وفرض الغسل المضمضة والاستنشاق وغسل سائر البدن۔ وضو کی بحث مکمل ہوئی مولانا، وضو کے فرائض بھی بتلا دیئے دلیل کے ساتھ اور اس کے بعد اس بات کی دلیل بھی ذکر کر دی کہ مسح راس کے اندر کتنی مقدار ہے فرض؟ ناصیہ کی مقدار فرض ہے، اس کے بعد وضو کی سنتیں ذکر ہوئیں، وضو کے مستحبات ذکر ہوئے اور پھر وہ چیزیں ذکر ہوئیں جو وضو کو توڑنے والی ہیں بھئی۔ آٹھ چیزیں ذکر کیں انہوں نے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ وضو کو توڑنے والی ہیں بھئی۔ اب غسل کی بحث شروع کریں گے تو سب سے پہلے فرض بتلا رہے ہیں۔ یاد رکھیے غسل کے تین فرض ہیں مولانا، کلی کرنا اچھی طرح، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے بدن پر پانی بہانا کہ کوئی ایک بال کے برابر جگہ بھی خشک نہ رہے۔ تو کہتے ہیں وفرنس الغسل اور غسل کے فرض جو ہے المضمضة کلی ہے، کلی ہے والاستنشاق اور ناک میں پانی ڈالنا بھئی و غسل سائر البدن اور سارے بدن کا دھونا ہے بھئی، غسل سائر البدن تو خوب اچھی طریقے سے غسل کیا جائے کہ بدن پر کوئی جگہ خشک نہ رہے۔ وسنة الغسل اب سنتیں بیان ہوں گی غسل کی بھئی وسنة الغسل ان يبدأ المغتسل بغسل يديه وفرجه ويزيل النجاسة ان كانت على بدنه ثم يتوضأ وضوءه للصلاة الا رجليه۔ سنت طریقہ غسل کا یہ ہے مولانا کہ غسل کرنے والا پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھو لے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ دونوں ہاتھ دھو لے اور پھر اس کے بعد شرمگاہ کو دھوئے یعنی استنجا کر لے اور اس کے بعد اگر بدن پر کہیں نجاست لگی ہوئی ہے تو اس کو دور کر لے۔ سب سے پہلے کیا کرے؟ ہاتھ دھو لے بھئی، پھر اس کے بعد استنجا کر لے، اس کے بعد اگر کہیں نجاست بدن پر لگی ہے تو اس کو دور کر لے بھئی، اس کے بعد وضو کرے بھئی جیسے کہ نماز کے لیے وضو کیا کرتا ہے اسی طرح وضو کر لے۔ صورت سمجھ میں آگئی اور پھر اس کے بعد سارے بدن پر پانی بہائے بھئی۔ سارے بدن پر۔ تو یہی بتلا رہے ہیں کہتے ہیں وسنة الغسل اور غسل کی سنت جو ہے ان يبدأ المغتسل کہ ابتدا کرے غسل کرنے والا بغسل يديه اپنے دونوں ہاتھوں کے دھونے کے ساتھ ابتدا کرے یعنی پہلے اپنے دونوں ہاتھوں دھو لے و فرجه اور کس کے دھونے کے ساتھ بھئی؟ شرمگاہ کے دھونے کے ساتھ ويزيل النجاسة اور نجاست کو کیا کرے؟ دور کرے زائل کرے ان كانت على بدنه اگر اس کے بدن پر ہو کہیں ثم يتوضأ وضوءه للصلاة پھر وہ وضو کرے جیسے کہ وضو کرتا تھا نماز کے لیے الا رجليه مگر پاؤں نہ دھوئے بھئی۔ الا رجليه بھئی یہ پاؤں کیوں نہ دھوئے بھئی یہ ہر جگہ اس طرح کرنا ضروری نہیں فقہاء نے لکھا ہے، ایسی جگہ ہے جہاں غسل کر رہے ہیں، پانی وہیں کھڑا ہوتا جا رہا ہے، اب آخر میں آپ کو پھر پاؤں دھونا پڑیں گے تو لہذا ابھی نہ دھوؤ۔ ابھی نہ دھوؤ بعد میں آخر میں دھو لینا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لیکن اگر ایسی جگہ ہے پانی بہتا جا رہا ہے نکلتا جا رہا ہے وہاں سے، تو وہاں پر پھر پورا وضو کرے بھئی پاؤں بھی دھو لے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی پورا۔ تو کہتے ہیں الا رجليه مگر اپنے پاؤں نہ دھوئے ثم يفيض الماء على رأسه پھر پانی بہائے اپنے سر کے اوپر وعلی سائر بدنه اور اپنے سارے بدن پر ثلاثاً کتنی مرتبہ؟ تین مرتبہ بھئی۔ تو دیکھا ایسی جگہ بیان ہو رہی ہے جہاں پانی کھڑا ہو جاتا ہے، اسی لیے آگے فرماتے ہیں صاحب قدوری ثم يتنحى عن ذلك المكان پھر اس مکان اس جگہ سے ہٹ جائے بھئی۔ وہاں پر تو کیا ہو رہا ہے؟ پانی کھڑا ہو رہا ہے جمع ہو رہا ہے تو ثم يتنحى کا معنی ہٹ جانا، ایک طرف ہو جانا۔ پھر وہ ہٹ جائے عن ذلك المكان اس مکان اس جگہ سے فغسل رجليه پس پھر دھو لے اپنے پاؤں دھو لے۔ میں نے بتایا بھئی کہ اگر ایسی جگہ ہو جہاں پانی نکلتا جا رہا ہے وہاں کیا کر لے؟ پاؤں بھی دھو لے پورا وضو کر لے پھر اس کے بعد اپنے بدن پر تین دفعہ پانی بہائے بھئی۔ سمجھ آیا غسل میں خصوصاً احتیاطی ہونی چاہیے مولانا یہ کان کے کان خشک رہ جاتا ہے اکثر بھئی۔ سمجھ یہ ہاتھ انگلی مارنی چاہیے بھئی دونوں طرف اچھی طرح کانوں کے اندر کان کا کوئی حصہ خشک نہ رہے بھئی۔ اسی طرح ناف کے اندر بھی پانی آرام سے نہیں پہنچتا وہاں بھی اچھی طرح پانی پہنچا دے بھئی۔ کوئی جگہ خشک رہ گئی تو غسل نہیں ہوا۔ اور یاد رکھیے غسل کر رہے تھے یا وضو پہلے وضو پہ آ جائیں، وضو کر رہے تھے بھئی آپ بھول گئے کوئی ایک جگہ تھوڑی سی خشک رہ گئی پاؤں کے اندر مولانا ایک ٹخنہ خشک رہ گیا آپ نے پورا وضو کر لیا، بعد میں آپ کو خیال آیا وضو کر چکے ہیں، دس پندرہ بیس منٹ گزر چکے کہ بھئی یہ جگہ تو خشک رہ گئی ہے، اس جگہ تو میں نے پانی لگایا ہی نہیں، اب کیا کریں گے؟ اب دوبارہ سارا وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے بھئی اسی جگہ کو کیا کر لو؟ دھو لو بس۔ اسی طرح غسل کے اندر بھی یاد رکھنا آپ نے غسل کر لیا، کلی کرنا بھول گئے یا ناک میں پانی ڈالنا بھول گئے تو بعد میں کیا کر لیں؟ کلی کر لیں یا ناک میں پانی ڈال یا کوئی بدن کا ایک عضو یا کوئی جگہ تھوڑی سی خشک رہ گئی تھی بھئی آپ بھول گئے بھئی، بعد میں آپ کو یاد آیا یہ جگہ نہیں دھوئی یہاں میں نے پانی نہیں ڈالا، تو یہ نہیں کہ پورا غسل دوبارہ کر لے کیا کرے اسی جگہ کو دھو لے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ غسل کے فرائض ہیں مولانا یہ تین، یہ عام غسل تو ویسے ہی آپ کر لیں بھئی وضو کی طرح وہ ہو جائے گا وضو بھئی اس سے نماز وغیرہ پڑھ لیں گے لیکن اگر جنابت کی حالت میں ہو تو یہ فرائض پورے ہوں گے تو انسان جنابت سے پاک ہوگا ورنہ پاک ایک آدمی پورا اس نے نہا ہم لوگوں کو تو بھئی یہ بھی نہیں پتہ اتنی جہالت آ گئی ہے دین کے بارے میں تو کسی کو پرواہ ہی نہیں۔ تجارت کا ہو، پیسے کمانے کا ہو، کوئی اور مسئلہ ہو تو بڑی گہرائی تک ہر ایک کو پتہ ہوتا ہے اور کئی کئی طریقوں کا پتہ ہوتا ہے۔ لیکن عام لوگوں سے آپ پوچھ لیں ان کو وضو کے فرائض کا بھی پتہ نہیں ہوگا ان کو غسل کے فرائض کا بھی تو کوئی ہو جاننے والے ان کو بتلایا کریں طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ ہر ایک کو طریقہ بتلائیں غسل کا، لوگ اسی طرح جنابت کی حالت میں پھرتے ہیں بھئی، ان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کلی بھی کرنی ہے ناک میں بھی پانی ڈالنا یہ فرض ہے۔ تو یہ اور خود بھی اس کا خیال رکھیں بھئی تو جنابت کے اندر انسان ہے، تو جب تک کلی نہیں کر لے گا ناک میں پانی نہیں ڈالے گا جنابت سے وہ اس کی جنابت سے وہ پاک نہیں نہیں ہوگا بھئی اسی حالت میں رہے گا۔ ہاں پھر بعد میں وہ وضو کر رہا تھا اسے یاد بھی نہیں ہے اس وقت کلی کر لیتا ہے، ناک میں پانی ڈال لیتا ہے اب چاہے اس کو پتہ ہو یا نہ ہو مولانا وہ جنابت سے کیا ہو گیا؟ پاک کیونکہ یہ دو ہی چیزیں باقی تھیں ان کو اس نے کر لیا بھئی۔ समझ में आया؟ چنانچہ اسی پہ بعد پھر سوال کرتے ہیں بھئی ایک آدمی تھا اس کو پتہ نہیں تھا مثلاً ناں جنابت کی حالت میں گیا مسجد میں اور باہر نکلا تو پاک تھا۔ کیسے پاک ہوا بھئی؟ وضو کر لیا مسجد جی؟ مسجد کے اندر وضو ہوتا ہے بھئی؟ وضو کی جگہ پر وضو کی جگہ پہ نہیں کہی گیا اب مسجد کے اندر گیا بھئی۔ جنابت کی حالت میں مسجد میں گیا اور باہر نکلا تو پاک تھا بھئی۔ بھئی آسان ابھی مسئلہ بتا دیا، کلی کرنا بھول گیا تھا وہ نہا لیا تھا کلی کرنا بھول گیا مسجد میں گیا وہاں پانی پی لیا۔ منہ میں پانی پہنچ گیا یا نہیں پہنچ گیا؟ پہنچ گیا بس مولانا پاک ہو گیا۔ अच्छा जी! و ليس على المرأة أن تنقض ظفائرها في الغسل إذا بلغ الماء أصول الشعر۔ بھئی عورت اپنے بالوں کی مینڈیاں بناتی ہے بھئی۔ بھئی وہ آپ نے دیکھا ہوگا رسی کی طرح بال بنا لیتی ہے کیا کہتے ہیں اس کو بھئی آپ لوگ؟ گت کہتے ہیں چٹیاں ہاں لیکن وہ تو ایک ہوتی ہے اس کی بات نہیں ہو رہی مولانا، یاد رکھو عورت ہو یا مرد ہو جب غسل کر رہا ہے پورے بالوں کو بھی گیلا کرنا ضروری، فرض ہے اور بالوں کی جڑوں تک بھی پانی پہنچانا سمجھ میں آیا؟ تو عورت کے لیے عام حالت کے اندر یہ یاد رکھنا یاد رکھنا پورے بالوں کو دھونا فرض ہے، بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا فرض ہے۔ لیکن عرب میں بھئی بعض علاقوں اور میں بھی آپ نے اگر کبھی دیکھا ہو، وہ عورتیں وہ جو رسی کی طرح بال بناتی ہیں وہ باریک باریک بہت سارے بنا دیتی ہیں پورے سر میں بھئی۔ دیکھا ہے یا نہیں کبھی بھئی؟ جی جی بہت زیادہ بنا دیتی ہیں، مطلب یوں کہیں دو تین گھنٹے کی تو کم از کم چار گھنٹے کی محنت تو ہوتی ہے اس کے بنانے پہ۔ آپ اس حالت میں عورت نے غسل کرنا ہے اس کے بال اس طرح بنے ہوئے ہیں بھئی یہ تو کھولنا ہے پھر ان کو اس طرح کرنا بڑی مشقت کا کام ہے۔ تو فقہاء کرام فرماتے ہیں اگر اس طرح کی حالت ہے، اس طرح بال اس کے بنے ہوئے ہیں تو صرف بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچا دے یہ کافی ہے، سارے ان بالوں کو کھولنا ضروری نہیں۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ عام حالت میں تو سارے بالوں کا گیلا کرنا ان کو پانی پہنچانا اور جڑوں تک پہنچانا بھی فرض، لیکن اگر اس طرح مینڈیاں بنی ہوئی ہیں بہت ساری جس کا کھولنا بڑی مشقت والا کام ہے، تو پھر اس صورت میں کیا کر لے؟ جڑوں تک پہنچا دے، سمجھیں ان بالوں کو تو وہ کھولنے میں بھی اس کو پتہ نہیں کتنا وقت لگے گا تو بالوں کی جڑوں تک پہنچا دے پانی بس مولانا کافی ہے۔ صورت سمجھ میں لیکن اگر یہی کیفیت ہوئی بھئی آج کل کسی فیشن کرنے والے لڑکے نے اس طرح کر لیا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو مرد کے لیے یہ حکم نہیں ہے اسے کھولنا پڑیں گے سارے بال۔ عورت کے لیے تو چونکہ شرعاً بال کاٹنا حرام تھا، تو اس کے بال لمبے ہیں اب وہ اس طرح بال بناتی ہیں تو شریعت نے ان کے حکم میں نرمی کر دی، لیکن مرد کے لیے تو یہ بال رکھنا صحیح نہیں ہے، درست طریقہ نہیں ہے، لیکن عورتوں کی طرح اس نے بال رکھے ہوئے ہیں تو اب غسل کرنا چاہتا ہے تو اب کھولنے پڑیں گے سارے بال، سارے بالوں تک بھی پانی پہنچانا فرض اور بالوں کی جڑوں تک بھی پانی پہنچانا فرض ہے۔ تو یہ جو بال بنائے ہیں باریک باریک ان کو ظفائر کہتے ہیں کیا کہتے ہیں؟ ظفائر مینڈیاں بھئی۔ و ليس على المرأة اور نہیں ہے عورت پر ان تنقض ظفائرها اپنی مینڈیوں کو کھولنا فی الغسل غسل کے اندر اذا بلغ الماء جب پہنچ جائے پانی اصول الشعر شعر بالوں کو کہتے ہیں اصول جڑیں۔ اذا بلغ الماء اصول الشعر جب پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے۔ یہاں تک مسئلہ سب کو سمجھ میں آگیا بھئی؟ اچھی طرح؟ چلیے مولانا هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔