درس نمبر۔27 ثم لما فرغ المصنف عن بيان حسن المأمور به شرع في بيان جوازه مناسبة واطرادا فقال: وهل تثبت صفة الجواز للمأمور به إذا أتى به؟ قال بعض المتكلمين: لا. ثم لما فرغ المصنف عن بيان حسن المأمور به، فحجه مصنف رحمۃ اللہ فارغ ہوئے مأمور بہ کے حسن کے بیان سے، شرع في بيان جوازه مناسبتا واطرادا، تو پھر مأمور بہ کے جواز کے بیان میں شروع ہوئے، مناسبتا واطرادا، مناسبت کی وجہ سے اور جامعیت، مناسبت کی وجہ سے اور جامعیت کے لیے بھئی۔ بھئی ابھی تک امر کی امر کی بحث چل رہی ہے اور امر کے بارے میں مصنف نے اپ کو بتلایا کہ جب شریعت کی طرف سے کسی چیز کا حکم آ جائے، تو معلوم ہوا اس کے اندر حسن ہوگا، اور تو لمبی بحث اس پر گزر گئی، اب اس کے ساتھ ایک دو چھوٹی بحثیں ذکر کرنے لگے ہیں، امر کے ساتھ ان کی چونکہ مناسبت ہے، اس لیے ان کو ذکر کیا، اور نیز اس لیے ذکر کیا تاکہ بحث جامع ہو جائے، کیا ہو جائے؟ جامع ہو جائے، ہر چیز اس کے اندر جو اس کے مطابق ہے وہ اس میں آ جائے بھئی۔ تو یہ معنی ہے شرع في بيان جوازه مناسبتا واطرادا، شروع ہوئے مأمور بہ کے جواز کے بیان میں، مناسبت کی وجہ سے واطرادا اور جامعیت کے لیے، جامعیت کی وجہ سے تاکہ بحث کیا ہو جائے؟ جامع ہو جائے بھئی۔ بھئی یہاں سے بحث کرنے لگے ہیں کہ جب کوئی شخص مأمور بہ کو ادا کر دے، یعنی جس چیز کا اسے شریعت نے حکم دیا ہے اسے ادا کر دے، تو کیا ہم جواز کا حکم اس پر لگا سکتے ہیں یا جواز کا حکم نہیں لگا سکتے؟ یہ جواز کا معنی ہے جائز ہونا، یعنی درست ہونا، کیا ہونا؟ درست ہونا۔ شریعت نے حکم دیا مثلاً ظہر کی نماز پڑھو، اس نے ظہر کی نماز پڑھ لی، تمام چیزوں کی رعایت رکھتے ہوئے، وضو بھی کیا، پاک پاکی حاصل کی، نماز کی اور شرائط کا لحاظ رکھا، قبلہ رخ بھی ہے، کپڑے بھی پاک ہیں، بدن بھی پاک ہے، وغیرہ، تو کیا اس طریقے پر جب وہ مأمور بہ کو ادا کر لے، تو کیا ہم اس پر جواز کا حکم لگا سکتے ہیں، کہ یہ مأمور بہ جائز ہوا، یعنی درست ہو گیا، یعنی درست ہو گیا۔ درست ہو گیا، اب اس جواز کے دو معنی ہیں بھئی۔ درست ہونے کا معنی یہ کہ اس کے ذمے سے قضا ساقط ہو گئی۔ جب یہ نماز درست ہو گئی تو اس کے ذمے سے کیا ہو گئی؟ قضا ساقط ہو گئی۔ ایک یہ معنی ہے، تو جواز کا ایک معنی کیا ہے؟ قضا کا ذمے سے ساقط ہو جانا، اور ایک جواز کا معنی ہے تعمیل حکم ہو جانا۔ کیا اس نے جب ظہر کی نماز ادا کر دی، تو تعمیل حکم ہو گئی یا تعمیل حکم نہیں ہوئی بھئی؟ تو دو معنی ہیں جواز کے، ایک کیا معنی؟ قضا کا ذمے سے ساقط ہو جانا، اور دوسرا معنی تعمیل حکم ہو جانا، کیا اس شخص نے جب نماز پڑھ لی، تو پہلے معنی کے مطابق ہم کہیں نماز جائز ہو گئی، کیا معنی؟ اس کے ذمے سے قضا ساقط ہو گئی، یعنی یہ ادا ہو گئی نماز۔ اور دوسرے معنی کے اعتبار سے ہم کہیں ظہر کی نماز جائز ہو گئی، کیا معنی؟ تعمیل حکم۔ یعنی حکم کی تعمیل ہو گئی، اللہ نے جو حکم دیا تھا، اس کی تعمیل ہو گئی، تو اس کے بارے میں بحث کرنے لگے ہیں، کہ جب کوئی شخص مأمور بہ کو ادا کر دے، تو کیا ہم اس پر جواز کا حکم اس حکم لگا سکتے ہیں، اس مأمور بہ کے لیے صفت جواز ثابت ہو جائے گی یا ثابت نہیں ہوگی بھئی؟ تو وہ بحث کرنے لگے ہیں۔ تو پہلے جو بحث کریں گے، یاد رکھیے، ایک یہ متن آ رہا ہے جو اس وقت ہم پڑھ رہے ہیں، ایک اس سے اگلا متن ہے، اس متن میں جواز جو ہے وہ پہلے معنی کے اعتبار سے ہے، یہ جائز ہونے کا کیا معنی؟ قضا کا ذمے سے ساقط ہو جانا، اگلے متن میں پھر لفظ جواز آئے گا، اس کا معنی ہے تعمیل حکم ہو جانا بھئی۔ جی تو دیکھیے کتاب پر کہتے ہیں، وهل تثبت صفة الجواز للمأمور به إذا أتى به، اور کیا ثابت ہو جائے گی صفت جواز مأمور بہ کے لیے إذا أتى به، جب مأمور کیا کر لے؟ اس مأمور بہ کو لے آئے، یعنی اس کو ادا کر دے، قال بعض المتكلمين لا، تو بعض المتكلمين، یہ معتزلہ میں سے ہیں۔ متكلمين جانتے ہو کسے کہتے ہیں؟ بھئی آپ پڑھیں گے آگے علم کلام، بھئی علم کلام کے اندر عقائد کی بحث ہوتی ہے، جیسے علم فقہ کے اندر اعمال کی بحث ہوتی ہے، علم کلام کے اندر عقائد کی بحث ہوتی ہے، اور علم کلام کے جو ماہر ہے، کا ماہر جو ہے وہ متکلم کہلاتا ہے، متکلم۔ تو بعض متکلمین کہتے ہیں نہیں بھئی، مأمور بہ کو ادا کرنے سے اس کی قضا ساقط نہیں ہوتی، وہ متکلمین کہتے ہیں لا، نہیں بھئی۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے اس پر جائز ہونے کا حکم نہیں لگا سکتے، نہیں لگا سکتے، مأمور بہ پر عمل ہو جائے، پھر بھی ہم اس پر جائز ہونے کا حکم نہیں، کیا معنی جائز ہونے کا حکم نہیں لگا سکتے؟ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کے ذمے سے قضا ساقط ہو گئی ہے، ہو سکتا ہے اس کے ذمے پھر بھی قضا ہو۔ اس کے ذمے پھر بھی قضا ہو۔ مثلاً ایک شخص ہے، وہ نماز ادا کرتا ہے، اور نماز ادا کرنے کے بعد، پھر اسے پتہ چلتا ہے، بھئی میں نے جس پانی سے وضو کیا تھا، وہ پانی تو نجاست تھا۔ تو دیکھو اس کے ذمے اب بھی قضا ہے بھئی۔ کیا ہے؟ قضا ہے بھئی۔ اسی طرح ایک شخص دلیل ان کی بھئی، دلیل دیتے ہیں مولا نا، دلیل سنو، وہ کہتے ہیں، مثلاً ایک شخص حج پر جاتا ہے، اور حج کے اوپر جائے گا تو احرا، حالت احرام میں ہوگا، اور احرام کے اندر بہت سی چیزیں ممنوع ہوتی ہیں، انہی میں سے ایک ممنوع چیز ہے کہ حالت احرام میں بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا، تو کوئی شخص بیوی کے ساتھ گیا ہے، اور وہ اس حالت احرام میں حج سے پہلے پہلے ہی کیا کر لیتا ہے، صحبت کر لیتا ہے، تو یاد رکھیے فقہاء لکھتے ہیں اس کا حج فاسد ہو گیا بھئی، حج کیا ہے؟ فاسد ہو گیا، تو بعض جنایتیں کرے گا اس سے حج فاسد تو نہیں ہوگا، لیکن اگر جماع کر لیا اس نے وقوف عرفہ سے پہلے پہلے، تو پھر اس کا حج ہی فاسد ہو جائے گا بھئی۔ اس کا حج ہی کیا ہو جائے گا؟ فاسد ہو جائے گا، لیکن اب حج فاسد ہونے کا یہ معنی نہیں کہ یہ یہیں سے یہ واپس آ جائے، کہتے ہیں یہ اپنے حج کے باقی افعال سرانجام دے بھئی۔ جتنے افعال باقی ہیں ان کو کیا کرے؟ سرانجام دے دے، اور یہ سارے افعال کر کے لوٹ آئے، اور پھر اگلے سال اس حج کی قضا کرے بھئی، کیونکہ یہ حج کیا ہو چکا؟ فاسد ہو چکا، لیکن درمیان میں بھی اب نہ چھوڑے، باقی افعال کر لے، اور پھر اگلے سال اس کی قضا کرے، تو متکلمین جو کہہ رہے تھے، یہ ان کی دلیل ہے بھئی، کہتے ہیں دیکھا بھئی، یہ حج جس کو وہ ادا کر رہا ہے، یہ مأمور بہ ہے بھئی۔ حج کے ادا کرنے کا حکم دیا گیا یا نہیں دیا گیا؟ اور فقہاء بھی یہاں فرما رہے ہیں اس کو پورا کرنا ہے، یہی شریعت کا حکم ہے۔ تو وہ حج پورا کر رہا ہے، افعال سرانجام دے رہا ہے، لیکن اس کے باوجود قضا اس کے ذمے سے ساقط نہیں۔ لذا معلوم ہوا، مأمور بہ کو ادا کر لینے سے، اس کے لیے صفت جواز ثابت نہیں ہوتی، یعنی اس کی وجہ سے قضا ذمے سے ساقط ہو جائے، یہ ضروری نہیں ہے بھئی۔ جی اب دیکھیے کتاب پر تو قال بعض المتكلمين لا، بعض المتكلمين کہتے ہیں نہیں یعنی صفت جواز مأمور بہ کے لیے ثابت نہیں ہوگی جب اسے ادا کر دے، (یعنی استلفوا في أنه إذا أدى المأمور به مع رعاية الشرائط والأركان)، یعنی اختلاف کیا ہے علماء نے اس بارے میں کہ جب ادا کر دے کوئی شخص مأمور بہ کو مع رعاية الشرائط والأركان، ساتھ تمام شرائط اور ارکان کی رعایت کر کے، فهل يجوز لنا أن نحكم بمجرد إتيانه بالجواز، تو کیا ہمارے لیے یہ جائز ہے کہ ہم حکم لگا دیں محض اس کے کر لینے سے ہی جواز کا؟ کیا ہمارے لیے یہ جائز ہے کہ اس کے ادا کر لینے پر ہم کیا حکم لگا دیں؟ جواز کا، جائز ہونے کا حکم لگا دیں، کیا معنی کہ اس کے ذمے سے قضا ساقط ہو گئی، کیا یہ حکم لگا دیں؟ او نتوقف فيه، یا ہم کیا کریں؟ توقف کریں۔ حتى يظهر دليل خارجي يدل على طهارة الماء وسائر الشرائط، یا ہم توقف کریں بھئی۔ توقف کا معنی رک جانا، رک جانا، کوئی حکم نہ لگانا۔ یہ یا ہم توقف کریں بھئی۔ توقف کا معنی رک جانا، رک جانا، کوئی حکم نہ لگانا۔ حتى يظهر دليل خارجي، یہاں تک کہ کوئی دلیل خارجی ظاہر ہو، ایسی دلیل خارجی يدل على طهارة الماء وسائر الشرائط، جو دلالت کرے پانی کی پاکی پر اور تمام شرائط پر۔ کیا کرے؟ دلالت کرے پانی کی تو اس میں اختلاف کیا ہے، بعض کیا کہتے ہیں؟ بعض کہتے ہیں کہ وہ فعل جب سرانجام دے دے، تو اس پر حکم لگا دیا جائے گا جائز ہونے کا، یعنی کہ اس کے ذمے سے قضا کے ساقط ہونے کا، بعض کہتے ہیں کہ نہیں توقف کیا جائے گا، جب تک دلیل خارجی نہ قائم ہو جائے اس بات پر کہ اس نے جو جو جن جن شرائط کی ضرورت تھی، ان نے ان کا خیال رکھا اور وہ صحیح بھی ہو گئیں، مثلاً وضو کی شرط تھی نماز کے لیے اور اس پر دلیل قائم ہو جائے کہ اس نے جس پانی سے وضو کیا وہ پانی بھی کیا تھا؟ پاک تھا اور اس نے جس جس شرط کی بھی کی بھی ضرورت تھی، اس نے اس نے ان کا خیال رکھا اور وہ صحیح ہوئیں، وہ کیا ہوئیں؟ صحیح بھی ہو گئیں، تو جب تک یہ پتہ نہ چل جائے اس وقت تک جواز کا حکم نہیں لگا سکتے، یعنی قضا کے ساقط ہونے کا حکم نہیں لگا سکتے بھئی۔ تو یہی اختیا اختلاف بیان کر رہے ہیں۔ کہ اختلاف کیا ہے علماء نے اس بارے میں کہ جب کوئی مأمور بہ کو ادا کر دے اس کی شرائط اور ارکان کی رعایت کے ساتھ تو کیا جائز ہے ہمارے لیے ہم حکم لگا دیں محض اس کے کرنے سے ہی جواز کا یا ہم توقف کریں یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے کوئی دلیل خارجی جو دلالت کرے پانی کی طہارت پر بھی اور تمام شرائط پر بھی؟ فقال بعض المتكلمين لا نحكم به، بعض المتكلمين کہتے ہیں ہم یہ حکم نہیں نہیں لگا سکتے حتى نعلم من خارج، یہاں تک کہ ہم جان لیں کسی خارج سے (یعنی کسی خارجی دلیل کے ذریعے) کہنه مستجمع للشرايط والأركان، کہ یہ شخص جو یہ مأمور بہ جو تھا، جامع تھا تمام شرائط اور ارکان کو، یعنی اس میں تمام شرائط اور ارکان درست تھے، صحیح تھے، جب تک یہ پتہ نہ چل جائے اس وقت تک ہم حکم نہیں لگا سکتے۔ الا ترى، وہ دلیل دیتے ہیں۔ کہتے ہیں الا ترى کیا آپ دیکھتے نہیں أن من أفسد حجه بالجمال قبل الوقوف، کہ جس شخص نے اپنے حج کو فاسد کر دیا جماع کے ذریعے وقوف سے پہلے، قبل الوقوف، کہ وقوف عرفہ سے پہلے، وقوف عرفہ سے پہلے اس نے صحبت کر لی بیوی سے تو اس نے اپنے حج کو فاسد کر دیا، فهو مأمور بالاداء شرعا، تو وہ مأمور بالادا ہے شرعا، شرعا کیا ہے؟ شریعت نے کیا کہا کہ اسی حج کے ارکان کو پورا کرے، تو یہ مأمور بالادا ہوا شرعا، شریعت کی طرف سے یہ مأمور بالادا ہوا کہ اسے ادا کرے، کس طرح بالمضي على أفعاله، چلتے ہوئے اس حج کے افعال پر۔ یعنی اسی حج کے افعال پر چلتا رہے، انہیں سرانجام دیتا رہے۔ مع أنه لا يجوز المؤدى إذا أداه، باوجود اس کے کہ وہ جس کو ادا کیا جا رہا ہے وہ جائز نہیں ہے إذا أداه، جب اس کو ادا کر دے۔ وہ جائز نہیں ہے، یعنی اس کے ذمے سے قضا ساقط نہیں ہے۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ دوبارہ دیکھیے، الا ترى أن من أفسد حجه یہ ان کی دلیل ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ جس شخ- جو شخص فاسد کرتے، کرتے اپنے حج کو، وقوف عرفہ سے پہلے جماع کے ذریعے فہو مامور بالاداء شرعا، تو وہ شرعاً مامور بالادا ہے، بالمضی علی افعالہ، چلتے ہوئے افعال پر، مع انہ لایجوز المادا إذا اداه، باوجود اس کے کہ وہ جو ادا کیا جا رہا ہے، وہ جائز نہیں ہوتا جب اس کو ادا کر دے۔ فيقضي من قابل، تو اس کی قضا کرے گا من قابل، یعنی انے والے سال میں، قابل آنے والا۔ فيقضي من قابل، تو وہ ادا کرے گا اس کو آنے والے سال میں۔ آگے آنے والے سال میں وہ اس کی قضا کرتا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مأمور بہ کو ادا کر بھی دو، پھر بھی ہم یہ حکم نہیں لگا سکتے کہ اس شخص سے کیا ہو گئی ہے، قضا ساقط ہو گئی ہے، ہے، آگے فرماتے ہیں ماتن، والصحيح عند الفقهاء أنه تثبت به صفة الجواز للمأمور به، اور صحیح مذہب فقہاء کے نزدیک وہ یہی ہے کہ ثابت ہو جائے گی مأمور بہ کے لیے صفت جواز۔ مامور کی صفت جواز ثابت ہو جائے گی کس کے لیے؟ مأمور بہ کے لیے۔ اور یہ جواز کس معنی میں ہے؟ میں نے آپ کو بتایا تھا؟ جی وہ جواز تھا قضا، جائز ہونے کا معنی تھا قضا کا ساقط، اور یہ جواز ہے کس معنی؟ تعمیل حکم۔ تو صفا- فقہاء کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ ثابت ہو جائے گی صفت جواز مأمور بہ کے لیے، یعنی ہم یہ کہہ سکیں گے کہ اس شخص نے تعمیل حکم کر دی، اللہ نے حکم دیا تھا نماز کا، اس نے کیا کی ہے؟ تعمیل جب وہ اس کو ادا کر دے، ساری شرائط اور ارکان کے ساتھ، تو ہم کہیں گے اس شخص نے تعمیل حکم کر دی، وانتقاض الكراهت۔ یہ اس کا عطف ہے صفت جواز پر۔ صحیح فقہاء کے نزدیک یہ ہے کہ اس مأمور بہ کے لیے صفت جواز ثابت ہو جائے گی، اور انتفاع کراہت ثابت ہوگی بھئی۔ دیکھیے کچھ شہرا کر رہے ہیں، انتفاع کراہت کی آگے تفصیل میں بیان کرتا ہوں بھئی۔ اي المذهب الصحيح عندنا، یعنی صحیح مذہب ہمارے نزدیک یہی ہے کہ انہ تثبت بمجرد ايجاد الفعل، کہ ثابت ہو جائے گی محض فعل کو وجود دینے سے ہی ایجاد اور جده يوجد ایجاد کا معنی وجود دینا۔ بھئی جب وہ نماز پڑھے گا، تو نماز کو وجود دے رہا ہے یا جب وجود نہیں دے رہا بھئی؟ یہ ہے ایجاد فعل بھئی، ایجاد وجود دے رہا ہے۔ ہمارے نزدیک ثابت ہو جائے گی محض فعل، محض فعل کو وجود دینے سے ہی صفتُ الجواب للمأمور به، مأمور بہ کے لیے صفت، یعنی مأمور بہ کو وجود دینے سے، اس کے لیے صفت جواز ثابت ہو جائے گی ہمارے نزدیک۔ اچھا بھئی، صفتُ الجواب، جواب کا کیا معنی ہے؟ کہہ رہے ہیں وهو حصول الامتثال على ما كلف به۔ امتثال کہتے ہیں تعمیل کو۔ تعمیل حکم۔ وہو حصول الامتثال، اور وہ تعمیل کا حاصل ہونا ہے علی ما اس چیز پر کلف به، جس کا اس کو مکلف بنایا گیا تھا، یعنی جس چیز کا اس کو حکم دیا گیا تھا، اس کی تعمیل ہو گئی بھئی۔ جی تو دیکھیے یہ ہے وہ معنی جو میں نے بتایا تھا بھئی، جواز کا کیا معنی ہے؟ تعمیل حکم ہونا، تو یہی بیان کر رہے ہیں شارح بھی، وہو حصول الامتثال علی ما کلف بہ، اور وہ تعمیل کا حاصل ہو جانا ہے اس چیز پر، جس کا اسے مکلف بنایا گیا تھا، یعنی جس چیز کا اسے حکم دیا گیا تھا، تو دیکھیے اوپر متن میں جو جواز آیا تھا، وہ بمعنے تھا قضا کے ساقط ہونے کے، اور اب جو جواز آیا، وہ کس معنی میں ہے؟ تعمیل حکم کے معنی میں ہے بھئی، تعمیل حکم۔ تو بات یہ ہے کہ بھئی اختلاف تو اوپر والے میں بيا- اوپر اختلاف کس چیز میں تھا؟ کہ قضا ساقط ہوگی یا قضا ساقط نہیں، اور آگے ماتن کہہ رہے ہیں کہ ہمارے فقہاء کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ اس کے لیے صفت جواز ثابت ہو جائے گی بھئی، اور یہاں جواز کس معنی میں ہے؟ تعمیل حکم کے معنی میں ہے بھئی، تعمیل حکم۔ تو تعمیل حکم میں تو ب- بات ہی نہیں چل رہی، بات تو کس کی چل رہی ہے کہ ذمے سے قضا ساقط ہوگی یا ساقط نہیں ہوگی بھئی۔ تو یہ جواز دوسرے معنی میں ہے، اسی معنی میں نہیں ہے، اختلاف تو اس میں تھا کہ اس کے ذمے سے قضا ساقط ہوگی یا ساقط نہیں، اس کو بیان کرنا چاہیے تھا کہ قضا اس کے ذمے سے کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔ اور یہاں کس معنی میں ہے جواز، کہ تعمیل حکم ہو جائے گی، اور تعمیل حکم میں تو اختلاف نہیں بیان کیا، تعمیل حکم تو ہو ہی جائے گی، جب انسان کو اللہ نے ایک چیز کا حکم دیا، اور انسان اپنی پوری کوشش کے ساتھ شرائط اور ارکان کی رعایت رکھتے ہوئے اس کو ادا کرے گا، تو ہر ایک یہی کہے گا کہ تعمیل حکم ہو گئی۔ کیا کہے گا؟ تعمیل، تو تعمیل حکم میں تو اختلاف نہیں، اختلاف تو کس چیز میں تھا کہ قضا اس کے ذمے سے ساقط ہوئی ہے یا قضا ساقط نہیں ہوئی بھئی۔ جی تو بہرحال اس میں بھی صحیح مذہب یہی ہے کہ قضا اس کے ذمے سے ساقط ہو جائے گی بھئی، جب وہ اس کو کیا کر دے گا؟ ادا کر دے گا، تو قضا اس کے ذمے سے کیا ہو جائے گی؟ ساقط ہو جائے گی۔ دیکھیے بھئی اب یہ بیان کر رہے ہیں کہ دوبارہ دیکھیے مذہب صحیح ہمارے نزدیک یہ ہے کہ محض فعل کو وجود دینے سے ہی ثابت ہو جائے گی صفت جواز مأمور بہ کے لیے، اور جواز کا کیا معنی؟ کہتے ہیں وهو حصول الامتثال علی ما کلف به، وہ تعمیل کا حاصل ہو جانا ہے اس چیز پر، جس کا اسے مکلف بنایا گیا تھا، والا اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی اب بھی ہم یہ کہیں تعمیل نہیں ہوئی، يلزم تكليف ما لا يطاق۔ تو لازم آئے گا تکلیف ما لا طاق۔ ایسی چیز کا مکلف- تکلیف مکلف بنانا، ایسی چیز کا مکلف بنانا لا يطاق، جس کی اس میں طاقت ہی نہیں۔ بھئی ایک آدمی ہے، اس نے ت- شریعت نے حکم دیا، مثلاً ظہر کی نماز پڑھو، وہ تمام شرائط اور ارکان کی رعایت رکھتے ہوئے نماز ادا کر دیتا ہے، اور پھر بھی اگر یہ کہا جائے اس نے تعمیل حکم نہیں کی، بھئی اس نے تو اپنی طرف سے پوری کوشش کرکے اس کے ارکان اور شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے نماز ادا کی ہے، اور پھر بھی اگر کہا جائے اس نے تعمیل حکم نہیں کی، تو یہ تو گویا اس کو ایک ایسی چیز کا حکم دیا جا رہا ہے، جس میں طاقت ہی نہیں ہے۔ کہ جس کی اس میں طاقت ہی نہیں، نہیں ہے، بھئی اس نے تو اپنی پوری طاقت پر کوشش کر لی یا نہیں کر لی نماز کو ادا کرنے کی، ساری شرائط کی بھی رعایت رکھی، سارے ارکان کی بھی رعایت رکھی، اور اس اچھے طریقے سے ادا کر لیا، پھر بھی آپ کہیں کہ تعمیل حکم نہیں ہوئی، تو اس کا تو مطلب ہے اسے کسی ایسی چیز کا مکلف بنایا گیا ہے، جس کی اس میں طاقت ہی نہیں ہے، کہ اس کی ادائیگی کو بھی آپ کہہ رہے ہیں کہ بھئی تعمیل حکم ابھی تک نہیں ہوئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟ تو لہذا اس صورت میں یہی کہا جائے گا کہ تعمیل حکم ہو گئی بھئی۔ اگر آپ اب بھی کہیں کہ تعمیل حکم نہیں، تو یہ تو آپ نے ایسی چیز کا مکلف بنا دیا جس کی اس میں طاقت ہی نہیں ہے، وہ اپنی پوری طاقت اور کوشش سے کر رہا ہے، اور آپ پھر بھی کہہ رہے ہیں کہ نہیں ہوئی، معلوم ہے اس میں طاقت ہی نہیں ہے۔ تو یہ معنی ہے والا اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی اس صورت میں بھی تعمیل حاصل نہ ہو، تو يلزم تکلیف ما لا يطاق، تو لازم آئے گا مکلف بنانا ما ایسی چیز کا لا يطاق جس کی وہ طاقت ہی نہیں رکھتا۔ ثم إذا ظهر الفساد بدليل مستقل بعده، پھر اگر فساد ظاہر ہو، اس مأمور بہ میں کا، فساد ظاہر ہو، بدليل مستقل، کسی مستقل دلیل کے بعده، اس کے بعد (یعنی ادا کرنے کے بعد)، يعيده، تو پھر کیا کرے گا اس کا؟ اعادہ کرے گا۔ ویسے تو ہم یہی کہیں گے تعمیل حکم ہو گئی، کیا ہو گئی؟ تعمیل حکم ہو گئی، لیکن اگر پتہ چلا، کسی مستقل دلیل کے ذریعے کسی فساد کا پتہ چل جائے، تو پھر اس کا اعادہ کرے گا، ورنہ اعادہ کی ضرورت نہیں۔ مثلاً نماز پڑھی تھی، بعد میں پتہ چلا کہ وہ پانی جس سے وضو کیا تھا، وہ تو پاک نہیں تھا، نجاست تھا۔ تو اب دیکھو ایک مستقل دلیل قائم ہو گئی، کس چیز پر، اس مأمور بہ کے فساد پر، کہ آپ نے شرط کی رعایت، شرط کی رعایت نہیں رکھی، جب شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ تو معلوم ہوا وہ مأمور بہ کیا ہوا؟ فاسد ہوا، تو اب اس کا پھر کیا کرنا پڑے گا؟ اعادہ کرنا پڑے گا، ورنہ اعادے کی ضرورت نہیں۔ ایک ہی دفعہ جب کر لے گا، تو ہم کہیں گے تعمیل حکم ہو چکی ہے بھئی۔ واما الحج فقد اداه بهذا الاحرام وفرغ عنه، باقی جو متکلمین نے دلیل ذکر کی تھی، کیا دلیل ذکر کی تھی؟ کہ حج کا حج جو اس کو ادا کا، جس کو اس نے فاسد کر دیا، وہ حج کیا ہے؟ مأمور بہ ہے، اسے کہا جا رہا ہے، اسی کے ارکان ادا کرتے چلے جاؤ، اور پھر بھی کہتے ہیں ادا نہیں ہوا، کیا کرنا پڑے گی؟ اگلے سال قضا کرنا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں بھئی وہ جو حج تھا، وہ تو ہو، گزر گیا، اس سے تو فارغ ہو گیا، جو اگلے سال قضا ہے، وہ نئے امر کے ذریعے ہے، اسی امر کے ذریعے نہیں بھئی۔ وہ کس کے ذریعے ہے؟ آپ نے پڑھا تھا قضا اسی امر کے ذریعے آتی ہے جس کے ذریعے ادا آتی ہے بھئی، ہمارا مذہب کیا ہے؟ کہ قضا بھی اسی امر کے ذریعے ہے، قضا کا سبب بھی وہی امر ہے، جو کس کا سبب تھا؟ ادا کا سبب تھا۔ تو یہاں پر جو مأمور بہ حج تھا، وہ گزر گیا، اس سے یہ فارغ ہو چکا، اب جو قضا آ رہی ہے، آپ نے آپ نے کیا کہا دلیل کیا ذکر کی تھی؟ کہ دیکھو یہ حج ادا نہیں ہوا، یہ کر رہا ہے، پھر بھی ادا نہیں ہوا، پھر اس کو کیا کرنا پڑے گی؟ قضا کرنا پڑے گی۔ ہم کہتے ہیں بھئی یہ حج مأمور بہ تھا، اس کا حکم دیا گیا تھا، یہ پورا کر لیا اس نے، اس حج سے اب فارغ ہوا۔ اگلے حج کے لیے الگ اس کو باقاعدہ حکم دیا گیا ہے بھئی۔ تو وہ اس کے لیے الگ حکم اس کو دیا گیا ہے۔ تو یہ اسی امر کے ذریعے اس کو ادا نہیں کر رہا۔ تو اسی امر کے ذریعے نہیں کر رہا بھئی۔ یعنی یوں سمجھو دوسرے الفاظ میں یہ قضا ہے ہی نہیں۔ یہ قضا ہے ہی نہیں۔ وہ حج گزر گیا، یہ ایک نیا حکم آ گیا کہ حج ادا کرو، تو یہ بھی ادا ہی ادا ہے۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے سب کو بھئی؟ تو کہتے ہیں واما الحج فقد اداه بهذا الاحرام وفرغ عنه، اور باقی حج، تحقیق اس نے اس کو ادا کر لیا اس احرام کے ذریعے، وفارغ عنہ اور اس سے فارغ ہو گیا، والامر بحج صحيح في العام القابل بامر مبتدئ، اور باقی صحیح حج کا حکم جو ہے في العام القابل آنے والے سال میں بامر مبتدئ، یہ ایک نئے حکم کے ذریعے ہے، جو نئے سرے سے اس کو حکم دیا جا رہا ہے۔ هو عند أبي بكر الرازي رحمه الله تعالى لا يثبت بمطلق الأمر انتفاع الكراهت، لأن عصر يومه، جی امام ابوبکر رازی رحمہ اللہ بھئی، یہ فرماتے ہیں کہ ایک چیز کے مأمور بہ ہونے سے یہ ضروری نہیں کہ اس سے کراہت ختم ہو، اس میں کراہت نہ ہو بھئی۔ ہو سکتا ہے ایک چیز مأمور بہ ہو، اور پھر بھی اس میں کراہت ہو گئی۔ اس کا ادا کرنا مکروب ہو گئی۔ مثال کے طور پر اور وہ دلیل دیتے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں دیکھیے عصر کی نماز، عصر کے اول وقت میں پڑھی جائے، تو یہ ہے ادا کامل ہوئی، اور عصر کا اخری وقت جب سورج کا رنگ بدل جائے، تو اس وقت ادا عصر کی نماز اگر ادا کرے گا، تو یہ کیا ہوئی ادا ناقص ہوئی بھئی، ادا ناقص۔ تو لیکن بہرحال یہ ہے تو عصر ہی کا وقت اور عصر کی نماز عصر کی ہی وقت کے اندر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اگر اول وقت میں نہ کر سکا، تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ اخر وقت میں، وقت کے اندر اندر ہی اس کو ادا کر لے بھئی۔ تو یہ جو آخر وقت جب سورج کا رنگ بدل گیا، اب ایک شخص نے نماز نہیں پڑھی، اس وقت نماز پڑھنا چاہتا ہے عصر کی، تو مأمور بہ ہے یا مأمور بہ نہیں ہے نماز؟ مأمور بہ ہے، اور پھر اس کے باوجود ادا کرتا ہے، تو یہ ادا ادائیگی کس قسم کی ہے؟ کراہت کے ساتھ ہے بھئی۔ اس وقت نماز پڑھنا مکروب ہے بھئی۔ تو دیکھو مأمور بہ ہے اور ادا کرنا اس کا مکروب بھی ہے۔ معلوم ہوا کسی چیز کا مأمور بہ ہونا، کوئی چیز جب مأمور بہ ہو تو یہ ضروری نہیں کہ اس کے ساتھ کراہت نہ ہو، ہو سکتا ہے کیا ہو، اس کے ساتھ کراہت بھی ہو بھئی۔ لہذا کسی چیز کا مأمور بہ ہونا، یہ انتفاع کراہت پر دلالت نہیں کرتا، اس سے آپ انتفاع کراہت کو ثابت نہیں کر سکتے۔ دیکھیے کہتے ہیں عند ابی بکر الرازی رحمہ اللہ لا یثبت بمطلق الامر انتفاع الكراهت، کہ ثابت نہیں ہوگا مطلق امر کے ذریعے کیا ثابت نہیں ہوگی؟ انتفاع کراہت، لان عصر يومه، اس لیے کیونکہ اسی دن کی عصر جو ہے، وہ مأمور بالاداہ ہے، یعنی اس کے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، مع انہ مکروہ شرعا، باوجود اس کے کہ وہ شرعا مکروب ہے۔ اسی طرح وطواف محدثا مأمور به، مع انه مکروہ شرعا، اور اسی طرح طواف بے وضو ہونے کی حالت میں۔ اسی طرح طواف بے وضو ہونے کی حالت میں وہ مأمور بہ ہے، مع انہ مکروب شرعا، باوجود اس کے کہ وہ شرعا مکروب ہے۔ بھئی دیکھیے طواف کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں، کہ اس امر آیا ہے حج کے بارے میں، ولطوف بالبيت العتیق، کہ حج کرنے والے کو چا- حج کرنے والے جو ہیں، انہیں چاہیے کہ بیت اللہ کا طواف کریں بھئی، بیت اللہ۔ تو امر آیا طواف کے بارے میں، اور مطلق آیا بھئی، اس میں وضو یا بے وضو ہونے کی قید نہیں۔ لہذا آپ نے پڑھا تھا کہ ہمارے نزدیک تو بھئی طواف- طواف میں مطلق امر اس میں وضو کے ساتھ وضو کی قید ہے؟ وضو کی قید نہیں۔ تو یہ طواف مطلق طواف کا حکم آیا، اور مطلق طواف دونوں صورتوں کو شامل ہوا، وضو کے ساتھ کیا جائے، یہ بھی طواف ہے، وضو کے بغیر کیا جائے، یہ بھی طواف ہے۔ دونوں اس مطلق طواف میں داخل ہوئے، کیونکہ اس میں کوئی قید نہیں ہے بھئی۔ وضو ہو کہ کی قید ہوتی، تو بے وضو طواف کو ہم اس سے نکال دیتے، لیکن اس کی وہاں پر کوئی قید نہیں۔ وضو کی قید نہیں ہے بھئی۔ تو پھر لہذا ہونا تو طواف چاہیے کس کے ساتھ؟ اس لیے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ طواف نماز کی طرح ہے، اور نماز کے اندر وضو ضروری ہے، تو ہم نے کہا کہ کتاب اللہ کا اپنا مقام، اور حدیث جو ہے وہ قبر واحد ہے، اس کا درجہ اس سے کم ہے، لہذا کتاب اللہ کے ذریعے جو چیز ثابت ہوگی وہ فرض، اور جو حدیث خبر کے ذریعے ثابت ہوگی وہ واجب قرار دیں گے بھئی، واجب قرار دیں گے، تو لہذا حج میں یہ طواف کیا ہوا؟ فرض، اور اس میں طواف کے اندر وضو کا ہونا واجب ہوا۔ تو لہذا معلوم ہوا وضو طواف کے لیے واجب ہے، کہ وضو کیا جائے۔ تو اب اگر کوئی شخص طواف کے لیے وضو نہیں کرتا، تو پھر یہ اس نے جنایت کی، جرم کیا کہ بغیر وضو کے طواف کر لیا۔ اور اس جرم پر سزا آئے گی، اور سزا جتنا جرم اتنی ہی سزا، تو اگر حج کے طواف میں، حج کے طواف میں اگر اس نے بے وضو طواف کر لیا، تو اس صورت میں اسے کیا کرنا پڑے گی؟ قربانی کرنا پڑے گی، اور اگر عام طواف کے اندر بھئی، اس نے بے وضو ہونے کی حالت میں کر لیا، تو اب جنایت تو کی، لیکن اتنی بڑی نہیں ہے، اس لیے اس میں صرف کچھ صدقہ وغیرہ کر دے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی سب کو؟ تو دیکھیے، اب حج جو ہے ولطوف بالبيت العتیق طواف کا حکم دیا گیا، مطلق طواف ہے، نہ اس میں وضو کی قید ہے اور نہ بے وضو ہونے کی قید ہے۔ لہذا اب ایک تو طواف مأمور بہ ہوا، اور چاہے وہ وضو کے ساتھ ہو، چاہے بغیر وضو کے ہو، مأمور بہ تو مطلق ہے نا، ولطواف، اس میں تو وضو کی کوئی قید نہیں۔ تو بے وضو ہونے کی حالت میں بھی طواف گویا مأمور بہ ہے، اور باوجود اس کے یہ شرعا مکروب ہے بھئی، کہ بے وضو کیا کرے انسان؟ طواف کرے۔ تو ابو بکر الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھا، ایک چیز کے مأمور بہ ہونے سے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس سے کراہت منتفی ہو جائے، ہو سکتا ہے ایک چیز مأمور بہ بھی ہو اور اس میں کراہت بھی ہو، جیسے ایک شخص بے وضو طواف کرتا ہے، تو یہ مأمور بہ ہے یہ طواف، لیکن اس کے باوجود شرعاً مکروب ہے بھئی، مکروب۔ قلنا ہم جواب دیتے، ہم کہتے ہیں ذالک الكراهت ليس في نفس المأمور به، بل لمان خارج، کہ یہ جو کراہت ہے یہ نفس مأمور بہ کی، مأمور بہ کی ذات کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ ایک معنی خارجی کی وجہ سے ہے۔ اور وہ کیا؟ وہو التشبيہ بعبدة الشمس، یہ اس کا تعلق وہ عصر کی نماز جو آخری وقت میں پڑھتا ہے۔ آخری وقت میں نماز عصر کی وہ مأمور بہ ہے، لیکن مکروب ہے، ہم کہتے ہیں یہ مکروب اپنی ذات کے اعتبار سے نہیں ہے۔ اپنی ذات کے اعتبار سے تو یہ نماز ہے، بھئی کسی اعتبار سے اس میں کراہت نہیں۔ کراحت جو ائی اس میں امر خارجی کی وجہ سے ائی کہ یہ وقت جو ہے، وہ آرتس پرستوں کی، سورج کی عبادت کرنے والوں کی عبادت کا وقت ہے یہ، اس وقت وہ سورج کو سجدے کرتے ہیں، عبادت کرتے ہیں، اس لیے اس وقت نماز سے منع کیا گیا۔ تو اس امر خارجی کی وجہ سے جو ہے نماز میں کراہت آ گئی، ورنہ اس کی اپنی ذات میں کوئی کراہت نہیں۔ تو ہمارے نزدیک مأمور بہ جس چیز کا حکم دیا گیا ہے، اس میں کراہت نہیں ہوگی بھئی، یہ نہیں ہو سکتا ایک چیز کا حکم بھی دیا گیا ہو اور وہ اس میں کراہت بھی ہو۔ کراحت آئے گی تو کسی امر خارجی کی وجہ سے آئے گی، اس کی ذات میں نہیں ہوگی۔ اسی طرح طواف کرنے والے بے وضو ہونے کی حالت میں یہ، یہ طواف مأمور بہ ہے، لیکن اس کا شرعاً جو ہے اس کا حکم دیا گیا ہے، تو یہاں بھی جو کراہت آئی وہ ایک امر خارجی کی وجہ سے آئی اور وہ امر خارجی کیا ہے؟ طواف کرنے والا بے وضو ہے، نفس طواف میں کوئی خرابی نہیں، بلکہ خرابی کیا ہے ایک امر خارجی کی وجہ سے ائی کہ اس طواف کرنے والے نے وضو نہیں کیا ہوا، اس کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ وضو کرنا چاہیے۔ تو طواف کا حکم دیا گیا، تو طواف کی ذات میں کوئی کراہت نہیں ہے، بلکہ کراہت جو ائی وہ کس کی وجہ سے ائی، ایک امر خارجی کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں ہم کہتے ہیں یہ کراہت ليس في نفس المأمور به، یہ مأمور بہ کی ذات میں نہیں ہے، بل لمان خارج، بلکہ ایک ما خارجی معنی کی وجہ سے ہے، وہو تشبیہ بعبدۃ الشمس، اور وہ تشبیہ ہے کس کے ساتھ؟ سورج کی عبادت کرنے والوں کے ساتھ۔ وقول طائف محدثا، اور وہ معنی خارجی طواف کرنے والے کا بے وضو ہونا ہے۔ ومثل هذا غير مضر، اور اس قسم کی کراہت نقصان دینے والی نہیں ہے۔ نہیں ہے، یعنی اس سے کوئی ضرر کوئی نقصان لازم نہیں آتا کیونکہ یہ امر خارجی کی وجہ سے کراہت آئی ہے، اس مأمور بہ کی ذات میں کراہت نہیں ہے۔ بات تو یہی چل رہی تھی نا، آپ کہہ رہے تھے کہ مأمور بہ کی ذات کسی چیز کا جب حکم دیا جائے شریعت کی طرف سے تو یہ ضروری نہیں کہ اس میں کراہت نہ ہو، ہو سکتا ہے پھر بھی اس میں کراہت ہو۔ اور آپ نے دو مثالیں ذکر کیں، ہم نے کہا نہیں، جب ایک چیز کا حکم دیا گیا وہ مأمور بہ ہے تو اس کی ذات میں کبھی بھی کراہت نہیں ہو سکتی۔ کراحت اگر آئے گی بھی تو کسی امر خارجی کی وجہ سے آئے گی اس کی ذات کی وجہ سے نہیں ہوگی، اور امر خارجی کی وجہ سے کراہت ائے تو اس سے کوئی نقصان نہیں۔ ہم نے جو دعوی کیا، ہم نے جو بات کی، اس میں کوئی نقصان نہیں۔ ہم نے کیا کہا تھا؟ کہ جب کسی چیز کا حکم دے دیا جائے (یعنی وہ مأمور بہ ہو) تو اس میں کراہت کبھی بھی نہیں ہوگی، تو وہی بات حق ہے کہ اس میں کراہت نہیں ہوگی کبھی بھی، اور آئے گی تو وہ امر خارجی کی وجہ سے ہے، تو امر خارجی کی وجہ سے دس دفعہ ائے بھئی، ہماری اس سے بحث ہی نہیں، ہماری تو بحث کس میں ہے؟ کہ نفس مأمور بہ میں کراہت ہے یا کراہت نہیں، اور ہمارے نزدیک نفس مأمور بہ میں کراہت نہیں ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو خلاصہ بحث یہ ہوا، کہ جب کوئی شخص مأمور بہ کو ادا کر لے، تو اس میں اختلاف ہے کیا اس پر جائز ہونے کا حکم لگا سکتے ہیں یا جائز ہونے کا حکم نہیں لگا سکتے؟ بعض المتكلمين، جو معتزلہ میں سے ہیں، انہوں نے کہا کہ نہیں بھئی، جائز ہونے کا حکم نہیں لگا سکتے، یعنی یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کے ذمے سے قضا کیا ہو گئی، ساقط ہو گئی، اور دلیل کے طور پر انہوں نے وہ حج ذکر کیا۔ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ نہیں بھئی، مأمور بہ کو ادا کر دے گا تو جواز کا حکم، جواز کی صفت اس کے لیے ثابت ہو جائے گی، یعنی ہم کہیں گے کہ قضا اس کے ذمے سے ساقط ہو گئی بھئی، قضا۔ اور یہ جو اگلے سال آنے والا حج کر رہا ہے، یہ ایک نئے حکم کی وجہ سے کر رہا ہے، گویا کہ اس کی قضا ہے ہی نہیں۔ یہ ایک الگ حکم آگیا کہ اگلے سال تم کیا کرنا؟ تم نے جنازہ- تم نے جنایت کی ہے، اگلے سال کیا کرنا، پھر آ کر حج ادا کرنا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور پھر اسی میں یہ بھی بتایا کہ فقہاء کے نزدیک جو ہے وہ مأمور بہ کو جب ادا کر دیں، تو تعمیل حکم ہو جائے گی، اگر پھر بھی تعمیل حکم نہ ہو، تو پھر تو گویا اس کو ایک ایسی چیز کا مکلف بنا دیا گیا جس کی یہ طاقت ہی نہیں رکھتا۔ اور اس کے بعد پھر یہ بھی بیان ہوا، کہ ابو بکر الرازی رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ کسی چیز کے مأمور بہ ہونے سے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس سے کراہت منتفہی ہو جائے، ہو سکتا ہے ایک چیز مأمور بہ بھی ہو اور اس میں کراہت بھی ہو، اور اس کی دو مثالیں ذکر کر دیں، جیسے عصر کی نماز آخری وقت میں، اور جیسے بے وضو شخص کا طواف کرنا۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں بھئی، جو مأمور بہ ہو، اس میں کراہت کبھی نہیں ہو سکتی، اگر یہاں کراہت ہے تو وہ ایک امر خارجی کی وجہ سے ہے، اس سے ہماری بحث نہیں۔ بحث تو ہماری یہ ہے کہ نہ سے مأمور بہ میں کراہت ہے یا کراہت نہیں، اور ہمارے نزدیک نہ سے مأمور بہ میں کراہت نہیں ہے بھئی۔ جی تو یہ بحث ذکر کی مصنف نے، صاحب منار نے بھئی، ماتن نے، کس لیے؟ کیونکہ یہ بھی امر کی بحث سے ہی متعلق باتیں تھیں، وہ مأمور بہ ہی کی بات تو چل رہی تھی، تاکہ امر کی بحث جامع ہو جائے، تو جواز کی بحث کو ذکر کیا صاحب منار نے کہ جائز کہہ سکتے ہیں یا جائز نہیں کہہ سکتے۔ قبول کو ذکر نہیں کیا، کہ کوئی شخص مأمور بہ کو ادا کر دے، تو کیا آپ یہ حکم لگا سکتے ہیں اللہ نے قبول کر لیا یا قبول نہیں کیا، کہتے ہیں بھئی اس لیے قبول کو ذکر نہیں کیا، کیونکہ اس کا علم نہیں ہو سکتا، یہ تو اللہ ہی جانتے ہیں قبول فرمایا یا قبول نہیں فرمایا، یہ ہم حکم نہیں لگا سکتے، اس لیے کیونکہ اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں انما یتقبل اللہ من المتقین، اللہ متقیوں ہی سے قبول کرتے ہیں۔ اللہ کس سے قبول فرماتے ہیں؟ متقیوں سے قبول فرماتے ہیں اور تقوی کی شرائط بڑی عظیم ہیں بھئی، ہر ایک میں یہ تقوی نہیں بھئی، تو لہذا یہ حکم ہم نہیں لگا سکتے کہ اللہ نے قبول فرمایا ہے یا قبول نہیں فرمایا، اللہ متقیوں سے تو ضرور قبول فرماتے ہیں، اور باقی باقیوں کا علم نہیں ہو سکتا بھئی، بات سمجھ میں آگھی بھئی؟ تو چونکہ اس کا پتہ ہی نہیں چل سکتا، لہذا اس کو مصنف نے ذکر بھی نہیں کیا بھئی۔ چلیے بس مولانا، ہذا هو المرام، واللہ اعلم بحقيقة الكلام।