عَلَى زَبْلِ جَيَّاشٍ كَنَهْتِ زَامَهُ إِذَا جَاشَ فِيهِ حَمْيُهُ غَلْيَ مِرْجَلِ يُسَحِّنُ إِذَا مَا الصَّابِحَاتُ عَلَى الْوَنَى أَثَرْنَ الْغُبَارَ بِالْجَدِيدِ الْمُرَكَّلِ يُزِلُّ الْغُلَامَ الْخِفَّ عَنْ صَهَوَاتِهِ وَيُلْوِي بِأَثْوَابِ الْعَمِيقِ الْمُثَقَّلِ امرؤ القیس جو ہے اپنے گھوڑے کی صفات ذکر کر رہا ہے کہ بڑا طاقتور اور بڑا خوفناک اور بے انتہا تیز رفتار گھوڑا ‏ہے اور گزشتہ سبق میں آیا تھا مکر مفر مقبل مدبر معن کجلمود صخر حطه السيل من علی کہ وہ گھوڑا جو ہے پیچھے ‏ہٹنے والا ہے تیز دوڑنے والا ہے آگے بڑھنے والا ہے پیچھے ہٹنے والا ہے معن بایق وقت کجلمود صخر جیسے کہ ‏سخت ٹھوس چٹان ہوتی ہے کطه السيل من علی جس کو لڑکا دیا ہو سیلاب نے اوپر کی جانب سے حُمَيْطِي يُّزِلُّ الْلِبْدَ عَنْ حَالِ مَتْنِهِ وہ سیاہی مائل سرخ رنگ کا ایسا گھوڑا ہے کہ نمدا پھسل جاتا ہے اس کی کمر پر سوار کے بیٹھنے کی جگہ سے جیسے ‏کہ چکنا پتھر پھسلا دیتا ہے اپنے اوپر نازل ہونے والی بارش کو یا اپنے اوپر آنے والے انسان کو آگے کہتا ہے عَلَى زَبْلِ جَيَّاشٍ كَنَهْتِ زَامَهُ إِذَا جَاشَ فِيهِ حَمْيُهُ غَلْيَ مِرْجَلِ زبل زبل کہتے ہیں بھئی دبلا ہونا دبلا لیکن عام دبلا ہونا یہاں مراد نہیں مضبوط بدن والا بھئی ایک تو موٹا پھولا ہوا جسم ‏ہو وہ پسندیدہ نہیں بلکہ گھوڑے میں کہ دبلا جسم جو ہے اس کا دبلا ہو موٹا موٹا نہ ہو اور مضبوط جسم ہو جیسے انسانوں ‏کے اندر بھی آپ دیکھتے ہیں بھئی بعض تو بڑے دبلے پتلے ہوتے ہیں کمزور سے بعض ہیں تو جسم تو ان کا دبلا ہے لیکن بڑے مضبوط یعنی مضبوط مضبوط اعضاء والا بھئی مضبوط اعضاء والا ‏طاقتور بھئی تو وہ مراد ہے یہاں پر بھئی جیاش جاش یجیش جیوش کے معنی ہیں ابلنا بھئی تو یہ اسم فاعل آئے گا جائش اور اسی جائش میں مبالغے کا صیغہ ہے ‏جیاش بہت زیادہ ابلنے والا تو یہاں مراد کر لیں بہت زیادہ جوش والا کیونکہ گھوڑے کی صفت بیان ہو رہی ہے نا بہت ‏زیادہ جوش والا کنھت زامہ انتظام کہتے ہیں گھوڑے کی آواز بھئی گھوڑے کے جو سینے سے آواز نکلتی ہے دوڑتے وقت بھئی جیسے ‏انسان دوڑتا ہے اس کو سانس چڑھ جاتا ہے اور وہ سانس کی آواز سنائی دیتی ہے اسی طرح گھوڑا وہ تو طاقتور جانور ‏ہے وہ جب ذرا دوڑتا ہے تو اس کے سینے سے بہت زیادہ سانس لینے کی آواز سنائی دیتی ہے اس کو انتظام کہتے ہیں انتظام جاشا جاشا بھی میں نے بیان کیا وہی ‏جیاش سے جاشا تو یہ اس کا معنی ابلنا حمیہو حمیون کہتے ہیں حرارت کو بھئی حرارت اسی سے حما ہے بھئی بخار کو کہتے ہیں اچھا غلی و مرجلی غلیون ‏کہتے ہیں ابلنا ابلنا بھئی ابلنا اور مرجل کہتے ہیں ہانڈی کو بھئی ہانڈی وہ برتن وغیرہ جس میں چیز کھانا وغیرہ چیزیں ‏پکائی جائیں عَلَى زَبْلِ جَيَّاشٍ ہلا یہاں بمعنے معہ کے ہے بھئی اور جیاش سے ذرا اس کو مؤخر کر دیں جیاش علی الزبل ای جیاش مع ‏الزبل کہ یہ میرا گھوڑا جو ہے وہ خوب جوش والا ہے عَلَى زَبْلِ ای مع الزبل سات دبلا ہونے کے مضبوط بدل والے ہونے کے باوجود وہ کیا ہے بڑے ہاں یوں کہو دبلا بدن ہونے کے باوجود وہ بڑے جوش والا ہے کنھت ‏زامہ گویا کہ اس کے سینے کی آواز ہے اس کے سانس لینے کی آواز دوڑتے وقت جو ہے غلی و مرجلی یہ درمیان والے ‏کو ذرا چھوڑ دیں کانت زامہ غلی و مرجلی گویا کہ اس کے سینے کی آواز ہے دوڑتے وقت سینے کی آواز غلی و مرجلی وہ ہانڈی کے ‏ابلنے کی طرح ہے کان آیا نا گویا کہ اس کے سینے کی آواز کس کی طرح ہے؟ ہانڈی کے ابلنے کی طرح ہے کب؟ اذا ‏جاش فیہ حمیہو جب جو شمارے اس کے اندر حمیہو اس کی حرارت جب اس کی حرارت اس میں جوش مارے تو اس کے ‏سانس لینے کی آواز کس کی طرح ہوتی ہے؟ ہنڈیا کے ابلنے کی طرح معنی سمجھ میں آگیا بھئی عَلَى زَبْلِ جَيَّاشٍ كَنَهْتِ زَامَهُ إِذَا جَاشَ فِيهِ حَمْيُهُ غَلْيَ مِرْجَلِ دبلا ہونے کے باوجود وہ بڑے جوش والا ہے گویا کہ اس کے ‏سانس لینے کی آواز جس وقت اس کی حرارت اس میں جوش مارتی ہے وہ ہانڈی کے ابلنے جیسی ہے مِسَحِّنٌ إِذَا مَا الصَّابِحَاتُ عَلَى الْوَنَى أَثَرْنَ الْغُبَارَ بِالْجَدِيدِ الْمُرَكَّلِ مِسَحِّنٌ صحا یصح کا معنی ہے پانی کا بہانا پانی کا بہا دینا تو ‏یہ متعدی ہے اور صحا یصحو کا معنی ہے پانی کا بہنا تو دونوں طرح یہ استعمال ہوتا ہے لازمی بھی اور متعدی اور میں ضابطہ ذکر ‏کر چکا ہوں کہ مضاف اگر باب نصرہ سے آئے تو اس کا کیا معنی ہوتا ہے یہ کیا ہوتا ہے متعدی ہوتا ہے وہ مثال یاد ‏رکھیں مدہ اور فرہ والی اور فرہ یفر لازمی ہے تو یہ جب باب ضربہ سے آئے تو کیا ہوتا ہے لازمی تو یہاں بھی اسی ‏طرح ہے باب نصرہ سے بھی آتا ہے ضربہ سے بھی نصرہ سے ہو تو یہ متعدی ہے پانی کا بہا دینا اور ضربہ سے ہے ‏صح یصح تو اس کا معنی پانی کا بہنا اور یہ مسح وہ اسی مکر مفر کی طرح مبالغے کا صیغہ ہے اور یہاں تیز دوڑنا مراد ہے بھئی بہنا نہیں کیونکہ گھوڑے ‏کی صفت ہے تو مراد تیز دوڑنا ہے مسح خوب تیز دوڑنے والا ہے خوب بہنے والا ہے یعنی خوب دوڑنے والا ہے إِذَا مَا الصَّابِحَاتُ صابیحات کہتے ہیں عمدہ قسم کے جو گھوڑے ہوں اصل میں صبہا کہتے ہیں پانی پر تیرنا تیرنا تو ‏تیرنے والا صابیح کہلائے گا تو عمدہ گھوڑے کو بھی کیا کہتے ہیں صابیح جمع صابیحات وجہ اس کی یہ ہے آپ نے ‏کبھی گھوڑے کی سواری کی ہے بھئی؟ گھوڑے پر اگر آپ بیٹھیں اور اس کو چلائیں تو اس کے ایک ایک قدم پر آپ دو ‏دو تین تین دفعہ اچھلتے رہیں گے اور سو دو سو گز تک اگر آپ کو اس طرح کوئی اچھالتا ہوا زبردست طریقے سے جائے تو آپ کانوں کو ہاتھ لگا لیں گے ‏توبہ کر لیں گے آج کے بعد میں گھوڑے کی سواری نہیں کروں گا اتنی تکلیف میں اور مشقت میں انسان پڑ جاتا ہے کہ ‏سمجھ میں نہیں آتی کہ میں کس مصیبت میں پھنس گیا سوچیں تو صحیح ہر قدم پہ دو تین جھٹکے لگ رہے ہیں آپ زور ‏زور سے اچھلتے جا رہے ہیں اور یہ گھوڑے کے خراب ہونے کی علامت ہے کہ وہ سوار کو اس طرح اچھالے جتنا عمدہ اور اعلی نسل کا گھوڑا ہوگا ‏وہ سوار کو پتہ بھی نہیں چلنے دے گا کہ میں اس وقت تمہیں لے کر چل رہا ہوں بھئی تو یہ گھوڑے کی جو صفات ہیں ان ‏میں ایک یہ بڑی اہم صفت ہے یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ سوار کو تکلیف تو نہیں دیتا مشقت تو نہیں دیتا اس پر جب سواری ‏کی جائے تو عمدہ گھوڑا بالکل سوار کو ہلاتا ہی نہیں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے بھئی پانی پر انسان تیر رہا ہو یا پانی پر کوئی چیز تیر رہی ہو دیکھو وہاں جھٹکے وغیرہ نہیں ‏تو عمدہ سوار بھی جب اس پر سوار ہوتا ہے یہ اس طرح چلتا ہے جیسے پانی پر تیر رہا ہو اس لیے عمدہ گھوڑے کو کیا ‏کہتے ہیں صابیح کہتے ہیں کہ وہاں تو سوار کو تکلیف نہیں دیتا بھئی اور نیز گھوڑا بھی سوار کو پہچان لیتا ہے اس سوار کا بھی قصور ہے کہ آپ گھوڑے پر بیٹھے ہیں اور اچھلتے جا رہے ‏ہیں معلوم ہوا آپ کو گھوڑے پر بیٹھنا ہی نہیں آتا بھئی اور گھوڑا بھی سوار کو فورا پہچان لیتا ہے کہ اس کو بیٹھنے کا ‏طریقہ ہی نہیں آتا بھئی تو دونوں چیزیں ہوتی ہیں سوار کے بیٹھنے کا بھی تعلق ہے اور گھوڑے کا بھی تعلق ہے لیکن بہرحال سوار کی تو اپنی ‏کمزوری اپنی جگہ لیکن گھوڑے کے اندر یہ صفت دیکھی جاتی ہے کہ وہ سوار کو اچھے طریقے سے لے کر چلے بھئی تو اس لیے عمدہ گھوڑوں کو صابیحات کہا جاتا ہے تو یہ گھوڑ سواری باقاعدہ سیکھنی پڑتی ہے بھئی سیکھنی پڑتی ہے ‏یہ نہیں کہ آپ آرام سے گھوڑے پر سوار ہوں اور سوچ رہے ہوں کہ میں مزے سے اس کو قابو کر لوں گا نہیں نہیں ٹھیک ‏ہے باقاعدہ ایک فن ہے بھئی صحابہ اس فن کے عجیب ماہر تھے انسان حیران ہوتا ہے بھئی اللہ صحابہ تو چھوڑو ‏صحابیات ایسی ماہر تھیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ جنگیں آج کل کی خوفناک ہے ‏لیکن آج کل تو دور چھپ کر بیٹھے ہیں اور پہلے تو جنگیں ایک دوسرے کو تلواریں مار رہے ہیں آپ سوچیں تو صحیح ‏کتنے خوفناک منظر ہوگا بھئی وہ ایک تو ہاتھ کاٹ رہا ہے کسی کا سر کٹ رہا ہے کسی کی ٹانگ کٹ رہی ہے چیخ و ‏پکار ہوگی ہر طرف اور اس کے اندر لڑائی جاری ہے اب تو چھپے بیٹھے ہوتے ہیں گولی لگ گئی لگ گئی ٹھیک ہے ‏باقی ساتھی دوڑتے ہیں اس کو اٹھاتے ہیں پکڑتے ہیں اور وہ وہاں تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے نیچے گرا ہے تڑپ رہا ‏ہے باقی ساتھ موقع ہی نہیں ہے اس کو سنبھال سکے اللہ اور تلوار سے لڑتے تھے تلوار اچھی خاصی وزنی ہوتی ہے بھئی مضبوط لوہے کی لڑنا ہے اس سے آپ اس کو میرا ‏خیال دس پندرہ چکر یوں دے دینا تو دو دن تک آپ کے بازو کا درد نہیں ختم ہوگا اور وہ سارا دن لڑتے تھے اس پہ اندازہ ‏لگائیں ان کے بازو کیسے مضبوط ہوں گے ان کی کتنی چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک صحابی کی تلوار کے بارے میں خبر پہنچی خلیفہ تھے کہ فلاں کی ‏تلوار بہت زبردست تلوار ہے بڑی شہرت تھی اتنی شہرت کہ حضرت عمر وہ کسی اور علاقے میں ان کو حضرت عمر ‏نے لگایا ہوا تھا گورنر وغیرہ حضرت عمر نے تلوار منگوائی غالباً حضرت عمر ابن العاص شاید تھے بھئی تو ان کو کہا ‏آپ نے وہ تلوار مجھے بھیجو میں نے اس کی بڑی تعریف سنی ہے تلوار بھیجی حضرت عمر نے ابھی اس کو چلایا اور ‏دیکھا تو ان کو پھر لکھا کہ تلوار کی میں نے تمہاری بڑی شہرت سنی تھی میں نے اس کو چلایا لیکن اتنا اعلی نہیں پایا جتنا میں ‏نے سنا انہوں نے جواب میں لکھا کہ یا امیرالمومنین میں نے آپ کو تلوار بھیجی ہے وہ بازو نہیں بھیجا جس کے ذریعے ‏تلوار کو چلایا جاتا تھا عجیب بھئی صحابہ کی عجیب شان ہوتی ہے اللہ چنانچہ ایک جنگ میں جنگ ایک جگہ ہو رہی تھی اور وہاں پر غالباً غالباً حضرت ضرار بن صاعدہ رضی اللہ تعالی عنہ صحابہ تو چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ لڑ رہے ہوتے تھے دشمن جتنا مرضی ہوتا تھا صحابہ کی چھوٹی طاقت اتنے ‏لوگ تھے ہی نہیں کہ ہر جگہ پر بڑی بڑی فوج بھیجی جائے کئی کئی محاذوں پر لڑائی ہو رہی ہوتی تھی تو وہ بھی ایک ‏جگہ محاذ پر لڑ رہے تھے اور کمزور تھے تو کو کہ یعنی کم تھے لوگ تو ان میں حضرت ضرار بن صاعدہ غالباً قید ہو ‏گئے دشمن نے پکڑ لیا اور یہ اتنے بڑے شہسوار اور بہادر تھے کہ پورے عرب میں یہ مشہور تھے کہ یہ ایک ہزار آدمیوں کے برابر ہیں بھئی ‏عرب میں جو بڑا ہی دلیر ہوتا بہت زیادہ جنگجو ہوتا اور بڑا دلیر ہوتا تھا تو اس کے بارے میں مشہور پوتاز تھی یہ ہزار ‏آدمیوں کے برابر ہے ہزار آدمی اور وہ چند ہی تھے ایسے ان میں حضرت ضرار بن صاعدہ بھی اللہ یہی وہ صحابہ تھے نا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک مرتبہ دشمن سے سامنا ہوا دشمن لاکھوں کی ‏تعداد میں صحابہ تھوڑے سے اور دشمن کی طرف سے پہلے دن ساٹھ ہزار لوگ لڑنے کے لیے آئے باقی پیچھے ہی ‏بیٹھے تھے ساٹھ ہزار لوگ آپ سوچیں تو صحیح اگر ایک صف کے اندر بھی ہزار ہزار لگا لیں تو ساٹھ صفیں بن گئی جو جنگ کے لیے کھڑے ہیں حضرت خالد بن ولید ‏کمانڈر ان چیف تھے مقابلے میں حضرت خالد رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا مسلمان بھی کھڑے ہیں حضرت خالد رضی ‏اللہ تعالی عنہ نے چکر لگایا ایک ایک کو کہہ رہے ہیں آگے آ جاؤ تم آگے آ جاؤ تم آگے آ جاؤ تیس آدمی نکال لیے بس تیس آدمی تیس آپ کی دو صفوں میں میرا خیال ہو جائیں گی یہ ٹیم چلو بھئی لڑنے چلیں ساٹھ ہزار ‏ساروں نے کہا یہ کیا کر رہے ہیں یہ کیا کرتا ہے کہتے نہیں ان کے دو ہزار کے مقابلے میں ایک آدمی نکالا تھا آخر بڑے مجبور کیا ساتھیوں نے تو پھر تیس اور نکال لیے تو ساٹھ آدمی کہتے ہیں بس اس سے زیادہ نہیں سوال ہی پیدا ‏نہیں ہوتا اور جتنے جو ساٹھ نکالے تھے ان میں سے ہر ایک کے بارے میں عرب میں مشہور تھا کہ یہ ایک ہزار آدمیوں کے برابر ‏ہے وہ جرات والے لوگ نکال رہے ہیں بہادر شجاع طاقتور اور جنگجو لوگ ۔ تلوار کی ان کی ہر طرف ہیبت چھائی ہوئی ‏تھی۔ اور کہتے ہیں پھر ان سے لڑے اور صبح سے شام تک لڑتے رہے، ان میں سے ایک دو شاید شہید ہوئے اور ایک دو ‏ہی گرفتار ہوئے اور شام کو جب واپس آئے تو دشمن کے سینکڑوں لوگوں کو انہوں نے قتل کر دیا اور زخمی کر دیا۔ ‏ایسے بہادر لوگ۔ اچھا، تو میں واقعہ ذکر کر رہا تھا حضرت ضرار بن ثعلبہ کا۔ وہ، ان کو دشمن نے پکڑ لیا بھئی۔ ادھر خبر پہنچی تو خالد ‏بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ کو امیر المومنین وغیرہ کی طرف سے حکم آیا، فوراً ان کی مدد کو پہنچو۔ چنانچہ خالد بن ولید ‏صحابہ کو لے کر دوسری جگہ سے فوراً وہاں روانہ ہو گئے۔ اور فوج ہوتی تھی، یہ تو نہیں کہ ایک دن میں فوراً وہاں سے وہاں پہنچ گئی۔ فوج کو بھی تیاری کرنی پڑتی ہے، سارا ‏خیمہ سمیٹو، سارے اونٹ سمیٹو، پھر چلو۔ پہنچ گئے ان تک۔ اور پھر انہوں نے بھی، دشمن نے بھی دیکھ لیا مسلمان آ گئے ‏ہیں، تو صفیں پھر بنا لیں۔ اگلے دن پھر لڑائی شروع ہو گئی۔ لڑائی ہوئی بھئی، اور بالآخر حضرت ضرار بن ثعلبہ، جن ‏کو دشمن باندھ کر لے کے جا رہے تھے، ان کو چھڑوا لیا۔ دوسرے دن کا، یا تیسرے دن کا چھڑوایا، بہرحال پہلے دن کی ‏بات میں کر رہا ہوں۔ تو جب جنگ ختم ہوئی، رک گئی، تو حضرت خالد بن ولید بیٹھے ہوئے، فرمانے لگے کہ آج سارے ساتھی بڑی بہادری ‏سے لڑے، لیکن ایک سوار نے تو کمال ہی کر دیا۔ ایک سوار نے تو کمال ہی کر دیا، وہ جس طرف کو جاتا تھا صفوں کو ‏الٹا کر رکھ دیتا تھا۔ اور کبھی میں اس کو ایک طرف لڑتے ہوئے دیکھتا تھا، کبھی میں اس کو دوسری طرف لڑتے ہوئے ‏دیکھتا تھا، اور جس طرف کا رخ کرتا تھا دشمن کی دوڑیں لگ جاتی تھیں، اور لیکن اس نے نقاب کیا ہوا تھا، میں پہچان ‏نہیں سکا کہ یہ تھا کون بھئی، پتہ کرو کون تھا؟ پتہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ حضرت ضرار بن ثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن تھیں بھئی۔ سوچو تو سہی، عورت، ‏عورت اتنی کمزور ہوتی ہے، تو پتہ چلا کہ وہ ان کی بہن تھیں بھئی۔ اندازہ لگاؤ، وہ کتنی بڑی شہسوار تھیں بھئی، اور ‏سارا دن تلوار سے لڑنا، ہمم! اب یہ نہیں کہ آرام سے لڑنا، پوری طاقت سے لڑنا۔ ایک ایک وار اتنا زوردار ہونا چاہیے کہ ‏دشمن ٹھہر نہ سکے۔ اللہ! اچھا جی۔ عَلَى الْوَنَى وَنَى، یعنی وَنَیَن کا معنی ہے تھکنا۔ تو وَنَى، تھکن بھئی۔ أَثَرْنَ الْغُبَارَ أَثَارَ يُثِيرُ الْغُبَارَ کا معنی ہے غبار اڑانا، گرد و غبار اڑانا۔ أَثَارَ، أَثَارَ يُثِيرُ باب افعال ہے۔ كَدِيد کدید کہتے ہیں پست، سخت زمین بھئی۔ وہ زمین جو نیچی ہو اور سخت ہو، ٹھوس ہو۔ اسی طرح اس زمین کو بھی کدید ‏کہتے ہیں جس پر خوب کھروں کے نشانات وغیرہ ہوں بھئی، حیوانات وہاں سے بکثرت گزرتے ہوں، ان کے نشانات ‏پڑے ہوئے ہیں، تو اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ کدید کہتے ہیں، کدید۔ مُرَكَّلِ رَكْلٌ سے ہے۔ رَكْلٌ، اور یہ باب نصر سے آتا ہے رَكَلَ يَرْكُلُ رَكْلًا، اور اس کا معنی ہے ایڑ لگانا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ‏شہسوار جب گھوڑے کو دوڑانا چاہتا ہے تیز، تو وہ اس کے دونوں طرف پاؤں جو ہیں وہ اس کے پیٹ پر مارتا ہے۔ اس ‏کو کہتے ہیں ایڑ لگانا۔ گھوڑا پھر سمجھ جاتا ہے اور وہ تیز دوڑنے لگتا ہے۔ تو اس کو رَکل کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ‏رَکل، ایڑ لگانا، لات مارنا۔ اور اسی سے مبالغہ ہے رَكَّلَ يُرَكِّلُ تَرْكِيل، مزید فی کے اندر لے گئے۔ اور مُرَكَّل، یہ اسم ظرف کا صیغہ ہے۔ وہ زمین ‏جہاں پر گھوڑوں کو خوب دوڑایا گیا ہو، خوب ایڑ لگائی گئی ہو، وہ کیسی زمین ہے؟ مُرَكَّل بھئی، مُرَكَّل۔ مِسَحٍّ إِذَا مَا السَّابِحَاتُ عَلَى الْوَنَى ... أَثَرْنَ الْغُبَارَ بِالْكَدِيدِ الْمُرَكَّلِ کہ میرا گھوڑا جو ہے مِسَحّ، بڑا ہی تیز رفتار ہے، إِذَا مَا السَّابِحَاتُ، جس وقت کہ عمدہ گھوڑے بھی عَلَى الْوَنَى، تھکن پر، ‏یعنی تھکن کی وجہ سے أَثَرْنَ الْغُبَارَ، غبار اڑانے لگتے ہیں، أَثَرْنَ الْغُبَارَ، گرد و غبار اڑانے لگتے ہیں، بِالْكَدِيدِ الْمُرَكَّلِ، ‏ایسی پست و نشیبی زمین جس کے اندر گھوڑوں کو خوب دوڑایا گیا ہو۔ معنی سمجھ میں آیا؟ امرؤ القیس کہنا یہ چاہتا ہے کہ عمدہ قسم کے گھوڑے بھی جب تھک جاتے ہیں، تو وہ بھی قدم اٹھانا ان کو مشکل لگتا ہے ‏اور وہ گرد و غبار اڑانے لگتے ہیں زیادہ بھئی، ظاہر سی بات ہے جتنا پاؤں زمین کے ساتھ وہ کھینچے گا، غبار اتنا ہی ‏زیادہ اڑے گا۔ تو کہتے ہیں، جب عمدہ گھوڑے بھی تھک جاتے ہیں اور وہ بھی زمین پر کیا کرنے لگتے ہیں؟ ان کے لیے ‏پاؤں اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے، وہ غبار اڑانے لگتے ہیں، اس وقت بھی میرا یہ گھوڑا بہت تیز رفتار کے ساتھ دوڑنے والا ‏ہے، یعنی عمدہ گھوڑوں سے بھی بڑھ کر یہ زبردست گھوڑا ہے میرا بھئی۔ مِسَحٍّ إِذَا، کہ بہت تیز رفتار سے دوڑنے والا ہے، إِذَا مَا السَّابِحَاتُ، جس وقت کہ عمدہ گھوڑے جو ہیں عَلَى الْوَنَى، تھکن پر، ‏أَثَرْنَ الْغُبَارَ، غبار اڑانے لگتے ہیں، بِالْكَدِيدِ الْمُرَكَّلِ، ایسی سخت نشیبی زمین میں جس میں خوب گھوڑوں کو ایڑ لگائی گئی ‏ہو۔ يُزِلُّ الْغُلَامَ الْخِفَّ عَنْ صَهَوَاتِهِ ... وَيُلْوِي بِأَثْوَابِ الْعَنِيفِ الْمُثَقَّلِ زَلَّ يَزِلُّ، جی کیا معنی؟ كَمَا زَلَّتِ الصَّفْوَاءُ بِالْمُتَنَزَّلِ، پھسلنا، پھسلنا۔ با کی وجہ سے وہاں متعدی ہو گیا تھا، تو زَلَّ يَزِلُّ کا ‏معنی پھسلنا، اور یہی باب افعال میں لے جاؤ أَزَلَّ يُزِلُّ، تو اس کا کیا معنی؟ پھسلانا۔ غلام، غلام عربی میں غلام کو بھی کہتے ہیں اور لڑکے کو بھی کہتے ہیں۔ الْخِفّ، خِفّ بمعنی خفیف کے ہے، ہلکا پھلکا۔ ‏عَنْ صَهَوَاتِهِ، صہوات جمع ہے صہوة کی، اور اس کا وہی معنی ہے جو پچھلے سبق میں آیا تھا، حَالَ مَتْنِهِ، حال کسے ‏کہتے تھے؟ ہاں، وہ گھوڑے کی کمر پر وہ مقام جہاں پر سوار بیٹھتا ہے، تو اس کا ایک لفظ اس کے لیے ہے حال، دوسرا ‏لفظ ہے صہوة۔ صَهَوَاتِهِ، اس کے جو صہوات ہیں۔ تو صہوت تو ایک، بیٹھنے کی جگہ تو ایک ہے، لیکن جمع استعمال کر لیا بھئی وسعت سے کام لیتے ہوئے، کیونکہ آگے ‏ہا ضمیر مفرد کی آ رہی ہے، اس سے پتہ چل رہا ہے کہ ایک ہی گھوڑے کی بات ہو رہی ہے اور اس کی کیا ہوتی ہے ‏بیٹھنے کی جگہ ایک ہی ہوتی ہے، تو ویسے عربی میں اس طرح بول دیتے ہیں بعض اوقات اور جمع کا لفظ بول دیتے ‏ہیں حالانکہ وہاں مقام کیا ہوتا ہے؟ واحد کا یا تثنیہ کا مقام ہوتا ہے بھئی، کیونکہ سننے والا سمجھ جاتا ہے۔ اچھا۔ وَيُلْوِي بِأَثْوَابِ، أَلْوَى يُلْوِي، يُلْوِي بِالشَّيْءِ کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو پھینک دینا۔ يُلْوِي بِأَثْوَابِ، کپڑوں کو پھینک دیتا ہے۔ ‏اور کپڑوں سے یہاں مراد ذات ہے بھئی، یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ثوب کا، کہاں آیا تھا؟ وَإِنْ تَكُ قَدْ سَاءَتْكِ مِنِّي خَلِيقَةٌ ... فَسُلِّي ثِيَابِي مِنْ ثِيَابِكِ تَنْسُلِ جی، تو وہاں بھی ذات مراد تھی، یہاں بھی اثواب سے ذات مراد ہے۔ الْعَنِيف، عنیف کا معنی سختی کرنے والا، شدت کرنے ‏والا۔ الْمُثَقَّل، بوجھل بھئی، وزنی، بوجھل۔ يُزِلُّ الْغُلَامَ الْخِفَّ عَنْ صَهَوَاتِهِ ... وَيُلْوِي بِأَثْوَابِ الْعَنِيفِ الْمُثَقَّلِ میرا گھوڑا ایسا ہے کہ وہ ہلکے پھلکے لڑکے کو اپنی کمر سے پھسلا، عَنْ صَهَوَاتِهِ، اپنی کمر سے پھسلا دیتا ہے، وَيُلْوِي ‏بِأَثْوَابِ الْعَنِيفِ الْمُثَقَّلِ، اور وہ، یہ ترجمہ آخر سے ہو گا، اور وہ بھاری بھرکم سختی کرنے والے کے ذات کو بھی اپنے ‏اوپر سے پھینک دیتا ہے، وہ بھاری بھرکم سختی کرنے والے سوار کو بھی اپنے اوپر سے پھینک دیتا ہے۔ یعنی میرا گھوڑا اتنا زور آور ہے کہ اس کو قابو کرنا کوئی آسان کام نہیں، ہلکے پھلکے سوار کو بھی اپنے اوپر وہ جمنے ‏نہیں دیتا اور مضبوط بھاری بھرکم کوئی سواری کا ماہر ہو، اس کو بھی وہ کیا کرتا ہے اپنے اوپر سے پھینک دیتا ہے، ‏اس کو قابو کرنا بڑا ہی مشکل کام ہے، اتنا زور آور گھوڑا ہے۔ یہ معنی يُزِلُّ الْغُلَامَ الْخِفَّ، وہ پھسلا دیتا ہے ہلکے غلام کو اپنی کمر سے، وَيُلْوِي بِأَثْوَابِ الْعَنِيفِ الْمُثَقَّلِ، اور وہ پھینک دیتا ‏ہے اپنے اوپر سے بھاری بھرکم سختی کرنے والے کی ذات کو۔ دَرِيرٍ كَخُذْرُوفِ الْوَلِيدِ أَمَرَّهُ ... تَتَابُعُ كَفَّيْهِ بِخَيْطٍ مُوَصَّلِ دَرِيرٍ، اچھا، دریر، دَرَّ يَدِرُّ دریر، اس کا معنی بھی تیز دوڑنے کے ہیں بھئی، تیز رفتار ہے۔ کَخُذْرُوفِ، خذروف کہتے ہیں بھئی، خذروف کا ایک معنی لٹو کے بھی آتے ہیں، لٹو، وہ بچوں کا جو کھلونا ہے۔ اور اسی ‏طرح اس کے معنی فرکی کے بھی آتے ہیں، فرکی۔ فرکی، یہ بھی بچوں کا کھلونا ہے، آپ نے دیکھا ہو گا بھئی، وہ چھوٹا ‏سا ہوتا ہے اور وہ گول، اور اس کے دونوں طرف سوراخ وغیرہ ہوتے ہیں، اور اس کے بیچ میں سے دھاگا گزرا ہوتا ‏ہے، ایک طرف دھاگے کو بھی بچہ اپنی انگلیوں میں ڈال لیتا ہے، دوسری طرف دھاگے کو بھی اپنی انگلیوں میں، درمیان ‏میں فرکی ہے، پھر اس کو وہ بل دیتا ہے اور تیز چلاتا ہے، تو وہ گھومتا ہے، بڑی رفتار سے گھومتی ہے اور آواز بھی ‏اس میں سے آتی ہے۔ اسی طرح اس بعض قسم میں ایسی ہیں اس کی کہ اس کے ساتھ دھاگا باندھ کر پھر ہاتھ کے ساتھ اس کو سر کے اوپر ‏گھمایا جاتا ہے بڑی رفتار سے، تو وہ، تو اس میں سے بھی آواز نکلتی ہے، تو یہ دونوں طرح کی ہیں اور، تو اپنے ‏گھوڑے کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہے، اپنے گھوڑے کو تشبیہ دے رہا ہے اس فرکی کے ساتھ کہ جیسے یہ انتہائی تیز ‏رفتار ہوتی ہے، نظر ہی نہیں جمتی اس کے اوپر، اسی طرح میرا گھوڑا بھی بے انتہا تیز رفتار ہے، اور جیسے فرکی ‏میں سے تیز حرکت کے وقت آواز نکلتی ہے، اسی طرح میرا گھوڑا جو ہے جب وہ تیز رفتار میں دوڑ رہا ہو، تو اس کے ‏سانس لینے کی آواز بھی اسی طرح تیز سنائی دیتی ہے بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ الْوَلِيد، ولید لڑکے کو کہتے ہیں بھئی، اس کی جمع ولدَان۔ أَمَرَّهُ، أَمَرَّ يُمِرُّ إِمرَار کا معنی ہے رسی کو بل دینا، رسی کو بٹنا، ‏اس کو بل دینا۔ تَتَابُع، تتابع کا معنی ہے ایک دوسرے کے بعد ہونا، مسلسل ہونا۔ كَفَّيْهِ، یہ اصل میں تثنیہ تھا كَفَّيْنِ، کفین ‏کسے کہتے ہیں؟ ہتھیلیاں۔ بِخَيْطٍ، خیط دھاگے کو کہتے ہیں بھئی۔ مُوَصَّل، خیط موصل کہتے ہیں مضبوط بٹا ہوا دھاگا، ‏یعنی مضبوط دھاگا۔ خیط موصل، مضبوط بٹا ہوا دھاگا۔ اونچا کہو بھئی سب تک آواز جائے۔ اونچا کہا کرو بھئی، خوب اونچا۔ دَرِيرٍ كَخُذْرُوفِ الْوَلِيدِ أَمَرَّهُ ... تَتَابُعُ كَفَّيْهِ بِخَيْطٍ مُوَصَّلِ کہ میرا گھوڑا جو ہے بڑی ہی رفتار سے دوڑنے والا ہے، كَخُذْرُوفِ الْوَلِيدِ، جیسے کہ بچے کی فرکی ہوتی ہے، أَمَرَّهُ ‏تَتَابُعُ كَفَّيْهِ، ایسی فرکی کہ جس کو بل دیا ہو تَتَابُعُ كَفَّيْهِ، اس بچے کی دونوں ہتھیلیوں کی مسلسل حرکت نے، بِخَيْطٍ مُوَصَّلِ، ‏مضبوط دھاگے کے ساتھ۔ کہ میرا گھوڑا خوب تیز دوڑنے والا ہے، جس طرح کے بچے کی فرکی جس کو بچے کے نے خوب بل دیے ہوں اس ‏کے، جس کو خوب بل دیے ہوں بچے کی دونوں ہتھیلیوں کی مسلسل حرکت نے مضبوط دھاگے کے ساتھ، تو میرا گھوڑا ‏بھی اس فرکی کی طرح ہے بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا؟ اچھا، چلیے بس کریں بھئی، بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔ ‏ ‏