درس نمبر۔112 والاحتجاج بالوصف المختلف فيه: عطف على ما قبله، أي مثل الاطراد في عدم صلاحيته دليلاً، الاحتجاج بالوصف الذي اختلف في كونه علة، فإنه أيضاً فاسد. كقولهم في الكتابة الحالمة أي الشافعية في عدم جواز الكتابة الحالمة: إنها عقد لا يمنع من التكفير. بل ان چیزوں کا بیان ہو رہا ہے جو بعض فقہاء کے نزدیک دلیل ہیں لیکن ہمارے نزدیک وہ دلیل نہیں۔ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ استصحاب حال جو ہے ہمارے نزدیک اس کے ذریعہ استدلال کرنا صحیح نہیں، جبکہ بعض کے نزدیک وہ دلیل بنتی ہے۔ اسی طرح استدلال کرنا تعارض اشباہ سے، ہمارے نزدیک تعارض اشباہ دلیل نہیں بن سکتی جبکہ بعض نے اس کو دلیل بنایا۔ اسی طرح استدلال کرنا ایسے وصف سے جو مستقل نہ ہو حکم کے ثابت کرنے میں، مگر ایسے وصف کے ساتھ کہ جس کے ذریعہ فرق ہو جاتا ہے، تو یہ بھی ہمارے نزدیک دلیل نہیں، بعض نے اس کو دلیل بنایا۔ آج بتلا رہے ہیں: "والاحتجاج بالوصف المختلف فيه" اور استدلال کرنا اس وصف سے جس میں اختلاف کیا گیا ہے، یعنی جس میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ ایک وصف ہے، بعض فقہاء نے اس کو علت بنایا ایک حکم کی، اور دوسرے فقہاء اس کو علت نہیں بناتے، تو دیکھئے اس وصف کے علت ہونے میں اختلاف آ گیا فقہاء کا۔ اس کے وصف ہونے میں فقہاء کا اختلاف آ گیا، اور جس وصف کے اندر فقہاء کا اختلاف آ جائے، اس کے ذریعہ استدلال کرنا صحیح نہیں ہے۔ بعضوں نے اس کو دلیل بنایا، لیکن ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں کیونکہ اس کے وصف میں فقہاء نے اختلاف کیا، اس کے علت ہونے میں۔ تو کہتے ہیں: "والاحتجاج بالوصف المختلف فيه" اور استدلال کرنا اس وصف کے اندر جس میں اختلاف کیا گیا ہے، "عطف على ما قبله" یہ عطف ہے ماقبل پر، "أي مثل الاطراد" اطراد ہی کے مثل ہے، کیا چیز بھئی؟ متن کو ملائیں: "الاحتجاج بالوصف المختلف فيه"۔ تو یہ نیچے شارح نے بھی ذکر کیا، درمیان میں کہا مثل الاطراد کے بعد کیا کہا؟ "في عدم صلاحيته الدليل" اطراد ہی کے مثل ہیں دلیل کی صلاحیت نہ رکھنے میں، کیا چیز بھئی؟ "الاحتجاج بالوصف الذي اختلف في كونه علة" استدلال کرنا اس وصف کے ذریعہ جس کے علت ہونے میں اختلاف کیا گیا ہے کہ یہ علت ہے یا علت نہیں؟ بعضوں نے علت کہا، بعضوں نے علت نہیں کہا، تو اس وصف کے ذریعہ استدلال کرنا صحیح نہیں۔ "فإنه أيضاً فاسد" تو یہ احتجاج بالوصف المختلف فيه جو ہے، یہ بھی ہمارے نزدیک فاسد ہے۔ "کقولهم في الكتابة الحالمة" کتابۃ الحالمۃ، لام مشدد نہ پڑھنا بھئی۔ بھئی عقد کتابت جانتے ہیں یا نہیں جانتے آپ لوگ؟ کہ آقا اپنے غلام کے ساتھ باقاعدہ عقد کر لیتا ہے کہ مثلاً 5 سال میں 20 لاکھ روپے لے آؤ تو تم آزاد ہو۔ اور غلام اس کو قبول کر لیتا ہے، یہ ہے عقد کتابت بھئی۔ آقا اور غلام کے درمیان باقاعدہ عقد ہوتا ہے، ویسے نہیں کہتا آقا کہ جاؤ اتنے پیسے لے آؤ، بلکہ باقاعدہ کیا ہوتا ہے اس میں؟ عقد ہوتا ہے، عقد کتابت۔ اور آپ نے پڑھا ہے مکاتب جو ہے پھر جیسے ہی عقد کر لیتا ہے، وہ آزاد آدمی کی طرح ہو جاتا ہے۔ اب آقا اس سے خدمات نہیں لے سکتا، وہ خود کرنا چاہے اس کی مرضی ہے، لیکن جبراً اس سے خدمات نہیں لے سکتا۔ یہ جائے گا، جا کر پیسے کما کر لائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ اور یہ ہے عقد کتابت کس قسم کا؟ مؤجل، جس کی دیکھو باقاعدہ مدت مقرر کی کہ 5 سال میں اتنے پیسے لے آؤ۔ اور ایک ہے کتابت حالہ، یعنی فی الحال عقد کتابت فی الحال ادائیگی پر کرنا۔ کہ آقا مثلاً باقاعدہ غلام سے عقد کر لیتا ہے کہ ابھی 20 لاکھ روپے لے آؤ، میرے ساتھ عقد کتابت میں تمہارے ساتھ کرتا ہوں، 20 لاکھ روپے لے آؤ تو تم آزاد ہو، غلام اس کو قبول کر لیتا ہے۔ دیکھو باقاعدہ دونوں میں کیا ہوا؟ عقد۔ ایک ویسے آقا کہہ دے: جاؤ 20 لاکھ روپے لے آؤ تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ وہ ہے آزادی عوض پر، آزادی وہ عقد کتابت نہیں، عقد کتابت میں باقاعدہ عقد ہوتا ہے آقا اور غلام کے درمیان بھئی۔ اور اس کو آقا جو ہے، اس کو ختم بھی نہیں کر سکتا جب اس نے عقد ایک دفعہ کر لیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ، یعنی یوں کہیں۔ ایک کتابت مؤجلہ ہے، ایک کتابت حالہ ہے۔ حالہ یعنی حال سے ہے، فی الحال، کہ ابھی لے آؤ اتنے پیسے تو میں تمہیں آزاد، تو تم باقاعدہ عقد کر لیتا ہے، تو تم آزاد ہو بھئی۔ تم آزاد ہو۔ اب جیسے کتابت مؤجلہ صحیح، اسی طرح کتابت حالہ بھی صحیح بھئی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کتابت حالہ فاسد ہے۔ کتابت حالہ فاسد ہے۔ بھئی کیوں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟ علت وہ اس کی ذکر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ جو کتابت مؤجلہ ہوتی ہے، یہ مانع ہوتی ہے تکفیر سے۔ توجہ سے سننا بھئی! کتابت مؤجلہ مانع ہوتی ہے تکفیر سے۔ تکفیر یعنی کفارے میں، کفارہ ادا کرنا، کفارہ ادا کرنا۔ یعنی کتابت مؤجلہ جس غلام سے آقا کر لے، عقد کتابت کر لے، مدت متعین کر لے، تو اس غلام کی، جس کے ساتھ کتابت مؤجلہ ہوئی ہے، اب اس غلام کو آقا کفارے میں آزاد نہیں کر سکتا۔ آقا پر کفارہ آ گیا کوئی اور اس میں غلام کو آزاد کرنا ہے، وہ اس غلام کو آزاد کرنا چاہتا ہے جس کے ساتھ عقد کتابت کیا ہے، آزاد نہیں کر سکتا وہ فرماتے ہیں بھئی۔ یہ کتابت مؤجلہ مانع بن جائے گی، یہ اس کو مانع بنے گی، کس چیز سے؟ تکفیر سے، تکفیر سے مانع بن جائے گی۔ تو ان کے نزدیک کتابت مؤجلہ یہ مانع ہے تکفیر سے، لہذا شوافع کہتے ہیں بھئی، شوافع کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ کتابت حالہ فاسد ہے۔ کتابت حالہ فاسد ہے۔ کیوں فاسد ہے؟ وہ علت اس کی ذکر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ یہ مانع عن التکفیر نہیں۔ کتابت تو وہ صحیح ہے جو مانع عن التکفیر ہو، کتابت مؤجلہ تو مانع عن التکفیر ہے، کتابت حالہ مانع عن التکفیر نہیں، لہذا یہ فاسد ہے۔ اور اس کو وہ قیاس کرتے ہیں کتابت بالخمر پر۔ ایک آقا اپنے غلام کے ساتھ عقد کتابت کرتا ہے اور بدلے میں روپے، پیسے یا درہم، دینار کے بجائے شراب مقرر کرتا ہے کہ مثلاً میرے پاس 5 مٹکے شراب کے لے آؤ تو تم آزاد ہو اتنے عرصے میں۔ تو یہ ہوئی کتابت بالخمر بھئی۔ تو وہ یہ شوافع کہتے ہیں کہ جس طرح کتابت بال، کہ کتابت بالخمر فاسد ہے۔ کیوں فاسد ہے؟ کہتے ہیں کیونکہ یہ مانع عن التکفیر نہیں۔ حالانکہ کتابت کو تو کیا ہونا چاہیے؟ مانع عن التکفیر۔ تو وہ کہتے ہیں یہ کتابت بالخمر، یہ مانع عن التکفیر نہیں، اس میں یہ مانع عن التکفیر والی علت نہیں پائی جا رہی، لہذا یہ فاسد ہے۔ اور کتابت حالہ بھی مانع عن التکفیر نہیں، تو یہ بھی اس مقیس علیہ کی طرح فاسد۔ کون ہے مقیس علیہ؟ کتابت بالخمر۔ کتابت بالخمر وہ کہتے ہیں فاسد ہے، کیوں فاسد ہے؟ کیونکہ مانع عن التکفیر نہیں۔ وہ مانع عن التکفیر نہیں۔ تو وہ مانع عن التکفیر نہ ہونے کی وجہ سے فاسد ہے، تو یہ مقیس یعنی کتابت حالہ، یہ بھی مانع عن التکفیر نہیں۔ اس میں بھی وہی علت آ گئی تو وہی حکم آ جائے گا، اور وہاں کیا حکم تھا؟ وہ فاسد تھی، تو کتابت حالہ بھی فاسد ہو جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ ہم کہتے ہیں نہیں، کتابت حالہ کا آپ نے قیاس کیا کتابت خمر پر، اور علت یہ بیان کی کہ کتابت خمر چونکہ مانع عن التکفیر نہیں، اس لیے فاسد ہے، اور یہ علت کتابت حالہ میں بھی پائی جا رہی ہے، لہذا وہ بھی مانع عن التکفیر نہیں، تو لہذا وہ بھی فاسد۔ ہم کہتے ہیں آپ کا یہ قیاس صحیح نہیں ہے، کیونکہ کتابت بالخمر وہ اس لیے نہیں فاسد کہ وہ مانع عن التکفیر نہیں، بلکہ وہ تو خمر کی وجہ سے فاسد ہے۔ کس کی وجہ سے؟ خمر کی وجہ سے فاسد ہے، کیونکہ خمر میں نہ تملیک جائز ہے نہ تملک جائز ہے۔ مسلمان نہ خمر کا مالک بن سکتا ہے، نہ کسی دوسرے کو بنا سکتا ہے۔ اور یہاں پر عوض کیا مقرر کیا اس نے؟ خمر کو مقرر کیا ہے، لہذا خمر کی وجہ سے اس کی کتابت ہی کیا ہو گئی؟ فاسد ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وہ کتابت خمر کی وجہ سے فاسد ہے، مانع عن التکفیر نہ ہونے کی وجہ سے فاسد نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ بھئی ہمارا اور شوافع کا اختلاف ہے کتابت صحیحہ میں۔ ہمارے نزدیک کتابت صحیحہ وہ مانع عن التکفیر نہیں، کہ عقد کتابت کیا ہو پھر بھی غلام کو آزاد کر سکتا ہے کفارے کے طور پر، بشرطیکہ اس نے ابھی کچھ بھی ادا نہ کیا ہو۔ کچھ بھی ادا، ہاں اگر کچھ مال ادا کر چکا ہے، پھر وہ غلام اس کو، غلام کو آقا کفارے کے طور پر آزاد نہیں کر سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اس لیے کیونکہ یہاں وہ کچھ ادائیگی کر چکا ہے، تو پورے غلام کی گویا آزادی پائی نہیں گئی، اور حالانکہ کفارے میں تو کیا ضروری ہے؟ پورے غلام کو آزاد کرنا ضروری ہے، اور وہ کچھ ادائیگی کر چکا ہے۔ تو ہمارے نزدیک کتابت صحیحہ کفارے سے مانع نہیں، تکفیر سے مانع نہیں۔ ان کے نزدیک کتابت صحیحہ تکفیر سے مانع ہے، تکفیر سے مانع ہے۔ تو دیکھئے، ہمارا اور شوافع کا اختلاف آیا کس چیز کے اندر؟ کتابت صحیحہ، ان کے نزدیک کفارے سے مانع ہے، ہمارے نزدیک کفارے سے مانع نہیں ہے۔ کفارے سے مانع ہونے کے اندر ہی ہمارے اور ان کے درمیان اختلاف آ گیا بھئی۔ کیا آ گیا؟ کفارے سے مانع ہونے کے اندر ہی اختلاف آ گیا بھئی۔ ہمارے نزدیک کتابت صحیحہ کفارے سے مانع نہیں، ان کے نزدیک کتابت صحیحہ کفارے سے مانع ہے۔ تو ان کے نزدیک صحیح ہونے کی وجہ ہی یہ ہے کہ یہ کفارے سے مانع ہے، ہمارے نزدیک یہ وجہ نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھئے اس چیز، اس میں علت ہی میں اختلاف آ گیا۔ تو ہمارے اور شوافع کے درمیان کتابت صحیحہ میں اختلاف ہے بھئی، اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک کتابت صحیحہ کفارے سے مانع نہیں، ان کے نزدیک کتابت صحیحہ کفارے سے مانع ہے، مانع ہے۔ تو لہذا، کفارے سے مانع نہ ہونا اس کو فساد کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ وہ اس کو کیا بناتے ہیں؟ کفارے سے مانع نہ ہونا، اس کو کیا بناتے ہیں؟ فساد کی دلیل بناتے ہیں کہ جو کتابت تکفیر سے مانع نہیں، وہ فاسد ہے۔ جو کتابت تکفیر سے مانع نہیں، وہ وہ فاسد ہے۔ تو ان کے نزدیک کفارے سے مانع نہ ہونا، کفارے سے مانع نہ ہونا، یہ ہے علت فساد، ہمارے نزدیک یہ علت فساد ہی نہیں۔ تو ہمارے اور ان کے درمیان اس میں اختلاف آ گیا۔ ان کے نزدیک کفارے سے مانع نہ ہونا، یہ ہے علت فساد ہے، ہمارے نزدیک یہ علت فساد نہیں۔ تو اس علت کے اندر، اس وصف کے اندر ہی اختلاف آ گیا، ہمارے نزدیک یہ علت فساد نہیں، ان کے نزدیک علت فساد ہے۔ تو اسی کے ذریعہ استدلال کرنا اور کہنا کہ کتابت حالہ بھی فاسد ہے، وہ کہتے ہیں کیوں فاسد ہے؟ کیونکہ اس کے اندر وہ علت پائی جا رہی ہے، کون سی؟ کہ تکفیر سے مانع نہیں۔ یہ تکفیر سے مانع، اور تکفیر سے مانع نہ ہونا، یہ علت ہے کس چیز کی؟ فساد کی، لہذا یہ کتابت بھی، کتابت حالہ بھی فاسد ہے، جس طرح کتابت بالخمر جو ہے ان کے نزدیک فاسد ہے، کس وجہ سے؟ کہ وہ تکفیر سے مانع نہیں۔ تو تکفیر سے مانع نہ ہونا، یہ ان کے نزدیک علت فساد ہے، ہمارے نزدیک علت فساد نہیں۔ تو اس علت کے علت ہونے میں اختلاف آ گیا فقہاء کا، اور جس علت کے علت ہونے میں اختلاف آ جائے، اس کے ذریعہ استدلال کرنا صحیح نہیں۔ لہذا اس کے ذریعہ ان کا کتابت حالہ کو اور کتابت بالخمر کو فاسد کہنا صحیح نہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو انہوں نے کتابت حالہ کو قیاس کیا کتابت خمر پر، اور کتابت خمر میں علت کیا ذکر کی؟ کیونکہ یہ مانع عن التکفیر نہیں، لہذا یہ فاسد، اور یہ علت کس کے اندر پائی جا رہی ہے؟ کتابت حالہ میں بھی، لہذا وہ بھی فاسد۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ کا قیاس ہی صحیح نہیں ہے، اس لیے کیونکہ کتابت بالخمر جو ہے وہ کفارے سے مانع نہ ہونے کی وجہ سے فاسد نہیں ہے، بلکہ وہ کس وجہ سے فاسد ہے؟ وہ تو خمر کی وجہ سے فاسد ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھئے یہی بات بیان کر رہے ہیں: "کقولهم في الكتابة الحالمة" جیسے کہ شوافع کا قول ہے کتابت حالہ میں، "أي الشافعية" یہ ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں "کقولهم"، یہ جو مضاف الیہ ضمیر ہے، اس کا مرجع بتلایا، اسی لیے اس کو مجرور ہی پڑھیں بھئی۔ جیسے کہ شوافع کا قول ہے کتابت حالہ میں، "في عدم جواز الكتابة الحالمة" کتابت حالہ کے جائز نہ ہونے کے اندر، ان کا قول ہے، کیا قول ہے؟ وہ اب آ رہا ہے، "إنها عقد لا يمنع من التكفير" کہ یہ ایسا عقد ہے جو تکفیر سے روکتا نہیں ہے، "أي من إعتاق هذا العبد المكاتب بالتكفير" یعنی اس عبدِ مکاتب کو تکفیر میں آزاد کرنے سے یہ مانع نہیں ہے، "فكان فاسداً" تو یہ عقدِ کتابتِ حالہ فاسد ہے، "کالكتابة بالخمر" جیسے کہ کتابت بالخمر ہے۔ تو انہوں نے کتابت حالہ کو قیاس کیا کتابت بالخمر پر، تو کتابت بالخمر ہوا مقیس علیہ، اور کتابت حالہ کیا ہے؟ مقیس، اور علتِ جامعہ کیا بیان کی؟ کہ یہ دونوں مانع نہیں ہیں کس چیز سے؟ تکفیر سے مانع نہیں ہیں، ہم کہتے ہیں تکفیر سے مانع نہ ہونا، اس کے، اس وصف کے ذریعہ استدلال کرنا ہی صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس وصف کے اندر فقہاء کا اختلاف، آپ کے نزدیک یہ فساد کی علت ہے، ہمارے نزدیک یہ فساد کی علت نہیں ہے۔ "فإن هذا القياس غير تام" پس یہ قیاس تام نہیں ہے، "لأن فساد الكتابة بالخمر" اس لیے کیونکہ کتابت بالخمر کا فساد جو ہے، "إنما هو لأجل الخمر" وہ کس کی وجہ سے ہے؟ وہ خمر شراب کی وجہ سے ہے، "لا لعدم منعها من التكفير" اس وجہ سے نہیں کہ وہ کفارے سے منع نہیں کرتا، "والكتابة عندنا لا تمنع من التكفير مطلقاً" اور کتابت ہمارے نزدیک تکفیر سے مانع نہیں ہے مطلقاً، "سواء كانت حالمة أو مؤجلة" چاہے وہ کتابت حالہ ہو چاہے کتابت مؤجلہ ہو، ہمارے نزدیک وہ مطلقاً مانع ہے ہی نہیں تکفیر سے بھئی، دونوں کو کفارے میں آزاد کر سکتے ہیں۔ "فلا بد للخصم من إقامة الدليل" پس ضروری ہوا فریق مخالف کے لیے "من إقامة الدليل" دلیل کا قائم کرنا، "على أن الكتابة المؤجلة تمنع من التكفير" اس بات پر، پس ضروری ہوا مقابل کے لیے کہ وہ دلیل قائم کرے اس بات پر کہ کتابت مؤجلہ تکفیر سے مانع ہے۔ ی کتابت معجلہ پہلے آپ یہ تو ثابت کریں کہ کتابت صحیحہ وہ تکفیر سے مانع کتابت معجلہ تکفیر سے مانع ہے پہلے اس کا وصف علت ہونا تو ثابت کریں۔ تو پس ضروری ہوا پر مقابل پر کہ وہ دلیل قائم کرے اس بات پر کہ کتابت معجلہ جو ہے یہ تکفیر سے روکتی ہے حتی تکون الحالۃ فاسدۃ یہاں تک کہ پھر کتابت حالہ فاسد ہو جائے لأجل عدم المنع من التکفیر بوجه تکفیر سے نہ روکنے کے بھئی، بوجه تکفیر سے نہ روکنے پہلے آپ یہ تو ثابت کر دیں کہ کتابت معجلہ یہ تکفیر سے مانع ہے یہ کیا ہے؟ پہلے یہ تو ثابت کریں پھر پھر اس کے بعد یہ ثابت ہوگا کہ چونکہ کتابت حالہ جو ہے وہ کف تکفیر سے مانع نہیں ہے اس لیے فاسد ہے وہ تو بعد کی بات ہے پہلے آپ کیا ثابت کریں؟ کہ کتابت معجلہ تکفیر سے مانع ہے پہلے اس پر دلیل قائم کریں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی۔ خلاصہ کلام کیا ہوا؟ کہ ہمارے نزدیک کتابت صحیحہ وہ تکفیر سے مانع نہیں۔ ان کے نزدیک کتابت صحیحہ تکفیر سے مانع ہے تو لہٰذا ان کے نزدیک تکفیر سے مانع نہ ہونا یہ ہے علت فساد۔ یہ کیا ہے علت فساد۔ تو لہٰذا یہ اس یہ علت فساد ہے اور یہ اس کو وہ دلیل بناتے ہیں کتابت حالہ کے اندر کہ چونکہ یہ تکفیر سے مانع نہیں۔ کتابت صحیحہ میں تو ضروری ہے کہ وہ تکفیر سے مانع ہو اور یہ چونکہ تکفیر سے مانع نہیں لہٰذا یہ کتابت حالہ لہٰذا یہ فاسد ہے بھئی فاسد ہے۔ بھئی بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی سب کو اچھی طرح۔ تو صاحب نور الانوار نے بتلایا آپ کو والاستدلال بالوصف المختلف فیہ کہ استدلال کرنا ایسے وصف سے جو جس میں اختلاف کیا گیا ہو یہ بھی اطراد کی طرح باطل ہے بھئی۔ ہمارے نزدیک استدلال کرنا ایسے وصف میں جس میں اختلاف کیا گیا ہو تو اس سے استدلال کرنا باطل ہے۔ جس پر آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ ربا کے باب میں ہم نے علت، قدر، اور جنس بیان کی اور اس میں بھی فقہاء کا اختلاف ہے ہمارے نزدیک اور علت امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اور علت امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک اور علت تو وہ بھی وصف مختلف فیہ ہوا اس میں بھی فقہاء کا اختلاف ہوا لہٰذا اس کے ذریعے استدلال کرنا صحیح نہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ نہیں وہ ہمارا وصف اس قسم کا نہیں، وہ جو ہم نے علت بیان کی وہ اشارت النص سے ثابت ہے بھئی۔ مفصل بحث اس کے پیچھے گزری کہ کس طرح ہم نے حدیث سے قدر اور جنس جو ہے اس کا استنباط کیا کہ حدیث کے اندر اس کی حدیث کے اندر اس کی طرف اشارہ موجود تھا۔ تو وہ جو ہم نے وصف اور علت بیان کیا وہ اشارت النص سے ثابت ہے اور اشارت النص سے جو چیز ثابت ہو وہ اسی طرح ہے جیسے نص سے ثابت ہو تو وہ بڑی قوی علت ہے بھئی۔ جو چیز اشارت النص سے ثابت ہو وہ بھی کیا ہے؟ نص ہی سے ثابت ہے بھئی۔ سورۃ سمجھ میں آ گئی بھئی؟ والاستدلال بما لا شک فی فسادہ اور استدلال کرنا اس وصف سے کہ کوئی شک نہ ہو اس کے فساد میں اس کے فاسد ہونے میں کوئی شک ہی نہ ہو اس کا فاسد ہونا بدیہی ہو، ظاہر ہو بھئی۔ اس کے ذریعے استدلال کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ عطف علی ما قبلہ یہ ما قبل پر عطف ہے ای مثل الطراد (یعنی اطراد ہی کی مثل ہے) فی البطلان کس چیز میں؟ باطل ہونے میں یعنی دلیل نہ بننے میں۔ والاستدلال بوصف لا یشک فی فسادہ استدلال کرنا ایسے وصف سے کہ شک ہی نہ ہو اس کے فاسد ہونے میں بل ہو بدیھیون بلکہ اس کا فاسد ہونا بدیہی ہو کقولہم جیسے کہ ای شافعیتی جیسے کہ شوافع کا قول ہے فی وجوب الفاتحۃ وعدم جواز الصلاۃ بثلاث آیات جیسے کہ شوافع کا قول ہے نماز میں سورۃ فاتحہ کے واجب ہونے میں اور نماز کے تین آیتوں کے ساتھ جائز نہ ہونے میں۔ بھئی ہمارے نزدیک تو ہمارا مذہب تو کیا ہے؟ کہ نماز میں قراءت فرض ہے اور یہ فرض ادا ہو جائے گا کہ تین چھوٹی آیتیں پڑھ لی جائیں یا ایک بڑی آیت پڑھ لی جائے بھئی ایک بڑی آیت۔ تو وہ کہتے ہیں بھئی شوافع کہ نماز میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اور تین آیتوں کے ذریعے نماز جائز نہ ہوگی جائز نہ ہوگی اور کس طرح ذکر کرتے ہیں دیکھیے دلیل بھئی کہتے ہیں الصلوۃ ناقص العدد عن السبت کہ تین جو ہے یہ ناقص العدد ہے سات سے۔ تین کا عدد جو ہے یہ سات سے کم ہے۔ تین کا عدد سات سے کم ہے۔ سات سے کیا معنی کم ہے؟ ای عن سورۃ الفاتحہ (یعنی سورۃ فاتحہ سے کم ہے سورۃ فاتحہ کی کتنی آیتیں ہیں؟ سات آیتیں ہیں تو تین کا عدد سات سے کم ہوا فلا یتادا بہ الصلوۃ لہٰذا اس کے ذریعے نماز ادا نہیں ہوگی کما دون الآیت (جیسے ایک آیت سے کم کے اندر) جیسے ایک آیت سے بھی کم پڑھیں پوری آیت نہ پڑھیں بھئی آدھی آدھی آیت پڑھ لیں جیسے اس کے ذریعے آپ کہتے ہیں نماز ادا نہیں ہوتی اسی طرح سورۃ فاتحہ نماز میں پڑھنا واجب ہے اور اس کی آیتیں سات ہیں معلوم ہوا سات آیتوں کا پڑھنا ضروری ہے تو جب سات آیتوں کا پڑھنا ضروری ہوا تو آپ نے تین آیتوں سے بھی نماز ہو جائے گی یہ تین تو سات سے کم ہوئی لہٰذا تین کے ذریعے نماز نہیں ہوگی کیونکہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اور یہ تین اور وہ سات آیتیں ہیں تو تین اس سات سے کم ہے بھئی۔ تو انہوں نے قیاس کیا بھئی۔ تین آیتوں کو کہ ناقص العدد ہے اس سے نماز ادا نہیں ہوگی۔ اور مقیس علیہ کیا ہے؟ دون الآیت (آیت سے کم)۔ آیت سے کم جیسے آیت سے کم پڑھا جائے پوری آیت نہ پڑھی جائے تو نماز نہیں ہوتی تو اسی طرح تین آیتوں سے بھی نماز نہیں ہوگی۔ ای لا یتادا بہ الصلوۃ لاجل ذلک (نماز ادا نہیں ہوگی اس تین آیتوں کے ذریعے اسی وجہ سے کیونکہ یہ سات سے کم ہے) فان ہذا القیاس بدیہی الفساد (پس بیشک یہ قیاس جو ہے بدیہی الفساد ہے یعنی اس کا فساد بدیہی ہے ظاہر ہے) اذ لا اثر للنقصان عن السبت فی فساد الصلوۃ اس لیے کیونکہ سات سے کم ہونے کا کوئی اثر نہیں ہے نماز کے فاسد ہونے میں وانما لم تجزی۔ جزا یجزی کے معنی بھی ہوتے ہیں کافی ہونے کے اور اجزا یجزی کے معنی بھی ہوتے ہیں کافی ہونے کے۔ تو اگر یہ جزا یجزی جو یہاں ظاہر لگ رہا ہے آگے حمزہ تو نہیں ہے بھئی؟ جی؟ حمزہ اگر نہیں ہے تو انما لم تجزی یا آخر سے گر گئی جزم کی وجہ سے کافی نہیں ہے بما دون الآیت ایک آیت سے کم وہ کافی نہیں یا اگر اس کو لم تجزی تو تجزی پھر آخر میں حمزہ ہونا چاہیے اور پھر جزم آ جائے گا وانما لم تجزی بما دون الآیت اور کافی نہیں ہے ایک آیت سے کم اچھا انہوں نے کیا کیا؟ قیاس کیا ایک آیت سے کم پر کس کو؟ تین آیتوں کو اور ایک آیت سے کم سے تو نماز نہیں ہوتی تو تین آیتوں سے بھی نماز بھئی مقیس کون؟ تین آیتیں، مقیس علیہ کون؟ ایک آیت سے کم۔ اور مقیس علیہ کا کیا حکم؟ ایک آیت سے جو کم ہے اس سے نماز نہیں ہوتی تو مقیس کا بھی وہی حکم جو مقیس علیہ کا تھا اس سے بھی نماز نہیں ہوگی۔ تو ہم کہتے ہیں کہ بھئی ایک آیت سے کم کے اندر تو نماز نہیں ہوگی لیکن تین کے اندر تو ہو جائے گی اور یہ ایک آیت سے کم میں نماز کیوں نہیں ہوگی اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں وانما لم تجزی بما دون الآیت اور کافی نہیں ہے ایک آیت سے کم ولانہ لا یسمی قرآنا فی العرف اس لیے کیونکہ عرف میں اس کو قرآن نہیں کہتے۔ آیت سے کم جو ہو نا اس کو عرف میں عام لوگ قرآن کہتے ہی نہیں بھئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں ذلک الکتاب کوئی اس کو قرآن کہے گا؟ نہیں۔ الرحمن الرحیم کوئی قرآن کہے گا؟ آیت سے کم کو عرف میں لوگ قرآن کہتے ہی نہیں ہیں بھئی۔ اس وجہ سے اس کے ذریعے نماز نہیں ہوگی بھئی، نماز نہیں ہوگی۔ تو ہم نے کہا کہ ایک آیت سے کم کے اندر تو نماز نہیں ہوگی لیکن تین کے اندر تو ہو جائے گی اور یہ ایک آیت سے کم میں نماز کیوں نہیں ہوگی اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں وانما لم تجزی بما دون الآیت اور کافی نہیں ہے ایک آیت سے کم ولانہ لا یسمی قرآنا فی العرف اس لیے کیونکہ عرف میں اس کو قرآن نہیں کہا جاتا۔ آیت سے کم جو ہو نا اس کو عرف میں عام لوگ قرآن نہیں کہتے۔ اور ان سمی بہ فی اللغۃ اگرچہ اس کو لغت میں قرآن کہا جاتا ہے عربی زبان میں زبان کے اعتبار سے اس کو بیشک قرآن کہیں لیکن یہاں دارو مدار کس پر ہے؟ عرف پر ہے، عرف کے اندر اس کو قرآن کہتے ہی نہیں ہے کوئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو لہٰذا یہ استدلال ہے ایسے وصف کے سے جس کے فساد میں کوئی شک ہی نہیں ہے بھئی بدیہی ہے اس کا فاسد ہونا بھئی۔ بدیہی ہے اس کا فاسد ہونا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی کہ تین سے تین آیتوں سے نماز نہیں ہوگی۔ کیوں نہیں ہوگی؟ کیونکہ جیسے دون الآیت سے نماز نہیں ہوتی۔ تو وہ ہے مقیس علیہ دون الآیت (ایک آیت سے کم) اس میں نماز نہیں۔ تو جو یہ ہے مقیس علیہ اور حکم کیا؟ نماز نہیں ہوگی۔ مقیس کیا؟ تین آیتیں اور وہی حکم یہاں بھی آ جائے گا کہ اس کے لیے بھی نماز ہم کہتے ہیں یہ قیاس آپ کا بدیہی طور پر فاسد ہے تین آیتوں کو ادھوری آیت پر قیاس کرنا صحیح نہیں بھئی اس لیے کیونکہ وہ جو ادھوری آیت ہے اس کو تو عرف میں کوئی قرآن نہیں کہتا اور تین آیتوں کو تو سب کیا کہتے ہیں؟ قرآن کہتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو شوافع نے کیا کیا؟ کہ وہ کہتے ہیں دیکھیے نماز میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے اور اس کی آیتیں سات ہیں معلوم ہوا سات کم از کم سات آیتوں کا پڑھنا نماز میں فرض ہے تو لہٰذا آپ کا یہ کہنا کہ تین کے ذریعے نماز ادا ہو جائے گی تین آیتوں کے یہ صحیح نہیں۔ اور اس تین کو وہ قیاس کرتے ہیں کس پر؟ ما دون الآیۃ پر اور کہتے ہیں ما دون الآیۃ میں نماز نہیں ہوتی تو ثلاثہ آیات میں بھی نماز ہم کہتے ہیں یہ آپ کا قیاس بدیہی طور پر فاسد ہے وہ جو ما دون الآیت ہے اس کو تو عرف میں لوگ کیا؟ وہ تو قرآن نہیں کہتے اور تین آیتوں کو تو سب قرآن کہتے ہیں بھئی۔ تو تین آیتوں ایک آیت سے کم کو چونکہ عرف میں قرآن نہیں کہا جاتا نماز نہیں ہوگی اس کے ذریعے والاستدلال بلا دلیل عطف علی ما قبلہ اور استدلال کرنا بغیر دلیل کے۔ استدلال کرنا بغیر دلیل کے۔ دلیل کے نہ ہونے کے ذریعے دلیل استدلال کرنا۔ دلیل کے نہ ہونے کے ذریعے استدلال کرنا کیا معنی بھئی؟ معنی اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ یاد رکھیے ایک ہے حکم کا اثبات ایک ہے حکم کی نفی۔ ایک ہے حکم کا اثبات کہ یہ حکم اس طرح ہے۔ ایک ہے حکم کی نفی کہ یہ حکم نہیں ہے یہ حکم نہیں ہے۔ اس نفی کے لیے بعض فقہاء لا دلیل کو دلیل بناتے ہیں۔ اس نہی کے ذریعے کے لیے لا دلیل کو کیا بناتے ہیں؟ دلیل بناتے ہیں استدلال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں دیکھو ہم بات کر رہے ہیں ہم اثبات کی بات نہیں کر رہے، اثبات میں تو ایک حکم کو ثابت کیا جاتا ہے اور اثبات جب ایک حکم کو ثابت کیا جا رہا ہے تو اس کے لیے دلیل چاہیے۔ کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے۔ اور ایک ہے حکم کی نفی کرنا اور نفی تو عدم کا نام ہے اور عدم تو کوئی چیز نہیں ہے لہٰذا اس کے لیے لا دلیل سے بھی کیا کیا جائے گا؟ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ یوں کہا جائے یہ حکم نہیں ہے، کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ کوئی دلیل نہیں۔ یہ حکم نہیں ہے دیکھو نفی پہ استدلال نفی کا حکم نفی ذکر کر رہے ہیں اور دلیل کیا ذکر کر رہے ہیں؟ کیونکہ کوئی دلیل نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو وہ لا دلیل کو دلیل بناتے ہیں کس کے لیے؟ نفی حکم کے لیے۔ وہ کہتے ہیں نفی حکم کیا ہے؟ عدم کا نام ہے اور عدم تو کوئی چیز نہیں لہٰذا اس کے لیے لا دلیل بھی دلیل بن جائے گی کہ حکم نہیں ہے کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ دلیل نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جبکہ آگے ذکر کریں گے کہ نہیں جمہور کے نزدیک بھئی جیسے اثبات کے لیے دلیل ضروری ہوتی ہے اسی طرح نفی کے لیے بھی دلیل ضرور چاہیے بھئی۔ بغیر دلیل کے جیسے اثبات نہیں ہو سکتا اسی طرح بغیر دلیل کے نفی بھی نہیں ہو سکتی صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ معنی ہے والاستدلال بلا دلیل اور استدلال کرنا لا دلیل سے عطف علی ما قبلہ یہ عطف ہے ما قبل پر ای مثل الاطراد فی البطلان الاستدلال بلا دلیل کہ اطراد ہی کی مثل ہے باطل ہونے کے اندر استدلال کرنا لا دلیل سے لاجل النفی استدلال کرنا لا دلیل سے کس کے لیے؟ نفی حکم کے لیے کس کے لیے؟ نفی حکم کے لیے۔ بأن یقول بائی طور کہ یوں کہے ہذا الحکم غیر ثابت کہ یہ حکم ثابت نہیں ہے لانه لا دلیل علیہ کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اب بتائیں یہاں دو صورتیں ہیں۔ یہ جو کیا کہہ رہے ہیں؟ لا دلیل کو کس چیز کی دلیل بنا رہے ہیں؟ نفی حکم کی دلیل بنا رہے ہیں۔ ان کا یا تو یہ دعوی ہے کہ یہ حکم ہمارے ذہن میں ثابت نہیں۔ یہ حکم ہمارے ذہن میں ثابت نہیں نفی کی بات چل رہی ہے نا اور کیا ذکر کر رہے ہیں؟ لا دلیل کو تو اگر ان کی مراد یہ ہے کہ یہ حکم ہمارے ذہن میں ثابت نہیں ہمارے علم میں ثابت نہیں کیونکہ ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ پھر تو ٹھیک ہے۔ حکم کے اثبات کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے۔ تو پھر تو ان کی بات ٹھیک ہے کہ واقع ان کے علم میں جب دلیل نہیں تو حکم بھی ان کے نزدیک ثابت نہیں۔ اور اگر ان کی مراد یہ ہے کہ یہ حکم نفس الامر میں اور واقع میں ہے ہی نہیں۔ یعنی اللہ کی طرف سے یہ حکم ہے ہی نہیں بھئی۔ نفس الامر میں اور واقع میں یہ شریعت کی طرف سے یہ حکم ہے ہی نہیں، کیوں نہیں ہیں؟ کہتے ہیں کیونکہ دلیل نہیں ہے۔ پھر تو یاد رکھیے اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس صورت میں یہ لا دلیل دلیل بنے گی۔ وہی جو جن کا مذہب اوپر ذکر ہوا متن میں رد کے طور پر یہ کیا کرتے ہیں؟ لا دلیل کو دلیل بناتے ہیں کس چیز کے لیے؟ نفی حکم کے لیے۔ نفی حکم کس چیز میں؟ نفس الامر میں اور واقع کے اندر کہ واقع کے اندر شریعت کی طرف سے یہ حکم نہیں ہے بھئی کیوں نہیں ہے؟ وجہ کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں اس پر دلیل نہیں ہے بھئی۔ اس پر دلیل نہیں۔ تو اگر ان کی مراد یہ ہے کہ واقع اور حقیقت میں اور نفس الامر میں یہ حکم نہیں ہے کیونکہ اس پر دلیل نہیں ہے تو اس میں بتلایا دو اختلاف ہے۔ انہوں نے کیا کہا؟ دلیل لا دلیل دلیل بنے گی۔ دوبارہ سنیے بھئی۔ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ لا دلیل دلیل دلیل بن سکتی ہے نفی حکم کے لیے۔ یا تو ان کی مراد یہ ہے کہ یہ حکم ہمارے علم میں نہیں ہے، ثابت نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس اس کی دلیل نہیں۔ پھر تو بات ٹھیک ہے۔ جب ان کے علم میں دلیل نہیں تو ان کے علم میں حکم بھی نہیں۔ اور اگر ان کی مراد یہ ہے کہ نفس الامر اور واقع میں یہ حکم نہیں ہے کیونکہ اس پر دلیل نہیں ہے بھئی تو اس کے اندر کیا کیا گیا ہے؟ اختلاف۔ بعضوں نے کہا اس صورت میں یہ لا دلیل دلیل بنے گی۔ وہی جو جن کا مذہب اوپر ذکر ہوا متن میں رد کے طور پر یہ کیا کرتے ہیں؟ لا دلیل کو دلیل بناتے ہیں کس چیز کے لیے؟ نفی حکم کے لیے۔ نفی حکم کس چیز میں؟ نفس الامر میں اور واقع کے اندر کہ واقع کے اندر شریعت کی طرف سے یہ حکم نہیں ہے بھئی کیوں نہیں ہے؟ وجہ کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں اس پر دلیل نہیں ہے بھئی۔ اس پر دلیل نہیں۔ تو اگر ان کی مراد یہ ہے کہ واقع اور حقیقت میں اور نفس الامر میں یہ حکم نہیں ہے کیونکہ اس پر دلیل نہیں ہے تو اس میں بتلایا دو اختلاف ہے۔ انہوں نے کیا کہا؟ دلیل لا دلیل دلیل بنے گی۔ دوبارہ سنیے بھئی۔ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ لا دلیل دلیل دلیل بن سکتی ہے نفی حکم کے لیے۔ یا تو ان کی مراد یہ ہے کہ یہ حکم ہمارے علم میں نہیں ہے، ثابت نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس اس کی دلیل نہیں۔ پھر تو بات ٹھیک ہے۔ جب ان کے علم میں دلیل نہیں تو ان کے علم میں حکم بھی نہیں۔ اور اگر ان کی مراد یہ ہے کہ نفس الامر اور واقع میں یہ حکم نہیں ہے کیونکہ اس پر دلیل نہیں ہے بھئی تو اس کے اندر کیا کیا گیا ہے؟ اختلاف۔ بعضوں نے کہا اس صورت میں یہ لا دلیل دلیل بنے گی۔ وہی جو جن کا مذہب اوپر ذکر ہوا متن میں رد کے طور پر یہ کیا کرتے ہیں؟ لا دلیل کو دلیل بناتے ہیں کس چیز کے لیے؟ نفی حکم کے لیے۔ نفی حکم کس چیز میں؟ نفس الامر میں اور واقع کے اندر کہ واقع کے اندر شریعت کی طرف سے یہ حکم نہیں ہے بھئی کیوں نہیں ہے؟ وجہ کیا ہے؟ وہ کہتے ہیں اس پر دلیل نہیں ہے بھئی۔ اس پر دلیل نہیں تو اگر ان کی مراد یہ ہے کہ واقع اور حقیقت میں اور نفس الامر میں یہ حکم نہیں ہے کیونکہ اس پر دلیل نہیں ہے تو اس میں بتایا دو اختلاف۔ انہوں نے کیا کہا؟ دلیل لا دلیل دلیل بنے گی۔ دوبارہ سنیے بھئی۔ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ لا دلیل دلیل دلیل بن سکتی ہے نفی حکم کے لیے یا تو ان کی مراد یہ ہے کہ یہ حکم ہمارے علم میں نہیں ہے ثابت نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس اس کی دلیل نہیں۔ پھر تو بات ٹھیک ہے۔ جب ان کے علم میں دلیل نہیں تو ان کے علم میں حکم بھی نہیں۔ اور اگر ان کی مراد یہ ہے کہ نفس الامر اور واقع میں یہ حکم نہیں ہے کیونکہ اس پر دلیل نہیں ہے بھئی تو اس کے اندر کیا کیا گیا ہے اختلاف۔ بعض کہتے ہیں اس صورت میں یہ لا دلیل دلیل بنے گی۔ وہی جو جو جن کا مذہب اوپر ذکر ہوا متن میں رد کے طور پر۔ یہ کیا کرتے ہیں؟ لا دلیل کو دلیل بناتے ہیں کس چیز کے لیے؟ نفی حکم کے لیے۔ نفی حکم کس چیز میں؟ نفس الامر میں اور واقع کے اندر کہ واقع کے اندر شریعت کی طرف سے یہ حکم نہیں ہے بھئی کیوں نہیں ہے؟ وجہ کیا ہے وہ کہتے ہیں اس پر دلیل نہیں ہے بھئی اس پر دلیل نہیں۔ تو اگر ان کی مراد یہ ہے کہ واقع اور حقیقت میں اور نفس الامر میں یہ حکم نہیں ہے کیونکہ اس پر دلیل نہیں ہے تو اس میں بتلایا دو اختلاف ہے۔ انہوں نے کیا کہا؟ دلیل لا دلیل دلیل بنے گی۔ فإن ادعا انہ غیر ثابت فی ذھن المستدل پس اگر اس مجتہد نے یہ دعوی کیا کہ یہ یہ حکم جو ہے غیر ثابت یہ ثابت نہیں ہے فی ذھن المستدل کس میں؟ مستدل کے ذہن میں فلا شك في جوازه، پھر تو اس کے جائز ہونے میں کوئی شک ہی نہیں ہے۔ لأن عدم وجدانه الدليل، اس لیے کیونکہ اس مجتہد کا دلیل کو نہ پانا، يقتضي عدم وجدانه الحكم، یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس نے حکم کو بھی نہیں پایا فی علمہ اپنے علم میں۔ بات یہ سمجھ میں ارہی ہے کہ نہیں؟ مجتہد کیا کہہ رہا ہے؟ دعویٰ اس کا کیا ہے؟ یہ حکم میرے علم میں ثابت نہیں، کیوں نہیں ثابت؟ کیونکہ میرے پاس اس کی دلیل نہیں، تو پھر تو اس کی بات ٹھیک ہے۔ جب اس کے ذہن میں اس کی دلیل نہیں، تو اس کے علم میں یہ حکم بھی دليل آئے گی، تو حکم بھی آئے گا، دلیل نہیں، تو حکم کہاں سے آئے گا بھئی؟ صورت سمجھ میں آگئی، یہی بات بیان کر رہے ہیں، کیونکہ لأن عدم وجدانه الدليل، اس لیے کیونکہ اس مجتہد کا دلیل کو نہ پانا، يقتضي عدم وجدانه الحكم، یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس نے حکم کو نہیں پایا فی علمہ اپنے علم میں۔ وإن ادعى، اور اگر اس کا یہ دعویٰ ہے، أنه غير ثابت في نفس الأمر، کہ یہ حکم نفس الأمر میں اور واقعے میں ثابت ہی نہیں ہے، شریعت کی طرف سے یہ حکم ہے ہی نہیں، یہ نہیں کہہ رہا کہ میرے علم میں نہیں ہے، بلکہ کیا کہہ رہا ہے؟ یہ حکم نفس الأمر میں ہے ہی نہیں، یعنی یوں کہو دوسرے لفظوں میں شریعت نے یہ حکم دیا ہی نہیں، بھئی اپنی بات کریں، ہمیں تو منظور ہے۔ آپ اپنی بات کریں کہ ہمارے پاس دلیل نہیں، اس لیے میرے علم میں یہ حکم بھی نہیں، لیکن آپ کہہ رہے ہیں نفس الأمر میں، یعنی شریعت کی طرف سے یہ حکم ہے ہی نہیں، کیوں نہیں ہے؟ کہتے ہیں اس پر دلیل نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ اس میں بتائیں گے اختلاف ہے، کہتے ہیں اگر اس نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ حکم ثابت نہیں ہے نفس الأمر میں، لعدم وجداني، وجداني ہے بھئی آپ کی کتابوں میں کہ نون ہے صرف؟ نون کے ساتھ یاء بھی ہونی چاہیے، وجداني. لعدم وجداني الدليل، لعدم وجداني الدليل، بوجہ میرے دلیل کے نہ پانے کے عليہ اس حکم پر۔ اگر اس نے یہ دعویٰ کیا کہ نفس الأمر میں یہ حکم ثابت نہیں ہے اس وجہ سے کہ مجھے اس پر کوئی دلیل نہیں ملی، فختلفوا فيه، تو اس میں اختلاف کیا گیا ہے، فقيل هو جائز، تو کہا گیا ہے یہ جائز ہے، لقوله تعالى، اللہ تعالیٰ کے اسی قول کی وجہ سے، بعضوں نے کہا: "لا دليل" کو حجت بنا رہے ہیں کس چیز پر؟ نفس الأمر میں حکم کے نہ ہونے پر، اور اللہ کے قول کو دلیل کے طور پر ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں اللہ نے فرمایا ہے قرآن میں: قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما، قل، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے: لا أجد، میں نہیں پاتا، في ما أوحي إلي، اس چیز میں جو میری طرف وحی کی گئی ہے، محرما، حرام۔ وہ چیز جو میری طرف وحی کی گئی ہے، یعنی جو میری طرف وحی کیا گیا ہے اس میں، میں حرام چیز نہیں پاتا۔ حرام چیز نہیں پاتا، آگے آیت میں ہے خنزير اور دم مسفوح جو بہنے والا خون ہے وہ، اور اسی طرح جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، کسی اور کا نام لیا لیا گیا ہو، وہ چیزیں تو حرام ہیں، اس کے علاوہ یہ جو باقی عام جانور جن کو کھایا جاتا ہے، عام جانور جن کو کھایا جاتا ہے، ان کے بارے میں، میں اپنی وحی میں حرام نہیں پاتا، کہ میری وحی میں ان کو کیا کہا گیا ہو؟ حرام کہا گیا ہو۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ قل، آپ فرما دیجیے: لا أجد في ما أوحي إلي محرما، کہ میں نہیں پاتا اس چیز میں جو میری طرف وحی کی گئی ہے حرام کو، الآية، أی: اقرأ إلى الآية، فإنه تعالى، پس بیشک اللہ تعالیٰ نے، علم نبيه عليه الصلاة والسلام، سکھلایا اپنے پیغمبر کو، کیا بتلایا؟ الاحتجاج بلا أجد، لا أجد کے ذریعے استدلال کرنا۔ لا أجد کے ذریعے دليلا على عدم حرمته، یہ دلیل ہے اس چیز کے حرام نہ ہونے پر بھئی۔ بھئی دیکھیے! اللہ نے سکھلایا اپنے پیغمبر کو، الاحتجاج بلا أجد دليلا على عدم حرمته، کہ لا أجد کے ذریعے استدلال کرنا، یہ دلیل ہے اس چیز کے حرام نہ ہونے پر بھئی۔ حضور علیہ السلام دیکھیے بھئی، ایک چیز کے حرام نہ ہونے پر دلیل پیش فرما رہے ہیں، قرآن میں طریقہ بتلایا گیا کہ قل، اے پیغمبر! آپ کہہ بھی دیجیے: لا أجد في ما أوحي إلي محرما، وہ چیز جو میری طرف وحی کی گئی ہے، میں اس میں حرام چیز نہیں پاتا سوائے اور چند چیزوں کے جو آگے ذکر ہیں اس میں بھئی، تو ان کے علاوہ میں حرام نہیں پاتا۔ معلوم ہوا وہ حلال ہیں، معلوم ہوا وہ کیا ہیں؟ حلال ہیں۔ تو لا أجد، نہ پانے کو، دلیل نہ ہونے کو دلیل بنایا گیا کس چیز پر؟ حرام نہ ہونے پر، حرام نہیں، کیوں نہیں حرام؟ کیونکہ دلیل نہیں ہے، دیکھو! وہی بات کہہ رہے ہیں، اللہ سکھلا رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، کہ نفیِ حکم، یعنی عدمِ حرمت، اس کے لیے کس کو دلیل بنایا جا رہا ہے؟ لا دلیل کو دلیل بنایا جا رہا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ لیکن جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں پر پیغمبر علیہ السلام کا یہ کہنا: "مجھے اس پر حرام ہونے پر کوئی دلیل نہیں ملی، اس لیے یہ حرام بھی نہیں"، وہ پیغمبر علیہ السلام فرما سکتے ہیں، اس وجہ سے کہ ان پر ہر حکم کے بارے میں وحی نازل ہوتی تھی، ہر بات وحی کے ذریعے بتلائی جاتی تھی، اور وہی تو شریعت کے احکام لانے والے ہیں، تو جب ان کے پاس دلیل نہیں، اس کا مطلب ہے اللہ نے حکم ہی نہیں نازل کیا، جب وہ کہہ رہے ہیں دلیل نہیں، تو اس کا کیا مطلب ہے؟ اللہ کی طرف سے حکم ہی نہیں نازل ہوا، جب اللہ کی طرف سے حکم ہی نہیں نازل ہوا، تو وہ چیز لازمی بات ہے حرام بھی نہیں ہوگی بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا اس کو یہاں دلیل کے طور پر ذکر نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وقيل: جائز في الشرعيات دون العقليات، اور کہا گیا ہے: "لا دلیل" کے ذریعے استدلال کرنا شرعیات میں جائز ہے، عقلیات میں جائز نہیں، یعنی منطق وغیرہ میں جائز نہیں، کیوں؟ لأن مدعي النفي والإثبات في العقليات، مدع لحقيقة الوجود والعدم، بھئی یاد رکھیے! منطق میں واقعے اور حقیقی چیزوں کے وجود اور عدم کی بحث ہوتی ہے، کہ یہ چیز واقعے میں موجود ہے یا موجود نہیں، تو لہٰذا وہاں یہ بعض علماء کا قول ذکر ہو رہا ہے، وہ کہتے ہیں کہ منطق کے اندر بھئی، چیزوں کے حقیقی وجود اور عدم کی بات کی جاتی ہے، عقلیات میں چیزوں کے حقیقی وجود اور عدم کی بات کی، یہ چیز واقعے میں حقیقت میں موجود ہے یا موجود نہیں ہے، لہٰذا وہاں پر اس بات کے لیے جس طرح دلیل چاہیے، وہاں نفی کے لیے بھی باقاعدہ کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے، لیکن شرعی احکام اس طرح تو نہیں ہے بھئی، شرعی احکام کا کبھی خارج میں آپ کو وجود نظر آیا؟ جی؟ یہ اس کا تو خارج میں کوئی الگ وجود نہیں ہے، لہٰذا وہاں پر شرعی احکام میں لا دلیل کو دلیل بنایا جا سکتا ہے، ہاں! عقلیات کے اندر لا دلیل کو دلیل نہیں، وہاں جیسے وجود کے لیے دلیل ضروری ہوتی ہے، اسی طرح عدمِ وجود، یعنی نفی کے لیے بھی باقاعدہ دلیل کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وقيل: جائز في الشرعيات دون العقليات، اور کہا گیا ہے کہ یہ استدلال کرنا لا دلیل کے ذریعے، یہ جائز ہے شرعیات کے اندر، نہ کہ عقلیات میں، لأن مدعي النفي والإثبات في العقليات، مدع لحقيقة الوجود والعدم، اس لیے کیونکہ عقلیات میں اثبات اور نفی کا دعویٰ کرنے والا، وہ عدم اور وجود کی حقیقت کا دعویٰ کرنے والا ہے، فلا بد له من دليل، لہٰذا اس کے لیے دلیل کا ہونا ضروری ہے، ولا يكفي عدم الدليل، اور عدمِ دلیل کافی نہیں، بخلاف الشرعيات، برخلاف شرعیات کے، فإنها ليست كذلك، پس بیشک وہ اس طرح نہیں ہے بھئی۔ وعند الجمهور ليس بحجة أصلا، اور جمہور کے نزدیک بھئی لا دلیل کے ذریعے، یہ لا دلیل ليس بحجة أصلا، یہ سرے سے حجت ہی نہیں، دلیل ہی نہیں، لا في النفي ولا في الإثبات، نہ نفی میں اور نہ اثبات میں۔ میں نے پہلے بیان کیا تھا بھئی، جمہور کے نزدیک جیسے اثبات کے لیے باقاعدہ دلیل چاہیے، نفی کے لیے بھی کیا چاہیے باقاعدہ؟ دلیل چاہیے، لا دلیل سے کام نہیں چلے گا، اور دلیل بھئی کس طرح کہتے ہیں نفی کے لیے بھی دلیل چاہتے ہیں، نفی کے لیے بھی دلیل ہونی چاہیے، کہتے ہیں: لقوله تعالى، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: وقالوا لن يدخل الجنة إلا من كان هودا أو نصارى، تلك أمانيهم، قل هاتوا برهانكم إن كنتم صادقين، اور کہا انہوں نے کہ ہرگز داخل نہیں ہوگا جنت میں، إلا من كان هودا أو نصارى، مگر وہ جو یہودی ہو یا عیسائی ہو، تلك، اللہ آگے فرماتے ہیں بھئی: انہوں نے کہا ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا مگر جو یہودی ہو یا عیسائی ہو۔ یہ یہود و نصاریٰ کا قول ہے۔ یہود اور نصاریٰ، انہوں نے کہا: "ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا سوائے یہودی یا سوائے عیسائی کے"، اللہ آگے فرماتے ہیں: تلك أمانيهم، یہ ان کی خواہشات ہیں، قل، اے پیغمبر! آپ کہہ دیجیے: هاتوا برهانكم، تم اپنی دلیل لے کر آؤ، إن كنتم صادقين، اگر تم سچے ہو۔ اگر تم سچے ہو۔ پہلے تو یہ آیت دیکھ لیں ذرا بھئی! پھر بحث کرتے ہیں کس طرح یہ ہماری دلیل ہے۔ یاد رکھیے! آپ نے پڑھا ہے لف و نشر، لف و نشر کس کو کہتے ہیں؟ کہ پہلے چند چیزوں کو ذکر کیا جائے، اور پھر ہر ایک سے متعلقہ بات یا کوئی چیز آگے ذکر کی جائے، اور یہ نہ ذکر کیا جائے، پہلی کا تعلق کس سے، دوسری کا کس سے؟ لف میں مثلاً پانچ چیزیں ہیں، آگے پھر انہی سے متعلقہ ہر ایک سے متعلقہ پانچ چیزیں نشر میں آگئیں، اور نشر میں یہ ذکر نہ ہو کہ پہلی کا تعلق کس سے، دوسری کا کس سے، تیسری کا کس سے؟ سمجھنے والا خود ہی سمجھ جاتا ہے کہ پہلی کا تعلق پہلی سے ہے، دوسری کا دوسری سے، تیسری کا تیسری سے، ترتیب کے مطابق یا بغیر ترتیب کے ہو تو بھی سمجھ لیتا ہے، تو ترتیب سے ہو تو اس کو کہتے ہیں لف و نشرِ مرتب، اور ترتیب سے نہ ہو نشر تو کیا کہتے ہیں؟ لف و نشرِ غیر مرتب بھئی، یہ کئی مرتبہ بیان ہو چکا، یاد رکھیے! اس آیت میں بھی لف و نشر ہے۔ اس آیت میں بھی لف و نشر، لیکن یہ اور قسم کا لف و نشر ہے، جس میں مرتب اور غیر مرتب تقسیم نہیں ہو سکتی۔ یہ اور قسم کا لف و نشر ہے جس میں مرتب اور غیر مرتب کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ اگلے سال انشاءاللہ آپ پڑھیں گے بھئی مختصر المعانی میں بھئی۔ دیکھیے! یہاں دو قولوں کو اللہ نے ملا دیا بھئی، اکٹھا ذکر کر دیا، یہودی کہتے تھے: "جنت میں کوئی بھی داخل نہیں ہوگا سوائے یہودیوں کے"، کون کہتے تھے؟ یہودی، صرف اپنا کہتے تھے ہم جائیں گے، "جنت میں کوئی بھی داخل نہیں ہو سکتا سوائے یہودی کے"، اور عیسائی کہتے تھے: "جنت میں کوئی بھی نہیں داخل ہو سکتا سوائے عیسائی کے"، تو دونوں کا اپنے اپنے بارے میں قول تھا، اللہ نے دونوں کو ملا دیا، اللہ نے دونوں، دونوں کو اکٹھا ذکر کر دیا، اور ملا دیا، کیونکہ اشتباہ کا خطرہ نہیں، سب کو پتہ تھا، اشتباہ کا کسی قسم کا خطرہ نہیں، کہ عیسائی اپنی بات کرتے ہیں، باقی سب کی نفی کرتے ہیں، اور یہودی اپنی بات، اپنا اثبات کرتے ہیں، باقی سب کی نفی کرتے ہیں، اس لیے ان کو ملا دیا گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، تو یہاں دیکھیے بھئی! لف کہاں پر ہے؟ لف، لف ہے قالوا میں، کہا انہوں نے، جنہوں نے؟ یہودیوں نے اور عیسائیوں نے، دونوں مراد ہیں، تو دو چیزیں ذکر ہو گئیں قالوا میں بھئی، نشر میں دو یا تین یا چار چیزیں ذکر ہوتی ہیں نا؟ یہاں بھی دو چیزیں، دو فریق ذکر ہو گئے قالوا کے اندر، ایک عیسائی اور ایک یہودی، اور آگے نشر ہے: لن يدخل الجنة إلا من كان هودا أو نصارى، یہ کیا ہے؟ نشر ہے نشر بھئی، اور کیا معنیٰ؟ قال اليهود، یہود نے یوں کہا: لن يدخل الجنة إلا من كان هودا، اور عیسائیوں نے یوں کہا: لن يدخل الجنة إلا من كان نصارى. صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ دونوں کو ملا دیا گیا کیونکہ اشتباہ کا کوئی خطرہ نہیں، تو یہ ہوا نشر، نشر، اور یہاں مرتب، غیر مرتب نہیں ہو سکتا، اس لیے کیونکہ مرتب اور غیر مرتب کا دارومدار کس پر تھا؟ لف پہ تھا، لف میں جو ترتیب تھی، اگر وہی نشر میں بھی ترتیب ہو تو مرتب کہتے تھے، اگر لف میں جو ترتیب تھی وہ نشر میں نہ ہو تو اس کو کیا کہتے تھے؟ غیر مرتب، اور یہاں لف کیا ہے؟ قالوا، اور قالوا میں دو فریقوں کو اجمالاً ذکر کیا گیا، الگ الگ ذکر ہی نہیں کیا گیا، ان میں ترتیب ہی کوئی نہیں، صورت سمجھ میں آگئی؟ ان میں ترتیب ہی نہیں کہ پہلے یہود ہوتے، پھر عیسائی ہوتے، تو پھر آگے ترتیب ہم دیکھتے، یہاں دونوں کو اجمالاً ملا دیا گیا بھئی۔ اچھا! اب بھئی بات تھی کہ یہ آیت ہماری دلیل ہے، ہماری دلیل کس بات پر؟ بحث یہ چل رہی ہے کہ بعض فقہاء کے نزدیک نفی کے لیے لا دلیل بھی، اس کو ذکر کیا جا سکتا ہے، اس سے استدلال کیا جا سکتا ہے، جبکہ جمہور کہتے ہیں: نہیں! نفی کے لیے بھی باقاعدہ کیا ذکر کرنا پڑے گی؟ دلیل ذکر کرنا پڑے گی، کہتے ہیں دیکھو! اس آیت میں اللہ فرما رہے ہیں: قل هاتوا برهانكم، تم لے کر آؤ اپنی دلیل، دلیل لے کر آؤ، کس بات پر؟ یہ جو انہوں نے دعویٰ کیا، اور دعویٰ کیا تھا؟ نفی اور اثبات دونوں ہیں، نفی اور اثبات دونوں ہیں، معنیٰ ہے دونوں پر دلیل لے کر آؤ، معلوم ہوا نفی پر بھی دلیل لانا پڑے گی، کیا کرنا پڑے گی؟ نفی پر بھی دلیل لانا پڑے گی، صورت سمجھ میں آگئی؟ نفی کیا تھی؟ کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گا، سوائے، یہودی کہتے تھے: "ہمارے سوا"، اور عیسائی کہتے تھے: "ہمارے"، تو باقی سب کی کرتے تھے نفی، اپنا کرتے تھے اثبات، اللہ فرما رہے ہیں: اس پر دلیل لے کر آؤ، یعنی نفی اور اثبات دونوں پر دلیل لے کر آؤ، معلوم ہوا نفی کے لیے بھی کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے، لا دلیل سے کام نہیں چلے گا۔ فأمر النبي عليه الصلاة والسلام بطلب الحجة والبرهان على النفي والإثبات جميعا، پس اللہ نے حکم دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، بطلب الحجة والبرهان، دلیل اور برہان بھی دلیل کو کہتے ہیں بھئی، البتہ وہ دلیل جو یقینیات سے مرکب ہو بھئی، یہاں سمجھ میں آیا بھئی یقینیات سے مرکب ہو بھئی، دلیل یہ ہے نا صغریٰ کبریٰ ملا کر نتیجہ نکالا جاتا ہے، تو اگر صغریٰ اور کبریٰ یقینی ہوں، ہر ایک مانتا ہو ان کو، یقینی ہیں، تو پھر نتیجہ بھی جو آئے گا بڑا قوی ہوگا بھئی، اور اس کو برہان کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ برہان، جبکہ حجت عام ہے، تو اللہ نے حکم دیا پیغمبر علیہ السلام کو حجت اور دلیل طلب کرنے کا، على النفي والإثبات جميعا، نفی اور اثبات دونوں پر۔ تو یہاں بھئی، دیکھیے باقاعدہ نص کے اندر نفی اور اثبات دونوں پر حجت طلب کی جا رہی ہے، باقاعدہ نص کے اندر نفی اور اثبات دونوں پر دلیل طلب کی جا رہی ہے، تو یہ بات نص سے ثابت ہو گئی، یعنی گویا یہ بات نص کے اندر آگئی، کہ لا دلیل حجت نہیں ہے نفی کے اندر بھی بھئی، نفی کے لیے بھی لا دلیل حجت نہیں ہے، بلکہ نفی کے لیے بھی باقاعدہ کیا پیش کرنا پڑے گی؟ دلیل پیش کرنا پڑے گی، ان یہود اور نصاریٰ نے باقی سب کی نفی کی تھی، کوئی جنت میں نہیں جائے گا، تو یہ نفی تھی اور اس پر بھی ان سے باقاعدہ دلیل طلب کی جا رہی ہے کہ دلیل لے کر آؤ بھئی، تو گویا نص سے ہمارا مدعا ثابت ہو گیا، کہ نفی کے اندر بھی لا دلیل حجت نہیں ہے، بلکہ کیا کرنا پڑے گا؟ باقاعدہ نفی کے لیے بھی دلیل ذکر کرنا پڑے گی۔ هذا ما عندي في حل هذا المقام، شارح فرماتے ہیں: هذا ما عندي، یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے، في حل هذا المقام، اس مقام میں، یعنی میرے پاس جو کچھ تھا اس مقام کے حل میں وہ میں نے سارا پیش کر دیا۔ هذا ما عندي في حل هذا المقام، یہ ہے، یہ میرے پاس تھا اس مقام کے حل میں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام.