درس نمبر۔133 ولما فرغ عن بيان متعلقات الأحكام شرع في بيان أهلية المحكوم عليه وهو المكلف. ولما كان من المعلوم أن أهليته لا تكون بدون العقل، فلذا بدأ بذكر العقل فقال: "فصل في بيان الأهلية". والعقل معتبر لإثبات الأهلية إذ لا يفهم الخطاب بدونه، وخطاب من لا يفهم قبيح. وقد مر تفسيره في السنة. وإنه خلق متفاوتاً. ولما فرغ عن بيان متعلقات الأحكام، اور جب مصنف رحمہ اللہ متعلقات احکام کے بیان سے فارغ ہوئے، احکام کا بیان بھی ہوا، احکام سے متعلق جو چیزیں ہیں یعنی شرط، سبب، علت اور علامت، تو ان کا بیان ہوا۔ اب شرع في بيان أهلية المحكوم عليه، تو شروع ہوئے محکوم علیہ کی اہلیت کے بیان میں۔ محکوم علیہ، جس کو حکم دیا گیا بھئی، جس کو حکم دیا گیا۔ اس کی اہلیت کے بیان میں شروع ہوئے کہ کب محکوم علیہ اہل ہوگا احکام شرعیہ کا۔ تو محکوم علیہ کی اہلیت کے بیان میں شروع ہوئے۔ بھئی محکوم علیہ کون؟ کہتے ہیں: وهو المكلف، وہ مکلف ہے بھئی۔ ولما كان من المعلوم اور جب یہ بات معلوم تھی کہ أن أهليته لا تكون بدون العقل کہ مکلف جو ہے، یہ محکوم علیہ جو ہے اس کی اہلیت بغیر عقل کے نہیں ہو سکتی، فلذا بدأ بذكر العقل پس اسی وجہ سے عقل کے ذکر سے ابتداء کی۔ فقال پس فرمایا: "فصل في بيان الأهلية" یہ فصل ہے اہلیت کے بیان میں۔ یعنی هذا فصل في، یہ فصل ہے اہلیت کے بیان میں۔ والعقل، واؤ ہے اپ کی کتابوں میں بھئی؟ ہاں، واؤ نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ یہ فصل شروع ہو رہی ہے، تو یہاں واؤ نہیں۔ تو العقل معتبر لإثبات الأهلية، عقل جو ہے وہ معتبر ہے اہلیت کے ثابت کرنے کے لیے۔ آسان آسان ہے بھئی، نفسِ ترجمہ ہے آج، بس توجہ سے سنیے بھئی۔ عقل جو ہے معتبر ہے اہلیت کے اثبات کے لیے۔ اہلیت کے اثبات کے لیے کیا ضروری؟ عقل ضروری ہے۔ إذ لا يفهم الخطاب بدونه، اس لیے کیونکہ خطاب کو نہیں سمجھا جا سکتا بغیر عقل کے۔ خطاب وہ کلام جو غیر کی طرف متوجہ ہو کر کیا جائے۔ اس وقت میں آپ سے، اس سامنے یہ تقریر کر رہا ہوں، آپ کی طرف متوجہ ہو کر، یہ کیا ہے؟ خطاب۔ تو خطاب وہ کلام جو دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر کیا جائے، اور یہاں خطاب سے کیا مراد ہے؟ جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے خطاب ہے، احکام وغیرہ ہیں، وہ بھئی۔ إذ لا يفهم الخطاب بدونه، اس لیے کیونکہ خطاب کو سمجھا نہیں جا سکتا عقل کے بغیر۔ وخطاب من لا يفهم قبيح، اور خطاب کرنا اس شخص کو جو سمجھتا نہ ہو قبیح، یہ کیا ہے؟ قبیح۔ معلوم ہوا عقل ضروری ہے۔ عقل ضروری ہے، تبھی خطاب درست ہوگا اور پھر خطاب کو سمجھا جا سکے گا۔ وقد مر تفسيره في السنة، اور تحقیق اس کی تفسیر سنت میں گزر چکی۔ سنت کے اندر آپ نے پڑھا تھا عقل کسے کہتے ہیں؟ وہ ایک نور ہے انسانی بدن میں جو اللہ نے رکھا ہے، جس کے ذریعے وہ کیا کرتا ہے؟ چیزوں کا ادراک کرتا ہے بھئی۔ اور یہ وقد مر تفسيره في السنة، یہ آپ کی کتاب میں اس پر لکیر لگی ہے بھئی؟ جی۔ ہاں، یہ متن نہیں ہے بھئی، یہ غلط لکیر لگائی۔ وإنه خلق متفاوتاً، یہ متن ہے۔ یہ متن ہے، اور وقد مر تفسيره في السنة، یہ شرح کا حصہ ہے، یہ متن نہیں ہے بھئی۔ وإنه خلق متفاوتاً، اور یہ جو عقل ہے جس کو پیدا کیا گیا ہے مختلف طور پر، یعنی لوگوں کی عقلیں مختلف ہوتی ہیں، کسی کی عقل کم ہوتی ہے، کسی کی زیادہ۔ فالأكثر منهم عقلاً، پس ان میں سے جو زیادہ ہے باعتبار عقل کے، لوگوں میں جو زیادہ عقل والا ہے، الأنبياء والأولیاء، پہلے درجے پر، پہلے درجے پر کون ہیں؟ انبیاء، اولیاء ہیں۔ ثم العلماء والحكماء، پھر اس کے بعد علماء اور حکماء، دانا لوگ جو ہیں۔ ثم العوام والأمراء، پھر اس کے بعد عوام اور یہ حکام جو ہیں۔ ثم الرساتيق والنساء، پھر اس کے بعد دیہاتی اور عورتیں جو ہیں، درجہ بدرجہ عقل بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ رساتیق جمع ہے رستاق کی، رستاق دیہات کو کہتے ہیں اور اسی طرح دیہاتی کو بھی۔ تو پہلا درجہ کس کا؟ انبیاء، اولیاء کا، دوسرا علماء، حکماء کا، تیسرا عوام اور حکام کا، اور تیسرا دیہاتی اور عورتیں جو ہیں۔ وفي كل نوع منهم درجات متفاوتة، اور ان میں سے ہر نوع کے اندر مختلف درجے ہیں، فقد يوازي ألف منهم بواحد، پس تحقیق مقابل ہوتا ہے ان میں سے ایک ہزار، ان میں سے ایک ہزار وہ مقابل ہوتے ہیں بواحد، ایک کے ساتھ۔ کبھی کبھار کیا ہے؟ فقد يوازي، کبھی مقابل ہوتے ہیں ہزار ان میں سے کس کے مقابل؟ ایک کے۔ یعنی عقلوں میں اتنا فرق ہے، کبھی کبھار ایک ہزار کی عقل وہ ایک کے برابر ہوتی ہے، ایک کو اتنی زیادہ عقل ہوتی ہے بھئی۔ وكم من صغير يستخرج بعقله ما يعجز عنه الكبير، اور کتنے ہی چھوٹے ہیں جو استخراج کر لیتے ہیں عقل کے ذریعے، عقل کے ذریعے نکال لیتے ہیں، یعنی معلوم کر لیتے ہیں اپنی عقل کے ذریعے اس چیز کو جس کے، جس سے بڑے بھی عاجز آ جاتے ہیں۔ ولكن أقام الشرع البلوغ مقام اعتدال العقل، لیکن شریعت نے بالغ ہونے کو قائم مقام کر دیا اعتدال العقل، کس کی جگہ؟ عقل کے اعتدال، عقل کے متوازن ہونے کے قائم مقام کر دیا کہ جو بالغ ہو گیا، اس کی عقل کیا ہو گئی؟ متوازن ہو گئی، اعتدال پر پہنچ گئی۔ واختلفوا في اعتباره وعدمه، اور اختلاف کیا ہے اس عقل کے اعتبار کرنے میں اور اعتبار نہ کرنے میں، اختلاف کیا ہے علماء نے بھئی۔ تین مذاہب آگے ذکر ہوں گے، ایک احناف کا مذہب ہے، ایک اشاعرہ کا مذہب ہے، اور ایک معتزلہ کا مذہب ہے، کہ عقل کا اعتبار ہے یا عقل کا اعتبار نہیں، عقل کا اعتبار ہے یا سمع کا اعتبار ہے، یعنی سمعی دلیل یعنی شرعی دلیل؟ فقالت الأشعرية: پس اشاعرہ کہتے ہیں: لا عبرة للعقل دون السمع، کہ کوئی اعتبار نہیں عقل کا بغیر سمع کے، بغیر سمع کے کوئی سمعی دلیل یعنی کوئی شرعی دلیل چاہیے، صرف عقل کا اعتبار نہیں! وإذا جاء السمع فله العبرة دون العقل، اور جب کوئی سمعی دلیل آ جائے تو اس کا اعتبار ہے نہ کہ عقل کا۔ فلا يفهم حسن شيء وقبحه وإيجابه وتحريمه به، پس نہیں سمجھا جا سکتا کسی چیز کے حسن کو وقبحه اور کسی چیز کی قباحت کو، برا ہونے کو، وإيجابه اور کسی چیز کے واجب ہونے کو، وتحريمه اور کسی چیز کے حرام ہونے کو بہ، اس عقل کے ذریعے، عقل کے ذریعے ان چیزوں کا پتہ نہیں چل سکتا کہ کون سی چیز میں حسن ہے، اچھائی ہے، اس کو کرنا چاہیے، اور کون سی چیز میں برائی ہے، اس کو چھوڑنا چاہیے۔ عقل کے ذریعے یہ پتہ نہیں چلتا کہ کون سی چیز واجب ہے انسان پر، اور کون سی چیز انسان پر حرام ہے۔ ولا يصح إيمان صبي عاقل، اور صحیح نہیں ہے عقلمند بچے کا ایمان لعدم ورود الشرع به، بوجہ شریعت کے وارد نہ ہونے کے اس بارے میں۔ وهو قول الشافعي، اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا۔ واحتجوا بقوله تعالى: اور انہوں نے استدلال کیا اللہ کے اس قول سے، یہ جو اشاعرہ کہتے ہیں نا عقل کا کوئی اعتبار نہیں، اعتبار کس چیز کا ہے؟ سمعی دلیل کا ہے، کوئی شرعی دلیل پہنچے اس کا اعتبار ہے، عقل کا اعتبار نہیں، اس کے انہوں نے استدلال کیا اللہ کے اس قول سے: وما كنا معذبين حتى نبعث رسولاً، اور ہم نہیں ہیں عذاب دینے والے یہاں تک کہ ہم بھیجیں پیغمبر کو۔ اللہ فرماتے ہیں ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے جب تک ہم کسی پیغمبر کو نہ بھیج دیں، جب کسی قوم کو دعوت پہنچ جائے اور پھر اس کے بعد وہ انکار کرے، پھر ہم عذاب نازل کرتے ہیں، بغیر پیغمبر کے بھیجے، بغیر دعوت کے دیے ہم عذاب نازل نہیں کرتے بھئی، تو یہ ان کی دلیل ہے، معلوم ہوا اعتبار کس کا ہے؟ سمعی دلیل کا ہے یعنی دعوت کا ہے، صرف عقل کا اعتبار نہیں۔ اور یہ جو آیا نہ ولا يصح إيمان صبي عاقل، عقلمند بچے کا ایمان صحیح نہیں ہے بھئی۔ یاد رکھیے بچے کے ایمان کے بارے میں اب بچہ ہے، عقل رکھتا ہے، ذرا بڑا ہے، اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے، اخروی اعتبار سے بچے کا ایمان صحیح، اخروی اعتبار سے بچے کا ایمان صحیح، اس کو اجر ملے گا اس پر اور مومنین میں سے ہوگا، لیکن بات یہ جو چل رہی ہے یہاں پر بچے کا ایمان صحیح نہیں، اس سے مراد دنیاوی احکام ہیں۔ دنیاوی احکام بھی بچے کے ایمان کا اعتبار کیا جائے گا اور دنیاوی احکام اس پر لاگو ہوں گے یا لاگو نہیں ہوں گے، اس میں اختلاف ہے۔ تو اشاعرہ کے نزدیک بچے کا ایمان صحیح نہیں ہے بھئی، معلوم ہوا بالغ ہونے کے بعد پھر تجدیدِ ایمان اس پر ضروری ہے۔ اور بچے کا ایمان صحیح نہیں، معلوم ہوا شرعی احکام بھی لاگو نہیں ہوں گے۔ ایک بچہ ہے وہ ایمان لے آیا، آپ نے پڑھا ہے دین مختلف ہو تو وراثت جاری نہیں ہوتی، باپ کافر ہے، بیٹا مسلمان ہو تو وہ باپ کا وارث نہیں بنتا، اشاعرہ کہتے ہیں نہیں، یہ بچے کے ایمان کا اعتبار نہیں، یہ وارث بنے گا بھئی، یہ وارث، تو اس طرح کے جو احکام ہیں وہ مراد ہیں، تو اس اعتبار سے کہتے ہیں وہ دنیاوی اعتبار سے بچے کا ایمان صحیح نہیں۔ جبکہ ہمارے نزدیک بچے پر ایمان واجب تو نہیں، لیکن صحیح ہے اس کا ایمان بھئی، اس کا ایمان صحیح ہے۔ جبکہ معتزلہ کہتے ہیں بچہ جب سمجھدار ہو تو اس پر ایمان واجب ہے بھئی، وہ مکلف ہے بھئی، فرق سمجھ میں آیا تینوں مذاہب میں؟ وقال المعتزلة: اور معتزلہ نے کہا، یہ گمراہ فرقہ گزرا ہے بھئی، جو اپنی کثرتِ علم کی وجہ سے گمراہ ہو گیا تھا، یہ منطق اور فلسفے میں اتنے ماہر ہو گئے تھے کہ منطق اور فلسفے کو ان لوگوں نے اصل ٹھہرا لیا بھئی، اور جو بات منطق اور فلسفے کی ہوتی اس کو تو اٹل سمجھتے تھے، شریعت کی جو بات منطق اور فلسفے کے خلاف آتی، تو بجائے اس کے کہ منطق اور فلسفے کو غلط قرار دیتے اور اس میں کوئی تاویل کرتے، وہ منطق اور فلسفے کو اصل ٹھہراتے اور شریعت کی باتوں میں کیا کرتے تھے؟ تاویل کیا کرتے تھے بھئی، چنانچہ اسی وجہ سے وہ معراجِ جسمانی کے منکر ہیں، وہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں پر اپنے جسم مبارک کے ساتھ تشریف نہیں لے گئے تھے، جبکہ اہل سنت والجماعت کا مذہب کیا ہے کہ حضور علیہ السلام اپنے جسم مبارک کے ساتھ تشریف لے گئے تھے، وہ کہتے ہیں، معتزلہ کہتے ہیں کہ زمین کے گرد کرہٴ نار ہے بھئی، آگ کا ایک گولا ہے جس، ایک جس نے پوری زمین کو گھیرا ہوا ہے، تو اس میں سے کوئی بدن گزر ہی نہیں سکتا، وہ جل جائے گا، منطق اور فلسفے میں یہ بات تھی، اس کو تو انہوں نے اٹل سمجھا اور شریعت میں تاویل کر دی بھئی کہ روحانی، روحانی معراج تھی، جسمانی نہیں تھی بھئی۔ آج سائنس نے بتایا کہ کوئی کرہٴ نار نہیں ہے، خلا بس خلا میں جاتے بھی ہیں اور واپس بھی آتے ہیں بھئی۔ تو یہ لوگ منطق اور فلسفے کے بہت بڑے ماہر تھے اور اس کثرتِ علم کی وجہ سے یہ گمراہ ہوئے، معلوم ہوا کبھی کثرتِ علم بھی گمراہی کا باعث بنتا ہے بھئی۔ وقال المعتزلة: اور معتزلہ نے کہا کہ إنه علة موجبة، کہ یہ ایسی علت ہے جو واجب کرنے والی ہے لمستحسنه، اس چیز کو جس کو یہ اچھا سمجھے، جس چیز کو عقل اچھا سمجھے وہ انسان پر واجب ومحرمة لما استقبحه، اور یہ ایسی علت ہے جو حرام کرنے والی ہے اس چیز کو جس کو یہ قبیح سمجھے، جو چیز نا، جس کو عقل ناپسندیدہ کہے وہ ہے ہی ناپسندیدہ، وہ عقل پر، وہ انسان پر حرام، اور جس کو عقل اچھا سمجھے وہ ہے ہی اچھی، لہٰذا وہ انسان کے لیے واجب ہے، على القطع والثبات، قطعی اور یقینی طور پر، ثبات اور قطع کا ایک معنی ہے یہاں پر بھئی، یقینی طور پر، قطعی طور پر فوق العلل الشرعية، شرعی علتوں سے بڑھ کر، شرعی علتوں سے، معتزلہ کہتے ہیں یہ عقل جو ہے شرعی علتوں سے بڑھ کر علت ہے بھئی، کیونکہ شرعی علتیں وہ صرف کہتے ہیں علامتیں ہیں، دیکھیے خود بتلا رہے ہیں: لأن العلل الشرعية أمارات ليست موجبة لذاتها، اس لیے کیونکہ شرعی علتیں جو ہیں وہ تو محض علامتیں ہیں، ليست موجبة لذاتها، وہ اپنی ذات کے اعتبار سے کسی چیز کو واجب کرنے والی نہیں والعلل العقلية موجبة بنفسها، جبکہ عقلی علتیں جو ہیں وہ اپنی ذات کے اعتبار سے واجب کرنے والی ہیں وغير قابلة للنسخ، اور وہ نسخ والنص والتبديل، وہ نسخ اور تبدیل کے قابل نہیں، یعنی نسخ اور تبدیل کو یہ قبول نہیں کرتیں، جبکہ شرعی علتیں وہ تو نسخ کو بھی قبول کر لیتی ہیں، کبھی حکم ایک ہوتا ہے، اللہ کی طرف سے پھر اس کو بدل دیا جاتا ہے۔ فلم يثبتوا بدليل الشرع ما لا يدركه العقل، پس انہوں نے ثابت نہیں کیا دلیلِ شرعی کے ذریعے اس چیز کو جس کا ادراک عقل نہیں کر سکتی، جس چیز کا ادراک عقل نہیں کر سکتی شرعی دلیل کے ذریعے بھی انہوں نے اس کو ثابت نہیں کیا بھئی، جیسے ابھی میں نے ذکر کیا معراجِ جسمانی، شرعی دلیل موجود تھی، احادیث میں ذکر آیا، لیکن انہوں نے چونکہ عقل کے ذریعے اس کا ادراک نہیں ہو رہا تھا، تو اس کو انہوں نے ثابت نہیں کیا، یعنی اس کو تسلیم نہیں کیا۔ مثل رؤية الله تعالى، جیسے اللہ تعالیٰ کی رؤیت بھئی، یہ اللہ کی رؤیت کا انکار کرتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا؟ اللہ کا دیدار کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ روایات میں آتا ہے، جنت کے اندر انسان کو اتنی نعمتیں اللہ دیں گے، اتنی نعمتیں دیں گے، کسی آنکھ نے ان نعمتوں کو دیکھا نہیں، کسی کان نے ان کو سنا نہیں، کسی دل پر ان کا خیال بھی نہیں گزرا کسی دل پر بھئی، ایسی ایسی نعمتیں ہیں بھئی۔ اور جنتی ان نعمتوں میں مگن ہوں گے بھئی، وہ ان نعمتوں میں مگن ہوں گے، تو اچانک اللہ تعالیٰ تجلی فرمائیں گے اور اللہ کا دیدار ہوگا بھئی، اور وہ اس دیدار میں اتنی لذت ہوگی، اتنی لذت ہوگی کہ جنتی ساری نعمتوں کو بھول کر اس میں مگن ہو جائیں گے بھئی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے بھئی۔ تو کہتے ہیں یہ رؤیت باری تعالیٰ کے بھی منکر ہیں وعذاب القبر والميزان والصراط وعامة أحوال الآخرة، اور عذابِ قبر کے اور ترازو کے والصراط اور پل صراط کے وعامة أحوال الآخرة اور آخرت کے اکثر احوال کے یہ منکر ہیں وتمسكوا في ذلك، اور استدلال کرتے ہیں اس، دلیل پکڑتے ہیں یہ اس سلسلے میں بقصة إبراهيم عليه الصلاة والسلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے سے حيث قال لأبيه، حیثیت سے کہ انہوں نے اپنے والد سے فرمایا: إني أراك وقومك في ضلال مبين، کہ بے شک میں دیکھتا ہوں آپ کو اور آپ کی قوم کو في ضلال مبين، کھلی گمراہی میں وكان هذا القول بالعقل، اور وہ معتزلہ کہتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول عقل کے ذریعے تھا قبل الوحي، وحی سے پہلے ہی لأنه قال: "أراك"، اس لیے کیونکہ انہوں نے کیا فرمایا: أراك، میں دیکھتا ہوں، یعنی میں سمجھتا ہوں، میں، میں سمجھتا ہوں ولم يقل: "أوحي إلي"، انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔ معلوم ہوا عقل ہی اصل ہے۔ وقالوا: اور وہ معتزلہ کہتے ہیں: لا عذر لمن عقل، کوئی عذر نہیں ہے اس شخص کا لمن عقل جو عقل رکھتا ہے، کس چیز میں عذر نہیں ہے؟ في الوقف عن الطلب، وقف کے معنی توقف کے ہیں، توقف عن الطلب أي عن طلب الإيمان والحق، جو حق اور ایمان کی طلب سے جس نے توقف کیا یعنی رک گیا وترك الإيمان، اور ایمان کے چھوڑنے میں، اس کا کوئی عذر نہیں ہوگا، جس شخص نے ایمان کی، جو شخص ایمان کی طلب سے رک گیا، ایمان کی طلب ہی نہیں کی اس نے، حق کی طلب ہی نہیں کی اور ایمان کو چھوڑ دیا، تو اس ایمان کے چھوڑنے میں اور طلبِ حق سے رکنے میں ان کا کوئی عذر نہیں، قابلِ قبول نہیں ہوگا بھئی۔ کوئی عذر قابل قبول نہیں۔ جب اللہ نے عقل دی ہے، تو اس کو کیا چاہیے کیا تھا؟ کہ اللہ کی ان چیزوں میں غور و فکر کر کے خالقِ ارض و سما پر ایمان لے کر آتا۔ تو یہ جو حق سے رکا رہا اور ایمان کو چھوڑ دیا، اس کا کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: "وقالوا لا عذر لمن عقل" کوئی عذر نہیں ہے اس شخص کا جس جس جو عقل رکھتا ہے۔ کس چیز میں عذر نہیں ہے؟ "في الوقف عن الطلب" کہ طلبِ حق سے رکنے میں، "وترك الإيمان" اور ایمان کے چھوڑنے میں ان کا کوئی عذر نہیں، بھئی۔ "والصبي العاقل مكلف بالإيمان" اور وہ اور سمجھدار بچہ جو ہے، وہ مکلف ہے ایمان کا۔ سمجھدار بچہ ایمان کا مکلف، یعنی اس پر واجب ہے، "لأجل عقله" بوجہ اس کی عقل کے، "وإن لم يرد عليه السمع" اگرچہ اس پر سمع وارد نہ ہوئی ہو، یعنی اگرچہ اس کو دعوت اور دلیل نہ پہنچی ہو۔ "ومن لم تبلغه الدعوة" اور وہ شخص جس کو دعوت نہیں پہنچی۔ کیا معنی دعوت نہیں پہنچی؟ "بأن نشأ على شاهق الجبل" بایں طور کہ اس نے نشوونما پائی اونچے بلند و بالا پہاڑ پر، تو وہ "إذا لم يعتقد إيمانا ولا كفرا كان من أهل النار" جب اس نے اعتقاد نہ رکھا ایمان اور کفر کا، تو وہ کس میں سے ہوگا؟ جہنم والوں میں سے ہوگا۔ ایمان کا بھی اعتقاد نہیں رکھا اور کفر کا بھی اعتقاد نہیں رکھا، تو بھی وہ جہنم والوں میں سے ہے۔ "لوجوب الإيمان بمجرد العقل" بوجہ ایمان کے واجب ہونے کے محض عقل سے ہی۔ "وأما في الشرائع فمعذور" باقی شرائع کے اندر وہ معذور ہے، یعنی شرعی احکام میں معذور۔ ایمان تو اس پر واجب تھا ان چیزوں کو دیکھ کر، یہ یہ پہاڑ، یہ آبشار، یہ کہسار، یہ مرغزار، یہ چیزیں دیکھ کر اس کو ایمان لانا چاہیے تھا کہ یقیناً کوئی ایک ذات ہے جو ان چیزوں کو بنانے والی ہے، جو مجھے پیدا کرنے والی ہے۔ اگر وہ ایمان نہیں لاتا، تو وہ کس میں سے ہے؟ جہنمیوں میں سے ہے۔ ہاں، شرعی احکام، روزہ ہے، نماز، زکوۃ، حج وغیرہ، ان میں تو وہ معذور ہے، کیونکہ ان کا پتہ تو عقل سے نہیں چل سکتا۔ یہ معنی: "وأما في الشرائع فمعذور حتى تقوم عليه الحجة" ہاں، باقی شرعی احکام کے اندر وہ معذور ہے یہاں تک کہ اس پر دلیل قائم ہو جائے۔ دلیل آ جائے اس کے بعد کہ نماز واجب ہے، پھر اس... "وهذا مروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى وعن الشيخ أبي منصور رحمه الله تعالى أيضا" اور یہ مروی ہے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اور شیخ ابو منصور رحمہ اللہ سے بھی۔ "وحينئذ لا فرق بيننا وبين المعتزلة إلا في التخريج" اور اس وقت پھر فرق نہیں ہوگا ہمارے اور معتزلہ کے درمیان "إلا في التخريج" مگر تخریج میں۔ صرف تخریج میں فرق ہے، بھئی! مذہب ایک ہی ہے دونوں کا۔ تخریج میں کیا فرق ہے؟ کہتے ہیں: "وهو أن العقل موجب عندهم ومعرف عندنا" کہ عقل ان کے نزدیک واجب کرنے والی ہے، جبکہ ہمارے نزدیک عقل معرف ہے، پہچان کروانے والی ہے۔ واجب کرنے والی شریعت ہے ہمارے نزدیک، بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ "ولكن الصحيح" تو یہ تو ایک قول آیا امام صاحب کا۔ دوسرا قول جو صحیح ہے، وہ آگے متن میں آ رہا ہے۔ "ولكن الصحيح من قول الشيخ أبي منصور ومذهب أبي حنيفة رحمهما الله تعالى ما ذكره المصنف رحمه الله بقوله" لیکن صحیح جو ہے امام... شیخ ابو منصور اور کے قول میں سے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب میں سے وہ ہے جس کو ذکر کیا مصنف نے اپنے اس قول سے: "نحن نقول في الذي لم تبلغه الدعوة" ہم کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں جس کو دعوت نہیں پہنچی، ہم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ "إنه غير مكلف بمجرد العقل" کہ وہ مکلف نہیں ہے محض عقل سے ہی۔ صرف عقل کی وجہ سے وہ مکلف نہیں ہے۔ "فإذا لم يعتقد إيمانا ولا كفرا كان معذورا" پس جب اس نے نہ ایمان کا اعتقاد رکھا اور نہ کفر کا، "كان معذورا" تو پھر وہ شخص معذور ہے۔ "إذا لم يصادف" "یتمکن" ہے "یصادف" کے بعد؟ ہاں، "یصادف" کے بعد "مدۃ" کا لفظ ہونا چاہیے، بھئی، اور نور الانوار کے نسخوں میں یہ لفظ موجود ہے۔ "إذا لم يصادف مدة يتمكن فيها من التأمل والاستدلال" "صادف يصادف" کا معنی مقا... سامنا کرنا، بھئی۔ "صادف يصادف" کا کیا معنی؟ سامنا کرنا، ملاقات کرنا۔ تو ہمارے نزدیک وہ معذور ہے "إذا لم يصادف" جب اس نے سامنا نہیں کیا "مدة" اتنی مدت کا "يتمكن فيها" جس کے اندر وہ قادر ہو "من التأمل والاستدلال" غور و فکر کرنے پر اور استدلال کرنے پر، دلیل پکڑنے پر وہ قادر ہو، بھئی۔ بھئی، دیکھیے۔ ہمارے نزدیک محض عقل کی وجہ سے کوئی مکلف نہیں ہوگا۔ محض عقل کی وجہ سے۔ جبکہ اس نے ایمان کا بھی اعتقاد نہیں رکھا اور کفر کا بھی اعتقاد نہیں رکھا، تو وہ معذور ہے۔ مثلاً، ایک بچہ ہے، اس کی نشوونما پہاڑ کی چوٹی پر ہوئی۔ اور جب عاقل بالغ ہوا، کیا ہوا؟ عاقل بالغ ہوتے ہی اس کو وقت ہی نہیں ملا، مہلت ہی نہیں ملی، فوراً اس کا کیا ہو گیا؟ انتقال ہو گیا، تو ہمارے نزدیک یہ مکلف... یہ معذور ہے، بھئی۔ یہ معذور ہے۔ ہاں، اگر اس کو اتنا وقت مل گیا جس کے اندر وہ غور و فکر کر سکتا تھا اور اس بات کا پتہ چلا سکتا تھا کہ یقیناً اس زمین کو، اس کائنات کو اور مجھے بنانے والی اور پیدا کرنے والی کوئی ذات ہے، تو پھر اتنا وقت ملنے کے بعد پھر وہ اگر ایمان نہیں لایا، تو پھر اب وہ قابلِ مؤاخذہ ہے۔ تو پھر اس صورت میں وہ معذور نہیں ہے، بھئی۔ جب اتنی مدت مل گئی، تو اب وہ معذور نہیں۔ دوبارہ دیکھیے: "نحن نقول في الذي لم تبلغه الدعوة" ہم کہتے ہیں اس شخص کے بارے میں جس کو دعوت نہیں پہنچی کہ "إنه غير مكلف بمجرد العقل" کہ وہ محض عقل سے مکلف نہیں ہے۔ "فإذا لم يعتقد إيمانا ولا كفرا كان معذورا" پس جب اس نے اعتقاد نہیں رکھا ایمان کا اور نہ کفر کا، تو یہ معذور ہے۔ "إذ لم يصادف مدة يتمكن فيها من التأمل والاستدلال" جب اس نے سامنا نہیں کیا اتنی مدت کا جس میں وہ قادر ہو سکے غور و فکر پر بھی اور اس... دلیل پکڑنے پر بھی۔ "وإذا أعانه الله تعالى بالتجربة وأمهله لدرك العواقب" اور جب اللہ نے اس کی مدد کی تجربے سے اور مہلت دی اس کو "لدرك العواقب" انجامِ کار کے پالینے سے اس کو... اس کو مہلت دے دی کہ وہ انجامِ کار کا ادراک کر سکے، "لم يكن معذورا" تو وہ معذور نہیں ہے۔ "وإن لم تبلغه الدعوة" اگرچہ اس کو دعوت نہ پہنچی ہو۔ جب مدتِ تأمل مل گئی، اب یہ معذور نہیں! "لأن الإمهال وإدراك مدة التأمل بمنزلة الدعوة في تنبيه القلب عن نوم الغفلة بالنظرة في الآيات الظاهرة" اس لیے کیونکہ مہلت دینا اور مدتِ تأمل کو پا لینا، یہ دعوت کے درجے میں ہے "في تنبيه القلب عن نوم الغفلة" دل کو متنبہ کرنے میں غفلت کی نیند سے "بالنظرة في الآيات" نظر کرتے ہوئے آیاتِ ظاہرہ میں۔ آیاتِ ظاہرہ میں نظر کرتے ہوئے یہ دعوت کے درجے میں ہے، بھئی، کہ دل متنبہ ہو جائے کس چیز سے؟ خوابِ غفلت سے، بھئی۔ "وليس على حد الإمهال دليل يعتمد عليه" اور نہیں ہے مہلت دینے کی حد پر کوئی ایسی دلیل جس پر اعتماد کیا جائے۔ بھئی، کتنی مدت ہے؟ کس کا اعتبار ہوگا کہ اتنی مدت، اتنے دن یا اتنا وقت اس کو مل جائے، تو اب اس کا عذر قبول نہیں ہوگا؟ اس کی کوئی حد نہیں، کوئی اس پر دلیل نہیں جس پر کیا کیا جائے؟ اعتماد کیا جائے۔ یہ معنی ہے: "وليس على حد الإمهال دليل يعتمد عليه" اور نہیں ہے مہلت دینے کی حد پر کوئی ایسی دلیل جس پر اعتماد کیا جائے، "لأنه يختلف باختلاف الأشخاص" اس لیے کیونکہ یہ مدت کیا ہے؟ یہ حد مختلف ہوتی ہے لوگوں کے مختلف ہونے سے، "فرب عاقل يهتدي في زمان قليل" پس بہت سے عقل والے وہ راہ پا لیتے ہیں تھوڑے ہی زمانے میں "إلى ما لا يهتدي غيره" اس چیز کی طرف جس کی طرف ان کے علاوہ راہ نہیں پاتے۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ یہ عقل مختلف ہے، تو بہت سے تھوڑے ہی زمانے میں اس چیز تک پہنچ جاتے ہیں جس تک غیر نہیں پہنچتے۔ "فيفوض تقديره إلى الله تعالى" پس یہ سپرد... پس سپرد ہے اس کا اندازہ جو ہے "إلى الله تعالى" اللہ کے۔ اللہ ہی جانتے ہیں کس شخص کے لیے کتنی مدت کافی تھی، بھئی۔ "وقيل إنه مقدر بثلاثة أيام" اور کہا گیا ہے کہ یہ مقدر ہے تین دن کے ساتھ "اعتبارا بإمهال المرتد" کہ اعتبار کرتے ہوئے مرتد کو مہلت دینے سے، "وهو ضعيف" اور یہ ضعیف ہے۔ مرتد اگر مہلت مانگتا ہے، تو اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی، بھئی۔ آپ کو میں بتلا چکا ہوں کہ کوئی شخص مرتد ہو جائے، تو آپ نے پڑھا ہوگا تین دن تک اس کو مہلت دی جائے گی۔ یاد رکھیے، یہ مہلت دینا واجب نہیں ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ مہلت دینا واجب نہیں ہے اور فی الفور قاضی اس پر اسلام پیش کرے، قبول نہیں کرتا، اس کو فوراً گردن اڑا دی جائے، بھئی۔ ہاں، اگر وہ خود کہتا ہے مجھے مہلت دے دیں، تو تین دن تک مہلت دی جا سکتی ہے، وہ غور و فکر کر لے، اس کے شبہات وغیرہ دور کر دیے جائیں۔ اگر تین دن کے بعد بھی وہ اسلام کی طرف واپس نہیں آتا، تو پھر اس کی گردن اڑا دی جائے گی، بھئی۔ تو یہ بات سمجھ میں آئی، بھئی؟ بعضوں نے کہا کتنی مدت دی جائے... کتنی مدت کا معتبر ہے، مقرر ہے؟ تین دن، بھئی، تین دن۔ لیکن یہ ضعیف ہے قول، بھئی، کیونکہ بتلایا کہ عقل... لوگ مختلف ہیں، عقلیں مختلف ہیں، بعض کے لیے تھوڑی مدت بھی کافی اور بعض کے لیے اچھی خاصی مدت چاہیے۔ "وعند الأشعرية" اور اشعریہ کے نزدیک "إن غفل عن الاعتقاد حتى هلك" اگر وہ شخص غافل رہا اعتقاد سے... یعنی ایمان کے اعتقاد سے غافل رہا "حتى هلك" یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیا "أو اعتقد الشرك" یا اس نے شرک کا اعتقاد رکھا "ولم تبلغه الدعوة" اس حال میں کہ اس کو دعوت نہیں پہنچی تھی، "كان معذورا" تو یہ کیا ہے؟ معذور، بھئی۔ اشاعرہ کا مذہب ان میں... اس مسئلے میں سب سے نرم ہے، بھئی۔ کہتے ہیں چاہے شرک کا اعتقاد ہی کیوں نہ رکھا ہو، پھر بھی یہ شخص جب دعوت نہیں پہنچی، تو معذور ہے، کیونکہ ان کے نزدیک اصلِ اعتبار سمع کا ہے، عقل کا نہیں۔ "لأن المعتبَر عندهم هو السمع ولم يوجد" اس لیے کیونکہ ان کے نزدیک معتبر وہ سمع ہی ہے اور وہ نہیں پائی گئی۔ "ولهذا من قتل مثل هذا الشخص ضَمِنَ" اسی وجہ سے جس شخص نے قتل کر دیا اس جیسے آدمی کو، "ضمن" وہ ضامن ہوگا ان کے نزدیک، "لأن كفره معفو" کیونکہ اس کا کفر معاف ہے ان کے نزدیک، "وعندنا لم يضمن" اور ہمارے نزدیک وہ ضامن نہیں ہوگا قاتل، "وإن كان قتله حراما قبل الدعوة" اگرچہ اس کا قتل دعوت سے پہلے حرام تھا، لیکن پھر بھی اس قاتل پر ضمان نہیں آئے گا ہمارے نزدیک۔ "ولا يصح إيمان الصبي العاقل عندهم" اور صحیح نہیں ہے عقلمند بچے کا ایمان ان کے نزدیک۔ عقلمند بچے کا ایمان ان کے نزدیک صحیح نہیں، یعنی اس پر دنیاوی احکامات مرتب نہیں ہوں گے، بھئی۔ "وعندنا يصح" اور ہمارے نزدیک صحیح ہے "وإن لم يكن مكلفا به" اگرچہ بچہ اس کا مکلف تو نہیں ہے، واجب تو نہیں ہے، لیکن اس کا ایمان صحیح ہے۔ "لأن الوجوب بالخطاب وهو ساقط عنه" اس لیے کیونکہ وجوب تو خطاب کے ذریعے آئے گا "وهو ساقط عنه" اور خِ... وہ اس سے ساقط ہے، بھئی۔ "لقوله عليه الصلاة والسلام" حضور علیہ السلام کے اس قول کی وجہ سے: "رُفع القلم عن ثلاث" قلم کو اٹھا لیا گیا تین سے، یعنی تین ایسے افراد ہیں جن سے قلم کو اٹھا لیا گیا، ان کی خطاؤں کو نہیں لکھا جاتا، "عن الصبي حتى يحتلم" بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، "وعن المجنون حتى يفوق" اور مجنون سے یہاں تک کہ اسے افاقہ ہو جائے، وہ ٹھیک ہو جائے، "وعن النائم حتى يستيقظ" اور سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے۔ "ولما فرغ عن بيان العقل شرع في بيان الأهلية الموقوفة عليه" اور جب مصنف رحمہ اللہ عقل کے بیان سے فارغ ہوئے، تو شروع ہوئے اس اہلیت کے بیان میں جو عقل پر موقوف ہے۔ "فقال" پس فرمایا: "والأهلية نوعان" اہلیت جو ہے، دو قسم پر ہے۔ "النوع الأول أهلية وجوب" پہلی قسم کیا ہے؟ اہلیتِ وجوب ہے جس کی وجہ سے وجوب آئے گا۔ "وهي بناء على قيام الذمة" "وهي بناء" یعنی "هي مبنية على قيام الذمة" اور یہ مبنی ہے کس پر اہلیتِ وجوب؟ قیامِ ذمہ، ذمہ کے قائم ہونے پر مبنی ہے، یعنی ذمہ موجود ہوگا، تو اہلیتِ وجوب پائی جا رہی ہے، بھئی۔ ذمہ موجود ہوگا، تو اہلیت پائی جا رہی ہے، بھئی، اہلیتِ وجوب، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اہلیت بتلائیں گے دو قسم پر ہے: ایک اہلیتِ وجوب ہے، وجوب کی اہلیت کہ واجب ہو جائے اس پر، اور ایک ہے ادا کی اہلیت کہ اس پر ادا بھی ادا واجب ہو، بھئی۔ تو دونوں میں فرق ہے، یہ بیان کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: "وهي بناء على قيام الذمة" اور یہ اہلیتِ وجوب جو ہے، یہ مبنی ہے ذمہ کے قیام پر، یعنی ذمہ کے پائے جانے پر۔ "أي أهلية نفس الوجوب لا تثبت إلا بعد وجود ذمة صالحة للوجوب له وعليه" یعنی نفسِ وجوب کی اہلیت، وہ ثابت نہیں ہوگی مگر بعد جبکہ پایا جائے زِ... وہ ذمہ جو صلاحیت رکھتا ہو کس چیز کی؟ وجوب کی، "له وعليه" وجوب چاہے اس کے نفع کے لیے ہو یا اس کے نقصان کے لیے، اس کی وہ صلاحیت رکھتا ہو۔ "وهي عبارة عن العهد الذي عاهدنا ربنا يوم الميثاق" اور یہ عبارت ہے... ذمہ عبارت ہے اس عہد سے جس کا ہم نے عہد کیا تھا اپنے پروردگار سے "يوم الميثاق" کس دن؟ و... میثاق کے دن، عہد کے دن، بھئی، جو آپ پڑھ چکے ہوں گے تفسیر کے اندر کہ حضرت آدم علیہ السلام کو جب اللہ نے پیدا فرمایا، تو اللہ نے ان کی پشت سے قیامت تک ان کی آنے والی تمام ذریت کو، تمام اولاد کو نکالا اور ان سے پوچھا: "أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ" کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ ان سب نے جواب دیا: "بَلَىٰ" کیوں نہیں! آپ ہمارے پروردگار ہیں۔ وہ عہد جو ہے، تو یاد رکھیے، ذمہ جو ہے نا، ذمہ عربی زبان میں عہد کو کہتے ہیں۔ عہد اور وعدہ، عہد اور وعدہ۔ اور اس کو ذمہ اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ عہد کا توڑنا، وعدے کا توڑنا مذموم ہے۔ وعدے کا توڑنا مذموم ہے، تو اسی سے ذمہ... وہ دیکھو، مَز... ذمہ اسی سے بنا ہے، یہ ذَمٌّ سے بنا ہے، کس سے؟ ذَمٌّ سے کہ اس کے توڑنا مذموم ہے، بھئی، تو یہ ذَمٌّ سے بنا ہے یہ لفظ۔ تو کہتے ہیں: "وهي عبارة عن العهد الذي عاهدنا ربنا يوم الميثاق" یہ ذمہ جو ہے، یہ عبارت ہے اس وعدے سے جس کا ہم نے وعدہ کیا تھا اپنے رب سے "يوم الميثاق" معاہد... عہد والے دن۔ "بقوله" اب اللہ کے اس قول سے: "أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ" کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ "قَالُوا بَلَىٰ" انہوں نے کہا: کیوں نہیں! "شَهِدْنَا" ہم گواہ... ہم گواہی دیتے ہیں۔ ہم نے گواہی دی۔ "فلما أقررنا بربوبيته يوم الميثاق" پس جب ہم نے اقرار کر لیا اس کے رب ہونے کا یومِ میثاق میں، "فقد أقررنا بجميع شرائعه الصالحة لنا وعلينا" تو تحقیق ہم نے اقرار کر لیا اس کی ان ساری شریعتوں کا جو صلاحیت رکھتی ہیں "لنا وعلينا" ہمارے نفع یا ہمارے ضرر کے۔ "والآدمي يولد وله ذمة صالحة للوجوب له وعليه" اور آدمی جو ہے، "يولد" اس کو جنم دیا جاتا ہے "وله ذمة صالحة للوجوب له وعليه" اور اس کے لیے ایسا ذمہ ہوتا ہے جو صلاحیت رکھتا ہے وجوب کی، اس کے نفع کے لیے اور اس کے ضرر کے لیے۔ جب آدمی پیدا ہو جائے، تو اس کا ایسا ذمہ ہے جو صلاحیت رکھتا ہے نفع کا بھی اور... یعنی اس "له وعليه" کا کیا معنی میں نے بیان کیا تھا؟ اپنے حقوق لے اور دوسروں کے حقوق دے۔ کہ اس کے حقوق دوسروں پر آئیں اور دوسروں کے حقوق اس پر آئیں، بھئی۔ "بناء على ذلك العـ..." فی الماضی بناءً على ذلك الماضی کے عہد کے وما دام لم یولد اور جب تک کہ اسے جنم نہیں دیا گیا، کان جزءاً من الام وہ جز تھا اپنی ماں کا۔ یعتق بعتقہا وہ آزاد ہو جاتا تھا اپنی ماں کے آزاد ہونے کے ساتھ و یدخل فی البیع اور وہ داخل ہو جاتا تھا بیع کے اندر تبعاً لہا اس ماں کے تابع ہوتے ہوئے۔ ولم تکن ذمتہ صالحةً اور اس کا ذمہ صلاحیت نہیں رکھتا تھا جب تک وہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ ماں کے تابع تھا، ماں آزاد تو بچہ بھی آزاد، ماں کو بیچا گیا تو وہ حمل بھی ساتھ ہی تابع ہوا، بیع میں آ گیا۔ تو اس وقت تک اس کا ذمہ صلاحیت نہیں رکھتا تھا لان یجب علیہ الحق کہ اس پر کوئی حق واجب ہو، یعنی کسی دوسرے کا حق اس پر واجب ہو من نفقة الاقارب یعنی کہ رشتہ داروں کا نفقہ۔ بھئی ایک آدمی جب مالدار ہو اس کے رشتہ داروں کے پاس کچھ بھی نہ ہو تو ان کا نفقہ اس شخص پر، قریبی رشتہ داروں کا نفقہ اس پر واجب ہوتا ہے۔ اب یہ بچہ ہے مثلاً ماں کے پیٹ میں ہے، حمل ہے۔ لیکن اس کے لیے کسی نے وصیت کر دی، ماں باپ کے پاس تو کچھ نہیں، بچے کے لیے کسی نے کروڑوں کی جائداد کی وصیت کر دی حمل کے لیے، حمل کے لیے۔ اب کیا اس پر ان قریبی محتاج رشتہ داروں کا نفقہ اس پر واجب ہوگا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، ابھی وہ اس کا ایسا ذمہ ہے ہی نہیں کہ اس پر کیا کیا جائے؟ دوسروں کے حق کو واجب۔ ہاں، اس کے حق، اس کے نفع والے حقوق وہ تو ہو سکتے ہیں، اس کے ضرر والے حقوق اس پر کسی کے حقوق اس پر نہیں آ سکتے۔ یہ معنی ہے تو کہتے ہیں ولم تکن ذمتہ صالحةً لان یجب علیہ الحق اور اس کا ذمہ وہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ اس پر واجب کیا جائے حق کو من نفقة الاقارب قریبی رشتہ داروں کے، یعنی کہ قریبی رشتہ داروں کا نفقہ و ثمن المبیع الذی اشترٰہ الولی لہ اور اس مبیع کے ثمن جس کو خریدا ہے اس کے ولی نے اس کے لیے، اشترٰہ الولی لہ جو اس کے ولی نے اس کے لیے خریدا ہے وہ اس پر نہیں آ سکتے بھئی، کیونکہ یہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہے اور ضرر والے حقوق اس پر نہیں آ سکتے، یعنی دوسروں کے حقوق۔ وان کانت صالحةً لما یجب لہ اگرچہ یہ ذمہ صلاحیت رکھتا ہے ان چیزوں کی جو اس پر ان حقوق کی جو اس کے لیے واجب ہیں، یعنی جو اس کے حقوق ہیں ان کی صلاحیت رکھتا ہے من العتق یعنی کہ آزادی، یعنی کہ آزادی۔ آزادی پیٹ میں جو حمل ہے اس کے لیے آزادی ثابت۔ والارث، وراثت بھی بھئی۔ کسی باپ کا انتقال ہو جائے، بچہ بھی ماں کے پیٹ میں ہے تو بھی وہ کیا ہوگا؟ وارث بنے گا یاد رکھیے بھئی۔ والوصیة، اس کے لیے کوئی وصیت کر دے تو یہ اس کا حق ہے، یہ اس کا وصیت کو اس کو ملے گا وہ مال بھئی۔ والنسب، اور نسب بھی اسی طرح۔ واذا ولد کانت صالحةً لما یجب لہ وعلیہ اور جب اس کو جنم دے دیا جائے، یعنی جب یہ پیدا ہو جائے کانت صالحةً تو پھر اس کا ذمہ جو ہے وہ صلاحیت رکھتا ہے۔ کس چیز کی صلاحیت رکھتا ہے؟ لما یجب لہ ان حقوق کی جو اس کے لیے ہیں، اس کے لیے واجب ہیں وعلیہ اور جو اس پر واجب ہیں۔ غیر ان الوجوب غیر مقصود بنفسہ علاوہ اس کے کہ وجوب جو ہے وہ بنفسہ مقصود نہیں ہے۔ وجوب اپنی ذات کے اعتبار سے مقصود نہیں، وجوب کا مقصد کیا ہے؟ ادا۔ نماز کے وجوب کا مقصد کیا ہے؟ صرف وجوب مقصود ہے یا بندے سے اس کی ادا بھی مقصود ہے؟ ہاں، تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ وجوب خود اپنی ذات کے اعتبار سے مقصود نہیں ہوتا وانما المقصود اداؤہ مقصود اس کی ادا ہوتی ہے۔ فلما لم یتصور ذلک فی حق الصبی پس جب اس کا یعنی ادا کا تصور نہیں کیا جا سکتا بچے کے حق میں، بچہ چھوٹا سا ہے وہ کیسے ادا کرے گا؟ تو ادا کا تصور اس کے بارے میں نہیں کیا جا سکتا فجاز ان یبطل الوجوب تو جائز ہے کہ وجوب بھی باطل ہو جائے لعدم حکمہ بوجہ اس وجوب کے حکم نہ پائے جانے کے۔ ایک وجوب ہے، ایک وجوب کا حکم یعنی ادا، تو جب وہ ادا نہیں کر سکتا تو نفس وجوب بھی اس پر نہیں آئے گا بھئی، کیونکہ وجوب کا مقصد ہی کیا تھا؟ ادا۔ فما کان من حقوق العباد پس وہ جو بندوں کے حقوق ہیں، کون کون سے ہیں بندوں کے حقوق؟ کہتے ہیں من الغرم یعنی کہ ضمان بھئی۔ غرم کہتے ہیں تاوان، ضمان جو کسی پر آئے۔ کضمان المتلفات جیسے کہ تلف کی ہوئی چیزوں کا ضمان۔ بچے نے کیا کیا؟ کسی کی چیزیں تلف کر دیں تو ان کا ضمان جو ہے یہ غرم میں سے ہے، بندوں کے حقوق میں سے ہے۔ والعوض اور جیسے کہ عوض ہے کثمن المبیع جیسے کہ مبیع کے ثمن ہیں ونفقة الزوجات اور بیویوں کا نفقہ ہے۔ بچہ ہے، چھوٹا سا ہے، والدین نے نکاح کر دیا اس کا تو بیویوں کا نفقہ ہے والاقارب اور اسی طرح رشتہ داروں کا نفقہ ہے لزمہ وہ اس پر لازم ہوگا۔ چاہے چھوٹا ہے، بچہ ہے، اسے سمجھ نہیں، ادا تو نہیں کر سکتا، لیکن جو حقوق العباد میں سے جو ضمان وغیرہ ہیں اور عوض وغیرہ ہیں وہ چیزیں اس پر لازم ہوں گی۔ بھئی یہ تو ادا نہیں کر سکتا، کہتے ہیں ویکون اداء ولیہ کادائہ اس کے ولی کا ادا کرنا گویا اس کا ادا کرنا ہے، تو یہاں پر نیابت چل سکتی ہے بھئی، وہ نائب ہو کر اس کی طرف سے ادا کر دے کیونکہ یہاں پر ادا مقصود ہی نہیں ہے، یہاں پر مال مقصود ہے۔ یہاں پر وہ کسی چیز کی چیز بچے نے تلف کی ہے تو یہاں پر ادا نہیں مقصود، مقصود کیا ہے؟ اس کو کیا مل جائے؟ مال۔ تو بچے کی طرف سے اس کا ولی دے دے۔ بیویوں وغیرہ کے لیے نفقے کی ضرورت ہے تو یہاں یہاں بھی مقصود مال ہی ہے، ادا نہیں مقصود، بچہ ادا تو نہیں کر سکتا، لیکن مقصود یہاں کیا ہے؟ مال، لہٰذا اس کا ولی اس کی طرف سے نائب بن کر دے دے۔ وکان الوجوب غیر خال عن حکمہ اور یہ وجوب خالی نہیں ہے اپنے حکم سے، یہاں وجوب کے ساتھ ساتھ کیا آ گیا؟ ادا بھی آ گئی، اس کا حکم۔ وما کان عقوبةً او جزاءً لم یجب علیہ اور وہ چیز جو سزا ہے او جزاءً یا جزا ہے لم یجب علیہ یہ اس پر واجب نہیں ہوگی بھئی۔ ینبغی ان یراد بالعقوبة ہاہنا القصاص مناسب یہ ہے کہ سزا سے مراد یہاں پر قصاص ہو۔ وبالجزاء اور جزا سے مراد جزاء الفعل الصادر منہ اس فعل کی جزا جو اس بچے سے صادر ہوا ہے۔ بچے سے جو فعل صادر ہوا ہے اس کی جزا، وہ مراد ہے جزا سے بالضرب والایلام، جزا کس کے ساتھ دی جائے؟ ضرب کے ساتھ والایلام اور ایلام تکلیف دینا، یعنی کوئی سزا وغیرہ دینا۔ تو یہ اس پر واجب نہیں ہے۔ سزا یعنی قصاص وغیرہ او جزاء یا جزا جو ہے، یہ بچے پر واجب نہیں ہے کہ اس کو سزا دی جائے ضرب وغیرہ یا تکلیف کے ساتھ، سزا وغیرہ دون الحدود وحرمان میراث۔ شارح کہہ رہے ہیں کہ مناسب یہ ہے سزا پر یہاں سے مراد قصاص لیا جائے اور جزا سے کیا مراد لیا جائے؟ وہ جو ضرب اور ایلام کے ساتھ جزا دی جائے بچے کو اس فعل کی وجہ سے جو اس سے صادر ہوا، کہتے ہیں بھئی وہ اس پر واجب نہیں ہے، اس کو سزا نہیں دی جا سکتی کسی بات پر۔ کسی کا نقصان کیا تو اس کو جسمانی سزا نہیں، تو یہ بچے پر واجب نہیں ہے۔ تو یہاں عقوبت اور جزا سے ہم نے کیا مراد لیا؟ عقوبت سے کیا مراد لیا؟ قصاص۔ اور جزا سے کیا مراد لیے ہیں؟ وہ جو ضرب وغیرہ کے ساتھ جزا دی جائے، وہ مراد لیے جائیں دون الحدود وحرمان المیراث، حدود اور حرمان میراث مراد نہ ہوں۔ یہ سزا، حدود بھی تو سزاؤں میں سے ہیں، وراثت سے محروم ہونا اگر بچہ اپنے مورث کو کیا کر دے؟ قتل کر دے تو وراثت سے محروم ہوگا، تو یہ بھی تو اسی کے اندر آتا ہے۔ لیکن کہتے ہیں یہ ان کو مراد نہ لیا جائے، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ آگے حقوق اللہ کا ذکر آ رہا ہے، تو یہ چیزیں حقوق اللہ کے اندر داخل ہیں۔ یہ کس میں داخل ہیں؟ تو لہٰذا عقوبت اور جزا کے اندر اس حدود کو اور حرمان میراث وغیرہ کو داخل نہ کرو تاکہ یہ عقوبت اور جزا حقوق اللہ کے مقابل بن جائے۔ اگر اس میں داخل کرو گے پھر تو یہ حقوق اللہ کے مقابل نہیں بنے گا، وہ ان کے اندر داخل ہیں۔ دون الحدود وحرمان المیراث نہ کہ حدود اور حرمان میراث لیکون مقابلاً لحقوق اللہ تعالی خارجةً عنہا تاکہ حقوق اللہ کے مقابل ہو جائے، عقوبت اور جزا حقوق اللہ کے مقابل ہو جائے خارجةً عنہا اس سے خارج ہو۔ واما ضربہ عند اساءة الادب فمن باب التادیب لا من انواع الجزاء اور باقی جو اس کی پٹائی کی جاتی ہے عند اساءة الادب بے ادبی کے وقت بھئی، فمن باب التادیب یہ کس میں سے ہے؟ یہ تادیب کے باب میں سے ہے لا من انواع الجزاء، جزا کے انواع میں سے نہیں ہے بھئی، کیونکہ جزا اس پر واجب ہی نہیں ہے، اس کو سزا نہیں دی جا سکتی، یہ صرف کس لیے ہے؟ ادب سکھانے کے لیے ہے۔ وحقوق اللہ تعالی تجب متى صح القول بحکمہ اور حقوق اللہ جو ہیں وہ واجب ہوں گے بچے پر متى صح القول بحکمہ جب ان کے جب اس وجوب کے حکم کا قول صحیح ہو۔ متى صح القول جب صحیح ہو جائے، یعنی ثابت ہو جائے قول بحکمہ، کون سا قول؟ بحکمہ ای بحکم الوجوب، وجوب کا حکم کیا تھا؟ ادا۔ جب ادا کا قول صحیح ہو جائے، یعنی بچے پر ادا آ سکے، تب حقوق اللہ اس پر واجب ہوں گے بھئی۔ دوبارہ دیکھیے عبارت بھئی: وحقوق اللہ تعالی تجب متى صح القول بحکمہ اور اللہ کے جو حقوق ہیں وہ واجب ہوں گے بچے پر متى صح القول بحکمہ جب صحیح ہو جائے قول اس کے وجوب کے حکم کا، یعنی اس کے ادا کا قول صحیح ہو جائے، یعنی بچے پر ثابت ہو جائے کالشر والخراج جیسے کہ عشر اور خراج۔ بھئی وہی بات کر رہے ہیں، حقوق اللہ کے اندر بھی جن چیزوں کے اندر بچے پر ادا آ سکتی ہے تو وجوب بھی آئے گا، جن چیزوں میں بچے کی طرف سے ادا نہیں ہو سکتی تو بچے پر وجوب بھی نہیں آئے گا۔ ادا کس کے اندر صحیح ہو سکتی ہے؟ جن میں مال مقصود ہو، ادا مقصود نہ ہو، تو اس کا ولی نائب بن کر اس کی طرف سے ادا کر دے گا اور بعض جگہ ادا نفس ادا ہی مقصود ہوتی ہے اور بچے میں تو ادا کی اہلیت نہیں، تو جن کے اندر نفس ادا مقصود ہے، مال وغیرہ مقصود نہیں، تو وہ بچے پر وہاں پر وجوب بھی نہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ ایک ہے وجوب، ایک ہے ادا۔ حقوق اللہ کے اندر وجوب کہاں پر آئے گا؟ جہاں بچے کے بارے میں ادا کا قول صحیح ہو جائے، یعنی اس پر ادا بھی آ سکے۔ اور کس اعتبار سے ادا آ سکے؟ مال کے اعتبار سے کہ وہاں مال مقصود ہوتا ہے، ادا مقصود ہی نہیں ہوتی، تو اس کا ولی اس کی طرف سے نائب بن کر ادا کر دے گا اور بعض جگہ پر مقصود ہی ادا ہوتی ہے اور ادا تو بچے پر نہیں آ سکتی، جب ادا نہیں آ سکتی تو یہ والے حقوق اللہ بھی بچے پر واجب نہیں ہو سکتے۔ کالشر والخراج جیسے کہ عشر اور خراج، فانہما فی الاصل من المؤن۔ یہ لفظ مؤن ہے بھئی، میم پر فتحہ اور واؤ پر جزم ڈھلی ہوئی ہے بھئی؟ نہیں بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے، مون لفظ نہیں ہے، مؤن ہے مؤن، جمع ہے مؤنة کی یا معونة کی، یہ جمع ہے کس کی؟ مؤنة اور معونة کی، اور آپ پڑھ چکے ہیں چند سبق پہلے ہی کہ یہ خراج، یہ عشر، یہ صدقہ فطر، یہ مؤنت ہیں بھئی، یعنی مشقت ہیں، انسان پر بوجھ ہیں بھئی، انسان پر بوجھ ہیں بھئی، کیونکہ اس میں یہ جو خرچہ آیا، یہ جو عشر آیا، یہ جو خراج آیا، یہ جو صدقہ فطر آیا، یہ غیر کی وجہ سے آیا، کس کی وجہ سے؟ صدقہ فطر صرف اپنا نہیں دینا بلکہ تمام نابالغ اولاد کا بھی دینا ہے، اپنے غلاموں اور باندیوں کا بھی دینا ہے اور غیر کی وجہ سے جو مال دیا جاتا ہے وہ انسان پر بوجھ ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ جو عشر ہے، یہ زمین کی وجہ سے ہے، یہ زمین کی مشقت ہے، اس کا بوجھ ہے، اگر نہیں دے گا تو بادشاہ اس سے زمین لے لے گا۔ خراج بھی اسی طرح زمین کی مشقت ہے اور بوجھ ہے جو اس کو دینا پڑے گا، اگر ادا نہیں کرے گا تو بادشاہ اس سے زمین لے کر کسی اور کو دے دے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ البتہ عشر اور خراج میں ان میں مشقت والا پہلو اصل ہے اور صدقہ فطر میں عبادت والا پہلو اصل ہے بھئی۔ تو دیکھیے، کالشر والخراج جیسے کہ عشر اور خراج، فانہما فی الاصل من المؤن کیونکہ یہ اصل کے اندر مؤن، جمع ہے کس کی؟ مؤنة کی، یہ اصل میں مشقتوں میں سے ہیں، اصل میں یہ بوجھوں بوجھ میں سے ہیں، مشقتوں میں سے ہیں۔ ومعنى العبادة والعقوبة تابع فیہما اور عبادت اور سزا کا پہلو ان میں تابع ہے۔ عشر میں عبادت کا پہلو، خراج میں سزا کا پہلو، لیکن وہ تابع ہے اور مشقت کا جو ہے وہ اصل ہے۔ وانما المقصود منہما المال اور ان کے لیے مقصود تو مال ہی ہے، واداء ولی فی ذلک کادائہ اور ولی کا ادا کرنا اس میں گویا کہ بچے کا ادا کرنا ہے۔ وما بطل القول بحکمہ اور جب باطل ہو جائے قول اس وجوب کے حکم کا، یعنی اس کے ادا کا قول جب باطل ہو جائے، ادا بچے پر نہ آ سکے لا تجب تو بچے پر وجوب بھی نہیں آئے گا، وہ واجب بھی نہیں ہوں گے حقوق اللہ کالعبادات الخالصة والعقوبات جیسے کہ خالص عبادتیں ہیں اور سزائیں ہیں۔ فان المقصود من العبادات فعل الاداء اس لیے کیونکہ مقصود جو ہوتا ہے عبادتوں سے وہ ادا کا فعل ہوتا ہے ولا يتصور ذلک فی الصبی اور اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا بچے کے بارے میں، وہ ادا نہیں کر سکتا۔ والمقصود من العقوبات ہو المؤاخذة بالفصل اور سزاؤں کے لیے مقصود جو ہوتا ہے وہ مؤاخذہ ہوتا ہے فعل کے ساتھ۔ فعل کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ مؤاخذہ کیا جاتا ہے، مثلاً روزہ جان بوجھ کر توڑ دیا تو کیا کرنا پڑے گا؟ 60 روزے رکھنا پڑیں گے، تو دیکھو 60 روزے یہ مؤاخذہ ہے اور کس کے ساتھ مؤاخذہ ہے؟ فعل کے ساتھ، فعل کے ذریعے مؤاخذہ کیا جا رہا ہے۔ وہو لا يصلح لذلك اور بچہ اس کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ فعل کے ذریعے کیا کیا جائے؟ اس کا مؤاخذہ کیا جائے۔ والنوع الثانی اہلیة الاداء اور دوسری قسم اہلیت کی اہلیتِ ادا ہے۔ پہلی اہلیتِ وجوب تھی، اب دوسری قسم آ گئی اہلیتِ ادا۔ وہی نوعان یہ دو قسم پر ہے: قاصرةٌ ایک قاصرہ ہے، تمتنع على القدرة القاصرة جس کی بنیاد جو ہے وہ قدرتِ قاصرہ پر ہے، قدرتِ قاصرہ یعنی کم درجے کی قدرت، من العقل القاصر والبدن القاصر وہ کم درجے کی قدرت جو حاصل ہو، پیدا ہو عقلِ قاصر سے اور بدنِ قاصر سے۔ عقل بھی کمزور، بدن بھی کمزور، اس سے جو پیدا حاصل ہونے والی قدرت ہے وہ کس قسم کی قدرت ہے؟ قدرتِ قاصرہ۔ بھئی بات کس کی چل رہی ہے؟ اہلیت، اہلیت بتلایا دو قسم پر: ایک اہلیتِ وجوب اور ایک اہلیتِ ادا بھئی، اہلیتِ ادا۔ اور یہ اہلیتِ ادا پھر دو قسم پر ہے: یا تو یہ قاصرہ ہوگی یا کاملہ، کامل درجے کی ادا آئے گی، اہلیتِ ادا پائی جائے گی یا قاصر درجے کی اہلیتِ ادا پائی جائے گی اور یہ اہلیتِ ادا جو قاصرہ ہے، اس کی بنیاد کس پر ہے؟ قدرتِ قاصرہ پر۔ اگر کامل درجے کی قدرت ہوئی تو اہلیتِ ادا کاملہ آئے گی اور اگر کم درجے کی قدرت ہوئی تو اہلیتِ ادائے قاصرہ آئے گی بھئی۔ اور یہ قدرتِ قاصرہ کہاں سے آئی؟ کہاں سے پیدا ہوئی؟ من العقل القاصر والبدن القاصر کمزور عقل سے اور کم درجے کمزور بدن سے۔ فان الاداء يتعلق بقدرتین اس لیے کیونکہ ادا اس کا تعلق دو قدرتوں سے ہے: قدرت فهم الخطاب وہی بالعقل ایک تو خطاب کو سمجھنے کی قدرت، وہی بالعقل یہ کس کے ذریعے ہوگا؟ انہوں نے کہا نا قدرتِ قاصرہ وہ عقلِ قاصر اور بدنِ قاصر کی وجہ سے ہوگی۔ بھئی عقل اور بدن دونوں کو ذکر کیا کیوں؟ وجہ ذکر کر رہے ہیں، اس لیے کیونکہ ادا کا تعلق دو قدرتوں سے ہوتا ہے، قدرت فہم الخطاب، ایک تو خطاب کو سمجھنے کی قدرت ہے وہی بالعقل، وہ کس کے ذریعے ہوگی؟ عقل کے ذریعے، وقدرة العمل بہ اور دوسرے اس پر خطاب پر عمل کرنے کی قدرت ہے وہی بالبدن اور یہ کس کے ذریعے ہوگا؟ بدن کے ذریعے، فاذا کان تحقق القدرة بہما جب قدرت کا تحقق ان دونوں کے ذریعے ہوتا ہے عقل اور بدن کے ذریعے، یکون کمالہا بکمالہما تو کمالِ قدرت ہوگی ان دونوں کے کامل ہونے سے، کامل درجے کی قدرت ہوگی بکمالہما ان دونوں کے کامل ہونے سے، وقصورہا بقصورہما اور قدرت میں جو کمی ہوگی وہ ان دونوں میں کمی کی وجہ سے ہوگی فلئن انسان فی اول احوالہ عدیم القدرتین پس انسان جو ہے اپنے ابتدائی احوال کے اندر وہ عدیم القدرتیں وہ دونوں قدرتوں اس کی معدوم ہوتی ہیں لیکن لہو استعدادہما لیکن اس میں ان دونوں کی صلاحیت ہوتی ہے فتح حصول لہو شیئاً فشیئاً الی ان یبلغہ تو یہ اس کو تھوڑی تھوڑی کر کے حاصل ہوتی ہیں دونوں قدرتیں یعنی عقل بھی اور بدنی قوت بھی بھئی الی ان یبلغہ یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جاتا ہے کر صبی العاقل جیسے کہ عقلمند بچہ فان بدنہ قاصر پس اس کا بدن جو ہے وہ قاصر ہے کمزور ہے وان کان عقلہ یحتمل الکمال اگرچہ اس کی عقل احتمال رکھتی ہے کامل ہونے کی ہو سکتا ہے عقل کامل دی ہو اللہ نے لیکن بدن تو بہرحال ابھی کمزور ہے۔ والمعطوع البالغ معطوع بھئی نا سمجھ وہ شخص جو کبھی تو مجذوبانہ پاگلوں سی باتیں کرتا ہے اور کبھی ٹھیک لوگوں کی طرح باتیں کرتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ معطوع بھئی۔ والمعطوع البالغ اور وہ بالغ نا سمجھ جو ہے فان عقلہ قاصر اس کی عقل بھی قاصر ہے وان کان بدنہ کاملن اگرچہ اس کا بدن تو یہ بچے کے برعکس ہو گیا بھئی صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی تو کہتے ہیں وتبتنی علیہ ای علی الاهلیۃ القاصرۃ صحت الاداء یعنی اہلیت قاصر پائی جائے گی تو ادا صحیح ہو جائے گی۔ واجب نہیں واجب تو نہیں لیکن ادا کیا تو صحیح ہو جائے گی۔ علی معنی انہ لو ادا یکون صحیحاً معنی کہ اگر اس نے ادا کیا تو وہ صحیح ہو جائے گا وان لم یجب علیہ اگرچہ یہ اس پر واجب نہیں اور کاملۃ اور اہلیت ادا کی دوسری قسم کامل تبتنی علی القدرۃ الکاملۃ اور اس کی بنیاد کس پر ہے؟ قدرت کاملہ کہ کامل درجے کی قدرت ہو من العقل الکامل والبڈن الکامل اور وہ کامل درجے کی قدرت کس سے پیدا ہوئی؟ من العقل الکامل عقل کامل سے اور بدن کامل سے پیدا ہونے والی کامل قدرت۔ دوبارہ ترجمہ دیکھیے و کامل تنتنی علی القدرۃ الکاملۃ من العقل الکامل والبڈن الکامل اور اہلیت کاملہ جو ہے اس کی بنیاد اس قدرت کاملہ پر ہے جو پیدا ہوئی عقل کامل اور بدن کامل سے۔ اوپر بھی اسی طرح ترجمہ کیجیے گا۔ وتبتنی علیہ وجوب الاداء اور اسی بنیاد ہے کس کی؟ وجوب ادا کی کہ ادا واجب ہوگی۔ اوپر تھے اہلیت قاصرہ تھی تو وہاں ادا صحیح تھی واجب نہیں۔ یہاں پر ادا واجب بھی ہے۔ تو اسی پر بنیاد ہے وجوب ادا کی توجہ الخطاب توجہ الخطاب اور خطاب کے متوجہ ہونے کی لان فی الزام الاداء قبل الکمال یکون حرجا اس لیے کیونکہ ادا کو لازم کرنا کمال سے پہلے کامل ہونے سے پہلے ہی یکون حرجا اس میں حرج ہے تنگی ہے وهو منتفی اور حرج تو منتفی ہے دین کے اندر تنگی نہیں اگر یہ کہا جائے عقل کامل نہیں بدن کامل نہیں اور کہا جائے کہ واجب ہے یہ ادا اس پر تو اس میں تو حرج ا گیا تنگی ا گئی حالانکہ تنگی دین میں نہیں۔ ولما لم یکن ادراک کمالہ الا بعد تجربۃ عظیمۃ ولما لم یکن ادراک کمالہ اور جب نہیں ہے عقل کے کمال کا ادراک یعنی عقل کے کمال کا ادراک جب نہیں ہو سکتا الا بعد تجربۃ عظیمۃ لیکن ایک بڑے تجربے کے بعد تو اقام الشارع البلوغ الذی یعتدل عندہ العقل فی الاغلب تو قائم کر دیا شارع نے اس بلوغ کو اس بالغ ہونے کو کہ متوازن ہو جاتی ہے اس کے اس کے وقت عقل فی الاغلب اکثر اوقات میں یہ بلوغ جس کے وقت جس کے پائے جاتے وقت عقل اکثر اوقات کیا ہو جاتی ہے؟ معتدل اور متوازن ہو جاتی ہے اس بلوغ کو شارع نے قائم مقام کر دیا کس کے؟ مقام اعتزال العقل کس کے قائم مقام کر دیا؟ اعتزال عقل کے قائم مقام کر دیا کہ یہ عقل اس وقت جب کوئی شخص بالغ ہو جائے تو شریعت نے کیا حکم لگا دیا کہ اس کی عقل معتدل ہو چکی ہے تیسیراً اسانی کے لیے یہ حکم کیوں لگایا؟ اسانی ورنہ تو بھئی پتہ ہی نہیں چلے گا عقل کس کی کب کامل ہے اور کب کس کی عقل کامل نہیں شریعت نے اسانی کے لیے عقل کے اعتزال کا حکم کب لگا دیا جب کوئی بالغ ہو جائے تو حکم لگا دیا جائے گا کہ اس کی عقل معتدل ہو چکی ہے کیونکہ اکثر اوقات اسی وقت عقل معتدل ہو جاتی ہے بھئی یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ خلاصہ سن لیجیے اہلیت کا بھئی خلاصہ یہ کہ اہلیت جو ہے وہ دو قسم پر ہے ایک اہلیت وجوب ہے اور ایک اہلیت ادا ہے اہلیت وجوب جو ہے اس کا تعلق ذمے سے ہے کس سے تعلق ہے ذمے سے ہے اور آپ نے پڑھا کہ جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہے تو اسی وقت سے اس کا ذمہ ہے لیکن اس وقت اس کے لیے مالہو مالہوک تو مالہو جو ہے وہ تو ثابت ہوں گے البتہ مالے جو ہیں اس پر ثابت نہیں ہوں گے مالہو یعنی اس کے جو حقوق ہیں اور مالے جو اس پر حقوق ہیں تو اس کا ذمہ جو ہے مالہو کی صلاح تو رکھتا ہے جب ماں کے پیٹ میں ہے لیکن مالے کی صلاح نہیں رکھتا کہ اس پر دوسروں کے حقوق واجب کیے جائیں بھئی۔ اور پھر پڑھا آپ نے کہ حقوق العباد میں سے جب وہ پیدا ہو جائے تو پھر اب اس کا ذمہ ہے کہ اس پر وجوب آ سکتا ہے لیکن نفس وجوب مقصود نہیں ہے وجوب کے ذریعے مقصود ادا ہوا کرتی ہے کیا ہوا کرتی ہے؟ ادا ہوا کرتی ہے تو لہذا جو حقوق العباد ہیں ان میں سے جو حقوق اس پر جو اس کے ذمے ہیں کسی کے سو وہ اس پر لازم ہوں گے کسی کی کوئی چیز تلف کر دیتا ہے کسی سے کوئی بیع وغیرہ کرتا ہے تو پھر اس میں بدل دینا پڑے گا اس کو بھئی اور وہ لازم ہوں گے لیکن اگر وہ سزا اور جزا کے قبیل سے ہو تو وہ اس پر نہیں آئیں گے بھئی جبکہ حقوق اللہ کے اندر آپ نے پڑھا کہ حقوق اللہ کے اندر جہاں ادا صحیح ہو وہ اس پر آئیں گے اور جہاں ادا صحیح نہیں وہ اس پر لازم نہیں ہے بھئی۔ اور پھر آپ نے پڑھا کہ یہ جو اہلیت ادا ہے یہ بھی دو قسم پر ہے ایک اہلیت قاصرہ ہے اور ایک اہلیت کامله اہلیت قاصرہ جو ہے وہ عقل قاصر اور بدن قاصر سے ہوگی جیسے صغیر کے اندر بھئی کس کے اندر؟ صغیر کے اندر بھی اہلیت ادا ہے لیکن یہ ادا اہلیت ادا کون سی ہے؟ قاصرہ ہے اور اس کی وجہ سے صرف ادا صحیح ہوگی ادا کرے گا تو کیا ہو جائے گی؟ اہلیت قاصرہ پر بنیاد ہے صحت ادا کی ادا کرے گا تو صحیح ہو جائے گی۔ توجہ ہے بھئی؟ اہلیت ادا کی بات چل رہی ہے کہ وہ دو قسم پر ہے اہلیت ادا ایک اہلیت قاصرہ اور ایک اہلیت کاملہ اہلیت قاصرہ کی وجہ سے ادا صحیح ہوگی وجوب نہیں آئے گا۔ اہلیت قاصرہ کی وجہ سے ادا صحیح جبکہ اہلیت کاملہ کی وجہ سے وجوب ادا بھی آجائے گا اس شخص پر ادا واجب ہو جائے گی جب وہ بالغ ہو جائے عقل اس کی اعتزال تک پہنچ جائے تو اس پر ادا بھی واجب اور جبکہ اس سے پہلے ادا اہلیت قاصرہ تھی اس وقت ادا واجب نہیں تھی ہاں ادا کر دیتا تو صحیح نماز پڑھ لی تو وہ بچے کی طرف سے صحیح ہو جائے گی لیکن اس پر واجب نہیں ہے لیکن جب بالغ ہو گیا عقل اعتزال پر آ گئی تو اب اہلیت کاملہ آ گئی اور اہلیت کاملہ آئی تو اب ادا اس پر واجب ہو گئی اور اب خطاب اس کی طرف متوجہ ہوا جو جو شری احکام دیے گئے ہیں وہ اس پر لاگو ہو جائیں گے۔ چلیے بس بھئی ھذا هو المرام واللہ أعلم بحقیقۃ الکلام۔