وسنن الطهارۃ غسل الیدین ثلاثا قبل ادخالهما الإناء إذا استيقظ المتوضئ من نومه. وتسمية الله تعالى في ابتداء الوضوء، ‏والسواك، والمضمضة، والاستنشاق، ومسح الأذنين، وتخلليل اللحية والأصابع، وتكرار الغسل إلى الثلث‎.‎ أچھا بھئی، کل آپ نے وضو کے فرائض پڑھ لیے کہ چار فرض ہیں، اور ان کی پہلی آیت جو تھی وہ بھی پڑھی۔ اور اسی ‏طرح پھر مسح کے اندر پڑھا کہ فرض مقدار جو ہے ناصیہ ہے۔ ناصیہ میں نے آپ کو بتلایا تھا مقدم راس کو کہتے ہیں، ‏سر کے اگلے حصے کو کہتے ہیں، چوتھا۔ جی۔ اور دلیل اس کی وہ حدیث تھی بھئی۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ ‏تعالی عنہ والی۔ جی۔ اب وضو کی سنتیں بتلا رہے ہیں آپ کو بھئی۔ کہتے ہیں وسنن الطهارة اور طہارت کی سنتیں بھئی ‏غسل الیدین ثلاثا دونوں ہاتھوں کا دھونا ہے، ثلاثا تین مرتبہ قبل ادخالهما الإناء إناء کہتے ہیں برتن کو بھئی۔ ان دونوں کو ‏برتن میں داخل کرنے سے پہلے۔ کب؟ اذا استيقظ المتوضئ من نومه جب بیدار ہو وضو کرنے والا اپنی نیند سے۔ وضو کی ‏سنتیں بھئی اگر کوئی شخص سویا ہوا تھا، نیند سے بیدار ہو تو پھر اس صورت میں برتن کے اندر ہاتھ ڈالنے سے پہلے ‏تین مرتبہ انہیں دھونا چاہیے۔ تین مرتبہ انہیں دھونا چاہیے۔ وجہ اس کی مولانا حدیث میں آتا ہے حضور صلی اللہ علیہ ‏وسلم فرماتے ہیں بھئی یہ صفحہ نمبر پانچ کی آخری دو سطروں میں وہ حدیث ہے بھئی۔ کیا باقال علیہ السلام جب بیدار ہو ‏تم میں سے کوئی اپنی نیند سے تو نہ ڈبوئے اپنے ہاتھ کو برتن کے اندر یہاں تک کہ اسے تین مرتبہ دھو لے اس لیے کہ ‏وہ نہیں جانتا کہاں رات گزاری ہے اس کے ہاتھ نے بھئی سمجھ میں آیا بھئی تو ہاتھ پر ہو سکتا ہے کوئی نجاست وغیرہ ‏لگی ہو، کہیں بدن پر خجلی کی، اس پہ خون لگ گیا وغیرہ، یا کوئی اور نجس چیز لگ گئی تو اس کا پتہ نہیں تو لہذا برتن ‏میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے کیا کرنا چاہیے؟ اسے تین مرتبہ دھو لینا چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں، جی، یہ پہلی سنت ہے بھئی ‏وضو کی۔ وتسمية الله تعالى في ابتداء الوضوء. اور بسم اللہ پڑھنا بھئی فی ابتداء الوضوء وضو کی ابتدا میں بھئی۔ سمجھ میں ‏آیا بھئی؟ وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھے بھئی۔ یا اللہ کا کوئی ذکر مراد ہے بھئی، ذکر کر لے اللہ کا بھئی۔ والسواک ‏اور مسواک کرنا بھئی سمجھ میں آیا؟ مسواک کرنا بھئی یہ بھی سنت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بھئی۔ حدیث شریف ‏میں آتا ہے بھئی دو رکعتیں مسواک کر کے پڑھنا ان 70 رکعتوں سے افضل ہیں جو بغیر مسواک کے پڑھی جائے۔ تو ‏کتنی زیادہ فضیلت ہے بھئی! یہ عادت بنائیں اپنی عادت بھئی۔ اور مسواک کرنا والمضمضۃ اور کلی کرنا بھئی۔ کلی کرنا ‏والاستنشاق اچھا بھئی مسواک میں یہ بات یاد رکھیں اگر مسواک ہے تو ٹھیک، اگر مسواک نہ ہو پاس تو پھر انگلی سے ‏اگر کر لیا جائے دانتوں کو صاف تو بھی سنت ادا ہو جائے گی بھئی، سمجھ میں آیا؟ اگر مسواک نہیں ہے تو والمضمضۃ ‏اور اسی طرح کلی کرنا والاستنشاق اور ناک میں پانی ڈالنا بھئی۔ جی کتنی ہو گئی سنتیں؟ غسل الیدین ثلاثا یہ ایک ہو گئی، ‏تسمية الله دو ہو گئیں، سواک تین، مضمضہ چار اور استنشاق پانچ بھئی۔ ومسح الاذنين اور دونوں کانوں کا مسح کرنا بھئی۔ ‏دونوں کانوں کا مسح بھئی سر کا مسح کرتے ہوئے ہم کیا کرتے ہیں؟ دونوں کانوں کا بھی مسح کرتے ہیں، یہ سنت ہے ‏بھئی۔ وتخلليل اللحية والأصابع اور داڑھی کا خلال کرنا بھئی۔ داڑھی کا خلال بھئی داڑھی آپ نے چہرہ دھو لیا تو اب ‏داڑھی کا خلال کر لو بھئی، اس کے اندر بھی انگلیاں مار لو۔ یہ طریقہ جانتے ہیں بھئی؟ جی؟ ہاں یہ گردن نیچے کی طرف ‏سے ہاتھ ڈالا، داڑھی میں انگلیاں آگئیں نیچے تک ان کو کھینچ کے لے گئے۔ طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی؟ یہ طریقہ ہے ‏یہ پوری داڑھی کے اندر۔ تو داڑھی کے اندر خلال کرنا والأصابع اور انگلیوں کا خلال کرنا بھئی۔ اصابع اس کا عطف ‏لحیہ پر ہے تو تخلليل اللحية وتخلليل الأصابع انگلیوں کا بھی کیا کر لے؟ خلال ہاتھ دھو لیا آپ نے بھئی کہنیوں تک اب یہ ‏انگلیاں ایک دوسرے کے اندر ڈال دو، ہاتھوں کی خلال کر لو اس کا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ خلال کر لو۔ اسی طرح ‏پاؤں دھو لیے ہیں، پاؤں کی انگلیوں کا بھی خلال کرو ساتھ بھئی۔ وہ طریقہ کیا ہے؟ بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی جو ہے، ‏اس کے ساتھ دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی طرف سے شروع کریں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کس انگلی کے ذریعے کرنا ہے؟ ‏بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے ذریعے اور کدھر سے شروع کرنا ہے؟ دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کرنا ہے ‏اور بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی تک جانا ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو یہ ہے، ویسے بھی بس کر لیں کسی طرح بھی بھئی ‏خلال کر لیں، تو بھی ٹھیک ہے بھئی, سمجھ میں آیا بھئی؟ خلال اصل مقصود ہے۔ اچھا بھئی بھئی صاحب قُدوری نے کتنی ‏سنتیں ذکر کیں بھئ ؟ نو سنتیں ذکر کیں ، نو سنتیں بھئی استنشاق تک کتنی ہوئی تھیں؟ پانچ مسح الودنین چھ، تخلیل اللحية ‏سات، تخلیل الاصابع اٹھ اور تکرار الغسل الی الثلاث نو ہو گئی۔ آگے سنتیں کتنے ذکر ہوئے؟ نیت کرنا اور پورے سر کا ‏مسح کرنا اور ترتیب سے کرنا۔ اور دائیں طرف سے کرنا اور پے در پے کرنا اور گردن کا مسح کرنا کتنی ہو گئیں؟ چھ ‏ہو گئیں۔ لیکن دیگر علماء فرماتے ہیں بھئی کہ ان میں سے صرف دائیں طرف سے کرنا اور مسح رقبة بھئی اور مسح رقبة ‏یہ دو مستحب ہیں، باقی سارے جو ذکر ہوئے وے وہ بھی سنت ہیں مولانا، وہ بھی کیا ہیں؟ سنت ہیں۔ تو سنتیں ان چھ میں ‏سے چار ان سنتوں میں داخل کر دیں، کتنی ہو گئیں؟ 13 سنتیں ہو گئیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کون سے دو مستحب ‏رہ گئے؟ نہیں دائیں طرف سے کرنا۔ دائیں طرف سے کرنا اور گردن کا مسح کرنا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو مستحب اور ‏سنت قریب قریب ہے مولانا سمجھ میں آیا؟ سنت میں ذرا حدود سلم پابندی زیادہ تھی اور مستحب کبھی کبھار کرتے تھے تو ‏یہ نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے بھئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فعل ہے یا حضور صلی ‏اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحسین فرمائی ہے وہ مستحبات میں سے ہے بھئی۔ تو بعض علماء ایک چیز کو سنت میں شامل ‏کرتے ہیں بعض کیا کرتے ہیں اس کو پھر مستحب ادلائل وغیرہ کے ذریعے تو احادیث میں جیسے ذکر آتا ہے تو صاحب ‏قُدوری کے نزدیک یہ چیزیں کیا تھیں؟ مستحب میں داخل تھیں اور باقی علماء کیا فرماتے ہیں یہ بھی سنت میں داخل ہیں۔ ‏سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں سے پتہ لگا آپ کو بھئی نیت کرنا کیا ہے؟ سنت ہے۔ لہذا ایک آدمی بارش میں کھڑا ہوا اس کے ‏چاروں اعضاء یہ پانی پہنچ گیا سب تک بھئی اچھی طرح اب کیا کہیں گے وضو ہوا یا نہیں ہوا؟ ہو گیا۔ ہو گیا یاد رکھو ‏نیت ضروری نہیں۔ ابھی آپ نے پڑھا بھئی نیت کیا ہے؟ سنت ہے فرض نہیں۔ فرض رہ جائے پھر تو وضو ہی نہیں ہوگا ‏لیکن یہ فرض نہیں ہے۔ ایک آدمی نے نہر کے پار جانا تھا، اس نے نہر میں چھلانگ لگائی، دوسری طرف نکل آیا اب ‏سارے اعضاء گیلے، سر وغیرہ سب گیلا۔ اب آپ بتائیے آپ سے کوئی پوچھے وضو ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ ہو گیا۔ ہاں نیت ‏نہ ہو تو پھر ثواب نہیں ملتا۔ نیت سے کرے گا تو ثواب ملے گا۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو وضو ہو جائے گا۔ اور وضو ‏کرتے ہوئے یاد رکھو ایک تو اسراف نہیں کرنا۔ ہاتھ میں کوئی انگوٹھی، چھلا وغیرہ ہے جس کی وجہ سے پانی نیچے ‏نہیں پہنچ سکتا تو اس کو ہلانا ضروری ہے بھئی ورنہ وضو ہی نہیں ہوگا کیونکہ یہ جن چیزوں کا دھونا ضروری اس ‏میں اگر ایک بال کے برابر بھی جگہ خشک رہ گئی تو وضو نہیں ہوگا تو اس کو ہلا لے آدمی اچھی طرح بھئی۔ اگر پانی ‏خود نہ پہنچ تو۔ اور وضو کے بعد بھئی کہتے ہیں سورہ انا انزلنا پڑھنی چاہیے بھئی۔ سمجھ میں آیا حدیث میں آتا ہے جو ‏وضو کے بعد سورہ انا انزلنا نازل پڑھے گا وہ صدیقین میں سے ہوگا۔ ہر وضو کے بعد کم از کم ایک مرتبہ پڑھ لو یا دو ‏پڑھ سکتے ہو یا تین دفعہ پڑھ لو تو اور اچھا ہے۔ اور یہ دعا پڑھے اللہم اجعلنی من التوابين واجعلنی من المتطهرین واجعلنی ‏من عبادك الصالحين واجعلنی من الذین لا خوف علیہم ولا هم يحزنون یہ لکھ لیں مولانا لکھ لیں۔ سمجھ میں ائی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں یاد کرتے جائیں اپنا معمول بناتے جائیں بھئی ان کو ‏بھئی۔ اپنا معمول بناتے جائیں۔ وضو کے بعد کیا پڑھے بھئی؟ سورہ انعام نازل۔ سورہ انعام نازل پڑھے بھئی۔ یہ بھی لکھو ‏اور اس کو اپنا معمول بناؤ۔ اور یہ دعا پڑھے۔ اللہم اجعلنی من التوابين واجعلنی من المتطهرین واجعلنی من عبادك الصالحين ‏واجعلنی من الذین لا خوف علیہم ولا هم يحزنون ۔ یہ دعا اپنا معمول بناؤ اور وہ سورت بھی ساتھ ۔ چلئے بس بھئی ۔ ہذا ہو ‏المرام و اللہ اعلم بحقیقۃ الکلام ۔ ‏