درس نمبر۔ 114 والرابع من جملة ما يعلل له تعدية حكم النص إلى ما لا نص فيه ليثبت فيه أي الحكم فيما لا نص فيه بغالب رأي دون القطع واليقين فتعدية حكم لازم عندنا لا يصح القياس بدونه والتعليل يساويه في الوجود جائز عند الشافعي رحمه الله لأنه يجوز التعليل بالعلم القاصرة كالتعليل بالثمنية. بھئی بحث چل رہی تھی کہ تعلیل کن چیزوں کے لیے کی جاتی ہے۔ مصنف رحمہ اللہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ تعلیل چار چیزوں کے لیے کی جاتی ہے۔ کبھی تعلیل کی جاتی ہے علت کو یا علت کے وصف کو ثابت کرنے کے لیے، کبھی تعلیل کی جاتی ہے شرط کو یا شرط کے وصف کو ثابت کرنے کے لیے، اور کبھی تعلیل کی جاتی ہے حکم کو یا حکم کے وصف کو ثابت کرنے کے لیے، اور بتلایا تھا ہمارے نزدیک یہ تینوں درست نہیں۔ علت کو یا علت کے وصف کو ثابت کرنے کے لیے، شرط کو یا شرط کے وصف کو ثابت کرنے کے لیے، اسی طرح حکم کو یا حکم کے وصف کو ثابت کرنے کے لیے تعلیل صحیح نہیں، جبکہ اب وہ چوتھی قسم ذکر کرنے لگے ہیں جس کے لیے تعلیل کی جاتی ہے اور وہ ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ بتائیں گے آپ کو چوتھی چیز جس کے لیے تعلیل کی جاتی ہے وہ تعدیہ ہے، یعنی حکم کو متعدی کرنا اصل سے فرع کی طرف۔ اس مقصد کے لیے تعلیل کی جائے یہ ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ کسی حکم کی علت بیان کی جائے کس مقصد کے لیے؟ تاکہ اسی حکم کو ثابت کیا جائے کس کے اندر؟ فرع کے اندر، اس کے لیے تو تعلیل صحیح ہے، باقی چیزوں کے لیے تعلیل صحیح نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں والرابع من جملة ما يعلل له، اور چوتھی چیز جتوں مجموعہ چیزوں میں سے جن کے لیے تعلیل کی جاتی ہے تعدية حكم النص إلى ما لا نص فيه وہ نص کے حکم کو متعدی کرنے کے إلى ما اس چیز کی طرف لا نص فيه جس میں نص نہ ہو، جیسے شراب جو ہے اس کی حرمت کا تو علم ہے، لیکن بھنگ کی حرمت کا علم نہیں تھا، اس میں نص نہیں تھی، تو پھر شراب میں ہم نے علت دیکھی تو وہ نشہ معلوم ہوا کہ نشہ ہے حرام ہونے کی علت، یہی علت ہمیں بھنگ کے اندر بھی ملی تو ہم نے اس پر بھی یہی حکم لگا دیا، یہ ہے تعدیہ بھئی۔ تو کہتے ہیں چوتھی چیز جو ہے تعدية حكم النص إلى ما لا نص فيه، وہ نص کے حکم کو متعدی کرنا ہے اس چیز کی طرف لا نص فيه جس میں نص نہ آئی ہو، جیسے بھنگ کے اندر نص نہیں ہے بھئی، تو یہ کیوں متعدی کیا جاتا ہے نص کے حکم کو إلى ما لا نص فيه کی طرف؟ کہتے ہیں ليثبت فيه تاکہ اس ما لا نص جو ہے ما لا نص فيه اس کے اندر بھی کیا کیا جائے؟ حکم کو ثابت کیا جائے، أي الحكم یہ ضمیر کا مرجع بتلایا، ليثبت کے اندر ضمیر جو نائب الفاعل ہے وہ کس کی طرف راجع ہے؟ حکم کو، تاکہ ثابت کیا جائے حکم کو فيما لا نص فيه اس چیز کے اندر جس میں نص نہیں ہے، بغالب الرأي، کس کے ساتھ؟ غالبِ رائے کے ساتھ، غالبِ گمان کے ساتھ، دون القطع واليقين، قطعی اور یقین کے طریقے پر نہیں بھئی، کیونکہ یہ قیاس جو ہے وہ ظن کا فائدہ دیتا ہے، یقین کا فائدہ نہیں دیتا بھئی۔ جبکہ اس سے پہلے والی تین دلیلیں قرآن، حدیث اور اجماع وہ یقینی، قطعی دلیلیں ہیں بھئی، وہ یقین کا فائدہ دیتی ہیں۔ فتعدية حكم لازم عندنا، پس تعدیہ جو ہے وہ حکمِ لازم ہے ہمارے نزدیک۔ پس تعدیہ ہمارے نزدیک ایسا حکم ہے جو لازم ہے یعنی تعلیل کے ساتھ لازم ہے۔ جب بھی تعلیل کرو گے تعدیہ ضرور ہونا چاہیے اس کے ساتھ، تعدیہ نہ ہو تو تعلیل ہمارے نزدیک صحیح ہی نہیں ہے بھئی، تعلیل کا مقصد ہی کیا ہے؟ تعدیہ، حکم کو متعدی کرنا ہے بھئی۔ تو فتعدية حكم لازم عندنا، پس تعدیہ ایسا حکم ہے جو لازم ہے ہمارے نزدیک، کس کے ساتھ لازم ہے؟ تعلیل کے ساتھ لازم ہے تعدیہ بھئی، لا يصح القياس بدونه، صحیح نہیں ہے قیاس اس کے بغیر یعنی تعدیہ کے بغیر قیاس صحیح نہیں، والتعليل يساويه في الوجود، اور تعلیل یہ قیاس کے برابر ہے وجود میں ہمارے نزدیک، جہاں تعلیل ہو گی وہاں تعدیہ ہو گا اور جہاں تعدیہ ہو گا وہاں تعلیل ہو گی بھئی، تو یوں کہیے ہمارے نزدیک تعلیل اور قیاس ایک ہی چیز ہیں بھئی، تعلیل اور قیاس، علت وہی نکالیں گے جہاں حکم کو متعدی کرنا ہے، اگر حکم کو متعدی نہیں کرنا تو تعلیل بھی صحیح نہیں ہے بھئی۔ تو ہمارے نزدیک تو تعدیہ تعلیل کے ساتھ لازم ہے، جائز عند الشافعي رحمه الله، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تعدیہ تعلیل کے ساتھ لازم نہیں، جائز ہے۔ کیا ہے؟ جائز ہے، تعلیل کے ساتھ تعدیہ کا ہونا وہ فرماتے ہیں ضروری نہیں۔ وہ تعلیل، علت نکالتے ہیں جیسے وہ علتِ ربوا انہوں نے ثمنیت نکالی کس کے اندر؟ سونے اور چاندی میں، اب یہ ثمنیت تو صرف سونے اور چاندی میں ہے، ان کو بنایا ہی کس لیے گیا ہے؟ بطورِ ثمن کے، اللہ نے ان کو پیدا ہی بطورِ ثمن کے کیا، اب یہ ثمنیت صرف انہی کے اندر ہے، یہ کسی دوسری چیز کی طرف متعدی نہیں ہوتی، تو دیکھو انہوں نے علت کیا بیان کی؟ ثمنیت، تو تعلیل تو ہے، علت تو بیان کر دی، لیکن تعدیہ نہیں ہے۔ تعدیہ کیونکہ ثمنیت اور کہیں پائی نہیں جاتی، کس کی طرف متعدی کریں گے؟ کوئی اور چیز ہوتی اس میں ثمنیت ہوتی تو ادھر حکم بھی منتقل ہو جاتا ربوا والا بھئی، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ تو ان کے نزدیک تعلیل کے ساتھ تعدیہ لازم نہیں، صرف تعلیل بھی کی جا سکتی ہے، جیسے کہ انہوں نے ثمنیت علت نکالی، اب یہ علت، تعلیل ہے اور تعدیہ نہیں، کیونکہ کوئی اور چیز ہے ہی نہیں جس میں یہ علت ہو۔ تو کہتے ہیں یہ جائز ہے یعنی تعدیہ جائز ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک، لأنه يجوز التعليل بالعلم القاصرة، اس لیے کیونکہ وہ جائز قرار دیتے ہیں علتِ قاصرہ کے ساتھ تعلیل کو، علتِ قاصرہ؟ جو صرف کس کے اندر ہے؟ اصل میں، یعنی جس میں نص آئی ہے صرف اسی کے اندر ہے، آگے کوئی فرع ہے ہی نہیں اس کی، تو وہ علت بند ہے کس کے اندر؟ اصل، تو وہ علتِ قاصرہ کہلائے گی بھئی۔ جیسے کہ وہ علتِ قاصرہ کے ساتھ تعلیل کو جائز قرار دیتے ہیں، كالتعليل بالثمنية، جیسے کہ تعلیل کرنا ثمنیت کے ساتھ، في الذهب والفضة، سونے اور چاندی میں، لحرمة الربا، ربوا کے حرام ہونے کے لیے، فإنها لا تتعدى منهما، بے شک یہ جو یہ ثمنیت جو ہے لا تتعدى منهما، یہ ان دونوں سے متعدی نہیں ہوتی، یہ صرف سونے چاندی ہی میں ہے، فالتعليل عنده لبيان لمية الحكم فقط، تو تعلیل ان کے نزدیک صرف حکم کی علت بیان کرنے کے لیے ہوتی ہے، لمیت؟ علت بھئی، پس تعلیل ان کے نزدیک صرف حکم کی علت بیان کرنے کے لیے ہے، ولا يتوقف على التعدية، اور یہ تعدیہ پر موقوف نہیں۔ بھئی ہمارے نزدیک جہاں بھی تعلیل ہو گی وہاں تعدیہ ضرور ہو گا۔ تعدیہ؟ یعنی حکم اصل سے فرع کی طرف ضرور متعدی ہو گا۔ جبکہ ان کے نزدیک تعلیل کے ساتھ تعدیہ لازم نہیں، جائز ہے، کبھی ہو سکتا ہے تعدیہ آئے تعلیل کے ساتھ اور کبھی نہ آئے، جیسے انہوں نے ثمنیت علت بیان کی، یہاں تعلیل تو ہے لیکن تعدیہ نہیں ہے بھئی۔ تو ان کے نزدیک تعلیل صرف حکم کی علت بیان کرنے کے لیے ہو گی کہ اس حکم یہ جو سونے اور چاندی میں ربوا حرام ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ وہ فرماتے ہیں ثمنیت ہے، تو صرف حکم کی علت بیان کی جاتی ہے، تعدیہ ضروری نہیں بھئی۔ تو ان کے نزدیک یہ تعلیل جو ہے صرف حکم کی علت بیان کرنے کے لیے ہوتی ہے، ولا يتوقف على التعدية، اور یہ تعدیہ پر موقوف نہیں، جبکہ ہمارے نزدیک یہ کس پر موقوف ہے؟ تعدیہ، یعنی جہاں جہاں تعلیل ہو گی وہاں تعدیہ ضرور ہو گا، تعدیہ نہیں کرنا تو پھر تعلیل بھی جائز نہیں۔ لأن صحة التعدية، وہ دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہتے ہیں تعلیل تعدیہ پر موقوف نہیں ہو سکتی ورنہ تو دور لازم آئے گا۔ توجہ ہے بھئی؟ جی۔ وہ فرماتے ہیں کہ تعلیل تعدیہ پر موقوف نہیں ہو سکتی ورنہ کیا خرابی لازم آئے گی؟ دور۔ اس لیے کیونکہ اگر آپ یہ کہیں کہ تعلیل موقوف ہے تعدیہ پر، تعلیل کس پر موقوف ہے؟ تعدیہ پر، متعدی کرنے پر، اور متعدی کرنا تو موقوف تھا تعلیل پر، متعدی کرنا کس پر موقوف تھا؟ متعدی تبھی کریں گے نا جب کوئی علت نکالیں گے، شراب کے کی حرمت والا حکم بھنگ پہ تبھی لگائیں گے نا جب اس کی علت پہلے نکالیں گے، تو وہ فرماتے ہیں کہ اگر تعدیہ موقوف ہو جائے کس پر؟ تعلیل پر، اور تعلیل موقوف ہے کس پر؟ تعدیہ پر، تو کیا لازم آیا؟ دور لازم آیا کہ ایک چیز اسی چیز پر موقوف ہو گئی جو خود اس پر موقوف تھی بھئی۔ آپ سے کوئی پوچھے زید کا گھر کدھر ہے؟ آپ کہیں عمرو کے گھر کے سامنے، عمرو کا گھر کدھر ہے؟ زید کے گھر کے سامنے، کسی کا بھی پتہ نہیں چلا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ایک چیز جو دوسرے پر موقوف ہے اور دوسری پہلی پر موقوف ہے اس کو دور کہتے ہیں، اور دور باطل ہے، جائز نہیں ہے، درست نہیں ہے بھئی۔ جی تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تعلیل جو ہے یہ موقوف نہیں ہے تعدیہ پر، لأن صحة التعدية موقوفة على صحتها في نفسها، اس لیے کیونکہ تعدیہ کا صحیح ہونا یہ موقوف ہے تعلیل کے صحیح ہونے پر في نفسها اپنی ذات کے اعتبار سے، تعدیہ کی صحت کس پر موقوف؟ تعلیل کی صحت پر، تو صحتها کی ھا ضمیر جو ہے یہ راجع ہے تعلیل کو، کس کو؟ تعلیل کو، تعلیل کو، اور تعلیل مصدر ہے، والمصدر كالمؤنث، قد يذكر وقد يؤنث، کبھی اس کی مذکر شمار کیا جاتا ہے اور کبھی مونث شمار کیا جاتا ہے، یا اس لیے ھا ضمیر راجع کی تعلیل کی طرف کیونکہ تعلیل بمعنی علت کے ہے بھئی، تعلیل کس معنی میں؟ علت بھئی۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ تعدیہ کا صحیح ہونا موقوف ہے تعلیل کے صحیح ہونے پر اپنی ذات کے اعتبار سے، فلو توقفت صحتها في نفسها على صحة تعديتها للزم الدور، پس اگر تعلیل کا صحیح ہونا بھی اپنی ذات کے اعتبار سے یہ موقوف ہو جائے تعدیہ کے صحیح ہونے پر للزم الدور، تو کیا لازم آئے گا؟ دور لازم آئے گا، والجواب، اور جواب اس کا یہ ہے، یہ تو ان کی طرف سے تھا شوافع کی طرف سے اعتراض، ہم جواب دے رہے ہیں، والجواب، جواب یہ کہ أن صحتها في نفسها لا تتوقف على صحة تعديتها، کہ تعلیل کا صحیح ہونا اپنی ذات کے اعتبار سے یہ تعدیہ کے صحیح ہونے پر موقوف نہیں ہے، بل على وجودها في الفرع، بلکہ اس علت کے وجود پر موقوف ہے في الفرع کس کے اندر؟ فرع میں۔ ہمارے نزدیک تعدیہ تو موقوف ہے کس پر؟ تعلیل پر، لیکن تعلیل تعدیہ پر موقوف نہیں، بلکہ تعلیل موقوف ہے اس علت کے فرع میں پائے جانے پر، لہذا یہ دور لازم نہیں آیا، یہ دوسری چیز پر موقوف ہے، فلا دور، پس کوئی دور نہیں ہے، والدليل لنا، اور دلیل ہماری یہ ہے کہ أن دليل الشرع لا بد أن يكون موجبا للعلم أو العمل، اب ہماری دلیل ذکر کر رہے ہیں بھئی، کہ تعلیل کے ساتھ تعدیہ لازم ہے۔ تعلیل کے ساتھ تعدیہ لازم ہے، تو دلیل ذکر کر رہے ہیں، ہماری دلیل یہ ہے کہ دلیلِ شرع دلیلِ شرع جو ہے یعنی شریعت کی جو دلیل ہے، لا بد أن يكون موجبا للعلم أو العمل، ضروری ہے کہ یہ علم یا عمل کو ثابت کرے، یا تو کیا کرنا؟ دلیلِ شرع کس لیے ہے؟ کیا مقصد ہوتا ہے؟ اس کے لیے یا تو وہ علم کا فائدہ دے گی، یقین کا فائدہ حاصل ہو گا، یا کس چیز کا فائدہ دے گی؟ عمل کا فائدہ دے گی بھئی، عمل کا فائدہ، اور اگر تعلیل صرف کی جائے اور تعدیہ نہ ہو تو پھر کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا۔ فائدے تو دو ہی تھے نا، یا تو کس کا فائدہ دے گی؟ علم کا یا کس کا؟ عمل کا۔ اگر آپ تعدیہ نہ کریں صرف تعلیل کریں تو عمل کا تو فائدہ دیا نہیں عمل کا عمل کا فائدہ نہیں دیا بھئی تعلیل نے، کیونکہ عمل تو نص کی وجہ سے واجب ہوا ہے، تعلیل کی وجہ سے واجب نہیں ہوا، وہ جو نص میں حکم آ گیا بھئی، اور یہ قطعی علم کا بھی فائدہ قطعی علم کا بھی فائدہ نہیں دے گی، آپ نے صرف تعلیل کی، تعدیہ نہیں کیا، تو تعلیل نے تو قطعی علم کا بھی فائدہ نہیں دیا، کیونکہ تعلیل آپ نے کیا، پتہ نہیں یہ علت ہے یا علت نہیں، مجتہد نے تو اپنی پوری کوشش کر دی، لیکن پھر بھی یہ غالبِ راۓ، گمانِ غالب کا فائدہ دیتی ہے نہ کہ یقین، تو یقین دو ہی فائدے تھے، یا یقین کا فائدہ دے دے یا عمل کا، یقین کا فائدہ تو یہ دے گی نہیں، عمل کا بھی فائدہ نہیں دیا، کیونکہ عمل تو کس کے ذریعے ثابت ہے؟ نص کے ذریعے ثابت ہے، فرع میں تو کوئی آپ نے ثابت کیا ہی نہیں حکم کو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ صرف تعلیل کی ہے، تو لہذا کوئی بھی فائدہ نہ رہے گا، یہ بیکار ہو جائے گی تعلیل۔ کہتے ہیں والتعليل لا يفيد العلم قطعا، اور تعلیل جو ہے وہ فائدہ نہیں دیتی علم کا قطعی طور پر، ولا يفيد العمل أيضا، اور یہ عمل کا بھی فائدہ نہیں دیتی في المنصوص عليه، کس کے اندر؟ منصوص علیہ، تعدیہ تو آپ نے کیا نہیں، صرف تعلیل بیان کی ہے، اور وہ کس کی تعلیل بیان کی جو پہلی منصوص علیہ ہے، تو یہ عمل کا بھی فائدہ نہیں دے گی منصوص علیہ میں، لأنه ثابت بالنص، اس لیے کیونکہ وہ تو نص ہی سے ثابت ہے، فلا فائدة له، تو تعلیل کا کوئی فائدہ نہ ہوا، إلا، إلا ثبوت الحكم في الفرع، مگر صرف فرع میں حکم کے ثبوت کا یہ فائدہ دے گی، وهو معنى التعدية، اور یہی تعدیہ کا معنی ہے۔ تعلیل کا یہی ایک فائدہ ہے کہ یہ کیا کرے گی؟ فرع میں حکم کے ثبوت کا فائدہ دے گی بھئی، تعلیل کا یہی ایک فائدہ ہے، اور یہ فرع میں حکم کا ثبوت یہی تو تعدیہ ہے بھئی، یہی کیا ہے؟ تو کیا حاصل ہے؟ کلام کیا ہوا؟ کہ ہمارے نزدیک دلیلِ شرع کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ وہ یا یقین کا فائدہ دیتی ہے یا عمل کا، اور یہاں یہ تعلیل نہ آپ کے یقین کا فائدہ دے رہی ہے اور نہ منصوص علیہ میں عمل کا فائدہ دے رہی ہے کیونکہ وہاں تو حکم پہلے سے معلوم تھا، اس کا تو صرف ایک تعلیل کا تو ایک ہی فائدہ ہے کہ یہ فرع کے اندر حکم کو ثابت کر دے، اور فرع میں حکم ثابت کرے گی تو یہی تو تعدیہ ہے، معلوم ہوا اس کا یہی ایک فائدہ ہے۔ والتعليل للأقسام الثلاثة الأول، ونفيها باطل، اور تعلیل کرنا پہلی تین قسموں کے لیے، اور ان کی نفی کے لیے باطلٌ، یہ باطل ہے۔ بھئی چار قسمیں بیان کیں نا؟ چار قسمیں، اور ان چاروں میں ساتھ ساتھ شارح تو بیان کرتے آئے کہ ہمارے نزدیک پہلی قسم میں بھی تعلیل صحیح نہیں، یعنی علت یا علت کے وصف کو ثابت کرنے کے لیے تعلیل صحیح نہیں، دوسرا بیان کیا تھا کہ کبھی تعلیل ہو گی شرط کے لیے یا شرط کے وصف، وہ بھی ہمارے نزدیک صحیح نہیں، پھر اس کے بعد یہ بیان کیا کہ کبھی تعلیل ہو گی حکم کے لیے یا حکم کے وصف، وہ بھی ہمارے نزدیک صحیح نہیں، اور پھر اس کے بعد چوتھی قسم بیان کی کہ وہ تعدیہ، اور وہ ہمارے نزدیک صحیح، لیکن یہ کون سا صحیح ہے، کون سا صحیح نہیں، یہ تو شارح بیان کرتے آئے بھئی، ماتن اب بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں والتعليل للأقسام الثلاثة الأول، اور تعلیل کرنا پہلی تین قسموں کے لیے یعنی ان کو ثابت کرنے کے لیے، ونفيها، اور ان کے نفی کے لیے، باطلٌ، یہ ہمارے نزدیک باطل ہے، تو صرف چوتھی قسم میں تعلیل صحیح ہے یعنی تعدیہ کے لیے۔ يعني: أَنَّ إِثْبَاتَ سَبَبٍ أَوْ شَرْطٍ أَوْ حُكْمٍ اِبْتِدَاءً بِالرَّأْيِ، وَكَذَا نَفْيُهَا بَاطِلٌ. يعني: ثابت کرنا سبب کو، یعنی سبب یعنی وہ علت، أو شرط، یا شرط کو، أو حكم، یا حکم کو ابتداء بالرأي، ابتداء ہی میں رائے کے ذریعہ، یعنی قیاس کے ذریعہ، وکذا نفھا، اور اسی طرح ان کی نفی کرنا، یعنی سبب، شرط یا حکم کی نفی کرنا ابتداءً، یہ باطل، یہ کیا ہے؟ باطل ہے۔ إِذْ لَا إِخْتِيَارَ وَلَا وِلَايَةَ لِلْعَبْدِ فِيهِ، اس لیے کیونکہ اس میں کوئی اختیار اور کوئی ولایت نہیں ہے بندے کو، وَإِنَّمَا هُوَ إِلَى الشَّارِعِ، اور یہ کس کی طرف مو سُپرد ہے؟ یہ شارع کے ولایت ہے اس میں اور اختیار ہے، تو یہ شارع کے سپرد ہے بھئی۔ تفصیل پیچھے بیان ہو چکی ہر ایک کے اندر بھئی کہ ان کے ان چیزیں جو ہیں، وہ تین چیزیں جہاں تعلیل فاسد تھی، بتلایا تھا کہ یہاں عقل اور رائے کا اعتبار نہیں ہے بھئی، یہ کس کا کام ہے بتلانا؟ شریعت کا کام ہے، عقل اور رائے کا ان میں اعتبار نہیں ہے۔ وَأَمَّا لَوْ ثَبَتَ سَبَبٌ أَوْ شَرْطٌ أَوْ حُكْمٌ مِنْ نَصٍّ أَوْ إِجْمَاعٍ، وَأَرَدْنَا أَنْ نُعَدِّيَهُ إِلَى مَحَلٍّ آخَرَ، فَلَا شَكَّ أَنَّ ذَلِكَ فِي الْحُكْمِ جَائِزٌ بِالْإِتِّفَاقِ إِذْ لَهُ وَضْعُ الْقِيَاسِ. اور باقی اگر ثابت ہو سبب یا شرط یا حکم من نص، کس سے؟ نص سے۔ نص سے ثابت ہو أو إجماع، اور یا اجماع کے ذریعہ، وأردنا أن نعديه إلى محل آخر، اور ہم ارادہ کریں کہ اس کو متعدی کریں دوسرے محل کی طرف، فلا شک أن ذلك في الحكم جائز، بھئی، یہاں سے الگ بات بتلا رہے ہیں۔ پہلے تو یہ بیان کر دیا کہ تعلیل ہمارے نزدیک صرف تعدیہ کے لیے، یعنی حکم کو اصل سے فرع کی طرف متعدی کرنے کے لیے صحیح ہے، باقی حکم کی علت یا حکم یا علت کے وصف کو ثابت کرنے کے لیے، یا حکم کی شرط یا شرط کے وصف کو ثابت کرنے کے لیے، یا خود حکم یا حکم کے وصف کو ثابت کرنے کے لیے ہمارے نزدیک تعلیل صحیح نہیں، بلکہ ان چیزوں کو ثابت کرنا یا ان کی نفی کرنا، یہ کس کا کام ہے؟ شارع کا کام ہے، بندے کو اس میں کوئی اختیار نہیں بھئی، کوئی اختیار نہیں۔ اب آپ کو یہ بتلانے لگے ہیں کہ ایک چیز ہے، اس کے سبب، شرط یا حکم، سبب، شرط یا حکم، کیا تین چیزیں بیان کیں میں نے؟ سبب، شرط اور حکم۔ ان تین میں کسی نص، یعنی قرآن و حدیث، یا اجماع کے ذریعہ اگر ایک چیز کا سبب ہونا ثابت ہو، تو کیا ہم کسی پر قیاس کرتے ہوئے دوسری چیز کو سبب قرار دے سکتے ہیں یا نہیں؟ ایک چیز ایک چیز اس کا شرط ہونا کس کے ذریعہ ثابت ہے؟ نص کے ذریعہ، یا ایک چیز کا شرط ہونا اجماع کے ذریعہ ثابت ہے، تو کیا ہم تو کیا کسی دوسری چیز کو اس کے لیے شرط قرار دیا جا سکتا ہے قیاس کرتے ہوئے؟ اسی پر قیاس کرتے ہوئے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ ایک چیز کا سبب یا شرط ہونا یا اس کا حکم جو ہے وہ نص یا اجماع کے ذریعہ ثابت ہے، اور ہمارا ارادہ ہے کہ ہم اس سبب یا شرط یا حکم کو متعدی کریں دوسرے محل میں، کس میں؟ دوسرے محل میں، یعنی دوسری چیز کو سبب قرار دے دیں، یا دوسری چیز کو شرط قرار دے دیں، یا دوسری جگہ پر حکم کو ثابت کر دیں، تو کیا ان میں تعدیہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ حکم کے اندر تو تعدیہ ہو سکتا ہے، کیونکہ قیاس وضع ہی کس لیے کیا گیا ہے؟ حکم کو متعدی کرنے کے لیے، جبکہ شرط اور سبب ان میں تعدیہ کیا جائے، دوسری چیز کو کیا قرار دے دیا جائے؟ سبب یا شرط قرار دیا جائے کسی وصف جامع کی وجہ سے، تو اس میں جمہور کے نزدیک جائز نہیں بھئی۔ جمہور کے نزدیک ایک چیز کو جب شریعت نے سبب قرار دیا ہے، تو اس سببيت کو آپ متعدی نہیں کر سکتے کسی دوسری چیز کی طرف کہ اس کو بھی سبب قرار دے دیں۔ ایک چیز کو جب شریعت نے شرط قرار دیا ہے، تو آپ اس شرطیت کو متعدی نہیں کر سکتے کہ دوسری چیز کو بھی کیا قرار دے دیں؟ شرط قرار دے دیں۔ ہاں، ایک جگہ شریعت نے حکم لگایا ہے، آپ اس حکم کو علت جامعہ کی وجہ سے دوسری جگہ متعدی کر سکتے ہیں، لیکن شرط اور سبب کو متعدی نہیں کر سکتے بھئی جمہور کے نزدیک بھئی۔ ہاں، فخر الاسلام رحمہ اللہ کے نزدیک سبب اور شرط میں بھی تعدیہ درست ہے، یعنی ایک چیز کو جب شریعت نے سبب یا شرط قرار دیا ہے، تو دوسری چیز کی طرف بھی یہ سببیت اور شرطیت متعدی ہو سکتی ہے، اس کو بھی سبب یا شرط حکم کے لیے قرار دیا جا سکتا ہے کسی وصف جامع کی وجہ سے، یعنی جب قیاس کی شرائط پوری ہوں بھئی۔ اختلاف سمجھ میں آ گیا؟ کیا اختلاف ہے؟ تین چیزیں ہیں: سبب، شرط اور حکم۔ حکم کو تو متعدی کیا جا سکتا ہے بالاتفاق، کیونکہ قیاس وضع ہی اس لیے ہے، شراب پر حرمت کا حکم تھا، وہی حکم کس پر آ گیا مثلاً؟ بھنگ پر آ گیا، کیونکہ قیاس وضع ہی اس مقصد کے لیے ہے، اور علت جامعہ کیا تھی؟ نشہ بھئی۔ جبکہ ایک چیز کو شریعت نے شرط قرار دیا ہے، تو آپ اس شرطیت کو متعدی کرتے ہیں دوسری چیز کی طرف، اس دوسری چیز کو بھی شرط قرار دیتے ہیں کسی وصف جامع کی وجہ سے۔ ایک چیز کو شریعت نے علت قرار دیا ہے، آپ اس دوسری چیز کو کیا قرار دیتے ہیں؟ علت قرار دیتے ہیں، کس وجہ سے؟ کسی وصف جامع کی وجہ سے، تو کیا یہ جائز ہے یا جائز نہیں؟ جمہور کے نزدیک جائز نہیں، جبکہ علامہ فخر الاسلام رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے، جبکہ شرائط قیاس پوری ہوں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وأما لو ثبت سبب أو شرط أو حکم من نص أو إجماع، اور باقی جب ثابت ہو سبب یا شرط یا حکم نص سے یا اجماع سے، وأردنا أن نعديه إلى محل آخر، اور ہم ارادہ کریں کہ ہم اس کو متعدی کر دیں دوسرے محل کی طرف، فلا شک أن ذلك في الحكم جائز، تو اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ حکم کے اندر جائز ہے بالاتفاق، بالاتفاق جائز ہے، إذ له وضع القياس، اس لیے کیونکہ اسی کے لیے قیاس کی وضع ہے، وأما في السبب والشرط، اور باقی سبب اور شرط میں کہ ان کو ہم متعدی کریں، فلا يجوز عند العامة، تو یہ عام اصولیین کے نزدیک، عام فقہاء کے نزدیک جائز نہیں، ويجوز عند فخر الإسلام، اور جائز ہے کس کے نزدیک؟ فخر الاسلام رحمہ اللہ کے نزدیک۔ مثال، مثال بھی ذکر کر رہے ہیں، مثلاً، مثال کے طور پر، بھئی دیکھیے، ایک ہے حد زنا، حد زنا، حد زنا کی علت کیا ہے؟ زنا، سبب کیا ہے؟ زنا، تو حد زنا کا سبب ہے زنا، اسی سببیت کو ہم متعدی کرتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ متعدی کرتے ہیں، اور لواطت جو ہے لواطت، اس کو بھی حد زنا کا سبب قرار دیتے ہیں۔ کس کو؟ لواطت کو کس کا سبب قرار دیتے ہیں؟ کہ جیسے زنا میں حد ہے، اسی طرح لواطت میں بھی کیا آئے گی؟ حد آئے گی، تو دیکھیے علت سبب اور علت کیا تھا حد زنا کا؟ زنا تھا، انہوں نے کیا کیا؟ دوسری چیز کو سبب بنا دیا، علت بنا دیا حد زنا کے لیے، اور وہ کیا چیز ہے؟ لواطت ہے، تو دیکھو انہوں نے سببیت کو متعدی کر دیا باقاعدہ، اور کس وجہ سے، دیکھو انہوں نے سببیت کو متعدی کر دیا باقاعدہ، اور کس وجہ سے کیا؟ علت جامعہ، وصف جامع کیا ہے دونوں کے اندر؟ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح زنا جو ہے، وہ محل حرام کے اندر سفح ماء کا نام ہے، محل حرام میں سفح ماء، پانی کا بہانا، حرمت والے پانی کا محل حرام میں بہانا، یہی معنی کس کے اندر پایا جا رہا ہے؟ لواطت میں بھی پایا جا رہا ہے، تو دیکھیے انہوں نے کیا کیا؟ سببیت ہی کو باقاعدہ کیا کر دیا؟ متعدی کر دیا بھئی، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً: إذا قسنا اللواطة على الزنا، مثال کے طور پر جب کہ جب ہم نے قیاس کیا لواطت کو زنا پر، فيكونه سببا للحد، کس چیز کے اندر لواطت کو زنا پر قیاس کیا؟ سبب حد ہونے کے اندر، بوصف مشترك بينه وبين اللواطة، ایسے وصف کی وجہ سے جو مشترک ہے زنا اور لواطت کے بیچ، اور وہ میں نے کیا بیان کیا؟ سفح ماء محرم في محل مشتهى بھئی، ليمكن جعل اللواطة أيضا سببا للحد، تاکہ ممکن ہو جائے لواطت کو بھی حد کا سبب قرار دینا بھئی، يجوز عنده، یہ جائز ہے کس کے نزدیک؟ فخر الاسلام کے نزدیک، لا عندهم، جبکہ باقی جمہور کے نزدیک جائز نہیں، فإن كان المصنف تبعا لفخر الإسلام، بھئی، اوپر متن میں آیا تھا: والتعليل للأقسام الثلاثة الأول ونفيها باطل. اب کہتے ہیں مصنف یا تو فخر الاسلام کے متبعین میں سے ہیں یا متبعین میں سے نہیں، اگر وہ فخر الاسلام کے متبعین میں سے نہیں ہیں فخر الاسلام کے متبعین میں سے نہیں ہیں، تو پھر اس صورت میں یہ جو انہوں نے باطل ہونے کا حکم لگایا تین قسموں پر، تو اس کا مطلب یہ ہے وہ چیزیں ابتداءً بھی باطل اور تعدیۃً بھی باطل۔ فخر الاسلام رحمہ اللہ تو فرماتے تھے تعدیۃً صحیح ہیں، تو اگر یہ فخر الاسلام کے متبع نہیں ہیں، تو جو انہوں نے باطل ہونے کا حکم لگایا، اس کا مطلب ہے ان تین چیزوں کے لیے تعلیل کرنا ابتداءً بھی باطل اور تعدیۃً بھی باطل ہے، اور اگر یہ فخر الاسلام رحمہ اللہ کے متبعین میں سے ہیں، تو پھر ان کے باطل کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان تین چیزوں کے لیے تعلیل ابتداءً تو صحیح نہیں، ابتداءً تو باطل ہے، لیکن تعدیۃً صحیح ہے، کیونکہ فخر الاسلام رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ان چیزوں میں تعدیہ جائز ہے بھئی، ان چیزوں میں تعدیہ جائز ہے بھئی۔ فإن كان المصنف رحمہ اللہ تبعا لفخر الإسلام، اگر مصنف رحمہ اللہ تابع ہیں فخر الاسلام رحمہ اللہ کے، كما هو الظاهر، جیسا کہ ظاہر، ظاہر یہی ہے کہ یہ ان کے تابع ہیں، فمعنى كونه باطلا، تو ان کے باطل ہونے کا معنی یہ ہے، أنه باطل ابتداء، کہ یہ چیزیں ان میں یہ تعلیل ابتداءً باطل ہے، لا تعدية، تعدیۃً باطل نہیں، کیونکہ تعدیۃً تو فخر الاسلام صحیح قرار دیتے ہیں، وإلا، اور اگر ایسا نہ ہو، فالمراد به البطلان مطلقا، تو پھر اس کے لیے کیا مراد ہوگا؟ مطلقاً باطل ہونا مراد ہے، ابتداء وتعدية، ابتداءً بھی اور تعدیۃً بھی۔ تو بتلایا متن کو متن کے ساتھ جوڑیے، انہوں نے پیچھے کیا کہا تھا؟ والتعليل للأقسام الثلاثة الأول ونفيها باطل، اور تعلیل کرنا پہلی تین قسموں کے اثبات کے لیے اور ان کی نفی کے لیے باطل ہے، فلم يبق إلا الرابع، تو باقی نہ رہا مگر صرف چوتھی قسم، جو پہلی تین میں باطل ہے، تو صرف چوتھی قسم باقی رہ گئی، یعنی تعدیہ، يعني لم يبق من فوائد التعليل إلا التعدية، یعنی باقی نہ رہا تعلیل کے فوائد میں سے مگر صرف تعدیہ ہی، متعدی کرنا ہی، إلى ما لا نص فيه، اس چیز کی طرف جس میں نص نہ ہو، نص نہ ہو، ولما كان هذا تارة على سبيل القياس الجلي وتارة على سبيل الاستحسان. اب آگے استحسان کے بارے میں بتلائیں گے، استحسان اچھی طرح سمجھ لیجیے بھئی، استحسان۔ یاد رکھیے، ایک ہے قیاس، ایک ہے استحسان بھئی۔ قیاس تو عقلی دلیل کا نام ہے، اور استحسان وہ دلیل جو قیاس کے مقابلے میں آئے، اس کو استحسان کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ وہ دلیل جو قیاس کے مقابلے میں آئے، اس کو استحسان کہا جاتا ہے، استحسان۔ بعض اوقات قیاس کو چھوڑ دیا جاتا ہے، کیونکہ مقابلے میں آیت قرآن موجود ہوتی ہے، تو جو یہ جو قیاس کو چھوڑ دیا کس کی وجہ سے؟ آیت قرآن کی وجہ سے، تو یہ آیت قرآن جو ہے، اس کو یہ بھی استحسان ہے بھئی، کیا ہے؟ استحسان۔ کبھی قیاس کو چھوڑ دیا جاتا ہے حدیث کی وجہ سے، تو یہاں پر بھی کہتے ہیں قیاس کو چھوڑ دیا گیا استحساناً بھئی۔ کبھی قیاس کو چھوڑ دیا جاتا ہے ضرورت کی وجہ سے، کہ اگر قیاس پر عمل کیا جائے تو بڑا حرج لازم آئے گا، تو ضرورت پیش آ گئی، اس ضرورت کی بناء پر قیاس کو چھوڑ دیا گیا، تو اس ضرورت کو بھی کیا کہیں گے؟ استحسان کہیں گے۔ اور کبھی قیاس کا ایک قیاس کا دوسرے قیاس سے تعارض آتا ہے، کیا آتا ہے؟ تعارض، تو ایک قیاس کی وجہ سے دوسرے قیاس کو چھوڑ دیا جاتا ہے، تو جس قیاس کو چھوڑ دیا گیا، وہ تو ہے قیاس، اور جس پر عمل کیا گیا اس کو استحسان کہیں گے بھئی۔ لیکن اس میں پھر یاد رکھیے ہر موقع پر ایسا نہیں ہوگا کہ قیاس کہ یہ جو قیاس ہوتا ہے، یہ یہ قیاس جلی ہے بھئی، اور جو استحسان ہوگا وہ خفی ہوگا، ہے وہ بھی قیاس، لیکن وہ ذرا خفی ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وہ قیاس خفی ہوگا، یعنی قیاس کی بنیاد بھی مثلاً علت پر ہے، اور استحسان کی بنیاد بھی علت پر ہوگی، لیکن قیاس کی علت وہ ظاہر ہوگی، استحسان کی علت وہ خفی ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یوں کہیے کہ یہ جو قیاس اور استحسان جب آپس میں ایک دوسرے کے مقابلے میں آئیں اور قیاس ہوں دونوں قیاس تھے بھئی، تو اس وقت یہ استحسان قیاس خفی کا نام ہوا، کس کا نام ہوا؟ قیاس خفی کا، اور قیاس کس کا نام ہوا؟ قیاس جلی کا نام ہوا بھئی، کہ اس کی علت جلی اس لیے کہتے ہیں اس کی علت ظاہر ہوتی ہے، اس کی طرف فوراً عقل سبقت کرتی ہے، لیکن جب گہرائی میں جاتے ہیں، تو پھر پتہ چلتا ہے کہ اس کو ترجیح نہیں، دوسری صورت کو ترجیح ہے بھئی، وہ درست ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو استحسان کس کو کہتے ہیں؟ جو بھی دلیل کس کے مقابلے میں آئے؟ قیاس جلی کے مقابلے میں آ جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استحسان، وہ نص بھی ہو سکتی ہے، آیت بھی ہو سکتی ہے، حدیث بھی ہو سکتی ہے، ضرورت بھی ہو سکتی ہے اور قیاس خفی بھی ہو سکتا ہے استحسان۔ تو جو بھی دلیل قیاس جلی کے مقابلے میں آئے، اس کو کیا کہیں گے؟ استحسان کہیں گے، کیا توجہ ہے سبق کی طرف؟ جو بھی دلیل کس کے مقابلے میں آئے؟ قیاس جلی کے مقابلے میں آئے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استحسان کہتے ہیں، اور یہ کتنی صورتیں آ گئیں اس میں؟ چار صورتیں، وہ نص بھی ہو سکتی ہے، یعنی آیت بھی اور حدیث بھی ہو سکتی ہے، ضرورت بھی ہو سکتی ہے اور قیاس خفی بھی ہو سکتا ہے استحسان۔ صورت استحسان میں یہ شرط ہے استحسان اس دلیل کو تبھی کہیں گے استحسان دلیل کا نام ہوا نا استحسان اس دلیل کو تبھی کہیں گے جب اس کے مقابلے میں قیاس جلی موجود ہو۔ اگر کسی دلیل شرعی کے مقابلے میں قیاس جلی موجود نہیں تو پھر اس کو استحسان نہیں کہیں گے چاہے ایت ہو چاہے حدیث ہو چاہے اجماع وغیرہ جو بھی ہو بھئی، اجماع بھی بھئی۔ اجماع بھی یاد رکھنا اجماع تو رہ گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قیاس جلی کے مقابلے میں چاہے قرآن آجائے، چاہے حدیث آجائے، چاہے اجماع آجائے، چاہے ضرورت آجائے، چاہے قیاس خفی آجائے، ان سب کو کیا کہہ دیا جاتا ہے؟ استحسان کہا جاتا ہے، تو حاصل کلام یہ ہوا کہ استحسان بھی دلیل شرعی، لیکن استحسان اسی دلیل شرعی کو کہیں گے جو قیاس جس کے مقابلے میں قیاس جلی ہو۔ اگر اس کے مقابلے میں قیاس جلی نہیں تو پھر اس دلیل شرعی کو استحسان بھی نہیں کہیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ معلوم ہوا استحسان کے مقابلے میں قیاس جلی کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی اچھی طرح؟ تو استحسان بھی دلیل شرعی ہی کا نام ہے بھئی۔ کس کا نام ہے؟ دلیل شرعی ہی کا نام ہے، اور استحسان کا لفظی معنی ہے پسندیدہ ہونا بھئی۔ پسندیدہ ہونا۔ تو استحسان کو بھی استحسان اس لیے کہتے ہیں کہ یہ پسندیدہ ہے بھئی، پسندیدہ ہے۔ دیکھیے، ایک طرف آیت آئی بھئی، دوسری طرف قیاس جلی آیا، آیت سے مثلاً حلت ثابت ہو رہی ہے، قیاس تقاضا کر رہا ہے حرام ہونے کا، کس پہ عمل کریں گے؟ آیت پر۔ آیت پر ظاہر سی بات ہے، آیت قطعی ہے اور قیاس تو صرف ایک عقل کی بات کی نا۔ صورت سمجھ میں آگئی، وہ تو ایک عقل کی بات ہے، تو آیت کو تو ترجیح ہے۔ تو یہاں آیت کیا ہوئی؟ مستحسن ہوئی، اس پر عمل پسندیدہ ہوا یا نہیں ہوا اس پر عمل؟ کیونکہ وہ تو قوی بہت سب سے اعلی درجے کی دلیل ہے، اور قیاس تو سب سے نچلے درجے کی دلیل ہے، تو لہذا آیت پر عمل مستحسن ہوا، پسندیدہ ہوا اس لیے اس کو استحسان کہتے ہیں۔ اسی طرح قیاس جلی کے مقابلے میں اگر حدیث آگئی، تو کون قوی؟ حدیث۔ تو کس پر عمل پسندیدہ؟ حدیث۔ اس لیے اس کو استحسان کہتے ہیں۔ قیاس کے مقابلے میں اگر اجماع آجائے، تو کون پس- کس پر عمل پسندیدہ؟ اجماع۔ اجماع پر، ظاہر سی بات ہے، وہ قطعی دلیل، اس لیے اس کو استحسان کہتے ہیں۔ قیاس کے مقابلے میں اگر ضرورت آجائے، تو کون پسندیدہ؟ ضرورت۔ کیونکہ اگر اس پر عمل نہیں کریں گے تو لوگ بڑے حرج میں مبتلا ہو جائیں گے، تکلیف میں پڑ جائیں گے، تو ضرورت کو ترجیح ہوگی، تو اس کو کیا کہیں گے؟ یہ پسندیدہ ہوئی، اس کو استحسان کہیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ تو یہاں اب استحسان کی بحث آ رہی ہے بھئی آگے استحسان کی۔ اب بھئی یہ قیاس کے بعد استحسان کی بحث کیوں کر رہے ہیں مصنف بھئی؟ شارح ربط بیان کر رہے ہیں۔ کیا بیان کر رہے ہیں؟ شارح ربط بیان کر رہے ہیں کہ یہ جو تعدیہ ہے، کیا چیز؟ تعدیہ۔ تعدیہ جو ہے، یعنی حکم کا متعدی ہونا یہ کبھی قیاس جلی سے ہوگا اور کبھی قیاس خفی سے ہوگا، اور قیاس خفی ہی اس کا کیا نام ہے؟ استحسان ہے۔ لذا قیاس جلی کو تو ہم نے ذکر کر دیا، اب کس کو ذکر کر رہے ہیں؟ قیاس خفی یعنی استحسان کو ذکر کر رہے ہیں۔ ربط سمجھ میں آگیا؟ تو کہتے ہیں و لما کان ھذا تارتآ علی سبیل القیاس الجلی اور کبھی کبھار یہ تعدیہ جو ہے یہ کبھی تو قیاس جلی کے طریقہ پر ہوگا و تارتآ علی سبیل الاستحسانی اور کبھی یہ کس طریقہ پر ہوگا؟ استحسان کے طریقہ پر ہوگا۔ بھئی کسے کہتے ہیں؟ میں نے کیا بتلایا؟ وہ دلیل جو کس کے مقابلے میں آئے؟ قیاس جلی تو قیاس جلی مقابلے میں ہوگا تو وہ دلیل استحسان کہلائے گی ورنہ استحسان نہیں کہلائے گی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں و ھو الدلیل الذی یعارض القیاس الجلی اور یہ استحسان وہ دلیل ہے جو مقابل ہو قیاس جلی کے۔ أشار الی بیانھ یہ درمیان میں تو استحسان کی تعریف کر دی۔ اس اشارہ کا تعلق پیچھے سے ہے۔ و لما کان ھذا کہ جب یہ تعدیہ کبھی تو کس طریقہ پر ہوگا قیاس جلی کے طریقہ پر اور کبھی استحسان کے طریقہ پر ہوگا تو اشارہ الی بیانھ تو مصنف نے اس کے بیان کی طرف اشارہ کیا بقولہ اپنے اس قول کے ساتھ بھئی۔ و الاستحسان يكون بالثر و الاجماع والضرورة و القیاس الخفی اور استحسان جو ہے وہ اثر کے ذریعے ہوگا۔ استحسان کس کے ذریعے ہوگا؟ اثر کے ذریعے ہوگا۔ یاد رکھیے اثر سے عموماً مراد قول صحابی یا تابعی ہوتا ہے۔ اثر سے کیا مراد ہوتا ہے؟ قول صحابی یا تابعی ہوتا ہے، مگر کبھی اس سے مراد کتاب اللہ اور سنت بھی ہوتی ہے، تو یہاں اثر سے مراد کتاب اللہ اور سنت ہے، یعنی اثر بمانی نث کے ہے۔ اثر کس معنی میں ہے؟ نث کے معنی تو کہتے ہیں وہ استحسان کبھی تو اثر کے ساتھ ہوگا، یعنی قرآن و حدیث کے ساتھ و الاجماع اور اجماع کے ساتھ ہوگا و الضرورة اور ضرورت کے ساتھ و القیاس الخفی اور کس سے؟ قیاس خفی سے ہوگا۔ یعنی ان القیاس الجلی یقتضی شیئآ یعنی کہ قیاس جلی جو ہے وہ تقاضا کرے گا ایک چیز کا و الاثر والاجماع والضرورة والقیاس الخفیا یقتضی ما یضادہ اور اثر، اجماع، ضرورت اور قیاس خفی وہ تقاضا کریں گے ما اس چیز کا یضادہ جو اس کی ضد ہو۔ بھئی! دلیل کسی دلیل کو استحسان کب کہیں گے؟ جبکہ مقابل قیاس سے جلی ہو۔ تو قیاس جلی ایک چیز کا تقاضا کر رہا ہو گا اور یہ باقی چیزیں اس کے ضد کا تقاضا کر رہی ہوں گی۔ فیترک العمل بالقیاس تو قیاس پر عمل کو ترک کر دیا جائے گا و یصار الی الاستحسانی اور کس کی طرف رجوع کیا جائے گا؟ استحسان کی طرف فیبین نظیر کل واحد تو پھر مصنف جو ہیں وہ بیان کر رہے ہیں ہر ایک کی مثال و یقول اور فرماتے ہیں کالسلم جیسے کہ بیع سلم ہے۔ بیع سلم جانتے ہیں بھئی؟ کہ جس میں پیسے آج دیے جائیں، مثلاً آج دیے جائیں اور وہ چیز آپ کو چار چھ مہینے بعد ملے گی بھئی، مثلاً گندم ہے وہ اس قسم کی گندم مل ہی نہیں رہی ابھی تو آپ نے ابھی سے دکاندار کو پیسے دے دیے اور وہ پھر چھ ماہ بعد آپ کو گندم دے گا تو یہ کیا ہے عقد سلم۔ اس میں سمن جلدی دیتے ہیں اور مبابع بعد میں ملتا ہے۔ فہم میں آیا بھئی؟ مبابع بعد میں تو یہ تعریف کیا ہے اس کی؟ بیع عاجل بعاجل۔ بیع عاجل بعاجل یہ آپ کے حاشیہ میں تعریف انہوں نے دی ہوئی ہے۔ اور بیع کے بارے میں آپ جانتے ہوں گے جس پر با داخل ہو وہ سمن ہوتے ہیں۔ وہ کیا ہوتے ہیں؟ وہ سمن ہوتے ہیں۔ تو دیکھیے ایک چیز دو بدلاین ہیں نا، بدل، ایک نے مشتری نے دینا ہے، اس نے پیسے دینے ہیں اور بائع نے مبابع دینا ہے، اور یہاں کون سی چیز جلدی دی جا رہی ہے؟ سمن۔ اور کون، مبابع دیر سے تو تعریف میں بھی دیکھ لیجیے ھو بیع عاجل بعاجل وہ بیچنا ہے عاجل، مدت والی چیز کو بعاجل کس کے بدلے میں؟ جلدی والی چیز کے بدلے میں۔ جلدی یعنی ایک بدل جلدی دیا جا رہا ہے، دوسرے کی مدت متعین ہے، اتنی مدت بعد ملے گا اور با کس پر داخل ہوئی؟ عاجل پر، معلوم ہوا سمن کیا ہے اس میں؟ عاجل، وہ یہ عاجل جو جلدی دیے جا رہے ہیں یہ سمن ہیں اور عاجل کیا ہے؟ مبابع ہے۔ کالسلم جیسے کہ سلم ہے مثال للاستحسان بالثر یہ مثال ہے اس استحسان کی جو کس سے ہے؟ اثر سے۔ فان القیاس یأب جوازہ پس بے شک قیاس جو ہے وہ اس کے جواز کا انکار کرتا ہے، قیاس تو تقاضا کرتا ہے عقد سلم جائز ہی نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں نہیں جائز ہونا چاہیے؟ کہتے ہیں لانھ بیع المعدوم کیونکہ یہ ایک معدوم چیز کا بیچنا ہے۔ بھئی آپ گندم کے پیسے دے رہے ہیں، جو چیز مانگ رہے ہیں، وہ اس وقت مل ہی نہیں رہی۔ وہ کہتا ہے چھ ماہ بعد ملے گی، آپ نے ابھی سے پیسے دے دیے کہ یہ لو پیسے لو! چھ ماہ بعد اتنی اس قسم کی اتنے وزن والی یہ ساری شرائط ذکر کر دیں، یہ گندم آپ نے مجھے اتنے من گندم دینی ہے۔ اب وہ گندم اس وقت اس کے پاس ہے؟ نہیں، اس وقت تو وہ موجود ہی نہیں ہے، اور معدوم کی بیع تو جائز ہی نہیں ہے جو جو چیز انسان کے قبضے میں ہی نہیں ہے، وجود، پائی ہی نہیں جا رہی، تو وہ اس چیز کے بیچنے سے شریعت نے منع کیا ہے۔ بھئی تو اس کا بھی وجود ہی نہیں ہے بھئی تو یہ معدوم کی بیع ہوئی۔ یہ جائز قیاس کہتا ہے یہ جائز نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن حدیث سے پتہ چلا کہ یہ جائز ہے بھئی۔ فان القیاس یأب جوازہ پس بے شک قیاس انکار کرتا ہے ابائے ابائے کے معنی انکار کرنا۔ پس بے شک قیاس انکار کرتا ہے جوازہ اس کے جواز کا لانھ بیع المعدومی اسی کیونکہ ایک معدوم شے کی بیع ہے ولکن ترکنا لیکن ہم نے قیاس کو چھوڑ دیا و استحسننا جوازہ اور ہم نے پسند کیا اس کے جواز کو بالاجماع کس کی وجہ سے؟ اجماع کی وجہ سے لتعامل الناس فیہ وجہ اس میں لوگوں کے تعامل کے۔ لوگوں کا اس پر تعامل ہے بھئی۔ سب لوگ یہ عقد کرتے ہیں بھئی۔ تمام لوگ کیا کرتے ہیں؟ تمام لوگ اس قسم کا عقد کرتے ہیں بھئی۔ تو تعامل ناس جو ہے یہ دلیل بن گیا، سب کرتے ہیں عام لوگ بھی کرتے ہیں، فقہاء بھی کرتے ہیں، علماء بھی کرتے ہیں، سب لوگ کرتے ہیں تو یہ تعامل ناس دلیل ہوا اس کے جواز کی کہ یہ اس کے جواز پر اجماع ہے سب کا معلوم ہوا۔ سب کر رہے ہیں، معلوم ہوا سب کا اس پر، اس کے جواز پر اجماع ہے۔ تو ہم نے پسند کیا اس کے جواز کو اجماع کی وجہ سے لتعامل الناس فیہ وجہ اس میں لوگوں کے باہم عمل کرنے کے۔ و إن ذکر لہ أجلا يكون يكون سلما اور اگر اس کے لیے مدت ذکر کر دی جائے تو یہ سلم ہو جائے گی۔ و تطھیر الاوانی اوانی جمع ہے آنیة کی، برتن کو کہتے ہیں اور برتنوں کو، کو پاک قرار دینا مثال للاستحسان بالضرورة یہ مثال ہے اس استحسان کی جو ضرورت کی بنا پر ہو۔ فإن القیاس یقتضی عدم تطھیرھا إذا تنجست پس بے شک قیاس جو ہے وہ تقاضا کرتا ہے ان کے پاک نہ ہونے کا جب یہ نجاست ہو جائیں۔ بھئی! برتن ہے اس پہ کسی کوئی نجاست لگ گئی، مثلاً کتے نے منہ لگا دیا تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس برتن کو اب کبھی پاک نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو کبھی بھی پاک نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ اس لیے کہ برتن میں ہے نجاست، اب اس کو نچوڑنا تو ممکن ہے نہیں۔ نجاست تو تبھی نکلے گی نا جب اس کو نچوڑا جائے گا۔ اور نچوڑنا تو ممکن نہیں۔ لذا معلوم ہوا یہ کبھی بھی پاک اس کو نہیں ہونا چاہیے، یہ قیاس کہتا ہے۔ آپ اس کو پانی سے دھو لیں گے، اچھا! آپ نے اس برتن میں پانی ڈالا، پانی ڈالتے ہی وہ پانی کیا ہو گیا؟ برتن نجس تھا تو پانی بھی کیا ہو گیا؟ نجس۔ آپ نے پانی گرا دیا باہر۔ ابھی بھی کچھ قطرے اندر ہیں یا نہیں؟ نہ بھی ہوں، سوکھ بھی گئے، نجاست کا اثر ہے کہ نہیں؟ آپ اور پانی ڈالیں گے۔ یہ پانی بھی کیا ہو گیا؟ نجس ہو گیا۔ یہ پھینک دیں گے۔ پھر اس کے بعد اگلا ڈالیں گے، پانی کیا ہو جائے گا؟ نجس ہو جائے گا۔ تو قیاس تو تقاضا کرتا ہے اس کو کبھی بھی پاک نہیں ہونا چاہیے یا جیسے کنویں کے اندر نجاست گر جائے، آپ نے پڑھا ہے کہ مختلف چیزوں کے بارے میں قدوری وغیرہ میں کہ کتنی فلاں چیز گرے تو اتنے ڈول نکال لیں تو کنواں پاک ہے۔ یا بڑی چیز گرے تو اتنے ڈول نکال لیں تو وہ کنواں کیا ہو جائے گا؟ پاک ہو جائے گا۔ حالانکہ قیاس تو کیا تقاضا کرتا ہے؟ اس کو کبھی بھی پاک نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ آپ جوں جوں پانی نکالتے جا رہے ہیں، نیچے سے اور پانی آتا جا رہا ہے اور وہ بھی نجس ہوتا جا رہا ہے بھئی، نیز اس کی دیواروں پر میں بھی وہ پانی لگ گیا، دیواریں بھی کیا ہوگئیں؟ نجس ہو گئیں بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی! تو قیاس تو تقاضا کرتا ہے ان کو کبھی پاک نہیں ہونا چاہیے، لیکن اس برتن پر پاک ہونے کا حکم لگایا گیا دھونے کے بعد کس بنا پر؟ ضرورت کی بنا پر، کیونکہ اگر یہ حکم نہ لگایا جائے تو بڑا حرج لازم آئے گا بھئی، بڑا حرج لازم آئے گا، لوگ تکلیف میں پڑ جائیں گے۔ جب بھی برتن پہ نجاست لگے گی، بس چیز کو پھینکنا پڑے گا، نئے برتن لانا پڑیں گے، تو بڑا حرج لازم آئے گا، اور شریعت میں تو حرج نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہاں دیکھو قیاس کو ہم نے چھوڑ دیا کس بنا پر؟ ضرورت کی بنا پر، تو اس کو کیا کہیں گے؟ استحسان۔ و تطھیر الاوانی اور برتنوں کے پاک کا پاک کرنا یا پاک قرار دینا مثال للاستحسان بالضرورة یہ مثال ہے اس استحسان کی جو ضرورت کی بنا پر ہو۔ فإن القیاس یقتضی عدم تطھیرھا پس بے شک قیاس جو ہے وہ تقاضا کرتا ہے ان برتنوں کے پاک نہ ہونے کا إذا تنجست جب وہ نجس ہو جائیں لانھ لا یمکن عسرھا اسی کیونکہ ممکن نہیں ہے ان کو نچوڑنا حتی تخرج منھا النجاسة یہاں تک کہ پھر اس سے نجاست نکل جائے۔ ان کا نچوڑنا ہی نہیں ممکن تاکہ اس سے نجاست نکل جائے۔ لکن نستحسننا فی تطھیرھا لیکن ہم نے استحسان کیا فی تطھیرھا ان کو پاک قرار دینے میں لضرورة الابتلاء بھئی، بوجہ اس میں مبتلا ہونے کی ضرورت کی وجہ سے کہ اس میں ہم لوگ مبتلا ہوتے رہتے ہیں تو ضرورت پیش آئی۔ لضرورة الابتلاء بھئی اس میں مبتلا۔ ہونے کی ضرورت کی بنا پر، والحرج في تنجسها، اور اس کو نجس ہونے میں حرج کی وجہ سے، کہ نجس اگر کہا جائے تو اس میں حرج ہے۔ وطهارة سؤر سباع الطير، اور سباع الطير؟ چیرنے پھاڑنے والے پرندے بھئی، یعنی شکار کرنے والے پرندے بھئی۔ بھئی! جس طرح بعض جانور شکار کرتے ہیں دوسرے جانوروں کا جیسے شیر ہے، چیتا ہے، اور کتا ہے وغیرہ، اسی طرح بعض پرندے بھی شکار کر کے دوسرے پرندوں، جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں جیسے عقاب ہے، شکرا ہے وغیرہ بھئی۔ تو ان کے جھوٹے کو ہم نے پاک قرار دیا۔ یہ جو چیرنے پھاڑنے والے پرندے ہیں، ان کے جھوٹے کو ہم نے پاک قرار دیا استحسان کی وجہ سے۔ کہتے ہیں: وطهارة سؤر سباع الطير، اور چیرنے پھاڑنے والے پرندوں کے جھوٹے کی طہارت کے جیسے ان کی طہارت ہے، مثال للاستحسان بالقياس الخفي، یہ مثال ہے اس استحسان کی جو قیاسِ خفی کی بنا پر ہو۔ فإن القياس الجلي يقتضي نجاسته، اس لیے کیونکہ قیاسِ جلی وہ تقاضا کرتا ہے ان کے نجس ہونے کا۔ بھئی! قیاسِ جلی تو یہ تقاضا کرتا ہے بھئی! سب کی مثالیں ذکر کر رہے ہیں، وہ استحسان جو کس کی وجہ سے ہو؟ احادیث یا قرآن کی وجہ سے، اس کی بھی مثال ذکر کی۔ وہ استحسان جو کس کی وجہ سے ہو؟ اجماع کی وجہ سے، اس کی مثال بھی گزر گئی۔ جو ضرورت کی وجہ سے ہو، اس کی بھی مثال گزر گئی۔ اب وہ استحسان جو قیاسِ خفی کی بنا پر ہے بھئی، اس کی مثال ذکر کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: اب یہاں فإن القياس الجلي يقتضي نجاسته، قیاسِ جلی جو ہے اس چیز کے اس جھوٹے کے نجس ہونے کا تقاضا کرتا ہے، لأن لحمه حرام، اس لیے کیونکہ اس کا گوشت حرام ہے۔ والسؤر متولد منه، بھئی دیکھیے! جن جانوروں کا گوشت حرام ہے، ان کا جھوٹا بھی ناپاک ہے۔ وجہ یہ کہ جب وہ کسی چیز سے پیئیں گے برتن سے، تو اس برتن کو ان کا لعاب لگے گا، اور لعاب بنتا ہے گوشت سے ہی۔ لعاب کس سے بنتا ہے؟ گوشت سے ہی بنتا ہے، اور جب گوشت نجس تھا، تو اسی سے لعاب بنا، وہ بھی کیا ہوا؟ نجس۔ تو جو لعاب نجس ہوا، تو جب برتن سے پیئے گا تو لعاب لگے گا، تو وہ پانی کیا ہو جائے گا؟ نجس بھئی۔ یہہی بات بیان کر رہے ہیں: لأن لحمه حرام، اس لیے کیونکہ اس کا گوشت حرام ہے، والسؤر متولد منه، اور اس کا جھوٹا اسی سے پیدا ہوا، یعنی اس کا لعاب اس سے بنا اور لعاب سے ہی پھر اس کا یہ جھوٹا بنا ہے۔ کسؤر سباع البهائم، جیسے کہ سباع البهائم جو ہیں، چیرنے پھاڑنے والے جانور بھئی، چیرنے پھاڑنے والے جانوروں کا جھوٹا جو ہے، کسؤر سباع البهائم، جیسے چیرنے پھاڑنے والے جانوروں کا جھوٹا ہے، لكن استحسنا لطهارته، لیکن ہم نے استحسان کیا ان کی پاکی میں، بالقياس الخفي، کس بنا پر؟ قیاسِ خفی کی بنا پر، وهو، اور وہ یہ کہ، أنه إنما تأكل بالمنقار، کہ یہ کس کے ذریعے کھاتے ہیں؟ یہ منقار چوںچ کو کہتے ہیں بھئی۔ یہ پرندے، یہ جو چیرنے پھاڑنے والے پرندے ہیں، یہ کس کے ذریعے چیز کھاتے ہیں؟ چوںچ کے ذریعے، وهو عظم طاهر من الحي والميت، اور وہ تو ایک پاک ہڈی ہے۔ چوںچ تو کیا چیز ہے؟ پاک ہڈی۔ بھئی! چوںچ تو سخت چیز ہے، اس کے اندر تو کوئی چیز سرایت نہیں کر سکتی۔ تو جو عام جانور چیرنے پھاڑنے والے ہیں، ٹھیک ہے ان کا لعاب نجس، اور وہ جب پانی پیئیں گے، تو وہ زبان کے ذریعے پانی پیتے ہیں، اور زبان پانی میں لگائیں گے تو لعاب پانی میں جائے گا، اور لعاب پانی میں جائے گا تو پانی کیا ہو جائے گا؟ نجس۔ جبکہ یہ پرندے جو ہیں، ہم نے غور کیا، گہرائی میں گئے، تو دیکھا کہ یہ تو چوںچ کے ذریعے پانی پیتے ہیں۔ ٹھیک ہے، ان کا لعاب نجس، لیکن یہ پانی کس کے ذریعے پیتے ہیں؟ چوںچ کے ذریعے، اور چوںچ تو ہڈی ہے، اور ہڈی تو پاک ہے بھئی، چاہے ہڈی تو مردہ کی بھی، مردہ کی بھی پاک ہے، تو زندہ کی بطریقِ اولیٰ پاک ہے، تو جب چوںچ کے ذریعے پانی پیا، تو پاک چیز پاک چیز کے ساتھ ملی، لہٰذا پانی نجس نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ یہ کھاتا ہے چوںچ کے ذریعے، وهو عظم طاهر من الحي والميت، اور وہ پاک ہڈی ہے زندہ اور مردہ دونوں سے، بخلاف سباع البهائم، برخلاف چیرنے پھاڑنے والے درندوں کے، لأنها تأكل بلسانها، کیونکہ وہ جو ہیں وہ کھاتے ہیں اپنی زبان سے، فيختلط لعابها النجس بالماء، پس مل جاتا ہے ان کا فيختلط لعابها النجس بالماء، النجس، ایک لفظ ہے "نجس"، ایک ہے "نجس"۔ نجس کہتے ہیں ناپاکی کو، اور نجس کہتے ہیں ناپاک کو۔ نجس کسے کہتے ہیں؟ ناپاکی کو، اور نجس کسے کہتے ہیں؟ ناپاک کو۔ تو لعابها النجس، لعاب وہ لعاب جو ناپاکی ہے یا ناپاک ہے؟ ناپاک، تو یہ نجس پڑھنا ہے یہاں، فيختلط لعابها النجس بالماء، تو مل جاتا ہے اس کا وہ ناپاک لعاب پانی کے ساتھ۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو لہٰذا قیاسِ جلی تو تقاضا کر رہا تھا ان کا، یہ جو چیرنے پھاڑنے والے پرندے ہیں، ان کا جھوٹا پانی کیا ہونا چاہیے؟ نجس ہونا چاہیے۔ لیکن ہم گہرائی میں گئے، غور کیا، تو قیاسِ خفی نے ہمیں بتلایا کہ ان کا جھوٹا پاک ہونا چاہیے، اس لیے کیونکہ یہ تو چوںچ سے پیتے ہیں، اور چوںچ تو ہڈی ہے، اور ہڈی میں تو نجاست سرایت نہیں کرتی، تو وہ تو پاک ہے، تو پاک چیز پاک چیز کے ساتھ ملی، تو پانی بھی کیا ہوگا؟ پاک ہی رہے گا۔ تو قیاس تقاضا کر رہا تھا اس پانی کے نجس ہونے کا، قیاسِ جلی، اور قیاسِ خفی نے کس چیز کا تقاضا کیا؟ اس پانی کے پاک ہونے کا، تو ہم نے کس کو ترجیح دی؟ قیاسِ خفی کو ترجیح دی کیونکہ وہ قوی تھا بھئی، وہ کیا ہے؟ وہ قوی ہے بھئی، قوی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہاں قیاسِ جلی کیا تھا؟ قیاسِ جلی جس کی طرف فوراً ذہن جاتا ہے۔ اولاً فوراً ذہن کس طرف گیا؟ کہ ان کو اس پانی کو نجس قرار دینا چاہیے، کیونکہ یہ حرام ہیں، اور حرام جو ہیں ان کا گوشت نجس ہوتا ہے، جب نجس ہے تو یہ جب پیئیں گے تو وہ لعاب لگے گا، پانی بھی کیا ہو جائے گا؟ نجس۔ لیکن جب ہم گہرائی میں گئے، تھوڑا غور کیا، تو پتہ لگا کہ بھئی! یہ تو کس کے ذریعے پیتے ہیں؟ چوںچ کے ذریعے پیتے ہیں، اور وہ تو ہڈی ہے، پاک ہے بھئی۔ تو قیاسِ جلی کی علت ظاہر ہوتی ہے، ذہن اس کی طرف فوراً سبقت کرتا ہے، اور قیاسِ خفی کی علت خفی ہوتی ہے، تو دارومدار علت پر ہے، قیاسِ جلی کی علت ظاہر، قیاسِ خفی کی علت خفی ہوا کرتی ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام.