درس نمبر۔101 وَاخْتَلَفَ عَمَلُهُمْ فِي غَيْرِهِ، أَيْ: عَمَلُ أَصْحَابِنَا فِي غَيْرِ مَا لَا يُدْرَكُ بِالْقِيَاسِ، وَهُوَ مَا يُدْرَكُ بِالْقِيَاسِ. فَإِنَّهُ حِينَئِذٍ بَعْضُهُمْ يَعْمَلُونَ بِالْقِيَاسِ، وَبَعْضُهُمْ يَعْمَلُونَ بِقَوْلِ الصَّحَابِيِّ، كَمَا فِي إِعْلَامِ قَدْرِ رَأْسِ الْمَالِ. بھئی بحث چل رہی تھی کہ قول صحابی اور قیاس میں سے کس پر عمل کیا جائے گا۔ مصنف رحمہ اللہ نے اپ کو بتلایا کہ صحابی کی تقلید واجب ہے، اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کر دیا جائے گا۔ اور پھر اس کے بعد امام کرخی رحمہ اللہ کا اختلاف ذکر کیا کہ وہ فرماتے ہیں کہ جو چیزیں مدرک بالقیاس، جو صحابی کا قول جو ہے مدرک بالقیاس نہ ہو، اس میں تو صحابی کی تقلید کی جائے گی، معلوم ہوا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا سنا ہوگا، لیکن صحابی کا جو قول مدرک بالقیاس ہے، اس میں صحابی کی تقلید واجب نہیں ہے بھئی، صحابی کی تقلید واجب نہیں ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ذکر ہوا کہ وہ فرماتے ہیں کہ کسی میں بھی چاہے صحابی کا قول مدرک بالقیاس ہو یا مدرک بالقیاس نہ ہو، دونوں صورتوں میں صحابی کی تقلید واجب نہیں ہے۔ دونوں صورتوں میں صحابی کی تقلید واجب نہیں ہے۔ اس کے بعد مصنف رحمہ اللہ نے اپ کو بتلایا کہ صحابی کا وہ قول جو مدرک بالقیاس نہ ہو، جس کا پتہ قیاس سے نہ چل سکتا ہو، اس میں تو ہمارے فقہاء کا اتفاق ہے کہ اس میں صحابی کی تقلید واجب ہے۔ اور اس کی مثال ذکر کی جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتلایا کہ حیض کی کم سے کم مدت تین دن تین راتیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ دس دن۔ اور یہ ایسی چیز ہے جس کا پتہ قیاس سے نہیں چل سکتا تو ان کا یہ قول غیر مدرک بالقیاس ہوا تو اس کی وجہ سے ہم نے ان کے قول کو لیا اور قیاس وغیرہ کو ترک کر دیا۔ اور اسی طرح ایک چیز کو مہنگا بیچا ہو اور ثمن کے وصول کرنے سے پہلے ہی اس کو بیچی ہوئی قیمت سے کم پر لے لینا، واپس خرید لینا۔ اس کے بارے میں بھی ہم نے قیاس کو چھوڑ دیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قول کو لیا جنہوں نے حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پیغام بھجوایا تھا کہ ان سے جا کر کہہ دو، زید ابن ارقم سے جا کر کہہ دو کہ اللہ نے ان کے حج کو بھی باطل کر دیا اور پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ان کے جہاد کو بھی باطل کر دیا اگر انہوں نے توبہ نہ کی۔ اب اس کی وجہ سے یہ جو بیع کی تھی، اس کی وجہ سے حج کا باطل ہونا اور جہاد کا باطل ہونا اس کا پتہ تو عقل سے نہیں چل سکتا، معلوم ہوا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا۔ تو چنانچہ ان کا یہ قول غیر مدرک بالقیاس ہے تو ہم نے اس کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیا اور ان کے قول کو لے لیا بھئی۔ تو انہوں نے اپ کو، مصنف نے اپ کو بتلایا کہ صحابی کا قول مدرک بالقیاس نہ ہو تو ہمارے فقہاء کا اتفاق ہے کہ اس کی تقلید کی جائے گی، اس کی تقلید واجب ہے۔ وَاخْتَلَفَ عَمَلُهُمْ فِي غَيْرِهِ، اور مختلف ہے فقہاء کا عمل فِي غَيْرِهِ اس کے علاوہ میں۔ کس کے علاوہ میں بھئی؟ جو مدرک بالقیاس نہ ہو، اس کے علاوہ میں، تو اس کے علاوہ کون سا ہوا؟ جو مدرک بالقیاس ہے، وہی دیکھیے، آگے ذکر کریں گے۔ أَيْ عَمَلُ أَصْحَابِنَا فِي غَيْرِ مَا لَا يُدْرَكُ بِالْقِيَاسِ، یعنی ہمارے فقہاء کا عمل، یعنی مختلف ہے ہمارے فقہاء کا عمل فِي غَيْرِ مَا لَا يُدْرَكُ بِالْقِيَاسِ غير مدرک بالقیاس، مَا لَا يُدْرَكُ بِالْقِيَاسِ کے علاوہ میں، وَهُوَ مَا يُدْرَكُ بِالْقِيَاسِ، اور وہ جس جو مدرک بالقیاس ہو۔ فَإِنَّهُ حِينَئِذٍ بَعْضُهُمْ يَعْمَلُونَ بِالْقِيَاسِ، تو اس وقت بعض عمل کرتے ہیں قیاس پر، وَبَعْضُهُمْ يَعْمَلُونَ بِقَوْلِ الصَّحَابِيِّ، اور بعض عمل کرتے ہیں قول صحابی (یعنی صحابی کا وہ قول جو مدرک بالقیاس ہے، اس میں پھر اختلاف ہے، بعض قیاس پر عمل کرتے ہیں، بعض قول صحابی پر ہی)۔ كَمَا فِي إِعْلَامِ قَدْرِ رَأْسِ الْمَالِ، جیسے رأس المال کی مقدار کے بتلانے میں، اعلام کا معنی بتلانا، اطلاع دینا، رأس المال بھئی۔ بھئی عقد سلم، بیع سلم اپ نے پڑھا، جس کے اندر ثمن اج دیے جاتے ہیں تو مبیع دو چار چھ مہینے کے بعد ملے گا بھئی۔ تو اس کو، یہ کون سی بیع ہے؟ بیع سلم ہے۔ اور اس کے اندر جو پیسے جو ثمن ابھی دیے جا رہے ہیں ان کو اس کو رأس المال کہیں گے، کیا کہتے ہیں؟ رأس المال کہتے ہیں۔ تو یہ جو رأس المال ہے اس کی مقدار بتلانا، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ شرط ہے۔ بیع سلم کے جائز ہونے کے لیے شرط ہے کہ رأس المال کی مقدار بتلائی جائے، کتنے ثمن ہیں 200، 400، 500 کتنے ہیں۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اگر رأس المال سامنے موجود ہو، یعنی وہ درہم یا دنانیر یا وہ پیسے سامنے پڑے ہوئے ہیں تو ان کی طرف اشارہ بھی کر دیا جائے تو کافی ہے، مقدار بتلانے کی ضرورت نہیں۔ مثلاً اپ نے اپ کو گندم چاہیے، اس وقت وہ والی گندم نہیں مل رہی، دکاندار نے کہا چھ مہینے بعد ملے گی، اپ پیسے دے رہے ہیں، اپ نے پیسے سامنے رکھے ہوئے ہیں۔ تو اپ کہتے ہیں ان پیسوں کے بدلے میں نے اپ مجھے کتنی گندم دیں گے؟ مثلاً 100 من ہے، 50 من ہے، تو ان پیسوں کے بدلے میں نے اپ سے 50 من گندم خرید لی۔ تو دیکھیے، اپ نے پیسوں کی مقدار نہیں ذکر کی کہ کتنے پیسے ہیں، صرف ان کی طرف اشارہ کر دیا، صاحبین فرماتے ہیں کہ جس طرح کوئی چیز ذکر کی جائے تو وہ اس کی پہچان ہو جاتی ہے دوسرے کو، اور جس چیز کی طرف اشارہ کیا جائے، وہ ذکر سے بڑھ کر اس کی پہچان ہو جاتی ہے، تو جب یہاں اشارہ کر دیا تو بڑھ کر پہچان ہو گئی، لہذا اب ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ کتنے پیسے ہیں، یہ کتنے دینار ہیں۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، چاہے ثمن یا جو رأس المال ہے وہ مشار الیہ ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی اس کی مقدار بتلانا ضروری ہے بھئی، مقدار بتلانا۔ اور عمل کیا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول پر بھئی۔ امام صاحب کس کو لیتے ہیں اس سلسلے میں؟ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول کو لیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں ا گئی بھئی؟ جبکہ صاحبین کس طرف گئے؟ قیاس کی طرف گئے، قیاس کیا کیا؟ کہ بھئی جس طرح کوئی چیز ذکر کی جائے تو اس کی پہچان ہو جاتی ہے، اسی طرح اشارے سے اس ذکر سے بڑھ کر اس چیز کی پہچان ہو جاتی ہے، تو جب اشارہ کر دیا تو لہذا ذکر کی ضرورت نہیں ہے۔ تو امام صاحب نے صحابی کے قول کو لیا بھئی، اور یہ مدرک بالقیاس ہے بھئی۔ اور وجہ اس کی یہ بھئی کہ ہو سکتا ہے بعد میں یہ عقد سلم کسی وقت دونوں کو اگر منسوخ کرنا، فسخ کرنا پڑے بھئی، تو پھر وہ پیسے اس کو واپس دینے پڑیں گے یا نہیں دینے پڑیں گے؟ وہ واپس پیسے واپس کرے گا، تو اگر مقدار ہی معلوم نہیں تھی تو پھر کتنے وہ واپس کرے گا؟ کیسے واپس کرے گا بھئی؟ صورت، وجہ سمجھ میں ا گئی بھئی؟ فَإِنَّ أَبَا حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَشْتَرِطُ إِعْلَامَ قَدْرِ رَأْسِ الْمَالِ فِي السَّلَمِ، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ شرط لگاتے ہیں رأس المال کی مقدار بتلانے کی عقد سلم میں، وَإِنْ كَانَ مُشَارًا إِلَيْهِ، اگرچہ وہ مشار الیہ ہو، عَمَلًا بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، عمل کرتے ہوئے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قول پر۔ وَأَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى لَمْ يَشْتَرِطَا، اور صاحبین جو ہیں وہ شرط نہیں لگاتے اس کی، عَمَلًا بِالرَّأْيِ، عمل کرتے ہوئے رائے یعنی قیاس پر، لِأَنَّ الْإِشَارَةَ أَبْلَغُ فِي التَّعْرِيفِ مِنَ التَّسْمِيَةِ، اس لیے کیونکہ اشارہ وہ زیادہ بلیغ ہے پہچان میں، تعریف پہچان، پہچاننے میں مِنَ التَّسْمِيَةِ ذکر کے مقابلے میں۔ اشارہ زیادہ بلیغ ہے پہچان میں ذکر کرنے کے مقابلے میں، یا ابلغ بمعنی افضل کے بھئی، کہ اشارہ افضل ہے پہچان میں ذکر کرنے کے مقابلے میں۔ وَهِيَ كِفَايَةٌ فَلَا يَحْتَاجُ إِلَى التَّسْمِيَةِ، اور یہ کافی ہے تو پس محتاج نہیں ہے ذکر کرنے کا۔ وَالْأَجِيرِ الْمُشْتَرَكِ كَالْقَصَّارِ، اس کا عطف اعلام پر ہے، كَمَا فِي إِعْلَامِ قَدْرِ رَأْسِ الْمَالِ وَكَمَا فِي الْأَجِيرِ الْمُشْتَرَكِ كَالْقَصَّارِ۔ اجیر مشترک بھئی، ایک یاد رکھیے یہ اجیر دو قسم پر ہے، ایک اجیر خاص ہے، ایک اجیر مشترک۔ اجیر، یعنی ملازم ملازم۔ اجیر خاص جو اپ کا ذاتی ملازم ہے جسے اپ تنخواہ دیتے ہیں، وہ مہینہ بھر اپ کی خدمت کرے گا تو اپ اس کو تنخواہ دیتے ہیں۔ اور ایک اجیر مشترک ہوتا ہے جو سب لوگوں کا کام کرتا ہے اور اس کام کے پیسے لیتا ہے جیسے دھوبی ہے بھئی، سب اس کے پاس اپنے کپڑے لے کر جاتے ہیں اور وہ ان کے پھر پیسے لیتا ہے، تو یہ کیا ہے؟ اجیر مشترک بھئی۔ تو کہتے ہیں جیسے کہ اجیر مشترک میں ہے كَالْقَصَّارِ جیسے کہ دھوبی ہے۔ إِذَا ضَاعَ الثَّوْبُ فِي يَدِهِ، جب ضائع ہو جائے کپڑا اس کے قبضے میں، فَإِنَّهُمَا يُضَمِّنَانِهِ، پس صاحبین جو ہیں اس کو ضامن بناتے ہیں، ضامن قرار دیتے ہیں، لِمَا ضَاعَ فِي يَدِهِ، اس چیز کا جو اس کے ہاتھ قبضے میں ضائع ہوئی بھئی۔ کپڑے دھلوانے کے لیے لے گئے تھے، وہ کپڑے اس کے پاس کیا ہو گئے مثلاً ضائع ہو گئے، چوری ہو گئے، تو صاحبین کیا فرماتے ہیں؟ یہ ضامن ہوگا بھئی۔ فِي مَا اس صورت میں يُنْكِنُ الْإِحْتِرَازُ عَنْهُ، جس سے بچنا ممکن ہو۔ کپڑا ضائع ہوا ہے اس طور پر کہ اس سے بچنا ممکن تھا، كَالَسَّرِقَةِ وَنَحْوِهَا، جیسے چوری اور اسی طرح اور بھی کوئی بات ہو۔ تو دیکھیے چوری اگر وہ حفاظت کا اچھا انتظام، صحیح انتظام کیا ہوتا تو چیز چوری نہ ہوتی، اس سے بچنا ممکن تھا، تو اس میں وہ ضامن قرار دیتے ہیں۔ تَقْلِيدًا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، تقلید کرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، حَيْثُ ضَمَّنَ الْخَيَّاطَ صِيَانَةً لِأَمْوَالِ النَّاسِ، اس حیثیت سے کہ انہوں نے درزی کو ضامن بنایا تھا لوگوں کے مالوں کی حفاظت کے لیے۔ درزی کو کیا، درزی سے ضمان لیا تھا، درزی کو ضامن بنایا تھا۔ وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، إِنَّهُ أَمِينٌ، کہ اجیر مشترک امین ہے۔ یہ اپ نے اپنی چیز مثلاً کپڑے دھونے کے لیے جو دھوبی کو دیے ہیں یا کپڑے جو درزی کو سینے کے لیے دیے ہیں تو یہ چیز اس کے پاس بطور امانت کے ہے، تو وہ امین ہے، فَلَا يَضْمَنُ، تو وہ ضامن نہیں ہوگا، كَالْأَجِيرِ الْخَاصِّ، جیسے کہ اجیر خاص جو ہے وہ ضامن نہیں ہوتا، لِمَا ضَاعَ فِي يَدِهِ، اس چیز کا جو اس کے ہاتھ سے ضائع ہو جائے، اس کے قبضے سے ضائع ہو جائے۔ فَهُوَ أَخَذَ بِالرَّأْيِ، پس امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے رائے کو لیا۔ وَأَمَّا فِي مَا لَا يُمْكِنُ الْإِحْتِرَازُ عَنْهُ، یہ تو ان چیزوں میں تھا جن سے بچنا ممکن تھا، جن سے بچنا اور باقی وہ چیز جس سے بچنا ممکن ہی نہ ہو، كَالْحَرِيقِ الْغَالِبِ، جیسے غالب آگ بھئی، آگ لگ گئی بہت زیادہ، اب اس سے اس کے اندر کپڑے وغیرہ جل گئے تو اس سے تو بچنا ممکن ہی نہیں تھا بھئی۔ تو پھر فَلَا يَضْمَنُ بِالْإِتِّفَاقِ، تو پھر وہ ضامن نہیں ہوگا بالاتفاق۔ وَهَذَا الْإِخْتِلَافُ الْمَذْكُورُ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ فِي وُجُوبِ التَّقْلِيدِ وَعَدَمِهِ فِي كُلِّ مَا ثَبَتَ عَنْهُمْ مِنْ غَيْرِ خِلَافٍ بَيْنَهُمْ۔ اور یہ جو اختلاف ذکر کیا گیا علماء کے درمیان صحابہ کی تقلید کے واجب ہونے اور واجب نہ ہونے میں، بھئی صحابی کا قول اگر مدرک بالقیاس ہو تو بعض علماء کیا کرتے ہیں؟ وہ قول صحابی کو لیتے ہیں بعض فقہاء، اور بعض کس کی طرف جاتے ہیں؟ قیاس کی طرف، اس میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ تو یاد رکھیے، یہ اس صورت میں ہے جب قول صحابی دوسرے صحابی کو نہ پہنچا ہو۔ قول صحابی دوسرے صحابی کو نہ پہنچا ہو۔ اگر دوسرے صحابی کو پہنچا ہے تو دو باتوں میں سے ایک ضرور ہوگی: یا تو وہ دوسرا صحابی اس کو سن کر خاموش رہا ہوگا یا اس نے اس سے اختلاف کیا ہوگا۔ اگر دوسرے صحابی کو بھی وہ بات پہنچی، ایک صحابی کی رائے ہے، ایسا قول جو مدرک بالعقل ہے، دوسرے صحابی تک بات پہنچی، انہوں نے وہ دو حالت سے خالی نہیں، یا تو کیا کریں گے؟ خاموش رہیں گے، اور خاموش رہے تو اس کا مطلب ہے وہ بھی اس سے متفق ہیں تو اجماع ہو گیا، کیا ہو گیا؟ اجماع ہو گیا بھئی، لہذا اس میں تو اس میں تو قول صحابی ہی کو لیا جائے گا کیونکہ اجماع ہو گیا۔ اور اگر دوسرے صحابی نے اختلاف کیا تو پھر دو قول ہو گئے صحابہ کے بھئی، ایک پہلے صحابی کا قول، ایک دوسرے دوسرے، تو اب ان دو قولوں میں سے کسی ایک کو اختیار کیا جا سکتا ہے، کسی تیسرے قول کی طرف رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ انہی دو قولوں میں سے کسی ایک کو اختیار کیا جا سکتا ہے، کسی تیسری رائے کی طرف نہیں جا سکتے، کیونکہ یہ اجماع مرکب ہو گیا، کیا ہو گیا؟ اجماع مرکب، اسی کو کہتے ہیں کہ ایک صحابی کا ایک قول ہے، دوسرے دوسروں کا دوسرا قول ہے، تو دو قول ا گئے، معلوم ہوا صحابہ کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ یہاں یہی دو صورتیں ہیں۔ یہاں پر یہی دو صورتیں ہیں، اگر تیسری ہوتی تو اس کو بھی وہ کیا کرتے؟ ذکر کرتے، تو لہذا یہ اجماع مرکب ہوا تو انہی دو میں سے ایک قول کو لیا جائے گا، تیسرے قول کی طرف جانے کی گنجائش نہیں ہوگی۔ صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو یہ جو انہوں نے اختلاف کیا پیچھے کہ بعض صحابی کے قول کو لیتے ہیں، بعض نہیں لیتے، یہ کون سی صورت ہے؟ جب صحابی کا قول دوسرے صحابہ کو نہ پہنچا ہو۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا الْإِخْتِلَافُ، اور یہ جو اختلاف بیان، الْمَذْكُورُ، جو ذکر کیا گیا، بَيْنَ الْعُلَمَاءِ، علماء کے درمیان، فِي وُجُوبِ التَّقْلِيدِ وَعَدَمِهِ، تقلید کے واجب ہونے اور نہ ہونے کے اندر، فِي كُلِّ مَا ثَبَتَ عَنْهُمْ، ہر اس قول کے اندر ہے جو ثابت ہو صحابہ سے، مِنْ غَيْرِ خِلَافٍ بَيْنَهُمْ، ان کے درمیان بغیر کسی اختلاف کے (یعنی پہنچا ہو دوسرے کو اور وہ خاموش رہا تو دیکھو بغیر اختلاف کے ایک ہی قول ہوا)۔ وَمِنْ غَيْرِ أَنْ يَثْبُتَ أَنَّ ذَلِكَ بَلَغَ غَيْرَ قَائِلِهِ فَسَكَتَ مُسَلِّمًا لَهُ، اور علاوہ اس کے کہ یہ ثابت ہو کہ یہ قول پہنچا تھا غیر قائلہ اس کے کہنے والے کے علاوہ کو بھی (یعنی دوسرے صحابی کو بھی پہنچا تھا)، فَسَكَتَ مُسَلِّمًا لَهُ، تو وہ خاموش رہے اس کو تسلیم کرتے ہوئے، اس کی فرمانبرداری کرتے ہوئے، اس کو مانتے ہوئے، فَسَكَتَ مُسَلِّمًا لَهُ تو وہ خاموش رہے اس کو مانتے۔ بتلایا یہ اختلاف ہر اس قول میں ہے جو صحابہ سے ثابت ہو بغیر اختلاف کے، معلوم ہوا جس میں اختلاف ہے وہ نکل گئی صورت بھئی۔ صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ بھئی صحا دوسرے صحابی کو پہنچا تو دو ہی صورتیں تھیں، یا وہ دوسرے نے اختلاف کیا ہوگا یا خاموش، انہی دو کا استثناء کر رہے ہیں، تو پہلے کس کو ذکر کیا؟ جس میں اختلاف مِنْ غَيْرِ خِلَافٍ بَيْنَهُمْ جس میں اختلاف كُلَّ مَا ثَبَتَ عَنْهُمْ جو ثابت ہو کس سے؟ صحابہ سے، مِنْ غَيْرِ خِلَافٍ بَيْنَهُمْ، ان میں اختلاف کے علاوہ میں، اختلاف کے علاوہ۔ معلوم ہوا جس میں اختلاف ہے وہ خارج، اور وَمِنْ غَيْرِ أَنْ اور اس کے علاوہ میں جو آگے ذکر ہو رہا ہے، معلوم ہوا یہ آگے والا بھی کیا کر رہے ہیں؟ اختلاف سے نکال رہے ہیں، اس میں نہیں اختلاف، پہلے میں بھی بتلایا نا مِنْ غَيْرِ خِلَافٍ۔ جس میں اختلاف ہے اس کا بھی اس کو بھی نکال دیا اور من غیرہ آگے بھی آ رہا ہے جو آگے ذکر ہو گا اس کو بھی کیا کیا؟ نکال ان دو کے علاوہ میں علماء کا اختلاف ہے اور دوسرا کون سا ہے من غیرہ؟ من غیر ان یثبت بغیر اس کے کہ یہ ثابت ہو کہ ان ذلك بلغ غیر قائله کہ وہ قول دوسرے قائل اس قائل کے علاوہ کو پہنچا تھا فسكت پس وہ خاموش رہا تھا مسلما له اس کو مانتے ہوئے بھئی۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ یعنی فی کل ما قال صحابی قولا یعنی ہر اس چیز میں جس میں صحابی نے قول کیا ولم یبلغ غیره من الصحابه اور وہ پہنچا نہیں اس کے علاوہ اور صحابہ کو فحینئذ تو پس اس وقت اختلف العلماء فی تقلیدہ اس کے پھر اختلاف کیا ہے علماء نے اس کی تقلید میں یعنی جب کسی دوسرے صحابی کو پہنچا ہی نہ ہو اس وقت علماء نے اس قول کی تقلید میں اختلاف کیا ہے بعضہم یقلدونه وبعضہم لا بعض اس کی تقلید کرتے ہیں اور بعض تقلید نہیں کرتے واما إذا بلغ صحابیا آخر اور اگر وہ قول پہنچا ہو کسی دوسرے صحابی کو فإنه لا یخلو إما أن یسکت هذا الآخر مسلما له تو پھر یہ خالی نہیں ہے یا تو یہ خاموش رہا ہو گا یہ دوسرا صحابی بھی مسلما له اس کو مانتے ہوئے أو خالفه یا انہوں نے مخالفت کی ہو گی فإن سکت کان إجماعا اگر وہ خاموش رہے تو یہ اجماع ہو گیا فیجب تقلید الإجماع باتفاق العلماء پس اجماع کی تقلید تو واجب ہے علماء کے اتفاق سے وإن خالفه اور اگر دوسرے صحابی نے مخالفت کی ان پہلے کی کان ذلك بمنزلة خلاف المجتہدین تو یہ کس کے درجے میں ہوا؟ مجتہدین کے اختلاف کے درجے میں ہوا فللمقلد أن یعمل بأیہما شاء پس مقلد کے لیے جائز ہے کہ وہ عمل کر لے ان دونوں میں سے جس پر بھی ولا يتعدى إلى الشق الثالث اور وہ تجاوز نہیں کرے گا کسی تیسری شق کسی تیسری صورت یا تیسرے قول کی طرف رجوع کی طرف تجاوز نہیں کرے گا لأنه صار باطلا بالإجماع المركب اس لیے کیونکہ تیسری شق تیسرا قول باطل ہو گیا اجماعِ مرکب کی وجہ سے۔ جب دو قول آ گئے تو معلوم ہوا تیسرا قول باطل اور اس بات پر اجماع ہو گیا کہ اس میں دو ہی صورتیں ہیں۔ وہ اجماع جو مرکب ہے من هذين الخلافين ان دو اختلاف خلافوں سے ان دو اختلافوں سے علی بطلان القول الثالث اور جو ہوا ہے کس پر؟ تیسرے قول کے بطلان پر وہ اجماع جو مرکب ہے وہ جو اجماع ہوا وہ اجماع جو مرکب ہے ان دو خلافوں سے تیسرے قول کے بطلان پر۔ علی بطلان القول الثالث اس کا تعلق اجماع سے ہے، اجماع ہے یہ اجماع کس چیز پر؟ تیسرے قول علی بطلان القول الثالث کس چیز پر؟ تیسرے قول کے بطلان پر اور یہ اجماع مرکب ہے من هذين الخلافين ان دو اختلافوں سے۔ هكذا ينبغي أن يفهم هذا المقام اور اسی طرح مناسب ہے کہ سمجھا جائے اس مقام کو۔ وأما التابعي فإن ظهرت فتواه في زمن الصحابة كشريح رحمه الله تعالى كان مثلهم عند البعض وهو الأصح فيجب تقليده۔ اب بھئی قولِ تابعی کی بات آ گئی اور کہتے ہیں باقی تابعی جو ہیں فإن ظهرت فتواه پس اگر ظاہر ہوا اس کا فتوی فی زمن الصحابة صحابہ کے زمانے میں، صحابہ کے زمانے میں اس کا فتوی ظاہر ہوا یعنی صحابہ تک بھی پہنچا۔ كشريح جیسے کہ قاضی شریح ہیں کان مثلہم عند البعض تو یہ تابعی جو ہیں یہ یہ جو ان کا یہ فتوی جو ہے یہ وہ یہ بھی ان صحابہ کی مثل یعنی ان کے قول کی مثل ہے۔ عند البعض بعض کے نزدیک وہو الأصح اور یہی اصح ہے فیجب تقلیدہ پس اس کی تقلید واجب ہے۔ یعنی تابعی نے ایک مسئلے میں فتوی دیا اور صحابہ کو وہ فتوی پہنچا اور وہ اس کو انہوں نے اس سے اختلاف نہ کیا تو یہ فتوی ہے تو تابعی کا لیکن یہ کس کے درجے میں ہے؟ قولِ صحابی کے درجے میں ہے۔ کما روی جیسے روایت کیا گیا ہے أن علیا رضی اللہ تعالی عنہ تحاکم إلى شريح القاضي، بھئی قاضی شریح بھئی! کہتے ہیں ان کی عمر 120 سال ہوئی بھئی، 120 سال۔ اور ان کی بڑی شہرت ہے، یہ قاضی رہے 75 سال تک بھئی اور اللہ نے ان کو ایسی ذہانت نصیب فرمائی تھی کہ مشکل سے مشکل مسئلہ چٹکی بجاتے میں حل کر لیتے تھے۔ دوسرے جس کے فیصلے سے عاجز آ جاتے یہ اس کو چٹکی بجاتے حل کر دیتے بھئی، انسان ان کی ذہانت پر حیران رہ جاتے۔ اور ان کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اولا مقرر کیا تھا قاضی کوفہ کے اندر اور پھر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے تک اور یہ اس کے بعد تک یہ قاضی رہے، میں نے بتلایا 75 سال تک قاضی رہے یہ بھئی، 75 سال۔ تو ان کے پاس ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اپنا مقدمہ لے کر گئے، دیکھیے اس کا ذکر آ رہا ہے۔ كما روي جیسے روایت کیا گیا ہے أن علیا رضی اللہ تعالی عنه تحاکم إلى شريح القاضي في أيام خلافته في درعه کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ مقدمہ لے گئے قاضی شریح کے پاس فی ایام خلافتہ اپنی خلافت کے ایام میں، آپ خلیفہ تھے بھئی حضرت علی، مقدمہ جب لے کر گئے۔ فی درعہ اپنی زرہ کے اندر بھئی، زرہ وہ لوہے کی قمیص جو جنگوں میں پہنی جاتی ہے بھئی لوہے کی، تو اس زرہ کے بارے میں۔ وقال اور فرمایا درعي یہ میری زرہ ہے عرفتہا مع هذا اليهودي اس کو میں نے پہچان لیا ہے اس یہودی کے پاس۔ بھئی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی زرہ گم ہو گئی تھی اور کچھ عرصے کے بعد آپ نے ایک یہودی کے پاس اس کو دیکھ لیا تو آپ قاضی کے پاس لے گئے اور فرمایا کہ یہ میری زرہ ہے، میں نے اس کو پہچان لیا ہے میری زرہ یہ گم ہوئی تھی۔ فقال شريح لليهودي، یا ہے بھئی آخر میں؟ یا ہونی چاہیے۔ للیہودی۔ یا نہ ہو تو یہ جمع بن جائے گا بھئی جیسے عربی اور عرب، یہودی اور یہود بھئی۔ فقال شريح لليهودي تو شریح قاضی شریح نے یہودی سے فرمایا ما تقول؟ تم کیا کہتے ہو؟ قال درعي یعنی ہذہ درعی یہ میری زرہ ہے وفي يدي اور میرے قبضے میں ہے۔ میری زرہ ہے، میرے قبضے میں ہے، میری ہے یہ۔ فتطلب شاہدین من علي رضی اللہ تعالی عنہ تو طلب کیے قاضی شریح نے دو گواہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے فأتى علي رضی اللہ تعالی عنه بابنه الحسن وقنبر مولاہ پس لے آئے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اپنے بیٹے حسن کو اور اپنے مولا قنبر کو، اپنے مولا قنبر۔ قنبر یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے یعنی یہ معتق تھے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اور آپ جانتے ہیں معتق اور معتق دونوں کو کیا کہا جاتا ہے؟ مولا کہا جاتا ہے۔ تو یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے مولا تھے یعنی ان کے آزاد کردہ تھے، تو حضرت علی ان دونوں کو لے آئے ليشهدا عند شريح تاکہ یہ دونوں گواہی دے دیں قاضی شریح کے پاس۔ فقال شريح تو قاضی شریح فرمانے لگے أما شهادة مولاك فقد أجزتها لك لأنه صار معتقا کہ باقی آپ کے مولا کی شہادت جو ہے یعنی آپ کے معتق کی شہادت جو ہے فقد أجزتہا لك تو تحقیق میں اس کو اس کی اجازت دیتا ہوں آپ کو لأنه صار معتقا کیونکہ وہ آزاد ہو چکا ہے، کیونکہ آپ جانتے ہیں غلام کی گواہی قبول نہیں، تو یہ آزاد ہو چکا ہے اس لیے اس کی گواہی تو قبول کرتا ہوں۔ وأما شهادة ابنك اور باقی آپ کے بیٹے کی شہادت لك آپ کے لیے آپ کے حق میں فلا أجيزها لك تو وہ میں آپ کے لیے اس کی اجازت نہیں دیتا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یاد رکھیے باپ اور بیٹے کے مفادات مشترکہ ہوتے ہیں، باپ کا جو نفع ہے وہ بیٹے کا نفع ہے اور جو بیٹے کا نفع ہے وہ باپ ہی کا نفع ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں تو باپ کا اگر کوئی نفع ہوا تو بیٹے کے بیٹے کا بھی اس طرح نفع ہو گیا کیونکہ وہ بھی اس کی چیزیں استعمال کرتا ہے۔ تو لہذا یہاں پر باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی یا بیٹے کے حق میں باپ کی گواہی قابلِ قبول نہیں اس لیے کیونکہ دلوں میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ شاید یہ اپنے مفاد کی وجہ سے گواہی دے رہا ہے کیونکہ اس کا فائدہ ہے اس کے اندر بھئی۔ تو قاضی شریح فرمانے لگے میں ان کے آپ کے بیٹے کی گواہی آپ کے حق میں، میں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ وكان من مذهب علي رضی اللہ تعالی عنه، بھئی سوال پیدا ہوا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پھر بیٹے کو کیسے لے گئے جب اس کی گواہی قابلِ قبول نہیں ان کے حق میں؟ تو جواب دے رہے ہیں وكان من مذهب علي رضی اللہ تعالی عنه أنه يجوز شهادة الابن للأب کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب یہ تھا کہ وہ جائز قرار دیتے تھے بیٹے کی گواہی باپ کے لیے، اسی وجہ سے وہ لے گئے۔ وخالفه شريح في ذلك اور اس بات میں قاضی شریح نے ان کی مخالفت کی فلم ينكره علي رضی اللہ تعالی عنه پس ان کا انکار نہیں کیا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فسلم الدرع لليهودي پس سپرد کر دی زرہ یہودی کے ہی۔ فقال اليهودي تو یہودی کہنے لگا أمير المؤمنين مشى معي إلى قاضيه کہ امیر المؤمنین چلے میرے ساتھ اپنے قاضی کے پاس، اندازہ لگائیے مولانا اسلامی سلطنت، اسلامی حکمرانوں کا طرزِ عمل بھئی کس طرح ہونا چاہیے، صحابہ سے اس کی سنہری مثالیں ہمیں ملتی ہیں بھئی۔ یہ وہ عام لوگ نہیں تھے، یہ وہ لوگ تھے جن کی تربیت سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ امیر المؤمنین ہیں بھئی امیر المؤمنین، اپنی زرہ دیکھی یہودی کے پاس زور سے بھی لے سکتے تھے، کوئی پوچھنے والا بھی نہیں، سلطنت اتنی وسیع ہے کہ پتہ ہی نہیں کہاں سے کہاں تک پھیلی ہوئی ہے، گردنیں بھی اڑا دیں تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، لیکن حق کے دامن کو کس طرح تھام رکھا ہے اندازہ لگائیے، اپنی زرہ ایک غیر مسلم کے پاس دیکھ کر بھی اس سے زبردستی نہیں لے رہے قاضی کے پاس چلے گئے اور قاضی نے خلاف فیصلہ کر دیا تو زرہ اسی کے سپرد کر دی، خاموشی سے چل پڑے واپس بھئی۔ تو اب یہودی پہ بڑا اثر ہوا کہنے لگا أمير المؤمنين مشى معي إلى قاضيه کہ امیر المؤمنین میرے ساتھ چلے اپنے قاضی کے پاس فقضى عليه پس قاضی نے ان کے خلاف فیصلہ کر دیا، علی ضرر کے لیے آتا ہے قضى عليه ان کے خلاف فیصلہ کر دیا اور اگر ہو قضى له تو ان کے حق میں فیصلہ کیا۔ فقضى عليه تو قاضی نے ان کے خلاف فیصلہ کر دیا فرضي به پس وہ اس پر راضی ہو گئے۔ قاضی نے خلاف فیصلہ کر دیا پھر بھی وہ اس پر راضی ہو گئے۔ صدقت والله، اے امیر المؤمنین آپ نے سچ فرمایا واللہ إنها لدرعك واللہ یہ آپ کی زرہ ہے وأسلم اليهودي اور مسلمان ہو گیا وہ یہودی، فسلم الدرع علي رضی اللہ تعالی عنه لليهودي پس حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے وہ زرہ اس یہودی کو ہی دے دی ووهبه فرسا اور اس کو ایک گھوڑا بھی دے دیا وكان معه اور پھر وہ جو شخص تھا جو مسلمان ہو گیا وہ حضرت علی کے ساتھ ہی رہا حتى استشهد في حرب صفين یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا جنگِ صفین میں جو حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان ہوئی تھی۔ تو یہ صحابہ کا دور بھئی، عجیب زمانہ تھا کہ اتنا امن و امان اور حق اتنا عام تھا کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے ایسے واقعات کہ انسان سنتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے۔ کہتے ہیں اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا زمانہ تھا، ایک غیر مسلم تھا وہ بہت سے گھوڑے لے کر دریائے فرات کے کنارے آیا اور کوفہ یا کوئی شہر تھا اس کے اندر اب وہ بیچنے کے لیے لے کر آیا، تو شہر میں جب داخل ہوتے تھے تو وہ ٹیکس وغیرہ محصول جو ہوتا تھا وہ لیا جاتا تھا۔ تو وہ گھوڑے تھے اور گھوڑے تو اس زمانے میں بڑی قیمتی چیز شمار ہوتے تھے بھئی، تو وہ اس نے ٹیکس وغیرہ محصول ادا کیا اور گھوڑے اندر لے گیا بھئی بیچنے کے لیے۔ تو پھر جب واپس جانے لگا اب کچھ گھوڑے تو بک گئے تھے کچھ ابھی بھی باقی تھے، جب واپس لے کر محصول والوں کے پاس سے گزرنے لگا انہوں نے پھر کہا کہ ٹیکس دو بھئی، اس نے کہا یہ وہی گھوڑے ہیں میں یہاں سے لے کر گیا تھا، میں ان کا ٹیکس ادا ان کا محصول ادا کر چکا ہوں، اب کس بات کا محصول مانگتے ہو؟ لیکن وہ نہیں مانے بھئی اور محصول بھی گھوڑے میں نے بتلائے بڑی قیمتی چیز تھے اس زمانے میں جیسے آج کل گاڑی سمجھ لیں بھئی، تو ٹیکس وہ محصول بھی اچھا خاصا بنتا ہو گا۔ وہ سخت میں بڑی بحث وغیرہ ان سے کی لیکن انہوں نے کہا محصول کے بغیر نہیں جا سکتے تم یہاں سے، چنانچہ اس نے وہ غصے میں بھرا ہوا وہاں سے مدینہ منورہ چل پڑا۔ گھوڑے وہیں پر رکھے محصول والوں پر سے نہیں گزارا، شہر کے اندر ہی رکھے غلام غلام اس کے تھے ساتھ، غلاموں کے حوالے کیے کہ ان کا خیال رکھنا۔ میں مدینہ سے ہو کر آتا ہوں، امیر المؤمنین کے پاس چل پڑا۔ اور پہنچا وہاں پر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس حاضر ہوا اور اپنی بات بیان کی۔ اس نے سوچا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جو تھے ہیں وہ بڑی توجہ سے سن کر مجھے تسلی دیں گے اور لمبی بات ہو گی ان سے میں ان کو بتاؤں گا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے خاموشی سے ان کی بات سنی اور پھر فرمایا اور صرف ایک لفظ فرمایا، فرمایا کفیت، تمہارا کام ہو گیا۔ بس! اب پھر باقی اور امور باقی صحابہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ وہ شخص وہاں سے نکلا بڑا غمگین کہ انہوں نے تو میری بات توجہ سے ہی نہیں سنی، ایک لفظ بس کہہ دیا آپ کا کام ہو گیا، بس بڑا مایوس ہو کر وہاں سے چل پڑا کہ معلوم ہوا میرا کام نہیں ہو سکتا، انہوں نے توجہ ہی نہیں دی۔ چنانچہ آیا بھئی اسی طرح پریشان، غمگین اور غصے کی بھی حالت میں ہو گا، اپنے غلاموں کو کہا چلو بھئی چلیں اور محصول والوں کے پاس پہنچا انہوں نے پہلے ہی بتلایا تھا کہ اتنے اتنے پیسے بنتے ہیں وہ دینے پڑیں گے تمہیں پھر لے کر جا سکتے ہو، وہ پیسے اس نے سارے پہلے ہی الگ کر کے ان کے پاس پہنچا اور کہنے لگا کہ یہ لو جو محصول بنتا ہے وہ لے لو، میں جا رہا ہوں یہاں سے۔ انہوں نے کہا نہیں اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں امیر المؤمنین کی طرف سے حکم پہنچ چکا ہے کہ اس شخص سے محصول نہ لیا جائے اس کو ویسے ہی جانے دیں۔ تو وہ شخص یہ سن کر حیران رہ گیا۔ اور اسی وقت اس نے اس نے کلمہء شہاد کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں بھی اس شخص کے دین پر ہونا چاہتا ہوں جہاں انصاف کا یہ عالم ہے کہ سائل کے اپنے مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی وہاں انصاف پہنچ کر اس کا انتظار کر رہا ہو۔ چنانچہ مسلمان ہو گیا بھئی۔ تو ہماری تاریخ اس طرح کے سنہری واقعات سے بھری پڑی ہے بھئی جیسا ایک واقعہ یہاں کتاب میں بھی انہوں نے ذکر کر دیا۔ جی آگے اب دیکھ کتاب پر دیکھیے بھئی وهكذا مسروق رحمه الله تعالى كان تابعيا اور اسی طرح حضرت مسروق رحمہ اللہ وہ تابعی تھے خالف ابن عباس رضی الله تعالى عنهما في مسألة النذر بذبح الولد انہوں نے مخالفت کی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی اولاد کے ذبح کی منت کے مسئلے میں۔ بھئی ایک شخص نے منت مانی کہ اللہ اگر میرا یہ کام ہو گیا تو میں اپنا یہ بیٹا یا بیٹی آپ کے راستے میں ذبح کروں گا، آپ کے لیے کیا کروں گا اس کو؟ ذبح کروں گا، ایک آدمی نے یہ منت مان لی۔ تو اب وہ کام ہو گیا تو اب کیا کریں؟ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے پوچھا گیا یہ مسئلہ تو انہوں نے فرمایا کہ بچے کے تو ذبح نہیں کر سکتا، وہ تو جائز نہیں، ہاں اس کے بدلے 100 اونٹ اس شخص پر لازم ہو گئے۔ 100 اونٹ اس پر کیا ہو گئے؟ لازم، کیونکہ ایک جان کی قیمت 100 اونٹ ہے بھئی شریعت میں، 100 اونٹ لازم ہو گئے۔ تو انہوں نے اس کو قیاس کیا تھا نفس کی دیت پر۔ ہر مسروق رحمہ اللہ وہ بڑے تابعی میں سے ان کو یہ بات پہنچی تو فرمانے لگے نہیں اس پر صرف ایک بکری لازم ہے۔ ایک بکری ذبح کر دے بس کافی ہے سو اونٹ ذبح کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور انہوں نے استدلال کیا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیے سے کہ وہاں ان کے بدلے کیا ذبح کر دیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے؟ ایک دنبہ ذبح کیا تھا تو یہاں پر بھی اسی طرح ایک بھیڑ بکری کو کیا کر دے وہ شخص؟ ذبح کر دے کافی ہے۔ تو اوروں کو یہ صحابہ کو یہ بات پہنچی کسی نے انکار نہیں کیا یہاں تک کہ کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی یہ بات پہنچی تو فرمانے لگے کہ میری بھی یہی رائے ہے۔ تو دیکھیے یہ تابعی کا فتوی ہے اور کس کو پہنچا؟ صحابہ کو اور انہوں نے اس سے اتفاق کیا۔ تو کہتے ہیں و ہکذا تو مسروق تھا تابعی اور مخالف ابن عباس میں مسئلہ نظر بذب الولد انہوں نے مخالفت کی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی اولاد کے ذبح کرنے کی منت کے مسئلے میں تو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے منت مانی اولاد کے ذبح کرنے کی تو اس پر لازم ہے ایک سو اونٹ قیاس کرتے ہوئے نفس کی دیت پر۔ فقال مسروق لا بل یلزمہ ذبح شاة استدلالا بداء اسماعیل علیہ السلام بلکہ اس پر لازم ہے ایک بھیڑ شاة بھیڑ بکری بھئی ایک بھیڑ بکری کا ذبح کرنا لازم ہے استدلال کرتے ہوئے اسماعیل علیہ السلام کے فدیے سے فلم ینکرہ احد تو کسی نے بھی ان کا انکار نہیں کیا فصار اجماعا تو یہ کیا بن گیا؟ تو یہ اجماع ہو گیا اور روی عن ابی حنیفہ رحمہ اللہ تعالی انی لا اقتد التابعی لانہم رجال ونحن رجال اور روایت کیا گیا ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے وہ فرماتے ہیں کہ میں کسی تابعی کی میں تابعی کی تقلید نہیں کرتا لانہم رجال ونحن رجال کیونکہ وہ بھی رجال ہیں اور ہم بھی رجال ہیں وہ بھی لوگ ہیں مرد ہیں اور ہم بھی مرد ہیں۔ لأن قال الصحابی انما یقبل لاحتمال السماع اور اس لیے کیونکہ صحابی کا قول جو ہے اس کو تو قبول کیا جاتا ہے استماع کے احتمال کی وجہ سے۔ وہ یہ امام صاحب کی بات پوری ہو گئی بھئی۔ امام صاحب کی بات ونحن رجال تک ہے اس لیے کیونکہ صحابی کا قول جو ہے وہ قبول کیا جاتا ہے استماع کے احتمال کی وجہ سے کہ شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا و اصابۃ رایہم اور بوجھ ان کی رائے کے درست ہونے کے بھئی۔ ببرکۃ صحبت النبی علیہ الصلاۃ والسلام حضور علیہ السلام کی صحبت کی برکت کی وجہ سے کہ ان کی رائے کیا ہوگی؟ درست ہوگی۔ و وہ مفقود فی تابعی اور وہ غائب ہے تابعی میں موجود نہیں ہے تابعی میں۔ و هو مختار شمس الائمہ اور یہی قول مختار ہے شمس الائمہ کا شمس الائمہ رحمہ اللہ کا۔ و هذا کلہ ان ظہر فتویہ فی زمن الصحابہ اور یہ سارا اس وقت ہے جس وقت تابعی کا فتوی ظاہر ہوا ہو صحابہ کے زمانے میں و ان لم تظہر فتویہ و لم یزاحمہم فی الرای اور اگر تابعی کا فتوی ظاہر نہیں ہوا صحابہ کے زمانے میں و لم یزاحمہم فی الرای اور صحابہ وقت مقابل نہیں ہوئے رائے کے اندر تو کان مثل سائر ائمۃ الفتوی تو پھر اس کا یہ فتوی جو ہے باقی ائمہ کے فتوے کی طرح ہوگا۔ لا یصح تقلیدہ اس کی تقلید صحیح نہیں۔ و لما فرغ عن اقسام السنت شرع فی بیان الاجماع فقال باب الاجماع و وہ فی اللغت الاتفاق و فی الشریعۃ اتفاق مجتہدین صالحین من امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فی عصر واحد علی امر قولی او فعلی۔ قرآن سنت کے بعد اب اجماع کی بحث شروع کر شروع ہوگی بھئی۔ آپ نے پڑھا تھا شریعت کے ادلہ چار ہیں بھئی۔ شریعت کے ادلہ چار ہیں۔ پہلا درجہ کتاب اللہ کا ہے اس کو سب سے پہلے ذکر کیا۔ دوسرا درجہ سنت کا ہے یعنی حدیث کا اس کو دوسرے درجے پر ذکر کیا اور تیسرا درجہ ہے اجماع کا تو اب اجماع کی بحث کریں گے۔ جی تو مصنف شارح فرماتے ہیں ولما فرغ عن اقسام السنت اور جب مصنف رحمہ اللہ سنت کی اقسام سے فارغ ہوئے شرع فی بیان الاجماع تو اجماع کے بیان میں شروع ہوئے فقال پس فرمایا باب الاجماع یہ اجماع کا باب ہے و وہ فی اللغت الاتفاق اور اجماع لغت میں یعنی عربی زبان میں اتفاق کرنے کو کہتے ہیں کسی چیز پر اتفاق کر لینا۔ و فی الشریعۃ اور شریعت کے اندر اتفاق مجتہدین صالحین من امت محمد و اتفاق کر لینا ہے نیک مجتہدین کا امت محمدیہ میں سے امت محمدیہ میں سے جو نیک مجتہدین ہیں ان کا اتفاق کر لینا فی عصر واحد ایک زمانے میں علی امر قولی او فعلی کسی ایک قولی یا فعلی معاملے پر بھئی۔ قول سے تعلق ہو یا فعل سے تو اس پر سب کا اجماع اتفاق کر لینا یہ اجماع ہے۔ رکن الاجماع نوعان اجماع کے رکن دو قسم پر ہیں بھئی۔ عظیمت ایک عظیمت ہے اور ایک دو تین سطروں بعد آ رہا ہے و رخصت دوسری قسم کیا ہے؟ رخصت۔ فعظیمت عظیمت یہ ہے و ہو و ہو التکلم منہم بما یوجب الاتفاق اور وہ تکلم ہے منہم ان مجتہدین کی طرف سے بما ایسے قول پر یوجب الاتفاق ای یثبت الاتفاق جو کیا کر دے اتفاق کو ثابت کر دے بھئی۔ بھئی میں نے آپ کو پہلے بھی بتلایا تھا کہ وجبہ ثبتا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اسی طرح اور جبہ اسبتا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کتابوں میں جگہ جگہ۔ تو کہتے ہیں عظیمت یہ ہے اجماع کے اندر و ہو التکلم منہم وہ مجتہدین کی طرف سے تکلم ہے بولنا ہے بما یوجب الاتفاق ایسی طور پر ایسی چیز پر جو اتفاق کو واجب کر دے ثابت کر دے۔ ای اتفاق الکل علی الحکم (یعنی اتفاق کر لینا ان سب کا کسی حکم پر) ب ان یقولو بعید طور پر کہ وہ یوں کہتے ہیں دیکھو تکلم ہے قول کے ذریعے کیا کر رہے ہیں اپنا اجماع بیان کر رہے ہیں کہ اجماعنا علی ہذا کہ ہم نے اس پر اجماع کر لیا۔ ان کان ذلک الشیء من باب القول اگر وہ چیز کس سے قول کے باب سے ہو تو قول کے ذریعے سارے بتلائیں کہ ہم نے اس پر اجماع کر لیا۔ او شروعہم فی الفعل ان کان من بابہ یا ان مجتہدین کا شروع ہو جانا اس فعل کے اندر اگر وہ فعل کے باب سے ہے۔ بھئی اجماع کا رکن ایک عظیمت ہے اور اور دو قسم پر ایک قسم عظیمت اور ایک رخصت عظیمت یہ ہے کہ سارے مجتہدین کسی زمانے کے وہ قول کے ذریعے اجماع کو بیان کر دیں کہ ہم نے اس چیز پر کیا کر لیا؟ اجماع اور ایک ہے قول کے ذریعے تو اجماع بیان نہیں کیا لیکن فعل کے ذریعے اجماع بیان کر دیا مثلاً ایک چیز ہے سب اس کو کر رہے ہیں تو یہ ان سب کا اس چیز کو کرنا یہ فعل کرنا اس بات پر گویا اجماع ہو گیا ان کا کہ یہ جائز ہے۔ یہ کیا ہے؟ جائز ہے۔ یہ معنی ہے و شروعہم فی الفعل ان کان من بابہ اور یا ان مجتہدین کا شروع ہو جانا کسی فعل میں اگر وہ فعل کے باب سے ہو کان ذلک الشیء من باب الفعل اگر وہ چیز فعل کے باب سے ہو کما اذا شرع اہل الاجھاد جمیعا فی المزارعۃ او المزارعۃ او الشرکت کان ذلک اجماعا منہم علی شرعیتہا۔ یہ جیسے کہ کما اذا جیسے جب شروع ہو جائیں اہل اجتہاد سارے کے سارے فی المزارعت کس کے اندر؟ مزارعت کے اندر او المزارعت یا مزارت میں یا شرکت میں تو یہ ان کی طرف سے اجماع ہو گیا علی شرعیتہا اس کے مشروہ ہونے پر۔ و رخصت اور دوسری قسم جو ہے اجماع رکندوسر جو ہے دوسری قسم جو ہے وہ رخصت ہے و ہو ان یتکلم او یفعل البعض دون البعض اور وہ یہ ہے تکلم کریں یا فعل کریں بعض ان میں سے نہ کہ بعض (یعنی بعض ان میں سے وہ قول کریں بعض قول نہ کریں یا بعض وہ فعل کریں اور بعض نہ کریں) ان یتفق بعضہم علی قول یعنی متفق ہو جائیں ان میں سے بعض کسی قول پر او فعل یا کسی فعل پر و سکت الباقون منہم اور باقی ان سے خاموش رہیں ان میں سے ان سے باقی جو ہیں وہ خاموش رہیں و لا یردون علیہم بعد مضی مدۃ التامل اور وہ ان کو رد نہیں کرتے غور و فکر کی مدت کے گزر جانے کے بعد بھی و وہ ثلاثۃ ایام اور وہ تین دن ہیں او مجلس العلمی وہ جاننے کی مجلس یعنی جس میں ان کو پتہ لگا اس قول کا و یسما ہذا اجماعا سکوتیا اور اس کو اجماعی سکوتی کہتے ہیں و ہو مقبول عندنا اور یہ ہمارے نزدیک مقبول ہے۔ بھئی یہ رخصت ہے اجماع بتلایا دوسری قسم کہ بعض نے ایک فعل کیا بعض مجتہدین نے باقیوں نے کیا تو نہیں لیکن انہوں نے رد بھی نہیں کیا خاموش رہے یا بعضوں نے ایک قول کیا ایک مسئلے کے اندر باقیوں نے وہ قول تو نہیں کیا لیکن رد بھی نہیں کیا خاموش رہے تو باقیوں کی طرف سے خاموش رہنا ان کی تائید ہے تو لہذا یہ اجماع سکوتی کہلاتا ہے اور ہمارے نزدیک مقبول ہے معتبر ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں وہ فرماتے ہیں نہیں اجماع سکوتی کا کوئی اعتبار نہیں۔ دوسرے جو خاموش رہے یہ موافقت کی وجہ سے ضروری نہیں خاموش رہے ہوں بعض اوقات خوف وغیرہ کی وجہ سے بھی دوسرا شخص خاموش رہتا ہے بھئی۔ تو بہرحال پہلی قسم جو ہے اجماع کی وہ تو اس کا انکار کرنے والے کو تو کافر قرار دیا جائے گا لیکن یہ قسم اس میں تو مجتہدین کا خود اختلاف ہے لہذا اس کے انکار کرنے والے کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا۔ تو یہ ہمارے نزدیک مقبول ہے و فیہ خلاف الشافعی رحمہ اللہ اور اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا لان السکوت کما یکون للموافقت یکون للمھابت اس لیے کیونکہ سکوت جو ہے جس طرح موافقت کے لیے ہو سکتا ہے اسی طرح یکون للمھابت اسی طرح مہابت یعنی ڈر اور خوف کی وجہ سے بھی ہیبت کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے ولا يدل علی الرضا اور یہ سکوت رضامندی پر دلالت نہیں کرتا کما روی عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما انہ خالفا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فی مسئلۃ العول جیسے کہ روایت کیا گیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے مخالفت کی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی فی مسئلۃ العول کس کے اندر؟ مسئلہ عول مسئلہ عول بھئی یہ میراث سے متعلق مسئلہ ہے اس میں انہوں نے وہ مخالفت کی فقال لہ تو ان سے کہا گیا حضرت ابن عباس سے ہلا ازہر حجتک علی عمر کہ آپ کیوں اپنی دلیل ظاہر نہیں کی یعنی پیش نہیں کی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ پر ان کے سامنے اپنی دلیل کیوں نہیں ذکر کی؟ فقال کان رجلا مہیبا کہ وہ بڑے ہیبت والے آدمی تھے فہبتہ تو میں ان سے ڈر گیا و منعطنی درتہ مطع تو نہیں آپ کی کتابوں میں منع نون ہے پہلے بھئی منعطنی درتہ اور مجھے منع کر دیا ان کے کوڑے نے مجھے روک دیا ان کے کوڑے نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہر وقت اپنے ساتھ کوڑا رکھتے تھے بھئی۔ اور یہ آپ عرب کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے سر پر رومال ڈال کر اوپر یہ کالی چیز جو گول سی رکھتے ہیں یاد رکھیے یہ وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا جو طریقہ وہ کوڑا باندھ کر رکھتے تھے سر پر بھئی جہاں کسی کو دیکھتے نافرمانی کرنے والا ہے کوئی ظلم کرنے والا ہے تو وہیں پر اس کو کوڑے لگاتے تھے آپ بھئی کوڑے لگاتے تھے۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے بھئی ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں زلزلہ آیا بھئی بڑا زلزلہ چیخ و پکار مچ گئی لوگ خوفزدہ ہو گئے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی زلزلہ دیکھ کر پریشان ہو گئے لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر آپ نے اپنے سر سے کوڑا اتارا اور زمین کو درے لگانا شروع کر دیے اندازہ لگائیے بھئی اندازہ یہاں جو جو اللہ کے راستے پر چلتا ہے ہر چیز کو اللہ اس کے تابع کر دیتے ہیں زمین کو کوڑے لگانے شروع کیے کہ کیا عمر تیرے اوپر انصاف نہیں کرتا جو تو لوگوں کو ڈرا رہی ہے کہتے ہیں کوڑے لگاتے ہی فوراً زمین تھم گئی بھئی اور اس کے بعد کبھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں دوبارہ زلزلہ نہیں آیا بھئی۔ تو یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی نشانی ہے جو عرب کے سر پر آپ دیکھتے ہیں بھئی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں منعطنی درتہ مجھے برو دیا ان کے کوڑے نے یہ روایت کرتے ہیں بھئی۔ و الجواب ہم جواب دیتے ہیں کہ ان ہذا غیر صحیح یہ روایت صحیح نہیں ہے یہ ثابت نہیں ہے صحیح نہیں ہے یہ قول لان عمر رضی اللہ تعالی عنہ کان اشد انقیادا لاستماع الحق من غیره اس لیے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سب سے زیادہ سخت تھے انقیادا انقیاد کے معنی ہوتے ہیں فرما برداری کرنا لاستماع الحق حق کو سننے میں من غیرہ اور غیر کے مقابلے میں اوروں کے مقابلے میں حق سننے کے اندر حضرت عمر سب سے زیادہ سخت تھے فرما برداری کے اعتبار سے سب سے زیادہ شدت سے فرما برداری کرنے والے تھے حق کو سننے میں بھئی۔ آپ اتنا جلال تھا اتنا جلال تھا ان کا اندازہ لگائیے بھئی لیکن کوئی حق بات کہہ دیتا تو فوراً آپ قبول کر لیا کرتے تھے بھئی فوراً۔ تو کہتے ہیں وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سب سے سخت تھے فرما برداری کے اعتبار سے لاستماع الحق من غیرہ غیر سے اپنے علاوہ سے حق کے سننے میں اپنے علاوہ سے حق کے سننے میں وہ سب سے زیادہ فرما برداری حتی کان یقول یہاں تک کہ وہ فرماتے تھے لا خیر فیكم ما لم تقولولا خیر لي ما لم اسمع وہ فرماتے تھے کوئی بھلائی نہیں ہے تم لوگوں میں ما لم تقولوا جب تک تم کہو نہ و لا خیر لي اور کوئی بھلائی نہیں ہے میرے لیے ما لم اسمع جب تک میں نہ سنوں اگر کوئی بات ہو اور تم مجھے نہ بتاؤ نہ پہنچاؤ تو تم میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور اگر میں نہ سنوں تو مجھ میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ و كيف یظن فی حق صحابۃ التقصیر فی امور الدین اور کیسے گمان کیا جا سکتا ہے صحابہ کے حق میں دین کے معاملات میں کوتاہی کرنے کا و سکوت عن الحق فی موضع الحاجۃ اور ضرورت کے موقع پر حق سے خاموشی کو صحابہ کے حق میں کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ضرورت کے موقع پر حق سے سکوت کیا ہوگا و قد قال علیہ الصلاۃ والسلام فی تحقیق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے الساکت عن الحق شیطان احراس کہ حق سے خاموش رہنے والا گونگا شیطان ہے۔ تو صحابہ کے بارے میں تصور ہی نہیں ہو سکتا کہ وہ حق کسی کو نہ کہنے دیتے ہوں یا حق بات سے خاموش رہتے ہوں تو یہ بات درست نہیں ہے یہ جو روایت کی گئی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی و اہل الاجماع من کان مجتہدا صالحا الا فیما یستغنا فیہ عن الاجتہاد یہ سارا بھی متن ہے یاد رکھیے بھئی الا فیما یستغنا فیہ عن الاجتہاد بھئی رکن تو بیان ہو گیا اجماع کا رکن کیا ہے؟ عظیمت ایک قسم ہے اور ایک رخصت عظیمت یہ کہ سب کا قول آئے یا سب کا فعل ہو اور رخصت کیا کہ بعض کا قول یا فعل ہو اور دوسروں کا سکوت ہو مجتہدین کا۔ اب اہل اجماع کون ہیں کن کا اجماع معتبر ہے؟ کہتے ہیں من کان مجتہد صالحا جو کوئی نیک مجتہد ہو۔ الا فیما یستغنا فیہ عن الاجتہاد مگر ان اس چیز میں جس سے استغنا حاصل ہو اجتہاد سے یعنی اس چیز میں جس میں اجتہاد کی ضرورت ہی نہ ہو۔ بھئی بعض چیزیں ان میں اجتہاد کی ضرورت پیش آئے گی بعض چیزیں وہ ہیں ان میں اجتہاد کی ضرورت نہیں۔ اگر ایسی چیز ہو جس میں اجتہاد کی ضرورت ہی نہیں تو وہاں عوام کا اجتہاد عام مسلمانوں کا اجتہاد بھی معتبر ہے۔ وہاں پر جیسے بھئی نمازوں کی رکعتوں کی تعداد یا قرآن کا نقل وغیرہ اس طرح کی چیزیں یہ نقل ہیں اور ان کے نقل پر قرآن پر اور اسی طرح یہ جو رکعتوں کی تعداد وغیرہ ہے یہ نقل عقل اس میں کسی اجتہاد کی ضرورت ہے؟ نہیں۔ بس تعداد ایک طبقے سے دوسرے طبقے سے تک نقل ہوتی چلی آئی۔ اور سب نے یہی نقل کی ہے کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ تو یہ اس میں چونکہ اجتہاد کی ضرورت نہیں بھئی۔ تو بات کس کی کر رہے ہیں صرف؟ یعنی وہ مسائل جن میں اجتہاد کی ضرورت ہے وہاں مجتہدین کا اجماع، نیک مجتہدین کا اجماع ضروری ہے۔ عوام کا وہاں اعتبار نہیں ہے بھئی کیونکہ اجتہادی مسئلہ ہے بھئی، عوام کو اجتہاد سے کیا پتا۔ تو کہتے ہیں وہ شخص جو نیک مجتہد ہو "إلَّا فِيمَا يُسْتَغْنَى فِيهِ عَنِ الاِجْتِهَادِ" مگر وہ جن کے اندر استغنا حاصل ہو اجتہاد سے "لَيْسَ فِيهِ هَوًى وَلَا فِسْقٌ" نہ تو اس مجتہد میں ہوا، ہوا خواہش کو کہتے ہیں خواہشِ نفس بھئی۔ اور یہ اچھی بھی ہو سکتی ہے بری بھی، لیکن یہ کثیر الاستعمال اب کس کے اندر ہے؟ بری خواہش کے اندر۔ اور یہاں مراد ہے بدعت بھئی۔ یہاں ہوا سے کیا مراد ہے؟ بدعت। "لَيْسَ فِيهِ هَوًى" اس میں بدعت بھی نہ ہو یعنی وہ مجتہد بدعتی بھی نہ ہو "وَلَا فِسْقٌ" اور اس میں فسق بھی نہ ہو یعنی فاسق بھی نہ ہو، گناہ کرنے والا بھی نہ ہو بھئی مستقی ہو. شارح آگے بتلا رہے ہیں "صِفَةٌ لِقَوْلِهِ مُجْتَهِدًا" یہ "لَيْسَ فِيهِ هَوًى وَلَا فِسْقٌ" یہ صفت ہے ماتن کے قول "مُجْتَهِدًا" کی۔ "مُجْتَهِدًا" کی ایک صفت تو آئی "صَالِحًا" اور دوسری صفت آئی "لَيْسَ فِيهِ هَوًى وَلَا فِسْقٌ"۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ "مُجْتَهِدًا" مفرد ہے صفتِ اول "صَالِحًا" مفرد ہے اور آگے تو یہ جملہ ہے بھئی یہ کیسے اس کی صفت بن سکتی ہے؟ جواب کیا دیں گے بھئی؟ کہ یہ "مُجْتَهِدًا" نکرہ ہے اور جملہ بھی کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ کے حکم میں، تو نکرہ کے بعد نکرہ آ رہا ہے وہ اس کی صفت کیوں نہیں بن سکتا بھئی۔ "كَأَنَّهُ قَالَ" گویا کہ ماتن نے یوں کہا "أَهْلُ الْإِجْمَاعِ" اہل اجماع جو ہیں "مَنْ كَانَ مُجْتَهِدًا صَالِحًا" وہ جو نیک مجتہد ہے "إِلَّا فِيمَا يُسْتَغْنَى عَنِ الرَّأْيِ" مگر ان مسائل میں جن میں استغنا حاصل ہو رائے سے "فَإِنَّهُ لَا يُشْتَرَطُ فِيهِ أَهْلُ الاِجْتِهَادِ" اس کے اندر اہل اجتہاد کی شرط نہیں ہے "بَلْ لَا بُدَّ فِيهِ مِنْ إِتِّفَاقِ الْكُلِّ مِنَ الْخَوَاصِّ وَالْعَوَامِّ" بلکہ ضروری ہے اس کے اندر سب کا اتفاق یعنی کہ خواص اور عوام، یعنی کہ مجتہدین اور عوام سب کا اتفاق ضروری ہے۔ "حَتَّى لَوْ خَالَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ لَمْ يَكُنْ إِجْمَاعًا" یہاں تک کہ اگر کسی ایک نے بھی مخالفت کر دی تو یہ اجماع نہ ہو گا۔ "كَنَقْلِ الْقُرْآنِ" جیسے قرآن کا نقل کرنا "وآعْدَادِ الرَّكَعَاتِ" اور رکتوں کی تعداد "وَمَقَادِيرِ الزَّكَاةِ" اور زکوٰۃ کی مقداریں "وَاسْتِقْرَاضِ الْخُبْزِ" اور روٹی کا قرض لینا، روٹی کو قرض لینا بھئی۔ "وَالِاسْتِحْمَامِ" اور حمام میں جانا، استحمام۔ بھئی دیکھیے، آپ روٹی قرض کے طور پر لینا۔ دیہات وغیرہ میں عام طور پر ساتھ والوں سے ضرورت ہو تو مہمان آ گئے یا کچھ تو روٹی وغیرہ قرض لے لی کہ آپ ابھی آج آپ ہمیں دے دیں، صبح ہم سے اتنی ہی روٹیاں آپ لے لینا۔ اب حالانکہ روٹی بغیر وزن کے پتا ہی نہیں، برابر تو نہیں ہوں گی۔ لیکن پھر بھی سب کا عمل ہے اس پر معلوم ہوا اس کے جواز پر اجماع ہے بھئی، اس کے جواز پر اجماع ہے۔ اسی طرح حمام میں جانا بھئی، اب یہ اجارہ ہے لیکن پتا نہیں کتنا پانی وغیرہ استعمال کرے گا۔ لیکن سب کا عمل ثابت ہے معلوم ہوا اس کے جواز پر اجماع ہے بھئی۔ "وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الْبَاقِلَّانِيُّ: إِنَّ الاِجْتِهَادَ لَيْسَ بِشَرَطٍ فِي الْمَسَائِلِ الاِجْتِهَادِيَّةِ أَيْضًا" ابو بکر باقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجتہاد شرط نہیں ہے مسائلِ اجتہادیہ کے اندر بھی۔ یعنی مجتہد ہونا ضروری نہیں۔ "وَيَكْفِي قَوْلُ الْعَوَامِّ فِي انْعِقَادِ الْإِجْمَاعِ" اور عوام کا قول بھی کافی ہے اجماع کے منعقد ہونے میں۔ "وَالْجَوَابُ" اور جواب یہ کہ "أَنَّهُمْ كَالْأَنْعَامِ" "اَلْعَوَامُّ كَالْأَنْعَامِ" "اَلْعَوَامُّ كَالْأَنْعَامِ" عوام کس کی طرح ہیں؟ مویشیوں کی طرح، ان کو کیا علم بھئی یہ دینی مسائل وغیرہ کا کہ ان کا قول کا اعتبار کیا جائے۔ یہ تو صرف وہ جگہ جہاں پر اجتہاد کی ضرورت نہیں ہے وہاں پھر اعتبار کیا گیا بھئی۔ "وَعَلَيْهِمْ أَنْ يُقَلِّدُوا الْمُجْتَهِدِينَ" اور عوام پر تو واجب ہے کہ وہ مجتہدین کی تقلید کریں۔ "وَلَا يُعْتَبَرُ خِلَافُهُمْ فِيمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنَ التَّقْلِيدِ" اور اعتبار نہیں کیا جائے گا ان کے اختلاف کا اس چیز میں کہ واجب ہو اس پر اس ان پر اس میں تقلید۔ "وَكَوْنُهُ مِنَ الصَّحَابَةِ أَوْ مِنَ الْعِتْرَةِ لَا يُشْتَرَطُ" بعض کے نزدیک بھئی صحا- اہل اجماع کا صحابی ہونا ضروری کہ وہ صحابہ ہوں پھر معتبر ہو گا ان کا اجماع، بعد والوں کا اجماع معتبر نہیں۔ اور بعضوں کے نزدیک اہل مدینہ کا اجماع معتبر ہے باقی کا اجماع معتبر نہیں۔ اور بعضوں کے نزدیک صرف حضور علیہ السلام کی اولاد کا اجماع معتبر ہے کسی اور کا اجماع معتبر نہیں۔ تو ان سب کو رد کر رہے ہیں بھئی۔ "وَكَوْنُهُ مِنَ الصَّحَابَةِ أَوْ مِنَ الْعِتْرَةِ لَا يُشْتَرَطُ" اور اہل اجماع کا صحابہ میں سے ہونا یا "مِنَ الْعِتْرَةِ" عترت اولاد کو کہتے ہیں مراد ہے حضور علیہ السلام کی اولاد، الف لام عہدی ہے بھئی۔ "أَوْ مِنَ الْعِتْرَةِ" یا حضور علیہ السلام کی اولاد میں سے ہونا "لَا يُشْتَرَطُ" اس کی شرط نہیں ہو گی۔ "يَعْنِي قَالَ بَعْضُهُمْ: لَا إِجْمَاعَ إِلَّا لِلصَّحَابَةِ" بعض فقہا فرماتے ہیں کہ اجماع نہیں ہے مگر صحابہ ہی کے کا۔ "لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَدَحَهُمْ وَأَثْنَى عَلَيْهِمُ الْخَيْرَ" اسی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی مدح فرمائی ہے اور تعریف فرمائی ہے ان کی خیر کے ساتھ۔ "فَهُمُ الْأُصُولُ فِي عِلْمِ الشَّرِيعَةِ وَانْعِقَادِ الْأَحْكَامِ" پس وہ اصول ہیں، وہ اصل ہیں علم شریعت کے اندر اور احکام کے منعقد ہونے کے اندر۔ تو اس لیے انہی کا اجماع معتبر ہے۔ "وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا إِجْمَاعَ إِلَّا لِعِتْرَتِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ" اور بعض فرماتے ہیں لا اجماع الا لعترتہ علیہ الصلاۃ والسلام کہ اجماع نہیں ہے مگر حضور علیہ السلام کی اولاد کا ہی۔ "أَيْ نَسْلِهِ وَأَهْلِ قَرَابَتِهِ" عترت کا معنی کر رہے ہیں یعنی حضور علیہ السلام کی جو نسل ہے اور ان کے رشتے- رشتہ دار ہیں۔ "لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ: إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي" کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا "إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا" کہ میں چھوڑے جا رہا ہوں تم میں وہ چیز کہ اگر تم اس کو تھام لوگے مضبوطی سے "لَنْ تَضِلُّوا" تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے۔ "كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي" ایک اللہ کی کتاب ہے اور ایک میری اولاد ہے۔ "وَعِنْدَنَا شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ لَيْسَ بِشَرَطٍ" ہمارے نزدیک ان میں سے کوئی چیز بھی شرط نہیں ہے۔ "بَلْ يَكْفِي الْمُجْتَهِدُونَ الصَّالِحُونَ فِيهِ" بلکہ اس میں نیک مجتہدین ہی کافی ہیں۔ "وَمَا ذَكَرْتُمْ" اور یہ جو آپ نے ذکر کی باتیں کہ حضور علیہ السلام نے صحابہ کی تعریف فرمائی تھی، یا حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ تم گمراہ نہ ہو گے جب تک ان دو چیزوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے، اللہ کی کتاب کو اور میری اولاد کو۔ ہم کہتے ہیں "إِنَّمَا يَدُلُّ عَلَى فَضْلِهِمْ" یہ ان کے فضیلت پر دلالت کرتے ہیں "لَا عَلَى أَنَّ إِجْمَاعَهُمْ حُجَّةٌ دُونَ غَيْرِهِمْ" اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ انہی کا اجماع حجت ہے نہ کہ ان کے علاوہ کا۔ "وَكَذَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ" اور اسی طرح اہل مدینہ جو ہیں اس میں سے ان کی بھی شرط نہیں ہے۔ "أَوْ انْقِرَاضُ الْعَصْرِ" یا زمانے کا گزر جانا اس کی بھی شرط نہیں ہے۔ بعض فرماتے ہیں جیسے امام شافعی رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں زمانے کا گزر جانا یہ بھی شرط ہے اجماع کے لیے۔ ایک زمانے کے مجتہدین ایک حکم پر اکٹھے ہو گئے پھر یہ زمانہ گزر جائے تو پھر اجماع حجت ہو گا۔ یعنی یہ سارے مجتہدین ان کا انتقال ہو جائے۔ سب کا کیا ہو جائے؟ اس لیے کیونکہ جب تک یہ زندہ ہیں رائے بدل سکتی ہے کسی کی بھی، اور جب رائے بدل جائے گی تو اجماع باقی نہ رہا۔ ہم کہتے ہیں نہیں بھئی، جن جن جن نصوص سے اجماع کے حجت ہونے کا پتا چلتا ہے ان میں یہ فرق نہیں کیا گیا کہ مجتہدین زندگی یا حیات کی قید وغیرہ اس میں نہیں ہے۔ "أَيْ كَذَلِكَ لَا يُشْتَرَطُ كَوْنُ أَهْلِ الْإِجْمَاعِ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَوْ انْقِرَاضُ عَصْرِهِمْ" اور اسی طرح شرط نہیں ہے اہل اجماع کا اہل مدینہ ہونا یا ان کے زمانے کا گزر جانا۔ "قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُشْتَرَطُ فِيهِ كَوْنُهُمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شرط ہو گی اجماع کے اندر ان اہل اجماع کا اہل مدینہ میں سے ہونا "لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: إِنَّ الْمَدِينَةَ تَنْفِي خَبَثَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ" کیونکہ حضور علیہ السلام نے قال فرمایا "إِنَّ الْمَدِينَةَ تَنْفِي خَبَثَهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ" کہ مدینہ جو ہے وہ دور کرتا ہے اپنے سے اپنے میل کچیل کو "كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ" جیسے کہ بھٹی دور کر دیتی ہے "خَبَثَ الْحَدِيدِ" لوہے کے میل کچیل کو۔ خبث، میل کچیل۔ مدینہ منورہ جو ہے وہ میل کچیل کو اپنے سے دور کر دیتا ہے جیسے لوہار کی بھٹی لوہے، سونے، چاندی جو بھٹی ہو گی وہ کیا کرتی ہے اس دھات سے میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔ تو وہ فرماتے ہیں معلوم ہوا اہل مدینہ کا اجماع معتبر ہے۔ "وَالْخَطَأُ أَيْضًا خَبَثٌ" امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلطی بھی خبث ہے، میل کچیل ہے۔ غلطی بھی کیا ہے؟ میل کچیل۔ تو مدینہ کے مجتہد ہو گا تو وہ اس سے محفوظ ہو گا۔ تو کیا ہو گا اس سے؟ کیونکہ مدینہ تو کیا کرتا ہے اپنے سے میل کچیل کو دور کر دیتا ہے۔ "فَيَكُونُ مَنْفِيًّا عَنْهَا" تو یہ ان سے اس کی ان سے نفی ہو گی بھئی، یعنی ان سے پھر غلطی نہیں ہو گی۔ "وَالْجَوَابُ" جواب یہ ہے "أَنَّ ذَلِكَ لِفَضْلِهِمْ" کہ یہ ان کے فضل کے لیے ہے، فضیلت کے لیے۔ سمجھ میں آیا؟ یہ جو حدیث میں آیا اس میں صرف فضیلت کا ذکر ہے "وَلَا يَكُونُ دَلِيلًا عَلَى أَنَّ إِجْمَاعَهُمْ حُجَّةٌ لَا غَيْرُ" اور یہ اس میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ انہی کا اجماع حجت ہے نہ کہ ان کے علاوہ کا۔ "وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُشْتَرَطُ فِيهِ انْقِرَاضُ الْعَصْرِ وَمَوْتُ جَمِيعِ الْمُجْتَهِدِينَ" اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شرط ہے اس کے اجماع کے اندر مدت، زمانے کا گزر جانا اور ان تمام مجتہدین کی موت۔ "فَلَا يَكُونُ إِجْمَاعُهُمْ حُجَّةً مَا لَمْ يَمُوتُوا" تو ان کا اجماع حجت نہیں ہو گا جب تک کہ وہ مر نہ جائیں "لِأَنَّ الرُّجُوعَ قَبْلَهُ مُحْتَمَلٌ" اس سے کیونکہ رجوع کر لینا موت سے پہلے اس کا احتمال ہے "وَمَعَ الاِحْتِمَالِ لَا يَثْبُتُ الاِسْتِقْرَارُ" اور احتمال کی وجہ سے ثابت نہیں ہو گا جمے رہنا، اسی بات پر جما رہنا ثابت نہیں ہو گا۔ "قُلْنَا" ہم کہتے ہیں "النُّصُوصُ الدَّالَّةُ عَلَى حُجِّيَّةِ الْإِجْمَاعِ لَا تُفَصِّلُ بَيْنَ أَنْ يَمُوتُوا أَوْ لَمْ يَمُوتُوا" کہ وہ نصوص جو دلالت کر رہی ہیں اجماع کے دلیل ہونے پر "لَا تُفَصِّلُ" وہ فرق نہیں کرتی "بَيْنَ أَنْ يَمُوتُوا أَوْ لَمْ يَمُوتُوا" کہ وہ مریں یا نہ مریں، ان کے درمیان فرق نہیں اس میں ذکر۔ "وَقِيلَ: يُشْتَرَطُ لِلْإِجْمَاعِ اللَّاحِقِ عَدَمُ الاِخْتِلَافِ السَّابِقِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" اور کہا گیا ہے کہ "يُشْتَرَطُ" بھئی دیکھیے، ایک اجماعِ لاحق، بعد میں جو ہوا۔ اجماعِ لاحق؟ جو بعد میں۔ اور اختلافِ سابق؟ وہ اختلاف جو پہلے ہوا۔ تو بعضوں نے کہا کہ اجماعِ لاحق یعنی بعد والوں کا اجماع اس میں شرط ہے کہ اختلافِ سابق نہ ہو، پہلوں کا، پہلے اس میں اختلاف نہ ہو۔ یعنی صحابہ میں اگر تابعین کسی بات پر اجماع کرتے ہیں تو ان کا اجماع حجت ہو گا شرط یہ ہے کہ صحابہ کا اس معاملے میں اختلاف نہ ہو۔ اگر صحابہ کا اختلاف تھا، تابعین کے اجماع کی کوئی حیثیت نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں "وَقِيلَ: يُشْتَرَطُ لِلْإِجْمَاعِ اللَّاحِقِ عَدَمُ الاِخْتِلَافِ السَّابِقِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" کہ اجماعِ لاحق کے لیے شرط ہے اختلافِ سابق کا نہ ہونا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک۔ "يَعْنِي إِذَا اخْتَلَفَ أَهْلُ عَصْرٍ فِي مَسْأَلَةٍ وَمَاتُوا عَلَيْهِ" یعنی جب اختلاف کریں کسی ایک زمانے والے کسی مسئلہ میں اور وہ مر جائیں اسی پر، یعنی اسی اختلاف پر۔ "ثُمَّ يُرِيدُ مَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ يَجْمَعُوا عَلَى قَوْلٍ وَاحِدٍ مِنْهَا" پھر ارادہ کریں وہ لوگ جو ان کے بعد آئے کہ وہ جمع ہو جائیں کسی ان میں سے کسی ایک قول پر، ان میں تو اختلاف تھا دو قول تھے، یہ بعد والے کیا چاہتے ہیں کسی ایک قول پر اجماع کر لیں۔ "أَنْ يُجْمِعُوا" بھئی اجمع اجماع کی بات ہے نا، "أَنْ يُجْمِعُوا عَلَى قَوْلٍ وَاحِدٍ مِنْهَا قِيلَ: لَا يَجُوزُ ذَلِكَ الْإِجْمَاعُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ" کہا گیا ہے کہ یہ اجماع جائز نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک۔ "وَلَيْسَ كَذَلِكَ فِي الصَّحِيحِ" اور ایسا نہیں ہے صحیح قول کے مطابق بھئی، یعنی "بَلِ الصَّحِيحُ أَنَّهُ يَنْعَقِدُ عِنْدَهُ" بلکہ صحیح قول یہ ہے کہ یہ اجماع بھی منعقد ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک۔ منعقد ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک "إِجْمَاعٌ مُتَأَخِّرٌ" اجماعِ متاخر بھی منعقد ہو جائے گا "وَيَرْتَفِعُ الْخِلَافُ السَّابِقُ مِنَ الْبَيْنِ" اور اٹھ جائے گا وہ سابقہ اختلاف بیچ میں سے، وہ ختم ہو جائے گا۔ "وَنَظِيرُهُ مَسْأَلَةُ بَيْعِ أُمِّ الْوَلَدِ" اور اس کی مثال جو ہے ام ولد کے بیع کا مسئلہ ہے۔ ام ولد بھئی، کسی شخص کی باندی ہے اور اس باندی نے اس کے بچے کو جنم دیا۔ اور پھر آقا نے کہہ بھی دیا کہ یہ میری اولاد ہے، تو یہ کہتے ہی یہ اس کی ام ولد بن گئی۔ جب تک آقا نہ کہے کہ یہ میری اولاد ہے اس کا نسب آقا سے ثابت نہ ہو گا۔ یاد رکھیے بھئی یاد رکھیے، بیوی، بیوی وہ فراشِ قوی ہے اور اپنی باندی جو ہو وہ فراشِ ضعیف ہے۔ فراشِ قوی کے اندر جو اولاد ہو گی اس میں خاوند کے کہنے نہ کہنے کا، خاوند کے اقرار کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بغیر اقرار ہی کے وہ اس کی اولاد شمار ہو گی۔ لیکن باندی فراشِ ضعیف ہے وہاں جب تک وہ اقرار نہیں کرے گا وہ اس کی اولاد شمار نہیں ہو گی بھئی۔ اب یہ جو باندی ہے، یہ جو ام ولد بن گئی آقا نے اقرار کر لیا کہ یہ میرا بیٹا ہے، تو وہ تو اس کا بیٹا ہوا وہ آزاد ہے، اور یہ باندی ام ولد بن گئی اور اس آزادی اس کا حق ہو گیا۔ اس یہ بچہ اب اس کی آزادی کا سبب بن گیا اور یہ آزاد ہو گی لیکن کس وقت آزاد ہو گی؟ جب آقا کا انتقال ہو جائے گا تو خود بخود آزاد ہو جائے گی، آقا پہلے کر دے وہ تو اس کی مرضی، لیکن اگر نہ بھی کرے آقا کے مرنے پر خود بخود آزاد ہو جائے گی۔ اب یہ ام ولد کو بیچنا جائز ہے یا جائز نہیں؟ تو یاد رکھیے ام ولد کو بیچنا جائز نہیں کیونکہ آزادی کا اس کا جو حق ہے وہ ضائع ہوتا ہے اس نے اب آزاد ہونا ہے، جب بیچ دیں گے تو اس کے جاری کا حقِ آزادی ضائع ہو گا اس لیے اس کے بیچنے کی اجازت نہیں۔ اب یہ ام ولد کی بیع کے مسئلے میں اس میں شروع میں اختلاف تھا بھئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے جائز نہیں ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے کہ اس کی بیع جائز ہے۔ پھر اس کے بعد اس کے نہ بیچنے پر اجماع ہو گیا۔ اس کے نہ بیچنے پر اجماع ہو گیا بھئی۔ تو معلوم ہوا اور یہی امام صاحب کا بھی قول ہے کہ ام ولد کو نہیں بیچا جا سکتا، تو دیکھیے انہوں نے اس اجماع کا اعتبار کیا، وہ ان کے نزدیک معتبر ہے بھئی۔ تو اس کی مثال ام ولد کی بیع کا مسئلہ ہے "فَإِنَّهُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَا يَجُوزُ" حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک یہ بیع جائز نہیں ہے "وَعِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَجُوزُ" اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک جائز ہے "ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ أَجْمَعُوا عَلَى عَدَمِ جَوَازِ بَيْعِهَا" پھر اس کے بعد اجماع بعد میں جو ہے تابعین وغیرہ جو ہیں انہوں نے اجماع کیا اس کے، اس ام ولد کی بیع کے جائز نہ ہونے پر۔ "فَإِنْ قَضَى الْقَاضِي بِجَوَازِ بَيْعِهَا لَا يَنْفُذُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِأَنَّهُ مُخَالِفٌ لِلْإِجْمَاعِ اللَّاحِقِ" بھئی یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ کہ آپ نے ہمیں کیا بتلایا، مصنف نے کیا بتلایا؟ کہ صحیح قول یہ ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اختلافِ سابق کے باوجود اجماعِ لاحق معتبر ہے۔ اگرچہ سابق میں اختلاف ہی کیوں نہ ہو، لیکن بعد والے اگر اجماع کر لیں تو وہ اجماع معتبر ہے۔ اگر یہ اجماع معتبر ہے تو پھر اگر کوئی قاضی اس کی بیعِ کے جواز کا فیصلہ کر دیتا ہے، کوئی قاضی کیا کرتا ہے؟ اس کی بیعِ کے جواز کا فیصلہ کر دیتا ہے، کسی تو امام محمد رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں یہ قاضی کا فیصلہ نافذ نہیں ہو گا کیونکہ یہ اجماع کے خلاف ہے۔ لیکن امام صاحب سے ایک روایت آتی ہے امام کرخی رحمہ اللہ جو روایت کرتے ہیں کہ یہ قاضی کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا۔ قاضی کا فیصلہ نافذ حالانکہ قاضی کا فیصلہ اجماعِ لاحق کے خلاف ہے لیکن پھر بھی امام صاحب کی روایت کیا آئی؟ نافذ ہو، معلوم ہوا امام صاحب کے نزدیک یہ اجماع معتبر نہیں، تو جواب دیں گے کہ بھئی یہ اگرچہ اس میں بھی صحیح قول یہی ہے امام صاحب کے نزدیک بھی نافذ نہیں ہو گا۔ قاضی کا فیصلہ نافذ نہیں، کیونکہ اجماع ہو چکا ہے اس پر اور وہ اجماعِ لاحق ان کے نزدیک معتبر ہے۔ ہاں یہ ایک روایت اگر آئے جو آئی ہے اس کا اس میں اس کا جواب یہ دیا جا سکتا ہے کہ یہاں قاضی کے فیصلے کو اس لیے نافذ مانا اس سابقہ اختلاف کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ سابقہ اختلاف کی وجہ سے بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ اگرچہ صحیح قول دوسرا ہے میں نے بتلایا کہ وہ ان کے نزدیک بھی نافذ نہیں ہو گا۔ فإن قضى القاضي بجواز بيعها، پس اگر قاضی نے فیصلہ کر دیا ام ولد کی بیع کے جائز ہونے کا، لا ينفذ عند محمد رحمه الله، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک نافذ نہیں ہو گا قاضی کا یہ فیصلہ، لأنه مخالف للإجماع اللاحق، اس لیے کیونکہ یہ مخالفت کرنے والا ہے اجماعِ لاحق کے، ويجوز عند أبي حنيفة رحمه الله في رواية الكرخي عنه، اور جائز ہے امام صاحب کے نزدیک جو ان سے روایت ہے، في رواية الكرخي عنه، ان سے جو روایت کی ہے امام کرخی نے، لأجل الاختلاف السابق، بوجہ اس سابقہ اختلاف کی وجہ سے۔ وأبو يوسف رحمه الله تعالى في رواية معه وفي رواية مع محمد رحمه الله، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے میں دو روایتیں ہیں، ایک روایت میں وہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اور دوسری روایت کے مطابق وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ و الشرط اجتماع الكل، اور شرط جو ہے اجماع کی سب کا جمع ہونا ہے، اکٹھے ہونا ہے، وخلاف الواحد مانع، اور ایک کا اختلاف بھی مانع ہے۔ اجماع کی شرط ہے کہ ایک زمانے کے تمام مجتہدین اس مسئلے پر اکٹھے ہو جائیں، اگر ایک مجتہد بھی مخالف تھا اس کی یہ رائے نہیں تھی تو اجماع منعقد نہیں ہوا، تو کہتے ہیں وخلاف الواحد مانع، اور ایک کا اختلاف بھی مانع ہے اجماع سے، كخلاف الأكثر، جیسے کہ اکثر کا اختلاف مانع ہوتا ہے۔ یعنی في حين انعقاد الإجماع، یعنی اجماع کے منعقد ہوتے وقت، لو خالف واحد، اگر کسی ایک نے بھی مخالفت کی، كان خلافه معتبرا، تو اس کا یہ اختلاف اس کا اعتبار کیا جائے گا، ولا ينعقد الإجماع، اور اجماع منعقد نہیں ہو گا، لأن لفظ الأمة في قوله عليه الصلاة والسلام، اس لیے کیونکہ امت کا جو لفظ آیا ہے حضور علیہ الصلاة والسلام کے اس قول کے اندر، "لا تجتمع أمتي على الضلالة"، جمع نہیں ہو گی میری امت گمراہی پر۔ حدیث میں کیا آتا ہے حضور علیہ الصلاة والسلام نے کیا فرمایا؟ میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہو گی۔ معلوم ہوا، توجہ سے ادھر بھئی، معلوم ہوا کہ جب تمام مجتہدین ایک قول پر اکٹھے ہو گئے معلوم ہوا یہ قول حق ہے، یہ قول کیا ہے؟ حق ہے۔ کیونکہ حضور علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا کہ میری امت کبھی گمراہی پر اکٹھی نہیں ہو سکتی، لیکن اگر ایک مجتہد کی رائے اور ہے اور باقی ساروں کی رائے اور ہے تو اب یہ ضروری نہیں کہ حق ان زیادہ کے ساتھ ہو یہ بھی تو ممکن ہے حق قول کس کا ہو؟ اس ایک مجتہد کا ہے، اگر ایک کا بھی حق پر ہے تو بھی حدیث تو صادق آ رہی ہے، حدیث میں تو کیا آیا؟ میری امت کبھی گمراہی پر اکٹھی نہیں ہو گی، تو وہ باقی سارے ہیں لیکن ایک تو ان میں نہیں، تو گمراہی پر سارے اکٹھے ہوئے نہیں، ایک پھر بھی کیا ہے؟ حق پر ہے بھئی، تو پھر بھی یہ حدیث کا مصداق بن جاتا ہے، تو معلوم ہوا ایک بھی ہو سکتا ہے حق پر، لہٰذا ایک بھی اگر اختلاف کر لے تو پھر اس کو اجماع نہیں کہیں گے کیونکہ دو رائے آ گئیں جن میں سے کوئی ایک بھی حق پر ہو سکتی ہے۔ کیونکہ حضور علیہ الصلاة والسلام کا قول لا تجتمع أمتي على الضلالة، میری امت جمع نہیں ہو گی گمراہی پر، يتناول الكل، یہ شامل ہے سب کو، أمتي، میری امت، مراد کیا ہے؟ ساری امت، فيحتمل أن يكون الصواب مع المخالف، تو یہ احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے درستگی کس کے پاس ہو؟ کس کے ساتھ ہو؟ مخالف کے ساتھ ہو۔ وقال بعض المعتزلة: ينعقد الإجماع باتفاق الأكثر، اور کہا ہے بعض معتزلہ نے، منعقد ہو جائے گا اجماع اکثر کے اتفاق کر لینے سے ہی، لأن الحق مع الجماعة، اس لیے کیونکہ حق جو ہے وہ جماعت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اکثر جب ایک طرف ہو جائیں تو یہ جماعت بن گئی، تو حق کس کے ساتھ ہوتا ہے؟ جماعت کے ساتھ، تو وہ کہتے ہیں لقوله عليه الصلاة والسلام، وہ آگے حضور علیہ الصلاة والسلام کے اس قول کے، "يد الله على الجماعة فمن شذ شذ في النار"، اللہ کا ہاتھ ہے جماعت پر، یعنی اللہ کی نصرت ہے جماعت کے ساتھ، فمن شذ شذ في النار، شذ کے معنی ہوتے ہیں علیحدہ ہونا، فمن شذ، جو علیحدہ ہوا یعنی جماعت سے الگ ہوا، شذ في النار، تو اس کو آگ میں علیحدہ کر دیا جائے گا یعنی آگ میں ڈال دیا جائے گا، فمن شذ شذ في النار، جو جماعت سے علیحدہ ہوا وہ آگ میں ڈال دیا جائے گا، یہ حدیث پیش کرتے ہیں۔ والجواب، اور جواب یہ، أن معناه بعد تحقق الإجماع، کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ اجماع کے پائے جانے کے بعد بھئی، اجماع کے اجماع ہو جانے کے بعد اگر کوئی جماعت سے الگ ہوتا ہے اس حدیث میں اس کا بیان ہے، اجماع سے پہلے جو جدا ہے اس کا بیان نہیں، تو کہ جو اجماع کے پائے جانے کے بعد، من شذ، جو علیحدہ ہوا، وخرج منه، اور ان میں سے نکل، اس اجماع سے نکل گیا، دخل في النار، وہ آگ میں داخل ہو گا بھئی، چلیے بس و هذا هو المرام والله اعلم بحقیقة الکلام۔