں تو ان لفظوں کے اعتبار سے پھر یہی حدیث احناف کی دلیل بن جاتی ہے، شوافع کی دلیل ہی نہیں بنتی۔ وہ حدیث یہ ہے، وہ لفظ زائد یہ آئیں گے۔ حدیث یہ ہے مولانا: المصلح يذبح على اسم الله سمى أو لم يسم ما لم يتعمد، یہ لفظ بھی ہیں اس میں اس روایت میں، جب تک وہ ارادہ نہ کرے، یعنی بسم اللہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہ کرے۔ ای ما لم يتعمد ترک التسمیۃ، جب تک وہ بسم اللہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہ کرے۔ تو مسلمان اللہ ہی کے نام پر ذبح کرتا ہے جب تک وہ چھوڑنے کا ارادہ نہ کرے، جب بسم اللہ کو چھوڑ دے گا تو پھر گویا اس نے اللہ کے نام پر ذبح نہیں کیا، تو یہ تو ہماری تائید ہو گئی اس حدیث کے ذریعے، جب جان بوجھ کر چھوڑے گا معلوم ہوا وہ پھر اللہ کا نام لینے والا نہیں ہے تو اس کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ وہ ہکذا الروایۃ فی الدر المنثور، کہتے ہیں اور اسی طرح روایت ہے درِ منثور کے اندر بھی، فهذا الحديث حينئذ صار مؤيداً لمذهبنا، تو اس صورت میں یہ حدیث مؤید ہوئی احناف کے مذہب کی، لا لمذهب الشافعی، نہ کہ شوافع کے مذہب کی۔ یہ تو تھی پہلے عام کی تقریر۔ بتلایا تھا دو عام ہیں، دوسرے عام کی تقریر: وتقریر الثانی، اور دوسرے عام کی تقریر یہ ہے کہ ان فی قوله تعالى، اللہ تعالی کے اس قول میں: ومن دخله كان آمناً، اور جو کوئی اس بیت اللہ کے اندر داخل ہوا کان آمناً وہ امان والا ہے، اس کو امان ہے، اس کو کچھ نہ کہا جائے۔ اور یہ ضمیر "ہ" دخلہ کی "ہ" ضمیر تو بیت اللہ کو راجع، لیکن مراد حرم ہے، حرم سارے کا۔ یاد رکھئے، بیت اللہ کے ارد گرد چند کلومیٹر کا علاقہ جو ہے، چند، بعض طرف دو تین میل، بعض طرف آٹھ دس میل، اس طرح یہ جو سارا علاقہ ہے یہ حرم کہلاتا ہے، جس کی باقاعدہ حد مقرر ہے، یہ علاقہ حرم کہلاتا ہے، اور اس حرم کے اندر شکار وغیرہ کھیلنا اور کسی کو تکلیف دینا اور کی سختی سے ممانعت ہے، یہ بیت اللہ کی عظمت کی وجہ سے اس سارے خطے کی تعظیم ہے، اور اس کے اندر اس کے اندر عبادت کا بھی بڑا ثواب ہے بھئی، اور گناہ کا بھی وبال بھی اس میں زیادہ ہے بھئی، تو یہ حرم کہلاتا ہے۔ تو بیت اللہ، ضمیر تو بیت اللہ کو راجع، جو بیت اللہ میں داخل ہو جائے یعنی خانہ کعبہ میں، وہ امان والا ہے، لیکن سارے حرم ہی کا یہ حکم ہے بھئی، میں نے بتلا دیا، آگے آخر میں کتاب کے اندر بھی آ جائے گا۔ تو معنی کیا ہو گیا؟ یعنی جو حرم میں داخل ہوا وہ امان والا ہے۔ اب دیکھئے، حرم میں امان لے کوئی شخص، ایک آدمی مثلاً اس نے باہر کسی کو قتل کیا اور پھر بھاگ کر حرم میں چلا گیا۔ ایک صورت۔ دوسری صورت: ایک آدمی نے دوسرے کا ہاتھ یا پاؤں کاٹا، اعضاء کو کاٹا اور بھاگ کر حرم میں چلا گیا، دوسری صورت۔ تیسری صورت: کہ حرم کے اندر تھا کوئی، اس نے کیا کیا؟ کسی دوسرے کو قتل کر دیا، تین صورتیں آ گئیں۔ تین صورتیں۔ ایک وہ جس نے باہر قتل کیا اور پھر پناہ کہاں پر لی؟ حرم میں۔ تو یاد رکھئے، عند الاحناف اس کو حرم میں کچھ بھی نہیں کہا جائے گا، ہاں اس کو ہم مجبور کریں گے کسی طرح یہ حرم سے نکلے، پھر اس سے قصاص لیں گے۔ کس طرح؟ سب کو کہہ دیں گے نہ اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرو، نہ اس کے ساتھ کوئی بات چیت کرے، نہ اسے کوئی کھانے پینے کی چیز دے، نہ اس کے ساتھ بیع و شراء کرے، یہاں تک کہ وہ مجبور ہو جائے حرم سے نکلنے پر، اور جب نکلے گا تو پکڑیں گے اور اس سے قصاص لیں گے۔ اس کو حرم میں امان ہے اس آدمی کو۔ دوسرا کسی کے اعضاء کاٹ کر بھاگ کر چلا گیا حرم میں، احناف کا مذہب یہ ہے اس کو حرم ہی میں پکڑ کر اس سے قصاص لے لیا جائے گا۔ ہاتھ کاٹا اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، کسی کا پاؤں کاٹا تھا اس کا بھی پاؤں کاٹ دیا جائے گا۔ اس کو امان نہیں ہے حرم کے اندر۔ تیسرا وہ شخص جس نے حرم کے اندر ہی رہتے ہوئے کسی کو قتل کیا، احناف کا مذہب یہ، اس کو بھی امان نہیں، اس کو وہی حرم ہی میں پکڑ کر اندر ہی اس سے قصاص لے لیا جائے، اس کو قتل کر دیا جائے۔ تو شوافع کہتے ہیں، امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! ومن دخله كان آمناً، "من" عام تھا، یہ تینوں کو شامل تھا، چاہے باہر سے قتل کر کے حرم میں چلا جائے، یا حرم کے اندر کسی کو قتل کرے، یا کسی کے باہر اعضاء کاٹے اور بھاگ کر حرم چلا گیا، ان تینوں کو آیت نے "من" آیا اور "من" عام ہے، ان سب کو شرطوں کو شامل ہے، ان سب کو امان ہونی چاہئے حرم میں، لیکن آپ نے دو افراد کی تخصیص کر دی، ان کو اس حکم سے نکال دیا کہ ان کو امان نہیں ہے، ایک وہ جو کسی کے اعضاء کاٹ کر بھاگ کر حرم چلا جائے آپ نے کہا اسے بھی امان نہیں، وہی پکڑ کر اسے قصاص لے لو، اور جو حرم کے اندر قتل کر دے اے احناف! آپ نے کہا اسے بھی امان نہیں، اسے بھی وہی حرم کے اندر ہی پکڑ کر اس سے قصاص لے لیا جائے، تو آپ نے دو افراد کی تخصیص کر دی۔ دو افراد کی تخصیص کر دی، تو ہم تیسرے فرد کی تخصیص کرتے ہیں، کہ جو کسی کو باہر قتل کر کے اندر چلا جائے اس کو بھی امان نہیں ہے حرم کے اندر، اور اسے وہی پر قصاص لے لیا جائے گا، اور یہ تیسرے کی تخصیص ہم نے کس کے ذریعے کی؟ قیاس اور خبرِ واحد کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ قیاس اور خبرِ واحد کے ذریعے! آپ نے دو افراد کی تخصیص کی تھی، ہم انہی پر یہ تیسرے کو بھی قیاس کر لیتے ہیں اور اس کو بھی اس حکم سے نکال دیتے ہیں۔ نیز حدیث آ رہی ہے آگے بھئی، دو تین سطروں کے بعد بھئی، کتاب ہی کے اندر کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: الحرم لا يعيذ عاصياً ولا فاراً بدم، حرم جو ہے وہ پناہ نہیں دیتا عاصیاً نافرمان کو، گنہگار کو، ولا فاراً اور نہ اس شخص کو جو بھاگنے والا ہے، فرّ یفرّ کے معنی بھاگنا، فارٌّ اسی سے اسمِ فاعل ہے، ولا فاراً بدم اور نہ وہ شخص جو بھاگنے والا ہے بدم خون کی وجہ سے، قتل کی وجہ سے۔ حدیث میں کیا آیا؟ کہ حرم جو ہے کسی گنہگار کو، نافرمان کو اور خون کی وجہ سے بھاگنے والے کو پناہ نہیں دیتا، تو اس حدیث سے معلوم ہوا جو قتل کر کے حرم میں چلا جائے پناہ لینے کے لیے، اسے پناہ نہیں ہے، اسے وہی پر پکڑ کر کیا کیا جائے؟ قصاص اس سے لے لیا جائے۔ تو قیاس اور خبرِ واحد کے ذریعے ہم نے تیسرے فرد کی بھی تخصیص کر دی۔ اس پر ان پر اشکال ہوتا ہے کہ اس صورت میں تو آیت پر عمل ہی باقی نہ رہا بھئی، تین ہی افراد تھے تینوں نکل گئے، تو وہ آگے پھر جواب دیں گے، کہ جواب دیں گے کہ یہ یعنی حرم پناہ دینے والا ہے جہنم کے عذاب سے، پناہ دینے والا ہے امان دینے والا ہے جہنم کے عذاب سے، بشرطیکہ ایمان ہو، ایمان ہو، حرم میں چلا گیا تو اللہ اس کو اس کی جہنم کی آگ عذاب سے کیا کریں گے؟ حفاظت فرمائیں گے بھئی۔ تو اب بھی آیت پر عمل باقی ہے کہ ابھی بھی امان، حرم جو ہے امان کی جگہ ہے، اور کس چیز سے امان ہے؟ جہنم کے عذاب سے، بشرطیکہ ایمان ہو بھئی، کفر نہ ہو۔ تقریر سمجھ میں آ گئی؟ دیکھئے کہتے ہیں: وتقریر الثانی، اور دوسری تقریر یہ ہے کہ ان فی قوله تعالى، کہ اللہ تعالی کے اس قول میں: ومن دخله كان آمناً، اور جو داخل ہوا حرم میں، بیت اللہ میں، یعنی مراد میں نے بتلایا سارے حرم کا یہی حکم ہے، اور جو بیت اللہ میں داخل ہوا کان آمناً وہ امان والا ہے، كلمة من أيضاً عامة، کلمہ "من" جو ہے یہ بھی عام ہے، شاملة لمن دخل فی البیت، یہ شامل ہے اس ان کو جو داخل ہو جائیں بیت اللہ میں، بعد قتل انسان، کسی انسان کو قتل کرنے کے بعد، أو بعد قطع أطرافه، یا اس کے اس کے اطراف یعنی اعضاء کو کاٹنے کے بعد، جو داخل ہو بیت اللہ میں کسی انسان کو قتل کرنے کے بعد یا کسی کے اعضاء کو کاٹنے کے بعد، أو دخل فی البیت ثم قتل فيه، یا بیت اللہ میں داخل ہوا پھر اس کے اندر کیا کیا اس اس نے؟ قتل کیا۔ ثم قتل فیہ احداً، پھر اس میں کسی ایک کو قتل کر دیا، فینبغی أن یکون کل من هؤلاء آمناً، پس مناسب یہ ہے کہ کہ ان میں سے ہر ایک کو امان والا ہونا چاہئے، وأنتم خصصتم من هذا، اور تم نے اے احناف تخصیص کی ہے اس میں سے، کس کی تخصیص کی ہے؟ کس کس کو ہم نے نکالا تھا؟ دو افراد کو، انہی کو ذکر کرنے لگے ہیں۔ ایک وہ شخص من قتل فی البیت بعد الدخول، جس نے بیت اللہ کے اندر قتل کیا داخل ہونے کے بعد، ومن دخل فیہ بعد قطع أطرافه، اور ایک وہ شخص جو داخل ہو بیت اللہ میں کسی کے اعضاء کو کاٹنے کے بعد، ان کی تم نے تخصیص کی، وقلتم، اور تم نے کہا: إنه يقتص من هذين فی البیت، کہ قصاص لیا جائے گا ان دو سے بیت اللہ ہی کے اندر، قلنا، ہم کہتے ہیں، یہ تقریر امامِ شافعی رحمہ اللہ کی چل رہی ہے، قلنا، تو ہم شوافع کہتے ہیں: إنا نخص، یہاں بھی "انا" ہونا چاہئے بھئی، إنا نخص الصورة الثالثة أيضاً، ہم تیسری صورت کی بھی تخصیص کرتے ہیں، وهو، اور وہ یہ: کہ من دخل فی البیت بعد أن قتل إنساناً، کہ جو شخص بیت اللہ میں داخل ہوا بعد اس کے کہ اس نے قتل کیا تھا کسی انسان کو، یعنی باہر قتل کر کے کہاں چلا گیا؟ بیت اللہ میں، فیقتص منه، تو ہم کہتے ہیں شوافع کہ اس سے بھی کیا کیا جائے گا؟ قصاص لیا جائے گا، بالقياس على الصورتبن الأوليين، قیاس کرتے ہوئے پہلی دو صورتوں پر، اور نیز کس کی وجہ سے؟ وبخبر الواحد، خبرِ واحد کی وجہ سے، وهو قوله علیہ السلام، اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: الحرم لا يعيذ عاصياً ولا فاراً بدم، کہ حرم جو ہے وہ پناہ نہیں دیتا گنہگار کو، نافرمان گنہگار کو، ولا فاراً بدم، اور نہ وہ اس سے جو بھاگنے والا ہے قتل کی وجہ سے، خون کی وجہ سے۔ تو اس پر اشکال پھر ہوا کہ بھئی اس طرح تو آیت میں کوئی بھی فرد باقی نہ رہے گا، تو جواب اسی کا دے رہے ہیں کہ لم يبق تحت هذا العام إلا الآمنون من عذاب النار، کہ باقی نہ رہا اس عام کے تحت مگر وہ جو وہ جو امان والا ہے کس سے؟ من عذاب النار، جہنم کے عذاب سے بھئی۔ بھئی اس کا بھی ہم جواب پہلے دیں گے، انہوں نے کس کو دلیل بنایا؟ قیاس کو اور خبرِ واحد کو بھئی، قیاس کو اور خبرِ واحد کو۔ اچھا، آگے مولانا احناف کی تقریر آنے والی ہے، لیکن پہلے ان کے قیاس اور خبرِ واحد کا جواب دے دیں مولانا۔ آپ نے کیا کہا؟ کہ جو قتل کر کے حرم میں جائے اس کو بھی آپ نے اس حکم سے نکالا ہے کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ جو حرم کے اندر قتل کرتا ہے۔ تو حرم کے اندر جو قتل کرے اس سے وہی حرم میں قصاص لیا جاتا ہے، تو آپ نے کہا جو باہر سے قتل کر کے حرم میں بھاگ کر جائے اس کو اس پر قیاس کریں گے اور اس سے بھی حرم کے اندر ہی کیا کیا جائے گا اس سے؟ قصاص لیا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں یہ قیاس مع الفارق ہے مولانا، دونوں الگ الگ ہیں، ایک کا دوسرے پر قیاس کرنا درست نہیں، اس لیے کیونکہ جو شخص باہر قتل کر کے حرم میں جا رہا ہے وہ حرم میں پناہ چاہتا ہے، اور پناہ کسی معظم سے ہی، کسی قابلِ تعظیم بھئی بڑی چیز سے ہی پناہ طلب کی جاتی ہے بھئی، کسی معمولی چیز سے پناہ طلب؟ تو معلوم ہو بیت اللہ کی تعظیم کر رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ بیت اللہ کی عظمت ہے اس کے دل میں جبھی تو وہ بھاگ کر وہاں پناہ لینا چاہتا ہے بھئی، تو لہذا بیت اللہ کی تعظیم کر رہا ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اسے حرم کے اندر قصاص نہ لیا جائے، جبکہ جو حرم کے اندر قتل کر رہا ہے مولانا وہ تو حرم کی عظمت کو پامال کر رہا ہے، اس نے حرم کے تقدس کا بھی لحاظ نہیں کیا حرم کے اندر بھئی! کیا کر رہا ہے؟ قتل کر رہا ہے، تو وہ تو حرم کے تقدس کو کیا کر رہا ہے؟ پامال کر رہا ہے، لہذا اس سے تو حرم کے اندر ہی قصاص لینا چاہئے جس نے حرم کی عظمت کا ذرہ بھر لحاظ بھی نہیں کیا، تو اسے حرم کے اندر ہی کیا کرنا چاہئے؟ قصاص لینا چاہئے، تو یہ جو حرم کے اندر قتل کرتا ہے یہ مختلف ہوا اس شخص سے جو حرم کے باہر قتل کر کے حرم میں جاتا ہے، وہ حرم کی تعظیم کر رہا ہے اور یہ کیا کر رہا ہے؟ حرم کی کے تقدس کو پامال کر رہا ہے، تو دونوں الگ ہوئے، تو ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ نیز، دوسرا کس پر قیاس کیا آپ نے؟ نہیں، دو افراد تھے نا جن پر قیاس کیا، بتایا پہلے کے ساتھ کس سے اور اس میں تو فرق ہے اس پر تو قیاس نہیں کر سکتے، دوسرا کیا فرق تھا؟ کسی کے اعضاء کاٹ کر حرم چلا جائے، جو ہم کہتے ہیں یہ بھی قیاس مع الفارق ہے اس پر قیاس کرنا، اس لیے کیونکہ اعضاء کے ساتھ مال والا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اعضاء کے ساتھ کون سا برتاؤ کیا جاتا ہے؟ مال والا، انہیں مال کی طرح سمجھا جاتا ہے جیسے مال انسان کی حفاظت کرتا ہے، اسی طرح اعضاء ہاتھ پاؤں کے ذریعے بھی انسان اپنی حفاظت کرتا ہے اپنی جان کی۔ بھئی مال کے ذریعے آپ بھئی آپ کو کھانا ملتا ہے کھانا، پینا، گھر بناتے ہیں، اپنی حفاظت کا سامان کرتے ہیں، کس کے ذریعے؟ مال کے ذریعے، اسی طرح اعضاء کے ذریعے ہاتھ پاؤں کے ذریعے بھی کیا کرتا ہے انسان؟ اپنی حفاظت کرتا ہے، تو یہ مال کی طرح ہوئے تو مال والا حکم ہے، اور بالاتفاق حرم کے اندر اگر کوئی کسی کا مالی نقصان کرے تو حرم کے اندر ہی اس سے وہ زمان وصول کیا جائے گا۔ تو اعضا بھی کس کی طرح ہوئے؟ مال کی طرح تو لہذا یہ جیسے مالی زمان وصول کیا جاتا ہے حرم کے اندر اسی طرح یہاں اعضا میں قصاص لے لیا جائے گا حرم کے اندر ہی کیونکہ یہ اعضا بھی کس کی طرح ہیں؟ مال کی طرح ہیں۔ تو لہذا اس کا حکم اور اور وہ شخص جو قتل باہر کر کے حرم میں بھاگ کر چلا گیا اس کا حکم اور ہونا چاہیے دونوں الگ الگ ہو گئے بھئی فرق آ گیا دونوں میں تو ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا صحیح نہیں۔ اور خبر واحد جو آپ نے ذکر کی کہ الحرم لا یعیص عاصیا ولا فارا بدمین تو اس کا بھئی بعض علماء نے اس کے حضور علیہ السلام کا قول ہونے سے انکار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حضور علیہ السلام کا قول ہی نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ لہذا اس کے ذریعے بھی آپ کا استدلال درست نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بعض علماء نے لکھا ہے بھئی یہ حضور علیہ السلام کا قول ہی نہیں ہے۔ بھئی اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ اچھا بھئی اب احناف کی آگے بات آنے والی ہے بھئی کہتے ہیں فاجاب المصنف رحمہ اللہ عن جانب ابی حنیفہ تو جواب دیا مصنف نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی جانب سے بقولہ اپنے اس قول کے ذریعے کہتے ہیں ولا یجوز تخصیص قولہ تعالی اور اللہ کے قول کی اس قول کی تخصیص جائز نہیں ہے کون سا قول؟ ولا تاکلو مما لم یذكر اسم اللہ علیہ اور نہ کھاؤ تم اس ذبیحے میں سے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس سے تخصیص جائز نہیں اور اسی طرح ومن دخلہ کان آمنا اس سے جو بیت اللہ میں داخل ہوا وہ امان والا ہے اس سے تخصیص جائز نہیں بالقیاس و خبر الواحد کس کے ذریعے؟ قیاس اور خبرِ واحد کے ذریعے، اگلا متن بھی دیکھ لو لانھما لیسا بمخصوصین۔ اس لیے کہ یہ دونوں مخصوص ہی نہیں۔ یہ دونوں مخصوص ہی نہیں۔ بھئی ایک عام ہوتا ہے مخصوص الباز ایک غیر مخصوص الباز۔ جو عام غیر مخصوص الباز ہے وہ قطعی ہے مولانا۔ جب وہ قطعی ہے تو قیاس اور خبرِ واحد تو کیا ہیں؟ ظنی ہیں۔ تو قطعی کے ذریعے ظنی کو میں تخصیص نہیں ہو سکتی۔ اور عام جو مخصوص الباز ہے وہ کیا ہوتا ہے؟ ظنی اور ظنی کی تخصیص ظنی کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ تو جب یہ دونوں لانھما لیسا بمخصوصین یہ دونوں مخصوص ہی نہیں ان میں تخصیص کی ہی نہیں گئی۔ جب ان میں تخصیص نہیں ہے تو لہذا اب اس کے یہ قطعی ہے مولانا تو خبرِ واحد اور قیاس کے ذریعے اس سے تخصیص کرنا درست نہیں ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ اب اسی تفصیل کو جو شارح نے پہلے ذکر کی تھی دوبارہ شارح ذکر کریں گے۔ اوپر والے متن میں کیا آیا کہ اللہ کے اس قول سے تخصیص جائز نہیں ہے لا تاکلو مما لم یذكر اسم اللہ علیہ اس سے بھی تخصیص جائز نہیں ومن دخلہ کان آمنا اس سے بھی تخصیص جائز نہیں کس کے ذریعے نہیں جائز؟ قیاس اور خبرِ واحد۔ وہی آگے ذکر کریں گے مولانا کہ کس میں کیا قیاس تھا کس کو کس پر قیاس کیا تھا اور کون سی حدیث کے ذریعے تخصیص کی وہی پرانی گزر چکی ہے جو پچھلی شراح میں وہی بات پھر ذکر کرنے لگیں گے وہ قیاس بھی ذکر دونوں میں سے ہر ایک کا قیاس بھی ذکر کریں گے اور ہر ایک کی خبرِ واحد بھی ذکر کریں گے۔ ای لا یجوز تخصیص شافعی رحمہ اللہ العامد عن قولہ تعالی جائز نہیں ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی تخصیص کرنا عامد کی عن قولہ تعالی اللہ تعالی کے اس قول سے ولا تاکلو مما لم یذكر اسم اللہ علیہ اس سے عامد کی تخصیص کرنا جائز نہیں ہے بالقیاس علی الناس کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ ناسی پر قیاس کرنے کی وجہ سے وقولہ اس کا عطف القیاس پر ہے۔ بالقیاس پر جی۔ تو وقولہ علیہ السلام اور حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے المسلم یذبح علی اسم اللہ سما او لم یسم تو اس ناسی پر قیاس اور اس خبرِ واحد کی وجہ سے ولا تاکلو مما لم یذكر اسم اللہ سے عامد کا عامد کی تخصیص درست نہیں اور اسی طرح وتخصیص الداخل فی البیت اور اسی طرح اس کا عطف بھی اوپر والے تخصیص پر ہے ای لا یجوز تخصیص الداخل فی البیت اور جائز نہیں ہے اس شخص کی تخصیص جو داخل ہو جائے فی البیت بیت اللہ میں بعدما قتل بعد جب کہ اس نے قتل کیا تھا یعنی باہر قتل کیا تھا اور پھر کہاں داخل ہو گیا؟ اس کے اے امام شافعی رحمہ اللہ آپ نے تخصیص کی تھی یہ تخصیص بھی جائز نہیں ہے بھئی اور کس سے تخصیص کی تھی؟ عن قولہ اللہ کے اس قول سے ومن دخلہ کان آمنا اس سے آپ نے تخصیص کی تھی یہ جائز نہیں اور کس وجہ سے تخصیص کی تھی؟ بالقیاس علی القاتل بعد الدخولی قیاس کرتے ہوئے اس شخص پر جو قتل کرنے والا ہے بعد الدخولی داخل ہونے کے بعد یعنی اندر جا کر جو قتل کرنے والا ہے وعلی الاطراف اور کس پر قیاس کرتے ہوئے؟ اعضا پر یعنی وہ شخص جو اعضا کاٹ کر کسی کے اور پھر بھاگ کر بیت اللہ میں داخل ہو جائے۔ ایک تو یہ قیاس کی آپ نے اس کس کا قیاس کیا؟ جو باہر قتل کر کے پھر بیت اللہ میں بھاگ کر چلا گیا تھا اس کو قیاس کیا کن پر قیاس کیا؟ جس نے بیت اللہ کے اندر قتل کیا اور اس پر وہ جس نے باہر اعضا کسی کے کاٹے اور بھاگ کر بیت اللہ میں چلا گیا یہ قیاس بھی جائز نہیں ہے اس قیاس کی وجہ سے تخصیص بھی جائز نہیں ہے وقولہ علیہ السلام اور حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے بھی تخصیص جائز نہیں ہے کہ الحرم لا یعیص عاصیا ولا فارا بدمین۔ تخصیص جائز نہیں بھئی کیوں نہیں جائز بھئی؟ دونوں صورتوں میں ہم نے بتایا کہ اے امام شافعی رحمہ اللہ آپ نے تارک تسمیہ عامدا اس کی بھی تخصیص کی اور آپ نے وہ شخص جو قتل کر کے پھر حرم میں چلا گیا اس کی بھی آپ نے کیا کر دی؟ تخصیص کر دی یہ تخصیص جائز نہیں لانھما لیسا بمخصوصین اس لیے کہ یہ دونوں عام مخصوص ہیں ہی نہیں ہمارے نزدیک یہاں تخصیص کی ہی نہیں گئی بھئی یہ دونوں مخصوص نہیں ہیں۔ تو جب ان میں تخصیص نہیں ہے تو یہ قطعی ہیں اور خبرِ واحد اور قیاس ظنی ہیں اور جو قطعی ہے اس سے خبرِ واحد اور قیاس کے ذریعے تخصیص کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں تعلیل لقولہ لا یجوز یہ تعلیل ہے ماتن کے قول لا یجوز کے لیے ماتن نے کیا کہا تھا؟ لا یجوز تخصیص تخصیص جائز نہیں کیوں نہیں جائز؟ اس کی علت بیان کر رہے ہیں لانھما لیسا بمخصوصین اس لیے کہ یہ دونوں مخصوص ہی نہیں ہیں تو تعلیل کہتے ہیں علت بیان کرنا تو یہ تعلیل ہے ماتن کے قول لا یجوز کے لیے ای لان ھازین العامین لیسا بمخصوصین یعنی کہ یہ دونوں عام مخصوص ہی نہیں ہیں اولاً بھئی دونوں یہ اولاً مخصوص ہی نہیں ہیں کما زعمتم جیسے کہ تم نے گمان کیا حتی یخص ثانیا بالقیاس یہاں تک کہ پھر دوسری مرتبہ اولاً یہ مخصوص ہیں ہی نہیں کہ پھر دوبارہ آپ کیا کریں؟ یخص ثانیا دوبارہ آپ کیا کریں؟ حتی حتی یخص ثانیا یہاں تک کہ دوسری مرتبہ ان میں تخصیص کی جائے بالقیاس و خبر الواحد قیاس اور خبرِ واحد کے ذریعے پہلے تخصیص ہوتی تو پھر آپ کی بات ہم مان لیتے قیاس اور خبرِ واحد کے لیے آپ تخصیص کر لیتے لیکن ان میں اولاً یعنی پہلے تخصیص ہوئی ہی نہیں تو ثانیا بھی خبرِ واحد اور قیاس کیجیے ان سے تخصیص جائز نہیں۔ لان الناسی لیس بقاخل اچھا تخصیص نہیں ہے تو پھر کیسے نکالا اس حکم سے احناف تم نے؟ آپ نے کیا کہا تھا اے احناف جو بھولے سے چھوڑ دے بسم اللہ اس کا ذبیحہ جائز ہے تو یہ تخصیص کی یا نہیں کی اور خود کہہ رہے ہو تخصیص کوئی نہیں ہے نکالا تو ہے تم نے اس کو اس حکم سے তো اسی کا جواب دینے لگے ہیں کہ بھئی یہ اس من میں داخل ہی نہیں تھا داخل ہوتا پھر ہم نکالتے تو آپ کہتے تخصیص کی یہ تو اس میں داخل ہی نہیں ہے کیوں؟ کیونکہ حدیث میں آتا ہے رفع عن امتی الخطا والنسیان میری امت سے خطا اور نسیان یعنی بھول چوک کو اٹھا لیا گیا ہے۔ غلطی سے کوئی گناہ ہو جائے، کوئی جرم ہو جائے تو یا بھولے سے ہو جائے تو وہ یعنی معاف ہیں اس پر اللہ مواخذہ نہیں فرمائیں گے یہ اس یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے تو تقریباً اللہ تعالی نے یہ حکم فرما دیا کہ تم لوگوں سے خطا اور نسیان کو اٹھا لیا گیا ہے پہلی امتوں میں اس طرح نہیں تھا بھئی لیکن یہاں کیا ہے خطا اور نسیان پر اللہ مواخذہ نہیں فرماتے بھئی خطا اور نسیان پر صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ روزے میں آپ بھولے سے کچھ کھا پی لیں کیا پڑا ہے آپ نے؟ روزہ نہیں ٹوٹتا بھئی کیونکہ وہ غلطی سے بھول آپ نے بھولے سے کھایا ہے بھئی تو خطا اور نسیان پر مواخذہ نہیں ہے بھئی۔ تو وہ اس اللہ کے اس قول میں داخل ہی نہیں ہے۔ تو بھولے سے چھوڑنے والا وہ تارک تسمیہ ہے ہی نہیں۔ وہ کس کی طرح ہے؟ ذاکر تسمیہ کی طرح۔ بھولے سے چھوڑنے والا کس کی طرح ہے؟ ذاکر کی گویا کہ ذکر کرنے والا ہے جو اس میں جو اللہ کے نام کو ذکر کر رہا ہو باقاعدہ یہ اسی کی طرح ہے بھئی کیونکہ یہ جان بوجھ کر نہیں چھوڑ رہا بلکہ بھولے سے چھوڑ رہا ہے اور بھولے سے کوئی غلطی ہو وہ عند اللہ معاف ہے بھئی۔ تو وہ اس میں داخل ہی نہیں ہے وہ تو گویا تارک تسمیہ ہوا ہی نہیں بلکہ وہ تو کیا ہوا ذاکر تسمیہ اور آیت میں تو کس کا ذکر تھا؟ تارک تسمیہ کا ذکر تھا کہ اس کا ذبیحہ حرام ہے تو یہ تو ذاکر تسمیہ ہوا یہ اس کے تحت داخل ہی نہیں۔ تو کہتے ہیں لان الناسی لیس بقاخل فی قولہ تعالی اس لیے کہ بھولنے والا جو ہے وہ داخل ہی نہیں ہے اللہ کے اس قول میں مما لم یذكر اسم اللہ اسلا اسلا ای قطعا یعنی سرے سے اس میں داخل ہی نہیں ہے قطعی طور پر اس ہوا فی معنی ذاکر اس لیے کیونکہ وہ ذکر کرنے والے ہی کے معنی میں ہے فلم یخص من الآیۃ پس اس کی آیت سے تخصیص نہیں کی گئی حتی یقاس علیہ العامد یہاں تک کہ اس پر کس کو قیاس کیا جائے؟ عامد کو آپ نے عامد کو اسی پر ناسی پر ہی قیاس کیا تھا تو ہم نے تو بتلایا کہ تخصیص ہم نے کی ہی نہیں ہے تو جب تخصیص اس کی ہوئی نہیں ہے تو دوسرے کو اس پر قیاس کرتے ہوئے اس کی تخصیص کرنا بھی جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں فلم یخص من الآیۃ تو اس کی آیت سے تخصیص ہی نہیں کی گئی حتی یقاس علیہ العامد یہاں تک کہ اس پر عامد کا بھی قیاس کیا جائے۔ وکذالذی علیہ قصاص فی الطرف اسی طرح وہ شخص جس پر قصاص ہو فی الطرف ای فی العضو طرف کس کو کہتے ہیں؟ عضو کو جس پر قصاص عضو کے اندر لم یخص من الآمنی اس کی بھی تخصیص نہیں کی گئی آمن سے جو کان آمنہ آیا تھا اس سے اس کی تخصیص نہیں کی گئی اذ المراد بالآمنی اس لیے کہ آمن سے مراد کہ وہ آیت میں کیا تھا وہ امان والا ہے تو وہ جو امان والا آیا اس سے مراد جو ہے آمن الذات وہ کون مراد ہے؟ آمن الذات یعنی ذات کے اعتبار سے اسے امان ہے۔ کون مراد ہے؟ ذات کے اعتبار سے مامون ہے۔ تو آیت کا معنی یہ ایک شخص پہلے سے مباح الدہم ہو چکا تھا یعنی اس نے کسی کو قتل کیا تھا تو مباح الدہم ہو گیا اب اس سے قصاص لیا جائے گا۔ یا یہ شادی شدہ تھا اس نے زنا کیا تھا تو اس کو رجم کیا جاتا ہے وہ بھی مباح الدہم ہو چکا ہے۔ یا اسی طرح کوئی شخص مرتد ہو گیا تھا تو مرتد ہونے کے بعد وہ کیا ہو جاتا ہے اس کو کتنی مہلت دی جاتی ہے؟ تین دن کی مہلت دی جاتی ہے پھر اسے قتل کر دیا جاتا ہے اگر مسلمان نہ ہو بھئی۔ تو جو شخص مباح الدہم ہو چکا تھا مرتد ہونے کی وجہ سے یا زنا کی وجہ سے یا کسی کو قتل کرنے کی وجہ سے وہ مباح الدہم جب حرم میں جائے گا تو کیا بن جائے گا؟ آمن بن جائے گا اپنی ذات کے اعتبار سے امان والا ہو گیا حرم کے اندر اب اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ پہلے مباح الدہم تھا حرم میں جا کر کیا ہوا؟ آمن ہوا ہے اور کس اعتبار سے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے پہلے اس کا خون جائز تھا حرم کے اندر اب خون جائز اس کا نہیں ہے تو اس صورت میں یاد رکھیے مولانا پھر حرم سے اس کو نکلنے پر مجبور کیا جائے گا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ حرم کے اندر ہم اس سے کچھ نہیں کہیں گے ہاں لوگوں سے کہہ دیا جائے گا کوئی اس کے ساتھ کوئی معاملہ نہ کرے کوئی اس سے کلام سلام وغیرہ کوئی بھی نہ کرے بالکل قطع تعلق کر لیں سارے بھئی کوئی نہ اسے بیع و شراہ کرے کوئی اسے کھانے پینے کی کوئی چیز نہ دے یہاں تک کہ یہ مجبور ہو جائے وہاں سے نکلنے پر اور جب وہاں سے نکلے گا تو پھر اس سے کیا کیا جائے گا؟ اس سے قتل کیا جائے گا مولانا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ہم کہتے ہیں آیت میں جو آمن آیا وہ آمن الذات مراد ہے کہ پہلے مباح الدہم تھا اب حرم میں جا کر پناہ لینا چاہتا ہے بھئی۔ اور باقی وہ شخص جو حرم کے اندر قتل کرتا ہے وہ بھی اس آیت کے اندر داخل ہی نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ اب کیا معنی بیان کیا ہم نے آیت کا؟ جی آمن الذات یعنی پہلے مباح الدہم تھا اب حرم میں جا کر کیا کرنا چاہتا ہے؟ پناہ تو جو پہلے مباح الدہم ہو پھر حرم کے اندر داخل ہو تو وہ مامون ہو جائے گا۔ تو اس آیت میں آیت میں کیا آیا من دخلہ جو اس حرم میں کیا ہوا؟ داخل ہوا پہلے کیا تھا؟ مباح الدہم ہو کر داخل ہو۔ تو یہ تو آیت کے مضمون سے ہی کیا ہو گیا خارج ہو گیا کیونکہ یہ داخل ہوتے وقت مباح الدہم نہیں تھا مولانا اور ہم نے کیا کہا داخل ہوتے وقت کیا ہونا چاہیے؟ مباح الدہم۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا آپ جو آپ شافعی آپ یہ سمجھیے کہ شاید ہم نے تو ان دو افراد کی تخصیص کی ہے ایک وہ جو حرم کے اندر جا کر قتل کرتا ہے ہم نے جواب دے دیا کہ نہیں ہم نے تخصیص نہیں کی وہ آیت کے مضمون میں داخل نہیں۔ اور دوسرا آپ نے کیا کہا تھا؟ اعضاء والے کو بھی ہم نے تخصیص کی تھی جو اعضاء کاٹ کر حرم میں داخل ہوتا ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی! اعضاء کے ساتھ مال والا برتاؤ کیا جائے گا، وہ اس آیت کے تحت داخل ہی نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہذا ہم نے تخصیص کی ہی نہیں۔ جب تخصیص کی ہی نہیں تو عام اسی طرح قطعی رہا۔ تو اس میں سے خبر واحد اور قیاس کے ذریعے آپ کا تخصیص کرنا بھی صحیح نہیں۔ مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ جی، دیکھیے اب۔ کہتے ہیں: "وكذا الذي عليه قصاص في الطرف لم يخص من الآمن" اور اسی طرح وہ شخص جس پر قصاص ہو طرف کے اندر، یعنی عضو کے اندر، "لم يخص من الآمن" اس کی بھی تخصیص نہیں کی گئی "آمن" میں سے، "إذ المراد بالآمن آمن الذات" اس لیے کہ "آمن" سے کیا مراد ہے؟ آمن الذات مراد ہے۔ "والأطراف" اس پر... اس کا عطف "الذات" پر نہ کرنا، مولانا! وہ مضاف الیہ ہے "آمن" کے لیے، اور "أطراف" یہ مبتدا ہے، آگے خبر آ رہی ہے: "والأطراف كأنها ليست من الذات بل من المال" اور اطراف گویا کہ وہ ذات میں سے ہیں ہی نہیں بلکہ کس میں سے ہیں؟ مال میں سے ہیں، کیونکہ میں نے بتایا کہ اعضاء کے ساتھ کس کا برتاؤ کیا جاتا ہے؟ مال والا برتاؤ کیا جاتا ہے، کیونکہ جیسے مال کے ذریعے انسان اپنے نفس کی حفاظت کرتا ہے، اسی طرح اعضاء کے ذریعے بھی اپنے نفس کی حفاظت کرتا ہے۔ "وكذا القاتل بعد الدخول فيه" اور اسی طرح وہ جو قتل کرنے والا... قتل کرنے والا ہے بعد الدخول فيه، بیت اللہ میں یا حرم میں داخل ہونے کے بعد، وہ بھی اس کے اندر... "آمن" سے اس کی تخصیص نہیں کی گئی، بھئی! "إذ معنى قوله" اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے قول کا معنی یہ ہے: "ومن دخله كان آمنا" یہ جو اللہ کا قول ہے: "ومن دخله كان آمنا" کا معنی کیا ہے؟ "معناه: من دخله بعد ما صار مباح الدم" کہ وہ شخص جو داخل ہو حرم میں بعد اس کے جبکہ وہ مباح الدم ہو گیا تھا، "بردة" مرتد ہونے کی وجہ سے، "أو زنى" یا زنا کی وجہ سے، "أو قصاص" یا قصاص کی وجہ سے، تو وہ شخص جو داخل ہوا مباح الدم ہو کر وہ مراد ہے، "لا أنه باشر هذه" لا أنه باشر هذه الأمور بعد الدخول، نہ یہ کہ وہ سرانجام دینے والا ہو ان امور کو، باشر کا معنیٰ: سرانجام دینے والا۔ نہ یہ کہ وہ... باشر کا معنیٰ سرانجام دینا... نہ یہ کہ وہ سرانجام دینے والا ہو ان امور کو داخل ہونے کے بعد، تو وہ مراد نہیں ہے، مولانا! یہ وہ... "فهو خارج عن مضمون الآية" تو وہ کیا ہوا؟ آیت کے مضمون سے ہی خارج ہوا، "لا أنه مخصوص منها" نہ یہ کہ وہ اس سے مخصوص ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "لا يقال" جی، یہاں سے ایک اعتراض اور اس کا جواب ذکر کر رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ بھئی! "ومن دخله" میں 'ه' ضمیر بیت اللہ کو راجع ہے۔ کس کو راجع ہے؟ اس لیے کیونکہ ماقبل میں آتا ہے: "إن أول بيت وضع للناس"، ماقبل میں "بيت" کا ذکر ہے، حرم کا ذکر نہیں ہے۔ تو "دخله" کی 'ه' ضمیر بھی کس کو راجع ہوگی؟ بیت ہی کو راجع ہوگی۔ تو بیت اللہ میں جو داخل ہوا وہ امان والا ہے، آیت میں تو یہ ذکر ہوا، اور بحث چل رہی ہے حرم کے اندر جو کیا کرتا ہے؟ داخل ہوتا ہے۔ مسئلہ کس سے متعلق ہے؟ حرم میں پناہ لینے والے سے، اور آیت میں کس کا ذکر ہے؟ بیت اللہ میں داخل ہونے والا۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی! یہ اعتراض نہ کیا جائے۔ اس لیے کیونکہ ٹھیک ہے اگرچہ 'ه' ضمیر بیت اللہ کو راجع ہے، لیکن حرم اور بیت اللہ کا ایک ہی حکم ہے۔ حرم اور بیت اللہ کا ایک ہی حکم ہے، کیونکہ دوسری آیت میں، دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں: "أولم يروا أنا جعلنا حرما آمنا" کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والی جگہ بنایا ہے بھئی؟ معلوم ہوا... امن والی جگہ بنایا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا حرم بھی کیا ہے؟ بیت اللہ کی طرح ہے، وہ بھی جو اس میں داخل ہوگا وہ بھی کیا ہے؟ امان والا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "لا يقال" یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ "إن ضمير دخله راجع إلى البيت والمقصود بيان آمن الحرم" کہ "دخله" کی ضمیر جو ہے وہ راجع ہے بیت اللہ کی طرف اور مقصود تو یہاں پر حرم میں امان لینے والے کا بیان ہے، "لأنا نقول إن حكمهما واحد" اس لیے کیونکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ان دونوں کا حکم ایک ہی ہے، "بدليل قوله تعالى: أولم يروا أنا جعلنا حرما آمنا" اللہ تعالیٰ کے اس قول کی دلیل کی وجہ سے: "أولم يروا أنا جعلنا حرما آمنا" کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے بنایا ہے حرم کو امان والا؟ مسئلہ سمجھ میں آ گیا سب کو؟ اچھی طرح؟ چلیے بس مولانا! هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔