درس نمبر۔132 والثالث الشرط: وهو ما يتعلق به الوجود دون الوجوب. احتُرز به عن العلة، وينبغي أن يزاد عليه قوله: ويكون خارجاً عن ماهيته، ليخرج به الجزء، هكذا قيل. وهو خمسة بالاستقراء: الأول شرط محض. آپ نے پڑھا تھا، حکم سے چار چیزیں متعلق ہوتی ہیں بھئی: سبب، علت، شرط، اور علامت۔ سبب اور علت کی تفصیلی بحث گزر گئی۔ آج تیسری چیز، شرط کے بارے میں ہم پڑھیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "والثالث الشرط" (اور تیسری چیز شرط ہے)، "وهو ما يتعلق به الوجود دون الوجوب" (اور شرط وہ چیز ہے کہ جس کے ساتھ وجود کا تعلق ہوتا ہے نہ کہ وجوب کا)۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ وجوب کا تعلق تو علت سے ہوتا ہے، البتہ وجود جو ہے، اس کا تعلق کس سے ہے؟ شرط سے ہے۔ کہتے ہیں: "احتُرز به عن العلة" (یہ جو "دون الوجوب" کی قید لگائی، اس کے ذریعے احتراز کیا مصنف نے کس سے؟ علت سے احتراز کیا)، "وينبغي أن يزاد عليه قوله: ويكون خارجاً عن ماهيته" (اور مناسب یہ ہے کہ اس پر مصنف کے اس قول کو بڑھا دیا جائے کہ: وہ قید بھی کیا ہونی چاہیے؟ ذکر ہونی چاہیے بھئی، کہ وہ چیز جس سے وجود کا تعلق ہو نہ کہ وجوب کا، اور وہ خارج ہونی چاہیے اس چیز کی ماہیت سے)۔ بھئی یہ قید کیوں بڑھانی چاہیے؟ کیوں مناسب ہے اس کو بڑھانا؟ کہتے ہیں: "ليخرج به الجزء" (تاکہ اس کے ذریعے جزء نکل جائے)۔ کیونکہ جزء کے ساتھ بھی وجود کا تعلق ہے۔ جزء ہیں سارے تو کل ہے، جزء نہیں تو کل بھی نہیں۔ تو جزء کے ساتھ بھی وجود کا تعلق ہوتا ہے، لہٰذا یہ قید لگاتے کہ وہ ماہیت سے خارج ہو، تو اس سے جزء نکل جاتا ہے؛ کیونکہ وہ تو ماہیت سے خارج نہیں ہوتا بلکہ ماہیت میں داخل ہوتا ہے۔ "هكذا قيل" (اسی طرح کہا گیا ہے بھئی)۔ "وهو خمسة بالاستقراء" (اور وہ پانچ ہیں استقراء سے بھئی)۔ استقراء کا معنی تلاش و جستجو بھئی، یعنی تلاش کیں تو کتنی قسم کی شرطیں ملیں؟ پانچ قسم کی ملیں۔ "الأول شرط محض" (پہلی قسم شرط محض ہے)، "لا يكون له تأثير في الحكم، بل يتوقف عليه انعقاد العلة" (کہ جس کے حکم کے اندر کوئی تاثیر نہیں ہوتی، بلکہ اس پر علت کا منعقد ہونا موقوف ہوتا ہے)۔ پہلی قسم کیا شرط کی ذکر کی؟ جو شرط محض ہے، جس کے حکم میں کوئی تاثیر نہیں۔ حکم میں یہ مؤثر نہیں، البتہ علت کا علت بننا اس پر موقوف ہے، علت تبھی منعقد ہوگی جب یہ شرط پائی جائے گی۔ جیسے کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: "إن دخلت الدار فأنت طالق" (اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے)۔ اب "فأنت طالق" اس سے کیا آیا کرتی ہے؟ طلاق، لیکن اس وقت طلاق نہیں آئے گی جب تک وہ شرط نہ پائی جائے، تو شرط نے علت کے منعقد، اس کی شرط کی وجہ سے علت منعقد ہو جائے گی، جب وہ گھر میں جائے گی تو یہ "فأنت طالق" منعقد ہو جائے گا اور عورت کو کیا ہو جائے گی؟ طلاق۔ "كدخول الدار بالنسبة إلى وقوع الطلاق المعلق به في قوله: إن دخلت الدار فأنت طالق" (جیسے دخول دار نسبت کرتے ہوئے وقوع طلاق کی طرف، جو معلق ہو اس شرط کے ساتھ، کسی شخص کے اس قول کے اندر: "إن دخلت الدار فأنت طالق")۔ پہلی قسم سمجھ میں آگئی بھئی؟ پہلی شرط محض ہے، اس دخول دار کی طلاق میں کوئی اپنی ذات کے اعتبار سے یہ مؤثر نہیں ہے۔ کوئی بھی عورت اس گھر میں جائے تو کیا طلاق ہوتی ہے؟ نہیں، مؤثر نہیں۔ لیکن یہاں پر خاوند نے معلق کیا ہے طلاق کو اس کے ساتھ، تو طلاق کے واقع ہونے کے اندر اب یہ یہ طلاق کا واقع ہونا اس پر کیا ہو جائے گا؟ موقوف، یعنی علت کا منعقد ہونا اس پر موقوف ہے۔ "والثاني شرط هو في حكم العلل" (اور دوسری قسم وہ شرط ہے جو علتوں کے حکم میں ہو)۔ ہے تو شرط، لیکن کس کے حکم میں ہے؟ علتوں کے حکم میں ہے۔ بھئی کس اعتبار سے؟ کہتے ہیں: "في حق إضافة الحكم إليه" (حکم کی اس کی طرف نسبت کرنے میں)۔ حکم کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہے؟ علت کی طرف، تو یہاں پر یہ جو شرط ذکر کی جا رہی ہے، یہ شرط اس کی طرف بھی حکم کی نسبت کی جاتی ہے، معلوم ہوا یہ بھی کس کے درجے میں ہے؟ علت کے درجے میں ہے، علت کے حکم میں ہے۔ "ووجوب الضمان على صاحبه" (اور ضمان کے واجب ہونے میں اس کے صاحب، اس صاحب شرط پر بھئی، کہ شرط والا جو ہے وہ اس پر ضمان واجب ہوگا)۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ علت کی طرف حکم کی نسبت کی جاتی ہے، تو یہ جو شرط ذکر کی جا رہی ہے دوسری قسم، اس کی طرف بھی حکم کی نسبت کی جاتی ہے، معلوم ہوا یہ کس کے درجے میں ہے؟ علتوں کے حکم میں ہے اور اس میں ضمان بھی آئے گا جیسے علت میں ضمان آیا کرتا ہے۔ "كحفر البئر في الطريق، فإنه شرط لتلف ما يتلف بالسقوط فيه" (جیسے کنواں کھودنا راستے میں، پس یہ جو کنواں کھودنا ہے یہ شرط ہے اس چیز کے ہلاک ہونے کے لیے جو ہلاک ہو اس میں گرنے کے ذریعے)۔ صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اگر کنواں کھودے اپنی ملکیت کے علاوہ میں، مثلاً راستے وغیرہ میں کہیں کنواں کھود دیا، اب اس کنویں کے اندر کوئی شخص گر کر ہلاک ہوا تو اس کنواں کھودنے والے پر ضمان آئے گا۔ اب یہ کنویں کا کھودنا یہ شرط ہے اس تلف کے لیے، اس انسان کے ہلاک ہونے کے لیے۔ شرط اس لیے کیونکہ شرط کی طرف آپ نے پڑھا وجود کی نسبت کی جاتی ہے، تو یہ کنواں کھودا گیا تو یہ تلف پایا گیا بھئی، یہ کنواں کھودا گیا تو تلف پایا گیا۔ تو یہ کنویں کا کھودنا یہ اس کے لیے شرط ہے، علت نہیں؛ علت اس چیز کا وزنی ہونا ہے، وہ وزن والی چیز ہے، اس کا وزن ہے، اور جو بھی وزن والی چیز ہوتی ہے وہ نیچے کی طرف جاتی ہے، تو درمیان میں زمین حائل تھی، یہ زمین کسی کو نیچے نہیں جانے دیتی ورنہ ہر وزنی چیز نیچے کی طرف جاتی ہے، تو اس شخص نے اس مانع کو دور کر دیا، کس کو دور کر دیا؟ جب کنواں کھودا تو زمین تو کیا تھی؟ وزنی چیز کو اپنے اوپر روکنے والی تھی، جب اس نے کنواں کھودا تو اس نے مانع کو دور کر دیا، تو وہ شخص جب اس کے اوپر آیا گر گیا اندر، اب یہاں پر یہ کنویں کا کھودنا ہے شرط، اور گرنا علت کیا ہے؟ وہ ثقل ہے، اس کا وزنی ہونا علت ہے، لیکن اس علت کی طرف اس حکم کی نسبت نہیں کر سکتے، کیوں نہیں کر سکتے؟ کیونکہ یہ ایک طبعی چیز ہے، اللہ نے بنایا ہی چیزوں کو اس طرح ہے کہ جو وزن والی چیز ہوگی وہ کس طرف کو جائے گی؟ نیچے کی طرف، تو یہ تو ایک طبعی چیز ہے، اللہ نے بنایا ہی اسی طرح، پیدا ہی اسی طرح کیا، لہٰذا اس کی طرف حکم کی نسبت نہیں کی جائے گی، تو پھر حکم کی نسبت کس طرف ہوگی؟ شرط کی طرف، اور لہٰذا اس کھودنے والے پر ضمان آئے گا۔ تو دیکھو، حکم کی نسبت شرط کی طرف کی جا رہی ہے، معلوم ہوا یہ شرط کس کے درجے میں ہے؟ علت کے درجے میں ہے۔ "لأن العلة في الحقيقة هو الثقل لميلان طبع الثقيل إلى السفْل" (اس لیے کہ علت حقیقت کے اندر وہ وزن ہے، بوجہ ثقیل طبیعت کے نیچے کی طرف مائل ہونے کے، سفل اور سُفل دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں بھئی، نیچے کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے کہ ہر وزنی چیز نیچے کی طرف مائل ہوتی ہے، نیچے کو جاتی ہے)۔ "ولكن الأرض كانت مانعة ماسكة" (لیکن زمین جو تھی وہ مانع تھی، تھامنے والی تھی)۔ جب تک کنواں نہیں تھا وہ جگہ کیا تھی؟ زمین تھی وہاں پر، تو وہ زمین اس کو روکنے والی تھی، تھامنے والی تھی۔ "وحفر البئر إزالة المانع" (اور کنویں کا کھودنا اس مانع کو دور کرنا ہے، اس نے کنواں کھود کر اس مانع کو، جو روکنے والی زمین تھی، اس کو کیا کر دیا؟ دور کر دیا، ختم کر دیا)۔ "ورفع المانع من قبيل الشروط" (اور مانع کا اٹھانا یہ کس قبیل سے ہے؟ شرط کے قبیل سے)۔ جیسے بھئی "إن دخلت الدار فأنت طالق"، یہ طلاق کیوں نہیں ہو رہی؟ کیونکہ دخول دار شرط ہے، تو یہ شرط دور ہوگی، یعنی پوری ہوگی تو پھر کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی، تو یہ مانع کو دور کرنا یہ کیا ہے؟ شرط ہوتا ہے، تو یہاں بھی اس نے مانع کو دور کیا ہے تو یہ شرط ہے بھئی۔ "وال مشي سبب محض ليس بعلة له" (اور चलना، بھئی وہ چلتا ہوا آیا وہ آدمی، کہتے ہیں وہ یہ جو चलना ہے یہ تو سبب محض ہے، یہ اس گرنے کی علت نہیں)۔ کیا ہر چلنے والا اس میں گرے گا؟ نہیں، علت تو وہ ہوتی ہے جس کے بعد معلول پایا جاتا ہے، تو ہر चलना تو اس کی وجہ سے گرنا نہیں، تو وہ علت نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ سبب ہے، مفضی الی الشیء ہے۔ کہتے ہیں: "والمشي سبب محض ليس بعلة له، فأقيم الحفر الذي هو شرط مقام العلة في حق الضمان" (اور चलना جو ہے وہ تو سبب محض ہے، وہ اس گرنے کے لیے علت نہیں ہے، تو اس حفر کو جو شرط تھی اس کو قائم مقام کر دیا گیا علت کے کس چیز کے حق میں؟ ضمان کے حق میں، یعنی اس شخص پر اب ضمان آئے گا)، "إذا حفر في غير ملكه" (جب اس نے کھودا اپنی ملکیت کے علاوہ میں)۔ "وأما إن حفر في ملكه أو ألقى الإنسان نفسه عمداً في البئر، فحينئذ لا ضمان على الحافر أصلاً" (اور باقی اگر اس نے کنواں کھودا ہے اپنی ملکیت میں، اپنی زمین کے اندر، یا گرایا کسی انسان نے جان بوجھ کر اپنے آپ کو اس کنویں کے اندر، تو اس صورت میں کھودنے والے پر سے بالکل کوئی ضمان نہیں آئے گا بھئی)۔ اگر اپنی زمین میں کھودا ہے، پھر کوئی گر کر مرا اس میں تو بھی اس پر ضمان نہیں کیونکہ کوئی تعدی نہیں کی اس نے، اور اگر کسی انسان نے جان بوجھ کر اس کے اندر اپنے آپ کو گرایا، راستے میں کھودا لیکن کسی نے اپنے آپ کو جان بوجھ کر گرایا تو اس صورت میں بھی کنواں کھودنے والے پر ضمان نہیں آئے گا بھئی، کیونکہ وہ اپنے اختیار سے گرا ہے، تو نسبت اسی کی طرف کی جائے گی۔ تو پہلی مثال بھئی، اس شرط کی جو علتوں کے حکم میں تھی۔ کیا مثال بیان کی؟ حفرِ بئر۔ دوسری: "وشق الزق" (مشکیزے کا پھاڑنا)، "فإنه شرط لسيلان ما فيه" (اس لیے کہ یہ پھاڑنا جو ہے، یہ شرط ہے اس چیز کے بہنے کے لیے جو اس کے اندر ہے)، "إذ الزق كان مانعاً" (اس لیے کہ مشکیزہ کیا تھا؟ مانع تھا، اس چیز کو بہنے نہیں دے رہا تھا)، "وإزالته شرط" (اور مانع کو دور کرنا، یہ شرط ہے)۔ "والعلة هي كونه مائعاً لا يصلح أن يضاف الحكم إليه، إذ هو أمر جبلي للشيء خلق عليه" (اور علت جو ہے وہ اس چیز کا مائع ہونا ہے، بہنے والی ہونا ہے۔ مائع کس کو کہتے ہیں؟ جو بہنے والی چیز ہوتی ہے۔ تو علت ہے وہ اس چیز کا مائع ہونا ہے، وہ جو مائع ہونا ہے، وہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ حکم کی نسبت اس کی طرف کی جائے بھئی، اس لیے کہ وہ تو ایک جبلی شے ہے اس چیز کے لیے، اسی پر پیدا کیا گیا ہے۔ جبلی وہی بھئی، فطری، قدرتی۔ ہر بہنے والی چیز بنائی ہی اللہ نے ایسی ہے کہ وہ کیا ہے؟ وہ بہتی ہے بھئی۔ تو لہٰذا بہنا جو ہے وہ علت ہے، تو دیکھیے، مشکیزے کا پھاڑنا یہ ہے شرط، شرط کے بعد وجودِ شے ہے، لیکن علت کیا ہے؟ کہ وہ چیز جو اندر تھی وہ بہنے والی ہے۔ بہنے والی نہ ہوتی تو نہ بہتی، لیکن اس کی طرف حکم کی نسبت نہیں کر سکتے، کیوں؟ کیونکہ یہ جبلی ہے بھئی، کیا ہے؟ جبلی ہے، یعنی فطری ہے، قدرتی ہے بھئی، اس کو بنایا ہی ایسا گیا ہے، اللہ نے ایسا ہی پیدا کیا)۔ "إذ هو أمر جبلي للشيء خلق عليه، فأضيف إلى الشرط" (اس لیے کہ یہ جبلی چیز ہے اس شے کے لیے جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے، پس نسبت کی گئی حکم کی شرط کی طرف)۔ "ويكون صاحب الشرط ضامناً لتلف ما فيه ولنقصان الخرق أيضاً" (تو صاحبِ شرط جو ہوگا وہ ضامن ہوگا اس چیز کے تلف کرنے کا جو اس کے اندر تھی، اور یہ پھاڑنے کے نقصان کا بھی وہ ضامن ہوگا)۔ "والثالث شرط له حكم الأسباب" (اور तीसरी किस्म वह شرط ہے کہ جو اس کے لیے اسباب کا حکم ہے)۔ کس کے حکم میں ہے جو؟ اسباب۔ پہلی شرطِ محض تھی، دوسری قسم وہ شرط جو کس کے حکم میں؟ علت کے حکم میں، تیسری وہ شرط جو سبب کے حکم میں ہے۔ وہ کون سی شرط ہے؟ کہتے ہیں: "وهو الشرط الذي يتخلل بينه وبين المشروط فعل فاعل مختار" (وہ شرط ہے کہ بیچ میں آئے اس شرط کے اور مشروط کے درمیان ایک فاعلِ مختار کا فعل، ایک اپنے اختیار سے فعل کرنے والے کا فعل بیچ میں آئے)۔ ایک ہے شرط، اور ایک ہے مشروط، شرط اور مشروط کے درمیان کیا آئے گا؟ فاعلِ مختار کا فعل، جو اپنے اختیار سے فعل کرنے والا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جیسے ابھی مثال گزری، کنویں کا کھودنا ہے شرط، انسان کا اس میں ہلاک ہونا یہ ہے حکم، اور علت کیا تھی درمیان میں؟ اس کا وزنی ہونا، اس کا وزن تھا، لیکن یہ وزن کیا یہ اپنے اختیار سے ہے یا پیدا ہی اسی طور پر کیا گیا تھا؟ تو فرق دونوں میں یہ کہ اس میں وہ جو چیز ہے وہ اپنے اختیار، وہ چیز اپنے اختیار والی نہیں، اور یہاں پر جو درمیان میں علت آئے گی وہ کس قسم کی ہوگی؟ وہ اپنے اختیار سے ہوگی بھئی، اختیار سے ہوگی۔ جیسے مثال ذکر کریں گے بھئی کہ کسی نے قیدی کی زنجیر کھول دی بھئی، قیدی کو... غلام، غلام، ایک شخص نے اپنے غلام کو باندھ کر رکھا تھا، دوسرا آیا اس نے اس کی زنجیر کھول دی اور غلام بھاگ گیا۔ تو زنجیر کا کھولنا ہے شرط، اور غلام کا بھاگنا... غلام کا بھاگنا ہے حکم بھئی، اور درمیان میں علت کیا ہے؟ غلام کا اپنا فعل، غلام کا اپنا فعل ہے وہ بھاگا... تب تو بھاگا ہے۔ تو یہاں درمیان میں کیا آیا؟ فعلی اختیاری آیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ دیکھیے آگے تفصیل آرہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وہ شرط جو اسباب کے حکم میں ہو، "وهو الشرط الذي يتخلل بينه وبين المشروط فعل فاعل مختار، لا يكون ذلك الفعل منسوباً إلى ذلك الشرط، ويكون ذلك الشرط سابقاً على ذلك الفعل" (وہ شرط ہے کہ اس کے اور مشروط کے درمیان ایک مختار فاعل کا فعل آئے، نہ ہوتا ہو وہ فعل منسوب اس شرط کی طرف، اور وہ شرط جو ہے وہ مقدم ہونی چاہیے اس فعل پر)۔ شارح نے تعریف کر دی بھئی! کون سی قسم چل رہی ہے؟ وہ شرط جو کس کے درجے میں ہے؟ سبب کے درجے میں۔ شارح نے بتلایا وہ کون سی شرط ہے، بتلایا جہاں پر شرط اور مشروط کے درمیان فاعلِ مختار کا فعل آئے، اور نیز اس فعل کی نسبت شرط کی طرف نہ کی جاتی ہو، اور نیز وہ شرط جو ہے اس فعل پر مقدم ہو۔ تین چیزیں ذکر کر دیں، اس کے اندر تینوں چیزیں ہونا ضروری۔ پہلی چیز کیا؟ شرط اور مشروط کے درمیان کیا آئے؟ فاعلِ مختار کا فعل آئے، دوسری چیز کیا؟ کہ اس فعل کی طرف... اس فعل کی نسبت اس شرط کی طرف نہ کی جاتی ہو، اور تیسری بات کہ وہ شرط کیا ہے؟ اس فعل پر مقدم بھی ہو۔ تو کہتے ہیں: "واحترز به" (اور احتراز کیا گیا اس کے ذریعے، یہ جو قید ہم نے ذکر کی نا فاعلِ مختار والی، تین قیدیں ذکر کیں نا، تو پہلی قید جو فاعلِ مختار والی ذکر کی، احتراز کیا اس کے ذریعے) "عما إذا تخلل فعل فاعل طبيعي" (اس سے کہ جب بیچ میں کس قسم کے فاعل کا فعل آئے؟ فاعلِ طبعی کا فعل)۔ طبعی قدرتی... یہ طبعی وہی معنی بھئی جبلی اور طبعی بھئی، قدرتی فاعل کا فعل آئے بھئی جو طبعی ہو۔ "كحفر البئر" (جیسے کنویں کا کھودنا)۔ یہ شرط تھا۔ درمیان میں کیا آیا تھا؟ کس قسم کا فعل آیا تھا؟ جو اپنے اختیار سے تھا یا قدرتی تھا؟ قدرتی تھا۔ تو اس سے احتراز کیا بھئی۔ فانه في حكم العلل، کیونکہ یہ کس کے حکم میں ہے؟ یہ علتوں کے حکم میں ہے۔ واما اذا كان ذلك الفعل منسوبا الى ذلك الشرط، اور احتراز کیا، اذا كان ذلك الفعل، کہ جب اس فعل جو ہے منسوبا الى ذلك الشرط، جب اس کی نسبت کس کی طرف کی جائے؟ اور تین قیدیں ذکر کی تھیں، پہلی کیا قید ذکر کی تھی؟ فاعلِ مختار کا فعل درمیان میں آئے، تو حفرِ بئر نکل گیا، کیونکہ درمیان میں فاعلِ مختار کا فعل نہیں۔ دوسری شرط کیا ذکر کی تھی؟ دوسری قید، اس فعل کی نسبت شرط کی طرف نہ کی جاتی ہو، تو اس قید کے ذریعے احتراز کیا، جب وہ فعل منسوب اس شرط کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہو، ہم نے تو کہا نسبت نہیں ہونی چاہیے۔ تو جس وہ نکل گیا جس میں نسبت کی جاتی ہے، کفتح باب قفس الطیر، جیسے کہ کھولنا پرندے کے پنجرے کا دروازہ۔ قفس کسے کہتے ہیں؟ پنجرہ۔ پرندے کے پنجرے کا دروازہ کھولنا، اذ طیرانہ منسوب الی الفتح، کیونکہ پرندے کا اڑنا اس دروازہ کھولنے کی طرف منسوب۔ تو دروازہ کھولنا ہے شرط، اور پرندے کا اڑنا، جو ہے یہ اس کے، یاد رکھیے، اس میں آگے آپ کو بتائیں گے، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ یہ جو ہے یہ جبلّی ہے، قدرتی ہے، پرندے کو جب بھی موقع ملے گا وہ اڑ جائے گا۔ تو لہذا اس کی طرف اس حکم کی نسبت نہیں ہوگی، بلکہ دروازہ کھولنے والے کی طرف ہی نسبت ہوگی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ وہ دوسری قسم میں سے ہوا، جو شرط کس کے درجے میں ہو؟ علتوں کے حکم میں ہو، تو اس کی طرف حکم کی نسبت ہوتی ہے اور اس پر ضمان آئے گا۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ پرندے کا اڑنا اپنے اختیار سے ہے، تو درمیان میں کیا آگیا؟ فاعلِ مختار کا فعل، لہذا دروازہ کھولنے والے کی طرف نسبت نہیں اور اس پر ضمان بھی نہیں۔ اذ طیرانہ منسوب الی الفتح، اس لیے کیونکہ پرندے کا اڑنا وہ منسوب ہے اس دروازہ کھولنے کی طرف، فانه ايضا في حكم العلل عند محمد رحمہ اللہ، پس یہ بھی جو ہے، علتوں کے حکم میں ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، حتی یضمن الفاتح عندہ، یہاں تک کہ وہ دروازہ کھولنے والا ضامن ہوگا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، خلافا لہما، بخلاف شیخین رحمہما اللہ کے۔ واما اذا لم یکن الشرط سابقا علی العلۃ، تیسری کیا قید ذکر کی تھی بھئی؟ کہ وہ شرط فعل پر مقدم ہو۔ کہتے ہیں اور اس کے ذریعے احتراز کیا، اذا لم، دیکھیے یہ واما دو تین آئے، وہ پہلے واما آیا تھا، واحترز بہ عما، اسی پر عطف ہے۔ احتراز کیا گیا اس کے ذریعے، واما اذا لم یکن الشرط سابقا علی العلۃ، کہ جبکہ وہ شرط مقدم نہ ہو علت پر، کدخول الدار في قوله انت طالق ان دخلت الدار، جیسے کہ دخولِ دار ہے کسی شخص کے اس قول کے اندر: تجھے طلاق ہے اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی۔ اذ هو مؤخر عن تكلم قوله انت طالق، اس لیے کیونکہ یہ دخولِ دار جو ہے مؤخر ہے اس شخص کے اس قول سے، اس تکلم سے، انت طالق سے مؤخر ہے۔ اور ہم نے کیا کہا؟ یہ تیسری قسم میں، شرط کو مقدم ہونا چاہیے اس فعل پر، اور وہاں پر انت طالق مقدم تھا یا دخولِ دار مقدم ہے؟ انت طالق کہنا مقدم اور دخولِ دار، ان دخلت الدار فانت طالق، اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ یہ جو اس نے انت طالق کہا، یہ پہلے ہے، یا وہ جو دخولِ دار آگے آئے گا، وہ پہلے ہے؟ جی؟ انت طالق پہلے ہے، اور دخولِ دار وہ جو شرط ہے وہ مؤخر، اور اس قسم میں ہم نے کیا کہا؟ شرط کو مقدم ہونا چاہیے، اور یہ جو دخولِ دار ہے یہ شرط تو مؤخر ہے، تو اس قسم کی شرط سے احتراز کیا بھئی۔ فانه شرط محض داخل في القسم الاول، اس لیے کیونکہ وہ تو شرطِ محض ہے جو داخل ہے پہلی قسم کے اندر، كما اذا حل قيد عبد فآبق، جیسے کھول دی بیڑی ایک قیدی کی، قید کہتے ہیں بیڑی کو بھئی، زنجیروں کو، كما اذا حل قيد عبد، جیسے کہ کھولی کسی شخص نے غلام کی بیڑی، فآبق، پس وہ بھاگ گیا، فانه شرط للاباق، پس یہ جو کھولنا ہے زنجیر کا، یہ شرط ہے کس کے لیے؟ بھاگنے کے لیے، اذ القيد كان مانعا، اس لیے کیونکہ یہ قید کیا تھی؟ یہ مانع تھی، اور مانع کو دور کرنا کیا ہوتا ہے؟ ان دخلت الدار فانت طالق، انت طالق عمل کر رہا ہے یا نہیں کر رہا؟ طلاق آرہی ہے اس سے اس وقت؟ کیوں نہیں آرہی؟ مانع ہے وہ شرط ہے، اور یہ مانع کو دور کرنا یہ کیا ہوتا ہے؟ جب مانع دور ہوگا، تو طلاق ہو جائے گی یا نہیں؟ وہ اس عورت اس گھر میں جائے گی تو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی، تو یہ مانع کو دور کرنا یہ کیا ہوتا ہے؟ شرط ہوتا ہے، مانع کو دور کرنا؟ مانع علت کو علت بننے سے روکتا ہے، تو یہ مانع جب دور کریں گے، تو علت علت بن جائے گی اور طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو یہ جو مانع کا دور کرنا، یہ کیا ہوتا ہے؟ یہ شرط ہے، مانع کا دور کرنا؟ یہاں پر بھی دخولِ دار طلاق کے لیے شرط ہے، تو مانع کا دور کرنا کیا ہوتا ہے؟ شرط ہوتا ہے، یہی بات تو کر رہے ہیں، اس لیے کیونکہ یہ جو بیڑیوں کا کھولنا ہے یہ شرط ہے اباق کے لیے، اذ القيد كان مانعا، اس لیے کیونکہ یہ بیڑیاں جو تھیں یہ مانع تھیں، فازالته شرط، تو اس کو دور کرنا، اس مانع کو دور کرنا یہ شرط ہے، ولكن تخلل بينه وبين الاباق فعل فاعل مختار، لیکن بیچ میں آیا اس شرط کے، یعنی بیڑیاں کھولنے کے، وبين الاباق، اور بھاگنے کے درمیان، ان دونوں کے درمیان کیا آیا؟ فعل فاعل مختار، ایک فاعلِ مختار کا فعل آیا، جو اپنے اختیار سے فعل کرنے والا ہے، وهو العبد، وہ کون ہے؟ غلام ہے، وليس هذا الفعل منسوبا الى الشرط، اور اس فعل کی نسبت نہیں ہوگی شرط کی طرف، یہ فعل شرط کی طرف منسوب نہیں، کون سی شرط؟ بیڑیاں کھولنا، تو یہ غلام کا جو بھاگنا ہے، یہ اس کی طرف اس کا یہ غلام کا فعل اس بیڑیاں کھولنے کی طرف منسوب نہیں ہوگا، کیوں؟ اذ لا يلزم ان يكون كل ما يحل القيد آبقا البتة، اس لیے کیونکہ لازم نہیں ہے کہ ہر وہ جس کی بیڑیوں کو کھول دیا جائے وہ بھاگے قطعی طور پر، جس کی بھی بیڑیوں کو کھول دیا جائے ضروری نہیں کہ وہ بھاگ جائے۔ وقد تقدم هذا الحل على الاباق، اور تحقیق یہ کھولنا مقدم ہے بھاگنے پر، تینوں چیزیں پوری ہو رہی ہیں بھئی، درمیان میں کیا آرہا ہے؟ فاعلِ مختار کا فعل بھی آیا شرط اور مشروط کے درمیان، اور اس فعل کی نسبت اس بیڑیاں کھولنے کی طرف بھی نہیں، اور نیز یہ جو شرط ہے، بیڑیاں کھولنا، یہ بھاگنے پر مقدم بھی ہے۔ تو کہتے ہیں، وقد تقدم هذا الحل على الاباق، اور یہ بیڑیوں کا کھولنا جو ہے یہ مقدم ہے بھاگنے پر، فهو في حكم الاسباب، تو یہ کس کے حکم میں ہے؟ اسباب کے حکم میں ہے، فلهذا لا يضمن الحال قيمة العبد، پس ضامن نہیں ہوگا حَالّ، وہ کھولنے والا، اس میں فاعل ہے، لام مشدد ہے، لہذا وہ بیڑیاں کھولنے والا غلام کی قیمت کا ضامن نہیں ہوگا، بخلاف ما اذا امر العبد بالاباق، بخلاف اس کے کہ جب اس نے حکم دیا غلام کو بھاگنے کا، حيث يضمن الآمر، اس حیثیت سے کہ اس صورت میں حکم دینے والا ضامن ہوگا، وان اعترض فعل فاعل مختار، اگرچہ یہاں پر بھی فاعلِ مختار کا فعل آیا درمیان میں، یہاں پر بھی اگرچہ فاعلِ مختار کا فعل عارض ہوا، کیوں؟ لان الامر بالاباق استعمال له، اس لیے کیونکہ بھاگنے کا حکم دینا، استعمالٌ له، سِين طلب کے لیے ہے، اس سے غلام سے عمل کو طلب کرنا ہے، غلام سے عمل کو طلب کرنا ہے، فاذا آبق بأمره، پس جب وہ اس کے حکم سے بھاگ گیا، فكانه غصبه بالاستعمال، تو گویا کہ اس حکم دینے والے نے اس کو غصب کر لیا بالاستعمال، عمل طلب کرتے ہوئے، اس سے عمل طلب کرتے ہوئے، اس سے عمل طلب کر رہا ہے نا کہ بھاگ جاؤ۔ تو لہذا یہاں ضمان آئے گا۔ بخلاف ما اذا كانت الواسطة المتخللة مضافة الى السبب، بخلاف اس کے کہ جبکہ وہ واسطہ جو بیچ میں آیا ہے، مضافة الى السبب، اس کی نسبت مضافة الى السبب، اس کی نسبت کس کی طرف کی جاتی ہو؟ بھئی یہاں شرط تھی، شرط اور مشروط کے درمیان کیا آیا؟ فاعلِ مختار کا فعل آیا اور اس فعل کی نسبت شرط کی طرف نہیں، جبکہ سبب میں آپ نے پڑھا تھا، سبب کی ایک قسم وہ تھی، وہ جیسے جانور نے چلتے ہوئے کسی کو تلف کر دیا اور کوئی ہانکنے والا یا اس کو آگے سے لے جانے والا موجود تھا، تو یہاں پر جانور تو مجبور ہے، جب اس کو ہانکا یا چلایا جائے گا، وہ تو چلے گا بھئی، تو لہذا اگرچہ وہاں پر بھی تلف اور ہانکنے کے درمیان جانور کا فعل ہے، لیکن اس جانور کے فعل کی نسبت کس کی طرف کی جاتی تھی؟ اس سبب کی طرف، اور یہاں پر جو فاعلِ مختار کا فعل ہے، اس کی نسبت سبب کی طرف نہیں، تو دونوں میں یہ فرق ہے، وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: بخلاف ما اذا كانت الواسطة المتخللة مضافة الى السبب، بخلاف اس کے کہ جبکہ وہ واسطہ جو بیچ میں آیا ہے اس کی طرف نسبت کی جاتی ہے، وہ اس کی نسبت کی جاتی ہے سبب کی طرف، فانه يضمن صاحب السبب، تو اس میں ضامن ہوگا وہ سبب والا، کسوق الدابة وقودها، جیسے کہ جانور کا ہانکنا اور اس کو آگے سے لے جانا، اذ فعل الدابة وهو التلف مضاف الى السائق والقائد، اس لیے کیونکہ جانور کا جو فعل ہے وہ اور وہ تلف کرنا ہے، وہ تلف ہے، وہ مضاف ہے ہانکنے والے کی طرف اور آگے سے لے جانے والے کی طرف، فيضمنان ما تلف بها، پس یہ دونوں ضامن ہوں گے اس چیز کے جو اس جانور سے تلف ہوا بھئی۔ والرابع شرط اسما لا حکما، چوتھی قسم: شرط اسماً جو شرط ہو باعتبار اسم کے، لا حکماً، نہ کہ حکم کے۔ بھئی پہلی قسم شرط کی تھی جو شرطِ محض ہے، جیسے وہ دخولِ دار تھا، دوسری قسم تھی وہ شرط جو کس کے حکم میں؟ علتوں کے حکم میں، تیسرا تیسری وہ تیسرا وہ تیسری وہ شرط جو سبب کے حکم میں ہو، اب چوتھی قسم آگئی، کہتے ہیں چوتھی قسم وہ شرط ہے جو اسماً شرط ہو، حکماً شرط نہ ہو۔ صورت یہ مثلاً بھئی، ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: اگر تو اس گھر میں گئی اور اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، دو گھروں کی طرف اشارہ کیا، اگر تو اس گھر میں گئی اور اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو یہاں پر شرط طلاق کے لیے ایک گھر میں جانا ہے یا دو گھروں میں جانا؟ دو گھروں میں جانا۔ اب یہ جو پہلے گھر میں جائے گی، یہ ہے چوتھی قسم۔ طلاق کے لیے شرط ہے نا دونوں میں جانا، دونوں میں سے جو پہلا جو شرط پائی گئی ان میں سے، وہ کیا ہے؟ یہ چوتھی قسم ہے، یہ اسماً تو شرط ہے، حکماً شرط نہیں، حکماً تو کیوں نہیں؟ کیونکہ حکماً تو یہ معنی تھا کہ شرط کے پائے جاتے ہی حکم بھی پایا جائے، اور ابھی صرف پہلے گھر میں گئی ہے، تو طلاق کا حکم پایا گیا؟ نہیں، تو یہ حکماً تو شرط نہیں، ہاں اسماً شرط ہے، کیونکہ طلاق کی نسبت اس گھر کی طرف بھی ہوگی یا نہیں جب بعد میں وہ دوسرے گھر میں چلی جائے گی؟ پھر کہا جائے گا: ان دونوں میں گئی تھی اسی لیے طلاق واقع ہوئی، تو یہ شرط تو ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ اسماً شرط ہے، حکماً شرط نہیں۔ کاول الشرطین، جیسے کہ دو شرطوں میں سے پہلی جو ہے، پہلی شرط، في حکم تعلق بهما، ان دونوں شرطوں سے حکم کے تعلق میں بھئی، کہ حکم کیا ہے؟ ان دونوں سے متعلق ہے، ان دونوں میں سے جو پہلی شرط ہوگی جس پر پہلے عمل کیا، وہ یہ چوتھی قسم ہے، اسماً شرط ہے، حکماً شرط نہیں۔ کقوله لامرأته ان دخلت هذه الدار فهذه الدار فانت طالق، جیسے کہ کسی شخص کا قول اپنی بیوی سے: ان دخلت هذه الدار فهذه الدار فانت طالق، کہ اگر تو اس گھر میں گئی پھر اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ فان دخول الدار الذي يوجد اولا يكون شرطا اسما لا حکما، اس لیے کیونکہ پہلے اس گھر میں داخل ہونا، اس گھر میں پہلے داخل ہونا، جو پہلے پایا گیا، وہ شرط ہے اسماً، لا حکماً۔ فان دخول الدار الذي يوجد اولا، یہ الذی صفت ہے دخول کی بھئی، اس لیے کیونکہ اس گھر میں داخل، داخل ہونا، وہ داخل ہونا جو کہ پہلے پایا گیا، یکون شرطاً، وہ شرط ہے اسماً بھی، اسماً شرط ہے لا حکماً، اذ الحكم مضاف الى آخر الشرطين وجودا، اس لیے کیونکہ حکم کی نسبت جو ہے، ان دو شرطوں میں سے جو آخر والی ہوگی باعتبار وجود کے، اس کی طرف نسبت کی جائے گی، دوسرے گھر میں جائے گی تو پھر کیا واقع ہوگی؟ طلاق واقع ہو جائے گی، تو اس کی دوسرے کی طرف نسبت کی جائے گی۔ فهو شرطه اسما وحكما من جميع الوجوه، تو یہ جو آخر میں پائی گئی نا دو شرطوں میں سے باعتبار وجود کے، یہ شرط ہے اسماً بھی اور حکماً بھی من جميع الوجوه، ہر اعتبار سے۔ دوسرے گھر میں جائے گی تو کیا ہو جائے گی؟ طلاق، تو حکماً بھی یہ شرط، کیونکہ اس کے فوراً بعد کیا آیا؟ طلاق آگئی، حکم آگیا، اور اسماً بھی شرط ہے، کیونکہ اس کی طرف طلاق کی نسبت بھی ہے۔ فلو وجد الشرطان في الملك، پس اگر دونوں شرطیں ملکیت کے اندر پائی گئیں، صورت بنائیے بھئی، دونوں شرطیں اگر ملکِ نکاح کے اندر پائی گئیں، تو کیا ہو جائے گی؟ طلاق ہو جائے گی، طلاق ہو جائے گی، اور اگر دونوں شرطیں ملک میں نہ پائی گئیں، دونوں شرطیں نہ پائی گئیں، مثلاً خاوند نے طلاق دے دی، اور اس کے بعد وہ عورت ان دونوں گھروں میں گئی، تو تعلیق ختم ہو جائے گی، پھر بعد میں طلاق واقع نہیں، یا ملکیت کے اندر پہلے یعنی نکاح کا تھا وہ ایک گھر میں چلی گئی، ابھی دوسرے میں نہیں گئی تھی کہ خاوند نے کیا کیا؟ اس کے بعد وہ دوسرے گھر میں گئی، تو دونوں صورتوں میں اب ملک ہی نہیں ہے، لہذا تعلیق کھل جائے گی اور طلاق واقع نہیں، کیونکہ طلاق نے کب واقع ہونا تھا؟ جب دوسرے میں جائے، پہلے میں تو وہ نکاح میں تھی، دوسرے میں تو نکاح میں ہی نہیں ہے، لہذا اب جزا نازل نہیں ہوگی، صورت سمجھ میں آگئی۔ فلوان، فلو وجد الشرطان في الملك، اگر دونوں شرطیں ملکیت میں پائی گئیں، بان بقيت منكوحة له عند وجودهما، بعین طور کہ وہ منکوحہ ہو کر باقی تھی عند وجودهما، ان دونوں شرطوں کے پائے جاتے ہوئے، وہ منکوحہ ہی تھی اس خاوند کی، فلا شك انه ينزل الجزاء، تو پھر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جزا نازل ہوگی۔ وان لم يوجدا في الملك، اور اگر یہ دونوں شرطیں ملک میں نہ پائی گئیں بھئی، کیا دے چکا تھا وہ مثلاً؟ طلاق، دونوں ہی ملک کے بعد پائی گئیں، او وجد الاول في الملك دون الثاني، یا پہلی تو ملکیت میں پائی گئی، پہلے گھر میں تو وہ نکاح کے اندر ہی گئی، اور نہ کہ دوسرے میں، وہاں بعد میں گئی طلاق کے بعد، فلا شك انه لا ينزل الجزاء، تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جزا نازل نہیں ہوگی۔ وان وجد الثاني في الملك دون الاول، اور اگر دوسری ملک میں پائی گئی، اس کا عکس کرو، پہلی خاوند نے تعلیق کر دی، اور اس کے بعد کچھ عرصے بعد خاوند نے طلاق دے دی، ابھی وہ عورت ایک بھی گھر میں نہیں گئی، طلاق دینے کے بعد اب وہ ایک عورت اس ایک پہلے گھر میں چلی گئی، دوسرے میں ابھی بھی نہیں گئی، تو تعلیق کھلی ہے ابھی؟ تعلیق تو ابھی بھی موجود ہے، پھر خاوند نے اس سے نکاح دوبارہ کر لیا، اب وہ دوسرے گھر میں گئی، تو اب یاد رکھیے طلاق واقع ہو جائے گی بھئی، کیونکہ اب شرط پوری ہوئی، اور جب شرط پوری ہوئی اس وقت تو نکاح موجود ہے، لہذا طلاق واقع ہو جائے گی، معلوم ہوا کہ تعلیق کے وقت ملکیت ہونی چاہیے، یعنی منکوحہ ہونی چاہیے، اور دوسری شرط کے پائے جاتے وقت کیا ہونی چاہیے؟ ملکیت ہونی چاہیے بھئی، درمیان میں ملکیت بے شک ختم بھی ہو جائے، اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ فإن وجدت الثانية في الملك دون الأولى بأن أبانها بعين صورت، جگہ جگہ یہ با آرہا ہے جس کو با تصویریہ کہتے ہیں جس کے ذریعے صورت بیان کی جاتی ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا جس کا ترجمہ میں کیسے کرتا ہوں؟ بعین صورت کے، یا یوں کہیں کہ اس کی صورت یہ ہے کہ بأن أبانها زوجها کہ جدا کر دیا اس کو خاوند نے فدخلت الدار الأولى تو وہ داخل ہوئی کس کے اندر؟ پہلے گھر میں، تو دیکھو پہلی شرط پائی گئی عدمِ ملک میں۔ ثم تزوجها پھر خاوند نے اس سے کیا کر لیا؟ نکاح کر لیا، فدخلت الدار الثانية تو پھر وہ دوسرے گھر میں داخل ہوئی۔ ينزل الجزاء تو کیا ہوگی؟ جزا نازل ہوگی وتطلق اور وہ طلاق والی ہو جائے گی عندنا ہمارے نزدیک، لأن المدار على آخر الشرطين اسی کیونکہ دارومدار کس پر تھا؟ دو شرطوں میں سے جو آخر والی تھی اس پر تھا۔ والملك إنما يحتاج إليه في وقت التعليق اور ملکیت جو ہے إنما يحتاج إليه اس کی حاجت ہوتی ہے في وقت التعليق کس وقت؟ تعلیق کے وقت وفي وقت نزول الجزاء اور جزا کے نازل ہوتے وقت، وأما فيما بين ذلك فلا اور باقی ان دونوں کے درمیان میں یعنی تعلیق اور نزولِ جزا کے درمیان کے زمانے میں تو اس میں ملکیت کی ضرورت نہیں۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ وعند زفر رحمه الله لا تطلق، امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک طلاق نہیں ہوگی اس صورت میں۔ کون سی صورت؟ پہلی شرط غیرِ ملک میں ہوئی۔ عدمِ ملک کی صورت میں خاوند نے طلاق دے دی تھی، اب اس کے بعد وہ پہلے گھر میں چلی گئی۔ پھر اس کے بعد نکاح کر لیا اب دوسرے میں گئی، تو ہمارے نزدیک طلاق ہو جائے گی، امامِ زفر رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ طلاق نہیں ہوگی۔ کیوں؟ لأنه يقيس الشرط الآخر على الأول وہ قیاس کرتے ہیں آخر والی شرط کو پہلی پر بھئی۔ آخری شرط کو کس پر قیاس کرتے ہیں؟ بھئی دیکھیے! ملکیتِ نکاح کے ہوتے ہوئے عورت پہلے گھر میں گئی۔ پھر خاوند نے طلاق دے دی۔ اور عدمِ ملکیت کی صورت میں وہ دوسرے گھر میں گئی۔ تو پہلے میں جانے پر طلاق ہوئی تھی؟ نہیں، تو پہلی ملکیت میں ہو اور دوسری نہ ہو تو طلاق واقع تو امام زفر فرماتے ہیں جیسے پہلی کے اندر طلاق نہیں ہوتی تھی، اسی طرح ملکیت میں صرف دوسری پائی جائے تو وہ بھی اس میں بھی طلاق نہیں ہوگی۔ کہتے ہیں لأنه يقيس الشرط الآخر على الأول اسی کیونکہ وہ آخری شرط کو قیاس کرتے ہیں اول پر إذ لو كان الأول يوجد في الملك دون الآخر اسی کیونکہ اگر پہلی شرط جو ہے وہ ملکیت کے اندر پائی گئی نہ کہ دوسری، لا تطلق تو اس میں بالاتفاق طلاق نہیں ہوگی فكذا عكسه تو اسی طرح اس کا عکس بھی ہے کہ اگر پہلی ملک میں نہ پائی گئی اور دوسری ملک میں پائی گئی تو بھی طلاق نہیں ہوگی۔ والخامس شرط هو كالعلامة الخالصة، اور پانچویں قسم وہ شرط ہے جو علامتِ خالصہ ہو، خالص علامت ہو بھئی۔ كالإذاعة في الزنا جیسے کہ احسان ہے زنا کے اندر، محسن ہونا، شادی شدہ ہونا بھئی۔ کہ جیسے کہ احسان في الزنا زنا میں شرط للرجم یہ شرط ہے کس کے لیے؟ رجم، سنگسار کرنے کے لیے، في معنى العلامة اور یہ کس معنی میں ہے؟ علامت کے معنی میں ہے، وقد عدوها تارة في الشرط وتارة في العلامة على ما سيجيء، اور تحقیق علماء اس کو شمار کرتے ہیں کبھی تو کس کے اندر؟ شرط میں شمار کرتے ہیں وتارة في العلامة اور کبھی علامت میں شمار کرتے ہیں بناءً بر اس کے جو عنقریب آ جائے گا جیسے وہ بیان کریں گے۔ ولذلك لم يعده صاحب التوضيح من هذه الأقسام، اور اسی وجہ سے صاحبِ توضیح نے اس کو ان اقسام میں شمار نہیں کیا بھئی، کیونکہ یہ علامتِ محض ہے۔ ثم إنهم بينوا ضابطة يعرف بها الفرق بين الشرط وما في معناه، پھر علماء نے بیان کیا وہ ضابطہ جس کے ذریعے جانا جائے گا فرق کو شرط کے اندر شرط اور وما في معناه جو شرط کے معنی میں ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وما في معناه اور جو علامت کے معنی میں ہے۔ بھئی آگے ضابطہ بیان کریں گے، انہوں نے یہ شرط پانچویں جو ذکر کی کہا یہ علامت ہے دراصل، علماء بعض نے اس کو کیا کہا؟ بعضوں نے اس کو، بعض اس کو شرط میں شمار کرتے ہیں، بعض کس میں شمار کرتے ہیں؟ علامت کے اندر، اسی لیے صاحبِ توضیح نے اس کو شمار ہی نہیں کیا یہاں پر، کیونکہ بعضوں نے اس کو کیا شمار کیا ہے؟ علامت شمار کیا ہے، اور یہ تو بات شرطوں کی چل رہی ہے۔ اب کیسے پتہ چلے گا ہمیں کسی چیز کے بارے میں کہ وہ شرط ہے یا علامت ہے؟ تو اب آپ ضابطہ بیان کرنے لگے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ معنی ہے ثم إنهم بينوا ضابطة پھر علماء نے بیان کیا ایسا ضابطہ يعرف بها الفرق جس کے ذریعے فرق کا کی پہچان ہوگی بين الشرط وما في معناه شرط کے درمیان اور وہ جو وہ جو علامت کے معنی میں ہے۔ على ما قال بناءً بر اس کے جو مصنف نے فرمایا کہ إنما يعرف الشرط بصيغته کہ شرط کو جانا جائے گا اس کے صیغے ہی کے ذریعے، شرط کا پتہ کس سے چلے گا؟ صیغے سے، یعنی حروفِ شرط کے ذریعے شرط کا پتہ چلے گا۔ جیسے إن دخلت الدار، یہ إن کیا ہے؟ حرفِ شرط، اس سے کیا پتہ چلا؟ کہ یہ یہ دخولِ دار شرط ہے، کس نے بتایا آپ کو یہ دخولِ دار شرط ہے؟ إن کے حرف نے آپ کو بتلایا۔ یہ معنی ہے کہ شرط کو پہچانا جائے گا اس کے صیغے کے ذریعے ہی، كحروف الشرط جیسے کہ حروفِ شرط ہیں، مثل قوله جیسے کسی شخص خاوند کا یہ قول: إن دخلت الدار فأنت طالق، تو یہاں إن کے ذریعے پتہ چلا کہ دخولِ دار شرط ہے۔ وفيه تنبيه، اور یہ جو ماتن إنما لے کر آئے ہیں نہ، إنما يعرف الشرط بصيغته، اس میں اس بات پر تنبیہ ہے على أن صيغة الشرط لا تنفك عن معنى الشرط، کہ صیغۂ شرط وہ کبھی بھی معنیٔ شرط سے جدا نہیں ہوتا بھئی۔ کبھی بھی بھئی انہوں نے کیا بتلایا؟ شرط کی پہچان کس سے ہوگی؟ صیغۂ شرط سے، کس سے؟ صیغۂ شرط معلوم ہوا صیغۂ شرط جب بھی آئے گا کیا آ جائے گا؟ معنی، کیونکہ صیغۂ شرط سے تو پہچان ہو رہی ہے، تو جس سے پہچان تو جب بھی صیغۂ شرط آئے گا معلوم ہوا کیا آ جائے گا؟ معنیٔ شرط آئے گا۔ أو دلالته یا کس کے ذریعے پہچان ہوگی شرط کی؟ دلالت کے ذریعے، وهو الوصف الذي يكون في معنى الشرط اور یہ وہ وصف ہے جو شرط کے معنی میں ہو۔ حرفِ شرط تو نہیں لیکن ایسا وصف آیا جو کس کے معنی میں ہے؟ شرط کے معنی میں ہے، تو یہ دلالت کے اعتبار سے پتہ چل گیا شرط کا، كقوله جیسے کسی شخص کا یہ قول: المرأة التي أتزوجها طالق ثلاثاً، وہ عورت جس سے میں نکاح کروں طالق ثلاثاً اسے تین طلاق، کوئی شخص یوں کہتا ہے، فإنه بمعنى الشرط یہ کس معنی میں ہے؟ یہ شرط کے معنی میں ہے دلالةً کس اعتبار سے؟ دلالت بھئی دیکھو إن وغیرہ کوئی حرفِ شرط تو نہیں آیا، لیکن یہ جو اس کا قول ہے المرأة التي أتزوجها طالق ثلاثاً یہ دلالت کے اعتبار سے کس معنی میں ہے؟ شرط ہی کے معنی میں ہے، کیوں بھئی؟ کہتے ہیں لوقوع الوصف في النكرة بوجہ وصف کے واقع ہونے کے نکرہ میں بھئی۔ التي أتزوجها یہ صفت آ گئی کس کی؟ المرأة کی، تو نکرہ کی صفت آ گئی اور فلہٰذا یہ شرط کے درجے میں۔ نکرہ کی کیا آ گئی؟ صفت۔ آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا المرأة یہ نکرہ تو نہیں یہ تو معرفہ ہے، اور التي أتزوجها یہ صفت بھی معرفہ ہے، تو یہ تو معرفہ کی صفت آ رہی ہے، اور مصنف کیا کہہ رہے ہیں؟ کہ نکرہ کی صفت کی وجہ سے یہاں پر شرط کا معنی آگیا۔ شرط کا بھئی دیکھیے! آپ نے پڑھا ہے کبھی مبتدا متضمن ہوتا ہے معنیٔ شرط کو تو اس کی خبر پر فاء کا لانا جائز۔ اور وہ دو قسم کے مبتدا ہیں۔ ایک وہ مبتدا جو نکرہ ہے اور اس کی صفت فعل یا ظرف ہو۔ اس کی صفت فعل یا ظرف ہو۔ كل رجل يأتيني فله درهم. یا كل رجل في الدار فله درهم. تو كل رجل نکرہ ہے اور اس کی صفت يأتيني فعل آیا، یا اس کی صفت في الدار ظرف آیا، تو یہ متضمن ہوا کس کو؟ معنیٔ شرط کو، لہٰذا اس کی خبر فله درهم پر فاء داخل کرنا جائز۔ تو یہ دراصل مبتدا ہے، فاء کو دیکھ کر آپ شرط اور جزا نہ بنانا شروع کر دیں، یہ مبتدا اور خبر ہیں، ہاں لیکن یہ خبر پر فاء کیوں آئی؟ کیونکہ مبتدا میں کون سا معنی تھا؟ شرط والا، اور وہ کون سا مبتدا تھا؟ نکرہ جس کی صفت فعل آئے یا نکرہ جس کی صفت ظرف ائے۔ اسی طرح وہ اسمِ موصول، وہ مبتدا جو اسمِ موصول ہو اور اس کے اس کا صلہ فعل یا ظرف ہو، وہ بھی متضمن ہوتا ہے معنیٔ شرط کو، لہٰذا اس کی خبر پر بھی فاء کا لانا جائز، جیسے الذي يأتيني فله درهم يا الذي في الدار فله درهم بھئی۔ تو معلوم ہوا نکرہ کی صفت آ جائے تو وہ متضمن ہوتا ہے معنیٔ شرط کو۔ لیکن یہاں پر تو یہ نکرہ کی صفت نہیں آئی بھئی، یہ تو معرفہ ہے المرأة الف لام اس پر داخل ہے، شارح آپ کو بتلائیں گے۔ کہ جب اس کے ذریعے کسی معین کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا، تو یہ بھی نکرہ کے درجے میں ہوا۔ تو معلوم ہوا نکرۂ نحوی مراد نہیں ہے بلکہ معنوی اعتبار سے نکرہ مراد ہے یہاں پر بھئی، کیا مراد ہے؟ معنوی اعتبار سے کہ المرأة التي أتزوجها وہ عورت جس سے میں نکاح کروں، کوئی متعین عورت ذکر کی؟ نہیں، تو جب متعین ذکر نہیں کی تو یہ کس کے درجے میں ہے؟ نکرہ کے درجے میں ہے، لہٰذا یہ یہاں شرط کا معنی آ جائے گا۔ خود بتلا رہے ہیں بھئی، أي أي لامرأة الغير المعينة بالإشارة أي لامرأة الغير المعينة بالإشارة یعنی وہ عورت، وہ عورت الغير المعينة بالإشارة جو اشارے کے ساتھ متعین نہ ہو۔ ترجمے پہ نظر ہے؟ بالإشارة کا تعلق معينة سے ہے بھئی۔ اور ان دونوں پر پھر لفظِ غیر داخل ہوا، ایک ہے معین بالإشارة، اس پر کیا لفظ داخل کر دیا؟ غیر، یعنی جو معین بالإشارة نہ ہو، تو وہ عورت، أيلامرأة الغير المعينة بالإشارة وہ عورت جو اشارے کے ساتھ متعین نہ ہو۔ لا النكرة النحوية نہ کہ نکرۂ نحوی، تو نحوی سے مراد یہ یہاں نکرہ سے مراد جو معین نہ ہو اشارے کے ساتھ۔ إذ هي معرفة باللام کیونکہ یہ تو معرف باللام ہے، تو یہاں کون سا نکرۂ نحوی مراد نہیں ہے بلکہ کون سا نکرہ مراد ہے جو اشارے کے ساتھ متعین نہ ہو۔ إذ هي معرفة باللام کیونکہ یہ امرأة کا لفظ جو ہے یہ تو معرف باللام ہے جو متن میں آیا فلما دخل توسط التزوج في المنكرة پس جب تزوج کا وصف داخل ہوا التي أتزوجها یہ تزوج کا وصف داخل ہوا کس کے اندر؟ نکرہ میں، وهو معتبر في الغائب اور وصف معتبر ہے غائب کے اندر۔ کس کے اندر؟ غائب میں یاد رکھیے وصف کا اعتبار ہے، اور جو حاضر ہو اس میں وصف کا اعتبار نہیں۔ وصف کا اعتبار نہیں، اور یہاں کس کی طرف اشارہ ہے؟ کوئی حاضر ہے؟ نہیں، حاضر نہیں، اور ذکر کیا وصف، تو اب وصف معتبر ہے۔ تو گویا نکرہ کا وصف آیا، اور نکرہ کا وصف آیا تو کون سا معنی پیدا ہو گیا؟ شرط والا معنی پیدا ہو گیا، اور اگر کوئی حاضر عورت تھی، موجود عورت تھی، وہاں پر یہ التي أتزوجها والی صفت لے کر آیا۔ تو پھر اس صورت میں حاضر کے اندر وصف معتبر نہیں، کیونکہ وہ تو سامنے موجود ہے، اشارے کے ذریعے جب متعین ہو رہا ہے تو وصف کی کوئی ضرورت نہیں، تو لہٰذا وہاں پر وصف معتبر نہیں، جب وصف معتبر نہیں تو وہاں پر شرط والا معنی بھی نہیں آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں وهو معتبر في الغائب اور وہ یہ جو وصف ہے غائب کے اندر معتبر ہے، يصلح دلالة على الشرط یہ صلاحیت رکھتا ہے شرط پر دلالت کرنے کی، فصار كأنه تو گویا اسی طرح ہو گیا كأنه قال گویا کہ اس نے یوں کہا ہے: إن تزوجت امرأة فهي طالق اگر میں کسی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق ہے، گویا یوں کہا اس نے۔ ولو وقع في المعين اور اگر یہ وصف واقع ہو کس کے اندر؟ معین کے اندر، یعنی جو اشارے کے ساتھ متعین ہے، بأن يقول بایں طور کہ یوں کہتا ہے: هذه المرأة التي أتزوج فهي طالق، تو یہ تو معین ہے موجود ہے، لہٰذا اس کے اندر وصف کا اعتبار نہیں، لہٰذا گویا اس نے یوں کہہ دیا: هذه المرأة طالق. هذه المرأة وصف کا تو اعتبار نہیں، تو گویا یوں کہہ دیا: یہ عورت کیا ہے؟ اسے طلاق، اور وہ اس کی بیوی تو ہے نہیں۔ کہہ رہا ہے نہ التي أتزوجها تو لہٰذا یہ اس کی بیوی تو ہے نہیں، یہ تو اجنبیہ ہے، اور اجنبیہ سے کہہ رہا ہے هذه المرأة طالق تو کیا طلاق ہوگی؟ یہاں طلاق نہیں اور طلاق معلق بھی نہیں ہوگی۔ ہاں غیرِ معین کے بارے میں جب کہا تھا تو وہ معناً شرط آ گئی تھی لہٰذا وہاں تعلیق آ گئی بھئی۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں برخلاف اس کے اگر وہ یوں کہتا ہے هذه المرأة التي أتزوج فهي طالق لم يصلح دلالة على الشرط، تو یہ صلاحیت نہیں رکھتا شرط پر دلالت کرنے کی، لأن الوصف في الحاضر لغو اسی کیونکہ حاضر کے اندر وصف لغو ہوتا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا، إذ الإشارة أبلغ من الت أبلغ في التعريف من الوصف اسی کیونکہ اشارہ زیادہ بلیغ ہے پہچان کروانے میں وصف کے مقابلے میں۔ یہاں پر اب اشارہ ہو رہا ہے تو وصف کا اعتبار نہیں، کیونکہ اشارے سے ایک چیز کی جتنی پہچان ہوتی ہے وصف سے اس چیز کی اتنی پہچان نہیں بھئی، کیونکہ اشارے کے سامنے تو چیز نظر کے سامنے موجود ہے، وصف کے اندر سارے اوصاف تو سامنے نہیں ایک وصف آ جاتا ہے۔ فكأنه قال گویا کہ اس شخص نے یوں کہا: هذه المرأة طالق اس عورت کو کیا ہے؟ یہ اس کو طلاق ہے، التي أتزوجکا تو کوئی اعتبار ہی نہیں، فيلغو في الأجنبية تو اس کا یہ کلام لغو ہو جائے گا اجنبیہ میں۔ ونص الشرط يجمع الوجهين اور شرط کی تصریح کر دینا، شرط کی نص کس معنی میں ہے یہاں؟ تصریح کے، اور شرط کی تصریح جو ہے يجمع الوجهين یہ دونوں صورتوں کو جمع کر دیتی ہے۔ بھئی دیکھیے! انہوں نے کہا وصف کا اعتبار غائب میں تو کیا جائے گا، حاضر میں اعتبار لہٰذا جب غائب میں معتبر ہے تو شرط دلالتًا آئے گی، اور حاضر میں چونکہ وصف معتبر نہیں لہٰذا وہاں شرط دلالتًا نہیں۔ لیکن اگر شرط کی تصریح کر دیتا ہے یعنی حرفِ شرط لے آتا ہے، اگر حرفِ شرط لائے گا، تو پھر چاہے وہ حاضر ہو، چاہے غائب ہو، دونوں کے اندر مؤثر ہوگا، دونوں میں تعلیق آ جائے گی۔ کیونکہ وہ باقاعدہ کیا لے آیا؟ حرفِ شرط کو لے آیا ہے، پہلے تو دلالتًا شرط کی بات ہو رہی تھی، دلالتًا شرط حاضر میں مؤثر نہیں، ہاں غائب میں مؤثر، لیکن یہاں پر کیا کر رہا ہے وہ؟ حرفِ شرط کو، حرفِ شرط چاہے وہ غائب کے لیے لائے، چاہے حاضر کے لیے لائے، دونوں جگہ اپنا اثر دکھائے گا اور دونوں جگہ تعلیق ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے ونص الشرط يجمع الوجهين اور شرط کی تصریح جو ہے یہ دونوں صورتوں کو جمع کر دے گا، أي المعينة وغير المعينة یعنی معین کو اور غیرِ معین دونوں کو جمع کر دے گا، حتى لو قال یہاں تک کہ اگر کسی نے کہا یوں کہا: إن تزوجت امرأة فهي طالق اگر میں نکاح کسی عورت سے کروں تو اسے طلاق، تو دیکھو غائب کے بارے میں کہا، یا یوں حاضر کے بارے میں کہا: أو إن تزوجت هذه المرأة فهي طالق اگر میں اس عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق، چاہے غائب کے بارے میں کہے، چاہے حاضر کے بارے میں کہے، يقع الطلاق بالتزوج في الصورة تو طلاق واقع ہو جائے گی نکاح کرنے سے دونوں صورتوں میں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ والرابع العلامة وهي ما يعرف الوجود من غير أن يتعلق به وجوب ولا وجود، اور چوتھی چیز علامت ہے۔ آپ نے پڑھا تھا حکم سے متعلق کتنی چیزیں ہیں؟ چار چیزیں متعلق ہیں حکم سے، نمبر ایک؟ سبب، نمبر دو؟ علت، نمبر تین؟ شرط، نمبر چار؟ علامت، اب علامت کا بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں والرابع العلامة اور چوتھی چیز جو ہے وہ علامت ہے، وهي ما يعرف الوجود یہ وہ چیز ہے جو وجود کی پہچان کرواتی ہے، صرف کیا کرتی ہے؟ وجود کی صرف پہچان کرواتی ہے، من غير أن يتعلق به وجوب ولا وجود بغیر اس کے کہ اس کے ساتھ تعلق ہو وجوب کا اور وجود کا بھئی۔ فقوله ما يعرف الوجود احتراز عن السبب، پس جو ماتن کا قول ہے نہ ما يعرف الوجود جو وجود کی پہچان کرواتی ہے، احتراز عن السبب یہ احتراز ہے کس سے؟ سبب سے، سبب نکل گیا اس قید کے ذریعے، إذ هو مفض لا معرف، اس کیونکہ سبب جو ہوتا ہے تو پہنچانے والا ہوتا ہے، پہچان کروانے والا نہیں۔ اور قولہ من غیر ان یتعلق بہ وجوب، اور ماتن نے کہا نا کہ بغیر اس کے کہ اس کے ساتھ وجوب کا تعلق ہو۔ کہتے ہیں اعتراض علی العلت۔ اس کے لیے اعتراض ہوا کس سے؟ علت سے۔ کیونکہ علت کے ساتھ کس چیز کس چیز کا تعلق ہوتا ہے؟ وجوب کا۔ تو انہوں نے کہا وجوب کا تعلق نہ ہو تو کیا نکل گئی؟ علت۔ ولا وجود اعتراض علی الشرط۔ اور لا وجود کی جو قید ہے، اس کے لیے اعتراض ہے کس سے؟ شرط۔ کیونکہ شرط کے ساتھ کس چیز کا تعلق ہوتا ہے؟ وجود کا۔ اور انہوں نے کہا اس میں وجوب کا بھی تعلق نہ ہو، تو یہ شرط بھی نکل گئی، تو صرف علامت رہ گئی۔ کالإحصان فی باب الزنا، جیسے کہ محصن ہونا ہے باب زنا میں، فانّہ علامۃ للرجم، کیونکہ یہ رجم کی علامت ہے۔ بھئی، احصان کہتے کس کو ہیں؟ تعریف کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وھو عبارۃ عن کون الزانی حرا مسلما مکلفا وطئ بنکاح صحیح مرّۃً۔ کہ احصان وہ عبارت ہے عن کون الزانی حرا، کہ وہ زنا کرنے والا آزاد ہو۔ مسلما، مسلمان ہو۔ مکلفا، مکلف ہو، یعنی عاقل بالغ ہو۔ احکام کا مکلف کون ہے بھئی؟ عاقل بالغ۔ تو عاقل بالغ ہو۔ وطئ بنکاح صحیح مرّۃً، اور اس نے صحبت کی ہو نکاح صحیح کے ساتھ ایک مرتبہ۔ نکاح صحیح کے ساتھ ایک مرتبہ۔ اور نیز اس کی جو بیوی جس سے اس نے صحبت کی، اس میں بھی یہ شرطیں پائی جائیں۔ یعنی وہ بھی آزاد ہو۔ وہ بھی مسلمان ہو۔ وہ بھی عاقل بالغ ہو۔ اور اس نے اس کے ساتھ نکاح صحیح کیا ہو۔ تو پھر احصان ثابت ہوگا۔ معلوم ہوا اگر ایک شخص کی بیوی ہے لیکن وہ اہل کتاب میں سے ہے، عیسائی یا یہودی، تو یہ شخص محصن نہیں۔ کیونکہ یہ شخص آزاد بھی ہے، مسلمان بھی ہے، عاقل بالغ بھی ہے، نکاح صحیح بھی کیا ہوا ہے، لیکن بیوی کیا ہے، اس کے اندر بھی یہ شرطیں تھیں اور وہ تو مسلمان نہیں۔ لہٰذا یہ محصن نہیں۔ بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ شرطیں بیوی کے اندر بھی ہوں بھئی۔ فتکلیف تو یہ ہے مولانا احصان بھئی۔ بس احصان سمجھ میں آگیا بھئی؟ فتکلیف شرط فی سائر الاحکام، پس یہ جو تکلیف یعنی مکلف ہونا، مکلف ہونا یہ تو شرط ہے تمام احکام میں، یعنی عاقل بالغ ہونا، یہ تو جی، یہ تمام احکام میں شرط ہے۔ والحریّۃ لتکمیل العقوبۃ، اور یہ حریّت کی قید ہے، یہ سزا کی تکمیل کے لیے ہے تاکہ کامل درجے کی سزا دی جا سکے۔ کیا ہو؟ کامل درجے کی سزا دی جا سکے۔ وانّما العمدۃ ھاہنا، اور یہاں پر عمدہ اور اعلیٰ جو ہیں، ان سب شرطوں میں سے جو عمدہ اور اعلیٰ ہیں، ھی الاسلام والوطء بنکاح الصحیح، وہ اسلام ہے اور وطء ہے بنکاح صحیح صحیح نکاح کے ساتھ۔ وانّما جعلناہ علامۃً لا شرطاً، اور ہم نے اس کو علامت بنایا نہ کہ شرط۔ ہم نے اس کو علامت قرار دیا، شرط نہیں قرار دیا۔ کیوں؟ کہتے ہیں لانّ الزنا اذا تحقق، اس لیے کیونکہ زنا جب پایا جائے، زنا جب پایا جائے لا یتوقف انقادہ علّۃً للرّجْمِ، ترجمے پہ نظر رکھنا بھئی۔ اس لیے کیونکہ زنا جب پایا جائے، لا یتوقف، تو موقوف نہیں ہے۔ کیا چیز موقوف نہیں ہے؟ انقادہ علّۃً للرّجْمِ، اس زنا کا رجم کے لیے علت من عقد ہونا، علت بننا۔ زنا جب پایا جائے، ایک شخص نے زنا کر لیا اور زنا کے بعد پھر اس نے احصان والی شرائط بعد میں پوری کیں، بعد میں محصن بنا، زنا کے وقت محصن نہیں تھا۔ بعد میں کیا بن گیا؟ محصن بن گیا۔ تو اب دیکھو، زنا بھی پایا جا رہا ہے اور شرط بھی پوری ہو گئی ہے یا نہیں؟ اب کیا حکم لگائیں گے؟ اس کو رجم کرنا چاہیے یا کوڑے لگانے چاہیے؟ توجہ ہے سبق کی طرف کہ نہیں ہے؟ اچھا دیکھو بھئی۔ ایک شخص نے زنا کیا۔ زنا کرنے کے بعد اس وہ محصن بنا۔ پہلے محصن نہیں تھا، اس کے بعد اس سے نکاح وغیرہ کیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اب اس شخص کو اگر چار گواہ پیش ہو جاتے ہیں زنا کے بارے میں، آپ کیا کہیں گے؟ اس کو رجم کیا جائے یا کوڑے لگائے جائیں؟ کوڑے لگائے جائیں۔ جی؟ کوڑے لگائے جائیں۔ شاباش۔ کوڑے لگیں گے ظاہر سی بات ہے کیونکہ جس وقت زنا کیا تھا، اس وقت تو محصن نہیں تھا، محصن تو بعد میں بنا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں یہاں پر۔ کہتے ہیں لانّ الزنا اذا تحقق، اس لیے کیونکہ زنا جب پایا جائے، بات یہ ذکر کر رہے ہیں نا کہ ہم نے اس کو علامت قرار دیا ہے، شرط قرار نہیں دیا۔ کیونکہ اگر اس کو شرط قرار دیا جائے تو زنا کے بعد محصن ہو جائے، تو شرط تو پائی گئی، لہٰذا اس کو اب کیا کرنا چاہیے؟ رجم کرنا چاہیے۔ حالانکہ رجم تو نہیں کرنا بلکہ کیا کرنا ہے یہاں پر؟ کوڑے ہی لگانے ہیں۔ اس لیے ہم نے اس کو شرط نہیں قرار دیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ شرط اگر قرار دے دیں گے تو زنا علت بن جائے گا کس کے لیے؟ رجم کے لیے، حالانکہ یہ زنا، یہ تو علت بن ہی نہیں سکتا کس کے لیے؟ رجم کے لیے بھئی۔ حالانکہ شرط کے پائے جانے کے بعد علت کا انعقاد ضروری ہوتا ہے۔ جیسے ان دخلت داراً فأنت طالق، دخول دار ہوتے ہی أنت طالق علت بنے گا یا نہیں طلاق کے لیے؟ তো شرط بعد میں بھی چاہے پائی جائے، لیکن علت، علت بن جاتی ہے اور حکم آ جاتا ہے، لیکن یہاں پر ایسا نہیں۔ لہٰذا اس کو شرط نہیں کہیں گے، بلکہ کیا کہنا پڑے گا؟ علامت۔ اگر شرط کہتے ہو تو جیسے وہاں پر دخول دار کے بعد أنت طالق کیا بن جاتا تھا؟ علت بن جاتا تھا کس چیز کے لیے؟ وقوع طلاق کے لیے۔ تو یہاں پر بھی، اگر اس کو شرط کہیں، تو زنا کرنے کے بعد بھی جب احصان پایا گیا تو وہ زنا علت بن جائے گا کس چیز کے لیے؟ رجم کے لیے علت بن جائے گا کیونکہ شرط پائی جا رہی ہے اور لہٰذا اب رجم بھی اس کو کرنا چاہیے۔ لیکن حالانکہ ایسا تو نہیں، اسی لیے ہم نے اس کو شرط نہیں قرار دیا، بلکہ کیا قرار دیا؟ علامت۔ وانّما جعلناہ علامۃً لا شرطاً، اور ہم نے اس کو علامت قرار دیا نہ کہ شرط۔ لانّ الزنا اذا تحقق، اس لیے کیونکہ زنا جب پایا جائے تو لا یتوقف انقادہ علّۃً للرّجْمِ، تو موقوف نہیں ہے اس کا رجم کے لیے علت ہو کر منعقد ہونا۔ اس زنا کا رجم کے لیے علت ہو کر منعقد ہونا، یہ موقوف نہیں ہے علی احسان یحدث بعدہ، اس احصان پر جو اس کے بعد پیش آئے، اس کے بعد پیدا ہو بھئی۔ اذ لا وجد الاحسان بعد الزنا، اس لیے کیونکہ اگر احصان زنا کے بعد پایا گیا، لا یثبت بوجودہ الرّجْمُ، تو اس کے پائے جانے سے رجم ثابت نہیں ہوگا۔ وعدم کونہ علّۃً وسبباً ظاھر، اور اس کا علت اور سبب نہ ہونا تو ظاہر ہے، احصان کا۔ علت اور سبب نہ ہونا تو ظاہر ہے بھئی۔ یہ علت بھی نہیں کیونکہ جو بھی محصن ہوگا، کیا اس پر رجم آئے گا؟ نہیں۔ اور کیا یہ محصن ہونا یہ مفضی الی الرّجْمِ ہے؟ تو علت بھی نہیں، سبب بھی نہیں، یہ بات تو ظاہر تھی۔ ہاں، شرط کیوں نہیں کہا آپ نے؟ علامت کیوں قرار دیا؟ اس میں تھوڑا خفا تھا، اس کو انہوں نے بیان کر دیا۔ فعُلِمَ، پس جان لیا گیا انّہ عبارۃ عن حال فی الزّانی یصیر بہ الزّنا فی تلک الحالۃ موجباً للرّجْمِ۔ پس معلوم ہوا کہ یہ احصان جو ہے، یہ عبارت ہے ایک ایسے حال سے فی الزّانی، کس کے اندر؟ جو زانی میں ہوتا ہے، یصیر بہ الزّنا، کہ اس کے ذریعے زنا ہو جاتا ہے فی تلک الحالۃ، اس حالت میں موجباً للرّجْمِ، کس چیز کو ثابت کرنے والا؟ رجم کو ثابت کرنے والا۔ وھو معنی کونہ علامۃً، اور یہی معنی ہے اس کے علامت ہونے کا۔ وھذا عند بعض المتأخرین، اور یہ بعض متاخرین کے نزدیک ہے۔ کہ یہ احصان علامت ہے، شرط نہیں۔ ومختار الاکثر، اور اکثر کا پسندیدہ مذہب یہ ہے کہ انّہ شرط لوجوب الرّجْمِ، کہ احصان جو ہے، وہ وجوب رجم کے لیے شرط ہے۔ اکثر نے اس کو شرط قرار دیا ہے۔ لانّ شرط ما یتوقف علیہ وجود الحکم، اس لیے کیونکہ شرط وہ چیز ہوتی ہے جس پر حکم کا وجود موقوف ہوتا ہے۔ شرط کسے کہتے ہیں؟ حکم کا وجود موقوف ہوتا ہے۔ اور جب احصان ہے تو رجم آئے گا یا نہیں زنا کے اندر؟ رجم آئے گا زنا کے اندر بھئی۔ کہتے ہیں لانّ شرط ما یتوقف علیہ وجود الحکم، اس لیے کیونکہ شرط وہ ہے جس پر حکم کا وجود موقوف ہوتا ہے۔ والاحسان بھذہ المضافۃ، اور احصان بھی اسی درجے کا ہے۔ اذ الزّنا لا یوجب الرّجْمَ بدونہ، اس لیے کیونکہ زنا رجم کو ثابت نہیں کرتا بغیر اس احصان کے۔ کالسّرقۃ لا توجب القطع بدون النّصاب، جیسے کہ چوری جو ہے، وہ واجب نہیں کرتی قطع کو یعنی ہاتھ کے کاٹنے کو بغیر نصاب کے۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ نصاب کے بقدر چوری کی ہو تب چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ورنہ نہیں۔ اور نصاب کتنا ہے؟ دس درہم۔ کم از کم دس درہم چوری کی ہو تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا، اگر دس درہم سے کم کی چوری کی تو پھر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ یہ معنی ہے کالسّرقۃ لا توجب القطع بدون النّصاب، جیسے کہ چوری جو ہے، وہ قطع کو واجب نہیں کرتی بغیر نصاب کے بھئی۔ تو دس درہم کی چوری کرے، تو ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ تو بہرحال فاسق نے اعتراض کیا اشعار کی صورت میں اور بغداد کے چوک میں اشعار لکھ کر لٹکا دیے۔ کہ یہ کیسا اسلام ہے، کس طرح کی باتیں سکھلاتا ہے؟ بعض بے دین لوگوں نے اعتراض کیا اسلام پر یہ کیسا اسلام ہے، کس طرح کی باتیں سکھاتا ہے؟ کہ کسی شخص کا ہاتھ کوئی کاٹ دے تو آپ کہتے ہیں اس پر پچاس اونٹ آ گئے۔ پچاس اونٹ ایک ہاتھ کی قیمت رکھی آپ نے اور دوسری طرف کوئی آدمی دس درہم کی چوری کر لے تو دس درہم کے اندر ہی اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ کبھی تو کہتے ہو ہاتھ کی قیمت پچاس اونٹ ہے، کبھی کہتے ہو ہاتھ کی قیمت دس درہم ہے بس۔ تو اعتراض سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو علماء نے اس کا پھر یہ اشعار کی صورت میں اعتراض کیا تھا اور علماء نے بھی ہمارے اشعار ہی کی صورت میں جواب دیا۔ اور عجیب جواب دیا مولانا کہ بھئی جب تک یہ ہاتھ عزت والا کام کرتا رہا، معزز تھا، اس کی قیمت پچاس اونٹ تھی اور جب اس نے ذلت والا کام کیا تو اس کی قیمت گھٹ کر صرف دس درہم رہ گئی بھئی۔ کالسّرقۃ لا توجب القطع بدون النّصاب، جیسے چوری جو ہے، وہ قطع یعنی ہاتھ کے کاٹنے کو واجب نہیں کرتی بدون النّصاب بغیر نصاب کے تو جیسے نصاب وہاں شرط ہے، یہاں پر احصان شرط ہے۔ یہ اکثر کے نزدیک۔ بہرحال متن میں کیا بتایا کہ احصان شرط نہیں بلکہ علامت ہے اور اکثر کس طرف گئے ہیں کہ احصان شرط ہے۔ تو متن میں انہوں نے علامت ہی قرار دیا اور اسی کی بات آگے بیان کر رہے ہیں۔ حتی لا یضمن شہودہ، یہاں تک کہ ضامن نہیں ہوں گے احصان کے گواہ اذا رجعوا، جب وہ رجوع کر لیں, بحال، کسی بھی حال میں۔ بھئی دیکھیے، ایک شخص کے بارے میں چار گواہوں نے گواہی دی کہ اس نے زنا کیا ہے اور اس کا احصان کہ ابھی دو گواہوں نے گواہی سے ثابت کر دیا۔ تو اب اس شخص کو رجم کر دیا گیا، بعد میں جن گواہوں نے محصن ہونے کی گواہی دی تھی، انہوں نے رجوع کر لیا کہ ہم سے غلطی ہوئی، ہم نے جھوٹی گواہی دی تھی۔ تو کیا اب ان پر ضمان آئے گا؟ کہتے ہیں نہیں بھئی، ان پر ضمان نہیں۔ کیوں نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ احصان صرف علامت ہے، وہ شرط نہیں۔ لہٰذا یہاں ضمان نہیں آئے گا۔ دیکھیے تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں تفرع علی کون الاحسان علامۃً لا شرطاً، یہ تفریع ہے احصان کے علامت ہونے پر، علامت ہونے اور شرط نہ ہونے پر۔ یعنی اذا رجع شہود الاحسان بعد الرّجمِ، یعنی جب رجوع کر لیا احصان کے گواہوں نے رجم کے بعد، لا یضمنون دیۃ المرجوم تو وہ ضامن نہیں ہوں گے رجم کیے ہوئے شخص کی دیت کے۔ بحالٍ کسی بھی حال میں۔ کیا معنی کسی بھی حال میں؟ ای سواء رجعو وحدھم او مع شہود الزّنا ایضاً۔ یعنی چاہے صرف اکیلے انہوں نے نہیں رجوع کیا ہو اور مع شہود الزّنا ایضاً یا انہوں نے زنا کے گواہوں کے ساتھ ساتھ رجوع کیا، انہوں نے بھی رجوع کر لیا اور انہوں نے۔ تو چاہے یہ اکیلے رجوع کریں، چاہے ان کے ساتھ رجوع کریں، کسی بھی صورت میں ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ لانّہ علامۃ، کیونکہ احصان تو علامت ہے، لا یتعلق بھا وجوب ولا وجود۔ اور علامت جو ہے تو اس کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا نہ وجوب کا اور نہ وجود کا۔ ولا یجوز اضافۃ الحکم الیہ، اور جائز نہیں ہے حکم کی نسبت اس کی طرف کرنا۔ بخلاف ما اذا اجتمع شہود الشرط والعلّت، بخلاف اس کے کہ جب جمع ہو جائیں شرط اور علت کے گواہ۔ شرط اور علت کے گواہ۔ صورت مسئلہ یہ ہے۔ دو آدمیوں نے آ کر گواہی دی، دو آدمیوں نے آ کر گواہی دی کہ اس شخص نے اپنی بیوی سے ہمارے سامنے یہ کہا تھا ان دخلت داراً فأنت طالق۔ ہمارے سامنے یہ کہا تھا۔ تو یہ گواہ ہوئے کس چیز پر؟ علت پر۔ أنت طالق کیا ہے؟ طلاق کے لیے علت۔ تو یہ گواہ ہو گئے علت پر۔ اور دو اور گواہ عورت نے پیش کر دیے جنہوں نے گواہی دی کہ پھر یہ عورت اس کے بعد اس گھر میں بھی گئی تھی۔ پہلے دو گواہوں نے گواہوں نے گواہی دی علت پر، دوسرے دو گواہوں نے گواہی دی اس شرط کے پائے جانے پر۔ تو قاضی نے کیا فیصلہ کر دیا؟ طلاق کا فیصلہ کر دیا۔ طلاق کا فیصلہ کر دیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں پر یاد رکھیے، اگر صرف شرط والوں نے رجوع کر لیا۔ ایک ہیں علت والے، ایک شرط والے۔ صرف شرط والوں نے رجوع کیا تو بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ ان پر ضمان آئے گا۔ ان پر ضمان آئے گا۔ حکم کی نسبت اس کی طرف کی جائے گی۔ لیکن یہ جو احصان ہے، یہ تو علامت ہے، اس کی طرف حکم کی نسبت نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں ولا یجوز اضافۃ الحکم الیہ، اور جائز نہیں ہے حکم کی نسبت اس احصان کی طرف کرنا۔ بخلاف ما اذا اجتمعت شہود الشرط والعلّت، بخلاف اس کے کہ جب جمع ہو جائیں شرط اور علت دونوں کے گواہ۔ بان شہد اثنان بقولہ بعید طور کہ گواہی دی دو آدمیوں نے بقولہ خاوند کے اس قول پر ان دخلت داراً فأنت طالق، دونوں نے اس کی گواہی دی۔ وشہد اثنان بدخول الدار، اور دونوں نے گواہی دی دخول دار پر۔ ثم رجع شہود الشرط وحدھم، پھر شہود شرط نے رجوع کر لیا اکیلے ہی۔ فانہّم یضمنون عند بعض المشائخ، فاسیے یہ ضامن ہوں گے بعض مشائخ کے نزدیک۔ لانّ شرط صالح لخلافۃ العلت، اس لیے کیونکہ شرط وہ صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ علت کے نائب بن جائے، جب ممکن نہ ہو حکم کی نسبت علت کی طرف کرنا۔ بھئی دیکھیے۔ دونوں نے گواہی دی تھی علت پر اور دونوں نے گواہی دی شرط پر۔ اور پھر شرط والوں نے رجوع کر لیا کہ ہم نے جھوٹی گواہی دی تھی۔ تو بعض مشائخ کیا فرماتے ہیں، ان پر ضمان آئے گا۔ خاوند کو ان کی وجہ سے اب کیا دینا پڑا؟ مہر بیوی کو دینا پڑا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ نصف مہر والی صورت بنا لیں بھئی۔ تو لہٰذا اب ان پر ضمان آئے گا۔ صورت کس میں بنائی؟ نصف۔ صحبت سے پہلے والی صورت بناؤ کیونکہ صحبت کر چکا ہے، پھر تو صحبت کی وجہ سے مہر پکا ہو چکا۔ ان گواہوں کی وجہ سے مہر پکا نہیں ہوا۔ ہاں، صحبت سے پہلے اگر طلاق دے تو خاوند پر نصف مہر آتا ہے، لیکن وہ نصف مہر بھی ہو سکتا ہے وہ بھی نہ آئے بھئی، کہ ہو سکتا ہے عورت مرتد ہو جائے، تو وہ نصف تو اس صورت میں بھی نکاح ٹوٹ جائے گا، لیکن اس کا سبب کون بنی؟ عورت، لہٰذا اب نصف مہر بھی اس کو نہیں ملے گا۔ تو یہ نصف مہر خاوند پر پکا ہے یا اس کے زائل ہونے کا امکان ہے؟ زائل ہونے کا امکان ہے۔ لیکن ان دو گواہوں نے اب کیا کر دیا؟ پکا کر دیا۔ ان کی وجہ سے اب خاوند کو نصف مہر دینا ہی پڑا۔ تو اب ان پر وہ ضمان آئے گا۔ کیونکہ یہاں پر شرط پر گواہی دینے والے ایک ہے شرط، ایک ہے علت۔ علت والوں نے تو رجوع کیا ہی نہیں۔ علت والوں نے رجوع کیا ہی نہیں۔ تو لہٰذا اب حکم کی نسبت جو ہے وہ علت والوں کی طرف تو نہیں کی جا سکتی، تو کس کی طرف کرنا پڑے گی؟ شرط کی طرف۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ کیونکہ شرط صلاحیت رکھتی ہے علت کی خلافت کے، علت کے نائب ہونے کا، عند تعذر إضافة الحكم إليها، جس وقت حکم کی نسبت کرنا علت کی طرف ممکن نہ ہو۔ یہاں علت کی طرف حکم کی نسبت نہیں کر سکتے۔ کس کی طرف؟ تاوان کا یہ نقصان ان دو گواہوں کی وجہ سے نہیں ہے جو علت پر گواہی دے رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے تو رجوع نہیں کیا، تو پھر کس کی طرف نسبت کرنا پڑے گی؟ شرط والے جنہوں نے رجوع کیا اس کی طرف نسبت کرنا پڑے گی، لہٰذا ان پر ضمان آئے گا۔ تو یہاں پر علت والوں نے رجوع کیا ہی نہیں، ان کی طرف حکم کی نسبت کی نہیں جا سکتی، تو مجبورا پھر کس کی طرف کرنا پڑے گی؟ شرط۔ لتعلق الوجود به، کیونکہ شرط جو ہے اس کے ساتھ مشروط کے وجود کا تعلق ہوتا ہے۔ شرط پائی جاتی ہے تو مشروط بھی پائے۔ تو لہٰذا اس وجہ سے کس کے ساتھ وجود کا تعلق بھی ہے وثبوت التعدي منهم اور ان کی طرف سے تعدی اور زیادتی بھی پائی گئی ہے، انہوں نے جھوٹی گواہی دی ہے۔ تو شرط کے ساتھ وجود کا تعلق ہوتا ہے یا نہیں؟ وجود کا تعلق بھی ہوتا ہے شرط کے ساتھ اور انہوں نے زیادتی بھی کی ہے، لہٰذا اب شرط کی طرف نسبت کی جائے گی اور ان گواہوں پر ضمان آئے گا بھئی۔ وهو مختار فخر الإسلام، اور یہ مختار ہےعلامہ فخر الاسلام کا، وہ فرماتے ہیں ضمان آئے گا۔ وعند شمس الأئمة لا ضمان عليهم، اور شمس الائمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان پر کوئی ضمان نہیں ہوگا، قياسا على شهود الإحسان، قیاس کرتے ہوئے کس پر؟ شہودِ احسان پر۔ وإن رجع شهود اليمين وشهود الشرط جميعا، اور اگر یمین اور شرط دونوں کے گواہ رجوع کر لیں، یمین یعنی وہ علت والے بھی رجوع کر لیں اور شرط والے بھی، فالضمان على شهود اليمين خاصة، تو ضمان جو ہے وہ شہودِ یمین پر ہی آئے گا یعنی شہودِ علت پر آئے گا خاص طور پر، لأنه صاحب علة، کیونکہ وہ کیا ہیں؟ علت والے ہیں، فلا يضاف التلف إلى شهود الشرط، پس شہودِ شرط کی طرف تلف کی نسبت نہیں کی جائے گی مع وجودهم ساتھ شہودِ یمین کے پائے جاتے۔ جب شہودِ یمین موجود ہیں تو شہودِ شرط کی طرف تلف کی نسبت نہیں کی جائے گی۔ وعند زفر رحمہ اللہ، اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک شہود الإحسان إذا رجعوا وحدهم ضمنوا دية المرجوم، کہ شہودِ احسان جب رجوع کر لیں اکیلے، تو ضمنوا دية المرجوم، تو وہ ضامن ہوں گے اس رجم کیے ہوئے شخص کی دیت کے۔ شہودِ احسان اگر رجوع کر رہے ہیں، جنہوں نے صرف احسان، محسن ہونے کی گواہی دی تھی، تو وہ دیت کے ضامن ہوں گے اس مرجوم کی، ذهابا، اس بات کی طرف جاتے ہوئے إلى أنه شرط، کہ یہ کیا ہے احسان؟ بعضوں نے تو کیا متن میں تو کیا بتلایا ہے؟ احسان علامت ہے۔ لہٰذا یہ رجوع کر بھی لیں تو ان پر ضمان نہیں۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ احسان شرط ہے، تو لہٰذا جب یہ رجوع کر لیں اکیلے تو ان کے پر ضمان آئے گا، اس کی دیت اس پر آئے گی کیونکہ ان کی وجہ سے اس کی جان چلی گئی۔ ذهابا إلى أنه شرط، اس بات کی طرف جاتے ہوئے کہ یہ شرط ہے۔ والجواب، اور جواب یہ ہے، أن الإحسان علامة، کہ احسان تو کیا ہے؟ علامت ہے، لا تصلح للخلافة، وہ نائب ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی، ولئن سلمنا، اور اگر ہم تسلیم کر لیں أن أنه شرط، کہ یہ شرط ہے، فلا يجوز إضافة الحكم إليه، تو بھی حکم کی نسبت اس کی طرف کرنا جائز نہیں ہے، لأن شهود العلة وهي الزنا صالحة للإضافة، اس لیے کیونکہ علت کے گواہ جو ہیں، علت کیا ہے؟ زنا، کیونکہ زنا کے جو گواہ ہیں صالحة للإضافة، وہ نسبت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، فلم يبق للشرط اعتبار، تو لہٰذا شرط کا کوئی اعتبار باقی نہ رہا، إذ لا اعتبار للخلف عند إمكان العمل بالأصل، اس لیے کیونکہ خلف یعنی نائب کا کوئی اعتبار نہیں ہے جب اصل پر عمل ممکن ہو۔ اگر ہم تسلیم بھی کر لیں کہ یہ شرط ہے اور یہ نائب ہے کس سے؟ اصل سے۔ جب یہ اصل سے نائب، یہ بھی ہم تسلیم کر لیں لیکن پھر بھی جب تک اصل پر عمل ممکن ہو نائب پر حکم کی طرف حکم کی نسبت نہیں ہوتی۔ لہٰذا اصل جو زنا کے گواہ ہیں وہ، ان پر تو ضمان آ سکتا ہے وہ رجوع کر لیں، لیکن احسان کے گواہ رجوع کر لیں تو ان پر ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔