درس نمبر۔97 أَوْ بَيَانُ ضَرُورَةٍ عَطْفٌ عَلَى قَوْلِهِ بَيَانُ تَغْيِيرٍ، أَيِ الْبَيَانُ الْحَاصِلُ بِطَرِيقِ الضَّرُورَةِ، وَهُوَ نَوْعُ بَيَانٍ يَقَعُ بِمَا لَمْ يُوضَعْ لَهُ، أَيِ السُّكُوتِ، إِذِ الْمَوْضُوعُ لِلْبَيَانِ هُوَ الْكَلَامُ دُونَ السُّكُوتِ، وَهُوَ إِمَّا أَنْ يَكُونَ فِي حُكْمِ الْمَنْطُوقِ. بھئی، آپ نے پڑھا تھا کہ بیان جو ہے وہ پانچ قسم پر ہے، یا وہ بیانِ تقریر ہو گا یا بیانِ تفسیر یا بیانِ تغیر یا بیانِ ضرورت یا بیانِ تبدیل۔ ان میں سے پہلی تین قسمیں یعنی بیانِ تقریر، بیانِ تفسیر اور بیانِ تغیر کی بحث مکمل ہوئی۔ آج ہم بیانِ ضرورت اور بیانِ تبدیل کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ تو شارح بتلا رہے ہیں، متن میں کیا آیا؟ أَوْ بَيَانُ ضَرُورَةٍ، یا بیانِ ضرورت ہو گا وہ، وہ بیان بیانِ ضرورت ہو گا۔ عَطْفٌ عَلَى قَوْلِهِ بَيَانُ تَغْيِيرٍ، یہ عطف ہے مصنف ماتن کے قول یعنی ماتن کے قول بَيَانُ تَغْيِيرٍ پر۔ أَيِ الْبَيَانُ الْحَاصِلُ بِطَرِيقِ الضَّرُورَةِ، یعنی وہ بیان جو حاصل ہو ضرورت کے طریقے پر۔ اس عبارت کے ذریعے شارح یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ یہ جو بَيَانُ ضَرُورَةٍ، یہ جو بیان کی اضافت ہے ضرورت کی طرف، یہ یہ اضافت ہے سبب کی طرف بھئی۔ بیان کی جو اضافت ضرورت کی طرف ہے، یہ کس کی طرف ہے اپنے؟ سبب کی طرف ہے۔ أَيْ بَيَانٌ بِسَبَبِ الضَّرُورَةِ، وہ بیان جو کس وجہ سے ہو؟ ضرورت کے سبب سے ہو۔ تو یہ اضافت ہوئی مسبب کی اپنے سبب کی طرف بھئی۔ جبکہ باقی جتنی اضافتیں ہیں، یاد رکھیے، بیان کی، بیانِ تقریر، بیانِ تفسیر وغیرہ، ان سب میں اضافت ہے عام کی خاص کی طرف۔ ان میں اضافت ہے عام کی خاص کی طرف۔ مثلاً بیان عام ہے اور تقریر خاص ہے۔ بیان عام ہے اور تفسیر خاص ہے بھئی، کہ وہ اس کی قسموں میں سے ہے۔ تو ان میں اضافت ہے عام کی خاص کی طرف۔ البتہ یہاں اضافت جو ہے إِضَافَةُ الشَّيْءِ إِلَى سَبَبِهِ کے قبیل سے ہے کہ شے کی اضافت اپنے سبب کی طرف کی جا رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ أَيِ الْبَيَانُ الْحَاصِلُ بِطَرِيقِ الضَّرُورَةِ، کہ وہ بیان جو حاصل ہو ضرورت کے طریقے پر، یعنی ضرورت کے سبب سے، ضرورت کی وجہ سے حاصل ہو۔ وَهُوَ نَوْعُ بَيَانٍ يَقَعُ، اور وہ ایک نوعِ بیان ہے يَقَعُ جو واقع ہو یعنی حاصل ہو بِمَا ایسی چیز کے ذریعے لَمْ يُوضَعْ لَهُ جس کو وضع نہیں کیا گیا لَهُ أَيْ لِلْبَيَانِ، کس کے لیے؟ بیان کے لیے۔ بھئی بیانِ ضرورت بھئی، توجہ سے سنیے بھئی۔ وَهُوَ نَوْعُ بَيَانٍ يَقَعُ بِمَا لَمْ يُوضَعْ لَهُ، وہ ایک نوعِ بیان ہے جو حاصل ہوتا ہے ایسی چیز کے ذریعے جسے اس بیان کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔ جسے بیان کے لیے وضع نہیں کیا گیا۔ ایک ایسی چیز سے بیان حاصل ہو رہا ہے جسے بیان کے لیے وضع ہی نہیں کیا گیا۔ اور وہ کیا ہے؟ آگے اپ کو بتائیں گے سکوت، یعنی خاموشی، خاموشی۔ بھئی خاموشی کو بیان کے لیے وضع کیا گیا ہے یا کلام کو وضع کیا گیا ہے بیان کے لیے؟ کلام کو۔ بیان کے لیے تو کلام کو وضع کیا گیا ہے، خاموشی کو تو بیان کے لیے وضع نہیں کیا گیا، لیکن یہی خاموشی بعض مقامات پر کیا بن جاتی ہے؟ بیان بن جاتی ہے بھئی، بیان بن جاتی ہے۔ مثلاً بھئی، میں آپ سے کہتا ہوں کہ میں اور آپ، کہ یہ آپ میرا مال لیجیے اور اس پہ تجارت کیجیے، عقدِ مضاربت کرتا ہوں آپ کے ساتھ بھئی۔ اور جتنا نفع حاصل ہو گا، 40 فیصد آپ کا ہو گا۔ 40 فیصد آپ کا ہو گا۔ میں نے کوئی اپنا حصہ بیان کیا؟ نہیں، ہاں، لیکن سمجھ میں آ گیا یا نہیں؟ کتنا ہے میرا حصہ؟ 60 فیصد بھئی۔ تو دیکھو، یہاں خاموشی ہے، سکوت ہے، میرے حصے کو ذکر ہی نہیں کیا گیا، لیکن پھر بھی وہ سمجھ میں آ گیا بھئی۔ تو یہ کیا خاموشی یہاں سکوت بھی کیا ہے؟ بیان ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں وَهُوَ نَوْعُ بَيَانٍ يَقَعُ بِمَا لَمْ يُوضَعْ لَهُ، اور وہ ایک نوعِ بیان ہے کہ جو حاصل ہوتا ہے ایسی چیز کے ذریعے جس کو وضع نہیں کیا گیا بیان کے لیے۔ أَيِ السُّكُوتِ، یعنی کہ سکوت۔ سکوت بھئی، یہ تفسیر ہے مَا کی، بِمَا لَمْ، اور مَا پر با جارہ داخل ہے، وہ مجرور ہے۔ تو السُّكُوتِ اس کی تفسیر جو ہے اس کو بھی کیا پڑھیں گے؟ جر کے ساتھ پڑھیں گے بھئی۔ جر کے ساتھ۔ اور یہ اس سے بدل ہے بھئی بدل بھئی، ترکیب کے اعتبار سے۔ أَيِ السُّكُوتِ، یعنی کہ سکوت۔ إِذِ الْمَوْضُوعُ لِلْبَيَانِ هُوَ الْكَلَامُ دُونَ السُّكُوتِ، اس لیے کیونکہ بیان کے لیے وضع کیا گیا ہے جسے، وہ کلام ہے دُونَ السُّكُوتِ نہ کہ سکوت۔ وَهُوَ إِمَّا أَنْ يَكُونَ فِي حُكْمِ الْمَنْطُوقِ. بھئی یہ بیانِ ضرورت کس کے ذریعے ہو گا؟ سکوت، خاموشی کے ذریعے ہو گا۔ اور اس کی پھر چار قسمیں ہیں آگے بھئی، چار قسمیں ہیں، وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ پہلی قسم: وَهُوَ إِمَّا أَنْ يَكُونَ فِي حُكْمِ الْمَنْطُوقِ، اور وہ یا تو منطوق کے حکم میں ہو گا۔ منطوق جس پر نطق کیا گیا ہو، جس پر تکلم کیا گیا ہو۔ ایک چیز کو ذکر تو نہیں کیا گیا، لیکن وہ اسی طرح ہے جیسے اس کو ذکر۔ جیسے ابھی مسئلہ میں نے ذکر کیا آپ کے سامنے، مثال بھئی۔ میں نے آپ کا حصہ 40 فیصد ذکر کیا، اپنا حصہ ذکر ہی نہیں کیا، لیکن یہ مسکوت عنہ بھی کس کے حکم میں ہے؟ منطوق ہی کے حکم میں ہے، گویا میں نے اس پر نطق کیا ہے بھئی، میں نے اس پر تکلم کیا ہے بھئی، یہ اسی طرح ہے۔ وَهُوَ إِمَّا أَنْ يَكُونَ فِي حُكْمِ الْمَنْطُوقِ، اور وہ یا تو منطوق کے حکم میں ہو گا۔ منطوق سمجھ میں آیا بھئی؟ جس پر نطق کیا گیا ہو، جس کو بولا گیا ہو۔ أَيِ الْبَيَانُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ فِي حُكْمِ الْمَنْطُوقِ، أَوِ الْكَلَامُ الْمُقَدَّرُ الْمَسْكُوتُ عَنْهُ يَكُونُ فِي حُكْمِ الْمَنْطُوقِ. اس عبارت کے ذریعے شارح یہ بتلائیں گے کہ یہ جو متن میں آیا وَهُوَ إِمَّا، یہ هُوَ ضمیر یا تو راجع ہے بیان کو، کس کو راجع ہے؟ بیان کو۔ یا یہ راجع ہے اس کلامِ مقدر کو جو مسکوت عنہ ہے، جس پر سکوت کیا گیا، جسے ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ میں نے جیسے اپنا حصہ ذکر ہی نہیں کیا بھئی، تو یہ کیا ہے؟ یہ مسکوت عنہ ہے، یہ کلامِ مقدر۔ تو یا تو یہ هُوَ کی ضمیر راجع ہے کس کو؟ بیان کو، یا کس کو راجع ہے؟ وہ کلام جو مقدر ہے، مسکوت عنہ ہے بھئی، یہ اس کو راجع ہے۔ أَيِ الْبَيَانُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ فِي حُكْمِ الْمَنْطُوقِ، یہ بیان جو ہے یا تو منطوق کے حکم میں ہو گا، أَوِ الْكَلَامُ الْمُقَدَّرُ الْمَسْكُوتُ عَنْهُ، یا وہ کلامِ مقدر جو مسکوت عنہ ہے، يَكُونُ فِي حُكْمِ الْمَنْطُوقِ، وہ کس کے حکم میں ہو گا؟ منطوق، یعنی اس کو میں وہ ہے تو مسکوت عنہ، لیکن وہ کس کے حکم میں ہے؟ منطوق کے حکم میں ہے کہ اس کو تکلم کیا گیا ہے۔ كَقَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے: وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ. وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ، اور اس میت کے وارث اس کے والدین ہوں گے۔ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ، پس اس کی ماں کے لیے ثلث، تیسرا حصہ ہو گا، یعنی مال کا تیسرا حصہ ہو گا۔ بھئی، اور کوئی کسی شخص کا انتقال ہوا اور کوئی رشتہ دار نہیں، صرف والدین زندہ ہیں، تو اللہ فرما رہے ہیں اس کے وارث کون ہوں گے؟ یہی اس کے والدین اس کے وارث ہوں گے، اور ان میں سے ماں کو تیسرا حصہ ملے گا۔ باپ کو کتنا ملے گا، یہ بیان نہیں کیا گیا۔ تو وہ مسکوت عنہ ہے۔ لیکن خود بخود سمجھ میں آ گیا، جب یہ بتلا دیا گیا تھا کہ اس کے وارث یہ ماں باپ ہیں، یعنی انہی کو سارا مال ملنا ہے، اور پھر ان میں سے ایک کا حصہ بیان کر دیا گیا کہ اس کو تیسرا حصہ ملے گا، تو دوسرے کا حصہ خود بخود سمجھ میں آ گیا کہ باقی سارا اس کو مل جائے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہی بات ہے، یہاں پر بھی دیکھیے بھئی: وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ، اور وارث ہوئے اس کے، وارث ہوں گے اس کے والدین، فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ، اس کی ماں کے لیے تیسرا حصہ ہو گا، فَإِنَّ صَدْرَ الْكَلَامِ أَوْجَبَ الشِّرْكَةَ مُطْلَقَةً فِي وِرَاثَةِ الْأَبَوَيْنِ، پس جو صدرِ کلام ہے، یعنی وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ، یہ جو صدرِ کلام ہے، أَوْجَبَ الشِّرْكَةَ، اس نے شرکت کو ثابت کیا، مُطْلَقَةً، مطلق طور پر۔ حصے نہیں بتائے گئے، صرف اتنا بتایا، یہ دونوں کیا ہوں گے؟ وارث ہوں گے۔ تو اس نے شرکت کو ثابت کیا فِي وِرَاثَةِ الْأَبَوَيْنِ، والدین کے وارث ہونے میں، مِنْ غَيْرِ تَعْيِينِ نَصِيبِ كُلٍّ مِنْهُمَا، بغیر تعین کیے ان دونوں میں سے ہر ایک کے حصے کی، کہ کتنا حصہ ملے گا اس کی تعین کے بغیر اتنا بتا دیا گیا کہ وارث کون ہوں گے؟ والدین ہوں گے۔ ثُمَّ تَخْصِيصُ الْأُمِّ بِالثُّلُثِ صَارَ بَيَانًا، پھر ماں کی تخصیص ثلث کے ساتھ کی گئی تو یہ بیان بن گیا، کس چیز کا بیان بن گیا؟ لِأَنَّ الْأَبَ يَسْتَحِقُّ الْبَاقِيَ، کہ باپ جو ہے وہ باقی کا مستحق ہو گا، یہ اس کا بیان بن گیا۔ پھر ماں کی تخصیص تہائی مال کے ساتھ، یہ بیان بن گیا اس بات کا کہ باپ مستحق ہو گا باقی کا۔ فَكَأَنَّهُ قَالَ، پس گویا کہ اللہ نے یوں فرمایا: فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ وَلِأَبِيهِ الْبَاقِي، کہ اس کی ماں کے لیے تہائی حصہ ہو گا اور اس کے باپ کے لیے باقی ہو گا۔ أَوْ ثَبَتَ بِدَلَالَةِ حَالِ الْمُتَكَلِّمِ، یا ثابت ہو گا وہ متکلم کے، متکلم کے حال کی دلالت کے ذریعے، وہ بیان کس کے ذریعے ثابت ہو گا؟ متکلم کے حال کی دلالت کی وجہ سے۔ یاد رکھیے بھئی، میں نے بتلایا، یہ چار قسمیں بیان ہو رہی ہیں کس کی بھئی؟ بیانِ ضرورت کی، اور بیانِ ضرورت کی تعریف کی تھی: وَهُوَ نَوْعُ بَيَانٍ يَقَعُ بِمَا لَمْ يُوضَعْ لَهُ، یہ تعریف کی اس کی۔ اور آگے قسمیں بتلانا شروع کی تھیں: وَهُوَ إِمَّا أَنْ يَكُونَ فِي حُكْمِ الْمَنْطُوقِ، تو یہ ثَبَتَ کا عطف، یہ اس کا عطف جو ہے، یہ يَكُونَ پر ہے بھئی۔ تو یا تو وہ کلامِ مقدر جو مسکوت عنہ ہے، یا تو وہ منطوق کے حکم میں ہو گا پیچھے آیا، یا وہ کلامِ مقدر مسکوت عنہ جو ہے، ثابت ہو گا بِدَلَالَةِ حَالِ الْمُتَكَلِّمِ، متکلم کے حال کی دلالت کے ذریعے بھئی، یعنی متکلم کا حال اس پر دلالت کر رہا ہو گا۔ متکلم کا حال اس پر دلالت کر رہا ہو گا۔ أَيْ حَالِ السَّاكِتِ الْمُتَكَلِّمِ بِلِسَانِ الْحَالِ لَا بِلِسَانِ الْمَقَالِ. یہ ایک سوال کا جواب بھئی، اعتراض کا۔ اعتراض یہ کہ ماتن نے متن میں کہا کہ یہ دلالتِ، یہ جو بیانِ ضرورت ہے، یہ ثابت ہو گا بِدَلَالَةِ حَالِ الْمُتَكَلِّمِ، کس کے ذریعے؟ متکلم کے حال کی دلالت کے ذریعے، یعنی متکلم کا حال اس پر دلالت کرے گا۔ کس پر؟ اس بیانِ ضرورت پر، اور بیانِ ضرورت کس چیز کا نام ہے؟ پہلے آپ کو بتا چکے ہیں، وہ سکوت کا نام ہے، خاموشی کا نام ہے۔ تو جب یہاں پر ایک جگہ پر سکوت ہے، تو یہاں تو متکلم تو کوئی بھی نہیں۔ متکلم تو کوئی بھی نہیں، تو پھر ماتن کے قول بِدَلَالَةِ حَالِ الْمُتَكَلِّمِ کا کیا معنی؟ اعتراض سمجھ میں آیا؟ کہ بیانِ ضرورت کس چیز کا نام ہے؟ سکوت کا نام، خاموشی کی جائے جہاں پر اختیار کی جائے۔ خاموشی۔ تو جہاں پر خاموشی ہے، معلوم ہوا وہاں متکلم کوئی نہیں، یہ بیانِ ضرورت پر تکلم کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے، اور یہاں کہہ رہے ہیں کہ جو ثابت ہو کس کے لیے؟ متکلم کے حال کی دلالت کے ذریعے، تو شارح جواب دے رہے ہیں: أَيْ حَالِ السَّاكِتِ الْمُتَكَلِّمِ، کہ متکلم سے مراد وہ ساکت ہے جو خاموش ہے۔ بھئی پھر متکلم کیوں کہا گیا؟ کہتے ہیں، متکلم ہے بِلِسَانِ الْحَالِ لَا بِلِسَانِ الْمَقَالِ، لسانِ حال کے ذریعے تکلم کر رہا ہے نہ کہ لسانِ مقال کے ذریعے بھئی۔ یعنی اس متکلم، وہ متکلم تو نہیں ساکت ہے، خاموش ہے، لیکن اس کا حال تکلم کر رہا ہے، وہ بتا رہا ہے ایک بات بھئی۔ پورا سمجھ میں آ گئی؟ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں أَوْ ثَبَتَ بِدَلَالَةِ حَالِ الْمُتَكَلِّمِ، یا وہ بیان ثابت ہو گا متکلم کے حال کی دلالت کے ذریعے، أَيْ حَالِ السَّاكِتِ، یعنی اس ساکت کے حال کے ذریعے، جو خاموش ہے اس کے حال کے ذریعے، جس پر کہ اس کی دلالت کے ذریعے ثابت ہو گا، وہ ساکت الْمُتَكَلِّمِ بِلِسَانِ الْحَالِ لَا بِلِسَانِ الْمَقَالِ، جو تکلم کرنے والا ہے لسانِ حال کے ذریعے، نہ کہ لسانِ مقال کے ذریعے بھئی۔ یعنی زبان سے تو وہ کچھ کہنے والا نہیں، لیکن اس کا حال بتلا رہا ہے، وہ تکلم کر رہا ہے بھئی۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں بھئی؟ كَسُكُوتِ صَاحِبِ الشَّرْعِ عِنْدَ أَمْرٍ يُعَايِنُهُ عَنِ التَّغْيِيرِ، جیسے کہ صاحبِ شریعت کا خاموش، کا سکوت، ان کی خاموشی، عِنْدَ أَمْرٍ يُعَايِنُهُ، ایک ایسے امر کے وقت يُعَايِنُهُ، جس کا وہ جس کا وہ مشاہدہ کریں، عَنِ التَّغْيِيرِ، اس عَنِ التَّغْيِيرِ کا تعلق سکوت سے ہے، صاحبِ شریعت کا سکوت کرنا عَنِ التَّغْيِيرِ اس کو بدلنے سے، صاحبِ شریعت کا سکوت کرنا اس کے بدلنے سے، کس سے؟ کس سے؟ عِنْدَ أَمْرٍ يُعَايِنُهُ، کسی ایسے معاملے کے، جس کا وہ مشاہدہ کریں۔ بھئی یہ وہی تقریر النبی آ گیا بھئی، تقریر النبی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ پیغمبر کے سامنے کوئی کام کیا جائے اور پیغمبر اس کو دیکھ کر خاموش رہیں، یہ اس کام کے جائز ہونے کی دلیل ہوتی ہے بھئی، اس کام کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ پیغمبر اس ایک چیز کو دیکھ کر خاموش رہے، اس کو بدلیں نہ، اس سے روکیں نہ، منع نہ کریں، تو یہ سکوت بھی بیان ہے، کس چیز کا بیان؟ کہ یہ چیز جائز ہے، یہ چیز جائز ہے۔ كَسُكُوتِ صَاحِبِ الشَّرْعِ عِنْدَ أَمْرٍ يُعَايِنُهُ عَنِ التَّغْيِيرِ، جیسے کسی چیز کے مشاہدے کے وقت صاحبِ شریعت کا سکوت کرنا عَنِ التَّغْيِيرِ، اس کے بدلنے سے۔ یعنی أَنَّ الرَّسُولَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِذَا رَأَى أَمْرًا يُبَاشِرُونَهُ وَيُعَامِلُونَهُ كَالْمُضَارَبَاتِ وَالشِّرْكَاتِ، یعنی جب حضور علیہ السلام نے جب کسی ایسے معاملے کو دیکھا يُبَاشِرُونَهُ، جسے وہ لوگ سرانجام دے رہے ہوں، وَيُعَامِلُونَهُ، اور اس کا معاملہ کر رہے ہوں، كَالْمُضَارَبَاتِ وَالشِّرْكَاتِ، جیسے مضاربتیں ہیں اور شرکتیں ہیں، أَوْ رَأَى شَيْئًا يُبَاعُ فِي السُّوقِ وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَيْهِ، یا دیکھا کسی چیز کو کہ وہ بیچی جا رہی ہے بازار میں، وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَيْهِ، اور اس پر انکار نہیں فرمایا، عُلِمَ، تو جان لیا گیا کہ أَنَّهُ مُبَاحٌ، کہ یہ مباح ہے۔ فَسُكُوتُهُ أُقِيمَ مَقَامَ الْأَمْرِ بِالْإِبَاحَةِ، تو پیغمبر کے سکوت کو قائم مقام کر دیا گیا امر بالاباحت کے، کس کے قائم مقام کر دیا گیا؟ امر بالاباحت کے، یعنی اس کے مباح ہونے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ وَفِي حُكْمِهِ سُكُوتُ الصَّحَابَةِ بِشَرْطِ الْقُدْرَةِ عَلَى الْإِنْكَارِ، اور اسی کے حکم میں ہے صحابہ کا سکوت کرنا، بشرطیکہ وہ انکار پر قادر ہوں۔ صحابہ بھی کسی مقام پر کسی چیز کو دیکھ کر خاموش رہیں اور وہ انکار پر قادر بھی تھے، یہ صحابہ بھئی، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ازل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کے لیے چن لیا تھا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ان کا مقام اتنا اونچا کہ تمام دنیا کے اولیاء مل جائیں، جتنے بھی اولیاء ہیں، سب مل جائیں پیغمبروں کے علاوہ، تو کسی ادنیٰ درجے کے صحابی کے مرتبے، کیا اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے بھئی۔ تو یہ لوگ بھی اگر کسی چیز، ناجائز چیز کو دیکھیں تو یہ خاموش رہ ہی نہیں سکتے، ہمیشہ روکیں گے اس سے۔ تو صحابی کے سامنے اگر کوئی کام کیا جائے اور صحابی اس کے انکار پر قادر ہے لیکن پھر بھی خاموش رہتا ہے، معلوم ہوا یہ کام ہی جائز ہے، اگر جائز نہ ہوتا تو صحابی ضرور ٹوکتے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَفِي حُكْمِهِ سُكُوتُ الصَّحَابَةِ بِشَرْطِ الْقُدْرَةِ عَلَى الْإِنْكَارِ، اور اسی کے حکم میں ہے صحابہ کا سکوت، بشرطیکہ قدرت ہو ان کو انکار پر، وَكَوْنِ الْفَاعِلِ مُسْلِمًا، اور اس شرط پر کہ کرنے والا مسلمان ہو۔ بھئی، پیغمبر کے سامنے کوئی کام کیا جائے اور وہ انہیں دیکھ کر خاموش رہیں، تو وہ اس کام کے جائز ہونے کی دلیل ہے، بشرطیکہ اس کام کو کرنے والا مسلمان ہو۔ یا صحابہ کے سامنے کوئی کام کیا جائے اور وہ قدرت کے باوجود اس سے نہیں روکتے، تو یہ اس کام کے جائز ہونے کی دلیل ہے، بشرطیکہ کرنے والا مسلمان ہو، اگر کوئی کافر کوئی کام کر رہا ہے، اس سے اس کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔ كَمَا رُوِيَ، جیسے روایت کیا گیا ہے کہ أَنَّ أَمَةً أَبَقَتْ، کہ ایک باندی بھاگ گئی، وَتَزَوَّجَتْ رَجُلًا، اور اس نے نکاح کر لیا کسی شخص سے۔ فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا تو اس نے اولاد کو جنم دیا ثُمَّ جَاءَ مَوْلَاهَا۔ بھئی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں کوئی باندی تھی وہ بھاگ گئی تھی اور پھر کسی شخص سے اس نے نکاح کر لیا، اس کو کہا ہوگا میں آزاد عورت ہوں۔ اب اس کو تو علم نہیں تھا اس نے نکاح کر لیا اور اس سے اس شخص کی اولاد بھی ہوئی۔ اور پھر کئی سالوں کے بعد جا کر آقا کو کہیں پتہ چل گیا بھئی۔ تو اس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس مقدمہ پیش کیا اپنا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پھر باندی کا فیصلہ آقا کے حق میں کر دیا کہ یہ باندی اس کے حوالے کر دی جائے۔ بھئی اس سے تو اولاد بھی پیدا ہوئی تھی اور آپ نے پڑھا ہے کہ اولاد وہ ماں کے تابع ہوتی ہے حریت اور عبدیت میں۔ اگر ماں آزاد ہو تو اولاد آزاد شمار ہوتی ہے، اگر ماں باندی ہے تو اولاد بھی غلام اور باندیاں شمار ہوں گے بھئی۔ تو اب ان کی اولاد وہ تو اس شخص، آزاد شخص کی اولاد تھی کیا وہ بھی ان کو اس کے حوالے کیے جائیں گے اس آقا کے؟ ضابطے کے مطابق تو وہ اسی کے غلام سارے بھئی یہ جو آقا تھا۔ لیکن چونکہ اس شخص کے ساتھ تو دھوکہ ہوا ہے اس کو پتہ ہی نہیں ہے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے حکم دیا کہ اپنی اولاد کو فدیہ دے کر لے لو۔ یعنی اولاد تم ہی رکھو، ان کی قیمت اس کے والد اس آقا کو دے دو اس باندی کے آقا کو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ فیصلہ فرمایا حضرت عمر رضی اللہ۔ تو کہتے ہیں اس نے نکاح کر لیا کسی شخص سے وَوَلَدَتْ أَوْلَادًا تو اس نے اولاد کو جنم دیا ثُمَّ جَاءَ مَوْلَاهَا پھر اس کا آقا آیا۔ وَرَفَعَ هَذِهِ الْقَضِيَّةَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اور اس نے اٹھایا اس معاملے کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف۔ فَقَضَى بِهَا لِمَوْلَاهَا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فیصلہ کر دیا بِهَا اس باندی کا لِمَوْلَاهَا اس کے آقا کے لیے۔ وَقَضَى عَلَى الْأَبِ اور فیصلہ کیا باپ پر، ان بچوں کے باپ پر فیصلہ کیا أَنْ يَفْدِيَ عَنِ الْأَوْلَادِ کہ وہ فدیہ دے دے اپنی اولاد کی طرف سے۔ فدیہ؟ مال دے کر چھڑا لے ان کو، کہ وہ فدیہ دے دے اپنی اولاد کی طرف سے وَيَأْخُذَهُمْ بِالْقِيمَةِ اور لے لے ان کو قیمت کے بدلے۔ وَسَكَتَ عَنْ ضَمَانِ مَنَافِعِهَا وَمَنَافِعِ أَوْلَادِهَا۔ بھئی یہ جو اتنا عرصہ باندی اس شخص کے پاس رہی تو دیکھیے آقا کا حق، آقا کے منافع اتنے عرصے اس باندی کے منافع اس کے ضائع ہو گئے۔ اتنا عرصہ وہ آقا اس سے صحبت نہ کر سکا بھئی، منافع ضائع ہوئے یا نہیں باندی کے؟ وہ اس سے خدمت نہ لے سکا منافع کیا ہوئے؟ ضائع ہوئے۔ اسی طرح اس کی اولاد بھئی وہ بھی بڑی ہو گی خدمت وغیرہ ان سے، تو آقا کے وہ ان کے منافع اس کی اولاد کے منافع بھی فوت ہوئے۔ تو باندی تو اس کو مل گئی، اولاد کی قیمت بھی اس کو مل گئی لیکن وہ جو باندی کے منافع جو تھے ان کا ضمان حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے واجب نہیں کیا۔ اور اسی طرح ان بچوں سے کہ بچے اب تو آقا، باپ کیا کرے گا؟ قیمت دے کر ان کو لے لے گا لیکن اس سے پہلے جو خدمت وغیرہ ان سے لی ہے وہ منافع وہ تو اس آقا کا حق تھا تو وہ منافع بھی ضائع ہوئے ان کا بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ضمان واجب نہیں کیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھیے یاد رکھیے، یہ جو شخص ہے یہ ہے مغرور بھئی۔ غرور عربی میں دھوکے کو کہتے ہیں، غرور کسے کہتے ہیں؟ دھوکے کو۔ اور یہ جو جس کی اولاد ہے جس سے اس باندی نے نکاح کیا تھا اس بیچارے کو تو پتہ نہیں تھا کہ یہ باندی ہے تو اس کو دھوکہ دیا گیا۔ تو وہ شخص کیا ہوا؟ مغرور، مفعول وزن ہے، دھوکہ دیا گیا۔ اور یہ جو اس کی اولاد ہے یہ ہوئی ولد المغرور بھئی، یہ کیا ہے؟ ولد المغرور۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کوئی ضمان ان کے منافع کا اس پر واجب نہیں کیا۔ بات سمجھ آ رہی ہے؟ وہ اولاد کے منافع کا کوئی ضمان واجب نہیں کیا۔ اور صحابہ بھی سب موجود تھے اس موقع پر، کسی نے نہیں کہا کہ اس کے منافع بھی تو تلف ہوئے ہیں ضمان آنا چاہیے۔ کسی نے نہیں کہا، سب خاموش ہیں معلوم ہوا اس پر سب کا کیا ہو گیا؟ اجماع ہو گیا کہ ولد المغرور جو ہے اس کے منافع کا ضمان نہیں آئے گا۔ ولد المغرور کے منافع کا ضمان نہیں آئے گا بھئی تلف کر دینے کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ فیصلہ کیا وَسَكَتَ عَنْ ضَمَانِ مَنَافِعِهَا وَمَنَافِعِ أَوْلَادِهَا اور آپ خاموش رہے اس باندی کے منافع اور اس کی اولاد کے منافع کے ضمان سے وَكَانَ ذَلِكَ بِمَحْضَرٍ مِنَ الصَّحَابَةِ اور یہ واقعہ ہوا تھا صحابہ کی موجودگی میں فَكَانَ إِجْمَاعًا تو یہ اجماع ہوا عَلَى أَنَّ مَنَافِعَ وَلَدِ الْمَغْرُورِ لَا تُضْمَنُ بِالْإِتْلَافِ اس بات پر کہ ولد المغرور کے جو منافع ہوتے ہیں وہ مضمون نہیں ہوں گے تلف کر دینے کی وجہ سے، یعنی ان کا ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے یہاں پر بھی دیکھیے ان صحابہ کے سکوت کو بیان کے درجے میں اتَار لیا گیا۔ کس کے درجے میں؟ بیان کے درجے میں اتار لیا گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اور اس کو اجماع قرار دیا گیا۔ أَوْ ثَبَتَ ضَرُورَةَ دَفْعِ الْغُرُورِ عَنِ النَّاسِ یا وہ بیانِ ضرورت ثابت ہو گا ضرورة دفع الغرور عن الناس لوگوں سے دھوکے کو دور کرنے کی ضرورت کی وجہ سے۔ عبارت پر نظر ہے؟ یا وہ بیانِ ضرورت ثابت ہو گا ضرورة دفع الغرور عن الناس لوگوں سے دھوکے کو دور کرنے کی ضرورت کی بنا پر۔ صورت یہ بھئی، آقا بازار میں گیا اور اس نے اپنے غلام کو دیکھا کہ وہ بیع و شراء میں مصروف ہے لوگوں کے ساتھ۔ بھئی یاد رکھیے غلام دو قسم پر، ایک عام غلام اسے عبدِ محجور کہتے ہیں، حجر پابندی کو کہتے ہیں تو یہ عبدِ محجور ہے اس پر پابندیاں ہوتی ہیں یہ تجارت وغیرہ کام نہیں کر سکتا بھئی۔ اور ایک عبدِ ماذون ہے اذن سے، جسے آقا نے اجازت دی ہو کہ وہ تجارت وغیرہ کر سکتا ہے۔ تو اب آقا بازار سے گزر رہا تھا اس نے دیکھا کہ اس کا عبدِ محجور جو ہے وہ کیا کر رہا ہے؟ لوگوں سے بیع و شراء کر رہا ہے، کاروبار میں، تجارت میں مصروف ہے۔ اس کو دیکھ کر آقا خاموش رہا، تو آقا کا خاموش رہنا اس کو اجازت شمار کیا جائے گا۔ آقا کا خاموش رہنا اس کو اجازت شمار کیا جائے گا۔ کہتے ہیں اس لیے کہ اگر اس کو اجازت شمار نہ کیا جائے اور غلام کو اب بھی کیا قرار دیا جائے؟ کہ یہ محجور ہی ہے، محجور ہی ہے۔ تو اس صورت میں تو لوگوں کا نقصان ہو گا، لوگ دیکھیں گے کہ آقا نے بھی اس کو دیکھ لیا اور روکا نہیں۔ معلوم ہوا آقا کی طرف سے کیا ہے؟ اجازت، تو وہ اور کھل کر اس کے ساتھ تجارت کریں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور تجارت میں تو آپ جانتے ہیں کبھی سودا نقد ہوتا ہے کبھی ادھار ہوتا ہے، تو غلام پر ادھار ہو جائے گا۔ اس کو ہم اگر اجازت نہ شمار کریں تو سارا ادھار تو غلام پر پڑ گیا اور یہ اب اس غلام کے ذمے ہے آقا نے تو اجازت نہیں دی تھی۔ آقا نے تو اجازت آقا تو اس کا ذمہ دار نہیں ہے، تو لہذا یہ غلام پر پڑے اور غلام کے پاس تو کچھ ہوتا ہی نہیں اس کے پاس تو جو کچھ ہے اس کا مالک کون ہے؟ آقا۔ پھر یہ اس سے کیسے لیا جائے؟ کہتے ہیں پھر ان کو انتظار کرنا پڑے گا کہ کبھی اگر اس کو آزادی مل جائے تو پھر ہم اس سے وصول کریں گے بھئی۔ تو دیکھیے لوگوں کا کتنا نقصان ہو گیا کہ اب ان کا مال پھنس گیا اس کے پاس اور اب وہ انتظار کریں گے کہ اگر وہ آزاد ہو گیا تو پھر ہم اس سے مال وصول کریں گے، اور اگر آزادی نہیں ہوتا پھر تو مال ہی بیچاروں کا سارا چلا گیا۔ تو لہذا لوگوں سے دھوکے کے ضرر کو دور کرنے کے لیے اس آقا کی خاموشی کو ہم نے کیا قرار دیا؟ اجازت قرار دیا، یہ بیان ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے أَوْ ثَبَتَ ضَرُورَةَ دَفْعِ الْغُرُورِ عَنِ النَّاسِ یا لوگوں سے دھوکے کو دور کرنے کی ضرورت کی بنا پر ثابت ہو گا۔ وَهُوَ حَرَامٌ اور وہ دھوکہ حرام ہے۔ دھوکہ حرام ہے تو اس کو دور کرنے کے لیے بیان ماننا پڑے گا۔ كَسُكُوتِ الْمَوْلَى حِينَ رَأَى عَبْدَهُ يَبِيعُ وَيَشْتَرِي جیسے کہ آقا کا خاموش رہنا جس وقت دیکھے وہ اپنے غلام کو کہ وہ بیچ رہا ہے اور خرید رہا ہے فَإِنَّهُ يَصِيرُ إِذْنًا لَهُ فِي التِّجَارَةِ عِنْدَنَا تو یہ اجازت ہو جائے گی اس غلام کے لیے تجارت میں ہمارے نزدیک لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَكُنْ مَأْذُونًا يَتَضَرَّرُ النَّاسُ بِهِ اس لیے کیونکہ اگر وہ ماذون نہ ہو گا تو نقصان اٹھائیں گے لوگ اس کی وجہ سے۔ لوگ ضرر اٹھائیں گے اس کی وجہ سے وَدَفْعُ الْغُرُورِ عَنْهُمْ وَاجِبٌ اور دھوکے کو دور کرنا لوگوں سے واجب، یہ تو واجب ہے۔ وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا يَكُونُ مَأْذُونًا امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، آقا خاموش رہے تو یہ اجازت نہیں کہیں گے اس کو، عبدِ ماذون نہیں بنے گا۔ وہ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ احتمال ہے، ہو سکتا ہے آقا خاموش واقعی اسی لیے رہا کہ اس کی طرف سے کیا تھی؟ اجازت تھی، اجازت دینے کے لیے خاموش رہا۔ یعنی اب رضامندی دکھا بتلانے کے لیے خاموش رہا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انتہائی غصے کی وجہ سے وہ خاموش رہا ہو بھئی۔ انتہا درجے کا اسے غصہ آیا اور اس غصے کی وجہ سے بس وہ خاموش رہا، کچھ بولا ہی نہیں اور چلا گیا بھئی کہ بعد میں اس کو میں کیا کروں گا؟ ٹھیک کروں گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا یہ آقا کا خاموش رہنا یہ صرف رضامندی ہی کی وجہ سے ہو سکتا ہے یا شدید غصے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے؟ تو معلوم ہوا آپ اس کو دلیل بنا رہے ہیں آقا کے راضی ہونے کی اور راضی ہونا یہ تو ایک احتمال ہے، دوسرا بھی احتمال یہاں موجود ہے اور جس چیز کا صرف احتمال ہو اس کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يَكُونُ مَأْذُونًا کہ وہ غلام ماذون نہیں ہو گا لِأَنَّ سُكُوتَهُ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ لِلرِّضَا بِتَصَرُّفِهِ اس لیے کیونکہ اس آقا کا خاموش رہنا یہ احتمال رکھتا ہے کہ وہ اس کے، وہ ہو لِلرِّضَا بِتَصَرُّفِهِ اس غلام کے تصرف پر رضامندی کی وجہ سے، یہ سکوت ہو سکتا ہے اس غلام کے تصرف جو وہ بیع و شراء کر رہا ہے تصرف کر رہا ہے اس تصرف پر رضامندی کی وجہ سے ہو وَأَنْ يَكُونَ لِفَرَطِ الْغَيْظِ اور ہو سکتا ہے کہ شدید، سخت غصے کی وجہ سے ہو، غصے کی زیادتی کی وجہ سے ہو وَالْمُحْتَمَلُ لَا يَكُونُ حُجَّةً اور وہ چیز جس کا احتمال ہے لَا يَكُونُ حُجَّةً وہ دلیل نہیں ہو سکتی۔ أَوْ ثَبَتَ ضَرُورَةَ كَثْرَةِ الْكَلَامِ یا ثابت ہو ضرورة کثرة الکلام، کثرتِ کلام کی ضرورت کی بنا پر۔ أَيْ كَثْرَةِ اسْتِعْمَالِهِ أَوْ طُولِ عِبَارَتِهِ يَدُلُّ عَلَى مَا هُوَ الْمُرَادُ یعنی کثرتِ استعمال یا طولِ عبارت دلالت کرتا ہے کہ کیا مراد ہے بھئی۔ یہ چوتھی قسم آ گئی بیانِ ضرورت کی بھئی۔ کہ وہ بیانِ ضرورت ثابت ہو گا کس بنا پر؟ ضرورة کثرة الکلام کثرتِ کلام کی ضرورت کی بنا پر۔ أَيْ كَثْرَةِ اسْتِعْمَالِهِ أَوْ طُولِ عِبَارَتِهِ یعنی کثرتِ استعمال یا اس کے عبارت کے لمبا ہونے کی وجہ سے یہ دلالت کرے گا عَلَى مَا هُوَ الْمُرَادُ اس چیز پر جو اس سے مراد ہے۔ بھئی دیکھیے، عربی میں ایسا کیا جاتا ہے کہ جب کسی چیز کی تعداد وغیرہ بیان کی جاتی ہے، عدد استعمال کیا جاتا ہے تو جو معدود ہوتا ہے جہاں عطف کی صورت میں کئی عدد ذکر ہوں، تو معدود جو ہے اس کو آخر میں، آخر میں بتلا، ذکر کرتے ہیں۔ کہاں ذکر کرتے ہیں؟ آخر میں ذکر کرتے ہیں عدادوں کا ایک دوسرے پر عطف کر دیتے ہیں اور آخر میں معدود کو ذکر کر دیا جاتا ہے اس۔ مثلاً بھئی، مثلاً میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں ایک ہزار ایک سو بیس کتابیں۔ ایک ہزار ایک سو بیس کتابیں، تو عربی میں میں مثلاً کیسے کہوں گا؟ أَلْفٌ وَمِائَةٌ وَعِشْرُونَ كِتَابًا۔ أَلْفٌ وَمِائَةٌ وَعِشْرُونَ كِتَابًا۔ مِائَةٌ کا عطف میں نے کس پر کیا؟ أَلْفٌ پر، اور پھر عِشْرُونَ کا عطف بھی اسی پر کیا۔ تو اور آخر میں كِتَابًا تمیز کو یعنی معدود کو میں نے ذکر کیا۔ حالانکہ ہونا یوں چاہیے تھا، ہر ہر عدد کے ساتھ تمیز ذکر ہونی چاہیے تھی۔ یوں کہنا چاہیے تھا: أَلْفُ كِتَابٍ وَمِائَةُ كِتَابٍ وَعِشْرُونَ كِتَابًا۔ تاکہ پتہ چلے مِائَةٌ سے کیا مراد ہے؟ مِائَةُ كِتَابٍ، أَلْفٌ سے کیا مراد ہے؟ أَلْفُ كِتَابٍ، اور عِشْرُونَ كِتَابًا۔ تو ہر عدد کے ساتھ تمیز ہونی چاہیے کہ کیا چیز بتلائی جا رہی ہے، کس کو شمار کیا جا رہا ہے؟ لیکن اگر ہر ایک کے ساتھ تمیز کو ذکر کیا جائے تو بات بڑی لمبی ہو جائے گی بھئی، بات لمبی ہو جائے گی۔ اور یہ چیزیں تو کثیر الاستعمال ہیں اور کثرتِ استعمال تقاضا کرتی ہے خفت کا، کہ کیا کیا جائے؟ چیز کو میں تخفیف کی جائے، کمی کی جائے، اس کو ہلکا بنایا جائے۔ تو چنانچہ پھر کیا کرتے ہیں عرب والے؟ وہ معدود کو یا تمیز کو آخری عدد کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ تو عددوں کا عددوں پر عطف ہو جاتا ہے اور آخر والی تمیز سب کے لیے تمیز بن جاتی ہے، سب کا بارے میں بتلا دیتی ہے۔ مثلاً میں نے کہا تھا: أَلْفٌ وَمِائَةٌ وَعِشْرُونَ كِتَابًا، اس آخر والے کتاب نے بتلایا کہ عِشْرُونَ سے تو یہ کتاب مراد ہے ہی، پچھلے مِائَةٌ اور أَلْفٌ سے بھی کتاب ہی مراد ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں دیکھیے، أَلْفٌ کے ساتھ کتاب ذکر نہیں، مِائَةٌ کے ساتھ کتاب ذکر نہیں۔ ان میں تمیز سے خاموشی اختیار کی گئی بھئی۔ خاموشی اختیار کی گئی۔ لیکن اسی کو کیا بنا لیا گیا؟ اسی سکوت کو بیان بنا لیا گیا، کیا قرار دیا گیا؟ بیان قرار دیا گیا۔ کہ آخری عدد کے بعد جو تمیز ہے وہ بتلا رہی ہے کہ آخری عدد سے یہ مراد ہے تو باقیوں سے بھی یہی مراد ہو گا۔ عِشْرُونَ کے بعد کتاب بتلا رہا ہے کہ عِشْرُونَ کیا چیزیں ہیں؟ کتابیں ہیں، تو یہی بتلا رہا ہے کہ معلوم ہوا مِائَةٌ اور أَلْفٌ بھی کیا ہیں؟ کتابیں ہیں۔ تو مِائَةٌ اور أَلْفٌ کے ساتھ تمیز تو نہیں، لیکن اس کو بھی، اس سکوت کو بھی کس کے درجے میں اتار لیا گیا؟ بیان۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: أَوْ ثَبَتَ ضَرُورَةَ كَثْرَةِ الْكَلَامِ یہ ثابت ہو گا کثرتِ کلام کی ضرورت کی وجہ سے أَيْ كَثْرَةِ اسْتِعْمَالِهِ یعنی اس کلام کی کثرتِ استعمال کی وجہ سے، کثرتِ استعمال اس کی تخفیف کا تقاضا کرتی ہے اس لیے اس کو حذف کر لیا جاتا ہے أَوْ طُولِ عِبَارَتِهِ يَدُلُّ یا اس کی لمبی عبارت جو ہے یہ دلالت کرتی ہے عَلَى مَا هُوَ الْمُرَادُ کہ اس سے کیا مراد ہے بھئی، اگر اس کو ذکر کیا جاتا تو عبارت لمبی ہو جاتی تو اس کو کیا کر لیا جاتا ہے؟ حذف کر لیا جاتا ہے، اور پھر یہ، پھر بھی مراد کا علم ہو جاتا ہے كَقَوْلِهِ جیسے کسی شخص کا قول: لَهُ عَلَيَّ مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ۔ كَقَوْلِهِ، یہاں بھئی ایک اور لَهُ ہے آپ کی کتابوں میں؟ نہیں، لَهُ ہونا چاہیے۔ كَقَوْلِهِ، یہ تو قول کے ساتھ ہے قول كَقَوْلِهِ، آگے اگلے کے لیے لَهُ چاہیے ایک بھئی۔ لَهُ عَلَيَّ مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ۔ اچھا بھئی، بھئی یہ تو وہ صورت میں نے ذکر کی مثلاً میں نے کیا کہا: أَلْفٌ وَمِائَةٌ وَعِشْرُونَ كِتَابًا جس میں معطوف بھی عدد ہے، عدد کا عدد پر عطف کیا جا رہا ہے اور تمیز بعد میں آخر میں الگ ذکر ہے۔ لیکن اگر کہیں ایسا مقام آئے جہاں معطوف عدد ہے ہی نہیں، بھئی معطوف علیہ تو ہے عدد اور معطوف بھی کیا ہو؟ عدد ہو، پھر تو بالاتفاق سب سے وہی چیز مراد ہو گی۔ أَلْفٌ وَمِائَةٌ وَعِشْرُونَ كِتَابًا، مِائَةٌ بھی معطوف، عِشْرُونَ بھی معطوف، تو یہاں تو معطوف ہیں ہی عدد۔ اور ایسی جگہ آئے جہاں پر معطوف عدد نہ ہو، مثلاً میں کہتا ہوں: لِفُلَانٍ عَلَيَّ مِائَةٌ وَدِرْهَمٌ۔ ولاک مجھ پر ایک سو اور ایک سو اور درہم ہے۔ تو لہٰذا معطوف علیہ کون مائۃن اور معطوف کون درہم وہ تو عدد نہیں ہیں۔ تو پھر کہتے یاد رکھیے اس صورت میں بھی ہمارے نزدیک یہ مائۃ سے بھی درہم ہی مراد ہوگا۔ مائۃ سے کیا مراد ہوگا؟ درہم۔ اور یاد رکھیے اگے آپ کو ضابطہ بتلائیں گے کہ ہمارے نزدیک ہر اس مقام پر جہاں معطوف سرے سے عدد ہے ہی نہیں۔ مائۃ و درہم معطوف کون بھئی؟ درہم۔ یہاں کوئی عدد ہے ساتھ؟ جہاں معطوف علیہ تو عدد ہو لیکن معطوف میں عدد نہ ہو کوئی چیز وغیرہ ذکر ہو تو ہمارے نزدیک ضابطہ یہ ہے کہ اگر یہ جو بعد میں چیز ذکر ہوئی یعنی جیسے یہاں درہم ذکر ہوا یہ درہم اگر مقیلات و موزونات میں سے ہے تو پچھلے عدد سے بھی یہی مراد ہوگا اگر یہ مقیلات و موزونات میں سے نہیں تو پھر مائۃ سے یہ مراد نہیں ہوگا۔ تو لہٰذا مائۃ و درہم بھئی اس مائۃ سے کیا مراد ہوں گے؟ درہم سے کچھ آپ کو پتہ لگ رہا ہے یا نہیں؟ درہم کس میں سے ہے؟ مقیلات میں سے ہے موزونات میں سے ہے یا ان کے علاوہ ہے؟ یاد رکھیے موزونات میں سے ہے درہم کا باقاعدہ وزن ہوتا تھا اسی طرح دینار کا بھی باقاعدہ وزن ہوتا تھا۔ تو یہ موزونات میں سے اور ہم نے کہا تھا کہ یہاں پر پھر ما قبل سے بھی وہی مراد ہوگا معلوم ہوا یہ جو مائۃ و درہم یہ مائۃ سے بھی کیا مراد ہیں؟ درہم ہی مراد ہیں تو لہٰذا اس شخص پر کتنے درہم واجب ہوں گے؟ ایک سو ایک۔ ایک سو ایک۔ اور تو یہ مقیلات کا بھی یہی حکم موزونات کا بھی یہی حکم لیکن اگر بعد میں جو معطوف ذکر کیا جا رہا ہے وہ مقیلات و موزونات کی قبیل سے نہیں، مثلاً وہ کہتا ہے کوئی شخص کہتا ہے لزید علیۃ مائۃ و ثوب زید کے مجھ پر ایک سو اور ایک کپڑا ہے۔ اب اس صورت میں یہ ثوب نہ مقیلات میں سے ہے نہ موزونات میں سے تو اس صورت میں یہ مائۃ سے بھی ثوب ہی مراد ہوں ایسا نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ مقیلات و موزونات میں سے نہیں ہے۔ تو لہٰذا اس مائۃ سے پھر کیا مراد؟ ایک کپڑا تو اس پر واجب ہو جائے گا مائۃ سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں اسی شخص کی طرف رجوع کیا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا اس سے بتاؤ بھئی اس مائۃ سے کیا مراد ہے۔ تقریباً سمجھ میں آگئی۔ تو خلاصہ کلام کیا ہوا؟ کہ جہاں عدد کے اندر معطوف میں عدد ہو ہی نہ تو وہاں پر اگر وہ مقیلات و موزونات کی قبیل سے ہے تو ما قبل کے معطوف علیہ عدد سے بھی وہی چیز مراد ہوگی اور اگر وہ مقیلات و موزونات میں سے نہیں تو پھر ما قبل کے عدد کے بارے میں اسی شخص سے پوچھا جائے گا کہ تمہاری اس سے کیا مراد ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سب صورتوں میں وہی بعض سب صورتوں میں اسی سے پوچھا جائے گا۔ سب صورتوں میں اسی سے پوچھا جائے گا مائۃ و درہم کہا تو ایک درہم واجب ہوگا اور مائۃ کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا تمہاری کیا مراد ہے۔ مائۃ و ثوب کہا تو بھی ثوب ایک کپڑا واجب ہوگا اور مائۃ کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا تمہاری اس سے کیا مراد ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی۔ بھئی اس کی وجہ کیا ہے؟ کیوں ہم مقیلات و موزونات کے اندر کہتے ہیں کہ ما قبل سے بھی وہی چیز مراد ہے اور باقی چیزوں میں کہتے ہیں کہ وہ چیز مراد نہیں بلکہ پوچھا جائے گا اس سے۔ وجہ یہ ہے کہ مقیلات و موزونات وہ چیزیں ہیں جو جن کے معاملات ہوتے ہیں کثرت سے اور یہ لوگوں کے ذمے بھی باقی رہتی ہیں۔ مقیلات و موزونات جو ہیں یہ لوگوں کے ذمے معاملات میں کثرت سے دوسروں کے ذمے باقی رہتی ہیں۔ مثلاً آپ کا ایک ساتھی آیا آپ کے پاس کہ بھئی 10 کلو چینی مجھے چاہیے اگلے مہینے جب میں خریدوں گا تو مجھ سے پورے 10 کلو آپ لے لینا تو وہ لے گیا اب اس کے ذمے کیا ہے؟ 10 کلو چینی دیکھو وزنی چیز اس کے ذمے میں ہے۔ اور اسی طرح وزن یا اسی طرح درہم و دینار ایک دوسرے کے ذمے باقی ہوتے ہیں یہ بھی کس میں سے ہیں؟ وزنی چیزوں میں سے تو مقیلات و موزونات وہ چیزیں ہیں جو دوسروں کے ذمے میں باقی رہتی ہیں بھئی عام معاملات ہوتے ہیں ان کے اور کثرت سے رہتی ہیں ایک دوسرے کے ذمے میں لہٰذا ان میں ضرورت ہے کثرت استعمال کی وجہ سے کہ تخفیف کی جائے کیونکہ تخفیف کہاں پر کی جاتی ہے؟ کثرت استعمال والے مواقع میں تو اس وجہ سے ان میں ہم کہیں گے کہ چونکہ یہ کثیرالاستعمال ہیں لہٰذا کہنے والے نے کیا کیا؟ مائۃ و درہم کہا کہنا تو چاہیے تھا مائۃ درہم و درہم لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے کیا کر لیا جاتا ہے؟ حذف کر لیا جاتا ہے تو ما قبل میں درہم کو حذف کر لیا اور کہہ دیا مائۃ و درہم بھئی۔ جبکہ جس وقت اس نے کپڑا بیان کیا تو یہ کپڑا یہ یہ تو مختلف انواع ہے شمار کی جانے والی چیز ہے اور یہ عموماً لوگوں کے ذمے باقی نہیں رہتے اس طرح کے معاملات بہت کم ہوتے ہیں صرف عقد سلم میں ایسا ہوتا ہے بھئی کس میں؟ بیع سلم میں۔ صرف بیع سلم میں بیع سلم وہ جس میں آپ بائے کو پیسے آج دیتے ہیں اور وہ مثلاً گندم چھ مہینے بعد دے گا اس وقت وہ گندم مل ہی نہیں رہی تو اس نے کہا چھ ماہ بعد آپ کو ملے گی بھئی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عقد سلم۔ اس میں کپڑا یا کپڑے جیسی چیزیں اس بائے کے ذمے رہ سکتی ہیں لیکن عقد سلم تو بہت قلیل ہوتی ہے باقی بیوعات بہت زیادہ ہیں اس تو لہٰذا وہ اس میں وہ قلیل ہے تو اس میں کثرت استعمال نہیں اور اب کثرت استعمال نہیں تو وہاں تخفیف کی بھی ضرورت نہیں۔ لہٰذا جب اس نے کہا مائۃ و ثوب تو اگر مائۃ سے مراد کپڑے ہی ہوتے تو اسے پھر اس کو ذکر کرنا چاہیے تھا مائۃ ثوب و ثوب۔ پھر ہی سمجھ میں آئی بات کیونکہ تخفیف کب کی جاتی ہے؟ کثرت استعمال تو لہٰذا وہاں ضرورت ہی نہیں ہے کثرت استعمال ہی نہیں ہے کہ اس کو میں تخفیف کی جائے بھئی۔ دلیل سمجھ میں آگئی اچھی طرح۔ او اس کا بات ضرورت کثرت الکلام یا وہ بیان ثابت ہوگا کثرت کلام کی ضرورت کی وجہ سے۔ کثرت کلام کی کیا معنی؟ ای کثرت استعمالہ یعنی اس کلام کے کثرت استعمال کی ضرورت کی بنا پر۔ کثرت استعمال کی وجہ سے کیا کر لیا گیا؟ اس کو حذف کیا گیا ہے لہٰذا اس کا یہ اس کو ذکر نہیں کیا گیا تو بھی یہ بیان کے درجے میں۔ او طول عبارتہ یا اس کی عبارت کے طویل ہونے کی وجہ سے کہ بھئی کثرت استعمال ہے اور بار بار ذکر کریں گے بڑی لمبی عبارت ہوگی لہٰذا اس کو کیا کر لیا گیا؟ حذف کیا گیا تو اس اس وجہ سے اس کو حذف کیا گیا چنانچہ وہ ضرورت کی بنا پر ثابت ہوگا تو یہ جو کثرت استعمال ہے اس کا یا طول عبارت ہونے کی وجہ سے حذف کیا گیا ہے اس یہ جو ہے دلالت کرے گی علی ما ھو المراد کہ اس سے کیا مراد ہے؟ کقولہ لہ علیہ مائۃ و درہم جیسے کسی شخص کا یہ قول کہ فلاں کے مجھ پر ایک سو اور ایک درہم ہے فان العطف جعل بیانا لان المائۃ ایض دراھم۔ بس بلاشبہ عطف جو ہے اس کو بیان بنایا گیا کہ سو بھی دراہم ہی ہیں۔ اس کو بیان بنایا گیا ترجمے پہ نظر رکھنا۔ بیانا لان المائۃ ایض دراھم کس طرح ترجمہ کریں گے؟ بس بلاشبہ عطف کو بیان قرار دیا گیا اس بات کا کہ سو بھی درہم ہی ہوں گے۔ فکان قال لہ علی مائۃ درہم و درہم تو گویا کہ اس نے یوں کہا کہ فلاں کے مجھ پر ایک سو درہم ہیں اور ایک درہم ہے مائۃ درہم و درہم۔ کہا تو اس نے مائۃ و درہم ہے لیکن گویا کس طرح اس نے کہا؟ مائۃ درہم و درہم یعنی معطوف علیہ میں بھی ذکر گویا کیا۔ وانما حذف لطول الکلام او لکثرت الکثرت استعمالہ اور اس کو حذف کیا گیا بھئی کلام کے لمبا ہونے یا کثرت استعمال کی وجہ سے کما یقولون جیسے کہتے ہیں مائۃ و عشرۃ دراہما۔ مائۃ و عشرۃ کہنا تو چاہیے تھا مائۃ درہم و عشرۃ دراھما لیکن ا اور حذف کر لیا جاتا ہے۔ یریدون بہ ان الکل دراھم کہ ارادہ اس کے لیے یہ کرتے ہیں کہ سارے کے سارے دراہم ہیں یعنی مائۃ بھی اور عشرہ بھی۔ وھذا فیما یثبت فی الذمۃ فی اکثر المعاملات اور یہ ان چیزوں میں ہوگا جو ثابت رہتی ہیں ذمہ میں اکثر معاملات کے اندر۔ لوگوں کے ذمے میں اکثر معاملات میں ثابت باقی رہتی ہیں۔ کالمکیل والموزون جیسے مقیلات اور موزونات۔ بخلاف قولہ بخلاف کسی شخص کے اس قول کے لہ علیہ مائۃ و ثوب اگر یوں کہتا ہے ثوب لے کر آتا ہے فلان الثوب لا یثبت فی الذمۃ پس کپڑا جو ہے وہ کسی کے ذمے میں ثابت نہیں ہوتا یعنی کسی کے ذمے میں باقی نہیں رہتا الا فی السلم مگر کس کے اندر؟ بیع سلم میں فلا یکون بیانا تو یہ بیان نہیں بنے گا کس چیز کا بیان؟ لان المائۃ ایضاً اصواب اس بات کا بیان کہ مائۃ بھی کپڑے ہیں۔ فلا یکون بیانا لان المائۃ ایضاً اصواب تو یہ اس بات کا بیان نہیں بنے گا کہ سو سے بھی کپڑے ہی مراد ہیں۔ بل یرجع الی القائل فی تفسیرہ بلکہ رجوع کیا کیا جائے گا کہنے والے کی طرف اس کی تفسیر میں۔ وقال شافعی رحمہ اللہ تعالی المرجع الیہ فی تفسیر المائۃ فی جمیع المواضع کہ رجوع کیا جائے گا اس شخص کی طرف مائۃ کی تفسیر میں تمام جگہوں کے اندر چاہے مقیلات و موزونات ہوں یا اور چیز ہو سب میں اس کی طرف رجوع کریں گے کہ مائۃ سے تمہاری کیا مراد ہے۔ فیجب فی المثال الاول ایضاً درہم تو پس واجب ہوں گے پہلی مثال کے اندر بھی پہلی مثال کے اندر بھی کیا واجب ہوگا ان کے نزدیک؟ درہم ایک تو ایک تو درہم واجب ہوگا و من المائۃ ما بینہ اور سو سے وہ چیز جس کو وہ بیان کریں۔ ایک درہم اور دوسری وہ چیز جس کو وہ بیان کریں مائۃ سے۔ وقد ذکرنا فرقہ اور تحقیق ہم نے دونوں میں فرق ذکر کر دیا۔ دونوں میں کیا کیا؟ فرق کہ مقیلات و موزونات ان میں ضرورت ہے کثرت استعمال کی وجہ سے اور دوسری چیزوں میں ضرورت نہیں ہے۔ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں۔ حاصل کلام یہ کہ اگر معطوف کے اندر بھی عدد ساتھ ذکر ہو۔ معطوف میں بھی عدد ساتھ ذکر ہو الف ومائۃ وعشرون کتاباً تو عشرون کتاباً یہاں پر بھی دیکھو عدد ساتھ ذکر ہے تو اس صورت میں تو بالاتفاق سب سے کیا مراد لیں گے؟ وہی کتاب ہی مراد لیں گے ما قبل والوں سے بھی لیکن اگر معطوف میں عدد ذکر نہیں مثلاً مائۃ و درہم تو یہ دیکھو درہم کے ساتھ کوئی عدد ذکر نہیں۔ تو اس صورت کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک درہم واجب ہوگا اور مائۃ کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا کیا مراد ہے ہر صورت میں اسی سے پوچھا جائے گا بھئی۔ چاہے یہ درہم یہ ما بعد والا چاہے مقیلات میں سے ہو موزونات میں سے ہو یا ان کے علاوہ سے جبکہ ہمارے نزدیک اگر یہ اخر میں جو ذکر ہے معطوف جو ذکر ہے اگر یہ مقیلات و موزونات کی قبیل سے ہے تو ما قبل کے عدد سے یہی مراد لیں یہی مراد ہوگا کیونکہ یہ معاملات کثیر ہیں بھئی اور کثرت استعمال صفت کا تقاضا کرتی ہے اس لیے اس کو حذف کر دیا گیا۔ لیکن اگر یہ معطوف جو ہے وہ مقیلات و موزونات کی قبیل سے نہ ہو مثلاً وہ کہتا ہے مائۃ و ثوب تو اس صورت میں ثوب نہ مقیلات میں سے نہ موزونات میں سے لہٰذا مائۃ سے بھی یہی ثوب مراد ہوں ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ اب اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے کیا مراد ہے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ او بیان تبدیل یا وہ کیا ہوگا بیان تبدیل ہوگا یہ پانچویں قسم آ گئی بیان کی۔ عطف علی قولہ بیان ضرورت یہ عطف ہے مصنف کے قول بیان ضرورت پر وھو النقص فی اللغۃ اور وہ عربی زبان میں نسخ کو کہتے ہیں بھئی۔ بیان تبدیل کسے کہتے ہیں؟ نسخ کو قال اللہ تعالی اللہ تعالی فرماتے ہیں و اذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ اور جس وقت ہم بدل دیں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت ثم قال پھر اللہ نے فرمایا ما ننسخ من ایۃ او ننسھا جو بھی کوئی آیت ہم منسوخ کر دیں او ننسھا یا اسے بھلا دیں۔ جو بھی آیت ہم منسوخ کر دیں یا اسے بھلا دیں تو اس سے بہتر یا اس کی مثل ہم نازل کر دیتے ہیں۔ فعُلما پس جان لیا گیا کہ انھما واحد کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ بھئی بات چل رہی ہے بیان تبدیل کی ماتن نے بتلایا کہ بیان تبدیل عربی زبان میں نسخ ہی کو کہتے ہیں چنانچہ بھئی شارح نے بھی دلیل ذکر کر دی کہ قرآن میں اللہ ایک جگہ فرماتے ہیں و اذا بدلنا دیکھو بدلنا تبدیل کے لفظ کو ذکر کیا اور دوسری جگہ ذکر ہے ما ننسخ من ایۃ وہاں نسخ ذکر ہے معلوم ہوا دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ فعُلما انھما واحد پس معلوم ہوا کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں یعنی تبدیل اور نسخ و معنی بیان تبدیل اور بیان تبدیل کا معنی یہ ہے کہ انہ بیان من وجہ وتبدیل من وجہ یہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں اعتراض یہ کہ تبدیل کا تو مطلب ہے کسی چیز کو بدل دینا۔ نسخ میں ایک حکم کی جگہ دوسرا حکم آ گیا پہلا حکم کیا ہوا ختم نیا حکم آ گیا تو یہاں تو نسخ ہے بدلنا ہے بیان کہاں سے ہے بھئی؟ بیان تو اسی کو کہتے ہیں نا جو پہلے کے بارے میں کیا ہو تفصیل آ جائے۔ بیان تو اسی کو کہتے ہیں یہاں بیان کہاں سے ہے یہاں تو صرف تبدیل ہی ہے تو وہ اب بتلانے لگے ہیں کس طرح بیان ہے اور یہ کس طرح تبدیل ہے۔ کہتے ہیں و معنی بیان تبدیل اور بیان تبدیل کا معنی یہ ہے کہ انہ بیان من وجہ وتبدیل من وجہ یہ بیان ہے من وجہ اور تبدیل ہے من وجہ بعض اعتبارات سے یہ بیان ہے اور بعض اعتبارات سے دیکھا جائے تو یہ تبدیل ہے علی ما قال بنابر اس کے جو مصنف نے فرمایا وھو بیان لمدد الحکم المطلق الذی کان معلوما عند اللہ لا انہ اطلقه فصار ظاھرہ البقاء فی حق البشر۔ بھئی دیکھیے بیان یہ کریں گے کہ ایک مثلاً ایک حکم پہلے تھا۔ مثلاً ابتداۓ اسلام میں شراب حلال تھی۔ شراب حلال تھی۔ اور اللہ نے اس کو حلال رکھا اس کے حرمت کا حکم نازل نہیں فرمایا تو بظاہر یوں لگتا تھا کہ شاید یہ حکم ہمیشہ اسی طرح رہے گا۔ لیکن پھر شراب کی حرمت کا حکم آیا تو پہلا حکم منسوخ ہو گیا تو ہمارے اعتبار سے تو یہ منسوخ ہوا حکم بدل گیا تو حکم پہلا حکم منسوخ ہوا۔ لیکن کہتے ہیں یہ شارح یعنی اللہ کی نسبت کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ بیان تھا۔ یہ اللہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا تھا؟ بیان تھا یعنی اللہ تو ہم تو یہ سمجھ رہے تھے یہ والا حکم ہمیشہ رہے گا لیکن اللہ کے علم میں تو تھا اللہ تو جانتے تھے کہ یہ والا حکم میں نے اتنے عرصے کے بعد اس کو ختم کر کے نیا حکم میں دوں گا۔ ابتدائی اسلام کا زمانہ ہے ایک دم سختی کے ساتھ تمام احکام نہیں آئے بلکہ بتدریج احکام آتے رہے بھئی تاکہ ان کو تاکہ بوجھ نہ بنے کسی کے لیے بھئی صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو لہٰذا ہمارے اعتبار سے تو یہ تبدیل ہے لیکن اللہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ بیان ہے گویا اللہ کی طرف سے یہ بیان آ گیا کہ یہ جو پچھلا حکم تھا یہ آج تک تھا بس یہ کیا تھا؟ آج تک تھا اب یہ نیا حکم آ رہا ہے اب وہ پچھلا نہیں ہوگا بلکہ یہ نیا حکم ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو وہ شارع کی نسبت سے بیان ہے ہماری نسبت سے نسخ ہے۔ شارع کی نسبت سے بیان کس طرح ہے؟ کہ اللہ کی طرف سے بیان آ گیا کہ یہ حکم اتنا تھا اس زمانے تک تھا اب اس کی میعاد ختم ہو گئی اب نیا حکم ہے اس پر عمل کرو۔ تو کہتے ہیں وھو بیان لمدد الحکم المطلق یہ جو ہے بیان تبدیل یہ بیان ہے حکم کی مدت کا یہ بیان ہے حکم وہ حکم جو مطلق ہے تو یہ بیان ہے اس مطلق حکم کی مدت کا الذی کان معلوماً عند اللہ جو اللہ کے نزدیک معلوم تھا اللہ کو تو علم تھا کہ وہ کب اس کو کیا کریں گے؟ کب تک کے لیے یہ حکم ہے لیکن ہمیں تو علم نہیں تھا ہم تو کیا سمجھ رہے تھے شاید یہ حکم ہمیشہ اسی طرح رہے گا بھئی۔ تو یہ اس کی مدت کو بیان کرنا ہے الا انہ اطلقه مگر یہ کہ اللہ نے اس کو مطلق رکھا۔ پہلے حکم کو کیا رکھا تھا؟ کیا پہلے بتلایا گیا تھا کہ یہ شراب اس وقت حلال ہے اور اتنے سال تک حلال رہے گی؟ کیا یہ بتلایا گیا تھا؟ نہیں۔ پہلے مطلق رکھا گیا تھا اس وجہ سے ہم سمجھے کہ شاید ہمیشہ کے لیے ہے۔ إلّا أنّه أطلقه مگر یہ کہ شارع نے اس کو مطلق چھوڑا تھا فصار ظاهره البقاء في حق البشر فصار یعنی فصار المنسوخ فصار المنسوخ ہو گیا وہ منسوخ۔ ابھی بات پوری نہیں ہوئی۔ صَارَ کس میں سے ہے؟ افعالِ ناقصہ میں سے۔ یہ ایک اسم چاہتا ہے اور ایک خبر، تو منسوخ اس کا اسم ضمیر اس کو راجع، تو وہ جو منسوخ تھا وہ ہو گیا کیا ہوا؟ ظاهره البقاء في حق البشر اس کا ظاہر اس کا ظاہر کیا ہوا؟ في حق البشر بندوں بقاء بندوں کے حق میں۔ اس کا ظاہر بندوں کے حق میں بقاء ہو گیا۔ توجہ سے سن لیں بھئی۔ فصار المنسوخ ظاهره البقاء في حق البشر، یہ ظاهره البقاء في حق البشر یہ پورا جملہ ہے اور یہ صَارَ کے لیے خبر بن رہا ہے۔ یہ صَارَ کے لیے خبر، تو وہ جو منسوخ تھا وہ ہو گیا اس طور پر کہ اس کا ظاہر وہ بقاء تھا حق البشر بندوں کے حق میں۔ بھئی معنیٰ یہ، اللہ نے اس کو جس کے اللہ کو تو معلوم تھا کہ اس حکم کو میں نے اس وقت جا کر منسوخ کرنا ہے اور نیا حکم نازل کرنا ہے، اس کی مدت اتنی ہے اس حکم کی۔ لیکن ہمیں تو یہ معلوم نہیں تھا ہمارے اعتبار سے ہمیں تو وہ ہم نے تو اس کو مطلق دیکھا بھئی، ہمیں تو اس کی مدت کا پتہ نہیں تو مطلق رکھا تھا اللہ نے، مدت بیان نہیں کی تھی، اللہ البتہ اللہ کے علم میں تھا کہ کب تک اس کی مدت ہے، تو جب اللہ نے اس کو مطلق رکھا تو یہ جس کو اب منسوخ کیا جا رہا ہے نئے حکم کے لیے، یہ جو منسوخ ہے ہمارے حق میں کس طرح ہو گیا؟ اس کا ظاہر اسی طرح ہو گیا کہ یہ باقی رہے گا ہمیشہ کے لیے، جب یہ مطلق جب اس کے ساتھ مدت بیان نہیں کی گئی کیا رکھا گیا اس کو؟ مطلق رکھا گیا، تو ہمارے حق میں کیا بات ظاہر ہوئی؟ ہمیں کیا معلوم ہو رہا تھا اس سے؟ کہ یہ شاید ہمیشہ رہے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنیٰ ہے کہ إلّا أنّه أطلقه مگر یہ کہ اللہ نے اس کو مطلق رکھا تھا فصار ظاهره البقاء في حق البشر تو وہ جو منسوخ تھا اس کا ظاہر وہ بندوں کے حق میں بقاء ہوئی بھئی، اس کے اس کا ظاہر کیا ہوا؟ کہ یہ باقی رہے گا، اس میں ہمیشہ اس میں بقاء ہوگی، کس کے حق میں یہ ہوا؟ بندوں کے حق میں اس کا ظاہر بقاء بن گیا۔ يعني أن الله تعالى أباح الخمر مثلاً یعنی اللہ تعالیٰ نے مباح فرمایا شراب کو مثال کے طور پر في أول الإسلام ابتدائے اسلام میں وكان في علمه اور یہ بات اللہ کے علم میں تھی کہ أن يحرمها بعد مدة البتّة کہ اللہ اس کو حرام قرار دے دیں گے کچھ مدت کے بعد یقینی طور پر ولكن لم يقل منا إني أبیح الخمر إلى مدة معينة لیکن اللہ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا کہ میں شراب کو مباح کرتا ہوں اتنی معین مدت تک، یہ ہم سے نہیں فرمایا بل أطلق الإباحة بلکہ اباحت کو مطلق رکھا فكان في زعمنا أنه تبقى هذه الإباحة إلى يوم القيامة تو پس ہمارے گمان میں یہ تھا کہ شاید یہ اباحت جو ہے یہ باقی رہے گی قیامت کے دن تک ثم لما جاء التحريم بعد ذلك مفاجأة پھر جب اس کے بعد تحریم آ گئی حرام قرار دیا گیا، تحریم کا معنیٰ حرام قرار دینا، پھر اس کے بعد جب تحریم آ گئی مفاجأة اچانک فكان تبديلاً في حقنا تو یہ ہمارے حق میں تبدیل ہوا، اگلے متن میں ہے بياناً محضًا في حق صاحب الشرع اور بیانِ محض ہوا کس کے حق میں؟ صاحبِ شرع یعنی اللہ کے حق میں، ان کی یہ کی طرف سے بیان ہے۔ لأنه بدل الإباحة بالحرمة اس لیے کیونکہ اللہ نے ہمارے حق میں تبدیل اس لیے کیونکہ اللہ نے بدل دیا اباحت کو حرمت کے ساتھ وبياناً محضًا في حق صاحب الشرع اور یہ بیان ہے یہ صاحبِ شریعت کے حق میں لميعاد الإباحة الذي كان في علمه اس اباحت کی مدت کو جو کہ اس کے علم میں تھی شارع کے شارع کے حق میں یہ بیان کرنا ہے اس مدت کو جو اس کے علم میں تھی۔ اس مدتِ اباحت کو جو اس کے علم میں تھی فكونه بياناً في حق الله تعالى تو اس کا بیان ہونا جو ہے وہ اللہ کے حق میں ہے وكونه تبديلاً في حق البشر اور اس کا تبدیل ہونا وہ بشر کے حق میں ہے وهذا بمنزلة القتل اور یہ قتل کے درجے میں ہے إذا قتل إنسان إنساناً جب کوئی انسان کسی انسان کو قتل کرے۔ جب کوئی انسان کیا کرے؟ کسی انسان کو قتل جی۔ تو یہ بیانِ تبدیل اس قتل کے درجے میں ہے، اس قتل کی طرح ہے إذا قتل إنسان إنساناً جب کوئی انسان کسی کو قتل کرے۔ فإنه بيان لمدة المقدرة في علم الله تعالى تو بس یہ جو قتل کیا اس نے یہ بیان ہے لموته المقدرة اس کی اس موت کا جو مقدر تھی في علم الله تعالى اللہ کے علم، اللہ کو تو معلوم تھا اس کے اتنی ہی مدت ہے زن زندگی اتنی ہی ہے، تو یہ بیان ہوا وہ اس موت کے وقت کا جو مقدر تھی اللہ کے علم میں۔ جب قتل کر دیا زندگی ختم ہوئی اور اللہ کے علم میں بھی تھا اس وقت اس کی زندگی ختم ہو جائے گی، اللہ نے مقرر ہی اتنی فرمائی تھی۔ تو ال تو یہ گویا کیا آ گیا اللہ کی طرف سے؟ بیان آ گیا، اس شخص کی زندگی ہم نے اتنی رکھی تھی، اج ختم ہو گئی اس کی زندگی، ہم نے رکھی اتنی تھی۔ لیکن تبديل في حق الناس یہ لوگوں کے حق میں کیا ہے؟ تبدیل ہے لأنهم يظنون لوگ تو یہ گمان کرتے ہیں کہ أنه لو لم يقتل لم يقتل لعاش إلى مدة أخرى اگر اسے قتل نہ کیا جاتا تو یہ دوسری مدت تک زندہ رہتا، لوگ تو یہ سمجھتے ہیں اگر یہ قاتل قتل نہ کرتا تو اس نے ابھی بھی زندہ ہونا تھا۔ یہ لوگ گمان کرتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں، اس کی زندگی تھی اتنی ہاں قاتل اس کے لیے ختم کرنے کا سبب بن گیا۔ تو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر اس کو قتل نہ کیا جاتا تو لعاش یہ زندہ رہتا إلى مدة أخرى دوسری مدت تک فقد قطع القاتل عليه أجله تو تحقیق لوگ یہ گمان کرتے ہیں لوگ کے قاتل نے کاٹ دی اس پر اس کی مدت یعنی اس کی عمر کیا کر دی؟ ختم کر دی ولهذا يجب عليه القصاص والدية في الدنيا والعقاب في الآخرة اور اسی وجہ سے قاتل پر قصاص اور دیت واجب ہوتی ہے دنیا کے اندر اور عقاب ہوتا ہے آخرت میں، کیونکہ لوگوں کے نزدیک لوگوں کو تو کیا گمان ہے؟ اس نے اس کی زندگی ختم کر دی۔ تو یہ تبدیل ہے لوگوں کے حق میں اور بیان ہے اللہ کے حق میں وهو جائز عندنا بالنص الذي تلونا قبل ذلك بحث کس کی چل رہی ہے؟ بیانِ تبدیل۔ بیانِ تبدیل۔ بیانِ تبدیل کی تعریف ذکر کر دی اب اس کا جواز ذکر کر رہے ہیں کہ یہ جائز ہے یعنی یہ جو نسخ، یہ جائز ہے اور اس کے بعد اس کا محل ذکر کریں گے کہ کس مقام پر نسخ ہو سکتا ہے اور کس مقام پر نسخ نہیں ہو سکتا، اس کے بعد اس کی شرط ذکر کریں گے، پھر اس کے بعد ناسخ کی بحث ذکر کریں گے اور آخر میں منسوخ کی بحث ذکر کریں گے، تو اب یہ دوسری بات ذکر کرنے لگے ہیں کہ وہو جائز عندنا بالنص الذي تلونا قبل ذلك اور یہ نسخ یعنی یہ تبدیل یہ جائز ہے ہمارے نزدیک اس نص کی وجہ سے جو تلونا قبل ذلك جو تلاوت کی ہم نے اس سے پہلے۔ کونسی ایت بھئی؟ وإذآ بدلنآ وإذا بدلنا اور دوسری ایت کونسی تھی؟ ما ننسخ من آية بھئی۔ تو یہ جائز ہے ہمارے نزدیک اس نص کی وجہ سے جو ہم نے اس سے پہلے تلاوت کی خلافاً لليهود بخلاف یہود کے لعنہم اللہ تعالیٰ ان پر اللہ کی لعنت ہو ف إنهم يقولون اس لیے کیونکہ وہ کہتے ہیں تلزم منه سفاهة الله والجهل بعواقب الأمور کہ اس سے لازم آتا ہے اس سے لازماتی ہے اللہ کی ناسمچھی اور جہالت امور کے انجام سے۔ اس سے تو یہ سمجھ میں اگر نسخ وہ کہتے ہیں نسخ نہیں ہو سکتا، اگر نسخ مانا جائے تو اس صورت میں یہ خالق کی طرف ناسمچھی کی نسبت کرنا لازم ائے گا، کہ معلوم ہوا خالق خالق کو پہلے پتہ نہیں تھا ایک بات کا اور پھر بعد میں کچھ چیزوں کا دیکھا تو کہ یہ حکم تو اس طرح نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس طرح ہونا چاہیے۔ اور نیز اس میں خالق کی طرف جہل کی نسبت کرنا لازم ائے گی کہ خالق کو چیزوں کے انجام کا پتہ نہیں کہ اگے چل کر کس طرح ہو گا۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ تو وہ کہتے ہیں اس وجہ سے نسخ درست نہیں ہے، خالق کی طرف سے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ف إنہم يقولون پس وہ یہ کہتے ہیں تلزم منه کہ اس نسخ سے لازم ائے گی سفاهة الله اللہ کی ناسمچھی والجهل بعواقب الأمور اور جہالت بعواقب الأمور چیز امور کے انجامِ کار سے، امور کے انجام سے جہالت لازم ائے گی۔ وهو لا يصلح للإلوهية اور یہ الوہیت کے لائق نہیں ہے، معبود ہونے کے یہ لائق نہیں کہ یہ چیزوں کی نسبت اس کی طرف کی جائے اللہ کی طرف۔ وغرضهم من ذلك اور ان کی غرض اس سے یہ ہے، بھئی وہ یہ ویسے نہیں کہہ رہے، وہ کہہ رہے ہیں نسخ ہو ہی نہیں سکتا، دراصل ان کا مقصد اور ہے۔ وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ہماری شریعت یعنی یہود کی شریعت جو وہ کہہ رہے ہیں ہماری شریعت یہ کبھی بھی منسوخ نہیں ہو گی بھئی، یہ منسوخ ہو ہی نہیں سکتی، تو وہ اپنی شریعت کو تا قیامت مؤبد بنانے کے لیے یہ کہہ رہے ہیں۔ یہود نہیں مانتے نا بعد والے انبیاء کو، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نہیں مانتے۔ تو اسی وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں ہماری شریعت مؤبد ہے ہمیشہ رہے گی، نسخ ہو ہی نہیں سکتا اور دلیل کیا بنا رہے ہیں کہ اس صورت میں اللہ کی طرف ناسمچھی اور جہالت کی نسبت کرنا لازم ائے گا، حالانکہ اللہ کی ذات تو اس سے بہت بلند ہے۔ ہم جواب دیں گے بھئی، اگے جواب بھی ذکر کریں گے کہ بھئی نسخ کے اندر اللہ نے بڑے اسرار اور بڑی حکمتیں رکھی ہیں جن کو اللہ ہی جانتے ہیں پورے طور پر، البتہ ایک ظاہری بات جس سے ہر ایک اسانی سے سمجھ سکتا ہے ہم بیان کر دیتے ہیں کہ بھئی بعض اوقات ایک حکم جو ہے وہ لوگوں کے لیے ایک زمانے تک کے لیے مناسب ہوتا ہے، چنانچہ اللہ اس کو پہلے نازل فرماتے ہیں، پھر اس کے بعد دوسرا حکم مناسب ہوتا ہے تو وہ اللہ نازل فرما دیتے ہیں، یہ معنیٰ نہیں کہ اللہ کو پہلے علم ہی نہیں تھا، اللہ کو تو علم تھا۔ جیسے ایک ڈاکٹر بھئی طبیب کیا کرتا ہے؟ مریض کو دیکھتا ہے اور اس کو نسخہ لکھ کر دیتا ہے بھئی، نسخہ لکھ کر دیتا ہے، ماہر ڈاکٹر ہے اور پھر کچھ عرصے کے بعد دوبارہ مریض جاتا ہے تو وہ نسخے کو بدل دیتا ہے، تو کیا اس کا یہ معنیٰ کہ اسے پتہ ہی نہیں کسی چیز کا؟ نہیں بھئی وہ اپنے فن میں مہارت رکھتا ہے، اسے معلوم تھا کہ پہلے اس کو اس دوا کی ضرورت ہے اور اب اس کو دوسری دوا کی ضرورت ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی مخلوق کے لیے احکام نازل فرماتے ہیں جس زمانے میں جس حکم کی ضرورت ہوتی ہے اس کو نازل فرماتے ہیں اور پھر اس کے بعد جب نئے حکم کی ضرورت ان کو ہوتی ہے تو اس پہلے حکم کی جگہ نیا حکم نازل فرما دیتے ہیں بھئی۔ وغرضهم من ذلك اور ان کی غرض اس سے، ان یہود کی غرض اس سے یہ ہے کہ أن لا تنسخ شريعة موسى عليه الصلاة والسلام بشريعة أحد کہ منسوخ نہیں ہوگی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کسی کی بھی شریعت کے ذریعے ويكون دينهم مؤبداً اور ان کا دین مؤبد رہے گا، ہمیشہ رہے گا ونحن نقول اور ہم کہتے ہیں إن الله تعالى حكيم يعلم مصالح العباد وحوائجهم کہ اللہ تعالیٰ کی ذات حکمت والی ہے، وہ جانتے ہیں لوگ بندوں کی مصلحتوں کو اور ان کی ضرورتوں کو فيحكم كل يوم على حسب علمه ومصلحته پس وہ فیصلہ وہ حکم دیتے ہیں ہر روز اپنے علم اور اپنے مصلحت کے اعتبار سے كالطبيب يحكم للمريض بشرب دواء وأكل غذاء اليوم جیسے کہ طبیب جو ہے وہ وہ حکم دیتا ہے مریض کے لیے ایک دوا کے پینے کا اور ایک غذا کے کھانے کا اج کے دن ثم غداً بخلاف ذلك پھر اگلے روز اس کے خلاف کا حکم دیتا ہے فإنه لا يحكم بسفاهته تو پس حکم نہیں لگایا جائے گا اس کے ناسمجھ ہونے کا بل هو عاقل حاذق بلکہ وہ عا بلکہ وہ سمجھدار ہے، ماہر ہے يعطي كل يوم على حسب ما يجد مزاجه فيه وہ دیتا ہے ہر روز اسی کے ب اعتبار سے جو ما يجد مزاج فيه جو اس جسم میں اس مریض کا مزاج پاتا ہے یعنی جو اس مریض کے مزاج کے مطابق ہو وہ اس کو دیتا ہے ہر روز ولم يقل من المريض اور وہ مریض سے یہ نہیں کہتا کہ إني أبدلك غذاء بغذاء أو دواء آخر کہ یہ کہ میں بدلوں گا تمہاری غذا کو دوسری غذا سے یا اس دوا کو دوسری دوا سے بعد میں بدلوں گا، یہ نہیں کہتا پہلے سے بس پہلے ایک چیز لکھ کر دے دیتا ہے اور پھر جب وقت اتا ہے تو اس کو بدل دیتا ہے۔ وقد صح اور تحقیق یہ بات صحیح طور پر ثابت ہے، یہ صحیح ہے یعنی صحیح طور پر ثابت ہے یعنی ہمارے نزدیک بھی یہ صحیح ہے اور یہود کے نزدیک بھی صحیح، یہ اب جواب دے رہے ہیں، یہود کو جواب دیا جا رہا ہے دوسرا۔ کہ تحقیق یہ بات صحیح ہے کہ أن في شريعة آدم عليه الصلاة والسلام كان نكاح الجزء أعني حواء حلالاً کہ حضرت ادم علیہ السلام کی شریعت میں جز کا نکاح یعنی حوا علیہ السلام کا نکاح حلال تھا، کیا تھا؟ حلال تھا۔ بھئی جز، اولاد، اولاد۔ اولاد جس طرح جز ہے اسی طرح حضرت حوا بھی حضرت ادم علیہ السلام کا جز تھیں کہ ان کو حضرت ادم علیہ السلام کی پسلی ہی سے پیدا کیا گیا، لیکن وہ ان پر حلال تھیں چنانچہ انہی سے کیا کیا گیا ان کا نکاح کیا گیا۔ وكذا نكاح الأخوات للأخ حلالاً اور اسی طرح بھئی بہنوں کا نکاح بھائیوں کے ساتھ یہ حلال تھا، بھئی حضرت ادم علیہ السلام کا جب نکاح ہوا حضرت حوا سے، تو ان سے ہر مرتبہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوتے۔ وہ وہ بیٹا اور بیٹی وہ تو اپس میں بھئی بہن، ان کا اپس میں تو نکاح حرام لیکن اگلی مرتبہ میں پھر بھئی اور بہن پیدا ہوتے، ان کا بھی اپس میں تو نکاح حرام لیکن اس پہلی مرتبہ پیدا ہونے والے بیٹے کا نکاح بعد میں پیدا ہونے والی بیٹی سے کر دیا جاتا اور پہلی مرتبہ پیدا ہونے والی بیٹی کا نکاح بعد میں پیدا ہونے والے بیٹے سے کر دیا جاتا، تو حالانکہ یہ کیا تھے؟ اپس میں بھئی بہن تھے، تو یہ حلال تھا۔ ثم نسخ في شريعة نوح عليه الصلاة والسلام پھر اس کو منسوخ کر دیا گیا حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت میں۔ تو اے یہود! اس بات کو تو تم بھی مانتے ہو جس طرح ہم مانتے ہیں، تم بھی اس بات کو مانتے ہو کہ پہلے یہ ا نکاح حلال تھے، پھر بعد میں ان اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا، تو پھر کس طرح تم اس بات کا انکار کرتے ہو کہ نسخ نہیں ہو سکتا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔