درس نمبر۔136 والرق عطف على ما قبله وهو عجز حكمي أي بحكم الشرع، وهو عاجز لا يقدر على التصرفات وإن كان بحسب الحس أقوى وأجسم من الحر، شرع جزاء على الكفر؛ لأن الكفار استنكفوا عبادة الله تعالى فجعلهم الله تعالى عبيد عبيده، وهذا في الأصل. أهليت کو عارض ہونے والے اسباب اور امور کے بارے میں ہم پڑھ رہے تھے کہ آپ نے پڑھا وہ دو قسم پر ہیں، کچھ سماوی ہیں، کچھ مكتسبہ ہیں۔ سماوی جو ہیں وہ شارح نے آپ کو بتلایا تھا11 ہیں بھئی، اور اس میں سے ہم صغر، جنون، عطہ یعنی معتوہ ہونا، اور نسيان، نوم، اور إغماء ہم پڑھ چکے ہیں۔ یعنی چھ گزر گئے، آج ساتواں وہ سبب سماوی پڑھیں گے وہ امر سماوی جو عارض ہوتا ہے اہلیت پر بھئی۔ تو ساتویں چیز جو عارض ہوتی ہے اہلیت کو وہ رقیت ہے یعنی غلامی بھئی، تو کہتے ہیں: والرق، اور رقیت ہے عطف على ما قبله، یہ عطف ہے ماقبل پر بھئی، یعنی اس کا عطف یا تو إغماء پر کر لیجئے جو قریب والا ہے، یا جو اول تھا سب سے پہلے یعنی صغر اس پر عطف کر سکتے ہیں درمیان والوں پر عطف نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ قریب والے اس لیے کیونکہ وہ اس کے قریب ہے اس پر بھی عطف جائز، اور اول پر اس لیے کیونکہ وہ اصل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: والرق عطف على ما قبله، رقیت یہ جو ہے یہ عطف ہے ماقبل پر وهو عجز حكمي، اور وہ عجز حکمی ہے، حکمی عاجزی ہے۔ بھئی غلام تصرفات وغیرہ کا مالک نہیں، اس کی قدرت اسے نہیں، ان تصرفات سے وہ عاجز ہے، اور یہ عجز کس قسم کا ہے؟ حکماً ہے یعنی حکمی عجز ہے جس کا شریعت نے حکم لگایا۔ کیا کیا ہے؟ شریعت نے حکم لگایا ہے کہ یہ ان تصرفات سے عاجز ہے بھئی۔ ظاہر کے اعتبار سے نہیں، ظاہر کے اعتبار سے تو ہو سکتا ہے وہ طاقت میں اور جسم میں آزاد کی بنسبت بڑھا ہوا ہو، زیادہ طاقتور ہو، بڑے جسم والا ہو، لیکن تو یہ ظاہر کے اعتبار سے نہیں بلکہ یہ عجز کس قسم کا ہے؟ حکمی ہے یعنی شریعت نے حکم لگایا ہے۔ کہتے ہیں: وهو عجز حكمي، وہ عجز حکمی ہے أي بحكم الشرع یعنی شریعت کے حکم سے ہے وهو عاجز لا يقدر على التصرفات، اور وہ عاجز ہے، ایسا عاجز ہے جو قادر نہیں ہے تصرفات پر وإن كان بحسب الحس أقوى وأجسم من الحر، اگرچہ وہ ظاہر کے اعتبار سے بحسب الحس اگرچہ وہ ظاہر کے اعتبار سے أقوى وأجسم من الحر زیادہ قوت والا ہو اور زیادہ جسم والا ہو من الحر آزاد کے مقابلے میں۔ حس یاد رکھیے حس عام جو کتابوں میں حس اور محسوس کا لفظ آئے اس سے وہ چیز جو آنکھوں سے دکھائی دے بھئی، تو حس کا کیا معنی میں نے کیا؟ ظاہر کے بھئی، جو یعنی آنکھوں سے دکھائی دے۔ شرع جزاء على الكفر، تو یہ ایسا عجز حکمی ہے شرع جزاء على الكفر جو مشروع ہوا ہے بطور جزاء کے کفر پر۔ کفر پر بدلے کے طور پر جزاء اور سزا کے طور پر یہ مشروع ہوا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ لأن الكفار استنكفوا عبادة الله تعالى، اس لیے کیونکہ کفار نے عار سمجھا اللہ کی عبادت میں، کفار نے تکبر کیا اللہ کی عبادت نہیں کی، اللہ کی عبادت میں انہوں نے عار سمجھا فجعلهم الله تعالى عبيد عبيده، تو اللہ نے ان کو اپنے بندوں کے بندے بنا دیا۔ وہ اللہ کا بندہ بننا تو انہوں نے پسند نہیں کیا تو اللہ نے ان کو اپنے بندوں کے بندے بنا دیا، ان کے غلام بنا دیا بھئی۔ تو وهذا في الأصل، اور یہ اصل کے اعتبار سے ہے أي أصل وضعه وابتدائه، بتلایا الأصل کے اندر الف لام عوض ہے مضاف الیہ سے بھئی، یہ اصل میں ہے، کیا معنی اصل میں؟ أي أصل وضعه وابتدائه، اپنی اصل وضع اور ابتداء کے اعتبار سے ہے یہ غلامی، یعنی یہ ابتداء کے اعتبار سے یہ جزاء ہے کفر پر، سزا ہے کس چیز پر؟ کفر پر إذ الرقية لا ترد إبتداء إلا على الكفار، اس لیے کیونکہ غلامی یہ وارد نہیں ہوتی ابتداء میں شروع میں إلا على الكفار مگر کس پر؟ یہ صرف کفار پر ہی آتی ہے ثم بعد ذلك، پھر اس کے بعد وإن أسلم بقي عليه، اگر وہ مسلمان ہو جائے تو بھی اس پر باقی رہتی ہے وعلى أولاده، اور اس کی اولاد پر بھی ولا ينفك عنه ما لم يعتق، اور اسے جدا نہیں ہوتی جب تک وہ اور اسے جدا نہیں ہوتی جب تک وہ آزاد نہ ہو جائے۔ اصلاً یہ ابتداءً کس سے کس وجہ سے آتی ہے غلامی؟ کوئی شخص غلام کیوں ہے؟ کفر کی وجہ سے، کفر کی وجہ سے۔ بھئی مسلمانوں نے دعوت دی وہ اسلام قبول نہیں کرتے تو مسلمان کیا جہاد ہوا، لڑائی ہوئی جو قابو میں آئے ان کو کیا کر لیا؟ غلام بنا لیا، تو یہ غلام کیوں بنایا؟ کفر کی وجہ سے ان کو غلام بنایا گیا، تو اصل میں یہ سزا ہے کفر کی بھئی، ہاں بعد میں چاہے وہ مسلمان بھی ہو جائے پھر بھی یہ اسی طرح غلام ہی رہے گا، یہ بھی اور اس کی اولاد بھی، حکم شرعی بن گیا یہ بھئی اب۔ جی سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں باقی کفار اگر مسلمانوں کو پکڑ لیں اور ان کو غلام بنا لیں بھئی وہ ظلم کر رہے ہیں، یہ درست نہیں ہے بھئی شرعاً ان کا یہ عمل درست نہیں ہے لہذا وہ مسلمان اگر پھر ہاتھ آئیں گے تو وہ غلام نہیں ہوں گے بلکہ ان کو وہ پھر آزاد وہ مسلمان ہیں بھئی۔ كالأخراج، جیسے کس کی طرح جیسے خراج ہے لا يسقط إبتداء إلا على الكافر، وہ ثابت نہیں ہوتا ابتداء میں مگر کافر پر ہی، خراج کس پر آتا ہے؟ مسلمانوں نے ایک علاقے کو فتح کیا اور کفار سے ان کی زمینیں نہیں لیں انہی کے پاس رہنے دیں اور ان پر خراج لگا دیے تو یہ زمینیں خرااجی ہو گئیں تو ابتداءً خراج کس پر آیا؟ کفار پر، پھر اب چاہے مسلمان بھی وہ زمینیں خرید لیں وہ خراجی ہی رہیں گی تو یہ ابتداءً وہ کافر پر آیا تھا بقاءً اس میں کافر کے پاس ہونا ضروری نہیں۔ یہ معنی ہے جیسے خراج جو ہے لا يسقط إبتداء إلا على الكافر، وہ ابتداء میں ثابت نہیں ہوتا مگر کافر پر ہی ثم بعد ذلك إن اشترى المسلم أرضا خراجيا بقى الخراج على حاله ولا يتغير، پھر اس کے بعد اگر خرید لے مسلمان اس خراجی زمین کو تو خراج باقی رہے گا اپنے حال پر اور بدلے گا نہیں وإليه أشار بقوله، اور اسی کی طرف اشارہ کیا مصنف نے اپنے اس قول کے ذریعے لكنه في البقاء صار من الأمور الحكمية، لیکن یہ جو رقیت ہے بقاء کے اعتبار سے صار من الأمور الحكمية، یہ کس میں سے ہو گئی؟ امور حکمیہ میں سے، یعنی أي صار في البقاء حكما من أحكام الشرع، یہ بقاء کے اعتبار سے شریعت کے احکام میں سے ایک حکم بن گیا من غير أن يراعى فيه معنى الجزاء، بغیر اس کے کہ اس میں رعایت رکھی جائے جزاء کے معنی کی، ابتداء میں یہ جزاء کے معنی کے اعتبار سے آیا بعد میں چاہے وہ مسلمان بھی ہو جائے اب یہ حکم شرعی بن گیا، اب اس میں جزاء کی رعایت نہیں ہے بھئی۔ به يصير المرء عرضة للتملك والابتذال، اور اس کے ذریعے انسان کوئی آدمی ہو جاتا ہے عرضة، عرضۃ کہتے ہیں نشانہ، ہدف بھئی، اس کے ذریعے انسان جو ہے نشانہ بن جاتا ہے للتملك تملک کا بھئی، کہ اس کا مالک بنا جائے والابتذال، اور خرچ کرنے کا، نشانہ بنتا ہے کس چیز کا؟ یعنی مملوک بننے کا اور ابتذال یعنی مبتذل ہونے کا نشانہ بنتا ہے، اب یہ بھئی جیسے مال ہے، مال کو خرچ کیا جاتا ہے، انسان ہے خرچ کرنے والا اور مال کیا ہے جس کو خرچ کیا جاتا ہے، تو یہ بھی اسی طرح یہ بھی مملوک ہونے کا اور خرچ کرنے کا یعنی مبتذل ہونے کا یہ نشانہ بن گیا، اب یہ مملوک بھی بنے گا اور مبتذل بھی بنے گا۔ سمجھ میں آیا تو اس کے ذریعے انسان جو ہے نشانہ بنتا ہے یعنی محل بنتا ہے، نشانہ بننے کا کیا معنی؟ محل، اس کے ذریعے کوئی آدمی جو ہے وہ محل بن جاتا ہے تملک کا بھی اور ابتذال کا بھی، أي بسبب هذا الرق يصير العبد محلا لكونه مملوكا ومبتذلا، یعنی اس رقیت کی وجہ سے کوئی عبد جو ہے وہ بن جاتا ہے محل لكونه مملوكا ومبتذلا مملوک اور مبتذل ہونے کا محل وہ بن جاتا ہے والعرضة في الأصل، عرضہ کس کو کہتے ہیں میں نے بتلایا نشانہ اور ہدف مراد محل ہے، اصل میں کسے کہتے ہیں؟ وہ بتلا رہے ہیں کہتے ہیں: والعرضة في الأصل اور عرضہ جو ہے اصل کے اندر خرقة القصاب، وہ قصاب کا وہ کپڑا ہے بھئی، کپڑے کا ٹکڑا بھئی قصاب تو جانتے ہیں بھئی، جو وہ گوشت بیچنے والا ہے، اس کا وہ کپڑے کا ٹکڑا ہے التي يمسح بها دسومة يده، جس کے ذریعے وہ پونچھتا ہے دسومة يده اپنے ہاتھوں کی چربی کو بھئی، دسومت کس کو کہتے ہیں؟ چربی کو کہتے ہیں۔ تو گوشت کی جو چربی ہوتی ہے ہاتھوں پہ لگی ہوتی ہے جس کپڑے کے ذریعے وہ قصاب ہاتھوں کو صاف کرتا ہے اس کو اصل وہ ہے عرضہ اصل میں۔ وهو وصف لا يتجزأ، اور یہ ایسا وصف ہے جو تقسیم نہیں ہوتا، یہ رقیت ایسا وصف ہے لا يتجزأ جو تقسیم تقسیم کو قبول نہیں کرتا ثبوتا وزوالا ثبوت اور زوال کے اعتبار سے، نہ ثبوت کے اعتبار سے یہ تقسیم کو قبول کرتا ہے اور نہ زوال کے اعتبار سے، ثبوت کے اعتبار سے یہ کہ مجاہدین گئے ایک جگہ پر قبضہ کیا اور وہاں کے رہنے والوں کو کہا نصف نصف تم میں سے غلام ہیں اور نصف ہر آدمی کا نصف غلام ہے اور نصف آزاد، نہیں بھئی ایسا نہیں ہو سکتا، ثبوت کے اعتبار سے بھی اس میں تقسیم نہیں ہو سکتی یا تو پورا غلام ہو گا یا پورا ہی غلام نہیں، اور زوال کے اعتبار سے بھی اس کے اندر تجزی اور تقسیم نہیں یعنی ایک شخص جو ہے وہ پورا غلام تھا اب اس سے آدھی غلامی ختم ہو جائے اور آدھی غلامی رہے یہ نہیں ہو سکتا بلکہ یا تو پوری رہے گی یا پوری ختم ہو جائے گی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ یہ تقسیم کو قبول نہیں کرتا ثبوت اور زوال کے اعتبار سے لأنهم حق الله تعالى، اس لیے کیونکہ یہ اللہ کا حق ہے۔ بھئی یہ اللہ کا حق ہے کیونکہ یہ کس وجہ سے آئی تھی غلامی؟ کفر کی سزا کے طور پر آئی تھی نا تو یہ اللہ کا حق ہے فلا يستحق أن يوصف العبد بكونه مرقوق البعض دون البعض، پس یہ صحیح نہیں ہے کہ موصوف کیا جائے غلام کو کہ وہ اس کا کچھ حصہ تو مرقوق ہو یعنی اس میں رقیت ہو اور کچھ میں نہ ہو بخلاف الملك اللازم له، برخلاف اس ملکیت کے کہ جو اس کے ساتھ لازم ہے۔ رقیت کے اندر تو تقسیم نہیں لیکن رقیت کے ساتھ کیا لازم ہے؟ غلامی، وہ ملک ملکیت وہ مملوک ہو گا، اس ملکیت کے اندر جو اس رقیت کے ساتھ لازم ہے اس میں تقسیم ہو سکتی ہے، تو یاد رکھیے۔ رقیت میں بالاجماع تقسیم نہیں اور ملکیت میں بالاجماع تقسیم ہے۔ رقیت میں بالاجماع تقسیم نہیں وہ تقسیم کو قبول نہیں کرتا، اور ملکیت میں بالاجماع تقسیم ہے بھئی، مثلاً آپ اور زید مل کے گاڑی خرید لیتے ہیں بھئی تو تقسیم آپ کا حصہ نصف ہے یا نہیں بھئی؟ جی، تو اسی طرح بھئی، تو یہاں ملکیت میں تقسیم آ سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: بخلاف الملك اللازم له، برخلاف اس ملکیت کے جو اس کے ساتھ لازم ہے فإنه حق العبد، کیونکہ وہ بندے کا حق ہے، وہ غلام یہ ملکیت رقیت تو اللہ کا حق تھا اس میں تقسیم نہیں، اور یہ ملکیت یہ کس کا حق ہے؟ بندے کا، اس میں تقسیم ہے۔ فإنه حق العبد، یہ بندے کا حق ہے، یہ ملکیت يوصَف بالتجزئ زوالا وثبوتا، یہ موصوف ہوتی ہے تقسیم کے ساتھ زوالاً بھی اور ثبوتاً، زائل کرتے ہوئے بھی اس میں تقسیم آ سکتی ہے اور ثابت کرتے ہوئے بھی ملکیت میں تقسیم آ سکتی ہے۔ فإن الرجل لو باع عبده من اثنين، پس بے شک اگر بیچا ایک آدمی نے عبدہ اپنے غلام کو من اثنين، کتنے پر بیچا؟ دو آدمیوں پر بیچا یعنی مشتری دو ہیں اس نے اپنا غلام ان دو کے ہاتھ بیچ دیا انہوں نے مل کر خریدا جاز بالإنقضاء، تو یہ بالاجماع جائز ہے۔ ولو باع نصف العبد، اور اگر بیچا اس نے نصف العبد، نصف غلام کو، آدھے کو بیچا ہی نہیں صرف کتنے کو بیچا؟ آدھے کو جاز بالاجماع، يبقى الملك له في النصف الآخر بالاجتماع، تو باقی رہے گی اس کی ملکیت دوسرے نصف کے اندر بالاجماع۔ دیکھو معلوم ہوا ملکیت جو ہے وہ زوالاً اور ثبوتاً دونوں اعتبار سے تقسیم کو قبول کر لیتی ہے۔ وهو أعم من الرق، اور یہ ملکیت عام ہے رقیت سے، ہر غلام مملوک ہے لیکن ہر مملوک غلام نہیں، کتاب آپ کی مملوک، قلم آپ کا مملوک تو مملوکیت عام ہے لیکن رقیت عام نہیں بھئی، تو ہر غلام تو مملوک ہے لیکن ہر مملوک غلام نہیں، تو کہتے ہیں: وهو أعم من الرق، یہ ملکیت عام ہے رقیت سے إذ قد يوصف به غير الإنسان من العروض دون الرق، اس لیے کیونکہ اس کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے انسان کے علاوہ کو بھی یعنی ملکیت کے ساتھ، اس کے ساتھ یعنی مملوک ہونے کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے انسان کے علاوہ کو بھی من العروض سامان میں سے دون الرق نہ کہ رقیت، اس کے ساتھ موصوف نہیں ہوتا سامان وغیرہ۔ كالأنق الذي هو ضده، جیسے کہ آزادی جو اس کی ضد ہے۔ فإنه أيضا لا يقبل التجزئة، وہ بھی تقسیم کو قبول نہیں کرتی وهو قوة حكمية يصير بها الشخص أهلا للمالكية والولاية من الشهادة والقضاء، اب عتق کی تعریف کر رہے ہیں بھئی، عتق جو ہے وہ قوت حکمیہ ہے، عتق کیا ہے؟ آزادی کیا ہے؟ بھئی رقیت عجز حکمی تھا تو اس کی ضد عتق وہ بھی کیا ہے؟ قوت حکمیہ ہے يصير بها الشخص أهلا للمالكية، اس کے ذریعے کوئی شخص جو ہے وہ اہل بن جاتا ہے مالک ہونے کا والولاية من الشهادة، اور ولایت کا اہل بن جاتا ہے من الشهادة والقضاء ونحوه، یعنی کہ شہادت اور قضاء اور اس جیسی چیزیں۔ ولایت اس کو کہتے ہیں کہ دوسرے پر ایک شخص کا قول نافذ ہوتا ہو، دوسرا چاہے قبول کرے یا نہ کرے، دوسرا قبول کرے یا نہ کرے، ولایت کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کہ اس کا اس پر قول نافذ ہو گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دوسرا قبول کرے یا قبول نہ کرے اس پر وہ قول نافذ ہوتا ہو ولی کا، یہ ہے ولایت بھئی، اب شہادت بھی ولایت کے قبیل سے ہے کیونکہ گواہی دے گا تو گواہی کی وجہ سے وہ دعویٰ مدعى علیہ پر ثابت ہو جائے گا یا نہیں؟ اس پر لازم ہو جائے گا بھئی چاہے وہ قبول کرے چاہے قبول نہ کرے، اسی طرح قضاء فیصلہ کرنا، قاضی بننا بھئی، یہ فیصلہ قضاء بھی ولایت کی قبیل سے ہے، قاضی کا فیصلہ سب پر نافذ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا بھئی؟ نافذ ہوتا ہے۔ تو یہ جو عتق آزادی ہے اس کی وجہ سے انسان میں شہادت اور قضاء کی اہلیت آتی ہے بھئی، غلام نہ شہادت کا اہل، اس کی گواہی درست نہیں، قبول نہیں اور اور نہ قضاء کا بھئی، وہ قاضی بننے کا اہل بھی نہیں، اور اس جیسی اور چیزیں۔ كالعتق الذي هو ضده فإنه أيضا لا يقبل التجزئة، یاد رکھیے یہ كالعتق الذي هو ضده، یہ متن ہے بھئی۔ كالعتق الذي هو ضده، یہ سارا متن ہے بھئی۔ وكذا الإعتاق عندهما، اور اسی طرح آزاد کرنا بھی ہے صاحبین کے نزدیک، صاحبین نے کہا تھا عتق میں یعنی جس طرح رقیت تقسیم کو قبول نہیں کرتی اسی طرح آزادی جو ہے وہ بھی تقسیم کو قبول نہیں کرتی، اور إعتاق، آزاد کرنا وہ بھی اسی طرح ہے وہ تقسیم کو قبول نہیں کرتا صاحبین کے نزدیک۔ یاد رکھیے امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے، امام صاحب فرماتے ہیں إعتاق تقسیم کو قبول کر لیتا ہے، صاحبین فرماتے ہیں إعتاق بھی عتق کی طرح ہے یہ تقسیم کو قبول نہیں کرتا۔ تو امام صاحب کا کیا مذہب؟ اعتاق تقسیم کو قبول کرتا ہے اور صاحبین فرماتے ہیں اعتاق تقسیم کو قبول نہیں کرتا۔ وجہ اس کی یہ کہ اعتاق کی تعریف میں اختلاف ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں اعتاق نام ہے ازالۂ ملکیت کا۔ امام صاحب کیا فرماتے ہیں؟ اعتاق نام ہے ازالۂ ملکیت کا، ملکیت کو زائل کرنا۔ اور ملکیت تقسیم کو قبول کرتی ہے یا نہیں کرتی؟ تقسیم کرتی ہے تو زوالاً بھی اور ثبوتاً بھی، لہذا یہاں تقسیم آ سکتی ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اعتاق نام ہے ازالۂ رقیت کا۔ اعتاق نام ہے کس چیز کا؟ ازالۂ رقیت کا۔ اور رقیت نہ زوالاً اور نہ ثبوتاً کسی بھی طرح بھی وہ تقسیم کو قبول نہیں کرتی بھئی۔ صورتِ اختلاف سمجھ میں آ گیا؟ امام صاحب کے نزدیک اعتاق، آزاد کرنا، یہ کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ ملک کا۔ اور ملکیت تو آپ پڑھ چکے ہیں، ملکیت بالاجماع تقسیم کو قبول کرتی ہے۔ تو ازالۂ ملکیت بھی تقسیم کو قبول کرے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اعتاق کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ رقیت کا۔ اور رقیت نہ زوالاً تقسیم کو قبول کرتی ہے اور نہ ثبوتاً بالاجماع آپ پڑھ چکے ہیں بھئی۔ تو لہذا اعتاق بھی تقسیم کو قبول نہیں کرے گا۔ اور اسی طرح اعتاق ہے صاحبین کے نزدیک۔ وعند أبي يوسف ومحمد رحمهما الله أيضاً لا يتجزأ یعنی صاحبین رحمہما الله کے نزدیک یہ بھی تقسیم کو قبول نہیں کرتا، اعتاق یعنی۔ لأن الاعتاق إثبات العتق اس لیے کیونکہ اعتاق جو ہے وہ کس چیز کا نام ہے؟ إثبات العتق۔ وہی بات ہے، میں نے کیا کہا؟ ازالۂ رقیت، یہ إثبات العتق ہی تو ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ کیونکہ اعتاق جو ہے وہ إثبات العتق کا نام ہے۔ فالعتق أثره تو عتق آزادی جو ہے اعتاق کا اثر ہے۔ آزاد کریں گے تو کیا آ جائے گی؟ آزادی۔ تو اعتاق ہوا مؤثر اور عتق کیا ہوئی؟ آزادی۔ اس کا آزاد کرنا ہے مؤثر اور آزادی ہے اس کا اثر۔ آزاد کریں گے تو کیا ہو جائے گا؟ آزاد۔ تو آزاد کرنا ہوا مؤثر اور آزادی ہوئی اس کا اثر۔ تو کہتے ہیں لأن۔ اب دیکھیے یاد رکھیے، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اگر اعتاق انہوں نے کیا کہا؟ صاحبین کا کیا مذہب ہے؟ کہ جس طرح عتق ازاد تقسیم کو قبول نہیں کرتا اسی طرح اعتاق بھی تقسیم کو قبول نہیں کرتا۔ تقسیم کو قبول نہیں کرتا۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اعتاق ہے مؤثر اور عتق ہے اثر۔ تو یہاں تین صورتیں بنتی ہیں۔ مثلاً اپنے غلام کا بعض کوئی شخص آزاد کرتا ہے، کیا کرتا ہے؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ کوئی شخص اپنے غلام کا کچھ حصہ آزاد کرتا ہے، مثلاً نصف کرتا ہے، نصف آزاد کرتا ہے، تو تین صورتیں ہیں۔ یا تو سارا غلام آزاد ہوگا، ایک احتمال یہ۔ یا ذرا بھی نہیں آزاد ہوگا، دوسرا احتمال یہ۔ یا تیسرا احتمال یہ کہ وہی بعض آزاد ہوگا اور بعض آزاد نہیں، تین ہی احتمال بنتے ہیں نا؟ اگر یہ کہا جائے کہ سارا غلام آزاد ہو جائے گا، بھئی اس نے تو کیا بعض کو اور ہو گیا کیا؟ سارا۔ تو دیکھیے بعض کے اندر تو اس نے اعتاق بعض میں تو اعتاق یعنی مؤثر تھا، وہاں تو عتق آنا چاہیے اور باقی بعض کے اندر تو اعتاق نہیں تھا وہاں عتق نہیں۔ تو وہاں بھی عتق یعنی اثر آ گیا بغیر مؤثر کے۔ وہ بعض جہاں اعتاق یعنی مؤثر نہیں ہے وہاں پر بھی کیا آ جائے گا؟ اثر، اور اثر بغیر مؤثر کے نہیں آ سکتا۔ تو پہلی صورت تو درست نہیں۔ دوسری صورت کہ بعض کو آزاد کرتا ہے اور کچھ بھی آزاد نہیں ہوتا تو اس صورت میں بھی خرابی کہ مؤثر آ جائے گا اور اثر نہیں آئے گا۔ تیسری صورت جو ہے کہ مؤثر بعض میں ہے تو اثر میں بھی اثر بھی بعض ہی کے اندر آئے تو اس صورت میں پھر عتق کے اندر کیا آ جائے گی؟ تقسیم آ جائے گی، حالانکہ عتق کے اندر تو تقسیم نہیں آ سکتی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہذا وہ کہتے ہیں جس طرح عتق کے اندر تقسیم نہیں اسی طرح اعتاق کے اندر بھی تقسیم نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی ہے اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں لأن الاعتاق إثبات العتق اس لیے کیونکہ اعتاق جو ہے وہ آزادی کو ثابت کرنا ہے، فالعتق أثره پس آزادی اس اعتاق کا اثر ہے، فلو كان الاعتاق متجزئاً پس اگر اعتاق متجزئ ہو یعنی تقسیم کو قبول کرنے والا ہو، وأعتق البعض اور اس شخص نے، وأعتق البعض اور آزاد کیا گیا بعض کو، فلا يخلو إما أن يثبت العتق في الكل یا تو عتق ثابت ہوگا کس کے اندر؟ کل میں، فيلزم الأثر بدون المؤثر تو لازم آئے گا اثر بغیر مؤثر کے، أو لم يثبت العتق في شيء یا عتق ثابت نہیں ہوگا کسی بھی چیز میں، یعنی سِرے سے غلام آزاد ہی نہیں ہوگا، فيلزم المؤثر بدون الأثر تو لازم آئے گا مؤثر بغیر اثر کے، أو يثبت العتق في البعض یا ثابت ہوگی آزادی بعض کے اندر، فيلزم تجزؤ العتق تو لازم آئے گی عتق کی تجزی، اور عتق کی تجزی تو جائز نہیں، درست نہیں۔ وهذا معنى قوله اور یہ معنی ہے مصنف کے قول کا، لئلا يلزم الأثر بدون المؤثر تاکہ لازم نہ آئے اثر بغیر مؤثر کے، أو المؤثر بدون الأثر یا لازم نہ آئے مؤثر بغیر اثر کے، أو تجزؤ العتق یا لازم نہ آئے آزادی کی تقسیم بھئی۔ وفي بعض النسخ لم يوجد قوله أو تجزؤ العتق، یہ جو متن میں آیا نا أو تجزؤ العتق، بعض نسخوں کے اندر کہتے ہیں یہ ماتن کا قول نہیں ملتا، أو تجزؤ العتق۔ وہاں صرف اتنی عبارت ہے: لئلا يلزم الأثر بدون المؤثر أو المؤثر بدون الأثر۔ تو بعض نسخوں میں صرف اتنا ہے۔ وتحريره لا يخلو عن تمحل اور ان نسخوں کی تحریر جو ہے وہ خالی نہیں ہے تکلف سے بھئی۔ یہ لفظ ضرور چاہیے متن کے اندر بھئی، اس کے بغیر بات پوری نہیں ہوتی۔ لہذا جن نسخوں کے اندر یہ لفظ نہیں ہے ان نسخوں کا کی تحریر وہ تکلف سے خالی نہیں ہے۔ وقال أبو حنيفة رحمه الله اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، وہ تکلف سے خالی نہیں ہے یعنی وہاں کچھ نہ کچھ تکلف کرنا پڑے گا ورنہ بات پوری ہوتی ہی نہیں اس کے بغیر۔ وقال أبو حنيفة رحمه الله اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، إنه إزالة الملك کہ اعتاق کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ ملکیت کا نام ہے، وهو متجزئ وہ تقسیم کو قبول کرتا ہے، لا إسقاط الرق یہ اعتاق جو ہے وہ فرماتے ہیں رقیت کے اسقاط کا نام نہیں ہے، أو إثبات العتق یا یہ عتق آزادی کو ثابت کرنے کا نام نہیں ہے، حتى يتجه ما قلتم یہاں تک کہ متوجہ ہو وہ جو آپ نے کہا، وہ اعتراض متوجہ ہو جو آپ نے، یا آپ کا قول متوجہ ہو۔ بھئی انہوں نے کہا نا کہ اعتاق میں بھی تجزی نہیں، کیونکہ اگر اعتاق میں تجزی مانو گے تو عتق میں بھی تجزی ماننا پڑے گی اور عتق بالاجماع تجزی کو قبول نہیں کرتا۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں بھئی! آپ نے اعتاق کی تعریف دوسری کی، اعتاق ازالۂ رقیت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ازالۂ ملک کا نام ہے اور ازالۂ ملک تقسیم کو قبول کر لیتا ہے تو اعتاق بھی لہذا اعتاق ازالۂ ملک کا نام ہے تو وہ تقسیم کو قبول کرے گا۔ اور یہ نہ تو اسقاطِ رقیت کا نام ہے نہ اثباتِ عتق کا نام ہے۔ توجہ ہے؟ اثباتِ عتق، کیا معنی؟ آزادی ثابت کرنا۔ اور ازالۂ رقیت، کیا معنی؟ غلامی کو ختم کرنا۔ تو یہ جو ہے، یہ اعتاق، یہ نہ تو ازالۂ رقیت کا نام ہے نہ اثباتِ عتق کا نام ہے بلکہ یہ اعتاق کس چیز کا نام ہے؟ ازالۂ ملک کا نام ہے۔ وقال أبو حنيفة رحمه الله اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، إنه إزالة الملك وهو متجزئ لا إسقاط الرق أو إثبات العتق حتى يتجه ما قلتم کہ یہ ازالۂ ملک ہے اور یہ تقسیم کو قبول کرتا ہے، نہ یہ رقیت کا اسقاط ہے اور نہ عتق آزادی کا اثبات ہے یہاں تک کہ متوجہ ہو وہ جو آپ نے کہا، وذلك لأن المعتق لا يتصرف إلا فيما هو خالص حقه اس لیے کیونکہ آزاد کرنے والا وہ تصرف نہیں کرتا مگر اس چیز کے اندر جو اس کا خالص حق ہے۔ وہ خالص جو اس کا حق ہے، آزاد کرنے والا صرف اس میں تصرف کر رہا ہے اور آزاد کرنے والے کا حق کس چیز میں ہے؟ اس کے مملوکیت کے ملک کے اندر ہے، رقیت کے اندر اس کا حق، کیونکہ ابھی آپ نے پڑھا، رقیت کس کا حق ہے؟ یہ اللہ کا حق ہے، کیونکہ یہ مشروع ہوئی ہے کفر کی سزا کے طور پر بھئی۔ تو جو آزاد کرنے والا ہے وہ صرف اپنے حق میں تصرف کر رہا ہے اور رقیت تو اس کا حق نہیں، وہ تو اللہ کا حق ہے، تو پھر یہ کس چیز اس کا حق کیا ہے؟ ملک ہے، اور ملک کے اندر وہ ازالہ کر رہا ہے اور ملک کے اندر تو تقسیم بالاجماع جائز ہے۔ لأن المعتق لا يتصرف إلا فيما هو خالص حقه اس لیے کیونکہ آزاد کرنے والا وہ تصرف نہیں کرتا مگر اس چیز کے اندر جو خالص اسی کا حق ہے، وحقه هو الملك القابل للتجزؤ اور اس کا حق وہ ملکیت ہے جو قبول کرنے والا ہے تجزی کو، جو تجزی کو تقسیم کو قبول کر لیتا ہے یعنی اس میں اس کی صلاحیت ہے۔ دون الرق والعتق نہ کہ غلامی اور آزادی، الذي هو حق الله تعالى جو وہ اللہ کا حق ہے، ولكن بإزالة الملك يزول الرق لیکن ازالۂ ملک سے رقیت بھی زائل ہوگی، وبزواله يثبت العتق اور ازالۂ رقیت سے زوالِ رقیت سے يثبت العتق آزادی ثابت ہوگی عقبہ اس کے پیچھے، اس کے بعد، بواسطة واسطے سے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اعتاق اصل میں ہے ازالۂ ملک کا نام، اور ازالۂ ملک آئے گا تو ساتھ ہی کیا آ جائے گی؟ زوالِ رقیت بھی اور ثبوتِ عتق بھی ساتھ آئے گا، لیکن وہ واسطے کے ساتھ آ رہا ہے، بغیر واسطے کے نہیں آ رہا۔ كشراء القريب يكون إعتاقاً بواسطة الملك جیسے قریب عزیز کو خریدنا یہ اعتاق ہے، لیکن بواسطة الملك کس کے واسطے سے؟ ملک کے واسطے سے ہے، تو یہاں بھی اسی طرح واسطے کے ذریعے چیز آ رہی ہے۔ والرق ينافي مالكية المال لقيام المملوكية اور غلامی جو ہے وہ منافی ہے مال کے مالک ہونے کے، لقيام المملوكية فيه بوجہ اس میں مملوکیت کے قائم پائے جانے کے۔ بھئی غلام کسی چیز کا مالک نہیں بن سکتا، غلامی منافی ہے کس چیز کے؟ مملوک مال کے مالک ہونے کے منافی ہے، کیونکہ یہ مملوک ہے۔ تو یہ مملوک ہے اور کسی چیز کا مالک بھی بن جائے تو یہ مملوک بھی ہوا اور مالک بھی ہوا، ایک ہی چیز مملوک بھی ہے مالک بھی ہے، یہ تو نہیں ہو سکتا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ والرق ينافي مالكية المال اور رقیت جو ہے یہ غلامی جو ہے وہ منافی ہے مال کے مالک ہونے کے، لقيام المملوكية فيه بوجہ اس غلام میں مملوکیت کے قائم ہونے کے پائے جانے کے، حال كونه مالاً اس حال میں کہ وہ غلام خود کیا ہے؟ مال ہے، تو وہ مملوک ہوا، تو پھر دوسری چیز کا مالک کیسے بنے؟ فلا تجتمعان پس یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے یعنی مالکیت اور مملوکیت، لأن المالكية سمة القدرة والمملوكية سمة العجز اس لیے کیونکہ مالک ہونا یہ قدرت کی علامت ہے اور مملوک ہونا یہ عجز کی علامت ہے اور یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتی بھئی۔ وقيل فيه بحث اور کہا گیا ہے اس کے اندر بحث ہے، اس میں اس بات میں آپ نے کہا مالکیت اور مملوکیت جمع نہیں ہو سکتی ایک چیز میں بھئی، الگ الگ جہت سے کیوں نہیں جمع ہو سکتی؟ مالکیت ہو مالک ہو وہ اور جہت سے، اور اعتبار سے، اور مملوک ہو اور اعتبار سے، جیسے ایک ہی شخص باپ بھی ہے، بیٹا بھی ہے۔ باپ ہے اپنے بیٹے کی طرف نظر کرتے ہوئے، اور بیٹا ہے اپنے باپ کی طرف نظر کرتے ہوئے، تو جہت بدل گئی۔ کہتے ہیں لأنه لم لا يجوز أن يجتمعا فيه کیوں یہ جائز نہیں ہے کہ یہ دونوں جمع ہو جائیں اس غلام کے اندر من جهتين مختلفين دو مختلف جہتوں سے؟ فالمملوكية تكون فيه من جهة المالية تو مملوکیت اس کے اندر جو ہے مالیت کی جہت سے ہوگی، مال ہونے کی جہت سے کہ وہ مال ہے، اس اعتبار سے مملوک ہے وہ غلام، والمالكية من جهة الآدمية اور مالک ہونا آدمی ہونے کی جہت سے ہوگا کہ آدمی کیا ہوتا ہے؟ چیزوں کا مالک ہوتا ہے۔ حتى لا يملك العبد والمكاتب التسري یہاں تک کہ مالک نہیں ہوگا العبد والمكاتب التسري غلام اور مکاتب وہ مالک نہیں ہوں گے کس چیز کے؟ تسری کے۔ تسری کا معنی ہے اختیار کرنا سریا یسری سے ہے وہ۔ تو تسری کہتے ہیں اختیار کرنا، پسند کرنا، یعنی باندی کو پسند کرنا صحبت کے لیے، کس کے لیے؟ صحبت کے لیے۔ یعنی غلام کو صحبت کے لیے یا مکاتب کو صحبت کے لیے باندی کو اختیار کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ بھئی مکاتب آپ نے پڑھا ہے کہ وہ وہ مالک اس سے خدمت نہیں لے سکتا، وہ کس کی طرح ہوا؟ آزاد آدمی کی طرح، جائے گا پیسے کمائے گا اور لا کر مالک کو ادا کرے گا اور اپنے اپ کو آزاد کروائے گا۔ اب یہ مکاتب بیع و شراء میں مشغول ہے، تجارت کر رہا ہے، پیسے جمع کر رہا ہے، یہ اب کسی مثلاً باندیوں کی بھی خرید و فروخت کر رہا ہے، غلاموں کی بھی خرید و فروخت کر رہا ہے، اب یہ کسی باندی کو رکھتا ہے صحبت کے لیے، یہ اس کے لیے جائز نہیں۔ یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کیونکہ یہ یہ مالک ہونا یہ غلام مالک نہیں ہو سکتا بھئی۔ غلام مالک نہیں ہو سکتا، غلام کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے آقا کا ہے، اور مکاتب مکاتب ابھی ان چیزوں کا مالک نہیں بنا، کیونکہ اگر وہ عاجز آ گیا تو یہ سارا کچھ آقا کا ہو جائے گا اور وہ پھر پہلے کی طرح غلام رہے گا بھئی، تو وہ چیزوں کا مالک نہیں ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہذا وہ کسی باندی کو اس لیے اختیار کر لے، پسند کر لے، یہ نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے حتى لا يملك العبد والمكاتب التسري یہاں تک کہ مالک نہیں ہوگا غلام اور مکاتب تسری کا، تسری کا کیا معنی؟ أي الأخذ بالسرية۔ سریا پکڑنا، سریا رکھنا، بھئی سریا کو رکھنا کیا معنی؟ سریا اختیار کر لینا، کہتے ہیں وهي الأمة التي بوأتها وأعددتها للوطء اور یہ وہ باندی ہے جس کو آپ نے ٹھکانا دیا ہو اور تیار کیا ہو صحبت کے لیے، وإن أذن لهما المولى بذلك اگرچہ آقا ان دونوں کو اس کی اجازت دے دے، آقا چاہے اجازت دے دے پھر بھی یہ باندی نہیں رکھ سکتے صحبت کے لیے یہ دونوں۔ وإنما خص المكاتب بالذكر بھئی ماتن نے متن میں مکاتب کو خاص طور پہ کیوں ذکر کیا؟ حالانکہ مدبر کا بھی یہی حکم، مدبر وہ غلام جسے آقا نے کہا میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے، وہ بھی تسری نہیں کر سکتا، اس کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ کہتے ہیں بھئی وجہ اس کی یہ کہ مکاتب جو ہے وہ آزاد آدمی کی طرح ہو جاتا ہے، تجارت وغیرہ کرنے لگتا ہے، آقا اس سے خدمت نہیں لے سکتا، تو اس میں وہم پڑتا تھا شاید وہ تسری کی اہلیت ہے اس کے اندر، وہ تسری کر سکتا ہے، لیکن بتلایا کہ وہ بھی نہیں کر سکتا، جب وہ نہیں کر سکتا تو مدبر بطریقِ اولیٰ تسری نہیں کر سکتا۔ وإنما خص المكاتب بالذكر اور خاص کیا ماتن نے مکاتب کو ذکر کے ساتھ یعنی خاص طور پر مکاتب ہی کا ذکر کیا مع أن المدبر أيضاً كذلك باوجود اس کے کہ مدبر بھی اسی طرح ہے، لأنه صار أحق بمكاسبه يداً بھئی۔ کیونکہ وہ وہ زیادہ لائق ہوتا ہے اپنی کمائیوں کا يداً باعتبار قبضے کے۔ مکاتب اپنی کمائیوں کا زیادہ حقدار ہوتا ہے باعتبار قبضے کے۔ بھئی مکاتب کے پاس جو کچھ ہے آقا اس سے لے سکتا ہے؟ نہیں نہیں، آقا اس سے نہیں لے سکتا، ہاں وہ آقا کو جو لا کر قسطیں ادا کر رہا ہے وہ تو خود دے رہا ہے، آقا غلام کے پاس جو کچھ ہوتا ہے کس کا ہوتا ہے؟ آقا کا، لیکن یہ مکاتب کے پاس جو کچھ ہے یہ قبضے کے اعتبار سے مکاتب ہی کا ہے، آقا اس سے زبردستی نہیں لے سکتا بھئی، ہاں مآل میں، آخر میں۔ دیکھا جائے گا۔ اگر وہ سارا کچھ ادا کر دے گا تو جو بچے گا وہ اسی کا ہوگا اور اگر وہ نہیں کر سکا تو پھر سارا کچھ کس کا ہو جائے گا؟ آقا کا ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو قبضے کے اعتبار سے مکاتب اپنے مال کا مالک ہے، قبضے کے اعتبار سے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہاں وہم پڑتا تھا کہ شاید وہ تسری کر سکتا ہے لیکن جب بتایا وہ بھی نہیں کر سکتا تو پھر مدبر بطریقِ اولٰی نہیں کر سکتا۔ لِأَنَّهُ صَارَ أَحَقَّ بِمَكَاسِبِهِ يَدًا اسی لیے کہ وہ زیادہ لائق ہوا اپنی کمائیوں کا باعتبار قبضے کے فَهِيَ تُوحِمُ ذٰلِكَ جَوَازَ التَّسَرِّي تو یہ بات وہم ڈالتی ہے تسری کے جائز ہونے کی۔ فَبَأَزَالَ الْوَهْمَ بِذِكْرِهِ تو ماتن نے اس وہم کو دور کر دیا اس کے ذکر سے۔ وَلَا تَصِحُّ مِنْهُمَا حَجَّةُ الْإِسْلَامِ اور صحیح نہیں ہے ان دونوں سے حجِ اسلام۔ یہ غلام سے بھی اور مکاتب، ان کی طرف سے حجِ اسلام صحیح نہیں۔ یعنی یہ حجِ اسلام یعنی حج ادا کریں تو فرض نہیں ادا ہوگا، نفل ہی ادا ہوگا۔ غلام اور مکاتب اگر کیا کریں؟ حج کریں تو وہ حج فرض ادا نہیں ہوگا بلکہ نفل۔ وجہ یہ کہ غلام جو ہے اس کے سارے بدنی اور مالی نفعوں کا مالک آقا ہے۔ غلام کے سارے بدنی اور مالی نفعوں کا مالک آقا ہے، آقا ہے۔ تو لہٰذا جب ان چیزوں کا مالک آقا ہے تو غلام حج کرتا ہے تو بغیر قدرت کے کر رہا ہے اور بغیر قدرت کے تو حج فرض ہے ہی نہیں بھئی۔ باقی جو زادِ فقیر بھی کہتے ہیں، فقیر بغیر سواری بغیر اس کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں لیکن وہ نکل پڑا حج پہ اور گیا اور جا کر حج کیا، کہتے ہیں اس کا حج فرض ہی ادا ہوگا۔ بھئی اس کا حج فرض کیوں ادا ہوگا؟ تو فقیر ادا کرتا ہے تو وہ اس کی طرف سے ہی ادا ہوگا بھئی۔ یہ آگے تفصیل آ رہی ہے شرح کے اندر بھئی۔ وَلَا تَصِحُّ مِنْهُمَا حَجَّةُ الْإِسْلَامِ اور صحیح نہیں ہے مکاتب اور غلام کی طرف سے حجِ اسلام حَتَّى لَوْ حَجَّا يَقَعُ نَفْلًا یہاں تک کہ اگر دونوں نے حج کیا تو وہ نفل ہوگا وَإِنْ كَانَ بِإِذْنِ الْمَوْلٰى اگرچہ آقا کی اجازت سے ہو، پھر بھی نفل ہی ہوگا۔ لِأَنَّ مَنَافِعَهُمَا فِيمَا سِوٰى الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ تَبْقٰى لِلْمَوْلٰى اسی لیے کیونکہ ان دونوں کے جو نفع ہیں سوائے نماز اور روزے کے، تَبْقٰى لِلْمَوْلٰى یہ کس کے لیے باقی ہیں؟ مولٰی کے لیے باقی ہیں۔ وَلَا تَكُونُ لَهُمَا قُدْرَةٌ عَلٰى أَدَائِهِ اور ان دونوں کو قدرت ہی نہیں ہے حج کے ادا کرنے پر۔ بخلافِ سمجھ میں آیا؟ قدرت تو ضروری ہے عبادت کی ادا کے لیے تو ان میں قدرت ہی نہیں ہے اس حج کو ادا کرنے کی بھئی۔ بخلافِ فقیر کے کہ جب اس نے حج کیا ثُمَّ اسْتَغْنٰى پھر اس کے بعد وہ مالدار ہوا تو اس نے حج کس حالت میں کیا؟ فقر کی حالت میں۔ حَيْثُ يَقَعُ مَا أَدَّاهُ عَنِ الْفَرْضِ تو واقع ہوگا وہ جو اس نے ادا کیا ہے فرض سے۔ یعنی وہ فرض ہی ادا ہوگا لِأَنَّ مِلْكَ الْمَالِ لَيْسَ بِشَرْطٍ لِذَاتِهِ اسی لیے کیونکہ مال کی ملکیت اپنی ذات کے اعتبار سے یہ شرط نہیں ہے حج کے اندر وَإِنَّمَا شُرِطَ لِلتَّمَكُّنِ عَنِ الْأَدَاءِ اور اس کی شرط لگائی گئی ہے ادا پر قادر ہونے کے لیے۔ مال کی شرط حج کے لیے اپنی ذات کے اعتبار سے یہ حج میں شرط نہیں ہے کہ مال کا مالک ہونا چاہیے انسان کو۔ ہاں جو شرط لگائی گئی ہے وہ صرف کس لیے ہے؟ تاکہ انسان ادا پر قادر ہو سکے بھئی کیونکہ مال وغیرہ کے بغیر تو بہت مشکل ہو جائے گی اگر مال کے بغیر حج فرض قرار دے دیا جائے بھئی۔ تو ویسے مال اب ذات کے اعتبار سے اس میں مال کے مالک ہونے کی شرط نہیں ہے اور جو شرط لگائی گئی ہے وہ صرف کس لیے؟ تاکہ انسان اس کی ادا پر قادر ہو جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آئی سب کو کہ نہیں بھئی؟ وَلَا يُنَافِي مَالِكِيَّتَهَا غَيْرَ الْمَالِ كَالنِّكَاحِ وَالدَّمِ اور یہ رق یعنی غلامی جو ہے یہ منافی نہیں ہے مال کے علاوہ چیزوں کے مالک ہونے سے۔ مال کا تو مالک نہیں بن سکتا غلام لیکن مال کے علاوہ جو چیزیں ہیں ان کا مالک بن سکتا ہے، ان کے یہ منافی نہیں ہے کَالنِّكَاحِ وَالدَّمِ جیسے کہ نکاح ہے اور خون ہے۔ وہ نکاح بھی کر سکتا ہے آقا کی اجازت سے اور اپنے خون کا بھی مالک ہے بھئی، غلام بھئی۔ فَإِنَّهُ مَالِكٌ لِلنِّكَاحِ پس وہ غلام جو ہے وہ مالک ہے نکاح کا لِأَنَّ قَضَاءَ شَهْوَةِ الْفَرْجِ فَرْضٌ اس لیے کیونکہ شرمگاہ کی شہوت کو پورا کرنا یہ فرض ہے وَلَا سَبِيلَ لَهُ إِلَى التَّسَرِّي اور اس کے لیے کوئی راستہ نہیں تسری کا۔ تسری تو اس کے لیے راستہ ہی نہیں، تسری تو جائز ہی نہیں اس کے لیے اگرچہ آقا اس کی اجازت دے دے، پھر بھی۔ تو تسری کا تو کوئی راستہ نہیں ہے فَتَعَيَّنَ النِّكَاحُ تو نکاح متعین ہوا قضائے شہوت کے لیے۔ وَلٰكِنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلٰى رِضَاءِ الْمَوْلٰى لیکن یہ نکاح موقوف ہے اس کے آقا کی اجازت پر لِأَنَّ الْمَهْرَ يَتَعَلَّقُ بِرَقَبَتِهِ اسی لیے کیونکہ جو مہر ہے عورت بیوی کا وہ متعلق ہو جائے گا اس غلام کے رقبے سے، اس کی ذات سے۔ فَيُبَاعُ فِيهِ تو اس میں اس کو بیچا جائے گا وَفِي ذٰلِكَ إِضْرَارٌ لِلْمَوْلٰى اور اس کے اندر آقا کو ضرر دینا ہے فَلَا بُدَّ مِنْ رِضَائِهِ لہٰذا آقا کی رضامندی ضروری ہے۔ بھئی دیکھیے غلام پر جو دین آتا ہے یاد رکھیے اس دین کے دین میں اگر آقا اپنی طرف سے دے دے تو اچھی بات ہے ورنہ پھر اس غلام کو پکڑ کر دین میں بیچا جاتا ہے اور اس دین کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ تو یہاں پر بھی جب وہ نکاح کرے گا تو آقا کی اجازت ضروری اس لیے کیونکہ جب نکاح کرے گا اس پر مہر آئے گا اور مہر دین ہے اور دین کے اندر غلام کو کیا کیا جاتا ہے؟ بیچا جاتا ہے تو اس میں بھی اگر آقا ادا نہیں کرے گا تو غلام کو بیچنا پڑے گا اور بیچنے کی صورت میں آقا کا نقصان ہوگا کیونکہ اس کے ہاتھ سے غلام نکل جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ اس میں آقا کا نقصان ہے، فَلَا بُدَّ مِنْ رِضَائِهِ لہٰذا ضروری ہے آقا کی رضامندی۔ وَكَذٰلِكَ هُوَ مَالِكٌ لِدَمِهِ اسی طرح غلام جو ہے وہ مالک ہے اپنے خون کا بھی لِأَنَّهُ مُحْتَاجٌ إِلَى الْبَقَاءِ اس لیے کیونکہ غلام محتاج ہے اپنی بقا کا۔ غلام محتاج ہے اپنی بقا کا وَلَا بَقَاءَ إِلَّا بِهِ اور بقا نہیں ہوگی مگر خون کے ذریعے ہی۔ وَلِهٰذَا لَا يَمْلِكُ الْمَوْلٰى إِتْلَافَ دَمِهِ اسی وجہ سے آقا مالک نہیں ہے اس کے خون کو تلف کرنے کا، اس کے خون کو تلف کرنے، برباد کرنے کا یعنی اس کو قتل کرنے کا مالک نہیں ہے آقا۔ وَصَحَّ إِقْرَارُ الْعَبْدِ بِالْقِصَاصِ اور صحیح ہے غلام کا اقرار کرنا قصاص کا۔ غلام کس چیز کا اقرار کر لے کہ میں نے فلاں کو جان بوجھ کر قتل کیا تھا، اب یہ قصاص کا اقرار کر رہا ہے، اب اس پر قصاص آئے گا، تو یہ بھئی اپنے خون کے بارے میں کر رہا ہے یا آقا کے خون کے بارے میں؟ اپنے، اور اپنے خون کا تو یہ مالک ہے لہٰذا یہ اقرار صحیح۔ یہ معنی ہے وَصَحَّ إِقْرَارُ الْعَبْدِ بِالْقِصَاصِ اور غلام کا قصاص کا اقرار کر لینا صحیح ہے لِأَنَّهُ فِي ذٰلِكَ مِثْلُ الْحُرِّ اس لیے کیونکہ اس کے اندر وہ آزاد کی طرح ہے۔ وَيُنَافِي كَمَالَ الْحَالِ فِي أَهْلِيَّةِ الْكَرَامَاتِ اور یہ غلام ہونا جو ہے یہ غلامی منافی ہے کمالِ حال کے، کمالِ حال کی فِي أَهْلِيَّةِ الْكَرَامَاتِ کرامت، عزت، شرف بھئی، حیثیت۔ عزتوں کی اہلیت، عزتوں کی عزتوں کی اہلیت میں کمالِ حال کے منافی ہے غلامی، توجہ ہے بھئی سبق پر؟ کہ غلامی منافی ہے کمالِ حال کی یعنی کمالِ وصف کی۔ کمالِ حال سے کیا مراد ہے؟ کمالِ وصف کے منافی ہے یعنی کمالِ وصف اس غلام میں نہیں آ سکتا فِي أَهْلِيَّةِ الْكَرَامَاتِ جو عزتوں کی اہلیت میں، عزتوں کی اہلیت کے اندر جو کمال درجے کے اوصاف ہیں، وہ نہیں آ سکتے غلام کے اندر بھئی۔ بھئی، عزتوں کی اہلیت میں جو کمال درجے کے اوصاف ہیں، اور وہ کیا؟ مثلاً آزاد جو ہوتا ہے اس کو ولایت حاصل ہوتی ہے، غیر پر کیا ہوتی ہے؟ غیر پر اس کو ولایت حاصل ہو سکتی ہے اور یہ غیر پر ولایت حاصل ہونا یہ عزتوں کی میں سے ایک کمال درجے کا وصف ہے، کیا ہے؟ کمال درجے کا وصف ہے اور غلامی تو کمال درجے کے اوصاف کے منافی ہے لہٰذا یہ غلام کے لیے ولایت ثابت نہیں۔ اسی طرح آزاد آدمی کتنے نکاح کر سکتا ہے؟ چار، اور لیکن غلام جو ہے وہ کمالِ اوصاف کی اہلیت اس میں نہیں لہٰذا جو عزتوں کی معیار جو چیزیں ہیں ان میں کمال درجے کی اہلیت غلام میں نہیں تو اس کو کمال درجہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ ادنٰی ہوگا اس کا درجہ اور تو غلام کتنے نکاح کر سکتا ہے زیادہ سے زیادہ؟ دو نکاح کر سکتا ہے آقا کی اجازت سے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کمال درجے کے جو اوصاف ہیں جو عزتوں کے اور مرتبے کی چیزیں ہیں ان کے اندر وہ غلام کے اندر نہیں آ سکتے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے وَيُنَافِي كَمَالَ الْحَالِ فِي أَهْلِيَّةِ الْكَرَامَاتِ الْمَوْضُوعَةِ لِلْبَشَرِ کہ غلامی جو ہے منافی ہے کمالِ وصف کے فِي أَهْلِيَّةِ الْكَرَامَاتِ عزتوں کی اہلیت میں الْمَوْضُوعَةِ لِلْبَشَرِ وہ کرامتیں جو مقرر کی گئی ہیں کس کے لیے؟ انسان، بشر کے لیے جو عزتیں مقرر ہیں ان میں سے کمال درجے کے اوصاف جو ہیں غلام میں ان کے اندر اس کی اہلیت نہیں لہٰذا وہ کمال درجہ اس کے لیے ثابت نہیں ہوگا۔ كَالذِّمَّةِ وَالْوِلَايَةِ وَالْحِلِّ جیسے کہ ذمہ ہے، ذمہ کس کو کہتے ہیں میں نے بتلایا تھا آپ کو؟ ذمہ وہ وصف ہے جس کے ذریعے انسان مَا لَهُ اور مَا عَلَيْهِ کا اہل بنتا ہے۔ ذمہ وہ وصف ہے جس کے ذریعے انسان مَا لَهُ اور مَا عَلَيْهِ کا اہل بنتا ہے، مَا لَهُ اور مَا عَلَيْهِ کا اہل بنتا ہے۔ مَا لَهُ سے کیا مراد؟ جو اس کے حقوق ہیں۔ مَا عَلَيْهِ سے کیا مراد؟ جو اس پر حقوق ہیں۔ تو ذمہ وہ وصف ہے جس کے ذریعے کسی انسان میں اہلیت پیدا ہوتی ہے کہ اس کے حقوق غیروں پر ثابت ہوتے ہیں اور غیروں کے حقوق اس پر ثابت ہوتے ہیں۔ تو یہ ایک ذمہ جو ہے یہ ایک کمال درجے کا وصف ہے وہ جو انسانی بشر کے لیے انسان جو انسان کے لیے وضع کیے گئے اوصاف ہیں ان میں سے یہ اس کے لیے ثابت نہیں ہوگا، اسی طرح وَالْوِلَايَةِ ولایت بھی اس کو حاصل نہیں ہوگی وَالْحِلِّ اور حلال ہونا بھئی، وہ چار بیویوں کے بجائے کتنی حلال ہوں گی اس کے لیے؟ دو، تو وہ حلال ہونا چار کا اس کے لیے ثابت نہیں ہوگا۔ فَإِنَّ ذِمَّتَهُ نَاقِصَةٌ کیونکہ یہ غلام جو ہے اس کا ذمہ ناقص ہے لَا تَقْبَلُ أَنْ يَجِبَ عَلَيْهِ دَيْنٌ مَا لَمْ يُعْتَقْ یہ قبول نہیں، یہ ذمہ قبول نہیں کرتا کہ اس پر دین واجب ہو جب تک یہ آزاد نہ ہو جائے۔ بھئی غلام پر دین نہیں آ سکتا کیونکہ غلام پر دین آنے کا معنی یہ ہے آقا پر دین آیا، غلام چاہے اقرار بھی کر لے پھر بھی دین اس پر فی الحال ثابت نہیں، ہاں آزادی کے بعد پھر اس کو وہ دینا پڑے گا تو فی الحال اس کا ذمہ ہے وہ اس قابل ہی نہیں کہ وہ دین کو کیا کر لے؟ قبول کر لے۔ یہ معنی ہے فَإِنَّ ذِمَّتَهُ نَاقِصَةٌ اس کا ذمہ جو ہے ناقص ہے لَا تَقْبَلُ أَنْ يَجِبَ عَلَيْهِ دَيْنٌ یہ قبول نہیں کرتا کہ اس پر دین واجب ہو مَا لَمْ يُعْتَقْ جب تک کہ یہ آزاد نہ ہو جائے أَوْ لَمْ يُكَاتَبْ یا جب تک اسے مکاتب نہ بنا دیا جائے وَلَا وِلَايَةَ لَهُ عَلٰى أَحَدٍ بِالنِّكَاحِ یہ بِالنِّكَاحِ کا لفظ یہاں نہیں ہونا چاہیے بھئی، مطلق بات ہو رہی ہے وَلَا وِلَايَةَ لَهُ عَلٰى أَحَدٍ اور غلام کو کسی پر ولایت حاصل نہیں ہوتی، متن میں کیا آیا؟ ولایت مطلق آئی نا؟ ہاں، تو اس کو کسی پر نکاح کی ولایت حاصل نہیں یہ نہیں بھئی، مطلق اس کو ولایت حاصل ہی نہیں ہے جیسے میں نے بتلایا تھا شہادت کا اہل بھی نہیں، قضا کا اہل بھی نہیں۔ تو یہ معنی ہے وَلَا وِلَايَةَ لَهُ عَلٰى أَحَدٍ بِالنِّكَاحِ تو اس کو ولایت حاصل نہیں ہے کسی ایک پر بھی نکاح سے وَلَا يَحِلُّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ اور حلال نہیں ہے اس کے لیے عورتیں مِثْلُ مَا حَلَّ لِلْحُرِّ مثل اس کے جو حلال ہیں آزاد کے لیے۔ وَلَا يَحِلُّ لَهُ مِنَ النِّسَاءِ مِثْلُ مَا حَلَّ لِلْحُرِّ اس کے لیے حلال نہیں ہیں عورتوں میں سے اس کے مثل جو حلال ہیں آزاد آدمی کے لیے فَإِنَّ لِلْحُرِّ أَنْ تَحِلَّ أَرْبَعُ نِسَاءٍ پس آزاد جو ہے اس کے لیے جائز ہے کہ اس کے لیے حلال ہوں چار عورتیں وَلِلرَّقِيقِ نِصْفُ ذٰلِكَ اور غلام کے لیے اس کے نصف یعنی دو عورتیں ہیں۔ وَإِنَّهُ أَيِ الرِّقَّ لَا يُؤَثِّرُ فِي عِصْمَةِ الدَّمِ یہ متن ہے سارا، لَا يُؤَثِّرُ فِي عِصْمَةِ الدَّمِ وَإِنَّهُ أَيِ الرِّقَّ ضمیر کا مرجع بتلایا کہ ہٰذَا ضمیر کس کو راجع ہے؟ رِقِیَّت کو، اور رِقِیَّت جو ہے لَا يُؤَثِّرُ فِي عِصْمَةِ الدَّمِ یہ مؤثر نہیں ہے خون کے عصمت کے اندر، خون کی حفاظت کے اندر، خون کے محفوظ ہونے میں یہ مؤثر نہیں۔ فِي عِصْمَةِ الدَّمِ أَيْ إِزَالَةِ عِصْمَةِ الدَّمِ بتلایا عِصْمَةُ الدَّمِ سے پہلے إِزَالَةِ کا لفظ مضاف محذوف ہے بھئی، أَيْ إِزَالَةِ عِصْمَةِ الدَّمِ یعنی خون کے عصمت کے زائل کرنے میں رِقِیَّت مؤثر نہیں۔ یعنی رِقِیَّت کی وجہ سے عصمتِ دم زائل نہیں ہوگی۔ غلام کا خون کرنا، قتل کرنا جائز ہے یا جائز نہیں ہے بھئی؟ غلام کا قتل کرنا بھی جائز نہیں ہے، جو قتل کرے گا اس کو بھی کیا کیا جائے گا؟ قتل کیا جائے گا، تو غلامی یہ خون کے عصمت کو زائل نہیں کرتی، یہ اس کے منافی نہیں۔ یہ معنی ہے کہ یہ غلامی جو ہے یہ مؤثر نہیں ہے خون کی عصمت میں أَيْ إِزَالَةِ عِصْمَةِ الدَّمِ خون کی عصمت کے زائل کرنے میں بَلْ دَمُهُ مَعْصُومٌ بلکہ اس کا خون معصوم ہے، محفوظ ہے كَمَا كَانَ دَمُ الْحُرِّ مَعْصُومًا جیسے کہ آزاد آدمی کا خون معصوم ہے۔ لِأَنَّ الْعِصْمَةَ الْمُؤَثِّمَةَ بِالْإِيمَانِ اسی لیے کیونکہ وہ عصمت الْمُؤَثِّمَةَ جو گناہ کو ثابت کرنے والی ہے، یاد رکھیے ایک عصمت یہ عصمت جو ہے دو قسم پر ہے: ایک عصمتِ مؤثمہ اور ایک عصمتِ مقومہ۔ عصمت کہتے ہیں کہ کسی چیز کا معصوم ہونا یعنی اس سے تعرض حرام ہو، اس سے تعرض اور اس کے درپے ہونا، اس کو چھیڑنا، اس کو نقصان دینا حرام ہو۔ اب یہ دو قسم پر ہے عصمت بھئی: ایک عصمتِ مؤثمہ ہے، ایک عصمتِ مقومہ ہے۔ ایک وہ عصمتِ مؤثمہ، اِثم گناہ سے ہے ث کے ساتھ، گناہ سے، کہ جس کے جو تعرض کرے گا، جو اس کے درپے ہوگا وہ گناہگار ہوگا، اور ایک عصمتِ مقومہ ہے کہ جو اس کے درپے ہوگا اس پر اس کی قیمت آئے گی، ضمان آئے گا بھئی۔ تو عصمتِ مؤثمہ میں صرف کیا آئے گا؟ گناہ، اور عصمتِ مقومہ کے اندر اگر کوئی اس کے درپے ہوگا قیمت آئے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا غلام جو ہے اس کے لیے اس غلامی کی وجہ سے اس کی عصمت زائل نہیں ہوتی لہٰذا اس کے لیے عصمتِ مؤثمہ بھی ثابت اور عصمتِ مقومہ بھی ثابت ہے، بتلا رہے ہیں کیوں ثابت ہیں؟ لِأَنَّ الْعِصْمَةَ الْمُؤَثِّمَةَ بِالْإِيمَانِ اسی لیے کیونکہ عصمتِ مؤثمہ تو ایمان کی وجہ سے ہے أَيْ مَنْ كَانَ مُؤْمِنًا يَسْتَحِقُّ الْإِثْمَ قَاتِلُهُ جو شخص مومن ہے تو مستحق ہوگا گناہ کا اس کو قتل کرنے والا، جو شخص مومن ہے اس کو قتل کرنے والا گناہگار ہوگا، گناہ کا مستحق ہوگا فَتَجِبُ الْكَفَّارَةُ عَلَيْهِ تو اس پر قاتل پر کفارہ واجب ہوگا۔ وَالْمُقَوِّمَةَ بِدَارِهِ اور عصمتِ مقومہ جو ہے وہ کس کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے؟ اس کے دار کی وجہ سے یعنی جس وطن میں وہ رہتا ہے، اگر دار الاسلام میں ہے تو عصمتِ مقومہ ہے، اگر دار الحرب میں ہے تو عصمتِ مقومہ نہیں۔ عصمت کتنے قسم پر؟ دو: ایک عصمتِ مؤثمہ، اور اس میں کسی کے جان کے درپے ہو تو کیا آتا ہے؟ صرف گناہ، گناہ ہوتا ہے ضمان نہیں، اور ایک عصمتِ مقومہ ہے وہاں کسی کی جان کے درپے ہوا، کوئی ہاتھ سے غلطی سے مارا گیا تو کیا آئے گی؟ دیت آئے گی، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جان کر مارا ہے تو قصاص اور غلطی سے مارا تو دیت، تو عصمتِ مؤثمہ اس کے درپے کوئی ہو اس سے کوئی تعرض کرے تو صرف گناہ آتا ہے، عصمتِ مقومہ کے درپے کوئی ہو تو وہاں گناہ کے ساتھ ساتھ ضمان بھی آئے گا بھئی ضمان بھی آئے گا، اور عصمتِ مؤثمہ کس کی وجہ سے آیا کرتی ہے؟ ایمان کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ ایمان کی وجہ سے آیا کرتی ہے، اور عصمتِ مقومہ دار یعنی وطن کی وجہ سے آیا کرتی ہے جس وطن میں انسان رہتا ہے، اگر دار الاسلام میں ہے تو اس کو عصمتِ مقومہ حاصل ہے لہٰذا اس کو کوئی جان کر قتل کرے اسے بھی بدلے میں قتل کیا جائے گا اور اگر اسے کوئی غلطی سے قتل کر دے تو بدلے میں اس سے دیت لی جائے گی کیونکہ دارالایمان دارالإسلام کی وجہ سے اس کو عصمت مقومہ حاصل ہے اور اگر کوئی دارالحرب میں ہے وہاں پر اگر اس کو کوئی قتل کرتا ہے تو وہاں پر قصاص یا دیت نہیں آئے گی کیونکہ دارالحرب میں ہے اور دارالحرب میں عصمت عصمت مقومہ ثابت نہیں عصمت معاصمہ تو وہاں ثابت ہے ایمان کی وجہ سے اگر مومن تھا کوئی قتل کرے گا تو گنہگار ہوگا لیکن عصمت مقومہ وہاں نہیں لہذا وہاں کسی مومن کو قتل کیا تو دیت یا قصاص نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی عصمت مقومہ اور معاصمہ۔ تو کہتے ہیں والمقومتہ بدارہ، بدارہ کی ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ ایمان کو بدارالایمان دارال عصمت مقومہ دارالایمان کی وجہ دارالاسلام کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ای العصمت اللتی توجب القیمتہ یعنی وہ عصمت جو ثابت کرتی ہے قیمت کو تثبت بدارالایمان وہ کس کے لیے ثابت ہوگی؟ دارالایمان کے لیے ثابت ہوگی۔ فمن قتل من المسلمین فی دارالاسلام تجب الدیت والقصاص علی قاتلہ پس جس نے قتل کیا کسی مسلمانوں میں سے کسی کو دارالاسلام کے اندر تو دیت واجب ہوگی اور قصاص واجب ہوگا علی قاتلہ اس کے قتل کرنے والے پر بخلاف من اسلم فی دارالحرب ولم یھاجر الی دارالاسلام بخلاف اس کے جو شخص جو مسلمان ہوا دارالحرب کے اندر اور اس نے ہجرت نہیں کی دارالاسلام کی طرف فانہ لا یجب علی قاتلہ الا الکفارتہ دون الدیت والقصاص تو پس واجب نہیں ہوگا اس کے قتل کرنے والے پر مگر صرف کفارہ آئے گا دون الدیت والقصاص دیت اور قصاص نہیں آئے گا کیونکہ عصمت مقومہ وہاں پر نہیں وہ تو دارالایمان یعنی دارالاسلام کی وجہ سے ہے۔ اذ لیس لہ الا العصمت ال الا العصمت المعاصمت اس لیے کیونکہ ثابت نہیں ہے اس کے لیے مگر صرف عصمت معاصمہ ہی دون المقومتہ نہ کہ عصمت مقومہ۔ والعبد فیہ ای فی کل واحد من العصمتین کالحر اور غلام اس کے اندر کل حر کس کی طرح ہے؟ آزاد کی طرح غلام اس میں آزاد کی طرح ہے تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ فیہ کی ضمیر تو عصمت کو راجع ہے غلام کس کے اندر؟ عصمت کے اندر اور تو ان دونوں عصمتوں کے اندر اور وہ تو تثنیہ ہے اور ضمیر کون سی راجع کردی مصنف نے؟ مفرد کی تو مفرد کی ضمیر تثنیہ کی طرف کیسے لوٹائی؟ تو جواب دیا فی کل واحد کی تاویل میں کہ ان دونوں میں سے ہر ایک بھئی۔ تو کہتے ہیں غلام ان میں ای فی کل واحد من العصمتین کالحر ان دونوں عصمتوں کے اندر آزاد کی طرح ہے اما فی الایمان فظاہر باقی ایمان کے اندر تو سو وہ تو ظاہر ہے ایمان کے اندر غلام کیا ہو؟ مسلمان ہو تو اسے کیا حاصل ہوگی؟ عصمت معاصمت حاصل ہو جائے گی۔ واما فی الاحراز فی دارالاسلام اور باقی محفوظ ہونا دارالاسلام احراز یحرز احراز کے معنی ہیں محفوظ کرنا۔ واما فی الاحراز فی دارالاسلام اور باقی دارالاسلام کے اندر احراز کی وجہ سے محفوظ ہونے کی وجہ سے فانہ تبع للمولا پس وہ جو ہے آقا کے تابع ہے آقا کس کے اندر ہے اگر دارالاسلام میں ہے تو آقا کو عصمت مقومہ حاصل ہے تو طبعا اس کے غلام کو بھی عصمت مقومہ حاصل ہے۔ فإذا کان المولٰی محرزا فی دارالاسلام جب اس کا آقا وہ محفوظ ہے دارالاسلام میں تو کان العبد ایضا محرزا فیہ تو اس کا غلام بھی کیا ہے دارالاسلام میں محفوظ ہے اما بالاسلام یا تو اسلام کی وجہ سے کیونکہ وہ مسلمان ہے او بقبول الذمتہ یا ذمے کو قبول کرنے کی وجہ سے کس کی وجہ سے؟ ذمے کو قبول کرنے کی وجہ سے کیونکہ کفار جو دارالاسلام میں رہتے ہیں وہ کیا کہلاتے ہیں ذمی کیا کہلاتے ہیں ذمی اسلامی سلطنت نے ان کی ذمہ داری لی ہے بھئی ان کے ٹیکس ان سے لے کر ان کی ذمہ داری لی ہے تو یہاں پر بھی یا تو اس کا خون جو ہے وہ عصمت مقومہ بھی اس کو حاصل ہوگی اور معاصمہ بھی اس غلام کو جو دارالاسلام میں ہے اگر مسلمان ہے اگر مسلمان غلام مسلمان بھی ہو سکتا ہے نا کافر بھی اگر مسلمان ہے تو اس کو عصمت معاصمہ حاصل ہے ایمان کی وجہ سے کیونکہ مسلمان ہے اور عصمت مقومہ اس کو حاصل ہے کس کی وجہ سے؟ اسی ایمان کی وجہ سے دارالاسلام میں بھی ہے تو اس کو یہاں پر یا یہ آقا کے تابع ہے اس لیے اس کو عصمت عصمت مقومہ حاصل ہے عصمت مقومہ حاصل ہے یا اگر وہ کافر ہے یا وہ کافر ہے تو پھر قبول ذمہ کی وجہ سے اس کو عصمت مقومہ حاصل ہے کہ اسلامی سلطنت نے ان کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ وانما یؤثر فی قیمتہ اور یہ رقیب جو ہے یہ مؤثر ہے اس کی قیمت کے اندر انما یؤثر الرق فی نقصان قیمتہ یہ غلامی مؤثر ہے اس غلام کی قیمت کے کم ہونے میں سمجھ میں آیا بھئی غلام کے اندر کسی غلام کو قتل کیا یاد رکھو تو خطان خطا۔ جان کر قتل کیا تو قصاص آئے گا خطا قتل کیا تو کیا آئے گا؟ غلام کو قتل کیا بھئی اس کی قیمت ضائع کرتی ہے کیا آتی ہے؟ قیمت غلام کی دینا پڑتی ہے آقا کو آزاد آدمی کو قتل کرو وہاں تو دیت آتی ہے غلام کو قتل کرو تو اس کی قیمت جان بوجھ کر غلام کو قتل کیا تو قصاص غلطی سے قتل کیا تو قیمت لیکن یاد رکھیے اگر غلام بڑا قیمتی تھا اس کے اوصاف اتنے تھے کہ اس کی قیمت مثلا فرض کرو دس ہزار درہم سے بھی بڑھ گئی اس کی قیمت بھئی دس ہزار درہم سے بھی اب دس ہزار درہم یہ تو آزاد آدمی کی دیت ہے اور غلام اس کا رتبہ تو کم ہے آزاد آدمی سے لہذا قیمت جو بڑھ گئی وہ نہیں دی جائے گی بلکہ آزاد آدمی کے جو دیت ہے یعنی دس ہزار اس سے دس درہم کم یہ اس کو دے دیے جائیں گے مالک کو بھئی۔ تو یہ جو کمی ائی اس کی قیمت کے اندر یہ کس کی وجہ سے ائی غلامی کی وجہ سے آزاد آدمی تو دس ہزار درہم اور یہ اس سے زائد یا اس کے برابر نہیں ہو سکتا اس سے کم ہوگا حتی اذا بلغت قیمتہ عشرتا آلاف درہم یہاں تک کہ پہنچ گئی اس کی قیمت دس ہزار درہم تک ینبغی ان ینقص منہ عشرت دراہما تو مناسب یہ ہے کہ کم کر دیے جائیں اس کی قیمت میں سے دس درہم حتی لمرتبتہ عن مرتبتہ الحر حتی کے معنی کم کرنے کے حتی لمرتبتہ عن مرتبتہ الحر کم کرتے ہوئے اس کے مرتبے کو آزاد آدمی کے مرتبے سے ولہذا ای لکون العبد مثل الحر فی العصمت ولہذا یہ لہذا متن ہے بھئی یاد رکھیے۔ ولہذا اور اسی وجہ سے یہ لہذا کے لیے کس کی طرف اشارہ اشارے بتلا رہے ہیں ای لکون العبد مثل الحر فی العصمت غلام کا آزاد کے مثل ہونا عصمت کے اندر غلام کا آزاد کے مثل ہونا اس وجہ سے کہ غلام جو ہے عصمت کے اندر آزاد کی طرح ہے اسی وجہ سے یقتل الحر بالعبد قصاصا قتل کیا جائے گا آزاد آدمی کو بالعبد غلام کے بدلے میں قصاصا بطور قصاص کے کہ عندنا ہمارے نزدیک اس قد وجدت المساوات فی المعنی الاصلی الذی یبتنی علیہ القصاسو اس لیے کیونکہ تحقیق پائی گئی ہے برابر اس اصلی معنی کے اندر جس کے اوپر بنیاد ہے قصاص کی۔ بھئی قصاص کی بنیاد کس چیز پر ہے نفس پر جان پر جب اس نے کسی غلام کو قتل کیا جان بوجھ کر تو ایک جان اس نے لی ہے تو جان ہونے کے اندر جیسے غلام کی جان ہے اسی طرح آزاد کی بھی جان تو جان کے اندر برابری ہے تو اس اعتبار سے کوئی جان بوجھ کر غلام کو قتل کرے گا تو قصاصا آزاد کو بھی قتل کیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا تو معنی اصلی کے اندر مساوات ہے یہاں۔ آزاد جان رکھتا ہے تو غلام بھی جان رکھتا ہے تو اس معنی اصلی میں مساوات ہے اگرچہ اور عزت کی جو چیزیں تھیں اور وہ اوصاف جو تھے عزت والے وہ غلام کے لیے نہیں لیکن وہ تو زائد اوصاف ہیں الگ چیزیں ہیں یہاں پر کون سی برابری کا اعتبار ہے؟ اگرچہ غلام کے لیے ولایت وغیرہ اور چیزیں ثابت نہیں تھیں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا معنی اصلی کے اندر یعنی جان جو ہے اس کے اندر مساوات ہے۔ والکرامات الاخری صفۃ زایدۃ فی الحر اور باقی عزتیں جو ہیں وہ تو زائد صفت ہیں آزاد کے اندر لا یتعلق بہا القصاسو ان کے ساتھ قصاص کا تعلق نہیں ہوتا کما یجری ذالک فیما بین الذکر والانثٰی جیسے کہ یہ قصاص جاری ہوتا ہے مرد اور عورت کے درمیان کس کے درمیان؟ مرد اور عورت۔ مرد عورت کو قتل کر دے جان بوجھ کر تو اس کو قصاصا قتل کریں گے۔ عورت مرد کو قتل کر دے تو عورت کو بھی قصاصا قتل کیا جائے گا وان کان ینتقص بدل دمھا عن بدل دم الذکر اگرچہ عورت کے خون کا بدل وہ کم ہے مرد کے خون کے بدل سے۔ اگرچہ عورت کے خون کا بدل وہ مرد کے خون کے بدل سے کم ہے بھئی میں نے بتلاایا تھا آپ کو کہ مرد کے اندر دیت سو اونٹ ہیں تو عورت کے اندر نصف ہیں یعنی پچاس اونٹ بھئی۔ عورت کی دیت مرد سے نصف ہے بھئی نصف ہے بھئی۔ تو اگرچہ عورت کے خون کا بدل مرد کے خون کے بدل سے کم ہے بھئی لیکن جان ہونے کے اعتبار سے دونوں برابر لہذا اگر جان بوجھ کر قتل کیا تو قصاصا قاتل مرد کو بھی قتل کیا جائے گا۔ وعند الشافعیہ رحمہ اللہ تعالی لا یقتل الحر بالعبد اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قتل نہیں کیا جائے گا آزاد کو غلام کے بدلے لعدم اھلیت الکرامات الانسانیت اس وجہ سے کہ وہ انسانی کرامتوں کی اہلیت نہ رکھنے کی وجہ سے کیونکہ وہ غلام انسانی کرامتوں کی اہلیت نہیں رکھتا فامتنع القصاسو تو قصاص رک گیا لعدم المساوات مساوات نہ پائے جانے کی وجہ سے تو ان کے نزدیک وہ کرامات انسانیہ کا اعتبار ہے ہمارے نزدیک وہ زائد چیزیں ہیں ہمارے اصلی کے اندر برابری کا اعتبار ہے اور وہ برابر ہیں۔ وصح امان المازونی اور صحیح ہے عبد مازون کا امان دینا۔ بھئی یہ غلام ہے وہ اجازت لے کر آقا سے جہاد کے اندر گیا اور وہاں جا کر آپ جانتے ہیں کہ مومن غازی کسی کو امان دے دے تو سب مسلمانوں کی طرف سے اس کو امان حاصل ہو جاتی ہے۔ تو یہ غلام اگر کسی کو امان دے دے یہ جو عبد مازون ہے تو کیا اس کا امان دینا صحیح ہے اس کو امان مل جائے گی یا نہیں کہتے ہیں ہاں بھئی اس کا امان دینا بھی صحیح ہے۔ وصح امان المازونی اور مازون عبد مازون کا امان دینا صحیح ہے عطف علی قولہ یقتل اس کا عطف ہے پیچھے جو متن میں آیا تھا یقتل الحر ولہذا پیچھے آرہا تھا جو اسی یقتل سے متعلق تھا تو یہاں بھی اسی طرح ہو جائے گا ولہذا صح امان المازونی اور اسی وجہ سے کہ غلام جو ہے دونوں عصمتوں کا مالک ہے اسی وجہ سے اس کا امان دینا بھی صحیح ہے۔ ای ولی اجل کون العبد مثل الحر فی العصمت اس وجہ سے کہ غلام جو ہے وہ آزاد کی طرح ہی ہے عصمت کے اندر صح امان المازونی بالقتالی تو صحیح ہے امان دینا کس کا امان دینا؟ المازونی بالقتال جس کو اجازت دی گئی ہے قتال کی جہاد کی الی المازونی فی تجارتہ نہ کہ وہ جس کو اجازت دی گئی ہے تجارت کی وہ مراد نہیں ہے مازون مازون بالقتال مراد ہے تو صحیح ہے اس مازون بالقتال کی امان للکفاری کس کو امان دینا؟ کفار کو یہ للکفار کا تعلق امان سے ہے امان دینا اس مازون بالقتال کا کفار کو لانہ لما اذنہ المولٰی بالقتالی اس لیے کیونکہ جب اس کو اجازت دے دی آقا نے جہاد کی صار شریکا فی الغنیمت تو وہ بھی غنیمت میں شریک بن گیا کیا بن گیا؟ غنیمت میں وہ بھی شریک بن گیا فالامان تصرف فی حق نفسہ قصدا ثم یکون فی حق غیرہ ضمنا تو یہ جو امان دینا ہے یاد رکھیے جب امان دے گا تو غلام کا خون مال محفوظ ہو گئے بھئی۔ خون مال جو امان جو جو دیا وہ چیز محفوظ ہو گئی بھئی۔ بھئی اب دیکھا جائے تو یہ کافر کو ہی پکڑ کر ہم اس کو غلام بناتے اگر یہ پکڑا جاتا کیا بنتا؟ غلام بنتا یا نہ بنتا اور اور اس غلام کے اندر سارے غازیوں کا حصہ۔ ابھی تو تقسیم نہیں ہوئی نا تقسیم سے پہلے تو ہر چیز کے اندر سب کا حصہ۔ تو جب یہ امان دے گا تو سب کا حصہ جائے گا یا نہیں بھئی؟ جائے گا جی سب کا حصہ بھی جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ اس کا اپنا حصہ بھی تو یہاں پر امان دینا صحیح ہے اس لیے یوں کہا جائے گا کہ یہ بالقصد اپنے حصے میں تصرف کر رہا ہے اپنے حصے کو چھوڑ رہا ہے اور ضمنا دوسروں کا حصہ بھی چھوڑ گیا رہ گیا لیکن اس کا حصہ چھوٹا قصدا اور باقیوں کا حصہ چھوٹا ضمنا اس لیے اس کا امان دینا صحیح ہے یہ معنی ہے فالامان تصرف فی حق نفسہ قصدا تو یہ امان جو ہے یہ تصرف ہے اس کے اپنے حق کے اندر بالارادہ ثم یکون فی حق غیرہ ضمنا پھر یہ امان جو ہے غیر کے حق میں ضمنا ہوگا غیر کے حق میں تصرف ضمنا ہوگا۔ و انما قید بالمازونی اور ماتن نے جو ہے متن میں بالمازون کی قید لگائی لانہ فی امان المحجور خلافان اس لیے کیونکہ عبد محجور کے امان دینے میں اختلاف ہے عبد محجور جو عام غلام ہے جس پر پابندی ہے اس کے امان دینے میں اختلاف ہے فعند ابی حنیفہ رحمہ اللہ لا یصح امام صاحب کے نزدیک صحیح نہیں اس کا عبد محجور کا امان کیونکہ اس کو کوئی حق نہیں ہے جہاد کے اندر حتی یکون مسقطا حق نفسہ اسی کیونکہ اس کے لیے اس کو کوئی حق نہیں ہے جہاد کے اندر حتی یکون مسقطا حق نفسہ یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کے حق کو ساقط کرنے والا ہو جائے ہو بھئی اس کو جہاد میں حق ہی نہیں ہے جب حق ہی نہیں ہے تو یہاں پر اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنے حق کو ساقط کرنے والا ہے عبد مازون بالقتال اس کا تو حق تھا وہ تو غنیمت میں شریک تھا لہذا وہاں پر ہم نے کیا کہا تھا کہ وہ اصلا کس کو ساقط کر رہا ہے اپنے حق کو اور ضمنا کیا کر رہا ہے دوسروں کے حق کو ساقط کر رہا ہے لیکن عبد محجور کے اندر ہے ہی نہیں ایسا تو وہاں پر یہ کہا ہی نہیں جا سکتا کہ یہ اصلا اپنے حق کو ساقط کر رہا ہے کیونکہ اسن اس کا اپنا حق ہے ہی نہیں کس چیز کو ساقط کر رہا ہے بھئی صورت سمجھ میں آگئی تو جب اس کا اپنا حق ہے ہی نہیں تو دوسروں کا کیسے ضمنا ساقط کرے لانہ لا حق لہ فی جہاد حتی یکون مسقطا حق نفسہ اسی کیونکہ اس کا کوئی حق نہیں ہے جہاد کے اندر یہاں تک کہ وہ ساقط کرنے والا ہو اپنے نفس کے حق کو و عند محمد و شافعی رحمہما اللہ تعالی یصح امانہ اور امام محمد اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کا امان دینا صحیح ہے اس عبد محجور کا لانہ مسلم من اھل نصرت الدینی اس لیے کیونکہ وہ مسلمان ہے دین کی مدد کرنے والوں میں سے ہے ولعلہ فیہ یكون مصلحتہ للمسلمین اور شاید اس کے اس امان کے اندر مسلمانوں کی مصلحت ہو بہتری ہو۔ واقرارہ بالحدود والقصاص واقرارہ اس کا عطف امان پر ہے و صح اقرارہ بالحدود والقصاص اور صحیح ہے غلام کا اققرار کر لینا حدود اور قصاص کا ای صح اقرار العبد المازونی بما یوجب الحدود والقضاص صحیح ہے عبد مازون کا اقرار کر لینا اس چیز کا جو ثابت کرے حدود اور قصاص کو وان کان یشرک فیہ المحجور ایضا اگرچہ اس کے اندر محجور بھی شریک ہے اگرچہ اس کے اندر بھئی ہا ضمیر راجع ہے نا مازون کو صح امان المازونی و صح اقرارہ ای اقرار المازونی تو مازون کا ذکر ہے کہتے ہیں و ان کان یشرک فیہ المحجور ایضا اگرچہ اس کے اندر عبد محجور بھی شریک ہے وہ بھی کیا کر سکتا ہے اپنے حدود اور قصاص کا اقرار کر سکتا ہے تو اس پر وہ پھر وہ سزا لاگو ہوگی لانہ اقرارہ یصیر ملاقیان حق نفسہ اس لیے کیونکہ اس کا اققرار جو ہے وہ ہو گیا ملاقات کرنے والا اپنے نفس کے حق سے الذی ھو الدم وہ جو کہ خون ہے بھئی یہ جو حدود اور قصاص کا اقرار کر رہا ہے عبدِ ماذون کا امان دینا تو صحیح، عبدِ محجور کے امان دینے میں اختلاف ہے۔ لیکن عبدِ ماذون اور عبدِ محجور دونوں اقرار، دونوں کا صحیح ہے حدود اور قصاص کے اندر۔ اس لیے کیونکہ یہاں پر دونوں اپنے نفس کے حق میں تصرف کر رہے ہیں اور وہ کیا ہے ان کا؟ خون۔ یہ اپنے خون کے مالک ہیں آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں۔ جب اپنے خون کے مالک ہیں تو یہ حدود اور قصاص کا اقرار کر سکتے ہیں۔ یہ معنی ہے لأن إقراره يصير ملاقيا حق نفسه الذي هو الدم۔ اس لیے کیونکہ اس کا اقرار جو ہے وہ ہو گیا ملاقات کرنے والا اپنے ہی نفس کے حق سے جو کہ خون ہے۔ وإن كان إتلاف مالية المولى بطريق الضمني، اگرچہ یہاں پر مولیٰ کی مالیت جو اس کو تلف کرنا بھی ہے، لیکن یہ بطریق ضمنی، کس طریقے پر ہے؟ ضمنی۔ اصلاً یہ کس میں تصرف کر رہا ہے؟ اپنے نفس میں، اپنی جان کے اندر اقرار کر رہا ہے۔ اگرچہ، یرحمک اللہ، اگرچہ یہ اس کی وجہ سے غلام کو قتل کیا جائے گا، تو آقا کا بھی مال چلا گیا یا نہیں چلا گیا؟ کہتے ہیں آقا کے مال کے اندر بھی اتلاف لازم آیا، لیکن یہ ضمناً آیا۔ کیا آیا؟ ضمناً آیا بھئی۔ یہ معنی ہے وإن كان إتلاف مالية المولى بطريق الضمني۔ اگرچہ یہ جو اقرار ہے، یہ تلف کرنا ہے مولیٰ، آقا کی مالیت کو بطريق ضمني، کس طریقے پر؟ ضمنی طریقے پر۔ وبالسرقة المستهلكة أو القائمة، وبالسرقة المستهلكة أو القائمة، یاد رکھیے یہ متن ہے بھئی۔ غلام کا اقرار کرنا حدود اور قصاص کا وبالسرقة، سرقہ بمعنی مسروقہ کے، مسروق کے ہے بھئی۔ اس میں مفعول کے معنی میں ہے مصدر بھئی۔ تو مراد کیا ہے؟ مسروق۔ کیا معنی؟ المسروق المستهلک، وہ مسروق، وہ چوری شدہ مال المستهلک جسے کیا کر دیا گیا؟ ہلاک کر دیا۔ آپ نے پڑھا ہے کہ چور چوری کرے اور پھر پتہ لگ جائے، پکڑا گیا، ثابت ہو گیا، اگر وہ مال ہلاک کر چکا ہے، اگر وہ مال ہلاک کر چکا ہے تو اس پر ضمان نہیں، کیونکہ یہ ہاتھ کا کاٹنا کا، پوری سزا ہے۔ چوری اور مال ضائع کرنے، دونوں کی پوری سزا ہے۔ اور اگر وہ مال اس کے پاس موجود ہوا تو وہ مال آقا، مالک کو واپس کر دیا جائے گا، آپ پڑھ چکے ہیں بھئی۔ لہٰذا اگر مال کو ہلاک کر چکا ہے تو پھر اس پر ضمان نہیں آئے گا، بلکہ صرف ہاتھ کاٹا جائے گا۔ کیونکہ ضمان اور ہاتھ کا کاٹنا، دونوں جمع نہیں ہوتے، دونوں میں سے ایک چیز آ سکتی ہے، دونوں اکٹھے جمع نہیں ہو سکتے۔ جی، تو یہاں بتلا رہے ہیں کہ غلام کا اقرار کرنا حدود اور قصاص کا، اور اسی طرح وہ مال المستهلكة جس کو ہلاک کیا جا چکا ہے، یعنی جسے اس نے ہلاک کر دیا ہے أو القائمة یا وہ مال قائم ہے، یعنی موجود ہے۔ دونوں کا اقرار کرنا صحیح ہے۔ یہ ہلاک شدہ مال کا بھی اقرار کر سکتا ہے کہ میں نے ہلاک کر دیا، میں نے چوری کی تھی۔ یا موجود مال ہے، اس کا بھی اقرار کر سکتا ہے کہ میں نے چوری کیا اور یہ والا مال ہے۔ فیجب القطع فی المستهلکة، پس ہاتھ کا کاٹنا واجب ہوگا کس کے اندر؟ مستہلکہ، وہ جو مال ہلاک کر چکا ہے، اس میں ہاتھ کا کاٹنا واجب ہوگا ولا ضمان عليه اور اس پر ضمان نہیں ہوگا، لأنه لا يجتمع مع القطع۔ 'لا' ہے آپ کی کتابوں میں؟ 'لا' ہونا چاہیے بھئی۔ لأنه لا يجتمع مع القطع، اس لیے کیونکہ ضمان یہ جمع نہیں ہوتا مع القطع، ہاتھ کے کاٹنے کے ساتھ۔ ویرد المال فی القائمة إلى المسروق منه، اور مال جو ہے رد کیا جائے گا، مال لوٹایا جائے گا فی القائمة، اس وہ جو موجود ہو، وہ مال جو سرقہ قائمہ کے اندر، اس مال کو کیا کیا جائے گا؟ وہ مال جو موجود ہے اس کو لوٹایا جائے گا إلى المسروق منه، وہ شخص جس سے مال چرایا گیا تھا، ویقطع اور ہاتھ بھی کاٹا جائے۔ ہاتھ، مال کا ضمان نہیں آیا، وہی مال اٹھا کر کس کو دے دیا؟ موجود تھا نا، وہی مال آقا کو دے دیا اور ادھر اس کا ہاتھ بھی کاٹا گیا چوری کی وجہ سے۔ وهذا كله في المأذون، اور یہ سارا کس کے اندر ہے؟ عبدِ ماذون میں ہے۔ وفي المحجور خلاف، اور عبدِ محجور کے اندر اختلاف ہے۔ أي إن أقر العبد المحجور بالسرقة، اگر اقرار کر لیا عبدِ محجور نے چوری کا، فإن كان المال هالكا قطع ولا ضمان، اگر اس کا مال ہلاک ہونے والا ہے، یعنی ہلاک ہو چکا ہے، قطع، تو اس کے ہاتھ کاٹا جائے گا ولا ضمان، اور اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ وإن كان قائما، اور اگر اس کا مال جو ہے قائم ہے، یعنی موجود ہے، توجہ سے سننا بھئی، اگر اس کا مال ہلاک ہو چکا ہے تو وہ تو ماذون پر بھی ضمان نہیں آتا، تو اس پر بھی ضمان نہیں۔ ہاں، اگر مال موجود ہے، فإن صدقه المولى، اگر آقا نے اس کی تصدیق کی کہ واقعی یہ، یہ مال یہ چرا کر لایا ہے، قطع ويرد، تو اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور وہ مال بھی مالک کو لوٹایا جائے گا۔ وإن كذبه المولى، اور اگر آقا نے اس کو جھٹلا دیا، آقا کہتا ہے یہ اس کا، یہ چرایا ہوا مال کہاں سے، یہ تو میرا اپنا مال ہے، تو آقا نے اس کو جھٹلا دیا، ففيه اختلاف، تو اس کے اندر اختلاف ہے۔ فعند أبي حنيفة رحمه الله يقطع ويرد، امام صاحب فرماتے ہیں ہاتھ کاٹا جائے گا اور وہ مال لوٹایا جائے گا۔ کون سی صورت ہے؟ آقا جھٹلا رہا ہے کہ یہ مال میرا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہاتھ کاٹا جائے گا اور وہ مال جو ہے واپس کیا جائے گا۔ وعند أبي يوسف رحمه الله يقطع ولا يرد، وہ فرماتے ہیں ہاتھ کاٹا جائے گا، سامان نہیں لوٹایا جائے گا۔ کیونکہ آقا کیا کہہ رہا ہے؟ نیز اس لیے بھی کہ مال کے بارے میں تو غلام کا اقرار صحیح نہیں ہے، کیونکہ غلام کے پاس جو کچھ ہوتا ہے دراصل کس کا ہوتا ہے؟ آقا کا۔ تو غلام کا اقرار کرنا کہ یہ چوری والا مال یہ ہے، یہ گویا آقا کے مال کے بارے میں اقرار کر رہا ہے اور انسان اپنے مال کے بارے میں اقرار وغیرہ تو کر سکتا ہے، غیر کے مال کے بارے میں تو اقرار، لہٰذا اس کا اقرار معتبر ہی نہیں ہے اس مال کے سلسلے میں۔ ہاں، اپنی اس ذات کے بارے میں معتبر ہے، یعنی اگر یہ کسی وقت زندگی میں آزاد ہو گیا، تو یہ اقرار کر چکا تھا، اب وہ مال اس پر لازم ہے، اس کو دینا پڑے گا۔ یہ معنی ہے ولكن يضمن مثله، لیکن وہ ضامن ہوگا اس جیسے مال کے، اس کے مثل کے بعد الإعتاق، آزاد کر دیے جانے کے بعد۔ وعند محمد رحمه الله، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں لا يقطع ولا يرد، نہ تو ہاتھ کاٹا جائے گا اور نہ واپس کیا جائے گا، بل يضمن المال بعد الإعتاق، بلکہ وہ ضامن ہوگا مال کا بعد الإعتاق، آزاد کیے جانے کے بعد۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا اور مال بھی نہیں لوٹایا جائے گا۔ مال تو اس لیے نہیں لوٹایا جائے گا، ابھی دلیل گزر گئی، وہی دلیل بھئی کہ یہ مال جو کچھ ہوتا ہے وہ کس کا ہے؟ آقا کا، تو یہ غیر کے مال کے بارے میں گویا اقرار کر رہا ہے اور غیر کے مال کے بارے میں تو یہ اقرار کسی کا معتبر نہیں۔ اور نیز ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ کیوں نہیں ہاتھ کاٹا جائے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ چوری تو کسے کہتے ہیں؟ غیر کا مال لے کے جانا نا۔ مال کدھر ہے؟ مال تو ہے ہی۔ وہ جو مال ہے وہ ہم نے کیا کہا؟ وہ تو آقا کا ہے۔ جب آقا کا ہے تو چوری تو بغیر مال کے پائی جائے گی کوئی گویا، اور بغیر مال کے تو چوری ہوتی نہیں، لہٰذا ہاتھ بھی نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں، یہ مال اس پر ضمان آئے گا اور کب آئے گا؟ دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ہاں، تفصیل باقی فقہ کی کتابوں میں مختصراً یہاں ذکر ہو گئی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو چوری کے لیے کیا چاہیے؟ مال چاہیے اور یہ مال تو کس کا شمار کیا آپ نے؟ آقا کا، تو بغیر مال کے چوری کیسے پائی گئی؟ اس میں گویا چوری نہیں پائی گئی، جب چوری نہیں پائی گئی تو ہاتھ بھی نہیں کٹے گا۔ ودلائل الكل في كتب الفقه، اور سب کے دلائل کتبِ فقہ میں ہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔