درس نمبر۔137 والمرض عطف على ما قبله، وهو حالة للبدن يزول بها يزول بها اعتدال الطبيعة، وإنه لا ينافي أهلية الحكم والعبارة؛ أن يكون أهلاً لوجوب الحكم وللتعبير عن المقاصد بالعبارة حتى صح نكاحه وطلاقه وسائر ما يتعلق بعبارته، ولكنه لما كان سبب ولما كان ولكنه لما كان سبب الموت، وإنه أي والحال أن الموت عجز خالص كان المرض من أسباب العجز، فشرعت العبادات عليه بالقدرة الممكنة. أهليت کو پیش آنے والے امورِ سماوی کا ذکر چل رہا ہے بھئی! آج مرض کے بارے میں بتلا رہے ہیں بھئی! کہتے ہیں: "والمرض عطف على ما قبله" یہ بھی عطف ہے ماقبل پر یعنی اسی صغر پر عطف ہے صغر پر، یا ماقبل کے اندر جو آیا "والرق" تو ماقبل میں جو "والرق" اس سے پہلے جو آیا، یہ اس پر عطف ہے کیونکہ وہ اس کے قریب ہے، قریب اور یا صغر پر عطف ہے جو اصل ہے بھئی! تو کہتے ہیں: "عطف على ما قبله" یہ عطف ہے اپنے ماقبل پر۔ "وهو حالة للبدن" مصنف نے مرض کی تعریف نہیں کی کیونکہ ہر ایک اس کو جانتا ہے تو شارح البتہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: "وهو حالة للبدن" کہ یہ بدن کی حالت ہے "يزول بها اعتدال الطبيعة" جس کی وجہ سے طبیعت کا اعتدال جو ہے وہ زائل ہو جاتا ہے، ختم ہو جاتا ہے بھئی! طبیعت معتدل نہیں رہتی۔ "وإنه لا ينافي أهلية الحكم والعبارة" اور یہ مرض جو ہے یہ منافی نہیں ہے اہلّیتِ حکم اور اہلّیتِ عبارت کے منافی یہ نہیں ہے بھئی! یعنی اس سے اہلّیتِ حکم بھی ختم نہیں ہوتی اور اہلّیتِ عبارت بھی؟ یعنی اس پر وجوبِ حکم بھی آتا ہے، وجوبِ حکم کی بھی وہ اہلّیت رکھتا ہے جو مریض ہے، اور اس کی عبارت بھی صحیح ہے، معتبر ہے۔ "أن يكون أهلاً لوجوب الحكم وللتعبير عن المقاصد" یعنی کہ وہ اہل ہے حکم کے واجب ہونے کا، "وللتعبير عن المقاصد" اور وہ اہل ہے مقاصد سے تعبیر کرنے کا، "بالعبارة" کس کے ساتھ؟ کہ وہ اپنے مقاصد کو بیان کر سکتا ہے عبارت کے ساتھ۔ "حتى صح نكاحه" یہاں تک کہ اس مریض کا نکاح صحیح ہے، وہ نکاح کرے تو نکاح صحیح ہے، "وطلاقه" اور اس کی طلاق بھی صحیح ہے اگر وہ دے، دیکھو اس کی عبارت معتبر ہے بھئی! سمجھ میں آئی بات بھئی؟ جو زبان سے کہہ رہا ہے، جو تصرف کر رہا ہے وہ درست ہیں۔ "وسائر ما يتعلق بعبارته" اور اسی طرح صحیح ہیں وہ چیزیں جن کا وہ تمام چیزیں جن کا تعلق اس مریض کے عبارت سے ہے، یعنی اس کے کلام سے ہے۔ "ولكنه لما كان سبب الموت" لیکن یہ مرض جو ہے یہ موت کا سبب ہے، "وإنه" "أي والحال أن الموت" شارح نے "والحال" کا لفظ نکال کر بتلایا کہ یہ جو متن میں آ رہا ہے نہ "وإنه" آگے ہے "عجز خالص" یہ کیا بن رہا ہے؟ حال بن رہا ہے ماقبل سے بھئی! اور آگے "وإنه" ہا ضمیر کا مرجع بھی بتلایا شرح میں، کہ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ موت کو راجع ہے "أن الموت" بھئی! "وإنه" "أي والحال أن الموت عجز خالص" اور حال یہ ہے کہ موت جو ہے خالص عجز ہے۔ تو کیا بتلا رہے ہیں متن میں؟ کہ لیکن یہ مرض جب یہ موت کا سبب ہے اور موت تو عجزِ خالص ہے، موت کیا ہے؟ عجز یعنی خالص عجز جس میں انسان عاجز آ جاتا ہے ہر چیز سے، "كان المرض من أسباب العجز" تو مرض کس میں سے ہوا؟ عجز کے اسباب میں سے ہوا، جب موت کا سبب ہے، موت عجز ہے تو یہ اس کے اسباب میں سے، "فشرعت العبادات عليه بالقدرة الممكنة" تو مشروع ہوں گی عبادات اس مریض پر قدرّتِ ممکنہ کے ساتھ، آپ پڑھ چکے ہیں قدرت دو قسم پر ہے: ایک قدرتِ ممکنہ، ایک قدرتِ میسرہ۔ قدرتِ ممکنہ: ادنیٰ درجے کی قوت، اور قدرتِ میسرہ: جس میں سہولت ہوتی ہے بھئی! تو اس پر جو عبادات مشروع ہوں گی، کس طریقے پر ہوں گی؟ قدرتِ ممکنہ کے ساتھ ہوں گی، یعنی جس طرح وہ ادا کر سکے، "فيصلي قاعداً إن لم يقدر على القيام" پس وہ بیٹھ کر نماز پڑھے گا اگر وہ کھڑے ہونے پر قادر نہیں ہے، "ومستلقياً" اور لیٹ کر، چت لیٹ کر نماز پڑھے گا، استلقاء کہتے ہیں چت لیٹنا، جس طرح انسان لیٹتا ہے بھئی، کمر زمین پر رکھ کر سیدھا لیٹتا ہے اس طرح نماز ادا کرے گا اگر یہ بیٹھنے پر بھی نہیں قادر، اگر بیٹھنے پر قادر ہے کھڑا نہیں ہو سکتا تو بیٹھ کر نماز پڑھے، اگر بیٹھنے پر بھی قادر نہیں ہے تو سیدھا لیٹ کر، چت لیٹ کر نماز پڑھے گا۔ یہ معنیٰ ہے "ومستلقياً" اور چت لیٹ کر، "إن لم يقدر على القعود" اگر وہ قادر نہیں ہے بیٹھنے پر۔ "ولما كان الموت علة الخلافة" "علة الخلافة" اور جب موت جو ہے وہ خلافت کی علت ہے، موت کیا ہے؟ خلافت کی علت ہے، بھئی! جب انسان مرتا ہے تو اس کے وارث اور اس کے جو قرض خواہ ہیں، وہ اس کے نائب بن جاتے ہیں اس کے مال کے اندر، وہ مال کن کی طرف منتقل ہو گیا؟ وارثوں اور قرض خواہوں کی طرف، تو دیکھو وہ نائب بن گئے اور کس وجہ سے بنے؟ موت کی وجہ سے، تو موت علت ہوئی کس چیز کی؟ خلافت کی، "ولما كان الموت علة الخلافة" اور جب موت جو ہے وہ خلافت کی علت ہے، "أي خلافة الوارث والغرماء في ماله" یعنی وارث اور قرض خواہوں کی کے خلافت کی اسی "ماله" اس مریض کے یا اس مرنے والے کے مال میں، "كان المرض من أسباب تعلق حق الوارث والغريم بماله" تو مریض مرض جو ہے وہ ان اسباب میں سے ہے کہ اس مریض کے مال کے ساتھ، ترجمہ آخر سے کر رہا ہوں، کہ مریض کے مال کے ساتھ قرض خواہوں اور وارثوں کے حق کا تعلق ہو جاتا ہے، یہ ان اسباب میں، یوں کریں ترجمہ بھئی! اس مریض کے مال کے ساتھ قرض خواہوں اور وارثوں کے کا حق متعلق ہونے کے اسباب میں سے ہے مرض بھئی! مرض کی وجہ سے کیا ہو گا؟ مریض کے مال کے ساتھ وارثوں اور قرض خواہوں کا حق متعلق ہو جائے گا بھئی! بھئی دیکھیے! وجہ ابھی بیان کر رہے ہیں ساری متن میں ذکر کرتے چلے آ رہے ہیں کہ مرض سبب ہے کس چیز کا؟ موت کا، اور موت علت ہے کس چیز کی؟ خلافت کی، تو مرض سبب ہوا موت کا اور موت علت ہوئی خلافت کی، تو مرض کیا ہوا؟ سبب ہوا، مرض کیا ہوا؟ کس چیز کا سبب ہوا؟ خلافت کا سبب ہوا، یعنی ان قرض خواہوں اور وارثوں کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو جائے گا مرض میں، یعنی مرض الموت، کونسا مرض مراد ہے؟ مرض الموت جس میں انسان کا انتقال ہو، وہ بستر سے لگ جائے، اٹھ ہی نہ سکے، پتہ چل جائے کہ اب اس کا بچنا مشکل ہے بھئی! وہ مرض الموت ہے۔ تو کہتے ہیں: "كان المرض من أسباب تعلق حق الوارث والغريم بماله" تو مرض جو ہے وہ مریض کے مال کے ساتھ قرض خواہوں اور وارث کے حق کے تعلق کے اسباب میں سے ہے، "فيكون من أسباب الحجر" تو یہ مرض بھی پابندی کے اسباب میں سے ہو گا۔ حجر کس کو کہتے ہیں؟ پابندی کو بھئی! جیسے غلام پر پابندی ہوتی ہے وہ تصرفات نہیں کر سکتا، اسی طرح مرض الموت کے اندر بھی وارثوں اور قرض خواہوں کا حق متعلق ہو گیا مال کے ساتھ، تو اب انسان پر کچھ پابندیاں آ جاتی ہیں بھئی! کچھ پابندیاں آ جاتی ہیں، ایک تو یہ کہ اگر اس کا سارا مال قرض میں ڈوبا ہوا ہے تو پھر اس صورت میں وہ کسی کے لیے تبرع نہیں کر سکتا بھئی! کسی کے لیے وصیت کرنا صحیح نہیں بھئی! اس طرح اور پابندیاں آتی ہیں جو ذکر آ رہا ہے بھئی! تو کہتے ہیں: "فيكون من أسباب الحجر" تو یہ مرض بھی جو ہے پابندی کے اسباب میں سے ہے، "بقدر ما يتعلق به صيانات الحق" اتنی مقدار سے جس کے ساتھ حق کی حفاظت کا تعلق ہو۔ پابندی آئے گی بھئی! لیکن اتنی مقدار میں پابندی آئے گی جس سے دوسروں کے حق کی حفاظت ہو بھئی! سارے مال میں نہیں، مثلاً اگر زیادہ مال ہے اس کے پاس، قرضے تھوڑے سے ہیں، معمولی سے ہیں، وہ بھی ادا ہو جائیں گے اور اور مال زیادہ ہے تو وارثوں کو دو ثلث دے کر ایک ثلث اس کا جو بچتا ہے تو اتنے کے دو ثلث کے اندر تو وارثوں کا حق ہوا، کچھ قرض خواہوں کا حق ہوا اور باقی مال کے اندر اس پر پابندی نہیں ہو گی بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جتنی اتنی مقدار میں پابندی آئے گی جس سے دوسروں کے حق کی حفاظت ہو جائے، وہ محفوظ ہو جائیں، یہ معنیٰ ہے: "بقدر ما يتعلق به صيانات الحق" اتنی مقدار میں جس کے ساتھ تعلق ہو ان کے حق کی حفاظت کا، "أي حق الغريم والوارث" بتلایا "الحق" کے اندر الف لام عوض ہے مضاف الیہ سے بھئی! "أي حق الغريم والوارث" یعنی قرض خواہ اور وارث کا حق جو ہے ان کی حفاظت سے جتنی مقدار کا تعلق ہو۔ "ويكون المريض محجوراً من قدر الدين الذي هو حق الغريم" اور مریض جو ہے وہ محجور ہو گا، اس پر پابندی ہو گی "من قدر الدين الذي" اتنے دین کی مقدار جو "هو حق الغريم" جو کہ قرض خواہ کا حق ہے، "ومن الثلثين الذي هو حق الوارث" اور اتنے ثلثین کے اندر وہ محجور ہو گا جو کہ وارث کا حق ہے، دو ثلث کے اندر دو تہائی کے اندر جو وارث کا حق ہے اس میں اس پر وہ پابند ہو گا، "ولكن لا مطلقا" لیکن مطلقاً نہیں! مرض الموت کی بات چل رہی ہے، مرض کے اندر مطلقاً اس پر پابندی نہیں ہو گی، "بل إذا اتصل بالموت" بلکہ جب وہ مرض کس کے ساتھ مل جائے؟ موت کے ساتھ، اگر اس میں مرض میں موت بھی آ گئی، پھر یہ پابندیوں کا اعتبار ہو گا، اگر وہ ٹھیک ہو گیا تو پھر کوئی پابندی نہیں بھئی! جو کچھ اس نے کیا صحیح ہے بھئی! چاہے سارا مال ہی کسی کو دے دیا، وہ بھی صحیح ہے بھئی! تو کہتے ہیں: "بل إذا اتصل بالموت" مگر جب اس مرض کے ساتھ موت مل جائے، "ويموت من ذلك المرض" اور وہ شخص مر جائے اس مرض سے، "فحينئذٍ يظهر كونه محجوراً" تو اس وقت اس کا محجور ہونا ظاہر ہو گا، "ولكن يكون مستنداً إلى أوله" لیکن یہ جو حجر ہے، پابندی ہے، اس کی نسبت کی جائے گی "إلى أوله أي إلى أول المرض" کس کی طرف؟ مرض کے اول کی طرف، جب سے مرض شروع ہوا ہے، پابندی کا پتہ تو چلے گا موت کے وقت، جب یہ مر جائے گا پتہ لگا اس مرض میں اس پر پابندی تھی، اب اس مرض کے تو موت کے وقت پتہ چلا لیکن نسبت کب کی جائے گی؟ یہ پابندی کب سے ہے؟ جب سے یہ مرض شروع ہوا، وہ وقت تو پیچھے گزر چکا لیکن اس وقت سے ہی پابندی کو شمار کیا جائے گا اور جو جو اس نے تصرفات کیے ہوں گے، ان پر نظر کی جائے گی بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: لیکن وہ جو ہے پابندی، وہ اس کی نسبت ہو گی "إلى أوله أي إلى أول المرض" مرض کی اول ابتدا کی طرف، "أي يقال عند الموت إنه محجور عن التصرف من أول المرض" یعنی کہا جائے گا اس کی موت کے وقت کہ یہ شخص مریض جو ہے محجور تھا تصرف سے تصرف سے محجور تھا، اس پر پابندی تھی "من أول المرض" مرض کی ابتدا سے ہی، "حتى لا يؤثر المرض" یہاں تک کہ اثر یہاں تک کہ مرض مؤثر نہیں ہو گا، آگے متن میں آ رہا ہے "فيما لا يتعلق به حق غريم ووارث" اتنی مقدار کے اندر جس کے ساتھ غریم یعنی قرض خواہ اور وارث کا حق متعلق نہ ہو۔ بتلایا بھئی! ابھی وہی بات میں نے جو بتلائی کہ اتنی مقدار کے اندر پابندی آئے گی جن سے وارثوں کا اور قرض خواہوں کا حق متعلق ہے، باقی مقدار کے اندر پابندی نہیں آئے گی، یہی بات کر رہے ہیں: "حتى لا يؤثر المرض" یہاں تک کہ مرض مؤثر نہیں ہو گا "فيما" اس مقدار کے اندر "لا يتعلق به حق غريم ووارث" جس کے ساتھ غریم اور وارث کا حق متعلق نہ ہو بھئی! تو کہتے ہیں: "حتى لا يؤثر المرض" یہاں تک کہ مرض مؤثر نہیں ہو گا، "متعلق بقوله بقدر ما يتعلق به صيانة الحق" یہ متعلق ہے مصنف کے قول "بقدر ما يتعلق به صيانة الحق" کہ اس یہ پابند یہ اوپر کیا آیا تھا؟ کہ مرض پابندی کے اسباب میں سے ہے اتنی مقدار میں جتنی مقدار سے ان کے حق کی حفاظت ہو سکے، تو یہ اسی سے متعلق ہے۔ "أي إنما يؤثر المرض فيما يتعلق به حق الغير" یعنی مرض مؤثر ہو گا اتنی مقدار میں جس کے ساتھ غیر کا حق متعلق ہے، "ولا يؤثر فيما لا يتعلق به حق غريم ووارث" اور یہ مرض جو ہے مؤثر نہیں ہو گا اتنی مقدار کے اندر جس کا تعلق غریم اور وارث کے حق کے ساتھ نہ ہو، "كالنکاح بمهر المثل" جیسے نکاح کرنا مہرِ مثل کے ساتھ، مرض الموت میں اس نے نکاح کیا تھا ایک اور نکاح کس کے پر کیا تھا؟ مہرِ مثل! جتنا مہر ہونا چاہیے تھا اسی پر کیا، کوئی زائد مہر نہیں، تو اس صورت میں یاد رکھیے یہ نکاح صحیح ہے، یہ نکاح کیا ہے؟ صحیح ہے بھئی! تو کہتے ہیں: "فإنه" کیونکہ "فإنه من الحوائج الأصلية" کیونکہ یہ انسان کی ضروریاتِ اصلیہ میں سے ہے، بقائے نسل کے لیے کس چیز کی ضرورت اسے؟ نکاح کی ضرورت ہے، یہ اس کی ضروریاتِ اصلیہ میں سے ہے، "وحقهم يتعلق فيما يفضل منها" اور ان قرض خواہوں اور وارثوں کا حق تو متعلق ہوتا ہے اس مقدار کے اندر "يفضل منها" جو حوائجِ اصلیہ سے زائد ہوں۔ بھئی! حوائجِ اصلیہ جو ہیں جو انسان مال میں اس کے ساتھ اولاً اس کی اپنی ضروریات پوری حوائجِ اصلیہ ہوں گی، اس کے بعد زائد مقدار کے اندر قرض خواہوں کا اور وارثوں کا حق ہوتا ہے، اور تو نکاح کس میں سے ہے؟ حوائجِ اصلیہ میں سے، اصلی حاجتوں میں سے ہے، لہٰذا اس نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس سلسلے میں اس پر پابندی نہیں ہو گی بھئی! تو کہتے ہیں: "وحقهم يتعلق فيما يفضل منها" اور ان کا حق جو ہے غریم اور وارثوں کا حق جو ہے وہ تو متعلق ہے اس مقدار کے اندر جو حوائجِ اصلیہ سے زائد ہو، "فيصح في الحال كل تصرف يحتمل الفسخ" پس صحیح ہے فی الحال بھئی! اسی وقت بھئی! ہماری حالتِ مرض میں ہی، "كل تصرف" ہر وہ تصرف "يحتمل الفسخ" جو فسخ کا احتمال رکھتا ہے، "كالهبة والمحاباة" جیسے کہ ہبہ ہے، کسی کو کوئی چیز تحفہ اور ہدیہ دینا، یہ بھی صحیح ہے کیونکہ اس کے بعد میں فسخ کیا جا سکتا ہے، بتلایا نہ اس نے جتنی مقدار جس میں وہ مقدار جس کے جس سے وارثوں کے اور قرض خواہوں کا حق متعلق ہو اتنی مقدار میں اس پر پابندی ہو گی۔ جب اس پر پابندی ہے تو آگے بتلا رہے ہیں: پس فی الحال مرض کے اندر ہر وہ عقد ہر وہ تصرف صحیح ہے جو بعد میں فسخ کا احتمال رکھتا ہے، جسے بعد میں فسخ کیا جا سکتا ہے، جیسے ہبہ ہے اور محاباة ہے، ان کو بعد میں کیا کیا جا سکتا ہے؟ فسخ کیا جا سکتا ہے، لہٰذا فی الحال یہ صحیح ہوں گے، بعد میں اگر ضرورت پیش آئی تو ان کو کیا کیا جا سکتا ہے؟ فسخ کیا جا سکتا ہے۔ "والمحاباة" محاباة کہتے ہیں بیع وغیرہ میں نرمی کرنا بھئی! کیا کرنا؟ نرمی کرنا، سہولت دینا، مثلاً بھئی! ایک چیز دوسرے کو بیچنے لگا، چیز تھی دس ہزار کی، اس نے کہا: چلو بھئی! میں آپ کو چھ ہزار میں دے دیتا ہوں، تو دیکھو نرمی کر دی۔ یا کسی سے کوئی چیز خریدنے لگا اور وہ چیز تھی پانچ ہزار کی، اس نے کہا: چلو میں نے تم سے آٹھ ہزار یا دس ہزار میں خرید لی، تو دیکھو نرمی کی بھئی! تو یہ ہے محاباة بھئی! تو یہ بھی وہ کر سکتا ہے حالتِ مرض میں، اگرچہ اس میں زائد پیسے جا رہے ہیں یا لیکن اس کو بعد میں کیا کیا جا سکتا ہے؟ فسخ کیا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں محاباة کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: "وهو البيع بأقل من القيمة" وہ بیع کرنا ہے قیمت سے کم میں، "إذ الموت مشكوك في الحال" اسی کیونکہ موت فی الحال مشکوک ہے، ابھی تو یقینی بات نہیں کہ یہ مرتا ہے اس مرض میں یا نہیں، اس لیے یہ جائز ہیں۔ "وليس في صحة هذا التصرف في الحال ضرر بأحد" اور اس تصرف کے صحیح ہونے میں فی الحال کوئی ضرر نہیں ہے کسی ایک کو بھی، "فينبغي أن يصح حينئذٍ" پس مناسب یہ ہے کہ اس وقت پھر یہ صحیح ہوں، "ثم ينقض إن احتيج إليه" پھر ان کو توڑ دیا جائے اگر اس کی طرف ضرورت پیش آئے، "أي إلى النقض" کس کی طرف ضرورت اگر پیش آئے؟ توڑنے کی طرف اگر ضرورت پیش آئے تو پھر ان کو توڑ دیا جائے گا، "عند تحقق الحاجة" جب حاجت پائی جائے۔ وَمَا لَا يَحْتَمِلُ الْفَسْخَ اور وہ چیزیں جو فسخ کا احتمال نہیں رکھتیں جُعِلَ كَالْمُعَلَّقِ بِالْمَوْتِ تو ان کو اسی طرح کر دیا جائے گا جیسے وہ چیزیں ہیں جو معلق بالموت ہیں۔ جو موت کے ساتھ معلق۔ بھئی، جو تصرفات حالتِ، مرض میں کر رہا ہے انسان، یاد رکھیے۔ اگر وہ فسخ کا احتمال رکھتی ہیں پھر تو ٹھیک ہیں۔ فی الحال کسی کا نقصان نہیں تو فی الحال یہ ٹھیک ہیں، بعد میں ضرورت پڑی تو فسخ کیا جا سکتا ہے۔ اور جو چیزیں فسخ کا احتمال نہیں رکھتیں جیسے اعتاق ہے، غلام کو آزاد کرنا، یہ تو فسخ کا احتمال نہیں رکھتا۔ تو یہ اسی طرح ہو گا جس طرح وہ چیزیں جو موت سے معلق تھیں۔ کس کی طرح ہو جائے گا یہ اعتاق؟ وہ چیزیں جو موت کے ساتھ معلق ہیں انہی کا حکم ہو گا اس کا بھی۔ بھئی، کیا چیز موت کے ساتھ معلق ہے؟ کہتے ہیں وَهُوَ الْمُدَبَّرُ، وہ مدبر ہے۔ مدبر کی آزادی معلق ہے موت کے ساتھ۔ یہ شخص مرے گا تو مدبر آزاد ہو گا، تو اعتاق بھی اسی کی طرح ہوا؟ اسی کی طرح ہوا کیا معنی؟ اس نے غلام آزاد کیا مرض الموت میں، تو یہ مدبر کی طرح ہے، کیا معنی؟ کہتے ہیں فی الحال یہ غلام ہی شمار ہو گا۔ فی الحال کیا شمار ہو گا؟ غلام، جیسے مدبر موت تک غلام ہی ہے، موت کے بعد آزاد شمار ہو گا، یہ بھی کیا شمار ہو گا؟ غلام شمار ہو گا اور موت کے بعد جا کر یہ آزاد ہو جائے گا۔ اور آزاد ہونے کے بعد پھر دیکھا جائے گا کہ اس کے آزاد، غلام تو بڑا مہنگا ہے، اس کی قیمت زیادہ ہے، تو کیا اب باقی مال سے قرض خواہوں کی اور قرض خواہوں کی ادائیگی، ان کے قرض کی ادائیگی ہو سکتی ہے؟ وارثوں کو دو ثلث باقی مال بن جاتا ہے، وہ مل جاتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو ٹھیک، اگر ایسا نہیں ہوتا بھئی، قرض خواہوں کا قرض پھر بھی بچ جاتا ہے، باقی مال سے پورا ادا نہیں ہوتا، تو پھر جتنا بچ جائے گا اس کے اندر یہ کیا کرے گا؟ یہ یہ معتق جو ہے، یہ ان میں کما کر لا کر دے، کما کر لائے گا اور ادائیگی کرے گا بھئی، کما کر لائے گا اور اسی طرح وہ جو وارثوں کا حق دو ثلث بنتا ہے بھئی، قرض، اپ جانتے ہیں بھئی، ترتیب کیا ہے؟ کوئی شخص انتقال ہو جائے سب سے پہلے اس کے کفن دفن کا بندوبست کیا جاتا ہے اس کے مال میں سے۔ اس کے بعد قرض خواہوں کے قرض ادا کیے جاتے ہیں چاہے سارا مال ہی کیوں نہ ختم ہو جائے۔ قرضے جب سارے ادا ہو جائیں، تو باقی مال جو بچ جائے، اس کے ثلث کے اندر اس کی وصیت نافذ کی جاتی ہے اگر اس نے کوئی وصیت کی ہے۔ اور دو ثلث وارثوں کا حق ہے بھئی، دو ثلث۔ تو لہٰذا یہاں بھی اسی طرح ہو گا۔ اگر اس نے غلام آزاد کیا اور غلام جو ہے اس کے علاوہ بھی اتنا مال ہے کہ ساروں کے قرضے بھی ادا ہو جاتے ہیں اور اور باقی مال غلام کے ساتھ ملائیں تو غلام ثلث سے کم ہے، غلام ثلث سے کم ثلث سے کم یا ثلث کے برابر ہے، تو دو ثلث کس کے لیے بچ رہے ہیں؟ وارثوں کے لیے، تو اس صورت میں تو غلام کو سعی کی ضرورت نہیں۔ کما کر لانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ ثلث میں سے نکل آیا اور ثلث کے اندر تصرف کرنا وہ مرنے والے کا حق تھا بھئی، وہ اس کا مال اسی کا ہے۔ تو لہٰذا، ہاں اگر باقی مال غلام کے ساتھ ملایا تو غلام کی قیمت ثلث سے بڑھ رہی ہے، تو دو ثلث تو حق ہے کس کا؟ وارثوں کا، تو وارثوں کا حق بھی اس غلام کے اندر جا رہا ہے۔ تو اس صورت میں جتنا حق جا رہا ہے، اتنا وہ کما کر لا کر اسے دینا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے وَمَا لَا يَحْتَمِلُ الْفَسْخَ جُعِلَ كَالْمُعَلَّقِ بِالْمَوْتِ، اور وہ چیز جو فسخ کا احتمال نہیں رکھتی اس کو معلق بالموت کی طرح قرار دیا جائے گا۔ وَهُوَ الْمُدَبَّرُ، اور وہ کون ہے معلق بالموت؟ مدبر ہے۔ جی، تو وہ چیزیں جو فسخ کا احتمال نہیں رکھتیں كَالْإِعْتَاقِ، جیسے کہ اعتاق آزاد کرنا ہے إِذَا وَقَعَ عَلَى حَقِّ غَرِيمٍ أَوْ وَارِثٍ، جب یہ اعتاق واقع ہو قرض خواہ کے حق پر یا وارث کے حق پر بِأَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا مِنْ مَالِهِ الْمُسْتَغْرَقِ بِالدَّيْنِ، بیں صورت کے اس مرنے والے نے آزاد کیا تھا ایک ایسا غلام، اس مریض نے آزاد کیا ایک غلام مِنْ مَالِهِ اپنے اس مال میں سے الْمُسْتَغْرَقِ بِالدَّيْنِ جو ڈوبا ہوا ہے دین کے اندر، یعنی دین نے سارے مال کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ أَوْ أَعْتَقَ عَبْدًا، یا آزاد کیا ایسا غلام قِيمَتُهُ تَزِيدُ عَلَى الثُّلُثِ، کہ اس کی قیمت زائد ہے ثلث پر فَحُكْمُ هَذَا الْمُعْتَقِ حُكْمُ الْمُدَبَّرِ، تو اس معتق کا حکم مدبر کا حکم ہے قَبْلَ الْمَوْتِ، موت سے پہلے جو مدبر کا حکم تھا وہی اس کا بھی حکم ہے۔ فَيَكُونُ عَبْدًا فِي جَمِيعِ الْأَحْكَامِ الْمُتَعَلِّقَةِ بِالْحُرِّيَّةِ، تو پس یہ غلام ہی ہو گا ان تمام احکام کے اندر جو جن کا تعلق آزادی سے ہے، جن کا تعلق ان تمام احکام کے اعتبار سے یہ غلام ہی شمار ہو گا۔ مِنَ الْكَرَامَاتِ، یعنی کہ وہ عزتیں، وہ عزتیں جو ولایت وغیرہ اور ذمہ ہے اور چار بیویوں کا حلال ہونا وغیرہ ان کے اعتبار سے یہ ابھی بھی غلام ہی ہو گا۔ وَبَعْدَ الْمَوْتِ يَكُونُ حُرًّا، اور موت کے بعد پھر یہ معتق کیا ہو گا؟ اب اب معتق ہوا بھئی۔ وَيَسْعَى فِي قِيمَتِهِ لِلْغُرَمَاءِ وَالْوَارَثَةِ، اور یہ پھر کوشش کرے گا، یعنی کما کر لا کر دے گا اپنی قیمت قرض خواہوں کو اور وارثوں کو۔ وَأَمَّا إِنْ كَانَ فِي الْمَالِ وَفَاءٌ بِالدَّيْنِ، اور اگر مال کے اندر جو ہے، دین کی وفا ہے یعنی پوری ادائیگی ہو سکتی ہے۔ وفا کا معنی پورا ہونا کسی چیز کا، وفا بالدین جس سے پورے دین کی ادائیگی، اتنا مال جس سے پورا دین ادا ہو سکے، تو یہ ہے وفا بالدین۔ وفا بالدین کسے کہیں گے؟ وہ مال جس سے پورے ادا۔ تو کہتے ہیں اگر مال جو ہے وہ اتنا ہے کہ اس سے پورے دین کی ادائیگی ہو سکتی ہے أَوْ هُوَ يَخْرُجُ مِنَ الثُّلُثِ، یا وہ معتق جو ہے نکل آتا ہے کتنے میں سے؟ ثلث میں سے نکل آتا ہے، فَيَنْفُذُ الْعِتْقُ فِي الْحَالِ، تو اس صورت میں فی الحال ہی آزادی نافذ ہو جائے گی، فی الحال ہی وہ آزاد ہو جائے گا۔ لِعَدَمِ تَعَلُّقِ حَقِّ أَحَدٍ بِهِ، بوجہ کسی ایک کا حق بھی اس کے ساتھ متعلق نہ ہونے کے۔ بِخِلَافِ عِتْقِ الرَّاهِنِ حَيْثُ يَنْفُذُ، بخلاف راہن کے آزاد کرنے کے اس حیثیت سے کہ وہ نافذ ہو جائے گا۔ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی، سوال کا۔ سوال یہ کہ اپ نے ہمیں بتایا کہ جب قرض خواہوں اور وارث کا حق جو ہے وہ غلام سے بھی متعلق ہو رہا ہے، وہ بھی اسی کے اندر آ رہا ہے، تو پھر اس وہ اس مریض کا اعتاق نافذ نہیں ہوتا جب تک اس کی موت نہ ا جائے بھئی۔ حالانکہ اس کے مقابلے میں ایک شخص ہے اس نے کسی سے قرض لیا اور اپنا غلام اس کے پاس رہن رکھوا دیا، رہن رکھوا دیا۔ اب دیکھیے یہ جو مرہون غلام ہے اس کے ساتھ بھی مرتہن کا حق وابستہ ہے، یہ غلام اس نے کیوں اپنے پاس بطورِ رہن کے رکھا؟ کہ اس کے ذریعے وہ اپنا قرضہ جو اس نے راہن کو دیا تھا اس کو وہ وصول کرے گا۔ کیا کرے گا؟ وصول کرے گا، اگر وہ ادا کر دیتا ہے ٹھیک ہے نہیں تو پھر اس غلام کو بیچا جائے گا اور پھر اس کے قرضے کو اس پیسوں سے یہ قرضہ لے لے گا، باقی جو پیسے بچ جائیں گے وہ راہن کے واپس کر دیے جائیں گے۔ تو یہ مرہون غلام جو ہے اس کے ساتھ اس مرتہن کا حق متعلق ہے اور جب حق متعلق ہے تو لہٰذا راہن کے آزاد اعتاق کو نافذ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ابھی اپ نے بتایا وارث اور قرض خواہوں کا حق غلام سے متعلق تھا تو وہ آزاد نہیں ہوتا تھا جب تک وہ مریض مر نہ جائے۔ تو یہاں پر بھی جب مرتہن کا حق غلام اس مرہون کے ساتھ متعلق ہے تو راہن کے آزاد کرنے سے اس کو آزاد نہیں ہونا چاہیے۔ تو جواب دے رہے ہیں، تو جواب دیں گے کہ بھئی راہن جو ہے اس کے آزاد کرنے سے اس کا مرہون غلام اس لیے آزاد ہو جائے گا کیونکہ مرتہن کا حق غلام کی ذات میں اور اس کے رقبے میں نہیں ہے بلکہ صرف اس کے قبضے میں ہے، کس میں ہے؟ قبضہ اس کا ہے، رقبہ تو ذات تو کس کی ہے ابھی بھی؟ راہن ہی کی ہے تو لہٰذا وہ آزاد کر سکتا ہے۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں بِخِلَافِ عِتْقِ الرَّاهِنِ حَيْثُ يَنْفُذُ، بخلاف راہن کے آزاد کر دینے کے اس حیثیت سے کہ وہ نافذ ہو جائے گا۔ جَوَابُ سُؤَالٍ مُقَدَّرٍ، یہ جواب ہے ایک سوالِ مقدر کا۔ وَهُوَ، اور وہ سوالِ مقدر یہ أَنَّكُمْ قُلْتُمْ، کہ اپ نے کہا ہے کہ إِنَّ الْإِعْتَاقَ لَا يَنْفُذُ فِي الْحَالِ، کہ اعتاق فی الحال نافذ نہیں ہو گا إِذَا وَقَعَ عَلَى حَقِّ غَرِيمٍ أَوْ وَارِثٍ، جب وہ اعتاق کس پر واقع ہو؟ غریم یا وارث کے حق پر۔ وَمَعَ ذَلِكَ جَوَّزْتُمْ إِعْتَاقَ الرَّاهِنِ، اس کے باوجود اپ نے جائز قرار دیا ہے راہن کے اعتاق کو کہ راہن کا آزاد کرنا عَبْدًا مَرْهُونًا، کس کو؟ عبدِ مرہون کو، يَتَعَلَّقُ بِهِ حَقُّ الْمُرْتَهِنِ، وہ عبدِ مرہون جس کے ساتھ مرتہن کا حق متعلق ہے۔ فَأَجَابَ، تو جواب دیا مصنف نے بِأَنَّ إِعْتَاقَ الرَّاهِنِ إِنَّمَا يَنْفُذُ، کہ راہن کا آزاد کرنا اس وجہ اسی لیے نافذ ہوتا ہے لِأَنَّ حَقَّ الْمُرْتَهِنِ فِي الْيَدِ دُونَ الرَّقَبَةِ، اس لیے کیونکہ مرتہن کا حق قبضے کے اندر ہے دون الرقبہ، نہ کہ اس غلام کی ذات میں ہے۔ غلام اس کے پاس پھر بطورِ قبضہ کے ہے، اس کے قبضے میں ہے، اس کی ذات کا وہ مالک نہیں بنا۔ تو مرتہن کا حق غلام کے قبضے میں ہے نہ کہ رقبہ میں، إِذْ فِي الرَّقَبَةِ بَقِيَ حَقُّ الرَّاهِنِ، جبکہ رقبہ جو ہے اس کے اندر راہن کا حق باقی ہے وَصِحَّةُ الْإِعْتَاقِ تَبْتَنِي عَلَيْهِ، اور اعتاق کا صحیح ہونا اس کی بنیاد اسی پر ہے۔ یہ جو راہن کا حق باقی ہے رقبہ کے اندر اس پر کیا ہے اعتاق کی صحیح ہونے کی بنیاد ہے۔ وَالْحَيْضُ وَالنِّفَاسُ، مَعْطُوفٌ عَلَى مَا قَبْلَهُ، یہ بھی اس ان امورِ سماویہ میں سے ہیں جو عارض ہوتے ہیں اہلیت کو بھئی۔ تو اب مرض کے بعد اب حیض و نفاس کو ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں مَعْطُوفٌ عَلَى مَا قَبْلَهُ، اس کا عطف ہے ماقبل پر، ذَكَرَهُمَا بَعْدَ الْمَرَضِ، ان دونوں کو یعنی حیض و نفاس کو مصنف نے مرض کے بعد ذکر کیا لِاتِّصَالِهِمَا بِهِ، اس وجہ سے کہ یہ دونوں بھی اسی مرض کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، یہ بھی اسی کے ساتھ متصل ہیں بھئی کس اعتبار سے؟ کہتے ہیں مِنْ حَيْثُ كَوْنِهِمَا عُذْرًا، اس حیثیت سے کہ یہ دونوں عذر، ان دونوں کے عذر ہونے کی حیثیت سے جس طرح مرض عذر تھا اسی طرح حیض و نفاس بھی عذر ہیں۔ وَهُمَا لَا يَعْدَمَانِ الْأَهْلِيَّةَ، اور یہ دونوں معدوم نہیں کرتے اہلیت کو، یعنی اہلیت کو ختم نہیں کرتے حیض و نفاس کی وجہ سے عورت کی اہلیت ختم نہیں ہوتی، نہ اہلیتِ وجوب نہ اہلیتِ ادا۔ اہلیتِ وجوب بھی اس میں باقی رہتی ہے اور اہلیتِ ادا بھی، تو کہتے ہیں یہ معنی یہ دونوں ختم نہیں کرتے اہلیت کو، لَا أَهْلِيَّةَ الْوُجُوبِ وَلَا أَهْلِيَّةَ الْأَدَاءِ، نہ اہلیتِ وجوب کو اور نہ اہلیتِ ادا کو۔ فَكَانَ يَنْبَغِي أَنْ لَا تَسْقُطَ بِهِمَا الصَّلَاةُ وَالصَّوْمُ، تو پس مناسب یہ ہے کہ ساقط نہ ہو حیض و نفاس کی وجہ سے نماز اور روزہ۔ حیض و نفاس اہلیت کو ختم کرتے ہیں یا اہلیت کو ختم نہیں؟ نہ اہلیتِ وجوب کو اور نہ اہلیتِ ادا، لہٰذا کیا ہونا چاہیے؟ جب نہ اہلیتِ وجوب کو یہ ختم کر رہے ہیں نہ اہلیتِ ادا کو، تو نماز اور روزہ حیض و نفاس والی عورت پر ثابت ہونا چاہیے۔ ساقط نہیں ہونا چاہیے لَكِنَّ الطَّهَارَةَ لِلصَّلَاةِ شَرْطٌ، لیکن طہارت پاکیزگی جو ہے وہ نماز کے لیے طہارت یعنی وضو شرط ہے نماز کے لیے، وَفِي فَوْتِ الشَّرْطِ فَوْتُ الْأَدَاءِ، اور شرط کے فوت ہونے سے ادا کی بھی فوت ہو گی۔ شرط کے فوت ہونے میں ادا کا فوت ہونا ہے۔ بھئی، ہونا تو یہ چاہیے، جب حیض و نفاس یہ اہلیت کو ساقط نہیں کرتے، تو نماز اور روزہ عورت سے ساقط نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ان نماز اور روزے میں سے جو نماز ہے اس کے لیے طہارت شرط ہے، وضو اس کے لیے شرط ہے اور یہاں پر طہارت تو عورت کو حاصل نہیں، جب شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، وہ ادا کر سکتی ہے؟ ادا کر ہی نہیں سکتی کیونکہ وہ طہارت کی حالت میں ہے ہی نہیں اس وقت، تو اس تو وہ ادا کی اس میں صلاحیت نہ رہی، ادا نہیں کر سکتی۔ اور ادا تو حکم تھا وجوب کا، یہ ادا کس کی وجہ سے آئی؟ ادا کیوں لازم ہوئی؟ وجوب کی وجہ سے لازم ہوئی تھی کیونکہ اس پر واجب تھی ہوئی تھی تو ادا بھی لازم، تو جب یہ ادا نہیں کر سکتی اور ادا تو حکم تھا کس چیز کا؟ وجوب کا، تو لہٰذا اس پر وجوب بھی نہیں آئے گا۔ لَكِنَّ الطَّهَارَةَ لِلصَّلَاةِ شَرْطٌ، لیکن طہارت جو ہے وہ نماز کے لیے شرط ہے وَفِي فَوْتِ الشَّرْطِ فَوْتُ الْأَدَاءِ، اور شرط کے فوت ہونے میں ادا کا بھی فوت ہونا ہے وَهَذَا مِمَّا وَافَقَ فِيهِ الْقِيَاسُ النَّقْلَ، اور یہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جن میں موافق ہو گیا قیاس نقل کے، جس میں قیاس کس کے موافق ہو گیا؟ نقل کے یعنی نص کے جو آئی ہے، جو منقول ہے۔ کیونکہ حدیث میں بھی آیا ہے کہ جو عورت حیض میں ہو وہ نہ نماز پڑھے اور نہ روزہ رکھے۔ تو اب قیاس بھی اسی کے موافق ہے، قیاس بھی یہی چاہتا ہے کہ نماز اس پر واجب نہیں ہونی چاہیے، کیوں نہیں واجب؟ کیونکہ یہ ادا نہیں کر سکتی اور جب ادا نہیں کر سکتی تو وجوب کا تو مقصد ہی کیا تھا؟ ادا، تو جب ادا نہیں کر سکتی تو وجوب بھی نہیں آئے گا اس پر، تو یہاں پر دیکھیے قیاس موافق ہوا نقل کے۔ وَقَدْ جُعِلَتِ الطَّهَارَةُ عَنْهُمَا شَرْطًا لِصِحَّةِ الصَّوْمِ، اب روزے کی بات کرنے لگیں، اور تحقیق قرار دیا گیا ہے طہارت کو عنھما ان دونوں سے، یعنی حیض و نفاس، حیض و نفاس سے پاکی کو شرط قرار دیا گیا ہے لِصِحَّةِ الصَّوْمِ کس کے لیے؟ روزے کے صحیح ہونے کے لیے، کہ عورت کیا ہو؟ حیض و نفاس سے پاک ہو پھر ہی روزہ صحیح ہو گا۔ نَصًّا، کس اعتبار سے؟ باعتبار نص کے، نص آئی ہے اس کے اندر، بِخِلَافِ الْقِيَاسِ، بخلاف کس کے؟ قیاس کے، قیاس تو تقاضا کرتا ہے روزہ روزہ رکھنا چاہیے، روزہ اس کا صحیح ہونا چاہیے، کیونکہ کیونکہ بے وضو ہونا اور جنابت کی حالت میں ہونا یہ روزے کے منافی نہیں ہے۔ بے وضو ہونا یا جنابت کی حالت میں ہونا روزے کے منافی نہیں، اپ پڑھ چکے ہیں اصول الشاشی کے اندر کہ روزہ شروع ہو گا فجر صادق کے وقت اور فجر صادق سے پہلے کا سارا وقت رات ہے، اور رات کے اندر بیوی سے صحبت کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص اخری رات کے اخری وقت میں بیوی سے صحبت کر لے تو جب صبح صادق شروع ہو گی تو کس حالت میں ہو گا؟ جنابت کی حالت میں ہو گا اور پھر بھی روزہ اس کا صحیح بھئی۔ تو بالاجماع جنابت روزے کے منافی نہیں، تو لہٰذا یہاں پر بھی طہارت میں اگرچہ طہارت اس عورت کو حاصل نہیں لیکن پھر بھی اس کا روزہ صحیح ہونا چاہیے، لیکن نص میں کیا ا گیا؟ روزے سے بھی منع کر دیا گیا، تو یہ نص مطابقِ قیاس ہوئی یا خلافِ قیاس ہوئی؟ یہ نص کیا ہوئی؟ خلافِ قیاس ہوئی، اور خلافِ قیاس جو حکم ہوتا ہے وہ اپنے مورد پر بند رہتا ہے، کس پر بند رہتا ہے؟ اپنے مورد پر بند رہتا ہے، لہٰذا اس کو بعد میں قضا کرنا پڑے گی روزوں کی۔ نماز کا تو وجوب ہی نہیں ایا سرے سے، وہ بعد میں بھی نہیں ہے اس پر، لیکن روزے جو ہیں، روزے نہ رکھے، رمضان ا جائے، عورت حیض یا نفاس کی حالت میں ہو تو حدیث میں کیا ایا؟ حیض یا نفاس والی نماز اور روزہ نہ رکھے۔ تو اب نماز تو ہوئی ساقط اور وہ مطابقِ قیاس ہے لہٰذا اس میں قضا بھی نہیں ائے گی بھئی، کیونکہ جو حکم مطابقِ قیاس ہو وہ متعدی ہوتا ہے، تو جو حکم تھا اصل کا وہی متعدی ہوا کس کی طرف؟ قضا کی طرف بھی، اصل جب واجب نہیں تو قضا بھی واجب نہیں، جبکہ روزہ جو ہے وہ خلافِ قیاس ہے، روزے کے اندر طہارت کا حکم، جب خلافِ قیاس ہے تو یہ اپنے اصل مورد پر بند رہے گا، لہٰذا حیض و نفاس کی حالت میں وہ جو رمضان کے روزے رکھنا اس وقت تو اس پر واجب نہیں ہے وہ اس وقت نہیں رکھے گی، ہاں قضا کی طرف یہ حکم متعدی نہیں ہو گا، قضا اس کو کرنا پڑے گی، صورت سمجھ میں ا گئی؟ اذ الصوم يتأدى بالحدث، کیونکہ روزہ جو ہے وہ ادا کیا جاتا ہے حدث کے ساتھ، والجنابة، اور جنابت کے ساتھ، فينبغي أن يتأدى بالحيض النفاس، پس مناسب یہ ہے کہ یہ ادا ہو جائے حیض اور نفاس کے ساتھ بھی، لولا النص، اگر نص نہ ہو۔ وقد تقرر من هاهنا، اور تحقیق یہ بات ثابت ہو گئی یہاں سے، أن لا تؤدى الصلاة والصوم في حالة الحيض والنفاس، کہ ادا نہیں کی جاتی نماز اور روزہ فی حالة الحيض والنفاس، کس حالت میں؟ حیض اور نفاس کی حالت میں۔ فإذا لا بد أن يفرق بين قضائهما، پس ضروری ہوا کہ فرق کیا جائے ان دونوں کی قضا میں۔ وهو، اور وہ فرق یہ کہ، أن شرط الطهارة فيه خلاف القياس، کہ طہارت کی شرط فیہ ای فی الصوم، کس کے اندر؟ روزے میں خلاف القياس ہے، فلم يتعد إلى القضاء، لہذا یہ طہارت کی شرط متعدی نہیں ہوگی کس کی طرف؟ قضا کی طرف، مع أنه لا حرج في قضاء، باوجود اس کے کہ کوئی حرج نہیں اس کی قضا میں۔ بھئی روزے تو سال میں ایک دفعہ آتے ہیں، تو اگر ایک گیارہ مہینوں کے اندر اس کی قضا عورت پر آ بھی جائے جو روزے رہ گئے ہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں نماز کی اگر قضا اس پر آئے تو اس میں حرج ہے بھئی۔ کہ ہر بیس دن کے بعد اگر دس دن حیض آتا ہے، تو ہر بیس دن کے اندر اسے دس دنوں کی نمازیں قضا کرنا پڑیں گی اور یہ اس کے لیے بڑا مشکل ہو جائے گا، تو حرج لازم آئے گا۔ اسی لیے جو عورت ہے، اس پر ایام حیض کی نمازوں کی قضا تو نہیں، لیکن حیض اور نفاس والی پر روزوں کی قضا ہے بھئی۔ إذ قضاء صوم عشرة أيام فيما بين أحد عشر شهرا مما لا يضيق، اس لیے کیونکہ دس دنوں کے روزوں کی قضا گیارہ ماہ کے بیچ میں مما یہ ان چیزوں میں سے ہے لا يضيق جو تنگ نہیں کرتی، جو تنگ کرنے والی نہیں ہے۔ وإن فرض، اور اگر یہ فرض کر لیا جائے، أن يستوعب النفاس شهر رمضان شهر رمضان كاملة، کہ گھیر لے نفاس پورے رمضان کے مہینے کو، فمع أنه نادر لا يناط به أحكام الشرع أيضا، تو باوجود اس کے کہ یہ نادر ہے۔ یہ کیا ہے؟ نادر ہے کہ نفاس پورے رمضان کے مہینے کو گھیر لے اول سے لے کر آخر۔ تو کہتے ہیں باوجود اس کے یہ نادر ہے لا يناط به أحكام الشرع أيضا، اس پر احکام شریعت کا دارومدار نہیں ہے۔ لا حرج فيه، اس میں حرج بھی نہیں ہے۔ اس میں حرج بھی نہیں ہے۔ إذ قضاء صوم شهر واحد في أحد عشر في أحد عشر شهرا مما لا حرج فيه، اس لیے کیونکہ ایک ماہ کے روزوں کی قضا گیارہ مہینوں میں مما یہ ان چیزوں میں سے ہے لا حرج فيه جس میں کوئی حرج نہیں۔ بھئی بتلا یہ رہے ہیں، کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ نفاس جو ہے پورے مہینے کو گھیر لے گا۔ ہوتا تو زیادہ سے زیادہ عموماً یہ ہو گا نا نفاس یا تو رمضان کے بیچ میں ختم ہو جائے گا یا بیچ میں شروع ہو جائے گا، تو کچھ ہی روزے آئیں گے 15 یا 20 آ جائیں گے، لیکن اگر فرض کر لیں نفاس پورے مہینے کو کیا کر لیتا ہے؟ گھیر لیتا ہے، تو بھی ایک ماہ کے روزوں کی قضا گیارہ مہینے کے اندر اس میں کوئی حرج نہیں، نیز اس پر احکام شریعت کا دارومدار بھی نہیں ہو سکتا اگر نفاس پورے مہینے کا گھیر لے کیونکہ یہ نادر ہے اور نادر چیزوں پر شریعت کے احکام کا دارومدار نہیں ہوا کرتا۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے وإن فرض، دوبارہ دیکھیں ترجمہ، وإن فرض، اگر یہ فرض کر لیا جائے أن يستوعب النفاس شهر رمضان كاملة کہ گھیر لے نفاس پورے رمضان کے مہینے کو، فمع أن، دو وجہیں ذکر کر رہے ہیں، فمع أنه نادر لا يناط به أحكام الشرع أيضا، تو باوجود اس کے کہ یہ نادر ہے اس پر احکام شریعت کا دارومدار نہیں، ایک بات تو یہ، نیز دوسری بات، لا حرج فيه، نیز اس میں حرج بھی نہیں ہے، إذ قضاء صوم شهر واحد في أحد عشر شهرا، اس لیے کیونکہ ایک ماہ کے روزوں کی قضا گیارہ مہینوں کے اندر مما یہ ان چیزوں میں سے ہے لا حرج فيه، اس میں کوئی حرج نہیں۔ بخلاف الصلاة، بخلاف نماز کے، فإن في قضاء صلاة صلاة عشرة أيام في كل عشرين يوما، کہ قضا کرنا دس دنوں کی نمازوں کی ہر بیس دن کے اندر، مما یہ ان چیزوں میں سے ہے، يفضي إلى الحرج غالبا، جو زیادہ غالباً کس کی طرف پہنچا دے گا؟ حرج کی طرف، تنگی میں پڑھ جائے گی عورت بہت زیادہ بھئی۔ فلهذا عفا، اسی وجہ سے یہ معاف ہے۔ والموت عطف على ما قبله، اور موت بھئی، یہ عطف ہے ماقبل پر۔ یہ وہ وہی امور سماویہ میں سے حیض اور نفاس کے بعد اب کس کو ذکر کر رہے ہیں؟ موت کو بھئی۔ کہتے ہیں وهو آخر الأمور المعترضة السماوية، یہ ان آخری امور معترضہ سماویہ میں سے ہے، وإنه ينافي الأهلية في أحكام الدنيا، اور یہ منافی ہے احکام دنیا میں اہلیت کے۔ احکام دنیا کے اندر اہلیت کے منافی ہے، انسان میں پھر اہلیت نہیں رہتی احکام دنیا کی موت کے بعد۔ موت کے بعد جو نمازیں تھیں، جو روزے تھے اس کے ذمے، جو حج تھا، سب ساقط ہو گئے آخرت کی طرف منتقل ہو گئے۔ اب یہ مکلف نہ رہا، اب یہ مکلف نہ رہا، تو دنیاوی احکام میں اہلیت ختم ہو گئی۔ اب یہ اہل ہی نہ رہا، اب یہ اہل ہی نہ رہا، لہذا اس کی طرف سے کوئی اس کی زکوۃ ادا کرتا ہے، وصیت کی ہے پھر تو ٹھیک ہے، اگر وصیت نہیں کی تو پھر زکوۃ اس کی طرف سے اس کا ولی ادا نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں یہ منافی ہے دنیاوی احکام میں اہلیت کے، مما فيه تكليف، ان احکام جن کے اندر تکلیف ہے یعنی مکلف بنانا ہے جیسے نماز وغیرہ بھئی، حتى بطلت الزكاة وسائر القرب عنه، یہاں تک کہ زکوۃ باطل ہو گی اور تمام قربت والی چیزیں، وہ چیزیں جو جن کے ذریعے اللہ کی قربت حاصل کی جاتی ہے، اللہ کا قرب حاصل کیا جاتا ہے، وہ ساری چیزیں اس کے حق میں کیا ہو گئیں؟ باطل ساقط ہو گئیں، باطل ہو گئیں۔ وإنما خص الزكاة أولا دفعا لوهم من يتوهم أنها عبادة مالية لا تتعلق بفعل الميت فيؤديها الولي، بھئی متن نے متن میں زکوۃ کا خاص طور پر کیوں ذکر کیا؟ کہتے ہیں زکوۃ وإنما خص الزكاة أولا کہتے ہیں خاص کیا زکوۃ کو اولاً اولاً ہی، دفعا لوهم من يتوهم، دور کرنے کے لیے وہم کو اس شخص کے جو یہ وہم کرتا ہے، أنها عبادة مالية، کہ زکوۃ تو ایک عبادت مالی ہے، لا تتعلق بفعل الميت، اس کا تعلق میت کے فعل سے نہیں۔ زکوۃ میں مال مقصود ہے، میت کی ادا مقصود نہیں، تو میت کے فعل کا تعلق نہیں ہے بلکہ اس میں مقصود کیا چیز ہے؟ مال، اور مال تو اس کی طرف سے پھر ولی ادا کر دے۔ تو بتلا رہے ہیں نہیں بھئی، بلکہ اسی لیے زکوۃ کو خاص طور پر ذکر کیا کہ اس کے اندر بھی زکوۃ اللہ نے واجب کی ہے اور اس کے لیے مقصود کیا ہے؟ اللہ کا قرب ہے اور لہذا اس کا میت کے فعل یعنی ادا کے ساتھ تعلق ہے، مال کے ساتھ اس کا تعلق نہیں۔ تو کہتے ہیں کہ جی اس کا دور کرنے کے لیے اس شخص کے وہم کو جو یہ وہم کرتا ہے کہ یہ عبادت مالی ہے لا تتعلق بفعل الميت اس کا تعلق میت کے فعل سے نہیں ہے، فيؤديها الولي كما زعم الشافعي، پس اس کو ادا کر سکتا ہے ولی جیسا کہ گمان کیا امام شافعی رحمہ اللہ نے، وذلك لأنها عبادة، اور یہ اس وجہ سے، یہ جو انہوں نے کہا نا زکوۃ وغیرہ باطل ہو جائے گی کیوں؟ کہتے ہیں لأنها عبادة، اس لیے کیونکہ زکوۃ یہ عبادت ہے، لا بد لها من الاختيار، اس میں ضروری ہے اختیار کا ہونا، والمقصود منها الأداء، اور اس کے لیے جو مقصود ہے وہ ادا مقصود ہے، دون المال، نہ کہ مال، فهي تساوي الصلاة والصوم في البطلان، تو یہ زکوۃ برابر ہو گئی نماز اور روزے کے باطل ہونے میں۔ جیسے موت کے بعد نماز اور روزہ نہیں ہو سکتا مرنے والے کی طرف سے، اسی طرح زکوۃ بھی نہیں ہو سکتی۔ وإنما يبقى عليه المأثم، اور اس پر گناہ باقی رہے گا۔ مأثم گناہ بھئی، یعنی اب آخرت کی طرف منتقل ہو گیا، اب اس کی طرف سے زکوۃ ادا نہیں کی جا سکتی۔ تو وإنما يبقى عليه المأثم لا غير، اس پر صرف گناہ باقی رہے گا نہ کہ کوئی اور چیز، فإن شاء الله عفا عنه بفضله وكرمه، پس اگر اللہ نے چاہا تو اس کو معاف فرما دیں گے اپنے فضل اور کرم سے، وإن شاء عذبه بعدله وحكمته، اور اگر چاہیں گے تو اس کو عذاب دیں گے اپنے عدل اور حکمت سے، وهذا هو حال حق الله تعالى، اور یہ حال ہے کس کا؟ اللہ کے حق کا۔ تو یاد رکھیے، موت سے جو حق اللہ ہیں وہ سارے ساقط ہو جاتے ہیں۔ حق اللہ کیا ہو جاتے ہیں؟ ساقط، اور آخرت کی طرف حکم منتقل ہو جاتا ہے اور وہ گنہگار ہو گا۔ وأما حق العباد، اور باقی رہے حقوق العباد جو ہیں، فلا يخلو إما أن يكون حقا للغير عليه أو حقا له على الغير، تو پس وہ خالی نہیں ہے یا تو ایسا حق ہو گا جو غیر کا ہو گا اس پر مرنے والے پر، أو حقا له على الغير، یا اس کا حق ہو گا غیر پر۔ بھئی مرنے والے پر جو حقوق ہیں وہ یا تو حقوق اللہ کی قبیل سے ہوں گے یا حقوق العباد۔ حقوق اللہ تو بتلا دیا مرتے ہی ساقط ہو جاتے ہیں اور حقوق العباد جو ہیں وہ دو قسم کے ہو سکتے ہیں، یا تو اس کا حق ہے جو غیر سے اس نے لینا ہے، یا غیر کا حق ہے جو اس سے اس نے وصول کرنا ہے۔ تو کہتے ہیں وأشار إلى الأول بقوله، اور اشارہ کیا پہلی قسم کی طرف اپنے اس قول کے ساتھ، پہلی قسم کون سی؟ جو غیر کا حق ہے اس پر، جو غیر کا حق ہے اس پر، کہتے ہیں وما شرع عليه لحاجة غيره، اور وہ حقوق جو مشروع ہوا ہے اس پر لحاجة غيره غیر کی حاجت کے لیے کیونکہ وہ اس کا حق ہے، فإن كان حقا متعلقا بالعين، پھر یاد رکھیے، غیر کا حق غیر کا حق اگر اس پر ہے تو غیر کا حق کسی متعین چیز کے اندر ہو گا یا اس کے ذمے میں ہو گا۔ متعین چیز کے اندر کسی کا حق ہو، مثلاً اس نے ایک آدمی کو اپنی گاڑی بیچی، اس کے ساتھ عقد کر لیا ہے لیکن ابھی گاڑی اس کے حوالے نہیں کی۔ گاڑی اس کے... تو دیکھو اس مشتری کا حق متعلق ہے اس عین گاڑی کے ساتھ، لہذا یہ گاڑی اس کو دے دی جائے گی کیونکہ یہ اس کا حق ہے، یہ ترکے میں سِرے سے داخل ہی نہیں ہو گی بھئی، جو عین ہوتی ہے وہ ترکے میں داخل ہی نہیں ہو گی۔ یا اسی طرح، یا کسی نے اس کے پاس امانت رکھوائی تھی، وہ امانت اس کے پاس موجود ہے، تو یہ اس امانت رکھوانے والے کا حق ہے، یہ ترکے میں داخل نہیں، یہ اسی طرح اس کو دے دی جائے گی۔ یا اسی طرح، کسی کے پاس اس نے کوئی چیز رہن رکھوائی تھی، تو اس رہن کے ساتھ کس کا حق متعلق ہے؟ مرتہن کا، راہن تو یہ مرنے والا جو تھا اس نے کوئی چیز رکھوائی، تو مرتہن کا حق اس عین کے ساتھ متعلق ہے، یا کسی کے ساتھ اس نے اجارے کا عقد کیا کہ یہ گاڑی میں اپ کو یا یہ گھر میں اپ کو دیتا ہوں ایک ماہ کے لیے اتنے کرایہ پر، تو اس مستاجر جو کرایہ پر لینے والا ہے اس کا حق اس مستاجر یعنی اس گھر کے ساتھ عین گھر کے ساتھ متعلق ہے، تو لہذا جب تک وہ عین باقی ہے وہ دوسرے کا حق بھی باقی ہے۔ عین ہی ختم ہوئی پھر تو الگ بات ہے، تو جب تک وہ عین باقی ہے دوسرے کا حق بھی باقی ہے۔ اور دوسری صورت ہے کہ اس کے ذمے میں ہو کوئی چیز، اس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔ کہتے ہیں فإن كان حقا متعلقا بالعين، پس اگر وہ ایسا حق ہے جس کا تعلق عین کے ساتھ ہے، يبقى ببقائه، تو وہ حق باقی رہے گا ببقائه اس عین کے باقی رہنے سے، كالمرهون، جیسے مرہون جو ہے، يتعلق به حق يتعلق به حق المرتهن، اس کے ساتھ مرتہن کا حق متعلق ہے، والمستأجر، يتعلق به حق المستأجر، مستاجر وہ چیز جو کرایہ پر دی گئی ہے اس کے ساتھ متعلق ہے حق مستاجر کا جو کرایہ پر لینے والا ہے۔ والمبيع، والمستأجر اس کا عطف مرہون پر ہے مجرور پڑھیے بھئی، والمبيع اس کا بھی اسی پر عطف ہے۔ والمبيع يتعلق به حق المشتري، اور مبیعات جس کے ساتھ مشتری کا حق متعلق ہے، والوديعة التي يتعلق بها حق المودع، اور وہ ودیعت جس کے ساتھ مودع امانت رکھوانے والے کا حق متعلق ہے، فإن هذه الأعيان يأخذها صاحب الحق أولا، پس یہ جو اعیان ہیں ان کو وہ صاحب حق لے لے گا اولاً ابتدا سے ہی، من غير أن تدخل في التركة، بغیر اس کے کہ وہ کس میں داخل ہوں؟ اس کے ترکے میں، یہ داخل ہی نہیں ہوں گے ترکے میں، بغیر اس کے کہ وہ ترکے میں داخل ہو وتکسم علی الغرمائی او الورثۃ، اور اس کو تقسیم کیا جائے غرمائ قرض خواہوں میں اور وارثوں میں۔ یہ ترکے میں داخل ہی نہیں ہو گا، اس کو وارثوں اور قرض خواہوں میں تقسیم ہی نہیں کیا جائے گا۔ وإن كان دينا، اور اگر وہ حق کیا تھا؟ دین تھا، لم يبق بمجرد الذمة، تو وہ صرف ذمے کی اس وجہ سے باقی نہیں رہے گا۔ صرف ذمے کے ساتھ باقی نہیں رہے گا۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا، ذمہ کس کو کہتے ہیں؟ وہ وصف جس کی وجہ سے انسان میں اہلیت پیدا ہوتی ہے، کسی شخص میں اہلیت پیدا ہوتی ہے مالہ اور ما علیہ کی، وہ مالہ اور ما علیہ کا اہل بن جاتا ہے، تو وہ یہ وہ وصف ہے بھئی۔ اب مر جب انسان پیدا ہوا تو اس کا ذمہ ہے موجود ہے اور جب مر گیا تو یاد رکھیے اس کا ذمہ ضعیف ہو گیا، ذمہ کیا ہو گیا؟ ضعیف ہو گیا، تو اب وہ جو دین ہے صرف ذمے کی وجہ سے باقی نہیں رہ سکتا، وہ دین بھی ساقط ہو جائے گا، وہ بھی آخرت کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ وہ دین صرف ذمہ رہا اس مرنے والے کا، مال اس نے کچھ چھوڑا ہی نہیں، کوئی ضامن چھوڑا ہی نہیں، تو صرف ذمے کی وجہ سے اب یہ دین اس پر باقی نہیں رہے گا، کس طرف منتقل ہو جائے گا؟ آخرت کی طرف، ہاں اگر ذمے کے ساتھ کوئی ایسی چیز مل گئی جو اس کو قوی کر دے، مرنے والے کا ذمہ ضعیف ہو گیا، اس کے ذمے کے ساتھ کوئی ایسی چیز مل گئی جس سے ذمہ قوی ہو جایا کرتا ہے اور وہ کیا چیز؟ مثلاً مال چھوڑ دیا اس نے، کیا چھوڑا؟ مال چھوڑا ہے، اب قرضہ ختم نہیں ہو گا۔ پہلی صورت کون سی میں ذکر کر رہا تھا؟ مال چھوڑا ہی نہیں اس نے سِرے سے، بالکل مفلس ہے، کوئی ضامن بھی نہیں چھوڑا، تو اس صورت میں وہ قرض کس کی طرف منتقل ہوا؟ آخرت کی طرف، لیکن اگر اس نے مال چھوڑا تو مال کی وجہ سے ذمے کو قوت حاصل ہو جائے گی، جب ذمے کو قوت حاصل ہو گئی اب وہ قرض آخرت کی طرف منتقل ابھی نہیں، اس پر ابھی بھی باقی ہے، لہذا اب اس کے مال میں سے وہ قرض ادا کریں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا اس نے مال تو نہیں چھوڑا لیکن ذمے کو قوی کرنے والی ایک اور چیز چھوڑی اور وہ کیا؟ ضامن، ایک شخص تھا جس نے زندگی میں اس کی طرف سے ضمانت دی تھی قرض خواہوں کو کہ یہ مرنے والا جو تھا اس کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ یہ تمہارا قرضہ ادا کرے گا، اگر اس نے ادا نہ کیا تو مجھ سے بھی آ کر مطالبہ کر سکتے ہو، تو یہ جو ضامن تھا اگر یہ اس نے زندگی میں بنایا تھا اور یہ چھوڑ دیا تو اس کی وجہ سے بھی اس مرنے والے کا ذمہ کیا ہو جائے گا؟ قوی ہو جائے گا، اب بھی وہ دین باقی ہے، دین کیا ہے؟ باقی ہے۔ اب اس سے جا کر مطالبہ کیا جائے گا۔ مسئلہ سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے وإن كان دينا، اور اگر وہ حق جو تھا غیر کا وہ دین تھا، عین نہیں بلکہ دین تھا، لم يبق بمجرد الذمة، تو وہ صرف ذمے کی اس وجہ سے باقی نہیں رہے گا، حتى يضم إليها أي إلى الذمة مال، یہاں تک کہ ملا دیا جائے اس کے ساتھ یعنی ذمہ کے ساتھ مال کو، جس سے یہ ذمہ قوی ہو جائے گا، أو ما يؤكد به الذمم، یا اس چیز کو يؤكد به الذمم جس کے ذریعے پکا کیا جاتا ہے، پختہ کیا جاتا ہے ذموں کو بھئی۔ اس چیز کو ساتھ ملا دیا جائے جس کے ساتھ ذموں کو پختہ اور مضبوط کیا جاتا ہے، بھئی وہ کیا؟ کہتے ہیں وهو ذمة الكفيل، اور وہ کفیل یعنی ضامن کا ذمہ ہے۔ يعني ما لم يترك مالا أو كفيلا من حضوره لا يبقى دينه في الدنيا، یعنی جب تک وہ مال نہ چھوڑے مرنے والا، أو كفيلا یا ضامن نہ چھوڑے من حضوره اپنی موجودگی میں یعنی اپنی زندگی میں ہی، زندگی میں کوئی ضامن ہے تو پھر ٹھیک ہے، مرنے کے بعد کوئی اس کی طرف سے ضامن بنتا ہے یاد رکھیے اس کا ضامن بننا ہی صحیح نہیں۔ تو یا ایسا یہاں یعنی جب تک وہ کوئی مال نہ چھوڑے یا کوئی کفیل نہ چھوڑے اپنی موجودگی میں یعنی زندگی میں ہی لا يبقى دينه في الدنيا تو پھر اس کا دین باقی نہیں رہے گا دنیا میں، ہاں مال چھوڑا یا کفیل چھوڑا تو پھر اس کا دین باقی رہے گا۔ تو اگر مال یا کفیل نہ چھوڑا اس نے تو اس کا دین دنیا میں باقی نہیں رہے گا، فلا یطالبہ من اولادہ پس یہ صاحب دین مطالبہ نہیں کر سکتا دین کا اس کی اولاد سے، وانما یاخذہ فی الاخرۃ اور یہ اس کو لے گا آخرت میں۔ اگر اس نے نہ مال چھوڑا، نہ اس نے کوئی ضامن چھوڑا، تو دین رہا کہ ختم ہو گیا آخرت کی طرف منتقل ہو گیا؟ لہذا جب آخرت کی طرف منتقل ہوا تو یہ صاحب دین اب مطالبہ نہیں کر سکتا دین کا اس کی اولاد سے اور یہ کب لے گا صاحب دین اپنے دین کو آخرت میں لے گا۔ ولہذا یاد رکھیے کسی کے پیسے کسی پر ہوں بہت بہت سخت آخرت میں اس کی سزا اور لہذا کوشش کیجیے کبھی بھی کسی کی کوئی چیز آپ کے ذمے ہوں اول وقت میں فورا ادا کیجیے موت کا کوئی پتہ نہیں کس وقت آ جائے۔ ایک روپیہ کسی کا اپنے ذمے باقی نہ رہنے دیں چاہے اسے یاد ہو یا نہ ہو بھئی آپ خود پہنچا دیں۔ اگر یاد پہنچا نہیں سکتے کہ کسی شخص کے پیسے آپ کے ذمے تھے اور اب پتہ ہی نہیں وہ ہے کدھر کہاں ہے تو پھر اس کی طرف سے صدقہ کر دیجیے بھئی۔ سمجھ میں آیا یہ اتنی سخت چیز ہے اس سے اندازہ لگائیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے پوچھا کرتے تھے کہ اس پر کوئی دین تو نہیں ہے؟ اگر دین ہوتا تو آپ نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیتے اور صحابہ سے فرماتے تم پڑھ لو اس پر نماز جنازہ۔ تو تو یہ اتنا سخت ہے بھئی اندازہ لگائیے اندازہ لگائیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا اندازہ امت کی خاطر امت پر ان کی کتنی شفقت تھی لیکن پھر بھی جب دین کی بات آتی تھی وہ نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر رہے ہیں اسی سے اندازہ لگا لیجیے اس کی شدت کا بھئی۔ اللہ ہم سب کو سب کے کوئی بھی دین وغیرہ ہم پر ہو احسن طریقے سے ہمیں ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے بھئی۔ ولہذا اور اسی وجہ سے کس وجہ سے ہذا اس کا اشارہ کس کی طرف ہے؟ بتلا رہے ہیں ای لأجل انہ لم یبق فی ذمتہ دین اس وجہ سے کہ باقی نہیں رہتا میت کے ذمہ میں دین۔ قال ابو حنیفہ امام صاحب فرماتے ہیں ان الکفالۃ بالدین عن المیت المفلث لا تصح کہ ضمانت دینا دین کی مفلس مرنے والے کی طرف سے لا تصح یہ صحیح نہیں۔ ایک شخص بالکل مفلس مرا ہے اور دین تھا تو بتلا دیا کہ ذمہ ضعیف ہوا اس پر دین باقی رہ ہی نہیں سکتا لہذا کس کی طرف منتقل ہوا آخرت؟ لہذا امام صاحب فرماتے ہیں کہ دین جب اس کے ذمہ باقی نہیں رہ سکتا تو کفالت بھی صحیح نہیں ہے۔ دین پر مرنے مفلس مرنے والے کی طرف سے اذا لم یبق لہ کفیل فی حالۃ الحیاتی جب باقی نہ رہو اس کا کوئی ضامن حالۃ حیات میں زندگی کی حالت میں کوئی کفیل باقی نہ ہو تو مرنے کے بعد پھر کوئی کفالت نہیں کر سکتا۔ لماذا الکفال بھئی کیوں نہیں کر سکتے؟ کہتے ہیں بھئی دیکھیے آگے بتلا رہے ہیں کہ کفالت کس کو کہتے ہیں؟ کفالت کہتے ہی ضم ذمت الی ذمت ذمہ کو ملانا دوسرے ذمہ کے ساتھ یعنی کفیل کا اپنے ذمہ کو اصیل کے ذمہ کے ساتھ ملا دینا۔ تو یہ ہے کفالت اور مرنے کے بعد تو اس شخص کا ذمہ ضعیف ہو گیا اس کا تو کوئی اعتبار ہی نہیں ہے لہذا یہاں ضم ذمت الی ذمت ہو ہی نہیں سکتا تو پھر کفیل بننے کا کیا معنی؟ کفیل تو کہتے کفالت تو کہتے ہی کس چیز کو تھے؟ ضم ذمت الی ذمت وہ ہو ہی نہیں سکتا یہاں پر بھئی۔ لأن الکفالۃ ہی ضم ذمت الی ذمت اس لیے کہ کفالت جو ہے یہ ملانا ہے ذمہ کو ایک ذمہ کو دوسرے ذمہ کے ساتھ کس کا ذمہ کو کس کے ساتھ ملانا؟ کفیل کے ذمہ کو ملانا اصیل کے جس پر اصلا قرض تھا اس کو کیا کہتے ہیں؟ اصیل اور جو ضمانت دینے والا ہے وہ ہے کفیل تو کفیل نے اپنے ذمہ کو کس کے ذمہ کے ساتھ ملا دیا؟ اصیل کے ساتھ۔ فاذا لم تبق للمیت ذمہ معتبرۃ پس جب میت کے لیے کوئی معتبر ذمہ باقی نہ رہا ذمہ تو ہے میں نے بتلایا لیکن کس قسم کا ذمہ ہے؟ ضعیف ہے اس کا کوئی اکیلے اعتبار نہیں پس جب میت کا کوئی ذمہ ایسا باقی نہ رہا جو معتبر ہو فکیف تضم ذمت الکفیل الیہ پس تو کیسے ملایا جائے گا کفیل کا ذمہ اس کی طرف بخلافہ اذا کان لہ مال او کفیل من حالۃ الحیاتی بخلاف اس کے کہ جب اس کا مال ہو مرنے والے کا یا اس کا کوئی ضامن ہو حالت حیات میں یعنی زندگی میں ہی فان ذمتہ کاملۃ پس اب اس کا ذمہ کیا ہے؟ کامل ہے فتصح الکفالۃ منہ حینئذ تو اس وقت اس کی طرف سے ضمانت صحیح ہے وبخلافہ اذا تبرع بقضاء دینہ انسان بدون الکفالۃ ہاں کوئی شخص بغیر کفالت کے ویسے اس کی طرف سے قرضہ دینا چاہتا ہے مرنے والا مرا اس نے کوئی مال نہیں چھوڑا، کوئی ضامن نہیں چھوڑا اب کوئی اس کا کفیل بن سکتا ہے؟ کوئی کفیل نہیں کفیل تو نہیں بن سکتا ہاں کوئی ویسے اپنی طرف سے اس کا قرضہ ادا کرنا چاہے تو ادا کر سکتا ہے۔ قرضہ ادا کرنا چاہے لیکن کفیل نہیں بن سکتا کیونکہ کفیل کہتے ہیں ضم ذمت الی ذمت۔ یہ معنی ہے وبخلافہ اذا تبرع بقضاء دینہ انسان بخلاف اس کے کہ تبرع کیا یعنی اپنی طرف سے دیا تبرع کس کو کہتے ہیں؟ وہ چیز جو انسان پر واجب نہ ہو بھئی اس کو وہ دینا تو وہ تبرع کیا کہ اس کے قرضے کی ادائیگی کا انسان کسی انسان نے تبرع کیا اس مرنے والے کے قرضے کی قضا کا یعنی ادا کا اس کے ادائیگی کا تبرع کیا کسی انسان نے بدون الکفالۃ بغیر کفالت کے فانہ فانہ صحیح تو یہ صحیح ہے۔ وقال اور صاحبين فرماتے ہیں یہ تو امام صاحب کا مذہب اوپر بیان ہوا صاحبین فرماتے ہیں تصح الکفالۃ عن المیت المفلث کہتے ہیں مفلس مرنے میت کی طرف سے بھی کفالت صحیح ہے لان الموت لم یشرع مبرئا للدین اس لیے کہ موت جو ہے دین کو دین سے بری کرنے والی ہو کر مشروع نہیں ہوئی۔ دین جو ہے اوہ موت موت جو ہے دین کو بری کرنے والی ہو کر مشروع نہیں ہوئی یعنی موت کی وجہ سے دین سے وہ بری نہیں ہوگا اس کا قرضہ معاف نہیں ہوگا۔ لان الموت لم یشرع مبرئا للدین اس لیے کیونکہ موت مشروع نہیں ہوئی اس حال میں کہ وہ بری کرنے والی ہو دین سے ولو بری لمحل الاخذ من المتبرعی اگر موت اگر وہ بری ہوتا تو جائز نہ ہوتا حلال نہ ہوتا لینا من المتبرعی متبرع سے اگر موت کیا ہوتی؟ بری کرنے والی ہوتی اور اور وہ شخص کیا ہو جاتا بری ہو جاتا تو پھر اگر کوئی متبرع اپنی طرف سے دیتا پھر تو وہ اس کا لینا ہی درست نہ ہوتا لیکن اس کی طرف سے ادا اور دوسرے کا لینا صحیح معلوم ہوا موت سے کوئی وہ دین کی وجہ سے بری نہیں ہوا دین ابھی بھی اس پر ہے۔ ولو بری لمحل الاخذ من المتبرعی اگر وہ بری ہو جاتا تو حلال نہ ہوتا متبرع سے اس دین کو لے لینا ولما یطالب بہ فی الآخرۃ اور اس سے پھر مطالبہ بھی نہ ہوتا آخرت میں اگر موت کی وجہ سے وہ بری ہو جاتا پھر تو آخرت میں بھی اس سے مطالبہ نہ ہوتا۔ بخلاف العبد المحجور الذی یقر بالدین بخلاف اس عبد محجور کے جو اقرار کرتا ہے دین کا جو کس کا اقرار کرتا ہے؟ دین کا اقرار کرتا ہے۔ اس پر دین ثابت ہو جائے گا لیکن ادائیگی کب کرے گا؟ آزاد ہونے کے بعد اس کو کما کر دینے پڑیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں بخلاف العبد المحجور الذی یقر بالدین بخلاف اس عبد محجور کے جو اقرار کرتا ہے دین کا ثم تکفل عنہ رجل پھر اس کی طرف سے کفیل ہوا کوئی شخص کوئی مرد فانہ یصح تو یہ کفال یہ اس کا کفیل بننا صحیح ہے وان لم یکن العبد مطالبا بہ قبل العتق اگرچہ غلام جو ہے وہ مطالبہ بہ نہیں ہے آزاد ہونے سے پہلے یعنی اس سے مطالبہ نہیں کیا جائے گا آزاد ہونے سے پہلے لأن ذمتہ فی حقہ کاملۃ اس لیے کیونکہ اس کا ذمہ اس کے حق میں کامل ہے لحیاتہ وعقلہ اس کے زندگی اور اس کے عقل کی وہ وہ زندگی رکھتا ہے اور وہ عقل رکھتا ہے لہذا اس کا ذمہ اس کے حق میں کامل ہے والمطالبۃ ثابتۃ ایضا فی الجملۃ اور مطالبہ بھی ثابت ہے فی الجملۃ مجموعے اعتبار سے اسی کیونکہ یہ تصور کیا جا سکتا ہے ان یصدقہ مولاہ کہ اقا اس غلام کی کیا کر دے؟ غلام نے اقرار کیا کس چیز کا؟ دین کا تو اب اس سے بھی مطالبہ ہو سکتا ہے اگر اقا کیا کر دے؟ اس کی تصدیق کر دے تو پھر اس سے مٹا ورنہ مطالبہ نہیں ہو سکتا اس لیے کیونکہ غلام کے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں سارا کچھ کس کا ہے؟ اقا کا اور فی الحال اس پر دین بھی نہیں آئے گا کیونکہ فی الحال اگر دین آئے تو کس سے لینا پڑے گا؟ گویا وہ تو اقا پر ہی آ رہا ہے۔ ہاں لیکن اس سے مطالبے کا مجموعے اعتبار سے تصور ہو سکتا ہے کہ یہ کہ اقا اس کی تصدیق کر دے او یعتقہ یا یہ کہ اقا اس کو آزاد کر دے تو فی تو پھر جس سے مطالبہ کیا جائے گا فی الحال ہی تولما صحت مطالبتہ صحت الکفالت عنہ پس جب مطالبہ صحیح ہوا تو کفالت بھی اس کی طرف سے غلام کی طرف سے کفالت بھی صحیح ہوئی ولکن یؤخذ الکفیل بہ فی الحال لیکن پکڑا جائے گا وکیل کو ہی فی الحال یعنی اس مطالبے میں صرف کفیل ہی کو پکڑا جائے گا فی الحال۔ فی الحال صرف کفیل ہی سے مطالبہ ہوگا۔ غلام سے مطالبہ ممکن تو ہے اس کی صورت بتلا دی کس طرح ہو سکتا ہے ممکن کہ اقا کیا کر دے تصدیق یا اقا اسے کیا کر دے آزاد تو آزاد کرتے وقت اب فوراً اس سے کیا کیا جا سکتا ہے مطالبہ تو مطالبہ ممکن ہے جب مطالبہ ممکن ہے تو اس کی طرف سے کفالت بھی صحیح لیکن فی الحال مطالبہ کیا کس سے جائے گا؟ کفیل سے کیا جائے گا غلام سے نہیں۔ تو کہتے ہیں ولیکن یؤخذ الکفیل بہ فی الحال لیکن پکڑا جائے گا کفیل کو ہی اس مطالبے میں فی الحال وان کان الاصیل وھو العبد المحجور غیر مطالب فی الحال اور اگرچہ وہ جو اصیل ہے وہ عبد محجور غیر مطالب بہ فی الحال یہ کیا ہے؟ یہ اصیل جو ہے غیر مطالب بیہ ہے فی الحال یعنی فی الحال اس سے مطالبہ کہتے ہیں کفیل سے مطالبہ کیا جائے گا فی الحال اگرچہ اصیل سے مطالبہ نہیں کیا جا سکتا فی الحال لوجود المانع فی حقہ بوجه مانع کے پائے جانے کے اس غلام کے حق میں و زوالہ فی حق الکفیل اور کفیل کے حق میں اس مانع کے زائل ہو جانے اس کے حق میں تو مانے نہیں وہ تو غلام نہیں لہذا اس سے مطالبہ ہو سکتا ہے غلام سے مطالبہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے حق میں مانع موجود ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بتلايا کہ میت جو ہے اگر اس نے کوئی مال نہ چھوڑا تو اس کی طرف سے کفالت صحیح نہیں۔ نہ وہ زندگی میں جب کفیل نہیں چھوڑا تو مرنے کے بعد ہی اس کی طرف سے کفالت صحیح لیکن عبد محجور کی طرف سے کفالت صحیح ہے بھئی کیونکہ اس کا ذمہ صحیح ہے وہ زندہ ہے عقل رکھتا ہے اور اس سے مطالبہ بھی ہو سکتا ہے مطالبے کی بھی امکان ہے کس طرح کہ اقا اس کی تصدیق کر دے یا اقا اسے آزاد کر دے تو مجموعے اعتبار سے مطالبے کے بھی یا امکان موجود ہے جب امکان مطالبہ کا بھی امکان موجود اس کا ذمہ بھی موجود تو لہذا اس کی طرف سے کفالت بھی صحیح ہے اور کفیل سے پھر مطالبہ کیا جائے گا اگرچہ اصیل جو ہے اس سے فی الحال مطالبہ نہیں ہو سکتا لیکن پھر بھی کیا کفیل سے مطالبہ ہوگا اصیل سے کیوں نہیں مطالبہ ہو سکتا کیونکہ اس کے حق میں مانع موجود ہے وہ غلام ہے ہاں کفیل کے حق میں مانع موجود نہیں وہ غلام نہیں۔ واشار واشار الی الثانی بقولہ اور اشارہ کیا دوسرے کی طرف اپنے اس قول کے ساتھ وان کان حقا لہ اور اگر وہ وہ چیز جو مشروع ہوئی ہے وہ اگر وہ اس کا حق ہے اس کا پیچھے بتایا تھا کہ وہ چیز جو مشروع ہوئی ہے غیر کی حاجت کے لیے وہ یا تو کس کا حق ہوگا نہیں وہ چیز پیچھے بتایا تھا وما شریع علیہ لحاجۃ غیرہ اور وہ چیز جو میت پر مشروع ہوئی ہے غیر کی حاجت کے لیے یعنی کہ غیر کے حق کے طور پر اس پر مشروع ہوئی تو اس میں غیر پر غیر کا حق تھا کس پر؟ مرنے والے پر غیر کا حق کس پر؟ اور اس میں دو صورتیں تھیں یا عین ہوگا یا دین اب دوسری صورت ذکر کر رہے ہیں اور وہ جو مشروع ہے اس کے حق کے طور پر یعنی مرنے والے کے حق کے طور پر جو چیز جو حکم مشروع ہے بھئی اب اس کا بیان آیا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں وان کان حقا لہ اور اگر وہ اس کا حق ہو ای المشروع یعنی کہ وہ مشروع حق للمیت وہ میت کا حق ہو بقی لہ تو وہ حق باقی رہے گا اس کے لیے ما تقضی بہ الحاجۃ تو باقی رہے گا اس مرنے والے کے لیے ما وہ چیز تقضی بہ الحاجۃ جس کے ذریعے اس کی حاجت پوری ہو گئی۔ جس کے ذریعے بھئی غیر کا حق ہو اگر مرنے والے پر وہ بیان ہو چکا۔ اور اگر وہ مشروع جو ہے وہ میت مرنے والے کا حق ہے تو وہ مرنے والے کا حق باقی رہے گا وہ اس چیز کے لیے باقی رہے گی اس کے لیے وہ چیز جس سے اس کی حاجت پوری ہو، اس کی حاجت پوری کی جائے معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنی ہے و ان کان حقا لہ بقی لہ ما تقضی بہ الحاجۃ کہ اگر وہ مشروع اس کا حق ہے مرنے والے کا تو وہ اس کے لیے تو وہ باقی رہے گا اس کے لیے باقی رہے گی اس کے لیے وہ چیز جس سے اس کی حاجت پوری ہو ولذالک اور اسی وجہ سے قدم تجھیزہ اس کی تجھیز کو مقدم کیا گیا۔ کفن دفن کو کیا کیا گیا؟ مرنے والے کے مال میں سے سب سے پہلے کیا کیا جاتا ہے؟ کفن دفن کا بندوبست اس کے بعد قرضوں کی ادائیگی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو لہذا جو اس کی حاجت جس سے ہو وہ حاجت وہ جو مرنے والے کی حاجت ہے تو اس سے اس کی حاجت پوری کی جائے گی وہ اس کا حق باقی رہے گا۔ ولذالک قدم تجھیزہ اور اسی وجہ سے اس مرنے والے کی کفن دفن کو جو ہے اس کو مقدم کیا گیا لأن حاجتہ الی التجھیز اقوی من جمیع الحوائج اس لیے کیونکہ اس مرنے والے کی حاجت کفن دفن کی طرف وہ سب سے قوی ہے باقی تمام حاجتوں سے ثم دیونہ پھر اس کے اس کے دیون اس کے قرضے ہیں لأن الحاجۃ الیھا اس لیے کیونکہ ان قرضوں کی طرف حاجت جو ہے امت لتبرء ذمہ اس کی زیادہ ضرورت ہے اس کے ذمہ کو بری کرنے کے لیے عربی میں کہتے ہیں مست الیہ الحاجۃ اس کو حاجت پیش آئی۔ کیا کہتے ہیں؟ مست الیہ الحاجۃ اس کو حاجت پیش آئی تو یہی یہاں امست کا لفظ ایا لأن الحاجۃ الیہا کیونکہ ان قرضوں کی طرف جو حاجت ہے امت وہ زیادہ پیش ہے زیادہ ضروری ہے لابرء ذمہ اس کے ذمہ کو بری کرنے کے لیے بخلاف الوصیۃ بخلاف کس کے؟ وصیت کے فانہ تبرع کیونکہ وصیت تو تبرع ہے اپنی طرف سے دے رہا ہے مال۔ ولذالک قدم تجھیزہ یاد رکھیے یہ متن ہے بھئی۔ یہ متن ہے بھئی ولذالک قدم تجھیزہ ثم دیونہ پھر اس کے قرضوں کو مقدم کیا جائے گا ثم وصایاہ من ثلثہ پھر اس کی جو وصیتیں ہیں اس کے ثلث مال میں سے لأن الحاجة إليها أقوى من حق الورثة، اس لیے کیونکہ اس کی طرف جو حاجت ہے، وہ زیادہ قوی ہے وارثوں کے حق کے مقابلے میں۔ والثلثان حقهما فقط، اور ان کا حق صرف ثلثان، دو تہائی ہے بھئی۔ ثم وجب الميراث بطريق الخلافة عنه نظرا له، پھر میراث جو ہے، واجب ہوگی بطريق الخلافة، کس طریقے پر؟ خلافت کے طریقے پر عنه اس سے۔ مرنے والے سے خلافت کے طریقے پر میراث ثابت ہوگی۔ سب سے پہلے کیا کیا جائے گا بھئی؟ کفن دفن، پھر کیا کیا جائے گا؟ بھئی، یہ ساری اس کی حاجات ہیں، ساری اس کی ضرورتیں ہیں۔ بتلایا کہ مرنے کے بعد اگر اس کے اپنے حقوق ہیں، تو وہ باقی رہیں گی وہ چیزیں جن سے ان کا حق ادا ہو۔ اور پہلی چیز کیا ہے پھر؟ کفن دفن بھئی، پھر اس کے بعد اس کے قرضے، اس کی حاجت ہے اس کو، پھر اس کے وصیتیں، کیونکہ اس کی بھی حاجت ہے اس کو۔ ثم وجب الميراث، پھر اس کے بعد میراث ثابت ہوگی بطريق الخلافة عنه، اس کی طرف سے خلافت اور نائب ہونے کے طریقے پر، نظرا له اس پر اس پر شفقت کے اعتبار سے، نظرا له اس کے اس پر شفقت کے اعتبار سے۔ لأن روحه يتشفى بغناهم، اس لیے کیونکہ مرنے والے کی روح جو ہے، يتشفى اس کو تشفی ہوگی، اس کو خوشی ہوگی، سکون ہوگا بغناهم، وارثوں کے مالدار ہونے سے۔ وارثوں کے لیے مال چھوڑ کر مرے گا، تو اس کو بھی کیا ہوگی؟ تسلی ہوگی۔ ولعلهم يوفقون بسبب حسن المعاش للدعاء والصدقة له، اور شاید کہ ان کو بھی توفیق دے دی جائے، کن کو؟ وارثوں کو بسبب حسن المعاش، بوجہ اچھے حسن گزر بسر کے، اس نے کیا کیا تھا ان کے لیے مرنے والے نے؟ ان کے لیے اچھے گزر بسر کا انتظام سبب کیا تھا۔ تو گزر بسر کا انتظام کر دیا، جو مال چھوڑ مرا، تو ان کے لیے اچھے گزر بسر کا، تو ولعلهم يوفقون، شاید ان کو بھی توفیق دے دی جائے بسبب حسن المعاش، اچھے گزر بسر کی وجہ سے للدعاء کس چیز کی توفیق مل جائے ان کو؟ دعا کرنے کی، والصدقة اور صدقہ کرنے کی له، کس کے لیے؟ اس مرنے والے کے لیے۔ تو دیکھو، اس کی بھی اس کو حاجت ہے۔ ترتیب سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ مرنا حاجت کے منافی نہیں، مرنے کے بعد بھی حاجت جو ہوگی، وہ باقی رہے گی اس کو پورا کیا جائے گا۔ اور اس میں ترتیب بتا دی، سب سے پہلے کفن دفن، اور اس کو سب پر کیوں مقدم کیا؟ وجہ ہر ایک کی ذکر کرتے جا رہے ہیں۔ کفن دفن بھئی، اس کے بعد دیون ہیں بھئی، پھر اس کے بعد اس کی وصیتیں، پھر اس کے بعد میراث وارثوں میں تقسیم ہوگی۔ اب یہ میراث وارثوں میں کس طرح تقسیم ہوگی؟ اب اسی کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں جو چوتھے نمبر پر آیا۔ کہتے ہیں: فيصرف إلى من يتصل به نسبا، پس اس کو خرچ کیا جائے گا اس میراث کو جو بچ گئی، إلى من اس شخص کی طرف يتصل به جو ملا ہوا ہے مرنے والے کے ساتھ نسبا، باعتبار نسب کے۔ نسب سے مراد ہے أي قرابة، یعنی کہ قرابت کے۔ کیونکہ یہاں وارث جو ہیں، صرف نسبی رشتہ دار نہیں بنتے بھئی، بلکہ غیر نسبی جو ہیں ذوی الارحام، ان کا بھی وراثت میں حصہ ہے۔ اگر نسبی رشتہ داروں میں سے کوئی نہ ہو، مرنے والے کے اوپر کی طرف اصول میں، باپ داداؤں میں کوئی نہیں، نیچے فروع میں اولاد میں کوئی نہیں، تو اور پتہ ہی نہیں پیچھے اوپر تک سلسلے کا پتہ ہی نہیں ہے، تو پھر اس کے علاوہ اور جو ذوی الارحام ہیں جن سے نسبی رشتہ نہیں، یعنی ماں وغیرہ کے واسطے سے رشتہ ہے، نسب تو کس کی طرف سے چلتا ہے؟ باپ کی طرف سے، تو جن سے نسبی رشتہ نہیں، یعنی خالہ، ماموں وغیرہ جن سے ماں کے ذریعے یا نانا کے واسطے سے یا نانی وغیرہ کے ذریعے، تو وہ پھر ذوی الارحام میں آ گئے، تو ان کا بھی حصہ ہے۔ لیکن جب نسبی رشتہ دار نہ ہوں بھئی۔ تو اسی لیے نسبا کا معنی کیا شارح نے؟ أي قرابة، تاکہ سب اس میں داخل ہو جائیں۔ تو کہتے ہیں خرچ کیا جائے اس کا، اس مال کو ان لوگوں کی طرف جو اس، جن کا اتصال ہے مرنے والے کے ساتھ باعتبار نسب کے، یعنی قرابت کے، یعنی رشتہ داری کے۔ أو سببا، یا متعلق ہیں باعتبار سبب کے، أي زوجية، یعنی زوجیت بیوی ہونے کے اعتبار سے۔ اب بیوی ہے، مثلاً اس کے نسبی رشتہ کوئی نہیں اس کے ساتھ، اس کے ساتھ تعلق کونسا ہے؟ سببی ہے بھئی، نکاح کی وجہ سے وہ تعلق آیا ہے، نسبی رشتہ نہیں ہے بھئی۔ یا اسی طرح عقد موالات کیا ہے کسی سے بھئی، یہ بھی سببا میں، سببی میں داخل۔ یا یہ کسی کا مرنے والا معتق تھا، کسی نے آزاد کیا تھا، تو آپ نے پڑھا ہے معتق کے اگر اور رشتہ دار نہ ہوں، تو اس کی ولاء یعنی میراث کس کو ملتی ہے؟ وہ معتق کو ملا کرتی ہے بھئی، تو یہ سب سبب کے اندر داخل ہے، کیونکہ یہاں نسبی اتصال نہیں ہے بلکہ سببی اتصال ہے، کوئی سبب بیچ میں آیا ہے۔ أو دينا بلا نسب أو سبب، یا اتصال ہو مرنے والے کے ساتھ، یا دوبارہ دیکھیے متن: پس خرچ کیا جائے گا ان لوگوں کی طرف جن کا اتصال ہے مرنے والے کے ساتھ باعتبار نسب کے، یا باعتبار سبب کے، یا أو دينا، یا باعتبار دین کے اتصال ہے بلا نسب أو سبب، بغیر کسی نسب اور سبب، یعنی یہ وہ آخری درجہ ہے۔ یعنی عام مسلمان کہ اگر کوئی بھی رشتہ دار نہیں ہے، کوئی بھی معتق نہیں ہے، کوئی بھی مولائے موالات نہیں ہے، تو پھر مال آخر کار پھر کس میں جمع کروایا جائے گا؟ بیت المال، اور پھر اس کس میں؟ عام مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔ تو دیکھیے، یہاں ان کے ساتھ اتصال عام مسلمانوں کے ساتھ جو اتصال ہے، وہ نسبی بھی نہیں، سببی بھی نہیں، بلکہ کونسا ہے؟ دین کے اعتبار سے ہے، دینی ہے بھئی۔ یعنی يوضع في بيت المال، یعنی مال کو رکھ دیا جائے گا بیت المال کے اندر، تقضى به حوائج المسلمين، پوری کی جائیں گی اس کے ذریعے مسلمانوں کی ضرورتیں۔ ولهذا، اور اس وجہ سے، أي ولأن الموت لا ينافي الحاجة، کہ موت جو ہے، حاجت کے منافی نہیں، بقيت الكتابة بعد موت المولى، کتابت، جو عقد کتابت ہے، وہ باقی رہے گا آقا کے مرنے کے بعد بھی۔ وبعد موت المكاتب عن وفاء، اور مکاتب کے مرنے کے بعد بھی عن وفاء، جو پورا بدل کتابت چھوڑ کر مرے۔ اتصلاً وفاء، وہ مال جس سے پورا بدل کتابت ادا ہو سکے۔ تو عقد کتابت ختم نہیں ہوگا، اسی وجہ سے، کس وجہ سے؟ کہ موت حاجت کے منافی نہیں۔ حاجت جس میں ہوگی، وہ ثابت ہو جائے گی جس چیز کی حاجت ہوگی۔ تو لہٰذا عقد کتابت کی حاجت ہے، کس کو؟ مرنے والے مولىٰ کو بھئی، تو عقد کتابت باقی رہے گا۔ دیکھیے تفصیل آ رہی ہے، تو کہتے ہیں کتابت باقی رہے گی آقا کے مرنے کے بعد بھی، وبعد موت المكاتب عن وفاء، اور وہ مکاتب جو وفا چھوڑ مرا ہے، اس کی موت کے بعد بھی۔ وفا، یعنی اتنا مال جس سے بدل کتابت ادا ہو سکے۔ فإذا مات المولى وبقي المكاتب حيا، پس جب آقا مر جائے اور مکاتب زندہ باقی رہا، يؤد الكتابة إلى ورثته، تو وہ کتابت کو ادا کرے گا اس کے وارثوں کو، یعنی بدل کتابت کو ادا کرے گا اس کے وارثوں کو احتياج المولى إلى الولاء، اس لیے کیونکہ آقا جو ہے، وہ محتاج ہے ولاء کا وبدل الكتابة، اور کس کا محتاج ہے؟ بدل کتابت کا۔ ولاء کس کو کہتے ہیں؟ وہ معتق جو مال چھوڑ کر مرتا ہے، میراث بھئی، وہ مال جو وارثوں کو دینے کے بعد جو کس کی طرف منتقل ہو جائے؟ جو بچ جائے، معتق کی طرف منتقل ہو جائے، تو یہ جو مال اس کو ملا، یہ وہی مالِ میراث ہے، لیکن اس کو کہتے کیا ہیں؟ ولاء کہتے ہیں۔ تو وہ آقا محتاج ہے کس کا؟ ولاء کا، تاکہ یہ میری طرف سے آزاد ہو جائے، جب آزاد ہو جائے گا، تو مرنے کے بعد جو مال ہوگا، وہ میں ولاء کا مستحق ہوں گا، اور میں تو نہ رہا، لیکن میری جگہ پھر کس کو مل جائے گا؟ میری اولاد وغیرہ کو مل جائے گا۔ اسی طرح وہ بدل کتابت کا محتاج ہے۔ وكذا إذا مات المكاتب عن وفاء، اور اسی طرح جب مر جائے مکاتب عن وفاء، أي مال واف لبدل الكتابة، وفا کا معنیٰ بیان کر رہے ہیں، وہ ایسا، وہ مال جو پورا ہونے والا ہے کس کے لیے؟ بدل کتابت کے لیے، یعنی اس کے لیے پورا ہے۔ تو مکاتب مرا اور اتنا مال چھوڑ گیا جس سے پورا بدل کتابت ادا ہو سکتا ہے، وبقي المولى حيا، اور آقا زندہ باقی ہے، يؤد الوفاء ورثة المكاتب إلى المولى، تو ادا کریں گے وہ وفا، وہ جو مال چھوڑا، توجہ ہے سبق کی طرف؟ وہ مال جو چھوڑا مکاتب نے پورا پورا، اس کو ادا کریں گے کون؟ ورثة المكاتب، مکاتب کے وارث، وہ مال ادا کر دیں گے إلى المولى، کس کو؟ مولىٰ کو دے دیں گے وہ جو زندہ ہے، لحاجته إلى تحصیل الحرية، بوجہ مکاتب کو حاجت ہونے کے آزادی کے تحصیل کی، کیونکہ مکاتب کیا چیز حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اس کو کس چیز کی حاجت ہے؟ آزادی کی حاجت ہے۔ تو دیکھیے، یہاں پر بھی حاجت آ گئی۔ حتى يكون ما بقي عنه میراثا لورثته، یہاں تک کہ وہ جو اس سے باقی بچ جائے، بطور میراث کے، لورثته اس کے لیے وارثوں کے لیے ہو، بھئی دیکھیے۔ اگر مکاتب، توجہ ہے سبق کی طرف؟ اگر مکاتب بدل کتابت دے دیں گے، تو یوں شمار کریں گے، وہ مکاتب مر چکا ہے، لیکن یوں سمجھا جائے گا آخری لمحے میں یہ آزاد ہو گیا تھا مرنے سے پہلے، اور جب یہ آزاد مرا ہے، تو آزاد شخص کا مال جو ہوتا ہے، وہ کس کو ملتا ہے؟ اس کے وارثوں کو، قرضے وغیرہ دینے کے بعد کس کو ملتا ہے؟ وارثوں کو۔ تو ہم نے قرضہ جو تھا، وہ تو ادا کر دیا وہ جو بدل کتابت تھا، اب باقی جتنا مال بچا ہوگا، وہ کس کو مل جائے گا؟ وارثوں کو مل جائے گا۔ تو اس لیے وہ مکاتب آزادی کا محتاج ہے، تاکہ وہ آزاد مرے اور اس کا باقی بچ جانے والا مال کس کی طرف منتقل ہو جائے؟ وارثوں کی طرف منتقل ہو جائے بھئی۔ حتى يكون ما بقي عنه میراثا لورثته، یہاں تک کہ وہ جو باقی بچا ہو اس سے، بطور میراث کے وہ اس کے وارثوں کے لیے ہو جائے، ويعتق أولاده المولودون، اور تاکہ آزاد ہو جائے اس کی وہ اولاد جو پیدا ہو، مثلاً مرنے کے بعد اس کی کچھ جو اولاد پیدا ہو، جو حمل تھا بیوی کے پیٹ میں مکاتب کے مرنے کے بعد، اگر مکاتب کا بدل کتابت ادا ہو جائے گا، تو مکاتب آزاد تھا، تو اس کی جو اولاد ہوگی، وہ بھی کیا ہوگی؟ آزاد ہوگی۔ یہ معنیٰ ہے ويعتق أولاده المولودون، اور تاکہ آزاد ہو جائے اس کی اولاد جو پیدا ہو، والمشترون، اور اس کی وہ اولاد جس کو خریدا ہو في حال الكتابة، کتابت کی حالت میں۔ یاد رکھیے، مکاتب وہ اعتاق نہیں کر سکتا۔ مکاتب آزاد آدمی کی طرح ہے، جا کر خرید و فروخت کرے گا، پیسے اکٹھے کرے گا، بدل کتابت ادا کرے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ تو مکاتب خود مکاتب ہے، لہٰذا یہ کسی غلاموں کی اس نے تجارت شروع کر دی اور یہ کسی غلام کو آزاد کرنا چاہتا ہے، یہ آزاد نہیں کر سکتا، آزاد کیونکہ یہ مکاتب خود مکاتب ہے، لہٰذا یہ اعتاق کا اہل نہیں، اس میں اہلیت ہی نہیں ہے آزاد کرنے کی۔ اور آپ نے پڑھا ہے، کوئی انسان اپنے قریبی رشتہ محرم رشتہ دار کو خریدے، تو اس کا مالک بنتے ہی فوراً وہ اس پر کیا ہو جائے گا؟ آزاد ہو جائے گا۔ اب اس مکاتب نے اپنے کسی اولاد کو خریدا جو غلام تھی، کس کو خریدا؟ اور ہونا کیا چاہیے؟ اس کو فوراً آزاد، لیکن مکاتب تو اعتاق کا اہل ہی نہیں، تو وہ اس کے اولاد جو ہے، جس کو اس نے خریدا ہے، وہ آزاد نہیں، آزاد تو نہیں ہوگا، لیکن وہ بھی اس کے عقد کتابت میں داخل ہو جائیں گے بھئی، کس میں داخل ہو جائیں گے؟ اسی کے عقد کتابت میں داخل ہو جائیں گے، کیونکہ یہ اعتاق کا اہل تو نہیں، کیونکہ اعتاق تو کتابت سے بڑھ کر ہے۔ البتہ یہ اپنے مساوی یعنی کتابت کا اہل تو ہے، کہ مکاتب وہ بنا سکتا ہے، کیونکہ اس نے مال حاصل کرنا ہے، تو یہ کسی کو بھی مکاتب بنا سکتا ہے، کیونکہ کسی کو آگے یہ مکاتب بنائے گا، تو وہ اس کو قسطیں دے گا اور یہ قسطیں اس کو ملیں گی، تو یہ اپنی ادائیگی کرے گا۔ تو یہ مکاتب اعتاق کا اہل تو نہیں، البتہ کتابت کا اہل ہے، تو لہٰذا اس کے جو قریبی محرم رشتہ دار جن کو خریدا، وہ آزاد تو نہیں ہوں گے، البتہ خود بخود کس میں داخل ہو جائیں گے؟ اسی کے عقد کتابت میں داخل ہو جائیں گے، اور جب یہ اپنی پوری ادائیگی کر دے گا، تو وہ بھی خود بخود کیا ہو جائیں گے؟ آزاد ہو جائیں گے۔ اور اگر یہ عاجز آ گیا، تو یہ غلام پہلے کی طرح ہو جائے گا، وہ بھی کیا رہیں گے؟ غلام ہی رہیں گے۔ یہ معنیٰ ہے والمشترون في حال الكتابة، اور تاکہ آزاد ہو جائے اس کی وہ اولاد جس کو اس نے خریدا تھا کس حالت میں؟ کتابت کی حالت میں، اس لیے یہ آزادی کا، آزادی کا محتاج ہے۔ ويعتق هو في آخر جزء من أجزاء حياته، اور یہ مکاتب آزاد ہو جائے گا اپنی زندگی کے آخری، اپنی زندگی کے اجزا میں سے آخری جز کے اندر، آخری لمحے کے اندر یہ آزاد شمار ہوگا۔ وإنما قلنا عن وفاء، اور ہم نے کیا کہا عن وفاء، اتنا مال چھوڑ مرا جس سے بدل کتابت ادا ہو سکے، یہ قید کیوں لگائی؟ کہتے ہیں لأنه إذا لم يترك وفاء، اس لیے کیونکہ اگر اس نے اتنا مال نہ چھوڑا، فلا ينبغي لأولاده، تو یہ مناسب نہیں اس کی اولاد کے لیے، أن يكسبوا الوفاء ويؤدوه إلى المولى، کہ وہ کمائی کریں اس مال کی، وفا کی، وہ اس کو کمائیں اور ادا کریں کس کو؟ آقا کے ادا کریں، یہ پھر ان کے مناسب نہیں، ان کی اولاد وہ یہ نہیں کر سکتی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔