درس نمبر۔28‏ وإذا عدمت صفة الوجوب للمأمور به، لا لا تبقى صفة الجواز عندنا خلافاً للشافعي رحمه الله تعالى رحمة واسعة‎.‎ هذا بحث آخر متعلق بما مر من أن موجب الأمر هو الوجوب، يعني أنه إذا نسخ الوجوب الثابت الثابت بالأمر، فهل تبقى صفة ‏الجواز الذي في ضمنه أم لا؟ یہاں سے مولانا ایک اور بحث کرنے لگے ہیں بھئی جو امر کے سے متعلق ہے امر کے بارے میں جیسے کہ انہوں نے ‏بتایا تھا کہ امر کا موجب کیا ہے؟ امر کا حکم کیا ہے؟ مطلق امر جو ہے اس سے وجوب ثابت ہوگا جب بھی مطلق امر آئے ‏گا بھئی۔ تو اس سے متعلق کا ایک بحث کرنے لگے کہ بھئی جب وہ وجوب جو امر کے لیے ذریعے ثابت تھا جب وہ منسوخ ہو ‏جائے۔ وہ وجوب جو امر کے ذریعے ثابت تھا جب وہ منسوخ ہو جائے، تو وجوب کے ضمن میں جو جواز تھا وہ اب بھی ‏باقی رہے گا یا باقی نہیں رہے گا؟ یہاں پر جواز وہ اوپر والا معنی نہیں، یہاں جائز ہونے کے معنی میں۔ کس معنی میں ہے؟ جائز ہونا یعنی اس کا اس میں ‏اس کے کرنے کی اجازت ہونا۔ ایک چیز آپ کہتے ہیں یہ جائز ہے، کیا معنی؟ اس کے کرنے کی اجازت ہے۔ تو بھئی جب ایک امر آیا تھا ایک چیز کے بارے میں اور امر کے ذریعے کیا ثابت ہوتا ہے؟ مطلق امر آئے تو اس کے ‏لیے وجوب ثابت ہوتا ہے اور وجوب کے ضمن میں اجازت بھی ہے۔ وجوب کے ضمن میں کیا موجود ہے؟ بھئی جب ایک ‏چیز کے کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے، چھوڑنے کی اجازت ہی نہیں ہے تو اجازت اس کے کرنے کی اجازت آ گئی یا نہیں ‏اس کے ضمن میں خود بخود؟ لہٰذا جب وجوب آیا، وجوب کے ضمن میں کیا آ گئی؟ اجازت۔ اب پھر یہ وجوب منسوخ کر دیا گیا، تو کیا جب وجوب منسوخ ‏کر دیا جائے تو وہ جو اجازت تھی وجوب کے ضمن میں، کیا وہ اجازت اور وہ جواز باقی رہے گا یا باقی بھئی وجوب تو ‏منسوخ ہو گیا۔ اس چیز کا کرنا واجب نہیں۔ کیا اب کرنا جائز بھی ہے یا جائز نہیں بھئی؟ جواز بھی باقی ہے یا جواز بھی ختم ہو گیا؟ ہمارے نزدیک جواز بھی ختم، اس کو کرنا جائز ہی نہیں۔ جب وجوب منسوخ ‏ہو گیا تو اس کے ضمن میں جو اجازت تھی وہ بھی کیا ہو گئی؟ وہ جواز بھی ختم ہوا مولانا، اب اس کے کرنے کی اجازت ‏ہی نہیں ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، جب وجوب منسوخ ہو جائے تو وجوب ختم ہوا، ہاں اس کے ضمن میں جو ‏اجازت تھی وہ اب بھی باقی رہے گی۔ وہ دلیل ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں جیسے دیکھو یومِ عاشورہ کا روزہ تھا بھئی۔ ‏دسویں محرم کا روزہ جو تھا یہ اب دیکھیے ابتدائے اسلام میں یہ فرض تھا، بعد میں منسوخ کر دیا گیا، رمضان کے ‏روزے فرض کر دیے گئے۔ تو اس کا وجوب منسوخ ہوا یا نہیں ہوا؟ وجوب منسوخ ہو گیا لیکن اب بھی اس دن کو روزہ رکھنا جائز ہے۔ بلکہ مستحب ‏ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ ان کی دلیل ہے کہ یومِ عاشورہ کے روزے کی فرضیت کیا ہو چکی ہے؟ منسوخ ہو چکی ‏ہے لیکن اس وجوب کے ضمن میں جواز بھی تھا اور وہ جواز اب بھی باقی ہے۔ معلوم ہوا وجوب کے منسوخ ہونے سے ‏جواز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جواز اسی طرح باقی رہتا ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، وجوب جب ختم تو جواز بھی ختم۔ جواز بھی ختم۔ مثلاً دیکھیے کہ جیسے بنی اسرائیل کے اوپر واجب تھا کہ وہ خطا کرنے والے اعضاء کو کاٹ دیا کرتے ‏تھے، جس عضو سے کوئی غلطی سرزد ہوتی، کوئی خطا ہوتی، کوئی گناہ ہوتا، اس عضو کو کاٹنا ان پر واجب تھا۔ اس ‏عضو کو کاٹنا ان پر واجب تھا لیکن ہم سے اس اس کا وجوب منسوخ کر دیا گیا، ہمارے اوپر یہ واجب نہیں ہے اور وجوب ‏کے ساتھ ساتھ جواز بھی منسوخ ہو گیا، ایسا کرنا جائز بھی نہیں ہے اب بھئی۔ دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ باقی اے امام شافعی رحمہ اللہ! آپ نے جو ذکر کیا کہ صومِ عاشورہ کی فرضیت تو منسوخ ہوئی لیکن جواز اب بھی باقی ‏ہے، ہم کہتے ہیں بھئی جس نص کے ذریعے اس کا وجوب ثابت تھا، اب جو جواز ہے اس کی اس نص سے جواز باقی ‏نہیں ہے بلکہ جواز کے لیے دوسری نص ہے بھئی، کیا ہے؟ دوسری نص ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو جواز دوسری نص ‏سے ثابت ہو سکتا ہے، اسی نص سے جس کے ذریعے کیا ثابت ہوا تھا؟ وجوب اور پھر وہ وجوب کیا ہوا؟ منسوخ، لیکن ‏اب بھی آپ کہیں وجوب اس سے ثابت تھا تو وجوب کے ساتھ کیا ثابت تھا؟ جواز بھی، اور وجوب تو ہو گیا منسوخ لیکن ‏جواز تو ابھی بھی اس سے ثابت ہو رہا ہے، ایسا نہیں، اسی نص کے ذریعے جواز ثابت نہیں ہوگا بلکہ جواز کس کے ‏ذریعے ثابت ہوگا؟ دوسری نص کے ذریعے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں وإذا عدمت صفة الوجوب للمأمور به لا تبقى صفة الجواز عندنا خلافاً للشافعي رحمه الله اور جب معدوم ہو جائے ‏مامور بہ کے لیے وجوب کی صفت، مامور بہ سے جب وجوب کی صفت معدوم ہو جائے لا تبقى صفة الجواز تو صفتِ ‏جواز بھی باقی نہیں رہتی عندنا ہمارے نزدیک خلافاً للشافعي رحمه الله برخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے۔ کہتے ہیں هذا ‏بحث آخر متعلق بما مر یہ ایک دوسری بحث ہے جو اس سے متعلق ہے جو گزر گئی بات، کہ کیا بات گزری؟ کہتے ہیں ‏من أن موجب الأمر هو الوجوب یعنی یہ کہ امر کا موجب جو ہے وہ وجوب ہوا کرتا ہے، اس سے متعلق ہے۔ یعنی أنه إذا ‏نسخ الوجوب الـ وجوب الثابت بالأمر یعنی جب منسوخ ہو جائے وہ وجوب جو ثابت تھا امر کی وجہ سے فهل تبقى صفة ‏الجواز الذي في ضمنه أم لا؟ تو کیا باقی رہے گی وہ صفتِ جواز جو اس امر کے ضمن میں تھی یا باقی نہیں رہے گی؟ فقال ‏الشافعي رحمه الله تعالى تبقى صفة الجواز تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صفتِ جواز باقی رہے گی استدلالاً بصوم ‏عاشوراء استدلال کرتے ہوئے عاشورہ کے روزے سے فإنه قد كان فرضاً ثم نسخت فرضيته وبقي استحبابه الآن اس لیے ‏کہ یہ روزہ فرض تھا پھر اس کی فرضیت اس کا فرض ہونا منسوخ کر دیا گیا تو اس کی پھر اس کی فرضیت منسوخ کر ‏دی گئی وبقي استحبابه الآن اور اس کا استحباب اب بھی باقی ہے، اس کا مستحب ہونا اب بھی باقی ہے۔ وعندنا لا تبقى صفة ‏الجواز الثابت في ضمن الوجوب اور ہمارے نزدیک وہ صفتِ جواز جو وجوب کے ضمن میں ثابت تھی وہ باقی نہیں رہتی ‏كما أن قطع الأعضاء الخاطئة كان واجباً على بني إسرائيل جیسے کہ گناہ کرنے والے، خطا کرنے والے اعضاء کا کاٹنا ‏واجب تھا بنی اسرائیل پر وقد نسخ منا فرضـ وقد نسخ منا فرضيته وجوازه اور تحقیق ہم سے منسوخ کر دیا گیا اس کا اس ‏کی فرضیت بھی اور اس کا جواز بھی، اب جائز بھی نہیں ہے ایسا۔ وهكذا القياس اور اسی طرح ہے، اسی پر ہے قیاس ‏بھئی۔ اسی طریقے پر قیاس ہوگا، باقی چیزیں بھی اسی طرح۔ وأما صوم عاشوراء فإنما يثبت جوازه الآن بنص آخر لا بذلك النص الموجب الموجب للأداء بس باقی عاشورہ کا روزہ جو ہے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے اب دوسری نص کے ذریعے، نہ کہ اس نص کے ذریعے جو ‏ادا کو واجب کرنے والی تھی۔ بات سمجھ میں آئی؟ دوسری نص یعنی کہ قیاس کے ذریعے ثابت ہوگا اس لیے کیونکہ آپ ‏جانتے ہیں سال کے اندر صرف پانچ ایام ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنا جائز نہیں بھئی، روزہ رکھنا روزہ رکھنا حرام ‏ہے۔ ایک عید الفطر کا دن ہے، ایک عید الاضحیٰ کا دن ہے اور باقی ایام ایامِ تشریق ہیں مولانا، باقی سارے سال میں روزہ ‏رکھنا جائز اور انہی باقی ایام میں کیا آ جاتا ہے؟ یومِ عاشورہ بھی آ جاتا ہے، معلوم ہوا اس کے دن کے اندر بھی روزہ ‏رکھنا جائز یا اس سے مراد دوسری احادیث ہیں مولانا جس کے اندر کیا ہے؟ یومِ عاشورہ کے روزہ کی ترغیب موجود ‏ہے۔ وقيل وفائدة الخلاف بيننا وبينه يظهر في قوله عليه السلام کہتے ہیں اختلاف کا فائدہ ہمارے اور امام شافعی رحمہ اللہ کے درمیان ظاہر ہوتا ہے في قوله عليه السلام حضور علیہ ‏السلام کے اس قول کے اندر اس سے ثمرۂ اختلاف اس میں ظاہر ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من حلف ‏على يمين جس شخص نے قسم اٹھائی کسی چیز پر، یمین سے مراد مقسم علیہ ہے جس چیز کی قسم اٹھائی جائے، جس بات ‏مقسم علیہ جس بات کی قسم اٹھائے کہ یہ مثلاً میں یہ کام نہیں کروں گا تو یہ مقسم علیہ فرأى غيرها خيراً منها پس اس نے ‏اس کے علاوہ دوسری چیز کو اس سے بہتر دیکھا، بہتر جانا فليكفر يمينه پس اسے چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے ثم ‏ليأت بالذي هو خير پھر لے آئے اس کو جو اس سے بہتر ہے، یعنی عمل کر لے اس پر جو اس سے بہتر ہے، اس کو ادا کر ‏لے اس پر عمل کر لے‎.‎ تو دیکھو حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ جس شخص نے کسی بات پر قسم اٹھا لی پھر اس نے ‏دیکھا کہ دوسری بات اس سے بہتر ہے تو اسے چاہیے کہ کیا کرے؟ اپنی قسم کا کفارہ دے اور پھر وہ دوسرا کام کر لے ‏جو بہتر ہے، دوسرا کام جو بہتر ہے اس کو تو حدیث کے اندر آیا پہلے کیا؟ فليكفر، کیا کرنا واجب ہوا؟ کفارہ۔ آگے لفظ آیا ‏ثم، ثم کس لیے آتا ہے؟ ترتیب اور تاخیر کے لیے آتا ہے مولانا، اور اس کے بعد کیا ذکر ہوا؟ فليأت، پھر وہ کیا کرے؟ ‏دوسرے کام کو کر لے۔ معلوم ہوا قسم بعد میں توڑ رہا ہے، کفارہ پہلے دینا واجب ہے۔ فليكفر پہلے آیا اور فليأت بالذي هو خير یہ بعد میں ثم کے بعد آیا اور ثم ترتیب کا فائدہ دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ حانث ہونے ‏پر کفارے کو مقدم کرنا واجب ہے، حانث ہونے پر کفارے کو مقدم کرنا واجب ہے، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فإنه يدل على وجوب تقديم الكفارة على الحنث اس لیے کہ یہ حدیث جو ہے دلالت کر رہی ہے کفارے کو حانث کفارے کو ‏حنث پر مقدم کرنے کے وجوب پر بھئی کہ کفارے کو حانث ہونے پر مقدم کرنا واجب ہے اس پر یہ حدیث دلالت کر رہی ‏ہے۔ وقد نسخ وجوب تقديمها بالإجماع اور تحقیق تقديمِ کفارہ کا وجوب کیا ہے؟ منسوخ ہو چکا ہے بالاجماع۔ بالاجماع کیا ہے؟ تقديمِ کفارہ کا وجوب منسوخ ہو چکا ہے۔ بھئی اس عبارت پہ ذرا نظر رکھنا بھئی، اس کا یہ ترجمہ نہ کرنا کہ اس کفارے کی تقديم کا وجوب منسوخ ہو گیا ہے ‏بالاجماع، اجماع کی وجہ سے، یعنی اجماع نے آ کر کیا کر دیا اس کی تقديم کو وجوبِ تقديم کو کیا کر دیا؟ منسوخ کر د، ‏نہیں نہیں یہ معنی نہیں ہے، اجماع ناسخ نہیں ہو سکتا مولانا، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو بلکہ معنی یہ ہے کہ اس کا ‏منسوخ ہونا بالاجماع ہے یعنی تمام علماء اس پر کیا ہیں، تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ یہ منسوخ ہو چکی ہے۔ سمجھ میں آ وقد نسخ وجوب تقديمها بالإجماع اور تحقیق اس کفارے کی تقديم کا وجوب منسوخ ہو چکا ہے بالاجماع ولكن بقي جوازه ‏عنده ولم يبق عندنا أصلاً لیکن اس کا جواز اب بھی باقی ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ولم يبق عندنا أصلاً اور ‏ہمارے نزدیک یہ باطل یہ باقی نہیں ہے قطعی طور پر، قطعاً یہ باقی نہیں۔ چنانچہ دیکھو، اب امام شافعی رحمہ یہ تو ‏بالاجماع منسوخ ہو چکا ہے بھئی یہ تقديم کا وجوب مولانا، مقدم کرنا واجب نہیں، وجوب کیا ہو چکا؟ منسوخ ہو چکا ہے۔ اب جواز اب بھی ہے یا جواز نہیں باقی؟ امام شافعی رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ جواز اب بھی باقی، معلوم ہوا کفارے کو ‏حانث ہونے پر مقدم کیا جا سکتا ہے، اس جائز ہے، ایک شخص کفارہ پہلے دے دے اور پھر اس کے بعد وہ قسم کو ‏توڑے تو یہ کفارہ اس کا ادا ہو جائے گا کیونکہ کفارہ قسم توڑنے سے پہلے ہی دینا جائز ہے۔ ہمارے نزدیک نہیں، جب ‏تک قسم نہیں توڑے گا اس وقت تک کفارہ دینا جائز وہ یعنی ادا ہی نہیں ہوگا، دے دے ٹھیک ہے وہ صدقہ ہو جائے گا ‏لیکن وہ کفارہ نہیں بنا، اس لیے کہ جب وجوب منسوخ ہوا تو اس کے ساتھ ساتھ جواز بھی کیا ہو گیا؟ منسوخ، لہٰذا اب ایک ‏شخص ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے ہی کفارہ دے دیتا ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا کفارہ ادا ہو گیا کیونکہ ‏ان کے نزدیک جائز ہے، پہلے تو واجب تھا اب کیا ہے؟ جائز ہے، پہلے دے دے پھر بھی ٹھیک، بعد میں دے دے پھر ‏بھی صحیح، جبکہ ہمارے نزدیک نہیں، جب وجوب منسوخ ہوا تو جواز بھی کیا ہو گیا؟ منسوخ، تو اب پہلے دے گا تو ‏کفارہ ادا نہیں ہوگا، ہاں بعد میں دے گا تو کفارہ ادا ہو جائے گا، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ثم لما فرغ المصنف رحمه الله عن مباحث حسن المأمور به وملحقاته شرع في بيان تقسيمه إلى المطلق والمؤقت کہتے ہیں جب مصنف رحمہ اللہ مامور بہ کے حسن کے مباحث سے فارغ ہوئے وملحقاته اور اس کے متعلقہ جو بحثیں ہیں ‏حسنِ مامور بہ اور اس سے متعلقہ جو مباحث ہیں ان سے جب مصنف رحمہ اللہ فارغ ہوئے شرع في بيان تقسيمه تو وہ ‏شروع ہوئے اس کی تقسیم کے بیان میں إلى المطلق والمقـ والمؤقت مطلق اور مؤقت کی طرف فقال، پھر فرماتے ہیں ‏مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: والأمر نوعان‏ اور امر دو قسم پر ہے، یاد رکھیے یہاں امر بمعنی مامور بہ کے ہے بھئی، امر کس معنی میں ہے؟ مامور بہ، اس لیے کہ ‏دیکھو آگے کالزكاة وصدقة الفطر، یہ امر ہے یا مامور بہ ہیں؟ یہ کیا ہیں؟ مامور بہ ہیں بھئی، مثال سے ہی پتہ لگ گیا ‏بھئی۔ تو کہتے ہیں والأمر نوعان اور مامور بہ دو قسم پر ہے، مطلق عن الوقت ایک کیا ہے؟ مطلق عن الـ بھئی دیکھیے، مامور ‏بہ وہ چیز جس کا حکم دیا گیا ہے وہ دو قسم پر ہے، کبھی تو کسی وہ وقت کے ساتھ مقید ہوگا وہ مامور بہ اور کبھی مقید ‏نہیں ہوگا، مطلق عن الوقت ہوگا، جیسے دیکھو مولانا نماز ہے، نمازیں فرض کی گئی ہیں لیکن کیا یہ مطلق عن الوقت ہیں ‏یا ان سب کے لیے وقت متعین ہے؟ وقت متعین ہے تو یہ مقید ہیں کس کے ساتھ؟ وقت کے ساتھ مقید ہیں جبکہ اسی طرح ‏صدقۂ فطر اور زکوۃ بھی واجب ہے لیکن کیا ان کے لیے کوئی وقت متعین ہے کہ وہ وقت گزر جائے تو بعد میں ادا کرے ‏تو ہم کہیں گے اس نے قضا کی ہے، ادا نہیں کی؟ نہیں، ان کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں، جب بھی ادا کرے گا وہ ادا ہی ‏کہلائے گی، قضا نہیں کہلائے گی، معلوم ہوا ان کے لیے کوئی ایسا وقت مقرر نہیں ہے جس کے گزرنے سے یہ فوت ہو ‏جائیں اور پھر ہم کہیں اب قضا کر رہا ہے، ادا نماز کے اندر، نماز ہو تو ہر وقت جائے گی لیکن اس وقت کے اندر ہوگی ‏تو کیا کہلائے گی؟ ادا، اور بعد میں ہوگی تو قضا کہلائے گی لیکن زکوۃ میں ایسا نہیں ہے کہ کوئی وقت مقرر ہو اور وہ ‏وقت نکل جائے تو ہم کہیں اس وقت میں کرتا تو ادا تھی، اب کیا ہوگی؟ نہیں، وہ زکوۃ جب بھی ادا کرے گا وہ کیا ہوگی؟ ‏ادا، معلوم ہوا زکوۃ کیا ہے؟ مطلق عن الوقت ہے، یہ وقت کے ساتھ مقید نہیں، اور نماز کیا ہے؟ مقید بالوقت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں والأمر نوعان، امر (یعنی مامور بہ) دو قسم پر ہے، مطلق عن الوقت ایک وہ ہے جو وقت سے مطلق ہے، ‏أحدهما أمر مطلق غير مقيد بوقت یعنی ان میں سے ایک مامور بہ وہ ایک وہ مامور بہ ہے جو مطلق ہے، غیر مقید ہے، ‏مقید نہیں ہے کسی وقت کے ساتھ۔ دیکھو مولانا وقت نکرہ آیا، آگے يفوت فعل آ رہا ہے، نکرہ کے بعد فعل آئے میں نے ‏بتایا تھا یہ اس کے لیے کیا بنا کرتا ہے؟ صفت، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ‏‏'ایسا' کا لفظ لے آئیں، دیکھیے اب ترجمہ سنیے۔ ایک ان میں سے وہ مامور بہ مطلق مامور بہ ہے جو مقید نہیں ہوتا کسی ایسے وقت کے ساتھ کہ وہ مامور بہ فوت ہو ‏جائے اس وقت کے فوت ہونے سے۔ ایسا وقت کہ وہ مامور بہ کیا ہو جائے اس وقت کے فوت ہونے سے فوت ہو جائے۔ بھئی نماز کے لیے وقت مقرر ہے، وہ وقت فوت ہوا تو نماز بھی کیا ہو گئی؟ فوت ہو گئی، اب بعد میں کیا کرے گا اس ‏کی؟ قضا، لیکن زکوۃ کے لیے ایسا اس کے لیے کوئی ایسا وقت مقرر نہیں کہ اس وقت کے فوت ہو جانے سے مامور بہ ‏کیا ہو جائے؟ فوت ہو جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ مقید نہیں ہے کسی ایسے وقت کے ساتھ کہ وہ مامور بہ فوت ہو جائے اس وقت کے فوت ہو ‏جانے کی وجہ سے، كالزكاة وصدقة الفطر جیسے کہ زکوۃ ہے اور صدقۂ فطر ہے فإنهما بعد وجود السبب اس لیے کہ یہ ‏دونوں سبب کے پائے جانے کے بعد بھئی سبب کی وجہ سے کیا آیا کرتا ہے؟ وجوب آتا ہے، کیا آتا ہے؟ وجوب آ جاتا ہے۔ فإنهما بعد وجود السبب، اس لیے کہ یہ دونوں سبب کے پائے جانے کے بعد، بھئی سبب کیا ہے؟ درمیان میں وہ بھی شارح ‏بتلانا چاہتے ہیں۔ أي ملك المال یعنی کہ مال کا مالک ہونا، والرأس اور رأس کا پایا جانا۔ رأس کا پایا جانا۔ بھئی دیکھیے، زکوٰۃ کے لیے سبب کیا ہے؟ بقدرِ نصاب مال کا مالک ہونا۔ اور صدقۂ فطر کے لیے سبب کیا ہے؟ وہ رأس ‏ہے۔ ذات ہے۔ وہ ذات ہے بھئی۔ جس پر بھی واجب ہوگا، دیکھیے اپنی طرف سے بھی دے گا اور جو اس کے کنبے والے ‏ہیں، ان کی طرف سے بھی دے گا بھئی۔ تو اب ہر ایک کی طرف سے دینا پڑے گا، معلوم ہوا ہر ایک کیا ہے؟ ایک ذات ‏ہے۔ کیا ہے؟ ذات۔ تو یہ ذات جو ہے، یہ ہے اس کا سبب جس کو رأس سے تعبیر کرتے ہیں بھئی۔ رأس بول کر کیا مراد ‏ہے؟ ذات مراد ہے۔ تو دیکھو، آپ نے پڑھا ہے مسئلہ بھئی کہ اگر عید کے دن طلوعِ فجر سے پہلے بچے کی پیدائش ہو ‏گئی تو اس کا بھی صدقۂ فطر باپ پر واجب ہو جائے گا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ رأس پایا جا رہا ہے، وہ ذات پائی جا رہی ہے ‏جس کی وجہ سے کیا ہونا ہے؟ صدقۂ فطر نے، جو سبب ہے، تو سبب موجود ہے مطلب جتنے رأس ہیں، جتنے افراد ہیں، ‏جتنے شخص ہیں ان سب کی طرف سے کیا کرنا پڑے گا؟ کنبے کے سربراہ کو دینا پڑے گا بھئی، جتنے اہل خانہ ہیں اس ‏کے بھئی، نابالغ اولاد ہے وغیرہ بھئی۔ تو زکوٰۃ کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ مال کا مالک ہونا، اور صدقۂ فطر کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ وہ رأس ہے۔ جی۔ ‏والشرط أي بعد وجود الشرط، سبب پر عطف ہے مولانا۔ اس لیے کہ، یہ دوبارہ دیکھیے، اس لیے کہ یہ زکوٰۃ اور صدقۂ ‏فطر سبب کے پائے جانے کے بعد، اور وہ سبب کیا ہے؟ مال کا مالک ہونا اور رأس کا پایا جانا، والشرط اور شرط کے ‏پائے جانے کے بعد أي حولان الحول ويوم الفطر یعنی سال کا گزرنا اور عید الفطر کا پایا جانا، لا يتقيدان بوقت يفوتان ‏بفوته، تو جب یہ دونوں فإنهما اب آگے خبر آ رہی ہے مولانا، لا يتقيدان یہ دونوں، کون دونوں؟ زکوٰۃ اور صدقۂ فطر، کب؟ ‏جب سبب بھی پایا جائے اور شرط بھی پائی جائے، اس کے بعد لا يتقيدان یہ دونوں پھر مقید نہیں ہوتے بوقت يفوتان بفوته ‏کسی ایسے وقت کے ساتھ کہ یہ دونوں فوت ہو جاتے ہوں اس وقت کے فوت ہو جانے سے۔ اس کے بعد یہ کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں ہیں بھئی، بل كلما أدى يكون أداء بلکہ جب بھی اس کو ادا کریں گے یہ ادا ہی ‏ہوگی لا قضاء قضا نہیں ہوگی، وإن كان المستحب التعجيل اگرچہ مستحب کیا ہے؟ جلدی کرنا مستحب ہے۔ وهو على التراخي ‏خلافاً للكرخي، اور یہ امرِ مطلق ہمارے نزدیک کس پر محمول ہوگا؟ یہ امرِ مطلق ہمارے نزدیک تراخی پر محمول ہوگا ‏خلافاً للكرخي برخلاف کس کے؟ امام کرخی کے۔ تراخی کا معنی ہے مولانا حال کے ساتھ مقید نہ ہونا۔ حال کے ساتھ مقید ‏نہ ہونا۔ یعنی یہ زکوٰۃ اور صدقۂ فطر جو ہیں، یہ واجب ہوں گے کس طریقہ پر، کس طریقہ پر؟ تراخی کے طریقہ پر، یعنی فی ‏الحال، فوری ان کی ادائیگی ضروری نہیں ہے۔ ان کو بعد میں بھی دے سکتا ہے، جب بھی دے گا یہ کیا کہلائے گی؟ ادا ہی ‏کہلائے گی۔ تو کہتے ہیں وهو على التراخي اور یہ مامور بہِ جو مطلق ہے وہ محمول ہے ہمارے نزدیک تراخی پر، خلافاً للكرخي ‏برخلاف امام کرخی کے۔ یہ 'هو' ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں، أي هذا الأمر المطلق محمول عندنا على التراخي کہ یہ جو ‏امرِ مطلق ہے یعنی یہ مامور بہِ مطلق جو ہے محمول عندنا على التراخي یہ محمول ہوگا کس پر؟ تراخی پر محمول ہوگا، ‏یعنی خود بتلا رہے ہیں تراخی کا کیا معنی میں نے بتلایا کہ حال کے ساتھ وہ مقید نہ ہو۔ خود بتلا رہے ہیں یعنی لا يجب ‏الفور في أدائه بل يسع تأخيره کہ واجب نہیں ہوتی فوراً اس کی ادائیگی میں، بل يسع تأخيره بلکہ گنجائش ہوتی ہے تاخیر، ‏اس کو مؤخر کرنے کی۔ بلکہ اس کو مؤخر کرنے کی گنجائش ہوتی ہے بھئی۔ وعند الكرخي رحمه الله تعالى لا بد فيه من الفور، امامِ کرخی رحمہ اللہ کے نزدیک ضروری ہے اس کے اندر جلدی کرنا ‏مولانا، جلدی کرنا ضروری ہے احتياطاً لأمر العبادة، عبادت کے معاملے میں احتیاط کرتے ہوئے، عبادت کے معاملے میں ‏بطورِ احتیاط کے اس میں جلدی ضروری ہے، نہ بمعنی أنه يأثم بالتأخير لا بمعنی أنه يصير قاضياً، بہیں معنی، جلدی کرنا ‏ان کے نزدیک ضروری ہے بہیں معنی کہ تاخیر کرنے سے یہ گناہ گار ہوگا، اس معنی میں نہیں کہ وہ قضا کرنے والا ‏ہوگا، ادا کرنے والا نہیں ہوگا بلکہ کیا ہوگا؟ تو یہ ان کے نزدیک جلدی کرنا ضروری ہے لیکن اس جلدی کرنے کا یہ ‏معنی نہیں ہے کہ تاخیر کرے گا تو وہ ادا نہیں کہلائے گی بلکہ کیا کہلائے گی؟ قضا کہلائے گی، بلکہ بہیں معنی کہ وہ ‏گناہ گار ہوگا مولانا، گناہ گار بھئی۔ وعندنا لا يأثم إلا في آخر العمر، اور ہمارے نزدیک وہ گناہ گار نہیں ہوگا إلا في آخر العمر، آخرِ عمر کے اندر بھئی، عمر ‏کے بالکل آخری حصے میں بھئی، أو حين إدراك علامات الموت، یا موت کی علامتوں کے پائے جانے کے وقت بھئی، اس ‏وقت گناہ، جب اگر اس وقت تک اس نے ادا نہیں کیا تو اس وقت کیا ہوگا؟ گناہ گار ہوگا، ولم يؤد فيه، اس حال میں کہ اس ‏نے اس میں ادا نہ کیا ہو بھئی، آخرِ عمر میں یا موت کی علامتیں پاتے وقت اس حال میں کہ جب اس نے ادا نہ کیا ہو تو وہ ‏گناہ گار ہوگا، ودليلنا هو ما أشار إليه، اور ہماری دلیل وہ ہے جس کی طرف اشارہ کیا ہے بھئی امامِ متن نے بھئی، بقوله ‏اپنے اس قول کے ذریعے، لئلا يعود على موضوعه بالنقض، تاکہ وہ امر لوٹے نہ اپنے موضوع پر نقض کے، ابطال کے ‏ساتھ اپنے موضوع پر نہ لوٹے کہ اسے باطل ہی نہ کر دے۔ بھئی دیکھیے، یہ امر جیسے زکوٰۃ اور صدقۂ فطر کا ہے، یہ ‏مطلق عن الوقت ہے، اس میں کسی وقت کی قید نہیں، تو مثلاً بھئی دیکھیے، ایک شخص کو میں کہتا ہوں: "یہ کام کرو ‏ابھی"، یہ کام ابھی کرو۔ تو یہ امر مقید ہے کس چیز کے ساتھ؟ ابھی کرنے کے ساتھ، تو یہ مقید ہے۔ اور ایک شخص کو ‏میں کہتا ہوں: "یہ کام کرو"، یہ مقید ہے یا مطلق ہے؟ مطلق ہے، تو اس کے اندر ابھی بھی کر لے پھر بھی ٹھیک، تاخیر ‏سے کرے پھر بھی ٹھیک، معلوم ہوا امرِ مطلق کے اندر سہولت اور آسانی ہوتی ہے مولانا، جبکہ امرِ مقید جس کے اندر ‏فوری کرنا کے ساتھ وہ مقید ہو، اس کے اندر جلدی کرنا پڑے گی، اور یہ امرِ مطلق کی بات چل رہی ہے مولانا۔ تو امرِ ‏مطلق کیا تقاضا، کس لیے وضع ہے؟ سہولت اور آسانی کے لیے وضع ہے، تو لہٰذا اگر اس میں فوری کرنے کے ساتھ اس ‏کو مقید کیا جائے تو اس کا اطلاق فوت ہو جائے گا۔ یہ تو کیا تھا؟ مطلق تھا، اور ہم نے اس کو کیا کر دیا؟ مقید کر دیا، تو ‏اس کے اطلاق کو تو ہم نے باطل کر دیا۔ یہ تو وضع تھا کس لیے؟ اطلاق کے طریقہ پر، اور ہم نے اس کو کیا کر دیا؟ ‏مقید کر دیا، تو جب مقید کریں گے تو اس کے اطلاق کو ہم نے کیا کر دیا؟ باطل کر دیا، یہ وضع تھا اطلاق کے لیے، تو ‏لہٰذا اگر اب ہم کیا کر دیں؟ جلدی کی قید لگا دیں گے تو اس صورت میں یہ اس کے موضوع ہی کو باطل کرنا لازم آئے گا، ‏جس کے لیے یہ وضع ہے مولانا، یعنی اطلاق کے لیے۔ تو کہتے ہیں لئلا يعود على موضوعه بالنقض تاکہ یہ امر لوٹے نہ اپنے موضوع پر ابطال کے ساتھ، یعنی موضوع الأمر ‏المطلق، یعنی امرِ مطلق کا موضوع جو ہے، كان هو التيسير والتسهيل، وہ تیسیر اور تسہیل ہے، فلو كان محمولاً على الفور، ‏اگر اس کو محمول کر دیا جائے جلدی پر، لعاد على موضوعه بالنقض، تو یہ لوٹے گا اپنے موضوع پر کس کے ساتھ؟ ‏ابطال کے ساتھ کہ اس کو باطل کر دے گا، حالانکہ یہ تو وضع تھا اطلاق کے لیے بھئی، مقید کے طور پر وضع ہی، ‏ويكون مناقضاً للموضوع، اور یہ اپنے موضوع کو باطل کرنے والا ہوگا۔ ومقيد به، بھئی "مقيداً" تو نہیں آپ کی کتابوں میں؟ بعض کتابوں میں اگر الف ہو، غلط ہے مولانا، ومقيد به، اس کا عطف وہ ‏پیچھے آیا تھا، "نوعان" کے بعد آیا تھا "مطلق"، اور یہ کیا ہے؟ "مطلق"، وہ تھا "مطلق عن الوقت"، یہ ہے "مقيد به" أي ‏بالوقت بھئی۔ اور دوسری قسم مولانا، جو ہے امر کی یعنی مامور بہِ کی، جو مقید ہو کسی وقت کے ساتھ، أي الثاني أمر مقيد ‏بالوقت، یعنی دوسری وہ مامور بہِ ہے جو مقید ہو کسی وقت کے ساتھ، وهو أربعة أنواع، اور وہ کتنی قسم پر ہے؟ چار قسم ‏پر ہیں مولانا، چار قسم پر۔ اب چار قسمیں بیان کریں گے، لیکن ایک قسم یہاں آ رہی ہے متن میں، دوسری قسم وہ ایک دو صفحے کے بعد آئے گی، ‏پھر اس کے بعد تیسری اور چوتھی قسمیں آئیں گی، تو پہلی قسم یہ دیکھو چار قسمیں ہیں، ان کو حصر کے طریقے پر ذکر ‏کر رہے ہیں۔ لأنه إما أن يكون الوقت ظرفاً للمؤدى، یا تو اس کے اندر وقت جو ہوگا، ظرف ہوگا للمؤدى ادا کیے ہوئے فعل ‏کے لیے، وشروطاً للأداء، اور ادا کے لیے شرط ہوگا، وسبباً للوجوب، اور وجوب کے لیے سبب ہوگا، یہ پہلی قسم ہے جس ‏کے اندر وقت کیا ہوتا ہے؟ مؤدیٰ کے لیے ظرف ہوتا ہے، ادا کے لیے وقت شرط ہوتا ہے، اور وجوب کے لیے سبب ہوتا ‏ہے۔ فهو النوع الأول، یہ کیا ہے؟ نوعِ اول ہے مولانا، انہوں نے کہا نا چار قسمیں ہیں، تو چار میں سے یہ کون سی قسم ہے؟ یہ ‏پہلی قسم ہے۔ تو کہتے ہیں فهو النوع الأول، یہ کیا ہے؟ نوعِ اول ہے، انہوں نے کہا نا بھئی وہ امر جو، وہ مامور بہِ جو کسی وقت کے ‏ساتھ مقید ہو، وہ چار قسم پر ہے، پہلی قسم وہ جس کے لیے وقت کیا ہوگا؟ ظرف بھی ہے، شرط بھی ہے، اور سبب بھی ‏ہے مولانا، ظرف ہے اس ادا کیے ہوئے فعل کے لیے، شرط ہے اس کی ادا کے لیے، اور سبب ہے اس کے وجوب کے ‏لیے۔ اب خود بتلا رہے ہیں ظرف سے کیا مراد ہے؟ یاد رکھیے ایک لفظ آئے گا کہ وقت کبھی ظرف ہوتا ہے، کبھی معیار ہوتا ‏ہے بھئی۔ ظرف اور معیار۔ ظرف وہ ہے، وقت ظرف ہوگا جب کہ مامور بہِ کو ادا کرنے کے بعد کچھ وقت بچ بھی جائے، ‏تو وقت ظرف ہوا، مامور بہِ اس کے اندر ادا ہوا، جیسے ظرف برتن نے مولانا اپنے مظروف جو اس کے اندر چیز ہوتی ‏ہے اس کو اس کا احاطہ کیا ہوتا ہے، اسی طرح یہاں وقت نے بھی کیا کیا ہوا ہے؟ مامور بہِ کا احاطہ کیا ہوا ہے اور کچھ ‏وقت زائد بھی ہے، تو مامور بہِ اس کے وقت کے اندر اندر آ گیا۔ اور دوسری قسم وہ ہے کہ جس میں وقت مامور بہِ کے ‏لیے معیار ہوتا ہے، معیار، یعنی مامور بہِ کو ادا کرنے کے بعد کوئی وقت بچتا ہی نہیں ہے، مامور بہِ پورے وقت کا ‏احاطہ کر لیتا ہے، تو یہ وقت اس کے لیے پیمانہ ہوا، معیار کا کیا معنی؟ پیمانہ ہوا، تو مامور بہِ پورے وقت میں ادا ہوا ‏جیسے روزہ ہے، روزے کے لیے وقت کیا ہے؟ معیار ہے، پیمانہ ہے، کیا پیمانہ؟ بھئی دیکھو، دن چھوٹے ہوئے تو ‏روزہ بھی چھوٹا ہو گیا، دن لمبے ہوئے تو روزہ بھی لمبا ہو گیا، تو روزے کے لیے وقت کیا ہے؟ معیار ہے، تو ظرف ‏اسے کہتے ہیں کہ جس میں مامور بہِ کو ادا کرنے کے بعد کچھ وقت زائد بچ جائے، اور معیار اسے کہتے ہیں اس وقت کو ‏کہیں گے کہ جو مامور بہِ کو ادا کرنے کے بعد وہ بالکل بھی نہ بچے بھئی، سارا اس میں بالکل خرچ ہو جائے بھئی۔ کہتے ہیں والمراد بالظرف أن لا يكون معياراً له، اور ظرف ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ وقت جو ہے اس مامور بہِ کے ‏لیے معیار نہ ہو، بل يفضل عنه، بلکہ اس سے زائد ہو مولانا، اس سے بچ جاتا ہو، والمراد بالشرط، اور شرط سے مراد یہ ‏ہے کہ أن لا يصح المأمور به قبل وجوده، کہ مامور بہِ اس وقت کے پائے جانے سے پہلے صحیح نہیں ہوتا، مثلاً ظہر کی ‏نماز ہے، ظہر سے پہلے نہیں ہو سکتی کیونکہ ظہر کی نماز اس کے لیے، ظہر کا وقت اس کے لیے کیا ہے؟ شرط ہے، ‏تو شرط سے مراد یہ ہے کہ مامور بہِ اس سے پہلے صحیح نہیں ہوتا، اس کے وجود سے پہلے صحیح نہیں ہوتا، ويفوت ‏بفوته، اور اس کے فوت ہو جانے سے فوت ہو جاتا ہو مولانا، اس کے فوت ہو جانے سے، وقت ظہر کا نکل گیا تو ظہر ‏کی نماز بھی کیا ہو گئی؟ فوت ہو گئی، اب ادا نہیں ہوگی بلکہ کیا کہلائے گی؟ قضا کہلائے گی۔ والمراد بالسبب، اور سبب ‏سے مراد یہ ہے کہ أن لهذا الوقت تأثيراً في وجوب المأمور به، کہ اس وقت کی، کی تاثیر ہے مولانا، مامور بہِ کے واجب ‏ہونے میں، اس وقت کا اثر ہے کس کے اندر؟ یہ وقت مؤثر ہے مامور بہِ کے واجب، وجوب، واجب ہونے میں بھئی۔ کہتے ہیں وإن كان المؤثر الحقيقي في كل شيء هو الله تعالى، اگرچہ مؤثرِ حقیقی ہر چیز کے اندر وہ اللہ تعالیٰ ہی ہیں، مؤثرِ ‏حقیقی تو کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ ہیں، لیکن یہاں پر کس چیز کو سبب بنا دیا گیا؟ بظاہر کے اعتبار سے وقت کو بھئی، تو کہتے ‏ہیں اگرچہ مؤثرِ حقیقی ہر چیز کے اندر وہ اللہ تعالیٰ ہی ہیں، ولكن يضاف الوجوب في الظاهر إلى الوقت، لیکن ظاہر میں ‏وجوب کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ وقت کی طرف کی جائے گی، لأن في كل لمحة وصول نعمة من الله تعالى إلى ‏جانب العبد، یہاں وجہ ذکر کر رہے ہیں، بھئی وقت ظاہر کے اعتبار سے آپ نے کہا، ظاہر کے اعتبار سے وجوب کا سبب ‏کیا بنے گا؟ وقت، بھئی وقت کیسے سبب بن سکتا ہے عبادت کے لیے بھئی؟ کوئی مناسبت ہی نہیں ہے سبب اور مسبب میں ‏کیا ہوتی ہے؟ مناسبت ہوتی ہے، تو عبادت کے لیے وقت کو سبب قرار دینا، کہتے ہیں بھئی، دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی ‏کہ بھئی دیکھو، دراصل ہر وقت کے اندر اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں انسان کو حاصل ہیں بھئی، اللہ تعالیٰ کی بے شمار ‏نعمتیں انسان پر ہر وقت برستی رہتی ہیں تو ان کا تقاضا یہ ہے کہ یہ سارے وقت اللہ کی عبادت میں مصروف رہے بھئی، ‏سارا وقت کیا کرے؟ اللہ کی عبادت میں مصروف رہے، سارا وقت بھئی، تو اس لحاظ سے کیا ہوا؟ عبادت کا کس کے ساتھ ‏تعلق آ گیا؟ وقت کے ساتھ کہ سارا وقت اس کو عبادت میں لگنا چاہیے، لیکن چونکہ اس کے اندر حرج تھا بھئی، اس طرح ‏تو اس کی روزی وغیرہ کے سلسلے میں، مسئلے میں حرج آتا تو شریعت نے سارے وقت میں کی قید نہیں لگائی بلکہ پانچ ‏مخصوص اوقات کی قید لگا دی کہ یہ اوقات کیا ہیں، ان کے اندر عبادت کرو، ان اوقات میں کیا کرو؟ ان اوقات میں عبادت ‏کرو بھئی، دیکھیے بھئی، لأن في كل لمحة وصول نعمة من الله تعالى إلى جانب العبد، اس لیے کہ ہر لمحے کے اندر جو ہے ‏نعمتوں کا پہنچنا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کی طرف، وهو يقتضي الشكر في كل ساعة، اور یہ تقاضا کرتا ہے کہ ‏شکر کیا جائے ہر ساعت میں، بھئی ہر آن، ہر لمحے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سینکڑوں، ہزاروں نعمتیں بندے کو مل رہی ‏ہیں بھئی، چاہے اس کو محسوس ہو چاہے محسوس نہ، کچھ نعمتیں تو ہم ظاہراً محسوس کر لیتے ہیں، اس کے علاوہ بھی ‏اتنی نعمتیں مولانا ہمارا دیکھنا نعمت ہے، ہمارا سننا نعمت ہے، سمجھ میں آیا؟ ہمارے جسم کے اندر اتنا عظیم نظام چل رہا ‏ہے بھئی، ہر ہر عضو اپنی کام کرنے میں لگا ہوا ہے، اتنی نعمتیں، ذرا کہیں مسئلہ آتا ہے تو انسان کتنی تکلیف میں مبتلا ‏ہو جاتا ہے بھئی، تو ہر آن نعمتیں، روشنی کی نعمت ہے مولانا، آرام کی نعمت ہے، سکون کی نعمت ہے، اسی طرح انسان ‏کے اپنے اندر ایک نظام ہے، ہر ہر لمحہ بھئی، آپ کا دل دھڑک رہا ہے، آپ حرکت کرتے ہیں، ایک ایک حرکت اللہ کی ‏نعمت ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ بیماری آتی ہے وہی انسان پھر حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتا، تو اتنی نعمتیں ہیں کہ ‏انسان تصور بھی نہیں کر سکتا، یہ ایک باہر کی کائنات ہے، ایک جسم کے اندر ایک بہت بڑی کائنات اللہ نے بنائی ہے، ‏جوں جوں انسان سائنس پڑھتا ہے اور حیران رہ جاتا ہے اللہ کی قدرتوں پر بھئی، کیسا نظام اللہ نے چلایا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا ہر چیز کا نظام بھئی؟ کھانا آپ کھا رہے ہیں، کھانا کھاتے کھاتے آپ کو لگتا ہے اب میرا پیٹ بھر گیا ہے، ‏بس کر دیتے ہیں، کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ یہ اللہ کا نظام ہے بھئی، پیٹ آپ کو اطلاع دے دیتا ہے دماغ کو کہ بھئی اب ‏گنجائش نہیں ہے، اب جگہ بھر گئی ہے، اگر یہ نظام نہ ہوتا، آپ کھاتے چلے جاتے کچھ پتہ ہی نہیں‎ चलना ‎تھا بھئی۔ تو یہ اللہ نے نظام بنایا ہے اور سائنس بتلاتی ہے کہ یہ دراصل جب معدے کو ضرورت کے بقدر خوراک مل جاتی ہے، ‏تو وہ دماغ کو پیغام بھیجتا ہے کہ بس بھئی‎!‎ اب اور ضرورت نہیں خوراک کی۔ اور یہ دماغ کی طرف جو پیغام‎ चलना ‎شروع ہوتا ہے اس کو پہنچنے میں، اس کو اللہ نے نظام ایسا بنایا کہ چند منٹ ‏لگتے ہیں دماغ تک پہنچنے میں، فوراً نہیں پہنچتا۔ دماغ، ایک لقمہ جاتے ہی، دو لقمے جاتے ہی پیغام چل پڑا۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو بہرحال پوری حقیقت تو اللہ ہی جانتے ہیں لیکن بہرحال سائنسدانوں نے بھی اس حد تک دریافت کیا۔ ‏تو پیغام چل پڑتا ہے اور اس کو کچھ دیر لگتی ہے دماغ تک پہنچنے میں بھئی۔ بعض پیغامات تو اتنے لمحے کے اندر پہنچ جاتے ہیں بھئی، آپ کے پا- آپ چلے جا رہے ہیں ایک کانٹا پاؤں میں چبھتا ‏ہے اور اسی لمحے میں ابھی وہ پورا نہیں چبھا ہوتا کہ آپ اچھل پڑتے ہیں اپنی جگہ پر بھئی۔ وہ ایک لمحے کے اندر اندر ‏فوراً دماغ کو پیغام پہنچ گیا کہ پاؤں میں کوئی سخت نوک دار چیز لگی ہے بھئی اور یہ پیغام اس طرح کا نظام بنایا اللہ نے ‏کہ معدے سے دماغ کی طرف کچھ دیر لگتی ہے بھئی۔ اتنی دیر میں جب تک انسان کافی کچھ کھا چکا ہوتا ہے تو پیغام ‏پہنچ جاتا ہے کہ اب گنجائش نہیں ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے آپ دو تین لقمے کھا لیں اور اور پھر اپنی جگہ سے کوئی درمیان میں آ جائے اور پھر آپ اس سے ‏ملیں، اس اس دوران پانچ دس منٹ گزر گئے۔ اب آپ واپس آتے ہیں تو اب آپ کی بھوک اس طرح کی نہیں رہتی بھئی ‏کیونکہ وہ پیغام دماغ کو پہنچ چکا کہ کیا ہوا؟ ضرورت پوری ہو چکی ہے تو پھر وہ بھوک اس طرح کی نہیں رہتی ‏جیسے کہ پہلے تھی بھئی۔ تو یہ اللہ کا عجیب نظام، ایک ایک چیز ایسی ہے کہ انسان حیران رہتا ہے۔ تو اتنی نعمتیں انسان پر ہر لمحے میں اللہ کی ‏طرف سے برس رہی ہیں کہ وہ تقاضا کرتی ہیں کہ یہ شخص ایک ایک لمحہ اللہ کا شکر بجا لائے، اس کی عبادت میں اس ‏کی عبادت کرتا رہے۔ لیکن ہر ہر لمحہ اگر اللہ کی شکر میں، عبادت میں لگائے گا تو حرج لازم آئے گا، اس اس اپنی ‏روزی کے روزی کے حصول میں رکاوٹ آ جائے گی۔ اللہ نے اسباب بنائے ہیں کہ روزی کے لیے انسان کو خود محنت ‏کرنا پڑتی ہے۔ صورت اگرچہ دینے والے تو اللہ ہیں لیکن سبب کیا بنایا؟ کہ انسان خود کیا کرتا ہے؟ اس کو محنت کرنا ‏پڑتی ہے۔ تو لہذا اس تحصیلِ معاش میں، روزی کے حاصل کرنے میں رکاوٹ آتی، اس میں حرج آتا اس لیے ہر وقت کے ‏اندر عبادت کا حکم نہیں دیا گیا۔ ہاں پھر پانچ مخصوص اوقات میں عبادت کا حکم دیا گیا۔ تو ہر آن انسان پر اللہ کی ہزاروں ‏نعمتیں برس رہی ہیں بھئی، ان نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ شکر ادا کیا جائے، ہر ہر آن میں کیا کیا جائے؟ اللہ کا شکر ادا ‏کیا جائے۔ وَإِنَّمَا خُصَّتْ هَذِهِ الْأَوْقَاتُ الْمُعَيَّنَةُ بِالْعِبَادَاتِ لِعَظَمَتِهَا وَتَجَدُّدِ النِّعَمِ فِيهَا اور ان معین اوقات کو عبادات کے ساتھ خاص کر دیا گیا ‏ان اوقات کی عظمت کی وجہ سے وَتَجَدُّدِ النِّعَمِ فِيهَا اور ان میں نے- نعمتوں کے آنے کی وجہ سے، تجدد کا معنیٰ ہے نیا ہونا ‏کہ اس میں کیا ہوتی ہیں؟ نئی نئی نعمتیں انسان کو حاصل ہوتی ہیں اس لیے ان پانچ اوقات کو معین کر دیا گیا عبادات کے ‏لیے بھئی۔ وہ کیا نعمتیں ہیں؟ فجر کے وقت انسان بیدار ہوتا ہے بھئی نیند سے اور نیند ہے موت کی طرح انسان پڑا ہوتا ‏ہے، اسے کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا ارد گرد کا تو یہ موت کی طرح ہے۔ تو جب بیدار ہوا گویا اسے موت کے بعد زندگی ملی ‏ہے تو اس پر اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، چنانچہ اس پر نماز فرض کی گئی۔ پھر ظہر کے وقت بھئی انسان فجر کے بعد پھر انسان اپنی روزی وغیرہ کے کا- کمانے کے لیے مشغول ہو جاتا ہے، ظہر ‏کے وقت بھئی اب اپنی روزی کما چکا اور کھانے پینے کا بندوبست ہو گیا اسے روزی دے دی اس دن کی اللہ تعالیٰ نے، ‏اب اسے پھر چاہیے کیا کرے؟ اللہ کا شکر ادا کرے چنانچہ ظہر کی نماز فرض کر دی گئی۔ پھر ظہر کے بعد عموماً لوگ آرام کیا کرتے ہیں بھئی، سو جاتے ہیں تو پھر نیند کے بعد جب اٹھے تو یہ وقت چونکہ آپ ‏نے غفلت میں گزار دیا اب پھر آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ اللہ کی عبادت کرنا- کرنی چاہیے تاکہ اس جو غفلت ہے اس کی ‏تلافی ہو جائے تو عصر کی نماز بھی اس وقت واجب کر دی گئی۔ اور پھر مغرب کا جب وقت آیا بھئی اللہ نے دن خیر و عافیت سے گزار دیا، آپ کے ساری نعمتیں اللہ دیتے رہے ضرورت ‏کی تو اب پھر شام کے وقت مغرب کی نماز واجب کر دی گئی بطورِ شکر کے۔ اور پھر اس کے بعد رات کو جب پھر سونے لگے تو اس وقت بھئی پھر سونے لگے ہیں اور نیند تو ہے موت کے مشابہ ‏تو م- موت کے مشابہ تو لہذا بہتر یہ ہے کہ اس وقت انسان نماز پڑھ لے تو عشاء کی نماز واجب کر دی گئی تاکہ اچھا ‏خاتمہ ہو انسان کا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ تو اس لیے بھئی یہ پانچ عبادتیں واجب کی گئیں، پانچ نمازیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ تو ان اوقات کے اندر نئی نئی چونکہ نعمتیں نصیب ہو رہی ہیں انسان کو اس لیے ان کو ‏عباداتوں کے ساتھ خاص کر دیا گیا۔ وَلِئَلَّا يُفْضِيَ إِلَى الْحَرَجِ فِي تَحْصِيلِ الْمَعَاشِ اور تاکہ بھئی ذکر کر رہے ہیں نا کہ ‏سارے و- ہونا تو سارے اوقات میں شکر چاہیے لیکن سارے اوقات کو میں عباداتوں کو فرض نہیں کیا گیا تاکہ وَلِئَلَّا ‏يُفْضِيَ إِلَى الْحَرَجِ تاکہ کہیں یہ حرج تک نہ پہنچا دے فِي تَحْصِيلِ الْمَعَاشِ روزی کے حصول کے حاصل کرنے میں روزی ‏کے حاصل کرنے میں یہ حرج تک نہ پہنچا دے إِنِ اسْتَغْرَقَ الْوَقْتَ الْعِبَادَةُ اگر گھیر لے اس پورے وقت کو عبادت بھئی۔ ‏العبادة پر پیش تو نہیں ڈلی ہوئی آپ کی کتابوں میں؟ جی نہیں، پیش۔ بھئی پی- یہ فاعل العبادة ہے وقت نہیں، عبادت وقت کو ‏نہ گھیر لے سارے وقت کو۔ یہ معنیٰ نہیں کہ وقت کیا کر لے سارے عبادت کو گھیر لے بھئی، آپ خود بھی غور کر لیں۔ انہی اوقات میں کیوں حکم دیا گیا عبادت کا؟ تاکہ کہیں عبادت سارے وقت کو نہ گھیر لے، اگر سارے وقت کو گھیر لے گی ‏تو پھر کیا ہوگا؟ تحصیلِ معاش میں حرج لازم آئے گا بھئی۔ تو لہذا إِنِ اسْتَغْرَقَ الْوَقْتَ الْعِبَادَةُ تو العبادة فاعل ہے اور الوقت ‏جو ہے مفعول ہے بھئی۔ آپ کہیں گے العبادة تو مونث ہے اور اسْتَغْرَقَ کا فعل مذکر کا ہے تو فعل بھی مونث، جواب یہ ہے آپ نے ہدایت النحو اور ‏کافیہ وغیرہ میں پڑھا ہوگا کہ اگر فاعل مونث غیر حقیقی ہو، فاعل کیا ہو؟ مونث غیر حقیقی ہو تو وہاں اختیار ہوتا ہے تو ‏فاعل مونث غیر حقیقی ہو تو ف- فعل کو مذکر بھی لا سکتے ہیں بھئی۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ سمجھ میں آیا؟ یعنی سارے وقت میں اگر عبادت ہی پائی جائے تو پھر اس ‏صورت میں کیا ہوگا؟ تحصیلِ روزی کے اندر حرج واقع ہوگا۔ كَوْقْتِ الصَّلَاةِ جیسے کہ نماز کا وقت بھئی۔ بھئی بات چل رہی تھی اس مامور بہ کی جو مقید ہو وقت کے ساتھ اور اس کی ‏چار قسمیں ذکر کی تھیں کہ اس کی چار قسم پر ہیں ان میں سے پہلی قسم ذکر کی کہ جس کے لیے وقت ظرف ہوتا ہے اور ‏اس کی ادائیگی کے لیے شرط ہوتا ہے اور اس کے وجوب کے لیے سبب ہوتا ہے، جیسے کہ اس کا كَوْقْتِ الصَّلَاةِ جیسے ‏کہ نماز کا وقت بھئی۔ فَإِنَّ الْوَقْتَ فِيهَا يَفْضُلُ عَنِ الْأَدَاءِ إِذَا أَدَّى عَلَى حَسَبِ السُّنَّةِ مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ اس لیے کہ اس کے اندر وقت ‏زائد ہوتا ہے، بچ جاتا ہے ادا سے جب وہ ادا کرے اس کو سنت کے بقدر بغیر کسی زیادی کے۔ بھئی ایک تو یہ ہے کہ خوب لمبی نماز پڑھے سارے وقت کا احاطہ کر لے۔ ایک یہ کہ سنت کے مطابق کیا کرے؟ نماز ‏پڑھے تو وقت کیا ہو جائے گا؟ وقت ضرور بچ جاتا ہے تو دیکھو مامور بہ کی ادائیگی سے کیا ہوا؟ کچھ وقت زائد بچ گیا ‏معلوم ہوا وقت کیا ہے نماز کے لیے؟ ظرف ہے۔ فَيَكُونُ ظَرْفًا تو یہ وقت کیا ہوگا؟ ظرف ہوگا وَلَا يَصِحُّ الْأَدَاءُ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ وَيَفُوتُ بِفَوْتِهِ اور ادا صحیح ہ- صحیح نہیں ‏ہوتی اس وقت کے داخل ہونے سے پہلے، ظہر کا وقت آنے سے پہلے ظہر کی نماز صحیح نہیں ہوتی وَيَفُوتُ بِفَوْتِهِ اور یہ ‏وقت یہ مامور بہ فوت ہو جاتا ہے وقت کے فوت ہو جانے سے۔ فَيَكُونُ شَرْطًا تو یہ وقت کیا ہوگا اس کے لیے؟ شرط بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا وقت اس کے لیے شرط ہے کہ اس سے ‏پہلے یہ ہو نہیں سکتی نماز اور اس کے فوت ہو جانے سے نماز فوت ہو جاتی ہے پھر ادا نہیں کہلاتی بلکہ کیا کہلاتی ‏ہے؟ قضاء کہلاتی ہے۔ وَيَخْتَلِفُ الْأَدَاءُ بِاخْتِلَافِ صِفَةِ الْوَقْتِ صِحَّةً وَكَرَاهَةً اور اسی طرح ادا مختلف ہو جاتی ہے وقت کی ‏صفت کے بدلنے سے صحت اور کراہت کے اعتبار سے۔ وقت کی صفت بدلے گی تو ادا بھی مختلف ہوگی۔ اگر وقت کامل ہے تو اس کا وقت کے اندر جو ادا ہوگی وہ ادا بھی کس ‏قسم کی ہے؟ کامل ہے اور اگر وقت ناقص تھا تو اس کے اندر جو ادا بھی ہوئی وہ کس قسم کی ہے؟ ناقص ہے۔ معلوم ہوا ‏کہ یہ وقت سبب ہے وجوب کے لیے، یہ وقت کیا ہے؟ سبب ہے وجوب کے لیے۔ بھئی یاد رکھیے اصل یہ ہے کہ اختلافِ حکم اختلافِ سبب سے ہوتا ہے۔ اصل کیا ہے؟ اختلافِ حکم کس سے ہوتا ہے؟ ‏اختلاف، سبب بدلے گا تو حکم بھی بدلے گا۔ اگرچہ اگرچہ شرط اور ظرف کے بدلنے سے بھی حکم بدلتا ہے، شرط اور ‏ظرف کے بدلنے سے بھی حکم بدلتا ہے لیکن اصل کیا ہے؟ حکم کس سے بدلتا ہے؟ سبب کے بدلنے سے۔ تو یہاں بھی ‏حکم بدل رہا ہے مولانا۔ آپ وقتِ کامل میں نماز پڑھیں تو کہ آپ کہتے ہیں بھئی کامل ادا ہوئی۔ کیا ہوئی؟ کامل ادا ہوئی اور ناقص وقت میں ادا ‏کرے تو آپ کیا حکم لگاتے ہیں؟ یہ ادا ناقص ہے بھئی عصر کی نماز ہے مثلاً کا- کامل وقت میں پڑھتا ہے اولِ وقت میں ‏پڑھ لیتا ہے تو آپ کیا کہتے ہیں یہ کس قسم کی نماز ادا کی ہے اس نے؟ کامل ادا کی ہے لیکن اگر سورج کا رنگ متغیر ‏ہو گیا ہے اس اب یہ وقتِ ناقص شروع ہو گیا، اس وقت کے اندر آپ وہ کوئی شخص نماز عصر کی ادا کرتا ہے آپ کیا ‏کہیں گے یہ کس قسم کی ادا ہے؟ ناقص ادا ہے۔ تو دیکھو مولانا مامور بہ کا حکم بدل رہا ہے وقت کے بدلنے سے۔ سمجھ میں آیا؟ اس کا حکم بدل رہا ہے وقت کے بدلنے سے اور حکم کا بدلنا اصل کیا ہے؟ کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ سبب ‏کے ذریعے، معلوم ہوا وقت اس کے لیے سبب ہے وقت کے بدلنے سے مامور بہ کا حکم بدل رہا ہے۔ تو کہتے ہیں وَيَخْتَلِفُ الْأَدَاءُ بِاخْتِلَافِ صِفَةِ الْوَقْتِ اور ادا بدلتی ہے مولانا وقت کی صفت کے بدلنے سے صِحَّةً وَكَرَاهَةً ‏صحیح ہونے اور مکروہ ہونے کے اعتبار سے فَيَكُونُ سَبَبًا لِلْوُجُوبِ تو یہ وقت کیا ہوگا وجوب کے لیے؟ سبب ہوگا کیونکہ ‏یہ مؤثر ہے مولانا اس کے اندر اس کی وجہ سے حکم بدل رہا ہے، معلوم ہوا یہ مؤثر ہے بھئی۔ وَتَقْدِيمُ الْمَشْرُوطِ عَلَى الشَّرْطِ جَائِزٌ یہ ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ آپ نے کیا کہا کہ وقت کیا ہے؟ شرط ہے، کس ‏کے لیے؟ نماز کے لیے وقت کیا ہے؟ شرط ہے نماز کے لیے بھئی اور جب وقت شرط ہے تو مامور بہ یعنی نماز مشروط ‏ہوئی اور مشروط کو تو شرط پر مقدم کرنا جائز ہوتا ہے۔ وقت کیا ہے اس کے لیے آپ نے کیا کہا؟ شرط ہے اور نماز پھر کیا ہوئی؟ مشروط اور مشروط کو تو وقت پر- شرط پر ‏مقدم کرنا جائز ہوتا ہے۔ کیسے جائز ہوتا ہے؟ دیکھو بھئی کہتے ہیں آپ دیکھتے نہیں ہیں؟ زکوٰۃ کے وجوب کے لیے ‏شرط کیا ہے؟ سال کا گزرنا اور کوئی سال کے تو وہ سال کا گزرنا اس کے لیے شرط ہے تو زکوٰۃ مشروط ہوئی مولانا، ‏لیکن اس سال کے گزرنے سے پہلے ہی کوئی شخص اگر زکوٰۃ ادا کرے تو زکوٰۃ کیا ہو جائے گی؟ ادا، تو دیکھو مشروط ‏کو شرط پر مقدم کرنا جائز ہوا۔ تو یہاں پر بھی ایسا ہونا چاہیے نماز کو وقت سے پہلے ادا کرنا جائز ہونا چاہیے، لیکن آپ ‏کیا کہتے ہیں وقت سے پہلے نماز ادا کی تو جائز تھی؟ نہیں۔ تو جواب دیتے ہیں کہ بھئی دیکھو شرط دو قسم پر ہے، ایک ‏شرطِ وجوب ہے ایک شرطِ جواز ہے۔ ایک شرطِ وجوب ہے ایک شرطِ جواز ہے۔ شرطِ وجوب جس جو شرط ہوتی ہے اس چیز کے وجوب کے لیے شرط پائی گئی تو واجب بھی ہے شرط نہیں پائی گئی تو ‏واجب بھی نہیں۔ اور ایک ہے شرطِ جواز مولانا کہ اس چیز کے جائز ہونے کے لیے یہ چیز شرط ہے۔ یہ شرط ہے تو وہ ‏چیز جائز ہے، یہ شرط نہیں تو وہ چیز بھی جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں نماز کے لیے جو وقت ہے وہ شرطِ جواز کے ہے ‏مولانا، ہم نے کہا نماز کے لیے وقت شرط ہے یہ شرطِ جواز بیان ہو رہی ہے شرطِ وجوب بیان نہیں۔ اور زکوٰۃ کے لیے ‏جو وقت ہے ا- سال کا گزرنا کیا ہے؟ وہ شرطِ وجوب ہے، سال کے گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہو جائے گی، ہاں اس ‏سے پہلے جائز ہے ادا کرنا جائز ہے تو کیا کر سکتا ہے؟ تو وہ شرطِ وجوب ہے اور نماز کے لیے جو ہم نے کہا وقت ‏شرط ہے وہ کون سی شرط ہے؟ شرطِ جواز ہے کہ اس سے پہلے جائز ہی نہیں ہے مولانا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو شرط کتنی قسم پر ہوئی؟ ایک شرطِ وجوب، ایک شرطِ جواز۔ شرطِ و- وجوب کا کیا ‏معنیٰ؟ کہ وہ شرط کس چیز کے لیے ہو؟ وجوب کے لیے ہو اور شرطِ جواز کا کیا معنیٰ؟ کہ شرط اس چیز کے جائز ‏ہونے کے لیے ہو بھئی، تو یہاں جو ہم نے وقت کو شرط کہا یہ کون سی شرط ہے؟ شرطِ جواز ہے کہ اس سے پہلے جائز ‏ہی نہیں ہے، یہ وقت ہوگا تو نماز جائز ہوگی ورنہ جائز نہیں۔ کہتے ہیں وَتَقْدِيمُ الْمَشْرُوطِ عَلَى الشَّرْطِ جَائِزٌ إِذَا كَانَ الشَّرْطُ شَرْطًا لِلْوُجُوبِ کہتے ہیں مشروط کو شرط پر مقدم کرنا جائز ہوتا ‏ہے جب شرط جو ہو وہ شرطِ وجوب ہو كَمَا فِي حَوْلَانِ الْحَوْلِ لِلزَّكَاةِ جیسے کہ سال کا گزرنا ہے زکوٰۃ کے لیے یہ شرطِ ‏وجوب ہے۔ وَأَمَّا إِذَا كَانَ الشَّرْطُ شَرْطًا لِلْجَوَازِ اور اگر وہ شرط شرط ہو جواز کے لیے فَلَا يَصِحُّ التَّقْدِيمُ عَلَيْهِ‎ તો ‎پھر اس ‏صورت میں اس مشروط کو شرط پر مقدم کرنا جائز نہیں ہے كَسَائِرِ شَرَائِطِ الصَّلَاةِ جیسے نماز کی تمام شرطیں ہیں بھئی۔ ‏جتنی شرطیں ہیں نماز کی وہ شرطِ جواز ہیں مثلاً کپڑے کا پاک ہونا، بدن کا پاک ہونا، طہارت کا ہونا یہ ساری کیا ہیں؟ ‏شرطِ جواز ہیں، یہ شرطیں ہوں گی تو نماز جائز ہوگی یہ شرطیں نہیں تو نماز بھی جائز نہیں۔ تو یہاں جو شرط کہا اس ‏سے شرطِ جواز مراد ہے اور شرطِ جواز کے اندر کیا ہوتا ہے؟ وقت سے پہلے جائز ہی نہیں ہوتا۔ وَتَقْدِيمُ الْمُسَبَّبِ عَلَى السَّبَبِ لَا يَجُوزُ أَصْلًا مسبب کا مقدم کرنا سبب پر یہ بھی جائز نہیں ہے قطعاً، سبب پہلے آتا ہے مسبب ‏بعد میں آتا ہے مولانا، ایک کیا ہے؟ سبب پہلے ہوگا اور اس کے بعد کیا آئے گا؟ مسبب ہوگا، تو اور مسبب کو سبب پر ‏مقدم کرنا قطعاً جائز نہیں۔ تو یہ وقت جیسے نماز کے لیے شرط ہے اسی طرح اس کے وجوب کے لیے سبب بھی ہے، تو ‏یہاں دو چیزیں ہو گئیں یہ شرطِ جواز بھی ہے اور سبب بھی ہے لہذا یہاں تو یقیناً نماز کو وقت سے پہلے کرنا ادا کرنا ‏جائز ہی نہیں، کیونکہ اگر پہلے کریں گے تو اس صورت کے اندر بھئی دیکھو مسبب بھی کیا ہو جائے گا؟ اپنے سبب پر ‏مقدم ہو جائے گا حالانکہ مسبب کبھی اپنے سبب پر مقدم نہیں ہوتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یہ شرطِ جواز بھی ہے جس ‏میں تقديم جائز نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں وَتَقْدِيمُ الْمُسَبَّبِ عَلَى السَّبَبِ لَا يَجُوزُ أَصْلًا اور مسبب کو سبب پر مقدم کرنا یہ بھی بالکل جائز نہیں ہے وَهَاهُنَا لَمَّا ‏اجْتَمَعَتِ الشَّرْطِيَّةُ وَالسَّبَبِيَّةُ فَلَا جَرَمَ أَنْ لَا يَجُوزَ التَّقْدِيمُ عَلَى الْوَقْتِ پس جب یہاں پر جا- اور یہاں پر جب جمع ہو گئیں شرطیت ‏بھی اور سببیت بھی، شرط ہونا سبب ہونا دونوں چیزیں جب یہاں جمع ہو گئیں فَلَا جَرَمَ فَلَا جَرَمَ یقیناً کے معنیٰ میں استعمال ‏ہوتا ہے فَـ یقیناً أَنْ لَا يَجُوزَ التَّقْدِيمُ عَلَى الْوَقْتِ تو پھر یقیناً مقدم کرنا جائز نہیں ہوگا وقت پر یعنی نماز کو وقت پر مقدم کرنا ‏جائز نہیں ہوگا یقینی طور پر۔ ثُمَّ هَاهُنَا شَيْئَانِ نَفْسُ الْوُجُوبِ وَوُجُوبُ الْأَدَاءِ پھر کہتے ہیں یہاں پر دو چیزیں ہیں ایک نفسِ ‏وجوب ہے ایک وجوبِ ادا ہے۔ ایک نفسِ وجوب ہے اور ایک وجوبِ ادا ہے مولانا۔ فَنَفْسُ الْوُجُوبِ بھئی، تو دیکھیے مثلاً آپ بیع و شراء وغیرہ کرتے ہیں ایک شخص سے آپ نے ایجاب و قبول کیا بیع کر لی ‏بھئی۔ تو بیع کرتے ہی آپ کیا بن گئے؟ مبیع کے مالک بن گئے اور آپ کے ذمے اب اس کے ثمن واجب ہو گئے، کیا ہو ‏گئے؟ ثمن۔ تو یہ نفسِ وجوب آیا، عقد کرتے ہی کیا آ گیا آپ پر؟ نفسِ وجوب، اب آپ پر اس پر اس کے ثمن آپ پر واجب ہو ‏گئے۔ لیکن ادا ابھی بھی نہیں ضروری، ادا اس وقت ہوگی جب وہ آپ سے طلب کرتا ہے وہ کہتا ہے لاؤ بھئی اب ثمن ‏میرے حوالے کرو تو اب اس کے لیے کیا آ جائے گی؟ ادائیگی بھی واجب ہو جائے گی۔ تو نفسِ وجوب اور چیز ہے اور ‏وجوبِ ادا اور چیز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہاں پر دو چیزیں ہیں ایک نفسِ وجوب اور ایک وجوبِ ادا فَنَفْسُ الْوُجُوبِ سَبَبُهُ الْحَقِيقِيُّ۔ ہاں یہاں سے بتلا ‏رہے ہیں بھئی، نفسِ وجوب کے بھی دو سبب اور وجوبِ ادا کے بھی دو سبب، یعنی ایک سبب ان کا ہے حقیقی اور ایک ‏سبب ہے ظاہری۔ نفسِ وجوب میں بھی ایک سبب حقیقی ہے اور ایک سبب ظاہری ہے، اسی طرح وجوبِ ادا میں بھی ایک ‏سبب حقیقی ہے اور ایک سبب ظاہری ہے۔ تو کہتے ہیں فَنَفْسُ الْوُجُوبِ وہ جو نفسِ وجوب جو ہے سَبَبُهُ الْحَقِيقِيُّ هُوَ الْإِيجَابُ الْقَدِيمُ اس کا سببِ حقیقی وہ ایجابِ قدیم ہے۔ ‏وہ جو اللہ نے ازل میں ایجاب فرمایا ہے واجب فرمایا ہے ازل کے اندر بھئی، سمجھ میں آیا؟ یہ ایجاب کس نے فرمایا؟ اللہ ‏تعالیٰ نے فرمایا اور اللہ کی ذات قدیم ہے تو یہ ایجاب بھی کیا ہوا؟ قدیم ہوا مولانا۔ تو اس وجوب کا حقیقی سبب کیا ہے؟ و ایجاب قدیم جو اللہ نے واجب فرمایا۔ سمیت تو یہ ایجاب کس کے ساتھ قائم؟ ذات باری تعالی کے ساتھ اور ذات باری تعالی ‏قدیم تو یہ ایجاب بھی کیا ہوا؟ قدیم ہوا تو وہ ازلی ایجاب ہے۔ و سببہ ظاہر وھو الوقت اور ایک اس کا کیا ہے؟ اور اس کا ‏ایک ظاہری سبب ہے وھو الوقت اور وہ وقت ہے اقیم مقامہ جس کو اس ایجاب قدیم کے قائم مقام کر دیا بھئی۔ ہم کیا کہتے ‏ہیں بھئی؟ نماز کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے جس کا ظاہری سبب ہے مولانا حقیقی سبب حقیقی سبب کیا ہے وہ ‏ایجاب قدیم ہے مولانا۔ و وجوب الاداء سببہ الحقیقی اور وجوب ادا کا سبب حقیقی جو ہے تعلق الطلب بالفعل طلب کا متعلق ہونا ہے کس کے ساتھ؟ ‏فعل کے ساتھ طلب کا تعلق بھئی۔ فعل کے ساتھ کس چیز کا تعلق ا جائے؟ یہ فعل کرو۔ طلب ا گئی یا نہیں بھئی؟ تو طلب جب ‏ا جائے یہ طلب کا فعل کے ساتھ تعلق یہ ادا کا سبب حقیقی ہے مولانا کہ طلب متعلق ہو گئی ہے اس فعل کے ساتھ۔ اللہ تعالی ‏نے ہم سے اس فعل کو طلب فرمایا ہے، بات سمجھ میں آ گئی تو طلب کس سے متعلق ہو گئی؟ فعل کے ساتھ متعلق ہو گئی۔ ‏تو یہ تو اس کا سبب حقیقی ہے۔ و سببہ الظاہری وھو الامر اقیم مقامہ اور اس کا ظاہری سبب وہ امر ہے اقیم مقامہ اس کا ‏ظاہری سبب وہ امر ہے مولانا جس سے اس کا قائم مقام بنایا گیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔ نفس وجوب اور وجوب ادا۔ نفس وجوب کا سبب حقیقی کیا ہے؟ ایجاب قدیم اور سبب ظاہری ‏کیا ہے؟ وہ وقت ہے جسے اس کا قائم مقام بنا دیا گیا اور وجوب ادا کا سبب حقیقی کیا؟ طلب کا تعلق فعل کے ساتھ ہونا اور ‏سبب حقیقی سبب ظاہری کیا ہے؟ وہ امر جسے اس طلب کے قائم مقام بنا دیا گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی لیکن محشی اس پر اعتراض کرتے ہیں مولانا وہ فرماتے ہیں کہ ماتن نے سبب وجوب کا سبب حقیقی ‏جو ہے وہ ایجاب قدیم کو بتلایا وہ جو اللہ نے ازل میں کیا تھا ایجاد کیا تھا واجب کر دیا تھا کہتے ہیں ایجاب قدیم جو ہے وہ ‏خطاب اللہ تعالی المتعلق بافعال المكلفین وہ اللہ کا وہ خطاب ہے جو مکلفین کے افعال کے ساتھ متعلق ہے۔ ایجاب قدیم سے کیا مراد ہے؟ اللہ کا وہ خطاب بھئی کہ جو کس کے ساتھ ہے؟ اس سے خطاب اللہ مراد ہے وہ خطاب اللہ ‏جو افعال مکلفین کے ساتھ کیا ہے متعلق ہے اور کہتے ہیں وہی معنی تو ہے تعلق الطلب بالفعل کا۔ بھئی فعل کی طلب اسی ‏کے فعل کے ساتھ طلب کا تعلق ہونا یہ اور ایجاب قدیم یہ دونوں تو ایک چیز ہیں۔ یہ دونوں کیا ہیں؟ کیونکہ ایجاب کا کیا ‏معنی ہے؟ وہ خطاب اللہ جو کس کے ساتھ متعلق ہے؟ اللہ نے حکم دیا کہ نماز قائم کرو کیا کرو؟ اور تو ایجاب آیا مولانا تو ‏یہ کلام اللہ نے اپنے کلام کے ذریعے اس کو واجب کیا اور اللہ تعالی ہیں ازلی تو کلام اللہ کی صفت ذات باری تعالی کے ‏ساتھ قائم ہے وہ بھی کیا ہوئی؟ قدیم ہوئی۔ معلوم ہوا یہ ایجاب بھی کس قسم کا ہے؟ قدیم اور یہ کس کے ذریعے آیا؟ اسی ‏خطاب اللہ کے ذریعے تو آیا جو اللہ نے حکم دیا، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور اس یہی ایجاب یہی تو وہ طلب ہے۔ طلب کا تعلق کس سے فعل، یہ فعل کرو تو یہ ایک ہی چیز ہے وہی وہی خطاب اللہ کیا ہے؟ اسی کے ذریعے کیا ہو رہا ‏ہے؟ طلب کا تعلق ہو رہا ہے کس کے ساتھ یہ فعل کرو اس فعل کو طلب کیا جا رہا ہے تو ایجاب قدیم اور طلب کا تعلق فعل ‏کے ساتھ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں بھئی یہ دونوں کیا ہیں؟ ایک ہی چیز ہیں بھئی چنانچہ فرماتے ہیں بھئی کہ بھئی یہ جو ‏خطاب اللہ ہے یہ جو ایجاب قدیم ہے یہ جو طلب کا تعلق ہے فعل کے ساتھ یہ سبب حقیقی ہے ادا کے لیے۔ یہ کیا ہیں؟ یہ ‏ایک ہی چیز ہیں اور یہ کیا ہے سبب ادا ان سے وجوب ادا ائے گا اور نفس وجوب جو ہے کہتے ہیں وہ اللہ تعالی کی نعمتیں ‏سبب ہیں بھئی۔ اللہ تعالی کی نعمتیں سبب ہیں مولانا نفس وجوب کے لیے نفس وجوب اور بات کہتے ہیں کہ بھئی اللہ تعالی ‏کی ذات سبب ہے بھئی اللہ تعالی کی ذات ہی سبب ہے نفس وجوب کے لیے۔ نفس وجوب کے لیے بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اللہ کی ذات جو ہے وہ سبب ہے نفس وجوب کا یا اللہ بعضوں ‏نے کہا اللہ کی نعمتیں جو ہیں وہ کیا ہیں؟ سبب ہیں نفس وجوب کا یعنی سبب حقیقی ہیں اور باقی وجوب ادا کے لیے وہ ‏سبب حقیقی کیا ہے؟ وہ ایجاب قدیم ہے وہ فعل کا تعلق طلب کا تعلق ہونا ہے کس چیز کے ساتھ؟ فعل کے ساتھ طلب کا ‏متعلق ہو جانا بھئی۔ کہتے ہیں ثم ظرفیۃ والسبب لا تتبعان بحسب الظاہر یہ ایک اشکال اس کو بیان کریں گے اور اس کا جواب دیں گے مولانا ‏کہتے ہیں پھر ظرفی ہم نے کیا کہا وقت ظرفی ہے اور سبب بھی ہے حالانکہ ظرفیت اور سببیت جمع نہیں ہو سکتے۔ کیوں ‏نہیں ہو سکتے جمع؟ کیونکہ سبب کا مسبب پر مقدم ہونا ضروری ہے۔ سبب ہمیشہ کیا ہوگا؟ مسبب پر مقدم ہوگا۔ ظرف کے ‏لیے مامور بہی کا اس کے اندر ظرف تب بنے گا جب مامور بہی وقت کے اندر ہو اور سبب تب بنے گا کہ وہ وقت اس ‏سے مقدم ہو تو ایک ہی وقت میں ایک چیز اس پر مقدم بھی ہو اور وہ چیز اس کے اندر بھی ہو یہ نہیں ہو سکتا سبب ہم نے ‏کہا وقت سبب ہے یہ کہنا کیا تقاضا کرتا ہے وقت کو پہلے وقت ہونا چاہیے اس کے بعد کیا ہونی چاہیے نماز نماز بعد میں ‏ہونی چاہیے اور ہم نے کہا کہ یہی وقت کیا ہے اس کے لیے ظرف یہ کیا تقاضا کرتا ہے بعد میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ ‏اسی کے اندر ہونا چاہیے تو سببیت اور ظرفیت کیا ہیں؟ یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتی یہ اشکال ہوتا ہے دیکھیے خود ‏تشریح بھی کریں گے ساری بھئی کہتے ہیں ثم ظرفیۃ والسبب لا تشتجمعانی بحسب الظاہر پھر ظرفیت اور سببیت جو ہیں یہ ‏جمع نہیں ہوتی ظاہر کے اعتبار سے لانہ ان ادا فی الوقت لا یکون سببا اس لیے کہ اگر ادا کر دیا اس مامور نے مامور بہی ‏کو وقت کے اندر تو وقت کیا بن گیا؟ وقت کے اندر ادا کر دیا تو کیا بن گیا وقت اس مامور بہی کے لیے ظرف بن گیا لا ‏یکون سببا تو پھر اس صورت میں یہ سبب نہیں ہوگا لانہ سبب یجب ان یقدم علی المسبب اس لیے کہ سبب کے اندر میں ‏ضروری ہے کہ وہ مسبب پر مقدم ہو و ان لم یؤد فی الوقت اور اگر وقت کے اندر ادا نہیں کرتا یعنی وقت کے بعد ادا کرتا ‏ہے تو پھر کیا بن جائے گا؟ سبب تو بن گیا لیکن لا یکون ظرفا ظرف نہیں بنے گا اذا ظرف ما یؤد فیہ لا بعدہ اس لیے کہ ‏ظرف تو وہ ہے جس کے اندر اس فعل کو ادا کیا جائے نہ کہ اس کے بعد بھئی۔ فلہذا قالوا اسی وجہ سے کہا ہے علماء ‏اصول نے یہ کہا ہے کہ ان ظرف بھئی ہوا جمیع الوقت کہ ظرف جو ہے وہ سارا وقت ہے بھئی ظہر کا سارا وقت کیا ہے ‏نماز کے لیے نماز ظہر کے لیے ظرف ہے و شرط و شرط ہو مطلق الوقت اور شرط جو ہے جو ہم نے کہا مثلا ظہر کے ‏لیے ظہر کا وقت شرط ہے کہتے ہیں ہوا مطلق الوقت وہ کیا ہے؟ مطلق وقت ہے یعنی اس وقت ظہر کے کسی بھی جز کے ‏اندر ادا کرے گا تو یہ کیا ہوگی؟ ادا ہوگی ادا ہوگی اور یہ وقت گزر جائے گا تو پھر کیا ہو جائے گی قضا ہو جائے گی‎ ‎তো ‎شرط مطلق وقت ہے۔ ظہر کا کوئی بھی جز پایا جائے ظہر کا کوئی بھی جز پایا جائے اس کے اندر وہ ادا کرے گا ‏تو کیا کہلائے گی ادا کہلائے گی تو ظرف سارا وقت ہے شروع سے لے کر آخر تک اور شرط کیا ہے؟ مطلق وقت ہے ‏کوئی بھی وقت اس کے اندر میں سے ہو سکتا ہے سمجھ میں آیا؟ کوئی بھی جز و سببہ الجزء الاول المتصل بالادا قبل ‏الشروع اور سبب جو ہے وہ پہلا جز ہے جو ملا ہوا ہے ادا کے ساتھ شروع کرنے سے پہلے بھئی دیکھیے سبب انہوں نے ‏کیا کہا تھا اشکال کیا ہوا تھا کہ سببیت اور ظرفیت تو آپس میں جمع نہیں ہو سکتے‎ তো ‎اس کا جواب دے رہے ہیں کہ ‏بھئی ظرف وہ تو سارا وقت ہے ظرف کیا ہے؟ سارا وقت ہے اور شرط وہ مطلق وقت ہے یعنی اس میں کسی قسم کی ‏کوئی قید نہیں ہاں بس وہی وقت ہونا چاہیے ظہر کا کوئی بھی حصہ بھئی تو یہ کیا ہے؟ شرط ہے ظہر کا ظہر کے وقت کا ‏کوئی بھی حصہ ہو بھئی ظہر کے وقت کا یہ شرط ہے نماز کے لیے بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس وقت کے یہ اس وقت ‏میں پڑے گا تو ادا ہی کہلائے گی بھئی۔ اس کسی بھی وقت کے اندر ظہر کے کسی بھی حصے کے اندر بھئی یہ مطلق ‏وقت ہے ظرف تو کیا تھا سارا وقت شروع سے لے کر آخر تک اور شرط کیا ہے؟ مطلق وقت ہے کوئی بھی وقت ظہر ‏کے وقت میں سے کوئی بھی حصہ مطلق وقت کوئی قید نہیں اس کے اندر بھئی اور سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں وہ جز ہے ‏بھئی دیکھو آپ نماز پڑھنے لگے چلو یہیں پر پوری تفصیل سمجھ لو بھئی آگے پھر کچھ شارح بھی بیان کریں گے یاد ‏رکھیے جیسے ہی ظہر کا وقت شروع ہوتا ہے آپ فورا اول وقت میں ظہر کی نماز شروع کر دیتے ہیں‎ તો ‎جیسے ہی ‏اول جز ظہر کا آیا گزرا ساتھ ہی مولانا آپ نے کیا کر دی نماز شروع کر دی تو پہلا جز جو گزرا وہ سبب ہے اس وجوب ‏کا اس وجوب کا کیا ہے وہ سبب ہے بات سمجھ میں آئی یعنی اس نماز کا نفس وجوب انہوں نے کہا ہے نا وقت کیا ہے ‏نماز کے وجوب کے لیے نفس وجوب کے لیے سبب ہے کون سا حصہ اس کا سبب ہے بھئی کہتے ہیں بھئی وہ جز جو ‏ادائیگی کے ساتھ ملا ہوا ہو وہ جز سبب ہے اب پہلے وقت میں نماز شروع کر دی‎ তো ‎پہلے جز کے ساتھ نماز متصل ‏ہوئی جیسے پہلا جز آیا آپ نے فورا کیا کر دی نماز شروع کر دی‎ તો ‎پہلا جز کیا ہوا نماز کے لیے سبب جو اس کے ‏ساتھ متصل ہے وہ جز سبب ہم قرار دے دیں گے یہ جز سبب ہے نفس وجوب کا اچھا اس جز میں آپ نے نماز ادا نہیں کی‎ ‎তো ‎سببیت منتقل ہو جائے گی اگلے جز کی طرح اگر اس کے فورا بعد آپ نماز شروع کر دیں تو یہ جز سبب بن گیا ثانی ‏جز اگر اس ثانی جز کے بعد بھی آپ نے نماز شروع نہیں کی تیسرے جز کے بعد شروع کی تو سببیت منتقل ہو گئی کس ‏کی طرف؟ تیسرے یعنی وہ جو ادا کے بالکل ساتھ ملا ہوا ہے بھئی نماز شروع کرنے سے پہلے اس کے ساتھ جو آخری ‏جز وقت کا ملا ہوا ہے ہم کہیں گے یہ سبب ہے کس چیز کا؟ جی نفس وجوب کا بھئی سارے وقت کو تو ہم وجوب کا سبب ‏نہیں بنا سکتے نماز کے نفس وجوب کا سبب کیا ہے؟ وقت ہے اور آپ کیا کہیں ظہر کی نماز کا نفس وجوب کس سے آئے ‏گا؟ ظہر کے وقت سے اور سارا وقت سبب ہے‎ તો ‎پھر تو لازمی بات ہے نماز کو کب ادا کرنا پڑے گا؟ ظہر کے وقت ‏گزرنے کے بعد ادا کرنا پڑے گا بھئی تو صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی تو ساتھ کیونکہ سبب کیا ہوتا ہے مسبب پر ‏مقدم ہوتا ہے تو پھر تو سارے وقت کو کیا کرنا لازم آئے گا اس مسبب پر مقدم کرنا لازم آئے گا‎ તો ‎لہذا اب وہ تعبیر کر ‏رہے ہیں بھئی وہی ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی ظرف تو سارا وقت ہے لیکن سبب سارے وقت کو ہم نہیں کہیں گے بلکہ اس ‏جز کو کہیں گے جس کے ساتھ ادا شروع ہو جاتی ہے جس کے ساتھ کیا ہو جاتی ہے؟ چنانچہ اگر تیسرے جز کے ساتھ آپ ‏نے نماز شروع کر دی تو یہ تیسرا جز سبب ہے نفس وجوب کا اگر تیسرے میں بھی شروع نہیں کی چوتھے پانچویں ‏سببیت منتقل ہوتی چلی جائے گی جس جز کے بعد جا کر آپ کیا کریں گے؟ نماز شروع کریں گے اس ادا کس سے پہلے ‏والا جو جز ہوگا ہم کہیں گے یہ سبب ہے کس چیز کا نفس وجوب کا بات سمجھ میں آ گئی بھئی تو وجوب اس طرح وہ ‏سببیت منتقل ہوتی ہے ایک جز سے دوسرے جز کی طرف تیسرے چوتھے پانچویں یہاں تک کہ کیا شروع ہو جائے؟ ادا ‏شروع ہو جائے وہ فعل شروع کر دے وہ شخص جیسے ہی فعل شروع کرتا ہے اس سے پہلے کا جو آخری جز تھا بھئی ‏وہ کیا بن جائے گا؟ سبب کس چیز کا؟ نفس وجوب کا تو ظرف ہے اشکال یہ ہوا تھا کہ سببیت اور ظرفیت دونوں جمع ‏کیونکہ ظرفیت تقاضا کرتی ہے کہ وہ فعل اس کے اندر ہو اور سببیت تقاضا کرتی ہے کہ وہ فعل اس کے بعد ہو مولانا تو ‏دونوں چیزیں جمع نہیں ہو سکتی تو کہتے ہیں اسی لیے علمائے اصول نے اس اشکال کا جواب دینے کے لیے یہ کہا کہ ‏ظرف تو سارا وقت ہے لیکن سبب کون سا جز ہے؟ جس کے ساتھ کیا ملی ہوئی ہے؟ ادا ملی ہوئی ہے وہ جز ہے سبب ‏بھئی بات سمجھ میں آ گئی بھئی ہاں یہاں تک کہ ہوتے ہوتے سارا وقت گزر گیا اس نے نماز ہی نہیں پڑھی اب اس کو قضا ‏کرنا پڑے گی اب قضا کے لیے کہتے ہیں سارا وقت سبب ہے۔ قضا کے لیے سارا وقت سبب ہے اس لیے کہ اب سارا وقت ‏مقدم ہو گیا پہلے تو کچھ وقت مقدم ہوتا تھا کچھ مؤخر تھا ہم سارے وقت کو سبب نہیں قرار دے سکتے تھے کیونکہ سبب ‏کے لیے تو ضروری ہے کہ وہ مسبب پر مقدم ہو تو اب تو سارا وقت مقدم ہو گیا سمجھ میں آیا؟ اب اس کو سبب قرار دینے ‏میں کوئی مانع موجود نہیں تو پھر قضا کی صورت میں پھر سارا وقت کیونکہ سارے وقت کو ہم کیا قرار دے دیں گے اس ‏قضا کا نفس وجوب کس سے آیا؟ اس سارے وقت کے ذریعے آیا بات سمجھ میں آ گئی بھئی تو کہتے ہیں و سببہ الجزء ‏الاول المتصل بالادا قبل الشروع فی الاداء ادا میں شروع ہونے سے پہلے و الكل فی القضائی اور سارا کا سارا وقت کیا ہوگا ‏جی؟ بھئی اس کل کا عطف کس پر ہے دیکھو اوپر آیا تھا الجز الاول اس جز پر عطف ہے کل کا انہوں نے کہا و سببہ الجز ‏الاول سبب کیا ہوگا جز اول لیکن یہ تو اس وقت ہے جب وہ اسی وقت میں شروع کر دیتا ہے اگر اس وقت میں شروع نہیں ‏کرتا تو سببہ و الكل وہ کیا ہے؟ سارا کا سارا وقت ہو جائے گا۔ فی القضاء کس کے اندر؟ قضا میں وھو اربعۃ انواع اور یہ ‏بھی چار قسم پر ہے مولانا کتنی قسم پر ہے؟ چار قسم چار قسم وقد فصلہ المصنف رحمہ اللہ بقولہ اور تحقیق تفصیل بیان ‏کی ہے مصنف رحمہ اللہ نے اپنے اس قول کے ذریعے بھئی ان چار انواع کی بھئی یہ پہلی قسم کون سی پہلی قسم؟ وہ ‏مامور بہی جو مقید ہے وقت کے ساتھ اور اس وہ چار قسم پر ہے اور اس میں سے پہلی قسم کیا تھی؟ جس کے لیے وقت ‏کیا ہو؟ ظرف بھی ہے اور شرط بھی ہے اور اور سبب بھی ہے یہ پھر کتنی قسم پر ہے؟ چار قسم پر ہے اس لیے کہ یہاں ‏پر بھئی سببیت کی نسبت یا تو ہم پہلے اگر پہلے جز کے ساتھ ہی وہ کیا شروع کر دیتا ہے نماز‎ तो ‎اب سببیت کی نسبت ‏کس کی طرف کی جائے گی؟ پہلے جز کی طرف کون سا جز سبب ہے اس نماز کے وجوب کا پہلا جز تو اول جز کیا ہوا ‏اول وقت کی طرف کیا کرنا پڑے گی؟ نسبت یہ پہلی قسم ہوئی پھر اگر وہ اس پہلے جز میں ادا نہیں کرتا بعد والے کسی ‏جز میں ادا کرتا ہے مولانا تو اس صورت میں وجوب کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ اس جز کی طرف جو اس ‏نماز کے ساتھ متصل ہے اول جز کے بعد شروع کر دی تو وہی متصل ہے مولانا اسی کی طرف نسبت کریں گے یہ نفس ‏وجوب کس کے ذریعے آیا؟ اول جز کے ذریعے اگر اول جز میں نہیں کرتا‎ তো ‎بعد والا کوئی جز جو اس ادا کے شروع ‏کرنے کے ساتھ ملا ہوا ہے اس کے ذریعے کیا وہ کیا بنے گا؟ سبب بنے گا تو اس کی طرف نسبت کی جائے گی کہ یہ ‏جز کیا بنا ہے؟ نماز کے وجوب کا سبب بنا ہے اگر پھر اس میں بھی ادا نہیں کرتا یہاں تک کہ ناقص وقت شروع ہو جاتا ‏ہے مولانا تو ناقص وقت میں جب وہ نماز شروع کرے گا تو اس ناقص وقت کے جو جز اس کے ساتھ ملا ہوا ہے ہم کہیں ‏گے یہ جز سبب ہے کس چیز کا نفسِ وجوب کا۔ تو اب اس نماز کی نسبت کس کی طرف کرنا، وجوب کی نسبت کس کی طرف ہوگی؟ اس جزِ ناقص کی ‏طرف۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اور اگر پھر اس ناقص وقت میں بھی وہ ادا نہیں کرتا، یہاں تک کہ سارا وقت ہی نکل جاتا ‏ہے، تو پھر اس کے بعد اس وجوب کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ پورے وقت کی طرف کی جائے گی۔ کس کی طرف؟ یہ چار قسمیں ہو گئیں۔ بھئی، اس وجوب کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ جزِ اول کی طرف، یا وہ جز جو اس ادا کے ساتھ ملا ہوا ہے، یا ‏جزِ ناقص کی طرف نسبت کی جائے گی، یا کس کی طرف نسبت کی جائے گی؟ کل وقت کی طرف۔ تو وہ وقت جس کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے، اس کے اعتبار سے یہ کتنی قسم پر ہوا؟ چار قسم پر، بھئی۔ تو اس ‏وجوب کی نسبت یا تو جزِ اول کی طرف ہوگی، یا اس جز کے ساتھ جس کے ساتھ ا ابتدا کیا ہے؟ ملی ہوئی ہے۔ یا کس کی ‏طرف نسبت کی جائے گی؟ جزِ ناقص کی طرف، یا کس کی طرف نسبت کی جائے گی؟ کل وقت کی طرف۔ تو یہ چار ‏قسمیں ہو گئیں، آسان سی بات ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَهُوَ إِمَّا أَنْ يُضَافَ إِلَى الْجُزْءِ الأَوَّلِ" اس لیے کہ وہ وجوب جو ہے اس کی نسبت یا تو کی جائے گی جزِ اول ‏کی طرف، "أَوْ إِلَى مَا يَلِي ابْتِدَاءَ الشُّرُوعِ" یا اس جز کی طرف جو ملا ہوا ہے شروع کی ابتدا کے ساتھ، "أَوْ إِلَى الْجُزْءِ ‏النَّاقِصِ" یا اس وجوب کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ جزِ ناقص کی طرف، "عِنْدَ ضِيقِ الْوَقْتِ" وقت کے تنگ ‏ہونے کے وقت، بھئی۔ "أَوْ إِلَى جُمْلَةِ الْوَقْتِ" یا پورے وقت کی طرف کی جائے گی۔ تو یہ چار قسمیں ہوئیں۔ ‎"‎يَعْنِي أَنَّ الأَصْلَ كُلُّ مُسَبَّبٍ مُتَّصِلٌ بِسَبَبِهِ" یعنی اصل یہ ہے کہ ہر مسبب جو ہے اس کو متصل ہونا چاہیے کس کے ساتھ؟ ‏اپنے سبب کے ساتھ متصل ہونا چاہیے۔ "فَإِنْ أُدِّيَتِ الصَّلاَةُ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ يَكُونُ الْجُزْءُ السَّابِقُ عَلَى التَّحْرِيمَةِ" پس اگر نماز کو ‏ادا کر دیا گیا اولِ وقت کے اندر، تو وہ جز جو سابق ہے، جو مقدم ہے مولانا، تحریمہ پر وہ جز جو تحریمہ پر مقدم ہے، ‏آگے آ رہا ہے: "سَبَبًا لِوُجُوبِ الصَّلاَةِ" یہ وقت، یہ جز کیا ہوگا؟ سبب ہوگا وجوبِ صلاۃ کے لیے۔ درمیان میں بتلایا، اس ‏جز کے بارے میں بتلایا، کہتے ہیں: "وَهُوَ الْجُزْءُ الَّذِي لاَ يَتَجَزَّأُ" وہ جز ہے مولانا جو تقسیم نہیں ہوتا۔ وہ جز ہے جو تقسیم ‏نہیں ہو سکتا مولانا۔ وہ وقت کا کم سے کم حصہ جس کے آگے مزید تقسیم ہی ممکن نہیں ہے، جزِ لا یتجزا بھئی۔ جزِ لا یتجزا کسی چیز کا وہ ‏چھوٹے سے چھوٹا جز جس کے آگے جو آگے تقسیم نہیں ہو سکتا، تقسیم کو قبول نہیں کرتا بھئی۔ اتنا چھوٹا حصہ ہے کہ ‏اب آگے اس کی مزید تقسیم ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ جزِ لا یتجزا۔ تو یہاں وقت کا وہ چھوٹے سے چھوٹا حصہ جس کے آگے تقسیم نہ ہو سکے، بھئی وقت کی، ہر چیز کی تقسیم ہو جاتی ہے ‏مثلاً جس کے اجزا ہوں۔ مثلاً بھئی، سال ہے۔ سال کی تقسیم کرتے ہیں، سال میں کتنے مہینے ہیں؟ 12، تقسیم ہو گئی بھئی ‏‏12 کی طرف۔ اچھا، ہر مہینے میں تقریباً کتنے دن ہیں؟ 30 دن ہیں بھئی، تو دیکھو 30 کی طرف تقسیم ہو گئی، 30 حصے ‏بن گئے اس کے۔ پھر ہر دن کے رات کے اندر کتنے گھنٹے ہیں؟ 24 گھنٹے ہیں، دیکھو تقسیم کر دیے ایک دن رات کے ‏کتنے، یہ ایک وقت ہے نا، دن رات وقت ہے اس کے حصے بنا دیے۔ پھر گھنٹوں کی تقسیم کی، ایک گھنٹے میں کتنے ‏منٹ ہیں؟ 60، تو اس وقت کی بھی تقسیم ہو گئی مولانا معلوم ہوا یہ بھی جزِ لا یتجزا نہیں ہے۔ پھر منٹ کے اندر کتنے ‏سیکنڈ ہیں؟ 60 سیکنڈ ہیں۔ اب آگے تقسیم ہو سکتی ہے؟ جی؟ اوہو! آج کل تو ایسے آلات آئے ہوئے ہیں، اپ کی اپ عام ‏گھڑیوں کے اندر بھی ہے، سیکنڈ کے ساتھ ایک اور خانہ بنا ہوتا ہے، اس میں ایک سیکنڈ کے اندر 10، بعضوں میں 100 ‏تک وہ گھوم جاتے ہیں نمبر بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو اس کی بھی تقسیم کر دی ہے انہوں نے، بلکہ اس کے جز کے جز کی ‏بھی آگے تقسیم در تقسیم، وہ سیکنڈز کے بھی یوں کہو، ہزارواں، کھربواں کوئی حصہ ہوگا مولانا، اتنا چھوٹا حصہ کہ ‏آگے اس کی تقسیم کسی بھی اعتبار سے ممکن ہی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ جز ہے مولانا نماز کے وجوب کا سبب، وہ چھوٹے سے چھوٹا جز جو نماز کے ساتھ ملا ہوا ہے بھئی۔ بات سمجھ ‏میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ أُدِّيَتِ الصَّلاَةُ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ يَكُونُ الْجُزْءُ السَّابِقُ عَلَى التَّحْرِيمَةِ وَهُوَ الْجُزْءُ الَّذِي لاَ يَتَجَزَّأُ سَبَبًا لِوُجُوبِ ‏الصَّلاَةِ" پس اگر ادا کر دیا گیا نماز کو اولِ وقت کے اندر، تو اس صورت میں وہ جز جو مقدم ہے تحریمہ پر اور وہ جزِ لا ‏یتجزا ہے، وہ سبب ہوگا وجوبِ صلاۃ کے لیے۔ "فَإِنْ لَمْ يُؤَدَّ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ تَنْتَقِلُ السَّبَبِيَّةُ إِلَى الأَجْزَاءِ الَّتِي بَعْدَهُ" کہتے ہیں: ‏پس اگر وہ ادا نہیں کرتا نماز کو اولِ وقت کے اندر، تو منتقل ہو جائے گی یہ سببيت ان اجزا کی طرف جو اس کے بعد ہیں۔ ‏‏"فَيُضَافُ الْوُجُوبُ إِلَى كُلِّ مَا يَلِي ابْتِدَاءَ الشُّرُوعِ مِنَ الأَجْزَاءِ الصَّحِيحَةِ" پس نسبت کی جائے گی وجوب کی "إِلَى كُلِّ مَا"، "ما" ‏سے مراد جز ہے۔ پس نسبت کی جائے گی وجوب کی ہر اس جز کی طرف "يَلِي ابْتِدَاءَ الشُّرُوعِ" جو شروع کی ابتدا کے ‏ساتھ ملا ہوا ہو "مِنَ الأَجْزَاءِ الصَّحِيحَةِ" یعنی کہ اجزائے صحیحہ میں سے۔ کہتے ہیں: "فَإِنْ لَمْ يُؤَدَّ فِي الأَجْزَاءِ الصَّحِيحَةِ" ‏پس اگر وہ ادا نہیں کرتا نماز کو اجزائے صحیحہ کے اندر، "حَتَّى ضَاقَ الْوَقْتُ" یہاں تک کہ وقت تنگ ہو گیا۔ "فَحِينَئِذٍ ‏يُضَافُ الْوُجُوبُ إِلَى الْجُزْءِ النَّاقِصِ عِنْدَ ضِيقِ الْوَقْتِ" تو اس صورت میں وجوب کی نسبت کی جائے گی جزِ ناقص کی ‏طرف جب وقت تنگ ہو جائے۔ کہتے ہیں: "وَهَذَا لاَ يُتَصَوَّرُ إِلاَّ فِي الْعَصْرِ" یعنی یہ جزِ ناقص کی طرف جو نسبت ہے، اس ‏کا تصور نہیں کیا جا سکتا مگر کس کے اندر؟ عصر۔ صرف عصر میں ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم کہیں گے کہ یہاں وجوب، ‏نفسِ وجوب کس کی وجہ سے آیا؟ جزِ ناقص۔ کیوں بھئی، صرف عصر میں کیوں؟ وجہ یہ کہ باقی ساری نمازوں کا جتنے ‏بھی وقت ہے، وہ سارا کا سارا کامل ہے۔ وہ سارا کا سارا وقت کیا ہے؟ کامل۔ ہاں، عصر کا آخری تھوڑا سا حصہ وہ کیا ‏ہے؟ ناقص ہے۔ تو وہاں پر ہم کہہ سکتے ہیں ناقص وقت آیا، اب وجوب اس ناقص وقت کی وجہ سے آیا ہے، تو وجوب ‏بھی کس قسم کا ہے؟ ناقص ہے۔ باقی باقی میں باقیوں کے اندر ایسا نہیں۔ تو یہی بات کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "وَهَذَا لاَ يُتَصَوَّرُ إِلاَّ فِي الْعَصْرِ" یہ جو جزِ ناقص کی طرف نسبت ہے، اس کا تصور ‏نہیں کیا جا سکتا مگر عصر میں ہی، "فَإِنَّ فِي غَيْرِهِ مِنَ الصَّلَوَاتِ كُلَّ الأَجْزَاءِ صَحِيحَةٌ" اس کے علاوہ کیونکہ اس کی اس ‏کے علاوہ اور نمازوں میں تمام اجزا صحیح ہیں، "وَهَذَا الْجُزْءُ النَّاقِصُ مِقْدَارُ مَا يَسَعُ التَّحْرِيمَةَ عِنْدَنَا" اور یہ جزِ ناقص وہ ‏مقدار ہے کہ جس میں گنجائش ہو تحریمہ کی ہمارے نزدیک۔ یہ جزِ ناقص وہ مقدار ہے جس میں کس کی گنجائش ہو مولانا؟ تحریمہ کی گنجائش ہو ہمارے نزدیک۔ "وَمِقْدَارُ مَا يُؤَدَّى فِيهِ ‏أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ عِنْدَ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور وہ یہ جزِ ناقص وہ مقدار ہے کہ جس کے اندر بھئی چار رکعتیں ادا کی جا سکیں، ‏جس میں چار رکعتیں ادا کی جا سکیں، امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ بھئی، دیکھیے ہمارے نزدیک بھئی صحیح عصر کے وقت کے اندر، صحیح کامل وقت کے اندر اگر وہ ادا نماز ادا نہیں ‏کرتا، تو پھر ناقص میں مثلاً ادا کرتا ہے، تو اب سببیت کی وجوب کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ جزِ ناقص کی ‏طرف۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ جزِ ناقص کی طرف۔ پھر اس میں بھی وہ تاخیر ‏کرتا چلا جاتا ہے مولانا، کیا کرتا ہے؟ تاخیر کرتا چلا جاتا ہے، تو آپ جانتے ہیں سببیت منتقل ہوتی چلی جا رہی ہے ایک ‏جز سے دوسرے جز کی طرف۔ یہ سببیت منتقل ہوتی چلی جائے گی، یہاں تک کہ صرف اتنا وقت رہ جائے کہ جس کے ‏اندر تحریمہ کہہ سکتے ہیں۔ صرف کیا کہہ سکتے ہیں؟ تحریمہ کہہ سکتے ہیں۔ بس مولانا، اب آ کر سببیت رک گئی، اس سے آگے نہیں، اگلا وقت ‏سبب نہیں بن سکتا، کیونکہ اب تو اتنا وقت بھی نہیں ہے جس کے اندر وہ تحریمہ کہہ سکے اور کم از کم نماز کو شروع ‏ہی کر سکے۔ تو اس سے آگے سببیت منتقل نہیں ہوگی۔ تو یہ وہ آخری مقدار ہے مولانا، اس سے آگے سببیت منتقل، جبکہ امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں، بھئی پہلے بھی میں نے ‏یہ مسئلہ ذکر کیا تھا کہ کوئی اگر کافر مسلمان ہو جاتا ہے اور اسے اتنا وقت نماز کا مل جائے جس میں تحریمہ کہہ سکے، ‏تو پھر توہمِ قدرت کی بنا پر ہم کیا حکم لگائیں گے؟ اس پر نماز واجب ہو گئی، کیونکہ ہو سکتا ہے اللہ تعالی اس وقت کو ‏کیا فرما دیں؟ طویل فرما دیں۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ کا مذہب، دیکھیے ان کا مذہب میں نے وہاں بھی ذکر کیا تھا کہ ان ‏کے نزدیک کیا ضروری ہے؟ اس سے وجوب نہیں آئے گا بلکہ اتنا وقت ملنا ضروری ہے جس کے اندر وہ فرض کو ادا ‏کر لے۔ تو یہاں پر بھی امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دیکھو سببیت منتقل ہوتی چلی جا رہی ہے بھئی اگلے جز کی ‏طرف، لیکن جب اتنا وقت رہ جائے کہ جس میں صرف چار رکعتیں ادا کر سکتا ہے، تو اس کے بعد آگے سببیت منتقل ‏نہیں ہوگی، کیونکہ اب صرف اتنا وقت رہ گیا ہے جس میں فرض ادا ہو سکتے ہیں۔ اگر سببیہ اگلے وقت کو، جز کو ہم ‏سبب بنا دیں، تو بھئی پھر تو نماز ہی پوری نہیں ہو سکتی۔ وجوب آئے گا، وجوب ہم کہیں گے وجوب آ رہا ہے اور وہ ادا پر قادر ہی نہیں ہے، تو قدرت ہی نہیں ہے لہذا وجوب کا ‏حکم ہم کیسے لگا سکتے ہیں؟ لہذا آخری جز، وہ جز جس کے بعد کتنا وقت باقی رہ جائے؟ جس میں وہ نماز ادا کر سکے ‏چار رکعت، اس وقت تک سببیت منتقل ہوتی چلی جائے گی، اس کے بعد آگے منتقل نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہی بات کر رہے ہیں: "فَلاَ تَنْتَقِلُ السَّبَبِيَّةُ عِنْدَهُ إِلَى مَا بَعْدَهُ" پس یہ سببیت منتقل نہیں ہوگی ان ‏کے نزدیک اپنے ما بعد کی طرف، "لأَنَّهُ خِلاَفُ الأَمْرِ وَالشَّرْعِ" اس لیے کہ یہ امر کے بھی خلاف ہے، شریعت کے بھی ‏خلاف ہے بھئی۔ امر کے بھی خلاف ہے مولانا، کیونکہ امر ایک چیز کا دیا جا رہا ہے، ایک چیز واجب کی جا رہی ہے ‏اور اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ انسان اس کو میں اس کو ادا کر سکے، تو یہ تو تکلیف ما لا يطاق ہے، ایک آدمی ایک چیز ‏کی طاقت ہی نہیں رکھتا اور اس کو اس چیز کا مکلف بنایا جا رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ امر اور شریعت ‏کے خلاف ہوا بھئی۔ ‎"‎فَإِنْ كَانَ هَذَا الْجُزْءُ الأَخِيرُ كَامِلاً كَمَا فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ" پس اگر یہ جزِ اخیر کامل ہوا جیسے کس کے اندر ہوتا ہے؟ صلاۃِ ‏فجر، بھئی بتلایا ہر نماز باقی ہر نماز کا پورا وقت کامل ہے، شروع سے آخر تک۔ فجر کا پورا وقت کامل ہے، یہاں تک ‏کہ سورج طلوع ہونے لگے، تو اس وقت وقت ہی ختم ہوا ہے۔ وقت ہی کیا ہو گیا فجر کا؟ ختم۔ ناقص حصہ کوئی آیا فجر ‏کا؟ ناقص حصہ کوئی نہیں آیا۔ بھئی دیکھیے ذرا، یہاں تھوڑا حاشیہ دیکھ لیجیے، ایک حدیث دی ہوئی ہے، وہیں پر دیکھ لیجیے مولانا، اسی مسئلے سے ‏متعلق ہے بھئی۔ میری کتاب میں 5 نمبر حاشیہ ہے بھئی۔ "لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ" مل گیا بھئی؟ اچھا، حدیث میں آتا ہے بھئی: "مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ" جس نے ایک رکعت بھی ‏صبح کی نماز کی پا لی، "قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ" سورج کے طلوع ہونے سے پہلے، "فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ" تو تحقیق اس نے کیا ‏کیا؟ صبح کو پا لیا، یعنی فجر کی نماز کو، بھئی سورج طلوع ہونے سے پہلے جس نے ایک رکعت کا وقت بھی پا لیا اور ‏ایک رکعت پڑھ لی، تو اس نے کیا کیا؟ صبح کو ایک رکعت پا لی اس نے طلوع سے پہلے، تو اس نے فجر پا لی بھئی۔ ‏‏"وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ" اور جس نے ایک رکعت عصر میں سے پا لی، "قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ" قبل سورج کے ‏غروب ہو جانے کے، "فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْرَ" تو تحقیق اس نے عصر کو پا لیا۔ سمجھ میں آیا؟ معلوم ہوا اس کی نماز ہو جائے ‏گی بھئی، کیونکہ حدیث میں کیا ہے؟ جس نے ایک رکعت بھی پا لی فجر کی سورج طلوع ہونے سے پہلے، اس نے فجر ‏کو پا لیا، اس کی نماز ہو گئی۔ اور اسی طرح عصر کے بارے میں آتا ہے کہ جس نے غروب سے پہلے عصر کی ایک ‏رکعت بھی پا لی، یعنی ایک رکعت بھی پہلے پڑھ لی، اس کی بھی نماز ہو جائے گی، اس نے نماز کو پا لیا، یعنی ادا ہو ‏گئی۔ یہ حدیث ہے مولانا، یہ حدیث آئی ہے بھئی۔ لیکن ایک اور حدیث، اور حدیث ہے مولانا، اس کے اندر نہی آئی ہے بھئی، آگے ذکر صرف آ رہا ہے، حدیث ذکر نہیں ‏بھئی، کہ اس حدیث کے اندر دوسری حدیث ہے جس میں نہی وارد ہوئی ہے نماز سے، طلوعِ شمس کے وقت، غروبِ ‏شمس کے وقت، اور جس وقت سورج عین سر پر ہو۔ دوسری حدیث میں کیا آیا ہے؟ نہی وارد ہوئی ہے کس چیز کے ‏بارے میں؟ کہ جب طلوعِ شمس کے وقت نماز نہ، طلوعِ شمس کے وقت اور غروبِ شمس کے وقت اور عین جب سورج ‏سر پر ہو، اس وقت نماز نہ پڑھو۔ تو دو احادیث آ گئیں مولانا، دو حدیثیں، اور ان میں باہم تقابل آ گیا۔ ایک حدیث سے کیا ‏ثابت ہو رہا ہے؟ کہ جس نے طلوع سے پہلے ایک رکعت بھی پا لی، اس نے فجر کو پا لیا، جس نے غروب سے پہلے ‏ایک رکعت عصر کی پا لی، اس نے عصر کو پا لیا، اور دوسری حدیث میں اس سے منع کیا جا رہا ہے کہ اس وقت نماز ‏نہ پڑھو۔ ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے، ہو جانی چاہیے نماز، دوسری حدیث سے معلوم ہو رہا ہے کہ اس وقت نماز نہیں ‏ہوگی، منع کر دیا گیا ہے اس سے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو عِنْدَ الشَّوَافِعِ وہ پہلی حدیث کو لیتے ہیں بھئی، اور کہتے ‏ہیں: جس نے ایک رکعت بھی پہلے پا لی فجر سے، طلوع سے پہلے، اور تو اس کی نماز ہو گئی۔ اور جس نے غروب ‏سے پہلے ایک رکعت بھی عصر کی پا لی، اس کی عصر کی نماز ہو گئی۔ اور ہم کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہاں دو احادیث ‏جو ہیں ان میں تعارض آیا، تعارض آیا، اب کسی ایک کو بھی ہم ترجیح نہیں دے سکتے، "إِذَا تَعَارَضَا تَسَاقَطَا"، جب دونوں ‏میں تعارض آیا، تو دونوں کیا ہو جائیں گی؟ ساقط ہو جائیں گی، ترجیح وغیرہ کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو لہذا دونوں ‏حدیثیں ساقط ہوئیں، اور اس سے کم درجے کی دلیل کی طرف ہم چلے جائیں گے، اور اس سے کم درجے کی دلیل قیاس ‏ہے، اور قیاس یہ بتلاتا ہے کہ عصر کی نماز ہو جانی چاہیے اور فجر کی نہیں ہونی چاہیے، چنانچہ ہم نے بھی یہی حکم ‏لگایا کہ عصر کی پڑھے گا اس طرح تو عصر کی ہو جائے گی، فجر کی اس طرح پڑھے گا تو فجر کی نہیں۔ تو قیاس کی طرف ہم گئے مولانا، قیاس کی طرف، اور قیاس نے بتلایا کہ عصر کی نماز ہو جانی چاہیے، فجر کی نہیں ‏ہونی، وجہ یہ کہ فجر کا سارا وقت کامل ہے۔ لہذا جب بھی نماز شروع کرے گا تو اس کا سبب کون سا جز بنے گا؟ کامل ‏جز سبب بنے گا یا ناقص بنے گا؟ کامل، تو کامل جز سبب بنا، تو وجوب بھی کامل آیا، تو ادا بھی کامل ہونی چاہیے، لیکن ‏جب یہ ادا کرتا ہے بیچ میں کیا طلوع ہو گیا؟ سورج طلوع ہو گیا، تو اب یہ ادا کامل ہوئی یا ناقص ہو گئی؟ ہاں، تو وجوب ‏کامل تھا، ادا بھی کیسی ہونی چاہیے؟ کامل ہونی چاہیے، لیکن وجوب تو آیا کامل اور ادا ہو رہی ہے ناقص، لہذا اس کو ‏جائز نہیں ہونا چاہیے۔ جبکہ عصر کا آخری وقت ہے ہی ناقص، تو آخری جز جس وقت بھی شروع کر دے گا، تو وجوب ‏کس قسم کا آیا؟ ناقص، تو ادا بھی کس قسم کی کافی ہو جائے گی؟ ناقص ادا کافی ہو جائے گی بھئی۔ تو لہذا اب سورج ڈوب ‏بھی جائے، تو کوئی حرج نہیں، نماز ہو جائے گی، اس لیے کہ یہ نماز ناقص ہی واجب ہوئی تھی، اور یہ ناقص ہی اس کو ‏ادا کر رہا ہے، لہذا عصر کی نماز ہو جائے گی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ كَانَ هَذَا الْجُزْءُ الأَخِيرُ كَامِلاً كَمَا فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ" پس اگر یہ آخری جز کامل ہوا، جیسے کہ فجر کی نماز ‏میں ہوتا ہے، "وَجَبَتْ كَامِلَةً" تو نماز بھی کامل ہی واجب ہوگی، "فَإِنِ اعْتَرَضَ الْفَسَادُ بِالطُّلُوعِ بَطَلَتِ الصَّلاَةُ" پس اگر فساد ‏پیش آ گیا سورج کے طلوع ہو جانے کی وجہ سے، "بَطَلَتِ الصَّلاَةُ" تو نماز کیا ہو جائے گی؟ باطل ہو جائے گی، "وَيُحْكَمُ ‏بِالاِسْتِئْنَافِ" اور حکم کیا جائے گا نئے سرے سے پڑھنے کا۔ "وَإِنْ كَانَ هَذَا الْجُزْءُ نَاقِصًا كَمَا فِي صَلاَةِ الْعَصْرِ" اور اگر یہ ‏آخری جز ناقص تھا، جیسے کہ عصر کی نماز میں ہوتا ہے، "وَجَبَتْ نَاقِصَةً" تو نماز ناقص ہو کر واجب ہوگی، "فَإِنِ ‏اعْتَرَضَ الْفَسَادُ بِالْغُرُوبِ لاَ تَفْسُدُ الصَّلاَةُ" پس اگر فساد پیش آ گیا غروب کی وجہ سے، "لاَ تَفْسُدُ الصَّلاَةُ" تو نماز فاسد نہیں ‏ہوگی، "لأَنَّهُ أَدَّاهَا كَمَا وَجَبَتْ" اس لیے اس کیونکہ اس نے اسی طرح اس کو ادا کیا ہے جیسے واجب ہوئی تھی۔ واجب بھی ‏ناقص ہوئی تھی، ادا بھی کیا کر رہا ہے؟ ناقص کر رہا ہے۔ ‎"‎وَكَانَ قَوْلُهُ: إِلَى مَا يَلِي ابْتِدَاءَ الشُّرُوعِ، شَامِلاً لِلْجُزْءِ الأَوَّلِ" یہاں سے بھئی، دوبارہ ذرا پیچھے متن پر آئیے بھئی، یہاں سے ‏متن پر اب ایک اعتراض کرنے لگے ہیں، تو متن دیکھ لیں آپ بھئی۔ انہوں نے کیا کہا بھئی؟ کہ وہ کہ اس اعتبار سے پہلی ‏قسم کی کتنی قسمیں ہیں؟ چار قسمیں، کہ اس وجوب کی نسبت یا تو کس کی طرف کی جائے گی؟ جزِ اول کی طرف، یا اس ‏جز کی طرف جو شروع کی ابتدا کے ساتھ ملا ہوا ہے، یا اس کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ جزِ ناقص کی ‏طرف، یا اس کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ پورے وقت کی طرف، اعتراض کرتے ہیں کہ بھئی یہ تقسیم صحیح نہیں ہے۔ بس دو قسمیں بنا دیتے، کافی تھی بھئی۔ دو ‏قسمیں بنا دیتے۔ کون سی دو قسمیں؟ ایک تو یہ کہہ دیتے، وہ جزء اس وجوب کی نسبت ہوگی اس جزء کی طرف جو شروع کی ابتداء کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ جو ‏شروع کی ابتداء کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اور دوسری قسم بنا دیتے کہ اس وجوب کی نسبت کی جائے گی یا پورے وقت کی طرف، کس کی طرف؟ بس دو قسمیں ‏بناتے، کون کون سی دو قسمیں بناتے؟ کہ اس وجوب کی یا تو نسبت کی جائے گی کس کی طرف؟ اس جزء کی طرف جس ‏کے ساتھ ابتداء ملی ہوئی ہے، یا اس وجوب کی نسبت کی جائے گی پورے وقت کی طرف۔ بھئی، یہ دو قسمیں اس لیے ذکر کرتے کہ انہوں نے کہا، اس وجوب کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ جزءِ اول کی ‏طرف نسبت کی جائے گی، کہتے ہیں بھئی اس وقت بھی جزءِ اول کی طرف بھی تب نسبت کی جائے گی، جب جزءِ اول ‏کے ساتھ ہی ادا شروع ہو جائے۔ کیا شروع ہو جائے؟ ادا شروع ہو جائے، تو یہ وہ جزء ہوا جو ابتداءِ صلاۃ کے ساتھ ملا ‏ہوا ہے۔ اور جزءِ ناقص بھی ان کی طرف نسبت کی جائے گی، کہ یہ وجوب کس کی وجہ سے آیا، جزءِ کب کی جائے گی نسبت؟ ‏جب وہ جزء ابتداءِ صلاۃ کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو جو انہوں نے کہا کہ جو وہ جزء جو شروع کی ابتداء کے ساتھ ملا ہوا ہے، اس میں جزءِ ناقص بھی داخل ہو گیا، اور ‏اس کے اندر جزءِ اول بھی داخل ہو گیا، کیوں؟ اس لیے کہ جزءِ اول کی طرف تب نسبت کی جائے گی جب اس کے اندر ‏اس کے ساتھ ہی ادا شروع ہو جائے، اور جزءِ ناقص کی طرف تب نسبت کی جائے گی جب اس کے ساتھ ہی کیا شروع ہو ‏جائے؟ ادا شروع ہو جائے، ادا شروع ہو جائے۔ اور اگر ان میں ادا نہیں کرتا، تو ان کی طرف نسبت بھی نہیں ہوتی۔ ان کی طرف نسبت بھی نہیں ہوتی۔ تو ان کی جب ان ‏میں ادا نہ کی جائے، ان کی طرف نسبت بھی نہیں ہوتی، معلوم ہوا جب ان کے ساتھ ہی ادا کرے گا، تو ان کی طرف نسبت ‏ہوگی، تو یہ تو وہی جزء ہو گیا مولانا جس کے ساتھ کیا ملی ابتداء نماز کی ملی ہوئی ہے۔ تو لہذا صرف دو قسمیں بنا دیتے، اور یوں کہہ دیتے کہ وہ جزء جس کے ساتھ شروع کی ابتداء ملی ہوئی ہو، اب چاہے وہ ‏جزءِ اول ہو، چاہے درمیان والا ہو، چاہے جزءِ ناقص ہو، سارے آ گئے یا نہیں آ گئے بھئی؟ سارے اس کے اندر داخل ہو ‏گئے۔ تو یہ ادا کی صورت میں تھا، اور قضا کی صورت میں نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ پورے، تو بس دو قسمیں ‏بن جاتی ہیں بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو جواب دیتے ہیں، بھئی ہاں، آپ کی بات ٹھیک ہے، جزءِ اول کو بھی ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، جزءِ ناقص کو ‏بھی ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن جزءِ اول کو مہتم بالشان ہونے کی وجہ سے ذکر کیا، اس کی شان کیا ہے؟ ‏اہمیت اس کی بتلانے کے لیے، اس کی اہمیت بتلانے کے لیے کہ وہ مہتم بالشان ہے، یہاں تک کہ تمام ائمہ فرماتے ہیں کہ ‏نماز کو اولِ وقت میں ادا کرنا چاہیے، سوائے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے، امام صاحب فرماتے ہیں فجر کے اندر ‏تھوڑی روشنی کر کے پڑھیں، کیا کریں؟ تھوڑی روشنی کر کے پڑھیں، تھوڑی تاخیر کریں، ظہر کو تھوڑا ٹھنڈا کر کے ‏پڑھیں، سمجھ میں آیا؟ تو باقی سارے ائمہ کیا فرماتے ہیں؟ اولِ وقت میں نماز پڑھنا مستحب ہے، تو معلوم ہوا اولِ وقت کیا ہے؟ مہتم بالشان ہے، ‏تو اس کی اہمیت بتلانے کے لیے کیا کیا اس کو مصنف نے؟ ذکر کر دیا۔ تو اولِ وقت کو اس کے مہتم بالشان ہونے کی ‏وجہ سے ذکر کیا، اور کس کو؟ جزءِ ناقص کو؟ کہتے ہیں اس کے اندر چونکہ امام زفر رحمہ اللہ کے ساتھ اختلاف تھا، تو ‏اس لیے اس کو ذکر کر دیا، کیونکہ ابھی اختلاف جو گزرا، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: "وَكَانَ قَوْلُهُ" اور مصنف کا قول جو ہے متن میں: "إِلَى مَا يَلِي ابْتِدَاءَ الشُّرُوعِ" یہ قول جو ہے "شَامِلًا لِلْجُزْءِ الْأَوَّلِ ‏وَالْجُزْءِ النَّاقِصِ" یہ شامل ہے جزءِ اول کو بھی اور جزءِ ناقص کو بھی، "لِأَنَّ الْجُزْءَ الْأَوَّلَ وَالْجُزْءَ النَّاقِصَ إِنَّمَا يَصِيرُ سَبَبًا ‏لِوُجُوبِ الصَّلَاةِ إِذَا شَرَعَ فِيهِ" اس لیے کہ جزءِ اول اور جزءِ ناقص، یہ تو سبب بنتے ہیں وجوبِ صلاۃ کے لیے جب ان کے ‏اندر کیا شروع کر دے؟ نماز شروع بھی کر دے۔ ‎"‎وَأَمَّا إِذَا لَمْ يَشْرَعْ فِيهِ لَمْ يَصِرْ سَبَبًا" جب ہاں، جب ان میں شروع نہ کرے تو یہ سبب بھی نہیں بنتے بھئی۔ "فَيَنْبَغِي أَنْ يَقْتَصِرَ ‏عَلَيْهِ" تو شارح، ماتن کے لیے، مصنف کے لیے مناسب یہ تھا کہ کیا کرتا؟ اسی قسم پر اکتفاء کر لیتا، یہ دوسری قسم بیان ‏کر دیتا۔ ‎"‎إِلَّا أَنَّ الْجُزْءَ الْأَوَّلَ لِاهْتِمَامِ شَأْنِهِ عِنْدَ الْجُمْهُورِ صَرَّحَ بِهِ" مگر یہ کہ جزءِ اول جو ہے، جمہور کے نزدیک اس کے اہتمامِ ‏شان ہونے کی وجہ سے اس کی تصریح کر دی، "حَتَّى ذَهَبَ كُلُّ الْأَئِمَّةِ سِوَى أَبِي حَنِيفَةَ رحمہ اللہ" یہاں تک کہ گئے ہیں تمام ‏ائمہ سوائے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے، "إِلَى اسْتِحْبَابِ الْأَدَاءِ فِيهِ" کہ اس کے اندر ادا کیا ہے؟ ادا مستحب ہے۔ ‎"‎وَكَذَا الْجُزْءُ النَّاقِصُ لِأَجْلِ خِلَافِيَّةِ زُفَرَ رحمه الله فِيهِ" اور اسی طرح جزءِ ناقص جو ہے، اس کے اندر امام زفر رحمہ اللہ کا ‏اختلاف ہونے کی وجہ سے "صَرَّحَ بِذِكْرِهِ" اس کے ذکر کی تصریح کر دی۔ "وَهَذَا كُلُّهُ إِذَا أَدَّى الصَّلَاةَ فِي الْوَقْتِ" کہتے ہیں ‏یہ سارا اس وقت ہے جبکہ نماز کو ادا کیا وقت کے اندر، "وَأَمَّا إِذَا فَاتَتِ الصَّلَاةُ عَنِ الْوَقْتِ" اور جب نماز فوت ہو گئی وقت ‏سے، "فَحِينَئِذٍ يُضَافُ الْوُجُوبُ إِلَى جُمْلَةِ الْوَقْتِ" تو اس صورت میں وجوب کی نسبت کس کی طرف کی جائے گی؟ پورے ‏وقت کی طرف۔ ‎"‎لِأَنَّهُ قَدْ زَالَ الْمَانِعُ عَنْ جَعْلِ كُلِّ الْوَقْتِ سَبَبًا" اس لیے کہ سارے وقت کو سبب بنانے سے جو چیز مانع تھی وہ زائل ہو گئی۔ ‏کیا چیز مانع تھی سارے وقت کو سبب بنانے سے؟ سارے وقت کو ہم سبب پہلے کیوں نہیں قرار دے سکتے تھے؟ اس لیے ‏کیونکہ سبب کا مسبب پر مقدم ہونا ضروری ہے، تو ظہر کے سارے وقت کو اگر ہم ابھی سے سبب قرار دے دیں، تو ہم تو ‏ظہر کے اندر ہی نماز پڑھیں گے، کچھ وقت پہلے ہے، کچھ تو بعد میں ہے۔ تو معلوم ہوا مسبب سبب پر مقدم ہو گیا، حالانکہ مسبب تو کبھی بھی سبب پر مقدم، لیکن اب سارا وقت جب گزر گیا، تو وہ ‏مانع چلا گیا۔ وہ مانع چلا گیا مولانا، اور وہ مانع کیا تھا؟ "وَهُوَ كَوْنُهُ ظَرْفًا لِلصَّلَاةِ" وہ اس کا نماز کے لیے ظرف ہونا ہے ‏بھئی، جب ظرف ہے تو اس وقت وہ سبب نہیں بن سکتا۔ "لِأَنَّهُ لَمْ يَبْقَ الْوَقْتُ" اس لیے کہ وقت اب باقی نہیں رہا، "فَلَمَّا كَانَ ‏كُلُّ الْوَقْتِ سَبَبًا لِلْقَضَاءِ وَهُوَ كَامِلٌ" اور جب سارا وقت سبب ہے وجوبِ صلاۃ کے لیے، اور وہ سارا وقت تو کیا ہے؟ کامل ‏ہے، سارا وقت کیا ہے؟ کامل ہے، یعنی اکثر، دیکھو عصر کا وقت سارا کامل ہے، تھوڑا سا ناقص ہے، اور "لِلْأَكْثَرِ حُكْمُ ‏الْكُلِّ" تو سارے کا کیا حکم ہو جائے گا؟ ہم کیا کہیں گے؟ کہ یہ سارا وقت ہی کامل ہے۔ اکثر کے پر حکم لگایا جاتا ہے نا، اکثر کا اعتبار کیا جاتا ہے، تو اکثر کے اعتبار سے وقت عصر کا کیا ہے؟ کامل ہے، ‏تو یہ سارا وقت سبب بنا کس کے لیے؟ وجوبِ قضاء کے لیے، سارا وقت سبب بنا کس کے لیے؟ وجوبِ قضاء، اور یہ ‏وقت ہے کامل، اکثر اجزاء کے اعتبار سے، تو وجوب، قضاء بھی کس قسم کی چاہیے؟ کامل چاہیے۔ تو کہتے ہیں: "وَهُوَ كَامِلٌ" اور سارا وقت تو کامل ہے، "فَحِينَئِذٍ تَجِبُ الصَّلَاةُ كَامِلَةً" تو اس صورت میں نماز بھی کامل ہو ‏کر واجب ہوگی، "فَلَا يَتَأَدَّى إِلَّا فِي الْوَقْتِ الْكَامِلِ" اس لیے ادا نہیں کرے گا اس کو مگر کس کے اندر؟ وقتِ کامل کے اندر۔ تو کہتے ہیں: "فَلَا يَتَأَدَّى إِلَّا فِي الْوَقْتِ الْكَامِلِ" اس سے ادا نہیں کرے گا اس کو مگر کس کے اندر؟ وقتِ کامل کے اندر، ‏‏"وَإِلَيْهِ أَشَارَ بِقَوْلِهِ" اسی کی طرف اشارہ کیا ہے مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے: "فَلِهَذَا لَا يَتَأَدَّى عَصْرُ أَمْسِهِ فِي ‏الْوَقْتِ" کہ اسی وجہ سے ادا نہیں کرے گا گزشتہ دن کی عصر کو "فِي الْوَقْتِ النَّاقِصِ" کس کے اندر؟ وقتِ ناقص میں ‏گزشتہ دن کی عصر کو ادا نہیں کرے گا، "بِخِلَافِ عَصْرِ يَوْمِهِ" مگر اس دن کی عصر کے، بخلاف اس دن کی عصر کے، ‏کہ اسے کیا کر سکتا ہے؟ وقتِ ناقص میں ادا کر سکتا ہے۔ بھئی دیکھیے! ابھی آپ کو مسئلہ بتلایا کہ جب سارا وقت گزر گیا، اس نے نماز ادا نہیں کی، تو اب ہم سارے وقت کو کیا ‏قرار دے دیں گے؟ وجوبِ صلاۃ کے لیے سبب قرار دے دیں گے، اور سارا وقت تو کیا ہے؟ باقی ساری نمازوں میں تو ‏سارا ہی وقت کامل ہے، عصر کی نماز میں تھوڑا سا وقت اگرچہ ناقص بھی ہے، لیکن اکثر کیا ہے؟ کامل، تو اکثر کے ‏اعتبار سے یہ گویا سارا، یہ سارا وقت ہی گویا کہ کیا، یوں کہیں گے، یہ سارا وقت ہی کامل ہے، یہ وقت کامل ہے، اور ‏جب کامل ہے، تو وجوب بھی کس قسم کا آیا؟ بھئی سارا وقت سبب بنا ہے، اور یہ سبب بن رہا ہے کس چیز کے لیے؟ ‏وجوب کے لیے، تو وجوب بھی کس قسم کا آیا؟ کامل آیا، لہذا بعد میں قضاء بھی کرے گا تو کامل وقت کے اندر قضاء ‏کرے گا، ناقص وقت کے اندر قضاء، کیونکہ وجوب کامل آیا ہے، کیونکہ کامل، وقت سارا کیا ہے؟ کامل ہے۔ ہاں، اسی دن کے عصر کی نماز وقتِ ناقص میں بھی ادا کر سکتا ہے، لیکن قضاء اس وقتِ ناقص میں نہیں کر سکتا۔ کیوں ‏اسی دن کے عصر کی نماز کیوں؟ ابھی تو بتلایا بھئی آپ کو، کہ اسی دن وہ نماز کو مؤخر کرتا چلا گیا، یہاں تک کہ کون ‏سا وقت شروع ہو گیا؟ ناقص، تو اب مولانا ناقص وقت کے اندر، وہ جزء جو نماز کے ساتھ ملا ہوا ہے، وہ سبب بن رہا ‏ہے کس چیز کا؟ وجوبِ صلاۃ کا، اور وہ جزء تو کیا ہے؟ ناقص، جب وہ جزء ناقص ہے، تو ادا بھی کیسی کافی ہو جائے ‏گی؟ ناقص ادا کافی ہو جائے گی۔ لیکن جب گزشتہ دن کی عصر کی نماز جو رہ گئی تھی، وہ اس ناقص وقت میں ادا کرنا چاہتا ہے، کہتے ہیں وہ نہیں ‏ہوگی، اس لیے کہ وہ نماز کامل واجب ہوئی تھی، اور یہ ادا کس وقت کے اندر کر رہا ہے؟ ناقص وقت میں، بات سمجھ ‏میں آ گئی بھئی؟ ‎"‎يَعْنِي فَلِأَجْلِ أَنَّ سَبَبَ وُجُوبِ عَصْرِ الْيَوْمِ هُوَ الْوَقْتُ النَّاقِصُ" یعنی اس وجہ سے کہ آج کے دن کی عصر کے وجوب کا سبب ‏جو ہے، وہ وقتِ ناقص ہے، "إِذَا لَمْ يُؤَدِّهِ فِي الْأَجْزَاءِ الصَّحِيحَةِ" جب اس نے ادا نہیں کیا اس کو صحیح اجزاء کے اندر، ‏‏"وَسَبَبُ وُجُوبِ عَصْرِ الْأَمْسِ هُوَ كُلُّ الْوَقْتِ" اور گزشتہ دن کی عصر کے وجوب کا سبب جو ہے، وہ سارا کا سارا وہ وقت ‏ہے "الْفَائِتُ الْكَامِلُ" وہ سارا وقت ہے جو فوت ہو چکا ہے اور کامل ہے، "قُلْنَا" اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں: "لَا يَتَأَدَّى ‏عَصْرُ الْأَمْسِ فِي الْوَقْتِ النَّاقِصِ" کہ گزشتہ دن کی، گزشتہ دن کی عصر جو ہے، وقتِ ناقص میں ادا نہیں کرے گا، "لِأَنَّهُ لَمَّا ‏فَاتَتِ الصَّلَاةُ عَنِ الْوَقْتِ" اس لیے کہ جب نماز اپنے وقت سے فوت ہو گئی، "كَانَ كُلُّ الْوَقْتِ سَبَبًا" تو کیا سب، سبب کیا بنے ‏گا؟ سارا وقت، کل وقت سبب بن جائے گا، "وَهُوَ كَامِلٌ بِاعْتِبَارِ أَكْثَرِ أَجْزَائِهِ" اور وہ وقت تو کامل ہے اپنے اکثر اجزاء کے ‏اعتبار سے کہ اس کے اکثر اجزاء کیا ہیں؟ کامل ہیں، "وَإِنْ كَانَ يَشْتَمِلُ عَلَى الْوَقْتِ النَّاقِصِ" اگرچہ وہ مشتمل ہے وقتِ ناقص ‏پر بھی مشتمل ہے، لیکن اکثر اجزاء اس کے کامل ہیں، "فَلَا يَصِحُّ قَضَاؤُهُ إِلَّا فِي الْوَقْتِ الْكَامِلِ" تو لہذا اس کی قضاء صحیح ‏نہیں ہوگی مگر کس کے اندر؟ وقتِ کامل میں، "وَيَتَأَدَّى عَصْرُ يَوْمِهِ فِي الْوَقْتِ النَّاقِصِ" اور ادا کر سکتا ہے بھئی آج کے دن ‏کی، اسی دن کے عصر کی نماز ناقص وقت کے اندر، "لِأَنَّهُ لَمَّا لَمْ يُؤَدِّهِ فِي الْوَقْتِ الْأَوَّلِ" اس لیے کہ جب اس نے اس کو ادا ‏نہیں کیا وقتِ اول کے اندر، "وَاتَّصَلَ شُرُوعُهُ فِي الْجُزْءِ النَّاقِصِ" اور اس کا شروع مل گیا مولانا جزءِ ناقص میں، "كَانَ هُوَ ‏سَبَبًا لِوُجُوبِهِ" تو وہی سبب بنے گا، وہ جزءِ ناقص ہی کیا ہوگا؟ سبب بنے گا اس کے وجوب کے لیے، "فَيُؤَدِّي نَاقِصًا كَمَا ‏وَجَبَ" تو وہ اس کو ناقص ہی ادا کرے گا جیسے کہ وہ وہاں ناقص واجب ہوئی تھی، "وَلَا يُقَالُ إِنَّ مَنْ شَرَعَ الصَّلَاةَ عَصْرِ ‏فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ ثُمَّ مَدَّهَا بِالتَّعْدِيلِ وَالتَّطْوِيلِ‎"‎۔ ‏ چلیے بس بھئی ۔ ہذا ہو المرام و اللہ اعلم بحقیقۃ الکلام ۔ ‏