درس نمبر۔34 ثم لما فرغ المصنف رحمه الله تعالى عن بيان الخاص بأحكامه وأقسامه، شرع في بيان العام، فقال: "وأما العام فما يتناول أفرادا متفقة الحدود على سبيل الشمول". فكلمة "ما" عبارة عن لفظ موضوع؛ لأن العموم لا يجري، لأن العموم لا يجري في المعاني. والعام من أقسام وجوه النظم وضعا كالخاص. ثم لما فرغ المصنف رحمه الله تعالى عن بيان الخاص بأحكامه وأقسامه، شرع في بيان العام. "ثم لما فرغ المصنف رحمه الله" فارغ ہوئے خاص کے بیان سے، "بأحكامه وأقسامه" ساتھ اس کے احکام اور اقسام کے، تو شروع ہوئے عام کے بیان میں، "فقال" پس فرمایا۔ خاص کا اس کے احکام اور اقسام سمیت سارا بیان مصنف نے کر دیا۔ اب کس کا بیان کرنے لگے ہیں؟ عام کا۔ یہ عام کی بات شروع ہونے لگی ہے۔ تو ذرا پہلے وہ خاص کی بحث نکال لیں جہاں سے خاص کی بات شروع ہوئی تھی۔ وہ آپ کے ذہن میں حاضر ہوں گی وہ باتیں، تو پھر یہ عام آپ کو آسانی سے سمجھ میں آ جائے گا۔ مل گئی جگہ بھئی؟ خاص، خاص کی تعریف۔ جی خاص کی تعریف۔ بھئی سب سے پہلے اس سے پیچھے ایک دو صفحہ قبل انہوں نے لفظ کی تقسیم، نظم کی تقسیم کی تھی، اور بتلایا تھا کہ صیغے اور لغت کے اعتبار سے نظم کتنی قسم پر ہے؟ چار قسم پر ہے: خاص، عام، مشترک اور مؤول۔ پھر اس کے بعد ان میں سے خاص کی تعریف کی تھی کہ: "وأما الخاص فكل لفظ وضع لمعنى معلوم على الانفراد". کہ خاص ہر وہ لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہو ایک معلوم معنی کے لیے على الانفراد، انفراد کے طریقے پر۔ یعنی اکیلے ایک معنی کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہو۔ خاص کسے کہتے ہیں؟ جسے اکیلے ایک معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ تو اکیلے ایک معنی کے لیے وضع ہو۔ یعنی اس میں افراد نہیں ہوں گے بھئی۔ بحث کچھ یاد آئی آپ کو بھئی؟ اس میں افراد نہیں ہوں گے۔ ایک ہی فرد پر یہ دلالت کرے گا یا ایک ہی معنی پر بھئی۔ پھر اس کی تین قسمیں بنائی تھیں: خاص العين، خاص الجنس اور خاص النوع۔ خاص العين کی مثال جیسے زید، عمر، بکر۔ یہ ہر ایک ان میں سے خاص کی مثال ہے۔ کہ زید ایک ہی فرد کے لیے وضع ہے، زیادہ افراد کے لیے نہیں۔ اسی طرح خاص الجنس کی مثال جیسے انسان بھئی، انسان۔ اور انسان آپ کہیں گے انسان کے تو افراد بہت زیادہ ہیں، یہ بات پہلے گزر چکی کہ مراد انسان کا مفہوم ہے، اس کے افراد نہیں۔ تو مفہوم کے اعتبار سے یہ ایک ہی معنی کے لیے وضع ہے، دو یا تین معانی کے لیے نہیں وضع۔ اور خاص النوع کی مثال ذکر کی تھی جیسے رجل بھئی۔ اب رجل کے بھی آپ کے ذہن میں وہی اشکال آئے گا کہ اس کے تو بہت سے افراد ہیں، تو جواب پہلے گزر چکا کہ افراد سے قطع نظر کیا مراد ہے؟ رجل کا مفہوم مراد ہے اور رجل کا ایک ہی معنی ہے، دو یا تین معانی نہیں ہیں بھئی۔ تو بس خاص کے اندر افراد نہیں ہوں گے بھئی۔ اب اس کے مقابلے میں آج ہم عام پڑھیں گے بھئی۔ اب عام پر آئیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وأما العام فما يتناول أفرادا متفقة الحدود على سبيل الشمول". عام وہ لفظ ہے، وہ لفظ ہے "يتناول أفرادا" جو افراد کو شامل ہو۔ خاص کے اندر افراد نہیں تھے بھئی، عام کے اندر کس کا ذکر آ گیا؟ افراد، یہ افراد کو شامل ہوتا ہے۔ جیسے اس کی مثال بھئی: "مسلم"، یہ کس کی مثال ہے؟ اس میں افراد ہیں، ایک فرد ہے یا دو، تین، چار ہیں بھئی؟ ایک۔ تو لہذا یہ کیا ہوا؟ خاص۔ اور "مسلمون"، یہ کم از کم کتنے پر بولا جائے گا؟ تین، تو یہ عام ہے بھئی۔ تو خاص کے اندر افراد نہیں ہوتے جبکہ عام کے اندر افراد ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وأما العام فما يتناول أفرادا"، عام وہ لفظ ہے جو شامل ہو افراد کو، ایسے افراد "متفقة الحدود"، "على سبيل" جن کی تعریف جو متفقۃ الحدود ہوں یعنی ایک ہی تعریف ہو، یعنی یہ لفظ ان سب پر صادق آئے۔ یہ جو عام لفظ ہے، اپنے تمام افراد پر صادق آتا ہے۔ "على سبيل الشمول"، کس طریقے پر؟ شمول کے طریقے پر، یعنی اکٹھا۔ ایک ہے على سبيل البدل۔ على سبيل البدل آگے تفصیل آ جائے گی۔ على سبيل البدل کہتے ہیں کہ جو بہت سے لوگوں پر صادق تو آئے، لیکن بدل کے طریقے پر۔ جیسے رجل۔ رجل ویسے تو ایک فرد کے لیے وضع ہے، لیکن یہ کثیرین کا، کثرت کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ تمام افرادِ رجل مراد ہوں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "جاءني رجل لا امرأة". کیا معنی؟ میرے پاس جنسِ رجل آئے نہ کہ جنسِ امرأة، یعنی رجل کے افراد آئے سارے نہ کہ امرأة کے۔ تو دیکھو یہاں پر اس میں کثرت آ گئی۔ یہاں یہ جو رجل ہے، یہ اپنے تمام افراد کو شامل ہوا، جتنے رجل ہیں وہ سب اس میں داخل ہو گئے، لیکن شمول کے طریقے پر نہیں، بدل کے طریقے پر۔ کس طریقے پر؟ میں نے کیا کہا: "جاءني رجل". کیا معنی؟ ایک فرد کو پکڑیں رجل کے، یہ بھی آیا میرے پاس، یہ بھی اس میں داخل۔ دوسرا پکڑیں، یہ بھی رجل ہے، اور میں نے کیا کہا تھا: "جاءني رجل"، تو یہ بھی اس میں داخل۔ تیسرے رجل کو پکڑا، ہاں بھئی یہ بھی رجل ہے، میں نے کیا کہا تھا: "جاءني رجل"، یہ بھی اس میں داخل۔ تو یہ اپنے تمام افراد کو شامل ہے، لیکن ساروں کو اکٹھا یا ایک ایک کر کے؟ یعنی على سبيل البدل، ہر ہر ایک فرد اس میں داخل ہو رہا ہے، لیکن کس طریقے پر؟ بدل کے، بعینہِ وقت سارے مراد ہیں؟ بعینہِ وقت سارے مراد نہیں لے سکتے، اس لیے کیونکہ رجل مفرد لفظ ہے، ایک وقت میں ایک کو ہی شامل ہو گا، ایک سے زیادہ کو نہیں۔ بھئی بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے على سبيل البدل۔ اور ایک ہے على سبيل الشمول، اکٹھا سب کو شامل ہو جائے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "جاءني الرجال". اب الرجال کا لفظ آیا، اب یہ تمام افراد کو اکٹھا ہی شامل ہو گیا بھئی۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ ایک ہے على سبيل البدل کہ ایک کا ایک کو شامل، پھر دوسرے کو بھی شامل، پھر تیسرے بدل کے طریقے پر ایک ایک کر کے سارے اس میں آ جائیں گے۔ تو اکٹھے نہیں بھئی، مجموعے کی شکل میں نہیں سب پر صادق آئے گا۔ جبکہ شمول کی صورت میں اکٹھا ہی مجموعے کی شکل میں سب پر صادق آ جائے گا، جیسے الرجال میں نے مثال ذکر کر دی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: "وأما العام فما يتناول أفرادا"، عام جو ہے وہ لفظ ہے جو شامل ہوتا ہے ایسے افراد کو "متفقة الحدود" جو کیا ہوتے ہیں؟ متفقۃ الحدود ہوتے ہیں، یعنی ان کی ایک ہی تعریف ہوتی ہے، یعنی یہ لفظ ان سب پر برابر، سب پر صادق آتا ہے۔ "على سبيل الشمول"، تو یہ جو عام افراد کو شامل ہے کس طریقے پر ہے؟ شمول کے طریقے پر ہے بھئی، بدل کے طریقے پر نہیں، "مسلمون" دیکھو جمع کا ہے، تو دیکھو یہ شمول، اس میں افراد اکٹھے داخل ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "فكلمة "ما" عبارة عن لفظ موضوع"، پس یہ جو متن کے اندر "ما" آیا بھئی، کلمہِ "ما"، "فما"، یہ جو "ما" ہے یہ عبارت ہے کس سے؟ لفظِ موضوع سے۔ وہ لفظ جس کو کسی معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ تو یہ لفظ سے عبارت ہے۔ "لأن العموم لا يجري في المعاني"، اس لیے کیونکہ عموم جو ہے وہ معانی کے اندر جاری نہیں ہوتا۔ عموم صرف کس میں جاری ہوتا ہے؟ لفظ میں جاری ہوتا ہے۔ لفظ کو کہتے ہیں یہ لفظ عام ہے یا عام نہیں ہے۔ رجل عام ہے یا عام نہیں، الرجال عام ہے یا عام نہیں، یہ لفظ کے بارے میں کہا جاتا ہے، معانی کے بارے میں نہیں کہا جاتا۔ بھئی یاد رکھیے اس سلسلے میں تھوڑی سی تفصیل بھئی۔ ایک ہے لفظ، ایک ہے معنی۔ تو بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ عموم جو ہے صرف لفظ میں جاری ہوتا ہے، معنی میں عموم جاری نہیں ہوتا۔ جبکہ بعض دیگر علماء فرماتے ہیں کہ نہیں، معنی کے اندر بھی عموم جاری ہوتا ہے۔ اور وہ اس کی مثال دیتے ہیں، کہتے ہیں عرب کہتے ہیں: "مطر عام"، اور اسی طرح عرب کہتے ہیں: "خصب عام"، خصب خ، ص اور ب، "خصب عام". خصب سبزے کو کہتے ہیں۔ بات کس کی چل رہی ہے؟ بعض علماء کی، جو کیا فرماتے ہیں؟ کہ لفظ کے ساتھ ساتھ معنی کے اندر بھی عموم جاری ہوتا ہے۔ لفظ تو عام ہوتا ہے، ابھی یہ بحث ہم کر رہے ہیں۔ "مسلمون"، "الرجال" کیا ہے؟ عام ہے۔ تھوڑا سمجھیں، یہ افراد کو شامل ہے شمول کے طریقے پر۔ تو لہذا لفظ میں تو عموم جاری ہوتا ہے، معنی میں عموم جاری ہوتا ہے یعنی پہلا گروہ جن علماء، پہلے گروہ انہوں نے کہا معنی میں عموم جاری نہیں ہوتا۔ دوسرے علماء بعض فرماتے ہیں کہ لفظ کے ساتھ ساتھ معنی میں بھی عموم جاری ہوتا ہے اور وہ دلیل ذکر کرتے ہیں: "مطر عام" اور "خصب عام". تو عرب یہ استعمال کرتے ہیں۔ تو دیکھو مطر کی صفت عام کو بنایا، "مطر عام"، "خصب عام"، خصب کی صفت کیا بنائی؟ عام لفظ کو بنایا بھئی، "خصب عام" کہتے ہیں۔ اور اب آپ دیکھیں "مطر عام"، بھئی وہ بارش "مطر عام" اس بارش کو کہتے ہیں جو سارے علاقے میں دور دور تک ہر جگہ ہو، اسے کیا کہتے ہیں؟ "مطر عام". تو اب دیکھیے یہاں مطر کا لفظ تو مفرد ہے، اس میں افراد ہیں؟ اس کی جمع تو امطار آتی ہے، تو مفرد لفظ ہے، پھر بھی عرب اس کے لیے کیا صفت لے کر آ رہے ہیں؟ عام۔ معلوم ہوا یہ لفظ عام نہیں ہے، بلکہ عام کیا چیز ہے؟ اس کا معنی۔ معنی کیا ہے مطر کا؟ بارش۔ یعنی وہ جو آسمان سے پانی برسا، اس میں عموم ہے، ہر جگہ پر برسی ہے بھئی دور دور تک پورے علاقوں میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے کہ عام یہاں معنی کی صفت ہے، کیونکہ مطر تو مفرد ہے، اس کی جمع کیا ہے؟ امطار بھئی۔ اور مفرد کے لیے وہ عام کی صفت لا رہے ہیں، معلوم ہوا لفظ کی صفت نہیں مراد، بلکہ کس کی صفت ہے؟ معنی کی صفت ہے۔ اسی طرح "خصب عام" کہتے ہیں بھئی۔ بھئی خصب تو مفرد ہے، اس میں تو افراد نہیں ہیں، لیکن پھر بھی اس کے لیے صفت کیا لاتے ہیں؟ عام۔ اور خصب کہتے ہیں سبزے کو، وہ سبزہ جو ہر طرف پھیلا ہوا ہو تو کیا کہتے ہیں؟ "خصب عام". تو معلوم ہوا کہ یہاں عام جو ہے وہ معنی کی صفت بن رہا ہے، لفظ کی صفت نہیں ہے، یعنی وہ سبزے کے اندر عموم ہے بھئی۔ لفظ تو مفرد ہے، اس کی جمع تو اخصاب آتی ہے بھئی۔ صورت سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو چنانچہ بعض علماء نے کہا کہ یہ عام، عموم صرف لفظ میں جاری ہوتا ہے، بعضوں نے کہا نہیں، لفظ کے ساتھ ساتھ معنی میں بھی عموم جاری ہوتا ہے اور اس کی مثال وہ "مطر عام" اور "خصب عام" دیتے ہیں۔ جبکہ بعض تیسرا گروہ علماء کا ہے، وہ کہتے ہیں کہ بھئی عموم حقیقت میں تو صرف کس میں جاری ہوتا ہے؟ لفظ میں، اور معنی میں جو عموم آتا، جاری ہوتا ہے وہ مجازاً ہے بھئی، معنی میں عموم مجازاً ہے۔ اور شارح نے دیکھیے پہلے مذہب کو ترجیح دے دی، یعنی ان کے نزدیک عموم صرف لفظ میں جاری ہوتا ہے، معنی میں نہیں، خود فرما رہے ہیں: "لأن العموم لا يجري في المعاني"، اس لیے کیونکہ عموم معانی کے اندر جاری، جب معانی کے اندر عموم جاری نہیں ہوتا تو یہ عام کی تعریف کر رہے ہیں، تو معلوم ہوا "ما" سے کیا مراد ہے؟ لفظِ موضوع مراد ہے، معنی مراد نہیں ہے بھئی۔ نیز دوسری بات کر رہے ہیں: "والعام"، اس کا عطف عموم پر کریں، "لأن العموم"، "لأن العام"، "والعام من أقسام وجوه النظم وضعا كالخاص". اور اس لیے کیونکہ عام جو ہے وہ نظم، وجوہِ نظم کی اقسام میں سے ہے بااعتبار وضع کے، جیسے کہ خاص تھا۔ بھئی پیچھے تقسیم کی تھی: خاص، عام، مشترک، مؤول۔ یہ کس کی تقسیم کی تھی؟ نظم کی، تو یہ نظم کی اقسام میں سے ہے۔ معلوم ہوا یہ "ما" سے کیا مراد ہے متن میں؟ نظم، یعنی لفظ ہی مراد ہے بھئی، لفظ مراد ہے۔ جی، اور یاد رکھیے یہ جو اقسام کی اضافت ہو رہی ہے وجوہِ نظم کی طرف، یہ اضافتِ بیانی ہے۔ اضافتِ بیانی کسے کہتے ہیں؟ جس میں مضاف الیہ، مضاف کا بیان بنتا ہے بھئی، اس کی تفسیر کرتا ہے۔ کیونکہ وجوہ کا معنی بھی اقسام ہے۔ وجوہ کا معنی بھی کیا ہے؟ اقسام۔ اضافتِ بیانی اسے کہا جاتا ہے جس کے اندر مضاف الیہ بیان بنتا ہے مضاف کا بھئی۔ وہ اقسام کیا ہیں؟ وجوہِ نظم ہیں، وہ اقسام کیا ہیں؟ وجوہِ نظم ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: "والعام من أقسام وجوه النظم وضعا كالخاص"، اور عام جو ہے وہ کس میں سے ہے؟ وجوہِ نظم کی اقسام میں سے ہے بااعتبار وضع کے، جیسے کہ خاص ہے۔ "وبقوله يتناول أفرادا"، جی اب یہ فوائدِ قیود ذکر کر رہے ہیں، بتلایا کہ "ما" سے مراد لفظ ہے، اب قیودات کا فائدہ بتلائیں گے کہ اس کے ذریعے تعریف کس کی چل رہی ہے؟ عام کی۔ اور خاص کو بھی نکالنا ہے اس سے، اور مشترک کو بھی نکالنا ہے، اور جب مشترک نکلے گا تو ساتھ مؤول خود بخود نکل جائے گا، کیونکہ مؤول مشترک ہی کی قسم ہے۔ "وبقوله: "يتناول أفرادا" خرج الخاص"، اور ماتن کے قول "يتناول أفرادا" کے ذریعے "خرج الخاص"، خاص نکل گیا۔ کیونکہ خاص تو افراد کو شامل نہیں ہوتا، وہ تو ایک ہی فرد یا ایک ہی معنی پر بولا جاتا ہے۔ جی، تو "يتناول أفرادا" کے ذریعے کون نکل گیا؟ خاص۔ آگے پھر ذرا اسی کی تفصیل کرنے لگے ہیں کہ خاص کی تین قسمیں تھیں: ایک خاص الفرد، ایک خاص الجنس اور خاص النوع، وہ تینوں خارج ہوئے ہیں، کس طرح ذکر کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں: "أما خاص العين فظاهر"، باقی خاصِ عین جو ہے وہ تو ظاہر ہے، یعنی اس کا نکلنا تو ظاہر ہے، کیونکہ وہ تو ایک ہی فرد پر، یعنی زید ہے تو زید ہی پر بولا جاتا ہے، وہاں افراد نہیں، اور عام میں تو کیا، عام تو کس کو شامل ہوتا ہے؟ افراد کو، تو وہ نکل گیا۔ "وأما خاص الجنس والنوع"، باقی خاص الجنس اور خاص النوع وہ بھی نکل گئے، "فلأنه يتناول مفهوما كليا"، اس لیے کیونکہ وہ شامل ہیں ایک مفہومِ کلی کو، کس کو شامل ہیں؟ بھئی کلی مفہومِ کلی جس کے اندر عقل جس، یعنی عقل کثیرین پر اس کے صدق کو جائز سمجھے، لیکن اس کا مفہوم تو ایک ہی ہوتا ہے۔ جیسے انسان کا کیا معنی ہے؟ حیوانِ ناطق۔ دو معنی ہیں یا تین معنی ہیں یا ایک ہی معنی ہے؟ ایک ہی معنی ہے، حیوانِ ناطق، اور یہ مفہومِ کلی ہے۔ یعنی اس کے افراد بہت سے ہیں بھئی۔ افراد بہت سے ہیں۔ کثیرین پر یہ صادق آتا ہے۔ اور اسی طرح خاص النوع یعنی رجل۔ رجل۔ میں نے بتلایا تھا، بنی آدم میں سے وہ مذکر جو حدِ بلوغت کو پہنچ جائے اسے کیا کہتے ہیں؟ رجل۔ تو رجل کا ایک ہی معنی ہے یا دو تین معانی ہیں؟ ایک ہی معنی ہے، ایک ہی مفہوم ہے اور وہ مفہوم کلی ہے، یعنی کثیرین پر صادق آتا ہے۔ تو لہذا یہ خاص الجنس اور خاص النوع بھی نکل گئے۔ چونکہ ان کا مفہوم ایک ہی ہے، اس میں افراد افراد سے قطع نظر صرف کس کی بات ہم کر رہے ہیں؟ مفہوم کی بات کر رہے ہیں اور معنی معنی کی اور معنی ایک ہی ہے یا یہ دو یا تین ہیں معانی؟ جب ایک ہی معنی ہے، تو افراد نہ ہوئے بھئی۔ افراد سے قطع نظر صرف مفہوم کی بات چل رہی ہے۔ تو خاص الجنس اور خاص النوع بھی کیا ہوئے؟ خارج، کیونکہ یہ کس کے لیے وضع ہیں؟ مفہومِ کلی کے لیے، ایک معنی کے لیے۔ جبکہ آگے کہہ رہے ہیں، "أَوْ فَرْدًا وَاحِدًا يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ عَلَى كَثِيرِين"۔ تو بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ جو خاص الجنس ہے، یہ خاص کی قسم ہے جیسے انسان اور یہ وضع ہوتا ہے کس کے لیے؟ ایک مفہومِ کلی کے لیے، ایک معنی کے لیے، ایک ہی معنی کے لیے۔ اسی طرح خاص الرّجل ہے، یہ رجل کس کے لیے وضع ہے؟ ایک ہی معنی کے لیے وضع ہے۔ جبکہ دیگر علماء ان کا مذہب یہ ہے کہ یہ ایک فرد کے لیے وضع ہیں غیر متعین فرد کے لیے۔ کس کے لیے وضع ہیں؟ "رَجُلٌ" ایک فرد کے لیے وضع ہے۔ لیکن ایک متعین نہیں ہے۔ یعنی یہ کثیرین پر صادق آ سکتا ہے۔ کثیرین کا اس میں احتمال ہے لیکن وضع کس کے لیے ہے؟ رجلٌ کا معنی ایک مرد، یہ دو یا تین مرد ہے اس کا معنی؟ ایک ہی مرد ہے اس کا معنی، تو ایک ہی فرد کے لیے، البتہ وہ فرد منتشر ہے یعنی غیر معین ہے۔ کوئی بھی رجل کا فرد ہو اس پر صادق آئے گا یہ لفظ، یہ بھی رجل ہے۔ دوسرا اس کے جیسا آپ فرد لے آئیں اس کو بھی ہم کیا کہیں گے، یہ بھی رجل۔ تیسرا لے آئیں اس پر بھی کیا آئے گا؟ تو یہ رجل ایک فرد کے لیے وضع ہے لیکن وہ فردِ منتشر ہے یعنی غیر معین ہے، پھیلا ہوا کوئی ایک متعین نہیں ہے یعنی کہ۔ اور پھر اس میں کثرت کا بھی احتمال ہے، کثیرین پر بھی صادق آنے کا احتمال ہوتا ہے۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی "جاءني رجل لا امرأة"، میرے پاس مرد آئے نہ کہ عورت۔ اب دیکھیے کیا معنی اس کا؟ جنسِ مرد کے یعنی سارے افراد آئے میرے پاس نہ کہ جنسِ عورت۔ اور یہاں یہ تمام کثیرین پر صادق آیا، یعنی تمام افراد پر صادق آیا، لیکن علیٰ سبیل الشمول یا علیٰ سبیل البدل؟ علیٰ سبیل البدل۔ تو یہ اس یہ کثیرین پر بھی صادق آ سکتا ہے لیکن علیٰ سبیل البدل اور ہم نے تو تعریف میں کیا بات کی تھی کہ علیٰ سبیل الشمول ہونا چاہیے بھئی۔ تو بس حاصل یہ کہ یہ جو خاص الجنس اور خاص النوع ہے، ان کے اندر دو مذاہب ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں یہ مفہومِ کلی کے لیے وضع ہیں، ایک ہی مفہوم کے لیے وضع ہیں، افراد کی طرف نظر کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ صرف مفہوم پہ نظر کریں اور مفہوم کے اعتبار سے یہاں افراد نہیں ایک ہی معنی ہے تو لہٰذا یہ تعریف سے خارج ہوا۔ اور بعضوں نے کہا یہ کس کے لیے وضع ہے؟ ایک فردِ منتشر کے لیے اور کثیری کثرت کا بھی اس میں احتمال ہے۔ کثرت کے لیے وضع نہیں لیکن احتمال ہے، کبھی کبھار کس کثرت کے لیے بھی یہ استعمال ہو جاتا ہے جیسے میں نے ابھی مثال ذکر کی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کثیرین کا اس میں احتمال ہے، وضع ان کثیرین کے لیے نہیں، وضع کس کے لیے ہے؟ ایک ہی فرد کے لیے اور وہ فرد کس قسم کا ہے؟ غیر متعین ہے یعنی منتشر ہے بھئی۔ تو جب یہ افراد کے لیے وضع نہیں اور ہم نے تو تعریف میں کیا قید لگا دی؟ "مَا يَتَنَاوَلُ أَفْرَادًا"۔ تو یہ خاص الجنس اور خاص النوع بھی کیا ہو گئے تعریف سے؟ خارج ہو گئے۔ تو کہتے ہیں "وَأَمَّا خَاصُّ الْجِنْسِ وَالنَّوْعِ" اور باقی خاص الجنس اور خاص النوع "فَلِأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ مَفْهُومًا كُلِّيًّا" اس لیے کیونکہ وہ شامل ہیں ایک مفہومِ کلی کو "أَوْ فَرْدًا وَاحِدًا" یا یہ شامل ہیں ایک ہی فرد کو "يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ عَلَى كَثِيرِين" ایسا فرد جو احتمال رکھتا ہے کثیرین پر صادق ہونے آنے کو "وَلَيْسَ هُوَ بِمَوْضُوعٍ لِلْأَفْرَادِ بِنَفْسِهِ" اور یہ کس کے لیے وضع نہیں ہے؟ بنفسہٖ افراد کے لیے وضع نہیں ہے، احتمال کثیرین کا اس میں ہے لیکن افراد کے لیے یہ وضع نہیں ہے۔ "وَكَذَا خَرَجَ أَسْمَاءُ الْعَدَدِ" اور اسی طرح اس تعریف کے ذریعے بھئی اسماءِ عدد بھی نکل گئے۔ بھئی ایک ہے کلی، ایک ہے کل۔ کلی کلی کے افراد ہوتے ہیں اور کل کل کے اجزاء ہوتے ہیں۔ زید، عمر، بکر وغیرہ یہ انسان کے افراد ہیں۔ انسان کے؟ تو انسان ہے کلی اور زید، عمر، بکر وغیرہ یہ جزئی ہیں یا اس کے افراد ہیں۔ افراد، جزئی کا بھی وہی معنی بھئی، افراد۔ تو ان زید، عمر، بکر وغیرہ جزئی ہیں یا افراد ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ایک اور لفظ جو میں نے بتایا ابھی ایک کل ہے اور ایک جز۔ کل وہ ہے جس میں اجزاء ہوتے ہیں اور کسی چیز کے سارے اجزاء جمع ہوں تو وہ کیا کہلاتی ہے؟ کل بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور وضاحت کے لیے مثال ذہن میں رکھیں۔ بھئی دیکھیے! کلی اپنے ہر ہر فرد پر صادق آتی ہے لیکن کل اپنے بعض جز پر صادق نہیں آ سکتا۔ کلی اپنے ہر ہر فرد پر صادق آئے گی کلام صحیح رہے گا لیکن کل کا حمل اگر آپ بعض جز پر کریں تو وہ حمل صحیح نہیں۔ مثلاً دیکھیے! انسان میں نے آپ کو بتایا کلی ہے اور زید، عمر، بکر وغیرہ اس کی جزئیات ہیں، افراد ہیں۔ اب ایک ایک پر ذرا انسان کا حمل کریں۔ زید انسان ہے۔ میرا یہ کلام درست ہے یا غلط ہے؟ درست ہے، دیکھو! انسان کا حمل آپ نے زید پر کر دیا اور کلام صحیح۔ معلوم ہوا کلی کا حمل اپنے ایک فرد پر صحیح۔ دوسرا فرد پکڑ لیں۔ عمر انسان ہے۔ کیا میرا یہ کلام صحیح ہے یا غلط ہے؟ صحیح ہے، تو دیکھو کلی اپنے ہر ہر فرد پر صادق آتی ہے۔ آپ کوئی بھی ان فرد اس کا پکڑیں اور اس پر انسان کا حکم لگائیں تو وہ کلام صحیح ہوگا غلط نہیں ہوگا۔ یا اسی طرح دوسری مثال دیکھ لو۔ کلمہ کی تین قسمیں آپ نے پڑھیں: اسم، فعل اور حرف۔ تو اسم، فعل اور حرف یہ کلمہ کے افراد ہوئے۔ کلمہ کلی ہوا اور اسم، فعل اور حرف اس کے جزئیات اور افراد، اور ایک ایک پر کلمہ کا حمل صحیح ہے۔ اسم کلمہ ہے، کلام صحیح ہے یا غلط؟ صحیح۔ فعل کلمہ ہے، یہ بھی صحیح ہے کلام۔ حرف کلمہ ہے، یہاں پر بھی۔ تو ہر ہر فرد پر کلی کا حمل صحیح۔ جبکہ دوسری طرف کل اور جز ہیں۔ مثلاً دیکھیے، چائے بھئی۔ چائے کے اجزاء کیا کیا ہیں؟ چینی ہے، دودھ ہے، پتی ہے اور پانی ہے۔ چینی، دودھ، پتی اور پانی، یہ چار اجزاء ملیں گے تو چائے بنے گی۔ تو یہ چائے کے افراد نہیں ہیں بلکہ اجزاء ہیں۔ پتہ کیسے چلے گا؟ حمل کر کے دیکھیں بھئی۔ ایک جز پکڑیں، صرف پتی۔ یا پہلے دودھ دیکھیں، دودھ۔ میں جملہ کیا بناتا ہوں؟ دودھ چائے ہے، کیا میرا کلام صحیح ہے؟ نہیں، معلوم ہوا کل کا حمل بعض جز پر صحیح نہیں۔ اچھا، دوسرے جز کو پکڑ لیں۔ پانی چائے ہے، یہ بھی صحیح نہیں۔ چینی چائے ہے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ کل کا حمل اپنے بعض افراد پر صحیح نہیں ہوتا، سارے اجزاء ہوں پھر حمل صحیح بھئی، ویسے حمل صحیح نہیں۔ جبکہ کلی کا حمل اپنے ایک ایک فرد پر صحیح ہوتا ہے بھئی۔ تو کلی اور جزئی، کل اور جز دونوں کا فرق سمجھ میں آ گیا؟ تو اب بتلا رہے ہیں "وَكَذَا خَرَجَ أَسْمَاءُ الْعَدَدِ" اور اسی طرح اس تعریف میں جب ہم نے افراد کی قید لگا دی تو اسماءِ عدد بھی نکل گئے چار، پانچ، چھ، سات یہ جو عدد ہیں، یہ بھی کیا ہو گئے؟ بھئی، آپ کہیں گے پانچ، چھ، سات یہ تو افراد کو شامل ہیں بھئی۔ یاد رکھیے! یہ افراد کو نہیں، یہ آحاد کو شامل ہیں اور وہ اس کے اجزاء ہیں، وہ کیا ہیں اس کے؟ اجزاء۔ "لِأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ الْأَجْزَاءَ دُونَ الْأَفْرَادِ" اس لیے کیونکہ جو عدد اسمِ عدد جو ہے وہ اجزاء کو شامل ہوتا ہے نہ کہ افراد کو۔ اس میں عدد کس کو شامل ہوتا ہے؟ اجزاء کو شامل ہوتا ہے، افراد کو شامل نہیں ہوتا۔ بھئی دیکھیے، پانچ، عدد ہے ایک پانچ۔ پانچ کسے کہیں گے؟ جس میں پانچ آحاد ہوں۔ کیا ہوں؟ پانچ آحاد۔ اور یہ پانچ آحاد پانچ افراد، یہ پانچ آحاد اور پانچ افراد اس پانچ کا کے جز ہیں، افراد نہیں۔ کیا ہیں؟ کیوں؟ ان میں سے ایک کو نکال دیں گے، تو کیا رہ جائے گا؟ چار۔ معلوم ہوا ان چار پر پانچ کا حمل صحیح نہیں۔ ان میں سے صرف ایک فرد کو پکڑیں، ایک آحاد، اور اس پر حمل کریں۔ ایک پانچ ہے؟ ایک پانچ نہیں بھئی۔ تو دیکھو! یہ جو آحاد ہیں اسماءِ عدد کے اندر جو آحاد ہوتے ہیں وہ اس کے اجزاء ہوتے ہیں، افراد نہیں۔ اور ہم نے تو تعریف کیا کی تھی کہ کس کو شامل ہو وہ لفظ؟ افراد کو شامل ہو، اجزاء کی بات نہیں کی، تو لہٰذا اسماءِ عدد بھی خارج ہوئے کیونکہ ان کے جو آحاد ہوتے ہیں وہ ان کے افراد نہیں ہوتے بلکہ اجزاء ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں "وَكَذَا خَرَجَ أَسْمَاءُ الْعَدَدِ لِأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ الْأَجْزَاءَ دُونَ الْأَفْرَادِ" اس لیے کیونکہ وہ اجزاء کو شامل ہوتا ہے نہ کہ افراد کو۔ "وَكَذَا يَخْرُجُ بِهِ الْمُشْتَرَكُ" اسی طرح افراد کی قید کے ذریعے مشترک بھی نکل گیا۔ "لِأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ مَعَانِيَ لَا أَفْرَادًا" اس لیے کیونکہ وہ معانی کو شامل ہوتا ہے افراد کو شامل نہیں۔ مشترک اسے کہتے ہیں نا جس کے کئی معانی الگ الگ ہر معنی کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ "ثُمَّ قَوْلُهُ: مُتَّفِقَةَ الْحُدُودِ عَلَى سَبِيلِ الشُّمُولِ" بھئی، آپ چاہیں تو "مُتَّفِقَةُ الْحُدُودِ" متفقۃ پر رفع پڑھیں "مُتَّفِقَةُ الْحُدُودِ عَلَى سَبِيلِ الشُّمُولِ"۔ یہ سارا کیا بن جائے گا؟ مبتدا اور مبتدا پر کیا پڑھتے ہیں؟ رفع، تو "مُتَّفِقَةُ الْحُدُودِ"۔ اور "لِبَيَانِ تَحْقِيقِ مَاهِيَّةِ الْعَامِّ" یہ خبر ہے۔ اور چاہیں تو آپ اعرابِ حکائی پڑھ لیں یعنی جیسا کہ متن کے اندر جو اعراب تھا وہی پڑھ لیں اور متن میں تو "مُتَّفِقَةَ الْحُدُودِ" تھا بھئی، تو نصب پڑھ لیں۔ لیکن چاہے نصب پڑھیں یا رفع پڑھیں، بننا اس نے مبتدا ہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ "ثُمَّ قَوْلُهُ: مُتَّفِقَةَ الْحُدُودِ عَلَى سَبِيلِ الشُّمُولِ" پھر مصنف کا قول "مُتَّفِقَةَ الْحُدُودِ عَلَى سَبِيلِ الشُّمُولِ" جو ہے "لِبَيَانِ تَحْقِيقِ مَاهِيَّةِ الْعَامِّ لَا لِلِاحْتِرَازِ" یہ عام کی ماہیت اور عام کی حقیقت جو ہے اس کی تحقیق کے بیان کے لیے ہے "لَا لِلِاحْتِرَازِ" کسی چیز سے احتراز کے لیے نہیں ہے۔ قواعدِ قیود ذکر کر رہے ہیں نا، تو قیودات لگاتے تعریف میں جو قیودات ذکر ہوتی ہیں ایک ایک لفظ کے ذریعے کسی چیز کو نکالا جاتا ہے، تو جن چیزوں سے احتراز مقصود تھا عام کی تعریف کر رہے ہیں، ہم نے خاص کو بھی نکالنا تھا اور مشترک کو بھی نکالنا تھا اور اسی طرح اسماءِ عدد کو بھی نکالنا تھا اور وہ تو پہلے ہی "أَفْرَادًا" کی قید کے ذریعے یہ سارے نکل گئے۔ تو اب معلوم ہوا جو آگے "مُتَّفِقَةَ الْحُدُودِ عَلَى سَبِيلِ الشُّمُولِ" ہے وہ صرف عام کی ماہیت بیان ہو رہی ہے، یہ کسی کسی سے احتراز نہیں ہے، کسی کو اس کے لیے نکالا نہیں جا رہا کیونکہ وہ تو پہلے ہی پہلی قید سے ہی نکل چکے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ عام کی ماہیت کی تحقیق کے بیان کے لیے ہے "لَا لِلِاحْتِرَازِ" احتراز کے لیے نہیں ہے۔ "وَقِيلَ" یہ بعض دیگر علماء کی قول ذکر کر رہے ہیں، بعض علماء نے ذکر کیا ہے۔ کہتے ہیں "وَقِيلَ" اور کہا گیا ہے کہ "مُتَّفِقَةَ الْحُدُودِ احْتِرَازٌ عَنِ الْمُشْتَرَكِ" یہ مشترک سے احتراز ہے۔ اس کے لیے کس کو نکالنا مقصود ہے؟ مشترک کو۔ بھئی، شارح نے تو مشترک کو کس کے ذریعے نکالا؟ افراد کے ذریعے کہ مشترک کے افراد نہیں ہوتے بلکہ معانی ہوتے ہیں، کیا ہوتے ہیں؟ معانی ہوتے ہیں۔ لیکن دیگر علماء فرماتے ہیں کہ یہ "مُتَّفِقَةَ الْحُدُودِ" جب کہا تو اس کے ذریعے مشترک سے احتراز کیا اس کو نکال دیا کیونکہ پہلی قیودات سے وہ نہیں نکلا تھا، کیونکہ مشترک کے بھی افراد ہوتے ہیں، وہ معانی ہی تو اس کے افراد ہیں، وہ معانی ہی کیا ہیں مشترک کے؟ وہ مثلاً مشترک ایک معنی کے لیے پہلے وضع کیا گیا پھر دوسرے معنی کے لیے پھر تیسرے معنی کے لیے پھر چوتھے معنی کے لیے، تو یہ چاروں معانی کیا ہوئے مشترک کے؟ افراد۔ اور ہر معنی الگ الگ ہے، ان کی حقیقتیں اور ماہیتیں الگ الگ ہیں اور ہم نے تو کیا کہا کہ عام جو ہے وہ ایسے افراد کو شامل ہوتا ہے جن کی ماہیت کیا ہوتی ہے اور حقیقت؟ ایک، مسلمون کس کو شامل ہے؟ مسلمان، تو ان کی ماہیت ایک ہی ہوگی یعنی ان کی ان پر یہ لفظ پوری طرح صادق آتا ہے حقیقتیں ایک ہی ہیں، الرجال کس پر شامل کس کو شامل ہے؟ ایسے افراد کو جن کی حقیقت اور ماہیت ایک ہی ہے، جبکہ مشترک؟ مشترک تو مختلف معانی کے لیے، ایک وقت میں ایک معنی کے لیے وضع، دوسرے وقت میں دوسرے معنی، جیسے مشتری۔ مشتری کا لفظ خریدار کے لیے وضع ہے۔ اسی طرح مشتری آسمان میں ایک سیارے کا بھی نام ہے۔ اور وہ سیارہ اور یہ خریدار، یہ انسان ہے، ان دونوں کی حقیقت ایک ہے یا الگ الگ ہے دونوں کی؟ تو دونوں کی تعریفیں ہی الگ الگ ہیں، تو مشترک جو ہے وہ مختلفۃ الحدود کو شامل ہوتا ہے اور انہوں نے تو قید کیا لگا دی؟ متفقۃ الحدود، کہ ان کے حد ایک ہی ہو، تعریف ایک ہی ہو، تو لہٰذا جب متفقۃ الحدود کہا تو مشترک خارج ہوا کیونکہ وہ متفقۃ الحدود نہیں بلکہ اس کے افراد کیا ہوتے ہیں؟ مختلفۃ الحدود ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں "وَقِيلَ" اور کہا گیا ہے "مُتَّفِقَةَ الْحُدُودِ احْتِرَازٌ عَنِ الْمُشْتَرَكِ لِأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ أَفْرَادًا مُخْتَلِفَةَ الْحُدُودِ" کہ یہ احتراز ہے مشترک سے اس لیے کیونکہ یہ ایسے افراد کو شامل ہوتا ہے جو مختلفۃ الحدود ہوتے ہیں یعنی ان کی تعریفات مختلف ہوتی ہیں۔ "وَعَلَى سَبِيلِ الشُّمُولِ احْتِرَازٌ عَنِ النَّكِرَةِ الْمَنْفِيَّةِ" اور "عَلَى سَبِيلِ الشُّمُولِ" جو ہے یہ احتراز ہے نکرہ منفیہ سے، کس سے احتراز ہے؟ نکرہ منفیہ سے۔ بھئی دیکھیے، میں نے آپ سے کہا: "جاءنی رجلٌ"، میرے پاس ایک مرد آیا، ایک مرد۔ اگر ساتھ میں لگا دوں "لا امرأةٌ"، تو اس کا کیا معنی ہوگا پھر؟ میرے پاس جنسِ رجل آئے جنسِ عورت نہیں۔ تو "لا امرأةٌ" کی قید کو ذرا ہٹا دیں، صرف آپ نے یہ کہا: "جاءنی رجلٌ"، کیا ترجمہ ہوگا؟ میرے پاس ایک مرد آیا، ایک مرد۔ تو یہ "رجلٌ" ہے نکرہ اور اس پر کوئی حرفِ نفی داخل ہوا ہے ماقبل میں؟ نہیں، تو یہ خصوص کا فائدہ دے رہا ہے، ایک فرد مراد ہے۔ اور اس پر حرفِ نفی داخل کر دیں: "ما جاءنی رجلٌ"، اب کیا ترجمہ کریں گے؟ میرے پاس کوئی مرد نہیں آیا، تو دیکھو نکرہ تحت النفی عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ معلوم ہوا ہر ہر رجل کے آنے کی نفی ہو گئی۔ ہر ہر رجل کے آنے کی نفی ہو گئی۔ تو عموم آ گیا۔ لیکن یہ عموم جو ہے علیٰ سبیل الشمول ہے یا علیٰ سبیل البدل ہے؟ یہ علیٰ سبیل البدل ہے یعنی رجل کا ایک فرد پکڑا، بھئی ہاں اس کے بھی آنے کی نفی، دوسرا فرد اس کے بھی آنے کی نفی، تیسرا فرد اس کے بھی آنے کی نفی، تو علیٰ سبیل البدل ہر ہر فرد کی نفی ہوئی ہے اور ہم نے تو متن میں کیا قید لگا دی؟ علیٰ سبیل الشمول بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو لیکن بہرحال نکرہ منفیہ کو بھی عام کہا جاتا ہے۔ عموم تو آیا، عام تو ہے لیکن کہتے ہیں اس کو مجازاً عام کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ مجازاً عام کہتے ہیں، کیونکہ عموم تو بہرحال اس کے اندر آ گیا بھئی، لیکن حقیقتاً یہ عام نہیں ہے بھئی، کیونکہ حقیقتاً عام کسے کہتے ہیں جو علیٰ سبیل الشمول افراد کو کو شامل ہو۔ تو کہتے ہیں "وَعَلَى سَبِيلِ الشُّمُولِ احْتِرَازٌ عَنِ النَّكِرَةِ الْمَنْفِيَّةِ" یہ احتراز ہے نکرہ منفیہ سے "فَإِنَّهَا تَتَنَاوَلُ الْأَفْرَادَ عَلَى سَبِيلِ الْبَدَلِيَّةِ دُونَ الشُّمُولِ" اس لیے کیونکہ یہ شامل ہے افراد کو بدلیت کے طریقے پر نہ کہ شمول کے طریقے پر۔ وإنما اقتفى المصنف رحمه الله بالتناول دون الاستغراق اتباعا لفخر الإسلام. بھئی مصنف نے تناول کا لفظ ذکر کیا۔ عام کسے کہتے ہیں؟ جو افراد کو شامل ہو۔ افراد کو شامل ہو۔ یہ مذہب ہے علامہ فخر الاسلام کا۔ وہ فرماتے ہیں عام کے اندر استغراق ضروری نہیں ہے۔ یہ استغراق کا معنی احاطہ کر لینا تمام افراد کا۔ وہ فرماتے ہیں کہ عام کے اندر استغراق ضروری نہیں ہے کہ لفظ اپنے تمام افراد کا کیا کر لے؟ احاطہ کر لے۔ یہ ضروری نہیں، بس افراد ہونے چاہئیں۔ کیا ہونے چاہئیں؟ افراد ہونے چاہئیں۔ جبکہ صاحب توضیح وغیرہ کا مذہب یہ ہے کہ عام کے اندر استغراق ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام افراد کا احاطہ کر لے۔ کیا کر لے؟ تمام افراد کا احاطہ کر لے۔ اور مصنف نے کوئی استغراق کا لفظ ذکر کیا اوپر متن میں؟ نہیں، معلوم ہوا انہوں نے کس کے مذہب کو اختیار کیا؟ علامہ فخر الاسلام کے۔ معلوم ہوا ان کے نزدیک استغراق ضروری نہیں ہے۔ وإنما اقتفى المصنف رحمه الله بالتناول، اور اکتفا کیا مصنف نے تناول کے لفظ پر، دون الاستغراق، نہ کہ استغراق پر، اتباعا لفخر الإسلام، اتباع کرتے ہوئے علامہ فخر الاسلام کا، فإنه لا يشترط عنده في العام الاستغراق، اس لیے کیونکہ شرط نہیں ہے علامہ فخر الاسلام کے نزدیک عام کے اندر استغراق کا ہونا، لجميع الأفراد، استغراق کا ہونا کس کا؟ تمام افراد کے استغراق کی شرط نہیں ہے، فالجمع المعرف والمنكر كله عام، پس جمع معرف اور جمع منکر سب کے سب عام ہیں ان کے نزدیک۔ دیکھیے، توجہ سے سمجھیے بھئی! ایک جمع معرف ہے، یعنی وہ جمع جس پر الف لام داخل ہو، "الرجال" بھئی! اور ایک جمع منکر ہے، یعنی نکرہ جس پر الف لام نہ ہو، جیسے "رجال"۔ رجال۔ یاد رکھیے، جب جمع پر الف لام داخل ہو تو اس کی جمعیت باطل ہو جاتی ہے اور وہ استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔ کس چیز کا؟ استغراق کا۔ یعنی بھئی جمع تو اسے کہتے ہیں نا جو تین یا تین سے زیادہ پر بولا جائے۔ ایک اور دو کو وہ شامل نہیں ہوتا، بلکہ تین یا تین سے زیادہ۔ لیکن جب جمع پر الف لام داخل ہو جائے تو وہ استغراق کا فائدہ دیتا ہے، یعنی اپنے تمام افراد کو شامل ہو جاتا ہے، اس میں ایک بھی آ گیا اور دو بھی داخل ہو گئے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ جمع پر جب الف لام داخل ہو تو وہ کس چیز کا فائدہ دے گا؟ استغراق کا، یعنی اپنے تمام افراد کا احاطہ کر لے گا اور تمام کے اندر ایک بھی آ گیا اور دو بھی آ گئے بھئی۔ اور ایک ہے جمع جو منکر ہو، نکرہ ہو۔ مثلاً "رجال"۔ رجال کا کیا معنی کریں گے؟ الرجال کا معنی تو ہوا تمام مرد، اور رجال کا معنی؟ چند مرد، کچھ مرد۔ کچھ مرد۔ اس میں استغراق نہیں ہوتا۔ کچھ افراد مراد ہیں۔ اور کچھ بھی الف لام نہیں ہے، غیر متعین ہیں۔ کچھ افراد ہیں اور وہ بھی کس قسم کے ہیں؟ غیر متعین ہیں۔ میں آپ سے کہتا ہوں: "جاءني رجال"، کیا ترجمہ کریں گے؟ رجال جمع تو ہے، افراد تو ہیں اس کے اندر، لیکن اس میں استغراق نہیں۔ ترجمہ کیا ہوگا؟ "میرے پاس کچھ لوگ آئے، کچھ مرد آئے میرے پاس۔" تو یہ جمع ہے، اور جمع کا اطلاق کم از کم کتنے پر ہوتا ہے؟ تین پر ہوتا ہے۔ تو تین یا تین سے زیادہ کو تو شامل ہے، لیکن سارے افراد نہیں، کیونکہ ترجمہ میں نے کیا کیا؟ "کچھ لوگ آئے، میرے پاس کچھ لوگ آئے۔" بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو جمع منکر جو ہوتا ہے، اس میں اس میں استغراق نہیں ہوتا۔ چنانچہ اسی لیے علماءِ نحو فرماتے ہیں بھئی کہ جمع منکر سے استثناء صحیح نہیں۔ آپ یوں کہیں: "جاءني رجال إلا زيدا" (میرے پاس کچھ لوگ آئے سوائے زید کے)، کہتے ہیں یہ کلام آپ نہیں کر سکتے۔ یہ کلام آپ کا صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ مستثنیٰ منہ کون ہے؟ جمع منکر ہے بھئی، نکرہ ہے جمع۔ اور جمع منکر سے استثناء صحیح نہیں، اس لیے کیونکہ اس میں استغراق نہیں ہے بھئی۔ یہ استغراق کا فائدہ... یہاں زید کا، زید کو نہ تو مستثنیٰ منقطع بنا سکتے ہیں، نہ مستثنیٰ متصل بنا سکتے ہیں۔ بھئی دیکھیے، میں نے کہا: "جاءني رجال" (میرے پاس کچھ لوگ آئے)۔ اب آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ زید کا اس سے استثناء کرنا چاہتے ہیں، تو مستثنیٰ کی تو دو ہی صورتیں ہیں: یا مستثنیٰ متصل ہوتا ہے یا مستثنیٰ منقطع۔ دونوں یہاں صحیح نہیں۔ مستثنیٰ متصل اس لیے نہیں صحیح کیونکہ مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں؟ جو پہلے پہلے داخل تھا، پھر استثناء کے ذریعے اس کو کیا کر دیا گیا؟ خارج۔ تو یہاں ہمیں پتہ ہی نہیں "رجال" سے کچھ لوگ مراد ہیں، پتہ ہی نہیں زید ان میں پہلے داخل تھا یا داخل... اگر داخل ہوتا تو پھر استثناء بھی... لیکن ترجمہ کیا ہے؟ "میرے پاس کچھ لوگ آئے سوائے زید کے۔" اب اسے آپ کیا بنائیں گے؟ مستثنیٰ متصل بنائیں گے؟ بھئی پہلے قطعی یہ تو پتہ لگے زید ان میں داخل بھی ہے یا داخل نہیں، قطعی طور پر یہ علم نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس نے اپنے تمام افراد کا احاطہ کیا ہی نہیں۔ کچھ لوگ آئے، اب یہ بھی احتمال ہو سکتا ہے زید ان میں داخل ہو، ہو سکتا ہے زید ان میں داخل... قطعی طور پر کچھ علم نہیں۔ تو اگر قطعی طور پر علم ہوتا کہ زید ان میں داخل ہے تو ہم اس کو کیا بنا دیتے؟ "إلا زيدا" کو کیا بناتے؟ مستثنیٰ متصل، کیونکہ مستثنیٰ متصل کسے کہتے ہیں جو پہلے داخل تھا، پھر اس کو کیا کر دیا گیا؟ خارج کر دیا گیا۔ اور... تو لیکن یہ تو قطعی طور پر علم ہی نہیں ہے، کیونکہ "رجال" کا کیا معنی ہے؟ کچھ لوگ۔ زید ان میں ہو بھی سکتا ہے، نہیں۔ اور مستثنیٰ منقطع بھی نہیں بنا سکتے، اس لیے کیونکہ مستثنیٰ منقطع اسے کہتے ہیں جو قطعی طور پر پہلے مستثنیٰ منہ میں داخل ہی نہیں تھا، اور یہ یہاں پر کیا قطعی طور پر یہ بات طے ہے کہ زید ان میں پہلے داخل نہیں؟ کچھ علم ہی نہیں ہے بھئی، احتمال ہے ہو سکتا ہے داخل ہو، ہو سکتا ہے داخل نہ ہو، تو نہ اس کو مستثنیٰ متصل بنانا صحیح، نہ مستثنیٰ منقطع بنانا صحیح بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ ہاں، اس کی بجائے اگر کہا جائے: "جاءني الرجال إلا زيدا"، اب صحیح ہے مولانا! اب کیا ہے؟ صحیح ہے۔ فرق سمجھایا نا میں نے آپ کو! ایک معرفہ ہے جمع اور ایک ہے نکرہ۔ جو جمع معرفہ ہے جس پر الف لام داخل ہے، اس میں استغراق ہے، جو نکرہ ہے اس میں استغراق نہیں۔ اور علامہ فخر الاسلام کے نزدیک استغراق کی شرط نہیں ہے عام کے اندر، تو جمع چاہے نکرہ ہو چاہے معرفہ ہو، دونوں کیا ہیں؟ عام ہیں ان کے نزدیک۔ جبکہ وعند صاحب التوضيح، تو اس لیے کہتے ہیں: فالجمع المعرف والمنكر كله عام، تو جمع معرفہ اور نکرہ وہ سب کے سب عام ہیں کس کے نزدیک؟ علامہ فخر الاسلام۔ وعند صاحب التوضيح، اور صاحب توضیح کے نزدیک، يشترط في العام الاستغراق، اور کہ عام کے اندر شرط ہے، کیا؟ استغراق شرط ہے، تو جب استغراق شرط ہے تو جمع منکر میں تو استغراق نہیں، تو وہ عام سے خارج ہو گئی۔ کیا ہوئی؟ عام سے خارج ہوئی، کیونکہ اس میں استغراق نہیں۔ کون خارج ہوئے عام سے؟ جمع منکر، یعنی وہ جمع جو نکرہ ہو۔ اور خاص بھی نہیں، کیونکہ خاص تو افراد کو شامل نہیں ہوتا، اور جمع منکر تو کس کو شامل ہے؟ تین یا تین سے زیادہ کچھ افراد ہیں، تو وہ تو افراد کو شامل، تو واسطہ آ گیا۔ خاص اور عام کے درمیان جمع منکر خاص بھی نہیں کیونکہ افراد کو شامل ہے، اور عام بھی نہیں کیونکہ اس میں استغراق نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فيكون الجمع المنكر واسطة بين العام والخاص، تو اس صورت میں جمع منکر جو ہے وہ واسطہ ہو جائے گا عام اور خاص کے درمیان، کس کے نزدیک؟ صاحب توضیح کے نزدیک۔ جبکہ علامہ فخر الاسلام کے نزدیک جمع منکر کس میں داخل؟ عام ہی میں داخل۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔