درس نمبر۔121 وقد تقلب العلة من وجه آخر غير الوجهين المذكورين وهو ضعيف، كقولهم أي الشافعية في حق النوافل حيث لا تلزم بالشروع ولا تقضى بالإفساد. وعندهم هذا عبادة لا يمضى في فاسدها، أي إذا فسدت بنفسها من غير إفساد. گزشتہ سبق میں ہم نے معارضے کی بحث شروع کی تھی۔ کس چیز کی بحث شروع کی تھی؟ معارضے۔ اور معارضہ کس کو کہتے تھے؟ کہ معلل نے جس حکم پر دلیل قائم کی ہے، آپ یعنی سائل یا معترض جو ہے وہ اس کے خلاف حکم پر دلیل قائم کر دے۔ اس کے حکم کو نہیں چھیڑا، نہ اس کی علت کو چھیڑا۔ اس کے حکم اور علت کو کہا: ٹھیک ہے، آپ کے اس حکم اہ آپ کی اس علت سے یہ حکم ثابت ہوتا ہے لیکن ہمارے پاس ایک دلیل ہے جس سے اس کا مخالف حکم ثابت ہوتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ معارضہ۔ اور پھر پڑھا تھا اس معارضے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک معارضہ وہ ہے جس میں قلب ہوگا اور ایک وہ ہے جس میں قلب نہ ہو بھئی۔ پھر قلب کے اندر دو صورتیں پڑھی تھیں، ایک قلب میں قلب کی کیا صورت تھی کہ جس کو معلل نے علت بنایا ہے آپ اس کو حکم بنا دیں اور جس کو حکم اس نے بنایا تھا آپ اسے علت بنا دیں، ایک صورت یہ تھی۔ اور دوسری صورت یہ تھی کہ معلل نے جس دلیل کو جس دلیل کے ذریعے اپنا حکم ثابت کیا ہے، آپ کہیں کہ اس دلیل کے ذریعے یہ حکم ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس دلیل کے ذریعے دوسرا حکم اس کی ضد کے لیے آپ اس کو دلیل معلل نے ایک حکم کے لیے دلیل بنایا تھا، آپ اسی کو اس کی ضد کے لیے دلیل بنا دیں۔ تو یہ دوسری قسم تھی۔ اور تو اس میں قلب تھا مولانا، کیا تھا؟ قلب تھا۔ اس کی علت کو آپ نے حکم بنا دیا اور حکم کو علت، ایک صورت۔ دوسری صورت یہ اس کی دلیل نے اس کی دلیل کو آپ نے کیا کیا؟ اپنے حکم کے لیے دلیل بنا دیا۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو یہ پہلی قسم تھی جس کے اندر بعینہٖ اسی پہلی دلیل ہی کو استعمال کرتے تھے جس کو معلل نے ذکر کیا ہوتا تھا، تو یہ معارضہ ہوا۔ کہ آپ کی اس دلیل سے انہوں نے مثلاً معلل نے کہا: اس دلیل سے یہ حکم ثابت ہے۔ آپ نے بعینہٖ اسی کی دلیل کو پکڑا اور کہا: اس دلیل سے یہ والا حکم ثابت ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہاں پر مناقضہ بھی ضمناً آگیا۔ معارضے کے ساتھ ساتھ کیا آگیا؟ کیونکہ جب اسی کی دلیل کو استعمال کیا تو گویا اس کی دلیل کو باطل کر دیا کہ یہ اس سے آپ کا حکم نہیں ثابت ہوتا بلکہ اس سے ہمارا حکم ثابت ہوتا ہے۔ تو ہے تو یہ معارضہ، لیکن ضمناً کیا آگیا؟ مناقضہ بھی آگیا۔ یہ پہلی قسم ہے معارضے کی۔ تو یہ معارضے کی پہلی قسم ہے، اس میں قلب ہوتا ہے اور قلب کے ذریعے چونکہ اس کی دلیل کو بھی توڑنا لازم آتا ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مناقضہ۔ ایسا معارضہ جس کے اندر کیا پایا جا رہا ہو؟ صورت سمجھ میں آئی؟ معارضے میں تو صرف یہ ہے نہ دوسرے کے حکم اور علت کو تسلیم کر کے پھر اپنے دعوے پر کیا کر دی جائے؟ دلیل قائم کر دی جائے۔ ہمارے پاس اس نے کہا ہمارے پاس ایک دلیل موجود ہے، اس سے یہ حکم ثابت ہوتا ہے۔ آپ کہتے ہیں ہمارے پاس ایک دلیل موجود ہے اس سے یہ حکم ثابت ہوتا ہے۔ اس کی دلیل اور حکم کو نہیں چھیڑا۔ اس کے خلاف پر دلیل قائم کر دی، یہ ہے معارضہ۔ لیکن اس معارضے کے اندر پھر دو صورتیں تھیں بھئی۔ یا تو آپ اسی پہلی دلیل کو استعمال کریں گے جو معلل نے ذکر کی تھی یا اس کو استعمال نہیں کریں گے۔ اگر اسی کو استعمال کریں گے تو یہ ہوا قلب۔ یہ کیا ہوا؟ قلب۔ اور اس کے اندر چونکہ اسی کی دلیل کو استعمال کیا، لہٰذا اس کی دلیل ٹوٹ گئی۔ وہ تو اس کو دلیل بنا رہا تھا ایک چیز کے لیے، ہم نے دلیل بنا دیا تو اس کی دلیل بھی باطل ہوئی، تو اس طرح مناقضہ بھی آگیا۔ کیا آگیا؟ تو ہے یہ معارضہ لیکن ضمن میں کیا آگیا؟ مناقضہ۔ معلوم ہوا قلب کے اندر مناقضہ آیا کرتا ہے۔ کیا آیا کرتا ہے؟ مناقضہ آ جایا کرتا ہے۔ اب دیکھیے آگے سبق۔ کہتے ہیں: وقد تقلب العلة من وجه آخر غير الوجهين المذكورين، اور کبھی کبھار علت کا قلب کیا جاتا ہے من وجه آخر دوسرے طریقے سے غیر الوجهين المذكورين جو ان دو طریقوں کے علاوہ ہو۔ ایک اور طریقے سے قلب کیا جاتا ہے علت کا۔ اور کہتے ہیں: وهو ضعيف، وہ طریقہ کیا ہے؟ ضعیف ہے بھئی ضعیف ہے۔ کہتے ہیں یہاں ضعیف سے مراد ہے فاسد بھئی، وہ کیا ہے؟ فاسد ہے بھئی۔ كقولهم أي الشافعية، ضمیر کا مرجع بتایا جیسے کہ شوافع کا قول ہے في حق النوافل، نوافل کے بارے میں حيث لا تلزم بالشروع ولا تقضى بالإفساد، اس حیثیت سے کہ نوافل جو ہیں ان کے نزدیک شروع کرنے سے لازم نہیں ہوتے اور ان کی قضا نہیں کی جاتی فاسد کر دینے کی وجہ سے۔ ہمارے نزدیک نفل نفل ہے جب تک شروع نہیں کیے تھے، لیکن جب شروع کر دیے تو کیا بن گئے؟ واجب۔ ان کو پورا کرنا ضروری۔ اور اگر ان کو فاسد کر دیا درمیان میں تو پھر کیا کرنا پڑے گی ان کی؟ قضا۔ لیکن ان کے نزدیک نفل جو ہیں شروع کرنے سے لازم نہیں ہوتے اور اس کو فاسد کر دیں تو پھر اس کی پھر اس کی قضا نہیں ان کے نزدیک۔ تو کہتے ہیں: وعندهم هذا عبادة لا، بھئی وہ اس کو قیاس کرتے ہیں وضو پر۔ کس پر؟ وضو پر قیاس کرتے ہیں۔ کہتے ہیں دیکھیے، وضو ایک عبادت ہے۔ وضو کیا ہے؟ عبادت ہے۔ اور اس وضو کے اندر اگر وضو فاسد ہو جائے وضو کرتے کرتے درمیان میں فاسد ہو گیا یعنی وضو ٹوٹ گیا۔ تو اس وضو کا پورا کرنا ضروری نہیں۔ اس وضو وضو کے فساد کی صورت میں ایک ہے فساد، فاسد ہونا اور ایک ہے افساد، خود فاسد کرنا۔ خود فاسد کرنے کی بات نہیں ہو رہی، کس کی بات ہو رہی ہے؟ فساد، خود فاسد ہو جائے۔ کہتے ہیں وضو شروع کیا۔ کہ وضو ایک عبادت ہے اگر یہ درمیان میں فاسد ہو جائے یعنی وضو پھر ٹوٹ گیا تو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں۔ یعنی فساد کی صورت میں اتمام ضروری نہیں۔ فساد کی صورت میں اتمام ضروری نہیں، تو شروع کرنے کی صورت میں بھی اتمام ضروری نہیں۔ توجہ ہے بھئی، بڑا مشکل مقام ہے۔ وہ کہتے ہیں وضو جو ہے وہ فساد کی صورت میں اتمام ضروری نہیں تو شروع کرنے کی صورت میں بھی اتمام ضروری نہیں۔ یعنی فساد عدم اتمام فی الفساد، عدم کیا معنیٰ عدم اتمام فی الفساد؟ فساد کی صورت میں پورا نہ کرنا۔ تو عدم اتمام فی الفساد اس کو علت بنایا عدم اتمام فی الشروع کے لیے۔ کس کے لیے؟ ہاں، یہ لفظ لکھ لیں ذرا اپنی کتاب کے کنارے پر بھئی۔ مشکل بحث ہے۔ عدم اتمام فی الفساد کو علت قرار دیا کو علت قرار دیا عدم اتمام فی الشروع کے لیے۔ عدم اتمام فی الفساد کو علت قرار دیا عدم اتمام فی الشروع کے لیے۔ تو علت کیا ہوئی؟ عدم اتمام فی الفساد۔ فساد کی صورت میں پورا کرنا ضروری نہیں، اور حکم کیا بیان کیا؟ عدم اتمام فی الشروع۔ شروع کرنے کی صورت میں بھی پورا کرنا ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو وضو کو بنایا انہوں نے مقیس علیہ یعنی اصل، اور نفل کو بنایا مقیس یعنی فرع۔ کہتے ہیں وضو کے اندر علت ہے عدم اتمام فی الفساد اور حکم ہے عدم اتمام فی الشروع۔ تو جس طرح وضو عبادت ہے اسی طرح نفل یعنی چاہے روزہ ہو چاہے نفلی نماز ہو یا نفلی روزہ ہو، یہ بھی عبادت ہے۔ یہ بھی عبادت ہے۔ تو یہاں پر بھی عدم اتمام فی الفساد جو ہے یہ علت ہوئی کس چیز کی؟ عدم اتمام فی الشروع۔ یعنی یہاں پر بھی عدم اتمام ہے فساد کی صورت، فاسد ہو جائے اگر اگر درمیان میں نفل فاسد ہوئے یا درمیان میں روزہ فاسد ہوا تو اس کو پورا کرنا ضروری نہیں، تو شروع کرنے کی صورت میں بھی اگر فاسد کر دیا تو پھر پورا کرنا ضروری نہیں۔ یعنی یوں کہیں۔ کہ عدم اتمام فی الفساد یہ علت ہے عدم اتمام فی الإفساد میں۔ عدم اتمام فاسد ہونے کی صورت میں پورا کرنا ضروری نہیں تو فاسد کرنے کی صورت میں بھی پورا کرنا ضروری نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ یعنی شروع کر دیا اور پھر درمیان میں توڑ دیے تو شروع کرنے کے بعد ان کو پورا کرنا ضروری نہیں، یعنی فاسد کر دینے کے بعد ان کو پورا کرنا ضروری نہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ وضو کو انہوں نے اصل بنایا اور نفل کو چاہے وہ نفل نماز ہو چاہے وہ نفل روزہ ہو، اس کو بنایا مقیس یعنی فرع۔ اور وضو کے اندر عدم اتمام فی الفساد کو علت قرار دیا عدم اتمام فی الشروع کے لیے کہ فساد کی صورت میں اتمام ضروری نہیں تو افساد یا یوں کہیں۔ شروع کرنے کی صورت میں بھی اتمام ضروری نہیں، اور وضو جس طرح عبادت ہے نفل بھی اسی طرح عبادت ہے تو وہاں پر بھی یہ علت ہوگی اسی حکم کے لیے۔ وہاں فساد کی صورت میں پورا کرنا ضروری نہیں تو لہٰذا شروع کرنے کے بعد بھی اس کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: وعندهم، اور شوافع کے نزدیک هذه عبادة، هذه عبادة نوافل ایسی عبادت ہیں لا يمضى في فاسدها کہ جاری نہیں رہا جائے گا في فاسدها اس کے فاسد یعنی اس کے فاسد جو ہے نوافل میں سے، اس میں مضاء کے معنی ہوتے ہیں جاری رہنا، کسی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا۔ تو اس کے فاسد میں مضاء یعنی اس کو جاری رکھنا نہیں ہے، اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا نہیں ہے۔ أي إذا فسدت بنفسها، دیکھیے فاسد ذکر ہوا، افساد نہیں ذکر ہوا۔ إذا فسدت بنفسها من غير إفساد، جب یہ فاسد ہو جائے خود بغیر افساد، فاسد کیا نہیں ہے بلکہ خود فاسد ہوا بظهور الحدث من المصلي، مصلی یعنی نماز پڑھنے والے کی طرف سے کسی حدث کے ظاہر ہو جانے کی وجہ سے، یعنی کوئی حدث لاحق ہوا وضو ٹوٹ گیا اس کا، فلا يجب إتمامها اس کا پورا کرنا واجب نہیں۔ هذا بخلاف الحج، بھئی بعض عبادتیں ایسی ہیں کہ ان کے ان کے نزدیک بھئی، بعض عبادتیں ایسی ہیں کہ ان کے فساد کی صورت میں اس کا اتمام بھی ضروری اور اس کی قضا بھی ضروری۔ حج جیسے ہے، حج جو ہے وہ اگر کسی نے وقوف عرفہ سے پہلے بیوی سے صحبت کر لی، احرام کی حالت ہے اس میں تو یہ صحبت منع تھی لیکن وقوف عرفہ سے جو حج کا رکن اعظم ہے، اس سے پہلے اس نے صحبت کر لی تو اس کا حج فاسد ہوا بھئی۔ اور اب وہ کیا کرے؟ حج چھوڑ دے؟ نہیں، آپ نے فقہ میں پڑھا ہوگا اس کا حکم کیا ہے؟ وہ حج کے افعال کرتا چلا جائے بھئی، سارے افعال کرے۔ تو کیا یہ حج ہو گیا؟ کہتے ہیں: نہیں نہیں، حج فاسد ہو چکا ہے البتہ اس کے اعمال سرانجام دیتا چلا جائے اور پھر اس حج کی اگلے سال میں اس کی قضا کرے گا بھئی۔ اس حج کے افعال بھی سرانجام دیتا رہے اور اگلے سال پھر کیا کرے گا اس کی؟ قضا بھی کرے گا۔ تو یہ حج میں اس طرح نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جبکہ نوافل میں یہ بتلا رہے ہیں ان کے نزدیک نوافل میں فساد کی صورت میں اتمام ضروری نہیں جبکہ حج میں کیا ہے؟ فساد کی صورت میں اتمام ضروری ہے۔ کہتے ہیں: وهذا بخلاف الحج، یہ حج کے خلاف ہے، فإنه إذا فسد، اسی کیونکہ حج جب وہ فاسد ہو جائے يجب فيه المضي، اس کے اندر جاری رہنا واجب ہوتا ہے والقضاء بعده، اور اسی طرح اس کی قضا بھی بعدہ اس کے بعد۔ فلا تلزم بالشروع، متن سے متن کو جوڑیے بھئی: هذه عبادة لا يمضى في فاسدها، کہ نوافل ایسی عبادت ہیں کہ چلا نہیں جائے گا، جاری نہیں رکھا جائے گا في فاسدها اس کے فاسد کی صورت اس کے فاسد میں، فلا تلزم بالشروع، لہٰذا یہ شروع کرنے کی وجہ سے بھی لازم نہیں، وہی بات جو میں نے بیان کی علت اور اس کی حکم بیان کر رہے ہیں کہ فاسد ہونے کی صورت میں اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ضروری نہیں تو شروع کی صورت میں بھی یہ لازم نہیں ہوں گے یعنی تکمیل تک ان کا پہنچانا ضروری نہیں۔ تو عدم اتمام فی الفساد کو علت قرار دیا کس چیز کی؟ عدم اتمام فی الشروع میں۔ كالوضوء، جیسے کہ وضو ہے بھئی، تو یہ وضو کو مقیس علیہ بنایا۔ فإنه لما لم يمض في فاسده لم يلزم بالشروع، اسی کیونکہ وضو جو ہے اس کے فاسد کے اندر جب جاری نہیں رہا جائے گا تو لم يلزم بالشروع تو یہ شروع کرنے کی وجہ سے بھی لازم نہیں ہوں گے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ مشکل ہے؟ فيقال لهم، تو شوافع سے کہا جائے گا: لما كان كذلك، کہ جب معاملہ ایسا ہی ہے، جب معاملہ یعنی وضو کے اندر جب عدم عدم اتمام ہے فساد کی صورت میں تو اسی سے ثابت کیا ہوا؟ عدم اتمام فی الشروع، اور اسی پر آپ نے قیاس کیا نوافل کو کہ وہاں پر بھی یہ عدم اتمام فی الفساد والی علت موجود ہے تو حکم بھی پایا جائے گا عدم اتمام فی الشروع۔ کہ دونوں کو آپ نے برابر قرار دیا، تو ان سے کہا جائے گا کہ جب معاملہ ایسا ہے، وجب أن يستوي فيه أي في النفل، تو پھر تو واجب ہے کہ برابر ہونے چاہئیں نفلوں میں عمل النذر والشروع، منت اور شروع کا عمل بھئی۔ تو پھر تو نفلوں میں منت اور شروع کو برابر ہونا چاہیے۔ وضو میں کیا علت کس کو قرار دیا؟ نظر رکھنا مشکل مقام ہے بھئی، عدم اتمام فی الفساد اس کو کیا علت قرار دیا اور حکم کیا قرار دیا؟ عدم اتمام یعنی فساد کی صورت میں پورا کرنا ضروری نہیں تو لہٰذا شروع کرنے کی صورت میں بھی پورا کرنا ضروری نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ پھر تو وضو میں منت اور شروع برابر ہوءے۔ وضو میں منت اور شروع کیا ہوئے؟ برابر ہوءے۔ جس طرح وضو شروع کرنے کے بعد پورا کرنا ضروری نہیں اسی طرح منت بھی ہے وضو کے اندر، وضو کی اگر منت مان لی جائے تو منت پوری ہو جائے تو وضو کا کرنا ضروری نہیں۔ وضو کا کرنا، کیونکہ منت ہوگی عبادت مقصودہ کی اور وضو تو عبادت مقصودہ نہیں۔ یہ تو وسیلہ ہے نماز تک پہنچنے کا۔ تو وضو بالاتفاق بھئی وضو کے اندر اگر منت مان لی وضو کرنے کی کہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں وضو کروں گا تو اس منت کے پورا ہونے کی صورت میں اس شخص پر وضو واجب نہیں۔ بات سمجھ میں ائی؟ تو ہم کہتے ہیں کہ آپ نے کہا تھا وضو فاسد ہو جائے اس کو پورا کرنا ضروری چونکہ نہیں ہے تو شروع کرنے کی صورت میں بھی اس کو پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا یہاں پر شروع اور منت دونوں برابر ہو گئے وضو میں۔ وضو جس طرح شروع کر دینے کی صورت میں پورا کرنا ضروری نہیں اسی طرح وضو کی اگر منت مان لی تو اس کو بھی پورا کرنا ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وضو کے اندر شروع اور منت برابر ہو گئے۔ وضو میں شروع اور منت برابر۔ پہلے انہوں نے کس کا ذکر کیا تھا؟ فساد اور افساد کو برابر کیا تھا وضو کے اندر یا فساد اور شروع کو۔ فساد اور۔ فساد کی صورت میں پورا نہیں کرنا تو شروع کی صورت میں بھی پورا انہوں نے ان دونوں چیزوں کو برابر بنایا تھا بھئی۔ لفظوں میں اگرچہ نہیں کا، لیکن ثابت ہوا تھا یا نہیں ان کے دعوے سے؟ کہ وضو کے اندر فساد اور شروع کرنا برابر یعنی جس طرح فساد کی صورت میں پورا نہیں کیا جاتا، شروع کرنے کی بھی صورت میں بھی پورا نہیں کیا جائے گا۔ تو ہم کہتے ہیں کہ پھر تو وضو کے اندر شروع اور منت دونوں برابر ہو گئے۔ شروع اور منت جب وضو میں شروع اور منت برابر ہوئے تو نفلوں کے اندر بھی وضو اور منت شروع اور منت کو کیا ہونا چاہیے؟ برابر ہونا چاہیے۔ نفلوں میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ شروع اور منت کو برابر ہونا چاہیے اور نفلوں میں آپ نے کیا کہا؟ شروع کی صورت میں اس کو پورا کرنا ضروری ہے؟ اب اپ کے نزدیک نفلوں کو شروع کر دیں تو ان کو پورا کرنا ضروری؟ نہیں تو لہذا منت کو بھی اس کے برابر ہونا چاہیے لہذا نفلوں کی منت بھی کر لیں تو اس کو پورا کرنا ضروری نہیں ہونا چاہیے۔ یہی ہونا چاہیے نا اسی طرح وضو کے اندر جو اصل ہے جب اس کے اندر شروع اور منت برابر ہو گئے تو فرق کے اندر بھی کیا ہونا چاہیے؟ شروع اور منت کو برابر ہونا چاہیے تو شروع تو آپ نے بتا دیا ہمیں کہ نفل شروع کر دیں تو اس کو پورا کرنا ضروری نہیں تو ان کے اندر منت کا عمل بھی اسی طرح ہونا چاہیے، منت ان کی مان لیں تو منت پوری کرنا ضروری نہیں۔ حالانکہ بالاجماع ایسا نہیں ہے۔ منت نفلوں کی مان لیں تو اس کو پورا کرنا کیا ہوتا ہے؟ واجب ہوتا ہے۔ واجب ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جب منت کا پورا کرنا نفلوں کے اندر واجب ہے اور منت اور شروع تو برابر ہونے چاہیے، کیا ہونے چاہیے؟ برابر ہونے چاہیے تو جب منت کا پورا کرنا نفلوں میں واجب ہے تو شروع کے بعد بھی اس کو پورا کرنا واجب ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح انہوں نے دعویٰ کیا کیا تھا کہ نفل بھی وضو کی طرح عبادت ہیں اور وضو کے اندر عدم اتمام ہے فساد کی صورت میں تو عدم اتمام ہے شروع کی صورت میں بھی۔ تو یہی حکم نفل کا بھی ہوگا، وہاں پر بھی عدم اتمام ہے فساد کی صورت میں تو عدم اتمام ہے شروع۔ شروع کی صورت میں بھی اتمام کرنا ضروری نہیں۔ تو ہم نے کہا معلوم ہوا وضو یہ تو آپ نے ثابت کر دیا کہ شروع وضو کے اندر شروع کرنے کی صورت میں اتمام ضروری نہیں تو منت بھی اس کے اندر اسی طرح ہے کہ منت بھی شروع کرنے کی صورت منت ماننے کی صورت میں بھی اس کو پورا کرنا ضروری نہیں۔ تو وضو کے اندر شروع اور منت برابر ہو گئے، جب وضو کے اندر شروع اور منت برابر ہوئے تو نفلوں میں بھی شروع اور منت کو کیا ہونا چاہیے؟ برابر ہونا چاہیے۔ اور شروع تو آپ نے بتلایا نفلوں کے اندر شروع کے بعد اتمام ضروری نہیں۔ تو منت کے اندر بھی اس کا اتمام ضروری نہیں ہونا چاہیے لیکن منت کا تو پورا کرنا بالاجماع ضروری ہے۔ جب منت کا پورا کرنا ضروری ہے تو منت اور شروع تو برابر تھے تو منت کا پورا کرنا جب ضروری نفلوں کے اندر تو شروع کے بعد بھی اس کو پورا کرنا ضروری ہو جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں لما كان كذلك جب اسی طرح ہے معاملہ وجب أن يستوي فيه أي في النفل تو واجب ہوا کہ برابر ہوں نفلوں کے اندر عمل النذر والشروع منت اور شروع کا عمل برابر ہونا چاہیے باللزوم کس طور پر؟ لزوم کے طور پر یعنی جیسے منت لازم ہوتی ہے تو شروع کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ لازم یعنی اس کو پورا کرنا ضروری ہونا چاہیے کما استوا عملہما في الوضوء بعدم اللزوم جیسے کہ برابر ہے ان دونوں کا عمل جیسے کہ برابر ہے کن کا عمل؟ نظر اور شروع کا عمل برابر ہے فی وضو کس کے اندر؟ وضو کے اندر بدم اللزوم کس کے ساتھ؟ وضو میں برابر ہے لیکن وہاں ہے عدم لزوم۔ شروع کرنے سے بھی لازم نہیں، منت سے بھی لازم نہیں۔ تو وضو میں جب یہ دو چیزیں برابر ہیں تو نفل میں بھی یہ دونوں چیزیں برابر ہونی چاہیے۔ لیکن نفل میں ہے لزوم کے اعتبار سے برابری اور وضو میں ہے عدم لوز وضو میں شروع کر دیں تو پورا کرنا ضروری نہیں تو منت بھی مان لیں تو اس کو پورا کرنا ضروری نہیں۔ اور نفل میں بھی یہ دونوں چیزیں برابر ہونی چاہیے لیکن وہاں پر کیا ہے؟ منت کی وجہ سے واجب ہے تو معلوم ہوا شروع کی صورت میں بھی واجب ہاں تو وہاں لزوم ہے، لزوم کے اعتبار سے برابری اور وضو کے اندر عدم توجہ ہے سبق کی طرف۔ نفلوں میں کس اعتبار سے برابری ہے؟ منت اور شروع میں کس اعتبار سے برابری؟ لزوم کے اعتبار اور وضو میں بھی دونوں برابر ہیں منت اور شروع لیکن کس اعتبار سے؟ عدم لزوم کے اعتبار سے ف الوصف الذي جعله الشافعی رحمہ اللہ دلیلا علی عدم اللزوم بالشروع فی النفل۔ پس وہ وصف جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل بنایا تھا علی عدم اللزوم کس چیز پر؟ عدم اللزوم بالشروع فی النفل۔ شروع کی وجہ سے لازم نہ ہونے پر فی النفل کس کے اندر؟ نفل میں وهو عدم الإمضاء في الفساد اور وہ جاری نہ رہنا ہے، تکمیل تک نہ پہنچانا ہے فی الفساد کس میں؟ فساد کی صورت میں انہوں نے کیا کہا تھا؟ وضو کو پورا کرنا ضروری نہیں۔ اسی طرح نفلوں کو بھی فساد کی صورت میں پورا کرنا ضروری نہیں تو شروع کی صورت میں بھی پورا کرنا ضروری نہیں۔ تو انہوں نے عدم امضاء في الفساد یوں آسان لفظوں میں یوں کہو عدم اتمام في الفساد جو ہے اس کو علت بنایا تھا، کیا بنایا تھا؟ علت بنایا تھا۔ جعلناه اسی کو ہم نے جعلناه علۃ ہم نے اس کو علت بنا دیا لاستواء النظر والشروع کس چیز کے لیے؟ نظر اور شروع کی برابری کے لیے اور یلزم منہ اللزوم بالشروع اور اس سے کیا لازم آیا؟ لزوم بالشروع لازم آیا کیا لازم آیا؟ نتیجے کے طور پر یہی بات لا ہم نے صرف ہم نے یہ نہیں کہا کہ نفل اور نفل جس طرح منت کی صورت میں لازم ہوتے ہیں اس طرح شروع کی صورت میں بھی لازم ہوں گے۔ یہ ہم نے نہیں کہا، ہم نے صرف اتنا کہا کہ پھر تو منت اور شروع برابر ہونے چاہیے، منت اور شروع کس میں؟ نفلوں میں اور اس سے اس سے خود بخود کیا بات نکل آئی؟ کہ یہ لازم منت تو ہے لازم تو لہذا شروع کی صورت میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ لازم ہو۔ تو ہم نے لزوم کی بات نہیں کی ہم نے صرف برابری کی بات کی لیکن اسی کے ساتھ کیا لازم ہے؟ لزوم بھی ہے بھئی کیا ہے؟ اس کے ساتھ لزوم بھی آ گیا لیکن یہ لزوم ہم نے ذکر نہیں کیا تھا ہم نے صرف کیا ذکر کی تھی؟ برابری ذکر کی تھی تو یہی بات کر رہے ہیں کہ یلزم منہ اللزوم بالشروع اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ لزوم بالشروع لازم ہے فکان قلبا من هذه الحيثية تو یہ قلب ہے اس حیثیت سے قلب ہے اس حیثیت سے قلب ہے بھئی، کس حیثیت سے؟ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ مشکل مقام ہے بھئی۔ دیکھیے انہوں نے عدم اتمام في الفساد کس کو؟ عدم اتمام في الفساد کو علت قرار دیا کس چیز کی؟ عدم اتمام في الشروع کی۔ ہم نے بھی اسی کو دلیل بنایا عدم اتمام في الفساد کو کہ جیسے وہاں پر برابری ہے تو پھر یہاں بھی نفلوں کے اندر بھی منت اور شروع کو کیا ہونا چاہیے؟ برابر ہونا چاہیے۔ بس صرف اتنی بات ہم نے کی۔ لیکن جب ہم برابری آ گئی تو برابری کس طرح ہوگی کہ نفل تو بالاجماع منت سے لازم ہوتے ہیں تو شروع کی صورت میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ نفل لازم ہو جانے چاہیے یہ ہماری بات کے ساتھ لازم ہے یہ لزوم جو آیا یہ ہمارے استواء کے ساتھ لازم ہے، استواء کے ساتھ تو دیکھیے کہتے ہیں اس حیثیت سے یہ قلب ہے قلب تو کس کو کہتے ہیں؟ پلٹنے کو کہتے ہیں نا پلٹنے کو اور اس میں کیا کیا جاتا تھا؟ معلل کی دلیل کو پلٹ دیا جاتا تھا پہلے وہ اس کی دلیل تھی آپ نے پلٹ کر کس کی دلیل بنا دی؟ اپنی دلیل بنا دی۔ تو یہاں پر یہاں پر یہ حقیقتا یہاں قلب نہیں ہے بھئی۔ یہاں حقیقتا قلب نہیں۔ قلب تو توجہ ہے سبق کی طرف۔ حقیقتا یہاں قلب نہیں بھئی کیونکہ قلب کے اندر ہم ان کی دلیل کو اپنی دلیل بنا کر پیش کر دیا کرتے تھے جب اور جب اس کو اپنی دلیل بنا دیا تو ان کی دلیل ٹوٹ گئی کیونکہ انہوں نے تو اسی کو دلیل بنایا تھا جب ہم نے اسی کو اپنی دلیل بنا دیا تو ان کی دلیل ٹوٹ گئی تو یہاں پر ایسا نہیں ہے بھئی۔ هیاں پر قلب نہیں۔ قلب تو تب ہوتا قلب تو تب ہوتا کہ انہوں نے عدم امضاء في الفساد کو عدم اتمام توجہ رکھنا بھئی انہوں نے عدم اتمام في الفساد کو کس کو؟ انہوں نے عدم اتمام في الفساد کو عدم لزوم کی دلیل بنایا تھا ہم اسی کو لزوم کی دلیل بناتے انہوں نے عدم اتمام في الفساد کو کس کی دلیل بنایا تھا؟ عدم لزوم کی۔ ہم اسی کو لزوم کی دلیل بناتے پھر قلب ہوتا لیکن ہم نے تو لزوم کی دلیل نہیں بنایا ہم نے تو کس چیز کی دلیل بنایا؟ صرف استواء کی کس کی دلیل بنایا؟ ہاں اس استواء کے ساتھ لازم تھا لزوم بھی اس کے ساتھ لزوم بھی لازم تھا تو اس اعتبار سے قلب ہے حقیقتا یہاں پر قلب نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی فکان قلبا من هذه الحيثية تو یہ قلب ہے اس حیثیت سے وإنما كان هذا القلب ضعيفا متدن میں کہا نا یہ قلب کیا ہے؟ ضعیف کہتے ہیں یہ قلب جو ہے ضعیف ہے لانه ما أتى بصريح نقيض الخصم اس لیے کیونکہ ما آتا نہیں لے کر آیا آتا کا صیغہ با آتا کے معنی آنے کے باء صلہ ہے تو کیا معنی لانے کے ما آتا بصريح نقيض الخصمی کیونکہ سائل جو ہے معترض جو ہے وہ لے کر نہیں آیا کیا نہیں لے کر آیا؟ صریح نقيض الخصمی مقابل کی صریح نقیض نہیں لے کر آیا بھئی ہم نے کیا ثابت کیا؟ ہم نے استواء ثابت کیا ہاں اس استواء کے ساتھ لازم کیا تھا؟ لزوم تو ہم نے استواء ثابت کیا تو یہاں قلب تب ہوتا کہ اگر اس نے عدم استواء کا دعویٰ کیا ہوتا اس نے عدم استواء کو ثابت کیا ہوتا ہم کس کو ثابت کر رہے ہیں؟ استواء کو پھر تو قلب تھا لیکن یہاں تو ایسا نہیں انہوں نے تو ثابت کیا تھا عدم اتمام في الشروع کو کس کی وجہ سے؟ عدم اتمام في الفساد کی وجہ سے ہم نے ان کا معارضہ کس طریقے پر کیا؟ صرف ہم نے کہا کہ اس صورت میں تو پھر منت اور شروع نفلوں میں کیا ہو جائیں گے؟ برابر ہو جائیں گے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ہم یہ صراحتا مقابل کی نقیض نہیں لائے معترض اس انہوں نے کیا کہا تھا؟ عدم اتمام في الشروع علت ہے کس چیز کی؟ عدم اتمام في الشُرُو۔ ہم اتمام في الشروع کو اور دلیل لے کر آتے تو پھر یہ کیا ہوتا؟ قلب ہوتا۔ لانہ ما أتى بصريح نقيض الخصمی اس لیے کیونکہ سائل جو ہے مقابل کی صریح نقیض نہیں لے کر آیا بھئی کیا دعویٰ تھا؟ کیا صریح نقیض لے کر آتا؟ کہتے ہیں اعنی اللزوم بالشروع یعنی لزوم بالشروع مقابل تو نے تو کہا تھا عدم لزوم بالشروع آپ کس کو لے کر آتے؟ لزوم بالشروع یہ اس کی نقیض تھی صراحتا تو یہ تو نے نہیں لایا بل آتا بالاستواء بلکہ سائل کس چیز کو لے کر آیا؟ استواء اس نے برابری کو ذکر کیا الملزوم لہ وہ استواء جو ملزوم ہے نقیض کا (یعنی اس کے ساتھ نقیض) لازم ہے استواء کے ساتھ کیا لازم تھی؟ لزوم انہوں نے ذکر کیا کیا؟ استواء اور استواء کے ساتھ کیا لازم ہے؟ لزوم بدشروع لازم ہے اس کے ساتھ بھئی تو یہ لزوم بالشروع ہوا لازم اور استواء ہوا ملزوم بھئی تو یہی بات بیان کر رہے ہیں بل آتا بالاستواء الملزوم لہ بلکہ سائل اس استواء کو لے کر آیا جو ملزوم ہے اس کے ساتھ کیا لازم ہے اللزوم بالشروع لازم ہے اس کے ساتھ بھئی تو یہ لزوم بالشروع ہوا لازم اور استواء ہوا ملزوم بھئی تو یہی بات بیان کر رہے ہیں بل آتا بالاستواء الملزوم لہ بلکہ سائل اس استواء کو لے کر آیا جو ملزوم ہے اس کے ساتھ نقیض کے ولان الاستواء مختلف ثبوتا وزوالا اور اس لیے کیونکہ استواء مختلف ہے ثبوت اور زوال کے اعتبار سے بھئی دیکھیے وضو میں بھی استواء آیا اصل اور فرع میں نہیں وضو میں وضو میں۔ وضو ہے اصل وضو ہے ا اصل اور اصل میں استواء ہے کس چیز کے اندر؟ منت اور شروع کرنے کے اندر۔ ہم نے استواء ذکر کیا نا اب اس کی بات کر رہے ہیں کہ یہاں پر ہم نے استواء تو ذکر کیا لیکن یہ قلب ضعیف ہے وجہ ذکر کر دی کیونکہ ہم صراحتا ان کی نقیض نہیں لے کر آئے بلکہ ہم نے استواء کو ذکر کیا اور استواء انہوں نے اگر استواء کا انکار کیا ہوتا ہم استواء کو لے کر آتے تو پھر یہ نقیض بنتا لیکن انہوں نے تو ذکر کیا تھا عدم لزوم کو اور ہم نے تو ذکر کیا استواء کو لیکن استواء کے ساتھ کیا لازم تھا؟ لزوم بالشروع تو ہم کس چیز کو لے کر آگئے اس سے۔ لیکن اس استوا کے ساتھ کیا لازم ہے؟ لزوم لازم ہے تو اس اعتبار سے یہ قلب ہوا۔ اور دوسری وجہ یہ بھئی، کہ استوا بھی جو ہم لے کر آئے، ایک استوا ہے وضو یعنی اصل کے اندر، ایک استوا ہے فرع یعنی نفلوں کے اندر۔ وضو کے اندر بھی استوا ہے منت اور شروع میں۔ وضو میں بھی کیا ہے؟ استوا ہے۔ منت اور شروع میں۔ کیا؟ کہ وجوب ہے یا عدم وجوب ہے؟ عدم وجوب ہے۔ وضو کے میں منت مان لو تو واجب ہو جائے گا وضو؟ نہیں ہوگا۔ شروع کر دو تو پورا کرنا واجب ہو جائے گا؟ نہیں، تو وضو میں ہے عدم لزوم یا یوں کہہ لیں عدم وجوب۔ وضو میں کیا ہے؟ عدم وجوب ہے۔ کس چیز کے اندر؟ منت اور شروع دونوں کے اندر۔ جبکہ فرع یعنی نفلوں کے اندر کیا استوا کس چیز میں ہے؟ لزوم کے اندر یعنی وجوب کے اندر ہے کہ جس طرح منت کی وجہ سے نفل واجب ہو جاتے ہیں اور لازم ہو جاتے ہیں، اس طرح شروع کی وجہ سے بھی واجب۔ تو استوا ہے دونوں جگہ۔ وضو میں بھی استوا کس چیز میں؟ نفل اور شروع میں۔ او نہیں نفل نہیں، منت اور شروع۔ وضو میں بھی منت اور شروع میں برابری، اور نفلوں میں بھی منت اور شروع میں برابری۔ لیکن وضو میں برابری کس اعتبار سے؟ عدم لزوم کے اعتبار سے، اور فرع کے اندر لزوم کے اعتبار سے، حالانکہ حکم شرعی تو ایک ہے جو حکم ایک جگہ ہوتا ہے وہی دوسری جگہ کیا کیا جاتا ہے؟ ثابت کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں اصل کے اندر حکم کیا ہے؟ عدم لزوم، اور فرع کے اندر کیا ہے؟ لزوم والا ہے۔ ولأن الاستواء مختلف ثبوتا وزوالا، اس لیے کیونکہ برابری جو ہے مختلف ہے ثبوت کے اعتبار سے اور زوال، یعنی وضو میں ہے زوال، یعنی زوال لزوم ہے، لزوم نہیں ہے، اور وضو نفلوں میں کیا ہے؟ ثبوت لزوم ہے، تو دونوں میں مختلف ہو گئی برابری۔ ففي الوضوء من حيث كونه غیر لازم بالشروع، پس وضو کے اندر برابری جو ہے اس حیثیت سے ہے کہ وہ شروع کرنے سے لازم نہیں، جس طرح منت کی صورت میں وہ لازم نہیں ہوتا تھا اس طرح شروع کرنے کی صورت میں بھی لازم نہیں۔ تو وہ من حيث كونه غير لازم بالشروع والنذر، اس حیثیت سے کہ وہ لازم نہیں ہوتا شروع کرنے اور منت کی وجہ سے۔ وفي النفل من حيث كونه لازما بهما، اور نفل میں اس حیثیت سے کہ یہ دونوں کیا ہیں؟ لازم ہیں۔ وضو میں دونوں منت اور شروع غیر لازم، اور نفلوں میں منت اور شروع دونوں لازم ہیں۔ یہاں تک بحث سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو انہوں نے دو وجہیں ذکر کیں کہ یہ قلب ضعیف ہے۔ ایک وجہ تو کیا ذکر کی قلب کے ضعیف ہونے کی؟ جی؟ کہ صریح نقیض نہیں لے کر آئے، بلکہ استوا کو لے کر آئے۔ اور دوسری وجہ یہ ذکر کی کیونکہ استوا بھی مختلف ہے اصل میں اور ہے اور فرع میں اور ہے۔ اصل میں استوا ہے عدم لزوم کے اندر اور فرع میں استوا ہے لزوم کے اندر بھئی، تو اس سے دیکھیے یہاں پر مناقضہ نہ رہا۔ قلب میں تو مناقضہ ہوتا تھا، میں نے شروع سبق میں بیان کیا کہ انہی کی دلیل کو توڑ کر کس سے اپنی دلیل بنایا جاتا تھا تو ضمنا مناقضہ آ جاتا تھا، ایک دلیل ان کی تھی ہم نے کہا اس ہمارے پاس ایک دلیل ہے جس سے دوسرا حکم ثابت ہوتا ہے اور انہی کی دلیل کے لیے دوسرا حکم ثابت کر دیا، تو انہی کی دلیل کو گویا توڑ دیا۔ تو ہے تو معارضہ۔ فرق سمجھ آ رہا ہے معارضے اور مناقضے کا؟ معارضہ کس کو کہتے ہیں؟ دوسرے کی دلیل کو اس میں نہیں توڑا جاتا، صرف کیا کیا جاتا ہے؟ ہاں، کہ آپ کی اس دلیل سے یہ حکم ثابت ہوتا ہے ٹھیک ہے ہمیں تسلیم ہے، لیکن ہمارے پاس بھی ایک دلیل ہے جس سے یہ والا دوسرا حکم اس کے مخالف ثابت ہوتا ہے۔ یہ ہے معارضہ، لیکن اس معارضے کے اندر ایک صورت کون سی ہے؟ قلب والی، اور قلب میں کیا کیا جاتا تھا بعینہِ انہی کی دلیل کو اپنی دلیل بنایا جاتا تھا، تو جب ان کی دلیل کو اپنی دلیل بنایا تو ان کی دلیل بھی ٹوٹ گئی تو مناقضہ بھی بیچ میں آ جاتا تھا، تو یہ تھا تو معارضہ لیکن ضمنا کیا آ جاتا تھا؟ مناقضہ بھی۔ اور یہاں پر کیا ہے؟ مناقضہ نہیں ہے بھئی، یہاں پر مناقضہ نہیں ہے ہم نے ان کی دلیل نہیں توڑی بھئی، تو اس وجہ سے یہ قلب ضعیف ہے بھئی، تو یہ دو وجہیں انہوں نے ذکر کر دیں بھئی۔ ويسمى هذا عكسا، اور اس کو عکس کہتے ہیں۔ یاد رکھیے ويسمى هذا عكسا، یہ متن ہے، متن۔ اور آگے جو لکیر کھینچی ہوئی ہے نا اي شبيها بالعكس لا عكسا حقيقيا، یہ نہیں ہے متن بھئی۔ جو متن تھا اس پر لکیر نہیں کھینچی اور جو متن نہیں تھا اس پر انہوں نے لکیر کھینچ دی بھئی۔ ويسمى هذا عكسا، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ عکس کہتے ہیں۔ عکس کہتے ہیں۔ یاد رکھیے عکس پہلے سمجھ لیں۔ عکس تین قسم پر ہے یاد رکھیے۔ ایک عکس عرفی ہے، ایک عکس لغوی ہے، ایک عکس منطقی ہے۔ عکس کتنے قسم پر؟ تین۔ ایک عکس عرفی، دوسرا عکس لغوی، تیسرا عکس منطقی۔ عکس عرفی کا م کا معنی ہے ضد بھئی، ضد۔ عکس عرفی کا کیا معنی ہے؟ ضد۔ بھئی دیکھیے آپ بھی یہ استعمال ہوتے ہیں کتابوں میں، کبھی عکس عرفی مراد ہوتا ہے، کبھی عکس لغوی مراد ہوتا ہے، کبھی عکس منطقی مراد ہوتا ہے۔ مثلاً یہ عکس عرفی ہے عرف میں اس معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں زید بڑا نیک آدمی ہے اور فلاں اس کا برعکس ہے۔ کیا مطلب ہوتا ہے؟ اس کی ضد ہے، یعنی وہ بڑا شریر آدمی ہے فلاں، زید بڑا نیک ہے تو فلاں بڑا شریر، یہ ہے عکس عرفی، یعنی ضد کے معنی میں ہوتا ہے۔ اور ایک عکس لغوی ہے۔ عکس لغوی اس کو کہتے ہیں کہ کلام کو نفی کو اثبات سے بدل دینا اور اثبات کو نفی سے بدل دینا، یعنی کلام ایک بات کی اور ساتھ کہہ دیا اور برعکس بھی। ایسا ہے اور برعکس بھی۔ برعکس بھی۔ یعنی اسی پچھلے کلام کو یعنی یوں کہیں کلام برعکس کے اندر، کلام کو اپنے پہلے ہی طریقے پر لوٹایا جاتا ہے۔ جو پہلے ذکر کیا تھا، اسی طریقے پر کلام کو لوٹا دیا جاتا ہے، لیکن مثبت کو نفی سے بدل دیتے ہیں اور نفی کو مثبت سے بدل دیتے ہیں۔ مثلاً بھئی، میں کہتا ہوں کہ جہاں پر یہ علت پائی جائے گی وہاں پر یہ حکم بھی پایا جائے گا اور برعکس بھی۔ جہاں پر یہ علت ہوگی وہاں یہ اور برعکس بھی، کیا معنی؟ اسی پچھلے کلام کی طرف پھر لوٹانا ہے، لیکن اس کو اب نفی سے بدل دو، اور برعکس بھی، یعنی جہاں علت نہیں وہاں حکم بھی نہیں۔ تو کلام کو اسی پہلے طریقے پر لوٹانا، لیکن مثبت کو نفی سے بدل دینا اور اگر نفی تھی تو اس کو اثبات سے بدل دینا بھئی۔ تو اب کیسے ہوا؟ کلام میں نے کیا کیا تھا؟ کہ جہاں یہ علت ہوگی وہاں یہ حکم بھی ہوگا اور برعکس بھی، یعنی پورا کلام کیا بن گیا؟ جہاں علت ہوگی وہاں حکم ہوگا، اور جہاں علت نہیں ہوگی وہاں حکم بھی نہیں ہوگا بھئی، یہ ہے عکس لغوی بھئی۔ کلام کو پہلے ہی طریقے پر لوٹا دینا، لیکن اثبات اور نفی کو بدل دینا بھئی، پہلے میں اثبات تھا تو دوسرے میں نفی ہے۔ تیسرا عکس منطقی ہے۔ وہ تو آپ نے پڑھا ہوگا منطق کی کتابوں میں کہ موضوع کو محمول بنا دینا اور محمول کو موضوع بنا دینا اور ساتھ کیف اور صدق کی بقا کے، یعنی اگر پہلا قضیہ صادق تھا سچا تھا تو دوسرا جو عکس ہو وہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ صادق ہونا چاہیے۔ وہ بھی صادق، اور کیف میں بھی برابری ہونی چاہیے، یعنی اگر پہلا موجبة تھا تو عکس بھی موجبة ہی بنانا، اگر پہلا سالبة تھا تو عکس بھی کیا بنانا؟ سالبة ہی بنانا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ عکس منطقی ہے۔ یہاں جو عکس آیا نا یہ عکس لغوی مراد ہے۔ ويسمى هذا عكسا، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ عکس کہتے ہیں۔ آگے شارح بتلا رہے ہیں أي شبيها بالعكس، یہ عکس کے مشابہ ہے لا عكسا حقيقيا، حقیقتاً عکس نہیں ہے، لأن العكس الحقيقي، اس لیے کیونکہ عکس حقیقی جو ہے هو رد الشيء على سننه الأول، سنن کہتے ہیں طریقے کو، کیونکہ عکس حقیقی هو رد الشيء على سننه الأول، چیز کو لوٹانا اس کے پہلے طریقے پر ہی۔ میں نے بتلایا بھئی، اس کے پہلے طریقے پر ہی لوٹانا اور صرف کیا کرنا؟ نفی کو اثبات سے بدل دینا اور اثبات کو نفی۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ عکس حقیقی وہ لوٹانا ہے چیز کو اپنے پہلے ہی طریقے پر، كما يقال في قولنا، جیسے کہ ہمارے کہا جائے ہمارے اس قول کے اندر ما يلزم بالنذر يلزم بالشروع، جو چیز منت کی وجہ سے لازم ہوتی ہے وہ شروع کی وجہ سے بھی لازم ہو جاتی ہے، جیسے حج۔ اور ادھر دیکھیے بھئی، اور اس کا برعکس بھی۔ کیا کلام پہلے میں نے کیا؟ جو چیز منت کی وجہ سے لازم ہوتی ہے وہ شروع کی وجہ سے بھی لازم، اور اس کا برعکس بھی، کیا معنی؟ جو چیز منت کی وجہ سے لازم نہیں وہ شروع کی وجہ سے بھی لازم، دیکھیے یہی بیان کر رہے ہیں وما لا يلزم بالنذر لا يلزم بالشروع، اور جو چیز لازم نہیں ہوتی منت کی وجہ سے وہ شروع کی وجہ سے بھی لازم نہیں، كالوضوء، جیسے وضو ہے۔ تو یہ قیاس عکس ہے مولانا، عکس، لیکن حقیقتاً عکس نہیں ہے مشابہ عکس، شبیہِ عکس ہے بھئی۔ شبیہِ عکس۔ کیوں؟ بھئی ہم نے کب عکس کیا؟ ہم نے انہی کا کلام ذکر کیا تھا؟ انہوں نے کیا ذکر کیا تھا؟ انہوں نے عدم لزوم کو ذکر کیا تھا۔ ہم نے کوئی لزوم کو ذکر کیا؟ ہم نے تو کس کو ذکر کیا؟ ہم نے تو استوا کو ذکر کیا۔ تو یہ عکس تو نہیں ہے حقیقتاً بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ عکس نہیں۔ تو مشابہ عکس ہے۔ مشابہ عکس کس طرح ہے؟ کہتے ہیں اس میں بھی کلام کو لوٹایا گیا، لیکن پہلے طریقے پر نہیں لوٹایا گیا اس کے خلاف پر لوٹایا گیا۔ کس پر؟ خلاف، پہلے طریقے کے خلاف پر کلام کو لوٹا دیا، عکس تو یہ تھا کہ بعینہِ اسی طریقے پر کلام کو لوٹاتے، لیکن یہاں کیا؟ یہاں کیا کیا؟ اس کے پہلے طریقے کے خلاف پر لوٹا دیا، پہلے طریقے پر نہیں لوٹایا بلکہ پہلے طریقے کے خلاف پر لوٹایا، تو لوٹایا تو صحیح، تو عکس میں بھی کیا ہوتا ہے؟ لوٹانا ہوتا ہے، تو اس میں بھی لوٹانا ہے، اگرچہ پہلے طریقے پر نہیں لوٹایا اس کے خلاف پر لوٹایا، لیکن لوٹایا تو صحیح، تو یہ عکس حقیقتاً تو نہیں البتہ عکس کے مشابہ ہے۔ اور کہتے ہیں وهو يصلح للترجيح، اور یہ جو عکس ہے، یہ ترجیح کی صلاحیت رکھتا ہے على ما سيأتي، بناء بر اس کے جو عنقریب آ جائے گی۔ بھئی دیکھیے ایک علتِ طردیہ ہے اور وہاں آپ نے پڑھا تھا اس کو کہتے ہیں طرد کا نام طرد و عکس بھی ہے۔ بعضوں نے صرف اس کا نام طرد رکھا، بعض طرد و عکس۔ طرد کا کیا معنی تھا؟ جہاں علت ہے وہاں حکم بھی ہے، اور عکس کا کیا معنی تھا؟ جہاں علت نہیں وہاں حکم بھی نہیں، تو ایک علت ہے اس میں صرف طرد ہے، جہاں علت ہے وہاں حکم بھی ہے۔ اور جہاں علت نہیں ہے وہاں یہ ضروری نہیں کہ حکم بھی نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آئی؟ صرف طرد ہے، جہاں علت ہے وہاں کیا ہے؟ حکم۔ ایک اس علت کے ساتھ حکم کا تعلق ہے، جہاں علت ہے وہاں کیا ہے؟ تو حکم کا علت سے تعلق ہے۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ جہاں علت ہے وہاں حکم ہے، جہاں علت نہیں وہاں حکم بھی نہیں۔ تو اس یہاں حکم کا زیادہ تعلق ہے علت کے ساتھ کہ جہاں علت ہوتی ہے وہاں حکم ہوتا ہے، جہاں علت نہیں ہوتی وہاں حکم بھی پہلے میں صرف وجود کی بات تھی کہ جہاں علت ہوتی ہے وہاں کیا ہوتا ہے؟ حکم بھی ہوتا ہے۔ نفی کی بات نہیں تھی کہ جہاں علت نہیں وہاں حکم بھی نہیں۔ لیکن دوسرے میں نفی بھی ساتھ ملا دی، جہاں علت ہے وہاں حکم ہے، جہاں علت نہیں وہاں حکم نہیں، تو لازمی بات ہے ایک جگہ صرف طرد ہے اور ایک جگہ طرد و عکس دونوں ہیں، تو کس کے اندر حکم کا تعلق علت سے زیادہ ہوگا؟ طرد و عکس دونوں ہوں جہاں پر بھئی، طرد و عکس دونوں ہوں وہاں پر حکم کا تعلق علت سے زیادہ ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں آ رہی؟ طرد کس کس کا نام ہے؟ جہاں علت ہو وہاں حکم ہو۔ سو جگہ علت آئی، سو جگہ ساتھ حکم بھی آیا، ہم کہیں گے طرد ہے۔ اور ایک ہے عکس، عکس کا یہ مطلب جہاں علت نہیں وہاں حکم بھی نہیں۔ پہلے میں عکس نہیں تھا کہ جہاں علت نہیں وہاں حکم نہیں، بلکہ ہو سکتا ہے بعض جگہ علت نہیں ہے اور حکم پھر بھی پایا جا رہا ہو۔ تو وہاں صرف طرد ہے عکس نہیں، جہاں علت ہوتی ہے وہاں حکم ضرور ہوتا ہے، لیکن جہاں بھی حکم ہو وہاں علت کا ہونا ضروری نہیں۔ لیکن جب طرد و عکس دونوں ہوں گے، جہاں علت ہے وہاں حکم ہے، جہاں علت نہیں وہاں حکم بھی نہیں، تو اس کا مطلب ہے برابری آ گئی دونوں میں، جہاں جہاں علت ہے وہاں حکم ہے، جہاں علت نہیں وہاں حکم بھی نہیں۔ تو کس کے ساتھ زیادہ تعلق ہوا حکم کا؟ اس علت کے ساتھ جس میں صرف طرد ہے یا جس میں طرد و عکس دونوں ہیں؟ جس میں طرد و عکس دونوں ہیں، تو اس کے ساتھ زیادہ تعلق ہو گیا حکم کا، تو یہ اس کے لیے پھر ترجیح ہو جائے گی۔ ایک قیاس ہے اس میں صرف طرد بیان ہوا، یا یہ ایک قیاس ہے اس میں طرد و عکس یا ایک علت ہے جس میں صرف طرد ہے، ایک علت میں طرد و عکس دونوں ہیں، تو ترجیح کون سے علت کو ہوگی؟ طرد و عکس والی کو، یہی بات بیان کر رہے ہیں وهو يصلح للترجيح، یہ جو عکس ہے یہ صلاحیت رکھتا ہے ترجیح کی على ما سيأتي، بناء بر اس کے جو عنقریب آ رہا ہے، لأن ما يطرد وينعكس أولى، اس لیے کیونکہ وہ علت جو مطرد بھی ہو اور منعکس بھی ہو اولى وہ زیادہ اولیٰ ہے، زیادہ لائق ہے مما يطرد ولا ينعكس، اس علت کے مقابلے میں جو مطرد تو ہے اور منعکس نہیں۔ وهذا لما كان رد الشيء على خلاف سننه الأول، اور یہ جب چیز کو لوٹانا ہے پہلے طریقے کے خلاف، پہلے طریقے کے خلاف لوٹانا ہے كان داخلا في القلب، تو یہ کس کے اندر داخل ہوئی؟ پہلے طریقے کے خلاف، قلب میں بھی کیا ہوتا تھا؟ پلٹنا تھا نا، پہلے کے خلاف، تو یہ حقیقتاً تو قلب نہیں لیکن اس اعتبار سے قلب ہے کہ اس میں کیا ہے؟ پہلے طریقے کے خلاف ہے، وہ لے کر آئے تھے عدم لزوم، ہم لے کر آ گئے استوا بمقابلہ میں ان کے، تو پہلے طریقے ہم نے بھی رد کیا، لیکن کس طریقے پر رد کیا؟ پہلے طریقے کے مطابق یا پہلے طریقے کے خلاف پر؟ تو لوٹایا پہلے طریقے کے خلاف پر اس کو لوٹایا، تو یہ عکس حقیقتاً تو عکس نہیں مشابہ بالعکس ہے اور قلب ہے اس اعتبار سے بھئی، اس حقیقتاً قلب نہیں۔ کیونکہ حقیقتاً قلب میں تو مناقضہ ہوتا ہے، دوسرے کی دلیل کو توڑ دینا ہوتا ہے، یہاں پر دوسرے کی دلیل کو نہیں توڑا گیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے كان داخلا في القلب، تو یہ داخل ہے قلب میں شبيها بالعكس، اس حال میں کہ یہ مشابہ ہے کس کے؟ عکس کے۔ وإنما جعله عكسا اتباعا لفخر الإسلام، مصنف نے اس قلب کو عکس قرار دیا اتباع کرتے ہوئے فخر الاسلام رحمہ اللہ کا، کس کا اتباع کرتے ہوئے؟ فخر الاسلام رحمہ اللہ کا۔ فخر الاسلام بہت بڑے عالم، ان کی سرسری نظر اتنی گہرائی تک پہنچتی تھی کہ عام علماء کی گہری نظر بھی وہاں تک نہیں پہنچتی بھئی، تو ان کی باتیں بڑی گہری بھئی۔ انہوں نے، یاد رکھیے یہ جو عکس ہے نا عکس، یہ یہ ایک ہوتا ہے سائل ایک معلل، معلل کس کو کہتے تھے؟ جو دعویٰ کرنے والا ہے، جو ایک حکم کی علت بیان کرتا ہے، اور سائل کس کو کہتے تھے؟ معترض، اعتراض کرنے والا، اعتراض کرنے والا۔ تو فخر الاسلام رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا کہ یہ تو ہے قلب، اور قلب کے مقابلے میں ہے عکس، کیا ذکر کیا؟ قلب کے مقابلے میں ہے عکس، انہوں نے عکس کو قلب کے مقابلے میں ذکر کیا، کیونکہ قلب قلب کون کرتا ہے؟ سائل کرتا تھا یا علل کرتا تھا؟ سائل کرتا تھا اعتراض کرنے والا قلب کرتا تھا۔ تو قلب کے اندر علل کی دلیل کو توڑا جاتا ہے۔ اور عکس، آپ نے ابھی پڑھا ایک ہے طرد اور ایک ہے طرد و عکس دونوں۔ تو طرد و عکس کی صورت میں تو علت کا، کا حکم کے ساتھ مزید اتصال بیان ہو جاتا ہے۔ اور اس کے لیے تو علت کو ترجیح دی دی جاتی ہے بھئی۔ ایک صرف علت معترضہ ہے ایک معترضہ و منعکسہ دونوں ہے تو کس کو ترجیح ہے؟ معترضہ اور جہاں طرد و عکس دونوں ہوں گے اس کو ترجیح ہوگی۔ تو یہ عکس جو ہے نا یہ علت کی تقویت کے لیے ذکر کیا جاتا ہے کہ ہماری علت معمولی نہیں ہے، اس میں طرد کے ساتھ ساتھ کیا پایا جا رہا ہے؟ عکس بھی۔ تو یہ طرد کے ساتھ ساتھ عکس کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کس لیے؟ تعلیل اپنی جو تعلیل کی ہے علل نے اس کو قوی کرنے کے لیے۔ کس لیے؟ تو عکس دلیل ہوتی ہے علل کی۔ عکس کے ذریعے علت قوی ہوتی ہے اور قلب کے ذریعے علت توڑی جاتی ہے۔ تو قلب کرتا ہے سائل اور عکس کون ذکر کرتا ہے؟ علل ذکر کرتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور عکس کے میں نے بتایا کہتے کس کو ہیں۔ پھر فخر الاسلام رحمہ اللہ نے آگے چل کر پھر بتلایا کہ یہ ایک قلب کی ایک، یہ قلب ہے۔ یہ ایک قسم۔ لیکن آگے وہ کہتے ہیں یہ حقیقتاً قلب ہے ہی نہیں۔ کیونکہ قلب تو اس کے، اس کو، قلب تو یہ ہوتا اگر انہوں نے عدم استواء ثابت کیا ہوتا اور ہم کیا لے کر آئے ہیں؟ استواء، پھر قلب ہوتا۔ یا انہوں نے تو ذکر کیا ہے عدم لزوم کو، ہم لے کر آتے لزوم کو پھر تو کیا ہوتا؟ قلب ہوتا، لیکن ہم نے تو قلب نہیں کیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لیکن اس اعتبار سے قلب ہے کہ ہم نے جب استواء ثابت کیا تو اس استواء کے ساتھ کیا ثابت ہو جائے گا؟ لزوم بھی ثابت ہو جائے گا جو کہ ان کے حکم کے مخالف ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اور پھر عکس، عکس تو کہتے علل کی تقویت کے لیے ذکر ہوتا تھا اس کی تعلیل کی قوت کے لیے، یہاں پر عکس بھی حقیقتاً نہیں ہے بھئی، عکس۔ ہاں، یہ عکس کے مشابہ ہے۔ عکس کس کو کہتے تھے؟ کلام کو پہلے طریقے پر ہی لوٹانا، لیکن نفی کو اثبات سے بدلنا اور اثبات کو نفی۔ یہاں پر تو چونکہ ایسا نہیں ہے بھئی۔ تو لوٹایا یہاں پر بھی کیا کلام کو، لیکن پہلے طریقے پر یا پہلے طریقے کے خلاف؟ پہلے طریقے کے خلاف لوٹایا گیا، انہوں نے عدم لزوم کی بات کی تھی ہم نے بھی کلام کو لوٹایا لیکن لزوم کی بات نہیں کی بلکہ کس کی بات کی؟ استواء کی بات کی، تو پہلے طریقے کے خلاف لوٹایا کلام کو۔ تو لیکن لوٹانا تو ہے، لوٹانا تو ہے تو اس اعتبار سے یہ عکس ہے، لیکن حقیقتاً عکس نہیں بلکہ مشابہ بالعکس۔ اور اس میں چونکہ قلب بھی ہے اس اعتبار سے کہ ہم نے جب استواء ثابت کر دیا تو استواء کے ساتھ ملزوم، لازم کیا تھا؟ لزوم، وہ بھی آگیا تو اس اعتبار سے یہ قلب بھی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ قلب بھی ہے لیکن حقیقتاً قلب نہیں، کیونکہ حقیقتاً قلب میں مناقضہ بھی ہوتا ہے، یعنی اسی کی دلیل کو استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے اس کی دلیل ٹوٹ جاتی ہے۔ یہاں پر ہم نے ان کی دلیل کو توڑا نہیں ہے، مناقضہ نہیں ہے تو یہ قلب نہیں بھئی۔ اور عکس بھی حقیقتاً نہیں بلکہ مشابہ بالعکس ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔