درس نمبر۔24 أَوْ لِغَيْرِهِ، عطفٌ على قوله: ”لِعَيْنِهِ“، أي: الحسنُ إمَّا أن يكون لغيرِ المأمورِ به؛ بأن يكون منشأُ حسنه هو ذلك الغير والمأمورُ به لا دخلَ له فيه، وهو ثلاثةُ أنواعٍ أيضاً، على ما بيّنه بقوله: ”وهو إمَّا أن لا يتأدَّى بنفسِ المأمورِ به أو يتأدَّى، أو يكون حسناً لحسنٍ في شرطه، بعدما كان حسناً لمعنىً في نفسه أو ملحقاً به“. گزشتہ سبق میں ہم نے مأمور بہ کے حسن کی بحث شروع کی تھی۔ آپ نے پڑھا کہ مأمور بہ کے اندر حسن کا ہونا ضروری ہے، اس بات کے بدیہی ہونے کی وجہ سے کہ آمر حکیم ہے۔ آمر حکیم ہے، حکمت والے ہیں، دانا ہیں اور حکمت والا کبھی بھی کسی برے کام کا حکم نہیں کرتا۔ وہ جس کام کا بھی حکم کرتا ہے، معلوم ہوا اس میں کوئی اچھائی ہے، حسن ہے، بھلائی ہے بھئی! تو گزشتہ سبق میں ہم نے پھر پڑھا تھا کہ یہ حسن جو ہے، دو قسم پر ہے۔ ایک حسن کیا ہے؟ جو مأمور بہ کی ذات میں ہوگا اور ایک حسن وہ ہے جو مأمور بہ کی ذات میں نہیں ہے، بلکہ کسی غیر کے واسطے سے اس میں حسن آیا ہے بھئی! تو حسن اس کی ذات میں ہی ہو، تو یہ حسن لعینہ کہلاتا ہے اور اگر حسن اس کی ذات میں نہ ہو، بلکہ کسی غیر کے ذریعے اس میں آیا ہو، تو یہ حسن لغیرہ کہلاتا ہے بھئی، یہ مأمور بہ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ پھر گزشتہ سبق میں حسن لعینہ کی تین اقسام پڑھی تھیں کہ یا تو وہ سقوط کو قبول کرے گا یا قبول نہیں کرے گا، یا وہ ملحق ہوگا حسن لعینہ کے ساتھ اور مشابہ ہوگا حسن لغیرہ کے ساتھ بھئی! تو یہ حسن لعینہ کی اقسام تھیں۔ اب حسن لغیرہ کے بارے میں بتلائیں گے بھئی! ”أَوْ لِغَيْرِهِ“، عطفٌ على قوله: ”لِعَيْنِهِ“، یہ گزشتہ متن میں جو ”لِعَيْنِهِ“ کا لفظ آیا تھا، اس پر عطف ہے بھئی! سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ جو ”وهو إما أن يكون لعينه أو لغيره“، تو یہ ”لِعَيْنِهِ“ پر عطف ہے۔ ”أي الحسن إما أن يكون لغير المأمور به“، کہ وہ حسن یا تو پھر پہلے کیا بتلایا؟ اس کی ذات کی وجہ سے ہوگا، ”أو لغيره“ یعنی وہ حسن کیا ہے؟ غیرِ مأمور بہ کی وجہ سے ہے، ”بأن يكون منشأ حسنه هو ذلك الغير“، بایں طور کہ اس کے حسن کا سبب جو ہے، وہ غیر ہوگا۔ مأمور بہ میں حسن ہے لیکن اپنی ذات کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ کس کی وجہ سے ہے؟ اس غیر کی وجہ سے اس میں حسن آ گیا۔ غیر کی وجہ سے، جیسے میں نے اس کی مثال ذکر کی تھی وضو ہے بھئی! وضو کے اندر اپنی اس کی ذات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پانی کا ضائع کرنا ہی ہے، ذات کے اعتبار سے اس میں حسن نہیں ہے۔ ہاں! حسن اس میں آیا کس کی وجہ سے؟ نماز کی وجہ سے، کیونکہ یہ وسیلہ ہے نماز کے لیے، اس کے ذریعے نماز تک ہم پہنچیں گے، یہ ہوگا تو نماز ادا ہوگی بھئی! تو یہ حسن جو آیا، یا تو غیرِ مأمور بہ کی وجہ سے ہوگا، ”بأن يكون منشأ حسنه“، بایں طور کہ اس کے حسن کا سبب جو ہے، ”هو ذلك الغير“، وہ غیر ہوگا، ”والمأمور به لا دخل له فيه“، اور مأمور بہ کا کوئی دخل نہیں ہوگا اس حسن کے اندر بھئی! مأمور بہ کا خود اپنا کوئی دخل نہیں، اس غیر کی وجہ سے اس میں حسن آیا۔ ”وهو ثلاثة أنواع أيضاً على ما بينه بقوله“، اور یہ بھی تین قسم پر ہے، بناء بر اس کے جس کو بیان کیا ماتن نے اپنے اس قول کے ساتھ: ”وهو إما أن لا يتأدى بنفس المأمور به“، کہ وہ غیر جو ہے، وہ غیر جس کی وجہ سے مأمور بہ میں کیا آیا؟ حسن۔ یا تو وہ ادا نہیں ہوگا نفسِ مأمور بہ کے ساتھ، ”أو يتأدى“، یا کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا۔ بھئی دیکھئے! دو قسمیں یہ ہیں کہ مأمور بہ کو ادا کرتے ہیں، تو وہ غیر بھی ادا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مأمور بہ میں کیا آیا ہے؟ حسن آیا ہے۔ اور کبھی کبھار مأمور بہ کو ادا کریں، تو وہ غیر ادا نہیں ہوتا بھئی، بلکہ اس غیر... سمجھ میں آئی بات بھئی؟ وہ اس کے ساتھ ادا نہیں ہوتا بھئی! اس کے لیے فعل الگ ہے، مأمور بہ کے لیے فعل الگ ہے۔ اور کبھی کیا ہوتا ہے؟ ایک ہی فعل سے کیا ہو جاتے ہیں؟ دونوں ادا ہو جاتے ہیں بھئی! دیکھئے، آگے مثالیں آ جائیں گی بھئی! یا جیسے ابھی سمجھ لیں، جیسے وضو ہے اور جہاد ہے بھئی! وضو کس کی وجہ سے وضو میں حسن آیا؟ نماز کی وجہ سے حسن آیا اور دیکھئے وضو کرنے سے یا نماز ادا کرنے سے وضو نہیں ہوا، اور وضو کی وجہ سے نماز الگ نہیں۔ بلکہ وضو ایک الگ فعل کرنا پڑتا ہے اور نماز ایک الگ فعل ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ مأمور بہ، وہ مأمور بہ اس غیر کو ادا کرنے سے نہیں ہوا ادا بھئی، بلکہ نماز کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟ الگ فعل کرنا پڑے گا، وہ افعال ہیں رکوع، قیام، سجدے وغیرہ وہ کرنا پڑیں گے بھئی! اور کبھی کبھار مأمور بہ کو ادا کرنے سے وہ غیر بھی ادا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مأمور بہ میں حسن آیا۔ مثلاً بھئی، جہاد ہے، اس جہاد کی اپنی ذات میں کہتے ہیں حسن نہیں ہے، اس لیے کیونکہ اس کے اندر تو لوگوں کو کیا کرنا ہے؟ تکلیف دینا ہے، ان کو تباہ کرنا ہے، ان کو قتل کرنا ہے، ہاں اس میں حسن آیا اعلائے کلمۃ اللہ کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ اعلائے کلمۃ اللہ کی وجہ سے بھئی! اس کا جہاد کا مقصد کیا ہے؟ اللہ کے کلمے کو بلند کرنا ہے، اور نفسِ جہاد کے ذریعے ہی اعلائے کلمۃ اللہ بھی ہو جاتا ہے، اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے کوئی الگ فعل نہیں کرنا پڑتا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: ”وهو إما أن لا يتأدى بنفس المأمور به أو يتأدى“، اور وہ غیر یا تو ادا نہیں ہوگا نفسِ مأمور بہ کے ذریعے، یا کیا ہوگا مأمور بہ کے ذریعے؟ ادا ہو جائے گا۔ ”أو يكون حسناً لحسن في شرطه“، یا وہ مأمور... ”يكون“ کے اندر ضمیر راجع ہے مأمور بہ کو، یا وہ مأمور بہ حسن ہوگا ”لحسن في شرطه“، اس کی شرط میں حسن کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ بھئی ایک ہے شرط، ایک ہے مشروط بھئی! تو شرط کے اندر حسن آنے کی وجہ سے مأمور بہ بھی کیا ہو گیا؟ اس میں بھی حسن آیا، وہ بھی حسن ہوا۔ لیکن کس کی وجہ سے حسن آیا اس میں؟ شرط کی وجہ سے۔ تو یہ تیسری قسم ہے: ”أو يكون حسناً لحسن في شرطه“، یا وہ مأمور بہ حسن ہوگا اس کی شرط میں حسن کی وجہ سے، ”بعدما كان حسناً لمعنى في نفسه أو ملحقاً به“، بعد اس کے کہ وہ حسن تھا ”لمعنى في نفسه“، ایسے معنی کی وجہ سے جو اس کی اپنی ذات میں تھا، ”أو ملحقاً به“، یا وہ ملحق بالحسن تھا، ملحق بالحسن لمعنى في غيره... في نفسه بھئی! اچھا بھئی! یہ آگے جا کر آپ کو بتائیں گے شرح میں کہ یہ کوئی قسم نہیں ہے الگ، یہ کوئی الگ قسم نہیں ہے جس کو وہ ذکر کر رہے ہیں، یہ علامہ فخر الاسلام سے تسامح ہوا اور انہوں نے یہ قسم ذکر کر دی اور ماتن نے بھی انہی کا اقتداء کرتے ہوئے یہ قسم ذکر کر دی۔ ورنہ یہ قسم ساروں کو شامل ہے۔ حسن لعینہ کی کتنی قسمیں تھیں؟ تین، ہاں تین! اور حسن لغیرہ کی پہلے کتنی بیان ہوئیں؟ دو۔ یہ تیسری، یہ کوئی الگ قسم نہیں ہے، یہ پانچوں کو جامع ہے؛ تین حسن لعینہ کی اور دو حسن لغیرہ کی، ان سب کو جامع ہے، سب اس میں آ جاتی ہیں۔ اور وہ اس طرح کہ ایک چیز میں مثلاً حسن آیا پہلے سے، چاہے اپنی ذات کی وجہ سے حسن ہو چاہے کسی اور کی وجہ سے اس میں حسن ہو۔ لیکن پھر کیا ہوگا؟ ایک اور چیز کی وجہ سے ایک اور حسن بھی آ گیا، اور وہ قدرت ہے۔ شریعت نے ان چیزوں کا حکم تبھی دیا جب انسان میں قدرت ہو، قدرت نہیں تو شریعت بھی حکم نہیں دیتی۔ نماز کو قیام اور رکوع اور سجدے کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن قدرت نہ ہو تو شریعت کہتی ہے بیٹھ کر پڑھ لو! اس کی بھی قدرت نہ ہو تو شریعت کہتی ہے لیٹ کر پڑھ لو! ان چیزوں کو ساقط کر دیا، معلوم ہوا ان کا حسن کیا ہو چکا ہے اس وقت؟ ساقط ہو چکا۔ تو قدرت کی وجہ سے بھی مأمور بہ میں کیا آ جایا کرتا ہے؟ قدرت ہے تو اس کو اس طرح پڑھنا ہے، اس میں حسن ہے۔ اسی طرح پڑھنا ہے۔ حکم دے رہی ہے یا نہیں شریعت؟ جب حکم دے رہی ہے معلوم ہوا اس میں حسن ہے یا نہیں؟ اور یہ حسن کس کی وجہ سے آ رہا ہے؟ قدرت کی وجہ سے بھی آ رہا ہے، ایک پہلے سے بھی حسن تھا اور ایک قدرت کی وجہ سے۔ تو یہ سب میں آئے گا! نماز، روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ جتنی قسمیں اب تک گزریں۔ وضو اور... اور کیا؟ جہاد! یہی پانچ قسمیں گزری ہیں نا! سب میں قدرت کا ہونا شرط ہے یا نہیں؟ نماز میں بھی قدرت شرط ہے، قدرت نہیں ہے تو بیٹھ کر پڑھو، اس کی بھی قدرت نہیں ہے تو لیٹ کر پڑھو بھئی! دیکھو چیزیں ساقط ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ روزے میں بھی قدرت ہے تو روزہ رکھو، قدرت نہیں ہے تو بعد میں قضا کر لینا، ابھی نہ رکھو بے شک! جہاد میں بھی قدرت ہے تو جہاد پر جاؤ، قدرت نہیں ہے تو نہ جاؤ! قدرت نہیں، معذور ہے ایک شخص بیچارہ، جا ہی نہیں سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور کیا مثال ہے؟ وضو! وضو قدرت ہے تو وضو کرو! اگر قدرت نہیں ہے، بیمار ہو تو تیمم کر لو بھئی! اور کیا چیز ہے؟ حج! حج میں بھی قدرت ہے، اسباب وغیرہ ہیں تو آپ پر فرض ہے، کرو! اسباب وغیرہ نہیں تو فرض بھی نہیں۔ تو دیکھا قدرت تو سب کے اندر شرط ہے بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ان میں سے یہ جو پانچ چیزیں ہیں، ان سب میں قدرت کا ہونا ضروری ہے بھئی! اور ان پانچ میں سے دو قسمیں تو کیا تھیں؟ حسن لعینہ، تیسری ملحق تھی اس کے ساتھ نا، اس کے ساتھ ملا دی تھی ہم نے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو حسن لعینہ کتنی ہو گئیں؟ دو، اور ایک کیا ہوئی؟ ملحق بالحسن لعینہ، اور دو کیا ہوئیں؟ حسن لغیرہ بھئی! تو یہ پانچ قسمیں ہیں اور ان سب کے اندر قدرت کا ہونا شرط ہے۔ معلوم ہوا قدرت ہے تو ان میں حسن ہے، ان کو... ان کا حکم بھی ہے۔ قدرت نہیں تو ان کا حکم نہیں، جب حکم نہیں معلوم ہوا حسن نہیں ہے ان میں ورنہ حکم ضرور ہوتا بھئی! یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قدرت سب میں ہے، یہ سب کو جامع ہے، سب اس کے اندر آ گئیں بھئی، قدرت کی وجہ سے ان میں حسن آتا ہے۔ تو اب ہوگا یہ کہ پہلے ایک حسن تھا، اب قدرت کی وجہ سے بھی حسن آ گیا، کتنے حسن ہو گئے؟ دو! معلوم ہوا جو حسن لعینہ تھی، اس میں کتنے حسن ہو گئے؟ حسن لعینہ میں ایک تو اس کی ذات کی وجہ سے حسن تھا، ایک کس کی وجہ سے حسن آ گیا؟ قدرت کی وجہ سے بھی، تو وہ حسن لعینہ بھی ہوئی اور حسن لغیرہ بھی ہو گئی! اسی طرح ملحق جو تھے حسن لعینہ کے ساتھ، وہ ملحق تھے حسن لعینہ کے ساتھ، اس میں بھی کس کی وجہ سے حسن آ گیا؟ قدرت کی وجہ سے، تو وہ حسن لغیرہ بھی ہو گئی! پہلے تو ملحق تھی کس کے ساتھ؟ لعینہ کے ساتھ، اب کیا ہوئی؟ حسن لغیرہ بھی ہوئی! اور وضو اور جہاد، وضو اور جہاد یہ حسن لغیرہ تھے پہلے ایک اعتبار سے، اب یہ حسن لغیرہ ہیں دو اعتبار سے، دو چیزوں کی وجہ سے ان میں حسن آ رہا ہے۔ سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟ ”أَوْ يَكُونَ حَسَناً لِحُسْنٍ فِي شَرْطِهِ“، یا وہ مأمور بہ کیا ہو جائے گا؟ حسن ہو جائے گا، کس کی وجہ سے؟ ”لِحُسْنٍ فِي شَرْطِهِ“، بوجہ حسن کے اس کی شرط... اور وہ حسن... شرط کیا ہے؟ قدرت ہے، قدرت میں حسن کی وجہ سے وہ مأمور بہ بھی کیا ہو جائے گا؟ حسن ہو جائے گا۔ بھئی، حسن اس میں پہلے بھی موجود ہے ایک ایک اعتبار سے، لیکن اب کس اعتبار سے ہو گیا حسن؟ دو اعتبار سے ہو جائے گا۔ تو یہ معنی ہے ”أَوْ يَكُونَ حَسَناً لِحُسْنٍ فِي شَرْطِهِ“، کہ یا وہ مأمور بہ کیا ہو جائے گا؟ حسن ہو جائے گا ”لِحُسْنٍ فِي شَرْطِهِ“، اس کی شرط میں حسن کی وجہ سے، ”بَعْدَ مَا كَانَ حَسَناً لِمَعْنًى فِي نَفْسِهِ أَوْ مُلْحَقاً بِهِ“، بعد اس کے جبکہ وہ پہلے سے ہی کیا تھا؟ حسن تھا ”لِمَعْنًى فِي نَفْسِهِ“، ایک ایسے معنی کی وجہ سے جو اس کی ذات میں تھا، یعنی حسن لعینہ تھا پہلے سے ہی، ”أَوْ مُلْحَقاً بِهِ“، یا وہ پہلے سے ہی کیا تھا؟ ملحق بہ تھا۔ تو پہلے بھی وہ حسن لعینہ تھا، پھر مزید یہ شرط کی وجہ سے بھی کیا ہو گیا؟ حسن ہو گیا! پہلے بھی وہ ملحق بعینہ تھا، اب شرط کی وجہ سے بھی کیا ہو گیا؟ حسن ہو گیا! آگے تیسری قسم کیا تھی؟ لغیرہ، اس کو بھی ذکر کرنا چاہیے تھا، کیونکہ اس میں بھی حسن آتا ہے یا نہیں شرط کی وجہ سے؟ تو یہاں ”أو لغيره“ بھی ہونا چاہیے تھا، لیکن ماتن نے اس کو ذکر نہیں کیا، وہ آگے جا کر آپ کو بتلائیں گے کیوں نہیں ذکر کیا، کرنا چاہیے تھا، ان میں بھی تو حسن شرط کی وجہ سے آتا ہے یا نہیں آتا؟ ان میں بھی حسن آتا ہے، تو ان کو بھی ذکر کرنا چاہیے تھا، لیکن ماتن نے کیوں نہیں ذکر کیا؟ وجہ ذکر یہ ہے کہ بھئی وہ پہلے بھی حسن لغیرہ تھے، اب شرط کی وجہ سے حسن آ جائے، تو شرط ہے ان سے غیر، اب بھی وہ کیا رہیں گے؟ حسن لغیرہ ہی رہیں گے، جبکہ وہ پچھلے تین جو تھے، وہ پہلے صرف حسن لعینہ یا حسن ملحق بلعینہ تھے، لیکن اب وہ کیا بن گئے؟ حسن لغیرہ بھی ساتھ بن گئے، اس لیے ان دو کو ذکر کیا اور حسن لغیرہ کو ذکر نہیں کیا۔ تو یہی بات کر رہے ہیں: ”أَوْ يَكُونَ حَسَناً لِحُسْنٍ فِي شَرْطِهِ“، یا وہ مأمور بہ جو ہے وہ حسن ہوگا اپنی شرط میں حسن کی وجہ سے، ”بَعْدَ مَا كَانَ حَسَناً لِمَعْنًى فِي نَفْسِهِ أَوْ مُلْحَقاً بِهِ“، بعد اس کے جبکہ وہ حسن لعینہ تھا یا ملحق ملحق بہ تھا۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں: ”وفي هذا التقسيم وأمثلته مسامحات“، اس تقسیم اور اس کی مثالوں کے اندر مسامحتیں ہیں، کئی جگہ ماتن سے کیا ہوئی ہیں؟ مسامحتیں ہوئی ہیں بھئی! تین مسامحتیں یہاں ذکر کریں گے مولانا، تین مسامحتیں! اور آگے مثال کے اندر بھی مسامحت ذکر کریں گے بھئی! دیکھئے بھئی! ”لأن ضمير "هو" راجعٌ إلى الغير“، اس لیے کہ ”هو“ کی ضمیر جو متن میں آئی: ”وهو“، یہ ضمیر ”هو“ کی جو ہے، ”راجع إلى الغير“، کس کی طرف راجع ہے؟ غیر کی طرف، کیا ترجمہ میں نے کیا تھا؟ کہ وہ غیر یا تو نفسِ مأمور بہ کے ادا کرنے سے ادا ہوگا یا ادا نہیں، تو یہ ضمیر راجع ہے غیر کی طرف۔ ”وضمير "يكون"“، ”يكون“ بھی اسی طرح پڑھ لیں مولانا اعرابِ حکائی جیسے متن میں منصوب آیا تھا، یہاں بھی منصوب پڑھ لیں: ”وضمير "يكون" راجعٌ إلى المأمور به“، اور ”يكون“ کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ مأمور بہ کو! ”هو“ ضمیر کس کو راجع؟ غیر کو! اور سمجھ میں آیا؟ جو ”هو“ کی ضمیر غیر کو راجع، تو ”لا يتأدى“ اور ”يتأدى“ کی ضمیر بھی کس کو راجع؟ غیر ہی کو راجع ہے، اور یہ ”يكون“ کی ضمیر ہے، وہ کس کو راجع ہے؟ مأمور بہ کو راجع ہے، ”وفيه انتشارٌ“، اور اس کے اندر کیا ہے؟ انتشار ہے مولانا، انتشارِ ضمائر! بظاہر یوں لگتا تھا کہ یہ ساری ضمیریں تو کس کو لوٹنی چاہئیں؟ غیر کو لوٹنی چاہئیں! جب ”هو“ غیر کو لوٹ رہی ہے اور آگے اسی کی خبر چل رہی ہے، تو ضمیریں بھی آگے کس کو لوٹنی چاہئیں؟ غیر کو! اور بظاہر کلام دیکھو، پھر متن پہ نظر رکھو، کہتے ہیں: وہ غیر یا تو وہ ادا ہوگا نفسِ مأمور بہ سے یا ادا نہیں ہوگا یا وہ حسن ہوگا... تو بظاہر کیا شبہ پڑتا ہے؟ یہ ضمیر بھی کس کو راجع ہے؟ غیر کو، حالانکہ یہ ضمیر تو غیر کو راجع نہیں، یہ تو مأمور بہ کو راجع ہے کہ مأمور بہ کیا ہوگا؟ حسن ہوگا بھئی! تو اس میں انتشارِ ضمائر آیا مولانا! ”والمعنى“، معنی یہ ہے کلام کا: ”أن ذلك الغير الذي حسن المأمور به لأجله“، کہ وہ غیر جس کی وجہ سے مأمور بہ حسین ہوا، حسن ہوا ہے... انہیں مامور بہ حسن ہوا ہے لجلہ اس کی وجہ سے۔ اما ان لا یتادی بنفس فعل المامور بہ یا تو وہ ادا نہیں ہوتا نفس فعل، نفس فعل مامور بہ از سے بلکہ لا بد ان یوجد المامور بہ بفعل اخر۔ بلکہ ضروری ہے کہ مامور بہ پایا جائے ایک اور فعل کے ذریعے۔ یعنی مامور بہ کے لیے الگ فعل کا ہونا ضروری اور اس غیر کے لیے الگ فعل کا ہونا ضروری۔ فہو کامل فی کونہ حسنا للغیر۔ تو یہ جو مامور بہ ہے، یہ کامل ہوا حسن للغیر ہونے میں۔ کیا ہوا؟ کامل ہوا حسن للغیر ہونے میں، کیونکہ حسن للغیر کسے کہتے تھے؟ جس میں غیر کی وجہ سے حسن آئے، تو غیر کو کیسا ہونا چاہیے؟ اسے ادا بھی الگ ہی ہونا چاہیے، اس کے ساتھ ادا نہیں ہونا چاہیے اور اس قسم کے اندر وہ غیر کو ادا کریں تو مامور بہ ادا نہیں ہوتا اور صرف مامور بہ ہو تو وہ غیر ادا نہیں ہوتا، دونوں کے لیے الگ الگ فعل ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ او یتادی بنفس فعل المامور بہ یا وہ غیر کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا نفس فعل مامور بہ کے ذریعے ہی۔ لا یحتاج الى فعل اخر وہ کسی دوسرے فعل کا محتاج نہیں۔ یعنی جب مامور بہ کے ادا کریں گے تو وہ غیر جس کی وجہ سے اس مامور بہ میں حسن آیا تھا، وہ بھی کیا ہو جاتا ہے؟ ساتھ ہی ساتھ ادا ہو جاتا ہے، جیسے جہاد کیا تو ساتھ ہی ساتھ وہ غیر جس کی وجہ سے جہاد میں حسن آیا تھا، یعنی اعلائے کلمۃ اللہ وہ بھی اس کے ساتھ ہی کیا ہو گیا؟ ادا ہو گیا۔ تو وہ کہتے ہیں یہ جو قسم ہے جہاں غیر فعل مامور بہ کے ذریعے ادا ہو جاتا ہے اور کسی اور فعل کا محتاج نہیں ہوتا، کہتے ہیں فہو قریب من الحسن لعینہ، تو یہ حسن لعینہ کے قریب ہی ہے بھئی۔ کیا ہے؟ یہ اس کے قریب ہے کیونکہ اسی ایک فعل مامور بہ کے ذریعے وہ غیر بھی کیا ہے؟ ادا ہو رہا ہے، اس کے لیے کوئی الگ فعل کرنا نہیں پڑتا بھئی۔ او یکون ذلک المامور بہ حسنا لحسن فی شرطہ۔ یہ بھی متن کی شرح چل رہی ہے بھئی، وہ عبارت ذکر کرتے جا رہے ہیں۔ یا وہ مامور بہ کیا ہوگا؟ حسنا لحسن فی شرطہ، وہ مامور بہ حسن ہوگا لحسن فی شرطہ اس کی شرط میں حسن کی وجہ سے، اس کی شرط میں حسن ہوگا بھئی۔ شرط کیا ہے؟ کہتے ہیں وہو القدرۃ، وہ قدرت ہے۔ وہ کیا ہے؟ قدرت ہے۔ یعنی لا یکلف اللہ تعالی لاحد بامر من الامور الا بحسب طاقتہ و قدرتہ۔ یعنی یہ کہ اللہ تعالی مکلف نہیں فرماتے کسی ایک کو بھی امر کے ساتھ، کسی ایک کو، اللہ تعالی امر کے ساتھ کسی ایک کو بھی مکلف نہیں فرماتے من المامور، مامور میں سے یعنی بندے میں سے، مامور کون ہے؟ بندہ ہے نہ جس کو حکم امر کیا گیا۔ تو اللہ تعالی کسی کسی بندے کو بھی مکلف نہیں، کسی ایک کو بھی یعنی کسی بندے کو بھی مکلف نہیں فرماتے امر کے ذریعے الا بحسب طاقتہ و قدرتہ مگر اس کی طاقت اور قدرت کے بقدر۔ اتنا ہی مکلف فرماتے ہیں جتنی اس میں طاقت اور قدرت ہوتی ہے، اس سے زائد مکلف نہیں فرماتے، تو معلوم ہوا قدرت کا ہونا شرط ہے مولانا، کیا ہے؟ شرط ہے، قدرت ہوگی تو نماز بھی واجب ہوگی، قدرت ہوگی تو روزہ بھی کیا ہوگا؟ واجب ہوگا۔ سمجھ میں آئی صورت بھئی؟ ہاں، یعنی نماز، نماز واجب ہوگی، یعنی قدرت ہوگی تو نماز قیام اور رکوع وغیرہ کے ساتھ واجب ہوگی۔ قدرت نہیں تو پھر نماز بیٹھ کر ادا کرنا ہوگی، اس طریقے پر واجب ہوگی اور اگر بیٹھنے کی بھی قدرت نہیں ہے تو پھر لیٹ کر اشاروں کے ساتھ ادا کرنا واجب ہوگی۔ تو جس قدر قدرت ہوگی اسی قدر وہ شخص مکلف ہے، اس کو کیا بنایا گیا ہے؟ مکلف بنایا گیا ہے بھئی اس کو۔ فہذا ایضا حسن بھئی۔ تو یہ بھی جو ہے حسن ہے، یہ بھی کیا ہے؟ یہ اس کا تعلق بھئی یہ درمیان میں قدرت کی تعریف نکال دیں وہو القدرۃ یعنی لا یکلف یہ سارا نکال دیں، اب پچھلی عبارت سے جڑی ہوئی ہے۔ او یکون دوبارہ دیکھیں، او یکون ذلک المامور بہ حسنا لحسن فی شرطہ، یا وہ مامور بہ حسن ہوگا بوجہ اس کی شرط کے اندر حسن کے پائے جانے کے، فہذا ایضا حسن تو یہ مامور بہ بھی کیا ہوا؟ حسن، جب اس کی شرط میں حسن ہے تو یہ مامور بہ بھی کیا ہو گیا؟ اس میں بھی حسن آیا تو یہ کیا بن گیا؟ حسن ہوا۔ کہتے ہیں وہذا القسم لیس بقسم فی الواقع، کہتے ہیں یہ جو تیسری قسم ذکر کی حسن لغیرہ کی، یہ واقع کے اندر یہ کوئی مستقل قسم نہیں ہے، ولکنہ شرط للاقسام الخمسۃ المقدمۃ لعینہ و لغیرہ، بلکہ یہ شرط ہے وہ پانچ اقسام جو پہلے گزری ہیں، حسن لعینہ اور لغیرہ کی، لعینہ اور لغیرہ کی جو پہلے پانچ اقسام گزری ہیں یہ ان کے لیے کیا ہے؟ شرط ہے مولانا، ان سب کے لیے شرط ہے، کیونکہ ان سب میں وہ مکلف بندہ تبھی ہوگا جب اس میں قدرت ہوگی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ قدرت تو ضروری ہے، قدرت ہوگی تو انسان وہ فعل کرنے پر قادر ہو۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ کوئی، کیا بات بتلائی یہاں سے؟ یہ جو کہا نہ کہ شرط کے، مامور بہ حسن ہو لحسن فی شرطہ، یہ تیسری قسم جو لغیرہ کی بتلائی، شارح فرما رہے ہیں یہ کوئی الگ قسم نہیں ہے بلکہ یہ انہی پانچ قسموں کے لیے جو گزر گئیں، پانچ میں سے تین کس کی گزری تھیں؟ حسن لعینہ کی اور دو کس کی گزریں؟ حسن لغیرہ کی، یہ تیسری تھی، کہتے ہیں یہ تیسری دراصل کوئی الگ مستقل قسم نہیں ہے بلکہ یہ پہلی پانچوں کے لیے کیا ہے؟ شرط ہے۔ ولہذا لم یذکرہ الجمهور بعنوان التقسیم، اور اسی وجہ سے جمہور نے اس کو تقسیم کے عنوان سے ذکر نہیں کیا۔ یعنی چونکہ یہ الگ قسم ہی نہیں ہے تو جمہور نے اس کو علیحدہ قسم کے طور پر ذکر بھی نہیں کیا، وانما ذکرہ فخر الاسلام مسامحۃ، اور اس کو ذکر کیا ہے علامہ فخر الاسلام نے مسامحت کرتے ہوئے، بطور مسامحۃ انہوں نے کیا کر دیا؟ اس قسم کو ذکر کر دیا، وسماہ ضربا سادسا، اور اس کا نام انہوں نے کیا رکھا؟ چھٹی قسم رکھا، وہ چھٹی قسم جامعہ لكل من الخمسۃ المتقدمۃ، جو جامع ہے، جمع کرنے والی ہے پہلی پانچ قسموں کو، کیونکہ ہر ایک کے لیے یہ شرط ہے تو پہلی پانچ سب کو اس نے کیا کر دیا؟ جمع کر دیا۔ فاذا كان جامعا، جب یہ جامع ہے یعنی سب کو شامل ہے تو پھر فینبغی ان یقول، تو ماتن کے لیے مناسب یہ تھا کہ یوں کہتے۔ یہ یوں کہتے بھئی۔ اچھا، اوپر جو آیا نہ وانما ذکرہ فخر، پہلی ایک مسامحت ذکر کر دی تھی انہوں نے متن کے اندر، شرح میں بھئی۔ پہلی مسامحت کیا ذکر کی تھی؟ کہ وہ ضمائر میں کیا ہے؟ انتشار۔ دوسری مسامحت یہ ہے کہ یہ علیحدہ قسم نہیں ہے، اس کو علامہ فخر الاسلام نے ذکر کیا ہے لیکن یہ مسامحۃ انہوں نے ذکر کیا ہے، یہ علیحدہ قسم نہیں ہے اور شارح ماتن نے بھی کیا کر دیا؟ اس کو علیحدہ قسم کے طور پر ذکر کر دیا، تو یہ علیحدہ کوئی قسم ہے ہی نہیں، تو یہ مسامحت دوسری مسامحت ہوئی۔ فینبغی ان یقول یہاں سے تیسری مسامحت ذکر کریں گے بھئی۔ بھئی دیکھیے متن میں کیا آیا؟ بعد ما کان، اچھا میں نے بتایا کہ وہ مامور، دوبارہ دیکھو او متن متن، او یکون حسنا لحسن فی شرطہ، یا وہ مامور بہ حسن ہوگا اس کی شرط میں حسن کی وجہ سے، توجہ سے سننا بھئی، یا وہ مامور بہ حسن ہوگا اس کی شرط میں حسن کی وجہ سے اور اب نیچے بتلا دیا کہ یہ قسم کیا ہے؟ ساری قسموں کو جامع ہے، یہ کیا ہے؟ سارے قسموں کو جامع ہے، سب کے اندر کیا ضروری ہے؟ قدرت کا ہونا ضروری ہے، جب یہ سب کو جامع ہے تو لہذا آگے سب کا ذکر کرنا چاہیے تھا، ماتن نے صرف حسن لعینہ اور ملحق بہ کو تو ذکر کیا۔ ماتن نے کیا کہا؟ بعد ما کان حسنا کہ اس مامور بہ، دوبارہ دیکھو وہ مامور بہ حسن ہوگا اپنی شرط میں حسن کی وجہ سے بعد اس کے جبکہ وہ کیا تھا پہلے سے؟ پہلے سے کیا تھا؟ حسن لمعنى فی نفسہ اور یا یا ملحق بالحسن لعینہ تھا، تو اس میں کتنی صورتیں آئیں؟ کتنی؟ بھئی حسن لعینہ کی تقسیم کی تھی نہ ایک وہ جو سقوط کو قبول کرتا ہے، سقوط کو قبول نہیں اور تیسری قسم کیا تھی؟ ملحق بالحسن لعینہ تھی، تو یہاں کتنی قسمیں ذکر ہوئیں؟ تین ذکر ہوئیں بعد اس کے کہ وہ حسن تھا کس وجہ سے؟ لمعنى فی نفسہ او تو اس میں کون حسن لمعنى فی نفسہ میں کون کون سی قسمیں آئیں؟ ایک وہ جو سقوط کو قبول کرتی ہے، ایک وہ جو سقوط کو قبول اور ملحقا بہ کے اندر تیسری قسم آ گئی جو ملحق تو حسن لعینہ کے ساتھ ہے لیکن مشابہ کس کے ساتھ ہے؟ حسن لغیرہ کے ساتھ، اچھا کتنی قسمیں ذکر ہو گئیں؟ تین اور نیچے شرح میں بتایا کہ یہ جو پانچ چھٹی قسم ہے، یہ پانچوں کو جامع ہے۔ کیا ہے؟ پانچوں کو جامع ہے تو یہ تو تین کا ذکر ہوا کہ تین، باقی دو حسن لغیرہ اس کو تو ذکر ہی نہیں کیا، حسن لغیرہ کی دو اقسام کون کون سی ہیں؟ ایک وہ جو نفس مامور بہ کے ادا کرنے سے ادا ہو جاتی ہے اور ایک وہ جو مامور بہ کے ادا کرنے سے ادا نہیں ہوتی، لہذا اس کو بھی تو ذکر کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ تو پانچوں کے لیے جامع ہے، انہوں نے صرف کتنے کو ذکر کیا؟ تین کو ذکر کیا۔ تو کہنا یوں چاہیے تھا، متن پہ ذرا نظر رکھو، بعد ما كان حسنا لمعنى فی نفسہ او ملحقا بہ او لغیرہ۔ کہ وہ مامور بہ حسن ہوگا اپنی شرط کی وجہ سے بھی بعد اس کے جبکہ وہ پہلے سے کیا تھا؟ حسن لعینہ تھا یا ملحق بالحسن لعینہ تھا یا حسن لغیرہ تھا، جب حسن لغیرہ بھی ساتھ کہہ دیتے تو حسن لغیرہ کی بقیہ دو اقسام بھی اس میں کیا ہو جاتیں؟ داخل شامل ہو جاتیں، تو پتہ چل جاتا کہ یہ پانچوں قسموں کو کیا ہے؟ جامع ہے، لیکن ماتن نے متن میں لغیرہ کی قید بڑھائی نہیں اور حالانکہ بڑھانی چاہیے تھی، کیونکہ یہ قسم کیا ہے؟ صرف حسن لعینہ اور ملحق ملحق بہ کی کو شامل نہیں ہے بلکہ لغیرہ کو بھی شامل ہے، اس کو بھی ذکر کرنا چاہیے تھا۔ مسامحت سمجھ میں آئی بھئی ماتن کی؟ تو کہتے ہیں فاذا كان جامعا، جب یہ جامع تھی یہ قسم، فینبغی ان یقول، یہ تیسری مسامحت ذکر ہونے لگی ہے، پس مناسب تھا کہ یوں کہتے ماتن، بعد ما، یہ وہ متن ذکر ہو رہا ہے، بعد ما كان حسنا لمعنى فی نفسہ او ملحقا بہ او لغیرہ، یہ او لغیرہ کی قید کو بھی کیا کرنا چاہیے تھا؟ بڑھانا چاہیے تھا، یوں کہنا چاہیے تھا، حتی یکون المعنى یہاں تک کہ معنی یہ ہو جاتا کہ ان المامور بہ بعد ما كان حسنا۔ دیکھیے وہ مامور بہ تو پہلے سے ہی حسن ہے۔ کیا ہے؟ وہ حسن لعینہ ہوگا پہلے سے یا ملحق بالحسن لعینہ ہوگا یا کیا ہوگا؟ حسن لغیرہ ہوگا، تو اس میں حسن پہلے ہی موجود ہے، کسی میں اپنی ذات کے اعتبار سے حسن موجود ہے، کسی میں غیر کی وجہ سے حسن موجود، بہرحال حسن سب میں ہے، لیکن پھر اس حسن پر ایک اور حسن بھی آ جاتا ہے اور وہ کس چیز کا، کس کی وجہ سے آتا ہے؟ شرط کی وجہ سے آتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ایک حسن زائد ہوا، کیا ہوا حسن؟ زائد ہوا، اب یہی معنی کرنے لگے ہیں کہ دیکھو ان ساروں میں پہلے سے حسن موجود تھا پھر ان میں شرط کی وجہ سے ایک اور بھی حسن آ گیا، دیکھو یہی معنی، حتی یکون المعنى یہاں تک کہ معنی یہ ہوگا کہ ان المامور بہ بعد ما كان حسنا لمعنى فی نفسہ، کہ مامور بہ بعد اس کے جبکہ وہ حسن تھا لمعنى فی نفسہ کی وجہ سے، كالتصدیق والصلاۃ، جیسے کہ تصدیق اور دونوں قسمیں ذکر کر دیں، تصدیق وہ ہے، وہ حسن لعینہ ہے جو سقوط کو قبول نہیں کرتی، صلاۃ وہ حسن لعینہ ہے جو سقوط کو قبول کر لیتی ہے، او ملحقا بہ یا بعد اس کے جبکہ وہ مامور بہ کیا تھا؟ بھئی پیچھے حسنا آیا کہ نہیں اسی پر عطف ہے، کہ وہ حسن لعینہ تھا جیسے تصدیق اور صلاۃ یا ملحق بہ تھا جیسے زکاۃ، صوم اور حج، او لغیرہ یا وہ مامور بہ حسن تھا لغیرہ، كالوضوء والجہاد، تو دیکھو یہ پانچوں قسمیں آ گئیں، تو جب بعد اس کے جبکہ وہ پہلے سے ہی حسن تھا اس وجہ سے، صار حسنا لمعنى اخر، پھر وہ حسن ہو گیا ایک اور معنی کی وجہ سے بھی، وہ ایک اور معنی کی وجہ سے بھی حسن، وہو كونہ مشروطا بالقدرۃ، اور وہ اس کا مشروط بالقدرت ہونا ہے، قدرت کے ساتھ مشروط ہونا ہے، تو اس کی وجہ سے بھی اس میں کیا آیا؟ حسن ہوا تو پھر اس کی وجہ سے بھی حسن ہو گیا۔ فلہذہ القدرۃ صارت اوامر الشرع كلها حسنۃ للغیر، تو اس قدرت کی وجہ سے تمام اوامر شرع جو ہیں وہ حسن للغیر ہو گئے۔ کیا ہو گئے؟ بھئی دیکھیے ادھر دوبارہ دیکھو، پہلی تین قسمیں کیا تھیں؟ حسن لعینہ کی دو قسمیں حسن لعینہ کی تین قسمیں ذکر کیں، ایک جو سقوط کو قبول کرتی ہے، جو سقوط کو قبول اور ایک جو ملحق بہ ہے، ان تینوں کے اندر بتایا حسن ان کی ذات کے اعتبار سے ہے تو یہ حسن لعینہ ہیں اور حسن لغیرہ پھر دو قسمیں ذکر کیں مولانا، جو مامور بہ کو ادا کرنے سے وہ غیر ادا ہوگا یا ادا نہیں ہوگا، تو ان میں بھی حسن ہے، حسن کس کی وجہ سے ہے؟ غیر کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ تو ان ساروں کے اندر حسن ہے، لیکن ان ساروں میں حسن کس کی وجہ سے بھی آیا؟ شرط کی وجہ سے بھی آیا اور شرط تو مشروط سے غیر ہوتی ہے، تو یہ سارے کیا بن گئے؟ حسن لغیرہ بھی ہوئے، بایں اعتبار سارے کیا ہوئے؟ حسن لغیرہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کچھ تو پہلے سے ہی حسن لغیرہ تھے، وہ حسن لغیرہ تھے پہلے ایک وجہ سبب سے، اب حسن لغیرہ ہو گئے دو سبب، دو وجہوں سے حسن، تو وہ یہ شرط کی وجہ سے بھی اس میں حسن آ گیا، کیا وہ حسن لغیرہ ہونے سے خارج ہوا؟ وہ خارج ہی نہیں ہوا، اس پہ کوئی اثر نہیں پڑا، ہاں یہ جو پہلی تین قسمیں تھیں، ایک حسن لعینہ اس کی دو قسمیں اور ایک ملحق بالحسن یہ تو حسن لعینہ تھے، لیکن ان میں جب حسن شرط کی وجہ سے بھی آیا تو یہ کیا بن گئے؟ حسن لغیرہ بھی بن گئے، کیا ہوئے؟ حسن لغیرہ بھی بن گئے، تو بایں اعتبار یہ جامع ہو گئے، یہ حسن لعینہ بھی ہیں پہلے سے اور کیا بن گئے؟ حسن لغیرہ بھی بن گئے، تو چونکہ ان میں یہ پہلے تو حسن لغیرہ نہیں تھے، اب اس شرط کی وجہ سے یہ کیا بن گئے ہیں؟ حسن لغیرہ اور جو حسن لغیرہ تھا وہ تو پہلے ہی غیر کی وجہ سے حسن تھا، اس میں کسی قسم کی تبدیلی چونکہ اس میں تبدیلی کچھ نہیں آئی لہذا اس کو ذکر نہیں کیا اور جن میں تبدیلی آ رہی تھی ان دو کو کیا کر دیا؟ ذکر کر دیا، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں فلہذہ القدرۃ اسی قدرت کی وجہ سے صارت اوامر الشرع كلها حسنۃ للغیر شریعت کے سارے اوامر جو ہیں وہ کیا ہو گئے؟ حسن للغیر بھی ہو گئے، کیونکہ شرط کی وجہ سے سب میں حسن آ رہا ہے اور شرط مشروط سے غیر ہوتی ہے۔ولكن الحسن ولکن الحسن لمعنى فی نفسہ والملحق، ہاں، اب ذکر وجہ ذکر کرنے لگے ہیں بھئی کہ حسن للغیر تو سارے ہو گئے، ماتن نے یہ لغیرہ کو پھر پھر بڑھایا کیوں نہیں؟ کیا کرنا چاہیے تھا؟ بڑھانا چاہیے تھا کیونکہ یہ پانچویں چھٹی قسم تو ساروں کو شامل ہے، تو اس کو بھی ذکر کرنا چاہیے تھا، کہتے ہیں بھئی ذکر کریں گے، کہ شاید ماتن نے اس لیے ذکر نہیں کیا کہ حسن لغیرہ تو پہلے ہی حسن لغیرہ ہے، پہلے ہی کیا ہے؟ اگر شرط کی وجہ سے بھی حسن آ جائے پھر بھی وہ کیا رہے گا؟ حسن لغیرہ ہی رہے گا، ہاں پہلے یہ حسن لغیرہ تھا ایک وجہ سبب سے، اب حسن لغیرہ ہے دو سبب، دو وجہوں سے حسن، تو وہ یہ شرط کی وجہ سے بھی اس میں حسن آ گیا، کیا وہ حسن لغیرہ ہونے سے خارج ہوا؟ وہ خارج ہی نہیں ہوا، اس پہ کوئی اثر نہیں پڑا، ہاں یہ جو پہلی تین قسمیں تھیں، ایک حسن لعینہ، اس کی دو قسمیں اور ایک ملحق بالحسن، یہ تو حسن لعینہ تھے، لیکن ان میں جب حسن شرط کی وجہ سے بھی آیا تو یہ کیا بن گئے؟ حسن لغیرہ بھی بن گئے، کیا ہوئے؟ حسن لغیرہ بھی بن گئے، تو بایں اعتبار یہ جامع ہو گئے، یہ حسن لعینہ بھی ہیں پہلے سے اور کیا بن گئے؟ حسن لغیرہ بھی بن گئے، تو چونکہ ان میں یہ پہلے تو حسن لغیرہ نہیں تھے، اب اس شرط کی وجہ سے یہ کیا بن گئے ہیں؟ حسن لغیرہ اور جو حسن لغیرہ تھا وہ تو پہلے ہی غیر کی وجہ سے حسن تھا، اس میں کسی قسم کی تبدیلی چونکہ اس میں تبدیلی کچھ نہیں آئی لہذا اس کو ذکر نہیں کیا اور جن میں تبدیلی آ رہی تھی ان دو کو کیا کر دیا؟ ذکر کر دیا، بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہتے ہیں ولکن الحسن لمعنى فی نفسہ وَالْمُلْحَقِ بِهِ صَارَ جَامِعًا لِكَوْنِهِ لِعَيْنِهِ وَلِغَيْرِهِ، لیکن وہ حسن جو ایسے معنی کی وجہ سے جو اس کی ذات میں ہے یا ملحق بہ ہے وہ دونوں جامع ہو گئے لِكَوْنِهِ لِعَيْنِهِ وَلِغَيْرِهِ۔ یعنی حسن لعینہ اور حسن لغيرہ، دونوں اس طرح دونوں کے جامع ہو گئے، وہ حسن لعینہ بھی ہوئے اور حسن لغيرہ بھی ہوئے، وَلِهَذَا قَيَّدَهُ بِهِمَا اسی وجہ سے ماتن نے مقید کیا ہے ان دونوں کے ساتھ یعنی حسن لمعنی فی نفسہ اور ملحق بالحسن کے ساتھ، بِخِلَافِ مَا كَانَ لِغَيْرِهِ برخلاف وہ جو حسن ہے غیر کی وجہ سے اس کے ساتھ قید نہیں کیا، فَإِنَّهُ اجْتَمَعَ فِيهِ الْحَسَنُ لِغَيْرِهِ، فَإِنَّهُ اجْتَمَعَ فِيهِ الْحُسْنُ لِغَيْرِهِ اس لیے کہ اس کے اندر حسن لغيرہ جمع ہوا مِنْ جِهَتَيْنِ کتنی وجہ سے؟ دو وجہ سے ہوا، لِأَجْلِ الْغَيْرِ الْمُعَيَّنِ وَلِأَجْلِ الْقُدْرَةِ، ایک تو اس میں حسن آیا کس کی وجہ سے؟ غیر متعین سے، کوئی متعین چیز کی وجہ سے ہر ایک میں حسن آ رہا تھا یا ہر ایک کے لیے الگ الگ وجہ تھی؟ الگ الگ وجہ تھی بھئی، سمجھ میں آیا؟ جہاد میں کیا تھا؟ اعلائے کلمۃ اللہ، وضو کے لیے کیا تھا؟ نماز وغیرہ، ہر ایک کے لیے الگ الگ تھا۔ تو وہ پہلا پہلی کی تو ان میں دو جہت سے حسن، دو غیر تھے جن کی وجہ سے حسن آیا ان میں، حسن لغيرہ میں کتنی غیروں سے آیا حسن؟ ایک غیر تو غیر متعین ہے، کچھ ہر ایک کے لیے الگ الگ ہے اور دوسرا غیر غیر سب کے لیے متعین ہے اور وہ کیا ہے؟ قدرت، سب میں قدرت کی وجہ سے کیا آ رہا ہے؟ حسن، تو قدرت کی وجہ سے سب میں حسن آ رہا ہے اور ایک تو ایک متعین ہے اور ایک غیر، قدرت متعین ہے اسی کی وجہ سے سب میں حسن آ رہا ہے اور ایک غیر متعین بھی ہے جو ہر ایک کے لیے الگ الگ ہے اس کی وجہ سے بھی ہر ایک میں کیا آ رہا ہے؟ حسن۔ تو کہتے ہیں یہ لِأَجْلِ الْغَيْرِ الْمُعَيَّنِ وَلِأَجْلِ الْقُدْرَةِ حسن آیا دو جہت سے ہی، ایک تو غیر متعین کی وجہ سے اور ایک قدرت کی وجہ سے، فَلَا يَخْرُجُ عَنْ كَوْنِهِ لِغَيْرِهِ تو یہ قسم تو حسن لغيرہ ہونے سے خارج نہیں ہوئی بلکہ ہاں اس میں دو وجہ سے بس حسن آیا لیکن دو پھر بھی یہ لغيرہ ہی رہی، وَلَعَلَّهُ لِهَذَا لَمْ يُقَيِّدْهُ بِهِ اور شاید اسی وجہ سے ماتن نے اس کو لغيرہ کے ساتھ مقید نہیں کیا۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ ثُمَّ بَعْدَ هَذِهِ الْمُسَامَحَاتِ الْمُسَامَحَاتِ الثَّلَاثَةِ قَدْ تَسَامَحَ فِي أَمْثِلَتِهِ ماتن نے اوپر کیا شارح نے کیا کہا تھا؟ اس تقسیم اور مثالوں سب میں کے اندر سب میں کیا ہے؟ تسامح، اب شارح کے اندر تین تسامح ذکر کر دیے، پہلا تسامح کیا ذکر کیا؟ کہ ضمیروں میں انتشار ہے، دوسرا تسامح کیا ذکر کیا؟ کہ یہ جو چھٹی قسم علیحدہ قسم بنائی یہ بھی کیا ہے؟ مسامحت ہے، علامہ فخر الاسلام نے اس کو ذکر کیا لیکن انہوں نے بھی مسامحۃً ذکر کیا، یہ کوئی علیحدہ قسم نہیں، اسی وجہ سے جمہور اصولیین نے اس کو ذکر نہیں کیا بھئی اس قسم کو علیحدہ، اور تیسری مسامحت کیا ذکر کی بھئی؟ کہ ماتن کو کیا قید لگانی چاہیے تھی؟ لغيرہ کی قید لگانی چاہیے تھی لیکن انہوں نے یہ قید نہیں لگائی، جی۔ اب ذکر کر رہے ہیں ثُمَّ بَعْدَ هَذِهِ الْمُسَامَحَاتِ الثَّلَاثَةِ پھر ان تین مسامحتوں کے بعد قَدْ تَسَامَحَ فِي أَمْثِلَتِهِ ماتن، مصنف نے تسامح کیا ہے اس کی مثالوں کے اندر بھی حَيْثُ قَالَ اس طور پر کہ یوں کہا كَالْوُضُوءِ وَالْجِهَادِ وَالْقُدْرَةِ جیسے کہ وضو ہے، مثالیں اب ذکر کر رہے ہیں، جہاد ہے اور وَالْقُدْرَةِ اور وہ قدرت ہے الَّتِي يَتَمَكَّنُ بِهَا الْعَبْدُ مِنْ أَدَاءِ مَا لَزِمَهُ جس کے ذریعے قادر ہوتا ہے بندہ اس چیز کو ادا کرنے پر جو اس پر لازم ہوئی ہے، وہ قدرت ہے جس کے ذریعے بندہ اس چیز پر قادر ہوتا ہے جو اس پر لازم ہوئی ہے، تو تین مثالیں ذکر کر دیں وضو، جہاد اور قدرت، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تسامح کیا ہے وہ آگے بیان ہو گا مولانا۔ فَالْوُضُوءُ مِثَالٌ لِلْمَأْمُورِ بِهِ الَّذِي لَا يَتَأَدَّى الْغَيْرُ بِأَدَائِهِ پس وضو جو ہے مثال ہے اس مامور بہ کی جو ادا نہیں اس مامور بہ کی کہ ادا نہیں ہوتا وہ غیر بِأَدَائِهِ اس مامور بہ کو ادا کرنے سے، مامور بہ کو ادا کرنے سے وہ غیر ادا نہیں، فَإِنَّهُ فِي نَفْسِهِ اچھا اب یہ کیوں یہ جو وضو جو ہے یہ اپنی ذات کے اعتبار سے تَبْرِيدٌ وَتَنْظِيفٌ لِلْأَعْضَاءِ وَإِضَاعَةٌ لِلْمَاءِ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے ٹھنڈا کرنا ہے، تبرید کا معنی یعنی اعضا کو ٹھنڈا کرنا ہے، پانی ڈالیں گے ٹھنڈے ہوں، وَتَنْظِيفٌ لِلْأَعْضَاءِ اور اعضا کو پاک کرنا ہے، وَإِضَاعَةٌ لِلْمَاءِ اور پانی کو ضائع کرنا ہے، تو اس کی ذات میں کوئی حسن نہیں ہے وَإِنَّمَا حَسُنَ لِأَجْلِ أَدَاءِ الصَّلَاةِ اور یہ جو حسین ہوا اس میں حسن جو آیا یہ جو حسن ہوا لِأَجْلِ أَدَاءِ الصَّلَاةِ کس کی وجہ سے ہے؟ نماز کو کی نماز کے ادا کرنے کی وجہ سے ہے، وَالصَّلَاةُ مِمَّا لَا يَتَأَدَّى بِنَفْسِ فِعْلِ الْوُضُوءِ اور نماز ان چیزوں میں سے ہے جو ادا نہیں ہوتی فعل وضو کو کرنے سے بَلْ لَا بُدَّ لَهَا مِنْ فِعْلٍ آخَرَ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے ایک اور فعل کا بھی کرنا قَصْدًا ارادۃً بھئی تُوجَدُ بِهِ الصَّلَاةُ جس کے ذریعے کیا پائی جائے گی؟ نماز یعنی رکوع، سجدہ، قیام وغیرہ کرے گا وہ فعل کرے گا تو پھر اس کے بعد نماز پائی جائے گی، صرف وضو کر لے تو اس سے نماز کا وجود حاصل نہیں ہوا۔ وَإِذَا نَوَى فِي هَذَا الْوُضُوءِ یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں مولانا کہ یہ وضو کی جو ہم نے مثال ذکر کی یہ کس کی مثال ذکر کی؟ حسن لغيرہ کی، کس کی؟ اس کی ذات میں کوئی حسن نہیں ہے کیونکہ یہ وسیلہ ہے کس کے لیے؟ نماز کے لیے، تو نماز کی وجہ سے اس میں کیا آیا؟ حسن آیا، لیکن یاد رکھیے یہ اس وضو کی بات ہو رہی ہے جس کے اندر نیت نہ کی جائے کیونکہ آپ نے پڑھا تھا کہ وضو طہارت ہے اور یہ بغیر نیت کے بھی آپ کیا کریں گے وضو کریں گے وضو ہو جائے گا یعنی اس سے نماز آپ پھر پڑھیں گے تو نماز ہو جائے گی لیکن ہاں اس وضو کا ثواب نہیں ملے گا بھئی، کیونکہ نیت نہیں کی اور إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، اعمال کا دارومدار کس پر ہے؟ نیتوں پر ہے یعنی اعمال کے ثواب کا دارومدار نیتوں پر ہے بھئی، نیت ہوگی تو ثواب ملے گا نیت نہیں اچھی تو ثواب بھی نہیں ہوگا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہذا وہ وضو جس کے اندر نیت نہ کی جائے یہ کیا ہے؟ حسن لغيرہ ہے، کیا ہے؟ حسن لغيرہ ہے، نماز کی وجہ سے اس میں حسن آیا، لیکن اگر وضو کے اندر نیت کر لیتا ہے تو پھر یاد رکھیے پھر اس صورت میں یہ حسن لغيرہ بھی ہے اور حسن لعینہ بھی ہے بھئی۔ جب نیت کر لے تو پھر اس وقت کیا ہے؟ حسن لعینہ، حسن لغيرہ بھی ہے اور حسن لعینہ بھی ہے بھئی، حسن لغيرہ تو اس لیے کیونکہ یہ نماز کے لیے وسیلہ ہے اب بھی، اس کے ذریعے کس تک پہنچیں گے ہم؟ نماز تک پہنچیں گے تو نماز کی وجہ سے اس کے اندر حسن آ گیا، اور حسن لعینہ اس لیے کیونکہ یہاں پر یہ مامور بہ ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہو رہی ہے مولانا نیت کر لی بھئی، سمجھ میں آیا؟ اللہ تعالیٰ قرآن میں کیا فرماتے ہیں فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ یہ آیت آتی ہے مولانا، تو اللہ کے حکم کی تعمیل ہو رہی ہے بھئی تو بعین اعتبار یہ حسن لعینہ بھی ہوا، کیا ہوا؟ تو لہذا نیت نہ کی ہو تو اس صورت میں وضو صرف کیا ہے؟ حسن لغيرہ اور جب نیت کی ہو تو پھر اس صورت میں یہ حسن لغيرہ بھی ہے اور حسن لعینہ، حسن لغيرہ اس لیے کیونکہ اس میں نماز کی وجہ سے بھی حسن آ رہا ہے اور حسن لعینہ اس لیے کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہو رہی ہے، یہ مامور بہ ہے بھئی اس کا حکم دیا گیا ہے بھئی، کیونکہ نیت کر لی اور نیت کی وجہ سے یہ بھی قربت مقصودہ ہوئی، کیا بن گئی؟ جس کا حکم دیا گیا ہے فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ سمجھ میں آیا بھئی؟ جس کا حکم دیا گیا ہے اس کی نیت کی ہے اس نے اور نیت کی وجہ سے ثواب ہوا تو یہ قربت مقصودہ ہوئی، جس کے ذریعے کیا حاصل ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل، بھئی ثواب مل رہا ہے نا معلوم ہوا اللہ کا کیا حاصل ہو رہا ہے؟ قرب حاصل ہو رہا ہے۔ تو کہتے ہیں وَإِذَا نَوَى فِي هَذَا الْوُضُوءِ كَانَ مَنْوِيًّا وَقُرْبَةً مَقْصُودَةً يُثَابُ عَلَيْهَا اور جب نیت کی اس وضو کے اندر تو یہ نیت یہ وضو کیا ہوا؟ منوی ہوا، منوی کا کیا معنی؟ جس کی نیت کی گئی ہو، وَقُرْبَةً مَقْصُودَةً اور کیا بن گیا؟ قربت مقصودہ بن گیا، وہ قربت جس کا ارادہ بھی کیا جائے يُثَابُ عَلَيْهَا جس پر کیا دیا جائے گا؟ ثواب دیا جائے گا۔ تو اس مثال وضو کی سمجھ میں آ گئی؟ کہ وضو کو الگ کرنا پڑتا ہے اور نماز کو الگ کرنا پڑتا ہے تو یہ لَا يَتَأَدَّى بِنَفْسِ الْمَأْمُورِ بِهِ کی مثال ہوئی۔ محشی یہاں اس فرماتے ہیں اس کے بارے میں کہ بھئی حسن لغيرہ کی مثال میں وضو کو ذکر کرنا مناسب نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ اس کے اندر کچھ خفا ہے اس لیے کہ وضو طہارت ہے مولانا اور طہارت پسندیدہ ہے بھئی، شریعت نے بھی شریعت نے بھی ہر وقت باوضو رہنا مندوب ہے مستحب ہے کہ انسان کیا رہے ہر وقت باوضو رہے مولانا، تو لہذا یہ نماز کے علاوہ بھی طہارت پر رہنا مستحب ہے تمام اوقات میں، تو لہذا کہتے ہیں بہتر یہ ہے کہ اس کی مثال جو ہے وہ السعی الی الجمعہ کو ذکر کیا جائے، کس کو ذکر کیا جائے؟ السعی الی الجمعہ کو حسن لغيرہ کی مثال کے طور پر ذکر کیا جائے، وہ حسن لغيرہ جس میں مامور بہ کے ادا کرنے سے وہ غیر ادا نہیں ہوتا بلکہ مامور بہ کے لیے الگ فعل ہے اور غیر کے لیے الگ، تو السعی الی الجمعہ جمعے کے لیے کوشش کرنا، چلنا یہ کیا ہے؟ یہ الگ فعل ہے اور جمعہ ادا کرنا الگ فعل ہے تو دونوں الگ الگ فعل ہوئے، تو کہتے ہیں بہتر یہ ہے اس مثال کو ذکر کیا جائے بھئی۔ وَالْجِهَادُ مِثَالٌ لِلْمَأْمُورِ بِهِ الَّذِي يَتَأَدَّى الْغَيْرُ بِأَدَائِهِ اور جہاد مثال ہے اس مامور بہ کی جو کہ ادا ہو جاتا ہے غیر اس کے ادا کرنے سے، فَإِنَّهُ فِي نَفْسِهِ تَعْذِيبُ عِبَادِ اللَّهِ وَتَخْرِيبُ بِلَادِ اللَّهِ اس لیے کہ یہ اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ کے بندوں کو عذاب دینا ہے اور اللہ کے شہروں کو برباد کرنا ہے، وَإِنَّمَا حَسُنَ لِأَجْلِ إِعْلَاءِ كَلِمَةِ اللَّهِ اور یہ حسن ہوا ہے اعلائے کلمۃ اللہ کی وجہ سے، وَالْإِعْلَاءُ يَحْصُلُ بِمُجَرَّدِ فِعْلِ الْجِهَادِ لَا بِفِعْلٍ آخَرَ بَعْدَهُ اور جو اعلا ہے یہ (یعنی اعلائے کلمۃ اللہ) یہ حاصل ہو جاتا ہے محض فعل جہاد کے ذریعے ہی نہ کہ کسی اس کے بعد کسی اور فعل کے ذریعے، اس کے بعد کسی اور فعل کو نہیں کرنا پڑتا۔ وَكَذَلِكَ إِقَامَةُ الْحُدُودِ فِي نَفْسِهِ اور اسی طرح اقامت حدود بھی ہے، حد قائم کرنا بھئی، حد قائم کرنا چور کا کیا کیا جاتا ہے؟ ہاتھ کاٹا جاتا ہے، زانی کو سنگسار کیا جاتا ہے اگر شادی شدہ ہو یا کوڑے لگائے جاتے ہیں اگر غیر شادی شدہ ہو، شراب پینے والے کو کوڑے لگائے جاتے ہیں وغیرہ، یہ جو حدود قائم کرنا ہے یہ بھی اسی کی مثال ہے، وَكَذَلِكَ اسی کی مثال، کہتے ہیں وَكَذَلِكَ إِقَامَةُ الْحُدُودِ فِي نَفْسِهَا تَعْذِيبٌ اقامت حدود جو ہے اپنی ذات کے بعد ذات کے اعتبار سے تو تعذیب ہے یعنی عذاب دے رہے ہیں، ایک شخص کو کیا کر رہے ہیں آپ؟ عذاب، وَإِنَّمَا حَسُنَ لِزَجْرِ النَّاسِ عَنِ الْمَعَاصِي اور یہ حسن ہوئی ہے کس وجہ سے؟ لوگوں کو گناہوں سے ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے، اس کی وجہ سے لوگ کیا ہوں گے؟ گناہوں سے رکیں گے، تو یہ جو اس کی وجہ سے لوگوں کو زجر ہوگا گناہوں سے، اور اس لوگوں کو گناہوں سے زجر یہ تو اچھی چیز ہے، اس کی وجہ سے حد کے اندر بھی کیا آ گیا؟ حسن آ گیا۔ حد کے اندر بھی کیا آیا؟ بھئی حد کے ذریعے تو آپ کسی کو تکلیف دے رہے ہیں، ذات کے اندر اس کے حسن نہیں ہے، ہاں لیکن اس تکلیف دینے کی وجہ سے کیا ہوگا؟ لوگ کیا ہوں گے؟ گناہوں سے بچیں گے، اور یہ حسن ہے، یہ حسن ہے، تو اس گناہوں سے بچے گناہوں سے روکنے کے لیے یہ زجر ہے، ڈانٹ ڈپٹ ہے، اور گناہوں کے سے روکنے کے لیے ڈانٹ ڈپٹ کیا ہے؟ حسن ہے، اچھی چیز ہے، اور سمجھ میں آیا؟ اس کی وجہ سے اس حد میں بھی کیا آ گیا؟ حسن آ گیا۔ کہتے ہیں وَإِنَّمَا حَسُنَ لِزَجْرِ النَّاسِ عَنِ الْمَعَاصِي اور یہ حسن ہوا یہ اقامت حد جو ہے حسن ہوئی ہے لِزَجْرِ النَّاسِ عَنِ الْمَعَاصِي لوگوں کو گناہوں سے ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے، وَالزَّجْرُ يَحْصُلُ بِمُجَرَّدِ إِقَامَةِ الْحُدُودِ لَا بِفِعْلٍ آخَرَ بَعْدَهُ اور یہ زجر جو ہے وہ حاصل ہو جاتا ہے محض حد کو قائم کرنے سے ہی نہ کہ اس کے بعد کسی اور فعل کی وجہ سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو حد میں حسن آیا کس کی وجہ سے؟ زجر کی وجہ سے، اور حد قائم کریں گے تو اس کے ساتھ ہی زجر بھی کیا ہو جائے گا؟ زجر بھی ادا ہو زجر بھی حاصل ہو جائے گا، زجر کے لیے کوئی علیحدہ فعل بعد میں نہیں کرنا پڑے گا۔ وَكَذَلِكَ صَلَاةُ الْجَنَازَةِ اسی طرح نمازِ جنازہ ہے مولانا، فِي نَفْسِهَا اپنی ذات کے اعتبار سے بِدْعَةٌ یہ کیا ہے؟ بدعت ہے، یاد رکھیے جنازہ جِنازہ دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ ہاں بعض نے فرق کیا علماء نے، استعمال تو دونوں ہو جاتے ہیں جَنازہ جِنازہ لیکن اصل میں کہتے ہیں فرق یہ ہے کہ یہ علامہ ابو سعود کے پاس کوئی شخص پوچھنے آیا بھئی کہ ما الفرق بین الجَنازہ والجِنازہ؟ جَنازہ اور جِنازہ میں کیا فرق ہے؟ تو فرمایا عجیب جواب دیا، فرمایا: العالي للعالي والسافل للسافل بھئی، اوپر والا اوپر والے کے لیے، نیچے والا نیچے والے کے لیے۔ یاد رکھیے ایک ہے چارپائی، ایک ہے اس پر میت بھئی، تو چارپائی کو بھی جنازہ کہتے ہیں، اس میت کو بھی جنازہ کہتے ہیں، تو بتلا دیا العالي للعالي، اوپر والا اوپر والے کے لیے ہے یعنی جس پر فتحہ ہے وہ اوپر والے کے لیے یعنی جَنازہ جیم کے فتحے کے ساتھ یہ اوپر کون ہے؟ میت ہے، یہ میت کے لیے ہے، اور جِنازہ جیم کے نیچے جس کے نیچے کسرہ ہے وہ نیچے والی یعنی چارپائی کے لیے ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اسی طرح صلاۃِ جنازہ ہے فی نفسہ البتہ میں نے بتایا دونوں ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں بھئی، وَكَذَلِكَ صَلَاةُ الْجَنَازَةِ فِي نَفْسِهَا بِدْعَةٌ مُشَابَهَةٌ لِعِبَادَةِ الْأَصْنَامِ کہتے ہیں اسی طرح نمازِ جنازہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے بدعت ہے اور بتوں کی عبادت کے مشابہ ہے، بتوں کی عبادت کے بھئی جیسے بت کی عبادت کرتے ہیں سامنے بت بے جان پڑا ہوا رکھا ہوتا ہے، اسی طرح یہاں پر بھی بے جان میت سامنے رکھی ہوئی ہے اور اس کے سامنے عبادت ہو رہی ہے بھئی، تو یہ تو کس کی مشابہت ہو گئی؟ بتوں کی، تو اس کی ذات یعنی اس کی ذات میں کوئی حسن نہیں ہے وَإِنَّمَا حَسُنَتْ لِأَجْلِ قَضَاءِ حَقِّ الْمُسْلِمِ اور یہ حسن ہو گئی نمازِ جنازہ کس وجہ سے؟ مسلمان کا حق ادا کرنے کی وجہ سے، کہ اس کے ذریعے کیا کیا جا رہا ہے؟ مسلمان کے حق کو ادا کیا جا رہا ہے، وَهُوَ يَحْصُلُ بِمُجَرَّدِ صَلَاةِ الْجَنَازَةِ اور وہ حق مسلمان کے حق کی ادائیگی جو ہے وہ محض نمازِ جنازہ سے ہی ادا حاصل ہو جاتی ہے لَا بِفِعْلٍ بَعْدَهَا اس کے بعد کسی اور فعل سے نہیں، کوئی اور فعل نہیں کرنا پڑتا، تو دیکھو نمازِ جنازہ کے اپنی ذات میں حسن نہیں ہے، اس میں حسن کس وجہ سے آیا؟ مسلمان کا حق ادا کرنے کی وجہ سے، تو غیر کی وجہ سے حسن اس میں آیا، اور وہ غیر نمازِ جنازہ ہی کے ساتھ ادا ہو جاتا ہے اس کو علیحدہ کرنے کی ضرورت نمازِ جنازہ پڑھے تو مسلمان کا حق کیا ہو گیا؟ ادا ہو گیا۔ کہتے ہیں فَهَذِهِ الْوَفَائِتُ تو یہ جو واسطے ہیں وَهِيَ كُفْرُ الْكَافِرِ وَإِسْلَامُ الْمَيِّتِ وَهَتْكُ حُرْمَةِ الْمَنَاهِي كُلُّهَا بِفِعْلِ الْعِبَادِ وَاخْتِيَارِهِمْ بھئی، تو یہ جو واسطے ہیں مولانا یعنی کہ کافر کا کفر، کافر کا کفر، یہ جو واسطے بیچ میں آئے جن کی وجہ سے حسن آیا بھئی، کہتے ہیں کافر کا کفر، میت کا مسلمان ہونا وَهَتْكُ حُرْمَةِ الْمَنَاهِي اور مناہی جس کے بارے میں نہی آئی ہو، منع کیا گیا ہو یعنی ممنوع کام، ممنوع کاموں کے تقدس کو پامال کرنا حرمت یعنی تقدس، ہتک کا معنی ہے پامال کرنا، پردہ دری کرنا، بے حرمتی کرنا یعنی ہتکِ حرمت کا یہ معنی کر لیں بے حرمتی۔ وحد کے حد کو حرمت المناہی اور ممنوعہ کا ممنوعہ چیزوں کے تقدس کو پامال کرنا کلھا بفعل العبادی یہ سارے کے سارے کس کے ساتھ ہیں؟ بندوں کے فعل کے ذریعے ہیں واختیارھم اور ان کے اختیار کے ذریعے ہیں فلہذا اعتبار وسائطھا ھنا اسی وجہ سے یہاں پر واسطوں کا اعتبار کیا گیا۔ اسی وجہ سے یہاں پر کیا کیا گیا واسطوں کا اعتبار کیا گیا بھئی۔ وجعلت داخلۃ فی الحسن لغیرہ اور ان کو کس ان چیزوں ان قسموں کو یعنی یہ جو یہ چیزیں جو ہیں ان کو کس میں داخل کر دیا گیا حسن لغیرہ یہ جو جہاد نماز جنازہ اور حد وغیرہ ہیں بھئی ان کو حسن لغیرہ میں داخل کیا گیا۔ اچھا یہاں اشکال ہوتا ہے بھئی کہ آپ نے وہ واسطے کیا ذکر کیے وہ غیر کیا تھا جس کی وجہ سے ان چیزوں میں حسن آ رہا تھا؟ ایک کیا ذکر کیا کفر کافر، ایک اسلام میت کا مسلمان ہونا اور دوسرا ان ممنوعہ چیزوں کے تقدس کو پامال کرنا بھئی یہ وہ چیزیں تو نہیں ہیں جو مامور بہ کے ساتھ ہی ادا ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ چیزیں تو نہیں ہیں جو کس کے ساتھ ادا ہو جاتی ہیں؟ بھئی جہاد سے کفر کافر ادا ہوتا ہے۔ نماز جنازہ سے میت کا مسلمان ہونا پایا جاتا ہے۔ جی؟ نہیں اور حدود قائم کرنے سے کیا ممنوعہ امور کے تقدس پامال ہونا پایا جاتا ہے؟ نہیں تو یہاں اشکال ہوتا ہے تو محشی جواب دیتے ہیں مولانا کہ یہاں مضاف محذوف ہے سب کے اندر۔ کفر الکافر مضاف محذوف نکالو ایعدام کفر الکافر۔ اعدام معدوم کرنا کافر کے کفر کو کافر کے کفر کو معدوم کرنا ختم کرنا۔ واسلام المیت اسلام المیت ای قضاء حق اسلام المیت سب کے سب بین السطور بھی لکھے ہوئے ہیں بھئی۔ ای قضاء حق اسلام المیت اور میت کے اسلام کے حق کو ادا کرنا وحد کو حرمت المناہی ای زجر عن حد حرمت المناہی یعنی یہ جو ممنوعہ چیزوں کی حرمت کو پامال کرنا ہے اس سے زجر جو ہے۔ اس سے زجر جو ہے وہ حاصل ہو جاتا ہے مامور بہ کے ادا کرنے سے۔ جہاد کیا تو اعدام کفر کافر ہوا۔ کافر کے کفر کو کیا کر دیا؟ جہاد ہوگا تو کافر کا کفر کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا۔ نماز جنازہ پڑھیں گے تو اس میت مسلمان میت کا حق کیا ہو جائے گا؟ ادا ہو جائے گا مولانا اور حدود قائم کریں گے تو ممنوعہ چیزوں کے تقدس کو پامال کرنے سے زجر جو ہے وہ زجر کیا ہو جائے گا؟ حاصل ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ چنانچہ آگے کیا کہا کلھا بفعل العبادی واختیارھم فلہذا اعتبرت ال یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہاں ہم نے واسطوں کا اعتبار کیا۔ اور پیچھے وہ جو حج روزہ زکوۃ اور حج وہاں بھی تو واسطے ائے تھے تو بات وہاں پہلے بھی ذکر کر چکے تھے کہ وہ واسطے چونکہ غیر اختیاری تھے بندوں کے اختیار کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا اس لیے ان کا اعتبار نہیں کیا اور واسطے یہاں بھی آئے لیکن ان واسطوں میں کیا ہے بندوں کا اختیار اور دخل ہے اس لیے یہاں پر ان کا اعتبار کیا اور ان کو حسن لغیرہ قرار دیا اور وہاں ان کا اعتبار نہیں کیا اور ان کو حسن لعیینہ قرار دیا بات سمجھ میں آگئی؟ یہی بات کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں کلھا یہ سارے کے سارے جو ہیں بفعل العبادی واختیارھم بندوں کے فعل اور ان کے اختیار کے ذریعے ہیں فلہذا اعتبرت الوسائطھا ھنا اسی وجہ سے ان واسطوں کا یہاں اعتبار کیا گیا وجعلت داخلۃ فی الحسن لغیرہ اور ان کو حسن لغیرہ میں داخل کیا گیا بخلاف وسائط الزکاوۃ والصومی والحج بخلاف زکوۃ روزے اور حج کے واسطے آنی فقیر الفقیر و عداوۃ النفس و شرف المکانی ان کے جو واسطے ہیں یعنی فقیر کا فقیر محتاج ہونا و عداوۃ النفس اور نفس کی جو دشمنی ہے نفسِ امارہ کی وشرف الشرف المکانی اور مکان کی اس جگہ کے کا شرف جو ہے فانہا بمحض خلق اللہ تعالی یہ تو صرف اللہ کے خلق کی وجہ سے ہیں اللہ نے ایسا پیدا فرمایا ہے ولا اختیار فیھا للعبد اصلاً اور کوئی اختیار نہیں ہے بندے کو بالکل کوئی اختیار نہیں ہے بندے کو اس میں سرے سے ہی فلہذا جعلت من الملحق بالحسن لعیینہ اسی وجہ سے ان قسموں کو یعنی یہ جو زکوۃ روزہ اور حج ہیں ان کو ملحق بالحسن لعیینہ میں سے کیا گیا بنایا گیا ان میں داخل کیا گیا۔ فتامل پس آپ کیا کر لیجیے اس مقام پر غور کر لیجیے۔ اچھا والقدرۃ مثال اب تیسری بات متن میں تیسری مثال قدرت کی ذکر کی تھی کہتے ہیں والقدرۃ مثال للشہر الذی حسن المامور بہ لأجلہ لا للمامور بہ وہ تسامح ذکر کرنے لگے ہیں انہوں نے کیا کہا تھا مثالوں میں بھی کیا ہے مصنف نے تسامح کیا ہے مسامحت ہوئی ہے ان سے اچھا وہ قدرت ہے بھئی کہتے ہیں دیکھیے اوپر ذرا پہلے آپ واپس آئیے متن پر بھئی وہو اما ان لایتادا بنفس المامور بہ او یتادا او یکون حسناً لحسن فی شرطہ کہ وہ غیر یا تو ادا نہیں ہوگا نفسِ مامور بہ کے ذریعے یا کیا ہوگا ادا ہوگا او یکون حسناً یہ ضمیر کس کو لوٹائی تھی؟ مامور بہ کو یا وہ مامور بہ حسن ہوگا بوجہ حسن کے اس کی شرط کے اندر کہ اس کی شرط کے اندر کیا ہے؟ حسن ہے۔ والقدرۃ مثال للشہر الذی الحسن المامور بہ لاجلہ لا للمامور بہ یہاں یہاں سے انہوں نے کہا تھا بھئی مثالوں کے اندر بھی تسامح کیا ہے بھئی اب وہ تسامح ذکر کرنے لگے ہیں کہتے ہیں دیکھیے یہ قدرت جو ہے یہ مثال ممثل لہ کے مطابق نہیں ہے بھئی مثال ممثل لہ کے مطابق نہیں ہے بھئی اس لیے کہ مثال ذکر کرنی چاہیے تھی مامور بہ کی کیونکہ انہوں نے کیا کہا تھا او یا پچھلے متن میں او یکون حسناً لحسن فی شرطہ کہ وہ مامور بہ کیا ہوگا حسن ہوگا اپنی شرط میں حسن کی وجہ سے تو اوپر مامور بہ کی بات کی ہے تو نیچے اس کی مثال ذکر ہونی چاہیے لیکن مثال میں ذکر کس کو کیا؟ قدرت کو اور قدرت تو مامور بہ نہیں ہے بلکہ وہ تو شرط ہے وہ کیا ہے؟ شرط ہے تو ممثل لہ ہے مامور بہ اور مثال کیا ہے؟ اس غیر کو ذکر کر دیا شرط غیر ہیں نا اس کی وجہ سے مامور بہ میں کیا آیا؟ حسن تو ممثل لہ ہے مامور بہ اور مثال میں کس کو ذکر کر دیا؟ غیر کو ذکر کر دیا یعنی شرط کو ذکر کر دیا دیکھئے خود بتلا رہے ہیں کہتے ہیں والقدرۃ مثال للشہر الذی حسن المامور بہ لاجلہ لا للمامور بہ کہ قدرت جو ہے مثال ہے اس شرط کی جس کی وجہ کہ مامور بہ حسن ہوا ہے اس کی وجہ سے تو یہ قدرت مثال ہے اس شرط کی جس کی وجہ سے مامور بہ کیا ہوا؟ حسن ہوا ہے لا للمامور بہ یہ مامور بہ کی مثال نہیں ہے حالانکہ کیا کرنا چاہیے تھا مامور بہ کی مثال ذکر کرنی چاہیے تھی وان قدرتا المضافہ ہاں اب بتلا رہے ہیں بھئی اس کو ٹھیک کرنے کی بھی ایک صورت ہے کہ اس قدرت سے پہلے مضاف محذوف نکال لیں تو اس صورت میں بات ٹھیک بن جائے گی اور وہ کیسے کہ قدرت سے پہلے مشروط کا لفظ مقدر نکال لیں۔ کیا نکال لیں؟ تو کیسے متن کیسے تھا؟ کالوضوء والجہاد والقدرۃ قدرت سے پہلے مشروط کا لفظ نکال لیں ومشرورط القدرۃ اور قدرت کا مشروط تو قدرت تو ہے شرط تو اس کا مشروط کون ہوا؟ مامور بہ ہوا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو مشروط کا لفظ اگر اس سے پہلے مضاف محذوف نکال لیں تو اس صورت میں بات ٹھیک ہو جائے گی اس صورت میں بات ٹھیک ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں وان قدرتا المضافہ اور اگر آپ مضاف کو مقدر نکالیں مانیں وقلت اور یوں کہیں ومشرورط القدرۃ متن کے مطابق اگر آپ پڑھ لیں متن میں مجرور تھا قدرت تو یہاں بھی مشرو و مشروط القدرۃ اور یوں کہیں کہ مشروط القدرۃ کان مثالاً للمامور بہ المشروبہا تو یہ مثال ہو جائے گی اس مامور بہ کی جو اس جو کیا ہے اس قدرت کے ساتھ مشروط ہے اب بات ٹھیک ہو گئی ایک صورت تو یہ ہے مولانا کہ کیا کر لیں؟ دوسری صورت کہتے ہیں یہ کر لیں کہ آپ یکونو کی ضمیر جو تھی وہ کس کو راجع تھی؟ مامور بہ کو وہ جو ممثل لہو تھا وہ ضمیر مامور بہ کو راجع تھی آپ اس کو کس کی طرف لوٹا دیں؟ غیر کی طرف دیکھیے پھر کیا بنتا ہے؟ کہتے ہیں وان جعلت ضمیر او یکونو حسناً راجعاً الی الغیر اور اگر آپ ضمیر جو ہے کون سی ضمیر؟ او یکونو حسناً جو متن میں آیا تھا اس کی جو ضمیر ہے راجعاً الی الغیر اگر آپ اس کو کس کی طرف راجع کر دیں؟ غیر کی طرف پہلے کس کو راجع کی تھی؟ مامور بہ کو اگر آپ اس کو غیر کی طرف راجع کر دیں کما کان ضمیر کما کان ضمیر لا یتادا او یتادا راجعاً الیہ جیسے کہ لا یتادا اور یتادا کی ضمیریں جو تھیں کس کو راجع تھیں؟ غیر کی طرف راجع تھیں کما قیل جیسے کہ کہا گیا لم ينتشر الکلام تو کلام منتشر پہلے ہم نے بتلایا تھا تسامعیہ کہ کلام میں انتشار ہے بھئی لیتادا لایتادا کی ضمیریں کس کو راجع ہیں؟ غیر کو اور یکونو کی ضمیر کس کو راجع ہے؟ مامور بہ کو تو کہتے ہیں اب اگر آپ یہ کر لیں کہ آپ اس یکونو کی ضمیر بھی کس کو راجع کر دیں؟ غیر کو جیسے کہ یتادا اور لایتادا کی ضمیریں کس کو راجع ہیں؟ غیر کو تو پھر آپ تمام ضمیروں کا مرجع ایک ہی ہوا تو کلام منتشر نہ رہا انتشار ضمائر سے کیا ہو گیا کلام محفوظ ہوا۔ وتکون لمتشر لمتشر الکلام کلام منتشر نہیں ہوگا وتکون القدرۃ مثالاً للغیر بلا تکلف اور قدرت مثال ہو جائے گی غیر کے لیے بغیر کسی تکلف کے۔ اوپر یکونو سے بھی کون مراد؟ غیر اور تو وہ ممثل لہو ہوا اور نیچے مثال بھی کس کی ائی قدرت کی وہ بھی کیا ہے غیر ہی کی مثال ہے تو مثال کیا ہو جائے گی ممثل لہو کے مطابق ہو جائے گی۔ لاکن یکونو الشرط حینئذ بمعنی المشروط لیکن اس صورت میں شرط بمعنی مشروط کے ہو جائے گی۔ متن میں جو شرط کا لفظ آیا تھا لحسن فی شرطہ یہاں شرط کس معنی میں ہو جائے گی؟ مشروط کے معنی میں ہو جائے گی کیوں دیکھیے بھئی۔ دوبارہ ذرا اس متن پر دیکھیے او یکون حسناً لحسن فی شرطہ یا وہ غیر یکون کی ضمیر کس کو راجع کی؟ غیر اور غیر سے کون مراد ہے؟ وہی قدرت مراد ہے یعنی کیا ہے؟ شرط مراد ہے وہ غیر شرط مراد ہے او یکون حسناً لحسن فی شرطہ یا وہ غیر حسن ہے لحسن فی شرطہ کس کی وجہ سے؟ اس کی شرط میں وہ تو خود شرط ہے معلوم ہوا شرط کو یہاں کس معنی میں پھر لیں گے؟ مشروط کے کہ وہ شرط حسن ہو گئی بوجہ حسن پائے جانے کے اس کے مشروط کے اندر کہ اس کے مشروط کے اندر حسن ہے اس کی وجہ سے شرط یا وہ غیر وہ غیر کون ہے؟ شرط ہی تو ہے ۔ کیا ہے؟ شرط ہے ۔ تو وہ شرط جو ہے وہ بھی حسن ہو گئی یعنی وہ غیر کیا ہو گیا؟ حسن ہو گیا کس کی وجہ سے؟ انھوں نے کہا شرط کی وجہ سے ۔ بھئی وہ شرط خود ہی تو غیر ہے تو معلوم وہ شر्ط کو کس معنی میں پھر لیں گے؟ مشروط کے معنی میں لے لیں گے کہ وہ شرط بھی حسن ہو گئی یعنی وہ غیر (یعنی شرط بھی) کیا ہو گئی؟ حسن ہو گئی کس کی وجہ سے؟ اپنے مشروط میں حسن کی وجہ سے کہ مشروط میں حسن ہے تو شرط میں بھی کیا آ گیا؟ حسن آگیا صورت سمجھ میں آ گئی؟ دو چیزیں ہیں نا ایک شرط اور ایک مشروط یکونو کی ضمیر کس کو راجع کی؟ غیر کو اور غیر کون ہے؟ شرط ہے تو وہ شرط کیا ہوئی؟ حسن وہ غیر حسن ہوا یعنی وہ شرط حسن ہوئی کیوں حسن ہوئی؟ کیونکہ اس کی شرط میں حسن ہے شرط تو یہ خود ہے تو شرط سے کس کیا معنی مراد لینا پڑے گا؟ مشروط والا معنی کر لیں گے کہ اس کی مشروط میں حسن ہے اور یہ شرط بھی (یعنی یہ غیر بھی) کیا بن گئی؟ حسن ہوئی کس کی وجہ سے؟ مامور بہ کے حسن کی وجہ سے مامور بہ کے حسن کی وجہ سے شرط میں بھی کیا آگیا؟ حسن آگیا تو کہتے ہیں سارا دعوی ہی الٹ گیا ہمارا تو بات کہاں سے چلی تھی ہم نے کیا کہنا تھا شرط کی وجہ سے کس میں حسن آیا؟ مامور بہ میں حسن آیا نہ کہ ہمارا یہ دعوی ہے کہ مامور بہ کی وجہ سے کس میں حسن آیا؟ شرط کے اندر حسن آیا بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں لاکی یکونو شرط حینئذ بمعنی المشروط لیکن اس صورت میں شرط بمعنی مشروط کے ہوگی و یکونو المعنی اور معنی یہ ہوگا او یکونو الغیر کل قدرۃ حسن حسنۃ لحسن فی مشروطہا کہ وہ غیر جیسے مثلاً کہ قدرت ہے وہ ح غیر حسن ہے لحسن فی مشروطہا اپنے مشروط میں حسن کی وجہ سے فنقلب المقصود وانعکس المدعا تو مقصود ہی الٹ گیا اور دعوی ہی پلٹ گیا صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں وبالجملۃ لایخلو ھذا المقام عن تمحل کہتے ہیں بالجمعہ جو ہے مجموع اعتبار سے یہ مقام تمحل سے یعنی حیلے سے خالی نہیں ہے حیلے سے اور تکلف سے خالی کچھ نہ کچھ تکلف کرنا پڑے گا ورنہ درست نہیں بھئی تو انہوں نے کہا ایک صورت تو یہ ہے کہ آپ کیا کر لیں؟ اوپر ممثل لہو کون تھا مامور بہ اور مثال کے اندر مامور بہ کو ذکر کیا یا اس غیر کو ذکر کیا جس کی وجہ سے حسن آیا تھا قدرت تو غیر ہے وہ شرط ہے تو غیر کو ذکر کیا تھا تو مثال ممثل لہو کے مطابق نہیں تھی تو بتلایا کہ اس سے پہلے کیا کر لو؟ مشروط کا لفظ مقدر نکال لو ای مشروط القدرۃ تو قدرت کا مشروط کون ہے؟ مامور بہ ہی تو ہے تو بات درست ہو جائے گی ممثل لہو بھی مامور بہ اور مثال میں بھی مامور بہ آگیا دوسری صورت یہ ہے کہ یکونو کی ضمیر کس کو راجع کریں؟ غیر کو راجع کریں تو اس صورت میں ممثل لہو بھی غیر ہوا اور مثال بھی کس کی ہوئی؟ غیر کی ہوئی لیکن بات اور خراب آگے دیکھیں گے تو اور خراب ہو جائے گی ہمارا دعوی تو یہ تھا شرط کی وجہ سے مامور بہ میں حسن آ رہا ہے لیکن پھر دعوی کیا گویا بن جائے گا؟ کہ مامور بہ کی وجہ سے شرط میں حسن آ رہا ہے ثم وصف القدرۃ بقولہ چلیے بس مولانا هذا ہو المرام اللہ اعلم بحقیقۃ الکلام