درس نمبر۔95 ولما فرغ المصنف عن بيان المعارضة المشتركة بين الكتاب والسنة شرع في تحقيق أقسام البيان المشترك بينهما فقال: فصل، وهذه الحجج يعني الكتاب والسنة بأقسامها تحتمل البيان، أي تحتمل أن يبينها المتكلم بنوع بيان من الأقسام الخمسة المعلومة بالاستقراء. ولما فرغ المصنف رحمه الله تعالى عن بيان المعارضة المشتركة بين الكتاب والسنة، ورجع المصنف رحمه الله تعالى وفارغوه، وكل معارضة بيان صجم مشترك بين كتاب الله وسنة، شرع في تحقيق أقسام البيان المشترك بينهما، ثم شرعوا في بيان الأقسام التحقيقية المشتركة بينهما، وكان البيان المشترك في كتاب الله وفي سنة وفي أحدهما. فقال: يعني المصنف، فصل، هذا فصل، وهذه الحجج يعني أدلة، يعني الكتاب والسنة، يعني كتاب الله والسنة، بأقسامها تحتمل البيان، يحتمل أن يبينها المتكلم بنوع بيان، يعني يحتمل أن يبينها المتكلم بنوع بيان، من الأقسام الخمسة المعلومة بالاستقراء. بيان کی وہ پانچ اقسام جو استقراء سے معلوم ہوئی ہیں بھئی، استقراء کہتے ہیں تلاش و جستجو۔ یعنی ہم نے تلاش و جستجو کی، چھان بین کی، تو ہمیں پانچ قسمیں ملی ہیں بيان کی۔ تو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ متکلم کیا کر دیتا ہے؟ اپنے کلام کو بيان کرتا ہے بھئی۔ اور پانچ اقسام معلوم ہوئی ہیں استقراء سے بھئی۔ یعنی کہ آگے سب کا ذکر آ جائے گا کہ ایک بيانِ تقریر ہے، ایک بيانِ تفسیر ہے، ایک بيانِ تغییر ہے، ایک بيانِ تبدیل ہے اور ایک بيانِ ضرورت ہے بھئی، سب کو بالتفصیل وہ بیان کریں گے۔ تو کہتے ہیں: وهو إما أن يكون بيان تقرير، کہ وہ بيان يا تو بيانِ تقریر ہوگا۔ تقریر قرر يقرر تقریر، کا معنی ہوتا ہے ثابت کرنا، کیا معنی ہوتا ہے؟ ثابت کرنا۔ دیکھیے یہی معنی کریں گے کہ بيانِ تقریر وهو توكيد الكلام بما يقطع احتمال المجاز أو الخصوص، وہ پختہ کرنا ہے کلام کو ایسی چیز کے ساتھ جو کاٹ دے، ختم کر دے مجاز کے احتمال کو یا خصوص کے احتمال کو۔ یعنی ایسا بيان لے کر آنا جس سے اس کلام کے اندر جو مجاز یا خصوص کا احتمال تھا، وہ احتمال ختم ہو جائے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ بيانِ تقریر کہتے ہیں بھئی۔ بيانِ تقریر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کلام کا ایک ظاہری معنی تھا ظاہری معنی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں مجاز کا بھی احتمال تھا، یہ بيان آ کر کیا کر دیتا ہے؟ مجاز کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے، یا بيان جو ہے وہ کلام جو ہے، وہ عام تھا البتہ اس عام میں تخصیص کا بھی احتمال تھا کہ شاید اس میں سے کچھ افراد کو اس سے نکال دیا گیا ہو، تو یہ آگے بيان آ کر بتلا دیتا ہے کہ یہاں پر تخصیص نہیں ہے، تو اس کے وہی جو ظاہری معنی تھے اسی کو پکا کر دیتا ہے، اسی لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ بيانِ تقریر کہتے ہیں۔ مثلاً بھئی، میں آپ سے کہتا ہوں رأيت أسداً، میں نے ایک شیر دیکھا، اب ایک شیر کا حقیقی معنی ہے وہ جنگلی درندہ اور ایک شیر کا مجازی معنی ہے کہ بہادر آدمی کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ شیر۔ تو اس رأيت أسداً کا تو ایک ظاہری معنی ہے کہ میں نے شیر کو دیکھا لیکن احتمال ہے شاید اس سے میری مراد کہیں بہادر آدمی نہ ہو، یعنی مجازی معنی نہ ہو، میں آگے ایسا لفظ لے آتا ہوں جس سے یہی ظاہری معنی پکا ہو جائے تو اس کو کیا کہیں گے؟ بيانِ تقریر۔ مثلاً میں کہتا ہوں رأيت أسداً يأكل الإنسان، میں نے ایک ایسا شیر دیکھا جو انسان کو کھا رہا تھا، اب یہ يأكل الإنسان سے پتہ چلا کہ شیر سے شیر جنگلی درندہ ہی مراد ہے، بہادر آدمی مراد نہیں ہے۔ تو یہ ہے بيانِ تقریر۔ اور اسی طرح کبھی کہیں تخصیص کا احتمال ہوتا ہے، بيانِ تقریر آ کر اس تخصیص کے احتمال کو ختم کر دیتا ہے۔ مثلاً، میں آپ سے کہتا ہوں کہ مثلاً درجہ رابعہ والے ہر طالب علم کو انعام دیا جائے بھئی، درجہ رابعہ والے ہر طالب علم کو انعام دیا جائے۔ اب اس میں احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ شاید بعض کی تخصیص ہو، ان کے لیے یہ حکم نہ ہو کہ ان کو بھی انعام دیا جائے، لیکن میں آگے لفظ لے آتا ہوں جو اس احتمال کو ختم کر دیتا ہے تخصیص کے، مثلاً میں نے کیا کہا؟ درجہ رابعہ والوں کو انعام دیا جائے، سب کے سب کو۔ دیکھو، یہ سب کے سب جو لفظ میں لے آیا، اس نے تخصیص کے احتمال کو کیا کر دیا؟ ختم کر دیا کہ معلوم ہوا سب کا یہی حکم ہے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ بيانِ تقریر کہیں گے بھئی۔ فالأول مثل قوله تعالى، پس پہلا جو ہے اس کی مثال جیسے کہ اللہ کا یہ قول ہے، اس کی مثال، پہلا کون بھئی؟ جس میں بيانِ تقریر آ کر مجاز کے احتمال کو ختم کرے۔ ایک صورت یہ ہے نا کہ مجاز کے احتمال کو ختم کرے، ایک صورت یہ ہے کہ خصوص کے احتمال کو ختم کرے، تو پہلی کون سی صورت ہے جس میں مجاز کے احتمال کو وہ ختم کرے۔ فالأول مثل قوله تعالى، پس پہلا جو ہے وہ اللہ کے اس قول کی مثال ہے ولا طائر يطير بجناحيه، اور نہ کوئی پرندہ، ایسا پرندہ يطير بجناحيه، جو اڑتا ہو اپنے پروں سے، جو اڑتا ہو اپنے پروں سے۔ اب طائر لفظ آیا طائر، ایک تو اس کا ظاہری معنی کس کو کہتے ہیں؟ پرندے کو، اور ایک مجازی معنی کہ جو انسان تیز رفتار ہو، اس کو بھی کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ طائر کہہ دیا جاتا ہے، جس طرح پرندہ تیزی سے بھئی سفر کرتا ہے، اور اسی طرح بعض انسان بھی اگر کسی کام میں تیز ہوں تو کیا کہہ دیتے ہیں؟ اس کو طائر کہہ دیا جاتا ہے۔ لیکن تو اس میں یہ احتمال تھا مجاز کا، تو آگے يطير بجناحيه، اس نے کیا کیا؟ اس مجاز کے احتمال کو ختم کر دیا، معلوم ہوا اس سے وہ پرندہ ہی مراد ہے جس کے پر ہوتے ہیں بھئی۔ ولا طائر يطير بجناحيه، اور نہ کوئی ایسا پرندہ جو اڑتا ہو اپنے دو پروں سے۔ فإن قوله طائر يحتمل المجاز بالسرعة في السير، پس اس لیے کیونکہ اللہ کا قول طائر وہ احتمال رکھتا ہے کس کا؟ مجاز کا بھی بالسرعة في السير، کس کے ساتھ؟ سیر یعنی चलने میں سرعت کے ساتھ۔ چلنے میں جو سرعت کے مجاز کا بھی اس میں احتمال ہے، یعنی چلنے میں تیزی مراد ہو، کوئی آدمی جو تیزی سے چلنے والا ہے شاید وہ مراد ہو۔ كما يقال للبريد طائر، جیسے کہا جاتا ہے پیغام پہنچانے والے کو طائر بھئی، پیغام پہنچانے والے کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ طائر کہہ دیتے ہیں کہ وہ تیزی سے پیغام پہنچاتا ہے۔ فقوله يطير بجناحيه يقطع هذا الاحتمال، پس اللہ کا قول يطير بجناحيه یہ ختم کر دیتا ہے اس احتمال کو، تو یہ يطير بجناحيه یہ کیا ہوا؟ بيانِ تقریر ہوا۔ تو یہ اس احتمال کو ختم کر دیتا ہے ويؤكد الحقيقة، اور حقیقت کو پکا کر دیتا ہے، پختہ کر دیتا ہے۔ والثاني مثل قوله تعالى، اور دوسرا، دوسرا کون سا تھا بھئی؟ جو خصوص کے احتمال کو ختم کرے۔ تو کہتے ہیں والثاني، اور دوسرا جو ہے مثل قوله تعالى، اللہ کے اس قول کی مثال ہے فسجد الملائكة كلهم أجمعون. فإن الملائكة جمع شامل لجميع الملائكة، پس بے شک ملائکہ کا لفظ جو ہے وہ جمع ہے، شامل ہے وہ سارے ملائکہ کو، ولكن يحتمل الخصوص، لیکن یہ خصوص کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ شاید کچھ فرشتے وہ اس سے خارج ہوں، انہوں نے سجدہ نہ کیا ہو۔ فأزيل بقوله كلهم أجمعون هذا هذا الاحتمال، پس زائل کر دیا گیا اللہ کے قول كلهم أجمعون کے ذریعے اس، هذا الاحتمال، پس زائل هذا، یہ نائب فاعل ہے اس کو مرفوع پڑھیں، پس زائل کر دیا گیا اللہ کے قول كلهم أجمعون کے ذریعے اس احتمال کو وأكد العموم، اور عموم کو پکا کر دیا گیا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ تو یہ كلهم أجمعون نے خصوص کے احتمال کو ختم کیا، تو یہ کیا ہے؟ بيانِ تقریر ہے۔ أو بيان تفسير، یا وہ بيان بيانِ تفسیر ہوگا، كبيان المجمل والمشترك، جیسے کہ مجمل اور مشترک کا بیان، مجمل وہ بھئی جس کا معنی معلوم نہیں۔ مجمل، اجمال کرنے والے کی طرف سے اس کے لیے بیان چاہیے کہ کیا معنی ہے اس کلام کا، تلاش و جستجو سے بھی اس کے معنی کا پتہ نہیں چل سکتا بھئی۔ اور مشترک جس میں کئی معانی کا احتمال ہوتا ہے، تو وہاں بھی کون سا معنی مراد ہے؟ اس کے لیے اگر متکلم کی طرف سے بیان آ جائے تو یہ کیا ہوگا؟ بيانِ تفسیر ہوگا۔ فالمجمل كقوله تعالى، پس مجمل جو ہے جیسے کہ اللہ کا قول ہے وأقيموا الصلاة وآتوا الزكاة، اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ بھئی قرآن میں صرف اتنا آتا ہے نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو، اب نماز کیسے پڑھنی ہے؟ کیا طریقہ ہے اس کا؟ اس کے لیے بیان پھر احادیث سے ملتا ہے، احادیثِ قولیہ اور فعلیہ جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال آتے ہیں اور افعال کا ذکر، ان سے ہمیں نماز کا پتہ چلتا ہے کس طرح پڑھنی ہے، کیسے تکبیرِ تحریمہ ہوگی ہاتھ اٹھا کر اور پھر اس کے بعد قرأت ہوگی، رکوع ہوگا، سجدے ہوں گے وغیرہ، یہ تفصیل اس سے پتہ چلتی ہے، تو وہ کیا ہے؟ بيانِ تفسیر ہے اس کے لیے۔ اسی طرح زکوۃ، زکوۃ ادا کرو، اب کتنی دینی ہے؟ کتنی مقدار ہے؟ کس طریقے سے دینی ہے؟ کب دینی ہے؟ اس کا پتہ پھر کس سے چلتا ہے؟ سنتِ قولیہ اور فعلیہ سے پتہ چلتا ہے۔ تو جیسے وأقيموا الصلاة وآتوا الزكاة فلحقه البيان بالسنة القولية والفعلية، پس مل گیا اس کے ساتھ بیان سنتِ قولیہ اور سنتِ فعلیہ کے ساتھ۔ والمشترك كقوله تعالى، اور مشترک جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ثلاثة قروء بھئی، تین قروء تک عورت کیا کرے؟ اپنے آپ کو روکے رکھے۔ فإن قروءاً لفظ مشترك بين الطهر والحيض، پس بے شک لفظِ قروء جو ہے وہ مشترک ہے طہر اور حیض میں۔ طہر کو بھی کیا کہتے ہیں؟ قروء کا لفظ اس کے لیے بھی آتا ہے اور حیض کے لیے بھی قروء کا لفظ آتا ہے۔ فبينه النبي عليه الصلاة والسلام بقوله، تو بیان کیا اس کو حضور علیہ السلام نے اپنے اس قول کے ساتھ طلاق الأمة سنتان وعدتها حيضتان، کہ باندی کی طلاقیں دو ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہیں۔ اس حدیث سے پتہ چلا کہ باندی کی عدت دو حیض ہیں، اس کا شمار حیضوں سے ہے تو آزاد عورت کی عدت کا شمار بھی کس سے ہونا چاہیے؟ حیض ہی سے ہونا چاہیے، معلوم ہوا قروء سے کیا مراد ہیں؟ حیض مراد ہیں نہ کہ طہر۔ فإنه يدل على أن عدة الحرة ثلاث حيض لا ثلاثة ثلاثة أطهار، پس یہ دلالت کرتی ہے یہ حدیث کہ آزاد عورت کی عدت جو ہیں وہ تین حیض ہیں نہ کہ تین طہر۔ وأنهما يصحان، وإنهما، وإنهما يصحان موصولاً ومفصولاً، اور یہ دونوں، یعنی بيانِ تقریر اور بيانِ تفسیر، یہ دونوں صحیح ہیں موصولاً بھی صحیح ہیں اور مفصولاً بھی۔ موصولاً جو ملایا گیا ہو، مفصولاً جو جدا کیا گیا ہو بھئی۔ بھئی ایک تو یہ ہے کہ بیان اس مبین کے ساتھ ہی ملا ہوا ہو، جس چیز کا بیان ہے اس کے ساتھ ہی بیان ہو، درمیان میں فصل نہ ہو، درمیان میں فصل نہ ہو، اور ایک ہے کہ فصل کے ساتھ ہو یعنی بیان کچھ دیر بعد آیا یا کچھ وقت کے بعد آیا بھئی۔ تو وصل کا معنی کیا ہے؟ ملانا بھئی، تو موصول کا کیا معنی ہوا؟ جو ملایا گیا ہو ساتھ بھئی، اور فصل کا معنی؟ جدا کرنا، تو مفصول کا کیا معنی؟ جو جدا کیا گیا ہو یعنی درمیان میں کچھ وقت ہو، الگ وہ آئے بھئی۔ تو دونوں صحیح ہیں بھئی موصولاً بھی اور مفصولاً بھی، موصولاً آ جائے، یہ دونوں موصولاً بھی آ سکتے ہیں اور مفصولاً الگ بھی آ سکتے ہیں بعد میں۔ وعند بعض المتكلمين لا يصح بيان المجمل والمشترك، ہاں، لا يصح بيان المجمل والمشترك إلا موصولاً، اور بعض متکلمین کے نزدیک لا يصح بيان المجمل والمشترك إلا موصولاً، مجمل اور مشترک کا بیان صحیح نہیں ہے إلا موصولاً، مگر موصولاً یعنی اس کے ساتھ ملا ہوا ہو بھئی۔ ان کے نزدیک مفصولاً نہیں ہو سکتا، وجہ کیا بھئی؟ موصولاً ہونا کیوں ضروری ہے؟ کہتے ہیں لأن المقصود من الخطاب إيجاب العمل، بھئی وہ دلیل دیتے ہیں کہ مجمل اس کے معنی کا بھی پتہ نہیں چلتا جب تک بیان نہ آ جائے اور مشترک اس میں کئی معانی ہوتے ہیں، کا احتمال ہوتا ہے، تو وہاں بھی معنی کا پتہ نہیں چلتا جب تک کیا نہ آئے؟ بیان نہ آئے۔ تو وہ دلیل دیتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے کوئی حکم آیا جو مجمل ہے یا مشترک ہے یعنی اس میں کئی معانی کا احتمال ہے، تو ساتھ ہی اس کا بیان ہونا چاہیے بھئی، کیونکہ حکم دیا جاتا ہے عمل کو واجب کرنے کے لیے تاکہ مکلف پر عمل واجب ہو جائے۔ تو اگر بیان مؤخر ہوا تو حکم تو دیا جا رہا ہے اور انسان اس پر عمل ہی نہیں کر سکتا کیونکہ عمل تو وہ موقوف تھا معنی کے سمجھنے پر اور معنی کا، تو معنی تو سمجھ میں آ ہی نہیں رہا بھئی۔ تو اللہ کی طرف سے جو حکم آئے گا جو خطاب ہوگا، وہ کس لیے ہوتا ہے؟ اس کا مقصد عمل کو واجب کرنا، اور عمل کا واجب عمل تبھی کیا جائے گا جب انسان کو اس کا معنی سمجھ میں آئے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور معنی تو ان کا ویسے پتہ نہیں چلتا، تو لہٰذا اگر بیان مؤخر ہو جائے، بیان کیا ہو جائے؟ مجمل اور مشترک کا بیان مؤخر ہو جائے، تو حکم آ گیا اور انسان اس پر عمل انسان کے لیے اس پر عمل کرنا ممکن ہی نہیں ہے، تو یہ تو ایک ناممکن چیز کا گویا حکم دے دیا گیا، کس چیز کا حکم دے دیا گیا؟ ایک ناممکن چیز کا مکلف بنا دیا گیا کیونکہ معنی ہی نہیں پتہ، معنی پتہ ہوتا تو عمل ممکن ہوتا بھئی، اور یہ نہیں ہو سکتا بھئی۔ یہ ایک چیز ممکن ہی نہ ہو اور اس کو انسان کو اس کا حکم دیا جائے، معلوم ہوا بيانِ تفسیر ہمیشہ کیا ہونا چاہیے؟ موصولاً تو صحیح ہے، مفصولاً صحیح نہیں، دلیل سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لأن المقصود من الخطاب إيجاب العمل، إذن لأن خطاب من مقصود جو ہوتا ہے وہ عمل کا واجب کرنا ہوتا ہے، وذا موقوف على فهم المعنى، اور وہ عمل جو ہے وہ موقوف ہوتا ہے معنی کے سمجھنے پر، الموقوف على البيان، اور وہ معنی موقوف ہوتا ہے کس پر؟ بیان پر۔ فلو جازت تاخیر البیان، اگر بیان کی تاخیر جائز ہو، لادى إلى تكليف المحال، تو البتہ یہ لے جائے گا کس کی طرف؟ ایک محال چیز کا مکلف بنانے کی طرف۔ اگر بیان کوئی تاخیر جائز ہو، بیان کو مؤخر کرنا جائز ہو، تو معنی کا پتہ ہی کب چلے گا؟ بیان سے، اور بیان تو ہے مؤخر، تو اس وقت تو بیان نہیں تو اس وقت ایک معنی کا پتہ ہی نہیں، جب معنی کا پتہ ہی نہیں تو عمل نہیں ہو سکتا، عمل ممکن نہ رہا تو گویا ایک ناممکن چیز کا مکلف بنا دیا گیا انسان کو۔ فلو جازت تاخیر البیان، اگر بیان کو مؤخر کرنا جائز ہو، لادى إلى تكليف المحال، تو البتہ یہ پہنچا دے گا محال چیز کے مکلف بنانے تک، اس کا مکلف بنا دیا جائے گا۔ عربی میں یاد رکھیے لفظ ہے محال اور اردو میں استعمال ہوتا ہے محال بھئی، اردو میں استعمال ہی اب اس طرح ہے رائج ہے، جہاں بھی، جس سے بھی آپ سنیں گے محال لفظ ہی سنیں گے۔ اور ضابطہ میں آپ کو بتلا چکا ہوں بھئی، بلاغت کا مشہور ضابطہ ہے، الغلط الرائج أفصح من الفصيح غير الرائج بھئی، وہ غلط جو رائج ہو جائے وہ بھی زیادہ فصیح ہے اس فصیح کے مقابلے میں جو غیر رائج ہے بھئی۔ و نحن نقول، اور ہم کہتے ہیں، یہ تو بعض متکلمین کی بات چل رہی تھی، انہوں نے کہا تھا بیان مجمل اور مشترک، وہ درست نہیں ہے، مگر کس طرح ہونا چاہیے؟ موصولاً ہی ہونا چاہیے، مفصولاً نہیں ہو سکتا اور دلیل ذکر کر دی۔ و نحن نقول، اور ہم کہتے ہیں، يفيد الابتلاء، کہ یہ فائدہ دیتا ہے آزمائش کا، باعتقاد الحقية، حق ہونے کے اعتقاد کا، حق ہونے کے حق ہونے کے اعتقاد میں مبتلا کرنے کا یہ فائدہ دیتا ہے، في الحال اس وقت، مع انتظار البیان للعمل، ساتھ بیان کے انتظار کے، للعمل عمل کے لیے۔ ہم کہتے ہیں کہ بیان، بیان تفسیری (یعنی مجمل اور مشترک کا بیان، یہ مؤخر بھی ہو سکتا ہے، اور آپ نے جو کہا نا کہ اس وقت تو مکلف بنانا لازم آئے گا ایک محال چیز کا)، تو ہم کہتے ہیں کہ یہ اس وقت اس وقت اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھا جائے گا۔ جب تک بیان نہ آیا، عمل تو ہو نہیں سکتا، تو پھر کیا کیا جائے گا؟ کم از کم یہ تو ہے کہ اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھا جائے گا کہ اللہ کی طرف سے یہ حکم آیا ہے، معنی تو ہمیں نہیں معلوم، لیکن جو بھی معنی ہے، جو بھی حکم ہے وہ برحق ہے۔ تو برحق ہونے کے اعتقاد کے ساتھ کی آزمائش کا فائدہ دے گا اس وقت بھئی، مع انتظار البیان للعمل، ساتھ انتظار کیا جائے گا بیان کا للعمل کس لیے؟ عمل کے لیے بیان کا انتظار کیا جائے گا، اور فی الحال اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھا جائے گا بھئی۔ اور یہ آزمائش ہے مولانا، یہ بھی کیا ہے؟ آزمائش ہے کہ کون اس پر عمل کرتا ہے اور کون اس پر عمل نہیں کرتا۔ ہماری طرف سے ایک حکم آیا، معنی نہیں معلوم، لیکن کون اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھتا ہے اور کون اس کے برحق ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتا، جیسے عمل کے ذریعے آزمائش ہوتی ہے کہ کون عمل کرتا ہے اور کون عمل نہیں کرتا، تو یہاں پر بھی کس کے ذریعے آزمائش ہے؟ اس کے برحق اعتقاد رکھنے کے ذریعے آزمائش ہے کہ کون رکھتا ہے یا نہیں رکھتا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ و نحن نقول، اور ہم کہتے ہیں، يفيد الابتلاء باعتقاد الحقية في الحال مع انتظار البیان للعمل، کہ یہ فائدہ دیتا ہے آزمائش کا، فی الحال اس کے برحق ہونے کے اعتقاد کے ساتھ، فی الحال، اس کے برحق ہونے کے اعتقاد کے ساتھ مع انتظار البیان للعمل ساتھ عمل کے لیے بیان کے انتظار کے، ولا باس فیه، اور اس میں کوئی حرج نہیں، لأن تاخیر البیان عن وقت الحاجة لا يصح، وأما عن الخطاب فيصح۔ ولا باس فیه، اور اس میں کوئی حرج نہیں، لأن تاخیر البیان عن وقت الحاجة لا يصح، کیونکہ بیان کا مؤخر کرنا ضرورت کے وقت سے لا يصح یہ صحیح نہیں ہے، وأما عن الخطاب فيصح، اور باقی خطاب سے مؤخر کرنا یہ صحیح ہے۔ خطاب تو ہے اس وقت، اس وقت بے شک ساتھ بیان نہ بھی ہو، تو یہ درست ہے، ہاں جس وقت عمل کی حاجت پیش آئے، اس وقت بیان آ جائے گا کیونکہ اس سے مؤخر ہونا اس کا صحیح نہیں، ہاں تو خطاب سے مؤخر ہو سکتا ہے بیان، البتہ حاجت کے وقت سے مؤخر نہیں ہو سکتا، اور اس وقت تو خطاب ہے، خطاب سے مؤخر ہو رہا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مثلاً ایک حکم دیا جا رہا ہے رمضان کے بارے میں، اور رمضان ابھی دور ہے بھئی، ابھی آیا ہی نہیں، تو اس سے پہلے بیان نہ آئے، کوئی حرج نہیں بھئی، ابھی عمل کا زمانہ ہی نہیں آیا، ہاں جب رمضان آ جائے اور پھر بیان نہ ہو، یہ درست نہیں ہے، تو اس وقت تک کیا آ سکتا ہے؟ بیان آ سکتا ہے، تو معلوم ہوا کہ بیان تفسیر جو ہے، وہ موصولاً بھی صحیح ہے اور مفصولاً بھی صحیح ہے۔ و ربما یؤیدنا قوله تعالى: وإذا قرأناه فاتبع قرآنه ثم إن علينا بيانه. فإذا قرأناه، پس جب ہم پڑھیں اس قرآن کو، پس جب ہم اس کو پڑھیں بھئی، پس جب ہم اس کو پڑھیں، یعنی فرشتے کی زبانی، پس جب ہم اس کو فرشتے کی زبانی پڑھیں، فتبع قرآنه، پس آپ اتباع کیجیے اس کے پڑھنے کی، آپ کیا کیجیے اس کے پڑھنے کا کیجیے، کا اتباع کیجیے، ثم إن علينا بيانه، پھر ہمارے اوپر ہے اس کا بیان کرنا بھئی۔ اللہ فرما رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ جب جبریلِ امین آپ کے پاس وحی لے کر آئیں اور آپ کے سامنے وہ پڑھیں، جب وہ اس کو پڑھ لیں، پھر آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کیجیے، اور پھر ہماری ذمہ داری ہے اس کو بیان کرنا۔ حضرت جبریلِ امین جب وحی لے کر آتے، وہ وحی سناتے، حضور علیہ السلام ساتھ ساتھ دل میں پڑھتے جاتے کہ کہیں کوئی لفظ مجھ سے رہ نہ جائے اور یہ نہ ہو یہ چلے جائیں اور کوئی لفظ مجھ سے رہ نہ جائے، چنانچہ وہ پڑھتے، حضور علیہ السلام ساتھ ساتھ دل میں پڑھتے جاتے اور بڑی مشقت میں پڑ جاتے بھئی، بڑی مشقت ہوتی بھئی کہ ادھر سنتے جا رہے ہیں اور ادھر ساتھ ساتھ اس کو دل میں دہرا بھی رہے ہیں، تو کتنا مشکل کام ہو جاتا آپ کے لیے، چنانچہ اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ جب فرشتہ پڑھے، جب وہ پڑھ چکے، پھر اس کے بعد آپ کیا کیجیے؟ اس کے بعد آپ پڑھیے اور فکر نہ کیجیے آپ کے جو خیال ہے، کہیں کوئی لفظ رہ نہ جائے، کہیں بھول نہ جائیں، کہیں بات پوری سمجھ میں نہ آئے، کہیں اس کو بعد میں بیان نہ کر سکیں، یہ سب ہماری ذمہ داری ہے، آپ کے سینے میں وحی کے ایک ایک لفظ کو محفوظ کرنا اور پھر آگے اس کو آپ کی زبان پر جاری کرنا اور اس کے معانی کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا، یہ سب ہماری ذمہ داری ہے بھئی، معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو دیکھیے فإذا قرأناه، پس جب ہم پڑھیں اس کو، یعنی فرشتے کی زبانی، فتبع قرآنه، تو آپ پیروی کیجیے اس کے پڑھنے کی، ثم إن علينا بيانه، پھر ہمارے ذمہ داری ہے اس کو بیان کرنا۔ اب دیکھیے، ثم إن علينا بيانه، ثم آیا اور ثم کس لیے آتا ہے؟ تراخی کے لیے، پھر ہمارے اوپر ہے اس کا بیان کرنا، اس سے پھر، ثم نے بتلایا کہ مطلق بیان بھی، اس میں بھی تراخی ہو سکتی ہے، وہ بھی مؤخر ہو سکتا ہے، مطلق بیان بھئی، اور اسی میں کون داخل ہوگا؟ بیانِ تفسیر بھی داخل ہو گیا، کہ وہ بعض متکلمین کہہ رہے تھے، وہ تو موصولاً تو صحیح ہے، مفصولاً صحیح نہیں، لیکن اس ثم نے بتلایا کہ مطلقاً کوئی بھی بیان ہو وہ وہ مؤخر ہو سکتا ہے، وہ کہ ملا ہوا نہ ہو بلکہ مفصول ہو، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ فإن ثم للتراخي، پس بے شک ثم تراخی کے لیے ہے، وهو يدل على أن مطلق البيان يجوز أن يكون متراخياً، اور یہ دلالت کرتا ہے اس بات پر کہ مطلق بیان جائز ہے کہ وہ مؤخر ہو، لكن خصصنا عنه بيان التغيير، لیکن ہم نے اس سے تخصیص کر دی بیانِ تغییر کی، بھئی اس آیت سے تو یہ پتہ چلا کہ مطلق بیان، وہ اس میں تراخی ہو سکتی ہے، وہ مؤخر ہو سکتا ہے، مفصول ہو سکتا ہے، لیکن ہم نے اس میں سے تخصیص کر دی بیانِ تغییر کی، کہ وہ مفصولاً نہیں، وہ اس میں کیا ضروری ہے؟ موصولاً، آیت سے تو کیا پتہ چلا تھا؟ کہ مطلق جو بھی بیان ہو، وہ مفصول ہو سکتا ہے، مؤخر ہو سکتا ہے، لیکن ہم نے کس کی تخصیص کر دی ان میں سے؟ ایک بیانِ تغییر آگے انے والا ہے، اس کی ہم نے تخصیص کر دی، وہ مفصولاً صحیح نہیں، باقی مفصولاً صحیح ہے، تو یہ ہمارے دعوے کی تایید ہے بھئی، کہ بیانِ تفسیر بھی مؤخر ہو سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں لكن خصصنا عنه بيان التغيير، لیکن ہم نے اسے تخصیص کر دی بیانِ تغییر کی، لما سيأتي اس وجہ سے جو عنقریب آ رہی عنقریب آ جائے گی، فبقیت بيان التقرير والتفسير على حاله، تو باقی رہا بیانِ تقرير اور بیانِ تفسیر اپنے حال پر، يصح موصولا و مفصولا، صحیح ہے وہ موصولاً بھی اور مفصولاً۔ آیت سے کیا پتہ چلا تھا؟ مطلق بیان مؤخر ہو سکتا ہے، اور اس مطلق میں بیانِ تفسیر بھی داخل تھا، بیانِ تقریر بھی داخل تھا، اسی طرح بیانِ تغییر بھی داخل ہو رہا تھا، بیانِ تغییر کو تو ہم نے اس کی تخصیص کر دی، لیکن بیانِ تقریر اور بیانِ تفسیر اسی طرح اندر اس کے اندر داخل رہے اور اس سے پتہ چلا کہ بیان مؤخر ہو سکتا ہے، تو معلوم ہوا موصولاً بھی صحیح اور مفصولاً بھی صحیح۔ او بیان تغییر، یا وہ بیان بیانِ تغییر ہوگا، كتعليق بالشرط والاستثناء، بھئی پہلا بیان تھا بیانِ تقریر، دوسرا بیانِ تفسیر، تیسرا بیان آگیا بیانِ تغییر، كتعليق بالشرط والاستثناء، جیسے معلق کرنا شرط کے ساتھ اور اسی طرح استثناء جو ہے، استثناء، یہ مثال ہیں بیانِ تغییر کی، بیانِ تغییر نام ہی سے واضح ہے بدلنے والا، جو ما قبل کلام کو کیا کر دیتا ہے؟ بدل دیتا ہے، اس میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے، مثلاً دیکھیے بھئی، ایک شخص ہے وہ اپنی بیوی سے کیا کہتا ہے: أنت طالق، آپ کیا فتویٰ دیں گے؟ طلاق ہو گئی۔ لیکن دیکھو اسی کے ساتھ دو لفظ وہ آگے اور ملائے گا، آپ خود ہی مسئلہ بدل دیں گے، اس نے کہا: أنت طالق إن دخلت الدار، تو یہ طلاق ہے، اگر تو اس گھر میں داخل ہوئی، اب آپ کیا کہیں گے؟ طلاق ہو گئی یا معلق ہوئی؟ معلق ہوئی۔ معلق ہوئی، کب واقع ہوگی؟ جب اس گھر میں داخل ہوگی، تو دیکھو، إن دخلت الدار، یہ جو شرطِ مؤخر تھی، اس نے ما قبل کے حکم کو بدل دیا، ما قبل أنت طالق، وہ تو چاہتا تھا کہ طلاق فوری واقع ہو فی الحال ہی، لیکن إن دخلت الدار نے کیا کیا؟ اس کے کو بدل دیا کس سے کہ اور طلاق کو معلق کر دیا، تو یہ ہے بیانِ تغییر۔ اور اسی طرح استثناء ہے بھئی، وہ بھی ما قبل کو بدل دیتا ہے، ما قبل کو، مثلاً میں کہتا ہوں لزيد علي ألف درهم، زید کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں، اس کلام سے کیا پتہ چلا میرے اوپر کتنے واجب ہیں؟ ایک ہزار، لیکن اگر اسی کے ساتھ میں دو لفظ اور جوڑ دوں تو آپ خود کہیں گے کہ معنی میں، ما قبل کا معنی بدل گیا بھئی، مثلاً میں کہتا ہوں لزيد علي ألف درهم إلا مائة، زید کے مجھ پر ایک ہزار درہم ہیں سوائے ایک سو کے، (یعنی ایک سو کم ایک ہزار درہم ہیں)، تو کیا کہیں گے آپ؟ میرے اوپر کتنے واجب ہیں؟ نو سو، تو دیکھو، إلا مائة یہ جو استثناء تھا، اس نے ما قبل کو بدل دیا، تو معلوم ہوا یہ جو شرطِ مؤخر ہے، اور اسی طرح جو استثناء ہے، وہ کیا ہیں؟ بیانِ تغییر ہیں۔ کہتے ہیں و بيان تغير كتعليق بالشرط والاستثناء، اور بیان یا وہ بیانِ تغییر ہوگا، جیسے تعلیق بشروط اور استثناء، فإن الشرط المؤخر في الذكر، اسی کیونکہ وہ شرط جو مؤخر ہو ذکر میں، مثله قوله، جیسے کسی شخص کے قول کی طرح أنت طالق إن دخلت الدار، بيان مغير لما قبله، یہ ایسا بیان ہے جو بدلنے والا ہے اپنے سے ما قبل کو، بدلنے والا ہے اپنے سے ما قبل کو من التنجيز إلى التعليق، تنقیض سے تعلیق کی طرف، تنقیض کا معنی ہے واقع کرنا، اور تعلیق کا معنی ہے معلق کرنا، تو یہ اس کے کلام کو بدل دیتا ہے، ما قبل کو (یعنی بدل دیتا ہے) کس سے؟ تنقیض (یعنی واقع کرنے سے) تعلیق (یعنی معلق کرنے کی طرف)، إذ لو لم يكن قؤ، إذ لو لم يكن قوله إن دخلت الدار يقع الطلاق في الحال، اسی کیونکہ اگر اس شخص کا قول إن دخلت الدار یہ نہ ہوتا، تو يقع الطلاق في الحال تو فی الحال ہی طلاق واقع ہو جاتی، وبإتيان الشرط بعده صار معلقا، اور شرط کے بعد اس کو لانے کی وجہ سے، یہ کیا بن گیا؟ یہ کیا ہو گیا؟ اس کے بعد شرط لانے کی وجہ سے یہ معلق ہو گیا، بخلاف الشرط المقدم، بخلاف اس شرط کے جو مقدم ہو، فإنه ليس كذلك في رأينا، تو بے شک وہ اس طرح نہیں ہے ہماری رائے میں (یعنی وہ بیانِ تغییر نہیں ہے)۔ شرط اگر مقدم ہو، تو وہ بیانِ تغییر نہیں ہے، شرط کو مقدم کریں اسی پر، إن دخلت الدار فأنت طالق، اب تو إن دخلت الدار مقدم ہے، اس نے کسی میں تبدیلی پیدا نہیں کی، اس نے تو اولِ امر سے ہی بتا دیا کہ آگے جو بات آنے والی ہے، وہ کیا ہوگی؟ معلق ہوگی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ و هكذا الاستثناء، اور اسی طرح استثناء ہے فی مثل قوله، کسی شخص کے اس قول کی مثل، له علي ألف إلا مائة، فلاں کے مجھ پر ایک ہزار ہیں إلا مائة، مگر ایک سو، (یعنی ایک سو کم ایک ہزار ہیں)، تو یہ کسی شخص کا یہ جو قول ہے، غير وجوب المائة، اس استثناء نے، اس استثناء نے غير وجوب المائة عن ذمته، اس نے بدل دیا ایک سو کے وجوب کو اس شخص کے ذمہ سے۔ بھाई اب آپ کتنے کہہ رہے ہیں کتنے واجب ہوں گے اس شخص پر؟ نو سو، اور نو سو سے ہزار تک یہ والا جو سو ہے، یہ بھی پہلے واجب تھا، لیکن إلا نے آ کر کیا کیا؟ اس کے وجوب کو ساقط کر دیا، بدل دیا، یہ معنی ہے غیر وجوب المائة عن ذمته، اس نے سو کے وجوب کو بدل دیا اس کے ذمہ سے، ولو لم يكن قوله إلا مائة، اگر اس شخص کا قول إلا مائة نہ ہوتا، لكان الواجب عليه ألفاً بتمامه، تو البتہ اس پر پورے ایک ہزار واجب ہوتے، وإنما يصح ذلك موصولا فقط، اور یہ بیانِ تغییر موصولاً ہی صحیح ہے صرف، یہ صرف موصولاً صحیح ہے، مفصولاً صحیح نہیں بھئی، اوپر بتلایا تھا بیانِ تغییر کو حکم سے نکالا تھا، وہ صرف موصولاً صحیح ہے، مفصولاً صحیح نہیں۔ کیوں وجہ کیا بھئی؟ کہتے ہیں لأن الشرط والاستثناء كلام غير مستقل، اسی کیونکہ شرط اور استثناء وہ کلامِ غیر مستقل ہیں، إن دخلت الدار، یہ کوئی مستقل کلام ہے؟ جب مستقل کلام نہیں تو اکیلا یہ بعد میں آ جائے، یہ اکیلا بعد میں آ ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ مستقل کلام ہی نہیں۔ اور اسی طرح إلا مائة، یہ بھی کیا ہے؟ غیر مستقل کلام ہے، تو صرف یہ مؤخر ہو جائے ایسا نہیں بھئی، کیونکہ یہ پورا کلام ہی نہیں ہے۔ اگر اکیلا آئے گا تو اس کے معنی کا کبھی پتہ ہی نہیں چلے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ إلا مائة بعد میں کوئی کہے، کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا یہ کیا کہنا چاہتا ہے، یا إن دخلت الدار کہے، کچھ پتہ نہیں چلے گا، کس چیز کی وہ معلق کر رہا ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں، یہ اس لیے کیونکہ شرط اور استثناء، وہ ایسا کلام ہے جو مستقل نہیں ہے، "لا يفيد معنى بدون ما قبله"، یہ کسی معنیٰ کا فائدہ ہی نہیں دیتے اپنے سے ماقبل کے بغیر، "فيجب أن يكون موصولا به"، پس واجب ہوا کہ یہ اس کے ساتھ ملے ہوئے ہوں، "ولأنه عليه السلام قال"، اور اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے: "من حلف على يمين ورأى غيرها خيرا منها"، جس شخص نے قسم اٹھا لی کسی بات پر، "ورأى غيرها خيرا منها"، اور دیکھا اس کے علاوہ کو اس سے بہتر، ایک آدمی نے ایک بات پر قسم اٹھا لی اور بعد میں دیکھا کہ اس کے علاوہ میں بہتری ہے، دوسری بات میں بہتری ہے، "فليكفر عن يمينه"، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پس چاہیے اس کو کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے دے، "ثم ليأت الذي هو خير"، پھر کر لے وہ کام جو کہ بہتر ہے۔ "جعل مخلص اليمين هو الكفارة"، حضور علیہ السلام نے یمین کا سے چھٹکارا صرف کفارے کو قرار دیا۔ حضور علیہ السلام نے ایک حدیث میں کیا آ رہا ہے؟ ایک شخص نے اگر کسی بات پر قسم اٹھا لی اور بعد میں اس کے علاوہ دوسری بات کو بہتر پایا تو کیا کرے؟ کفارہ دے دے، اور پھر اس کام کو کرے۔ دیکھو بتلایا یمین سے چھٹکارا صرف کس طرح ہے؟ کفارہ دے دے، اور کوئی صورت ذکر کی؟ نہیں، صرف یہ ذکر کہ کفارہ دے دے۔ تو حضور علیہ السلام نے یمین سے چھٹکارا جو ہے، وہ صرف کفارے کو قرار دیا، "ولو صح الاستثناء متراخيا لجعل مخلصا أيضا"، اگر استثناء صحیح ہوتا تراخ، اس حال میں کہ وہ مؤخر ہو، یعنی مؤخر استثناء بھی اگر صحیح ہوتا، "لجعله مخلصا أيضا"، تو حضور اسے بھی چھٹکارا قرار دیتے۔ حضور اسے بھی کیا قرار دیتے۔ چھٹکارا قرار دیتے، کہ بعد میں بھئی تم استثناء کر لو، یا کفارہ دے دو، یا بعد میں کیا کر لو؟ استثناء کر لو، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو استثناء کا ذکر نہیں فرمایا، صرف کفارہ دینے کی ایک صورت ذکر فرمائی، معلوم ہوا بعد میں استثناء نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو اگر استثناء تراخی کے ساتھ صحیح ہوتا، "لجعله مخلصا أيضا"، تو حضور علیہ السلام اسے بھی قسم سے چھٹکارا قرار دیتے، "بأن يقول الآن"، بایں طور کہ وہ شخص کہہ لے الان، اس وقت کیا کہہ لے؟ ان شاء اللہ تعالیٰ، اگر اللہ نے چاہا، اور آپ جانتے ہیں، قسم کے ساتھ انشاءاللہ کہہ دیا جائے، وہ قسم معلق کر دی اللہ کی مشیت پر کہ، تو یہ قسم ہوئی ہی نہیں بھئی، یا اسی طرح طلاق میں اگر کیا کہہ دے؟ انشاءاللہ، تو وہ بھی طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی، تو یہاں اگر قسم سے چھٹکارے، چھٹکارے کی، یہ انشاءاللہ کے ساتھ صورت ہوتی، تو حضور علیہ السلام اس کو بھی ذکر فرماتے، معلوم ہوا انشاءاللہ ساتھ کہے، پھر تو ہو سکتا ہے ایسا، کہ موصولاً تو یہ صحیح ہو جائے گا، لیکن مفصولاً یہ صحیح نہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو "بأن يقول الآن إن شاء الله تعالى ويبطل اليمين"، بایں طور کہ وہ اس وقت کہہ لے انشاءاللہ تعالیٰ اور باطل کر دے قسم کو۔ "وروي عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما"، اور روایت کیا گیا ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے، کہ "أنه يصح مفصولا أيضا"، کہ استثناء صحیح ہے مفصولاً بھی، مفصولاً بھی استثناء صحیح ہے۔ "لما روي"، اس وجہ سے جو روایت کیا گیا ہے، یعنی اس حدیث کی وجہ سے جو روایت کی گئی ہے، "أنه عليه الصلاة والسلام قال"، کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: "لأغزون قريشا"، میں ضرور غزا کروں گا قریش پر، یعنی ان پر جہاد کروں گا، "ثم قال بعد سنة"، پھر ایک سال کے بعد حضور علیہ السلام نے فرمایا: "إن شاء الله تعالى"، ایک سال بعد کیا فرمایا؟ میں ضرور جہاد کروں گا قریش پر انشاءاللہ تعالیٰ، اگر اللہ نے چاہا، تو یہ انشاءاللہ ایک سال بعد فرمایا بھئی، معلوم ہوا استثناء تراخی کے ساتھ بھی صحیح ہے، یہ کس کی بات چل رہی ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی۔ جواب دے رہے ہیں: "وهذا النقل غير صحيح عندنا"، ہمارے نزدیک یہ نقل صحیح نہیں ہے بھئی، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یہ نقل صحیح نہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ امام غزالی رحمہ اللہ بھی لکھتے ہیں، کہ تمام اہل لغت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ استثناء مؤخر صحیح نہیں، اس کو کیا ہونا چاہیے ساتھ؟ ملا ہوا ہونا چاہیے، موصولاً ہونا چاہیے، مفصولاً صحیح نہیں۔ اور جب تمام کا اس بات پر اتفاق ہے، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما، ان کا تو مقام بڑا اونچا ہے، وہ بھی یقیناً اسی کے قائل ہوں گے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ اس کے قائل نہ ہوں، معلوم ہوا یہ جو ان سے نقل ہے، یہ صحیح ثابت نہیں ہے بھئی۔ یا اگر کہتے ہیں اس کو مان بھی لیا جائے، تو پھر ان کی مراد یہ ہوگی، کہ دل میں اس کی نیت تھی اس کی بھئی، دل میں کیا تھی؟ دل میں تھا اس نے، دل میں تو اس نے استثناء کیا، لیکن زبان سے نہ کہا، تو یہ اس کے اور اللہ کے بیچ کا معاملہ ہے، اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مذہب یہ ہے، کہ جو اللہ اور اس کے بیچ کا معاملہ ہو، اسے ظاہراً قبول کیا جائے گا، اسے کیا کیا جائے گا؟ ظاہراً قبول کیا جائے گا، تو یہ استثناء جو اس نے کیا تھا، دل میں کیا تھا، اب بعد میں تراخی کے ساتھ وہ زبان سے بھی کہتا ہے، تو یہ اس کے اور اللہ کے بیچ کا معاملہ ہے، ہمارا تو اس سے تعلق، دوسروں کا تعلق نہیں، تو لہٰذا اس کے اور اللہ کے بیچ کا معاملہ ہے، تو ظاہر کے اعتبار سے بعد میں وہ ظاہر کرے تو اس کو کیا کیا جائے گا؟ اس کو قبول کر لیا جائے گا بھئی، مان لیں گے کہ ہاں بھئی ٹھیک ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ورنہ ویسے ہی دل میں بھی نہ ہو، اور پھر تراخی کے ساتھ ہو، یہ ان کا مذہب ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ چنانچہ یہی شارح بھی فرما رہے ہیں کہ "وهذا النقل غير صحيح عندنا"، ہمارے نزدیک یہ جو نقل ہے، یعنی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا جو مذہب یہ جو نقل کیا گیا ہے، یہ صحیح نہیں بھئی۔ "وروي أنه قال أبو جعفر بن منصور الدوانيقي الذي كان من الخلفاء العباسية لأبي حنيفة رحمه الله تعالى رحمة واسعة"، اور روایت کیا گیا ہے کہ ابو جعفر بن منصور دوانِیقی، "الذي كان من الخلفاء العباسية"، جو خلفائے عباسیہ میں سے تھا، انہوں نے کہا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے، بھئی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مذہب کیا ذکر ہوا؟ کہ ان کے نزدیک استثناء مفصولاً بھی صحیح ہے، جبکہ احناف کا مذہب اوپر متن میں بیان ہوا کہ موصولاً تو استثناء صحیح ہے، مفصولاً صحیح نہیں، تو یہ انہی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما، انہی کے خاندان کا ایک خلیفہ بعد میں، عباسی خلیفہ تھا ابو جعفر، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانے میں یہ خلیفہ تھا، تو اس نے امام، اس کو کسی نے بتلایا، کہ امام صاحب اس طرح کہتے ہیں، آپ کے دادا نے تو فرمایا تھا، کہ استثناء مفصولاً بھی صحیح ہے، اور یہ جو آج کا فقیہ ہے، دیکھو آپ کے دادا کی مخالفت کر رہا ہے بھئی، تو خلیفہ نے طلب کر لیا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو، اور کہا کہ آپ نے میرے دادا کی مخالفت کیوں کی ہے اس مسئلے کے اندر؟ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے جواب میں فرمایا، کہ اے خلیفہ! اگر بات ایسی ہی ہو کہ استثناء مفصولاً بھی صحیح ہو جائے، پھر تو لوگ ظاہر میں آپ کے آ کر آپ کی بیعت کر لیں گے، کہ ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں، آپ کے لیے جان بھی دیں گے، مال بھی دیں گے، آپ کے، آپ ہر مسئلے میں آپ کا ساتھ دیں گے، بیعت کرتے ہیں نا خلیفہ کی باقاعدہ؟ سارے بڑے جمع ہو کر، تو اس وقت تو وہ آپ کی بیعت کر لیں گے، اور گھر جا کر کہہ دیں گے انشاءاللہ، وہ ساری بیعت تو ختم ہو گئی، ہم یہ سب کچھ آپ کے لیے کریں گے اگر اللہ نے چاہا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ ساری بیعت ختم کر دیں گے گھر جا کر، تو خلیفہ ان، امام صاحب کا یہ جواب سن کر حیران رہ گیا اور خاموش ہو گیا بھئی، اور پھر انہیں کچھ نہیں کہا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس خلیفہ نے کہا امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے: "لم خالفت جدي"، آپ نے کیوں مخالفت کی ہے؟ میرے دادا کی، "في عدم صحة الاستثناء متراخيا"، استثناءِ متراخی کے صحیح نہ ہونے میں، استثناءِ متراخی کے صحیح نہ ہونے میں آپ نے میرے دادا کی مخالفت کیوں کی ہے؟ "فقال أبو حنيفة رحمه الله"، تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: "لو صح ذلك"، اگر یہ صحیح ہو، "بارک الله في بيعتك"، تو اللہ برکت دے آپ کی بیعت میں! بڑے لوگ تھے مولانا، میں نے تو آپ کو تفصیل بتلائی، دیکھو انہوں نے مختصر اشارہ کیا بھئی، مختصر اشارہ کیا اور وہ خلیفہ بھی سمجھ گیا بھئی، بڑے لوگ تھے، تو مختصر بات کرتے تھے جو جامع، مانع ہوتی تھی اور، تو صرف اتنا کہا: "لو صح ذلك"، اگر یہ صحیح ہو جائے، "بارک الله في بيعتك"، تو اللہ آپ کی بیعت میں برکت ڈالے! یعنی پھر تو سب بیعتیں، آگے خود شارح تفصیل کر رہے ہیں: "أي يقول الناس الآن إن شاء الله تعالى فتنتقض بيعتك"، یعنی تو لوگ اب اس وقت کہہ دیں گے انشاءاللہ تعالیٰ، تو آپ کی بیعت ٹوٹ جائے گی، "فتحير الدوانيقي وسكت"، تو دوانِیقی حیران رہ گیا اور خاموش ہو گیا۔ "واختلف في خصوص العموم"، اور اختلاف کیا گیا ہے عموم کے خصوص میں، "فعندنا لا يقع متراخيا وعند الشافعي رحمه الله تعالى يجوز ذلك"، پس ہمارے نزدیک وہ متراخیاً واقع نہیں ہو سکتا، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے۔ بھئی دیکھیے، ایک عام آیا عام بھئی، عام آپ جانتے ہیں دو قسم پر ہے: ایک عام مخصوص البعض اور ایک عام غیر مخصوص البعض، عام غیر مخصوص البعض، یعنی جس سے کسی فرد کی تخصیص نہ کی گئی ہو، حکم سے کسی کو نہ نکالا گیا ہو، ہمارے نزدیک وہ قطعی ہے خاص کی طرح، کس کی طرح؟ خاص کی طرح وہ قطعی ہے، ہاں البتہ جب اس سے بعض افراد کی تخصیص کر لی جائے، تو پھر یہ ظنی بن جاتا ہے، کیا بن جاتا ہے؟ ظنی بن جاتا ہے، کس طرح ظنی بنتا ہے؟ یہ بات پہلے بھی بیان ہو چکی، ایک مرتبہ پھر سمجھ لیں۔ بھئی دیکھیے، مثلاً میں کہتا ہوں: درجہ رابعہ والوں کو انعام دیا جائے، درجہ رابعہ والوں کو انعام دیا جائے، تو اب یہاں عام آیا بھئی، درجہ رابعہ والے ایک فرد ہے يا بہت سے افراد ہیں؟ بہت سے افراد، اور عام میں بھی کیا ہوتے ہیں؟ افراد شامل ہوتا ہے، تو یہ عام آیا اور کیا میں نے کسی کو اس حکم سے نکالا ہے کہ اس کو انعام نہیں دینا؟ نہیں، تو یہ عام غیر مخصوص البعض ہوا بھئی، اس سے پتہ چلا سب کو دینا ہے، کیا پتہ چلا؟ سب کو دینا ہے، تو یہ قطعی ہے بھئی، کہ قطعی طور پر پتہ ہے کہ جس کو بھی دے رہے ہیں اس کو دینا ہی ہے، قطعی ہے، ہر فرد کے بارے میں یہی حکم ہے، اور ایک یہ کہ بعض افراد کی تخصیص کر دوں میں بھئی، مثلاً میں کہتا ہوں کہ درجہ رابعہ والوں کو انعام دینا ہے لیکن زید، عمر، بکر کو نہیں دینا، مثلاً وہ بھی درجہ رابعہ میں پڑھتے ہیں، تو اب میں نے تین افراد کی تخصیص کر دی، جب تین افراد کی تخصیص کی تو، تو باقیوں کو تو انعام دینا ہے، ان تین کو اس حکم سے نکال دیا کہ ان کو حکم، ان کو انعام نہیں دینا، تو یہ عام مخصوص البعض ہوا، اور یہ اب ظنی بن گیا، قطعی نہ رہا، اب باقی سب کو انعام دیں گے تو صحیح، لیکن ہر ایک کو انعام ان میں سے دیا جائے یہ قطعی نہ رہا، کیونکہ جب تین افراد کی تخصیص کی گئی، تو کوئی وجہ ہوگی جس کی وجہ سے ان کو نکالا گیا، کوئی علت ہوگی، تو ان میں وہ علت تھی اس لیے ان کو اس حکم سے نکال دیا گیا، اب احتمال ہے، جس فرد کو بھی باقی افراد جتنے بھی ہیں ان کو انعام دینا ہے، لیکن ہر فرد میں احتمال ہے ہو سکتا ہے اس میں بھی وہ علت ہو، اور اگر اس میں وہ علت ملتی ہے دلیل قائم ہو جاتی ہے تو اس کو بھی کیا کر دیں گے؟ حکم سے نکال دیں گے، تو باقیوں کو انعام ملے گا تو صحیح، لیکن ان میں سے، ان کو اب انعام کا ملنا قطعی نہ رہا، ہر ایک میں احتمال ہے، شاید اس میں بھی یہ یہ وہ علت ہو، تو اس کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ حکم سے نکالنا پڑے گا، پہلے تخصیص جب نہیں تھی تو سب کے بارے میں قطعی تھا، ہر ایک کو انعام ملنا ہے، لیکن جب بعض افراد کی تخصیص ہو گئی تو اب قطعی نہ رہا عام بلکہ کیا بن گیا؟ ظنی۔ تو ہمارے نزدیک عام غیر مخصوص البعض وہ قطعی ہوتا ہے، اور عام مخصوص البعض وہ ظنی، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یاد رکھیے، عام چاہے مخصوص البعض ہو چاہے غیر مخصوص البعض ہو، دونوں ظنی ہوتے ہیں بھئی، دونوں کیا ہیں؟ ظنی ہیں۔ اب یہ بات بھی یاد رکھیے، جب عام سے کچھ افراد کو نکال لیا گیا ہو، کچھ افراد کو، تو یہ کون سا عام ہوا؟ مخصوص البعض، تو اس میں تراخی کے ساتھ اور تخصیص بھی جائز ہے، اور افراد کو بھی نکالا جا سکتا ہے تراخی کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ تراخی کے ساتھ نکالا جا سکتا ہے، لیکن ایک عام آیا جس میں اولاً تخصیص نہ تھی، بعد میں اب تراخی کے ساتھ اس سے تخصیص جائز ہے یا جائز نہیں؟ اس میں ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، اگر عام کے ساتھ ہی تخصیص تھی، پھر تو بالاتفاق ہمارے نزدیک بھی تراخی کے ساتھ اوروں کی بھی تخصیص جائز ہے، اوروں کو بھی اس حکم سے نکالا جا سکتا ہے جب شروع میں کچھ کو نکالا گیا تھا، لیکن ایک عام آیا شروع میں اس سے کچھ، کسی بھی فرد کو نہیں نکالا گیا تھا اس حکم سے، تو اس صورت میں تراخی کے ساتھ اب کسی کی تخصیص کی جا سکتی ہے یا تخصیص نہیں کی جا سکتی؟ ہمارے نزدیک اب تراخی کے ساتھ تخصیص جائز نہیں، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اب بھی تراخی کے ساتھ تخصیص جائز ہے، اختلاف کا محل سمجھ میں آیا؟ کون سے عام میں اختلاف ہے؟ جس میں ابتداءً تخصیص نہ ہو بھئی۔ وجہ کیا؟ وجہ اس کی یہ، کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عام، یہ کون سا عام ہے؟ غیر مخصوص البعض، اور ان کے نزدیک یہ غیر مخصوص البعض بھی کیا ہے؟ ظنی ہے، کیا ہے؟ ظنی ہے، کہ بعض افراد کو اگر نکالا گیا ہو تو وہ بھی کیا ہوتا ہے؟ ظنی، تو یہ عام غیر مخصوص البعض اس وقت ظنی ہے، اگر بعد میں کچھ افراد کو نکال لیا جائے تو بھی یہ ظنی ہی رہے گا، کوئی فرق نہیں پڑا، پہلے بھی ظنی تھا بعد میں بھی ظنی، تو یہ جو بعد میں کچھ افراد کو نکالا گیا یہ بیانِ تقریر ہے، یہ کیا ہے؟ بیانِ تقریر وہی ہے نا جو پہلے ہی معنی کو پکا کرے، تو اس میں بھی یہ پہلے بھی ظنی تھا بعد میں بھی کیا ہے؟ ظنی ہی اسی معنی کو پکا کر رہا ہے، تو یہ ان کے نزدیک یہ کیا ہوگا؟ بیانِ تقریر ہے، اور بیانِ تقریر تو آپ پڑھ چکے، مفصولاً بھی صحیح اور موصولاً بھی صحیح، جبکہ ہمارے نزدیک بھئی، عام غیر مخصوص البعض وہ تو قطعی ہے، اگر بعد میں اس سے کچھ افراد کو تراخی کے ساتھ نکالا جائے تو یہ کیا بن جائے گا؟ ظنی بن جائے گا، تو یہ بیانِ تقریر ہوا یا بیانِ تغییر ہوا؟ یہ ہمارے نزدیک بیانِ تغییر ہوا، اور بیانِ تغییر تو آپ پڑھ چکے ہیں موصولاً صحیح ہے مفصولاً صحیح نہیں، تو ان کے نزدیک چونکہ یہ بیانِ تقریر ہے اس لیے مفصولاً بھی صحیح، اور ہمارے نزدیک چونکہ یہ بیانِ تغییر ہے اس لیے مفصولاً صحیح نہیں، صورت سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی: تو کہتے ہیں: "واختلف في خصوص العموم"، اور اختلاف کیا گیا ہے عموم کے خصوص میں، "فعندنا لا يقع متراخيا"، تو ہمارے نزدیک واقع نہیں ہو سکتا عموم کا خصوص تراخی کے ساتھ، "وعند الشافعي رحمه الله يجوز ذلك"، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے، "هذا الاختلاف في تخصيص يكون ابتداء"، یہ اختلاف ہے اس تخصیص کے اندر جو ابتداءً ہو، یعنی اس سے پہلے کوئی تخصیص نہیں ہوئی تھی اب ہو رہی ہے تخصیص، "وأما إذا خص العام مرة بالموصول"، باقی جب تخصیص کر لی گئی ہو عام کی، "مرة"، ایک مرتبہ، "بالموصول"، کس کے ساتھ؟ موصول کے ساتھ یعنی ملا کر، "فإنه يجوز أن يخص مرة ثانية بالمترخي اتفاقا"، پس جائز ہے کہ اس کی تخصیص دُوسری مرتبہ کی جائے تراخی کے ساتھ بالاتفاق، جس میں پہلے تخصیص ہو چکی تھی اس میں تو تخصیص تراخی کے ساتھ بالاتفاق جائز ہے، "وهو مبني على أن تخصيص العام عندنا بيان تغيير"، اور اس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ عام کی تخصیص، اس عام کی تخصیص ہمارے نزدیک یہ بیانِ تغییر ہے۔ یر ہے، فَلَا جَرَمَ يَتَقَيَّدُ بِشَرْطِ الْوَصْلِ۔ تو فَلَا جَرَمَ کا معنی یقیناً، فَلَا جَرَمَ يَتَقَيَّدُ بِشَرْطِ الْوَصْلِ پس یقیناً یہ مقید ہوگا وصل کی شرط کے ساتھ، وَعِنْدَهُ بَيَانُ تَقْرِيرٍ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ بیانِ تقریر ہے، فَيَصِحُّ مَوْصُولًا وَمَفْصُولًا تو وہ موصولاً بھی صحیح ہے یہ اور مفصولاً بھی، وَهَذَا مَعْنِيُّ مَا قَال - معني پڑھیں بھئی - وَهَذَا مَعْنِيُّ مَا قَال اور یہی مراد ہے جو مصنف نے فرمایا، یہ جو ہم نے تقریر کی یہی مراد ہے جو مصنف نے آگے فرمایا اس سے، وَهَذَا بِنَاءً عَلَى أَنَّ الْعُمُومَ مِثْلُ الْخُصُوصِ اور یہ اس بنا پر ہے کہ عموم جو ہے وہ خصوص کی طرح ہے عِنْدَنَا ہمارے نزدیک، عموم کس کی طرح ہے؟ یعنی عام غیرِ مخصوص کس کی طرح ہے؟ خاص کی طرح ہے عِنْدَنَا ہمارے نزدیک فِي إِيجَابِ الْحُكْمِ قَطْعًا یعنی حکم کے قطعی طور پر واجب کرنے میں کہ دونوں قطعی ہیں، وَبَعْدَ الْخُصُوصِ لَا يَبْقَى الْقَطْعُ اور خصوص کے بعد وہ قطعی ہونا باقی نہیں رہے گا، وہ قطعی نہ رہے گا، فَكَانَ تَغْيِيرًا تو یہ تغیر ہوگی، أَيْ كَانَ التَّخْصِيصُ بَيَانَ تَغْيِيرٍ، بَيَانَ تَغْيِيرٍ تو یہ تخصیص بیانِ تغیر ہوگی مِنَ الْقَطْعِ إِلَى الِاحْتِمَالِ قطعی ہونے سے احتمال، محتمل ہونے کی طرف، فَيَتَقَيَّدُ بِشَرْطِ الْوَصْلِ پس یہ مقید ہوگی وصل کی شرط کے ساتھ ہمارے نزدیک، وَعِنْدَهُ لَيْسَ بِتَغْيِيرٍ بَلْ هُوَ تَقْرِيرٌ اور ان کے نزدیک یہ تغیر نہیں ہے بلکہ وہ تقریر یعنی بیانِ تقریر ہے، لِلظَّنِّيَّةِ الَّتِي كَانَتْ لَهُ قَبْلَ التَّخْصِيصِ بجہِ ظنیت اس ظنیت کے جو اس کے لیے تخصیص سے پہلے تھی، یعنی وہ عام غیرِ مخصوص ان کے نزدیک پہلے سے ہی کیا تھا؟ ظنی تھا، فَيَصِحُّ مَوْصُولًا وَمَفْصُولًا تو یہ تخصیص صحیح ہے موصولاً بھی اور مفصولاً بھی۔ وَلَمَّا تَقَرَّرَ عِنْدَنَا أَنَّ تَخْصِيصَ الْعَامِّ لَا يَصِحُّ مُتَرَاخِيًا اور جب یہ بات ہمارے نزدیک ثابت ہوئی ہے بھئی کہ عام کی تخصیص وہ تراخی کے ساتھ صحیح نہیں، وَرَدَ عَلَيْنَا ثَلَاثَةُ أَسْئِلَةٍ تو وارد ہوتے ہیں ہم پر تین سوالات، تین اعتراضات ہم پر وارد ہوتے ہیں کہ اے احناف آپ نے کیا کہا؟ کہ وہ عام جو غیرِ مخصوص ہو اس سے تراخی کے ساتھ تخصیص جائز نہیں، موصولاً تو صحیح ہے مفصولاً صحیح نہیں، تو آپ پر یہ اعتراضات ہوتے ہیں، تین اعتراضات پھر ہوتے ہیں وہ ذکر کر رہے ہیں۔ الأول پہلا یہ کہ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ أَوَّلًا بَنِي إِسْرَائِيلَ بِبَقَرَةٍ عَامَّةٍ حِينَ طَلَبُوا أَنْ يَعْلَمُوا قَاتِلَ أَخِيهِمْ، بھئی بنی اسرائیل کے اندر ایک شخص کو کسی نے قتل کر دیا، قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم یوں کرو، ایک گائے کو ذبح کرو اور اس کے جسم کا کوئی حصہ، کوئی ٹکڑا اس گائے کا اس مقتول کے بدن کے ساتھ لگاؤ گے تو وہ بول پڑے گا اور اپنے قاتل کا نام بتا دے گا۔ قاتل کا نام بتا دے گا۔ تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہیں؟ یہ کیسی بات؟ فرمایا کہ میں پیغمبر کیسے مذاق کر سکتا ہے کسی کے ساتھ؟ یہ وحی کے ذریعے بتلایا گیا، ان کو بتلایا گیا تھا، چنانچہ وہ اب دیکھ رہے ہیں کہ کیا کریں؟ گائے ذبح کریں اور اس کا ٹکڑا لے کر آئیں۔ لیکن وہ حیلے بہانے کرنے لگے بھئی۔ کچھ دیر کے بعد پھر آئے کہ آپ بیان کیجیے کس قسم کی گائے ہو، ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا کس قسم کی گائے ہونی چاہیے۔ تو بتلایا گیا کہ نہ بہت تھوڑی عمر والی ہو، نہ زیادہ عمر والی ہو۔ پھر حیلے بہانے، پھر آ گئے کچھ دیر بعد کہ ہمیں پتہ نہیں چل رہا اس کا رنگ کس طرح ہونا چاہیے، ہمیں وہ بتائیے۔ تو بتلایا گیا کہ اس کا رنگ زرد ہونا چاہیے، خوبصورت لگے جو دیکھنے میں، گہرا زرد۔ پھر وہ آئے کچھ دیر بعد کہ ابھی تک ہم پر اشتباہ ہے کس قسم کی بقرہ ہونی چاہیے، آپ ہمیں اس کے کچھ اور صفات بیان کریں۔ تو پھر بتلایا گیا کہ وہ گائے جو ہے وہ عیب وغیرہ کوئی داغ وغیرہ اس پر نہ ہو، کوئی عیب نہ ہو اس کے اندر، نہ اس کے ذریعے کھیتوں میں ہل چلایا جاتا ہو اور نہ اس کے ذریعے پانی وغیرہ لگایا جاتا ہو، یعنی خوب صاف ستھرا جانور ہو بھئی۔ اب کہنے لگے اب ہمیں سمجھ آ گئی، چنانچہ تلاش کرتے کرتے ایک شخص کے پاس وہ گائے ملی بھئی، اس جیسی گائے، اور وہ شخص اپنی والدہ کی بڑی خدمت کیا کرتا تھا۔ اب یہ گائے لینے آئے تو اس نے دینے سے انکار کر دیا بھئی، بڑی منت سماجت کے بعد وہ اس بات پہ تیار ہوا کہ گائے میں دوں گا لیکن اس کی قیمت یہ ہوگی کہ اس کو ذبح کرنے کے بعد اس کی کھال میں سونا بھر کر مجھے دو گے۔ اس کی کھال میں مجھے سونا بھر کر دو گے، چنانچہ پھر انہوں نے ایسا ہی کیا بھئی، وہ گائے کو ذبح کیا، ٹکڑا مقتول کے ساتھ لگایا تو اس نے اپنے قاتل کا نام بتا دیا۔ اور پھر وہ کھال بھر کر سونے سے وہ اس شخص کے حوالے کی، پورے قبیلے سے جمع کیا، تو کہتے ہیں اس قدر سونا جو سارا مال ان کے ہاتھ سے نکل گیا، چنانچہ اس کے بعد بڑے عرصے تک یہ بنی اسرائیل والے بڑی تکلیف میں رہے بھئی، مال سارا ختم ہوا ان کا۔ علماء لکھتے ہیں کہ دیکھا یہ حیلے بہانے کر رہے تھے، اگر یہ اولاً جب اللہ کی طرف سے حکم آیا کہ گائے ذبح کر کے اس کا کوئی ٹکڑا اس مقتول کے ساتھ لگا دو، یہ کوئی بھی گائے ذبح کر کے لگا دیتے تو وہ بتلا دیتا بھئی۔ تو صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ حیلے بہانے کرتے رہے، بار بار پوچھتے رہے اور ادھر پھر اللہ کی طرف سے بھی قیودات بڑھتی رہیں بھئی۔ تو اب اس کے بارے میں یہ پہلا ذکر کریں گے بھئی، تو کہتے ہیں أَنَّ اللَّهَ أَمَرَ أَوَّلًا بَنِي إِسْرَائِيلَ بِبَقَرَةٍ عَامَّةٍ کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا پہلے بنی اسرائیل کو عام بقرہ کا، حِينَ طَلَبُوا جس وقت انہوں نے طلب کیا، أَنْ يَعْلَمُوا قَاتِلَ أَخِيهِمْ کہ وہ جان لیں اپنے بھئی کے قاتل کو، فَقَالَ تو فرمایا، إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً کہ بے شک اللہ حکم کرتے ہیں تمہیں کہ تم ایک گائے ذبح کرو، ثُمَّ لَمَّا حَاوَلُوا أَنْ يَعْلَمُوا أَنَّهَا بِأَيِّ - بِأَيِّ كَمِّيَّةٍ وَكَيْفِيَّةٍ پھر جب انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ جان لیں کہ وہ گائے کس کمیٹ، کس کمیٹ اور کیفیت کی ہو، کمیت مقدار کو کہتے ہیں بھئی، یعنی کتنی عمر اور کس کیفیت وغیرہ کس کس قسم کی ہو، وَلَوْنٍ اور کس رنگ کی ہو، فَبَيَّنَهَا اللَّهُ تَعَالَى بِالتَّفْصِيلِ تو بیان کیا اس کو اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ، عَلَى مَا نَطَقَ بِهِ التَّنْزِيلُ بناءً بر اس کے جو بیان کرتا ہے قرآن بھئی، نَطَقَ بِهِ جس کا نطق کرتا ہے، جس پر بولتا ہے، بیان کرتا ہے قرآن، التنزیل قرآن بھئی، یعنی المنزل۔ فَقَدْ خُصَّ الْعَامُّ هَاهُنَا پس تحقیق عام کو خاص کیا گیا یہاں پر، وَهُوَ الْبَقَرَةُ مُتَرَاخِيًا اور وہ عام کیا ہے؟ بقرہ ہے، اس کو اس کی تخصیص کی گئی مترخیاً کس کے ساتھ؟ اس حال میں کہ وہ متراخی تھی، یعنی تراخی کے ساتھ اس کی تخصیص کی گئی۔ تو اے احناف آپ نے تو کہا تھا کہ عام غیرِ مخصوص جو ہو اس میں تراخی کے ساتھ تخصیص جائز نہیں، حالانکہ یہاں یہ بقرہ عام تھا، یہ ہر بقرہ کو، ہر قسم کی بقرہ کو شامل تھا، پھر تراخی کے ساتھ اس کی کیا کی گئی؟ تخصیص۔ قیودات آ رہی ہیں بھئی، تخصیص ہوتی جا رہی ہے، اس طرح کی بھی نہ ہو، اس طرح کی بھی نہ ہو، اس قسم کی ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ فَأَشَارَ إِلَى جَوَابِهِ پس اشارہ کیا مصنف نے اس کے جواب کی طرف، بِقَوْلِهِ اپنے اس قول کے ساتھ، وَبَيَانُ بَقَرَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ قَبِيلِ تَقْيِيدِ الْمُطْلَقِ لَا مِنْ قَبِيلِ تَخْصِيصِ الْعَامِّ اور یہ جو بنی اسرائیل کی بقرہ کا بیان ہے، یہ مطلق کو مقید کرنے کی قبیل سے ہے، عام کی تخصیص کی قبیل سے نہیں۔ جواب دے رہے ہیں کہ یہاں، یہاں عام ہے ہی نہیں، عام کہاں سے ہے یہاں پر؟ بقرہ آیا، بقرہ، اور نکرہ ہے اور ضابطہ ہے، نکرہ سیاقِ اثبات میں خصوص کا فائدہ دیتا ہے اور نکرہ سیاقِ نفی میں عموم کا فائدہ دیتا ہے بھئی۔ نکرہ ضابطہ کیا ہے؟ نکرہ سیاقِ اثبات میں خصوص کا فائدہ دیتا ہے۔ میں نے آپ سے کہا جَاءَنِي رَجُلٌ، رجل نکرہ آیا اور پیچھے کہیں نفی ہے؟ نہیں، تو یہ سیاقِ اثبات میں آیا اور نکرہ سیاقِ اثبات میں خصوص کا فائدہ دیتا ہے، تو اس کا کیا ترجمہ کریں گے؟ میرے پاس ایک مرد آیا، ایک کے ساتھ ترجمہ کریں گے، میرے پاس ایک مرد آیا، دیکھو خصوص ہے، عموم نہیں ہے، عموم میں تو کیا ہوتا ہے؟ افراد، تو میرے پاس ایک مرد آیا، دیکھو نکرہ سیاقِ اثبات میں آیا، اور اگر یہی نکرہ سیاقِ نفی میں آ جائے، اسی پر ما داخل کر دیں، مَا جَاءَنِي رَجُلٌ، اب کیا ترجمہ کریں گے؟ میرے پاس کوئی مرد نہیں آیا، دیکھو سب مردوں کی ان کے آنے کی نفی ہو گئی، تو دیکھو نکرہ سیاقِ نفی میں عموم کا فائدہ دیتا ہے، اور قرآن میں جو بقرہ آیا أَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً، یہ کس میں ہے؟ سیاقِ اثبات میں، جب سیاقِ اثبات میں ہے تو یہ اس میں عموم ہے ہی نہیں، عموم ہوتا تو پھر آپ کہتے کہ آگے چل کر اس کی تخصیص ہوئی بھئی، لہٰذا یہاں تخصیص ہے ہی نہیں کیونکہ عام نہیں ہے، عام ہوتا تو تخصیص ہوتی، عام ہے ہی نہیں، یہاں تو کیا ہے؟ خاص ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تخصیص العام کی قبیل سے ہے ہی نہیں بلکہ یہ تقييد المطلق کی قبیل سے ہے، بقرہ پہلے مطلق تھا پھر آگے اس کے، اس کو مقید کیا گیا بھئی، مقید کیا گیا۔ یعنی پہلے بقرہ مطلق تھا پھر مقید کیا گیا، یعنی وصفِ اطلاق کو منسوخ کر دیا گیا، کیا کر دیا گیا؟ وصفِ اطلاق کو منسوخ کر دیا گیا۔ تو یہ تخصیص ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو نسخ ہے دراصل، وصفِ اطلاق کو کیا کیا جا رہا ہے؟ منسوخ، تو یہ نسخ ہے اور نسخ تو ہوتا ہی تراخی کے ساتھ، ایک حکم نازل ہوتا ہے، کچھ عرصے تک وہ رہتا ہے، پھر اس کو کیا کیا جاتا ہے؟ منسوخ، دیکھو نسخ تراخی کے ساتھ ہی آتا ہے، یہ تو نہیں کہ ایک حکم آتا ہے اور ساتھ ہی اس کا نسخ بھی آ جائے، ایسا تو نہیں ہوتا، تو نسخ تو ہوتا ہی تراخی کے ساتھ ہے، تو یہاں بھی کیا ہے؟ نسخ ہے، تخصیص ہے ہی نہیں یہاں پر۔ یہ معنی ہے، وَبَيَانُ بَقَرَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ قَبِيلِ تَقْيِيدِ الْمُطْلَقِ لَا مِنْ قَبِيلِ تَخْصِيصِ الْعَامِّ اور بنی اسرائیل کی بقرہ کا بیان جو ہے وہ مطلق کو مقید کرنے کی قبیل سے ہے نہ کہ عام کو کی تخصیص کرنے کی قبیل سے، لِأَنَّ قَوْلَهُ بَقَرَةً نَكِرَةٌ فِي مَوْضِعِ الْإِثْبَاتِ اسی لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول بقرہ جو ہے یہ نکرہ موضعِ اثبات میں ہے، وَهُوَ خَاصَّةٌ اور وہ خاص ہے، وُضِعَتْ لِفَرْدٍ وَاحِدٍ جس کو وضع کیا گیا ہے ایک فرد کے لیے، لَكِنَّهَا مُطْلَقَةٌ بِحَسَبِ الْأَوْصَافِ لیکن یہ بقرہ مطلق ہے اوصاف کے اعتبار سے، فَكَانَ نَسْخًا تو یہ نسخ ہے بھئی، فَلِذَلِكَ صَحَّ مُتَرَاخِيًا اسی وجہ سے یہ متراخی بھی صحیح ہے، یہ نسخ، لِأَنَّ النَّسْخَ لَا يَكُونُ إِلَّا مُتَرَاخِيًا اسی لیے کیونکہ نسخ نہیں ہوتا مگر متراخی ہی، الثَّانِي دوسرا اعتراض بھئی، الثَّانِي أَنَّ قَوْلَهُ تَعَالَى خِطَابًا لِنُوحٍ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ کہ اللہ تعالیٰ کا قول خطاب فرماتے ہوئے نوح علیہ السلام سے، فَاسْلُكْ فِيهَا پس آپ داخل کیجیے اس کشتی میں، مِنْ كُلٍّ ہر ایک میں سے، زَوْجَيْنِ زَوْجَيْنِ کیا معنی؟ زوجین، جوڑے میں سے ہر نر و مادہ کو زوج کہا جاتا ہے، تو زوجین کا معنی نر و مادہ، نر و مادہ مل کر کتنے ہو گئے؟ ہر ایک زوج ہے تو کیا بن گئے؟ زوجین۔ تو آپ لیجیے مِنْ كُلٍّ ہر ایک میں سے یعنی ہر قسم کے حیوانات میں سے آپ لیجیے زَوْجَيْنِ دو یعنی کہ نر اور مادہ، اثْنَيْنِ اسی کی تاکید ہے بھئی، تو آپ داخل کیجیے کشتی کے اندر ہر قسم کے حیوانات میں سے نر، نر اور مادہ وَأَهْلَكَ اور اپنے گھر والوں کو، امانہ بیان کر رہے ہیں اسی آیت کا، آیت میں کیا تھا؟ فَاسْلُكْ، شارح کیا بتلا رہے ہیں؟ أَدْخِلْ، تو فاسلک کا معنی داخل کیجیے۔ أَيْ أَدْخِلْ فِي السَّفِينَةِ داخل کیجیے آپ کشتی میں، مِنْ كُلِّ جِنْسٍ مِنَ الْحَيَوَانِ ہر جنس میں سے حیوان کی، زَوْجَيْنِ دو، نر و مادہ، اثْنَيْنِ دو، ذَكَرًا وَأُنْثَى بتلایا کیا مراد ہے؟ مذکر اور مؤنث، وَأَدْخِلْ أَهْلَكَ اور داخل کیجیے اپنے گھر والوں کو بھی، أَيْضًا ان کو بھی، فِيهَا اس کشتی میں، فَالْأَهْلُ عَامٌّ پس اہل کا لفظ عام ہے، مُتَنَاوِلٌ لِكُلِّ أَوْلَادِهِ جو شامل ہے ان کی، نوح علیہ السلام کی ساری اولاد کو، وَأَدْخِلْ أَهْلَكَ کیا کیجیے؟ اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں داخل کیجیے، سارے گھر والے، ساری اولاد اس میں داخل، ثُمَّ خُصَّ مِنْهُ كَنْعَانُ بْنُ نُوحٍ اور پھر اس سے تخصیص کی گئی کنعان بن نوح کی، بِقَوْلِهِ اللہ کے اس قول کے ساتھ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ کہ وہ آپ کے اہل میں سے نہیں ہے، فَقَدْ خُصَّ الْعَامُّ مُتَرَاخِيًا هَاهُنَا پس یہاں تخصیص کی گئی عام کی متراخاً، متراخی کے ساتھ، فَأَجَابَ بِقَوْلِهِ تو جواب دیا مصنف نے اس کا اپنے اس قول کے ساتھ، اعتراض سمجھ میں آ گیا؟ کیا احناف آپ نے تو کیا کہا تھا؟ کہ عام کی تخصیص تراخی کے ساتھ جائز نہیں، حالانکہ یہاں پر عام کی تخصیص کس طریقے پر ہے؟ تراخی کے ساتھ۔ تو جواب دے رہے ہیں، وَالْأَهْلُ لَمْ يَتَنَاوَلِ الِابْنَ کہ اہل کا لفظ جو ہے یہ شامل نہیں ہے ابن کو، لِأَنَّ أَهْلَ النَّبِيِّ مَنْ كَانَ تَابِعَهُ فِي الدِّينِ اسی لیے کیونکہ نبی کے اہل وہ ہیں جو اس کے تابع ہوں دین میں، آگے کیا ہے؟ والتفاوت جی؟ جی؟ کیا ہے آپ کی کتابوں میں لفظ؟ تفاوت تفاوت لفظ تو بنتا ہی نہیں بھئی یہاں، تفاوت کا معنی تو فرق کے ہوتے ہیں اور وہ بھی لمبی تا کے ساتھ ہوتا ہے، گول تا نہیں۔ تو یہ لفظ بھئی یہ کچھ کتابت کی غلطی ہے، کوئی اور لفظ ہوگا، ہاں؟ میں نے غور کیا لیکن ذہن میں کوئی ایسا خاص جو لفظ نہیں ہے یا کیا ہو سکتا ہے یہ بھئی۔ بہرحال تفاوت لفظ نہیں ہے، یہ تو طے ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اہل نبی وہ ہیں جو اس پیغمبر کے تابع ہوں دین کے اندر، لَا مَنْ كَانَ ذَا نَسَبٍ مِنْهُ نہ کہ وہ جو کہ اس سے نسب والے ہیں، فَلَمْ يَكُنِ الِابْنُ الْكَافِرُ أَهْلًا لَهُ تو وہ کافر بیٹا حضرت نوح علیہ السلام کا اہل تھا ہی نہیں، ان کے گھر والوں میں سے تھا ہی نہیں۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ یہاں تخصیص ہے ہی نہیں کیونکہ یہ تو داخل ہی نہیں تھا۔ لَا أَنَّهُ خُصَّ بِقَوْلِهِ تَعَالَى نہ یہ کہ اس کو تخصیص کی گئی ہے اللہ تعالیٰ کے قول إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ کے ذریعے، حَتَّى يَكُونَ تَخْصِيصُ الْعَامِّ مُتَرَاخِيًا یہاں تک کہ عام کی تخصیص متراخی ہو جائے، وَلَكِنْ يَرِدُ عَلَيْهِ أَنَّهُ تَعَالَى اسْتَثْنَى ابْنَهُ أَوَّلًا بِقَوْلِهِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ۔ بھئی احناف پر اعتراض یہ ہوا کہ اے احناف آپ نے یہ کہا کہ عام غیرِ مخصوص البعض جو ہے اس سے تراخی کے ساتھ تخصیص جائز نہیں ہے بھئی، اس سے تراخی کے ساتھ تخصیص اگر ایک مرتبہ تخصیص ہو چکی ہو پھر تو تخصیص تراخی کے ساتھ بھی جائز ہے لیکن اگر ایک مرتبہ بھی تخصیص نہ ہوئی ہو تو پھر بعد میں بھی تراخی کے ساتھ تخصیص جائز نہیں، اور ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ یہ جو اللہ نے فرمایا ہے حضرت نوح علیہ السلام کو خطاب فرماتے ہوئے، فَاسْلُكْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ، تو یہاں پر دیکھیے، یہاں اہلک ذکر ہوا اور اس میں حضرت نوح علیہ السلام کے گھر والے ان کی تمام اولاد داخل ہے اور پھر بعد میں اس کے بیٹے کا کیا کیا گیا؟ اس کی تخصیص کی گئی بھئی، اس کی تخصیص بھئی، معلوم ہوا کہ عام غیرِ مخصوص البعض سے بھی تراخی کے ساتھ تخصیص جائز ہے بھئی، جائز ہے۔ تو جواب دیا مصنف نے کہ اہل جو ہے وہ بیٹے کو شامل ہی نہیں ہے بھئی۔ آپ نے کہا "اہل" میں بیٹے داخل تھے، پھر ایک بیٹے کے بعد میں تخصیص کر لی گئی۔ جواب دیا کہ اہل کے اندر بیٹے داخل ہی نہیں ہیں، کیونکہ نبی کے اہل وہ ہوتے ہیں جو نبی کا اتباع کرتے ہیں، اس کے دین پر ہوتے ہیں، اس کے راستے پر ہوتے ہیں۔ تو لہٰذا وہ داخل ہی نہیں تھا، تو تخصیص کہاں سے بھئی؟ داخل ہوتا، تو پھر آپ کہتے تخصیص ہوئی۔ ولکن یرد علیہ، لیکن اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے، انہ اللہ تعالٰی استثنیٰ ابنہ اولاً، کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا پہلے استثنیٰ فرمایا، بقولہ اپنے اس قول کے ساتھ: "واہلک الا من سبق علیہ القول"۔ اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں داخل کیجیے، "الا من سبق علیہ القول"، مگر جس پر پہلے ہو چکا ہے قول، جس پر ہمارا قول، جس پر پہلے فیصلہ ہو چکا ہے، جس کے بارے میں پہلے فیصلہ ہو چکا ہے یعنی غرق کرنے کا یا ہلاک کرنے کا، ان کا استثنیٰ کر دیا گیا بھئی۔ مصنف نے تو یہ جواب دیا تھا ماتن نے کہ اہل میں بیٹا داخل ہی نہیں۔ شارح اب اس پر اعتراض کر رہے ہیں کہ اس پر تو یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے "الا من سبق علیہ القول" کے ذریعے ان کے بیٹے کا استثنیٰ فرما دیا اور استثنیٰ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا بیٹا پہلے ان میں داخل، اہل میں داخل ہے۔ جبھی پھر کیا کیا جا رہا ہے، استثنیٰ کے ذریعے اس کو نکالا جا رہا ہے بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟ فلو لم یکن الاہل فی النسب مراداً، اگر اہل فی النسب مراد نہ ہوتے، لم احتج الی الاستثناء، تو ضرورت نہ ہوتی استثنیٰ کی۔ اگر اہل فی النسب، نسب میں جو اہل ہیں وہ مراد نہ ہوتے تو پھر استثنیٰ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، "الا من سبق علیہ القول" اس کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ لیکن یہ بتلا رہا ہے کہ بیٹا داخل تھا پھر اس کو کیا کیا گیا ہے، الا کے ذریعے نکالا گیا ہے بھئی، تو یہ بتلا رہا ہے کہ بیٹا بھی اہل میں داخل ہے۔ تو کہتے ہیں فلو لم یکن الاہل فی النسب مراداً لم احتج الی الاستثناء، اگر اہل فی النسب جو ہیں وہ مراد نہ ہوتے تو ضرورت نہ ہوتی استثنیٰ کی۔ولکن نوحاً علیہ الصلوۃ والسلام لم یتفطن لہ، لیکن حضرت نوح علیہ السلام اس کو نہ سمجھے، لغایۃ شفقاتہ علیہ، بوجہ اپنی حد درجے شفقت کے علیہ اپنے بیٹے پر، اپنے بیٹے پر حد، از حد شفقت کی وجہ سے اس کو نہ سمجھ سکے کہ اس کو استثنیٰ کے ذریعے نکال دیا گیا ہے۔ حتیٰ سال من اللہ تعالٰی، یہاں تک کہ پھر انہوں نے اللہ سے سوال کیا۔ وقال اور فرمایا: "رب ان ابنی من اہلی"، اے میرے پروردگار! بیشک میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے، گھر والوں میں سے ہے، "وان وعدک الحق"، اور بیشک آپ کا وعدہ سچا ہے، "وانت احکم الحاکمین"، اور آپ سب سے بڑے فیصلہ کرنے والے ہیں۔ اور آپ سب سے بڑے فیصلہ کرنے والے ہیں۔ فقال یا نوح، تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ اے نوح! "انہ لیس من اہلک"، کہ وہ آپ کے گھر والوں میں سے نہیں ہے آپ کا بیٹا، "انہ عمل غیر صالح"، اس کا عمل اچھا نہیں ہے۔ تو شارح نے یہاں ماتن پر اعتراض کیا بھئی۔ ماتن نے تو کہا تھا کہ اہل میں بیٹا داخل ہی نہیں، تو جب داخل ہی نہیں تو بعد میں تخصیص کے ذریعے اس کو نکالا بھی نہیں گیا کیونکہ داخل ہی نہیں تھا۔ لیکن شارح فرماتے ہیں اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ بیٹا جو ہے وہ داخل تھا، داخل ہے اسی لیے تو "الا من سبق علیہ القول" کے ذریعے اس کو نکالا گیا۔ اگر وہ داخل نہ ہوتا تو استثنیٰ کے ذریعے اس کو نکالنے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی۔ تو اس کو استثنیٰ کے ذریعے نکالا گیا لیکن حضرت نوح علیہ السلام اس پر اپنی از حد شفقت کی وجہ سے اس بات کو سمجھ نہ سکے، چنانچہ پھر انہوں نے اللہ سے سوال کیا کہ اے اللہ! آپ نے تو وعدہ فرمایا ہے اور میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں سے ہے۔ تو اللہ نے جواب میں فرمایا کہ آپ کا بیٹا آپ کے اہل میں سے نہیں ہے کیونکہ اس کا عمل اچھا نہیں ہے، اس کا عمل اچھا نہیں ہے۔ اعتراض سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو جواب یہ مولانا، جواب یہ کہ اگر ماتن کی بات لی جائے کہ بیٹا اہل میں داخل نہیں تھا اور آپ کہہ رہے ہیں "الا من سبق علیہ القول" کے ذریعے اس کا استثنیٰ کیا گیا، داخل تھا پھر کیا کیا گیا استثنیٰ، تو ماتن کے قول کو اگر لیا جائے تو پھر جواب یہ ہو گا کہ یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ مستثنیٰ منقطع بھئی وہ جو پہلے داخل ہی نہیں ہوتا اور الا کے بعد اس کو ذکر کیا جاتا ہے بھئی۔ تو آپ نے دلیل کس چیز کو بنایا تھا کہ استثنیٰ کے ذریعے نکالا گیا معلوم ہوا یہ داخل تھا، جواب یہ کہ یہ کیا ہے مستثنیٰ منقطع ہے بھئی، منقطع ہے۔ اور اگر شارح کی بات کو لیا جائے تو انہوں نے کیا کہا کہ "الا من سبق علیہ القول" کے ذریعے بیٹے کا استثنیٰ کیا گیا لیکن حضرت نوح علیہ السلام از حد شفقت کی وجہ سے اس بات کو نہ سمجھ سکے۔ لیکن یہ بات پیغمبر کے منصب کے مناسب نہیں ہے کہ یوں کہا جائے کہ حد درجے شفقت کی وجہ سے پیغمبر اس بات کو سمجھ ہی نہ سکے، بیٹے پر بہت زیادہ شفقت تھی اس لیے اس بات کو سمجھ نہ سکے۔ یہ منصبِ پیغمبر کے مناسب نہیں ہے۔ تو بہتر دوسری تقریر یوں کی جائے کہ بیٹا داخل ہے اور اس کو "الا من سبق علیہ القول" کے ذریعے نکالا گیا لیکن اس میں وضاحت نہیں جن پر اللہ کا قول پہلے ہو چکا، جن پر اللہ کا قول پہلے ہو چکا کہ ان وہ جو ہیں غرق ہوں گے اور ہلاک ہوں گے۔ تو یہ تعیِین نہیں کی گئی کہ یہ "من سبق علیہ القول" سے کیا مراد ہیں، یہ تو صرف اللہ جانتے تھے بھئی۔ اور حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا وہ منافق تھا، ظاہر میں ایمان تھا، والد کے کہنے پر چلتے تھے لیکن دل میں کفر تھا بھئی۔ تو اس وجہ سے نوح علیہ السلام کو پتہ نہ چلا اور انہوں نے اللہ سے پھر سوال کیا کہ میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ تو یہ تقریر پہلی تقریر سے بہتر ہے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ از حد شفقت کی وجہ سے وہ اس بات کو نہ سمجھ سکے، یوں نہ کہا جائے بلکہ یہ کہا جائے کہ ان کا بیٹا منافق تھا اس لیے ان کو علم نہ ہوا کہ اس کا استثنیٰ کر دیا گیا ہے، کیونکہ وہ تو یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کا بیٹا بھی مومنین میں سے ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ دوسرے دوسرا اعتراض اور اس کا جواب بھی گزر گیا۔ تیسرا اعتراض احناف پر یہ ہوتا ہے، الثالث، تیسرا یہ کہ ان قولہ تعالٰی، کہ اللہ تعالیٰ کا قول: "انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم"، کہ بیشک تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے علاوہ "حصب جہنم"، وہ جہنم کا ایندھن ہیں۔ اللہ کیا فرما رہے ہیں مشرکینِ مکہ سے کہ بیشک تم اور وہ جن کی تم عبادت کرتے ہو یعنی وہ تمہارے فرضی معبود جو ہیں وہ سب کے سب "حصب جہنم"، جہنم کا ایندھن ہیں، ان کو بھی جہنم میں ڈالا جائے گا بھئی۔ تو اعتراض ہو رہا ہے احناف پر۔ کیا اعتراض کیا جائے گا کہ آپ نے تو کہا ہے کہ عام سے تراخی کے ساتھ تخصیص جائز نہیں، لیکن ہم آپ کو دکھاتے ہیں کہ تراخی کے ساتھ تخصیص ہوئی ہے۔ تو دیکھیے کہتے ہیں: کلمۃ "ما" عامۃ لكل معبود، کہ کلمہ "ما" عام ہے ہر معبود کے لیے، سواہ، سوائے اللہ کے۔ "انکم وما تعبدون"، "ما" آیا بھئی اور "ما" عام ہے بھئی، تو وہ تمام معبودانِ باطلہ کو شامل ہوا۔ فقال عبد اللہ بن الزبعریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، تو عبداللہ ابن الزبعریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور علیہ السلام سے فرمایا۔ عبداللہ ابن الزبعریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ ان کے اسلام لانے سے پہلے کا قصہ ہے کہ انہوں نے یہ ایک یہودی تھے اور بڑے فصیح اللسان تھے، انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراض کیا بھئی اور کہا کہ اليس ان عيسٰی وعزيراً والملائكۃ قد عبدوا من دون اللہ اف تراہم يعذبون فی النار؟ "الیس ان عیسیٰ وعزیراً والملائکۃ قد عبدوا من دون اللہ اف تراہم یعذبون فی النار؟" کیا نہیں ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت عزیر علیہ السلام اور فرشتے کہ تحقیق ان کی عبادت کی گئی ہے اللہ کے علاوہ، "اف تراہم یعذبون فی النار؟"، تو کیا آپ کے یہ دیکھتے ہیں یا آپ کی یہ رائے ہے کہ ان کو بھی عذاب دیا جائے گا آگ میں؟ آپ نے تو کیا کہا ہے، آیت میں کیا آیا ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے علاوہ وہ سب جہنم کا ایندھن ہیں، وہ سب جہنم میں ہوں گے۔ تو ان میں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آ گئے، حضرت عزیر علیہ السلام بھی آ گئے، فرشتے بھی آ گئے کیونکہ ان کی بھی لوگ عبادت کرتے ہیں۔ تو کیا یہ بھی آگ میں ان کو عذاب دیا جائے گا؟ فنزل قولہ تعالٰی، تو پھر اللہ کا یہ قول نازل ہوا: "ان الذین سبقت لہم منا الحسنیٰ"، وہ لوگ کہ جن کے لیے پہلے ہو چکی ہماری طرف سے بھلائی یعنی پہلے سے مقرر ہو چکی ہماری طرف سے بھلائی، "اولئک عنہا مبعدون"، وہ لوگ اس جہنم سے دور رکھے ہوں گے، وہ لوگ جہنم سے دور ہوں گے۔ فخص کلمۃ "ما" بہذہ الآیۃ متراخیاً، تو تخصیص کی گئی کلمہ "ما" کی اس آیت کے ذریعے جو کہ متراخی ہے، مؤخر ہے۔ اعتراض چل رہا ہے بھئی احناف پر کہ آپ نے کہا ہے کہ تراخی کے ساتھ تخصیص جائز نہیں اور اس آیت کے اندر "ما" آیا تھا اور "ما" عام ہے، وہ سب کو شامل ہے، چنانچہ اسی وجہ سے عبداللہ ابن الزبعریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور علیہ السلام پر اعتراض بھی کیا کہ یہ سارے بھی تو اس میں داخل ہو گئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت عزیر علیہ السلام اور فرشتے بھی، تو کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ ان کو بھی کیا کیا جائے گا آگ میں عذاب دیا جائے گا؟ معلوم ہوا کہ "ما" کا کلمہ ان سب کو شامل ہے جبھی اس نے اعتراض کیا۔ اور پھر بعد میں اللہ کا یہ قول نازل ہوا: "ان الذین سبقت لہم منا الحسنیٰ"، وہ لوگ جن کے لیے پہلے سے مقرر ہو چکی ہماری طرف سے بھلائی "اولئک عنہا مبعدون"، وہ اس جہنم سے دور ہوں گے، دور کیے جائیں گے۔ تو دیکھیے کلمہ "ما" سے تخصیص کی گئی، "ان الذین سبقت لہم منا الحسنیٰ" یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت عزیر علیہ السلام اور فرشتوں وغیرہ کا ذکر ہے بھئی، ان کی تخصیص کی جا رہی ہے اس کے ذریعے اور تراخی کے ساتھ تخصیص کی جا رہی ہے، معلوم ہوا تراخی کے ساتھ بھی عام سے تخصیص جائز ہے۔ فاجابت، تو جواب دیا بقولہ اپنے اس قول کے ساتھ، مصنف نے پھر جواب دیا اس اعتراض کا اپنے اس قول کے ساتھ: وقولہ تعالٰی، اور اللہ تعالیٰ کا قول جو ہے: "انکم وما تعبدون من دون اللہ"، یہ قول جو ہے لم يتناول عيسٰی علیہ الصلوۃ والسلام، یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شامل ہی نہیں ہے اور اسی طرح حضرت عزیر علیہ السلام اور فرشتوں کو بھی، لا انہ خص بقولہ تعالٰی: "ان الذین سبقت لہم منا الحسنیٰ"، نہ یہ کہ ان تخصیص کی گئی ہے ان کی اللہ کے اس قول کے ذریعے: "ان الذین سبقت لہم منا الحسنیٰ"۔ جواب کیا دیا؟ آپ نے اعتراض یہ کیا تھا کہ "ما" کلمہ عام ہے، ان سب کو شامل ہے اور پھر بعد میں تراخی کے ساتھ ان کی تخصیص کی گئی بھئی، "ما" ان سب کو شامل تھا جبھی تو اس یہودی نے اعتراض بھی کیا۔ اور بعد میں تراخی کے ساتھ تخصیص کی گئی، تو جواب دیا کہ بھئی یہ "ما" یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شامل ہی نہیں، صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ذکر کیا باقی بھی انہی کی طرح حضرت عزیر علیہ السلام کا بھی یہی حکم، فرشتوں کا بھی، یہ ان کو شامل ہی نہیں ہے بھئی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس میں داخل ہی نہیں ہیں۔ جب داخل ہی نہیں ہیں تو پھر آپ کا یہ کہنا کہ یہ داخل تھے اور پھر تخصیص کی گئی تو آپ کا یہ اعتراض ہی درست نہیں ہے بھئی۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ داخل ہی نہیں ان کے اندر۔ بھئی کیوں نہیں داخل؟ وہ اب ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: لان کلمۃ "ما" لذوات غیر العقلاء، اس لیے کیونکہ کلمہ "ما" جو ہے وہ غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے۔ آپ پڑھ چکے ہیں "من" کس کے لیے آتا ہے؟ ذوی العقول کے لیے اور "ما" کس کے لیے آتا ہے؟ غیر ذوی العقول کے لیے۔ تو "ما" آتا ہے غیر ذوی العقول کے لیے، وعیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ونحوہ لم یدخل فی عموم کلمۃ "ما"، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان جیسے جو ہیں یعنی حضرت عزیر علیہ السلام اور فرشتے وغیرہ لم یدخل فی عموم کلمۃ "ما"، وہ کلمہ "ما" کے عموم میں داخل ہی نہیں ہیں۔ وہ اس میں داخل، کیونکہ "ما" تو کس کے لیے آتا ہے؟ غیر ذوی العقول کے لیے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت عزیر علیہ السلام اور فرشتے یہ تو کس میں سے ہیں؟ ذوی العقول میں سے ہیں، تو یہ اس میں داخل ہی نہیں ہیں۔ ولکن ابن الزبعریٰ انما سال تعنتاً وعناداً، یہ ایک سوال کا جواب، سوال یہ کہ یہ کیسے نہیں داخل؟ عبداللہ ابن الزبعریٰ وہ اہل زبان تھا، فصحاء میں سے تھا، فصیح لوگوں میں سے تھا۔ وہ اعتراض کر رہا ہے، معلوم ہوا یہ اس میں داخل تھے۔ تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی ابن الزبعریٰ نے یہ جو اعتراض کیا، یہ اس کو بھی پتہ تھا کہ یہ داخل نہیں ہے کیونکہ "ما" تو غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے، تو اس کا اعتراض صرف اور صرف تکلیف دینے اور مخالفت اور ضد کی بناء پر تھا۔ صرف حضور علیہ السلام کو تنگ کرنے کے لیے اور صرف مخالفت اور ضد کے طور پر اس نے اعتراض کیا تھا ورنہ یہ اس کو بھی پتہ تھا کہ "ما" کس کے لیے آتا ہے، غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے، وہ ان میں داخل ہی نہیں۔ تو کہتے ہیں ولکن ابن الزبعریٰ انما سال تعنتاً وعناداً، تعنت کہتے ہیں تکلیف دینا کسی کو، پریشان کرنا، اور عناد کہتے ہیں مخالفت کو، ضد کو۔ لیکن ابن الزبعریٰ نے پوچھا تعنتاً وعناداً، تکلیف دینے کے لیے اور مخالفت کی وجہ سے، ضد کی وجہ سے۔ ولذا قال لہ النبی علیہ الصلوۃ والسلام، اور اسی وجہ سے حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایا: "ما اجہلک بلسان قومک"، تو کتنا جاہل ہے اپنی قوم کی زبان سے! "ما اجہلک"، بھئی افعال تعجب میں سے ہے بھئی، "ما احسنہ واحسن بہ" پڑھا ہے یا نہیں آپ نے؟ تو یہ وہی ہے "ما اجہلہ"، اس کی "ہ" کی جگہ دوسری "ک" کی ضمیر آ گئی بھئی اور "اجہل" سے آ گیا صیغہ، "ما اجہلک"، تو کتنا جاہل ہے اپنی قوم کی زبان سے! "اما علمت"، کیا تو نہیں جانتا "ان "ما" لغیر العقلاء و"من" للعقلاء"، کہ "ما" غیر عقلاء کے لیے ہے اور "من" عقلاء کے لیے ہے یعنی ذوی العقول کے لیے آتا ہے۔ جواب سمجھ میں آیا بھئی؟ مصنف نے کیا جواب دیا کہ "ما" کے عموم میں یہ داخل ہی نہیں تھے، جب داخل ہی نہیں تو پھر آگے ان کی تخصیص بھی نہیں کی گئی، لہٰذا آپ کا اعتراض ہی ختم ہوا۔ آپ نے تو کہا تھا داخل تھے اور پھر تراخی کے ساتھ تخصیص کی گئی۔ صرف اتنا کہا ماتن نے۔ شارح نے یہ تقریر کی کہ "ما" کس کے لیے آتا ہے؟ غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے اس لیے وہ داخل نہیں اور ابن الزبعریٰ نے جو سوال کیا تھا وہ صرف ضد اور تکلیف دینے اور پریشان کرنے کے لیے کیا تھا اور کسی مقصد سے نہیں، چنانچہ اسی لیے حضور علیہ السلام نے جواب میں کہا کہ تم کتنے جاہل ہو تمہیں اپنی زبان کا بھی پتہ نہیں ہے، کیا تمہیں اتنا نہیں پتہ کہ "ما" غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے اور "من" ذوی العقول کے لیے؟ لیکن شارح کی یہ تقریر درست نہیں بھئی، یہ تقریر درست نہیں۔ اس لیے کیونکہ "ما" اور "من" کا جہاں بیان آیا تھا وہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ "من" تو ذوی العقول کے لیے ہے جبکہ "ما" دونوں کو شامل ہے، ذوی العقول کو بھی اور غیر ذوی العقول دونوں کے لیے یہ استعمال ہوتا ہے بھئی، دونوں کے لیے۔ تو اس صورت میں تو یہ داخل ہو رہے ہیں بھئی۔ ما کس لیے آتا ہے ذوی العقول کے لیے بھی اور غیر ذوی العقول تو پھر تو یہ داخل ہو رہے ہیں۔ اور یہ حدیث ذکر کر دی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ما جو ہے غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے اور من ذوی العقول کے لیے۔ یاد رکھیے علماء نے اس حدیث میں بھی کلام کیا ہے۔ حتیٰ کہ علماء فرماتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے۔ یہ حدیث کیا ہے؟ موضوع ہے۔ گھڑی گئی ہے بنائی گئی ہے اپنی طرف سے حضور علیہ السلام سے یعنی ثابت کہ آپ نے فرمایا ہو کہ ما غیر ذوی العقول کے لیے آتا ہے اور من ذوی العقول کے لیے۔ تو یہ جواب درست نہیں بھئی۔ بہتر جواب یہ ہے کہ یوں کہا جائے ماتن نے صرف اتنا کہا کہ یہ ما میں داخل نہیں۔ لہذا بعد میں ان کی تخصیص بھی نہیں۔ ماتن نے اتنا تو کہہ دیا یہ ما میں داخل نہیں۔ کیوں نہیں داخل؟ شاہر نے تقریر کی میں نے بتلایا وہ تقریر درست نہیں بھئی۔ تو ماتن نے کہا یہ ما میں داخل نہیں۔ تو بہتر جواب یہ ہے کہ ما میں یہ اس لیے نہیں داخل کہ یہاں پر اللہ کیا فرما رہے ہیں انکم وما تعبدون اللہ یہاں خطاب ہو رہا ہے مشرکین مکہ سے کہ بے شک تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو اور مشرکین مکہ وہ تو بتوں کی عبادت کرتے تھے ان میں سے کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ تو لہذا ما تعبدون جن کی تم عبادت کرتے ہو تو اس سے صرف وہ بت وغیرہ مراد ہیں یہ حضرت عزیر علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور فرشتے یہ مراد ہی نہیں ہے۔ جواب سمجھ میں اگیا بھئی؟ تو یہاں خطاب ہے اہل مکہ کو اور وہ تو بتوں کی عبادت کرتے تھے تو وما تعبدون سے وہی ان کے فرضی معبود مراد ہیں تو ان میں یہ داخل ہی نہیں۔ تقریر سمجھ میں اگئی بھئی جواب؟ یا دوسرا جواب کہ اگر ما کو اپنے عموم پر باقی رکھا جائے تو پھر اس صورت میں بشرطِ عدمِ مانع کی قید معتبر ہوگی۔ کون سی؟ بشرطِ عدمِ مانع کی قید معتبر ہوگی۔ ہاں بشرطِ عدمِ مانع کی قید معتبر ہوگی کہ تم اور تمہارے جو فرضی معبود ہیں وہ جہنم کا ایندھن ہیں بشرطیکہ کوئی مانع مانع نہ ہو۔ کوئی بشرطیکہ کوئی مانع نہ ہو۔ اگر مانع نہیں ہے تو وہ جہنم کا ایندھن ہیں اور اگر کوئی مانع ہے تو پھر جہنم کا ایندھن نہیں اور مانع موجود ہے کس میں؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت عزیر علیہ السلام اور فرشتوں میں کہ وہ عند اللہ ان کی مقبولیت اور ان کی وجاہت یہ مانع ہے بھئی کہ وہ جہنم میں داخل ہوں بھئی۔ تقریر سمجھ میں ائی بھئی دوسرا جواب کیا؟ یہاں بشرطِ عدمِ مانع کی قید معتبر ہے۔ یعنی جن فرضی معبودوں میں کوئی مانعِ دخولِ نار سے نہ ہو تو وہ تو نار میں داخل ہوں گے اور جن میں کوئی مانع آگیا وہ نار میں داخل نہیں ہوں گے جیسے ان کے اندر عند اللہ ان کی مقبولیت اور وجاہت یہ مانع ہے اس بات سے کہ یہ جہنم میں داخل ہوں بھئی۔ تو یہاں مانع موجود ہے چنانچہ آگے اس کو پھر صراحتاً بھی ذکر کر دیا گیا ان الذی سبقت لہم من الحسنی اولئک عنہا مبعدون۔ یہ بات پہلے ہی معلوم تھی پھر آگے اس کی صراحت بھی اللہ نے فرما دی کہ جن کے لیے ہماری طرف سے بھلاہی پہلے مقرر ہو چکی ہے وہ اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آگیا پہلا جواب کیا ہوا؟ کہ یہ ما میں داخل ہی نہیں کیونکہ خطاب کس کو ہے؟ مشرکین مکہ کو اور وہ ان میں سے کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے وہ صرف کس کی عبادت کرتے تھے؟ بتوں کی یا شیاطین وغیرہ کی بھئی۔ اور دوسرا جواب یہ کہ اگر ما کو اپنے عموم پر برقرار رکھا جائے تو بشرطِ عدمِ مانع کی قید معتبر ہے بھئی۔ بشرطِ عدمِ مانع کی قید بھئی کہ وہ جہنم کے ایندھن ہوں گے بشرطیکہ کوئی مانع نہ پایا جائے اور یہاں تو مانع موجود ہے اور وہ ہے ان کے عند اللہ مقبولیت اور وجاہت بھئی۔ چلیے بس بھئی ہذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔