آگے سبق دیکھیے بھئی، وتضحى فتيت المسك فوق فراشها، نوم الضحى لم تنتطق عن تفضلي وتعتو برخص غير ششن كأنه، أساريع ظبي أو مساويك إسحلي تضيء الظلام بالعشاء كأنها، منارة ممسى راهب متبتل مقدم ہے اور تضحى مؤخر، تو یہ ترتیب درست کر لیں بھئی۔ تضحى پہلے آئے گا اور وتعتو برخص غير ششن یہ اس کے ‏بعد آئے گا شعر بھئی۔ یہ کتابت کی غلطی ہے یہاں اس کتاب کے اندر جس نسخے میں وتعتو والا شعر پہلے ہے۔ وتضحى فتيت المسك فوق فراشها، نوم الضحى لم تنتطق عن تفضلي امرؤ القيس اپنی معشوقہ کے حسن و جمال اور اس کی صفات کو ذکر کر رہا ہے بھئی۔ اور گزشتہ اشعار میں آیا تھا کہ وہ ‏اپنی ہرن جیسی گردن کو ظاہر کرتی ہے، جب وہ اس کو سیدھا کرے تو بڑی معتدل ہوتی ہے، نہ زیادہ طویل نہ چھوٹی۔ ‏اور وہ زیور سے خالی نہیں ہے اور وہ ظاہر کرتی ہے اپنے ایسے پورے بال جو کمر کو زینت بخشتے ہیں، گہرے سیاہ ‏ہیں اور گھنے ہیں جیسے کہ خوشوں والی کھجور کے خوشے ہوتے ہیں۔ اور اس کے بالوں کے جوڑے جو ہیں وہ اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں، اور وہ جوڑے چھپ جاتے ہیں بٹے ہوئے اور کھلے ‏ہوئے بالوں کے اندر۔ وكشح لطيف اور وہ ظاہر کرتی ہے پتلی کمر کو یا پہلو کہہ لیں جو بھی آپ ترجمہ مناسب سمجھیں، ‏کشح ویسے پہلو کو کہتے ہیں، اور خوبصورت پہلو یا خوبصورت کمر جیسے کہ وہ چمڑے کی بٹی ہوئی لگام ہوتی ہے ‏باریک اس کی طرح، اور ایسی پنڈلی ظاہر کرتی ہے جیسے کہ سیراب کیے ہوئے نرکل کے پورے ہوتے ہیں المضلل جن ‏کو سیدھا اور ہموار کیا گیا ہو۔ آگے دیکھیے بھئی، وتضحى فتيت المسك فوق فراشها، نوم الضحى لم تنتطق عن تفضلي۔ أضحى يضحي اس کا معنی ہے ‏چاشت کا وقت کرنا، چاشت کے وقت میں داخل ہونا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ بھئی آج کل ہم، ہمارے ہاں تو تین کھانے ‏رائج ہیں: ایک ناشتہ، ایک دوپہر کا کھانا، ایک رات کا کھانا۔ قدیم طریقہ یہ نہیں تھا بھئی۔ قدیم لوگ جو تھے وہ صبح ‏صبح کام کے لیے کھیتوں کی طرف یا جنگل کی طرف لکڑیاں اکٹھی کرنے یا جانور چرانے جو بھی کام ہوتا اس کے ‏لیے صبح صبح نکل جاتے اندھیرے میں۔ اور پھر یہ چاشت کے وقت یعنی سورج جب کچھ بلند ہوتا تھا، یوں آج کل کے حساب سے یوں سمجھیں اٹھ بجے اس کے ‏لگ بھگ ان کی واپسی ہوتی تھی یا نو بجے کے لگ بھگ، اور اس وقت دن کا کھانا تیار ہوتا تھا بھئی۔ تو یہ وہ چاشت کا ‏کھانا، یہی ناشتہ یا دوپہر کا کھانا نہیں بلکہ کیا ہوتا تھا یہ؟ چاشت کا کھانا، اور اس کے بعد پھر مغرب سے قبل ہی، مغرب ‏سے قبل ہی رات کا کھانا کھا لیا جاتا تھا۔ جی، تو یہ تضحى یہ وہ چاشت کا وقت بھئی، أضحى يضحي چاشت کے وقت میں ‏داخل ہونا۔ فتيت المسك، فتيت کہتے ہیں بھئی ٹکڑے اور ذرات۔ کسی چیز کو چورا چورا کر دیا جائے، چھوٹے ٹکڑے کر دیے جائیں ‏وہ فتيت کہلاتے ہیں فتيت۔ مسك، مسك بھئی وہ قیمتی خوشبو جس کو آپ مشک کہتے ہیں، انتہائی قیمتی خوشبو وہ ہے۔ ‏فوق فراشها، فراش بچھونے اور بستر کو کہتے ہیں۔ نوم الضحى، نوم مبالغہ ہے نائم کے اندر بھئی، سونے والا، تو یہ اسی میں مبالغہ ہے نوم، خوب سونے والا۔ تو یہ فعول ‏بمعنی فاعل کے ہے، اور جب فعول بمعنی فاعل کے ہو تو مذکر اور مونث دونوں کے لیے یکساں رہتا ہے، تو یہاں نوم ‏الضحى معشوقہ کی صفت بیان ہو رہی ہے وہ مونث ہے، لیکن نومة تاء تانیث نہیں لائی گئی کیونکہ یہ دونوں کے لیے ‏اسی طرح استعمال ہوتا ہے، فعول جب کس معنی میں ہو؟ فاعل کے معنی میں۔ اچھا، آگے پھر الضحى چاشت کا وقت۔ لم تنتطق، انتطق ينتطق کے معنی ہیں کمر بند باندھنا۔ یہ خادماں اور باندیاں جب کام ‏وغیرہ کام کاج کرتی تھیں تو کام کاج میں آسانی کے لیے کمر پر ایک کپڑا وغیرہ یا کوئی چیز باندھ لیں۔ تاکہ کپڑوں سے ‏کام میں حرج نہ ہو، کام آسانی سے ہو سکے، وہ ہے انتطاق بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کمر بند باندھنا۔ تفضل، تفضل یہ پہلے بھی لفظ گزر چکا ہے، کیا معنی؟ جی، کیا لفظ گزرا تھا پہلے؟ جی، شعر کس طرح تھا وہ شعر؟ ‏ہاں، دیکھیے اب آپ سبق پڑھانے بیٹھے ہوں تفضل کا لفظ آئے، اور آپ طلباء کو شعر بھی سنا دیں کہ دیکھو امرؤ القيس ‏نے بھی یہ لفظ استعمال کیا ہے: فجئت وقد نضت لنوم ثيابها لدى الستر إلا لبسة المتفضل، یہ متفضل اسی سے ہے بھئی۔ ‏تفضل کا کیا معنی ہے؟ جی، وہ کام کاج کے لیے ہلکے کپڑے پہننا بھئی، فضلہ وہ جو لباس ہے ہلکا پھلکا وہ ہے فضلہ، ‏اور وہ پہننے والا متفضل، اور وہ پہننا تفضل۔ وتضحى فتيت المسك فوق فراشها، اور وہ میری معشوقہ جو ہے وہ چاشت کا وقت کرتی ہے اس حال میں، آگے فتيت المسك ‏کا پورا جملہ یہ حال بن رہا ہے۔ فتيت المسك فوق فراشها یہ پورا جملہ حال ہے، وہ چاشت کے وقت میں داخل ہوتی ہے اس ‏حال میں کہ فتيت المسك فوق فراشها، کہ مشک خوشبو کے ذرات جو ہیں وہ اس کے بچھونے پر موجود ہوں، اس کے ‏بچھونے پر ہوتے ہیں۔ نوم الضحى، خوب سونے والی ہے چاشت کے وقت تک۔ لم تنتطق عن تفضلي، یہ عن بمعنی بعد کے ہے، عربی میں کبھی ‏کبھار عن کس معنی میں آتا ہے؟ بعد کے معنی میں، تو یہاں بعد کے معنی۔ أي لم تنتطق بعد تفضلي، اور اس نے ہلکے ‏پھلکے کپڑے پہننے کے بعد کمر بند نہیں باندھا۔ لم تنتطق اس نے کمر بند نہیں باندھا، بعد تفضلي کس کے بعد؟ ہلکے ‏پھلکے کپڑے، بتلانا یہ چاہتا ہے کہ میری معشوقہ بڑی ناز و نعم میں اس کی پرورش ہوئی ہے، اس کے پاس ہر طرح کی ‏آسائشیں ان کے پاس ہیں، اور کام کرنے والی خادماں موجود ہیں، اسے کام کاج کی کوئی حاجت نہیں، صبح دیر تک آرام ‏سے سوئی رہتی ہے، کام کاج کے لیے اٹھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی اسے، اور نیز پھر جب وہ ہلکے پھلکے کپڑے ‏پہن بھی لے تو بھی کمر بند، کام کاج چونکہ اس کو کرنا نہیں پڑتا اس لیے اسے کمر بند باندھنے کی ضرورت بھی نہیں ‏پڑتی بھئی، یعنی خوب عیش و عشرت والی، سکون اور اطمینان اور خادماں والی، مال و دولت والی زندگی اس کی ہے۔ وتضحى فتيت المسك فوق فراشها نوم الضحى لم تنتطق عن تفضلي، اور وہ چاشت کے وقت میں داخل ہوتی ہے اس حال میں ‏کہ مشک خوشبو کے ذرات اس کے بستر پر ہوتے ہیں، نوم الضحى، وہ چاشت کے وقت تک خوب سونے والی ہے، لم ‏تنتطق عن تفضلي، اور اس نے ہلکے پھلکے کپڑے پہننے کے بعد کمر بند نہیں باندھا۔ تو بعضوں نے یہ معنی کیا کہ مشک خوشبو کے ذرات اس کے بچھونے پر ہوتے ہیں، یعنی وہ بڑی عیش و نعمتوں میں ‏اور خوشبوؤں میں رہنے والی ہے اور ان کے ہاں خوب مال کی ریل پیل ہے۔ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ معنی یہ ‏نہیں ہے کہ اس کے بچھونے پر خوشبو کے ذرات ہوتے ہیں، بلکہ ویسے بتلانا مقصد یہ ہے کہ وہ بڑی صاف ستھری ‏اور پاکیزہ ہے، اور اس کے بدن کی مہک اور خوشبو اس کے بچھونے سے بھی آتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے یہ بڑی ‏صاف ستھری اور پاکیزہ رہنے والی ہے۔ تو یہ اس کے اپنے بدن کی خوشبو ہے جو اس کے بچھونے سے آتی ہے، اس ‏کو شاعر ذکر کر رہا ہے بھئی، خوشبو کے ذرات سے اور کوئی علیحدہ خوشبو مراد نہیں ہے بھئی۔ وتعتو برخص غير ششن كأنه أساريع ظبي أو مساويك إسحلي تعتو، عتا يعتو کے معنی ہیں ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو پکڑنا۔ رخص، رخص کہتے ہیں نرم و نازک کو بھئی، رخص۔ ‏اور موصوف محذوف ہے، أي ببنان رخص، بنان کسے کہتے ہیں؟ پورے۔ بنان رخص، نرم و نازک پورے۔ یعنی انگلیاں ‏مراد ہیں۔ غير ششن، ششن کہتے ہیں کھردرا اور موٹا بھئی، کھردرا اور موٹا۔ أساريع ظبي، أساريع جمع ہے أسروع کی، أسروع کی۔ اور أسروع کہتے ہیں بھئی، کینچوا لکھا ہے اس کا معنی، یہ کوئی ‏کیڑا ہے جو گیلی جگہ پر یا گیلی ریت میں ملتا ہے بھئی، گیلی ریت میں ہوتا ہے، اور سفید رنگ کا، سفید رنگ کا یا ‏انگلی کے مثل، اور سر اس کا سرخ ہوتا ہے، اور بڑا ہی نرم و نازک ہوتا ہے، عرب عورتوں کی انگلیوں کو نرم و نازک ‏اور ہموار ہونے میں اس کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں بھئی، تو یہ بڑا ہی نرم و نازک اور ہموار کیڑا ہے، سرخ رنگ کا اس ‏کا سر ہوتا ہے بھئی۔ أساريع ظبي، اور ظبي، ظبي کسے کہتے ہیں؟ ہاں، ہرن کو کہتے ہیں، لیکن یاد رکھیے یہاں یہ جگہ کا نام ہے بھئی، جگہ ‏کا نام ہے۔ مقام ظبی کے أساريع جو ہیں۔ أو مساويك إسحلي، مساويك جمع ہے مسواک کی، إسحل یہ کوئی درخت ہے خاص ‏قسم کا جس کی مسواکیں بڑی سیدھی ہموار ہوتی ہیں بھئی، بڑی سیدھی اور ہموار، تو اس کا نام ہے إسحل۔ وتعتو برخص غير ششن كأنه أساريع ظبي أو مساويك إسحلي، اور وہ میری معشوقہ جو ہے تعتو برخص وہ چیزوں کو ‏پکڑتی ہے برخص، ببنان رخص، کس کے ساتھ؟ نرم و نازک پوروں کے ساتھ، ان نرم و نازک انگلیوں کے ساتھ، غير ‏ششن جو موٹی اور کھردری نہیں ہیں۔ كأنه أساريع ظبي، گویا کہ وہ تو مقام ظبی کے کینچوے ہیں بھئی، أساريع کینچوے معنی لکھا ہے شارحین نے، بہرحال یہ ‏کوئی کیڑا ہے میں نے بتلا دیا آپ کو بھئی۔ جیسے مقام ظبی کے کینچوے ہوتے ہیں، اس طرح کی انگلیوں کے ساتھ وہ ‏چیزوں کو پکڑتی ہے، أو مساويك إسحلي، اور گویا کہ وہ اسحل درخت کی مسواکیں ہیں، یعنی اس کی انگلیاں اسحل درخت ‏کی مسواکوں کی طرح بالکل سیدھی اور ہموار ہیں بھئی، معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ وتعتو برخص غير ششن كأنه أساريع ظبي أو مساويك إسحلي، اور وہ چیزوں کو پکڑتی ہے اپنے نرم و نازک پوروں کے ‏ساتھ جو کہ موٹے اور کھردے نہیں ہیں، كأنه أساريع، گویا کہ وہ مقام ظبی کے کینچوے ہیں أو مساويك إسحلي يا اسحل ‏درخت کی مسواکیں ہیں۔ تضيء الظلام بالعشاء كأنها منارة ممسى راهب متبتل أضاء يضيء اس کا معنی ہے روشن ہونا بھی اور روشن کرنا بھی، أضاء يضيء، اور آگے الظلام، ظلام کہتے ہیں ‏اندھیرے کو بھئی، اور یہ مفعول آ رہا ہے، معلوم ہوا یہاں تضيء کس معنی میں ہے؟ متعدی ہے، روشن کرنا، روشن ‏کرنا۔ عشاء، عشاء سے عشاء کا وقت مراد ہے، كأنها منارة ممسى، منارہ: اونچی جگہ جہاں پر چراغ جلاتے ہیں، روشن کرتے ‏ہیں بھئی، اونچی جگہ۔ ممسى، ممسى، أمسى يمسي إمساء کا معنی ہے؟ جی، شام کے وقت میں داخل ہونا، یا شام کا ہونا، اور اسی سے اسم مفعول ‏کیا آئے گا؟ ممسى، ممسى۔ گردان یاد ہے بھئی؟ جی، اسی سے أمسى يمسي إمساء فهو ممس وأمسى يمسى إمساء فذاك ممسى، تو ممسى اسم مفعول آئے ‏گا، اور ظرف بھی ممسى آئے گا، ظرف آپ جانتے ہیں مزید فیہ میں اسی وزن پر آتا ہے جس پر اسم مفعول آتا ہے، اور ‏اسی وزن پر بعض اوقات ان کے مصادر بھی آتے ہیں، جس کو کیا کہتے ہیں؟ مصدر میمی۔ اچھا، تو بہرحال یہ ممسیٰ جو ہے، وہ شام کا وقت مراد ہے بھئی، شام کے وقت کو بھی ممسیٰ کہتے ہیں بھئی۔ راھب۔ یاد رکھیے دینِ اسلام سے قبل یہ دینِ عیسوی جو تھا یہ حق تھا بھئی، حق تھا۔ حضور علیہ السلام سے قبل آخری پیغمبر ‏جو آئے تھے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے، ان سے قبل یہ دینِ عیسوی حق تھا۔ اور اس دینِ عیسوی میں بعض لوگ جو ‏اللہ کی عبادت کا زیادہ غلبہ ان پر شوق غالب ہوتا، وہ لوگوں سے بالکل الگ تھلگ ہو جاتے، جنگلوں میں جا کر رہتے، ‏بالکل لوگوں سے کٹ جاتے اور وہاں پر دن رات وہ اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے تھے، ان کو راھب کہتے تھے۔ کیا ‏کہتے تھے؟ راھب کہتے تھے بھئی۔ اچھا، تو یہ راھب وہ جو شخص اللہ کی عبادت کے لیے لوگوں سے الگ رہنے والا۔ متبتل، تبتل کا معنی ہے کٹنا، کٹنا، جدا ‏ہونا۔ راھب متبتل، وہ راھب جو لوگوں سے کٹا ہوا ہے، بالکل علیحدہ ہے، جنگل میں رہ رہا ہے اور دن رات کیا کر رہا ‏ہے؟ اللہ کی عبادت کر رہا ہے۔ تضیء الظلام بالعشاء کأنھا منارۃ ممسی راھب متبتل۔ تضیء الظلام، میری معشوقہ جو ہے، وہ اندھیرے کو روشن کر دیتی ہے، بالعشاء عشاء کے وقت۔ یعنی میری معشوقہ کا ‏چہرہ اتنا منور ہے، جس طرح چراغ چمکتا ہے، تو رات کے اندھیرے میں بھی جب اس کا چہرہ روشن منور چہرہ ہو، تو ‏وہ اندھیرے کو کیا کر دیتا ہے؟ ختم، روشن ختم کر دیتا ہے۔ تضیء الظلام بالعشاء، شام کے وہ اندھیرے کو عشاء کے ‏وقت وہ، تضیء الظلام، وہ اندھیرے کو روشن کر دیتی ہے، بالعشاء عشاء کے وقت میں، کأنھا منارۃ ممسی راھب متبتل۔ ترجمہ آخر سے ہو گا۔ گویا کہ وہ دنیا سے کٹے ہوئے ایک راھب کے شام کے وقت کا منارہ ہو۔ ترجمے پہ نظر ہے ‏بھئی؟ دوسرا مصرع آخر سے ترجمہ ہو رہا ہے۔ گویا کہ وہ دنیا سے کٹے ہوئے ایک راھب کے شام کے وقت کا منارہ ‏ہو۔ یہ راھب کیا کرتے تھے؟ یہ چونکہ دنیا لوگوں سے کٹ کر جنگلوں میں رہ رہے ہیں، اور قدیم زمانے میں تو سفر بڑا ‏دشوار تھا، آج کل تو اللہ نے آسانیاں فرما دیں بھئی۔ آپ کو کئی رات کو گاڑی میں بیٹھتے ہیں، صبح مثلاً آپ اسلام آباد ‏پہنچیں یا پشاور پہنچ گئے ہیں یا کراچی کے قریب پہنچ چکے ہیں، اور حالانکہ یہ سفر پہلے کئی کئی دنوں میں طے ہوتا ‏تھا۔ اور کوئی سفر کر نہیں سکتا تھا، انتظار کرنا پڑتا تھا، کافی سارے لوگ اکٹھے ہو جاتے، پھر قافلے کی شکل میں ‏نکلتے تھے کہ کیونکہ راستے میں ڈاکوؤں کا خطرہ ہوتا تھا۔ تو اب تو آسانیاں اللہ نے فرما دیں، تو یہ راھب جنگلوں میں رہتے تھے، اور وہاں کسی کا آنا جانا نہیں ہوتا تھا، کوئی ‏مسافر بیچارہ کبھی بھٹکتا ہوا راستہ اس طرف آ جاتا، تو یہ اس کے لیے چونکہ اللہ کی عبادت کے لیے الگ ہوئے ہیں، ‏لوگوں کی بھی خدمت کو اپنا فریضہ سمجھتے، لوگوں کی مدد کرتے تھے، تو یہ شام کے وقت کیا کرتے؟ اپنے جھونپڑی ‏کے پاس کسی اونچی جگہ پر چراغ روشن کر دیتے تھے، تاکہ اندھیرے میں کسی مسافر کو نظر آ جائے، اس کو پتہ چل ‏جائے کہ یہاں مجھے پانی بھی مل جائے گا اور یہاں میں رات بھی گزار سکوں گا۔ تو اور پھر اونچی جگہ پر چراغ لگاتے تھے، تاکہ دور تک نظر آئے، اور پھر ذرا اس کو خوب روشن کرتے تھے، تاکہ ‏اچھی طرح دور سے دکھائی دے۔ اسی لیے امرؤ القیس اپنی معشوقہ کو عام چراغ کے ساتھ تشبیہ نہیں دے رہا، بلکہ اس ‏راھب کے چراغ کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہے، جس کو اس نے خوب زیادہ روشن کیا ہوتا ہے۔ تو وہ تضیء الظلام بالعشاء، وہ روشن کر دیتی ہے تاریکی کو عشاء کے وقت، گویا کہ وہ دنیا سے کٹے ہوئے راھب کے ‏شام کے وقت کا منارہ ہو، جس پر کیا رکھا ہو؟ چراغ رکھا ہو۔ إلی مثلھا یرنو الحلیم صبابۃ إذا ما اسبکرت بین درع ومجول۔ رنا یرنو کے معنی ہیں مسلسل دیکھنا۔ الحلیم، حلیم کہتے ہیں بردبار شخص بھئی، بردبار شخص۔ یعنی صبر کرنے والا، ‏برداشت کرنے والا۔ صبابۃ، صبابۃ کہتے ہیں عشق و محبت کو بھئی، عشق و محبت کو۔ إذا ما اسبکرت، اس اسبکرت کا ‏معنی ہے لڑکی کا پورے قد والا ہو جانا۔ اس اسبکرت کا کیا معنی ہے؟ لڑکی کا پورے قد والا ہو جانا۔ بین درع ومجول، درع یہ بھی قمیص کو کہتے ہیں، مجول یہ بھی قمیص کو کہتے ہیں۔ البتہ درع وہ قمیص جو عورتیں ‏پہنتی ہیں، اور مجول وہ قمیص جو کم سن لڑکیاں یا چھوٹی بچیاں پہنتی ہیں۔ دونوں میں کوئی فرق ہو گا، کوئی بناوٹ ‏وغیرہ یا کچھ، تو جو عورتوں والی قمیص ہوتی اس کو کیا کہتے تھے؟ درع، اور جو چھوٹی لڑکیوں کی ہوتی اسے مجول۔ إلی مثلھا یرنو الحلیم صبابۃ، إلی مثلھا، امرؤ القیس کہتا ہے میری معشوقہ ایسی ہے کہ إلی مثلھا اس جیسیوں کی طرف یرنو ‏الحلیم بردبار شخص بھی مسلسل دیکھتا رہتا ہے صبابۃ عشق و محبت کی وجہ سے۔ ان کا حسن و جمال ایسا ہوتا ہے کہ ‏بردبار شخص بھی ان کی طرف یرنو مسلسل دیکھتا رہتا ہے صبابۃ، یہ صبابۃ یہ مفعول لہُ ہے۔ مفعول لہُ کسے کہتے ہیں؟ ‏جو ماقبل فعل کی علت بیان کرے، وجہ بیان کرے، ضربتہ تادیباً، میں نے اس کی پٹائی کی، کیوں کی؟ ادب سکھانے کے ‏لیے، تو ادب سکھانا وجہ تھی۔ یہاں بھی مسلسل دیکھتے رہتے ہیں، کیوں؟ دیکھنے کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ صبابۃ، عشق و ‏محبت کی وجہ سے۔ إذا ما اسبکرت، جب وہ پورے قد والی ہو جائے بین درع ومجول، درع أي بین لابِسَۃِ درع ولابِسَۃِ مجول، لابِسَۃ کا لفظ یہاں ‏مضاف محذوف ہے دونوں جگہ۔ لابِسَۃِ درع، کیا معنی؟ درع پہننے والی، لابِسَۃِ مجول، کیا معنی؟ مجول پہننے والی۔ جب ‏وہ پورے قد والی ہو جائے یہ درع پہننے والی اور مجول پہننے والیوں کے درمیان، ان کے درمیان۔ کہنا یہ چاہتا ہے امرؤ القیس کہ میری معشوقہ جو ہے، وہ اپنے پورے قد کو پہنچ گئی اور اب وہ صغیرہ بھی نہیں رہی، ‏اور کبیرہ پوری عورت بھی نہیں ہے، صغیرہ ہے، لیکن قد اس کا پورا ہو گیا ہے۔ تو یہ معنی ہے کہ اس کا قد کیا ہے؟ إذا ‏ما اسبکرت بین درع ومجول، جب وہ پورے قد والی ہو درع اور مجول پہننے والیوں کے درمیان، تو یہ معنی نہیں کہ ان ‏کے درمیان کھڑی ہو، نہیں نہیں۔ معنی یہ ہے ان کے بیچ میں ہو گئی، یعنی نہ اب یہ درع پہننے والی ہے پوری عورت ‏بھی نہیں، اور نہ مجول پہننے والی ہے صغیرہ بھی نہیں۔ تو یہ پورے قد کو پہنچ چکی ہے، اور اس جیسی حسین و جمیل ‏لڑکیوں کی طرف بردبار شخص بھی مسلسل تکتا ہی رہتا ہے بھئی۔ إلی مثلھا یرنو الحلیم صبابۃ إذا ما اسبکرت بین درع ومجول، اس جیسیوں کی طرف دیکھتا ہی رہ جاتا ہے بردبار شخص ‏بھی عشق و محبت کی وجہ سے، إذا ما اسبکرت بین درع ومجول جس وقت کہ یہ پورے قد والی ہو جائیں درع اور مجول ‏پہننے والیوں کے بیچ۔ تسلّت عمایات الرجال عن الصبا ولیس فؤادی عن ھواک بمنسل۔ تسلّت، کیا معنی؟ یہ لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ فسلّت ثیابی من ثیابک، کیا معنی؟ جدا کرنا، الگ کرنا۔ عمایات الرجال، ‏عمایات جمع ہے عمایۃ کی، اور عمایۃ کا معنی ہے غوایۃ۔ غوایۃ گزرا تھا یا نہیں؟ کہاں گزرا تھا؟ وما إن أری عنک الغوایۃ ‏تنجلی، اچھا، کیا معنی تھا؟ ہاں، عشق و محبت کی وجہ کی جو گمراہی ہے بھئی، تو یہ عمایۃ کا بھی وہی معنی، عشق و ‏محبت کی گمراہی۔ عن الصبا، صبا بچپنا بھئی، بچپنا۔ ایک لفظ گزرا تھا صَبَا، صَبَا، وہ کسے کہتے ہیں؟ مشرقی طرف سے چلنے والی ہوا، ‏اور جو مغرب کی طرف سے آئے اسے کیا کہتے ہیں؟ دبور کہتے ہیں، صَبَا۔ کہاں آیا تھا بھئی؟ پہلا شعر کیا ہے؟ إذا قامتَا ‏تضوع المسک منھما نسیم الصبا جاءت بـریا القرنفل، دیکھا؟ ابھی تو چند شعر ہوئے ہیں، فائدہ محسوس ہو رہا ہے کہ نہیں ‏ہو رہا؟ یہ جوں جوں آپ آگے جائیں گے، یہ اگر آپ کے ذہن میں کچھ زیادہ عربی ہوتی، پھر آپ کو یہ کتابوں کا لطف آتا۔ ‏لیکن کسی نے طریقہ اب تک بتایا نہیں تھا، اب تو میں نے بتا دیا ہے، اب تو کوشش کریں، کچھ یاد کر لیں۔ ابھی آپ کے ‏تین چار سال ہیں، ہر سال آپ 10 سے 15 صفحے بھی یاد کر لیں نا عربی کے، تو بہت سارے زندگی آپ کے کام آئیں گے ‏بھئی، عربیت میں کوئی مقابلہ کر ہی نہیں سکے گا آپ کا۔ یہ عبارت ہر طالب علم پڑھ لیتا ہے، لیکن وہ جو آپ کے ذہن ‏میں عربی عبارتیں محفوظ ہوں گی، کوئی آپ کا عربی بولنے میں مقابلہ نہیں کر سکے گا بھئی، نہ لکھنے میں مقابلہ کر ‏سکے گا۔ اچھا، تو صِبا کا معنی بہرحال وہ ہے صَبَا، اور یہ ہے صِبا، صِبا بچپنے کو کہتے ہیں بھئی۔ ولیس فؤادی، فؤاد دل کو ‏کہتے ہیں، فؤادی میرا دل۔ ھواک، ھوا خواہش، یہاں عشق و محبت کے معنی میں ہے۔ بمنسل، کیا معنی؟ جی، اس کا بھی ‏وہی معنی جدا ہونا، جدا ہونا۔ پیچھے تسلّت نہیں آیا؟ وہی اس کا۔ اچھا جی، یہ لفظ بھی تو گزرا تھا، کہاں پر؟ فسلّت ثیابی من ‏ثیابک ثیابیَ تنسل، جی۔ تسلّت عمایات الرجال عن الصبا، جدا ہو گئیں۔ اچھا، بعض شارحین فرماتے ہیں کہ اس شعر اس پہلے مصرعے میں قلب ‏ہے۔ میں نے بتایا تھا قلب کسے کہتے ہیں؟ ایک لفظ کو اٹھا کر دوسرے کی جگہ لے جاتے ہیں، اس کی جگہ بدل دیتے ‏ہیں۔ تو اصل میں یہ جو عمایات عمایات ہے، یہ عن کے بعد ہے۔ قلب ہوا اور وہاں سے اٹھا کر یہاں لایا گیا، یہ شارحین ‏فرماتے ہیں۔ تو گویا عبارت یوں ہے: تسلّت الرجال عن عمایات الصبا، جدا ہو گئے لوگ، عن کس سے؟ عمایات الصبا، ‏بچپنے کی عشق و محبت کی گمراہیوں سے۔ لوگ جدا ہو گئے کس سے؟ بچپن کی وجہ سے جو عشق و محبت کی گمراہی ‏ہے، اس سے لوگ کیا ہو گئے؟ کہنا یہ چاہتا ہے کہ لوگ بچپن میں، یہ عشق و محبت اور عشق و محبت اور اس طرح کی ‏گمراہیوں میں کمسنی کے اندر لوگ مبتلا ہوتے ہیں، لیکن جب بڑے ہو جاتے ہیں تو یہ گمراہیوں سے کیا ہو جاتی ہے؟ جدا ‏ہو جاتی ہے، الگ ہو جاتی ہے۔ تو یہ معنی ہے، تسلّت، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ عبارت پر نظر ہے؟ تسلّت الرجال، لوگ کیا ہو گئے؟ جدا ہو گئے، عن ‏عمایات الصبا، کس سے؟ بچپنے کی گمراہیوں سے۔ لیکن ولیس فؤادی عن ھواک بمنسل، لیکن میرا دل جو ہے، تیری عن ‏ھواک تیرے عشق و محبت سے، لیس بمنسل جدا نہیں ہوا۔ یعنی لوگ جوان ہو گئے، بڑے ہو گئے، عشق و محبت کی ‏گمراہیاں ان کے دلوں سے دور ہو گئیں، وہ اپنے اور دنیاوی کاموں میں مشغول ہو گئے، لیکن میرے دل سے تیرے عشق ‏و محبت آج بھی جدا نہیں ہوئی۔ اچھا، جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ قلب نہیں، بلکہ یہ عن کو بعد کے معنی میں لے لیں۔ یہ عن کس معنی میں ہے؟ ‏بعد۔ تسلّت عمایات الرجال بعد الصبا، جدا ہو گئیں عمایات الرجال لوگوں کی گمراہیاں، لوگوں کی گمراہیاں جدا ہو گئیں ان ‏سے بعد الصبا، کس کے بعد؟ بچپنے کے بعد، بچپنا گزر گیا تو اس کے بعد لوگوں سے ان کی گمراہیاں جدا ہو گئیں، لیکن ‏ولیس فؤادی عن ھواک بمنسل، لیکن میرا دل تیری محبت سے آج بھی جدا نہیں ہوا بھئی۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام، واللہ اعلم بالحقیقۃ الکلام۔ ‏ ‏