و يوما على ظهر الكثيب تعذرت علي و آلت حلفة لم تحلل أ فاطمة مهلا بعض هذا التدلل و إن كنت قد أزمت صرمي فأجملي أ غررت مني أن حبك قاتلي و أنك مهما تأمر القلب يفعل و يوما على ظهر الكثيب تعذرت على و آلت حلفة لم تحلل ظهر الكثيب، كثيب کہتے ہیں ریت کے ٹیلے کو۔ کثیب کسے کہتے ہیں؟ ریت کا ٹیلہ۔ اور ظہر الکثیب، ٹیلے کی پشت یعنی ٹیلے کا اوپر والا حصہ۔ تعذرت، تعذر کا معنی ہے کسی پر سختی کرنا، کسی کو مشکل میں ڈالنا۔ و آلت، آلا یولی آلا کا معنی ہے قسم اٹھانا، قسم اٹھانا۔ حلفتاً، حلف کی قسم کو کہتے ہیں۔ لم تحلل، تحلل کہتے ہیں قسم میں استثنا کرنا، استثنا کرنا۔ ایک یہ ہے کہ انسان ویسے قسم اٹھائے تو اس میں پھر کوئی راستہ باقی نہیں رہتا، اور بعض اوقات اس میں استثنا کر دیتا ‏ہے تو راستہ نکل اتا ہے بھئی۔ مثلاً، آپ اپنے ساتھی سے قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ میں واللہ آپ کے گھر نہیں آؤں گا۔ بس یہ کہہ کر آپ خاموش ہو گئے۔ ‏دیکھا اب آپ نے کوئی استثنا نہیں کیا، کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا، اب آپ جب بھی جائیں گے قسم ٹوٹ جائے گی بھئی، ‏قسم ٹوٹ جائے گی۔ لیکن بعض اوقات انسان استثنا کر دیتا ہے، کوئی صورت جواز کی نکال دیتا ہے، مثلاً آپ قسم یوں اٹھاتے ہیں کہ واللہ میں ‏آپ کے گھر نہیں آؤں گا، إلا یہ کہ آپ مجھے چائے پلائیں۔ دیکھا، اب وہ آپ کو چائے پلا دے گا، اب آپ گھر جائیں گے ‏تو آپ کی قسم ٹوٹی؟ نہیں، کیونکہ آپ نے استثنا کر دیا، صورت نکال دی، راستہ نکال دیا۔ تو اس کو کہتے ہیں تحلل، کیا کہتے ہیں؟ استثنا کرنا، یعنی حل تحلل حلال سے ہے نا، حلال ہونے کا راستہ بنا لینا، ‏صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ تو امرؤالقیس کہتا ہے و يوما على ظهر الكثيب تعذرت و يوما اور ایک دن، یہ يوما منصوب ہے آگے تعذرت فعل کے لیے ‏مفعول فیہ بن رہا ہے۔ اور ایک دن على ظهر الكثيب، ریت کے ٹیلے پر تعذرت، میری معشوقہ نے مجھ پر سختی کی۔ تعذرت علی، میری معشوقہ نے مجھ پر سختی کی و آلت حلفتاً، آلا کا معنی بھی قسم اٹھانا اور حلف بھی قسم، تو یہ حلفتاً ‏مفعول مطلق ہے بھئی۔ مفعول مطلق کسے کہتے ہیں؟ وہ مصدر جو ما قبل فعل کے معنی میں ہو، ضربت ضرباً، یہ ضرباً ‏کیا ہے؟ مفعول مطلق۔ اور اور یہ ضربت ضرباً، یہ تو اسی لفظ سے ہے، بعض اوقات لفظ تو وہی ہوتے ہیں باب الگ ہوتا ہے جیسے انبت نباتاً، ‏انبت باب افعال مزید فیہ ہے اور نباتاً یہ کیا ہے؟ مجرد ہے ثلاثی مجرد۔ اور کبھی کبھار لفظ ہی الگ الگ ہوتے ہیں جیسے قعدت جلوساً، لیکن معنی ایک ہونا ضروری ہے، قعدا کا معنی بھی بیٹھنا ‏اور جلسہ کا معنی بھی بیٹھنا۔ تو معنی ایک ہونا ضروری ہے پھر چاہے لفظ ایک ہوں، چاہے لفظ ایک باب الگ، لفظ ایک ہوں لیکن باب الگ ہوں اور ‏چاہیں بالکل لفظ ہی کیا ہوں الگ الگ جیسے یہاں لفظ ہی الگ ہیں، ایک ہے آلا اور دوسرا ہے حلفتاً لیکن معنی ایک ہی ‏ہے۔ و آلت حلفتاً، اور اس نے قسم اٹھائی لم تحلل، جس میں اس نے استثنا نہیں کیا، کوئی حلال ہونے کی صورت نہیں چھوڑی۔ امرؤالقیس کہتا ہے کہ ایک دن میری معشوقہ نے مجھ پر سختی کی، یعنی سختی کی اور ایسی قسم اٹھائی جس میں اس نے ‏کوئی حلال ہونے کی صورت نہیں رکھی یعنی مجھے چھوڑنے کی قسم اٹھائی کہ میں تمہیں چھوڑ دوں گی اور کوئی ‏استثنا بھی نہیں کیا، کوئی استثنا نہیں کیا۔ أ فاطمة مهلا بعض هذا التدلل و إن كنت قد أزمت صرمي فأجملي أ فاطمة، یہ حمزہ ندا کے لیے ہے، آپ نے پڑھا ہے ندا کے لیے کتنے حروف ہیں؟ پانچ۔ ہمزہ، یا، آیا، آيا اور ہیا۔ جی تو یہ حمزہ ندا کے لیے، آیا فاطمہ اور پھر فاطمہ، یہ اصل میں تھا یا فاطمۃ۔ جی اور آپ نے پڑھا ہے مناد میں کبھی ترخیم کرتے ہیں یعنی آخر سے ایک دو حروف اڑا دیتے ہیں، اس کو مختصر ‏کرنے کے لیے۔ اور تو یہاں پر بھی تا آخر میں تھی بولتا اس کو ختم کر دیا گیا۔ تو یہ ترخیم کہلاتی ہے اور پھر ترخیم جب کر لی جائے، ‏جو ما قبل والا حرف رہ جاتا ہے جیسے یہاں کیا رہ گیا آخر میں میم، تو اس مم پر وہی حرکت پڑھنا بھی جائز جو پہلے ‏تھی، اور فاطمۃ اس میں مم پر کیا ہے؟ فتحہ زبر ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح یہ حرکت پڑھنا جائز تو فاطمہ، اور چاہیں تو اس کو ایسا بنا لیں جیسے اس کے ‏آخر میں کوئی تا تھی ہی نہیں، یہ لفظ ہی اسی طرح کا تھا، جب یہ لفظ ہی اسی طرح کا تھا تو یہ تو مناد مفرد معرفہ ہے ‏اور مناد مفرد معرفہ کیا ہوتا ہے مبنی علی الضم، تو اس کو جیسے یا رجل، تو اس پر بھی کیا ضمہ پڑھنا بھی جائز، تو ‏فاطمو، دونوں طرح پڑھنا جائز ہے، دونوں روایتیں اس میں ہیں۔ مهلا، مہد بمانہ امہل کے ہیں، امہل کے اور یہ بمانہ یہ استعمال ہوتا ہے کسی کو، جیسے آپ کوئی شخص جلدی کرنے ‏لگے آپ اس کو کہتے ہیں اطمینان سے بھئی، صبر سے، آرام سے، تو اس کے لیے عربی میں کہتے ہیں مہلا۔ کیا معنی ہے؟ صبر سے، اطمینان سے بھئی۔ تو یہ مہلا کس معنی میں ہے؟ امہل کے معنی میں ہے۔ مفعول مطلق ہے آپ نے پڑھا ہے یا نہیں؟ شکرت شکراً، عرب شکرت شکراً کہتے ہیں یا صرف شکراً کہتے ہیں؟ ہمیشہ ‏شکراً کہتے ہیں، تو یہاں بھی۔ بعض هذا التدلل، بعض کتابوں میں بعد ہوگا، بعد غلط ہے کتابت کی غلطی ہے، بعض ضاد کریں اس کو بھئی، ضاد، بعض۔ تدلل، تدلل کہتے ہیں ناز و نخرے دکھانا۔ تدلل کا معنی ناز و نخرے دکھانا۔ یعنی، ناز و نخرے کسے کہتے ہیں؟ ناز و نخرے یہ کہ ظاہر یہ کرنا کہ اس شخص کے دل میں اس بات کے خلاف ہے، ظاہر یہ کرنا لیکن واقع میں ایسا نہ ‏ہو، یا یوں کہے، ناز و نخرے یہ ہے کہ جب ایک شخص کی محبت پر یقین ہو تو اس محبت کے بقذر اس کو تنگ کرنا ‏اور تکلیف پہنچانا، یہ کیا ہے؟ ناز و نخرے، جی۔ و إن كنت قد أزمت صرمي فأجملي، جی، أزمع یزمع اس کا معنی ہے پکا ارادہ کر لینا، پکا ارادہ کر لینا، صرمی، فرم کہتے ‏ہیں جدائی کو بھئی، جدا ہونا۔ اور اجملا یجمل خوبصورت بنانا۔ أ فاطمة مهلا بعض هذا التدلل، ایف تو امرؤالقیس کہتا ہے کہ ایک دن ایک ریت کے ٹیلے پر میری معشوقہ نے مجھ پر ‏سختی کی اور مجھے چھوڑنے کی ایسی قسم اٹھائی جس میں اس نے کوئی راستہ نہیں چھوڑا تو امرؤالقیس کہتا ہے أ ‏فاطمة، کہ اے فاطمہ مہلا، اطمینان سے یعنی صبر سے۔ یعنی نرمی کرو، بعض هذا التدلل، یہاں فعل محذوف ہے، ای، دع بعض هذا التدلل، صبر سے کام لو اور اس ناز و کچھ ناز ‏و نخرے کو چھوڑ دو، صبر سے کام لو، ناز و نخرے کو کچھ چھوڑ دو، تو یہ فعل مہلا اس پر دلالت کر رہا ہے بھئی، ‏اسی سے سمجھ میں آ رہا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ تو یہاں کیا فعل نکال لیں گے؟ دع، کہ اے فاطمہ ذرا اطمینان سے، تھوڑے سے اس ناز و نخرے کو چھوڑ دو، اس کو و ‏إن كنت قد أزمت صرمي، یعنی تم ناز و نخرے دکھا رہی ہو۔ اور و إن كنت قد أزمت، اور اگر تو نے پکا ارادہ کر لیا ہے، فرمی، مجھے چھوڑنے کا، فأجملي، تو پھر اچھے طریقے ‏سے کرو۔ یعنی چھوڑنا ہے تو اچھے طریقے سے مجھے چھوڑو، اس طرح سختی کرتے ہوئے نہ چھوڑو بھئی۔ أ فاطمة مهلا بعض هذا التدلل و إن كنت قد أزمت صرمي فأجملي اچھا، اے فاطمہ، اس سے کون مراد؟ تو بعضوں نے کہا ما ‏قبل میں جو مرضیہ کا ذکر آیا تھا وہی مراد ہے اور بعضوں نے کہا کہ نہیں، یہ اس کی جس کے ساتھ اس کا معاشقہ سب ‏سے مشہور تھا، اس کے چچا کی بیٹی عنیزہ جو ہے، اس کے بارے میں یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے مجھ پر سختی کی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ أ فاطمة مهلا بعض هذا التدلل و إن كنت قد أزمت صرمي فأجملي، أ فاطمة، یہ ہمزہ ندا کے لیے ہے، آپ نے پڑھا ہے ندا کے ‏لیے کتنے حروف ہیں؟ پانچ، ہمزہ، یا، آیا، آيا اور ہیا، جی تو یہ ہمزہ ندا کے لیے، آیا فاطمہ اور پھر فاطمہ، یہ اصل میں تھا يا فاطمۃ، جی اور آپ ‏نے پڑھا ہے مناد میں کبھی ترخیم کرتے ہیں یعنی آخر سے ایک دو حروف اڑا دیتے ہیں، اس کو مختصر کرنے کے ‏لیے، اور تو یہاں پر بھی تا آخر میں تھی بولتا اس کو ختم کر دیا گیا۔ تو یہ ترخیم کہلاتی ہے اور پھر ترخیم جب کر لی جائے، جو ما قبل والا حرف رہ جاتا ہے جیسے یہاں کیا رہ گیا آخر میں ‏میم، تو اس مم پر وہی حرکت پڑھنا بھی جائز جو پہلے تھی، اور فاطمۃ اس میں مم پر کیا ہے؟ فتحہ زبر ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح یہ حرکت پڑھنا جائز تو فاطمہ، اور چاہیں تو اس کو ایسا بنا لیں جیسے اس کے ‏آخر میں کوئی تا تھی ہی نہیں، یہ لفظ ہی اسی طرح کا تھا، جب یہ لفظ ہی اسی طرح کا تھا تو یہ تو مناد مفرد معرفہ ہے ‏اور مناد مفرد معرفہ کیا ہوتا ہے مبنی علی الضم، تو اس کو جیسے یا رجل، تو اس پر بھی کیا ضمہ پڑھنا بھی جائز، تو ‏فاطمو، دونوں طرح پڑھنا جائز ہے، دونوں روایتیں اس میں ہیں۔ مہلا، مہد بمانہ امہل کے ہیں، امہل کے اور یہ بمانہ یہ استعمال ہوتا ہے کسی کو، جیسے آپ کوئی شخص جلدی کرنے ‏لگے آپ اس کو کہتے ہیں اطمینان سے بھئی، صبر سے، آرام سے، تو اس کے لیے عربی میں کہتے ہیں مہلا۔ کیا معنی ہے؟ صبر سے، اطمینان سے بھئی۔ تو یہ مہلا کس معنی میں ہے؟ امہل کے معنی میں ہے۔ مفعول مطلق ہے آپ نے پڑھا ہے یا نہیں؟ شکرت شکراً، عرب شکرت شکراً کہتے ہیں یا صرف شکراً کہتے ہیں؟ ہمیشہ ‏شکراً کہتے ہیں، تو یہاں بھی۔ بعض هذا التدلل، بعض کتابوں میں بعد ہوگا، بعد غلط ہے کتابت کی غلطی ہے، بعض ضاد کریں اس کو بھئی، ضاد، بعض۔ تدلل، تدلل کہتے ہیں ناز و نخرے دکھانا۔ تدلل کا معنی ناز و نخرے دکھانا۔ يعنی، ناز و نخرے کسے کہتے ہیں؟ ناز و نخرے یہ کہ ظاہر یہ کرنا کہ اس شخص کے دل میں اس بات کے خلاف ہے، ظاہر یہ کرنا لیکن واقع میں ایسا نہ ‏ہو، یا یوں کہے، ناز و نخرے یہ ہے کہ جب ایک شخص کی محبت پر یقین ہو تو اس محبت کے بقذر اس کو تنگ کرنا ‏اور تکلیف پہنچانا، یہ کیا ہے؟ ناز و نخرے، جی۔ و إن كنت قد أزمت صرمي فأجملي، جی، أزمع یزمع اس کا معنی ہے پکا ارادہ کر لینا، پکا ارادہ کر لینا، صرمی، فرم کہتے ‏ہیں جدائی کو بھئی، جدا ہونا۔ اور أجملا یجمل خوبصورت بنانا۔ أ فاطمة مهلا بعض هذا التدلل، ایف تو امرؤالقیس کہتا ہے کہ ایک دن ایک ریت کے ٹیلے پر میری معشوقہ نے مجھ پر ‏سختی کی اور مجھے چھوڑنے کی ایسی قسم اٹھائی جس میں اس نے کوئی راستہ نہیں چھوڑا تو امرؤالقیس کہتا ہے أ ‏فاطمة، کہ اے فاطمہ مہلا، اطمینان سے یعنی صبر سے۔ يعني نرمی کرو، بعض هذا التدلل، یہاں فعل محذوف ہے، ای، دع بعض هذا التدلل، صبر سے کام لو اور اس ناز و کچھ ناز ‏و نخرے کو چھوڑ دو، صبر سے کام لو، ناز و نخرے کو کچھ چھوڑ دو، تو یہ فعل مہلا اس پر دلالت کر رہا ہے بھئی، ‏اسی سے سمجھ میں آ رہا ہے کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ تو یہاں کیا فعل نکال لیں گے؟ دع، کہ اے فاطمہ ذرا اطمینان سے، تھوڑے سے اس ناز و نخرے کو چھوڑ دو، اس کو و ‏إن كنت قد أزمت، اور اگر تو نے پکا ارادہ کر لیا ہے، فرمی، مجھے چھوڑنے کا، فأجملي، تو پھر اچھے طریقے سے کرو۔ يعني چھوڑنا ہے تو اچھے طریقے سے مجھے چھوڑو، اس طرح سختی کرتے ہوئے نہ چھوڑو بھئی۔ أ فاطمة مهلا بعض هذا التدلل و إن كنت قد أزمت صرمي فأجملي اچھا، اب یا فاطمہ، اس سے کون مراد؟ پھر وہی بات، ‏بعضوں نے کہا وہی مرضعہ کا نام کیا تھا؟ فاطمہ۔ اور یہ اس کی بات ہو رہی ہے۔ یہ جو آگے فاطمہ لفظ آیا اسی سے انہوں نے کہا معلوم ہوا یہ عنیزہ کی بات نہیں ہو رہی، یہ کس کی بات ہو رہی ہے؟ کسی ‏دوسری معشوقہ کی بات ہو رہی ہے اور ما قبل میں مرضعہ کا ذکر آیا ہے معلوم ہوا اس کے ذکر ہے۔ جبکہ بعضوں نے کہا نہیں، یہ عنیزہ ہی کا ذکر ہو رہا ہے اور پھر وہ جواب یہ دیتے ہیں کہ عنیزہ اس کا اصل نام نہیں ‏تھا، اصل نام اس کا فاطمہ تھا بھئی، عنیزہ اس کا لقب تھا، اس سے مشہور تھا نا یہ نام مشہور تھا، لیکن وہ اس کا نام ‏فاطمہ تھا بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی أ غررت مني أن حبك قاتلي و أنك مهما تأمر القلب يفعل غرره غرور کا معنی دھوکہ دینا۔ أ غررت کہ حمزہ استفهام کے لیے ہے، استفهام، سوال کے لیے آپ جانتے ہیں حمزہ آتا ہے، أزرت زیداً، کیا آپ نے زید ‏کی پٹائی کی ہے؟ تو غرره غرور کا معنی دھوکہ دینا۔ أ غررت مني، کیا تجھے دھوکے میں ڈالا ہے، مم نین، میری طرف سے اس بات نے، کیا تجھے دھوکے میں ڈالا ہے ‏میری طرف سے؟ یہ ان حبك قاتلي، یہ یہ فاعل ہے أ غررت کا، غررة، فاعل ہے۔ اس لیے یہاں أننا پڑھیں گے کیونکہ فاعل کیا ہوتا ہے مفرد، اور مفرد کے مقام میں کیا پڑھتے ہیں؟ أننا۔ یہ أننا کیا عمل کرتا ہے؟ إن زیداً قائم، ترجمہ کرو۔ إن زیداً قائم، یقیناً زید کھڑا ہے، بے شک زید کھڑا ہے، یا صرف اب زید کھڑا ہے، بے شک یا یقیناً ضروری نہیں ہلانا، ‏ہاں بس کلام میں زور ہے، تاکید ہے، بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ اور اگر میں کہوں أن زیداً قائم، اب کیا ترجمہ ہوگا؟ جی اب ترجمہ ہوگا زید کا قیام، اب ادھوری ہے، پہلے ان تھا، ان جملے ‏پر داخل ہوتا ہے بعد پوری تھی، اب أن آیا، أن کیا کرتا ہے جملے کو کس حکم میں کر دیتا ہے؟ مفرد کے معنی میں کر دینے کا مطلب یہ ہے اب بات پوری نہیں، أن زیداً قائم، زید کا قیام، آپ کسی کو دسویں دفعہ یہ ‏کہیں، وہ کہے گا بھئی بات تو پوری کریں، اس کے قیام کو کیا ہوا؟ صورت سمجھ میں آگئی بھئی، تو أن زیداً قائم زید کا ‏قیام۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے۔ خبر کے مصدر کی اضافت کر دو أننا کے اسم کی طرف تو وہ مفرد بن جائے گا بھئی۔ اچھا أ غررت مني، کیا تجھے دھوکے میں ڈالا ہے میری طرف سے اس بات نے أن حبك قاتلي، کہ تیری محبت مجھے قتل ‏کر رہی ہے، مجھے قتل کرنے والی ہے، کیا تجھے اس بات نے دھوکے میں ڈالا ہے کہ تیری محبت نے مجھے مار ڈالا ‏ہے؟ و أنك مهما تأمر القلب يفعل، و کیا تجھے اس بات نے دھوکے میں ڈالا ہے کہ کہ أنك مهما تأمر القلب، کہ تو جو کچھ حکم ‏دے گی القلب اس دل کو، (يعني میرے دل)، تو جو کچھ حکم دے گی میرے اس دل کو يفعل، تو ویسا ہی کرے گا۔ أ فاطمة، ذرا اس ناز و نخرے کو کم کر اور اگر تو نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا ہے تو اچھے طریقے سے چھوڑ، کیا ‏تجھے اس بات نے دھوکے میں ڈالا ہے کہ تیری محبت نے مجھے مار ڈالا ہے، اور اس بات نے تجھے دھوکے میں ڈالا ‏ہے کہ تو جو بھی میرے دل کو کہے گی میرا دل ویسا ہی کرے گا۔ تو یہ حمزہ ہے استفهام والا، لیکن یاد رکھیے یہاں استفهام مقصود نہیں۔ حمزہ اس بات کے لیے ہے، یعنی یہ حمزہ تقریر ‏ہے، قرر یقرر تقریر کا کیا معنی؟ اثبات، اثبات تو یہ حمزہ تقریر کے لیے ہے، یعنی اس بات کے لیے ہے، تو امرؤالقیس ‏یہاں سوال نہیں پوچھ رہا بلکہ کہہ رہا ہے ہاں، واقعی ایسی بات ہے، تمہاری محبت نے مجھے مار ڈالا ہے، اور میرا دل ‏تمہارے قابو میں ہے، جو تم حکم کرو گی میرا دل ویسا ہی کرے گا۔ أ غررت مني أنكيا تجھ کو دھوکے میں ڈال دیا ہے میری طرف سے اس بات نے کہ تیرے کی محبت مجھے مار نے مجھے ‏مار ڈالا ہے، اور تو جو کچھ میرے دل کو حکم کرے گی وہ کہہ رہا ہے ویسا ہی کرے گا۔ میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا، زید ظارب، کیا ترجمہ؟ زید مارنے والا ہے، سارے یہی ترجمہ کرتے ہیں بھئی، ضارب، ‏اس میں فاعل کا ترجمہ والا کے ساتھ نہیں کرنا بھئی، کہیں ضرورت ہو تو پھر کرو۔ بات سمجھ میں آگ گئی، زید ظارب کا معنی ہے زید پٹائی کر رہا ہے۔ اگر آپ حال کی بات کر رہے ہیں، ماضی کی بات کر رہے ہیں تو ترجمہ ہے زید نے پٹائی کی تھی، اور اگر آپ مستقبل ‏کی بات کر رہے ہیں تو زید پٹائی کرے گا، موقع کے مطابق جو بھی آپ ترجمہ کریں، لیکن زید پٹائی کرنے والا ہے، ‏بالکل لامناسب ترجمہ۔ یوں لگتا ہے شاید ابھی کرنے والا ہے، مستقبل کی بات لگ رہی ہے یا نہیں؟ ہاں، حالانکہ مستقبل نہیں۔ ضارب تو زید تب ہی بنے گا جب وہ ایک وقت پٹائی کر رہا ہو تو ہم اس کو کہیں گے وہ ضارب ہے۔ تو لہذا اس آپ نے ہمیشہ اس میں فاعل کا ترجمہ موقع کے مطابق ترجمہ کرنا ہے۔ اس لیے میں نے أن حبك قاتلي، کیا ترجمہ کیا؟ ویسے ترجمہ کریں تو تیری محبت مجھے قتل کرنے والی ہے، کیا معنی، مستقبل کی بات کر رہا ہے؟ نہیں، بلکہ حال کا ‏ترجمہ کرو، تیری محبت نے مجھے قتل کر ڈالا ہے۔ اور محبت نے قتل کیا، کیا معنی؟ یہاں قتل کا معنی قتل نہیں، معنی ہے تذلیل کرنا، انتہا درجے کی ذلت تک پہنچا دینا، معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تیری محبت ‏نے مجھے قتل کر ڈالا ہے یعنی اس انتہا درجے کی رسوائی اور ذلت تک پہنچا دیا ہے، اور میرا اپنے اوپر بھی اب قابو ‏نہیں، جو تم حکم کرتی ہو میں اس پر عمل کرتا ہوں۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی۔ و إن تكو قد ساأت مني خليقة فسل ثيابي من ثيابك تنسلي و إن تكو، اصل میں تھا و إن تكون، کان یکونو، کان یکونو، إن داخل ہوا، تو نون آخر میں کیا ہوا؟ ساکن ہو گیا، إن جزم دیتا ‏ہے نا، تو پھر تکون ہوا، واؤ بھی ساکن، نون بھی ساکن، اجتماع ساکنین ہے نا لغیرہ ہدیہ آیا اول مدہ ہو تو اس کو کیا کرتے ‏ہیں؟ گرا دیتے ہیں، کیا بن گیا؟ تکون، إن تکون۔ پھر ہونا تو إن تکون چاہیے، لیکن یہ عام استعمال ہوتا ہے کلام عرب میں کسرہ سے تو بعض اوقات تکون کے نون کو بھی ‏گرا دیتے ہیں بھئی، تخفیف کے لیے، تو إن تکون تھا اصل میں۔ و إن تكو قد ساأت كي، سا کے معنی برا، برا لگنا۔ خلیقہ، خلیقہ کہتے ہیں عادت کو بھئی، عادت۔ فسل ثيابي، سل یسل کا معنی ہے، جدا ہونا، الگ کرنا، اتار دینا، اتار دینا۔ اور، تو سل یسل کا معنی جدا کرنا یا اتارنا، اور تنسلو، تنسلو کا معنی جدا ہونا، جدا ہونا۔ و إن تكو قد ساأت كي مني خليقة فسل ثيابي من ثيابك تنسلي، و إن تكو، اور اگر تجھے قد ساات کی، تجھے کوئی بری لگی ‏ہے، منی، مجھ میں سے، خلیقتن، عادت، اگر تجھے کوئی میری عادت بری لگی ہے، فسل ثيابي، تو تو اتار دے، جدا کر ‏دے، ثيابي، میرے کپڑوں کو، من ثيابك، اپنے کپڑوں سے، تنسلي، تو وہ جدا ہو جائیں گے۔ تو جدا کر دے تو وہ جدا ہو جائے گا۔ تو ثياب بول کر ذات مراد ہے، تو جدا کر دے میری ذات کو اپنی ذات سے تو وہ جدا ہو جائے گی، جدا ہو جائے گی۔ کیا معنی؟ تو جدا کر دے اپنی ذات کو میری ذات سے، کہنا یہ چاہتا ہے بھئی۔ امرؤالقیس کہنا یہ چاہتا ہے کہ اے میری معشوقہ، تو جانتی ہے کہ مجھے تجھ سے انتہا درجے کی محبت ہے، اور میں ‏ویسے تجھے چھوڑنا چاہوں تو چھوڑنے کی کوئی صورت نہیں، لیکن اگر، لیکن اگر، تو مجھے چھوڑنے کا پکا ارادہ کر ‏لیتی، تو مجھے چھوڑنا چاہے گی، تو میرا دل تو تیرے تابع ہے، میرا دل وہی کرتا ہے جو تیرا دل چاہتا ہے، جب تو مجھ ‏سے جدائی کو چاہے گی تو میرا دل بھی کیا ہوگا تجھ سے جدا۔ اگرچہ میں تجھے چھوڑ نہیں سکتا، تجھ چھوڑوں گا اس میں میری تباہی ہے، بربادی ہے، میری ہلاکت ہے، لیکن میرا دل ‏تیرے اتنا تابع ہے کہ جو تیرا دل چاہتا ہے میرا دل بھی۔ جب تیرا دل جدائی کو چاہے گا تو میرا دل بھی تو تیرے تابع ہے، ‏وہ بھی اسی کے مطابق کیا کرے گا؟ جدائی کو اختیار کرے گا، اگرچہ اس میں میری بربادی ہے، لیکن پھر بھی وہ اسی ‏طرف، کیونکہ وہ تمہاری اسی چاہتا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ و إن تكو قد ساأت كي مني خليقة فسل ثيابي من ثيابك تنسلي و اگر تجھے میری کوئی عادت بری لگی ہے، ناپسند ہوئی ہے، ‏فسل ثيابي من ثيابك تنسلي، تو تو نکال لے میرے کپڑوں کو اپنے کپڑوں سے تنسلی، تو وہ جدا ہو جائیں گے۔ تو جدا، تو يا ثياب بول کر ذات مراد ہے، یا ثياب بول کر دل مراد ہے، دل مراد ہے، بعضوں نے کہا کہ تو جدا کر دے ‏میرے دل کو اپنے دل سے، تو وہ جدا ہو جائے گا۔ کیا معنی کہ تو اپنے دل کو میرے دل سے جدا کر دے تو وہ جدا ہو جائے گا، یہ کیا معنی؟ میں نے بتلایا کہ امرؤالقیس یہ کہنا چاہتا ہے کہ میرا دل جو ہے، ویسا ہی کرتا ہے جیسے تیرا دل چاہتا ہے۔ اور میرا دل پورے طور پر تیرے قابو میں ہے، اور میں تجھے ویسے چھوڑنا چاہوں تو اس کی کوئی صورت نہیں ہے، ‏کیونکہ اس میں میری ہلاکت ہے اور میری بربادی ہے، لیکن میرا دل تو وہی چاہتا ہے جو تیرا دل چاہتا ہے، اور جب تیرا ‏دل جدائی کو چاہے گا، تو میرا دل بھی پھر کس کو چاہے گا؟ جدائی کو، اگرچہ اس میں میری ہلاکت ہے، لیکن بہرحال میرا دل تو تیرے قابو میں ہے، جیسا تیرا دل چاہے گا میرا دل ‏ویسا ہی کرے گا، چاہے اس میں میری ہلاکت اور بربادی ہی کیوں نہ ہو جائے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ جی، تو سبب میں باقاعدگی سے شرکت کرو، مولانا، یہ کتاب شروعات سے حل نہیں ہوتی بھئی۔ اچھا، تو اب بھئی دو باتیں ذکر کی، دو باتیں ایک کیا؟ یا تو تو نخرے دکھا رہی ہے یہ نخرے کچھ کم کر دے۔ یا تو مجھے حقیقت میں چھوڑنا چاہ رہی ہے تو پھر اچھے طریقے سے چھوڑ۔ اگلے دونوں شعر ان میں سے ایک ایک بات کے ساتھ متعلق ہیں، پہلا کیا؟ نخرے ذرا کم کر دے۔ تو یہ نخرے کیوں دکھا رہی ہے؟ کیونکہ تیرا یہ خیال ہے، تیری محبت نے میرے دل کو مار ڈالا ہے، اور میرا دل تیرے ‏قابو میں ہے، اگر تیرا یہ خیال ہے تو تیری بات ٹھیک ہے، باقی میرا دل کیا ہے تیرے قابو میں ہے، بس تو اپنے کچھ ‏نخرے کم کر دے۔ یا تو مجھے چھوڑنا چاہتی ہے، معلوم ہوا میری کوئی عادت تجھے بری لگی ہے، عادت بری لگی ہے، چھوڑنا چاہتی ہے، ‏تو پھر میرا دل تو تیرے دل کے تابع ہے، جب تو چھوڑنے کا ارادہ کرے گی تو میرا دل بھی کیا کرے گا، تیرے تابع ہے ‏وہ بھی جدائی کو اختیار کرے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی۔ و ما درفت عیناك إلا لتضرب لي، چلیے بس کریں بھئی۔ بس، یہ خلاصہ المراد، اللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔