درس نمبر۔116 ثم لما كان القياس والاستحسان لا يحصلان إلا بالاجتهاد، ذكر بعدهما شرط الاجتهاد وحكمه، ليعلم أن أهلية القياس والاستحسان تكون حينئذ. فقال: وشرط الاجتهاد أن يحوي علم الكتاب بمعانيه اللغوية والشرعية ووجوهه التي قلنا. آگے مصنف جو ہیں اجتہاد کا بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔ اس سے پہلے قیاس کا بیان تھا اور اس کے ساتھ ہی استحسان کا بیان آیا، کیونکہ وہ بھی قیاسِ خفی ہی کا نام ہے۔ اب اجتہاد کا بیان آ رہا ہے، تو شارح یعنی صاحبِ نور الانوار ربط بیان فرما رہے ہیں کہ ربط کیا ہے؟ قیاس اور استحسان کے بعد اجتہاد کو ذکر کیا جا رہا ہے، ان میں ربط کیا ہے؟ جی، تو بتلا رہے ہیں بھئی کہ یہ جو قیاس اور استحسان ہیں، یہ ہوتے ہی کس کی وجہ سے ہیں؟ اجتہاد کے ذریعے بھئی، اجتہاد کے ذریعے، تو لہذا ربط آ گیا بھئی۔ کہ یہ ہوتے کس کے ذریعے ہیں؟ اجتہاد کے ذریعے، تو جب ان کو ذکر کر دیا تو اب اجتہاد کا ذکر بھی مناسب ہے کہ اسے کر دیا جائے۔ اور پھر یہ اجتہاد کی تعریف نہیں کریں گے، کیونکہ وہ معروف اور مشہور ہے بھئی۔ اجتہاد کسے کہتے ہیں؟ اجتہاد بھئی، کسی فقیہ کا، مجتہد کا اپنی پوری کوشش خرچ کر دینا حکمِ شرعی کو معلوم کرنے کے لیے۔ کہ مجتہد کیا کرے؟ کسی حکمِ شرعی کو معلوم کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش صرف کر دے اور اس حکمِ شرعی کو معلوم کرے، یہ ہے اجتہاد بھئی، اجتہاد۔ تو یہ اجتہاد کی تعریف چونکہ معروف تھی، مشہور تھی، اس لیے اس کو تو ذکر نہیں کیا، البتہ آگے پھر اس کی شرائط اور اس کے شرط اور اس کے حکم کو ذکر کر دیا بھئی۔ شرط اور حکم کو ذکر کر دیا بھئی۔ ثم لما كان القياس والاستحسان لا يحصلان إلا بالاجتهاد، پھر جب قیاس اور استحسان یہ دونوں حاصل نہیں ہوتے مگر اجتہاد کے ذریعے ہی، ذكر بعدهما شرط الاجتهاد وحكمه، تو ذکر کیا مصنف نے ان دونوں کے بعد یعنی قیاس اور استحسان کے بعد اجتہاد کی شرط کو اور اس کے حکم کو، ليعلم، تاکہ یہ جان لیا جائے، أن أهلية القياس والاستحسان تكون حينئذ، کہ قیاس اور استحسان کی اہلیت اسی وقت ہوگی جب کیا ہو؟ کس چیز کی اہلیت ہو؟ اجتہاد کی اہلیت ہو۔ فقال، پس فرمایا، اب شرط ذکر کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں: وشرط الاجتهاد أن يحوي علم الكتاب بمعانيه اللغوية والشرعية. یاد رکھیے! یہ جو اللغوية والشرعية، یہ جو ہے یہ متن کا حصہ نہیں ہے بھئی۔ أن يحوي علم الكتاب بمعانيه، آگے جو اللغوية اور والشرعية آیا، یہ شرح کا حصہ ہے، یہ صاحبِ نور الانوار بتلا رہے ہیں کہ معانی سے کون سے معانی مراد ہیں؟ لغوی اور شرعی دونوں معانی مراد ہیں۔ کہتے ہیں: وشرط الاجتهاد، اور اجتہاد کی شرط جو ہے وہ یہ ہے کہ أن يحوي، حوى يحوي کے معنی ہوتے ہیں جمع کرنے کے، احاطہ کر لینے کے بھئی۔ تو اجتہاد کی شرط یہ ہے کہ مجتہد جو ہے وہ احاطہ کر لے علم الكتاب، کتاب اللہ کے علم کا، بمعانيه، اس کے معانی کے ساتھ۔ کہ وہ کیا کر لے؟ کتاب اللہ کے علم کا احاطہ کر لے بمعانيه، ساتھ اس کے معانی کے بھئی، احاطہ کر لے یعنی ان پر حاوی ہو جائے، سارا علم ہو اس کو۔ اور کتاب اللہ کے معانی، تمام معانی کا احاطہ کر لے بھئی۔ کتاب اللہ کے معانی کا احاطہ کر لے، کون کون سے معانی؟ اللغوية والشرعية، لغوی اور شرعی معانی، یعنی لغوی معانی بھی اس کو معلوم ہوں کہ عربی میں اس لفظ کا یہ معنی ہوتا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اور شرعی معانی کا بھی اس کو پتہ ہو کہ جو احکام ہیں اور ان کی علت کیا، ان کی کیا کیا علت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لغوی معانی یعنی لغوی معانی کا بھی احاطہ کر لے اور شرعی معانی یعنی احکام وغیرہ اور ان کی علتوں کا بھی احاطہ کرے۔ ووجوهه التي قلنا، اور ان وجوهه، 'ہ' ضمیر راجع ہے کتاب کو، اور کتاب کی ان وجوہ کا بھی احاطہ کر لے التي قلنا، جو ہم نے کہیں۔ وجوهه، اس کا عطف معانی پر ہے، کتاب اللہ کے علم کا احاطہ کر لے ساتھ اس کے معانی کے اور ساتھ اس کے اقسام کے، وجوہ بمعنی اقسام۔ اس کے اقسام کے وہ اقسام التي قلنا، جو ہم نے کہیں بھئی۔ بھئی کون سی ہیں؟ کہتے ہیں: من الخاص والعام والأمر والنهي وسائر الأقسام السابقة، یعنی خاص، عام، امر، نہی اور تمام سابقہ اقسام بھئی۔ یہ سب کا احاطہ کر لے، سمجھ میں آیا بھئی؟ مشترک، مؤول ہے، حقیقت، مجاز وغیرہ سب قسموں کا احاطہ کر لے، سب کا اس کو علم ہو۔ ولكن لا يشترط علم جميع ما في الكتاب، یہاں سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ بھئی مجتہد کے لیے پوری کتاب اللہ کے معانی اور اس کے کتاب اللہ کے معانی کا احاطہ کرنا ضروری نہیں، بلکہ صرف اتنی مقدار جس کا تعلق احکام سے ہے۔ کتاب اللہ کی وہ مقدار جس کا تعلق احکام سے ہے بھئی، کتاب اللہ کے اندر تو جنت کا بھی ذکر ہے، جہنم کا بھی ذکر ہے، واقعات بھی ذکر ہیں، نصائح بھی ذکر ہیں اور دعائیں بھی مذکور ہیں وغیرہ، تو صرف کس کا احاطہ ضروری ہے مجتہد کے لیے؟ جن آیات جن کے ساتھ احکام کا تعلق ہے، جن سے احکام ثابت ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ولكن لا يشترط علم جميع ما في الكتاب، لیکن شرط نہیں ہے اس سارے کے علم کی جو کتاب اللہ میں ہے، بل قدر ما يتعلق به الأحكام، بلکہ اتنی مقدار جس کا تعلق احکام سے ہو بھئی۔ قدر، جس کا عطف جميع پر ہے، لا يشترط علم جميع، بل قدر ما يتعلق، بلکہ اتنی مقدار جس کا تعلق احکام سے ہو، وتستنبط هي منه، اور جن سے استنباط ہو۔ وتستنبط هي، کہ مستنبط ہوں، هي، ضمیر راجع ہے احکام کو۔ منه، راجع ہے ما يتعلق به الأحكام کو، بلکہ اتنی مقدار جس سے احکام کا استنباط ہوتا ہو، جس سے احکام مستنبط ہوتے ہوں بھئی۔ جی، اور وہ کتنی مقدار ہے؟ کہتے ہیں: وذلك قدر خمسمائة آية، اور وہ پانچ سو آیتوں کی مقدار ہے۔ خمسمائة الگ الگ لکھا ہے بھئی؟ ہاں، میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے، یہ ثلاثہ، اربعہ، خمسہ، ستہ وغیرہ، ان کو جب مائۃ کے ساتھ لکھا جاتا ہے تو جوڑ کر لکھتے ہیں بھئی، جوڑ کر، یہ رسم الخط کا ضابطہ ہے عربی کا۔ وذلك قدر خمسمائة آية، اور یہ پانچ سو آیتوں کی مقدار ہے، التي ألفتها وجمعتها أنا في التفسيرات الأحمدية، وہ پانچ سو آیتیں جن کو میں نے جمع کیا ہے۔ الفت کے معنی بھی جمع کرنا، جن کو ألفتها، جن کو میں نے مؤلف کیا ہے اور جمع کیا ہے میں نے تفسیرِ احمدیہ کے اندر۔ تو ان کا جاننا بھی ضروری۔ وعلم السنة، اور علمِ سنت کا، اجتہاد کی شرط یہ ہے کہ کتاب اللہ کے علم کا بھی احاطہ کرے، وعلم السنة، اور سنت کے علم کا بھی احاطہ کرے، بطرقها، اس کے طریقوں کے ساتھ، المذكورة في أقسامها، جو مذکور ہوئے اس کے اقسام میں، یعنی اس کے سارے اقسام کا بھی پتہ ہو بھئی، سنت کی۔ تو سنت کی بھی ساری اقسام کا اس کو علم ہو، خبرِ متواتر کسے کہتے ہیں؟ خبرِ مشہور کسے کہتے ہیں؟ خبرِ واحد کسے کہتے ہیں؟ خبرِ غریب کسے کہتے ہیں؟ وغیرہ، تمام اقسام کا اس کو علم ہو۔ اور اسی طرح جو اور اس سے متعلقہ چیزیں ہیں، راویوں کے احوال کا پتہ ہو، یہ کس قسم کا راوی ہے، قابلِ اعتماد ہے یا قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ تو ان سب کا بھی علم ہو، مع أقسام الكتاب، ساتھ کتاب اللہ کے اقسام کے، کتاب اللہ کے اقسام تو اوپر بیان ہوئے، ان کا بھی علم ہو اور ان کے ساتھ ساتھ ان سب کا بھی علم ہو۔ وذلك أيضا قدر ما يتعلق به الأحكام، اور یہ بھی اتنی مقدار ہے کہ جس کے ساتھ احکام کا تعلق ہے، یعنی ساری احادیث کا عالم ہونا ضروری نہیں، بلکہ اتنی احادیث کا عالم ہو جن کا تعلق کس سے ہے؟ احکام سے ہے، بھئی وہ کتنی مقدار ہے؟ بیان کرنے لگے ہیں: أعني ثلاثة آلاف دون سائرها، یعنی کہ تین ہزار، نہ کہ ساری بھئی۔ تین ہزار احادیث جن کا تعلق کس سے ہے؟ احکام۔ یاد رکھیے! یہ جو مقدار ذکر کی گئی، یہ کم از کم مقدار، اتنی تو ضرور جانتا ہو، یہ تو شرط ہے، شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ اتنا علم ہے تو پھر اس کے بعد ہی اجتہاد کی اہلیت ہے، ورنہ اس کے کم ہوتے اجتہاد کی اہلیت...، تو یہ تو کم سے کم ہے اور بہتر یہ ہے کہ سب کا علم ہو، بہتر یہ ہے کہ سب کا علم ہو بھئی، سب کا علم ہو۔ کیونکہ ہو سکتا ہے ان باقیوں میں بھی غور کر کے وہ کوئی حکم نکال لے، حکم معلوم کر لے بھئی۔ وأن يعرف وجوه القياس بطرقها. وأن يعرف وجوه القياس، اور یہ کہ جانتا ہو قیاس کے اقسام کو، بطرقها وشروطها المذكورة آنفا، ساتھ اس کے طریقوں کے اور اس کی ان شرائط کے جو ذکر کی گئیں آنفا، ابھی۔ جو قیاس، قیاس کے بھی تمام اقسام کو اس کے طریقوں اور شرائط کے ساتھ جانتا ہو بھئی، جن کو ابھی ذکر کیا گیا بھئی، قیاس کی اقسام، کون سا قیاس صحیح ہے، کون سا فاسد ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کون سا جلی ہے، کون سا خفی ہے وغیرہ، ساری اقسام کا اس کو علم ہو۔ ولم يذكر الإجماع. اچھا بھئی! اجتہاد کی شرائط کے اندر کتاب اللہ کے علم کی بھی شرط لگائی، سنت کے علم کی بھی شرط لگائی، قیاس کے اقسام کے جاننے کی بھی شرط لگائی، اجماع کو ذکر نہیں کیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ دو وجہیں ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: ولم يذكر الإجماع، اور ذکر نہیں کیا مصنف نے اجماع کو، اقتداء بالسلف، اقتداء کرتے ہوئے بزرگوں کی بھئی۔ سلف نے، بزرگوں نے اجماع کو ذکر نہیں کیا تھا، لہذا مصنف نے بھی اس کو ذکر نہیں کیا بھئی، ذکر نہیں کیا۔ دوسری وجہ: ولأنه لا يتعلق به فائدة الاختلاف بالاستنباط، اس لیے کیونکہ تعلق نہیں ہے به أي بالإجماع، کس کے ساتھ؟ اجماع۔ اجماع کے ساتھ تعلق نہیں ہے فائدة الاختلاف بالاستنباط، استنباط کی وجہ سے جو اختلافِ مجتہدین ہے اس کے فائدے کے ساتھ۔ اس کے فائدے کا تعلق نہیں ہے، کس کے ساتھ؟ اجماع۔ بالاستنباط کا تعلق ہے اختلاف سے، اور اختلاف سے کیا مراد ہے؟ اختلافِ مجتہدین۔ استنباط سے جو مجتہدین کے اختلاف کا فائدہ جو ہے، استنباط کی وجہ سے...، توجہ ہے سبق کی طرف؟ استنباط کی وجہ سے جو مجتہدین کے درمیان اختلاف آتا ہے، اس اختلاف کا جو فائدہ ہے، اس فائدے کا تعلق اجماع سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق... اس فائدے کا تعلق اجماع سے نہیں ہے، اس کی تو صرف اجماع کے لیے... اجماع کا علم ہونا چاہیے بھئی مجتہد کو، لیکن اس سے استنباط وغیرہ کی وجہ سے جو اختلاف وغیرہ آتے ہیں، اس سے اس کا تعلق نہیں ہے بھئی، اجماع کا تعلق نہیں ہے بھئی۔ ہاں، اس کا جاننا صرف اس لیے ضروری ہے تاکہ مجتہد کو پتہ ہو کہ یہ مسئلہ مجمع علیہ ہے، اس پر اجماع کیا گیا ہے تاکہ اس میں وہ اجتہاد نہ شروع کر دے بھئی۔ جب ایک مسئلہ اجماعی ہے تو کہیں وہ اس میں اجتہاد نہ شروع کر دے، صرف اس اعتبار سے اس کا جاننا ضروری ہے، باقی استنباط کے اندر جو اختلاف واقع ہوتا ہے، اس کے اندر اجماع کا کوئی فائدہ نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ولأنه لا يتعلق به فائدة الاختلاف بالاستنباط، اس لیے کیونکہ تعلق نہیں ہے اجماع کے ساتھ استنباط کے اختلاف کے فائدے کا۔ وإنما يحتاج إليه، اور یہ مجتہد جو ہے محتاج ہوتا ہے إليه أي إلى الإجماع، کس کا محتاج ہوتا ہے؟ اجماع کا محتاج ہوتا ہے، ليعلم المسائل الإجماعية فلا يجتهد فيها بنفسه، تاکہ یہ مسائلِ اجماعیہ کو جان لے پس پھر خود اس کے اندر اجتہاد نہ کرے۔ بخلاف الكتاب والسنة، بخلاف کتاب اور سنت کے، فإن لكل مجتهد تأويلا على حدة في المشترك والمجمل وأمثاله، کہ ہر مجتہد جو ہے اس کی علیحدہ تاویل ہے مشترک اور مجمل اور اس کی مثل چیزوں کے... میں بھئی، اقسام کے اندر۔ مشترک کے اندر ہر ایک اپنی تاویل کرتا ہے، جیسے مثلاً 'قروء' کا لفظ آیا تھا، تو ہمارے نزدیک اس سے کیا مراد ہے؟ حیض مراد ہے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک طہر مراد ہے، تو ان میں ہر مجتہد کی علیحدہ تاویل ہوتی ہے جو مشترک، مجمل وغیرہ ہیں۔ وبخلاف القياس، اور بخلاف قیاس کے کہ اس کی بھی ضرورت پڑتی ہے، کیوں؟ فإنه عين الاجتهاد، کیونکہ وہ تو عینِ اجتہاد ہے، قیاس تو کیا ہے؟ انہوں نے کہا نہ، قیاس کے طریقوں اور اس کی اقسام کو بھی جاننا ضروری ہے اس کے لیے، یہ شرط ہے۔ تو بتلا رہے ہیں قیاس جو ہے، وہ تو عینِ اجتہاد ہے، وعليه مدار الفقه، اور اسی پر تو فقہ کا دارومدار ہے۔ ولهذا بين حكمه، اور اسی وجہ سے مصنف نے اجتہاد کا حکم بیان کیا، على وجه، ایسے طریقے پر، يتضمن بيان حكم القياس، کہ یہ متضمن ہے کس چیز کو؟ قیاس کے حکم کو بھی، قیاس کے حکم کے بیان کو بھی یہ متضمن ہے۔ بتلایا کہ قیاس جو ہے، وہ تو عینِ اجتہاد ہے، قیاس کیا ہے؟ اور اسی پر تو اجتہاد کا دارومدار ہے، اسی وجہ سے مصنف نے آگے جو اجتہاد کا حکم بیان کیا، وہ اس طریقے پر بیان کیا کہ وہ متضمن ہے، وہ اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہے کس کو؟ قیاس کے حکم کو بھی، قیاس کے حکم کو بھی، تو قیاس کا حکم بھی اسی کے اندر آ گیا جو اجتہاد کا حکم بیان ہو رہا ہے۔ کہتے ہیں: ولهذا بين حكمه على وجه يتضمن بيان حكم القياس، لہذا بیان کیا مصنف نے اجتہاد کے حکم کو ایسے طریقے پر کہ وہ متضمن تھا قیاس کے حکم کو، الموعود فيما سبق، قیاس کا وہ حکم الموعود فيما سبق، جس کا ماقبل میں وعدہ کیا گیا تھا۔ جس کا ماقبل میں وعدہ کیا گیا تھا، مصنف نے بتلایا تھا بھئی آپ کو: وجملة ما يعلل له أربعة، وہ چیزیں جن کے لیے تعلیل کی جاتی ہے چار ہیں، اور بتلایا تھا کہ بعض شارحین نے یہاں بتلایا کہ یہ قیاس کا حکم بیان ہو رہا ہے، شارح نے کہا تھا وہ بڑی فاحش غلطی کی انہوں نے، بڑی غلطی کی، قیاس کا حکم بیان آگے ہوگا اور وہ یہ مقام بتلایا تھا: وحكمه الإصابة بغالب الرأي بھئی، تو کہتے ہیں وہ جو وعدہ کیا تھا، اس کو اب پورا کیا جا رہا ہے۔ کہ یہ متضمن ہے بيان حكم القياس الموعود فيما سبق، چاہے اس کو 'بیان' کے لیے صفت بنا لیں۔ 'بیان' کے لیے اس کو صفت بنا لیں بھئی، بيان حكم القياس الموعود فيما سبق، کہ یہ متضمن ہے قیاس کے حکم کے بیان کو جس کا وعدہ کیا گیا تھا ماقبل میں، فقال، پس فرمایا: وحكمه الإصابة بغالب الرأي. اور حكمه، آگے بتائیں گے بھئی، یہ 'ہ' ضمیر اجتہاد کو بھی راجع کر سکتے ہیں اور یہ 'ہ' ضمیر قیاس کو بھی راجع کر سکتے ہیں۔ اجتہاد، بھئی اجتہاد ہی کی تو بحث چل رہی ہے، اس کی طرف تو ضمیر کا راجع ہونا ظاہر ہے اور قیاس کی طرف بھی کر سکتے ہیں کیونکہ ابھی اس سے ماقبل والے متن میں قیاس کا ذکر آیا: أن يعرف وجوه القياس، تو اجمالاً قیاس کا بھی ذکر آ گیا، تو اس کی طرف بھی راجع کر سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں حکم اس کا جو ہے الإصابة، وہ درستگی ہے، حق کو پہنچنا ہے بغالب الرأي، غالب رائے کے ساتھ۔ بھئی قیاس کے ذریعے جو حکم معلوم ہوتا ہے، وہ قطعی ہوتا ہے یا ظنی ہوتا ہے، آپ نے کیا پڑھا ہے؟ ظنی، یقینی نہیں، ہاں غالبِ گمان ہوتا ہے کہ حکم یہی ہے جس تک مجتہد پہنچا بھئی۔ دیکھیے خود بتلا رہے ہیں ضمیر کے مرجع بھئی! أي حكم الاجتهادي یعنی کہ حكم اجتہاد کا حکم لذکره قریباً بوجہ اجتہاد کے قریب میں ذکر ہونے کے او حكم القياسي یا ضمیر کس کو راجع قياس پہ یعنی قياس کا حكم لذکره في الإجمال بوجہ اس کے ذکر کے اجمال میں، اجمال میں اس کا ذکر اجمالی طور پر اس کا ذکر اگیا تھا اس کا حکم کیا ہے؟ إصابة الحق. اه متن میں آیا تھا الإصابة شارح فرما رہے ہیں إصابة الحق بتلا یہ رہے ہیں کہ الإصابة کے اندر الف لام جو ہے وہ عوض ہے مضاف الیہ سے۔ تو الإصابة یہ اصل میں کیا تھا؟ إصابة الحق، حق کو حذف کیا اور اس کے عوض کیا لے آئے اس پر؟ الف لام۔ تو یہ بعض کی رائے ہے بھئی کہ وہ فرماتے ہیں بعض نحوی حضرات کہ الف لام کبھی مضاف الیہ کا عوض ہوا کرتا ہے۔ بعض کہتے ہیں نہیں، الف لام مضاف الیہ کا عوض نہیں ہوتا، یہ الف لام عہدی ہے عہد خارجی اس کے لیے کسی متعین چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور یہاں الإصابة میں ہر اصابہ مراد نہیں ہے ایک متعین اصابہ کی طرف اشارہ ہے اور وہ کون سا اصابہ ہے؟ إصابة الحق بھئی، إصابة الحق۔ إصابة الحق بغالب الرأي دون اليقين. اور حق کو پہنچنا ہے غالب رائے کے ساتھ نہ کہ یقین کے ساتھ۔ حتى قلنا یہاں تک کہ ہم نے کہا إن المجتهد يخطئ ويصيب کہ مجتہد جو ہے وہ خطا کرتا ہے اور مجتہد جو ہے حق کو پہنچتا ہے۔ بھئی یاد رکھیے ہمارا مذہب یہ ہے کہ مجتہد جو ہے اس سے خطا بھی ہوسکتی ہے اپنے اجتہاد میں اور وہ حق کو بھی پہنچ سکتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اور جو حق کو پہنچتا ہے اس کو دو اجر ملتے ہیں اور جو خطا کرتا ہے اس کو ایک اجر ملتا ہے کیونکہ اس نے اپنی انتہائی کوشش صرف کر دی حکم تک پہنچنے میں، تو اس کو ایک اجر ملتا ہے۔ حتى قلنا یہاں تک کہ ہم نے کہا إن المجتهد يخطئ ويصيب کہ مجتہد خطا بھی کرتا ہے ويصيب اور حق کو بھی پہنچتا ہے والحق في موضع الخلاف واحد. اور حق جو ہوتا ہے موضع خلاف میں، اختلاف کے مقام میں واحد ایک ہی ہوتا ہے۔ بھئی دیکھیے اس بات میں علماء کا اختلاف ہے علماء کا کہ حق جو ہے محل اختلاف میں ایک ہوتا ہے یا متعدد ہوتے ہیں۔ یعنی اس مجتہد کے اجتہاد سے پہلے مجتہد بھئی اجتہاد کرے گا ایک حکم معلوم کرے گا، کیا کرے گا؟ ایک حکم معلوم کرے گا، یہ جو حکم مجتہد نے معلوم کیا یہ اللہ کی طرف سے پہلے سے مقرر تھا یا مقرر نہیں تھا اسی میں اختلاف ہے بھئی۔ یہ حکم پہلے سے مقرر تھا یا مقرر نہیں تھا۔ جمہور کے نزدیک یہ حکم پہلے سے، حکم ایک اللہ کی طرف سے مقرر ہوتا ہے بھئی۔ اللہ کی طرف سے ایک حکم مقرر ہے لیکن مخفی ہے ہمیں علم نہیں، مجتہد کوشش کرتا ہے اس حکم تک پہنچنے کی، تو کبھی وہ اس حکم تک پہنچ جاتا ہے اور کبھی کیا کرتا ہے؟ خطا ہو جاتی ہے اس سے بھئی، تو معلوم ہوا وہ حکمِ معلوم جو ہے وہ مقرر حکم ہے وہ ایک ہی ہے۔ حکم کیا ہے؟ ایک ہی حکم ہے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور پھر مجتہدین کوشش کرتے ہیں اس کو پانے کی، اس کو معلوم کرنے کی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو چنانچہ جہاں پر مجتہدین میں اختلاف آئے، امام شافعی رحمہ اللہ ایک بات کہیں، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ایک بات کہیں، امام مالک، امام احمد ابن حنبل رحمہما اللہ ایک بات کہیں، تو یہ جو اختلاف کا مقام ہے یہاں پر کہتے ہیں حق ایک ہی ہوگا۔ یہ نہیں کہ تینوں کی بات حق ہے بلکہ حق ایک ہی ہوگا، حق ایک ہی ہوگا۔ پھر ان میں سے کون حق کو پہنچا اور کون حق کو نہیں پہنچا اس پر اللہ نے پردے ڈال رکھے ہیں، پردے ڈال رکھے ہیں بھئی۔ ہاں اللہ کے علم میں ہے کہ کون ان میں سے حق کو پہنچا اور کون حق کو نہیں پہنچا، یہ کس کا مذہب ہے؟ جمہور کا مذہب ہے۔ سمجھ میں آیا؟ جہاں اختلاف ہی نہیں ہے سارے ایک حکم پر اکٹھے ہیں وہاں تو بالاجماع حق وہی حکم ہے جس تک سب پہنچ گئے بھئی، اور جہاں اختلاف آیا وہاں کیا حق متعدد ہیں یا ایک ہے؟ تو جمہور کا کیا مذہب ہے؟ ایک ہی، حق کیا ہے؟ ایک ہی ہے بھئی، حق ایک ہی ہے۔ اور تو چنانچہ کہتے ہیں والحق في موضع الخلاف واحد اور اسی بناء پر ہم نے کہا کہ حق جو ہے اختلاف کے محل میں ایک ہی ہوگا ولكن لا يعلم ذلك الواحد باليقين لیکن معلوم نہیں ہو سکتا وہ ایک یقینی طور پر کہ کون سا والا ہے یہ یقینی طور پر معلوم نہیں ہو سکتا فلهذا قلنا بحقية المذاهب الأربعة اسی بناء پر ہم قائل ہوئے چاروں مذاہب کے برحق ہونے کے، چاروں مذاہب کیا ہیں؟ برحق ہیں وهذا مما علم بأثر ابن مسعود رضي الله تعالى عنه في المفوضة. وهذا مما علم یاد رکھیے یہ بھی متن کا حصہ نہیں ہے، متن کا حصہ صرف ہے بأثر ابن مسعود رضي الله تعالى عنه في المفوضة. یہ دلیل ذکر کر رہے ہیں، ہم نے ہم کس بات کے قائل ہوئے؟ کہ مجتہد خطا بھی کر سکتا ہے اور حق کو بھی پہنچ سکتا ہے اور حق ہمیشہ ایک ہی ہوگا بأثر ابن مسعود بوجہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کے في المفوضة جو کس کے بارے میں آئی ہے؟ مفوضہ کے بارے میں آئی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو بأثر یہ متن کا حصہ تھا شارح نے هذا مما علم محذوف نکال کر بتلا دیا کہ یہ بأثر ابن مسعود یہ جار مجرور جو ہے یہ ظرف مستقر ہے اور اس کا عامل اس کا متعلق جو ہے وہ محذوف ہے بھئی جو علم ہے بھئی اور هذا مبتداء، هذا یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کو جانا گیا ہے بأثر ابن مسعود رضي الله تعالى عنه حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کی وجہ سے في المفوضة جو کس کے بارے میں ہے؟ مفوضہ۔ یہ بحث شروع کتاب میں ذکر ہو چکی کہ یہاں پر مفوَّضہ پڑھنا بھی صحیح اور مفوِّضہ پڑھنا بھی صحیح۔ مفوَّضہ یا مفوِّضہ وہ عورت جس نے اپنے آپ کو بغیر مہر کے ہی نکاح کے لیے پیش کر دیا ہے بھئی، تو بغیر مہر کے مقرر کیے ہی اس کے ساتھ نکاح کر لیا گیا یا شرط ہی باقاعدہ شرط لگا دی گئی کہ مہر نہیں ہوگا اور اس پر نکاح ہو گیا، تو یہ ہے مفوَّضہ۔ کیونکہ اس مفوَّضہ سپرد کی گئی اس کے ولی نے اس کو بغیر مہر کے سپرد کر دیا ہے تو یہ سپرد کی گئی، یا مفوِّضہ پڑھ لیں سپرد کرنے والی، تو اس کے ولی نے اس کی اجازت سے سپرد کیا ہے تو گویا یہ خود ہی اپنے آپ کو سپرد کرنے والی ہے بغیر مہر کے۔ وهي التي مات عنها زوجها قبل الدخول بها جي اور یہ وہ عورت کہ اس سے خاوند جو ہے اس کو چھوڑ مرا ہو قبل الدخول بها اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی ولم يسم لها مهر اور اس کے لیے مہر بھی مقرر نہیں کیا گیا۔ ایک عورت بھئی اس کے لیے مہر مقرر نہیں کیا گیا اور اس کے خاوند کا انتقال ہو گیا صحبت کرنے سے پہلے ہی فسئل ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ عنها تو پوچھا گیا حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے اس عورت کے بارے میں فقال تو فرمایا آپ نے أجتهد فيها برأيي میں اس میں اجتہاد کروں گا اپنی رائے سے فإن أصبت فمن الله اگر میں حق کو پہنچ گیا تو یہ اللہ کی طرف سے ہوگا وإن أخطأت فمني ومن الشيطان اور اگر میں نے غلطی کی تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہوگا أرى لها مهر مثل نسائها میں رائے رکھتا ہوں اس کے لیے اس جیسی عورتوں کے مثل مہر کے بھئی، اس کے مثل جو عورتیں ہیں ان کے مہر کے کا گمان کرتا ہوں کہ رائے رکھتا ہوں۔ میرا گمان یہ ہے یوں کریں، أرى لها مهر مثل نسائها میرا گمان یہ ہے کہ اس کے لیے مہرِ مثل ہوگا بھئی لا وكس ولا شطط نہ تو اس میں کچھ کمی ہو ولا شطط اور نہ اس میں زیادتی ہو، کمی بیشی نہ ہو پورا کیا دیا جائے؟ مہرِ مثل اس کو ملنا چاہیے بھئی۔ تو دیکھیے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ جو افقہ الصحابہ ہیں بھئی افقہ الصحابہ، وہ فرما رہے ہیں کہ اگر میں حق کو پہنچ گیا تو اللہ کی طرف سے ہوگا اور اگر میں نے غلطی کی تو یہ میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہوگا، تو دیکھیے وہ اپنی غلطی کو بھی ذکر کر رہے ہیں کہ خطا کا بھی احتمال ہے اور یہ بات سب صحابہ کے سامنے ہوئی اور کسی نے بھی ان کو نہیں ٹوکا کہ غلطی تو نہیں یہ تو کیا ہوگا؟ صحیح ہی ہوگا جو حکم حق ہی کو پہنچیں گے۔ تو معلوم ہوا کہ گویا صحابہ کا اس پر اجماع ہو گیا کہ مجتہد وہ حق کو جیسے پہنچ سکتا ہے اسی طرح خطا بھی کر سکتا ہے۔ وكان ذلك بمحضر من الصحابة اور یہ واقعہ جو ہے صحابہ کی موجودگی میں ہوا ولم ينكر عليه أحد منهم اور انکار نہیں کیا حضرت عبداللہ ابن مسعود پر کسی ایک نے بھی ان صحابہ میں سے فكان إجماعا تو یہ اس بات پر اجماع ہوا على أن الاجتهاد يحتمل الخطأ کہ اجتہاد جو ہے وہ خطا کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ وقالت المعتزلة اور معتزلہ کہتے ہیں كل مجتهد مصيب والحق في موضع الخلاف متعدد کہ ہر مجتہد مصیب ہے حق کو پہنچنے والا ہے والحق في موضع الخلاف متعدد اور حق جو ہے اختلاف کے محل میں متعدد ہوں گے بھئی۔ حق کیا ہو گئے؟ یعنی ہر مجتہد حق کو پہنچا ہے، ہر مجتہد جس نے جو بھی حکم نکالا وہ برحق ہے بھئی، یعنی ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اللہ کی طرف سے پہلے کوئی حکم مقرر ہی نہیں ہے بھئی، جو مجتہد جس حکم کو پہنچ گیا بس وہی حکم ہے وہی شریعت کی طرف سے حکم ہے بھئی۔ أي في علم الله تعالى یعنی اللہ کے علم میں، اللہ کے علم میں ہر مجتہد مصیب ہے اور حق موضع خلاف میں متعدد ہیں اللہ کے علم میں، یعنی یہاں اللہ کی طرف سے کوئی حکم مقرر ہی نہیں ہے بھئی۔ وهذا باطل شارح فرماتے ہیں یہ باطل ہے لأن منهم من يعتقد حرمة شيء اس لیے کہ ان مجتہدین میں سے بعض وہ ہیں جو اعتقاد رکھتے ہیں کسی چیز کے حرام ہونے کا ومنهم من يعتقد حله اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو اعتقاد رکھتے ہیں اسی چیز کے حلال، ایک ہی چیز ہے اس کے بارے میں بعض کہتے ہیں حلال ہے بعض مجتہدین کہتے ہیں حرام ہے، تو فكيف يجتمعان في الواقع وفي نفس الأمر؟ اور یہ کیسے جمع ہو سکتے ہیں واقع کے اندر اور نفس الامر میں؟ ایک ہی چیز، ایک مجتہد کہہ رہا ہے حلال اور ایک مجتہد کہہ رہا ہے حرام، یہ تو اجتماعِ ضدین ہے بھئی یہ تو نہیں ہو سکتا۔ یا تو یہ حلال ہوگی یا کیا ہوگی؟ حرام۔ حلال بھی ہو حرام بھی ہو یہ تو نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو کہتے ہیں فكيف يجتمعان في الواقع اور یہ کیسے دونوں جمع ہو سکتے ہیں یعنی حلت اور حرمت واقع کے اندر وفي نفس الأمر اور نفس الامر میں؟ وقد روي هذا أي كون كل مجتهد مصيبا عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أيضا اور تحقیق یہ جو ہے یعنی ہر مجتہد کا مصیب ہونا یہ روایت کیا گیا ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے بھی، بعض نے روایت کیا ہے کہ امام صاحب نے بھی یہی فرمایا کہ ہر مجتہد کیا ہے؟ مصیب ہے، تو یہ ان سے بھی روایت کی گئی ہے ولذا نسبه جماعة إلى الاعتزال اور اسی وجہ سے ان امام صاحب کی نسبت کی ہے ایک جماعت نے اعتزال کی طرف، کس کی طرف نسبت کی ہے؟ اعتزال کے عقیدے کی طرف نسبت کی ہے کہ امام صاحب بھی معتزلی تھے۔ وهو منزه عنه وحالاں کہ امام صاحب اس سے پاک ہیں بھئی، وہ ان کا عقیدہ یہ نہیں تھا۔ پھر ان کے کہنے کا کیا مطلب تھا کہ ہر مجتہد مصیب ہوتا ہے؟ کہتے ہیں وإنما غرضه اور ان امام صاحب کی غرض یہ تھی أن کلهم مصیب في العمل دون الواقع کہ ان میں سے ہر ایک مصیب ہے حق کو پہنچنے والا ہے في العمل کس کے اندر؟ عمل میں حق کو پہنچنے والا ہے دون الواقع نہ کہ واقع، یعنی عمل کے اعتبار سے ہر مجتہد مصیب ہے حق کو، واقع کے اعتبار سے یعنی اللہ کے علم کے اعتبار سے وہ ہر مجتہد حق کو پہنچے یہ ان کی مراد نہیں تھی بھئی بلکہ کیا مراد تھی؟ عمل کے اعتبار سے ہر مجتہد کس کو پہنچا؟ حق کو پہنچا ہے۔ بھئی مثال سے اس کی وضاحت ہوگی، اپ مثلاً جنگل میں ہیں، کوئی قبلے کی سمت کا اپ کو پتہ نہیں ہے، کوئی بتانے والا بھی نہیں ہے، نماز کا وقت ہو گیا، شریعت نے کیا بتلایا اپ کو؟ تحری کر لیں گے، کیا کر لیں گے؟ تحری کر لیں گے اور اپ کا قلب اپ کو جس طرف بتلا دے کہ اس طرف ہے قبلہ تو اپ اس طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیں۔ اب اپ عمل کے اندر مصیب ہیں اپ کا یہ عمل درست ہے بھئی، عمل کے اعتبار سے اپ مصیب ہیں اپ کا قبلہ اسی طرف ہے جس طرف دل نے بتلا دیا، یہ نماز اپ کی ہو جائے گی تو اپ عمل کے اعتبار سے مصیب ہیں یعنی اپ یوں سمجھیں قبلے ہی کی طرف ہی ہے اپ کا رخ، حالانکہ واقع میں تو ایسا نہیں، واقع میں تو، تو عمل میں اپ مصیب ہیں واقع کے اعتبار سے مصیب نہیں، تو امام صاحب کے کہنے کا بھی یہی مطلب ہے کہ مجتہد جب اجتہاد کرتا ہے تو وہ عمل کے اعتبار سے کیا ہے؟ ہر مجتہد مصیب ہے لیکن واقع کے اعتبار سے مصیب نہیں ہر مجتہد بھئی جو بلکہ جتنے مجتہدین ہیں جتنے اقوال ہیں ان میں سے کوئی ایک مصیب ہوگا بھئی، بات سمجھ میں اگئی سب کو اچھی طرح؟ على ما عرف في مقدمة البزدوي مفصلا بناءً بر اس کے جیسا کہ جانا گیا ہے مقدمہ بزدوی کے اندر تفصیل کے ساتھ، کہتے ہیں یہ بات جو ہم نے بیان کر دی کہ امام صاحب کے قول کا یہ معنی ہے کہ عمل کے اندر مجتہد مصیب ہے واقع کے اندر مصیب ہونا ان کی مراد نہیں ہے، کہتے ہیں یہی بات مقدمہ بزدوی کے اندر بھی تفصیلی طور پر تحریر ہے۔ وهذا الاختلاف في النقليات دون العقليات اور یہ جو اختلاف ہے مجتہدین کا في النقليات یہ کس کے اندر ہوگا؟ نقلیات کے اندر ہوگا یعنی فروعی مسائل میں، نقلیات سے کیا مراد ہیں؟ فروعی مسائل جن سے عمل کا تعلق ہے بھئی جن کے ساتھ، دون العقليات نہ کہ عقلیات میں، عقلیات سے مراد ہیں اعتقادیات بھئی، جن وہ چیزیں جن کا تعلق اعتقاد سے ہے کہ اللہ ایک ہے، قیامت قائم ہوگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں وغیرہ بھئی، تو یہ جو مجتہد یہ جو اختلاف ذکر ہوا یہ کس میں؟ یہ کس میں؟ فروعی مسائل کے اندر ہے فقہی مسائل میں ہے دون العقليات نہ کہ اعتقادی مسائل کے اندر بھئی۔ یعنی یہ جو یہاں پر اختلاف بیان ہوا، بعضوں نے کہا مجتہد مصیب بھی ہو سکتا ہے اور مخطی بھی اور بعضوں نے کیا کہا؟ ہر مجتہد مصیب ہی ہے، یہ جو اختلاف ہے یہ فروعی مسائل کے اعتبار سے ہے عقلیات کے اعتبار سے، عقلیات کے اندر یعنی کہ عقائد دینیہ کے اندر جو اختلاف کرے اس میں غلطی کرنے والا اس کو یا تو کافر کہیں گے یا گمراہ کہیں گے بھئی۔ اس کو کیا کہیں گے؟ کافر یا گمراہ کہیں گے بھئی۔ وهذا الاختلاف اور یہ جو ہمارے اور معتزلہ کے درمیان اختلاف ہے في النقليات یہ نقلیات یعنی فروعی مسائل میں ہے دون العقليات نہ کہ اعتقادیات کے اندر۔ کچھ شارح بتلا رہے ہیں أي في الأحكام الفقهية دون العقائد الدينية یعنی احکامِ فقہیہ کے اندر ہے نہ کہ عقائدِ دینیہ کے اندر فإن المخطئ فيها كافر جو عقائد دینیہ ہیں ان کے اندر خطا کرنے والا کافر ہے كاليهود والنصارى جیسے یہود اور نصاریٰ أو مضلل یا وہ کیا ہے؟ گمراہ قرار دیا گیا ہے كالروافض والخوارج والمعتزلة جیسے کہ روافض یعنی شیعہ ہیں والخوارج اور خارجی ہیں والمعتزلة اور معتزلہ ہیں۔ خارجی یہ ایک گمراہ فرقہ بھئی جو خلفائے راشدین کے زمانے میں حضرت عثمان غنی، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں ظاہر ہوا بھئی ونحوهم اور ان جیسے یہ سے جو ہیں۔ ولا يشكل اور یہ اشکال نہ کیا جائے بأن الأشعرية والماتريدية اختلفوا في بعض المسائل کہ اشاع بھئی دیکھیے۔ اعتقادیات کے اندر یاد رکھیے شوافع وغیرہ کے امام ہیں امام ابو الحسن اشعری۔ اور امام ابو الحسن اشعری کے متبعین کو اشاعرہ کہا جاتا ہے۔ اور عقائد کے اندر ہمارے امام ہیں امام ابو منصور ماتریدی۔ ماتریدی بھئی اور ان کے متبعین کو ماتریدیہ کہا جاتا ہے بھئی۔ اب ان دونوں میں بھی اختلاف ہے عقائد کے اندر۔ تو آپ نے انہوں نے بتلایا اوپر کہ عقائد کے اندر اختلاف کرنے والے کو یا تو کافر کہا جائے گا یا کیا کہا جائے گا؟ گمراہ کہا جائے گا۔ تو یہ کوئی اشکال کہتے ہیں ہم پر نہ کرے کہ عقائد کے اندر تو اختلاف اشاعرہ اور ماتریدیہ کے اندر بھی ہے، تو ان کو بھی کافر ایک دوسرے کو کہنا چاہیے، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کو کافر یا گمراہ نہیں کہتا بھئی۔ تو جواب دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں ولا يشكل اور یہ اشکال نہ کیا جائے، یہ اعتراض نہ کیا جائے بأن الأشعرية والماتريدية اختلفوا في بعض المسائل کہ اشاعرہ اور ماتریدیہ جو ہیں، انہوں نے اختلاف کیا ہے بعض مسائل کے اندر ولا يقول أحد منهما بتضليل الآخر اور کوئی ایک بھی نہیں کہتا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کی گمراہی کا۔ لأن ذلك ليس في أمهات، دو جواب دے رہے ہیں بھئی۔ لأن ذلك ليس في أمهات المسائل، اس لیے کیونکہ وہ جو اختلاف ہے، وہ أمهات المسائل التي عليها مدار الدين، جن پر دین کا دارومدار ہے، ان أمهات المسائل میں وہ اختلاف نہیں ہے۔ وہ مسائل جو دین کے اصول ہیں، اصل ہیں، ان کے اندر اختلاف نہیں ہے بھئی۔ بلکہ صرف کس کے اندر ہے؟ بعض چیزوں اور چیزوں میں اختلاف ہے، لیکن اصولِ دین کے اندر وہاں اختلاف نہیں ہے بھئی۔ ایک وجہ یہ ذکر کر دی۔ تو اصولِ دین میں اختلاف ہے، پھر کافر یا گمراہ قرار دیا جائے گا بھئی۔ وأيضا، دوسری وجہ وأيضا لم يقل أحد منهما بالتعصب والعداوة اور اس وجہ سے بھی کہ ان میں سے کوئی ایک بھی قائل نہیں ہے تعصب اور عداوت کی وجہ سے۔ یعنی ان میں سے کسی ایک نے بھی جو اختلاف کیا ہے، وہ تعصب اور عداوت کی بنا پر نہیں کیا ہے بھئی، بلکہ احقاقِ حق کے لیے کیا ہے، حق کو ثابت کرنے کے لیے بھئی۔ وذكر في بعض الكتب اور ذکر کیا گیا ہے بعض کتابوں میں کہ بأن هذا الاختلاف إنما هو في المسائل الاجتهادية دون تأويل الكتاب والسنة کہ یہ جو اختلاف ہے کہ مجتہد مصیب بھی ہو سکتا ہے اور مجتہد مخطئ بھی ہو سکتا ہے، کہتے ہیں إنما هو في المسائل الاجتهادية، یہ مسائلِ اجتہادیہ کے اندر ہے بھئی۔ کہ مجتہد مصیب بھی ہو سکتا ہے اور مخطئ بھی، اور بعض کہتے ہیں مصیب ہی رہے ہوگا ہمیشہ۔ تو یہ اختلاف مسائلِ اجتہادیہ میں ہے، دون تأويل الكتاب والسنة، نہ کہ کتاب اللہ اور سنت کے تاویل کے اندر یہ اختلاف نہیں ہے۔ فإن الحق فيهما واحد بالإجماع، پس حق جو ہے ان میں بالاجماع ایک ہی ہے۔ حق ان میں بالاجماع ایک ہی ہے! یعنی قروء کا لفظ آیا، تو ہم نے تاویل کی، اس سے حیض مراد لیا امام صاحب نے۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ نے تاویل کی، اس سے کیا مراد لیا؟ طہر مراد لیا، دلیلیں ذکر کیں۔ تو کہتے ہیں اس قسم، یہ جو کتاب اللہ اور سنت میں تاویل ہے، اس کے اندر حق بالاجماع ایک ہی ہے۔ والمخطئ فيها معاتب اور غلطی کرنے والا جو اس میں ہے، وہ معاتب ہے، یعنی اس کو ملامت کیا جائے گا، اس کو کیا کیا جائے گا؟ آخرت میں ملامت کیا جائے گا۔ والله أعلم اور اللہ ہی خوب جاننے والے ہیں بھئی۔ تو ایک قول تو یہ کہ مجتہد جو ہے، وہ مخطئ اور مصیب، یہ عام ہے بھئی، مخطئ اور مصیب ہو سکتا ہے، مسائلِ اجتہادیہ میں بھی اور کتاب و سنت کی تاویل میں بھی۔ اور بعضوں نے کیا کہا کہ مسائلِ اجتہادیہ کے اندر تو مصیب اور مخطئ والا اختلاف ہے، لیکن جو کتاب اللہ اور سنت کی تاویل جو ہے، اس کے اندر بالاجماع حق کیا ہے؟ اس میں بالاجماع حق ایک ہی ہے۔ یعنی قروء سے یا تو حیض ہی مراد ہے یا طہر ہی مراد ہے۔ ایک امام حق پر ہے اور دوسرا مخطئ ہے، اور جو مخطئ ہے، غلطی کرنے والا، اس کو آخرت میں ملامت ہوگی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ دوسرا قول ذکر کیا، لیکن حق وہی ہے پہلا مذہب مولانا۔ کہ چاہے مسائلِ اجتہادیہ ہوں یا کتاب اللہ اور سنت کی تاویل بھئی، ہر جگہ پر مخطئ جو ہے، اس کو بھی ایک اجر ملے گا، ملامت وغیرہ نہیں، بلکہ اس نے اپنی مجتہد نے پوری کوشش صرف کی، پوری اخلاصِ نیت کے ساتھ اور پوری اپنی تمام صلاحیتیں صرف کر کے حکم معلوم کیا، دلیلیں بنائیں، اصول بنائے، تو وہ اگر غلطی بھی کرے تو ایک اجر ملے گا، ملامت وغیرہ نہیں بھئی، بلکہ اللہ کی طرف سے اجر ملے گا کہ اس نے کوشش کی، اور اگر حق تک پہنچا تو دو اجر ملیں گے بھئی۔ ثم المجتهد إذا أخطأ كان مخطئا ابتداء وانتهاء عند البعض۔ اب یہ بحث ذکر کر رہے ہیں کہ مجتہد سے جب غلطی ہوئی، تو اس کو کیا کہیں گے؟ کہ یہ ابتداءً بھی غلطی کرنے والا ہے اور انتہاءً بھی؟ یا صرف یہ کہیں گے کہ ابتداءً تو یہ مصیب ہے، انتہاءً کیا کی ہے؟ غلطی کی ہے؟ دو مذاہب ذکر کریں گے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ہم یوں کہ ابتداءً بھی غلطی کرنے والا ہے اور ابتداءً یعنی جو مجتہد نے اجتہاد کیا، مقدمات ملائے، صغریٰ، کبریٰ وغیرہ ملائے، اس کے اندر بھی غلطی کی اور آگے نتیجے میں بھی کیا کی؟ جو حکم نکالا اس میں بھی غلطی کی۔ بعض کہتے ہیں نہیں، کہ صرف انتہاء کے اعتبار سے غلطی کہیں گے، ابتداء کے اعتبار سے وہ مصیب ہے، مقدمات کے جوڑنے میں، ان کو ترتیب دینے میں وہ مصیب ہے، کیونکہ اس کو اسی چیز کا مکلف بنایا گیا تھا، اس نے اپنی پوری کوشش صرف کر دی مقدمات کے جوڑنے میں، دلائل کے بنانے کے اندر، اور پھر وہ الگ بات ہے حکم تک پہنچ نہیں سکا۔ تو خطا انتہاء میں آئی ہے، ابتداء میں نہیں، جبکہ بعض نے کیا کہا، ابتداء میں بھی خطا اور انتہاء میں بھی خطا، جبکہ دوسروں کا کیا مذہب ذکر ہوا؟ ابتداء میں مصیب اور انتہاء میں مخطئ ہے بھئی۔ کہتے ہیں ثم المجتهد إذا أخطأ، جب مجتہد خطا کرے، كان مخطئا ابتداء وانتهاء عند البعض، تو وہ خطا کرنے والا ہے ابتداءً بھی اور انتہاءً بھی بعض کے علماء کے نزدیک۔ یعنی في ترتيب المقدمات، یہ ابتداءً کا معنی بیان کر رہے ہیں، یعنی مقدمات کے ترتیب دینے میں واستخراج النتيجة، یہ انتہاءً کا معنی بیان کر رہے ہیں، ابتداءً و انتہاءً کا معنی بیان کیا۔ ابتداءً کا کیا معنی؟ مقدمات کے ترتیب دینے میں، اور انتہاءً کا کیا معنی؟ نتیجے کے نکالنے میں۔ یعنی مقدمات کے ترتیب دینے میں اور نتیجے کے نکالنے میں جمیعاً سب دونوں میں غلطی پر ہے۔ وإليه مال الشيخ أبو منصور رحمه الله وجماعة أخرى اور اسی کی طرف مائل ہوئے ہیں شیخ ابو منصور اور ایک دوسری جماعت بھی علماء کی، فقہاء کی۔ والمختار اور مختار قول یہ ہے، پسندیدہ قول یہ ہے کہ أنه مصيب ابتداء مخطئ انتهاء کہ مجتہد ابتداءً مصیب ہے، حق کو پہنچنے والا ہے، مخطئ انتهاء اور انتہاءً خطا کرنے والا ہے۔ لأنه أتى بما كلف به، اس لیے کیونکہ وہ لے آیا اس چیز کو جس کا اس کو مکلف بنایا گیا تھا، یعنی اس نے وہ عمل کیا في ترتيب المقدمات، مقدمات کو ترتیب دینے میں وبذل جهده، اور اپنی اپنی جَہد اور جُہد دونوں طرح بھئی، اپنی کوشش کو خرچ کرنے میں فیہا اس کے اندر فكان مصيبا فيه، تو وہ اس میں کوشش خرچ کرنے میں مصیب ہے۔ وإن أخطأ في آخر الأمر، اگرچہ اس نے غلطی کی ہے کس کے اندر؟ آخرِ امر میں وعاقبة الحال اور حال کے انجامِ کار میں فكان معذورا بل مأجورا، تو وہ معذور ہوا، اپنے اس نے پوری کوشش کر دی، پھر اگر نتیجے تک نہیں پہنچا، تو معذور ہے بھئی، وہ کیا ہوا؟ معذور، یعنی اس کے عذر کو قبول کیا جائے گا۔ بل مأجورا بلکہ مأجور ہے، اس کو اجر دیا جائے گا لأن للمخطئ له أجر وللمصيب له أجران، اس لیے کیونکہ خطا کرنے والا جو ہے، اس کے لیے ایک اجر ہے اور حق تک پہنچنے والے کے لیے دو۔ یہ ایک اجر بتلاتا ہے، یہ ایک اجر ملا، معلوم ہوا ابتداء میں یہ مصیب تھا، خطا کہاں ہوئی ہے؟ انتہاء میں ہوئی ہے، انتہاء میں۔ اور جو مصیب ہوتا ہے، یعنی نتیجے میں بھی حق تک پہنچتا ہے، وہ ابتداءً بھی مصیب، انتہاءً بھی مصیب، تو اس کو دو اجر ملتے ہیں بھئی۔ وقد وقعت في زمان داود عليه الصلاة والسلام وسليمان عليه الصلاة والسلام حادثة رعي الغنم حرث قوم۔ اور تحقیق اب مثال ذکر کرنے لگے ہیں بھئی، کہ مجتہد ابتداءً ابتداءً مصیب ہوگا اور انتہاءً وہ خطا کر سکتا ہے، لیکن ابتداءً کیا ہوگا؟ مصیب ہی ہوگا۔ اس کی اب مثال قرآن سے ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں تحقیق واقعہ ہوا حضرت داؤد علیہ... بھئی حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں آپ کو اللہ نے حکومت عطا فرمائی تھی، تو ایک شخص کی بھیڑ بکریاں تھیں، وہ بھیڑ بکریاں کسی دوسرے شخص کے تیار فصل کھڑی تھی، اس کھیت میں وہ بھیڑ بکریاں گھسیں اور ساری فصل کو برباد کر ڈالا۔ بھیڑ بکریاں زیادہ ہوں گی، سینکڑوں کی تعداد میں ہوں گی، تو ساری فصل کو تباہ کر ڈالا، ختم کر دیا۔ وہ مقدمہ لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس آیا، اس چرواہے کو بھی پکڑ لایا جس کی بھیڑ بکریاں تھیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے دونوں کی بات سنی اور پھر دیکھا کہ جو جتنے کی فصل تھی، بھیڑ بکریوں کی قیمت بھی اتنی ہے۔ تو ضابطے کے مطابق آپ نے فیصلہ فرمایا کہ یہ اس کا بھی تم نے جتنا نقصان کیا ہے، اتنے ہی کی بھیڑ بکریاں ہیں، لہٰذا یہ بھیڑ بکریاں فصل والے کے حوالے کر دو، یہ اس کی ہو گئیں۔ اس نقصان کے ضمان کے طور پر کیا کرو؟ یہ بھیڑ بکریاں کھیت والے کے حوالے کر دو۔ یہاں سے نکلے، تو حضرت سلیمان علیہ السلام جو حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے، کم عمر تھے، ان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا مسئلہ اور کہ کیا فیصلہ ہوا؟ انہوں نے بتلایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام فرمانے لگے: کیا میں اس سے بہتر فیصلہ تمہیں نہ بتاؤں؟ تو انہوں نے کہا بتلائیے، کہا کہ یہ جو بھیڑ بکریوں والا ہے، یہ اپنی ساری بھیڑ بکریاں کھیت والے کے حوالے کر دے، ہیں اسی چرواہے کی، لیکن حوالے کس کے کر دے؟ کھیت والے کے حوالے کر دے۔ اور یہ کھیت والا ان کو اپنے پاس رکھے، ان سے نفع اٹھائے، ان کا دودھ بھی پیے، ان کی اون بھی استعمال کرے، بیچے وغیرہ، اور اس دوران یہ کھیت جو ہے، یہ بکریوں والے کے حوالے کر دیا جائے، وہ اس کھیت میں دوبارہ محنت کرے، ہل چلائے، بیج ڈالے اور فصل اسی طرح کاشت کرے، جب فصل بعینہٖ اسی حالت کو پہنچ جائے، تو یہ جا کر اپنی بکریاں اس سے لے لے اور فصل اس کے حوالے کر دے بھئی۔ تو یہ فیصلہ کیا انہوں نے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو اسی واقعے کا ذکر کر رہے ہیں، دیکھیے دلیل کے طور پر۔ کہتے ہیں وقد وقعت في زمان داود عليه الصلاة والسلام وسليمان عليه الصلاة والسلام حادثة رعي الغنم حرث قوم۔ اور پیش آیا حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما الصلاۃ والسلام کے زمانے میں، کیا پیش آیا؟ حادثة رعي الغنم، بھیڑ بکریاں حادثة رعي الغنم، بھیڑ بکریوں کا چر لینا، رَعَى يَرْعَى کا کیا معنیٰ؟ چرنا، غنم: بھیڑ بکریاں، جیسے شاہ کا لفظ بھیڑ بکری دونوں پر بولا جاتا ہے، اسی طرح غنم بھی ہے۔ بھیڑ بکریوں کا چر لینا کس چیز کو چر لینا؟ حرث قوم، یہ مفعول ہے رعی مصدر کے لیے، ایک قوم کی یا ایک بعض لوگوں کی کھیتی کو۔ بھیڑ بکریوں کا بعض لوگوں کی کھیتی کو چر لینے کا حادثہ پیش آیا۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ فحكم داود عليه الصلاة والسلام بشيء، تو حضرت داؤد علیہ السلام نے فیصلہ فرمایا ایک چیز کا وأخطأ فيه، اور اس میں غلطی کی، خطا کر لی، اجتہادی مسئلہ تھا نا، تو اس میں کیا کر لی؟ خطا کی۔ وسليمان علیہ السلام بشيء آخر، اور فیصلہ کیا حضرت سلیمان علیہ السلام نے دوسری چیز کا وأصاب فيه، اور اس میں حق کو پہنچ گئے۔ فيقول الله تعالى حكاية عنها، پس اللہ تعالیٰ عنہما، اللہ تعالیٰ ان دونوں سے واقعے کی حکایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ففهمناها سليمان، ہم نے وہ بات سمجھا دی کن کو؟ سلیمان علیہ السلام کو۔ وكلا آتيناه حكما وعلما، اور ہر ایک کو ہم نے حکم اور علم دیا تھا، یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی اور حضرت داؤد علیہ السلام کو بھی۔ أي ففهمنا تلك الفتوى، ففهمناها، ها ضمیر جو ہے کس کو راجع؟ فتویٰ کو راجع ہے بھئی، فتویٰ بتلا رہے ہیں شارح، أي ففهمنا تلك الفتوى، ہم نے سمجھا دیا وہ فتویٰ۔ سمجھ میں آئی بات؟ معلوم ہوا فتویٰ کا لفظ مؤنث ہے عربی میں بھئی، تو ہم نے وہ سمجھا دیا وہ فتویٰ سليمان، سلیمان علیہ السلام کو آخر الأمر، انجامِ کار میں، آخر کار ہم نے ان کو سمجھا دیا۔ وكل واحد من داود وسليمان، یہ کلاً جو ہے، یہ میں نے بتلایا اس پر جو تنوین آئی ہے، یہ مضاف علیہ کا عوض ہوتی ہے، وكل واحد، ہر ایک جو ہے من داود وسلیمان، داؤد اور سلیمان علیہ السلام میں سے آتيناه حكما وعلما، ہم نے ان کو حکم اور علم عطا کیا، دیکھیے وہی آیت کی تفسیر بیان کرتے چلے جا رہے ہیں۔ تو ہر ایک کو ہم نے حکم اور علم دیا تھا في ابتداء المقدمات، کس کے اندر؟ ابتداءِ... بھئی اجتہادی فیصلہ کیا نا، تو صغریٰ، کبریٰ ملایا، اس کے بعد نتیجہ نکالا کہ یوں ہونا چاہیے، تو یہ جو ابتدائی مقدمات ہیں، اللہ فرما رہے ہیں ہم نے ان کو حکم اور دونوں کو حکم اور علم دی، حکمت اور علم دیا تھا، دونوں کو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا تھا، یعنی کس چیز میں؟ في ابتداء المقدمات، ابتدائی مقدمات میں۔ فعلم من قوله تعالى، پس جان لیا گیا اللہ کے قول ففهمناها، یہ جو اللہ کا قول آیا نا ففهمناها، اس سے یہ بات جان لی گئی أن المجتهد يخطئ ويصيب، کہ مجتہد خطا کرتا ہے اور کبھی حق کو پہنچتا ہے۔ اللہ فرما رہے ہیں یہ بات ہم نے کس کو سمجھا دی؟ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دی، معلوم ہوا وہ حق کو پہنچ گئے، حضرت داؤد علیہ السلام حق کو نہیں پہنچ سکے۔ تو معلوم ہوا مجتہد جیسے حق کو پہنچتا ہے، اسی طرح خطا بھی کر سکتا، تقریر بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟ تو یہ بات معلوم ہوئی اللہ کے قول ففهمناها سے، ومن قوله، اور یہ بات معلوم ہوئی اللہ کے قول وکلا آتيناه... وكلا آتيناه، اس سے یہ بات معلوم ہوئی أنهما مصيبان في ابتداء المقدمات، کہ وہ دونوں مصیب تھے کس کے اندر؟ ابتدائی مقدمات میں۔ یعنی دونوں کو ہم نے حکم، حکمت بھی دی تھی اور علم بھی دیا تھا، معلوم ہوا ابتداء، جب علم اور حکمت پاس ہے، تو معلوم ہوا ابتدائی مقدمات میں مصیب ہیں، حکمت اور علم اللہ نے دیا ہوا ہے تو ابتدائی مقدمات میں مصیب ہیں۔ ہاں، ففهمناها سليمان، سمجھایا کس کو ہم نے؟ سلیمان، یعنی ان وہ حق تک ہم نے ان کو پہنچا دیا، وہ حق تک پہنچ گئے۔ معلوم ہوا کہ ابتدائی مقدمات کے اندر دونوں مصیب تھے، کیونکہ دونوں کے پاس علم بھی ہے اور حکمت بھی ہے، لیکن انجامِ کار میں ایک حق کو پہنچا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟