درس نمبر۔31 ولما فرغ المصنف رحمه الله تعالى عن مباحث الأمر شرع في مباحث النهي فقال: ومنه النهي وهو قوله أي القائل لغيره على سبيل الاستعلاء لا تفعل. يعني أن النهي كالأمر في كونه من الخاص أنه لفظ وضع لمعنى معلوم وهو التحريم. ولما فرغ المصنف رحمه الله تعالى عن مباحث الأمر شرع في مباحث النهي فقال: ومنه النهي وهو قوله أي القائل لغيره على سبيل الاستعلاء لا تفعل. يعني أن النهي كالأمر في كونه من الخاص أنه لفظ وضع لمعنى معلوم وهو التحريم. আজ ہم نہی کی بحث شروع کریں گے بھئی۔ شارح فرماتے ہیں ولما فرغ المصنف رحمه الله عن مباحث الأمر کہ جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے امر کی مباحث سے شرع في مباحث النهي تو شروع ہوئے نہی کی مباحث میں، فقال پس وہ فرماتے ہیں ومنه النهي اور خاص میں سے ہی کیا ہے؟ نہی ہے۔ وهو قوله أي القائل ضمیر کا مرجع بتلایا کہ قوله کی ھا ضمیر کس کو راجع ہے؟ قائل کو۔ تو وهو قوله أي قول القائل، اور وہ کہنے والے کا یہ کہنا ہے لغيره اپنے غیر کو على سبيل الاستعلاء استعلاء کے طریقہ پر بھئی اپنے آپ کو بلند سمجھتے ہوئے، بڑا سمجھتے ہوئے لا تفعل یہ کہنا بھئی، یہ کیا ہے؟ نہی ہے بھئی۔ يعني أن النهي كالأمر في كونه من الخاص یعنی نہی بھی امر کی طرح ہے خاص ہونے کے اندر، لأنه لفظ وضع لمعنى معلوم اس لیے کہ وہ ایک ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہے ایک معنی معلوم کے لیے۔ کس کی بات کر رہے ہیں بھئی؟ لفظِ نہی مراد نہیں ہے بلکہ مسمائے نہی مراد ہے بھئی۔ بحث کس کے جیسے امر کے اندر بحث گزر چکی بھئی کہ وہاں لفظِ امر مراد نہیں تھا بلکہ کیا مراد تھا؟ مسمائے امر یعنی وہ صیغہ مراد تھا بھئی افعل والا، تو یہاں بھی وہ صیغہ مراد ہے اور یہاں کونسا صیغہ ہے نہی کا؟ لا تفعل بھئی۔ اس لیے کیونکہ اس کو وضع کیا گیا ایک معنی معلوم کے لیے وهو التحريم اور وہ کیا ہے؟ تحریم ہے بھئی، حرام کر دینا، حرام قرار دے دینا۔ تو جیسے امر ایک معنی معلوم کے لیے وضع تھا اور وہ کیا تھا؟ وہ وجوب تھا بھئی، طلبِ فعل کا وجوب۔ تو یہاں بھی وجوب ہے لیکن یہاں ترکِ فعل کا وجوب ہے، ترکِ فعل کا فعل کو چھوڑنا واجب ہے، ضروری ہے۔ اور یہ کس میں ہوتا ہے؟ حرام کے اندر بھئی کہ اس میں کیا ہوتا ہے فعل کا چھوڑنا ضروری ہوتا ہے اس سے اپنے آپ کو بچانا ضروری ہوتا ہے، اسی لیے کہا اس کا معنی کیا ہے؟ تحریم ہے بھئی، حرام کرنا، حرام کرنا۔ تو یاد رکھیے یہ نہی یہ بھی امر کی طرح ہے، جیسے امر کا ایک معنی حقیقی تھا وجوب اور باقی معانی میں جو استعمال ہوتا تھا وہ مجازاً استعمال ہوتا تھا، اسی طرح نہی جو ہے اس کا حقیقی معنی کیا ہے؟ تحریم، اور اس کے علاوہ باقی معانی میں جو استعمال ہوگا وہ اس کے کون سے معنی ہیں؟ مجازی معنی ہیں بھئی۔ لیکن نہی امر سے مختلف ہے بائیں اعتبار کہ امر میں جو امر جو ہے وہ محمول ہوتا تھا ہمارے نزدیک تراخی پر بھئی، وعلی الفور وہاں پر وجوب نہیں بلکہ علی التراخی ہوتا تھا، لیکن نہی کے اندر جو تحریم ہے وہ علی الفور آئے گی بھئی، فوراً بھئی۔ کیا ہے ترکِ فعل کیا کرنا؟ ترکِ فعل یہ علی الفور واجب ہوگا کہ فوراً اس کام کو کیا کر دو؟ چھوڑ دو بھئی، تو وہ علی الفور نہیں تھا وہ علی التراخی تھا اور یہ علی الفور ہے۔ نیز امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا تھا جبکہ نہی تکرار کے لیے ہے بھئی یعنی استمرار کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ تکرار یعنی استمرار مراد ہے بھئی تکرار سے کہ استمرار کے ساتھ اس فعل سے بچو اس سے دور رہو۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں وباقي القيودات كما مضى في الأمر اور باقی قیودات اس طرح ہیں جس طرح کے امر کے اندر گزر گئیں، امر میں گزریں، غير أنه وضع وضع قوله لا تفعل مكان قوله افعل۔ تو باقی قیودات اسی طرح ہیں بھئی، وہاں جیسے على سبيل الاستعلاء کی قید موجود تھی یہاں بھی کونسی قید موجود ہے؟ على سبيل الاستعلاء کی قید موجود ہے۔ سوائے اس کے کہ یہاں پر قولِ قائل لا تفعل کو رکھ دیا گیا ہے قولِ قائل افعل کی جگہ، اس کے قول افعل کی جگہ کونسا قول رکھ دیا گیا ہے؟ لا تفعل رکھ دیا گیا ہے۔ وهو يشمل المخاطب والغائب والمتكلم والمعروف والمجهول، اور یہ شامل ہے مخاطب کو بھی، غائب کو بھی، متکلم کو بھی، معروف کو بھی اور مجہول کو بھی۔ یعنی جیسے وہاں اشکال ہوا تھا بھئی کہ افعل افعل بھئی یہ تو صرف مخاطب کا صیغہ ہے، اس کے حالانکہ امر کے تو اور بھی صیغے آتے ہیں غائب کے لیے بھی آتے ہیں، متکلم کے لیے بھی آتے ہیں، اسی طرح معروف کے بھی آتے ہیں، مجہول کے بھی آتے ہیں اور ثلاثی مجرد کے بھی آتے ہیں، ثلاثی مزید کے، رباعی کے بھی، رباعی مجرد کے بھی، رباعی مزید کے بھی، تو افعل تو ان ساروں کو شامل نہیں، تو جواب کیا دیا تھا وہاں پر؟ افعل سے کیا مراد ہے؟ ہر وہ صیغہ ہے جو امر کے معروف طریقے پر بنایا جائے بھئی، چاہے وہ غائب کا ہو، چاہے متکلم کا ہو، چاہے مخاطب کا ہو، چاہے معروف کا ہو، چاہے مجہول کا۔ تو یہاں بھی لا تفعل سے مراد یہی صیغہ نہیں ہے بلکہ مراد ہر وہ صیغہ ہے جو نہی کے معلوم طریقے پر بنایا جائے بھئی، چاہے وہ غائب کا ہو، چاہے چاہے متکلم کا ہو، چاہے مخاطب کا ہو، چاہے معروف ہو، چاہے مجہول ہو بھئی، چاہے ثلاثی مجرد ہو، چاہے ثلاثی مزید فیہ ہو، چاہے رباعی مجرد ہو، چاہے رباعی مزید فیہ ہو۔ تو بس اس کے معروف طریقے پر جو صیغہ بنایا جائے وہ مراد ہے، اب تو سارے اس کے اندر داخل ہو گئے بھئی۔ اسی لیے کہا وهو يشمل المخاطب والغائب والمتكلم والمعروف والمجهول اور یہ شامل ہے لا تفعل شامل ہے مخاطب کو بھی، غائب کو بھی، متکلم کو بھی، معروف اور مجہول کو بھی، تمام صیغوں کو بھئی۔ وإنه يقتضي صفة القبح للمنهي عنه ضرورة حكمة الناهي، اور یہ تقاضا کرتا ہے نہی عنہ کے قبیح ہونے کا۔ یہ نہی کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ نہی عنہ کے قبیح ہونے کا جیسے مولانا امر تقاضا کرتا تھا مامور بہ کے حسن کا کہ جب اللہ تعالی نے ایک چیز کا حکم دیا ہے تو اور اللہ تعالی حکیم ہیں تو مامور بہ میں یہ ضرور کیا ہے؟ حسن ہے۔ تو اسی طرح نہی بھی اللہ کی طرف سے آئی ہے تو یہ تقاضا کرتی ہے کہ یقیناً اس نہی عنہ کے اندر کیا ہے؟ قباحت ہے بھئی، یہ قبیح ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وإنه يقتضي صفة القبح للمنهي عنه ضرورة حكمة الناهي، ضرورت کے معنی وہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا بالیقین اور بالبداہۃ، یقینی اور بداہت کے کر لیں۔ ناہی کے حکیم ہونے کے یقینی ہونے کی وجہ سے، ناہی کے حکیم ہونے کے یقینی ہونے کی وجہ سے۔ یاد رکھنا مولانا کتابوں میں بالضرورۃ کا لفظ آئے تو وہ بمعنی بالبداہۃ کے اور بالیقین کے ہوتا ہے بھئی، بالبداہۃ اور بالیقین۔ یہ نقطہ اہم ہے یہ صاحب رحمہ اللہ نے بتلایا تھا بھئی شرح عقائد کے سبق میں، فرمایا تھا کہ بالضرورۃ کا لفظ کتابوں میں آئے تو وہ بمعنی بالبداہۃ اور بالیقین کے ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وإنه يقتضي صفة القبح کہ یہ نہی تقاضا کرتی ہے قبح کی صفت کا یعنی قبیح ہونے کی صفت کا للمنهي عنه کس میں؟ نہی عنہ میں، کے لیے صفتِ قبح کا تقاضا کرتی ہے ضرورة حكمة الناهي ناہی کے حکیم ہونے کے یقینی ہونے کی وجہ سے، ناہی کے حکیم ہونے کے بدیہی ہونے کی وجہ سے۔ تو بھئی دیکھیے یہ نہیں کہ نہی کی وجہ سے اس چیز میں قباحت آ گئی بھئی، نہی کی وجہ سے قباحت نہیں آئی۔ یہ بات بہت پہلے گزر چکی ہے کہ مامور بہ کے اندر حسن تھا لیکن یہ حسن اس میں امر کی وجہ سے نہیں آیا، حسن اس میں پہلے سے تھا امر نے آ کر صرف کیا کر دیا؟ اس کو ظاہر کر دیا اور بتلا دیا کہ یہ اس میں کیا ہے؟ حسن ہے۔ تو یہاں بھی نہی عنہ کے اندر وہ قباحت پہلے سے موجود ہے، نہی صرف آ کر اس کو کیا کر دے گی؟ ظاہر کر دے گی، بتلا دے گی ہمیں کہ اس کے اندر کیا ہے؟ جب شارع حکیم ہے اور وہ اس کام سے منع کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ قبیح ہے، اس کے اندر قباحت ہے چاہے ہمیں پہلے سے اس کا علم ہی نہ ہو بھئی۔ تو اب نہی نے آ کر ہمیں بتلا دیا۔ تو بعض اوقات عقل پہلے سے ہی سمجھ لے گی اس میں کے اندر قبح کو جان لے گی، قباحت کو جان لے گی اور بعض اوقات عقل اس کو اس کے اندر قباحت کا ادراک نہیں کر سکتی تو پھر نہی آ کر کیا کر دیتی ہے؟ اس کی قباحت کو آشکارا کر دیتی ہے۔ والحكيم إنما ينهى عن الفحشاء والمنكر اور وہ حکیم جو ہے وہ بے ہودہ اور ناپسندیدہ کاموں سے ہی روکتا ہے كما أن الحسن في جانب الأمر كذلك، یہ كذلك مخفف ہے مولانا تخفیف کر دی۔ جیسے کہ حسن ہے امر کی جانب میں اسی طرح، جیسے کہ امر کی جانب میں حسن ہے اسی طرح، یعنی جیسے امر کا مقتضا کیا ہے کہ مامور بہ میں کیا ہونا چاہیے؟ حسن، اسی طرح نہی کا مقتضا کیا ہے کہ نہی عنہ میں کیا ہونا چاہیے؟ قبح ہونا چاہیے، اس میں قباحت ہونی چاہیے۔ ثم إن في النهي تقسيماً بحسب أقسام القبح، پھر نہی کے اندر تقسیم ہے مولانا قبح کی اقسام کے اعتبار سے۔ وهو أنه إما قبيح لعينه أو لغيره، اور وہ یہ کہ یا تو وہ جو نہی عنہ ہے قبیح ہوگا اپنی ذات ہی کے اعتبار سے أو لغيره یا کسی غیر کی وجہ سے وكل منهما نوعان اور ان دونوں میں سے ہر ایک دو قسم پر ہے۔ تو کہتے ہیں وہ مامور بہ یا تو قبیح اپنی ذات کے اعتبار سے ہوگا یا قبیح ہوگا غیر کی وجہ سے بھئی، اس کی اپنی ذات تو قبیح نہیں لیکن غیر کی وجہ سے اس میں کیا آ گئی؟ قباحت آ گئی تو وكل منهما نوعان اور پھر ان میں سے ہر ایک دو قسم پر ہے، قبیح لعینہ بھی اور قبیح لغیرہ بھی فصار المجموع أربعة تو مجموعہ چار ہو گیا مولانا، چار قسمیں ہو گئیں على ما بينه المصنف رحمة الله بقوله، بناء پر اس کے جس کو بیان کیا ہے مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے: وهو یہ متن ہے مولانا، وهو أي المنهي عنه المفهوم من النهي، وہ نہی عنہ جو مفہوم ہو رہا ہے نہی سے۔ هو ضمیر کس کو راجع ہے؟ نہی عنہ کو راجع ہے وہ نہی عنہ جو نہی سے مفہوم ہو رہا ہے۔ یا تو شارح کے اس عبارت کے لانے کا مقصد یہ ہے مطلب یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ ضمیر تو نہی عنہ کو راجع ہے لیکن پیچھے نہی عنہ کا ذکر نہیں ہوا تو شارح یہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی نہی عنہ نہی سے خود مفہوم ہو رہا ہے بھئی، نہی عنہ کیا ہے نہی سے خود مفہوم ہو رہا ہے تو لہٰذا یہ ضمیر نہی عنہ کو راجع ہوئی اور وہ نہی عنہ نہی سے مفہوم ہو رہا ہے۔ تو اس صورت میں یہ شارح کا تسامح ہے مولانا، کیونکہ نہی عنہ کا پیچھے صراحتاً ذکر ہو چکا ہے۔ جیسے وہ آیا تھا وإنه يقتضي صفة القبح للمنهي عنه تو نہی عنہ کا ذکر ہو چکا ہے، تو شارح سمجھے کہ شاید پیچھے ذکر نہیں ہوا، پیچھے صرف نہی کی بات ہوئی ہے تو انہوں نے اس لیے یہ تاویل کی بھئی کہ وہ نہی عنہ جو کس سے مفہوم ہو رہا ہے؟ نہی سے مفہوم ہو رہا ہے بھئی۔ تو اس صورت میں، میں نے بتلایا یہ کیا ہے؟ شارح کا تسامح ہے مولانا کیونکہ نہی عنہ تو خود پیچھے صراحتاً مذکور ہے، لہٰذا یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ نہی سے مفہوم ہو رہا ہے، وہ خود موجود ہے عبارت کے اندر۔ یا شارح کے اس عبارت لانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ هو ضمیر نہی کو راجع ہے لیکن مراد نہی عنہ ہے، وہ نہی عنہ جو نہی سے مفہوم ہو رہا ہے بھئی۔ یعنی ضمیر کس کو راجع ہے؟ نہی ہی کو راجع ہے، البتہ مراد کیا ہے؟ نہی عنہ، کیونکہ نہی سے کیا مفہوم ہو رہا ہے؟ نہی عنہ۔ تو ضمیر کو نہی ہی کی طرف راجع کرنا چاہتے ہیں تاکہ انتشارِ ضمائر سے محفوظ رہے عبارت مولانا، اس لیے کہ ماقبل میں بھی نہی کی بات چل رہی ہے کہ وهو قوله على سبيل الاستعلاء لا تفعل وإنه يقتضي یہ بھی ھا ضمیر بھی کس کو راجع ہے؟ إنه کی ھا ضمیر، یہ بھی نہی کو، تو ماقبل کی ضمیریں بھی نہی کو راجع تھیں، ما بعد میں بھی آگے بھی متن آ رہا ہے والنهي عن الأفعال الحسية اگلے صفحے پر جو متن ہے وہاں بھی نہی کا ذکر چل رہا ہے، ماقبل بھی نہی کا ذکر، مابعد بھی نہی کا ذکر تو لہٰذا یہاں بھی کیا ہونا چاہیے؟ ضمیر کو کس کی طرف راجع ہونا چاہیے؟ نہی کی طرف راجع ہونا چاہیے تاکہ انتشارِ ضمائر سے ہم محفوظ ہو جائیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ضمیر یا تو کہنے کا گویا ان کا مطلب یہ ہے کہ ضمیر تو نہی ہی کو راجع ہے لیکن اس سے مراد کیا ہے؟ نہی عنہ مراد ہے بھئی، اس لیے کیونکہ آگے بتلا رہے ہیں نہی عنہ اس لیے مراد کیونکہ قبیح لعینہ خود بتلا رہے ہیں وہ قبیح لعینہ ہوگا یا قبیح لغیرہ ہوگا تو وہ نہی عنہ قبیح لعینہ ہوگا یا نہی عنہ کیا ہوگا؟ قبیح لغیرہ ہوگا مولانا، نہی نہیں بھئی نہی نہیں، سمجھ میں آیا؟ تو قبیح لعینہ کس کی صفت ہے؟ نہی عنہ کی صفت ہے، نیز آگے مثالیں جو آ رہی ہیں مولانا كالكفر وبيع وبيع الحر وصوم يوم النحر یہ نہی عنہ کی مثالیں ہیں نہی کی مثالیں تو نہیں ہیں، نہی کی مثال تو کیا ہوتی؟ جیسے آتا لا تقربوا الزنا، یہ لا تقربوا کس کی مثال ہے؟ نہی کی، تو آگے مثالیں بھی نہی عنہ کی آ رہی تھیں تو لہٰذا اس سے نہی عنہ کی طرف یا تو راجع کرنا پڑے گا یا یہ کہنا پڑے گا کہ نہی کو راجع ہے اور مراد اس سے کیا ہے؟ نہی عنہ ہے۔ تو وہ جو نہی عنہ جو مفہوم ہے نہی سے إما أن يكون قبيحاً لعينه یا تو وہ کیا ہوگا؟ قبیح ہوگا اپنی ذات کے اعتبار سے أي تكون ذاته قبيحة بقطع النظر عن الأوصاف اللازمة والعوارض المجاورة، یعنی اس کی ذات ہی قبیح ہوگی قطعِ نظر کرتے ہوئے ان اوصاف سے جو اس کے ساتھ لازم ہیں یا ان عوارض کے جو اس کے پڑوس اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں مجاور ہیں یعنی اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یعنی وہ اوصاف جو اس نہی عنہ کے ساتھ لازم ہیں یا وہ عوارض جو اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ان سے قطعِ نظر اس نہی عنہ کی ذات ہی کیا ہوگی؟ قبیح ہوگی، قباحت اس کی ذات ہی میں ہوگی مولانا، اس کے وہ یعنی غیر کی وجہ سے اس میں قباحت نہیں آئے گی، اس کے لازم یا اس کے مجاور کی وجہ سے اس میں قباحت نہیں ہے بلکہ اس کی ذات ہی میں قباحت ہے۔ وذلك نوعان، اور یہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے، وضعاً وشرعاً بھئی۔ اعتبارِ وضع کے اور ایک باعتبارِ شریعت کے بھئی، باعتبارِ وضع اور باعتبارِ شریعت کے یہ معنی بھئی کہ یعنی اس نہی عنہ کو وضع ہی ایک ایسے معنی کے لیے کیا گیا تھا جو کیا ہے؟ قبیح ہے، عقل کی نظر میں قبیح ہے، تو یہاں عقل اس کی قباحت کو خود ہی جان لیتی ہے، شریعت پر اس کے جاننے کا دارومدار نہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ کہ اس نہی عنہ کو وضع ہی کس کے لیے کیا گیا تھا؟ یہ نہی عنہ جس سے روکا گیا ہے مولانا، اس کو وضع ہی کس معنی کے لیے کیا گیا تھا؟ ہم نہی کی بحث شروع کریں گے بھئی۔ شارح فرماتے ہیں ولما فرغ المصنف رحمه الله عن مباحث الأمر کہ جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے امر کی مباحث سے شرع في مباحث النهي تو شروع ہوئے نہی کی مباحث میں، فقال پس وہ فرماتے ہیں ومنه النهي اور خاص میں سے ہی کیا ہے؟ نہی ہے۔ وهو قوله أي القائل ضمیر کا مرجع بتلایا کہ قوله کی ھا ضمیر کس کو راجع ہے؟ قائل کو۔ تو وهو قوله أي قول القائل، اور وہ کہنے والے کا یہ کہنا ہے لغيره اپنے غیر کو على سبيل الاستعلاء استعلاء کے طریقہ پر بھئی اپنے آپ کو بلند سمجھتے ہوئے، بڑا سمجھتے ہوئے لا تفعل یہ کہنا بھئی، یہ کیا ہے؟ نہی ہے بھئی۔ يعني أن النهي كالأمر في كونه من الخاص یعنی نہی بھی امر کی طرح ہے خاص ہونے کے اندر، لأنه لفظ وضع لمعنى معلوم اس لیے کہ وہ ایک ایسا لفظ ہے جس کو وضع کیا گیا ہے ایک معنی معلوم کے لیے۔ کس کی بات کر رہے ہیں بھئی؟ لفظِ نہی مراد نہیں ہے بلکہ مسمائے نہی مراد ہے بھئی۔ بحث کس کے جیسے امر کے اندر بحث گزر چکی بھئی کہ وہاں لفظِ امر مراد نہیں تھا بلکہ کیا مراد تھا؟ مسمائے امر یعنی وہ صیغہ مراد تھا بھئی افعل والا، تو یہاں بھی وہ صیغہ مراد ہے اور یہاں کونسا صیغہ ہے نہی کا؟ لا تفعل بھئی۔ اس لیے کیونکہ اس کو وضع کیا گیا ایک معنی معلوم کے لیے وهو التحريم اور وہ کیا ہے؟ تحریم ہے بھئی، حرام کر دینا، حرام قرار دے دینا۔ تو جیسے امر ایک معنی معلوم کے لیے وضع تھا اور وہ کیا تھا؟ وہ وجوب تھا بھئی، طلبِ فعل کا وجوب۔ تو یہاں بھی وجوب ہے لیکن یہاں ترکِ فعل کا وجوب ہے، ترکِ فعل کا فعل کو چھوڑنا واجب ہے، ضروری ہے۔ اور یہ کس میں ہوتا ہے؟ حرام کے اندر بھئی کہ اس میں کیا ہوتا ہے فعل کا چھوڑنا ضروری ہوتا ہے اس سے اپنے آپ کو بچانا ضروری ہوتا ہے، اسی لیے کہا اس کا معنی کیا ہے؟ تحریم ہے بھئی، حرام کرنا، حرام کرنا۔ تو یاد رکھیے یہ نہی یہ بھی امر کی طرح ہے، جیسے امر کا ایک معنی حقیقی تھا وجوب اور باقی معانی میں جو استعمال ہوتا تھا وہ مجازاً استعمال ہوتا تھا، اسی طرح نہی جو ہے اس کا حقیقی معنی کیا ہے؟ تحریم، اور اس کے علاوہ باقی معانی میں جو استعمال ہوگا وہ اس کے کون سے معنی ہیں؟ مجازی معنی ہیں بھئی۔ لیکن نہی امر سے مختلف ہے بائیں اعتبار کہ امر میں جو امر جو ہے وہ محمول ہوتا تھا ہمارے نزدیک تراخی پر بھئی، وعلی الفور وہاں پر وجوب نہیں بلکہ علی التراخی ہوتا تھا، لیکن نہی کے اندر جو تحریم ہے وہ علی الفور آئے گی بھئی، فوراً بھئی۔ کیا ہے ترکِ فعل کیا کرنا؟ ترکِ فعل یہ علی الفور واجب ہوگا کہ فوراً اس کام کو کیا کر دو؟ چھوڑ دو بھئی، تو وہ علی الفور نہیں تھا وہ علی التراخی تھا اور یہ علی الفور ہے۔ نیز امر تکرار کا احتمال نہیں رکھتا تھا جبکہ نہی تکرار کے لیے ہے بھئی یعنی استمرار کے لیے ہے، کس کے لیے ہے؟ تکرار یعنی استمرار مراد ہے بھئی تکرار سے کہ استمرار کے ساتھ اس فعل سے بچو اس سے دور رہو۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں وباقي القيودات كما مضى في الأمر اور باقی قیودات اس طرح ہیں جس طرح کے امر کے اندر گزر گئیں، امر میں گزریں، غير أنه وضع وضع قوله لا تفعل مكان قوله افعل۔ تو باقی قیودات اسی طرح ہیں بھئی، وہاں جیسے على سبيل الاستعلاء کی قید موجود تھی یہاں بھی کونسی قید موجود ہے؟ على سبيل الاستعلاء کی قید موجود ہے۔ سوائے اس کے کہ یہاں پر قولِ قائل لا تفعل کو رکھ دیا گیا ہے قولِ قائل افعل کی جگہ، اس کے قول افعل کی جگہ کونسا قول رکھ دیا گیا ہے؟ لا تفعل رکھ دیا گیا ہے۔ وهو يشمل المخاطب والغائب والمتكلم والمعروف والمجهول، اور یہ شامل ہے مخاطب کو بھی، غائب کو بھی، متکلم کو بھی، معروف کو بھی اور مجہول کو بھی۔ یعنی جیسے وہاں اشکال ہوا تھا بھئی کہ افعل افعل بھئی یہ تو صرف مخاطب کا صیغہ ہے، اس کے حالانکہ امر کے تو اور بھی صیغے آتے ہیں غائب کے لیے بھی آتے ہیں، متکلم کے لیے بھی آتے ہیں، اسی طرح معروف کے بھی آتے ہیں، مجہول کے بھی آتے ہیں اور ثلاثی مجرد کے بھی آتے ہیں، ثلاثی مزید کے، رباعی کے بھی، رباعی مجرد کے بھی، رباعی مزید کے بھی، تو افعل تو ان ساروں کو شامل نہیں، تو جواب کیا دیا تھا وہاں پر؟ افعل سے کیا مراد ہے؟ ہر وہ صیغہ ہے جو امر کے معروف طریقے پر بنایا جائے بھئی، چاہے وہ غائب کا ہو، چاہے متکلم کا ہو، چاہے مخاطب کا ہو، چاہے معروف کا ہو، چاہے مجہول کا۔ تو یہاں بھی لا تفعل سے مراد یہی صیغہ نہیں ہے بلکہ مراد ہر وہ صیغہ ہے جو نہی کے معلوم طریقے پر بنایا جائے بھئی، چاہے وہ غائب کا ہو، چاہے چاہے متکلم کا ہو، چاہے مخاطب کا ہو، چاہے معروف ہو، چاہے مجہول ہو بھئی، چاہے ثلاثی مجرد ہو، چاہے ثلاثی مزید فیہ ہو، چاہے رباعی مجرد ہو، چاہے رباعی مزید فیہ ہو۔ تو بس اس کے معروف طریقے پر جو صیغہ بنایا جائے وہ مراد ہے، اب تو سارے اس کے اندر داخل ہو گئے بھئی۔ اسی لیے کہا وهو يشمل المخاطب والغائب والمتكلم والمعروف والمجهول اور یہ شامل ہے لا تفعل شامل ہے مخاطب کو بھی، غائب کو بھی، متکلم کو بھی، معروف اور مجہول کو بھی، تمام صیغوں کو بھئی۔ وإنه يقتضي صفة القبح للمنهي عنه ضرورة حكمة الناهي، اور یہ تقاضا کرتا ہے نہی عنہ کے قبیح ہونے کا۔ یہ نہی کس چیز کا تقاضا کرتی ہے؟ نہی عنہ کے قبیح ہونے کا جیسے مولانا امر تقاضا کرتا تھا مامور بہ کے حسن کا کہ جب اللہ تعالی نے ایک چیز کا حکم دیا ہے تو اور اللہ تعالی حکیم ہیں تو مامور بہ میں یہ ضرور کیا ہے؟ حسن ہے۔ تو اسی طرح نہی بھی اللہ کی طرف سے آئی ہے تو یہ تقاضا کرتی ہے کہ یقیناً اس نہی عنہ کے اندر کیا ہے؟ قباحت ہے بھئی، یہ قبیح ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وإنه يقتضي صفة القبح للمنهي عنه ضرورة حكمة الناهي، ضرورت کے معنی وہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا بالیقین اور بالبداہۃ، یقینی اور بداہت کے کر لیں۔ ناہی کے حکیم ہونے کے یقینی ہونے کی وجہ سے، ناہی کے حکیم ہونے کے یقینی ہونے کی وجہ سے۔ یاد رکھنا مولانا کتابوں میں بالضرورۃ کا لفظ آئے تو وہ بمعنی بالبداہۃ کے اور بالیقین کے ہوتا ہے بھئی، بالبداہۃ اور بالیقین۔ یہ نقطہ اہم ہے یہ صاحب رحمہ اللہ نے بتلایا تھا بھئی شرح عقائد کے سبق میں، فرمایا تھا کہ بالضرورۃ کا لفظ کتابوں میں آئے تو وہ بمعنی بالبداہۃ اور بالیقین کے ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وإنه يقتضي صفة القبح کہ یہ نہی تقاضا کرتی ہے قبح کی صفت کا یعنی قبیح ہونے کی صفت کا للمنهي عنه کس میں؟ نہی عنہ میں، کے لیے صفتِ قبح کا تقاضا کرتی ہے ضرورة حكمة الناهي ناہی کے حکیم ہونے کے یقینی ہونے کی وجہ سے، ناہی کے حکیم ہونے کے بدیہی ہونے کی وجہ سے۔ تو بھئی دیکھیے یہ نہیں کہ نہی کی وجہ سے اس چیز میں قباحت آ گئی بھئی، نہی کی وجہ سے قباحت نہیں آئی۔ یہ بات بہت پہلے گزر چکی ہے کہ مامور بہ کے اندر حسن تھا لیکن یہ حسن اس میں امر کی وجہ سے نہیں آیا، حسن اس میں پہلے سے تھا امر نے آ کر صرف کیا کر دیا؟ اس کو ظاہر کر دیا اور بتلا دیا کہ یہ اس میں کیا ہے؟ حسن ہے۔ تو یہاں بھی نہی عنہ کے اندر وہ قباحت پہلے سے موجود ہے، نہی صرف آ کر اس کو کیا کر دے گی؟ ظاہر کر دے گی، بتلا دے گی ہمیں کہ اس کے اندر کیا ہے؟ جب شارع حکیم ہے اور وہ اس کام سے منع کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ قبیح ہے، اس کے اندر قباحت ہے چاہے ہمیں پہلے سے اس کا علم ہی نہ ہو بھئی۔ تو اب نہی نے آ کر ہمیں بتلا دیا۔ تو بعض اوقات عقل پہلے سے ہی سمجھ لے گی اس میں کے اندر قبح کو جان لے گی، قباحت کو جان لے گی اور بعض اوقات عقل اس کو اس کے اندر قباحت کا ادراک نہیں کر سکتی تو پھر نہی آ کر کیا کر دیتی ہے؟ اس کی قباحت کو آشکارا کر دیتی ہے۔ والحكيم إنما ينهى عن الفحشاء والمنكر اور وہ حکیم جو ہے وہ بے ہودہ اور ناپسندیدہ کاموں سے ہی روکتا ہے كما أن الحسن في جانب الأمر كذلك، یہ كذلك مخفف ہے مولانا تخفیف کر دی۔ جیسے کہ حسن ہے امر کی جانب میں اسی طرح، جیسے کہ امر کی جانب میں حسن ہے اسی طرح، یعنی جیسے امر کا مقتضا کیا ہے کہ مامور بہ میں کیا ہونا چاہیے؟ حسن، اسی طرح نہی کا مقتضا کیا ہے کہ نہی عنہ میں کیا ہونا چاہیے؟ قبح ہونا چاہیے، اس میں قباحت ہونی چاہیے۔ ثم إن في النهي تقسيماً بحسب أقسام القبح، پھر نہی کے اندر تقسیم ہے مولانا قبح کی اقسام کے اعتبار سے۔ وهو أنه إما قبيح لعينه أو لغيره، اور وہ یہ کہ یا تو وہ جو نہی عنہ ہے قبیح ہوگا اپنی ذات ہی کے اعتبار سے أو لغيره یا کسی غیر کی وجہ سے وكل منهما نوعان اور ان دونوں میں سے ہر ایک دو قسم پر ہے۔ تو کہتے ہیں وہ مامور بہ یا تو قبیح اپنی ذات کے اعتبار سے ہوگا یا قبیح ہوگا غیر کی وجہ سے بھئی، اس کی اپنی ذات تو قبیح نہیں لیکن غیر کی وجہ سے اس میں کیا آ گئی؟ قباحت آ گئی تو وكل منهما نوعان اور پھر ان میں سے ہر ایک دو قسم پر ہے، قبیح لعینہ بھی اور قبیح لغیرہ بھی فصار المجموع أربعة تو مجموعہ چار ہو گیا مولانا، چار قسمیں ہو گئیں على ما بينه المصنف رحمة الله بقوله، بناء پر اس کے جس کو بیان کیا ہے مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے: وهو یہ متن ہے مولانا، وهو أي المنهي عنه المفهوم من النهي، وہ نہی عنہ جو مفہوم ہو رہا ہے نہی سے۔ هو ضمیر کس کو راجع ہے؟ نہی عنہ کو راجع ہے وہ نہی عنہ جو نہی سے مفہوم ہو رہا ہے۔ یا تو شارح کے اس عبارت کے لانے کا مقصد یہ ہے مطلب یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ ضمیر تو نہی عنہ کو راجع ہے لیکن پیچھے نہی عنہ کا ذکر نہیں ہوا تو شارح یہ بتلا رہے ہیں کہ بھئی نہی عنہ نہی سے خود مفہوم ہو رہا ہے بھئی، نہی عنہ کیا ہے نہی سے خود مفہوم ہو رہا ہے تو لہٰذا یہ ضمیر نہی عنہ کو راجع ہوئی اور وہ نہی عنہ نہی سے مفہوم ہو رہا ہے۔ تو اس صورت میں یہ شارح کا تسامح ہے مولانا، کیونکہ نہی عنہ کا پیچھے صراحتاً ذکر ہو چکا ہے۔ جیسے وہ آیا تھا وإنه يقتضي صفة القبح للمنهي عنه تو نہی عنہ کا ذکر ہو چکا ہے، تو شارح سمجھے کہ شاید پیچھے ذکر نہیں ہوا، پیچھے صرف نہی کی بات ہوئی ہے تو انہوں نے اس لیے یہ تاویل کی بھئی کہ وہ نہی عنہ جو کس سے مفہوم ہو رہا ہے؟ نہی سے مفہوم ہو رہا ہے بھئی۔ تو اس صورت میں، میں نے بتلایا یہ کیا ہے؟ شارح کا تسامح ہے مولانا کیونکہ نہی عنہ تو خود پیچھے صراحتاً مذکور ہے، لہٰذا یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ وہ نہی سے مفہوم ہو رہا ہے، وہ خود موجود ہے عبارت کے اندر۔ یا شارح کے اس عبارت لانے کا مقصد یہ ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ هو ضمیر نہی کو راجع ہے لیکن مراد نہی عنہ ہے، وہ نہی عنہ جو نہی سے مفہوم ہو رہا ہے بھئی۔ یعنی ضمیر کس کو راجع ہے؟ نہی ہی کو راجع ہے، البتہ مراد کیا ہے؟ نہی عنہ، کیونکہ نہی سے کیا مفہوم ہو رہا ہے؟ نہی عنہ۔ تو ضمیر کو نہی ہی کی طرف راجع کرنا چاہتے ہیں تاکہ انتشارِ ضمائر سے محفوظ رہے عبارت مولانا، اس لیے کہ ماقبل میں بھی نہی کی بات چل رہی ہے کہ وهو قوله على سبيل الاستعلاء لا تفعل وإنه يقتضي یہ بھی ھا ضمیر بھی کس کو راجع ہے؟ إنه کی ھا ضمیر، یہ بھی نہی کو، تو ماقبل کی ضمیریں بھی نہی کو راجع تھیں، ما بعد میں بھی آگے بھی متن آ رہا ہے والنهي عن الأفعال الحسية اگلے صفحے پر جو متن ہے وہاں بھی نہی کا ذکر چل رہا ہے، ماقبل بھی نہی کا ذکر، مابعد بھی نہی کا ذکر تو لہٰذا یہاں بھی کیا ہونا چاہیے؟ ضمیر کو کس کی طرف راجع ہونا چاہیے؟ نہی کی طرف راجع ہونا چاہیے تاکہ انتشارِ ضمائر سے ہم محفوظ ہو جائیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ضمیر یا تو کہنے کا گویا ان کا مطلب یہ ہے کہ ضمیر تو نہی ہی کو راجع ہے لیکن اس سے مراد کیا ہے؟ نہی عنہ مراد ہے بھئی، اس لیے کیونکہ آگے بتلا رہے ہیں نہی عنہ اس لیے مراد کیونکہ قبیح لعینہ خود بتلا رہے ہیں وہ قبیح لعینہ ہوگا یا قبیح لغیرہ ہوگا تو وہ نہی عنہ قبیح لعینہ ہوگا یا نہی عنہ کیا ہوگا؟ قبیح لغیرہ ہوگا مولانا، نہی نہیں بھئی نہی نہیں، سمجھ میں آیا؟ تو قبیح لعینہ کس کی صفت ہے؟ نہی عنہ کی صفت ہے، نیز آگے مثالیں جو آ رہی ہیں مولانا كالكفر وبيع وبيع الحر وصوم يوم النحر یہ نہی عنہ کی مثالیں ہیں نہی کی مثالیں تو نہیں ہیں، نہی کی مثال تو کیا ہوتی؟ جیسے آتا لا تقربوا الزنا، یہ لا تقربوا کس کی مثال ہے؟ نہی کی، تو آگے مثالیں بھی نہی عنہ کی آ رہی تھیں تو لہٰذا اس سے نہی عنہ کی طرف یا تو راجع کرنا پڑے گا یا یہ کہنا پڑے گا کہ نہی کو راجع ہے اور مراد اس سے کیا ہے؟ نہی عنہ ہے۔ تو وہ جو نہی عنہ جو مفہوم ہے نہی سے إما أن يكون قبيحاً لعينه یا تو وہ کیا ہوگا؟ قبیح ہوگا اپنی ذات کے اعتبار سے أي تكون ذاته قبيحة بقطع النظر عن الأوصاف اللازمة والعوارض المجاورة، یعنی اس کی ذات ہی قبیح ہوگی قطعِ نظر کرتے ہوئے ان اوصاف سے جو اس کے ساتھ لازم ہیں یا ان عوارض کے جو اس کے پڑوس اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں مجاور ہیں یعنی اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یعنی وہ اوصاف جو اس نہی عنہ کے ساتھ لازم ہیں یا وہ عوارض جو اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ان سے قطعِ نظر اس نہی عنہ کی ذات ہی کیا ہوگی؟ قبیح ہوگی، قباحت اس کی ذات ہی میں ہوگی مولانا، اس کے وہ یعنی غیر کی وجہ سے اس میں قباحت نہیں آئے گی، اس کے لازم یا اس کے مجاور کی وجہ سے اس میں قباحت نہیں ہے بلکہ اس کی ذات ہی میں قباحت ہے۔ وذلك نوعان، اور یہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے، وضعاً وشرعاً بھئی۔ اعتبارِ وضع کے اور ایک باعتبارِ شریعت کے بھئی، باعتبارِ وضع اور باعتبارِ شریعت کے یہ معنی بھئی کہ یعنی اس نہی عنہ کو وضع ہی ایک ایسے معنی کے لیے کیا گیا تھا جو کیا ہے؟ قبیح ہے، عقل کی نظر میں قبیح ہے، تو یہاں عقل اس کی قباحت کو خود ہی جان لیتی ہے، شریعت پر اس کے جاننے کا دارومدار نہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ کہ اس نہی عنہ کو وضع ہی کس کے لیے کیا گیا تھا؟ یہ نہی عنہ جس سے روکا گیا ہے مولانا، اس کو وضع ہی کس معنی کے لیے کیا گیا تھا؟ کس چیز کے ساتھ موصوف ہو گا؟ اس وقت کے اندر لازمی بات ہے کیا ہوگا اعراضا عن ضیافته اللہ۔ تو یہ وقت موصوف ہوا اعراضا عن ضیافته اللہ سے یا یوں کہو اعراضا عن ضیافته اللہ صفت بن جائے گی اس وقت کی بھئی۔ اس وقت کی صفت صفت بن جائے گی۔ تو اعراضا عن ضیافته اللہ یہ صفت ہوئی وقت کی اور وقت جز ہے روزے کا تو یہ صفت ہوئی روزے کی بھی، اس لیے کیونکہ جز کا جو وصف ہے وہ کل کا بھی وصف ہوتا ہے۔ روزے کا جز کیا؟ وقت، اور وقت کی صفت کیا؟ اعراضا عن ضیافته اللہ۔ تو جو جز کی صفت ہے وہی کس کی صفت ہوتی ہے؟ کل کی بھی صفت ہے، مثلاً دیکھو بھئی زید کے ہاتھ پر زخم ہے میں کہ تو یہ اب زخم پورے زید پر ہے یا اس کے صرف ہاتھ پر؟ ہاتھ پر ہے۔ تو زید کہیں گے زید کا ہاتھ زخمی ہے، اور یوں بھی تو کہہ سکتے ہیں زید زخمی ہے۔ کہہ سکتے ہیں یا نہیں کہہ سکتے؟ کیونکہ جز کا وصف کیا ہے؟ کل کا وصف ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں جب وقت کی صفت ہے اعراضا عن ضیافته اللہ تو یہ وقت جز ہے روزے کا تو جز کی صفت دراصل کس کی صفت ہے؟ کل کی بھی صفت ہے۔ تو یہی بات کر رہے ہیں کہتے ہیں ووصف الجزئ وصف وصف الكل، اور جز کا وصف جو ہوتا ہے وہ کل کا وصف ہوتا ہے فصار، پس اِذاً تو یہ روزہ کیا ہوا؟ فاسد ہوا کیونکہ فساد اس کی ذات میں نہیں فساد آ رہا ہے مولانا، اس کے جز ہی کیا ہے اس میں کیا کس چیز کے ساتھ موصوف ہو رہا ہے؟ اعراضا عن ضیافته اللہ، تو اس کے جز میں خرابی آئی تو روزے میں خرابی آ گئی۔ ولن یلزم بالشروع اور یہ روزہ لازم نہیں ہوتا شروع کرنے کی وجہ سے، یہ روزہ شروع کرنے کی وجہ سے لازم لازم نہیں ہوتا بھئی۔ بھئی دیکھیے آپ نے پڑھا ہے، قرآن میں اللہ تعالی بھئی فرماتے ہیں لا تبطلوا اعمالکم، اپنے اعمال کو باطل نہ کرو، اس سے معلوم ہوا ایک عمل جب آپ کرتے ہیں اب وہ چاہے پہلے نفل تھا لیکن جب ایک دفعہ شروع کر دیا اب آپ پر کیا ہو گیا؟ واجب، کیونکہ اللہ فرما رہے ہیں اپنے عمل کو باطل نہ کرو تو نفل ایک دفعہ جب شروع کر دیے اب اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ اگر آپ نے درمیان میں اس نفل کو نفل توڑ دیے بھئی تو آپ بعد میں کیا کرنا پڑے گی؟ بعد میں اس کی قضا آپ پر لازم ہے بھئی، جانتے ہو یا نہیں جانتے بھئی؟ بعد میں وہ واجب ہو گیا مولانا ضروری ہے اب وہ آپ پر ادا کرنا کیونکہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ لا تبطلوا اعمالکم۔ لیکن یہ جو ہے اس دن کے اندر کوئی روزہ رکھ لیتا ہے بھئی، پھر اس کو توڑ دیتا ہے، تو فقہائے کرام لکھتے ہیں کہ اب بعد میں اس کی قضا بھی اس پر واجب نہیں ہے۔ قضا بھی واجب، اس لیے کیونکہ یہ روزہ فاسد تھا مولانا، اس کا توڑنا ہی اس پر ضروری تھا، سمجھ میں آیا؟ توڑنا ہی ضروری تھا اور یہاں فساد جو آیا ہے اس کی ذات میں ہی فساد ہے، اس کی ذات میں ہی کیا ہے؟ فساد ہے کیونکہ وہ اس وقت کے اندر لازمی وہ وقت ضرور موصوف ہے کس چیز کے ساتھ؟ اعراضا عن ضیافته اللہ، اور وقت اس کا جز ہے تو جو جز کی صفت ہے دراصل کس کی صفت ہے؟ کل کی صفت ہے تو اس روزے کے ساتھ لازم ہے اعراضا عن ضیافته اللہ بھئی، اعراضا عن ضیافته اللہ، تو یہ کیا ہوا؟ فاسد ہوا اپنی ذاتی کے اعتبار سے، لہٰذا جب یہ اپنی ذات کے اعتبار سے فاسد ہے تو شروع کرنے کے باوجود یہ اگر فاسد بھی کر دیا جائے یہ پھر بھی اس کی قضا واجب نہیں ہوگی، اس کو بعد میں قضا اس کی کرنا نہیں ضروری بھئی۔ بخلاف النذر، بخلاف منت کے بھئی، یہاں سے ایک شبہے کا جواب دینا چاہتے ہیں، بھئی آپ نے کیا کہا؟ بھئی دیکھو ایک شخص منت مانتا ہے کہ میں میرا یہ کام ہو گیا تو میں اس قربانی والے دن میں روزہ رکھوں گا، کیا کروں گا؟ روزہ رکھوں گا۔ تو یاد رکھیے کہ اس کا یہ کام ہو کام ہو جائے تو روزہ اس پر واجب ہوا، لیکن چونکہ قربانی کے دن روزہ رکھے گا تو اعراضا عن ضیافته اللہ لازم آئے گا، چنانچہ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اب اس دن روزہ نہ رکھے بلکہ بعد میں قضا کر لے، کیا کر لے؟ بعد میں قضا کر لے، بعد میں قضا کر لے، بعد میں قضا کر لے بھئی۔ ہاں اگر اس نے اسی دن روزہ رکھ لیا تو ہو جائے گا بھئی، وہ براۃِ ذمہ ہو جائے گا اس لیے کیونکہ اس نے اسی قسم کا روزہ اپنے اوپر لازم کیا تھا، تو اب دیکھیے یہاں پر وہ فساد روزے کی ذات سے جدا نہیں ہوتا۔ تو بھئی اعتراض معترض اعتراض کرتا ہے کہ اے احناف! آپ کو آپ نے اس روزے کو فاسد قرار دیا بھئی، فاسد قرار دیا، تو وہ منت جس میں وہ یہ ذکر کرتا ہے "میں اس دن کو روزہ رکھوں گا" وہ منت بھی فاسد ہونی چاہیے کیونکہ وہ کیا کر رہا ہے؟ اس دن تو روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے تو وہ جس سے منع کیا گیا تھا اس کام کی منت مان رہا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ہم جواب دیتے ہیں نہیں، منحی ذاتی ہی منت کے اندر کوئی خرابی نہیں ہے، منت میں تو وہ صرف ایک بات کو ذکر کر رہا ہے منت کے ذریعے اپنے اوپر عبادت کو واجب کر رہا ہے، اور اپنے آپ اپنے اوپر عبادت کو واجب کرنا یہ تو قبیح چیز نہیں ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ یہ تو پسندیدہ ہے بھئی اللہ کے لیے اپنے اوپر عبادت کو واجب کر لے بھئی، تو اس منت کی ذات میں کوئی خرابی نہیں ہے بھئی، لہٰذا منت مانے گا منت درست ہو جائے گی، ہاں خرابی آئے گی اس فعل کو پھر کرنے سے، خرابی کس میں آئے گی؟ اس فعل کو کرنے سے یعنی اس روزے کو رکھنے سے، تو خرابی فعل میں ہے منت کے اندر نہیں ہے، اسی لیے تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ پھر بعد میں کیا کر منت تو ہو جائے گی لیکن پھر اس دن روزہ نہ رکھے بلکہ بعد میں کیا کر لے اس کی؟ قضا کر لے، تو خرابی منت میں نہیں ہے لہٰذا منت ہو جائے گی بھئی، آپ یہ نہ کہیں کہ منت ہی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ منت کے اندر کوئی خرابی نہیں، خرابی تو یہاں کیا آ رہی تھی؟ اعراضا عن ضیافته اللہ، تو بولنے سے کوئی اعراضا عن ضیافته اللہ لازم آیا؟ نہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اپنے اوپر منت واجب کر اپنے اپنے اوپر عبادت کو واجب کر رہا ہے اس میں کوئی اعراضا عن ضیافته اللہ لازم نہیں آتا، ہاں جب وہ اس پر عمل کرے گا وہ فعل سرانجام دے گا تو پھر کیا خرابی لازم آئے گی؟ اعراضا عن ضیافته اللہ، لہٰذا منت میں کوئی خرابی نہیں منت ٹھیک ہو جائے گی لیکن اس کو کیا کرنا چاہیے؟ اس دن روزہ نہ رکھے بلکہ بعد میں کیا کر لے اس کی؟ قضا کر لے، کیونکہ جب وہ فعل سرانجام دے گا وہ روزہ رکھے گا تو لازمی بات ہے کیا خرابی لازم آئے گی؟ اعراضا عن ضیافته اللہ۔ تو کہتے ہیں بخلاف النذر، بخلاف منت کے، فإنه في نفسه طاعة، اس لیے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے طاعت ہے، ولا فساد في التسمية، اور کوئی فساد نہیں ہے تسمیہ کے اندر، یعنی ذکر کرنے کے اندر کوئی خرابی روزہ بھئی منت اپنی ذات کے اعتبار سے طاعت ہے، کیا کر رہا ہے اپنے اوپر بھئی؟ اللہ کے لیے عبادت کو واجب کر رہا ہے، تو وہ اپنی ذات کے اعتبار سے طاعت ہے، ولا فساد في التسمية، اور ذکر کرنے میں کوئی فساد فساد کہاں کیسے آ رہا تھا؟ اعراضا عن ضیافته اللہ اس کا فساد کیسے آتا تھا؟ فعل سے آتا تھا، تسمیہ سے یعنی ذکر کرنے سے فساد نہیں آتا تھا، وإنما الفساد في الفعل، اور فساد تو فعل ہی میں تھا، فيجب قضاؤه، تو لہٰذا اس کی کیا قضا؟ اس روزے کی قضا واجب ہوگی یعنی اس دن روزہ نہ رکھے بعد میں رکھے۔ وبخلاف الصلاة في الأوقات المكروهة، اور بخلاف نماز کے اوقاتِ مکروہہ کے اندر، اچھا بھئی یہ یوم النحر کے دن روزہ یہ کس کی مثال گزری؟ قبیح لغیرہ، غیر کی وجہ سے اس روزے میں قباحت آئی تھی اور وہ غیر کیا تھا؟ اعراضا عن ضیافته اللہ، تو اس روزے کے میں کے ساتھ کیا لازم تھا؟ اعراضا عن ضیافته اللہ، اور اللہ کی مہمان نوازی سے اعراض یہ تو قبیح ہے تو اس کی وجہ سے روزے میں بھی کیا آ گیا؟ قباحت آ گئی بھئی، اسی طرح اوقاتِ مکروہہ کے اندر بھئی نماز سے منع کیا گیا ہے، سورج طلوع ہوتے وقت، سورج غروب ہوتے وقت اور عین جس وقت سورج سر پر ہو، اس لیے کیونکہ یہ بت یہ آتش پرستوں کی عبادت کے اوقات ہیں مولانا، آتش پرستوں کے، تو اس وقت عبادت سے منع کیا گیا، اب دیکھیے ان اوقاتِ مکروہہ میں کیا کرتا ہے؟ کوئی شخص نماز پڑھتا ہے، تو یہ نماز بھی قبیح لغیرہ ہوئی، کیا ہوئی؟ قبیح لغیرہ ہوئی ہوئی، لیکن وہ روزے کے بارے میں ہم کہتے تھے وہ فاسد ہے اور اس کو اس دن روزہ رکھتا ہے تو اس کو پورا کرنا ضروری نہیں، لیکن نماز اگر اس وقت کوئی شروع کر دیتا ہے تو یہ ہم اس کے بارے میں یہ فقہائے کرام فرماتے ہیں یہ مکروہِ تحریمی ہے بھئی، کیا ہے؟ مکروہِ تحریمی ہے، اور اس نماز کو اگر توڑ دیتا ہے تو بعد میں اس کی قضا اس پر ضروری ہے، اس لیے کیونکہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ لا تبطلوا اعمالکم، اپنے عملوں کو باطل، تو اس وقت وہ کوئی نفل مثلاً شروع کر دیے تھے تو یہ عمل یہ نفل وہ کسی نے بتلا دیے بھئی یہ وقت تو منع اس وقت منع کیا گیا ہے اس نے نفل توڑ دیے بھئی، تو بعد میں اس پر قضا کرنا واجب، لیکن ادھر روزے کے بارے میں بتلایا تھا کہ اگر روزہ کوئی اس دن ویسے ہی رکھ لیتا ہے اور پھر اس کو توڑ دیتا ہے تو اس پر اس کی قضا بھی واجب نہیں۔ وجہ یہ ان دونوں میں فرق کیوں ہے؟ وہ بھی قبیح لغیرہ ہے، یہ بھی قبیح لغیرہ ہے بھئی، کہتے ہیں وجہ یہ کہ وہاں پر وقت جو تھا روزے کی ذات میں ہی داخل تھا، یہاں روزے کی تعریف میں ہی داخل تھا، روزہ کہتے ہی کسے تھے؟ صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک، تو وقت روزے کی تعریف میں داخل تھا لیکن یہاں وقت نماز کی تعریف میں داخل نہیں ہے، وقت اس کے لیے ظرف ہے مولانا، نماز کی تعریف کوئی آپ سے پوچھے کوئی وقت ذکر کرے گا بیچ میں؟ وقت ذکر نہیں کرے گا ان مخصوص افعال کا نام ہے نماز بھئی، تو دیکھو کوئی وقت کا ذکر آیا بھئی؟ وقت کا ذکر اس میں نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جو لہٰذا دونوں میں فرق ہوا، وہاں چونکہ خرابی کس کے اندر تھی؟ وقت میں، یہاں بھی خرابی کس کے اندر ہے؟ وقت کے اندر، لیکن وہاں وہ وقت جس کے اندر خرابی تھی وہ روزے کی ذات میں ہی داخل تھا، اور یہاں پر یہ وقت جس میں خرابی ہے نماز کی ذات میں داخل نہیں اس کا جز نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وبخلاف الصلاة في الأوقات المكروهة، اور بخلاف نماز کے اوقاتِ مکروہہ کے اندر، کہتے ہیں فإنها وإن كانت من هذا القسم أيضاً، اگرچہ وہ بھی اس قسم میں سے ہی ہے، ولكن الوقت ليس داخلاً في تعريفها، لیکن وقت جو ہے نماز کی تعریف میں داخل نہیں ہے، ولا معياراً لها، اور وقت نماز کے لیے معیار نہیں، فلم تكن فاسدة، تو لہٰذا نماز فاسد نہیں ہوگی، بل مكروهة، بلکہ مکروہ ہوگی یعنی مکروہِ تحریمی بھئی، تلزم بالشروع، شروع کرنے کی وجہ سے لازم ہوگی بھئی، ويجب القضاء بالإفساد، اور قضا واجب ہوگی اس کو فاسد کر دینے کی وجہ سے، فاسد کر دیتا ہے تو اس کی وجہ سے قضا لازم واجب ہوگی۔ والبيع وقت النداء مثال لما قبح لغيره، اور بیع کرنا نداء کے وقت یہ مثال ہے لما قبح لغيره اس چیز کی جو قبیح ہے غیر کی وجہ سے، مجاوراً، کس اعتبار سے بھئی؟ مجاوراً باعتبار مجاور کے بھئی، ماقبل میں کون سی قسم گزر رہی تھی؟ وہ وصف کے اعتبار سے قبیح لغیرہ تھا، اور یہ کیا ہے؟ مجاور کے اعتبار سے قبیح لغیرہ، یعنی وہ غیر مجاور ہے جو قبیح غیر ہے اور اس منہی عنہ کے ساتھ ساتھ ہے وہ اس کے ساتھ مجاور ہے، مجاور کا کیا معنیٰ؟ یرحمک اللہ، مجاور کا کیا معنیٰ؟ ساتھ ملا ہوا ہے لیکن ہمیشہ ساتھ نہیں رہتا، کبھی ساتھ ہوتا ہے اور کبھی اس سے جدا ہو جاتا ہے، جبکہ وصف جو تھا وصف کی طرح جو تھا وہ غیر وہ اس سے منہی عنہ سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتا۔ تو کہتے ہیں والبيع وقت النداء مثال لما قبح لغيره مجاوراً، اور بیع کرنا اذان کے وقت یہ مثال ہے قبیح اس اس منہی عنہ کی جو قبیح ہے غیر کی وجہ سے مجاوراً باعتبار مجاور ہونے کے، فإن البيع في ذاته أمر مشروع مفيد للملك، اس لیے کہ بیع اپنی ذات کے اعتبار سے ایک ایسا امر ہے، ایک ایسا معاملہ ہے جو مشروع ہے، جائز ہے، مفيد للملك، اور ملکیت کا فائدہ دیتی ہے، جی۔ وإنما يحرم وقت النداء وإنما، اور یہ حرام ہو جاتی ہے نداء کے وقت بھئی، لأن فيه ترك السعي إلى الجمعة الواجب، اس لیے کہ اس کے اندر لازم اس کے اندر جو ہے وہ ترک ہے اس السعي إلى الجمعة کا جو کہ واجب ہے۔ واجب صفت ہے مولانا السعي کی، جمعہ کی نہیں، إلى الجمعة الواجب، کیونکہ جمعہ تو مؤنث ہے واجبة صفت، تو وہ السعي وہ السعي إلى الجمعة جو کہ واجب ہے اس کے چھوڑ دینے کی وجہ سے بھئی یہ اس بیع کے اندر بھئی، اذان کے وقت بیع کرے گا تو لازمی بات ہے اس کے اندر کیا لازم آئے گا؟ ترکِ السعي إلى الجمعة۔ تو وہ السعي جو جو واجب ہے، جی، لأن فيه ترك السعي إلى الجمعة الواجب، اس لیے کہ اس کے اندر وہ وہ السعي إلى الجمعة جو تھی جو کہ واجب ہے اس کا چھوڑنا اس کے اندر ہے، وہ واجب کیوں ہے السعي مولانا؟ بقوله تعالى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع، پس تم سعی کرو اللہ کے ذکر یعنی جمعہ کی نماز کی طرف اور بیع کو چھوڑ دو، تو دیکھو اس وقت السعي إلى امر آیا مولانا، امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، معلوم ہوا اس وقت السعي إلى ذكر الله یعنی السعي إلى الجمعة واجب ہے، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اب اگر اس وقت اذان ہو گئی جمعہ کی اور وہ بیع میں مشغول ہے تو کیا خرابی لازم آئی؟ ترکِ السعي إلى الجمعة لازم آیا، اور ترکِ السعي إلى الجمعة تو کیا ہے؟ ترکِ السعي إلى الجمعة اس سے تو منع کیا گیا ہے بھئی، یہ جب واجب ہے تو اس کا اس کے ترک کی اجازت نہیں ہے، جب اس کے ترک کی اجازت نہیں ہے اور اس بیع کی وجہ سے اس کا ترک لازم آ رہا ہے تو لہٰذا اس یہ بیع بھی کیا ہو جائے گی؟ قبیح ہو گئی، کیا ہو گئی؟ لیکن قبیح اپنی ذات کے اعتبار سے ہوئی یا ترکِ السعي إلى الجمعة کی وجہ سے قبیح ہوئی؟ ترکِ السعي إلى الجمعة کی وجہ سے قبیح ہوئی، تو یہ قبیح لغیرہ کی مثال ہے اور قبیح لغیرہ ہے، یہ جو غیر ہے اس منہی عنہ سے منہی عنہ کیا ہے یہاں پر؟ وہ بیع ہے، کیا ہے؟ اذانِ جمعہ کے وقت بیع سے روکا گیا ہے وذروا البيع، بیع کو کیا کرو؟ چھوڑ دو، تو بیع کیا ہوئی؟ منہی عنہ، وہ بیع جو کس وقت ہو؟ اذانِ جمعہ کے وقت، وہ کیا ہوئی؟ منہی عنہ، تو وہ اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح نہیں بلکہ اس میں کیا آ رہی ہے قباحت کس کی وجہ سے آ رہی ہے؟ ایک غیر کی وجہ سے، اور وہ غیر کیا ہے؟ ترکِ السعي إلى الجمعة، تو ترکِ السعي إلى الجمعة یہ قبیح ہے اور یہ اس بیع کے ساتھ ملا ہوا ہے تو اس کی وجہ سے یہ بیع بھی کیا ہو جائے گی؟ قبیح ہو جائے گی، تو یہ کون سی قبیح کون سی قبیح کون سا قبیح ہوا؟ قبیح لغیرہ ہوا، اور یہ یہ جو بیع ہے اس سے ترکِ السعي إلى الجمعة جدا ہو سکتا ہے کہ نہیں ہو سکتا؟ جی؟ ہو سکتا ہے جدا ہو سکتا ہے، کیسے؟ کہ بیع بھی کریں اور ترکِ السعي بھی نہ ہو۔ کوئی ایسی صورت ہے؟ کیسے؟ ہاں جامع مسجد کی طرف دونوں چل پڑے تو آپ اور آپ کا ایک ساتھی مولانا چلتے چلتے راستے میں بیع کر رہے ہیں، تو دیکھو سعی بھی ہے ساتھ ساتھ السعي إلى الجمعة، اور بیع بھی ہوتی جا رہی ہے، تو اس بیع کی وجہ سے دیکھو ترکِ السعي إلى الجمعة لازم معلوم ہوا، اس بیع سے ترکِ سعی جدا ہو جاتی ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا اسی طرح آپ گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں اپنے ساتھی کے ساتھ بھئی مسجد کی طرف جا رہے ہیں، اب گاڑی چل رہی ہے اس دوران آپ بیع کرتے ہیں تو سعی میں کوئی خلل آیا؟ سعی میں ترک آیا؟ سعی جاری ہے اور سعی کے ساتھ ساتھ کیا ہو گئی؟ بیع، تو اس بیع میں ترکِ سعی ہے؟ تو دیکھو بیع سے، اس بیع سے کیا ہو گئی؟ ترکِ سعی للجمعہ جدا ہو گئے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کوئی بھی مثال بنا لیں، مسجد کی طرف چلتے ہوئے، کسی سواری میں جا رہے ہوں، یا کشتی میں جا رہے ہوں، کوئی ایسی صورت جس میں ترکِ سعی نہ ہو گئی ہو۔ تو معلوم ہوا، یہ قبیحٌ لغیرہٖ ہے اور کون سا قبیحٌ لغیرہٖ ہے؟ یہ بیع جمعہ کی اذان کے وقت قبیحٌ لغیرہٖ مجاوراً ہے، اس لیے کیونکہ یہ قبیح ہے ترکِ سعی کی وجہ سے اور یہ ترکِ سعی کی ہمیشہ اس کے ساتھ نہیں رہتی بلکہ اس سے جدا بھی ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں لِأَنَّ ترجمہ سننا، لِأَنَّ فِيهِ تَرْكَ السَّعْيِ إِلَى الْجُمُعَةِ الْوَاجِبِ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾، اس لیے کہ، اس لیے کہ اس بیع کے اندر جو ہے، وہ سعی، سعی للجمعہ جو کہ واجب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے ﴿فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾، اس کا ترک ہے۔ اس بیع کے اندر اس سعی کا ترک ہے۔ وَهَذَا الْمَعْنَى مِمَّا يُجَاوِرُ الْبَيْعَ فِي بَعْضِ الْأَحْيَانِ، اور یہ والا معنی جو ہے ان چیزوں میں سے ہے جو ملا ہوتا ہے بیع کے ساتھ بعض اوقات۔ بعض اوقات یہ ملا ہوتا ہے، بیع کرتا ہے تو ساتھ کیا آجاتا، کیا ملا ہوتا ہے؟ ترکِ سعی للجمعہ۔ دیکھو خود مثال ذکر کر رہے ہیں، فِيمَا إِذَا بَاعَ، اس صورت کے اندر کہ جب اس نے بیع کی، وَتَرَكَ السَّعْيَ، اور سعی کو چھوڑ دیا۔ تو بیع کے ساتھ کیا مل گیا؟ ترکِ سعی۔ وَيَنْفَكُّ عَنْهُ فِي بَعْضِ الْأَحْيَانِ، اور بعض اوقات یہ ترکِ سعی اس بیع سے جدا ہو جاتی ہے، فِيمَا، اس صورت کے اندر، إِذَا سَعَى إِلَى الْجُمُعَةِ، جب وہ سعی کرتا ہے جمعہ کی، وَبَاعَ فِي الطَّرِيقِ، اور بیع کرتا ہے راستے میں بیع کرتا ہے، بِأَنْ يَكُونَ الْبَائِعُ وَالْمُشْتَرِي رَاكِبَيْنِ فِي سَفِينَةٍ تَذْهَبُ إِلَى الْجَامِعِ، بایں طور کہ بائع اور مشتری سوار ہیں فِي سَفِينَةٍ ایک ایسی کشتی میں تَذْهَبُ إِلَى الْجَامِعِ جو چل رہی ہے جامع مسجد کی طرف، وَفِيمَا إِذَا لَمْ يَبِعْ وَلَمْ يَسْعَ إِلَى الْجُمُعَةِ بَلْ اشْتَغَلَ بِلَهْوٍ آخَرَ، اور اس صورت کے اندر جبکہ وہ بیع نہیں کرتا اور وَلَمْ يَسْعَ إِلَى الْجُمُعَةِ اور سعی للجمعہ بھی نہیں کرتا بَلْ اشْتَغَلَ بِلَهْوٍ آخَرَ بلکہ کسی اور لہو، لہو کام میں مشغول ہو جاتا ہے۔ کسی اور لغو کام میں کیا ہو جاتا ہے؟ مشغول ہو جاتا ہے۔ تو اب دیکھو، ترکِ سعی تو ہے لیکن بیع نہیں ہے۔ پہلی صورت کیا تھی؟ بیع بھی ہو اور ترکِ سعی بھی ہو، کہ سعی نہیں کرتا بلکہ بیع میں مشغول ہو گیا۔ تو بیع پائی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ کیا ہے؟ ترکِ سعی، دونوں اکٹھے ہو گئے۔ دوسری صورت، بیع تو ہے لیکن ترکِ سعی نہیں ہے کشتی کے اندر۔ بیع ہو رہی ہے لیکن ترکِ سعی نہیں ہے۔ تیسری صورت، ترکِ سعی تو ہے لیکن بیع نہیں ہے بھئی، جیسے کسی اور کام کی وجہ سے سعی ترک کر دیتا ہے۔ تو اب بیع نہیں ہے لیکن پھر بھی کیا موجود ہے؟ ترکِ سعی۔ معلوم ہوا ترکِ سعی یہ بیع سے جدا ہو جاتا ہے، تو لہٰذا اس کو کیا کہا؟ قبیحٌ لغیرہٖ مجاوراً بھئی۔ کہتے ہیں فَهَذَا الْبَيْعُ كَبَيْعِ الْغَاصِبِ يُفِيدُ الْمِلْكَ بَعْدَ الْقَبْضِ، تو یہ بیع جو ہے غاصب کی بیع کی طرح ہے، یہ جو کون سی بیع بھئی؟ یہ جمعہ کی اذان کے وقت کی جو بیع ہے۔ تو یہ بیع جو ہے بیعِ غاصب کی طرح ہے، يُفِيدُ الْمِلْكَ بَعْدَ الْقَبْضِ، جو فائدہ دیتی ہے ملکیت کا قبضے کے بعد۔ قبضے کے بعد کس چیز کا فائدہ دیتی ہے؟ ملکیت کا۔ یہاں شارح سے مولانا تسامح ہوا بھئی، اس لیے کہ بیعِ غاصب جو ہے، بیعِ غاصب وہ بیعِ موقوف ہے مولانا۔ کسی نے کسی کی چیز غصب کر لی، چھین کر لے گیا، اٹھا کر لے گیا، اس چیز کو بیچ دیتا ہے، تو یاد رکھیے یہ بیع جو غاصب نے کی، یہ موقوف ہے مالک کی اجازت پر۔ مالک اجازت دے دے گا تو یہ بیع ہو جائے گی، ورنہ یہ بیع منعقد نہیں، موقوف رہے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور ایک بیعِ فاسد ہوتی ہے، بھئی بیعِ صحیح تو یہ ہے۔ بیعِ صحیح یہ ہے کہ بیع کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے۔ آپ نے کتاب اپنے ساتھی کو بیچتے ہیں، آپ دونوں نے ایجاب و قبول کر لیا، آپ نے اپنے ساتھی کو کہا: یہ کتاب میں نے آپ کو 100 روپے میں فروخت کر دی، اس نے کہا: میں نے قبول کیا۔ بھئی بیع ہو گئی مولانا، کتاب آپ کے ہاتھ میں ہی ہے لیکن بیع ہو چکی ہے، کیونکہ ایجاب بھی پایا گیا اور قبول بھی، اور جیسے ہی بیع ہوئی مشتری اس کتاب کا مالک بن گیا۔ اب یہ کس اس کتاب کے مالک آپ نہیں رہے بلکہ کون بن چکا ہے؟ مشتری۔ تو بیعِ صحیح کے اندر بیع ہوتے ہی مشتری کیا ہو جاتا ہے؟ مبیع کا مالک بن جاتا ہے۔ جبکہ بیعِ فاسد ایک ہے مولانا بیعِ فاسد، جس میں بیع کے اندر کوئی خرابی آجائے، مثلاً آپ کوئی شرط ذکر کر دیتے ہیں بیع کے اندر جو مقتضائے عقد کے خلاف ہوتی ہے، مثلاً آپ نے اپنے ساتھی کو موٹر سائیکل فروخت کی یا گاڑی فروخت کی بھئی، اور آپ اس سے کہتے ہیں: یہ گاڑی میں آپ کو اس شرط پر فروخت کرتا ہوں کہ میں اس کے اندر، میں اسے ایک ماہ تک استعمال کروں گا، پھر تمہیں دوں گا۔ بھئی یہ کیسی شرط لگا رہے ہو؟ بیع ہوتے ہی وہ مالک بن گیا، اس کی چیز اب آپ شرط لگا رہے ہو میں ایک مہینے تک استعمال کروں گا، تو یہ شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہوئی، تو یہ بیع فاسد ہے۔ یہ شرط بھی فاسد اور بیع بھی فاسد۔ یا جیسے آج کل لگاتے ہیں مولانا مکان بیچتے ہیں، بیچتے ہوئے شرط لگا دیتے ہیں کہ اس شرط پر ہم بیچتے ہیں تین مہینے تک ہم رہیں گے اس مکان کے اندر پھر حوالے کریں گے، ان تین مہینوں کے اندر ہم اپنے لیے نئے مکان کا انتظام کریں گے بھئی، تو یہ بھی کیا ہو گئی؟ بیعِ فاسد ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور یاد رکھیے بیعِ فاسد کے اندر انسان مبیع کا مالک اس وقت بنتا ہے جب مالک کی اجازت سے اس پر قبضہ کر لے۔ مالک کی اجازت سے مبیع پر قبضہ کر لے تو کیا بن جاتا ہے؟ مالک بن جاتا ہے۔ لیکن اس بیع یہ چونکہ بیعِ فاسد ہے، اس کو توڑنا واجب ہے دونوں پر، بائع اور مشتری دونوں پر اس بیع کو توڑنا واجب ہے، اگر نہیں توڑیں گے تو گنہگار ہوں گے بھئی۔ بیعِ فاسد سمجھ میں آگئی؟ بیعِ فاسد میں کیا ہوتا ہے مالک کب بنتا ہے؟ جب مالک کی اجازت کے بعد کیا کر لے اس پر؟ قبضہ کر لے۔ معلوم ہوا یہ بیعِ فاسد کا حکم ہے کہ ملکیت آجاتی ہے قبضے کے بعد، اور بیعِ غاصب کیا ہے؟ وہ مالک کی اجازت پر موقوف ہے، مالک نے اجازت دی تو ہو گئی، مالک نے اجازت دی تو منعقد ہی نہیں۔ اور یہ جو بیع ہے یاد رکھیے مولانا، یہ بیع جو ذکر کی اذانِ جمعہ کے وقت بھئی، یہ نہ بیعِ موقوف ہے، نہ یہ بیعِ فاسد ہے، بلکہ یہ بیعِ مکروہِ تحریمی ہے بھئی، کیا ہے؟ مکروہِ تحریمی۔ یاد رکھیے ایک بیعِ فاسد ہوتی ہے، ایک مکروہ بیع جو مکروہ ہے بھئی، مکروہِ تحریمی ہے۔ بیعِ فاسد، ان دونوں میں فرق یاد رکھنا، بیعِ فاسد اس میں بیع کی ذات میں خرابی ہوتی ہے۔ بیع کی ذات میں، دیکھو بیع کرتے ہوئے ہی آپ نے ایک شرط لگا دی تھی، تو بیع کے اندر ہی کیا آگئی؟ خرابی آگئی، اور بیعِ مکروہِ تحریمی وہ ہے جس میں اس کی ذات میں خرابی نہیں ہوتی بلکہ ایک امرِ خارجی کی وجہ سے اس میں خرابی آجاتی ہے۔ کس کی وجہ سے؟ ایک امرِ خارجی کی وجہ سے اس کے اندر خرابی آجاتی ہے، تو دیکھو بھئی یہ جو جمعہ کی اذان کے وقت بیع کر رہا ہے، یہ بیعِ مکروہِ تحریمی ہے مولانا، اس لیے کہ یہاں بیع کے اپنے ذات میں کوئی خرابی نہیں ہے، مثلاً وہ کوئی ایسی شرط نہیں لگاتا جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ اور بیع کی تمام شرائط پوری ہیں، تو یہ دیکھو بیع اپنے ذات کے اعتبار سے درست ہے، لیکن ایک امرِ خارجی کی وجہ سے یہ بیع اس بیع کے اندر خرابی آ رہی ہے، اور وہ امرِ خارجی کیا ہے؟ ترکِ سعی للجمعہ۔ تو بیعِ فاسد کی ذات میں خرابی ہوتی ہے اور بیعِ مکروہ کے اندر اس کی ذات میں خرابی نہیں ہوتی بلکہ کس کی وجہ سے ہوتی ہے؟ امرِ خارجی، تو یہاں بھی مولانا بیع کی ذات میں خرابی نہیں ہے بلکہ کس کی وجہ سے خرابی ہے؟ امرِ خارجی، اور وہ امرِ خارجی کیا ہے؟ ترکِ سعی للجمعہ ہے، تو لہٰذا یہ بیعِ مکروہِ تحریمی ہوئی، کیا ہوئی؟ لہٰذا شارح کا اس کی مثال میں ذکر یہ کہنا کہ فَهَذَا الْبَيْعُ كَبَيْعِ الْغَاصِبِ، یہ بیع کس کی طرح ہے؟ غاصب کی بیع کی طرح ہے، حالانکہ غاصب کی بیع تو کیا ہے؟ موقوف ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ اور نیز آگے ایک اور خرابی دیکھو، کہتے ہیں يُفِيدُ الْمِلْكَ بَعْدَ الْقَبْضِ، جو کہ فائدہ دیتی ہے ملکیت کا قبضے کے بعد، کس کے بعد؟ یہ تو بیعِ فاسد کا حکم آگیا مولانا، غاصب کی بیع تو موقوف ہے، وہ بھی فاسد نہیں ہے بھئی، وہ بھی فاسد، تو یہاں شارح سے خلط ہو گیا مولانا، انہوں نے بیعِ مکروہ اور بیعِ مکروہ کو کس کے ساتھ جوڑ دیا؟ بیعِ موقوف، اور بیعِ موقوف کا آگے حکم کیا ذکر کر دیا؟ کہ قبضے کے بعد ملکیت کا فائدہ دیتی ہے، حالانکہ بیعِ موقوف تو ملکیت کا فائدہ نہیں دیتی، وہ تو کون سی بیع دیتی ہے؟ بیعِ فاسد دیتی ہے بھئی۔ اچھا، شارح سے تسامح ہوا، انہوں نے کہا تھا فَهَذَا الْبَيْعُ كَبَيْعِ الْغَاصِبِ، یہ بیع کس کی طرح ہے؟ غاصب کی بیع کی طرح ہے، حالانکہ بیعِ غاصب کی بیع تو کیا ہوتی ہے؟ موقوف ہوتی ہے۔ نیز آگے کہا يُفِيدُ الْمِلْكَ بَعْدَ الْقَبْضِ، کہ جیسے غاصب کی بیع کیا کرتی ہے؟ ملک کا فائدہ دیتی ہے قبضے کے بعد، حالانکہ ملک کا فائدہ قبضے کے بعد یہ کون سی بیع دیتی ہے؟ بیعِ فاسد۔ حالانکہ یہ جو بیع ذکر ہوئی مولانا اذانِ جمعہ کے وقت، یہ بیع فقہاء فرماتے ہیں مکروہِ تحریمی ہے بھئی، مکروہ ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اور مکروہ کا میں نے آپ کو بتلایا، مکروہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں ذات کے اعتبار سے وہ فعل ٹھیک تھا، لیکن ایک امرِ خارجی کی وجہ سے اس بیع کے اندر کیا آگئی؟ قباحت آگئی مولانا، قباحت آگئی، کراہت آگئی۔ تو یہ بیعِ مکروہ کہلاتی ہے، اور بیعِ مکروہ کا حکم یاد رکھیے، بیعِ مکروہ میں بیعِ مکروہ بیعِ صحیح کی طرح عقد کرتے ہی ملکیت کا فائدہ دیتی ہے۔ بیعِ مکروہ کیا ہے؟ عقد جیسے بیعِ صحیح میں ایجاب و قبول کرتے ہی انسان اس چیز کا مبیع کا مشتری مبیع کا عقد کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، اسی طرح بیعِ مکروہ کے اندر بھی عقد کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، ہاں شرعاً چونکہ یہ بیع منع تھی اس لیے گنہگار ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ تو مکروہ بیعِ مکروہ میں بھی کیا ہوتا ہے؟ بیع ہوتے ہی انسان مبیع کا مالک بن جاتا ہے، البتہ گنہگار ہوتا ہے کیونکہ شریعت نے تو کیا کیا تھا اس بیع سے؟ منع کیا تھا۔ تو یہ فرق ہے مولانا، تو اس میں عقد کرتے ہی بیعِ مکروہ میں عقد کرتے ہی مبیع کا مالک بن جاتا ہے مشتری، جبکہ بیعِ فاسد کے اندر جب وہ اس پر قبضہ کر لیتا ہے تو پھر اس وقت مبیع کا مالک بنتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی سب کو بھئی؟ وَمِثْلُهُ وَطْءُ الْحَائِضِ مَشْرُوعٌ مِنْ حَيْثُ أَنَّهَا مَنْكُوحَتُهُ، اسی طرح حائضہ کے ساتھ صحبت جو ہے یہ مشروع ہے، یعنی جائز ہے مِنْ حَيْثُ اس حیثیت سے کہ أَنَّهَا مَنْكُوحَتُهُ کہ یہ اس کی کیا ہے؟ وَإِنَّمَا يُحَرَّمُ لِأَجْلِ الْأَذَى، اور اس کو حرام قرار دیا گیا ہے اذى کی وجہ سے، گندگی اور نجاست کی وجہ سے۔ تو اپنی ذات کے اعتبار سے یہ صحبت کیا ہے؟ جائز ہے، کیونکہ یہ اس کی منکوحہ ہے، لیکن ایک امرِ آخر کی وجہ سے یا اس کو حرام قرار دے دیا گیا، غیر کی وجہ سے اس کو کیا قرار دے دیا گیا؟ حرام قرار دے دیا گیا، اور وہ غیر کیا ہے؟ نجاست کا ہونا ہے، گندگی کا ہونا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ صحبت اپنی ذات کے اعتبار سے مشروع ہوئی، لیکن اپنے وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہے۔ وصف کے اعتبار سے؟ یاد رکھیے جو قبیحٌ لغیرہٖ ہوتا ہے یہ اپنے ذات کے اعتبار سے مشروع ہوتا ہے، وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہوتا ہے۔ آگے بحث آجائے گی، پوری تفصیل آجائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں یہاں پر بھی یہ اپنی ذات کے اعتبار سے وہ جو ہے وہ صحبت جو ہے مشروع ہے وَإِنَّمَا يُحْرَمُ یا يُحَرَّمُ لِأَجْلِ الْأَذَى، اور یہ حرام قرار دی گئی ہے نجاست کی وجہ سے، وَهُوَ مِمَّا يُمْكِنُ أَنْ يَنْفَكَّ عَنْ الْوَطْءِ، اور یہ اذى ان چیزوں میں سے ہے جو ممکن ہے کہ جدا ہو جائے صحبت سے، وطی سے کیا ہو جائے یہ گندگی؟ جدا ہو جائے۔ کس طرح؟ بِأَنْ يُوجَدَ الْوَطْءُ بِدُونِ الْأَذَى، کہ صحبت پائی جائے بغیر، بغیر نجاست کے، بغیر گندگی کے، یعنی طہر کے اندر، کس میں؟ تو اب دیکھو صحبت ہے اور گندگی اس کے ساتھ ملی ہوئی نہیں۔ وَالْأَذَى بِدُونِ الْوَطْءِ، اور اسی طرح گندگی یہ نجاست ہو بغیر صحبت کے، یعنی دیکھو حیض کے ایام آئے اور ان میں صحبت نہیں کی۔ تو دیکھو گندگی پائی گئی بغیر صحبت۔ تو دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں یا جدا بھی ہو جاتے ہیں بھئی؟ یہ صحبت اور گندگی ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں، تو یہ قبیح تو یہاں پر بھی صحبت کی ذات میں خرابی نہیں ہے بلکہ غیر کی وجہ سے خرابی آئی اور وہ کیا ہے؟ وہ گندگی ہے، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو لہٰذا یہ قبیحٌ لغیرہٖ ہوا، اور کون سا قبیحٌ لغیرہٖ ہوا؟ جو جدا ہو جاتا ہے یا جدا نہیں ہوتا؟ کہ وہ غیر منہی عنہ سے جدا ہو جاتا ہے، تو یہ قبیحٌ لغیرہٖ مجاوراً ہوا بھئی۔ وَكَذَا الصَّلَاةُ فِي الْأَرْضِ الْمَغْصُوبَةِ مَشْرُوعَةٌ فِي ذَاتِهَا، اسی طرح بھئی مغصوبہ زمین کے اندر نماز، کسی نے کسی کی زمین غصب کر لی بھئی، اس پر قبضہ کر لیا، اب اس زمین میں جو اس نے غصب کی ہے اس میں نماز پڑھتا ہے، تو یہ قبیحٌ لغیرہٖ ہے۔ کیا ہے؟ قبیحٌ لغیرہٖ ہے۔ یعنی نماز اپنی ذات کے اعتبار سے تو حسن ہے، لیکن ایک غیر کی وجہ سے اس میں کیا آ رہی ہے؟ قباحت، اور وہ کیا ہے قباحت؟ کہ اس نے غیر کی ملکیت کو مشغول کر دیا، کیا کر دیا غیر کی ملکیت کو؟ مشغول کر دیا، اور یہ نماز سے غیر کی ملک، کی ملکیت کا مشغول ہونا یہ جدا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا بھئی؟ ہو جاتا، اپنی زمین میں نماز پڑھ لے، اب غیر کی نماز تو ہے لیکن غیر کی ملکیت کا مشغول ہونا نہیں، یا غیر کی ملک کا مشغول ہونا تو ہو لیکن نماز نہیں ہے، غیر کی ملک پہ اس نے مکان بنایا اس میں رہنا شروع کر دیا، اب غیر کی ملک کے اندر غیر کی ملک کا مشغول ہونا تو ہے لیکن نماز نہیں ہے، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں، تو یہ کس کی مثال ہوئی؟ قبیحٌ لغیرہٖ مجاوراً کی۔ تو کہتے ہیں وَكَذَا الصَّلَاةُ فِي الْأَرْضِ الْمَغْصُوبَةِ مَشْرُوعَةٌ فِي ذَاتِهَا، اسی طرح بھئی مغصوبہ زمین کے اندر نماز جو ہے وہ جائز ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، وَإِنَّمَا تُحَرَّمُ لِأَجْلِ شَغْلِ مِلْكِ الْغَيْرِ، اور یہ اس کو حرام قرار دیا گیا ہے غیر کی ملکیت کے مشغول ہونے کی وجہ سے، وَهُوَ مِمَّا يَنْفَكُّ عَنْ الصَّلَاةِ، اور یہ چیز یعنی غیر کی ملکیت کا مشغول ہونا ان چیزوں میں سے ہے جو نماز سے جدا ہو جاتی ہے، بِأَنْ تُوجَدَ الصَّلَاةُ بِدُونِ شَغْلِ مِلْكِ الْغَيْرِ، بایں طور کہ نماز پائی جائے غیر کی ملکیت کے مشغول ہوئے بغیر ہی، بَلْ فِي مِلْكِ نَفْسِهِ، بلکہ اپنی، اپنی میں، اپنی ذاتی ملکیت کے اندر بھئی، اپنی زمین کے اندر نماز پڑھتا ہے۔ وَيُوجَدَ الشَّغْلُ بِدُونِ الصَّلَاةِ، اور یہ کہ یہ مشغول کرنا پایا جائے بغیر نماز کے، بِأَنْ يَسْكُنَ فِيهِ، بایں طور کہ کیا کر لیتا ہے؟ اس میں، اس میں رہائش رکھ لیتا ہے، وَلَا يُصَلِّي، اور نماز نہیں پڑھتا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھا بھئی آگے سبق پڑھنے سے پہلے بھئی یہ ایک تقریر لکھ لیجیے، آگے متن اور شرح کا سمجھنا اس سے بہت آسان ہو جائے گا انشاء اللہ بھئی۔ لکھیے بھئی: افعال دو قسم پر ہیں، جلدی جلدی لکھیے بھئی کافی زیادہ ہے، افعال دو قسم پر ہیں: افعالِ حسیہ اور افعالِ شرعیہ۔ افعالِ حسیہ اور افعالِ شرعیہ۔ فعلِ حسی، بھئی عنوان دیں۔ فعلِ حسی، فعلِ حسی اس فعل کو کہتے ہیں جس کے معنی میں شریعت کے آنے سے کوئی تبدیلی نہ آئی ہو۔ یعنی شریعت کے آنے سے پہلے اس فعل کا جو معنی تھا، شریعت کے آنے کے بعد بھی اس فعل کا وہی معنی ہو، جیسے زنا۔ زنا کہتے ہیں وتی فی غیر الملک کو، یعنی غیر ملک کے اندر وتی کرنا۔ نزولِ اسلام سے پہلے بھی اس کا یہی معنی تھا اور بعد میں بھی یہی معنی ہے۔ معلوم ہوا کہ زنا فعلِ حسی ہے، یعنی اس فعل کا سمجھنا شریعت پر موقوف نہیں۔ ہر سمجھدار شخص اسے جانتا ہے۔ آگے لکھیے سرخی دیجیے بھئی، فعلِ شرعی بھئی عنوان ہے۔ فعلِ شرعی، فعلِ شرعی وہ ہے کہ شریعت نے اس کے معنی کو بدل دیا ہو، جیسے بیع۔ پہلے بیع کا معنی تھا مبادلت المال بالمال۔ پھر شریعت نے آکر اس کے معنی میں تبدیلی پیدا کی اور بتلایا کہ بیع مبادلت المال بالمال بالتراضی کا نام ہے۔ تو شریعت نے باہمی رضامندی کی قید بڑھا دی، اسی طرح بیع کے لیے مزید کئی شرائط وغیرہ ذکر کردیں جن کا ذکر کتبِ فقہ میں کیا جاتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ بیع فعلِ شرعی ہے کیونکہ اس کا سمجھنا شریعت پر موقوف ہے۔ شریعت کے آنے سے قبل ہمیں معلوم نہیں تھا کہ بیع میں باہمی رضامندی اور دیگر شرائط ضروری ہیں۔ آگے لکھیے عنوان ہے، شوافع و احناف کا اختلاف۔ اس بات پر ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اتفاق ہے کہ اگر فعلِ حسی کے بارے میں نہیں آئے تو وہ قبیح لغینہ ہوگا، یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے ہی قبیح ہوگا۔ یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے ہی قبیح ہوگا۔ لکھ لیا بھئی؟ جیسے زنا فعلِ حسی ہے، اس کے بارے میں نہیں آئی، لا تقربوا الزنا، اس نہیں سے معلوم ہوا کہ زنا قبیح لغینہ ہے۔ البتہ فعلِ شرعی کے بارے میں نہیں آئے، تو اس میں اختلاف ہے کہ یہ فعل قبیح لغینہ ہوگا یا قبیح لغيرہ۔ عند الاحناف، یہ فعلِ شرعی قبیح لغيرہ ہوگا، جبکہ عند الشوافع یہ قبیح لغینہ ہوگا۔ الگ سطر لکھیے بھئی، ثمرہ اختلاف کی مثال سے قبل مذہبِ حنفی کی تفصیل یاد رکھیں۔ مذہبِ احناف کی تفصیل یہ ہے کہ نہیں عن الافعال الحسیہ، تقاضا کرتی ہے منہی عنہ کے قبیح لغینہ ہونے کا، یعنی کہ وہ اصلا ہی مشروع و جائز نہ ہو۔ اور نہیں عن الافعال الشرعیہ، تقاضا کرتی ہے منہی عنہ کے قبیح لغيرہ ہونے کا، یعنی کہ وہ منہی عنہ ذات و اصل کے اعتبار سے تو مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہو۔ البتہ اگر ان کے خلاف کوئی دلیل قائم ہوجائے، تو اس صورت میں فعلِ حسی میں نہیں آنے کے باوجود وہ قبیح لغيرہ ہوگا، اور فعلِ شرعی میں نہیں آنے کے بعد وہ قبیح لغینہ ہوگا اس دلیل کی وجہ سے۔ ثمرہ اختلاف کی مثال، عنوان۔ مثلاً بیع فعلِ شرعی ہے، اور اذانِ جمعہ کے وقت بیع سے روکا گیا ہے، اور نہیں آئی ہے، اذا نودی للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، اذانِ جمعہ کے وقت جو بیع ہوگی، وہ قبیح لغيرہ ہوگی، یعنی حرام لغيرہ ہوگی، اپنی ذات کے اعتبار سے ہی ناجائز ہوگی۔ لہٰذا جب یہ بیع اصلا جائز ہی نہیں، تو منعقد بھی نہ ہوگی، اور مشتری سرے سے مبیع کا مالک بھی نہیں بنے گا۔ جبکہ عند الاحناف، اذانِ جمعہ کے وقت کی بیع قبیح لغيرہ ہے، یعنی حرام لغيرہ ہے، بالفاظِ دیگر یہ بیع اپنی ذات کے اعتبار سے تو جائز ہے، البتہ غیر کے سبب سے ناجائز ہے۔ اس بیع میں حرمت غیر کی وجہ سے آئی، یعنی ترکِ سعی الی الجمعہ کی وجہ سے، تو یہ بیع اپنی ذات کے اعتبار سے جائز اور وصف کے اعتبار سے ناجائز ہے۔ جب یہ بیع اپنی ذات کے اعتبار سے جائز ہے، تو منعقد ہو جائے گی، اور ملکیت کا فائدہ دے گی۔ اور ہمارے نزدیک مشتری مبیع کا مالک بن جائے گا۔ اور ہمارے نزدیک مشتری مبیع کا مالک بن جائے گا۔ آگے عنوان دیجیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل۔ امام شافعی رحمہ اللہ افعال شرعیہ کو افعال شرعیہ کو افعال حسیہ پر قیاس کرتے ہوئے فرماتے ہیں، افعال حسیہ پر قیاس کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ افعال حسیہ میں نہی آئے، کہ افعال حسیہ میں نہی آئے تو وہ قبیح لعینہ ہوتا ہے، تو وہ قبیح لعینہ ہوتا ہے، تو وہ قبیح لعینہ ہوتا ہے، تو افعال شرعیہ میں نہی آئے، تو افعال شرعیہ میں نہی آئے تو اسے بھی قبیح لعینہ ہی ہونا چاہیے، تو اسے بھی قبیح لعینہ ہی ہونا چاہیے تاکہ وہ بھی کامل درجے کے قبیح ہو جائیں، تاکہ وہ بھی کامل درجے کے قبیح ہو جائیں، کیونکہ کامل درجے کا قبیح قبیح لعینہ ہے۔ کیونکہ کامل درجے کا قبیح قبیح لعینہ ہے۔ جی آگے عنوان دیجیے۔ احناف کی دلیل۔ احناف کی دلیل۔ احناف کی دلیل کو سمجھنے کے لیے، احناف کی دلیل کو سمجھنے کے لیے تین مقدمات کا سمجھنا ضروری ہے۔ تین مقدمات کا سمجھنا ضروری ہے۔ مقدمہ اولیٰ عنوان دیجیے آگے، مقدمہ اولیٰ۔ سب سے پہلے نفی اور نہی میں فرق یاد رکھیں۔ سب سے پہلے نفی اور نہی میں فرق یاد رکھیں۔ نہی میں عدم فعل بندے کے اختیار سے ہوتا ہے۔ نہی میں عدم فعل بندے کے اختیار سے ہوتا ہے۔ چنانچہ، چنانچہ بندہ فعلِ منہی عنہم، فعلِ منہی عنہ کے کرنے سے باز رہے، بندہ فعلِ منہی عنہ کے کرنے سے باز رہے تو اسے ثواب ملتا ہے۔ تو اسے ثواب ملتا ہے اور اگر کرے تو سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ اور اگر کرے تو سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ اگر عدم فعل بندے کے اختیار سے نہ ہو، اگر عدم فعل بندے کے اختیار سے نہ ہو تو اسے نفی کہتے ہیں۔ تو اسے نفی کہتے ہیں۔ چنانچہ نفی میں، چنانچہ نفی میں عدم فعل پر، چنانچہ نفی میں عدم فعل پر بندے کو ثواب بھی نہیں ملتا۔ بندے کو ثواب بھی نہیں ملتا۔ کیونکہ یہاں عدم فعل میں، کیونکہ یہاں عدم فعل میں بندے کا کوئی عمل دخل نہیں۔ بندے کا کوئی عمل دخل نہیں۔ مثلاً الگ سطر لکھیے۔ مثلاً گلاس میں پانی نہ ہو، مثلاً گلاس میں پانی نہ ہو اور پھر بندے سے کہا جائے کہ پانی مت پی، اور پھر بندے سے کہا جائے کہ پانی مت پی، تو یہ نفی ہے۔ تو یہ نفی ہے۔ کیونکہ پانی موجود ہی نہیں، کیونکہ پانی موجود ہی نہیں تو بندہ پانی پینے پر قادر بھی نہیں۔ تو بندہ پانی پینے پر قادر بھی نہیں۔ تو یہاں عدم فعل، تو یہاں عدم فعل یعنی "پانی کا نہ پینا"، تو یہاں عدم فعل یعنی "پانی کا نہ پینا"، یہ "پانی کا نہ پینا" اس کے گرد دونوں طرف بھئی دو الٹے نشان لگائیں بھئی، قومے ڈال دیں اوپر، "پانی کا نہ پینا"۔ تو یہاں عدم فعل یعنی "پانی کا نہ پینا" پایا گیا، پایا گیا، مگر بندے کے اختیار سے نہیں۔ مگر بندے کے اختیار سے نہیں۔ اور اگر پانی موجود ہو اور پھر پانی پینے سے منع کیا جائے، اور اگر پانی موجود ہو، اور اگر پانی موجود ہو اور پھر پانی پینے سے منع کیا جائے تو یہ نہی ہے۔ تو یہ نہی ہے۔ کیونکہ اب عدم فعل، کیونکہ اب عدم فعل یعنی "پانی کا نہ پینا"، یعنی "پانی کا نہ پینا"، وہ "پانی کا نہ پینا" کے گرد دونوں طرف دو الٹے قومے ڈالیں بھئی، دو الٹے نشان، بندے کے اپنے اختیار سے ہوگا۔ بندے کے اپنے اختیار سے ہوگا۔ الگ سطر بھئی، نفی کی اور مثالیں۔ نفی کی اور مثالیں۔ جیسے اندھے سے کہا جائے کہ تو نہ دیکھ، جیسے کہ اندھے سے کہا جائے کہ تو نہ دیکھ، گونگے سے کہا جائے کہ تو نہ بول، گونگے سے کہا جائے کہ تو نہ بول، بہرے سے کہا جائے کہ تو مت سن، بہرے سے کہا جائے کہ تو مت سن، اپاہج سے کہا جائے کہ تو نہ دوڑ، اپاہج سے کہا جائے کہ تو نہ دوڑ، تو ان افعال کے نہ ہونے میں اس بندے کا اختیار ہی نہیں، تو ان افعال کے نہ ہونے میں اس بندے کا اختیار ہی نہیں، کیونکہ، تو ان افعال کے نہ ہونے میں اس بندے کا اختیار ہی نہیں کیونکہ وہ ان کاموں سے ہی عاجز ہے۔ کیونکہ وہ ان کاموں سے ہی عاجز ہے۔ تو یہ نفی ہوئی، تو یہ نفی ہوئی۔ اور یاد رکھیے نفی انتہائی قبیح ہے۔ اور یاد رکھیے نفی انتہائی قبیح ہے کہ کسی شخص کو ایسے کام سے روکا جائے، کہ کسی شخص کو ایسے کام سے روکا جائے جس کے کرنے سے وہ پہلے ہی سے عاجز ہے۔ جس کے کرنے سے وہ پہلے ہی سے عاجز ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ تو یہ مقدمہ اولیٰ ختم ہوا۔ آگے عنوان دیجیے۔ مقدمہ ثانیہ۔ مقدمہ ثانیہ۔ احناف کی باتیں چل رہی ہیں مولانا، بڑی گہری باتیں ہوتی ہیں احناف کی۔ مقدمہ ثانیہ۔ ناہی جب حکیم ہو، ناہی، نہی کرنے والا، ناہی جب حکیم ہو، ناہی اسم فاعل ہے بھئی نہی سے، ناہی جب حکیم ہو تو اس کی نہی تقاضا کرتی ہے، تو اس کی نہی تقاضا کرتی ہے منہی عنہ کے قبیح ہونے کا، منہی عنہ کے قبیح ہونے کا، منہی عنہ کے قبیح ہونے کا۔ تو نہی ہوئی مقتضی، تو نہی ہوئی مقتضی یعنی تقاضا کرنے والی، یعنی تقاضا کرنے والی، اور قبح ہوا مقتضا، قبح، قاف دو نقطوں والا، با اور حا بھئی، با اور حا، قبح، اور قبح ہوا مقتضا، قبح ہوا مقتضا یعنی جس کا تقاضا کیا گیا۔ یعنی جس کا تقاضا کیا گیا۔ اب اس مقتضا، اب اس مقتضا یعنی قبح کو ایسے طریقے پر ثابت کرنا ضروری ہے، یعنی قبح کو ایسے طریقے پر ثابت کرنا ضروری ہے جس سے مقتضی کا باطل ہونا، جس سے مقتضی کا باطل ہونا لازم نہ آئے۔ جس سے مقتضی کا باطل ہونا لازم نہ آئے، یعنی، یعنی کہیں ایسا نہ ہو، یعنی کہیں ایسا نہ ہو کہ نہی کا وجود ہی باقی نہ رہے، کہ نہی کا وجود ہی باقی نہ رہے اور وہ نفی میں بدل جائے۔ اور وہ نفی میں بدل جائے۔ مقدمہ ثالثہ، عنوان بھئی، تیسرا مقدمہ۔ مقدمہ ثالثہ۔ ہر فعل میں اختیار اس کی مناسبت سے ہوگا، ہر فعل میں اختیار اس کی مناسبت سے ہوگا۔ تو افعال حسیہ میں اختیار ہونے کا مطلب یہ ہے، تو افعال حسیہ میں اختیار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ حسًّا اس کے کرنے پر قادر ہو، کہ بندہ حسًّا اس کے کرنے پر قادر ہو۔ مثلاً ایک آدمی زنا کرنے پر قادر ہو، مثلاً ایک آدمی زنا کرنے پر قادر ہو اور پھر اپنے اختیار سے زنا سے رک جائے، اور پھر اپنے اختیار سے زنا سے رک جائے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے، اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تو اسے ثواب ملے گا۔ تو اسے ثواب ملے گا۔ جبکہ افعال شرعیہ میں اختیار، جبکہ افعال شرعیہ میں اختیار شارع کی جانب سے ہوتا ہے۔ اختیار شارع کی جانب سے ہوتا ہے، کیونکہ اس فعل کا سمجھنا ہی شریعت پر موقوف ہے۔ کیونکہ اس فعل کا سمجھنا ہی شریعت پر موقوف ہے۔ یہاں حسی طور پر، یہاں حسی طور پر بندے کا اس فعل پر قادر ہونا، بندے کا اس فعل پر قادر ہونا نہیں دیکھا جاتا، نہیں دیکھا جاتا۔ چنانچہ اگر شارع نے اس فعل کے کرنے کی اجازت دی، چنانچہ اگر شارع نے اس فعل کے کرنے کی اجازت دی تو یہ فعل بندے کے اختیار میں ہوگا۔ تو یہ فعل بندے کے اختیار میں ہوگا، اور اگر شارع نے اجازت نہ دی، اور اگر شارع نے اجازت نہ دی تو یہ فعل بندے کے اختیار میں ہی نہ ہوگا۔ تو یہ فعل بندے کے اختیار میں ہی نہ ہوگا، اگرچہ حسًّا بندہ اس کے کرنے پر، اگرچہ حسًّا بندہ اس کے کرنے پر قادر ہی کیوں نہ ہو، قادر ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ حسًّا بندے کے قادر ہونے کا، کیونکہ حسًّا بندے کے قادر ہونے کا یہاں کوئی اعتبار نہیں۔ یہاں کوئی اعتبار نہیں۔ لکھ لیا بھئی؟ جی، مقدمات مکمل ہوئے۔ آگے اب لکھیے، احناف کی دلیل بھئی۔ احناف کی دلیل۔ نہی کے آنے کے بعد، نہی کے آنے کے بعد معلوم ہوا، معلوم ہوا کہ یہ فعلِ شرعی قبیح ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ فعلِ شرعی قبیح ہے۔ اب اگر اس فعل کو قبیح لعینہ قرار دیا جائے، اب اگر اس فعل کو قبیح لعینہ قرار دیا جائے تو یہ فعل اصلاً مشروع، تو یہ فعل اصلاً مشروع یعنی جائز ہی نہ رہے گا۔ یعنی جائز ہی نہ رہے گا۔ کیونکہ جو چیز قبیح لعینہ ہو، کیونکہ جو چیز قبیح لعینہ ہو شارع کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ شارع کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ تو اس فعلِ شرعی کو قبیح لعينہِ قرار دینے کی صورت میں، تو اس فعلِ شرعی کو قبیح لعينہِ، قرار دینے کی صورت میں، تو اس فعلِ شرعی کو قبیح لعينہِ قرار دینے کی صورت میں یہ کہنا پڑے گا، یہ کہنا پڑے گا کہ شارع نے اس کے کرنے کی اجازت ہی نہیں دی۔ کہ شارع نے اس کے کرنے کی اجازت ہی نہیں دی۔ اور یہ تو فعلِ شرعی ہے، اور یہ تو فعلِ شرعی ہے۔ جب شارع کی طرف سے اس کی اجازت ہی نہیں، جب شارع کی طرف سے اس کی اجازت نہیں، جب شارع کی طرف سے اس کی اجازت نہیں، تو یہ بندے کے اختیار میں بھی نہیں، تو یہ بندے کے اختیار میں بھی نہیں۔ بندہ اس کے کرنے پر قادر ہی نہیں، بندہ اس کے کرنے پر قادر ہی نہیں۔ تو بندہ اس فعل کے کرنے سے عاجز ہوا، تو بندہ اس فعل کے کرنے سے عاجز ہوا۔ اور عاجز کو اس فعل سے منع کرنا، اور عاجز کو اس فعل سے منع کرنا، نفی ہے نہ کہ نہی، نفی ہے نہ کہ نہی۔ اور نہی اور نفی، اور نفی انتہائی قبیح ہے، اور نفی انتہائی قبیح ہے۔ الگ سطر لکھیے۔ ثابت ہوا، ثابت ہوا، کہ نہی آنے کے بعد، کہ نہی آنے کے بعد اگر فعلِ شرعی کو قبیح لعينہِ قرار دیا جائے، اگر فعلِ شرعی کو قبیح لعينہِ قرار دیا جائے، تو شارع کا، تو شارع کا، عاجز کو منع کرنا لازم آئے گا، عاجز کو منع کرنا لازم آئے گا۔ اور عاجز کو منع کرنا تو قبیح ہے، اور عاجز کو منع کرنا تو قبیح ہے۔ تو شارع کی طرف، تو شارع کی طرف قبیح چیز کی نسبت کرنا لازم آئے گی، قبیح چیز کی نسبت کرنا لازم آئے گی، جو کہ درست نہیں۔ تو شارع کی طرف قبیح چیز کی نسبت کرنا لازم آئے گی جو کہ درست نہیں، یعنی شارع کا عاجز کو منع کرنا محال ہے، یعنی شارع کا عاجز کو منع کرنا محال ہے۔ اور جو چیز محال کو مستلزم ہو، اور جو چیز محال کو مستلزم ہو وہ خود محال ہوا کرتی ہے۔ اور جو چیز محال کو مستلزم ہو وہ خود محال ہوا کرتی ہے۔ لہذا نہی کے آنے کے بعد، لہذا نہی کے آنے کے بعد فعلِ شرعی کا قبیح لعينہِ ہونا، لہذا نہی کے آنے کے بعد فعلِ شرعی کا قبیح لعينہِ ہونا محال ہوا، قبیح لعينہِ ہونا محال ہوا اور جب وہ قبیح لعينہِ نہیں، اور جب وہ قبیح لعينہِ نہیں تو پھر یقیناً قبیح لغيرہِ ہے۔ اور جب وہ قبیح لعينہِ نہیں تو پھر وہ یقیناً قبیح لغيرہِ ہے۔ الگ سطر لکھیے بھئی۔ بالفاظِ دیگر یہ کہنا پڑے گا، بالفاظِ دیگر یہ کہنا پڑے گا کہ نہی کے بعد بھی یہ فعلِ شرعی، کہ نہی کے بعد بھی یہ فعلِ شرعی بندے کے اختیار میں ہے، بندے کے اختیار میں ہے۔ یعنی شارع کی طرف سے اس کی اجازت ہے، یعنی شارع کی طرف سے اس کی اجازت ہے۔ کیونکہ فعلِ شرعی میں اختیار، کیونکہ فعلِ شرعی میں اختیار شارع کی طرف سے آتا ہے، کیونکہ اس فعلِ شرعی میں اختیار شارع کی طرف سے آتا ہے۔ تو اس فعل کی اجازت بھی ہوئی، تو اس فعل کی اجازت بھی ہوئی تاکہ بندے کا اختیار رہے، تاکہ بندے کا اختیار رہے۔ اور پھر نہی کے ذریعے اس سے روکا بھی گیا، اور پھر نہی کے ذریعے اس سے روکا بھی گیا تاکہ اپنے اختیار سے، تاکہ اپنے اختیار سے اس فعل کے کرنے سے باز رہے، تاکہ اپنے اختیار سے اس فعل کے کرنے سے باز رہے۔ تو یہ فعل ماذون بھی ہوا اور ممنوع بھی، تو یہ فعل ماذون بھی ہوا، ماذون اذن سے اجازت یعنی جس میں ہو، ذال ہے ذال، تو یہ فعل ماذون بھی ہوا اور ممنوع بھی۔ اور یہ دونوں چیزیں، اور یہ دونوں چیزیں یعنی ماذون و ممنوع ہونا، یعنی ماذون و ممنوع ہونا صرف اسی صورت میں جمع ہو سکتی ہیں، صرف اسی صورت میں جمع ہو سکتی ہیں کہ یہ کہا جائے، کہ یہ کہا جائے کہ یہ فعل اپنی ذات کے اعتبار سے، کہ یہ فعل اپنی ذات کے اعتبار سے ماذون یعنی مشروع و جائز ہے۔ اپنی ذات کے اعتبار سے ماذون یعنی مشروع و جائز ہے اور وصف کے اعتبار سے ممنوع، اور وصف کے اعتبار سے ممنوع یعنی غیر مشروع و ناجائز ہے، یعنی غیر مشروع و ناجائز ہے۔ اور ذات کے اعتبار سے مشروع، اور ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہونا، اور ذات کے اعتبار سے مشروع اور وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہونا، یہ قبیح لغيرہِ میں ہوتا ہے، یہ قبیح لغيرہِ میں ہوتا ہے نہ کہ قبیح لعينہِ میں، نہ کہ قبیح لعينہِ میں۔ ثابت ہوا، ثابت ہوا کہ فعلِ شرعی میں نہی آ جائے، کہ فعلِ شرعی میں نہی آ جائے تو وہ قبیح لغيرہِ ہوتا ہے، تو وہ قبیح لغيرہِ ہوتا ہے۔ الگ سطر لکھیے۔ جبکہ فعلِ حسی میں نہی آئے، جبکہ فعلِ حسی میں نہی آئے تو وہ قبیح لعينہِ ہو گا، تو وہ قبیح لعينہِ ہو گا۔ اور ذات و اصل کے اعتبار سے ہی مشروع نہ رہے گا، اور ذات و اصل کے اعتبار سے ہی مشروع نہ رہے گا۔ اور اس سے عاجز کی نہی بھی لازم نہیں آتی، اور اس سے عاجز کی نہی بھی لازم نہیں آتی، کیونکہ افعالِ حسیہ میں، کیونکہ افعالِ حسیہ میں اختیار ہونے کا معنی یہ ہے، اختیار ہونے کا معنی یہ ہے کہ بندہ حسًّا اس کے کرنے پر قادر ہو، کہ بندہ حسًّا اس کے کرنے پر قادر ہو۔ اس میں اختیار کا دارومدار، اس میں اختیار کا دارومدار شریعت کی اجازت پر نہیں، اس میں اختیار کا دارومدار شریعت کی اجازت پر نہیں۔ لکھ لیا بھئی؟ بس بھئی بحث مکمل ہوئی، تو یہ تقریر اپنے پاس محفوظ رکھنا بھئی، انشاء اللہ آپ کے کام آئے گی بھئی، انشاء اللہ۔ میں نے بحث آپ کو لکھوائی ہے، اب اس کو سمجھ بھی لیں۔ آگے افعالِ حسیہ، افعالِ شرعیہ اور جو بحث میں نے لکھوائی، وہ آ رہی ہے۔ میں نے آسان اور جامع اور جامع الفاظ میں آپ کو لکھوا دی۔ یاد رکھیے! افعال دو قسم پر ہیں: کچھ کو افعالِ حسیہ کہتے ہیں، کچھ کو افعالِ شرعیہ۔ یہ تقسیم ہے علمائے اصولِ فقہ والوں کی بھئی۔ افعالِ حسیہ ان کو کہتے ہیں کہ جن کے معنی میں شریعت کے آنے سے کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔ جو معنی ان کا پہلے تھا، وہی معنی اب بھی ہے۔ جیسے زنا، زنا کہتے تھے وطی غیرِ ملک کے اندر، اپنی ملکیت کے علاوہ میں صحبت کرنا، یہ کیا کہلاتا تھا؟ زنا کہلاتا تھا۔ شریعت سے پہلے بھی یہی معنی لوگ سمجھتے تھے اس کا، شریعت کے آنے کے بعد بھی وہی معنی ہے۔ قتل تھا، قتل کسی کو جان سے مار دینا۔ یہی، قتل کا یہی معنی لوگ پہلے بھی کرتے تھے، یہی معنی اب بھی کرتے ہیں۔ شربِ خمر، شراب کا پینا، پہلے بھی وہی معنی ہوتا تھا، یہی، اب بھی وہی معنی ہے، شراب پی لے تو کہیں گے شربِ خمر کیا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ افعال افعالِ حسیہ کہلاتے ہیں جن کے معنی میں شریعت نے کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی۔ اس کے مقابلے میں وہ افعال ہیں جن کے معنی میں شریعت نے تبدیلی پیدا کر دی، انہیں افعالِ شرعیہ کہتے ہیں۔ یعنی پہلے اور معنی تھا، اب اور معنی ہے۔ مثلاً بیع، بیع پہلے کہتے تھے مبادلة المال بالمال، مال کا مال کے بدلے تبادلہ کرنا۔ یہ بیع سمجھتے تھے لوگ، یہ تعریف کرتے تھے کہ بیع اسے کہتے ہیں۔ شریعت نے آ کر بتلایا: نہیں بھئی، مبادلة المال بالمال صرف یہی نہیں ہے، بلکہ اس میں کئی شرطیں ہیں، ان کا لحاظ رکھو تو بیع ہے ورنہ بیع نہیں ہے۔ پہلی شرط، آپس میں باہمی رضامندی ہونی چاہیے دونوں کی بھئی، یہ نہیں بندوق کی نوک پر ایک سے چیز لے لی، دوسری چیز دے دی، لو بھئی بیع ہو گئی ہمارے درمیان، نہیں، بلکہ کیا ضروری ہے؟ باہمی رضامندی ضروری ہے، یہ شریعت نے بتلایا۔ نیز مبیع معلوم ہونا چاہیے، موجود ہونا چاہیے، معدوم نہیں۔ ایک چیز جس کا ابھی وجود ہی نہیں ہے، پہلے سے ہی آپ اس کی بیع کر دیتے ہیں، مثلاً کہ اس جانور کے جو بچہ پیدا ہو گا، وہ میں نے ابھی تم سے خرید لیا۔ بھئی! ابھی تو اس کا وجود ہی نہیں ہے، اس کو کیسے خریدتے ہو؟ تو مبیع موجود ہونا چاہیے، معدوم نہیں۔ نیز ثمن بھی معلوم ہونے چاہیئیں، کتنے کے بدلے خریدتے ہو؟ کس، کون سے ثمن ہیں؟ دینار ہیں یا درہم ہیں یا ڈالر ہیں یا کرنسی کون سی ہے؟ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے اور وصف بھی اور کتنے ہیں؟ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے بھئی، 10 ہیں، 20 ہیں یا 30 ہیں۔ یہ سب چیزیں ہوں گی تو بیع ہو گی بھئی۔ تو شریعت نے، نیز کوئی شرط بھی نہیں لگانی جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو۔ تو دیکھو، شریعت نے بہت سی چیزوں کی اس میں شرط لگا دی، تو بیع کے معنی میں تبدیلی پیدا کر دی۔ تو جس کے اندر، جس معنی کے اندر شریعت، جس فعل کے معنی میں شریعت نے تبدیلی پیدا کر دی، اسے فعلِ شرعی کہتے ہیں۔ معلوم ہوا اس سے پہلے لوگ بیع کو جانتے ہی نہیں تھے، یہ شریعت نے آ کے بتلایا اور جو، جس کو وہ بیع کہتے تھے، وہ بیع نہیں تھی، وہ غلط سمجھتے تھے اس کو، بیع تو یہ ہے جو ہمیں شریعت نے بتائی بھئی۔ تو ان افعال کا سمجھنا کس پر موقوف ہوا؟ شریعت پر، شریعت سے پہلے عقل مند، بڑے لوگ تھے لیکن کسی کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ تو ان کا سمجھنا کس پر موقوف ہوا؟ شریعت پر، تو ان کو افعالِ شرعیہ کہتے ہیں۔ تو خلاصہ کلام یہ: وہ افعال جن کے معنی میں شریعت نے کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی، وہ افعالِ حسیہ کہلاتے ہیں اور جن کے معنی میں شریعت نے تبدیلی پیدا کی، انہیں افعالِ شرعیہ کہتے ہیں۔ اب اس بات پر تو ہمارا اور شوافع کا اتفاق ہے کہ جب افعالِ حسیہ میں نہی آ جائے، نہی آ جائے تو وہ قبیح لعينہِ ہو گا۔ بھئی! اللہ ایک چیز سے منع کر رہے ہیں، معلوم ہوا اس میں کوئی خرابی ہے، قباحت ہے اس کے اندر۔ بغیر قباحت کے اللہ منع فرما سکتے ہیں بھئی؟ نہیں، یقیناً جب اللہ فرما رہے ہیں، ایک حکمت والی ذات اس چیز سے منع کر رہی ہے، معلوم ہوا اس میں کوئی خرابی ہے۔ جیسے امر کے اندر حسن ہوتا تھا، جب اللہ ایک چیز کا حکم دے رہے ہیں، معلوم ہوا اس میں حسن ہے، خوبی ہے، اچھائی ہے۔ تو نہی کے اندر اسی طرح ہے، جب اللہ کسی چیز سے منع فرمائیں، معلوم ہوا اس کے اندر خرابی ہے۔ تو نہی آ گئی تو پتہ چل گیا چیز کے اندر خرابی ضرور ہے، قباحت ضرور ہے، لیکن قباحت تو ہے دو قسم پر: ایک قبیح لعينہِ جو اپنی ذات کے اعتبار سے چیز قبیح ہوتی ہے، اور ایک قبیح لغيرہِ جو اپنی ذات کے اعتبار سے تو قبیح نہیں، لیکن کسی غیر کی وجہ سے اس میں کیا آ رہی ہے؟ قباحت آ رہی ہے۔ تو افعالِ حسیہ کے اندر نہی آئی تو اتنا تو پتہ چل گیا کہ یہ قبیح ہے، اور کون سا قبیح ہے؟ کہتے ہیں قبیح لعينہِ، معلوم ہوا ان کی ذات ہی قبیح ہے، کیونکہ جو معنی پہلے تھا، وہی معنی اب بھی ہے اور شریعت نے اس کو قبیح قرار دیا، معلوم ہوا یہ چیز اپنی ذات کے اعتبار سے کیا ہے؟ قبیح ہے۔ ہاں! افعالِ شرعیہ کے اندر نہی آئے، اللہ اسے منع فرمائیں، اتنا تو پتہ چل گیا اس میں قباحت ہے، لیکن کون سی قباحت ہے؟ ہمارا اور شوافع کا اختلاف، وہ کہتے ہیں یہ قبیح لعينہِ ہے، ہم کہتے ہیں نہیں، یہ قبیح لغيرہِ ہے، قبیح لغيرہِ ہے۔ اختلاف سمجھ میں آیا؟ پھر مذہبِ احناف کی تفصیل آپ کو بتلائی تھی، ہمارا کیا مذہب ہوا؟ افعالِ حسی میں نہی آئے تو وہ قبیح لِعینہِ ہوگا اور فعلِ شرعی میں نہی آئے تو قبیح لِغیرہِ ہوگا، یعنی اس پہ جب روکا جائے تو وہ قبیح لِغیرہِ ہوگا۔ لیکن شرط یہ ہے کوئی دلیل اس کے خلاف نہ ہو۔ اگر کوئی دلیل ان کے خلاف آ گئی تو اس کے خلاف بھی قباحت ثابت ہو جائے گی۔ مثلاً افعالِ حسیہ میں نہی آئے تو وہ کیا تقاضا کرتی ہے؟ یہ کیا ہونا چاہیے؟ قبیح لِعینہِ، لیکن اگر کوئی دلیل قائم ہو گئی اور اس نے بتا دیا کہ یہ قبیح لِعینہِ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ قبیح لِغیرہِ ہے تو پھر ہم بھی اسے قبیح لِغیرہِ قرار دیں گے لیکن ویسے نہیں بلکہ اس دلیل کی وجہ سے۔ اور فعلِ شرعی کے اندر نہی آئے تو وہ کیا تقاضا کرتی ہے؟ قبیح لِغیرہِ ہونا چاہیے لیکن اگر کوئی دلیل آ گئی اور وہ دلیل اس دلیل سے پتہ چلا کہ یہ قبیح لِغیرہِ نہیں ہونا چاہیے بلکہ کیا ہونا چاہیے؟ قبیح لِعینہِ، تو پھر ہم اسے اس دلیل کی وجہ سے کیا قرار دے دیں گے؟ معلوم ہوا، فعلِ حسی میں نہی آئے تو وہ قبیح لِعینہِ ہو گا بشرطیکہ اس کے خلاف کوئی دلیل قائم نہ ہو، اور فعلِ شرعی کے اندر نہی آئے تو وہ قبیح لِغیرہِ ہو گا بشرطیکہ اس کے خلاف کوئی دلیل قائم نہ ہو۔ ورنہ پھر کیا اگر دلیل قائم ہوئی تو کیا ہو جائے گا؟ قبیح قبیح لِغیرہِ قبیح لِعینہِ ہو گا بھئی۔ یہ تھی احناف کے مذہب کی تفصیل بھئی۔ اس کے بعد ثمرہِ اختلاف بتلایا تھا، نتیجہ کیا مرتب ہو گا اس اختلاف کا مثلاً؟ مثال کے طور پر، اذانِ جمعہ کے وقت بیع سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ قرآن میں کیا فرماتے ہیں: إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ۔ تو اللہ کے ذکر کی طرف یعنی نماز کی طرف سعی کرو اور بیع کو چھوڑ دو، تو بیع کو چھوڑنے کا حکم آیا اور تو یہ امر ہے بصورت لیکن دراصل یہ کیا ہے؟ نہی ہے معنی کے اعتبار سے کہ اس وقت بیع نہ کرو۔ اور بیع آپ بتائیے فعلِ شرعی ہے یا فعلِ حسی؟ فعلِ شرعی، شریعت نے اس کے معنی میں تبدیلی پیدا کی، شرائط وغیرہ بیان کیں جو آپ فقہ کی کتابوں میں پڑھ چکے۔ اب یہ جو اس اذانِ جمعہ کے وقت کوئی بیع کرے تو یہ بیع جس کے بارے میں نہی آئی، امامِ شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ قبیح لِعینہِ ہوئی بھئی، کیونکہ ان کے نزدیک فعلِ شرعی میں ہو چاہے فعلِ حسی میں ہو، نہی آ جائے تو وہ کیا ہوتا ہے؟ قبیح لِعینہِ۔ تو قبیح لِعینہِ ہوا یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح، تو یعنی گویا کہ اپنی ذات کے اعتبار سے یہ جائز ہی نہیں ہے، تو یہ حرام لِعینہِ ہوا۔ تو جب جائز ہی نہیں ہے تو اس کی اجازت بھی نہیں۔ یہ منعقد ہی نہیں ہوئی یہ بیع ان کے نزدیک، جب بیع منعقد ہی نہیں ہوئی تو مشتری مبیع کا مالک بھی نہیں بنے گا، کیونکہ بیع میں تو کیا ہوتا ہے مشتری مبیع کا لیکن یہ ان کے نزدیک قبیح لِعینہِ ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے حرام ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے جائز ہی نہیں ہے تو بیع منعقد ہی نہیں ہوئی، جب منعقد نہ ہوئی تو مشتری مبیع کا مالک بھی نہیں بنے گا۔ اس کے مقابلے میں احناف کہتے ہیں کہ یہ فعلِ شرعی ہے اور اس کے بارے میں نہی آئی تو یہ قبیح لِغیرہِ ہے، اور قبیح لِغیرہِ کا معنی یہ ہے کہ یہ چیز اپنی ذات کے اعتبار سے جائز ہے اور وصف کے اعتبار سے جائز نہیں ہے۔ اپنی ذات کے اعتبار سے تو یہ بیع ہے، جائز ہے، لیکن ایک وصف کی وجہ سے یہ جائز نہیں جو اس کے ساتھ مل گیا اور وہ کیا؟ کہ اس صورت میں ترکِ سعی الی الجمعہ لازم آتا ہے بھئی۔ تو ترکِ سعی الی الجمعہ کی وجہ سے یہ قبیح ہو رہا ہے، اپنی ذات کی وجہ سے یہ قبیح نہیں۔ تو لہٰذا احناف کے نزدیک یہ بیع منعقد ہو جائے گی، کیونکہ ذات کے اعتبار سے یہ قبیح نہیں ہے، ذات کے اعتبار سے یہ جائز ہے، مشروع ہے۔ ہاں، وصف کے اعتبار سے غیر مشروع ہے وصف کے اعتبار سے۔ تو ذات کے اعتبار سے جب جائز ہے، مشروع ہے تو منعقد ہو گئی اور مشتری مبیع کا مالک بن گیا، یہ ہے ثمرہِ اختلاف۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ان کے ان کے نزدیک فعلِ شرعی کو قبیح لِعینہِ قرار دینے سے اور ہمارے نزدیک اس فعلِ شرعی کو قبیح لِغیرہِ قرار دینے پر یہ ثمرہ مرتب ہوا، جیسے کہ اس مثال کے اندر بات واضح ہے۔ ان کے نزدیک بیع منعقد ہی نہیں ہو گی، مشتری مالک بھی نہیں بنے گا، ہمارے نزدیک ذات کے اعتبار سے یہ بیع چونکہ جائز ہے، وصف کے اعتبار سے جائز نہیں، تو ذات کے اعتبار سے جائز ہونے کی وجہ سے بیع منعقد ہو گئی اور مشتری مبیع کا مالک بن گیا، ہاں البتہ دونوں گنہگار ہوں گے، اس بیع سے تو منع کیا گیا تھا، انہوں نے پھر بیع کی بھئی، کیونکہ کیونکہ اس بیع سے ترکِ سعی الی الجمعہ لازم آیا بھئی۔ ثمرہِ اختلاف بھی سمجھ میں آ گیا؟ اس کے بعد دلیل ذکر کی تھی بھئی، امامِ شافعی رحمہ اللہ کی دلیل بھئی۔ انہوں نے اس کو قبیح لِعینہِ کیوں قرار دیا فعلِ شرعی میں جب نہی آ جائے؟ وہ کہتے ہیں بھئی، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں افعالِ حسیہ پر، اور افعالِ حسیہ کے اندر نہی آ جائے تو وہ کیا ہوتا ہے؟ قبیح لِعینہِ۔ تو فعلِ شرعی کے اندر بھی جب نہی آئے تو اسے قبیح لِعینہِ قرار دینا چاہیے، کیونکہ کامل درجے کا قبح کونسا ہے؟ قبح لِعینہِ ہے، تو اس کے اندر بھی کامل درجے کا قبح ثابت کرنا چاہیے، کیونکہ جب نہی آ گئی اتنا تو پتہ چل گیا اس میں قباحت ہے، لیکن اور قباحت پھر کامل کونسی ہے؟ لِعینہِ ہے، تو لہٰذا اسی کو ثابت کرنا چاہیے بھئی تاکہ یہ کامل درجے کا قبیح ہو جائے۔ یہ ان کی دلیل ہے، دلیل سمجھ میں آ گئی ان کی؟ اس کے بعد احناف کی دلیل آئی۔ احناف کہتے ہیں، احناف کی دلیل کو سمجھنے کے لیے پہلے تین مقدمات کا سمجھنا ضروری ہے۔ احناف کے تین مقدمات، پہلا مقدمہ یہ کہ بھئی، ایک ہے نہی، ایک ہے نفی، دونوں کے اندر فرق سمجھ لیں۔ نہی وہ ہے جس میں بندے کو ایک کام سے روکا جائے اور وہ کام بندے کے اختیار میں ہو پھر اس کو روکا جائے۔ اب جب اختیار میں ہے اور نہی آنے کے بعد وہ رکے گا تو اس کو ثواب ملے گا، نہیں رکے گا تو اسے سزا ملے گی۔ تو نہی میں کیا ضروری ہے؟ کہ بندہ اپنے اختیار سے کسی کام سے رکے۔ اور ایک ہے نفی، نفی میں بھی عدمِ فعل ہوتا ہے لیکن بندے کے اختیار سے نہیں ہوتا۔ تو جب بندے کے اختیار سے عدمِ فعل نہیں ہے تو وہاں اسے ثواب بھی نہیں ملے گا بھئی۔ اس کی مثال سے میں نے وضاحت کی تھی جیسے پانی گلاس میں ہو ہی نہ اور پھر آپ ایک آدمی سے کہیں پانی مت پیو، تو اس وقت عدمِ فعل ہے۔ پانی کا پینا نہیں ہے۔ عدمِ فعل ہے یا نہیں بھئی؟ عدمِ فعل ہے، پانی کا پینا نہیں پایا گیا، لیکن کیا یہ اس کے اپنے اختیار سے ہے یا اس کے اختیار سے نہیں ہے؟ اس کے اپنے اختیار سے نہیں ہے، وہ تو عاجز ہے، پانی ہے ہی نہیں تو وہ پی ہی سکتا ہی نہیں تھا اس کو، تو لہٰذا یہ عدمِ فعل یعنی پانی کا نہ پینا تو پایا تو گیا لیکن اس کے اپنے اختیار سے نہیں، اور یہ نفی ہے۔ کہ اس کو منع کیا جا رہا ہے پانی نہ پیو اور حالانکہ وہ پانی پینے سے پہلے سے عاجز ہے۔ اور نفی انتہائی قبیح ہے کہ ایک عاجز شخص کو ایک کام سے منع کیا جائے، وہ اس کام کے کرنے سے پہلے ہی عاجز ہے اور پھر آپ اسے منع کریں، یہ انتہائی قبیح چیز ہے، آپ کی عقل خود بھی آپ کو بتلاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ عقل بھی بتلاتی ہے کہ ایک آدمی کی ایک چیز کر ہی نہیں سکتا تو اس کو روکنے کا کیا معنی بھئی، اس کو روکنا کوئی مناسب بات نہیں ہے۔ یہ اس کی اور مثالیں، جیسے اندھے سے کہا جائے نہ دیکھ، گونگے سے کہا جائے نہ بول، بہرے سے کہا جائے نہ سن، بھئی وہ تو پہلے ہی عاجز ہیں ان چیزوں سے، تو اس کو کوئی بھی عقل کی بات نہیں کہے گا بھئی جب آپ اندھے سے کہیں نہ دیکھ۔ تو یہ ہے نہی، تو نہی میں بھی عدمِ فعل ہوتا ہے، نفی میں بھی عدمِ فعل ہوتا ہے، لیکن نہی میں عدمِ فعل اپنے اختیار سے ہوتا ہے اور نفی میں عدمِ فعل اپنے اختیار سے نہیں ہوتا اور نفی انتہائی قبیح ہے، ناپسندیدہ ہے۔ یہ پہلا مقدمہ تھا، دوسرا مقدمہ یہ کہ نہی ہے مقتضیٰ اور قبح ہے مقتضىٰ۔ نہی جب آ گئی اللہ کی طرف سے اس نے بتلا دیا آپ کو جس سے آپ کو پتہ چل گیا کہ جس چیز سے روکا گیا ہے وہ قبیح ہے۔ وہ کیا ہے؟ کس سے پتہ چلا آپ کو؟ نہی سے، تو نہی ہوئی مقتضیٰ تقاضا کرنے والی، اور کس چیز کا تقاضا کیا؟ قبح کا، اس لیے منہی عنہ جس سے روکا گیا ہے یہ قبیح ہے نہی نے تقاضا کیا۔ تو یہ قبح ہوا مقتضىٰ، نہی ہوئی مقتضیٰ اور قبح ہوا مقتضىٰ۔ نہی جب آئے گی اللہ کی طرف سے وہ تقاضا کرے گی، وہ آپ کو بتلا دے گی کہ اس منہی عنہ میں کیا ہے؟ قباحت ہے۔ تو نہی ہوئی مقتضیٰ اور قبح ہوا مقتضىٰ۔ اب یاد رکھو، یہ مقتضىٰ جو ہے اس کو اس طریقے پر ثابت کرنا ضروری ہے کہ اس سے مقتضیٰ باطل نہ ہو جائے۔ قبح کو، قبح کو ایسے طریقے سے ثابت کرنا ضروری ہے جس سے نہی باطل ہو کر کہیں نفی نہ بن جائے۔ نہی آ گئی، اب آپ نے کیا ثابت کرنا ہے؟ قبح، لیکن قبح کو اس طریقے پہ ثابت کرو کہ کہیں نہی ہی باطل نہ ہو جائے اور نہی سے نفی نہ بن جائے۔ تو مقتضىٰ کو ثابت کر رہے ہو کہیں مقتضیٰ کو باطل نہ کر دینا، مقتضىٰ کیا؟ قبح، مقتضیٰ کیا؟ نہی۔ تو قبح کو اس طریقے پر ثابت کیا جائے کہ کہیں یعنی مقتضىٰ کو اس طریقے پر ثابت کیا جائے کہ کہیں مقتضیٰ یعنی نہی باطل ہو کر نفی نہ بن جائے، یہ دوسرا مقدمہ ہے، سمجھ میں آ گیا؟ تیسرا مقدمہ یہ تھا کہ ہر چیز میں اختیار اس کے مناسب ہو گا۔ ہر چیز کے میں اختیار ایک جیسا نہیں ہو گا، فعلِ شرعی میں بندے کا بندہ اپنے اختیار سے رکتا ہے، بندے کو اس نے اختیار تھا پھر رک گیا، یہ اور معنی کریں گے۔ فعلِ شرعی میں اختیار تھا اور پھر بندہ رک گیا، یہ اور معنی ہو گا یہاں اختیار کا، دونوں کا الگ الگ معنی ہو گا۔ فعلِ حسی میں اختیار ہونے کا معنی یہ ہے کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو۔ ظاہر میں اس کے کرنے پر بندہ قادر ہو جیسے نہی آئی: لَا تَقْرَبُوا الزِّنَى، زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، اور زنا ہے فعلِ حسی۔ اور فعلِ حسی، تو اب یہاں ایک شخص زنا کے کرنے پر قادر ہو حساً یعنی خارج میں ظاہر میں، اور پھر وہ اس کے کرنے سے رک جائے تو ہم کہیں گے اپنے اختیار سے رک گیا، لہٰذا اس کو ثواب ملے گا۔ تو افعالِ حسیہ میں اختیار ہونے کا کیا معنی ہے؟ کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو۔ اور فعلِ شرعی میں اختیار ہونے کا معنی یہ ہے کہ شریعت کی طرف سے اس کی اجازت ہے۔ شریعت کی طرف سے اجازت نہیں تو بندے کے اختیار میں ہی نہیں ہے، یوں سمجھیں گے۔ بندے کے اختیار میں ہی نہیں۔ کیونکہ یہ فعل ہمیں بتایا ہی کس نے؟ شریعت نے، اور جب شریعت کی طرف سے اجازت نہیں ہے اس چیز کی، تو معلوم ہوا بندے کے اختیار میں بھی نہیں ہے، بندہ اس کے کرنے پر قادر ہی نہیں ہے، فعل بتایا ہی شریعت نے ہے اور شریعت نے کرنے کی اجازت نہیں دی، معلوم ہوا بندے کے اختیار میں نہیں۔ جیسے حیض و نفاس والی عورت کو نماز سے روزے سے منع کیا گیا۔ اب اگرچہ وہ حساً نماز پڑھے بھئی، اسی طرح قیام رکوع سجدہ وغیرہ کر لے، یا حساً اسی طرح وہ روزہ رکھ لے، لیکن ہم اس کو نماز نہیں کہیں گے، ہم اس کو روزہ نہیں کہیں گے۔ کیونکہ شریعت نے جب اجازت نہیں دی تو یہ اس کے کرنے پر قادر ہی نہیں ہے، یہ جو کچھ یہ رکوع قیام سجدہ کر رہی ہے یہ نماز نہیں ہے، شریعت کی طرف سے اجازت ہی نہیں ہے۔ حساً اگرچہ وہ اس پر قادر ہے، کر رہی ہے، لیکن شریعت کی طرف سے اجازت نہیں تو ہم کیا کہیں گے؟ یہ اس کے اختیار میں نہیں ہے، یہ جو پڑھ رہی ہے یہ نماز نہیں ہے، یہ جو رکھ رہی ہے یہ روزہ نہیں ہے۔ تو یہاں حس کا ظاہر کا اعتبار نہیں ہوتا فعلِ شرعی میں، بلکہ کس پر اعتبار ہوتا ہے؟ شریعت کا اعتبار ہے، شریعت نے اجازت دی ہے تو بندے کے اختیار میں ہے، بندہ کر سکتا ہے، شریعت نے اجازت نہیں دی تو بندے کے اختیار میں نہیں، بندہ کر بھی نہیں سکتا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ہر چیز میں اختیار اس کے مناسب ہوا کرتا ہے۔ فعلِ حسی میں اختیار ہونے کا کیا معنی؟ کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو۔ اور فعلِ شرعی میں اختیار کا کیا معنی؟ کہ شریعت کی طرف سے اس کی اجازت ہو، اگر اجازت ہے تو کرنے پر قادر ہے، اجازت نہیں تو کرنے پر قادر بھی نہیں۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تین مقدمات ہو گئے، احناف کی دلیل شروع ہونے لگی آگے، خلاصہ کیا ہوا پہلا مقدمہ؟ کہ نفی اور نہی دونوں الگ الگ چیزیں ہیں، نہی میں بندے کو روکا جاتا ہے کام سے جو اس کے اختیار میں ہوتا ہے، اور نفی اسے کہتے ہیں کہ ایک بندے کو ایک کام سے روکا جائے اور وہ اس کے اختیار میں ہی نہ ہو۔ دوسرا مقدمہ یہ گزرا کہ نہی ہے مقتضیٰ اور قبح ہے مقتضىٰ، اس مقتضىٰ یعنی قبح کو ایسے طریقے پر ثابت کرنا ضروری ہے کہ کہیں اس سے مقتضیٰ یعنی نہی ہی باطل ہو کر نفی نہ بن جائے۔ اور تیسرا مقدمہ یہ کہ ہر فعل میں اختیار اس کے مناسب ہوتا ہے، ایک جیسا اختیار نہیں ہر جگہ۔ فعلِ حسی میں اختیار کا معنی یہ ہے کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو، اور فعلِ شرعی میں اختیار ہونے کا معنی یہ ہے کہ شریعت کی طرف سے اس کی اجازت ہو، پھر اختیار ہے ورنہ اختیار نہیں۔ اب احناف دلیل دیتے ہیں بھئی، مقدمات آپ سمجھ گئے۔ احناف کہتے ہیں کہ فعلِ شرعی میں نہی جب آ جائے تو اتنا پتہ چل گیا کہ یہ قبیح ہے۔ اور پھر قبیح کی دو قسمیں ہیں، ایک قبیح لِعینہِ اور ایک قبیح لِغیرہِ، اور یہ نہی کس کے بارے میں آئی ہے؟ فعلِ شرعی، فعلِ شرعی میں اختیار اختلاف ہے نا، اسی کو بیان ہم کر رہے ہیں۔ تو فعلِ شرعی میں نہی آ گئی اور نہی نے اتنا بتلا دیا کہ یہ فعل قبیح ہے بھئی، اور قبیح ہونا پھر دو قسم پر ہے، ایک قبیح لِعینہِ اور ایک قبیح لِغیرہِ۔ اب ان میں سے کونسا قبیح اس کو قرار دیا جائے؟ اگر آپ اس کو کیا قرار دیں؟ قبیح لِعینہِ قرار دے دیں، تو قبیح لِعینہِ ہونے کا معنی یہ ہوا کہ یہ چیز اپنی یہ فعل اپنی ذات کے اعتبار سے ہی قبیح ہے۔ یہ فعل کیا ہے؟ اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح ہے، ناپسندیدہ ہے۔ اور جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے ہی قبیح ہو شارع کی طرف سے کبھی بھی اس کی اجازت نہیں ہو سکتی۔ جو چیز کیا ہو؟ ظاہر سی بات ہے بھئی، جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے بری ہے، ناپسندیدہ ہے کبھی بھی اللہ کی طرف سے اس کی اجازت نہیں ہو سکتی۔ اجازت، معلوم ہوا اگر بیع کو اذانِ جمعہ کے وقت جو بیع ہوئی اس کو اگر قبیح لِعینہِ قرار دیا جائے تو اس کا معنیٰ یہ ہوگا کہ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے جائز تھی ہی نہیں۔ کیونکہ اللہ کبھی بھی قبیح لعینہِ کی اجازت نہیں دیتے۔ تو یہ اس کی اجازت تھی نہ ہوئی۔ جب اس کی شریعت کی طرف سے اجازت ہی نہیں تو یہ بندے کے اختیار میں بھی نہ رہی۔ بھئی، جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے کیا ہو؟ قبیح ہو۔ شارع کی طرف سے کبھی بھی اس کی اجازت نہیں ہو سکتی۔ اور یہ تو ہے فعلِ شرعی۔ جب فعلِ شرعی ہے اور شارع کی طرف سے اجازت نہیں ہے تو بندہ اس کے کرنے پر قادر بھی نہیں۔ بندہ اس کے کرنے پر قادر نہیں ہے اور پھر اللہ فرما رہے ہیں: ﴿وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾، کیا کرو؟ بیع کو جمعہ کی اذان کے وقت چھوڑ دو۔ تو اللہ فرما رہے ہیں: چھوڑ دو، اور بیع آپ نے کیا قرار دے دی اذانِ جمعہ کے وقت بیع کو؟ قبیح مثلاً اگر قبیح لعینہِ قرار دے دیا جائے، جب قبیح لعینہِ قرار دیا تو یہ اپنی ذات کے اعتبار سے گویا قبیح ہوئی۔ جب ذات کے اعتبار سے قبیح ہوئی تو اللہ کی طرف سے اس کی، جو چیز قبیح بذاتہ ہو، اس کی اللہ کی طرف سے کبھی بھی اجازت نہیں ہوتی۔ جب اللہ کی طرف سے اجازت نہیں ہے تو یہ بندے کے اختیار میں نہ رہی۔ اور بندے کے اختیار میں نہیں ہے، بندہ اس کے کرنے سے عاجز ہے اور اللہ پھر فرما رہے ہیں: ﴿وَذَرُوا الْبَيْعَ﴾، کیا کرو؟ بیع کو چھوڑ دو۔ تو یہ تو گویا کہ ایک عاجز کو منع کرنا لازم آ رہا ہے۔ کس کو منع کیا جا رہا ہے؟ عاجز۔ ایک شخص ایک چیز کے کرے، فعل کے کرنے پر قادر ہی نہیں اور اس کو منع کیا جا رہا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ تو نہی نہ رہی بلکہ کیا بن گئی؟ نفی بن گئی۔ اور شارع کی طرف تو نفی کی نسبت، کی نسبت کرنا درست نہیں، کیونکہ نفی تو ناپسندیدہ ہے۔ عاجز کو ایک کام سے منع کیا جائے، یہ تو عقل بھی کہتی ہے نامناسب بات ہے۔ ایک چیز، ایک شخص جس چیز سے عاجز ہو، اسے اس سے روکنے کا کیا معنیٰ بھئی؟ وہ کر ہی نہیں سکتا تو روکنے کا کیا معنیٰ؟ تو لہٰذا، اگر قبیح لعینہِ قرار دے دیا جائے بیع کو، تو کیا خرابی لازم آئے گی؟ کہ وہ نہی، نہی نہ رہے گی بلکہ کیا بن جائے گی؟ نفی بن جائے گی۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ ایک عاجز کو منع کر رہے ہیں، بیع نہ کرو۔ اور نفی کی نسبت تو اللہ کی طرف کرنا درست نہیں، کیونکہ نفی تو کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے، سخت ناپسندیدہ چیز ہے۔ اللہ کی طرف سے کبھی بھی نفی نہیں ہو سکتی، اللہ کی طرف سے نفی کا آنا محال ہے، ممکن ہی نہیں ہے، یہ ناپسندیدہ چیز ہے۔ اللہ کی طرف سے نفی کا آنا کیا ہوا؟ محال ہوا۔ اور یہ محال کیوں لازم آیا؟ کیونکہ آپ نے بیع کو قبیح لعینہِ قرار دیا تھا جمعہ کی اذان کے وقت بیع کو۔ تو بیع جمعہ کی اذان کے وقت جو بیع ہے، اس کو اگر قبیح لعینہِ قرار دیا جائے تو ایک محال چیز لازم آتی ہے جو ممکن ہی نہیں ہے، جو ہو ہی نہیں سکتی کبھی بھی، اور جس چیز سے محال لازم آئے وہ خود محال ہوا کرتی ہے۔ کیا محال لازم آیا تھا؟ کہ گویا اللہ کی طرف سے نفی آ رہی ہے، اور اللہ کی طرف سے تو نفی کبھی بھی، اللہ کبھی کسی عاجز کو نہیں منع کر سکتے۔ ایک عاجز کو، جب ایک شخص ایک چیز کے کرنے پر قادر ہی نہیں ہے، پھر اللہ فرمائیں: یہ کام نہ کرو، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو یہ محال لازم آیا تھا کہ اللہ کی طرف کس کی نسبت کرنا لازم آئی تھی؟ نفی کی، اور اللہ کی طرف نفی کی نسبت کیا ہے؟ محال۔ اللہ کی طرف سے نفی کبھی بھی نہیں آ سکتی کیونکہ یہ ناپسندیدہ کام ہے۔ اور یہ محال کس کی وجہ سے لازم آیا؟ کیونکہ آپ نے فعلِ شرعی کو نہی کے آنے کے بعد کیا قرار دے دیا تھا؟ قبیح لعینہِ۔ تو فعلِ شرعی میں جب نہی آ جائے تو اگر اسے قبیح لعینہِ قرار دے دیا جائے تو اس صورت میں محال چیز لازم آتی ہے۔ تو اور یہ ضابطہ ہے کہ جس چیز سے کوئی محال لازم آئے وہ خود محال ہوتی ہے۔ وہ خود کیا ہوتی ہے؟ محال ہوتی ہے۔ جو چیز مستلزمِ محال ہو وہ خود محال ہوتی ہے۔ تو معلوم ہوا، فعلِ شرعی میں جب نہی آ جائے تو اسے قبیح لعینہِ قرار دینا محال ہے، اسے قبیح لعینہِ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب قبیح لعینہِ نہیں قرار دیا جا سکتا تو لازمی بات ہے دوسری قسم صرف قبیح لغیرہِ ہی رہ گئی تھی، تو قبیح لغیرہِ ہی قرار دینا پڑے گا اور یہی احناف کا مذہب ہے، وہ بھی کیا کہتے ہیں کہ فعلِ شرعی میں نہی آ جائے تو اسے کیا قرار دے دو؟ قبیح لغیرہِ قرار دے دو بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو اس وجہ سے یہ ہے احناف کی دلیل، معلوم ہوا فعلِ شرعی کے اندر جب نہی آ جائے تو اسے کیا قرار دیں؟ قبیح لغیرہِ قرار دیں۔ قبیح لعینہِ قرار نہیں دیا جا سکتا ورنہ اس صورت میں محال لازم آتا ہے، اور جو چیز محال کو مستلزم ہو وہ خود کیا ہوتی ہے؟ محال ہوتی ہے۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ جبکہ اس کے مقابلے میں فعلِ حسی، فعلِ حسی کے اندر قادر ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو۔ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو، تو وہاں پر اگر اس کو قبیح لعینہِ قرار دے بھی دیا جائے تو یہ خرابی لازم نہیں آتی کہ یہ چیز مثلاً ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى﴾ زنا اپنی، اب کیا کہیں گے؟ یہ فعلِ حسی ہے اور اس میں نہی آئی تو اسے کیا قرار دیں؟ قبیح لعینہِ، اور قبیح لعینہِ یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے قبیح ہے، اور اس سے قبیح لعینہِ قرار دے دیں تو پھر بھی بندے کے اختیار میں ہے، کیونکہ یہ فعلِ حسی ہے، اور فعلِ حسی میں اختیار ہونے کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ کہ بندہ حساً اس کے کرنے پر قادر ہو بھئی۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ چلیے بھئی، هذا هو المرام، والله اعلم بحقيقة الكلام۔