دیکھیے بھئی اگے۔ مِكَرٍّ مِفَرٍّ مُقْبِلٍ مُدْبِرٍ مَعاً كَجُلْمُوْدِ صَخْرٍ حَطَّهُ السَّيْلُ مِنْ عَلِ كُمَيْتٍ يَزِلُّ اللِّبْدُ عَنْ حَالِ مَتْنِهِ كَمَا زَلَّتِ الصَّفْوَاءُ بِالْمُتَنَزَّلِ عَلَى الذَّبْلِ جَيَّاشٍ كَأَنَّ اهْتِزَامَهُ إِذَا جَاشَ فِيْهِ حَمْيُهُ غَلْيُ مِرْجَلِ اچھا بھئی، امرؤ القیس اپنے گھوڑے کی تعریف کر رہا ہے، اور بتلا رہا ہے کہ میں صبح سویرے، جب کہ پرندے اپنے ‏گھونسلوں میں ہوتے ہیں، میں اس وقت روانہ ہوتا ہوں ایک ایسے گھوڑے پر جو بہت تیز چلنے والا ہے، یا جس کے بال ‏چھوٹے ہیں، جنگلی جانوروں کے قید کرنے والے، ان کے لیے بیڑی ہے، اور بڑے جسم والا ہے۔ آگے کہتا ہے: مِكَرٍّ مِفَرٍّ مُقْبِلٍ مُدْبِرٍ مَعاً، كَجُلْمُوْدِ صَخْرٍ حَطَّهُ السَّيْلُ مِنْ عَلِ۔ مِكَرٍّ، كَرَّ يَكُرُّ کے معنی ہوتے ہیں پیچھے ہٹنا، پیچھے ہٹنا۔ كَرَّ يَكُرُّ كُرُوْراً۔ اور كَرَّ يَكُرُّ کا ایک معنی دشمن پر حملہ کرنا، ‏اس پر ٹوٹ پڑنا۔ تو اسی سے یہ مِكَرّ جو ہے نا مبالغے کا صیغہ ہے۔ مِكَرّ، مِكَرٌّ، خوب پیچھے ہٹنے والا، یا خوب حملہ کرنے والا۔ اسی ‏سے كَرَّار بھی ہے بھئی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو کیا کہتے ہیں؟ حیدرِ کرار بھئی۔ آج اپ کو اس کا معنی ‏سمجھ میں آ گیا۔ حیدرِ کرار بھئی۔ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی جنگ کا کوئی خاص طریقہ تھا، جس کی وجہ ‏سے ان کو حیدرِ کرار کہتے ہیں، یہ کرار اسی مادے سے ہے۔ تو خاص طریقہ تھا، وہ پلٹ پلٹ کر، پیچھے ہٹ کر پھر دشمن پر حملہ کرتے، پھر پیچھے ہٹتے اور پھر دشمن پر حملہ ‏کرتے، تو اس وجہ سے ان کو کیا کہتے ہیں؟ حیدرِ کرار۔ یا اس وجہ سے کہ وہ دشمن پر ٹوٹ پڑتے تھے، ایک ہے دشمن ‏کو بھی محفوظ کے ساتھ، احتیاط سے، طریقے سے، سنبھل کر جنگ لڑنا، لڑائی کرنا، اور ایک ہے دشمن پر ٹوٹ پڑنا، ‏اس کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دینا، اس پر ایسے بار بار حملے کرنا کہ منٹوں میں اس کو ختم کر دینا بھئی۔ تو یہ ان کی ‏جنگ کا کوئی خاص طریقہ تھا، یا تو کرار پیچھے ہٹنے سے ہے کہ بار بار پلٹ کر وہ حملہ کرتے تھے، یا دشمن پر ٹوٹ ‏پڑتے تھے اور اس کو موقع ہی سنبھلنے کا نہیں دیتے تھے، تو اس وجہ سے ان کو کیا کہتے ہیں؟ حیدرِ کرار۔ مِفَرٍّ، مِفَرّ، فَرَّ يَفِرُّ کے معنی ہیں بھاگنا، بھاگنا۔ اسی سے مِفَرّ ہے مبالغے کا صیغہ، خوب بھاگنے والا، خوب بھاگنے والا۔ یہاں ایک اور صرافی نقطہ اپ کو بتلاؤں بھئی، اپ کے کام آئے گا جگہ جگہ۔ فَرَّ يَفِرُّ، دیکھو مضاعف ہے، را مشدد آ رہی ‏ہے، دو دفعہ را ہے، عین کی جگہ بھی را، اور لام کی جگہ بھی را۔ تو یہ جو مضاعف ہے نا، مضاعف، یہ اگر آئے بابِ ‏نصر سے، تو پھر یہ متعدی ہو گا۔ کیا ہو گا؟ متعدی ہو گا۔ اور اگر آئے یہ بابِ ضرب سے، تو پھر یہ لازمی ہو گا۔ کس سے آئے؟ بابِ نصر سے آئے تو یہ متعدی ہو گا، اس کے لیے مفعول چاہیے ہو گا۔ اور اگر یہ بابِ ضرب سے آئے ‏تو یہ لازمی ہو گا، اس کے لیے مفعول نہیں چاہیے ہو گا۔ مثالیں یاد رکھیں، قانون خود ہی اپ کو یاد ہو جائے گا۔ مَدَّ يَمُدُّ، ‏مَدَّ يَمُدُّ دیکھو بابِ نصر ہے۔ اور اس کا معنی ہے بڑھانا، مَدَدْتُ يَدِي، میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا، دیکھو مفعول چاہیے۔ اور ‏دوسری مثال یاد رکھیں فَرَّ يَفِرُّ، دیکھو بابِ ضرب ہے۔ فَرَّ يَفِرُّ کا معنی بھاگنا، دیکھو اس کے لیے مفعول نہیں چاہیے۔ تو مَدَّ ‏اور فَرَّ، ان دو مثالوں کو یاد رکھیں، خود ہی قانون اپ کو یاد رہے گا بھئی۔ مُقْبِلٍ، مُقْبِل، أَقْبَلَ يُقْبِلُ کا معنی متوجہ ہونا، آگے بڑھنا بھئی، آگے بڑھنا۔ مُدْبِرٍ، مُدْبِر، أَدْبَرَ يُدْبِرُ، اس کا معنی ہے پشت ‏پھیرنا، واپس ہونا۔ مَعاً، اکٹھا ۔ كَجُلْمُوْدِ صَخْرٍ، جُلْمُوْد کہتے ہیں سخت، مضبوط، ٹھوس پتھر بھئی، سخت اور مضبوط پتھر۔ ‏سخت اور مضبوط پتھر۔ اور جمع اس کی جَلاَمِد اور جَلاَمِيْد آتی ہے، جُلْمُوْد کی جمع جَلاَمِد اور جَلاَمِيْد۔ اور صَخْر، صَخْر ‏جمع ہے صَخْرَة کی، یہ چٹان کو کہتے ہیں، چٹان۔ اور اسی صَخْر کی پھر جمع صُخُوْر آتی ہے۔ حَطَّ، حَطَّ يَحُطُّ، اس کا معنی ہے لڑھکانا۔ اوپر سے نیچے کی طرف کسی چیز کو دھکیلنا، گرانا۔ پہاڑ کے اوپر سے کوئی ‏پتھر کیا کیا جائے؟ گرایا جائے تو وہ پہاڑ پر لڑھکتا ہوا نیچے کی طرف آتا ہے، تو یہ ہے حَطَّ يَحُطُّ اس کو کہتے ہیں ‏عربی میں بھئی۔ دیکھا وہی ضابطہ لگ گیا یا نہیں؟ حَطَّ يَحُطُّ، مَدَّ يَمُدُّ، دیکھو اس کے لیے ہا ضمیر مفعول کی آ رہی ہے۔ ‏سَيْل، سَيْل کہتے ہیں سیلاب کو، سیلاب کو۔ مِنْ عَلِ، عَلِ یہ معنی ہے اوپر بھئی، اوپر۔ عَلِ، عَلُ، اور اسی طرح عِلْوَة ‏وغیرہ، کئی لغتیں ہیں اس کے اندر بھئی، معنی ہے اوپر۔ تو امرؤ القیس کہتا ہے: مِكَرٍّ مِفَرٍّ مُقْبِلٍ مُدْبِرٍ مَعاً، کہ میرا وہ گھوڑا جو ہے، مِكَرٍّ، پیچھے ہٹنے والا ہے، یا یوں کہیں دشمن ‏پر ٹوٹ پڑنے والا ہے۔ اچھا، مِفَرٍّ، اچھا خوب پیچھے ہٹنے والا ہے، یا خوب دشمن پر حملہ کرنے والا ہے، جو بھی ‏ترجمہ کر لیں۔ مِفَرٍّ، خوب دوڑنے والا ہے، مُقْبِلٍ، آگے بڑھنے والا ہے، مُدْبِرٍ، پیچھے ہٹنے والا ہے، مَعاً، بایک وقت، ‏اکٹھا۔ امرؤ القیس کہتا ہے میرا گھوڑا اتنا طاقتور ہے اور ایسی صفات ہیں، وہ پیچھے بھی ہٹتا ہے موقع کی مناسبت سے، دشمن ‏پر بھی حملہ کرتا ہے، آگے بھی بڑھتا ہے، تیز بھی دوڑتا ہے، تو یہ سارے کام وہ بایک وقت کرتا ہے۔ اس پر سوال پیدا ‏ہوتا ہے کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتے ایک وقت میں، تو ایک ہی ہو گا۔ تو کہتے ہیں مراد یہ ہے کہ یکے بعد دیگرے وہ ان ‏افعال کو اتنی تیزی سے سرانجام دیتا ہے کہ گویا یوں سمجھو اکٹھے ہی یہ سارے وہ کام کر رہا ہے۔ یا معنی یہ ہے کہ یہ ‏سارے کام کرتا ہے، جہاں جس قسم کی ضرورت ہوتی ہے، کبھی دشمن پر آگے بڑھ کر حملہ کرنا ہوتا ہے، یہ بڑی تیزی ‏سے آگے بڑھتا ہے، اتنا سمجھدار ہے۔ کبھی پیچھے کو ہٹنا ہے دشمن حملہ کرنے لگا ہے، یہ اتنا سمجھدار ہے، خود ہی ‏بڑی تیزی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، کبھی آگے بڑھتا ہے، کبھی پیچھے ہٹتا ہے، کبھی تیز دوڑتا ہے، تو موقع کے مطابق ‏جس قسم کی چال کی ضرورت ہے، یہ اسی کے مطابق حرکت کرتا ہے۔ مِكَرٍّ مِفَرٍّ مُقْبِلٍ مُدْبِرٍ مَعاً، یہ خوب پیچھے ہٹنے والا ہے، خوب دوڑنے والا ہے، آگے بڑھنے والا ہے، پشت پھیرنے والا ‏ہے، مَعاً، بایک وقت۔ كَجُلْمُوْدِ صَخْرٍ، جیسے کہ ایک سخت اور ٹھوس چٹان ہو، یا سخت اور ٹھوس چٹان کا پتھر ہو، حَطَّهُ ‏السَّيْلُ، لڑھکا دیا ہو اس کو سیلاب نے، مِنْ عَلِ، اوپر سے۔ جیسے اس کو سیلاب نے اوپر سے لڑھکا دیا ہو۔ پہاڑ کے عجیب تشبیہ دی ہے بھئی امرؤ القیس نے، اپنے گھوڑے کی ہولناکی بیان کر رہا ہے کہ یہ جنگ کے اندر جب ‏آگے بڑھتا ہے، موقع کے مطابق جیسی ضرورت ہوتی ہے ویسا ہی کرتا ہے، اور یہ اس طرح جنگ میں حرکت کرتا ہے ‏اور ایسے آگے بڑھتا ہے کہ اس کو دیکھ کر دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں، اور اس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر ان کے دل ‏ہل کر رہ جاتے ہیں، اسی طرح جیسے پہاڑ کے اوپر سے بڑی سی چٹان لڑھکتی ہوئی آ رہی ہو، تو نیچے کھڑے ہوئے ‏انسان کا دل دہل جاتا ہے۔ اوپر سے اگر کوئی چٹان آ رہی ہو نا پہاڑ کے اوپر سے، اتنی رفتار سے آتی ہے اور اچھلتی ہوئی، کبھی ایک طرف لگتی ‏ہے، کبھی دوسری طرف لگتی ہے اور اچھل، اور لمحوں کے اندر وہ نیچے تک پہنچ جاتی ہے، اور انسان ایک قدم ایک ‏طرف، نیچے کھڑے انسان کا دل دہل جاتا ہے، ایک قدم ایک طرف اٹھاتا ہے تو لگتا ہے یہ ادھر کو آ رہی ہے، دوسرا قدم ‏دوسری طرف اٹھاتا ہے تو لگتا ہے شاید ادھر کو آ رہی ہے، ابھی اسی کشمکش میں ہوتا ہے کہ وہ چٹان اس کو ٹکڑوں ‏میں بدل دیتی ہے بھئی، اتنی رفتار سے بھئی۔ اور یہ میں خصوصاً اس لیے ذکر کر رہا ہوں کہ مجھے خود اس کا تجربہ ‏ہو چکا ہے بھئی۔ ایک نہیں بلکہ دو موقعوں پر، ایک موقع پر تو اللہ نے بچا لیا اور بالکل میں نیچے ہی کھڑا تھا، ایک ‏اور موقع پر، اس موقع پر ایک چھوٹا سا پتھر تھا، یوں سمجھو ایک ڈیڑھ کوئی فٹ کا ہو گا، ڈیڑھ یا دو فٹ کا پتھر، اور یہ ‏اوپر سے آیا اور اتنی رفتار سے آیا، نیچے چار پانچ لڑکے کھڑے تھے۔ اور اندازہ لگاؤ، پتھر نے جہاں سے گزرنا ہے ‏لڑکا اس سے دو تین وہ دوسری طرف ہے۔ لیکن میں نے بتایا نا، وہ پتھر ایسے اچھلتا ہوا آتا ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ ‏جانا کدھر کو ہے۔ تو وہ لڑکا تیزی سے بھاگا اور بھاگا اسی طرف جس طرف وہ پتھر آ رہا تھا۔ اس کے سر سے صرف دو تین فٹ پیچھے، سیدھا پتھر اس کے سر کی طرف گیا بھئی، اور درمیان میں، انسان حیران ‏ہوتا ہے، ایک چھوٹے سے درخت جو ہے اس کے، درخت کی شاخ تھی، شاخ نہیں، تنا۔ درخت، پورا درخت نہیں، چھوٹا ‏سا، یعنی کلائی یا کلائی سے ذرا سے موٹے، موٹا تنا، بس اتنا سا پودا تھا اور اوپر والی شاخیں وغیرہ بالکل ختم ہیں، ‏صرف وہ تنا کھڑا ہوا تھا۔ وہ پتھر آیا سیدھا اس تنے پہ لگ کر وہیں نیچے گر گیا۔ تو دیکھو، وہ ایک طرف تھا، خود ہی سیدھ میں آ گیا اس پتھر کی سیدھ میں اور وہ درمیان میں وہ تنا نہ ہوتا تو اس کا سر ‏اس پتھر نے ساتھ ہی سر لے جانا تھا یا وہ مر تو اس نے ضرور جانا تھا بھئی، سیدھا سر پہ لگتا۔ تو انسان، اس کو سمجھ ہی نہیں آتی میں کس طرف قدم اٹھاؤں تو بچ جاؤں گا اور کس طرف زد میں آؤں گا۔ تو یہ عجیب تشبیہ دی ہولناک چیز میں بھئی، انسان کا دل ہل جاتا ہے پتھر کو اوپر سے نیچے آتا اپنی طرف آتا دیکھ کر۔ کُمَیْتٍ یَّزِلُّ اللِّبْدُ عَنْ حَالِ مَتْنِہِ کَمَا زَلَّتِ الصَّفْوَاءُ بِالْمُتَنَزِّلِ کمیت، کمیت بھئی، سیاہی مائل سرخ رنگ۔ سیاہی مائل سرخ رنگ کا جو گھوڑا ہو اس کو کمیت کہتے ہیں۔ سیاہی مائل سرخ گھوڑا۔ دیکھا ہوا ہے کہ نہیں سیاہی مائل سرخ گھوڑا؟ یہ جو اس عام گھوڑوں کا رنگ دیکھتے ہیں، یہ ‏سرخ ہے سیاہی مائل ہے بھئی۔ سیاہی مائل سرخ، یہ جو عام گھوڑوں کا رنگ ہے، اور یہ گھوڑوں میں یہ رنگ پسندیدہ ‏ہے، تو وہ ذکر کیا۔ یزل، زل یزل کا معنی ہے، پھسلنا۔ پھسلنا۔ لبد۔ لبد بھئی، یاد رکھیے گھوڑے کے اوپر بیٹھنے کے لیے وہ زین رکھتے ہیں چمڑے کی بنی ہوئی، اور وہ بہت سخت ‏چمڑا ہوتا ہے۔ اگر اس کو ویسے ہی گھوڑے کی پیٹھ پر رکھ دیا جائے اور سوار، سوار ہو جائے تو تھوڑی دیر میں ‏گھوڑے کی پیٹھ زخمی ہو جائے گی بھاگتے ہوئے بھئی، وہ اتنا سخت چمڑا ہوتا ہے۔ تو اس کے نیچے بہت موٹا کپڑا ‏رکھا جاتا ہے، اونی کپڑا، بلکہ بعض اوقات کئی تہیں اس کی بنا کر اس کو رکھا جاتا ہے تاکہ گھوڑے کی کمر زخمی نہ ‏ہو اس کی وجہ سے، اس کو، وہ ہے بھئی، لبد۔ اردو میں اس کو نمدہ کہتے ہیں، نون، میم، دال اور گول ہ، نمدہ۔ نمدہ۔ عن حال متنہ، متن آپ جانتے ہیں کمر کو کہتے ہیں، کمر۔ حال، حال کمر کا وہ حصہ جس پر سوار بیٹھتا ہے۔ گھوڑے کی ‏کمر کا وہ حصہ جس پر سوار بیٹھتا ہے۔ کما زلت الصفواء، زل کا وہی معنی، پھسلنا۔ صفواء، صفواء کہتے ہیں ہموار اور چکنے پتھر کو۔ ہموار اور چکنا پتھر۔ متنزل، متنزل، نازل ہونے والا، آنے والا، اترنے والا۔ امرؤالقیس کہتا ہے، کُمَیْتٍ یَّزِلُّ اللِّبْدُ عَنْ حَالِ مَتْنِہِ۔ اچھا اور یہ آپ دیکھ رہے ہیں سارے مجرور ہیں، مکر، مفر، مقبل، مدبر ‏وغیرہ اور کمیت، یہ سارے صفت ہیں منجرد کی، وہ مجرور تھا، یہ بھی مجرور۔ اور ان سب میں نصب بھی پڑھ سکتے ہیں اور رفع بھی پڑھ سکتے ہیں۔ مکر، مفر، یا کمیت، یا مکرا، مفرا، یہ بھی پڑھ ‏سکتے ہیں بھئی۔ مجرور ہونے کی وجہ تو میں نے ذکر کر دی کہ یہ کیا ہے منجرد کی صفت، اور مرفوع پڑھیں تو خبر بنائیں گے مبتدائے ‏محذوف کے لیے، ھو مکر مفر، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور منصوب پڑھیں تو یہ منصوب ہو گا بناء بر مدح کے۔ منصوب ہو گا بناء بر مدح کے، اور اس کے لیے فعل محذوف ‏نکالیں گے، اعنی۔ اعنی مکرا، میری مراد یہ ہے کہ وہ مکر ہے، مفر ہے۔ تو اعنی فعل کے لیے مفعول بنے گا اور یہ ‏منصوب ہے بناء بر مدح کے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بناء بر مدح کے کبھی نصب پڑھتے ہیں۔ جیسے: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ، الرحمنِ، الرحیمِ مجرور پڑھتے ہیں۔ کیوں؟ ‏کیونکہ یہ لفظِ اللہ کی صفت۔ موصوف مجرور تو صفت بھی مجرور۔ اور آپ چاہیں، اور چاہیں تو اس کو بناء بر مدح کے مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں اور منصوب بھی پڑھ سکتے ہیں۔ بِسْمِ اللَّهِ ‏الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ، مرفوع پڑھ دیں۔ یا منصوب پڑھ دیں، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنَ الرَّحِيمَ۔ تو یہ منصوب اور مرفوع، یہ بناء بر مدح کے پڑھا جاتا ہے۔ دیکھو ماقبل سے الگ کر دیا۔ ماقبل میں تو مجرور ہے یا جو ‏بھی اعراب ہے، مابعد کا بھی وہی اعراب ہونا چاہیے تھا لیکن اس کو کاٹ کر الگ اعراب پڑھا، یہ کس لیے کیا جاتا ہے؟ ‏بناء بر، موقع کے مطابق۔ کبھی مدح کے لیے ہوتا ہے، کبھی مذمت کے لیے بھی ہوتا ہے۔ تو یہاں مدح کے لیے ہے ‏جیسے، تو ترکیب وہی ہے۔ اور اگر مرفوع پڑھا ہے تو مبتدا محذوف نکال لو، ھو الرحمنُ، ھو الرحیمُ۔ اور یا پھر منصوب پڑھا ہے تو اعنی فعل مقدر نکال لو، اعنی الرحمٰنَ الرحیمَ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بناء بر مدح ‏کے رفع بھی اس طرح پڑھ سکتے ہیں اور نصب بھی۔ اور یہ ہے مدح کی بناء پر، اور کبھی مذمت کی بناء پر ہوتا ہے جیسے، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، شیطانِ مجرور ہے ‏موصوف، تو الرجیمِ صفت کو بھی کیا کیا؟ مجرور، کیونکہ صفت کا وہی اعراب جو کس کا؟ موصوف کا۔ لیکن اس کو ‏بناء بر مذمت کے آپ رفع بھی پڑھ سکتے ہیں اور نصب بھی۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمُ، مرفوع پڑھا۔ ترکیب کیا ہوئی؟ ھو الرجیمُ مبتدا اور اس کے لیے یہ خبر ہے۔ یا اس کو ‏منصوب پڑھیں، اور پھر اعنی الرجیمَ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، تو میں نے بتلایا مکر، مفر اور کمیت وغیرہ میں یہ تینوں اعراب پڑھ سکتے ہیں۔ مرفوع بھی پڑھ سکتے ہیں، وہ ‏بھی بناء بر مدح کے ہو جائے گا، اس کے لیے مبتدا محذوف نکال لیں گے اور اعنی فعل بھی نکال سکتے ہیں۔ وہ ایسا سرخ رنگ، گہرے سرخ رنگ کا گھوڑا ہے کہ یزل اللبد، پھسل جاتا ہے نمدہ عن حال متنہ، اس کی کمر کے اس ‏حصے سے جس پر سوار بیٹھتا ہے، کہ نمدہ پھسل جاتا ہے اس کی کمر کے اس حصے سے جس پر سوار بیٹھتا ہے۔ بھئی گھوڑا بہت موٹا ہو، یہ بھی پسندیدہ نہیں کیونکہ اس کے بھاگنے میں مانع، رکاوٹ ہو گی۔ اور بالکل سوکھا ہو، ہڈیوں ‏کا ڈھانچہ ہو، وہ بھی پسندیدہ نہیں۔ بلکہ مضبوط بدن والا ہو اور کمر اس کی گوشت سے پُر ہو اور ٹھوس، ایسی ٹھوس، ‏گوشت کے ساتھ وہ جگہ پُر ہے اور بھری ہوئی ہے کہ اس پر کوئی چیز رکھی جائے تو وہ پھسل جائے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ ‏گھوڑے کے اندر، یعنی یوں کہیں، اس ٹھوس گوشت سے پُر، مضبوط کمر، یہ گھوڑے کے اندر پسندیدہ ہے بھئی، پسندیدہ ‏ہے۔ تو یہی بیان کر رہا ہے کہ اس کی کمر ایسی ہی ہے۔ کما زلت الصفواء، جیسے کہ، زل کا کیا معنی میں نے بتلایا؟ پھسلنا، اور آگے بالم تنزلی، با آ گئی متعدی بنانے کے لیے، ‏تو اب کیا معنی ہو گا؟ پھسلانا۔ ایک ہے خود پھسلنا، ایک ہے دوسرے کو پھسلانا۔ کما زلت الصفواء، جیسے کہ چکنا پتھر ‏پھسلا دیتا ہے بالم تنزلی، اپنے اوپر آنے والے کو۔ اپنے اوپر آنے، تو یا تو اس سے مراد کیا ہے؟ متنزل صفت ہے مطر کی، بالمطر المتنزل۔ جیسے چکنا پتھر اپنے اوپر آ ‏اترنے والی بارش کو پھسلا دیتا ہے، بارش اس پر پانی جمع نہیں ہوتا، پھسل کر ایک طرف چلا جاتا ہے، تو اسی طرح وہ ‏گھوڑا بھی اپنی کمر پر سے نمدے کو پھسلا دیتا ہے۔ یا متنزل کو صفت بنائیں انسان کی، بالانسان المتنزل، جیسے چکنا پتھر وہ پھسلا دیتا ہے اپنے اوپر آنے والے انسان کو، ‏انسان کیا ہے اس کے اوپر سے پھسل جاتا ہے۔ تو یہ گھوڑا بھی اسی طرح اپنے نمدے کو اپنی کمر سے پھسلا دیتا ہے۔ کُمَیْتٍ یَّزِلُّ اللِّبْدُ عَنْ حَالِ مَتْنِہِ، وہ سرخ رنگ کا ایسا گھوڑا ہے جو کہ پھسل جاتا ہے نمدہ اس کی کمر کے اس حصے سے ‏جس پر سوار بیٹھتا ہے، کَمَا زَلَّتِ الصَّفْوَاءُ بِالْمُتَنَزِّلِ، جیسے کہ چکنا پتھر جو ہے وہ پھسلا دیتا ہے اپنے اوپر آنے والے ‏انسان کو یا اپنے اوپر اترنے والی بارش کو۔ عَلَی الذَّبْلِ جَیَّاشٍ كَاَنَّ اهْتِزَامَهُ، چلیے، بس کریں بھئی۔ چلیے، بس بھئی۔ ھذا ہو المرام والله اعلم بالحقیقۃ الکلام۔ ‏ ‏