أَلاَ رُبَّ خَصْمٍ فِيكَ أَلْوٰى رَدَدْتُهُ، نَصِيحٍ عَلَى تَعْذَالِهِ غَيْرِ مُعْتَلِي.‏ وَلَيْلٍ كَمَوْجِ الْبَحْرِ أَرْخَى سُدُولَهُ، عَلَيَّ بِأَنْوَاعِ الْهُمُومِ لِيَبْتَلِي.‏ فَقُلْتُ لَهُ لَمَّا تَمَطَّى بِصُلْبِهِ، وَأَرْدَفَ أَعْجَازاً وَنَاءَ بِكَلْكَلِ.‏ امرؤ القيس گزشتہ اشعار میں اپنے معشوقہ کے حسن و جمال کو اور اس کی صفات کو ذکر کر رہا تھا۔ اور آخری اشعار ‏میں اس نے ذکر کیا کہ معشوقہ کا چہرہ اتنا منور اور اتنا روشن ہے کہ اس کی وجہ سے رات کی تاریکی ختم ہو جاتی ‏ہے، جس طرح کہ دنیا سے کٹے ہوئے راہب کے شام کے منارہ جو ہے، اس کے ذریعہ تاریکی ختم ہوتی ہے۔ اور اس کا حسن و جمال اتنا ہے کہ بت‌باشخص بھی اس کی طرف دیکھ کر دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ اور اپنے معشوقہ کے ‏عشق میں میرا یہ حال ہے کہ مجھ سے اس کا عشق جدا نہیں ہوا، اگرچہ لوگ بڑے ہوتے ہیں تو بچپنے کی گمراہیاں اور یہ ‏عشق و محبت کی بیماریاں ان سے دور ہو جاتی ہیں، لیکن یہ میرا عشق ایسا پختہ ہے کہ جوانی کے باوجود، بڑے ہونے ‏کے باوجود مجھ سے جدا نہیں ہوا۔ آگے دیکھیے بھئی:‏ أَلاَ رُبَّ خَصْمٍ فِيكَ أَلْوٰى رَدَدْتُهُ، نَصِيحٍ عَلَى تَعْذَالِهِ غَيْرِ مُعْتَلِي.‏ خصم، خصم کہتے ہیں فریق مخالف کو بھئی، فریق مخالف۔ اور عرب میں اس کا استعمال دونوں طرح ہے بھئی، بعض ‏عرب اسی کو مفرد، تثنیہ، جمع سب کے لیے استعمال کرتے ہیں، جمع نہیں لاتے۔ اسی خصم لفظ کو سب کے لیے فریق ‏مخالف کو کہتے ہیں فریق، یعنی مقابل، مقابل۔ اور بعض جو ہیں اس کے لیے جمع جو ہے خصام اور خصوم استعمال ‏کرتے ہیں بھئی۔ الوى، الوى شدید جھگڑالو بھئی، شدید جھگڑالو، شدید جھگڑنے والا۔ رددتہ، رد کا معنی ہے لوٹا دینا، رد کر دینا۔ نصيح، ‏نصيح نصیحت کرنے والا، خیرخواہی کرنے والا۔ تعذال، تعذال عزل يعزل سے ہے، عزل يعزل عزلا اس کا معنی ہے ‏ملامت کرنا، کسی کو ملامت کرنا۔ اور مصدر کیا آتا ہے؟ عزلا، عزلا۔ اسی میں کبھی بطور مبالغہ کے پھر تعذال وزن ‏استعمال کرتے ہیں، تو تعذال ہے مصدر لیکن مبالغے کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ مبالغے کے لیے۔ تو یہ مصدر میں ‏بھی جیسے آپ اسم فاعل وغیرہ میں آپ نے پڑھا ہے ضارب کا معنی پٹائی کرنے والا، تو ضراب کا معنی بہت پٹائی ‏کرنے والا۔ تو اسی طرح مصدر کے بھی بعض اوزان ہیں جو مبالغے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، تو یہ تعذال مبالغہ ہے ‏کس کے اندر؟ عزل کے اندر۔ تو عزل کا معنی ملامت کرنا اور اسی میں مبالغے کا کیا وزن ہے؟ تعذال، خوب ملامت ‏کرنا، خوب ملامت کرنا۔ غير معتلي، اعتلى يعتلي کے معنی ہیں کوتاہی کرنا۔ کونسا صیغہ ہے یہ؟ اعتلى باب کونسا ہے؟ باب افتعال میں صحیح سے ‏کوئی باب پڑھو۔ اجتنب، یہاں اجتنب پڑھ رہے ہو وہاں اعتلى پڑھ رہے ہو۔ غلطی کا بھی نہیں پتہ چل رہا آپ کو! ہاں، اعتلى ‏يعتلي۔ باب افتعال، افتعل حمزہ کے نیچے زیر پڑھو۔ اچھا جی! اور یہ کیا اسم مفعول بنا رہے ہو تا پہ زبر دیکھ رہے ہو؟ ‏ہاں، اعتلى يعتلي اعتلاء فهو معتل، اسم فاعل ہے۔ آپ اسم مفعول کہہ رہے تھے بھئی، اسم فاعل ہے۔ اچھا جی! دیکھیے۔ أَلاَ رُبَّ خَصْمٍ فِيكَ أَلْوٰى رَدَدْتُهُ الا حرف تنبیہ ہے بھئی، یہ شد غلط ڈلا ہوا ہے، اللا نہیں ہے الا ہے الا، حرف تنبیہ۔ اور میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ ‏اس کا اردو میں کوئی خاص مترادف نہیں ہے، دوسرے کو متوجہ کرنے کے لیے ہے، تو کبھی اس کا ترجمہ کر دیتے ہیں ‏موقع کے مطابق: خبردار! کبھی ترجمہ کر دیتے ہیں: سنو! کبھی ترجمہ کر دیتے ہیں: دیکھو! دوسرے کو متوجہ کرنا ہے ‏نا، اور کبھی کبھار ترجمہ کر دیتے ہیں: آگاہ رہو! جو جس قسم کا موقع محل کے مطابق آپ کو مناسب ترجمہ لگے آپ کر ‏سکتے ہیں۔ الا، سنو! رب خصم فيك کہ بہت سے فریق مخالف فيك تیرے بارے میں۔ الوى، یہ صفت ہے خصم کی اس لیے یہ بھی ‏مجرور، جو سخت جھگڑالو تھے۔ ایسے فریق تیرے بارے میں ایسے فریق جو سخت جھگڑالو تھے۔ رددتہ، میں نے ان کو ‏کیا کیا؟ رد کر دیا، واپس لوٹا دیا۔ یہ جواب ہے رب کا۔ نصيح، یہ بھی صفت ہے خصم کی اس لیے مجرور ہے۔ نصیحت ‏کرنے والے، بہت سے ایسے فریق مخالف جو شدید جھگڑالو تھے، نصیحت کرنے والے تھے۔ غير معتلي، یہ بھی صفت ہے اسی خصم کی اس لیے مجرور ہے۔ اور وہ کوتاہی کرنے والے نہیں تھے، اعتلاء کا معنی ‏کوتاہی کرنا، غير معتلي وہ کوتاہی کرنے والے نہیں تھے۔ کس بات میں؟ على تعذاله، یہ اس سے متعلق ہے لہٰذا اس کو ‏مؤخر کر دو: غير معتلي على تعذاله، وہ کوتاہی کرنے والے نہیں تھے على تعذاله اپنی ملامت کرنے میں، اپنی ملامت میں۔ ‏وہ اپنی ملامت میں کوتاہی کرنے والے نہیں تھے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ شدید جھگڑالو۔ غير معتلي على تعذاله، وہ کوتاہی کرنے والے نہیں تھے على تعذاله اپنی ملامت میں۔ وہ جو مجھے ملامت ‏کرتے تھے، اپنی ملامت میں انہوں نے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی یعنی پوری کوشش کی انہوں نے۔ تو امرؤ القيس کہتا ہے: أَلاَ رُبَّ خَصْمٍ فِيكَ أَلْوٰى رَدَدْتُهُ، نَصِيحٍ عَلَى تَعْذَالِهِ غَيْرِ مُعْتَلِي. أمرؤ القيس بتلانا چاہتا ہے کہ میری ‏تیرے ساتھ اتنی محبت ہے کہ ہزاروں رکاوٹیں آئیں، لوگوں نے مجھے سمجھایا، ملامت کی، خیرخواہی کی، ہر حربہ آزما ‏لیا لیکن میں نے تیری محبت میں ان سب کو رد کر دیا، کسی ایک کی بھی نہیں سنی اور تیری محبت آج بھی میرے دل میں ‏اسی طرح موجود ہے جیسے پہلے موجود تھی۔ لوگ ملامت وغیرہ سے اور نصیحت والوں کی باتوں میں آ کر محبت چھوڑ ‏دیتے ہیں لیکن میرے دل میں یہ محبت ایسی جمی ہوئی ہے کہ نصیحتوں کے باوجود، ملامتوں کے باوجود، برا بھلا کہنے ‏کے باوجود، ہر حربہ آزمانے کے باوجود میرے دل میں اسی طرح پختہ موجود ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ تو یوں کریں یہ رددتہ کو سب سے آخر میں لے جائیں۔ سنو! تیرے معاملے میں بہت سے ایسے مخالف الوى جو بہت زیادہ ‏جھگڑنے والے تھے، نصيح بہت زیادہ نصیحت کرنے والے تھے، خیرخواہی کرنے والے تھے، غير معتلي على تعذاله ‏کسی قسم کی کوتاہی کرنے والے نہیں تھے اپنی خوب ملامت کے اندر، یعنی اپنی ملامت میں کسی قسم کی انہوں نے ‏کوتاہی نہیں کی، خوب جس حد تک ہو سکتی تھی انہوں نے مجھے ملامت کیا۔ تو ایسے مخالف جو سخت جھگڑنے والے ‏تھے، خیرخواہی کرنے... بعض آتے تھے خیرخواہی کے کہ ہم تمہارے ساتھ خیرخواہی چاہتے ہیں، تمہیں اچھی بات ‏سمجھا رہے ہیں۔ تو تیرے معاملے میں بہت سے ایسے مخالف جو سخت جھگڑنے والے تھے، خیرخواہی کرنے والے ‏تھے اور کسی قسم کی کوتاہی کرنے والے نہیں تھے على تعذاله اپنی اپنی خوب ملامت میں، رددتہ میں نے ان سب کو کیا ‏کر دیا؟ رد کر دیا۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ أَلاَ رُبَّ خَصْمٍ فِيكَ أَلْوٰى رَدَدْتُهُ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ الوى بھی صفت ہے خصم کی، نصيح بھی صفت ہے، غير معتلي ‏بھی صفت۔ سنو کہ بہت سے ایسے فریق مخالف فيك تیرے بارے میں، یعنی جو تیرے بارے میں فریق مخالف تھے اور ‏سخت جھگڑالو تھے، نصیحت کرنے والے تھے، کوتاہی کرنے والے نہیں تھے اپنی کوتاہی میں، رددتہ میں نے ان سب کو ‏رد کر دیا۔ وَلَيْلٍ كَمَوْجِ الْبَحْرِ أَرْخَى سُدُولَهُ، عَلَيَّ بِأَنْوَاعِ الْهُمُومِ لِيَبْتَلِي.‏ تشبیب الشاعر مکمل ہوئی بھئی۔ تشبیب یاد ہے میں نے بتلایا تھا کسے کہتے ہیں؟ کہ عرب شعراء کا طریقہ تھا، وہ اپنے ‏قصیدے کی ابتدا میں اپنے جوانی کے ایام ذکر کرتے ہیں، اپنے عشق و محبت کو ذکر کرتے ہیں، اپنے معشوقہ کے حسن ‏و جمال کو ذکر کرتے ہیں، عورتوں کی باتیں ذکر کرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اپنے مقصد کی طرف عدول کرتے ہیں اور ‏اور جو باتیں کرنی ہوتی ہیں وہ اشعار میں بیان کرتے ہیں۔ لیکن شروع میں یہ چیزیں لاتے ہیں کیونکہ لوگ ان چیزوں میں ‏بڑی دلچسپی لیتے ہیں، تو جیسے ہی یہ باتیں شروع ہوئیں لڑکیوں کی باتیں، عورتوں کی باتیں، سارے کام چھوڑ کر ‏متوجہ ہو گئے کہ یہ تو بڑی کوئی خاص باتیں ہو رہی ہیں۔ اور پھر اس کے بعد جب وہ سب متوجہ ہو جاتے ہیں، پھر وہ ‏اپنے مقصد کی طرف عدول کرتے ہیں۔ تو اب آگے امرؤ القيس جو ہے اور چیزوں کا اب ذکر کرے گا، تشبیب ختم ہوئی، ‏آگے وہ اپنے صبر کو اور اپنی ہمت کو اور اپنی مضبوطی کو اور شدت کو بیان کرے گا۔ وَلَيْلٍ كَمَوْجِ الْبَحْرِ أَرْخَى سُدُولَهُ، عَلَيَّ بِأَنْوَاعِ الْهُمُومِ لِيَبْتَلِي.‏ وليل، یہ واو بمعنی رب کے ہے بھئی، أي ورب ليل۔ لیل رات کو کہتے ہیں۔ كموج البحر، موج آپ بھی جانتے ہیں اردو میں ‏موج کہتے ہیں، پانی کی لہر۔ بحر، سمندر۔ ارخى، ارخى يرخي کا معنی ہے لٹکا دینا، لٹکا دینا۔ سدوله، سدول جمع ہے سدل ‏یا سدل کی، اور یہ پردے کو کہتے ہیں۔ سدل بھی کہتے ہیں سین کے زیر کے ساتھ، اور سدل بھی سین کے ضمہ کے ساتھ ‏بھی۔ اور یہ عربی میں محاورہ ہے ارخى سدوله، جب رات کی تاریکی پوری طرح ہر طرف چھا جائے، تو عرب بولتے ہیں: ‏ارخى الليل سدوله، رات نے اپنے پردے لٹکا دیے۔ یعنی ہر طرف رات چھا گئی، ہر چیز پر تاریکی چھا گئی۔ ارخى الليل ‏سدوله، رات نے اپنے پردے لٹکا دیے۔ جیسے پردے کے پیچھے چیز چھپ جاتی ہے، اسی طرح رات کی تاریکی میں بھی ‏چیزیں چھپ جاتی ہیں، نظر نہیں آتیں، تو اس کے لیے عربی میں پھر محاورتاً یوں بولتے ہیں کہ ارخى الليل سدوله، رات ‏نے اپنے پردے لٹکا دیے۔ یعنی اس کی تاریکی نے شدت اختیار کر لی۔ علي بانواع، انواع: اقسام بھئی۔ ہموم جمع ہے ہم کی، غم کو کہتے ہیں غم کو، ہم۔ ليجتلي، ابتلى يبتلي کے معنی ہیں جانچنا، ‏پرکھنا، آزمائش کرنا۔ تو اصل میں یہ تھا ليَبتلِيَ، لام کے بعد ان مقدر ہے نا، ليَبتلِيَ، لیکن ضرورت شعری کی بناء پر یہ یا سے فتحہ کو گرا دیا ‏گیا بھئی، ليَبتلِي، تاکہ سب کے وزن برابر ہو جائیں، معتلی، لیبتلی، بکلکلی، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ اور یہ میں ذکر ‏کر چکا ہوں کہ اس قصیدے کے آخری ہر شعر کے ہر شعر کے آخر میں لام آرہا ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قصیدہِ ‏لامیہ کہتے ہیں بھئی۔ امرؤالقیس کہتا ہے "ورب لیلٍ" بہت سے ایسی راتیں "کموج البحر" جو کہ سمندر کی موج کی طرح تھیں، "ارخٰی سدولہٗ ‏علیّ" انہوں نے اپنے پردے لٹکا دیے علیّ میرے اوپر "بانواع الهموم" با بمعنی مع کے ہے یعنی "مع انواع الهموم" ساتھ ‏مختلف قسم کے غموں کے، انہوں نے مجھ پر اپنے پردے لٹکا دیے مختلف قسم کے غموں کے ساتھ "لیبتلی" تاکہ وہ کیا ‏کرے؟ میری آزمائش کرے۔ تو رات کو تشبیہ دی سمندر کی موج کے ساتھ بھئی ہولناک ہونے میں، رات کی جب تاریکی ہر شدید تاریک رات ہو تو ‏بڑی ہولناک ہوتی ہے بھئی۔ تو ہولناکی کے اندر اور چیزوں کو ڈھانپ لینے کے اندر بڑی موج بھی آتی ہے تو جو چیز ‏راستے میں آتی ہے اس کو ڈھانپ لیتی ہے بھئی۔ تو اس کے ساتھ تشبیہ دی، "ورب لیلٍ کموج البحر" اور بہت سی ایسی راتیں جو کہ سمندر کی موج کی طرح تھیں انہوں ‏نے اپنے پردے میرے اوپر لٹکا دیے مختلف قسم کے غموں کے ساتھ تاکہ وہ میری آزمائش کریں، تاکہ وہ میری آزمائش ‏کریں انہوں نے مجھے ڈھانپ لیا۔ راتوں سے غم وغیرہ ذکر کر رہا ہے، کہ انہوں نے مجھے ڈھانپ لیا کہ میری آزمائش کریں، ہر طرح کے غم میرے اوپر ‏لے آئے کہ اس آدمی کو آزمائیں کہ یہ کس قسم کا ہے؟ اس میں صبر اور برداشت اور ہمت اور مضبوطی ہے یا چیخ و ‏پکار شروع کر دیتا ہے اور رونا شروع کر دیتا ہے۔ تو بہت سی ایسی راتیں ہیں جنہوں نے مجھے ڈھانپ لیا تھا۔ ‏"فقلت لہٗ لما تمطٰی بصلبہٖ واَردف اعجازاً وناء بکلكلٍ"‏ ‏"فقلت لہٗ لما تمطٰی"، تمطٰی کا معنی ہے لمبا ہونا، لمبا ہونا "بصلبہٖ"، صلب کہتے ہیں کمر کو پشت کو، اور تمطٰی کے بعد با ‏آیا اور آپ نے پڑھا ہے کہ بعض اوقات فعلِ لازم کو متعدی بنانے کے لیے کیا لے کر آتے ہیں؟ با۔ تو تمطٰی کا معنی تھا ‏لمبا ہونا اور جب با آگئی اب معنی کیا کریں گے؟ لمبا کرنا، "تمطٰی بصلبہٖ" لمبی کی اپنی کمر۔ ‏"واَردف اعجازاً وناء بکلكلٍ"، اردف کا معنی ہے پیچھے لانا، پیچھے لانا۔ اعجاز جمع ہے عجوز کی عجوز، اور عجوز ‏کہتے ہیں پچھلے دھڑ کو، پچھلے دھڑ کو۔ جانور ہے دیکھو جانور کا جو پچھلا دھڑ ہے یہ پچھلا دھڑ عجوز کہلاتا ہے ‏اور اس کی جمع ہے اعجاز بھئی۔ جب کوئی حیوان لینے جاتا ہے تو پچھلے دھڑ کو دیکھتا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ موٹا ہے یا موٹا نہیں، پچھلا ‏آخری حصہ، حصے کو دیکھا جاتا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ صحت مند ہے یا کمزور دبلی پتلی ہے، مطلب گوشت ‏کے لیے اگر کوئی جانور لینے گئے ہیں گائے وغیرہ تو پچھلے حصے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کتنا گوشت ہے یعنی ‏یہ صحت مند ہے یا کمزور دبلی پتلی ہے۔ تو اس کو پچھلا حصہ پچھلا دھڑ جو ہے اس کو کہتے ہیں عجوز عجوز۔ اور جمع ہے اعجاز۔ ایک ہے اِعجاز اِفعال، اور ایک ہے اَعجاز اَفعال۔ یاد رکھو ہمزہ کے نیچے کسرہ ہو تو یہ مصدر ہے ‏اِفعال اِعجاز اِسلام، اور ہمزہ کے اوپر فتحہ ہو اَعجاز تو پھر یہ، یہ جمع ہے جمع ہے۔ ہمیشہ یاد رکھنا جہاں جمع کا مقام ہو ‏وہاں اَفعال پڑھنا اور جہاں مصدر کا مقام ہو وہاں اِفعال پڑھنا، تو یہاں اعجاز ہے۔ ناء ینئی نءاً کا معنی ہے دور ہونا، یہ یائی ہے بھئی یائی۔ ناء ینئی نءاً یاد سے یہ لکھ لیں بھئی یہ یائی ہے لغت تو آپ ‏اٹھائیں گے آپ پریشان ہوں گے، کیونکہ ایک اس میں واوی بھی آتا ہے ناء ینوء نوعاً اور اس کا معنی ہے سختی کرنا ‏شدت کرنا، تو یہاں یہ یائی ہے بھئی دور ہونا دور ہونا۔ "ناء بکلكلٍ"، کلکل اور کلکال یہ سینے کو کہتے ہیں سینے کو، ‏اور جمع اس کی کلاکل آتی ہے بھئی، کلکل سینہ۔ اور ناء کا معنی کیا؟ دور ہونا، اور اس کے ساتھ بھی با تعدیہ کے لیے آگئی تو کیا معنی ہوگا؟ دور کرنا، دور کرنا۔ "فقلت ‏لہٗ لما تمطٰی بصلبہٖ واَردف اعجازاً وناء بکلكلٍ"‏ تو میں نے اس رات سے کہا، کیا کہا؟ وہ اگلے شعر میں آرہا ہے۔ "فقلت لہٗ" تو میں نے اس رات سے کہا "لما تمطٰی ‏بصلبہٖ" جب اس نے لمبی کی اپنی کمر، جب اس رات نے اپنی کمر لمبی کی "واَردف اعجازاً" اور پیچھے لائی اعجازاً ‏اپنے پچھلے دھڑ کو، اپنے پچھلے دھڑ وہ پیچھے لے کر آئی "وناء بکلكلٍ" سینہ اس نے دور کر لیا۔ رات کو تشبیہ دے رہا ہے ایک حیوان کے ساتھ حیوان کے ساتھ، اور رات کے اول حصے کو، رات کے اول ابتدائی ‏حصے کو سینہ کہا اور آخری حصے کو عجوز کہا پچھلا دھڑ کہا۔ مغرب ہوئی رات شروع ہوگئی یہ ابتدائی حصے کو کیا ‏کہا؟ سینہ، اور رات کا جو آخر حصہ ہے فجر کے قریب کے اس کو کیا کہا؟ پچھلا دھڑ کہا، پچھلا دھڑ کہا۔ اور اس کو تشبیہ دی حیوان کے ساتھ، اور حیوان تو بھی آپ نے دیکھا ہے جب وہ انگڑائی وغیرہ لیتا ہے تو کیا کرتا ہے؟ ‏اپنے بدن کو اپنی کمر کو لمبا کرتا ہے۔ حیوان جب انگڑائی لیتا ہے کیا کرتا ہے؟ اپنی کمر کو لمبا دیکھا ہے کبھی غور کیا ‏ہے بھئی؟ وہ کمر لمبی کرتا ہے یا اسی طرح جب حیوان اٹھنے لگا مثلاً بیٹھا ہوا تھا اٹھنے لگا تو کچھ کمر لمبی ہو جائے ‏گی یا نہیں؟ مثلاً پہلے اگلے پاؤں اٹھاتا ہے پھر پچھلے اٹھاتا ہے تو کمر کیا ہوگی؟ کچھ لمبی ہو جائے گی۔ تو امرؤالقیس تشبیہ دے رہا ہے رات کو حیوان کے ساتھ، ابتدائی حصے کو اس کے سینے کے ساتھ اور آخری حصے کو ‏حیوان کے پچھلے دھڑ کے ساتھ، اور کہا رات نے اپنی کمر لمبی کی۔ "تمطٰی بصلبہٖ" کیا کیا؟ اپنی کمر لمبی کی "واَردف ‏اعجازاً" اور پیچھے لائی اپنے پچھلے دھڑ کو، پہلا رات کا پہلا حصہ گزر گیا "وناء بکلكلٍ" سینہ اس نے دور کر لیا۔ سینہ کیا ہوا اس کا؟ یہ ایک تکلیف والی رات تکلیف والی راتوں کو بیان کر رہا ہے۔ آپ بھی جانتے ہیں اگر انسان خوش ہو ‏تو وقت کے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا، اور جب کوئی تکلیف ہو پریشانی ہو غم ہو یا آپ نے خود غور کیا ہوگا جب آپ ‏بیمار ہوتے ہیں رات گزرتی ہی نہیں ہے یوں لگتا ہے اتنی لمبی رات ہوگئی گزر ہی نہیں رہی، کیونکہ انسان بیماری میں ‏ہوتا ہے تکلیف کے اندر ہوتا ہے، تو تکلیف اور غم میں وقت گزرتا ہی نہیں ہے، تو یوں لگتا ہے جیسے جیسے رات کیا ‏ہوگئی ہے؟ خوب طویل ہوگئی ہے۔ تو کس قسم کی راتوں کا ذکر کر رہا ہے؟ جس میں غم آئے تکلیف آئے پریشانیاں آئیں، ‏تو وہ راتیں لمبی لگیں تو اس کو تشبیہ دی ہے حیوان کے ساتھ جس نے اپنی کمر کو کیا کر لیا ہو؟ لمبا کر لیا ہو بھئی۔ اب ‏معنی سمجھ میں آیا؟ تشبیہ سمجھ میں آئی؟ ‏"فقلت لہٗ" تو میں نے اس رات سے کہا "لما تمطٰی بصلبہٖ" جب اس نے اپنی کمر لمبی کی "واَردف اعجازاً وناء بکلكلٍ" اور ‏وہ پیچھے لائی اپنے پچھلے دھڑ کو، دیکھو رات کا نصف آگیا ہے "وناء بکلكلٍ" سینہ کیا ہوگیا؟ دور ہوگیا، پہلا حصہ کیا ‏ہوگیا؟ گزر گیا دور ہوگیا کہ نہیں؟ پہلا حصہ "ناء بکلكلٍ" پہلا سینہ والا سینہ کیا ہوگیا؟ سینہ اس نے دور کر لیا، اور ‏‏"اردف اعجازاً" اور اب پیچھے والا حصہ آرہا ہے اس کو پیچھے لے کر آئی، معنی سمجھ میں آیا؟ "واَردف اعجازاً" اور ‏وہ پچھلے دھڑ اپنے پیچھے لے کر آئی "وناء بکلكلٍ" اور دور کر لیا سینے کو یعنی وہ گزر گیا اب کون سا حصہ ہے؟ ‏آخری حصہ۔ تو میں نے رات سے کہا "لما تمطٰی بصلبہٖ" جب اس نے اپنی کمر لمبی کی، یعنی رات کا اول حصہ دور ہوگیا اول حصہ ‏گزرے ہوئے دیر ہوگئی ہے، اور دوسرا حصہ آ ہی نہیں رہا اس نے کیا کر لیا ہے؟ اپنی کمر لمبی کر لی ہے، اور پیچھے ‏اب کس کو لا رہی ہے؟ اپنے پچھلے دھڑ کو، کمر لمبی کر لی ہے غم والی رات ہے وقت گزر ہی نہیں رہا، تکلیف اور ‏پریشانی اور غم کا عالم ہے۔ تو میں نے اس رات سے کہا:‏ ‏"الا ایہا اللیل الطویل الا انجلی، بصبحٍ وما الاصباح منک بامثلٍ"‏ انجلٰی ینجلٰی کے معنی ہے روشن ہونا، روشن ہونا۔ صبح اور اصباح کا ایک معنی ہے، صبح اور اصباح کا ایک معنی ہے ‏اصباح کا بھی وہی معنی ہے صبح۔ امثل، امثل یاد رکھیے امثل کا معنی ہے افضل، افضل۔ افضل، اور اس کی جمع ہے اماثل۔ یہ عام کتابوں میں آپ دیکھیں گے جہاں بڑے علماء کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی صفات ‏میں کہہ دیتے ہیں علماءِ اماثل، کیا معنی؟ علماءِ افاضل یعنی جو بڑے علماء ہیں بھئی، تو امثل بمعنی افضل کے۔ تو میں نے اس رات سے کہا "الا ایہا اللیل الطویل" اے طویل رات "الا انجلی" یہ الا دوسرا جو آیا یہ پہلے الا کی تاکید ہے، ‏آپ جانتے ہیں کہ ایک ہی لفظ دوسری دفعہ لائیں تو وہ پہلے کے لیے تاکید۔ سنو اے طویل رات "الا انجلی" کہ تو روشن ہو ‏جا "بصبحٍ" کس کے ساتھ؟ صبح، تو صبح ہو کر روشن ہو جا "وما الاصباح منک بامثلٍ" اور صبح بھی منک تیرے ‏مقابلے میں "بامثلٍ" کوئی افضل نہیں ہے۔ صبح بھی تیرے مقابلے میں کوئی افضل نہیں ہے۔ بھئی رات ہے گزر ہی نہیں رہی، تکلیف اور غم کا عالم ہے تو رات کو ‏خطاب کر یعنی امرؤالقیس غم اور پریشانی کی حالت میں تکلیف کی حالت میں یہ ذہن میں ہی نہیں رہا کہ رات سے تو ‏کوئی بات کی ہی نہیں جاتی، رات تو کوئی جان رکھنے والی چیز نہیں ہے، تو اس مدہوشی کے عالم میں تکلیف اور غم ‏کے عالم میں وہ رات ہی کو خطاب کر کے کہہ رہا ہے کہ اے لمبی رات! تو روشن ہو جا، صبح ہو کر روشن ہو جا۔ امرؤالقیس رات کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے رات! تو روشن تو وہ تو گزر ہی نہیں رہی اتنی لمبی رات ہے، تو ‏روشن ہو کر کس میں بدل جا؟ صبح میں بدل جا، پھر ایک دم متوجہ ہو کر کہتا ہے کہ صبح ہوگی ہو بھی گئی تو کیا فائدہ؟ ‏صبح بھی تجھ سے کوئی افضل نہیں، میرے عشق و محبت کا جو غم ہے وہ کوئی صبح ہونے سے ختم نہیں ہو جائے گا ‏بلکہ وہ تو اسی طرح دن میں بلکہ اور مزید بڑھ جائے گا، تو صبح بھی تجھ سے کوئی افضل نہیں ہے، میرے غم یعنی اس ‏میں ختم نہیں ہوگا۔ تو اے طویل رات! تو روشن ہو جا صبح ہو کر "وما الاصباح منک بامثلٍ" اور صبح بھی منک تیرے مقابلے میں، یہ من ‏کس لیے ہے؟ مقابلے کے لیے ہے، اور صبح بھی تیرے مقابلے میں امثل افضل نہیں ہے بھئی، چلیے بس بھئی ھذا ھو ‏المرام واللہ اعلم بالحقیقۃ الکلام۔ ‏ ‏